Jump to content
URDU FUN CLUB

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Today
  2. Nadan

    Hello

    Welcome
  3. میں نے جلدی سے شاور لیا، کپڑے پہنے اور مہمان خانے کا رخ کیا جہاں عماد میرا انتظار کر رہا تھا۔ عماد نے سلام کیا اور ساتھ ہی اس کے نظریں میری چھاتیوں پر مقناطیس کی طرح چپک گئیں۔ میں نے اپنی چھاتیوں کی طرف دیکھا تو میں چکرا گئی۔ کیونکہ میں نے جلدی میں برا نہیں پہنی تھی اور شاور لینے سے بدن گیلا تھا جس سے میری سفید قمیض بھی گیلی ہو کر بدن سے چپک گئی تھی۔ میرے بوبس کا نظارہ عماد کے سامنے تھا۔ میں ہمیشہ عبایا پہنتی تھی اور کسی غیر مرد کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔ میں نے ہمیشہ اپنا بدن عماد سے چھپایا تھا مگر آج مجھے لگا جیسے میں عماد کے سامنے ننگی ہو گئی ہوں۔ اور بات بھی کچھ ایسی تھی میری برائون نپل سفید قمیض سے واضح نظر آرہی تھی جیسے سفید چادر پر پیتل کر سکہ رکھا ہو۔ میں اتنی بوکھلا گئی کے میں کچھ پوچھنا ہی بھول گئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کے میں کیا کروں۔ میں اپنی چھاتیوں کو بانہوں میں چھپایا اور آخر کار گھبرا کر میں اندر کی طرف دوڑ گئی۔ آج پھر عماد کے گھر دعوت تھی۔ شاور والے واقعے کے بعد میں عماد سے کترا رہی تھی مگر میاں کے اصرار پر جانا پڑا۔ میں نے عبایا پہنا ہوا تھا اس لئے تھوڑا سا سکون محسوس کر رہی تھی کہ وہ میرا بدن نہیں دیکھ سکتا۔ واپس آنے لگے تو میاں کے فون کی گھنٹی بج گئی اور ساتھ ہی میری قسمت کی بھی۔ میاں کو آفس کے کام سے جانا تھا اور عماد سے کہا کے مجھے گھر چھوڑ دے۔ میں ہچکجانے کے باوجود نہ نہیں کر سکی اور عماد کی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ سارے راستے میں اپنا جسم سمیٹنے میں لگی رہی اور عماد شیشے سے مجھے گھورتا رہا۔ گھر پہنچتے ہی میں گاڑی سے اتری اور عماد کو بائے بول دیا۔ ساتھ ہی عماد بھی گاڑی سے اتر آیا۔ کہنے لگا بھابھی آپ کے پاس دودھ ہے؟ میں نے غصے سے بولا کیا مطلب تو کہنے لگا کچھ نہیں میں تو کہہ رہا تھا کہ ایک کپ چائے پلا دیں۔ اوہ اچھا۔ مہمان خانے میں بیٹھو میں لاتی ہوں۔ اور وہ میرے پیچھے پیچھے اندر آنے لگا۔ اس کے آگے چلتے ہوئے مجھے لگا جیسے وہ میری گانڈ کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا ہے۔ عبایا تو پہنا تھا مگر جیسے جیسے میں چلتی جاتی میری گانڈ بھی جھوم رہی تھی۔ مجھے لگا جیسے وہ میری گانڈ کو چھونے لگا ہے۔ شکر ہے اندر آنے تک ایسا ویسا کچھ نہ ہوا جو میں سوچ رہی تھی۔ مگر جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوئے تو عماد نے دروازے کی کنڈی چڑھا دی۔ میرے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی جیسے ابھی حلق سے باہر نکل آئے گا۔ میرے ہونٹ تو جیسے سوکھ گئے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر آج عماد نے کچھ ایسا ویسا کیا تو میں کیا کروں گی۔ میری چوت جو اتنے دنوں کی پیاسی تھی وہ کچھ اور کہہ رہی تھی مگر یہ جسم کسی اور کی امانت ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کے اگر عماد نے مجھے چودنے کا بولا تو میں اسے تھپڑ ماروں یا کہیں بھاگ کر چھپ جائوں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کے اگر عماد کی نیت خراب ہے تو میاں کو بتائوں یا چپ رہوں۔ ایسے ہی کھڑے کھڑے نہ جانے کتنی دیر ہوئی کے عماد نے میری کمر پر ہاتھ رکھا۔ میں ایک دم سے ڈر گئی۔ میرے بدن میں کرنٹ سا دوڑ گیا اور چوت پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی۔ نپل ایک دم تن گئے۔ جیسے ہی پیچھے مڑی تو عماد نے کہا بھابھی چائے۔ میں نے کہا اچھا بیٹھو۔ اور پھر کچن میں چلی گئی۔ میں عبایا اتارتے ہوئے ڈر رہی تھی کے میں نے عبایا اتارا تو میرے مست بوبس عماد کو اپنی طرف متوجہ کر دیں گے۔ ایسے ہی میں نے چائے بنا کر عماد کو پیش کی اور سامنے بیٹھ گئی۔ عماد مجھے ہی گھورے جا رہا تھا اور مجھ میں نظریں ملانے کی ہمت نہیں تھی۔ میں نے دیکھا کے عماد کی پینٹ میں ٹینٹ سا بن گیا ہے۔ یقینا اس کا لنڈ کھڑا ہو گا مگر میں تو عبایا میں بیٹھی ہوں پھر کس چیز نے اس کا لنڈ کھڑا کر دیا۔ میں یہ سب سوچتے ہوئے لاشعوری طور پر اس کے لنڈ کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ عمام نے کھانس کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تو میں جھینپ سی گئی۔ گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور خالی کپ اٹھانے کو آگے بڑھی۔ جیسے ہی میں نے کپ کو پکڑا عماد نے بھی کپ کو پکڑنے کے انداز میں میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میرا جسم گرمی اور گھبراہٹ سے آگ بنا ہوا تھا۔ جیسے ہی عماد نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں کانپ سی گئی۔ عماد نے بولا کیا ہوا بھابھی۔ میں نے کہا کچھ نہیں۔ اور عماد نے میرے ہاتھ سے کپ لے کر میز پر رکھ دیا۔ اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی پینٹ کے ابھار پر رکھ دیا۔ میں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو عماد۔ عماد بولا کچھ نہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ میرے لنڈ کو ہی دیکھنا چاہتی ہیں۔ میں نے انکار کر دیا اور اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔ عماد کی گرفت مضبوط ہو گئی اور میرا ہاتھ اسے کے لنڈ کو محسوس کرنے لگا۔ شاید 5 انچ لمبا اور 2 انچ موٹا لنڈ تھا اس کا۔ میں نے نظریں جھکا لی اور کہا کے ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔ تو عماد نے کہا آپ جو ایک سال سے مجھے تڑپا رہی ہیں کیا وہ کرنا ٹھیک ہے۔ میں کچھ نہ بولی۔ میرے ہاتھ پر اس کے لنڈ کا ابھار محسوس ہو رہا تھا۔ میری نپل ٹائٹ ہو گئی اور مجھ پر حوس حاوی ہونے لگی۔ مجھے لنڈ چاہئے مگر صرف اپنے میاں کا۔ میں کسی غیر مرد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھ سکتی۔ میں نے فیصلہ کیا اور اپنا ہاتھ عماد کے ہاتھ سے چھڑوا لیا۔ میں جانے کے لئے جیسے ہی مڑی تو عماد نے مجھے پیچھے سے دبوچ کر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ میری کمر عماد کے سینے کو محسوس کر سکتی تھی اور عماد کی گرم سانس میری گردن میں آگ لگاتی ہوئی گزر گئی۔ عماد کی پینٹ کا ابھار جو کے اس کا لنڈ تھا وہ بھی میری گانڈ کے آس پاس ہی تھا۔ یوں سمجھ لو کے عماد نے مجھے کمر سے گلے لگایا تھا۔ عماد نے میرے کان کے پیچھے چوما اور پھر میرے کان کا نچلا حصہ اپنے ہونٹوں میں دبا کر چوسنے لگا۔ میری ہمت جواب دینے لگی۔ اس نے میری کمزوری پکڑ لی تھی۔ کان کو چوسنے کے ساتھ ہی میری چوت سے پانی نکلنا شروع ہو گیا اور میں یکدم سب کچھ بھول گئی۔ اب میں صرف ایک عورت تھی جسے ایک تگڑے لنڈ کی ضرورت تھی اور عماد وہ دیوتا تھا جو کسی چوت کے لئے ہر مشکل سے گزر سکتا تھا۔ میں یہ سب عماد پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے میری مزاحمت جاری تھی۔ میں نے کہا عماد چھوڑو مجھے۔ مگر عماد تو جیسے میری بات سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے عبایا کے اوپر سے ہی اپنا لنڈ میری گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں میں میرے بوبس کو پکڑ کر دبانے لگا۔ افففف یہ سب حیرت انگیز طور پر جادوئی تھا۔ اپنے میاں کے علاوہ کسی اور کا لمس مجھے اور ہی نشہ دے رہا تھا۔ جیسے جیسے عماد میرے کان چوس رہا تھا اور میرے نپل کو دبا رہا تھا میری چوت سے پانی رستا جا رہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کے میری پینٹی مکمل گیلی ہو چکی ہے۔ میری ہمت جواب دینے لگی میں نے اپنی شرم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عماد کے لنڈ کا مزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اب میں نے عماد کی جینز کے اوپر سے ہی اس کے لنڈ کو پکڑ لیا۔ اس کا موٹا لنڈ اکڑا ہوا تھا۔ میرے ہاتھوں کو محسوس کرتے ہی اس کا لنڈ سرشار ہو گیا ہو گا۔ وہ گھوم کر میرے سامنے آیا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کا بوسہ دیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک وحشی چمک تھی جیسے ایک سپہ سالار کسی قلعہ کو فتح کرتا ہے اور پھر اس کی سب دیواروں کو روندتا ہوا تخت پر جا بیٹھتا ہے۔ آج عماد میرے ساتھ بھی وہی کچھ کرنے جا رہا تھا۔ اس نے میرے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا کر کاٹا اور درد سے میری آہ نکل گئی۔ شاید اسے اسی لمحے کا انتظار تھا۔ ہونٹ چوسنے اور کاٹنے کے ساتھ عبایا کے اوپر سے ہی اس نے میرے بوبس کو مسلنا شروع کر دیا ۔ میے نپل اکڑ کر سخت ہو گئے۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت مجھے سرنڈر کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس نے عبایا اور قمیض کے تہہ کے اندر ہاتھ ڈالا اور میرے جسم کو ٹٹولتے ہوئے میرے بوبس کو برا سے باہر نکال دیا۔ اس نے عبایا کو سامنے سے اٹھایا اور میری چھتیوں کو ننگا کر اپنے چومنے لگا۔ نپل کو چومنے کے ساتھ جب وہ دانتوں سے دباتا تو درد اور لذت کے ملے جلے جذبات سے میری آہ نکل جاتی اور یہ بات اسے سکون دے رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں میری دونوں نپل سرخ ہو چکی تھیں۔ لذت کا یہ دور شروع ہوا تو میری حوس بھی جاگ گئی۔ میں نے اس کی جینز کھول کر اس کا لنڈ باہر نکال دیا۔ جیسے جیسے وہ میرے نپل کو چوس رہا تھا میرے ہاتھ بھی اس کے لنڈ کو مسل رہے تھے۔ اس کا لنڈ لوہے کے راڈ کی طرح سخت تھا اور مجھے یقین ہونے لگا کے اب میری چوت پیاسی نہیں رہے گی۔ میرے دودھ کو چکھنے کے بعد اس کا دھیان میری گیلی ہوتی ہوئی چوت کی طرف گیا۔ یہ اس کا تخت تھا جہاں اس نے کسی بادشاہ کی طرح بیٹھنا تھا۔ اس نے ہاتھ میرے ٹرائوزر میں ڈال دیا اور میرے چوت کا گیلا پن محسوس کر کے مسکرانے لگا۔ نہ جانے اس کے مسکرانے کا مطلب کیا تھا مگر جیسے ہی اس کا ہاتھ میری چوت کے ساتھ لگا میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا۔ میری چوت نے ایک گرم پانی کا ایک تازہ سیلاب چھوڑ کر اس کا استقبال کیا۔ اس کی انگلیاں بہت مہارت سے میری چوت کو مسل رہی تھیں۔ اور میری برداشت ختم ہو گئی۔ میری چوت کو اسی وقت لنڈ چاہئے تھا۔ میری حوس پوری طرح حاوہ ہو چکی تھی۔ مجھ سے اب مزید صبر نہیں ہوتا۔ میں نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت کے قریب رگڑنا شروع کیا۔ شاید اسے اندازہ ہو گیا تھا کے اب میں کیا چاہتی ہوں۔ اب اس نے میرا رخ صوفے کی طرف کیا اور میں دونوں ہاتھ سوفے پر رکھ کر جھک گئی۔ اس نے میری کمر سے عبایا تھوڑا سا اٹھایا اور پھر میرا ٹرائوزر اتار کر میری گانڈ ننگی کر دی۔ اس سے پہلے کے وہ اسی پوزیشن میں میری چوت میں لنڈ ڈالتا اس نے پٹاخ کی آواز کے ساتھ میری گاںڈ پر تھپڑ مارا۔ آہ ہ ہ میری چیخ نکل گئی۔ اور پھر میری گانڈ کو مسلتے ہوئے اس نے اپنا لنڈ میری ٹاگوں کے بیچ سے گزار کر چوت پر رگڑ دیا۔ میرا انتظار طویل ہو رہا تھا اور مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی جب اس نے ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ میری چوت میں اتار دیا۔ اف ف ف ف ف میری چوت رس سے بھر گئی تھی۔ گیلی چوت میں اس کا لنڈ سرکتا ہوا اندر چلا گیا۔ میرے جسم میں ایک سرور کی لہر دوڑ گئی۔ اپنے میاں کے بعد یہ پہلا لنڈ تھا جس نے میری چوت کو سیراب کیا تھا۔ پہلے پہل تو وہ آہستہ آہستہ چودتا رہا اور میری چوت کو ترساتا بھی رہا مگر اب اس کے دھکوں میں تیزی آگئی۔ اس کا لنڈ میری چوت کے آخری کونے تک سرکتا ہوا جاتا اور پھر واپس چوت کے داہنے تک آتا۔ اور ایک بار پھر وہ تیزی سے دھکا لگاتا۔ لگاتار پانچ منٹ چودنے کے دوران میری چوت جھڑ گئی۔ اس کا لنڈ بھی میری چوت سے گیلا ہو گیا اور تیزی سے پھسلنے لگا۔ اب وہ بھی فارغ ہونے لگا تھا۔ اس نے مجھے زور سے اپنے بازو میں جکڑ لیا اور میرے بوبس کو ہاتھوں میں دبا لیا۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پانی چھوڑ رہا تھا۔ چود کر وہ فارغ ہوا اور اس نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا تو اچانک مجھے خیال آیا کے یہ میں نے کیا کر دیا۔ ایک غیر مرد سے چدوا لیا۔ شرم سے مجھے پسینہ آنے لگا۔ اور ٹرائوزر پہن کر عبایا ٹھیک کر کے میں مہمان خانے سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
  4. میرا نام عشا ہے میں کراچی میں رہتی ہوں۔ یہ اسوقت کی بات ہے جب میری عمر27 سال تھی۔ ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی کہ ایک دن صبح کام پر جانے سے پہلے میاں کہنے لگے کے وہ شام کو جلدی آئیں گے ان کے دوست کے گھر دعوت ہے۔ شام کو میاں آئے تو میں تیار تھی۔ شادی کے بعد سیکس کا نیا نیا نشہ تھا اس لئے میں بھی میاں کو گرم کر دینے کے حساب سے تیار ہوئی۔ ہلکی پنک ساڑھی میں میرا جسم غضب ڈھا رہا تھا۔ بوبس جیسے باہر نکلنے کو بے چین تھے۔ میاں نے جیسے ہی دیکھا تو ٹھٹک گئے شاید ان کے لنڈ میں کرنٹ دوڑنے لگا تھا۔ وقت کم تھا اس لئے جلدی سے میرے میاں اپنے دوست عماد کے گھر دعوت لے گئے۔ گاڑی سے اترنے سے پہلے اپنے سیکسی بدن کو دوسروں کی نظر سے بچانے کے لئے میں نے عبایا پہن لیا۔ اب میری نرم جلد نظر نہیں آ رہی تھی مگر پھر بھی گانڈ کا ابھار واضح تھا اور میری نپل جو تنے ہوئے تھے وہ عبایا کہ اوپر نشان چھوڑ رہے تھے۔ دعوت کے دوران عماد نے میرے میاں کو خوب مبارک دی اور آنکھ بھی ماری۔ میاں سے کہہ رہا تھا کہ پورے کراچی کا خزانہ تم نے لے لیا ہے اب ہم بے چارے کہاں جائیں گے۔ میں شرم سے سرخ ہو گئی۔ میاں ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے تو عماد مجھے بھی گھور کر دیکھتا۔ جیسے نظروں میں ہی تول رہا ہو۔ عماد نے کوشش تو بہت کی مگر میرا نام بھی عشا ہے۔ اسے اپنے جسم کا نظارہ نہ کرنے دیا اور وہ بےچارہ تڑپتا رہ گیا۔ گاڑی میں بیٹھے تو میں نے عبایا اتار دیا۔ گھر کی پارکنگ میں گاڑی سے نکلنے لگی تو میاں نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں مسکرا کر ہاتھ چھڑانے لگی مگر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ میں نے ان کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جیسے ہی انہوں نے ہاتھ چھوڑا میں بھاگ کر اندر گئی۔ باگھنے کے چکر میں میری ساڑھی دروازے میں پھنسی اور میں چکرا گئی۔ اس ایکسیڈنٹ میں میری ساڑھی کھل کر نیچے گر گئی۔ اب صرف چولی نے میری چھاتیوں کو ڈھانپ رکھا تھا یا پینٹی نے میری چوت کا پردہ کیا تھا۔ میں ساڑھی سمیٹنے کو جھکی تو پیچھے سے میاں نے آکر مجھے دبوچ لیا۔ میں ایسے ہی ننگی حالت میں اٹھا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال دیا۔ اپنا لنڈ باہر نکالا جو اکڑ کے لوہے کا بن چکا تھا اور میری دونوں ٹانگیں کھول کر رگڑنے لگے۔ میری چولی کو کھول کر نپل باہر نکالے اور میرے کاٹنے کے بدلے میں میری نپل کو انہوں نے کاٹا۔ اس رات گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر میاں نے خوب چودا۔ میری چوت سے پانی نکل کر ان کا لنڈ بھی گیلا کرنے لگا۔ چودائی کر کے جب وہ نڈھال ہو گئے تب جا کر جان چھوٹی۔ درد تو ہوا مگر مزہ بھی بہت آیا۔ جس مقصد کے لئے میں اتنا تیار ہوئی تھی وہ پورا ہو گیا۔ شادی کے بعد یونہی وقت گزرنے لگا۔ عماد بھی ہمارے گھر آنے جانے لگا تھا۔ کبھی کبھی تو آدھی رات کو اسے کوئی کام پڑ جاتا۔ اور پھر میاں جب تک میری چدائی نہ کر لیتے وہ مہمان خانے میں انتظار کرتا رہتا۔ عماد اکثر میاں کی غیرموجودگی میں بھی آتا رہتا تھا اور میں دروازے کی اوٹ سے ہی اسے واپس کر دیتی۔ میاں اس بات پر ناراض ہوتے کے میں ان کے دوست کو پانی تک نہیں پوچھتی۔ عماد بھی اکثر جاتے جاتے چوٹ کر جاتا۔ کبھی کہتا کہ بھابھی ابھی تو جا رہا ہوں مگر میرا حصہ کب ملے گا۔ کبھی کہتا کہ رات آپ کو خواب میں دیکھا۔ گھر کی بات اب گھر تک نہیں رہی تھی بلکہ مہمان خانے تک پہنچ رہی تھی۔ میرے میاں شرارت بھری باتیں عماد کو بھی بتانے لگے تھے۔ ایک دفعہ جب میں مہمان خانے میں چائے دینے گئی تو وہ عماد کو بتا رہے تھے کہ رات کی مستی میں ان کے لنڈ پر عشاء نے کاٹا ہے۔ میں شرم سے لال ہو گئی اور دروازے میں ہی رک گئی۔ عماد بھی الٹی باتیں پوچھنے لگا کہ میرے ممے کتنے بڑے ہیں اور میری چوت کس رنگ کی ہے۔ اففف توبہ، یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ایسے تو میں مہمان خانے نہیں جا سکتی۔ شرم سے ڈوب جائوں گی عماد کے سامنے۔ میں واپس کچن میں چلی گئی اور جان بوجھ کر ایک کانچ کا گلاس فرش پر پھینک کر توڑ دیا۔ میاں اندر پوچھنے آئے تو میں ایسے پیش آئی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر ان کے پیچھے پیچھے مہمان خانے چائے دینے پہنچ گئی۔ شرم سے میرا چہرہ لال ہو رہا تھا۔ ان دونوں کو نہیں پتہ تھا کہ میں ان کی باتیں سن چکی ہوں۔ عماد میرے بوبس کو ہی گھورے جا رہا تھا جیسے ابھی کاٹ کھائے گا۔ عماد کی نظروں کی تپش مجھے اندر تک جلا رہی تھی۔ جب میں اسے چائے دینے کو آگے جھکی تو اس کے ٹرائوزر کا ابھار مجھے بہت کچھ سمجھا گیا۔ دن یوںہی گزرتے گئے مگر اب میاں کام میں زیادہ مصروف ہو گئے تھے۔ کراچی میں ہوتے ہوئے بھی دیر سے گھر آتے اور جلدی سے چدائی کر کے سو جاتے۔ مجھے مزہ نہیں آرہا تھا۔ میں شاور لے رہی تھی اور میاں گھر پر نہیں تھے ۔ پھر سے عماد آ گیا۔ میں نے اندر سے ہی آواز لگائی کے مہمان خانے میں بیٹھے میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں۔ افف توبہ عماد کے ٹرائوزر کا ابھار یاد تھا مجھے۔ کچھ دنوں سے میری چوت پیاسی تھی اور عماد کا ابھار یاد آتے ہی میری چوت میں ہلچل ہوئی۔ میری چوت شاور میں بھی آگ لگانے لگی۔
  5. Yesterday
  6. Last week
  7. skylark

    آرمی آفسیر کی بیٹی

    nyc story budy but aagy ki story b upload kro
  8. 2000 for 6 month https://urdufunclub.win/subscriptions/
  9. Very nice story sm bro zaldi update dedo
  10. Sir main 1 month ki member ship laina chahti hoon fee charges kiya hain or plz apna easypaisa num bhi send ker dain plz jaldi
  11. LAdla

    بدلہ از سٹوری میکر

    ڈئیر میں نے صرف پردیس کہانی پڑھنی ہے کیا صرف اس کو خریدنا ممکن ہے؟ جو جاز کارڈز کے ذریعہ سے تھا؟؟؟؟
  12. har member apna group coad use kary ga app ka group master pro hai is liye app ka coad MASTER hai
  13. Khobsurat dil ap ny bilkul theak kaha waqae Pardes k bad to ab sirf pardes he chai hui ha zehan py
  14. aftabadt

    مٹھے چاول

    Bhai ji mazrat k sath ye to nahi pata k story ka asli writer kon ha lakin ye story 2,3 or b forms py mojod ha
  15. aftabadt

    مٹھے چاول

    v. nice mithy mithy
  16. aftabadt

    Do Boondin Saawan Ki

    admin bhai kahaani kaha ha ? PLZ PLZ Link Update krain
  17. Dr. Sb. can I talk to you in inbox please?
  18. update 41 karan ne sneha ke sath quality time bitaya sneha ne karan ko khud ko chhune nahi diya par sneha ne karan apne pyar ke jaal me fasa liya pir karan me bhi thodi himmat aa gayi karan aur sneha hotel se apne apne ghar chale gaye karan ko main ne bata diya tha ki kya karna hai karan plan ke mutabik udass man se ghar aa gaye sonali pareshan thi ki karan ne kuch kiya to nahi apne bhai ko udass dek kar sonali ko fikar hone lagi sonali- karan kya hua karan ne kohi jawab nahi diya sonali- karan main tume kuch puch rahi hu karan- ab bolne ko.kuch bacha hi nahi sonali- kya kiya tumne , Avi tik to haina ye pyar bhi aisi chiz hai ki nafrat karte huye bhi fikar ho hi jati hai sonali-- Avi ko kya hua karan- Avi aur sneha bas itna hi bola karan aur aage nikal gaya sonali ko kuch samaj nahi aa raha tha sonali ko laga kahi karan ne Avi ko maar to nahi daala sonali ke ankhion se aasu nikalne lage sonali apne aasuyo ko chupane ke liye apne room.me chali gayi vahi karan udass man se apne room ki taraf jane kaga jaise karan room me jata to uski mummy ne aawz di K mummy- karan kya hua karan ne jab apni mummy ko deka to wo bhag kar apni mummy ke gale lag gaya gale lag kar rone laga K mummy- kya hua karan aise ro kyu rahe ho karan-sab kuch khatam ho gaya mummy K mummy- kya khatam ho gaya aur mera bahadur beta ro raha hai karan-main apni kismat pe ro raha hu K mummy- ye kaisi bate kar rahe ho karan-sab kuch khatam ho gaya K mummy- muze bata kya hua , karan ki mummy bhi karan ki bato ko sun kar dar gayi karan-mummy K mummy- kahi kisine kuch kaha karan-ye chot aisi lagi ki iska kohi ilai nahi hai mummy K mummy- kisne maara tuze , kiske sath zagda hua karan-ye chot dil pe lagi hai K mummy- dil pe chot , pyar hua tuze aur ladki ne manaa kiya kye sunkar karan rone laga K mummy- kis ladki me itni himmat aayi jo mere bete ko naa kaha ,, k mummy- tu ro mat main bat karungi us ladki se karan-ab kuch nahi ho sakta K mummy- main teri mummy hu , mere bete ke liye main kuch bhi kar sakti hu , chahe muze kuch bhi karna padenga ab to wo ladki tuze milke rahengi karan-nahi mil sakti K mummy- tu aise haar maan raha hai ,, pyar me haar nahi maante balki kosish karte rahna padta hai karan-ab kuch nahi ho sakta mummy K mummy- tuze apni.mummy pe vishwas nahi hai karan-vishwas , jab apno ne vishwasghat kiya to kya kar sakte hai K mummy- tu bata wo ladki khon hai , tuze pasand hai to teri shadi usi se hongi pir chahe uske liye muze tere papa se kyu na ladna pade karan-mummy K mummy- tu naam to bata , aur usne naa kaha hai to haa karvana muze aata hai karan-mummy wo bhi muzse pyar karti hai par K mummy- to pir breakup ho gaya karan-nahi K mummy- tu bata na kya hua , tere ankhion me aasu muze ache nahi lagte , tu rota hai to rona muze aata hai karan-rona hi likha hai mere kismat me K mummy- wo ladki tuze pyar karti hai pir bhi tu ro raha hai , bat kya hai karan-mummy wo K mummy- bata jaldi , karan-uske bina main ji nahi paunga itna bol kar karan apne room me bhag gay aur door under se band kar diya karan ki bat sunkar uski mummy dar gayi karan ki halat bahot kharab thi karan ka dil tut gaya tha aur uske bina ji nahi paunga ye word karan ke mummy ko bata rahe the ki unka beta room.me kya karenga karan ki mummy ko laga kahi karan kuch ulta sidha na kar de karan ki mummy karan ko aawz dene lagi K mummy- karan beta door kholo karan ne kohi jawab nahi diya K mummy- main tumari shadi usi ladki se karva dungi please door kholo pir se karan ne kohi jawab nahi diya karan ki mummy lagatar karan ko aawz dene lagi door ko pitane lagi ab to karan ko mummy ko is bat ka dar satane lag ki karan ne kuch kar to nahi diya karan ki mummy jor jir se door baJane lagi aoni mummy ki aawz sunkar sonali apne room se bahar aa gayi apni mummy ko karan ke room ka door bajate huye dek kar sonali ne aasu saaf kiye aur bhag kar apni mummy ke pass aa gaya sobali- kya hua mummy K mummy- deko karan be door band kar diya , muze lagta hai usne kuch kar to nahi liya sonali ko sab kuch pata tha sonali is halat ko ache se samajti thi sonali ne der na karte huye naukero ko aawz di aur nauker bhag kar karan ke room ke pass aa gaye sobali- door thod do nauker ne der na karte huye door thod diya karan ki mummy ro rahi thi jab door khula to sab chouk gaye bed ke pass karan pada hua tha aur uske hant ki nashe cuti huyi thi karan ne suicide karne ki kosjsh ki ye dek kar sonali aur karan ki mummy rote huye bhag kar karan ke pass aa gayi karan ki mummy bas roye ja rahi thi kisi ko kuch samaj nahi aaya ki kya hua sonali ne thodi samajdari dikate huye karan ke hant pe rumal laga diya taki khoon jada na nikale aur bhag kar docter uncle ko call karke ghar bhula liya kuch der me har taraf bhag doud thi sonali ne docter aane tak karan k ilaj suru kar diya karan ki mummy bas roye ja rahi thi karan ki mummy dar gayi thi unko apna beta khud se dur jate huye dik raha tha docter ke aate karan ka ilaj suru ho gaya sonali apni mummy ko sambal rahi thi chot normal thi jis se docter ne jaldi ilaj kar diya docter - ghabrane ki bat nahi hai par aapko karan ka dyan rakna honga, usko akela mat chodna varna pir se suicide na kar de sobali- karan ko hosh kab tak aaYenga docter- kal subha tak hosh aa jayenga, aur ha ye pata kar lena ki kyu suicide kiya taki us problem ko solve kiya jaye karan ki mummy bas roye ja rahi thi sonali ne apni mummy ko bataya ki karan ab tik hai par jab tak karan ankhion nahi kholenga tab tak karan ki mummy ka rona band nahi honga sonali ne apne papa ko call kiya par kohi jawab nahi mila karan ke papa to busy the raat bhar apni secretary ke sath aur idar sonali ko guass aa raha tha Avi pe ki uske vajse uske bhai ne suicide kiya
  19. ramir

    Do Boondin Saawan Ki

    story k images show nhi ho rhy.
  20. Update 40 karan ka bahot mazak udaya karan chup chap murga bana raha sneha to puri besharam ban gayi thi besharam kyu na bane uske life ka sawal tha main bhi karan aur sneha ko milane ka idea soch raha hu karan ki saja puri ho gayi jaise karan khada hua to wo niche gir gaya bichare ke pairo me takat hi nahi thi ham ne karan ko bed par lita diya aur sneha ne usko ek kiss kiya kiss karte karan me josh aaya ki nahi ye nahi pata lekin karan ka lund josh me aa gaya sneha- control me raho , Avi hai yaha aur sneha ne karan ke lund pe thappad maar kar sula diya mazak bahot ho gaya ab kaam ki bat karni hongi Avi- mafi maangna aur maaf karna , saja dena sab kuch ho gaya ab kaam ki bat kare karan- ek hafta hai sirf mere pass kuch soch na Avi- suruvat sneha se karte hai sneha- kaisi suruvat Avi- tumare yaha tumari maa is shadi se jada khush nahi hai sneha- lag to yahi raha hai Avi- kitne perectage lagta hai sneha-10% Avi- bahot hai Avi- karan tumare papa kaise hai ye hame pata hai tumari mummy tume jada pyar karti hai karan- haa Avi- to ham tumari mummy aur sneha ki maa ka istmal karenge karan- wo kaise Avi- to suno aur main ne karan aur sneha ki maa ko patane ka idea de diya dono khush huye is idea se par idea sucessful honga ispe muze doubt hai muze karan aur sneha ke milan ke sath sath sonali ke bareme bhi sochna honga sonali ko sach batana honga sonali ko kaise handle karna hai ye muze pata hai karan aur sneha ko vahi room me chhod kar main ghar vapas a a gaya dono ko kuch wakt sath bitana tha aur muze aaram ki jarurat thi par ghar aate komal muze mil gayi Avi- kya hua komal tu udass kyu hai komal-ye karan bhaiya khud ko samajte kya hai Avi- kyu kya hua komal-main sneha bhabhi ki photo dika rahi thi mera mobile thod diya Avi- us karan ne tera mobile thod diya komal-aur nahi to kya aur sonali didi ne bhi kuch nahi kaha jab unko batane gayi Avi- to tum bata ki kya karna hai komal-main kya batau Avi- acha hi hua karan ne tera mobile thod diya , varna jab deko tab mobile ke sath chipaki rahti hai komal-kya kaha , main mobile se chipaki rahti hu , muze aapse bhi bat nahi karni ja rahi hu apne room me komal guasse me jane vali thi ki main ne usko rok liya Avi- main mazak kar raha tha komal-muzE aise mazak pasand nahi hai Avi- meri gudiya ko mazak pasand nahi hai , komal-maska lagane ki jarurat nahi hai Avi- tik hai nahi lagata maska, ab bata tera mobile kab liya tha hamne komal-2 saal ho gaye Avi- to acha hua na karan ne thod diya , purana ho gaya tha , dek ab kitne ache model ke mobile aaye hai market me , komal-to Avi- to jo latest mobile tuze pasand aayenga wo lene jayenge kal komal-sach Avi- bilkul jayenge , aur jis gadde ne tera mobile thoda bill vahi denga komal-muze nayaa mobile milne vala hai pata hota to kab ka mobile thod deti Avi- meri gudiya jada smart hai ,, ab ek pyari smile de komal-love you bhaiya komal-vaise bhaiya aaj din bhar kaha the sach batana Avi- sneha ke sath komal-date pe gaye the Avi- aisa hi kuch par ek bat puchu tuze komal-puchiye Avi- tume sneha , bhabhi ke rup me pasand hai komal-dikne me achi hai ab nature kaisa hai ye to milte rahne ke bad pata chalenga Avi- ager main tume do option du to komal-matlab aapko sneha pasand nahi hai Avi- sneha kisko pasand nahi aayengi , par muze do ladkiya pasand hai par main decide nahi kar paa raha hu ki kiske sath shadi karu , komal-to muze bata do aapki pasand muze pata hai Avi- ye bat ham dono ke bich rahengi komal-promise Avi- sneha aur komal-aur khon Avi- sonali komal-kya kaha Avi- sneha aur sonali komal-apni sonali didi Avi- haa komal-karan bhaiya ki bahan Avi- ab ye mat kahana aunty ki beti uncle ke beti , hamari padosan komal-ye to aasan sawal hua bhaiya Avi- muze mushkil lag raha hai aur tu kah rahi hai aasan sawal hai komal-ye sawal aapko teen char din pahale puchna chaiye tha , Avi- kya ab der ho gayi komal-der nahi huyi , acha kiya abi puch liya Avi- to tu jisko apni bhabhi banana chahati hai wo bata komal-main jisko select karungi wo bhabhi hongi Avi- haa teri bat hi maanta hu main komal-sneha achi hai dikne me par sonali didi se thodi kam hai, komal- sneha ka nature kaisa hai ye to pata nahi par sonali didi kaisi hai ye hm sab jante hai komal- rich hoker bhi dil ki achi hai sonali didi Avi- explain mat kar , answer bata komal-sonali bhabhi , sonali didi ager bhabhi ban jayengi to maa ko ek aur beti milengi muze ek best friend mil jayengi Avi- aur muze komal-aapko biwi nahi ek hamsafar sathi milengi Avi- to cancel karni padengi sneha ke sath shadi komal-iska matlab aap aur sobali didi pyar karte ho ek dusare se , iska matlab us din aapne kaha tha ki sneha karan bhaiya ki .... omg ye kya ho gaya komal- hamne karan bhaiya ki girlfriend sneha se aapki shadi fix karva di komal- iska matlab us raat party hamare yaha thi par aap nahi karan bhaiya the sneha ke sath komal- aur ham samaj baite ki Avi- tum smart banti ja rahi ho komal-aapne bataya kyu nahi Avi- abi to bataya komal-us din kyu nahi bataya , sonali didi to sabko pasand hai Avi- ab kya der huyi , meri smart bahan sab kuch sambal lengi komal-galti muzse huyi to tik bhi main karungi , par kya sonali didi aapse pyar karti hai Avi- haa hi samaj lo komal- pakka bata do Avi- jaise tumne sneha ko bedroom me dek kar galat samaj liya vaise sonali ne bhi sneha ko mere room me dek kar galat samaj liya komal-omg Avi- tum tension mat le sonali muze pyar karti hai uski narajgi dur kar dunga komal-pahale aap sonali didi sorrry sonali bhabhi ke muh se i love you bulva do pir main kuch karti hu Avi- wo to mushkil hai komal-sneha ke case ke bad muze proof chaiye varna aisa na ho ki sneha se shadi tute aur aapko sonali bhi na mile Avi-aisa nahi honga , tuze meri bat pe vishwas nahi hai komal- aap to mere best bhai ho , main bhi to chahti thi ki aapki shadi sonali se ho Avi- teri icha jarur puri hongi komal- to mission sonali didi ko bhabhi banane pe lag jati hu Avi- mission ki suruvat maa aur papa se karni hongi komal- muze bata do kya karna hai main ne komal ko sara plan bata diya aur karam ke call ka intzar karne laga
  21. Update 39 karan ko sab kuch bata diya kuch bate zut bhi kahi lekin sara sach bata deta to karan sach me meri jaan le leta ab deko kaise sneha ke pairo me gir kar ro raha hai kaise sneha se maafi maang raha hai karan- sneha muze maaf kar do , main ne bina sach jane tume kya kuch nahi bol diya karan- tume kitni galiya di tume jaan se maarna chaha karan- ek bar apne pyar pe vishwas nahi kiya karan- bhai jaise dost ki dhokebaj kaha karan- apni jaan ko randi tak kaha karan- main ne ye kya kar diya karan- sneha muze maaf kar do karan- meri galti maafi ke layak hi nahi hai karan- sari galti meri thi pir bhi tumne muze maaf kiya lelin main tumare pyar ko samaj hi nahi paaya sneha- karan tum ne jo bhi kiya uske vajse tumari value mere najro me kam ho gayi hai , tumare liye jo pyar tha mere dil me wo khatam ho gaya karan- sneha bas ek bar maaf kar do , main dubara aisa nahi karunga sneha- karan na sirf tum ne muzpe shak kiya balki Avi ki jaan leni chai karan- Avi mze maaf kar do Avi- chaku thoda idar udar hota to mere lash pe ro raha hota karan- sneha tum jo kahogi main aaj ke bad vahi karunga bas muze maaf kar do sneha- har bar tum yahi kahte ho karan- ab tum ji kahogi wo karunga sneha- tik hai tume ek sharat pe maaf kar dungi karan- tumari har sharat manzoor hai smeha- tume mere sath ek hafte ke under shadi karni hongi main to sneha ki bat sunkar hang ho gaya sneha- apne ghar valo ke samne varna bhul jav muze , sneha pagal ho gayi kya sneha chahti kya hai ek to mere sath uski shadi fix ho gayi hai aur itne bade mushibat se kaise nikale ye samaj nahi aa raha hai aur sneha hai ki ek hafte ke under meri to kuch samaj me hi nahi aa raha hai karan bhi hang ho gaya tha lekin ager ab karan piche hat gaya to sneha ko kho denga sneha ki bat bhi ek jaga sahi thi ek hafte ka dabav daala tabi karan apne ghar valo se bat karenga meri aur sneha ki shadi tut jayengi varna jitni der huyi utni jada complication badh jayengi karan ke haa aur na pe sab kuch depand karenga pata nahi haa karne ke bad karan kya karenga sneha- dar gaye , tumare is dar ke vajse aaj meri shadi Avi se fix huyi hai , aur daroge to sach me shadi na ho jaye Avi se karan- tum kaho to abi court me jaker tumse shadi karunga sneha- court me , matlab apne ghar valo se pir dar ke jiyoge karan-mere kahne ka wo matlab nahi tha , main tumase ek hafte ke under shadi kar lunga ,pir chahe gharvalo se zagda hj kyu na karna pade ya ghar chhodna pade sneha- soch lo karan- isme sochna kya hai ,muze meri zindagi tumare sath bitani hai sneha -Avi tum.bhi sun lo Avi- kya hai sneha- ager karan ne ek hafte ke under muzse shadi nahi ki to main tumse shadi karungi Avi- kya ? sneha-ab karan ko ye decide karna hai ki wo muze biwi banana chahta hai ya bhabhi Avi- par karan- sneha tum.sirf meri biwi banogi , sirf meri karan ka confidence dekne layak tha sneha- dekti hu tumare pyar me kitni takat hai Avi- par muze kyu fasa rahi ho sneha- jitni galti karan ki hai utni tumari hai karan-Avi daro mat main ne apna dar khatam kar diya hai Avi-tere liye main is chudel se shadi nahi karunga sneha- kuch bhi bolo , main ne jo bol diya so bol diya karan- Avi muze tumari madat chaiye Avi- pahale apni gaand marva saale karan- ye kya bol rahe ho Avi- muze maarne vala tha tu karan- Avi tuze muze jo saja deni hai wo de main sari saja bhugat lunga , par ham pahale jaise dost rahenge Avi- dost ? aur main hasne laga karan- Avi aisa mat bol, tere madat ke bina sneha meri nahi ho sakti Avi-to main kya karu karan- meri madat kar tera ahsas mand rahunga zindagi bhar Avi- ek sharat pe teri madat karunga , karan- teri sari sharat manzoor hai Avi- ager kisi din main apni shadi ke liye teri madat mangu to tu haa karenga karan- teri shadi main karvaunga , tu jisse kahenga us se Avi- pir tik hai lekin tuze saja to milni chaiye karan- muze har saja manzoor hai Avi- sham ke 6 baje tak murga ban ke rah , matlab 4 gante karan- kya , ye mazak haina Avi- tere liye itni chooti saja de raha hu sneha- main Avi ke sath hu karan- tum dono ki yahi icha hai to lo ban jata hu aur karan murga ban gaya sneha- aise nahi , bina kapdo ke karan- ye jada ho raha hai Avi-sneha tum kya kar rahi ho sneha- Avi tum bich me mat pado sneha- karan tumare vajse muze sare zamane ke samne nanga hona pad sakta tha , tume bhi nanga hona padenga is room me tabi samjoge ki muze usdin kaisa laga tha ab to karan ko hamari bat maanne ke siwa kohi rasta nahi tha karan sharamte huye kapde nikaal raha tha underwear ke bad karan muze request karne laga ko underwaer to rahne do par sneha ne kuch nahi suna jab se sneha ne mere sath sex kiya hai tab se sneha puri tara se badal gayi usko ab sharam nahi aa rahi thi aur karan pura nanga ho gaya aur murga ban gaya main aur sneha karan ko ched rahe the sneha- ab samaje kaise lagta hai jab apni ijajat nilam hoti hai karan- muze maaf kar do Avi- murga ki tara baag de maza aayenga karan- sneha tume acha lag raha hai ki main Avi ke samne bina kapdo ke sneha- is vajse tume tumari galti zindagi bhar yaad rahengi , Avi-sorry karan , par tumare liye yahi sahi hai, is se Tume shikh milengi sneha- chalo Avi ham nasta karke aate hai karan bhi khada hone vala tha ki sneha ne rok diya smeha- tum murga bane raho , aur haa ager hamare jaane ke bad tum ne cheating ki to karan- to subha ke 6 baje tak murga bana rahunga aur sneha muze lekar room se bahar aa gayi aur ham nasta karne lage Avi- sneha tumare dimag me kya chal raha hai sneha-meri life ka sawal hai to muze dimag lagana honga Avi- par muze kyu fasa rahi ho sneha-aisa na bolti to karan jor nahi lagata , uska lagna chaiye ki ager usne kuch nahi kiya to main kisi aur ki ho jayogi Avi- ager karan haar gaya to tum mere gale pad jayogi sneha-tum bhi kuch kam nahi ho , karan se wada kyu liya muze pata hai , sonali ke liye Avi- sonali se itna pyar kab ho gaya pata hi nahi chala sneha-sach kahu to sonali lucky hai Avi- aur tum , tumne to shadi ke bina suhagraat manaa li sneha-yaad mat dilav , par ek bat kahu Avi ager sonali bich me naa aati to... Avi- to kya sneha- lo nasta aa gaya Avi- bhuk bahot lagi hai par tum kuch kah rahi thi sneha- yahi ki ab kya karna hai jis se meri shadi karan se aur tumari sonali se ho Avi- meri shadi mushkil hai , par tumari shadi ke liye ek idea aaya hai sneha-khonsa Avi- kaan idar karo aur main ne apna plan sneha ko bataya sneha-tum bahot bade kamino ho , kabhi nahi sudar sakte Avi- tum bhi kuch kam nahi ho , karan ko nanga kar diya sneha-mere sath itna kuch ho gaya uska kuch nahi , pata hai kaisa laga jab parde ke piche ham chupe the , tumari maa aur bahan ke samne buna kapdo ki..... Sneha-tumari maa aur bahan achi hai jo kisi ko sach nahi bataya Avi- chalo ab chalte hai , karan ko chedate hai nasta karke ham vapas karan ke pass gaye
  22. aftabadt

    پریگنینٹ

    hahahaha v. nice college ki yaaadain
  23. aftabadt

    Feesفیس۔۔۔

    hehehe
  24. hehehehe Lakhno ka halisandaz k qibla pehly appppp
  1. Load more activity


×