Jump to content
URDU FUN CLUB

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Yesterday
  2. xhekhooo g kamall ker diya aap nay. aik hi seen ko bohaaat dramaye andaz main paish kiya k mera Lun b khara ho gya hai. ufff kya bat hai. zabardast. bohaaat ala jnab
  3. sheikho G ap b hmry liye zofi bn gye ho trsaaty ja rhy ho hmy 😂 anyhow exceptional bombastic update
  4. Ye full story chahiye mujhe pdf mein mill sakti hey kia men admin ya writer ko pay kar sakta hn
  5. .......update....???? ضوفی بولی یاسر تمہیں پتہ ہے کہ تم پہلے لڑکے ہو جس کے ساتھ میں اتنی فرینک ہوگئی ہوں اور میں نے اپنے پارلر میں بھی تمکو بنا کسی خوف کے اندر آنے کی اجازت دے دی ۔ اب تم یہ نہ سمجھنا کہ میں ایسی ویسی لڑکی ہوں ۔ جب پہلی دفعہ میں نے تمکو دیکھا تھا تو تمہارے چہرے میں ایک عجیب سی کشش نے مجھے تمہاری طرف متوجہ ہونے پر مجبور کردیا ۔ میں نے کہا ضوفی جی مجھے پتہ ہے کہ آپ شریف لڑکی ہو یہ ضروری نہیں کہ ہر فیشن ایبل لڑکی غلط ھی ھو ۔ سچ پوچھیں تو آپ کو بھی پہلی دیکھتے ہی ۔میرے دل میں آپ گھر کر گئی تھی اور میں دن رات آپکے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا مگر آپ سے بات کرتے ججھکتا تھا۔ مگر آپ میری طرف سے بےفکر ہوجائیں کہ میری اور آپ کی بات باہر کسی اور کو پتہ چلے گی ۔ مجھے آپکی عزت کا احساس ھے آپ کی عزت میری عزت ہوگی ۔ ضوفی میرا ہاتھ پکڑ تے ہوے بڑی گرمجوشی سے بولی یاسر مجھے تم سے یہ ہی امید تھی ۔ آج سے تم میرے بیسٹ فرینڈ ہو میں نے اسکے نرم ملائم ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوے کہا۔ ضوفی جی میں گاوں کا سادہ سا لڑکا ہوں اور جسکی. طرف ایک دفعہ دوستی کا ہاتھ بڑھا لیا تو جان جاتی ھے جاے مگر دوستی پر آنچ نھی آنے دیتا میری باتیں سن کر ضوفی کے چہرے پر خوشی کے اثار نمایاں نظر آرھے تھے جیسے اس کی آرزو پوری ہوگئی ہو۔ مگر اسے کیا پتہ کہ میری اپنی حسرت پوری ہونے کو جارھی تھی ضوفی کی قربت پانے کا قرعہ میرے نام نکلا اس سے بڑی خوش نصیبی میرے لیے کیا ہوتی ۔ کچھ دیر مذید باتیں کرنے کے بعد ضوفی بولی چلو یاسر تمہارے سارے جسم کی ویکس کرتی ہوں دیکھنا تم اپنے آپ میں کیسی چینجنگ محسوس کرتے ھو۔ میں نے حیرانگی سے منہ بنا کر کہا سارےےےےےے جسم کی ۔ ضوفی بولی ہاں میں نے پھر ناقابل یقین ہوتے ھوے کہا کہ واقعی سارےےےےے جسم کی ۔ ضوفی میری بات کا مطلب سمجھتے ہوے بولے ۔ شوخےےےےے چلو اٹھو کرتی ہوں تمہارے سارےےےےےے جسم کی ویکس۔ میں اٹھ کر ضوفی کے ساتھ ویکس روم میں آگیا ۔ ضوفی مجھے ادھر بٹھا کر باہر نکل گئی اور کچھ دیر بعد واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں کریم کے دو بڑے بڑے ڈبے تھے ۔ ضوفی چلتی ہوئی میرے پاس آگئی اور میری طرف دیکھتے ہوے ایسے بولی جیسے ڈاکٹر بچے کو ڈراتا ھے ۔یاسر چلو تیار ہوجاو قمیض اتارو اور سٹریچر پر لیٹ جاو۔ میں نے کہا ضوفی جی. آپ تو سچ مچ ہی میری ویکس کرنے لگی ہیں ۔ ضوفی بولی تمہیں کیا لگا میں مزاق کررھی تھی ۔ چلو شاباش اتارو قمیض ۔ میں نے کہا مجھے شرم آرھی ہے ۔ ضوفی ہنستے ہوے بولی تم لڑکی ہو جو تمہیں شرم آرھی ہے یہاں تو لڑکیاں نہیں شرماتی اور تم لڑکے ہوکر میرے سامنے شرما رہے ہو ۔ ضوفی چٹکی بجا کر بولی چلو شاباش اتارو قمیض ۔ میں نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوے کہا ضوفی جی آپ دوسری طرف منہ کرو ۔ ضوفی کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی پہلے تو یہ تم مجھے ضوفی جی اور آپ کہنا چھوڑو۔ ہم اب فرینڈ ہیں یار۔ مجھے صرف ضوفی کہہ کر مخاطب کیا کرو اور آپ کی بجاے تم کہا کرو۔ اور یہ شرم اتارو اور جلدی کرو۔ میں نے قمیض کے بٹن کھولے اور شرماتے ہوے قمیض اتار کر ہینگر کے ساتھ لٹکا دی ۔ اور سٹریچر پر لیٹنے لگا تو ضوفی میرے گورے کندھوں اور بازوں کو بڑے غور سے دیکھتی ہوئی بولی جناب یہ بنیان بھی اتار دو۔ میں نے منہ بسورتے ہوے بنیان بھی اتار دی ۔ اور سٹریچر پر لیٹ گیا ضوفی نے اتنی دیر میں کریموں کو مکسچر کر کے ایک باول میں ڈال کر باول لے کر اس میں برش کو گھماتے ہوے میری طرف بڑھی ایک تو میں آدھا ننگا لیٹا ہوا تھا دوسرا ضوفی نے گلے سے دوپٹہ بھی اتار دیا تھا اور اسکے تنے گول مٹول ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے اور مجھے گھور رہے تھے۔ میں سیدھا لیٹا گردن گھما کر اسکے مموں کو دیکھے جارھا تھا ۔ ضوفی میرے بلکل قریب آگئی اور برش سے باول میں سے کریم نکال کر میرے سینے پر لیپ کرنے لگ گئی مجھے گدگدی سی ہورھی تھی میں نے ذور سے آنکھیں بند کرلیں ۔ میرے بازو بلکل سیدھے تھے ۔ مجھے اچانک احساس ہوا کے میرے بازو کے ساتھ کچھ نرم نرم سی چیز ٹکرا رھی ہے ۔ میں نے آنکھ کھول کر دیکھا تو ضوفی کی پھدی والا حصہ میرے بازو کے ساتھ وقفے وقفے سے ٹچ ہوتا میرے دماغ میں تو دھماکے شروع ہوگئے اور دھماکوں کی آواز جب لن تک پہنچی تو لن ساب نے بھی ایک جھٹکا مارا اور میری شلوار میں تمبو بنا کر باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگ گئے اتنی دیر میں ضوفی اپنے دھیان میں میرے سینے پر لیپ کرتے ہوے میرے پیٹ کی طرف آگئی اور اچانک جب اسکی نظر میرے لن کی طرف پڑی تو اسکا چلتا ہو ہاتھ رک گیا میں نے ہلکی سی آنکھ کھول کر دیکھا تو ضوفی آنکھیں پھاڑے لن کی طرف دیکھی جارھی تھی میں بھی انجان بن کر آدھی آنکھیں بند کر کے لیٹا رھا جیسے مجھے کسی بات کا علم ھی نہیں ہے ۔ ضوفی کچھ دیر ایسے ھی بت بنی کھڑی کبھی میرے لن کی طرف دیکھتی تو کبھی آنکھ چرا کر میرے چہرے کی طرف دیکھتی تو میں آنکھیں بند کرلیتا ۔ ضوفی کا ہاتھ ابھی تک میری ناف پر ھی رکا ہوا تھا نہ وہ برش کو آگے پھیر رھی تھی نہ نیچے کیطرف پھیر رھی تھی ۔ میں نے پھر ہلکی سی ایک آنکھ کھول کر ضوفی کے چہرے کی طرف دیکھا تو ضوفی اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رھی تھی شاید گبھراہٹ کی وجہ سے اسکے ہونٹ خشک ہورھے تھے ۔ کچھ دیر بعد ضوفی نے ناف کا حصہ چھوڑا اور میرے لن کی طرف چمکتی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی میرے کندھوں کی طرف آئی اور میرے بازوں پر کریم لیپ کرنے لگ گئی اب میرے بازو سیدھے ہونے کی وجہ سے میری کلائیاں بھی میرے لن کے قریب تھیں ضوفی میری کہنیوں سے جب نیچے گئی تو اسکے ہاتھ پھر رک گئے ۔ میرے لن کی نظر سے جب بھی ضوفی کی نظر ملتی تو لن ایک جھٹکا مار کر اسکی نظروں کو کہتا کہ بنی سلا فیر۔ میں بھی میسنا بن کر لیٹا رھا اس دوران ہم دونوں ھی خاموش تھے ضوفی پھر کچھ دیر کھڑی رھی ۔ اور میری کلائیوں اور میرے ناف کے حصے کو ویسے ھی چھوڑ کر صوفے پر جا کر بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنے چہرے کو صاف کرنے لگ گئی اسکی نظریں اب بھی میرے لن کی طرف ہی تھیں کہ ۔۔۔۔۔ .میں نے آنکھیں کھول کر ضوفی کی طرف دیکھتے ہوے کہا کہ ضوفی ہوگئی ویکس۔ تو ضوفی اچانک بوکھلا کر مجھ سے نظریں چرا کر بولی نننن نھی ابھی ٹانگوں کی رہتی ہے میں نے اسکے پریشان چہرے کو دیکھ کر پوچھا کیا ہوا پریشان کیوں ہو ۔ طبعیت تو سہی ہے ۔ ضوفی خود کو سنبھالتے ہوے زبردستی مسکرا کر بولی ہاں ہاں ٹھیک ہوں بھلا مجھے کیا ہونا ہے۔ میں نے اٹھتے ہوے کہا کہ پریشان کیوں ہو ۔ تو ضوفی جھٹکے سے اٹھی اور مجھے اٹھنے سے منع کرتے ہوے بولی لیٹے رہو ساری ویکس خراب ہو جانی ہے ۔ میں اسکے حکم کی تعمیل کرتے ہوے لیٹ گیا ضوفی جب جھٹکے سے میری طرف ہاتھ کے اشارے مجھے روکتے ہوے اٹھی تو اس کے دودھ کے مٹکے ایسے ابھرے جیسے ابھی گلے سے نکل کر باہر نکل کر گر جائیں گے ۔ ضوفی کی پریشانی دیکھتے ہوے میرے لن نے بھی کچھ سمجھداری کا کام کیا اور کچھ نرم ہوکر سر جھکا لیا مگر ابھی بھی ابھار کے اثرات واضع نظر آرھے تھے ۔ میں پھر سیدھا لیٹ گیا مگر میں نے ضوفی سے نظر بچا کر آہستہ سے لن کو نیچے کر کے چڈوں میں دبا لیا کیوں کے میں نہیں چاہتا تھا کہ ضوفی پہلی ملاقات میں ہی میرے بارے میں غلط تاثرات نہ لے لے کیوں کہ اسکی نظر میں میں ایک سیدھا سادھا پینڈو لڑکا تھا اور وہ میری سادگی اور میری خوبصورتی کی وجہ سے میری طرف راغب ہوئی تھی ورنہ تو سینکڑوں لڑکے اسکی راہ میں آنکھیں بچھاے صبح دوپہر شام بیٹھے رہتے تھے ۔ تو میں نہیں چاہتا تھا کہ گرم گرم ھی نگھل لوں ۔ ضوفی کو بس لن کا سائز دیکھانا تھا وہ دیکھا دیا تھا جو عورت کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ھے ۔چاہے عورت کتنی بھی پاکباز ہو بڑے اور تگڑے لن کو دیکھ کر ایک دفعہ تو اسکی پھدی سے پانی کا قطرہ گر ھی جاتا ھے ۔ ضوفی کچھ دیر بعد خود کو ریلیکس کر کے اٹھی اور پھر باول پکڑ کر مجھ سے کچھ فاصلے پر ہوکر میری ناف کے نیچے اور میری کلائیوں پر لیپ کر کے پھر میری ٹانگوں کی طرف بڑھی اور بولی یاسر اپنی ٹانگوں کو فولڈ کر کے کھڑی کرلو میں نے گھٹنے اوپر کر کے ٹانگیں فولڈ کیں تو میرا لن چڈوں سے آزاد ہوگیا مگر تھا ابھی تک نارمل حالت میں نہ چھوٹا نہ بڑا۔ ضوفی نے میری پنڈلیوں سے شلوار اوپر کرنی شروع کی اور میرے گھٹنوں تک لے آئی اور پھر گھٹنوں سے اوپر کرنے لگی تو میرے پہنچہ میرے پٹ میں پھنس گیا ضوفی نے اپنے ہاتھ کے دونوں انگوٹھے میرے پہنچے میں پھنسا کر تھوڑا سا زور لگایا تو اسکا ایک ہاتھ جو میری ٹانگوں کے بیچ تھا وہ سلپ ہوا اور انگوٹھا پہنچے سے نکل گیا اور ضوفی کا ہاتھ سیدھا میرے لن پر جا لگا لن نے بھی ہلکا سا جھٹکا مارا ضوفی نے گبھرا کر جلدی سے اپنا ہاتھ اوپر کر لیا اور گبھراے ہوے ھی آنکھ چرا کر میری طرف بھی دیکھا ضوفی کا رنگ تو پہلے ھی پنک تھا لن کو چھوتے ہی اسکا رنگ ٹماٹر کی طرح سرخ ہوگیا ضوفی نے دوبارا پہنچے کو ہاتھ نھی لگا اور باول پکڑ کر میری ٹانگوں پر. برش سے ویکس کا لیپ کرنےلگ گئی ضوفی کا ہاتھ کانپ رھا تھا ۔ اور وہ جلدی جلدی اپنا کام نپٹانے میں لگی ہوئی تھی کچھ دیر میں ضوفی نے میری ٹانگوں پر لیپ مکمل کردیا اور پھر جا کر صوفے پر بیٹھ گئی ۔ مجھے ایسے محسوس ہو رھا تھا جیسے میرا جسم اکڑنے لگ گیا ہو مجھے عجیب سی الجھن محسوس ھورھی تھی ضوفی میری حالت دیکھتے ہوے بولی بس کچھ دیر لیٹے رھو ابھی صاف کر دیتی ہوں ۔ اور پھر ضوفی اٹھی اس نے جینز کا کپڑا پکڑا اور میرے پیٹ اور سینے کے اوپر چپکانے لگ گئی جب اچھی طرح اس نے لیپ کے اوپر کپڑا چپکا دیا تو پھر کپڑے کے دونوں کونوں کو پکڑا اور مجھے کہنے لگی کہ یاسر ہلکی سی درد ہوگی برداشت کر لینا ۔ اور میرا جواب سنے بغیر اس نے جھٹکے سے کپڑے کو کھینچا۔ اور سارے کپڑے کو ایک ھی جھٹکے میں میرے سینے اور پیٹ سے الگ کردیا۔ میری تو ایک دفعہ جان نکل گئی میرے منہ سے آئیییییی اور سسییییییی نکلا ۔ تو ضوفی بولی بس بس بس ہوگیا۔ اور پھر میری آنکھوں کے سامنے کپڑا کر کے دیکھاتے ہوے بولی یہ دیکھو میں نے جب کپڑے کی طرف دیکھا تو سارا کپڑا بالوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے کپڑے کو دیکھ کر اپنے سینے سے پیٹ تک ہاتھ پھیرا تو میرا جسم ایسے سوفٹ اور کلین تھا جیسے لڑکیوں کا ہوتا ھے ۔ میں نے تین چار دفعہ ایسے ھی ہاتھ پھیرا اور ضوفی کی طرف بڑی ستائش نگاہ سے دیکھتے ہوے کہا واہ ضوفی جی ایک ھی جھٹکے میں سب کچھ صاف کردیا ضوفی مسکرا کر بولی دیکھ لو پھر میرا کمال۔ مان گئے نہ پھر۔ میں نے کہا مان تو آپ کو پہلے دن ھی گیا تھا ۔ ضوفی مسکراتی ہوئی میری ٹانگوں کی طرف آئی اور پھر اسی عمل کو دھرایا اور ٹانگوں سے بھی بال صاف کردئیے کچھ دیر بعد اس نے ایک لوشن پکڑا اور اسکو اپنی ہتھیلی پر لگا کر میرے سینے سے لے کر پیٹ کی طرف مساج کرتے ہوے میری ناف کی طرف ہاتھ لیجانے لگی اس کی نرم ملائم ہتھیلیوں کا میرے نرم ملائم جسم پر لمس کا ہونا ھی تھا کہ بس۔ ..لن نے پھر انگڑائی لی مگر میں نے ٹانگوں کو اکھٹی کر کے لن کی انگڑائی کو راستے میں ھی روک لیا ضوفی میری ٹانگوں کو اکھٹا ہوتے ہوے یکلخت چونکی اور اپنی آنکھوں کو گھما کر میری ٹانگوں میں چھپے رستم کو دیکھا اور پھر میرے پیٹ اور سینے پر لوشن کا مساج کرنے لگ گئی ضوفی کے ہاتھ اتنے نرم تھے اور مساج کا انداز اتنا زبردست تھا کہ میرے سارے جسم میں بجلی کی لہریں دوڑ رہیں تھی اور میرا دل کر رھا تھا کہ بس ضوفی کا ہاتھ چلتا رھے اور میں ایسے ھی ساری ذندگی لیٹا رہوں ۔ ضوفی کی انگلیاں جب رینگتی ہوئی میری ناف کے نیچے جاتیں تو میرا لن میری ٹانگوں کو دھکے دے کر باہر نکلنے کی کوشش کرتا ۔ میری برداشت دم توڑ رھی تھی میرا خود پر سے کنٹرول ختم ہو رھا تھا مگر میں حیران تھا ضوفی کی برداشت پر کہ وہ اپنی کیفیت کو مجھ پر ذرہ بھی ظاہر نہیں ہونے دے رہی تھی جبکہ اسکے چہرے کی لالی اور آنکھوں سرخ ڈورے کھل کر اعلان کر رھے تھے کہ لگی ہے آگ دونوں طرف۔ اگر میں ضوفی آنکھوں کے سامنے اسکے تنے ہوے مموں اور اسکے ہاتھ کے لمس کو برداشت نھی کرپارھا تھا تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ضوفی میرے تنے ہوے لن کو دیکھ کر اور میرے جسم سے اٹھتی ہوئی گرمی کو ہاتھ پر محسوس کرتے ہوے بھی اپنے آپ سے باہر نہ ہو رھی ہو یقیناََ اسکی پھدی سے کچھ نہ کچھ تو بوندیں گری ہی ہوں گی ۔ ضوفی جان بوجھ کر میرے صبر کا امتحان لینے کے لیے بار بار اپنی ہتھیلی کو سرکاری ہوئی انگلیوں کو میری نالے کے ساتھ ٹچ کرتی اور پھر واپس اپنے ہاتھ کو میری ناف کے اوپر لے جاتی ۔ مجھے ایک پلان سوجھا کہ شاید جلتی پر تیل کا اثر ہو اور میں نے اپنے چڈوں میں خارش کرنے کے بہانے سے ہاتھ نالے کی گانٹھ کے اوپر سے لیجا کر چڈوں میں خارش کرنے لگا جس سے ضوفی نے اپنا ہاتھ ادھر سے ہٹا لیا اور میں نے انگلیوں کی مدد سے نالے کے سرے کو اس انداز سے کھینچا کہ ضوفی کو ذرا سا بھی شک نہ ھو کہ میں خارش کر رھا ہوں یا نالا کھول رہا ہوں ۔ میں نے کچھ سیکنڈ میں ھی اپنا نالا کھول کر شلوارا کے اندر کی طرف ھی کردیا کہ اسے یہ بھی محسوس نہ ھو کہ نالا کھلا ہوا ھے اس دوران مجھے یہ بینیفٹ ملا کہ ضوفی کیبن کے دروازے کی طرف متوجہ ہوگئی تھی اور اسی دوران میں نے اپنے پری پلان کو عملی جامعہ پہنایا اور اس میں سو فیصد کامیاب بھی رھا۔ جب میں نے ہاتھ پھر اپنی ٹانگوں کے پاس سٹریچر پر رکھ لیا تو ضوفی نے پھر بوتل سے تھوڑا سے تیل نما لوشن ہتھیلی پر ڈالا اور پھر میرے سینے اور پیٹ پر مساج شروع کر دیا میں نے جان بوجھ کر سسکاری بھری تو ضوفی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بڑی شوخی سے بولی مزہ آرھا ھے ۔ میں نے کہا ان مخملی ہاتھوں کا جادو اثر کررھا ھے ۔ تو ضوفی بڑی ادا سے بولی اچھا جی ۔ دیکھنا کہیں یہ جادو تمہارے دماغ پر اثر نہ کرجاے میں نے کہا. .تم دماغ کی بات کرتی ہو یہ پتہ نہیں کہاں کہاں پر اثر کر چکا ھے ۔ ضوفی میرے سینے پر میرے چھوٹے سے معصوم نپل پر ہلکی سی چٹکی کاٹ کر بولی بتانا پسند کرو گے کہ کہاں کہاں پر اثر ہوا ھے ۔ میں نے سیییییی کیا اور کہا خود ہی معلوم کرلو ۔ ہاتھ تمہارا ہے جادو کا اثر تمہارا ھے ۔ تو پتہ بھی تمہیں ھی ہونا چاہیے۔ ضوفی بولی اچھا جی دیکھتی ہوں کہ کہاں کہاں اثر ہوا ھے ۔ اور پھر مسکراتے ہوے نشیلی آنکھیں کے ڈورے میری آنکھیں میں ڈال کر ہتھیلی سے منتر پڑھ پڑھ کر آنکھوں سے مجھ پر پھونکتے ہوے میری ناف کی طرف بڑھنا شروع ہوئی اور میری ناف کے چھوٹے سے سوراخ میں اپنی باریک سی انگلی ڈال کر گھماتے ہوے بولی یہاں تو نہیں جادو ہوا اور ساتھ ھی اسے زبردست جھٹکا لگا ۔۔۔۔۔ جب ضوفی نے میری ناف میں انگلی پھیری تو مجھے اچانک اتنی ذبردست گدگدی ہوئی جسکو برداشت نہ کرتے ہوے میں اوپر کو اچھلا اور میرا ایک ہاتھ جو ضوفی کی پھدی کے بلکل قریب تھا وہ اوپر آتے ہوے ضوفی کی پھدی کے اوپر سے رگڑکھاتا ہوا اسکی ناف سے ٹچ ہوکر اسکے ایک ممے کو چھو کر واپس بھی اسی حالت میں جاتے ہوے اپنا کام کرکے ضوفی کی نرم کلائی کو پکڑ لیا ضوفی اس اچانک رگڑ سے ایک دم اچھلی اور اپنا آپ تھوڑا سا پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر تب تک ہاتھ نے اپنا کام پورا کرلیا تھا میں نے ایسے ظاہر کرتے ہوے ضوفی کی کلائی کو پکڑتے ہوے کہا نہہہہہہ کرو ضوفییی اسکو یہ محسوس ہوا جیسے یہ سب غیر ارادی طور پر ھوا ھو اور ہوا بھی یہ سب غیرارادی طور پر ھی تھا اگر ضوفی میری ناف میں انگلی نہ گھسیڑتی تو میری اتنی جرات کہاں تھی کہ اس حسینہ کے جسم کو اسکی اجازت کے بغیر چھو لیتا۔ ضوفی نے بھی کوئی ایسا ریکٹ نہ کیا کہ جس سے لگا ہو کہ اسے برا فیل ہوا ھے ۔ اور میری اس حالت پر ہنستے ہوے بولی اب مزہ آیا نہ بچو۔ میں نے کہا نہ کرو یارررر بہت گدگدی ہوتی ہے. ضوفی نے اپنی فنگر میری ناف سے باہر نکالی پھر سے میرے پیٹ پر مساج کرتے ہوے ناف کے نیچے ہاتھ کو سرکانے لگی میں نے بھی اسکی کلائی چھوڑ دی تھی۔ اب اسی موقعہ کا مجھے انتظار تھا کہ آگے کیا ہوتا کیونکہ اچانک ہلنے سے میرا لن بھی میرے چڈوں سے ازاد ہو چکا تھا اور اب وہ فری ہینڈ تھا ۔ ضوفی اپنے ھی حساب سے اپنی انگلیوں کو سرکاتے ہوے جیسے ھی میرے نالے کی طرف لے گئی اور اسکا ٹارگٹ تو نالا تھا کہ جیسے ھی اسکی فنگر سے نالے لی گانٹھ ٹچ ہو تو اسے پتہ چل جاے کے آگے خطرناک علاقہ شروع ہوجاتا ھے مگر اب تو اس خطرناک علاقے کی سرحد پر سے باڑ ہٹ گئی تھی اور انگلیاں اپنی مستی سے آگے کی آگے سرکتی ہوئی جیسے ھی میرے ۔۔۔ .جیسے ہی ضوفی کی انگلیاں میری چوؤں سے ٹکراتے ہوئی میرے لن کی جڑ سے ٹکرائیں۔ ضوفی نے ہائییییی کیا اور ہاتھ باہر کھینچ کر آنکھیں پھاڑے میری کُھلی شلوار کی طرف دیکھتے ہوے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ سے مسلتے ہوے پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔ میں بھی تھوڑا سا گبھرا گیا کہ اب پتہ نہیں کیا ہوگا اور ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں ساری گیم الٹ ہی نہ ہوجاے ۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوے انجان بن کر چونکنے کے انداز میں ضوفی کی طرف دیکھتے ہوے کہا کیا ہوا۔ ضوفی غصے اور حیرت ہونے کے ملے جُلے لہجے میں میری شلوار کی طرف آنکھوں سے اشارہ کر کے بولی یہیہیہ تتتم نے شششلوار کب اتاری میں نے حیران ہوکر شلوار پکڑ کر کہا کہ کیا ہوااااشلوار تو پہنی ہوئی ہے ضوفی بولی مممیرا مطلب ھے کہ نننالا کیوں کھولا۔ میں پلان کے مطابق بات کو مزاق میں ڈالتے ہوے بولا اپنی ناف کے نیچے والے بالوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں نے اس لیے کھولا تھا کہ ادھر والے بال بھی تو اتارنے ہیں ۔ ضوفی کا رنگ ٹماٹر کی طرح ہوگیا تھا۔ ضوفی بولی نننھی بھئی میں یہاں سے کیسے کرسکتی ہوں تتم جلدی سے اسے باندھو یہ میں نہیں کرسکتی ۔ میں نے کہا ضوفی کیا ہوا یار ۔ کیا دوستی میں اتنا سا کام بھی نہیں کرسکتی ۔ مرضی ہے تمہاری خود ھی تو تم اپنی پسند اور مرضی سے سب کچھ کررھی تھی جب میرا دل کیا کہ تم ادھر سے بھی بال اتار دو تو تم ایسے گبھرا گئی جیسے یہاں سے جن نکل آیا ہو۔ اور میں نے بُرا سا منہ بناتے ہوے روٹھنے کے انداز میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور نالا پکڑ کر باندھنے لگ گیا ۔ ضوفی نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے کھڑی کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔ .میں نے نالا باندھ کر اپنی شلوار کے پوہنچوں کو بھی پکڑ کر نیچے کرلیا اور سٹریچر سے نیچے ٹانگیں لٹکا کر جوتا پہننے لگا تو ۔ ضوفی جیسے ہوش میں آئی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے واپس لیٹاتے ہوے بولی ۔ کدھر چلے ہو ابھی تو ٹانگوں پر لوشن لگانا ہے ورنہ الرجی ہوجاے گی سکن خراب ہوجاے گی ۔ میں نے موڈ بناے ہوے کہا رہنے دو کچھ نہیں ہوتا میں چلتا ہوں ضوفی چہرے پر مصنوعی غصہ لاتے ہوے مجھے کندھے سے پیچھے دھکیلتے ہوے بولی ذیادہ شوخاااااااااا اور ساتھ ہیں ضوفی میرے اوپر گری۔ اور شوخا نہ بن اس کے منہ میں ہی اٹک گیا۔ کیونکہ ضوفی نے مجھے پیچھے کو دھکا دیا تھا تو میں جان بوجھ کر پیچھے گرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوے ضوفی کی کمر کو پکڑ کر اپنے ساتھ اپنے اوپر ھی سٹریچر پر لےگیا۔ اب میری اور ضوفی کی ٹانگیں نیچے تھیں اور میں سٹریچر کے اوپر اور میرے اوپر ضوفی تھی ضوفی کا چہرہ میرے چہرے کے اوپر تھا اتنا سا اوپر تھا کہ اسکی گرم سانسیں میرے منہ پر پڑ رہیں تھیں اور ضوفی کے گول مٹول سڈول ممے میرے ننگے سینے کے ساتھ دبے ہوے تھے اور میرے دونوں ہاتھ ضوفی کی کمر کے گرد تھے اور ضوفی کے دونوں ہاتھ میرے ننگے شولڈر پر شولڈروں کو تھامے ہوے تھے ضوفی کا پیٹ میرے ننگے پیٹ کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اسکی پھدی اور میرے نیم کھڑے لن کا پہلا ملاپ ہورھا تھا۔ ضوفی یوں اچانک میرے اوپر گرنے سے کافی گبھرا گئی تھی اور چند لمحوں میں اسی حالت میں میرے اوپر لیٹی بولی یاسر بہت بتمیز ہو ابھی تم نے خود بھی سٹریچر سے نیچے گرنا تھا اور مجھے بھی گرانا تھا۔ میں نے ضوفی کی کمر کے گرد اپنے بازوں کا گھیرا تنگ کرتے ہوے اسکے نرم جسم اور موٹے مموں کو مذید خود کے ساتھ چپکاتے ہوے کہا۔ نہیں ضوفی جی دھکا تو آپ نے دیا تھا میں نے تو اپنے آپ کو سمبھالا تھا اور سمبھالتے ہوے آپ بھی میرے ساتھ ہی میرے اوپر گرگئی مگر میرے بازو اتنے کمزور نہیں کہ آپ کو نیچے گرنے دیتا ۔ آپ نے اگر مجھ خوش نصیب کو دوست کہا ھے تو پھر یہ سوچنا بھی نہ کہ آپکا یہ غریب دوست کبھی آپکو گرنے دے گا۔ ضوفی نے سوفٹ سٹف کا ڈریس پہنا ہوا تھا اور اوپر سے اس کا جسم اتنا نرم تھا کہ میرا لن تو اپنے پورے عروج پر آگیا تھا اور ضوفی کی کنواری پھدی نے بھی پہلی دفعہ لن کا لمس پاتے ہی لن کو ویلکم کیا اور لن ضوفی کی پھدی سے رگڑ کھاتا ہوا ضوفی کے چڈوں میں گھس گیا۔ ضوفی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوے ھوے بولی شوخے میں سب سمجھتی ہوں تم نے جان بوجھ کر مجھے اپنے اوپر گرایا ھے ۔ تمہارے ارادے مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ۔ میں نے بھی ضوفی کی گمنام جزیرے جیسی آنکھوں میں گم ہوتے ہوے کہا۔ ضوفی جی میں نے آپکو اپنے اوپر ھی گرایا ھے نیچے تو نہیًں۔ اور کس کم بخت کے ارادے غلط ہیں ۔ یہ آپ کا وہم ہے ۔ بس آپ کے حسن اور آپ کے سیکسی فگر کو دیکھ کر اور آپ کے نرم اور ریشم کی طرح ملائم ہاتھوں کے لمس سے یہ ناچیز سیدھا سادھا پینڈو مرنے والا ہوگیا ھے جنکے ارادے غلط ہوتے ہیں وہ اتنا نذدیک آکر وقت ضائع نہیں کرتے ۔ آپ شریف لڑکی ہیں تو میں بھی شریف لڑکا ھی ہوں ۔ مگر کیا کروں آگ کے سامنے گھی کب تک جما رہ سکتا ہے ۔ ضوفی نے میرے کندھے سے ہاتھ ہٹا کر پیار سے میری گال پر ہلکی سی چپت لگائی اور بولی باتیں بنانا تو کوئی تم سے سیکھے ۔ میں نے ضوفی کی کمر کو مذید کستے ہوے ضوفی کے منہ سے ہلکی سی ہائیییی نکالتے ہو ے کہا اور مجھ جیسے سیدھے سادہ کو بہکانا بھی کوئی آپ سے سیکھے۔ ضوفی میری آنکھوں میں اپنی مستانی آنکھیں ڈال کر بولی اب چھوڑ بھی دو میں تھک گئی ہوں ۔ میں نے نفی میں سرہلایا ضوفی مسکین سا منہ بنا کر بولی پلیززززززز جبکہ مجھے واضح محسوس ہورھا تھا کہ ضوفی میرے لن کو اپنے چڈوں میں لیے ہلکا ہلکا سا دبا کر پھدی کے اوپر لن کا دباو بڑھا رھی تھی ۔ مگر اوپر اوپر سے نخرے کررھی تھی ۔ میں نے لوہا گرم دیکھ کر ایک چوٹ لگانے کا سوچا اور ضوفی کو کہا ایک شرط پر چھوڑوں گا ضوفی اپنے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو کو انگلی سے ہٹاتے ہوے بڑی شوخی سے بولی ۔ اب کون سی شرط ھے جناب کی ۔ میں نے کہا۔ میرے نیچے والے بال بھی تم ھی اتارو گی ورنہ میں سمجھوں گا کہ تم مجھے اس قابل ہیں نہیں سمجھتی ۔ ضوفی کے چہرے پر یکلخت سارے جہاں کی شرم حیاء ٹپک پڑی اور ضوفی بالوں کی شرارتی لٹ کو پھر اسی انداز میں چہرے سے ہٹاتے ہوے بولی اگر نہ کروں تو۔ میں نے کہا۔ تو میں یہ ھی سمجھوں گا کہ میں ابھی تمہاری دوستی کے لائق نہیں ہوں ۔ ضوفی میری گال پر چٹکی کاٹتے ہوے اور نیچے سے اپنے چڈوں کو بھینچتے ہوے بولی شرم تو نہیں آتی ایسی بات کہتے ہوے ۔ اور ساتھ ہیں ضوفی میرے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوے بولی چلو چھوڑو مجھے کرتی ہوں جناب کے نیچے والے بالوں کی بھی صفائی ۔ دوست ملا بھی تو لاڈلا۔ اور یہ کہتے ہوے ضوفی اوپر کو ہوئی تو میں نے بھی اپنے بازو ضوفی کی نرم گوشت سے بھری کمر کو چھوڑ دیا۔ اور ضوف اٹھ کر کھڑی ہوئی تو اسکی نظر میرے لن ہر پڑی جو پورے جوبن میں پھدی کی برسات سے بچنے کے لیے شلوار کو چھتری بناے کھڑا تھا۔ ضوفی ساتھ ساتھ اپنی شرٹ کو بھی سہی کررھی تھی جو لن نے اسکے چڈوں میں گھسا دی تھی اور ساتھ ساتھ میرے لن کو بھی کُن اکھیوں سے دیکھ رھی تھی۔ میں نے بھی ٹانگیں. پھر اوپر کرلیں اور ضوفی کو مذید ترسانے کے لیے لن کو چڈوں میں دبا لیا ۔ ضوفی نے چونک کر میری طرف ایسے دیکھا جیسے ۔ میں نے اسکا بہت بڑا نقصان کردیا ہو۔ کچھ دیر بعد ضوفی پھر دوسری طرف منہ کر کے اپنی گول مٹول نرم گانڈ کو میری طرف کرکے باول اٹھانے چلی گئی اور دوسری طرف منہ کیے باول میں پھر ویکس تیار کرنے لگ گئی دو تین منٹ ضوفی مجھے اپنی گانڈ کا دلکش نظارہ کروانے کے بعد اچانک میری طرف گھومی اور مجھے اپنی گانڈ کو تاڑتے دیکھ کر بڑی معنی خیز آنکھوں سے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوے اپنے شربتی لبوں پر سیکسی سی سمائل لا کر آنکھوں سے اشارا کر کے مسکرا دی کہ خیر ھے میری گانڈ کو کیوں دیکھ رھے تھے۔ اور کولہوں کو مٹکاتی ہوئی باول میں برش سے ویکس کے لیکوڈ کو مکسچر کرتے ہوے میری طرف بڑھی اور بولی ۔ تم ابھی تک ایسے ہی لیٹے ہوے ھو ۔ میں نے سوالیا نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوے کہا تو کیا کروں ۔ ضوفی بولی بالوں کی جگہ کو ننگا کرو اور صرف بالوں کی جگہ کو ھی ننگا کرنا ھے سمجھے ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوے جلدی سے نالا کھولا اور شلوار نیچے کرنے لگا تو ضوفی نے مجھے رکنے کا کہا اور خود آگے بڑھی اور میری شلوار کو ڈرتے ڈرتے دو انگلیوں سے پکڑ کر بس تھوڑا سا نیچے کیا اور میرے غیر ضروری بالوں کو ھی بس ننگا کیا جبکہ اتنی شلوار نیچے کرنے سے بھی ضوفی کی انگلی میرے ننگے لن کے ساتھ ٹکرا چکی تھی جس کی وجہ سے ضوفی نے جلدی شلوار کو چھوڑ دیا تھا۔ میں اب بھی ٹانگوں کو فولڈ کیے ہوے لن کو چڈوں میں دباے ہوے تھا۔ ضوفی شلوار نیچے کرنے کے بعد بولی اب ٹانگیں تو سیدھی کر کے گھٹنے نیچے کر لو ایسے کیسے میں ویکس کروں گی میں نے جیسے ھی ٹانگیں سیدھی کیں تو لن پھر آزاد امیدوار بن کر جھومنے لگ گیا ضوفی ایک دم چونکی اور بڑے غور سے میرے کھڑے لن کو اور ناف کے نیچے گولڈن بالوں کو دیکھنے لگ گئی تھی ۔ میں نے اسے یوں اپنے لن اور بالوں کو دیکھتے ہو دیکھا تو میں نے کہا ضوفی جی ذیادہ بڑا تو نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ بالوں کا سائز۔۔۔۔ تو ضوفی نے چونک کر میری طرف دیکھتے ہوے کہا نننہیں اور یہ کہتے ہوے ضوفی نے باول سے برش نکال کر بالوں پر ویکس کا لیپ کرنے لگ گئی ۔ اس کا ہاتھ کا ہاتھ کانپ رھا تھا ۔ میں نے کہا ضوفی جی ایسے تو میری شلوار بھی گندی ہوجاے گی تو ضوفی گبھرا کر میری طرف دیکھتے ہوے بولی تھوڑی سے اور نیچے کرلو میں ٹشو لگا دیتی ہوں اور ضوفی یہ کہتے ھی ٹشو لینے چلی گئی ۔ میں نے جلدی سے شلوار ایسے نیچے کردی کہ میرے لن کی جڑ اور ٹٹوں کی جھلک ضوفی کو نظر آجاے ۔ ضوفی جب ٹشو لے کر میرے قریب آئی تو ضوفی نے جیسے ھی ٹشو کو میری شلوار کے نیچے میں لگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ضوفی کی جب نظر میرے ننگے موٹے تگڑے لن کی تگڑی جڑ اور ٹٹوں پر نظر پڑی تو ضوفی نے یکلخت۔۔۔۔۔۔۔
  6. کہانی بہت عمدہ اور اچھی ہے، اگر اس میں کوئی کمی ہے تو صرف یہی کہ یہ رومن میں ہے۔ اگر یہ اردو میں لکھی گئی ہوتی تو یہ ایک شاہکار کہانی ہوتی۔ بہرحال آپ لکھتے رہیں اور اردو میں لکھنے کی کوشش کریں۔
  7. 'muje maloom ha k tu ne nai maara mere maa baap ko...lekin khoon to tu unhi ka ha na'' yeh keh k ma ne gun us ki taraf seedhi kr di... ------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ------------------------------------------------------------------------------------------------------------- BOHAT SAAL PEHLE... ''yar peche hut na muje dekhne de ab'' ma ne hashim urf hashoo ko peche kia aur khud darakht k peche se sir nikal k hamare gaon se guzarne wali chhoti si neher ki taraf dekha jahan sughran kapre dhone k baad apni kameez utar rai thi us k mote jisam pe dhalke hue mamme b uswaqt mere liye bohat pyari si cheez the hashoo:chal ab meri bari ma side pe hogya aur hashoo ne position sambhal li ''kya kr rai ha ab woh?'' ma ne betabi se pucha hashoo:shalwar utar rai ha me:peche hut ma usay peche kr k phir agay hua sughran ne idhar udhar dekha aur khari ho k jldi se shalwar utari aur pani mein utar gae ma us ki bohat bari aur pheli hui gaand he dekh ska bs wo neher bs itni si gehri thi k sughran k mammon tk he pani tha neher mein utar k wo apne mamme dhone lgi hashoo:chal muje b dekhne de na yar us k kehne pe ma side pe hogya ma uswaqt 7th class mein tha mera nam Faizan ha aur muje faizi bulate hn aur hum punjab k 1 gaon mein rehte hn jo sheher se bs adhe ghante k fasle pe ha kehte hn k jb ma 3 saal ka tha aur mere parents ki 1 accident mein death hogae thi phir muje meri phhuppo ne paala jin ki apni koi aulaad nai thi hamara khandaan kafi para tha...4 chacha aur 3 phuppo...kuch yahan gaon mein he rehte the kuch sath wale gaon mein...kuch sath wale sheher mein aur kuch lahore mein aur sb k sb he khase ameer the phuppo ne muje bohat laad aur pyar se pala tha aur ma unhe BUA keh k bulata tha characters k nam agay sath sath btata rahun ga...aur kuch nam meri pichli story se common b hn ge kyu k mere zehen mein itne sare new nam nai aa rai lekin un k characters isi story k hn ge.. ''is bar b garmiyon ki chhuttion mein hum khala k ghar ja rai hn'' hashoo ne muje btaya me:muje to bua aur baba(phuppa) kahin chhorte he nai yar..1 2 din k liye sath he le jate hn aur sath he wapis'' uswaqt hum school ja rai the hashoo:oye woh dekh sumaira hamare school k sath he larkion ka school tha sumaira mere mohalle ki larki thi aur 9th mein parhti thi woh roz ki tarah muje dekh k muskurae aur apne school mein dakhil hogae me:yeh muje pagal lgti ha ..aiwen hans deti ha muje dekh k jese mere sir pe seengh hn hashoo:han muje b yehi lgta ha ''parhae kesi ja rai ha faizi puttar'' baba ne muj se pucha me:achi ja rai ha baba bua:mere Hamid(mere asal father ka nam) ki tarah laiq ha mera faizi..pata ha puttar hamid hum behn bhaion mein wahid tha jo university tk gya aur.. baba:chal ab rone na beth jana baba ne bua ko toka me:wo ma ne match khelne jana ha baba:yahan school ki ground mein he? me:nai sath wale gaon mein..chacha se b mil aun ga baba:chal akram ko sath le ja me:1 to gaon se bahir her jagah ap kisi na kisi ko mere sath bhej dete hn ma ne munh bnaya bua:agar akram ko sath nai le k jana to tu b nai jaye ga me:acha bhejen usay sath..sare apni cycle ya bike pe jate hn aur muje ap gari pe bhejen k us akram k sath...kitna ajeeb sa lgta ha bua aur baba hansne lge bua:1 to tere baba teri fikar krte hn aur tu naraz hota ha bua ne muje sath lgaya baba:tu he to ha hamare pas aur ha kya? match khel k ma taya ki haveli chala gya taya bare se kamre mein logon mein ghire bethe the hamesha ki tarah aur sath he un k bete b the ma un se mil k andar ki taraf aagya raheela baji aur sajeela baji tayi k sath bethi tv dekh rai thn taya ki dono betian college mein parhti thn aur sakht parde mein ati jati thn..iswaqt b ghar mein hone k bawajood dono ne chadar lapaiti hui thi tayi:aj to bari baat ha k tum akele agye ho me:nai akram ha sath raheela:chhota bcha ha na isliye akele nai bhejte ise kahin wo dono hansne lgi me:bs kya kru baji bua aur baba maante he nai hn tayi:han kuch ziada he darpok hn shayed muje tayi ki yeh baat bikul b achi nai lgi me:meri bua aur mere baba aise nai hn...poore gaon mein rob ha baba ka sajeela: arrey yeh to bura mana gya...btao kya khao ge me:kuch nai..ma chalta hn bs kafi der hogae ha bua pareshan ho rai hn gi ma utha to taya andar agye taya:abi betho khana kha k jana me:der hogae ha taya:nai khana kha k jao taya ne is bar hukum dia tayi khana lene chali gae aur taya wapis berthak mein sajeela:aur hero...kese ho us ne muje ooper se kr neche tk dekha raheela aur sajeela dono he kkhubsurat thn magar raheela bari hone ki waja se zara kum shokh thi sajeela ki nisbat me:baji ma kb hero hn raheela:bare hogye ho tum me:nai g 7th mein hn abi to sajeela:han to tumhare baba ne dakhil b to 6 saal ki umer mein kraya na tumhe muje is behus ka maqsad samaj nai aa raha tha so ma chup hogya ma bar bar time dekh raha tha aur thori der baad un k phone ki ghnti bji raheela baat kr k wapis ayi raheela:bua ka phn tha tumhara puch rai thn ma ne bta dia k abbu na kaha ha k khana kha k jaye sajeela:wese tum hamare itna kum kum kyu ate ho? me:yahan pe sb to bare bare hn raheela ne sajeela ki taraf dekha raheela:ab itni b bari nai hn tum se hum me:ap college mein ho sajeela:tou kya hua?cousins mein dosti to hoti ha na me:ap larki ho aur ma larka..hamari dosti kese?wese b ap dono meri baji ho raheela:ufff..bua ne bilkul budhu bna k rkha hua ha ise sajeela hansne lgi ma thora bohat khana kha k utha to afzal bhai(taya ka beta) andar aagye aur un ki behnon ne jldi se seedhi ho k beth gaen afzal:suna faizi..kesa ha? me:theek afzal bhai afzal:oye koi tng to nai krta tuje? me:nai g muje kis ne tng krna ha? afzal:agar koi kre to muje btana ma dekh lu ga usay...hamare chacha ki nishani ha tu...aur wo b akhri nishani ''bua muje un logon ki baten bohat ajeeb si lgti hn'' ma bua ki lap mein sir rkh k laita hua tha bua:kya baten ki unho ne? me:taya muj pe aise hukum chalate hn jese ma un ka nokar hn...phir afzal bhai puchne lge k koi tng to nai krta?...wo keh rai the k ma un k chacha ki akhri nishani hn..bua ma akhri nishani hn? bua ka rng safaid pr gya bua:wese he bol raha ho ga..abi to hum ne ter bchon ko apne samne dekhna ha..tu kese akhri nishani hogya?ma btati hn tere baba ko k wo aise bol raha tha me:bua muje chhuttion mein lahore le jao na...chhota sa tha tb gya tha lahore mein meri 1 phuppo aur 1 chacha rehte the wo log bohat kum yahan ate the aur jb ate b the to ziada der taya ki traf he hote the ''kahan jana ha faizi sb ne'' baba aa k beth gye me:lahore...chhuttion mein baba:chal theek ha..tu aur teri bua chale jana kuch din reh ana ''mera dil krta ha ma is se puch he lu k kyu hansti ha muje dekh k'' us din b school se wapsi pe sumaira mere pas se guzarti hui muskurae thi hashoo:han puch le ma agay barha aur sumaira k sath sath chalne lga us ne meri taraf dekha aur meri sari himmat khatam hogae sumaira:han bolo wo phir muskurae me:woh ma..wese he...nai wo.. sumaira:bolo ge k nai kuch? me:tum muje dekh k mukurati kyu ho? ma himmat kr k jldi se bola sumaira:kyu k tum muje ache lgte ho me:oh..acha...chalo theek ha yeh k ma wapis hashoo k sath chalne lga hashoo:kya bol rai thi me:kehti ma usay acha lgta hn hashoo:acha g? wo hansa me:is mein hansne wali kya baat ha? hashoo:tu samjha nai us ki baat? me:kya baat? hashoo:us milta raha kr bta de gi khud he..wese yar larki pyari ha me:han ha to sahi..lekin humen kya? ma laparwahi se bola bilakhir chhuttian agae aur baba muje aur bua ko lahore chhor k wapis chale gye ma 3 4 saal baad yahan aya tha phuppo ki 3 betian thn jin mein se 1 muj se bari 1 taqreeban meri hum umer aur 1 chhoti thi daniya urf dani ...nabia urf bia..aur sania urf sani un k 2 bete the dono muj se bare aur islamabad mein prhte the phuppo k ghar ka mahol kuch ziada he modern tha shayed bohat ziada paise ki wajah se dani muje kuch ziada he ghor se dekh rai thi sham ka waqt tha ma lawn mein aya to dani wahan bethi koi magazine parh rai thi dani:ao faizi..betho us ne uswaqt tight sa pyjama aur t-shirt pehni hui thi ma us k samne chair pe beth gya lekin meri nazar bar bar us ki thighs aur chest pe ja rai thn dani:dil lg gya yahan? me:g aj he to aye hn baji dani:muje dani kaho..i dont like baji me:g theek ha dani:good..ma tumhari dost bn jati hn...theek ha? ma usay wohi baat kehna chah raha tha jo ma ne raheela aur sajeela ko kahi thi k larke larki ki dosti kese ho skti ha lekin ma chup raha kyu k meri baat sun k wo dono behnen b bohat hansi thi muj pe me:theek ha dani:maza aye ga wo meri taraf gehri nazron se dekhti hui ahista se boli jese apne ap se baat kr rai ho bua aur phuppo akathi so rai thn aur muje alehda room dia gya tha jahan tv b tha muje neend nai aa rai thi aur ma tv he dekh raha tha k dani room mein enter hui dani:tum soye nai abi? me:neend nai ayi abi dani:muje b nai aa rai..chalo akathe tv pe dekhte hn kuch wo us waqt sleeping shirt aur pyjama mein thi wo betakllufi se bed ki back se tek lga k mere sath beth gae aur remote le k channel change krne lgi dani:koi girlfriend ha tumhari? me:nai larke he hn bs dani:kyu?itne cute aur handsome aur smart ho mere pas is sawal ka koi jawab nai tha dani:dekho agar to hum waqae dost hn to humen 1 dosre k sath khul k baat krni chahiye ma ne han mein sir hila dia dani:acha ab btao koi larki achi lgti ha tumhe? me:sumaira..hamare mohalle mein rehti ha aur muje dekh kk muskurati ha..wo kehti ha ma usay acha lgta hn dani:wah g wo hansi dani ab thora sa meri taraf khiski to hamari hips touch hone lgi dani:arrey jitna confidence tum mein ho ga utna ki log tumhe theek tareeke se treat kren ge us ne koi english action movie lgae thi aur us mein 1 kissing ka scene chal raha tha dani:aise kia ha kbi? me:nai dani:ma sikhaun? me:is mein seekhne wali kya baat ha? dani:acha tumhe ata ha to kr k dikhao phir us ne meri taraf karwat li me:nai bs theek ha dani:plz na us ki awaz thori bhari hogae thi ma ne hont us k honton k pas kiye to dani ne mera face hathon mein le k apne hont mere honton pe rkh diye yeh meri life ka pehla kiss thi aur muje 7wen asman pe le gyi thi dani mere hont choos rai thi dani:tum b mere hont chooso aur apni zuban meri zuban k sath touch kro..ma hont khol k us k honton ko choosne lga aur jese he meri zuban us ki zuban se touch hui ma 7wen se 8wen asman pe pohnch gya dani meri zuban apne honton mein le k choosne lgi kuch seconds baad ma peche hogya subah subah her male ka lun khara hota ha lekin us waqt b mera lun khara ho chuka tha hum dono he k saan phoole hue the dani:maza aya? ma ne han mein sir hila dia dani:ma ab chalti hn..ab hum pakke wale dost hn..jo hamari baten hn kisi ko pata nai chalni chahiyen us ne mere cheek pe kiss ki aur jane k liye blanket ooper se side pe kia dani ki nazar meri shalwar mein bne tamboo pe pari dani:naughty wo hanste hue boli aur room se chali gae jb k ma sharminda sa wahan betha raha agle din wo teeno behnen muje ghumane le gaen aur ma ne zindagi mein pehli bar cinema mein movie dekhi bua aur baba mere liye itne protective the k muje is umer mein b bohat si baton ka nai pata tha lekin unho ne meri dressing pe hamesha bohat tawajja di thi baba hamesha sheher se he mere liye jeans etc le k ate the matlab yeh k ma paindoo tha zarur lekin dikhne mein lgta nai tha bia:faizi kesa llga hamara sheher? wapsi pe bia ne pucha ma front pe tha aur dia driving kr rai thi me:bs theek ha ma apne gaon ko miss kr raha tha sani:bs theek ha? me:chalo g ma aise bol deta hn k bohat acha ha ma hans k bola bia:kafi backward log hote hn gaon k wo aur sani haansne lgi aur muje un ki yeh baat achi nai lgi dani:bia?tameez kro wo sakhti se boli bia:sorry dani ka kafi rob tha wese b apni behnon per lekin ma bia aur sani ki baat aur hansi bhoolne wala nai tha raat ma jldi sogya ''aj itni jldi sogye?'' kisi ne mera shoulder pakar k hilaya to meri ankh khul gae yeh dani thi jo yeh baat keh k blanket mein ghuss gae thi mere sath me:han bs.. ma seedha ho k lait gya dani:ma chali jaun? me:nai nai..ma jaag to gya hn agle lamhe he us k hont mere honton pe the aur hum kul ki tarah kissing kr rai the aur mera lun phir khara ho chuka tha dani:acha suno me:han dani:yeh tumhari shalwar mein kya ho jata ha? me:woh..pata ...nai muje 1 dum sharam si ane lgi thi dani:larkion ki tarah sharmao nai me:jb tum kiss krti ho to yeh aisa ho jata ha dani:aur tumhara dil nai krta k is ka kuch kro? ma ne subah k time ya nahate waqt 2 3 bar tajassus se apne lun ko hath mein le k masla zarur tha aur is se muje maza b aya tha lekin is se agay kbi kuch nai hua me:kbi kbi ma ise hath mein pakar leta hn dani:aur kya krte ho? me:bs yehi dani:lgta ha yeh b muje he btana pare ga me:kya btana pare ga? us se agay jo hua wo mere liye kafi shocking tha dani ne blanket k neche se aur meri shalwar k ooper se mera tana hua lun pakar lia tha mere jisam ko jhatka lga dani:relax mere lun ko muthi mein le k wo hath ooper neche kr rai thi muje aisa maza pehle kbi nai aya tha dani:naala kholo us ki saansen b tez chal rai thn hath blanket mein le ja k ma ne naal khol dia aur dani ka hath meri shalwar mein chala gya me:ahhhh jese he us ka mera lun us k hath mein aya ma ne ankhen bnd kr li ab wo tezi se hath ooper neche kr rai thi aur kuch mint baad he muje aise lga jese mere lun mein se kuch nikalne lga ho aur meri tangen akarne lgi me:ooohhhh aur mere lun ne pani chhor dia yeh meri life ki pehli muth thi dani ne tissue se apna hath saf kia dani:jao wash kr k ao wapis aa k ma phir se blanket mein ghuss gya dani:maza aya? me:bohat..pehle kbi itna maza nai aya dani:muje b maza do na wo mere lips pe kiss krte hue boli me:kese? dani:mere trouser mein hath daalo..tangon k beech blanket k neche se he ma ne hath us k trouser mein daal dia aur us ne apni thighs khol di meri unglian kisi narm aur geeli si cheez se touch hui dani:ooohhhhh wo apna hath trouser mein le k gae aur meri fingers pakar k apni phuddi ko rub krne lgi dani;aise...kro ma ab us ki phuddi ko masal raha tha aur dani ankhen bnd ki ye siskian le rai thi ahista ahista dani ki phuddi ziada geeli hoti ja rai thi aur meri fingers b dani:tez tez...kro aur kuch lamhon baad us ka jisam jese jhatke khane lga aur akar k dheela pr gya aur us ki phuddi ne bohat ziada pani nikala tha ma ne apna hath bahir nikal lia dani:ma ab chalti hn ma ne himmat ki aur 1 kiss us k lips pe kr di dani muskurae aur bed se utar kr room se chali gae agle din hum chacha ki taraf ja rai the dani:aj wapis ajao ge ? me:nai bua keh rai hn k 2 din wahan reh k wahan se wapis gaon ma udasi se bola dani:wapis ajana na ..muje pata ha ab tumhara dil nai lge ga wahan me:koshish kru ga chacha k ghar ka mahol b taqreeban taya k ghar jesa he tha un k b 2 bete aur 3 betian thn..hina...rida aur maha bete college trip k sath kahin gye hue the larkian raheela aur sajeela ki trah chadar mein lipti hui to nai thn lekin dani logon ki tarah mod b nai lg rai thn chacha muje bari garam joshi se mile chacha:tu to jawan hogya ha yar bua:is ka qad(height) bilkul hamid jesi ha dopeher k khane k baad jb ma aur bua akele the to ma ne bua se phuppo k ghar jane ka kaha bua:dil nai lg raha yahan? ma ne naa mein sir hila dia mera sara dhyan dani ki taraf tha bua:bura lgta ha beta aise jana..aisa krte hn aj yahan reh lete hn kul udhar chalen ge aur wahan se parson tere baba k sath wapis ''faizi bhai hamare sath ludo khelen ge?humen 4th partner ki zarurat ha'' sham k waqt maha mere pas aa k boli ma to wese b bore he ho raha tha isliye uth k un k sath ja k beth gya meri partner hina bni hina muj se 1 saal chhoti thi taqreeban khel k doran jb b meri nazren us se milti wo sharma si jati aur us ka khubsurat chehra surkh ho jata kher muje us waqt bs dani he nazar aa rai thichacha k rokne k bawajood hum agle din wapis phuppo k ghar agye dani college se wapis ayi to muje dekh k muskurate hue ankh maar di din hanste khelte guzar gya aur raat dani phir se mere room mein thi us k hath mein 1 lifafa tha dani:tumhare liye kuch layi hn wo mere sath lait k boli aur lifafa mein se 1 magazine nikal lia aur us magazine ne to muje 1 new dunya se mutarrif krwa dia sex ka her pose tha us mein...aur sb se ziada herani muje puddi chatne aur lun choosne wali pics pe hui dani ne mag side pe rkha aur muj se lipat gae hum kafi der kissing krte rahe dani:kbi larki nangi dekhi ha asal mein? ma ne han mein sir hilaya aur usay sughran ka btaya..jb ma ne usay btaya k sughran k bche shayed us ki yani dani ki age k hn ge to woh hansne lgi dani:muje dekho ge bgher kapron k? ma ne apne khush honton pe zuban pheri aur han mein sir hila dia dani bed se utar k khari hui aur pehle apni shirt utari us ne bra nai pehni hui thi dani k darmyani size k tane hue mamme aur pink nipples dekh k mere lun ne jhatka lia kuch mamme abi pics mein dekhe the aur us se pehle sirf sughran k dhalke hue mamme dekhe the phiir wo trouser pe hath rkh k jhuki aur usay utar k mere samne bilkul nangi khari hogae ma hawas bhari nazron se dani ka nanga jisam dekh raha tha wo muri aur us ki gol matol gaand mere samne agae dani:tum b utaro kapre wo meri taraf rukh kr k boli ma ne blanket side pe kia aur jhijakte hue apni kameez aur shalwar utar di dani kuch lamhe mere lun ko dekhti rai phir mere sath lait k apne hont mere honton pe rkh k mere lun ko pakar lia kuch der mere lun ko masalne k baad seedhi ho k beth gae dani:tumhare lun ko munh mein dalun? muje koi jawab nai soojha kyu k lun ka lafz aj se pehle ma ne sirf mardon k munh se suna tha dani ne apna chehra mere lun pe jhukaya mere lun ko hath mein pakar k dani ne us ki topi pe zuban pheri me:ooohhhh muje beinteha lazzat mmehsoos hui phir us ne mere lun ko munh mein lia aur hont bnd kr k sir ooper neche krne lgi muje saaf mehsoos ho raha tha k wo sath sath mere lun ko choos b rai ha aur muje lg raha tha k mera lun pehle se b bara hogya ha kuch der baad wo mera lun munh se nikal k beth gae dani:tum b kro na me:kya...kru? us ne mag uthaya aur khol k us page pe ungli rkh di jis mein larka larki ki phuddi chaat raha tha lun chuswate hue muje maza to bohat aya tha lekin phuddi chatna muje gnda kam lg raha tha ma chup raha dani mere paon ki taraf sir rkh k lait gae aur apni thighs khol di us ki phuddi k jure hue lips geele the dani:ao na faizi...ma ne b to tumhara lun choosa ha na us ki ankhen surkh ho rai thn ma uth k dani thighs mein jhuka ab mera chehra us ki phuddi k pas tha dani:chaato na ma ne 1 gehri saans li aur zuban bahir nikal k us ki phuddi ko neche se ooper tk 1 bar chaata dani:sssiiiii...ahhhh dani ne apni gaand ooper uthae aur mere sir pe hath rkh k apni phuddi pe dabaya ma ab dani ki phuddi chaat raha tha us ki siskian sun k muje b ab maza ane lga tha dani:chaato meri phuddi ko faizi ma kuch der us ki phuddi pe zuban chalata raha dani ne apni phuddi mere face se peche ki aur apni phuddi k lips pe ungli rkh di dani:inhe b...honton mein le k...chooso wo hampti hui boli us ki phuddi k lips ko bari bari choosne k baad ma ne us ki taraf dekha dani ne apni phuddi k lips ooper se khole aur 1 daane pe ungli rkhi dani:yeh..daana..ise chooso aur chato ma dani ki phuddi k daane ko choosne aur chatne lga to us ki siskian barh gaen aur phuddi b ziada geeli hogae kuch der baad us ne mera sir peche kia dani:andar dalo.. ab thora bohat to muje hashoo ne btaya he tha lun ko phuddi k andar daal kr chodte hn aur wese b gaon mein mukhtalif janwaron ko krte dekha b tha lekin ma kr pehli bar raha tha ma dani k ooper hua to us ne mera lun pakar k apni phhuddi k sorakh pe rkha dani:push...kro.. ma ne lun andar ki taraf dabaya to wo dani ki phuddi mein utarne lga dani:is umer mein b tumhara lun...itna..lamba wo apni tangen meri kamar k gird lapait k boli ma khud ba khud he apna lun us ki phuddi se andar bahir krne lga muje aisa mehsoos ho raha tha jese mera lun kisi garam aur reshmi cheez mein ghusa hua ho kuch mint baad he dani ka jisam akarne lga aur us ki phuddi ne jese mere lun ko bhench lia ho ma samaj gya k us ki phuddi pani chhor rai ha aur sath he meri sansen b tez hui aur tangon mein akrao agya aur mere lun ne b pani nikal dia ma hampta hua dani k ooper gir gya dani b tez tez saans le rai thi kuch der baad us ne mera chehra pakar k ooper kia aur cheek pe kiss ki dani:faizi..yeh lun ka pani sirf apni bv k andar nikalte hn...is se bcha ho jata ha ma 1 jhatke se peche hua me:matlab...tum .. dani:nai nai...mere pas pilss hn ma wo kha lu gi to kuch b nai ho ga..ma sirf itna bta rai hn k kisi aur k sath kro to ya to condom use krna ya phir pani bahir nikalna...samjhe ma ne bs han mein sir hila dia dani:aur han...apne baba ko kaho k tumhe mobile le k den..ma tumhe apna number likh du gi hum msg aur call pe baat kia kren ge gaon wapis aa k 2 3 din to ma bohat udas raha aur sath sath mobile use krna seekhta raha ma ne apna aur dani ka waqt yad kr k 2 3 bar muth b lgae ab muj mein 1 change b agae thi..woh yeh k ma taqreeban her larki k mamme aur gaand nazar bcha k ghor se dekhta tha aur yeh sochta tha k is ki phuddi kesi ho gi ya yeh phir nangi kesi lge gi aur ab jb sumaira muje dekh k muskurati to ma b jawab muskurahat se deta ''sughran kapre le k ja rai ha neher pe'' hashoo tez tez chalta mere pas aya me:ma nai ja raha..tu dekh le ja k dani ka jawan aur tana hua jisam dekhne k baad kis ka dil krna tha sughran ka dhalka aur mota jisam dekhne ko hashoo:lekin...tu to hamesha.. me:han bs ab nai 'muje bohat dar lgta ha faizi k abba'' bua ki awaz mere kaan mein pari baba:jb tk ma zinda hn ki faizi ki taraf ankh utha k to dekhe bua:lalach insan ko kese andha kr deta ha baba:dekh lu ga ma sb ko bua:hn to woh mere bhai..lekin phir b.. baba:tu pareshan na ho mere hote hue muje kuch pata nai tha k wo kis bare mein baat kr rai hn sumaira hamare ghar ayi thi kuch le k ma bua k pas he betha tha me:bua muje math ki samaj nai ati bua:faizi tu to sare mazmoon mein itna laiq ha phir ab kya hua me:bs thora sa he ha jo samaj nai aa raha ma sumaira ki taraf dekh k bola sumaira:muj se samaj lena bua:han yeh theek ha me:nai bua.. ma ne acting ki bua:behen khud keh rai ha ...sumaira yeh aj se he aye ga parhne tere pas sumaira k ghar pe us ki maa he hoti thi ziada aur us ka baap ziada ter zaminon pe he hota tha ya phir baba k dera pe ''tum b muje achi lgti ho'' ma charpoy pe beth k bola sumaira:acha g? wo hansi aur thore fasle pe beth gae me:itni door kyu beth gae ho? ma khisak k us k pas hua sumaira:ammi bahir he hn me:wo khana bna rai hn ma ne us ka hath pakar k choom lia sumaira ne jldi se hath chhura lia sumaira:kitab to nikalo ma ne kitab usay pakrae jo us ne khol k apni thighs pe rkh li sumaira:konsa chapter samaj nai aa raha me:btata hn ma us k pas hua aur book k neche se us ki thigh pe hath rkh dia sumaira thora sa uchhli sumaira:faizi? us ne muje ghoora lekin is ghoori mein narazgi nai thi me:muje sb ata ha...yeh to bahana ha tum se milne ka sumaira:toba..dikhne mein kitne bhole lgte ho wo hansi me:1 kiss do na sumaira:kya?bilkul b nai me:bs 1 kiss sumaira:bs 1 kiss yahan le lo wo apni cheek pe ungli rkh k boli to ma agay hua aur us ki cheek pe kiss kr li ma peche ho k us ka surkh chehra dekhne lga me:ab ma chalta hn...kul phir aun ga apni shalwar mein bne hue lun k tamboo ko ma ne chhupane ki koshish nai ki sumaira ki nazar mere lun pe pari to us ka chehra mazeed surkh hogya ''kese ha mera hero?'' dani ki call ayi thi me:ma theek dani:miss krte ho muje? me:krta hn na dani:ma b krti hn..wo waqt jo hum ne guzara me:sb kuch..mer to dil he nai lga 3 4 din yahan aa k dani:itni achi lgi ma tumhe? wo hansi me:itna kuch to sikhaya tum ne muje call pe ma ziada khul k baat kr pa raha tha dani:wese kafi jldi seekh lia tum ne sb me:sb he kehte hn ma bohat zaheen hn dani:apni gf ka sunao me:qaboo nai aa rai muje 3 4 din hogye the sumaira ki taraf jate hue lekin baat kissing se agay nai barhi thi dani:zabardasti nai krni..ok? me:nai nai wo ma kyu kru ga? dani:acha suno me:g sunao dani:tumhara lun kesa ha? wo sargoshi mein boli me:tum larki ho k aise lafz... dani:oye chup..btao muje me:theek ha.. ma lun pe hath pher k bola dani:khara hota ha wese he? me:han na..aur tumhari woh kesi ha? dani:woh kya?bolo na me:tumhari..phuddi dani:tumhare lun ko miss krti ha me:mera lun b tumhari phuddi ko miss krta ha dani:phone sex ka pata ha? me:woh kya hota ha? dani:kbi raat ko btaun gi me:theek ha kokab aur us ki maa hamare ghar kam krne ati thn kokab sumaira ki hum umer thi aur kafi pyari aur chulbuli si larki thi us din wo haveli k sehan mein jharoo lga rai thi aur ma veranda mein bua k pas betha hua tha kokab jb neche jhuki to meri nazar us ki kameez k gale pe pari khule gale wali kameez mein us k adhe mamme nazar aa rai the us ne meri nazron ko mehsoos kia to muskura k rukh dosri taraf kr lia matlab baat bn skti thi room mein ate he ma ne sumaira ko banhon mein lia aur us k honton pe kiss krne lga mera lun foran he tan k us ki phuddi mein dabne lga ma apne dono hath us ki gaand pe legya sumaira ne apni phuddi mere lun se peche krne ki koshish lekin ma ne us ki gaand k ubharon ko mazbooti se pakre rkha sumaira:faizi..bs kro na me:apne mamme dikhao muje sumaira:haaaa...bilkul nai...chhoro muje ma ghusse mein peche hata aur charpoy se apni kitaben utha li sumaira:kahan ja rai ho?abi to aye ho me:ja raha hn ma ma us k pas se guzarne lga to us ne mera bazoo pakar lia sumaira:naraz kyu ho rai ho? ma ne jawab diye bgher bazoo chhuraya aur wahan se nikal aya ''aj amma ki tbiat theek nai wo nai ayi aj'' kokab ne bua ko btaya bua:meri b kamar mein dard ho rai ha..tu safae kr k aja aur meri malish kr de yeh keh k bua apne kamre mein chali gaen ma apne kamre mein chala gya aur thori der baad kokab b wahan agae kokab:safae krni ha me:kr lo ma bed pe lait k bola kokab safae krne lgi aur 1 bar phir meri nazren us k garebaan mein thn aur mera lun b khara ho chuka tha ma bohat dino se controle kr raha tha apne aap pe kokab ka rukh dosri taraf hua to ma bed se utar k us k peche ja khara hua kokab apne dhyan mein farsh se uthi to ma ne usay peche se banhon mein le lia kokab:hah...yeh kya me:muj se dosti nai kro gi? ma apna tana hua lun us ki gaand ki lakeer mein dabata hua bola kokab:koi ajaye ga me:bua lait gae hn yeh keh k ma ne us ki kameez ooper kr di aur bra k ooper se us k mamme masalne lga kokab:chhor den na muje wo apna ap chhurane ki koshish b nai kr rai thi ma ne us ki bra ooper kr di aur us k nange mammon ko hathon mein le lia muje aise lga jese wo b apni gaand peche kr k mere lun k sath daba rai ha apna 1 hath ma us ki shalwar mein le gya aur us ki phuddi ko touch kia kokab ki phuddi pe baal the ma fingers se us ki phuddi ko masalne lga aur sath sath he dosre hath se us k mammon ko daba raha tha ma ne hath us ki shalwar se nikal k us ki shalwar neche kr di aur phir apni shalwar neche kr k apna tana hua lun us ki gaand ki lakeer mein de k dobara us ki phuddi rub krne lga mera lun b us ki gaand ki lakeer mein agay peche ho raha tha kokab ki sansen tez hone lgi aur sath he wo tezi se gaand agay peche krne lgi jese he us ki phuddi ne pani chhora mere lun ne b pani us ki gaand ki lakeer mein nikal dia ma usay chhor k hampta hua bed pe beth gye kokab shalwar ooper kr k meri taraf muri me:acha kul phuddi se baal saaf kr k ana kokab:g acha wo muskurae aur room se nikal gae kokab k sath kafi din moqa nai mil ska lekin school se wapsi pe sumaira mere sath chalne lgi 1 hafte se ziada hogya tha us se baat hue sumaira:amma ne tum logon ki taraf jana ha ...jese he wo ayen tum hamari taraf aa jana yeh keh k wo tezi se agay nikal gae sumaira charpoy se uth k mere gale lg gae sumaira:aise naraz hote hn bhala koi jese he us ki maa hamare ghar ayi ma nikal k us ki taraf aagya tha me:tum ne baat he aisi ki sumaira:bs dekho ge na? me:han wo peche hui aur apni kameez ooper kr di bra us ne shayed mere ane se pehle utar di thi us k tennis ball jitne mamme tane hue the sumaira:bs? yeh keh k us ne kameez neche kr li me:shalwar neche kro sumaira:haye nai me:phuddi b dikhao na sumaira:faizi ... phir us ne gehra saans lia aur 1 hath se kameez ooper kr k dosre hath se apni shalwar neche kr di us ki phuddi ka ooper wala hissa dekh k he pata chal raha tha k us ne baal saaf kiye hue hn is se pehle k wo shalwar ooper krti ma agay barha aur usay banhon mein le k charpoy k kinare pe bitha k peche lita dia sumaira:faizi...yeh... me:2 mint bs..kreeb se dekhne do na is sb mein us ki shalwar ghutno tk agae thi ma ne us ki shalwar utare bgher he us k tangen bend kr k ooper ki to us ki phuddi meri nazron k samne agae phuddi chatwate hue dani ki siskian yad thn muje sumaira:chhor do na muje us ne tangen seedhi krne ki kkoshish ki lekin mane usay aisa na krne dia aur jldi se zuban us ki phuddi k lips mein pheri sumaira:hahhhhh us ki kamar akri aur gaand ooper ko uthi lekin ma ne us ki phuddi ko chatna jari rkha dani k muqable mein sumaira ki phuddi kafi chhoti thi jese he meri zuban us kki phuddi k dane se touch hui us ki muzahamat kum hogae lekin munh se wo abi b muje mana kr rai thi sumaira:chhor do...faizi...ahhhh ma us ki phuddi ko chatne mein magan raha achanak un ka bahir wala darwaza bja sumaira:amma agae.. hum jldi se uthe sumaira:tum yahan darwaze k peche ruko...amma agay chali jayen to jldi se nikal jana wo apne kapre theek krte hue darwaza kholne chali gae jese he wo dono agay dosre kamre mein gaen ma chupke se nikal k bahir agya us din afzal bhai hamare ghar aye aur un k sath raheela aur sajeela b thn tb pata chala k agle mahine afzal ki shadi ho rai thi aur wo log kreebi sheher se aa rai the kuch chezen le k bua un ki khatir madarat mein lgi hui thn phir afzal baba k sath dera per chala gya bua:larkio yeh utaro chadaren aur aram se betho..itni garmi ha afzal k jate he bua ne unhe kaha dono ne chadren utar k side pe rkhi aur sukoon ka saans lia bua kitchen ki taraf chali gaen aur ma ne life mein pehli bar raheela aur sajeela k jismon ko gher sse dekha un dono ki sb se khas baat un k mamme the jo k kafi bare the muje ghoorta dekh k sajeela ne raheela ko kohni mari to ma harbara k dosri taraf dekhne lga aur wo dono hansne lgi me:kya hua? sajeela:kuch b to nai...kyu? me:ap log hans rai thi na raheela:wo to hum apni baat pe hans rai the me:achha is bar ka jan boojh k un k mammon pe nazren jama k bola raheela:faizi bara hogya ha sajeela:ya hone ki koshish kr raha ha me:hogya hn ma bara...bajio yeh keh k ma utha aur bahir agya bua aur baba taya k ghar gye hue the ma b bahir jane he wala tha k sumaira andar agae sumaira:khala kahan hn? me:taya k ghar...sath wale gaon ma ne us ka hath pakar k apni taraf khencha sumaira:us din tum ne kitna gnda kam kia wese wo meri banhon mein aa k boli me:muje maloom ha tumhe maza b aya tha ma hansa sumaira:g nai wo nazren neche kr k boli us k mamme pe hath rkh k ma us k hont choosne lga sumaira:ssssiii...ahista na ma ne kuch ziada he zor se us ka mamma daba dia tha sumaira:muje jldi jana ha me:apni phuddi pe pyar krne do us din ki tarah..phir jane du ga sumaira ne na mein sir hilaya ma ne hath us ki shalwar mein daal k us ki phuddi ko touch kia sumaira:sssiii... us ne apni thighs thori si khol di ma ghutno k bal neche betha aur kameez peche kr k us ki shalwar neche kr di sumaira:muje jane do us ne jane ki koshish b nai ki ma ne zuban nikal aur us ki phuddi k lips mein ooper neche krne lga me:lait jao na sumaira laiti to ma ne us ki shalwar utar k us ki thighs khol di us ki chhoti si phuddi balon se pak thi aur lips aapas mein jure hue the sumaira ki phuddi k ooper wale hisse ko honton mein le k chooste hue ma us k dane pe zuban pherne lga sumaira:ssiiii...hayeeeee....faiziiii ma tezi se zuban us ki geeli phuddi pe chalane lga aur us ki gaand ooper neche ho rai thi phir us ka jisam akarne lga sumaira:ayiiiii....uffffff...aaaahhhh us ki gaand ooper ko hui aur us ki phuddi ne pani chhor dia wo kuch der lambe lambe saans laiti rahi phir jldi se uth k shalwar pehen'ne lgi sumaira:phir aun gi..aj jldi ha ''yar yeh faiqa muje bari achi lgti ha'' hashoo aur ma neher k kinare bethe the faiqa hashoo k chacha ki beti thi me:bta de usay hashoo:mere abbu ka pata ha na?agar us ne bta dia hashoo akram ka beta tha...wohi akram jise abba her jagah mere bhejte the...wo bohat arse se abba k pas kam kr raha tha aur ab to ghar k fird jesa tha...hum mein se koi b usay mulazim nai samajhta tha me:han yar yeh to ha hashoo:tu suna sumaira k sath kahan tk pohnchi kahani? me:chal rai ha abi to kahani us din k baad sumaira se tanhae mein mulaqaat nai ho ski thi aj phir kokab akeli he kam krne ayi thi aur bua apni kisi saheli k ghar gae hui thn us ka hath pakar k ma usay apne kamre mei le gya muj per uswaqt junoon sa sawar hua hua tha..shayed sex ka kokab zara b nai ghabra rai thi usay banhon mein lete hue ma ne kissing start ki to wo mujse b ziada garamjoshi se mera sath dene lgi mere hath us ki kamar aur gaand pe phir rai the phir ne kapron k ooper se he mera lun pakar lia me:nangi ho jao ma ne usay chhora aur apni kameez shalwar utar di kokab b kapre utar k nangi hui aur bed k kinare pe beth k mere lun ki taraf dekhne lgi ma us k samne ja khara hua me:munh mein daalo mere lun ko muje lgta tha wo inkar kr de gi lekin us ne foran he mera lun pakra aur munh mein le lia kokab apne hont bnd kr k mera lun munh se andar bahir krte hue choos rai thi aur wo yeh kam khasi maharat se kr rai thi phir us ne lun munh se bahir nikala aur charon taraf se chatne k baad dobara munh mein le lia ma hath neche le gya aur us k nipples masalne lga kuch der baad wo mera lun munh se nikal k thighs khol k lait gae kokab:ajao na ab...chodo muje ma ne us ki phuddi ko dekha jo aj balon se pak thi thi to wo sumaira ki umer ki lekin us ki phuddi sumaira ki phuddi se bari lg rai thi ma us ki thighs k beech aya aur apna lun pakar k us ki phuddi mein utarne lga kokab:hayeee...uffff.... jese he mera lun us ki phuddi mein poora utra ma tezi se usay andar bahir krne lga kokab:haye ...haye...ah...ah...ahista...sssiiii ma ne dhakkon ki speed aur b barha di yeh meri life ki dosri chudai thi aur muje kuch ziada he jldi thi kokab b ab gaand utha utha k mera sath de rai thi kuch mint baad us ki phuddi ne pani chhor dia muje dani ki baat yaad thi ma ne b apna lun bahir nikala aur hath chala k pani us ki phuddi aur pait pe nikal dia aur yeh scene b mere liye bara sexy tha ''yeh sb log itne ajeeb se kyu lgte hn muje?'' ma ne bua se pucha bua:kon log? me:taya log..dono chacha log... bua:ab her koi hamari tarah to pyar nai kr skta na tuje me:woh baat sahi ha k ap se ziada pyar koi nai kr skta..lekin bua g muje kuch aur mehsoos hota ha...pata nai kya? bua:na itna zor dala kr apne damagh pe puttar me:amma accident k waqt ma b sath tha..ma kese bch gya ma us waqt 3 saal ka tha muje kya yaad hona tha? bua:tu isliye bch gya k tu ne mere pas jo ana tha..apni bua k pas..chal ma khana le k ati hn tere liye ''yeh tuje kya hua?'' hashoo k cheek pe neel para hua tha hum uswaqt apni pasandeeda jagah yani neher k kinare per the hashoo:kuch nai yar gir gya tha me:kahan gira? hashoo:ghar mein he wo dosri taraf dekhte hue bola me:idhar meri taraf dekh ma ne us ka chehra apni taraf mora me:jhoot na bol muj se hashoo:yar woh majid nai ha?wo aur us k dost the me:tu chal mere sath ma ghusse mein uth khara hua hashoo:ma akela tha aur woh teen..akele akele ate to ma dekh leta unhe..kher dafa kr yar me:tu na chal mere sath itne mein majid apni motor cycle pe guzarta nazar aya aur us k sath 1 aur larka b tha me:tu idhar he theher ma majid ki bike k agay khara hogya wo bike rok k neche utra he tha k ma ne koi baat kiye bgher us ka gareban pakra aur 2 3 punch us k face pe diye aur dosre larke k sath hashoo bhir gya majid muj se thora bara he tha us ne b hath paon chalaye aur punch muje b lge lekin us ka paon kahin atka aur wo neche gir gya yehi moqa tha mere liye aur ma ne is ka khoob faida uthaya dosri taraf hashoo ne dosre larke ko giraya hua tha mere phate hue kapre dekh k bua to behosh hone wali hogaen ma ne unhe sari baat btae bua:agar tuje kuch ho jata to? me:kya hona tha bua...aiwen bdmashi krte hn wo larke sb k sath..hashoo ko itna mara tha unho ne itne mein baba k dera se 1 bnda muje lene agya bua ne jldi se mere kapre change kiye me:baba danten ge muje bua:nai dant'te..bs agar wo sulah ka kahen to kr lena dera pe majid ka baap fazal hashoo aur akram b the..aur kuch aur log b the sath mein baba ne ghor se muje dekha ...shayed yeh dekh rai the k muje koi chot to nai lgi? ''ap k bete ne badmashi ki ha mere bete k sath'' fazal bola baba:abi pata chal jata ha..han faizi btao kya hua tha? ma ne hashoo ki larae wali baat bta di aur phir hashoo ne apni larae ki sahi wajah b bta di majid faiqa ko tng kr raha tha..hashoo ne usay samjhane ki koshish ki to us ne apne sathion k sath hashoo pe hamla kr dia tha akram ne 1 qeher bhari nazar fazal aur majid pe daali lekin baba ki waja se chup raha baba:han bol fazal fazal:yeh larka jhoot bol raha ha wo apni hut dharmi pe qaim tha akram ka chehra ghusse ki shiddat se surkh ho raha tha baba:majid tuje apni ghalti maan leni chahiye beta majid ne na mein sir hila dia baba:ayenda aisa nai hona chahiye..izzat sb ki saanjhi hoti ha fazal:ap ko to apne bche he sche nazar ayen ge akram:tameez se baat kr fazal sahib se wo dhaar k bola fazal:oye tu to ha he chamcha... baba:fazal soch samajh k baat kr baba ne usay toka fazal:dekh lu ga wo dhamki amez awaz mein kehta hua nikal gya gaon mein koi b unhe pasand nai krta tha akram:yeh faizi k peche pr jayen ge ab..kher ma jaanta hn aise logon se nimatna baba kisi gehri soch mein gum the aur usi raat fazal k ghar per musallah logon ne hamla kr dia lekin auraton ko kuch nai kaha aur agle din wo log gaon chhor k chale gye ''afzal bhai ki shadi pe aa rai ho tum log?'' dani se call pe baat ho rai thi dani:han sb e ayen ge me:tum hamare ghar he rehna dani:kyu g? wo hansi me:nai to na sai ma bura maan k bola dani:oye me:kya ha? dani:mmmuuaahhh me:itna dil krta ha mera dani:kya dil krta ha? me:tumhe nanga kr k... dani:faizi.. us ki awaz sorgoshi mein badal gae thi me:g kuch lamhe khamoshi rahi dani:kya pehna hua ha tum ne? me:sirf shalwar dani:utaro apni shalwar me:kyu dani? us ki tez sansen sun k he mera lun khara ho chuka tha dani:kyu k ma ne apne kapre utar diye hn...ma b nangi hn iswaqt yeh sun k mere lun ko jhatka lga aur ma ne ankhen bnd kr k dani k nange jisam ko imagine krte hue shalwar utar di me:utar di ha dani:tumhara lun.. me:khara ha...bohat sakht hogya ha dani:ma seedhi laiti hn..thighs khol k..nangi me:tumhari phuddi.. dani:geeli ho rai ha..muje tumhara lun chahiye ma apna lun hath mein pakar k hath ooper neche kr raha tha me:muje tumhari phuddi..mera lun mere hath mein ha.. dani;aaahhh....ma apni phuddi ko rub kr rai hn... dani ki tez sansen muje apne ooper mehsoos ho rai thn ma b tezi se hath chalane lga dani:ooohhhh...muje tumhara...lun..phuddi mein lena ha...aahhh me:muje b...tumhe chodna ...ha.. dani..fuck me.....chod do muje..meri ma ne finger phuddi mein daal li ha..aaahhhh me:ma lun tumhari phuddi mein daal k tumhare mamme... dosri taraf dani ki siskian barh gae thn dani:ah.ah...ah..ma finger andar bahir kr rai hn....ooohhh me: mera lun ha yeh...tumhari phuddi mein... dani:ufff....siiiii hum dono ki sansen bohat tez ho k dheemi hogae jese he dani ki phuddi ne pani chhora mere lun ne b pani nikal dia tha yeh muje baad mein us ne btaya k ise phone sex kehte hn
  8. pait p belly button k round me zuban ghumai.... r sath me apny ongli sy tm choot k danny ko cherny lga dono mammo ko bari bari maslty hoye naaf sy zubn ko choot k uper portion p a k bite kia r nipples ko masla tm tangain oper othi to choot mukmal khul gye... apni zubn k tip ko choot k danny sy touch krty hoye sorakh tk ly aya aur....
  9. Last week
  10. Waahhhhh Kamal Sheikhooo jee,,,,,,, Mazy ke intehaa ko phnchy magar Story the end,,,,, bhoot awlaa andaz e biyan,,,
  11. تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو فکر ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہم راہ ہے تو جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو میں کہ رہتا ہوں بصد ناز گریزاں تجھ سے تو نہ ہوگا تو بہت یاد کروں گا تجھ کو جون ایلیا
  12. کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں، اک دوست ہے کچا پکا سا، اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا۔۔ اک پھول ہے روکھا سوکھا سا، اک سپنا ہے بن سوچا سا، اک اپنا ہے اندیکھا سا، اک رشتہ ہے انجانا سا، حقیقت میں افسانہ سا، کچھ پاگل سا دیوانہ سا، بس اک بہانا اچھا سا، جیون کا ایسا ساتھی ہے۔۔ جو دور ہو تو کچھ بھی پاس نہیں، کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں۔۔ تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں۔۔
  13. گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح پروین شاکر
  14. چوت گیلی ہی مزے کی لگتی ہے۔ چاہے تو چوس لو، چاہے تو چود لو۔
  15. ۔۔update....????? .اچانک میرے جھٹکوں کی سپیڈ تیز ھوگئی لن کی رگیں پھولنا شروع ھوگئیں ۔ آنٹی کےجوش اور سیکسی آوازوں نے اور آنٹی کی دھکتی بھٹی کے آگے میں ذیادہ دیر ٹِک نھی سکا اور میرے لن نے آنٹی کی پھدی کے اندر ھی پچکاریاں مارنی شروع کردیں اور اسی دوران آنٹی نے بھی اپنی گانڈ کو میرے ساتھ چپکا دیا اور پھدی کو بھینچ کر میرے لن کو سارا نچوڑنے لگی ۔ اور پھر مجھے اپنے ٹوپے پر پھدی کے اندر سے انٹی کی منی کی دھاریں گرتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ میں اور آنٹی اکھٹے ھی فارغ ہوگئے آنٹی بھی کروٹ لیے بے سدھ ہوکر لیٹ گئی اور میں میں بھی کروٹ لیے آنٹی کے ساتھ چپک کر جھٹکے کھاتا ھوا آنٹی کو جپھی ڈالے لیٹا رھا کچھ دیر بعد میرا لن شلِنگ ہوکر پھدی سے باہر نکل آیا اور آنٹی بھی اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ میں نے آنٹی کو بازو سے پکڑ کر پھر اپنے اوپر کھینچنا چاھا تو آنٹی بولی بس یاسر ٹائم کافی ھوگیا ھے عظمی یا نسرین اٹھ نہ جائیں ۔ میں نے کہا ابھی تو کچھ کیا بھی نھی اور آپ جانے کی بات کررھی ھو۔ انٹی اپنا بازو چھڑواتے ھوے بولی تمہارا جی نھی بھرنا اگلے کی چاھے بس ھو جاے ۔میری کمر درد کرنے لگ گئی ھے آنٹی بلکل ننگی چارپائی سے ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی ھوئی تھی اور میں کروٹ لے کر اسکی گانڈ کے ساتھ اپنا سویا ھوا لن لگا کر لیٹا ھوا تھا آنٹی بولی اب مجھے جانے دو ۔ میں نے آنٹی کا ھاتھ پکڑ کر کہا ایک دفعہ تو اور کرنے دو ابھی تو میرا جی بھی نھی بھرا ۔ آنٹی نے جلدی سے اپنا ھاتھ کھینچا اور کھڑی ھوگئی ۔ آنٹی کی پھدی سے میری اور آنٹی کی منی مکس ھوکر پانی بن کر ٹانگوں سے بہہ کر آنٹی کے پیروں تک آگئی تھی ۔ اور ٹانگوں پر پانی ٹانگوں پر پانی چمک رھا تھا۔ آنٹی جب کھڑی ہوئی تو اسکی گانڈ میری طرف تھی انٹی کی گانڈ عظمی کی گانڈ کی طرح بلکل گول مٹول اور باہر کو ابھری ہوئی تھی مجھے گانڈ دیکھ کر اسپر بے اختیار پیار آیا تو میں نے گانڈ کی طرف اپنا پاوں بڑھایا اور پیر کے انگھوٹھے کو گانڈ کی دراڑ میں ڈال دیا۔ آنٹی جو میری طرف گانڈ کر کے کھڑی اپنے دونوں ھاتھوں سے اپنے بال سنوار رھی تھی گانڈ کی دراڑ میں انگوٹھا لگتے ھی تڑپ کر آگے کو ھوئی اور ہاتھ سے میرے پاوں کو جھٹکتے ھوے بولی بتمیززززز۔ اور چارپائی سے دور ہٹ کر اپنے کپڑے پہننے لگ گئی میں نے برا سا منہ بنا کر کہا ۔ میں ہُن ناں ای سمجھاں۔ تو آنٹی ایک ٹانگ اٹھا کر شلوار پہنتے ہوے شوخی سے بولی ۔ توں تے رجناں نئی مینوں مروائیں گا۔ اور پھر شلوار اوپر کر کے قمیض کو درست کرتے ھوے بولی چل اٹھ کے کپڑے پہن لے اور دروازہ اندر سے بند کرلے میں جارھی ھوں ۔ اور آنٹی میرا جواب سنے بغیر آہستہ سے دروازہ کھول کر باہر جھانک کر نکل گئی .اور میں آنٹی کو جاتا ھوا دیکھتا رھا ۔ کچھ دیر ایسے ھی ننگا لیٹا رھنے کے بعد میں اٹھا اور اپنے کپڑے درست کر کے لائٹ بند کی اور پھر چارپائی پر لیٹ گیا۔ اور کچھ دیر بعد نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔ صبح مجھے آنٹی نے ھی اٹھایا اور میں جلدی سے اٹھ کر اپنے گھر گیا اور نہا دھو کر ناشتہ کیا اور پھر واپس آنٹی کے گھر آگیا ۔ جب گھر میں داخل ھوا تو صحن میں بیٹھی صدف کو دیکھ کر چونک گیا اس نے بھی میری طرف ایک نظر دیکھا میں نے اسے نظر انداز کیا اور اسکو مخاطب کیے بغیر اسکے پاس سے گزر کر اندر کمرے کی طرف چلا گیا۔ عظمی اور نسرین دونوں ھی سکول کے لیے تیار بیٹھی تھیں ۔ میں نے عظمی کو گھورتے ھوے دیکھا تو وہ میری طرف دیکھ کر شرمندہ سی ھوگئی اور سر جھکا کر میرے پاس سے گزر کر باہر چلی گئی میں نے نسرین کو کہا جناب نے بھی جانا ھے سکول ۔ نسرین غصے سے بولی جانا اے ۔تینوں کوئی تکلیف اے ۔ میں نے کہا۔ مجھے کیوں تکلیف ھونی ھے مجھے تو خوشی ھے کہ تمہاری طبعیت بہتر ھوگئی ھے ۔۔ نسرین ہنکارا بھر کر میرے پاس سے گزر کر باہر چلی گئی میں نے نسرین کی گانڈ کو غور سے دیکھا تو اسکی گانڈ کی دراڑ میں مجھے کو چیز ابھری سی نظر آئی جیسے اس نے گانڈ کی دراڑ میں کچھ پھنسایا ھوا ھو ۔ میں بڑے تجسس سے اسکی گانڈ کو دیکھتا ھوا اسکے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر آگیا عظمی اور صدف بیرونی دروازے کے پاس کھڑی نسرین کو جلدی جانے کا کہہ رھی تھی ۔ نسرین بھی تیز تیز قدموں سے چلتی ھوئی انکے پاس پہنچی اور تینوں گھر سے نکل پڑیں میں بھی انکے پیچھے پیچھے چل رھا تھا میں صدف کی وجہ سے انسے کچھ فاصلے پر چل رھا تھا۔ ایسے ھی چلتے ھوے ہم شہر پہنچ گئے راستے میں کچھ خاص بات نھی ھوئی ۔ وہ تینوں آپس میں باتیں کرتی رہیں مگر میں نے انکی کسی بات میں مداخلت نھی کی ۔ انکو سکول چھوڑنے کے بعد میں ۔ دکان پر چلا گیا صفائی وغیرہ کرنے کے بعد کچھ دیر کسٹمروں میں مصروف رھے مجھے اچانک یاد آیا کہ ضوفی نے لہنگا پارلر سے لے کر جانے کا کہا تھا یہ خیال آتے ھی میں نے انکل سے پوچھا جو لہنگا رینٹ پر دیا تھا کیا وہ واپس آگیا ھے انکل نے کہا بیٹا تجھے پتہ ھو مجھے تو کوئی واپس نھی دے کر گیا ۔ میں نے کہا کوئی بات نھی ۔ادھر ساتھ ھی انکا گھر ھے میں دوپہر کو جاکر لے آوں گا۔ میں نے انکل کو نھی بتایا کہ وہ پالر والی ھے ۔ انکل کو یہ علم تھا کہ نھی I don't know ۔انکل بولے ٹھیک ھے یاد سے لے آنا ۔ میں نے جی اچھا کیا اور پھر کام میں مصروف ھوگیا کام میں مصروفیت کی وجہ سے وقت کا پتہ ھی نھی چلا اور دو بج گئے جنید نے مجھے کھانا لانے کے لیے ساتھ چلنے کا کہا تو میں جوتا پہن کر انکل سے کھانے کے پیسے لے کر اسکے ساتھ ہوٹل کی طرف چل پڑا۔ جنید راستے میں مجھ سے وصل یار کے حالات معلوم کرتا رھا ۔ جو میں نے اسے مختصراً بتا دیے ۔ باتوں باتوں میں میں نے ضوفی کا ذکر چھیڑ لیا کہ اسکے گھر میں کون کون ھے تو جنید نے بتایا کہ وہ تین بہنیں ھیں ایک چھوٹی ھے اور بڑی کی شادی ھوگئی ھے اور اسکا پارلر ھے اور انکا بھائی کوئی نھی ھے اور باپ بھی نھی ھے ماں بوڑھی ھے اس لیے گھر کی ساری ذمہ داری ضوفی پر ھی ھے ۔ میں نے جنید کو ضوفی کا نام نھی بتایا تھا وہ اس لیے پھلجھڑی بلبل پٹاخہ جیسے نام لے کر اسکا ذکر کر رھا تھا۔ میں نے ضوفی کے بارے میں مذید معلومات لینے کی کوشش کی مگر جنید کو بس اتنا ھی علم تھا کہ وہ بڑی سیکسی ھے سارے محلے کے لڑکے اس کے سمیت اس پر لائن مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ کسی کو لفٹ نھی کرواتی سالی بڑی مغرور ھے ۔ اور پھر ٹھنڈی اہ بھر کر بولا خوش قسمت ھی ھوگا وہ جسکو اس قیامت کی پڑیا کا سیکسی جسم نصیب ھوگا۔ .جنید کی اس طرح کی باتیں سن کر میرے اندر ضوفی کی قربت پانے کا تجسس بڑھتا گیا۔ اور سوچتا ھوا واپس دکان کی طرف آگیا کہ آج اس پر ٹرائی مار کر دیکھوں گا۔ اگر ہنس پڑی تو سمجھو پھنس گئی ورنہ کہہ دوں گا باجی ڈر گئی باجی ڈر گئی .میں نے کھانا کھایا اور ہاتھ منہ دھوکر بال بناے دوستو میرے بال کافی سلکی تھے اور اجے دیوگن کی طرح میرا قدرتی پف بنا ھوا تھا ۔ اور میرا رنگ تو قدرتی سفید تھا اور اکثر میں شیشے کے سامنے کھڑا ھوکر بالوں کو سنوارتا ھوا خود ہولی ووڈ کا ہیرو تصور کرتا ھوتا تھا۔ چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھیں بھی نکل آئی تھیں جنید اکثر مجھے پٹھان کہتا تھا کہ تمہارا رنگ پٹھانوں اور کشمیریوں جیسا چٹا سفید ھے اسی لیے مجھے آنٹی فوزیہ اور گلی کی دیگر خاتون شہزادہ کہتی تھیں ۔ خیر میں بھی کیا اپنے منہ میاں مٹھو بن رھا ہوں۔۔ میں اپنے آپ کو تیار شیار کررھا تھا تو انکل میری طرف حیرانگی سے دیکھتے ھوے مجھے چھیڑتے ھوے بولے خیر ھے کدھر کی تیاری ھو رھی ھے ۔ میں شیشے میں انکل کو دیکھ کر جھینپ سا گیا۔ اور بات بناتے ھوے بولا۔ کچھ نھی انکل جی بس ایسے ھی منہ پر مٹی پڑی تھی تو منہ دھولیا۔ انکل پھر شرارت سے بولے میں تو سمجھا کہ منڈا ویا تے چلا اے ۔ میں ہنستے ھوے بولا نھی انکل جی ایسی تو کوئی بات نھی ھے ۔ ماحول کی نذاکت کو دیکھتے ہوے اب مجھے حوصلہ نھی پڑ رھا تھا کہ انکل کو لہنگا لانے کا کہوں ۔ کچھ دیر میں بیٹھا انتطار کرتا رھا کہ انکل خود ھی مجھے کہیں تو میں لہنگا لینے کے بہانے ۔دیدار حُسن کے لیے جاوں۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا مگر انکل اپنے کام میں مصروف رھے ۔ تو میں اٹھا اور لہنگوں والی الماری کے پاس جاکر لہنگوں کو سیٹ کرنے لگا۔ اور انکل سے کہا انکل وہ شاکنگ پنک کلر کا لہنگا ھی گیا تھا نہ ۔۔ انکل بولے ھاں وہ ھی گیا ھے ۔اور انکل نے کلاک کی طرف دیکھتے ھوے کہا تم نے تو کہا تھا کہ دوپہر کو خود ھی جاکر لہنگا لے آوں گا ۔ تم میں چونکنے کے ڈرامائی انداز سے بولا ۔اوووووو سوری انکل میرے تو دماغ سے ھی نکل گیا میں ابھی جاتا ھوں ۔ انکل بولے ھاں جلدی لے آ اگر ذیادہ دن ھوگئے تو شادی بیاہ میں مصروف یہ لوگ رینٹ والی چیز کی احتیاط نھی کرتے میں انکل کا آڈر ملتے ھی جلدی سے کاونٹر سے اترا اور جوتا پہن کر شیشہ کے پاس سے گزرتے ھوے،آئنے میں پھر اپنا معائنہ کیا اور بالوں میں انگلیاں پھیرتا ھوا سیٹی بجاتا دکان سے باہر نکل کر شاہین مارکیٹ کی طرف چل پڑا۔۔ کچھ دیر بعد میں شاہین مارکیٹ کی بیس منٹ میں سیڑیاں اترتا ھوا چلا گیا ۔ نیچے پہنچا تو دیکھا ایک ھی لائن میں تین پارلر تھے ۔ اب مجھے کنفیوژنگ ھونے لگ گئی کہ ان میں سے ضوفی کا پارلر کون سا ھے ۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ ضوفی نے اپنا کارڈ دیا تھا میں نے جیب میں ھاتھ مارا اور اپنا بٹوا نکالا اسکو کھول کر دیکھنے لگ گیا تو خوش قسمتی سے مجھے کارڈ مل گیا۔ میں نے کارڈ پر پارلر کا نام دیکھا تو آخری پارلر ضوفی کا ھی تھا جسکا نام کاجل بیوٹی پارلر تھا۔ میری انکھیں چمک اٹھی اور میں پارلر کی طرف اپنے پف کو سنوارتا ھوا چل پڑا پارلر کے گلاس ڈور کے پاس پہنچ کر میں رک گیا اور کانپتے ھاتھ کے ساتھ ڈور پر ناک کیا تو کچھ دیر بعد شیشے کے آگے سے پردہ سرکا اور سانولی سی لڑکی کا چہرہ نمودار ھوا اور اس نے مجھے دیکھا اور پھر ڈور کھول کر سر باہر نکالا اور باقی سارا جسم پردے کی اوٹ میں کرکے بولی جی فرمائیں۔ .میں پہلے ھی کنفیوژن کا شکار تھا ۔اس لڑکی کی جی سن کر ہکلاتے ھوے بولا وہہہ ضوفففی میڈم سے ملنا ھے ۔ اس لڑکی نے مجھے سر سے پاوں تک بڑے غور سے دیکھا اور میرا نام پوچھا تو میں نے نام بتا دیا اور لڑکی پھر پردے کے پیچھے غائب ہوگئی ۔۔۔ میں باہر کھڑا دوسرے پارلروں کا جائزہ لینے لگ گیا ۔ کچھ ھی دیر بعد پھر پردہ سرکا تو اس حسینہ کا چہرہ شیشے کے اُس پار نظر آیا اور ضوفی نے مجھے دیکھتے ھی دروازہ کھولا اور مجھے بڑی گرمجوشی سے ویلکم کیا حال احوال کے بعد میں نے کہا جی وہ میں لہنگا لینے آیا تھا تو ضوفی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور تھوڑا پیچھے ہٹ کر مجھے اندر آنے کی دعوت دی جسے میں نے باخوشی قبول کیا اور میں اندر داخل ھوگیا اندر داخل ہوتے ھی میں پارلر کو چاروں طرف سے دیکھنے لگ گیا دیواروں پر بڑے بڑے شیشے لگے ھوے تھے ایک طرف تین بڑے بڑے کیبن تھے دیوارں پر مختلف ماڈلز اور انڈین اداکاروں کے پوسٹر چسپا تھے تین صوفے ایک طرف دیوار کے ساتھ رکھے ہوے تھے ضوفی نے مجھے صوفے کی طرف اشارہ کرکے بیٹھنے کا کہا اور اس سانولی لڑکی کو آہستہ سے کچھ کہا تو وہ باہر نکل گئی وہ لڑکی ابھی کچی کلی تھی تیرا چودہ سال کی تھی شاید پارلر کی صفائی وغیرہ کے لیے اسے رکھا ہوا تھا۔ لڑکی کے جانے کے بعد ضوفی اپنے بڑے بڑے ابھرے ھوے مموں کو میرے سامنے لہراتے ھوے بڑی ادا سے میرے پاس آکر بیٹھ گئی اور اپنے گلزار کو ہلاتے ھوے بولی کیسا لگا میرا غریب خانہ میں نے کہا جانے دیں یہ غریب خانہ ھے اتنا پیارا ماحول بنایا ھوا کافی خرچہ کیا ھوا ھے آپ نے سیٹنگ پر تو وہ ہنستے ھوے بولی سیٹنگ اچھی ھو تو ھی کسٹمر مطمئن ھوتا ھے جتنی اچھی شاپ کی لُک ھوگی اتنا ھی اچھا کسٹمر آتا ھے ورنہ تو پینڈو منہ اٹھا کر اندر داخل ھوجاتے ھیں اور ریٹ سن کر بھاگ جاتے ہیں ۔ضوفی کی پینڈوں کے بارے میں راے اور حقارت آمیز لہجے کو دیکھ کر مجھے غصہ تو بہت آیا مگر میں پھر بھی خود پر کنٹرول کرتے ھوے برداشت کرگیا ۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے اور وہ لڑکی میرے لیے کولڈ ڈرنک لے آئی میں نے کچھ دیر میں ڈرنک ختم کی اور جانے کی اجازت مانگی تو ضوفی بولی اتنی جلدی کیا ھے میں نے کہا نھی جلدی تو نھی ضوفی بولی آئیں آپکو سارا پارلر دیکھاتی ہوں اور یہ کہہ کر ضوفی اٹھی اور کیبن کی طرف جانے لگی ضوفی نے شارٹ شرٹ پہنی ھوئی تھی جس میں اسکی گول مٹول گانڈ بہت ھی دلکش نظارا پیش کررھی تھی میں بھی اسکی گانڈ کو تاڑتا ھوا اسکے پیچھے کیبن کی طرف چل پڑا ۔ .ضوفی چلتی ہوئی پہلے کیبن میں داخل ہوئی میں بھی اسکے پیچھے ہی کیبن میں داخل ہوگیا۔ ضوفی بولی یاسر یہ برائڈل روم ہے یہاں دلہن کو تیار کیا جاتا ہے ۔۔ کیبن کی سیٹنگ واقعی کسی روم کی طرح کی گئی تھی ۔ میں نے شرارت سے کہا کیا دلہا بھی تیار کردیتی ہیں آپ ۔ ضوفی میری طرف دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بولی کیوں تم نے تیار ہونا ہے میں نے کہا میری ابھی قسمت کہاں ابھی تو میری اتنی عمر ہی نھی ۔ ضوفی بولی چلو خیر ہے جب تمہاری شادی ہوگی تو میں تمہاری دلہن کو فری میں تیار کردوں گی۔ میں ہنس کر بولا اور مجھے ضوفی بولی تمہیں بھی تیار کردوں گی ۔ میں نے کہا واہ جی واہ اتنی اچھی آفر پھر تو مجھے جلد ہی شادی کرلینی چاہیے۔ ضوفی بولی ۔ بڑی جلدی ہے شادی کرنے کی ۔کہیں منگنی شگنی تو نھی کروا رکھی یا گرل فرینڈ تو نھی بنا رکھی ہے ۔ میں نے کہا ایسی بات نہی ہے ۔ میں تو آپکی آفر کو دیکھتے ہوے کہہ رہا تھا۔ ضوفی بولی واقعی یاسر تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے میں نے کہا جی واقعی ہی نہیں ہے میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں اور نہ ہی کبھی کسی لڑکی کی طرف اتنا راغب ہوا ہوں۔ ضوفی بڑی حیرانگی سے میری طرف دیکھتے ہوے بولی بڑی بات ہے جی تمہاری عمر کے لڑکے تو جس خوبصورت لڑکی کو دیکھتے ہیں اسکے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں اور تم ہو کہ ابھی تک. فری ہینڈ ہو۔ میں نے آہستہ سے کہا۔ خوبصورت لڑکی کے پیچھے پڑ تو گیا ہوں ۔ ضوفی نے دفعتاً میری طرف دیکھتے ہوے کہا۔ کیا کہا۔ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوے کہا کچھ نہیں۔ تو ضوفی میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوے بولی بہت نوٹی ہو۔ میں نے سن لیا ہے جو تم نے کہا ہے۔ میں نے گبھرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوے کہا۔ میں نے تو کچھ نہیں کہا جی ۔ ضوفی بُرا سا منہ بنا کر بولی ۔ تم بہت تیز ہو جیسے اوپر سے شریف اور معصوم لگتے ہو اندر سے اتنے ہی بدمعاش ہو۔ میں نے کہا میں نے تو کچھ نہیں کہا اب آپ نے پتہ نہیں کیا سن لیا ہے۔ میں ضوفی کے ساتھ کافی فرینگ ہوچکا تھا۔ میری ججھک بھی ختم ہوگئی تھی ۔ ضوفی بولی اچھا چھوڑو چلو تمہیں مینی پیڈی کیور روم دیکھاتی ہوں ۔ میں نے حیرانگی سے ضوفی کی طرف دیکھتے ہوے کہا او کی بلا اے۔ ضوفی پھر چونک کر میری طرف دیکھتے ہوے بولی کیا کہا۔ میں نے کہا میرا مطلب ہے کہ مینی پیڈی کیور کیا چیز ہے ۔ ضوفی ہنس کر بولی چلو دیکھاتی ہوں۔ اور ضوفی اور میں کیبن سے نکل کر دوسرے کیبن میں اگئے ۔ اس کیبن میں ایک سٹریچر پڑا ہوا تھا اور دو کرسیاں تھی جن کے پاوں کی طرف ٹپ بنے ہوے تھے جن میں پانی تھا۔ ضوفی مجھے بتانے لگ گئی کے مینی پیڈی کیور کیسے کیا جاتا ہے ہاتھ اور پاوں کو گرم پانی میں کچھ لیکویڈ چیزوں کو ملا کر ہاتھ پاوں کو دھویا جاتا ہے اور کیسے پورے جسم پر ویکس کے ذریعے غیر ضروری بالوں کو اتارا جاتا ہے ۔ میری سمجھ میں کچھ باتیں تو آرہیں تھی اور کچھ میرے سر سے گزر رہیں تھی۔ میں تو بس ضوفی کے سیکسی فگر کو دیکھ دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کررھا تھا۔ میں نے کہا ضوفی جی کیا میری ویکس بھی ہوسکتی ہے ۔ ضوفی پھر ہنسنے لگ گئی اور شوخی سے بولی چلو کپڑے اتارو اور سٹریچر پر لیٹو کرتی ہوں تمہاری ویکس۔ میں نے ڈرنے کے انداز میں اپنی بغلوں میں ہاتھ لیتے ہوے نفی میں سر ہلاتے ہوے کہا ۔ ننننھی نھی میں نے ویکس کروانی ہے وڈا اپریشن نہیں۔ .میری حالت اور میری جگت سن کر ضوفی پیٹ پر ہاتھ رکھ کر میرے سامنے جُھکے کھلکھلا کر ہنستی رہی ۔ اور میں اسکے جھکنے کی وجہ سے کھلے گلے سے آدھے ننگے مموں کا نظارہ کرتے ہوے اپنے ہوش گنوا بیٹھا اور میرے لن نے بھی سر اٹھا لیا ضوفی کے چٹے سفید موٹے نرم نازک مموں کے درمیان والی لکیر اور مموں کا کچھ حصہ میری آ نکھوں کے سامنے تھا اور میں بغلوں میں ہاتھ دئیے ٹکٹکی باندھے مموں کو دیکھی جارھا تھا کہ اچانک ضوفی کو احساس ہوا کے میں اس کے گلے میں تاڑ رہا ہوں تو ضوفی جلدی سے سیدھی ہوگئی اور اسکی نظر جب میرے نیچے شلوار میں بو بناے ہوے لن پر پڑی تو گبھرا کر نظریں پھیر لیں اور دوسری طرف دیکھتے ہوے بولی ۔ تو پھر کیا پروگرام ہے ۔ میں نے جلدی سے لن کو اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا اور ضوفی کو مخاطب کرتے ہوے کہا جو آپ کا پروگرام ہے وہ ہی میرا پروگرام ہے ۔ ضوفی پھر میری طرف دیکھتے ہوے شوخی سے بولی چلو اتارو کپڑے میں نے کہا شلوار بھی ۔ ضوفی پھر ہنستے ہوے بولی چل بے شرم میں قمیض کی بات کررھی ہوں ۔ اور ساتھ ہی ضوفی نظر چرا کر میرے لن کی طرف بھی دیکھتی جو اب وہاں سے غائب ہوچکا تھا اور اس کے چہرے پر حیرانگی کے ایثار بھی نمایاں ہوے ۔ ضوفی کی بات سنتے ہی میں جلدی سے قمیض کے بٹن کھولنے لگا تو ضوفی گبھرا کر جلدی سے بٹن پر رکھے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہوے بولی رہنے دو رہنے دو بھئی تم تو سچی میں تیار ہوگئے میں تو مزاق کررھی تھی ۔ میں منہ بسور کر دوبارا بٹن بند کرنے لگ گیا۔ ضوفی میرے منہ کو دیکھ کر صدف کی طرح میری گال پر چٹکی کاٹتے ہوے بولی سو کیوٹ کتنے پیارا منہ بنا لیا ہے ۔ میں نے گال کو مسلتے ہوے پھر ویسے ہی منہ بناتے ہوے کہا ۔ آپ نے میرا دل توڑ دیا ضوفی مسکرا کر بولی پاگل ابھی کسی وقت بھی کوئی کسٹمر آسکتا ہے اگر تم نے واقعی ویکس کروانی ہے تو تم جمعہ کو آجانا میں جمعہ کو فری ہوتی ہوں میں نے ہنستے ہوے کہا نئی ضوفی جی میں بھی مذاق کررھا تھا میں بھلا عورتوں والے کام کیوں کروں ضوفی بولی یاسر تم میری ایک بات مانو گے ۔ میں نے کہا جی حکم کریں ۔ ضوفی مسکرا کر بولی تم اگر کلین شیو کرلو نہ تو بہت پیارے لگو گے جیسی تمہاری کلین سکن ہے تو دیکھنا ہر لڑکی تم پر مرے گی اور شلوار قمیض کی بجاے پینٹ شرٹ پہنا کرو۔ بہت ہینڈ سم لگو گے میں نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوے کہا نہ بابا نہ کیوں گاوں میں میرا مزاق بنانا ہے ۔ ضوفی حیرانگی سے بولی یاسر تم گاوں میں رہتے ہو۔ میں نے کہا جی بلکل ۔ ضوفی بولی تمہاری شکل صورت تو گاوں والوں جیسی نہیں ہے۔ میں نے کہا آپ کبھی گاوں گئی ہو۔ ضوفی بڑی حقارت سے بولی توبہ میں کیوں جاوں گی گاوں وہاں تو ڈسٹنگ اور ہر طرف سمیل ہی ہوتی ہے چھی چھی مجھے ضوفی کے ایسے گاوں کے متعلق حقارت امیز جملے کسنے پر غصہ بہت آیا مگر میں خود پر کنٹرول کرگیا اور میں نے برا سا منہ بناتے ہوے کہا گاوں کے لوگ اتنے بھی برے نھی ہوتے۔ کبھی آپ آو ہمارے گاوں اور دیکھو کہ وہاں کتنا پیار ملتا ہے آپکو کتنا سبزا ہے وہاں کتنی آب ہوا صاف ہے کتنا سکون ہے ۔کتنا چاہنے والے لوگ ہیں ۔ ضوفی میری باتیں سن کر شرمندہ سی ہوگئی اور بولی سوری یاسر میری وجہ سے تمہیں تکلیف ہوئی اور پھر مسکراتے ہوے بولی تم جمعہ کو آو گے میں نے کہا جمعہ کو مجھے چھٹی ہوتی ہے ضوفی بولی کچھ نھی ہوتا بس تم نے جمعے کو آنا ہے اور دیکھنا میں تمہارا روپ ھی بدل دوں گی ۔ میں نے مسکراتے ہوے کہا اوکے دیکھوں گا اگر کوئی ضروری کام نہ پڑا تو آجاوں گا اور یہ نہ ہو کہ میں آوں اور آپ کا پارلر ھی بند ہو ضوفی میری گال پر پھر چٹکی کاٹتے ہوے بولی بے فکر ہوکر آجانا۔ میں نے کہا ٹھیک ھے جی ۔ اور جانے کی اجازت مانگی تو ضوفی بولی ۔۔۔۔۔۔ .یاسرررر میں نے مڑ کر دیکھا اور پوچھا جییی ضوفی بولی وہ لہنگا تو لیتے جاو مجھے بھی باتوں اور ضوفی کی قربت میں لہنگا بھول گیا تھا میں بولا اووووو سوری مجھے یاد ہی نھی رہا۔ ضوفی تیسرے کیبن میں گئی اور لہنگے کا شاپر لا کر مجھے دیا اور میرا شکریہ ادا کرتے ہوے بولی جمعہ کو لازمی آجانا میں نے جی کہا اور پارلر سے نکل کر سیدھا دکان پر پہنچا اور انکل کو بتایا کہ لہنگا لے آیا ہوں انکل بولے اچھی طرح چیک کرلیا میں نے کہا جی انکل میں نے ادھر ھی چیک کرلیا تھا۔ جنید میری طرف دیکھ کر آنکھ مار کر ہنسنے لگ گیا ۔ پھر دکان پر تو کچھ خاص نہ ہوا اور شام کو گھر پہنچا اور وہ ہی روٹین کے مطابق کھانا وغیرہ کھایا اور کچھ دیر امی ابو کے پاس بیٹھ کر گپ شپ لگائی اور پھر اپنے بستر پر لیٹ کر ضوفی کے بارے میں سوچتے سوچتے سو گیا۔ صبح اٹھا ناشتہ وغیرہ کر کے آنٹی کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ عظمی اور نسرین کے پیپر ختم ہوگئے ہیں لحاظ انہوں نے اب پندرہ بیس دن سکول نہیں جانا ۔ آنٹی سے کچھ دیر گپ شپ کرنے کے بعد میں اکیلا ہی شہر چلا گیا ۔ صدف کا نہ میں نے پوچھا اور نہ ہی کسی نے میرے ساتھ اسکی بات کی ۔ دکان پر پہنچا اور وہ ہی روزمرّہ کے کام کر کے دکان کے فرنٹ پر بیٹھ گیا ۔ آج جمعرات تھی اس لیے صبح صبح دکان پر رش شروع ہوگیا دوپہر کب ہوئی نھی پتہ چلا۔ جنید نے کھانا لانے کا کہا اور ہم بازار چلے گئے ہم دونوں باتیں کرتے ہوے ہوٹل کی طرف جارہے تھے کہ اچانک پیچھے سے کسی نے میرا نام لے کر مجھے پکارا تو میں نے پلٹ کر دیکھا تو اسد کی مما تھیں ۔ میں انکو دیکھ کر رک گیا اور ان سے سلام دعا کے بعد حال احوال پوچھا تو آنٹی بولی کیا بات ہے کبھی گھر چکر نہیں لگایا ۔ میں نے کہا بس کام میں مصروفیت ہے اس لیے وقت نہیں ملا ۔ آنٹی بولی اتنی بھی کیا مصروفیت ہوئی کہ کسی اور کہ لیے وقت ھی نہیں میں نے کہا آنٹی دراصل میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔ اور میں ایک ہفتہ تو ہسپتال اور گھر ھی رھا آنٹی میرے ایکسیڈنٹ کا سن کر کافی پریشان ہوئی اور مجھ سے گلہ کرنے لگ گئیں کہ ہمیں پھر غیر ہی سمجھا کہ بتانا بھی پسند نہیں کیا میں نے کہا آنٹی جی مجھے تو خود اپنا ہوش بھی نہیں تھا ۔ اور نہ ہی اسد یا مہری سے ملاقات ہو سکی اس وجہ سے نہیں بتا سکا ۔ انٹی کچھ دیر گلے شکوے اور میری خیریت معلوم کرتی رہیں ۔ اور پھر بولی یاسر وہ سامنے مارکیٹ میں میرا بوتیک ہے ۔ تم نے کبھی بوتیک پر بھی چکر نہیں لگایا میں نے کہا جی آنٹی وقت نکال کر آپ کے بوتیک پر چکر لگاوں گا ابھی تو میں دوست کے ساتھ ہوٹل سے کھانا لینے جارہا ہوں تو آنٹی نے لازمی آنے کی تاکید کی اور میرے کندھے کو تھپتھپاتے ہوے چلی گئیں جنید آنٹی کو بڑے غور سے دیکھتا اور کبھی میری طرف ۔ آنٹی جب چلی گئیں تو جنید میرے بازو ہر تھپڑ مار کر بولا اوے تم اسے کیسے جانتے ہو میں نے حیران ہوتے ہوے پوچھا کیا مطلب میرے دوست کی امی ھے ۔ تو جنید کچھ سوچ کر چپ کرگیا۔ مگر مجھ سے اسکی خاموشی ہضم نہ ہوئی تو میں نے کہا تم کیوں اتنے حیران ہوکر کہہ رھے ہو کہ میں اسے کیسے جانتا ہوں۔ تو جنید پھر جان چھڑواتے ہوے بولا کچھ نہیں یار ۔انکا بوتیک ہے اس مارکیٹ میں ۔ میں اس لیے پوچھ رہا تھا۔ میں نے جنید کو کہا مجھے گولی مت دے جو اصل بات ہے وہ بتا دوستی میں جھوٹ نہیں بولتے۔ جنید کچھ دیر خاموش رھا تو میں نے پھر اسے کہا تو جنید بولا یار تیرے دوست کی امی ہے تو تم ناراض مت ہونا۔ میں نے کہا لن تے چڑ گیا دوست اتنا خاص بھی نھی ہے تو بتا کیا بات ہے ۔ جیند بولا یار یہ ایک نمبر کی بچے تاڑ ہے ۔ میں حیران ہوکر اسکی طرف دیکھتے ہوے بولا کیا مطلب بچے تاڑ ہے ۔ جنید بولا یہ سالی ینگ ینگ لڑکوں کو پھنسا کر ان سے چدواتی ہے اور انکو اپنے پاس سے پیسے بھی دیتی ہے اور عیش بھی کرواتی ہے میں تو سمجھا شاید تم بھی اسکے چکر میں آگئے ہو تو اس لیے میں نے پوچھا تھا کہ تم اسے کیسے جانتے ہو ۔ میں حیران پریشان ہوکر جنید کی باتیں سن رھا تھا ۔میں نے کہا تجھے کیسے پتہ کہ یہ بچے تاڑ آنٹی ھے ۔ جنید بولا۔ یار یہ پوری مارکیٹ کو پتہ ہے اور میرے دوست نے اسکی کتنی دفعہ لی ہے تجھے نھی یقین تو میں تجھے اسکے منہ پر کروا دیتا ہوں ۔ سالی ینگ لڑکوں کو چوستی ہے تبھی تو اس عمر میں بھی جوان لگتی ہے ۔ ینگ خون چوس چوس کر خود بھی ینگ ہے ۔ مجھے خیال آیا کہ تبھی سالی پہلی ملاقات میں ھی مجھے بڑی ہوس بھری نظروں سے دیکھ رھی تھی اور آج بھی یہ مجھے اسی لیے بوتیک پر آنے کا کہہ رھی تھی ۔۔۔۔ میں نے کہا یار یہ تو پھر بڑی چھپی ہوئی آئٹم ہے تو جنید ہنس کر بولا یار یہ تیرے لیے چھپی ھے ویسے تو ہر دوسرے بندے کو اس کے کریکٹر کے بارے میں علم ھے ۔ میری بات پلے باندھ لے یہ تجھے بھی معاف نھی کرے گی ۔ اور تم اس سے بچ کر رہنا. .ورنہ اپنی جوانی گنوا بیٹھو گے ۔۔۔ میں نے کہا نہیں یار پہلی بات تو یہ ھے کہ وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرے گی کیونکہ میرا انکے ساتھ گھریلو تعلق ہے اور اگر ایسا اس نے کچھ کرنے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے بےعزتی کرواے گی ۔ جنید ہنستے ہوے بولا یار تو بھی کملا ہے ۔ یہ بڑی آئیٹم ھے یہ جس بچے کو بھی پھنساتی ہے اسکے ساتھ گھریلو تعلق ھی بناتی ھے ۔ اسکی ایک بیٹی بھی ھے ۔ نہ ۔ میں نے حیران ہوتے ہوے کہا ہاں یار ھے اسکی بیٹی مگر تجھے اسکے بارے میں کیسے پتہ ۔ تو جنید ہنستے ہوے بولا ماما یہ آنٹی اپنی بیٹی. کو دیکھا کر بچے پھنساتی ہے لڑکا اسکی بیٹی کے چکر میں اس کی ہر بات مان لیتا ھے مگر سالی نے کبھی کسی کو بیٹی کے قریب نھی جانے دیا بس دور دور سے ھی درشن اور ہلکی پھلکی ہیلو جاے تک محدود رکھتی ہے ۔ مجھ پر تو جیسے بم گر گیا تھا میرا دماغ چکرا گیا ۔ میں نے جیند کو کہا یار تجھے اتنی معلومات کیسے ہے ۔ جنید بولا یار تجھے بتایا تو ھے کہ میرے دوست کی اسکے ساتھ سیٹنگ تھی اور وہ کتنی دفعہ انکے گھر بھی گیا تھا تو یہ جان بوجھ کر اپنی بیٹی کو اپنے شکار کے سامنے لاتی اور شکار اسکی بیٹی کے حسن کو دیکھ کر پھنس جاتا ۔ میں نے کہا یار اسکی بیٹی بھی اسکی طرح دونمبر ھے کیا ۔ جنید بولا اسکا مجھے علم نھی کہ وہ کس طرح کی سوچ رکھتی ھے ہوسکتا ھے کہ وہ بھی اپنی ماں کی طرح ھو یا یہ بھی ہو سکتا ھے کہ وہ اپنی ماں کی کرتوت اور اسکے شکار کرنے کے طریقہ سے ناواقف ہو مگر اتنا کنفرم ھے کہ کوئی لڑکا اسکی بیٹی تک پہنچ نہیں سکا ۔ میرے دل کو کچھ تسلی بھی ہوئی اور میرے تجسس میں اضافہ بھی کہ مہری کہیں مجھے الو تو نہیں بنا رہی یا پھر سچ میں وہ میرے ساتھ سریس ہے ۔ یہ تو اب اس سے ملاقات کے بعد ھی معلوم ہونا تھا ۔ کیوں کہ میرا اگلا پلان. مہری کی پھدی چیک کرنے کا تھا کہ سیل پیک ھے یا پھر؟؟؟؟؟؟؟ .میں دکان پر آکر بھی مہری اور اسکی مما کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہا کہ دنیا میں کتنے رنگوں کے لوگ رہتے ہیں۔ بظاہر کچھ نظر آتے ہیں مگر اندر سے کچھ ۔ گھر جا کر بھی میری حالت کچھ ایسی ھی رھی اگلے دن جمعہ تھا اور میں وقت سے پہلے ہی اٹھ گیا جبکہ ہر جمعرات کو یہ ھی سوچ کر سوتا تھا کہ صبح چھٹی ھے تو جی بھر کر سووں گا مگر صبح ہوتے ھی معاملہ سوچ کے برعکس ہوتا تھا۔ میں اٹھ کر نہانے چلا گیا اور پھر ناشتہ کرکے امی کو کہا کہ میں نے شہر جانا ھے تو امی نے حیران ہوتے ہوے پوچھا کہ خیر ھے پہلے تو جمعے کو چھٹی کرتے تھے ۔ میں نے امی کو دوست سے ملنے کا بہانہ کیا اور امی کے طرح طرح کے سوالوں کے جواب دے کر امی کو مطمئن کر کے ان سے اجازت لے کر آنٹی فوزیہ کے گھر چلا گیا کیوں کہ ابھی صبح صبح کا ھی وقت تھا تو میں نے اتنی جلدی ضوفی کے پارلر پر جانا مناسب نھی سمجھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ابھی اسکا پارلر کھلا بھی نھی ہوگا ۔ تو ایسے فضول میں ادھر خوار ہونا پڑنا تھا ۔ اپنے گھر تو میں بس سونے کے لیے ھی آتا تھا کیوں کہ گھر میں امی ابو نازی اور بڑے بھائی کے علاوہ کوئی اور تھا نھی امی ابو کے پاس میں اتنا بیٹھتا نھی تھا نازی سے میری ویسے ھی نہیں بنتی تھی ۔ اور بڑے بھیاء ویسے ھی سڑیل سے تھے اور وہ ذیادہ وقت اپنی کریانے کی دکان پر ھی دیتے تھے تو اس لیے میں گھر سے بھاگنے کی جلدی کرتا آنٹی فوزیہ کے گھر میرا دل لگا رھا تھا اور وقت بھی اچھا پاس ہوجاتا تھا۔ خیر میں آنٹی کے گھر گیا تو آنٹی صحن میں جھاڑو لگا رھی تھی آنٹی پاوں کے بل بیٹھی گانڈ سے قمیض اٹھاے بیرونی دروازے کی طرف گانڈ کیے بیٹھی ہوئی تھی میں دروازے سے اندر داخل ہوا تو اکیلی آنٹی کو صحن میں دیکھ کر اور انکی سیکسی گانڈ کو دیکھ کر مجھے شرارت سوجھی ۔ میں دبے پاوں چلتا ہوا آنٹی کے قریب پہنچ گیا آنٹی میری آمد سے بےخبر اپنی مستی میں جھاڑو لگا رھی تھی ۔ میں نے پہلے چاروں طرف دیکھ کر اچھی طرح تسلی کرلی کہ کوئی ہے تو نہیں۔ اور آنٹی کی گانڈ کے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوکر تھوڑا سا جھکا اور ہاتھ آگے کر کے آنٹی کی گانڈ میں چلا چڑھا دیا ۔ آنٹی ایکدم گبھرا گئی اور چیخ مار کر گھٹنوں کے بل کوڈی ہوکر گرتے گرتے بچی ورنہ آنٹی نے منہ کے بل گرنا تھا۔ آنٹی نے جب مجھے دیکھا تو ہاتھ میں پکڑا جھاڑو مجھے مارتے ہوے بولی بتمیز یہ کیسا مزاق ھے میری جان نکال دی میں جھاڑو سے بچتے ہوے ایک طرف بھاگا آنٹی جھاڑو پکڑے میرے پیچھے پیچھے بھاگ رھی تھی اور میں آنٹی کے آگے اگے صحن کا چکر لگا رھا تھا۔ آنٹی کی چیخ سن کر عظمی اور نسرین بھی کمرے سے باہر نکل آئیں انکو باہر نکلنے میں کچھ وقت لگا تھا شاید وہ سو رھی تھیں ۔ انکے چہرے پر کافی گبھراہٹ تھی ۔ مگر جب انہوں نے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوے دیکھا تو دونوں ہنسنے لگ گئی اور عظمی نے آنٹی سے کہا کیا ہوا امی صبح صبح اس بیچارے کی شامت کیوں آئی ہوئی ھے ۔ آنٹی بولی تمہارے اس بیچارے نے میری جان نکال دی آنٹی تھک کر کھڑی ہوکر لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی ۔ نسرین غصے سے بولی یاسر تمہیں شرم آنی چاہیے ایسے کسی کو ڈراتے ہیں ۔ میں نے نسرین کو منہ چڑاتے ہوے کہا۔ تمہیں کوئی تکلیف ھے یہ میری اور آنٹی کی بات ہے تم خامخواہ بیچ میں چوہدرانی نہ بنو ۔ تو نسرین مجھے منہ چڑھا کر جا دفعہ ہو کہہ کر اندر چلی گئی اور عظمی مسکراتی ہوئی کھڑی رھی ۔ کچھ دیر بعد میں آنٹی کے قریب آیا اور انکو سائڈ سے جپھی ڈال کر سوری کرنے لگ گیا کچھ نخرے دیکھانے کے بعد آنٹی مان گئی اور میں اندر کمرے میں چلا گیا جہاں سڑیل نسرین اور میری دلربا عظمی بیٹھی ہوئی تھیں ۔ عظمی مجھ سے پوچھنے لگ گئی خیر ھے آج کدھر کی تیاری ھے اتنی صبح صبح۔ میں نے کہا کہ شہر جارھا تھا تو سوچا آنٹی سے پوچھتا جاوں کہ کچھ منگوانا تو نھی ۔ عظمی بولی خیریت ھے جمعہ کو تو تم چھٹی کرتے ھو ۔ میں نے کہا ۔ دکان پر لڑکا ھے میرا دوست ھے اس سے ملنے جانا ھے عظمی بولی کیوں روز ملتے نھی اس سے ۔ میں نے کہا روز ملتا ہوں ۔ مگر آج جمعہ ھے تو ہم نے کہیں گھومنے پھرنے جانا ھے ۔ عظمی کچھ کہنے لگی تھی کہ آنٹی کمرے میں آگئی تو عظمی کچھ کہتے کہتے چپ ہوگئی ۔ آنٹی نے اندر آتے ھی میرے سر پر چپت لگاتے ہوے کہا ۔ .یاسر بہت بتمیز ہوگئے ہو قسم سے میری جان نکال دی ۔ میں نے کہا آنٹی میں نے تو بس واو کیا تھا اور آپ ڈر گئی ۔ آنٹی مجھے گھوری ڈالتے ہوے بولی تیرے واو نے میری جان کڈ لینی سی ۔ میں نے انکل کا پوچھا تو آنٹی بولی وہ دوسرے کمرے میں سو رھا ھے ساری رات کھانستا رھا ھے نہ خود سویا نہ مجھے سونے دیا۔ میں کچھ دیر مذید آنٹی کے گھر بیٹھا گپیں لگاتا رھا نسرین اور آنٹی کی وجہ سے میں عظمی سے گولیوں کا معاملہ نھی پوچھ سکا کہ آنٹی اور نسرین کو گولیاں دی تھی یا پھر مجھے گولی دے دی تھی ۔ خیر میں آنٹی سے اجازت لے کر دس گیارہ بجے کے دوران گھر سے نکل کر شہر کی طرف چل پڑا آدھے گھنٹے میں شہر پہنچا اور راستے میں ایک حمام سے منہ پر اور سر پر شاور سے پانی مار کر راستے میں پڑی دھول کو صاف کیا اور بال بنا کر ضوفی کے پارلر کی طرف چل پڑا ۔ مارکیٹ کے پاس پہنچا تو ساری مارکیٹ کو بند دیکھ کر میں پریشان سا ہوگیا کہ کہیں مجھے فضول چکر تو نہیں پڑگیا ۔ میں حوصلہ کر کے بیس منٹ کی سیڑیاں اترنے لگا تو یہ دیکھ کر دل کو سکون مل گیا کہ ضوفی کا پارلر کھلا ہوا ھے اور اسکے ساتھ والا چھوڑ کر تیسرا پارلر بھی کھلا ہوا تھا باقی ساری مارکیٹ کی دکانیں بند تھیں ۔ میں سیڑیاں اتر کر سیدھا ضوفی کے پارلر کے پاس پہنچا اور ڈور کو ناک کیا تو وہ ھی سانولی کچی کلی نمودار ہوئی ۔ اور مجھے دیکھ کر کچھ کہے سنے بغیر ھی پردے کے پیچھے غائب ہوگئی ۔ کچھ دیر بعد پھر وہ ہی لڑکی نمودار ہوئی اور ڈور کھول کر مجھے اندر آنے کا کہا۔ میں بلاجھجک اندر چلا گیا مگر جیسے پالر کے اندر انٹر ہوا تو سامنے دیکھتے ھی میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رک گئی اور میرے اٹھتے قدم رک گئے میں بت بنا کھڑا سامنے دیکھ رھا تھا کہ۔۔ ..سامنے مجسمہ حسن ملکہ حسن شربتی ہونٹ جھیل سی آنکھیں پتلی کمر صراحی دار گردن گلے کو پھاڑ کر باہر کو نکلنے کے لیے بےتاب ابھار ۔ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہی .وہ حسن کی دیوی آج میرا قتل کرنے کے درپے تھی ۔ ضوفییییی ہاں ضوفی ایک ہاتھ کمر پر رکھے سلیو لیس پنک شرٹ جو مجھ سے پرچیز کی تھی پہنے ہوے نیچے سکن فٹنگ لیکرا سٹف میں ٹراوزر جس میں اسکی سڈول پنڈلیاں اور سائڈ سے سڈول پٹ نمایاں نظر آرھے تھے کیا قیامت ڈھانے کے ہر تول رھی تھی کس جنم کا بدلا وہ ظالم مجھ سے لے رھی تھی کیوں آج پہلی نظر میں مجھے بہکنے کی دعوت دے رھی تھی میں بت بنا کھڑا دل ھی دل میں اس مجسمہ حسن پر پوری غزل کہہ گیا اور وہ حسینہ میری حالت کو دیکھ کر مذید مغرور ہوگئی اور بڑی ادا سے چلتی ہوئی میری طرف بڑھی جیسے کوئی ماڈل میم سٹیج پر کیٹ واک کرتی چلی آرھی ھو۔ میرے قریب آکر اس سیکس کی پڑیا نے اپنا نازک سا ہاتھ اٹھایا اور ہاتھ کی لکیریں میری آنکھوں کے سامنے یوں کی جیسے کہہ رھی ہو دیکھو اور ڈھونڈو اپنی قسمت کی لکیر ۔ اس سے پہلے کہ میری نظر اپنی قسمت کی لکیر پر پڑتی اس ظالم نے ہتھیلی میری آنکھوں کے سامنے ہلاتے ہوے اپنے گل گلزار کو کھولا اور ایک سریلی سی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی ۔ ہیلوووو مسٹر کدھر کھو گئے میں ہوش میں ھی کہاں تھا جو ہوش میں آتا اب کیسے اسکو بتاتا کہ کہاں کہاں سے ہوکر کہاں کہاں کھوگیا ہوًں میں اسے کیا بتاتا کہ وہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا ہی سہی دوپہر نہ بھائے مجھے بہ رنگ عود ملے گی اسے میری خوشبو وہ جب بھی چاہے بڑے شوق سے جلائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گزار کر تری زلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہرباں ہے تو اقرار کیوں نہیں کرتا وہ بد گماں ہے تو سو بار آزمائے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل۔ غم حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے۔ ضوفی نے پھر میری آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا کہ جناب کدھر گم ہو۔ میں ایکدم ہوش میں آیا اور اسکی جھیل سی آنکھوں میں دیکھ کر بولا بنانے والے نے بھی آپکو کیا خوب بنایا ھے ۔ ضوفی بڑی ادا سے بولی واہ واہ خیر ھے آج ناشتہ شاعری کا کر کے آے ہو ۔ میں نے کہا اس مجسمہ حسن کو دیکھ کر کس کمبخت کو بھوک لگے۔ جو خود سر سے پاوں تک شاعری ہو تو اسپر اس نکمے کی شاعری کیا لگے ۔ ضوفی ہاتھ پر ہاتھ مار کر تالی مارنے کی انداز میں بولی واوووو تو جناب چھپے رستم نکلے جسکو ہم سادہ لوح سمجھتے تھے وہ ھی قاتل جاں نکلے ۔ میں نے کہا واہ شاعرہ تو آپ بھی ہو۔ ضوفی ہنستے ہوے بولی ۔ایسی بھی بات نھی بس ہ تمہاری کیفیت دیکھ کر منہ سے چند الفاظ شعر بن کر نکلے مگر جناب تو پورے شاعر ہین ۔ میں نے کہا نہیں جناب یہ تو آپ کے حسن کا کمال تھا کہ آپکی تعریف میں میرے منہ سے آپکے حسن جمال پر غزل کی صورت میں میرے دل کی بات نکل آئی ورنہ ہم گاوں کے سادہ سے لوگ اس قابل کہاں ۔ تو ضوفی مسکرا کر بولی اگر جناب کو شاعری سے فرصت مل گئی ہو تو اندر تشریف رکھیں گے میں نے ادھر ادھر دیکھا اور کہا میں تو پہلے ھی اندر ہوں تو ضوفی ہنستے ہوے بولی اندر تو ہو مگر دروازے کے پاس کھڑے ھو ۔ میں ہنستا ھوا صوفے کی طرف بڑھا اور صوفے پر بیٹھ گیا صوفی میرے پاس آکر بیٹھ گئی اور بولی مجھے یقین تھا کہ تم لازمی آو گے ۔ میں نے کہا دیکھ لیں میں نے آپکے یقین کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ .ضوفی بولی تمہاری وجہ سے میں نے تین کسٹمر واپس موڑ دیے کہ یہ نہ ہو کہ میں کسٹمر میں مصروف ہوجاوں اور تم باہر کھڑے کھڑے سوکھ جاو ۔ میں نے کہا اچھا جی پھر تو آج میری وجہ سے آپکا نقصان ہوگیا۔ ضوفی بڑے رومینٹک انداز میں بولی نقصان تو میں تم سے وصول کر پورا کر لوں گی میں نے کہا میں نوکر جناب کا ۔ ضوفی کھلکھلا کر ہنسی اور پھر ایکدم سیریس ہوکر بولی ۔ یاسر ایک بات کہوں ۔ میں نے کہا حکم کریں ۔ تو ضوفی نے اس سانولی لڑکی کی طرف دیکھا جو منہ پھاڑے ہم دونوں کی گفتگو میں محو تھی ۔ ضوفی نے اسے کہا ثریا تم جا کر اندر کیبن میں بیٹھو ۔ وہ اٹھی اور کیبن میں چلی گئی ۔ ضوفی نے میری طرف دیکھا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ؟؟؟؟
  16. لگتا ہے کہ ادائیگی والے سیکشن میں جانے والی ہے یہ کہانی بھی 😀
  1. Load more activity


×