Jump to content
URDU FUN CLUB

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Yesterday
  2. Last week
  3. Bari der baad koi aisi story parhi k jis ko parhte hue rona aa gya. very nice guru pata nhi aap yeh comment dekho ya nhi baharhaal very nice
  4. Earlier
  5. Paid section ki membership kitne me mile gi???? Kindly details whatsapp kr den. If possible. Thanks
  6. Only pardes ,becouze pardes is very big and long sex novel
  7. kia 1 novel ki member ship hasil karny k bad sirf member us he novel tak mehdood rahy ga ya dosri stories b read kar saky for example agar main pardes ki member ship leta hon to kia ma just pardes he parh sakta hon ya us clu main aur bhe stories mojod hen jin ko main read kar sakonga
  8. آج میں آپ لوگوں کو جو واقعہ پیش کررہا ہوں وہ لاہور کی رہنے والی سدرا کا ہے اور آپ یہ واقعہ اسی کی زبانی ہی سنیں گے میرا نام سدرا ہے اور میری عمر 25 سال کے قریب ہے میری شادی 12 سال قبل ہوئی اور ایک بیٹی کی ماں ہوں جو اس وقت چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے میرا شوہر آٹھ سال پہلے روز گار کی تلاش میں امریکا چلا گیا جہاں سے وہ ابھی تک تین بار پاکستان آیا ہے آخری بار وہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان آیا اور صرف دس دن کے بعد واپس چلا گیا پہلے پہل تو مجھے اس کی کمی مجھے بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ میں اس کے بغیر رہنے کی عادی ہوگئی تقریباً ایک سال پہلے ایک رات میں باتھ روم میں جانے کے لئے اٹھی توپھر نیند نہ آئی جس پر میں چھت پر چلی گئی جہاں سے اپنے ہمسائے کو دیکھا جو اپنے لان میں اس کے ساتھ رومانس کررہا تھا اس نے اپنی بیوی کو کسنگ کے بعد اس کی قمیص کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کردیا جس سے میری سوئی ہوئی حسیں جاگ گئیں اور مجھے اپنے اور اپنے خاوند آصف کے پیار کے واقعات یاد آنے لگے جس سے میرے اندر ایک انجانی سی آگ بھڑک اٹھی تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں تو اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ میں بیڈ پر آن لیٹی میرے اندر لگی آگ مزید بڑھتی جارہی تھی میں نے ایک ہاتھ اپنی قمیص میں اور دوسرا اپنی شلوار میں ڈال لیا ایک ہاتھ سے اپنے ممے دبانے لگی جبکہ دوسرے سے اپنی پھدی میں فنگرنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد میںفارغ ہوگئی لیکن مجھے صحیح معنوں میں تسلی نہ ہوسکی اس سے اگلے روز بھی میں نے اسی طریقے سے اپنی تسلی کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے اندر لگی آگ کو بجھا نہ سکی اس رات میں نے اپنے شوہر کو امریکا میں فون کرکے واپس آنے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ ابھی چھ مہینے پہلے ہی تو پاکستان آیا تھا اگلے دو سال تک دوبارہ واپسی نہیں ہوسکتی جس کے بعد میں مزید ڈس ہارٹ ہوگئی اس کے بعد میں نے کسی لڑکے کو پھنسا کر اپنی آگ بجھانے کا فیصلہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے اگلے دو ماہ کے اندر کمرشل ایریا میں ایک دکان پر کام کرنے والے بیس سال کے قریب عمر کے عامر نامی نوجوان کو پھنسا لیا جس کو میں نے ایک روز دن کے وقت اپنے گھر بلایا اور اس کو اپنے کمرے میں بٹھا کر کوک پلائی اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کو کسنگ شروع کردی شروعات میں نے کی اس کے بعد وہ سٹارٹ ہوگیا اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے کسنگ کے دوران اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ممے دبانا شروع کردیئے میرے اندر آگ مزید بڑھ رہی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اس کو کمر سے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر پھیرنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور میری قمیص اتارنے لگا اس کے بعد اس نے میری بریزیئر اور شلوار اس کے بعد اپنی پینٹ شرٹ اور انڈر ویئر بھی اتار دیا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ میرے شوہر کا لن تقریباً ساڑھے چھ انچ کا تھا اور عامر صرف چار انچ لن کا مالک تھا اور وہ بھی کافی پتلا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا میں نے اسی پر گزارہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی دوران عامر نے مجھے دوبارہ کسنگ شروع کردی اور پھر میرے مموں کو چوسنے لگا وہ بڑی کمال مہارت سے یہ کام کررہا تھا اس کا ایک ہاتھ میری پھدی کو سہلا رہا تھا جس سے اس کے اندر سے پانی نکلنے لگا اس کے بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا کر میرے مموں کو چوسا اور اور میرے نپلز کو اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا سا کاٹنا شروع کردیا جس سے میرے منہ سے ایک آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ سی نکل گئی اس کے بعد اس نے میری گردن اور پھر میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا کہ اس نے ایک اور ناقابل برداشت کام کیا اس نے اپنی ایک انگلی میری پھدی کے اندر ڈال دی اور اس کو ہلکا ہلکا سا موو کرنا شروع کردیا جس سے میں مزے کی دنیا میں پہنچ گئی نشے سے میری انکھیں بند ہورہی تھیں میں نے اپنی ٹانگیں اکٹھی کرلیں اور عامر کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کو کہنے لگی عامر بس کرو اب میری برداشت سے باہر ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میرے پیٹ اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیری جس سے میرے مزے میں مزید اضافہ ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی میں نے ایک دم عامر کو پکڑ کر خود سے علیحدہ کردیا اور اس سے کہا کہ اب بس کرو اور اصل کام کرو لیکن اس نے میری بات ان سنی کرکے پھر سے مجھے سیدھا کیا اور اپنا منہ میری پھدی پر رکھ دیا جس سے میری جان نکل گئی اس کی زبان میری پھدی کے اندر گئی اور حرکت کرنے لگی میں نے اس کو بالوں سے پکڑ لیا میرا دل کررہا تھا کہ کسی طرح اس کی زبان مزید لمبی ہو جائے اور میرے اندر تک چلی جائے اس طریقہ سے کبھی میرے شوہر نے نہیں کیا تھا اور میرے لئے یہ مزہ نیا تھا دو منٹ تک اس نے میری پھدی کے اندر اپنی زبان چلائی پھر پیچھے ہٹ گیا اور میرے ساتھ لیٹ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ اب تم میرے لن کو اپنے منہ میں لو میں نے پہلے یہ کام بھی نہیں کیا تھا اس لئے اس کام سے انکار کرنے لگی اس نے مجھے بہت کہا لیکن میں نہ مانی اس کے بعد وہ اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اپنے لن کو میری پھدی پر رگڑنے لگا کچھ لمحے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور جھٹکا دیا اس کا پورا لن میری پھدی کے اندر چلا گیا اس کے بعد اس نے جھٹکے مارنا شروع کردیئے میرا دل کررہا تھا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر ٹکرائے لیکن اس کی لمبائی چھوٹی تھی جس کی وجہ سے میری خواہش پوری نہیں ہوسکی چار پانچ منٹ کے بعد وہ فارغ ہوگیا لیکن میں ادھوری رہ گئی وہ مزید ایک آدھ منٹ تک میرا ساتھ دیتا تو میں بھی منزل تک پہنچ جاتی لیکن وہ فارغ ہوگیا اور ٹھنڈا ہوکر میرے اوپر آن گرا اور لمبے لمبے سانس لینے لگامجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے اندر لگی آگ مجھے بھسم کردے گی دس منٹ میرے اوپر ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ اتر کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے لن کو سہلانا شروع کردیا تاکہ اس کو دوبارہ تیار کرکے خود بھی مکمل ہوجاﺅں پانچ ساتھ منٹ تک اپنی انگلیوں سے اس کے لن کے ساتھ کھیلتی رہی تو اس کے لن میں تھوڑی سی حرکت محسوس ہوئی تو کہنے لگا آپ اس کو منہ میں لیں تو جلدی کھڑا ہوجائے گا میں نے مجبوراً اس کے لن کو منہ میں لےنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیڈ شیٹ سے اس کے لن کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ا سکو اپنے منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوسنا شروع کردیا جس کے باعث چند سیکنڈ میں ہی اس کا لن کھڑا ہوگیا میں نے اب دوسرے طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو لیٹے رہنے کا کہہ کر اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا لن اپنی پھدی میں لے لیا اور اس کے اوپر اچھلنے لگی چھ سات منٹ تک اسی طرح اچھل کود کرنے کے بعد میں فارغ ہوگئی اور ساتھ ہی وہ بھی چھوٹ گیا اس کے لن کی ساری منی میری پھدی میں نکلی لیکن اس کا مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیونکہ دو سال پہلے ہی میں نے اپنا آپریشن کروا لیا تھا اس کے بعد تقریباً پانچ ماہ تک میں دوسرے تیسرے دن عامر کو اپنے گھر بلا لیتی اور اس کے ساتھ سیکس کرتی کبھی تو میں بھی مکمل ہوجاتی لیکن کبھی کبھی وہ مجھے ادھورا چھوڑ کر خود ڈھیلا ہوجاتا ایک روز اس نے مجھے نیٹ پر اردو سٹوریز کی مختلف سائٹس بتائیں جن کا میں ریگولر وزٹ کرنے لگی اور اپنے فارغ وقت کا خاصا حصہ کہانیاں پڑھنے میں صرف کرنے لگی اس دوران میں نے کہانیاں لکھنے والے کئی افراد کو ای میلز بھی کیں چند ایک نے مجھے رپلائی بھی کیا لیکن ان کے ساتھ بات آگے نہ بڑھ سکی ایک روز میں نے اردو فن کلب پر لاہور میں لائیو سیکس پرفارمنس کے حوالے سے ایک کہانی پڑھی تو میرے دل میں بھی شوق پیدا ہوا کہ میں یہ شو دیکھوں جس کے لئے میں نے اس کہانی کے رائیٹر کو ای میل کی جس میں میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا مجھے دو روز بعد جواب موصول ہوا جس میں کہانی کے مصنف شاکر محمود نے بتایا کہ ان کا شو کے آرگنائزرز کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک دوست کے ریفرنس سے وہاں گئے تھے اور اگلا پروگرام مارچ یا اپریل میں ہوگا جس کے بعد ان کے ساتھ ریگولر میل کے ذریعے رابطہ ہونے لگا اس دوران ان کی چند ایک دیگر تحریریں بھی میں نے پڑھیں اور میرے دل میں ان کے ساتھ ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا میں نے ایک روز ان کو میل کرکے ان سے ملنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواباً مجھے میل میں اپنا فون نمبر SENDکردیا جس پر میں نے فوراً ان کو کال کی اور ان سے ملنے کے لئے کہا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تو کسی کام کے سلسلہ میں اسلام آباد میں ہیں لیکن دو تین روز تک واپس آکر پہلی فرصت میں ملیں گے یہ اتوار کا دن تھا جب مجھے دن کے بارہ بجے کے قریب شاکر صاحب کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ابھی فری ہیں اور ملنا چاہتے ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آج میری بیٹی کو سکول سے چھٹی ہے اور گھر پر کچھ مہمان بھی آنے والے ہیں اگر کل کا یا رات کا ٹائم رکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا خیر یہ بات طے ہوگئی کہ رات کو ساڑھے دس بجے شاکر صاحب میرے گھر آئیں گے اور رات میرے پاس ہی ٹھہریں گے رات کو چھ بجے کے قریب گھر سے تمام مہمان چلے گئے اور سات بجے کے قریب میری بیٹی بھی سو گئی جاری ہے
  9. still no update, waiting for update since last 6 months
  10. Sara qasoor hum readers ka nahi ap logo ka bhi jin ki ik bhi bat pori nahi hti
  11. سلام دوستوں میری آج کی سٹوری کا عنوان ہے مومل جی ہاں مومل ایک نہایت حسین لڑکی جس نے مجھے پاگل کر دیا تھا دوستوں میری کزن کی شادی تھی اور میں وہاں اپنی فیملی کے ساتھ گیا تھا جب میری ملاقات اپنی کزن کی دوست مومل سے ہوئ اسے دیکھ کر ہی میں اسکی معصومیت اور حسن کا قائل ہوگیا مومل ایک بے حد حسین اور دلکش نقوش والی 16 سال کی لڑکی تھی اس کی خوبصورتی اور پھر معصومیت نے ہی مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا پھر ایک میں اپنی کزن کے روم میں بیٹھا ہوا تھا جب میں نے اس کی ڈائری دیکھی۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ دونوں سہیلیوں میں حد درجہ پیار تھا۔ میں نے تبھی دروازہ کھلتا دیکھا تو ڈائری رکھ دی مگر تب تک مومل مجھے دیکھ چکی تھی۔ اس نے بڑے لاڈ سے مجھے دیکھا اور بولی کسی کی اجازت کے بنا ڈائری پڑھنا جرم ہے۔ مینے کہا سوری بس ایسے ہی نظر پڑھ گئ تو۔ وہ بولی اچھا کوئی بات نہیں میں نے کہا مومل تم بہت پیاری ہو۔ وہ معصومیت سے بولی ہاں گھر والے بھی یہی کہتے ہیں۔ میں نے کہا نہی سچی میں وہ کچھ نہ بولی بس نظریں جکھا کر جانے لگی تو میں نے کہا مومل میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں وہ بولی کیا۔ میں نے کہا یہاں نہیں اوپر سٹڈی روم میں تو وہ بولی اوکے آئیں میں نے سوچ لیا تھا ک آج اس کی لینی ہے ہر حال میں۔ مجھے پتا تھا ک اوپر کوئ نہیں جاتا۔ میں اسے لئے اوپر پہنچ گےا۔ سٹڈی روم کے اندر ایک سٹور تھا اور اس میں کسی کے آنے کے چانس نہیں تھے۔ جیسے ہی میں روم میں داخل ہوا تو وہ رک گئ میں نے کہا آو نا۔ وہ بولی یہاں ہی بتا دیں نا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ مومل کی سانس تیز ہو چکی تھی وہ سراسیمہ ہو کر بولی آ آپ دروازہ کیوں بند۔۔۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے روکا اور کہا کہ مومل تم بہت پیاری ہو۔ بہت خوبصورت ہو۔ وہ ڈرے ہوئے لہجے میں بولی پلیز کوئ آ جائے گا میں نے کہا مومل میں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں وہ بولی ہرگز نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل کچھ غلط نہیں میں تمھاری مرضی سے ہی کروں گا اور جہاں تم کہو گی روک دوں گا۔ کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان گئ کہ میں اسے اوپر سے ٹچ کر سکتا ہوں۔ میں نے اس کے نازک بدن پہ ہاتھ پھیرنے شروع کر دئے وہ کچھ نہ بولی اور سمجھی کی میں ابھی اسے چھوڑ دوں گا آہستہ آہستہ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال میں نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پہلےتو وہ کسمسائ مگر پھر چپ ہو گئی ابھی تک مجھے اس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا تھا۔ آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے ہاتھ اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھا دیا وہ تھوڑا پیچھے ہوئ اور میں نے بھی آگے بڑھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کیا۔ میں دھیرے سے آواز دی مومل۔ وہ بولی جی۔ میں نے کہا کیسا لگ رہا ہے۔ وہ تھوڑی دیر بعد بولی بس کریں نا اب۔ میں بولا مومل اپنی قمیض اتارو۔ وہ بولی نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل میں اپنی بات پہ قائم ہوں بس پیار کروں گا۔ دیکھو جلدی کرو کوئی آگیا تو تم بدنام ہو جاؤ گی۔ اس نے کہا اچھا پیچھے ہٹیں مگر پلیز کچھ الٹا نا ہو جائے میں نے کہا نہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے قمیض اتار دی اور ساتھ ہی اس کا برا بھی اٹھ گیا۔ اوہ مائی گاڈ اتنا صاف شفاف پیٹ اور ممے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ میں نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور آگے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پہلی بار اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی میں اسے ساتھ لگائے ہوئے ہی اس کی گردن پہ ہونٹ رکھ دئے اور چومنے لگا۔ چومتے چومتے میں اس کے نازک مموں پر پہنچ گیا۔ اس کے ممے دودھ کی طرح سفید تھے اور ان پہ ہلکے پنک نپل بے حد حسین۔ میں نے اس کے نپل چوسنے شروع کر دئے تو پہلی بار اس کی ہلکی سی سسکاری نکل گئی۔ میں نے پوچھا مومل کیسا لگا۔ وہ بولی بہت اچھا۔ میںنے پھر اس کے نپل پہ زبان پھیرنے لگا اور ساتھ ہی دونوں مموں کو ہاتھوں میں بھر کر دبانا شروع کر دیا اب اس کی ہلکی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا کہ میری محنت رنگ لائے گی۔ میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا تو اس نے آسانی سے اسے اتار دیا جو اس بات کی علامت تھی کی آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اس کی پھدی پہ ہاتھ پھیرا تو تڑپ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہلکے سے ہاتھ چھڑا کر پھر ہاتھ پھیرا اور دھیرے دھیرے اس کی رانوں پہ زبان پھیرنی شروع کر دی۔ اب مومل کی سسکیاں نکل رہیں تھیں اور پھر میں نے اپنی زبان اس کی پھدی پر رکھ دی اور پھیرنے لگا۔ مومل کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اور اس نے میرے سر کو پکڑ لیا۔ میں نے فورا اس کے ہاتھ پکڑ کر اور تیزی سے زبان پھیرنے لگا۔ اب مومل مزے کے ساتویں آسمان پر تھی اور مجھے اب اس کی پھدی کی برسات کا انتظار تھا۔ پھر کچھ دیر بعد پکڑ لئے اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس نے تب تک میرے بال نہیں چھوڑے جب تک اس کی پھدی پانی چھوڑتی رہی اور پھر جب اس نے میرے بال چھوڑے تو میرا پورا چہرہ اسکے پانی سے بھیگ چکا تھا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی میں اٹھا اور اپنی شلوار اتار دی اور اپنے کپڑوں سے رومال نکال کر اپنا چہرا صاف کرنے لگا۔ مومل ابھی تک بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ شاید پہلی بار فارغ ہونے کی وجہ سے۔ میں نے اسے ہلایا تو وہ اوں آں کر کہ اٹھی اور بولی آپ نے کیا کر دیا ہے مجھے۔ میں بولا مزا آیا۔ وہ بولی ہاں مزا تو بہت آیا پر اب مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بولی آپ نے بھی کپڑے اتار دئے ہیں۔ کیوں۔ میں بولا کہ مومل یہ تو شروعات تھیں اصلی مزا تو اب آئے گا۔ وہ بولی نیں پلیز بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں نے کہا۔ مومل پلیز جہاں اتنا صبر کر لیا تھوڑا اور کر لو پلیز۔ وہ بولی اچھا اچھا پر پلیز جلدی کریں میں نے کہا اوکے تم اب دیوار کی طرف منہ کر لو اور اپنی ایک ٹانگ اس سٹول پہ رکھ لو۔ میں نے سٹول کھینچا اور اس کی ٹانگ اس پہ رکھ دی۔ اب میں نے پیچھے سے اپنا کن جو کہ فل اکڑ کر سرخ ہو رہا تھا اسے مومل کی گرم پھدی پہ رکھا۔ مومل فورا آگے ہوئی اور بولی۔ آپ نے کہا تھا ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ میں نے کہا مومل بس اوپر ہی پھیرنا ہے۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ پلیز بس مجھے بھی فارغ ہونے دو۔ وہ بولی اچھا ٹھیک ہے پر پلیز اوپر سے ہی کرنا۔ میں نے لن اس کی پھدی پہ رگڑنا شروع کر دیا تھا۔ اتنی گرم پھدی کہ دل کر رہا تھا بس گھسا دوں اندر پر کہتے ہیں نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو اس لئے میں بھی انتظار کر رہا تھا۔ لن اوپر پھیرنے سے مومل کی سسکیاں پھر شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے پوچھا مومل کیسا لگ رہا ہے۔ تو وہ سسکتی ہوئی بولی بہت اچھا۔ آپ کا وہ بہت گرم ہے۔ میں نے کہا مومل تھڑا اندر گھسا دوں۔ بہت مزا دے گا۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔ ننہییں دردرد ہوگا اور برداااشت نہیں ہوگا۔ میں نے اسکی گردن چومتے ہوئے کہا۔۔ مومل میری جان تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا دیکھنا۔۔ وہ بولی۔۔۔ اااچھا پر آرام سے پلیز۔۔۔۔ میں نے لن پھیرتے پھیرتے آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے سوراخ کو کھوجنا شروع کر دیا۔ اور جب مجھے لگا کہ اب لن ٹھیک سوراخ کے اوپر ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ مومل کی بغلوں کے نیچے سے گزار کر اس کی گردن کو کس کے پکڑ لیا اور اک زوردار جھٹکا دیا میرا لن پھسلتا ہوا دو انچ تک مومل کی پھدی میں گھس گیا۔ اگر میں نے بروقت مومل کے منہ پہ ہاتھ نہ رکھ دیا ہوتا تو اب تک سارا گھر اکٹھا ہو جاتا۔ مومل نے نے خود کو چھڑوانے کےلئے زور لگانا شروع کر دیا۔ تبھی میں نے ہمت کر کے ایک جھٹکے سے اپنا باقی سارا لن بھی اندر گھسا دیا۔ مومل اب ایسے تڑپ رہی تھی جیسے بن پانی کے مچھلی تڑپتی ہے۔ میں نے اب اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ روتے ہوئے بولی آپ نے میری جان نکال دی۔ اتنا درد مجھے آج تک نہیں ہوا۔ میں نے کہا مومل بس اب جتنا ہونا تھا ہو گیا۔ اب صرف مزا آے گا۔ پلیز۔ پر وہ نہی مان رہی تھی۔ میں نے ساتھ ساتھ لن ہلانا بھی جاری رکھا اور پھر آخر کار کچھ دیر بعد اسے تھوڑا چین آیا میں نے پوچھا مومل اب کیسا لگ رہا ہے۔ وہ بولی۔ بس اب بس کریں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ مجھے اس پہ ٹوٹ کہ پیار آیا۔ میں نے کہا مومل جان بس اب مزا آئے گا۔ ساتھ ہی میں نے لن باہر نکا کر اندر ڈالا اور ہلکے ہلکے جھٹکے لگانے لگا۔ اب دھیرے دھیرے مومل بھی نارمل ہو رہی تھی اور اب مجھے اس کے فارغ ہونے کا انتظار تھا۔ پھر وہ وقت بھی آگیا۔ مومل کی پھدی پہلے ہی بہت ٹائٹ تھی تو اب اور ہو گئی اور اس نے میرے لن پہ برسات کردی۔اب مومل نارمل ہو چک تھی۔ میں نے اب اپنی رفتار تیز کر دی اور پھر میں نے لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوگیا۔ مومل ابھی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی۔ میں نے آواز دی مومل۔۔ وہ بولی۔۔ کیا ہے۔۔ میں نے کہا جان ناراض مت ہو پلیز۔ وہ بولی اچھا نہیں ہوں۔ اب چلیں میں نے کہا ہاں چلو
  12. Hi im new
  13. پردیس ہمیشہ کی طرح لاجواب ہی ہے اسکو پیڈ ہی ہونا چاہیے بڑے عرصے بعد فورم پہ آیا ہوں اور پردیس کے لیے ہی آیا ہوں آج دیکھی وہ تمام پوسٹ اگر ایمیل الرٹ ہو تو ہم بھی ووٹنگ میں شامل ہو جاتے اینی وے کہانی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے پیڈ ممبر شپ لینی ہے آج کل اپنے کام کے لیے ایک سایٹ بنوایا اس کی ہوسٹنگ لی تو پتا چلا ڈاکٹر خان اور ایڈمن کا درد
  14. سر اصل میں میں نے خود نہیں بھیجی بلکہ کیونکہ میں ان دنوں گاوں آیا ہوا ہوں اور یہاں جاز کیش کی سہولت موجود نہیں ہے بھائی نے بھجوائی تھی اور وہ کہہ رہے تھے کہ اکاونٹ میں بھیجنے پر کوئی تصدیقی میسج یا پروف نہیں دیا جاتا۔۔۔۔ کیا آپ براہ کرم خود اکاونٹ چیک کر کے بتا سکتے ہیں پلیز؟
  15. برائے کرم اپنی ٹرانزیکشن آئی ڈی مجھے سینڈ کریں۔
  16. سر میں نے آج 1000 روپے جاز کیش کے زریعہ پردیس سیکشن کیلئے بھیجے تھے لیکن مجھے ابھی تک اس میں شامل نہیں کیا گیا براہ کرم چیک کیجئے۔۔🌷
  17. How can I do payment by balance upload on cell number or amount transfer to any account I will prefer balance transfer to any cell number
  1. Load more activity


×