Sign in to follow this  
shahg

!!.! دوست کے گاؤں میں

Recommended Posts

!!.! دوست کے گاؤں میں

 

!!..میں دوست کے گاؤں

پیارے دوستو بہت شکریہ کہ آپ لوگ میری سٹوریز  پسند کر رہے ہیں اور  آپ کے کمنٹس مجھے مزید لھکنے پر اُکساتے رہتے  ہیں ۔۔ یہ کہانیاں کیا ہیں ۔۔  کچھ کھٹی میٹھی یادیں ہیں جو میں ضرورت کے مطابق رد و بدل کر کے۔۔۔ اور  ان میں کچھ  مزید مرچ مصالحہ ڈال کے اپنی طرف سے اچھی سی ہانڈی بنا کر آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں ۔۔۔۔ اور یہ ہانڈی کیسی بنتی  ہے ؟؟؟؟  اچھی یا بری ۔۔۔۔یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں ---

 دوستو !! ۔۔ آج میں آپ سے جو کہانی شیئر کرنے جا رہا ہوں یہ تب کی بات ہے جب میں ابھی میٹرک کی سپلی دے کر فارغ   ہوا تھا اور ویلا تھا میری طرح میرا دوست کاشف بھی سپلی دے کر فارغ تھا – یہاں ایک بات کلیئر کر دوں کی میری طرح کاشف للی مار نہیں تھا بلکہ میرے بر عکس وہ ایک شریف سا لڑکا  تھا ۔۔۔  مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئ کہ اس کے باوجود وہ میرا اتنا اچھا دوست کیسے بن گیا تھا -( ویسے شکل سے میں بھی بڑا شریف نظر آتا تھا )

Share this post


Link to post
Share on other sites

 


ایک دن  کا  زکر ھے کہ کا شف صبح سویرے ہی  میرے پاس آ گیا وہ بڑا خوش نظر آ رہا  تھا میں نے اس سے خوشی کی  وجہ پوچھی تو وہ  کہنے لگا پتہ ہے کیا  آج ابا نے مجھے گاؤں جانے کی اجازت دے دی ھے پھر مجھ سے بولا تم بتاؤ چھٹیاں کہاں گزارنے کا ارادہ ھے ؟ تو میں نے کہا کہ یار کوئ خاص ارادہ نہیں ھے تب وہ اچانک بولا  میرے ساتھ میرے گاؤں چلو گۓ ؟  اس کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا تو وہ بولا کیا سوچ رہا ہے یار تیرا کرایہ پہاڑا اور دیگر خرچہ بھی میرے زمہ نیز تمہارے گھر والوں سے اجازت بھی لینا بھی میرے زمہ ۔۔۔ اس کی یہ بات سُن کر میں حیران رہ گیا اور بولا کیوں حاتم تائ کی قبر پر لات مار رہا ھے سچ بتا اصل بات کیا ہے ؟ پہلے تو وہ صاف منکر ہو گیا کہ ایسی کوئ بات نہیں ھے پھر جب میں نے تھوڑا سا دبایا تو وہ کہنے لگا یار تم کو تو پتہ ھے کہ میرے گھر والے خاص کر ماما مجھے اکیلے گاؤں نہیں جانے دے رہی تھیں   ویسے بھی اکیلا (وہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا) ہونے کی وجہ سے وہ مجھے کہیں آنے جانے نہیں دیتیں    تو میں نے جھوٹ بولا دیا کہ میرے ساتھ شاہ بھی گاؤں جا رہا ہے چنانچے اسی بات پر مجھے اجازت ملی ہے آئ ایم سوری ۔۔۔  پر یار اب تم کو میرے ساتھ میرے گاؤں جانا ہو گا میری عزت کا سوال ہے یار ۔۔۔۔ یہ سُن کر پہلے تو میں نے اس کو 2،3 موٹی موٹی گالیاں جسے سن کر وہ زرہ بھی بے مزہ نہ ہوا بلکہ الٹا بولا بہن چودا یہاں رہ کر تم نے کونسا تیر چلا لینا ہے سیدھی طرح میرے ساتھ ورنہ ابھی تیری گانڈ میں ڈنڈا کر دوں گا ۔۔ مجھے کوئ خاص کام تو نہیں تھا اس لیۓ تھوڑے نخرے شخرے کرنے کے بعد میں اس کے ساتھ اس کے گاؤں جانے کے لیۓ تیار ہو گیا۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

کاشف اور اس کی ماما نے خود ہی میرے گھر سے اس کے ساتھ جانے کی اجازت لے لی ۔۔۔اور اب ھم اس کے گاؤں جانے کو صبح صبح بس میں بیٹھے تھے تھوڑی گپ شپ ، تھوڑی چٹ چیٹ کے بعد کاشف ۔۔۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد  بولا یار ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے ؟؟ تو میں نے کہا خیر تو ہے جو اتنا ہچکچا کے بات کر رہے ہو۔۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگا پلیز یار بات سُن کر تم ناراض نہ ہونا تو میں نے قدرے غصوے سے کہا بہن چودا بات بتاؤ گے تو پتہ چلے گا نہ کہ تمہاری بات غصوے والی بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔ میری جھاڑ سن کر وہ کہنے لگا  یار میں تم کو گاؤں جا کر زیادہ ٹا ئم نہیں دے سکوں گا ۔۔؟ یہ سن کر میں حیران رہ گیا اور پوچھنے لگا کہ پھر تم مجھے اپنے ساتھ کیوں لے جا رہے ہو۔۔۔؟ تو وہ کہنے لگا  کہ ساتھ اس لیے لے جا رہوں ہوں کہ گھر والے مجھے  اکیلے نہیں جانے دے رہے تھے تو میں نے پوچھا کہ آخر وجہ کیا ہے تو وہ کہنے لگا یار  بات یہ کے کہ گاؤں میں میری مینگیتر رہتی ہے اور وہ میری کزن بھی ہے میں اور وہ  ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بنا رہ نہیں سکتے ۔۔۔۔ یہ کہا اور بولا یہی وجہ ھے کہ میں زیادہ سے زیادہ ٹائم اپنی منگیتر کے ساتھ بتاؤں گا ۔۔۔پلیز ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ یہ کہا اورایک لمبی سانس لے کر   چپ ہو گیا اور پھر بڑی مسکین سی شکل بنا کر مجھے دیکھنے  لگا  ۔۔ مجھے غوصہ تو بہت آیا پھر میں نے دل میں سوچا کہ اب چل تو پڑا ہوں ۔۔۔چلو دوست کی خاطر یہ قربانی بھی دے ہی  دیتے ہیں یہ سوچ کر میں بولا  ۔۔۔ کوئ بات نہیں یار ۔۔۔۔ اگر میں تمھارے کسی کام آ سکوں تو مجھے بڑی خوشی ہو گی تم اپنی منگیتر کے ساتھ مزے کرو۔۔۔ میں مینیج کر لوں گا ۔۔۔ میری یہ بات سن کر وہ بڑا خوش ہوا اور بولا ۔۔واہ یار دوست ہو تو تم جیسا واقعی تم میرے سچے دوست ہو۔۔۔۔۔اور بییٹھے مجھے گلے سے لگا لیا۔۔۔ پھر بولا ایسی بھی کوئ بات نہیں وہاں صرف میں ہی تم کو ٹائم نہیں دے پاؤں گا باقی نوکر چاکر تو تمھاری سروس کو موجود ہوں گے۔۔۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

 

پھر اچانک وہ پُر جوش ہو کر بولا ۔۔۔ہاں یار میرے انکل کی ایک  بہت بڑی زاتی لائیبریری بھی ہے جس میں دنیا جہان کی کتابیں موجود ہیں --- تم ویسے ہی کتابی کیڑے ہو ۔۔۔سو تم انکل کی لائیبریری میں جی بھر کر کتابیں پڑھنا اور میں ۔۔۔ پھر دانت نکال کر بولا ۔۔۔۔۔وہ تو تم کو پتہ ہی ھے – اسی طرح کی باتیں کرتے کرتے ہم لوگ شام تقریباً سات ساڑھے سات بجے اس کے گاؤں میں پہنچ گۓ۔  ۔۔۔۔

 

  ایک نظر میں تو  کا شف کا گاؤں کافی  بڑا اور ماڈرن سا لگ رہا تھا۔۔ جیسے ہی ہمارا ٹانگہ گاؤں کے وسط میں پہنچا تو کاشف  ایک بڑی سی حویلی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا ۔۔ وہ ھلکے سبز رنگ  کی  جو عمارت نظر آ رہی ہے نا   وہ  جس کا سفید رنگ کا گیٹ ہے   وہ ہی  ہمارا گھر ہے-

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

 

جیسے ہی ہمارا ٹانگہ  حویلی کے قریب پہنچا تو ہمیں حویلی میں کچھ  ہلچل کے آثار نظر آۓ پھر کچھ ہی دیر کے بعد گیٹ سے 2،3 ملازم  برآمد ہوۓ اتنی دیر میں ہمارا ٹانگہ   ان کے گیٹ کے قریب پہنچ چکا تھا جیسے ہی ہمارا ٹانگہ رکا انہوں نے بڑے تپاک سے کاشف کو سلام کیا اور پھر ہمارے بیگ وغیرہ لے کرہم سے آگے آگے چلنے لگے-

 

 

 

اور پھر جب ہم گھر میں داخل ہوۓ تو وہاں کے رواج کے مطابق ساری عورتیں ہمارے سواگت کو کھڑی تھیں ان میں سے ایک میچور لیڈی جو کہ کاشف کی ہونے والی ساس تھی سب سے پہلے آگے بڑھی اور اس نے کاشف کا ماتھا چوما اور سر پر ہاتھ پھیرا پھر باقی عورتوں نے بھی جو کہ کچھ تو اس کی رشتے دار تھیں اور کچھ اڑوس پڑوس کی عورتیں تھیں (ان کے بارے میں مجھے بعد میں کاشف نے بتایا تھا ) یہی پریکٹس کی – اس کے بعد میری باری آئ  اب کاشف کی ساس میری طرف متوجہ ہوئ  اور بولی اچھا تو یہ ہے تمھارا وہ دوست جس کو گاؤں دیکھنے کا بڑا شوق ہے ۔۔۔ اُن کی بات سُن کر کاشف نے بڑی شرمندہ  سی نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور کھسیانا سا ہو کر  بولا جی آنٹی یہ وہی ہے۔۔  آنٹی یہ سُن کر تھوڑا سا مسکُرائ اور بولی ہاں تمھاری ماما نے بھی فون پر اس کے بارے بتایا تھا ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔ بیٹا آپ کا نام شاہ  ہے نا۔۔؟؟  ۔۔ تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا  تو وہ بولی ۔۔۔ ویل کم بیٹا میں آپ کو اپنے گاؤں میں خوش آمدید کہتی ہوں یہاں آپ کو کوئ تکلیف نہ ہو گی اور اس کے ساتھ ہی اُنہوں نے میرے بھی سر پر ہاتھ پھیرا اورساتھ ہی ہمیں  اندر آنے کی دعوت دی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

کاشف کی ہونے والی ساس جس کو سب ہی  بی بی جی کہتے تھے بڑے رُعب داب والی  عورت تھی سارے گھر میں ان کا ہی حکم چلتا تھا خالص پنجابی عورتوں کی طرح بھاری بھر کم اور لمبے قد کی تھی گوری چٹی اور موٹی تو نہیں ہاں آپ اس کو صحت مند ضرور کہہ سکتے ہیں ان کا  پیٹ ہلکا سا باہر کو نکلا ہوا تھا چونکہ ان کا قد کافی بڑا تھا اس لیۓ وہ اتنی موٹی لگتی نہیں تھی  ہاں ایک بات میں نے ان میں عجیب دیکھی تھی وہ یہ کہ وہ ہر ٹائم زیورات سے لدی رہتی تھی اُن کے ایک ہاتھ میں سونے کی چوڑیں اور دسرے ہاتھ میں موٹے موٹے کڑے ہوتے تھے اور گلے میں سونے کی چین  پہنے رہتی تھی –

۔۔  میں  یہ سب دیکھ دیکھ کر بڑا  حیران تھا اور جب میں نے کاشف سے اس بارے پوچھا تو تو وہ کہنے لگا کہ آنٹی کو ایسا کرنے کا حُکم اس کے انکل نے دیا تھا کہ یہ ان کا شوق ہے ہاں میں کاشف کی منگیتر کے بارے بتانا تو بھول ہی گیا  ۔۔ کاشف کی منگیتر ایک دبلی پتلی اور نازک سی لڑکی تھی اور اپنی ماں کے برعکس کافی سادہ سی تھی ۔۔۔۔ جیسے ہی وہ ہمارے سامنے آئ تو کاشف نے مجھے کُہنی مار کر متوجہ کیا اور اشاروں میں اس کے بارے بتلایا ۔۔۔وہ نہ بھی بتاتا تو میں اس کی شکل دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کیونکہ کاشف کو دیکھ کر حسینہ گلُ گلزار ہوۓ  جا رہی تھی – دسری بات  یہ کہ کاشف اور وہ زیادہ تر ایک دوسرے کو ہی دیکھتے پاۓ جا رہے تھے – کاشف کی طرح وہ  بھی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی –

اگلے دن صبع صبع کاشف مجھے اپنا گاؤں دکھانے لے گیا

اور تھوڑی دیر گھومنے کے بعد میں کاشف اس کی منگیتر اور ایک ان کا بوڑھا سا نوکر  ان کے کھیت دیکھنے گۓ وہاں کچھ  دیر بعد کاشف تو اپنی منگیتر کے ساتھ کہیں غائب ہو گیا پیچھے میں اور بابا جی ہی رہ گۓ جو کافی چپ سا بندہ تھا زیادہ خاموش ہی رہتا تھا ہر بات کا ہوں ہاں میں  جواب دیتا تھا ۔۔ سو وہ دن میرا بڑا ہی بور گزرا ۔۔ ۔۔ اس تلخ تجربے کے  بعد میں نے ان کے ساتھ گھومنے  پھرنے  سے توبہ کر لی --- دوپہر ڈھائ تین بجے پتہ نہیں وہ دونوں کہاں سے برآمد ہو گۓ اور ہم واپس حویلی آگۓ ۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ہم ریسٹ کے لیۓ اپنے روم میں گۓ تو کاشف نے ایک بار پھر معافی مانگی  ۔۔۔ تپ تو بڑی چڑھی ہوئ تھی اور کہنا تو بہت کچھ چاہتا تھا پر یہ سوچ کر  سارا غوصہ پی گیا کہ اس بارے میں اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا ۔۔۔ اس کی  معافی کے جواب میں بس اتنا ہی کہا کہ یار پلیز تم آئندہ مجھے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ مجھے لائیبریری کا راستہ دکھاؤ ۔۔۔۔۔ کہ اس زلت سے بہتر کتابیں پڑھنا  ہے –

Share this post


Link to post
Share on other sites

اسی شام جب میں سو کر اٹھا تو حسب معمول  کاشف غائب تھا – میں نےبھی اس کا  انتظار نہ کیا اور ایک نوکر سے پوچھ کر  سیدھا ان کی لائیبریری میں چلا گیا-  اور اندر داخل ہو کر اس کا جائزہ لینے لگا یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا  جہاں پر موضوع کے مطابق شیلف میں بڑے سلیقے سے  کتابیں رکھی ہوئیں تھیں ساتھ ہی کرسیاں اور میز بھی پڑی ہوئ تھی  اک طرف ایک جہازی سائز کا  صوفہ بھی دھرا  تھا ۔۔۔ غرض کہ  پڑھنے کے لیۓ بڑا ہی پُرسکون اور آئیڈ یل  ماحول تھا

میں نے ایک نظر ساری شیلفوں کا جائزہ لیا  اور پھر شاعری کی شیلف سے  مرزا غالب  کا دیوان نکال کر پڑھنے لگا ۔۔۔۔ میں کتاب پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ  مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب بی بی جی (کاشف کی ساس) کمرہ میں داخل ہوئ مجھے پتہ تب چلا جب میں نے ان کی آواز سنی وہ کہہ رہی تھیں  بیٹا آپ ان کے ساتھ نہیں گۓ۔۔۔؟؟؟ تو میں نے جواب دیا کہ میرا موڈ نہیں تھا اور میں کتابیں پڑھنا چاہتا ہوں ۔ تو وہ بولی کیسی لگی ہماری لائیبریری۔۔؟؟؟  میں نے جواب دیا کہ بہت اچھی ہے ۔۔ پھر میں نے  ان سے پوچھا آنٹی یہ بُکس آپ پڑھتیں  ہیں یا انکل ؟

تو وہ کہنے لگی چوھدری صاحب کہاں پڑھیں گے ان کو تو ڈیرے داری اور تھانے کچہری  سے ہی فُرصت نہیں ہے- یہ سب تو میری زاتی  کلکشن ہے اصل میں  ہماری ساری فیملی ہی  بُک لور ہے  پھر کہنے لگی دیکھوں تو میں تم کیا پڑھ رہے ہو اور بھر میرے ہاتھ میں شاعری کی کتاب دیکھ کر بولی آپ شاعری پسند کرتے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا ایسی بات نہیں ہے میں ہر موضوع  پر کتاب پڑھ لیتا ہوں ہاں شاعری مجھے زیادہ اچھی لگتی  ہے اور ساتھ ہی ان کو بتایا  کہ میں شاعری  کرتا  ہوں اور پڑھتا  بھی ہوں یہ سُن کر وہ کہنے لگی بڑی اچھی بات ہے کہ آپ شاعری بھی کرے ہو ۔۔ پھر بولی اپنا کوئ شعر تو سناؤ ؟ میں نے ان کو اپنے کچھ اشعار  سناۓ تو پتہ نہیں ان کو پسند آۓ  یا انہوں نے میرا دل رکھا بحرحال  انہں نے میرے شعروں  کی بڑی تعریف کی ۔ ایسے ہی باتوں باتوں میں انہوں نے مجھے بتلایا کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو اور انگریزی میں ڈبل  ایم اے کیا ہوا ھے یہ سن کر میں بڑا حیران ہوا ۔۔۔۔ اور میری حیرانی بھانپ کر وہ بولی کیوں تم کو یقین نہیں آ رہا ؟؟  تو میں نے جواب دیا کہ آپ اتنی پڑھی لکھی ہو اور۔۔۔۔  وہ میری بات سمجھ کر بولی ۔۔ارے یہ کوئ ضروری تو نہیں نہ کہ ہر پڑھی لکھی خاتون کی شادی شہر میں  ہی ہو ؟؟ ۔۔۔  ایسے ہی وہ مجھ سےکافی دیر تک باتیں کرتی رہی پھر اچانک یہ کہہ کر  اُٹھ گیئ کہ میں ابھی  تمھارے لیۓ چاۓ بجھواتی  ہوں –

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب میرا یہ روز کا معمول بن گیا تھا کہ صبح اُٹھ کر میں  سیدھا لائیبریرہ میں چلا جاتا اور اپنی پسند کر کوئ بُک پڑھتا ۔۔۔ بی بی جی  بھی میرے پاس  ایک آدھ چکر ضرور لگاتی تھی   اور مجھے  پڑھتے دیکھ کر بڑا خوش ہوتی تھی اس کے ساتھ ساتھ وہ مجھے کتابوں کے بارے میں  گائیڈ بھی  کرتی تھیں   کہ فلاں کتاب پڑھو بڑی  اچھی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔


یہ  چوتھے دن کی بات ہے کہ میں نے اور کاشف نے ایک ساتھ ناشتہ کیا پھر وہ حسب معمول یہ کہتا ہوا غائب ہو گیا کہ میں ابھی آیا ۔۔۔ مجھے معلوم تھا کہ اب کا گیا وہ شام کو ہی لوٹے  گا ۔۔۔ سو میں نے بھی پروا نہ کی اور سیدھا لائیبریری میں جا گُھسا اور پھر میرا جی چاہا کہ کیوں نا میں آج کوئ انگریزی  کتاب پڑھوں ۔۔۔ اور یہ سوچ کر میں انگریزی کتابوں کی بُک شیلف کی طرف  چلا گیا اور وہاں جا کر میرا جی چاہا کہ کیوں نہ ان میں سے کوئ سیکسی کتاب ڈھونڈی جاۓ یہ سوچ کر  میں نے ایک ایک کتاب اُٹھا کر دیکھنی  شروع کر دی  اوریہ  اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا  کہ ان میں سے   کون سی کتاب سیکسی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے میں نے نیچے والی پوری شیلف دیکھ لی اور اب اوپر والی  شیلف ہی باقی رہ گئ تھی جو کہ مجھ سے کافی  اونچی تھی ۔۔ سو میں نے آخری ٹرائ کے طور پر اسے بھی دیکھنے کا فیصلہ کر لیا اور ایک کرسی اس  شیلف کے سامنے رکھ کر اس پر چڑھ گیا اور مختلف کتابوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔ تو وہاں بھی مجھ کو کوئ کامیابی نہ ہوئ تو میں مایوس ہو کر نیچے  اُترنے لگا جب میں نیچھے اتر رہا تھا تو میرا ایک ہاتھ لکڑی کی بنی ہوئ شیلف کے اوپر تھا ۔۔۔ جیسے ہی میرا ہاتھ لکڑی کی بنی  شیلف کی اوپر والی سطح سے ٹکرایا ۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہاں کوئ چیز پڑی ہے چنانچہ میں نے بڑی احتیاط سے وہاں ہاتھ پھیرا تو میرا ہاتھ  ایک بڑے سے لفافے سے ٹکرایا ۔۔۔۔ جس کے اندر کوئ موٹی سی میگزین نما چیز محسوس ہو رہی   تھی میں نے تجسس کے مارے وہ بڑا سا لفافہ وہاں سے اٹھایا اور کُرسی پر  کھڑے کھڑے اس کا جائزہ لینے لگا پھر میں نے  یہ دیکھنے کے لیۓ کہ لفافے میں ھے کیا ۔۔۔۔اسے  کھول کر دیکھا تو  وہ  ایک پورنو میگزین تھا  جسے دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا اور میں نے بڑی احتیاط سے میگزین کو دوبارہ لفافے میں بند کیا اور نیچھے اُتر آیا پھر میں نے وہ میگزین صوفے کے نیچے رکھا اورخود  کمرے سے باہر جا کر ادھر اُدھر  دیکھا اور کسی کو نہ پا کر دوبارہ  لائیبریری میں واپس آ گیا پھر میں نے صوفے کے نیچے سے وہ پورنو ۔۔۔ رسالہ نکالا اور اس کے آگے اخبار رکھی اور پھر  مزے لیکر  اسے  دیکھنے لگا -  اب صورت حال یہ تھی کہ باہر سے جو بھی آ کر دیکھتا وہ یہ ہی سمجھتا کہ میں اخبار پڑھ رہا ہوں لکین دراصل میں ۔۔ میں  وہ ننگا میگزین دیکھ رہا تھا واہ۔۔۔۔۔ سارا میگزین ہی زبردست تصویروں سے بھرا پڑا تھا خوبصورت گوریاں ۔۔۔مست چوپے۔۔۔  مست گانڈیں اور بڑے بڑے ممے  ۔۔۔ ٹرپل ایکس۔۔۔۔ ایکشن واہ ۔۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر میرا تو نیچے سے مسلہ کھڑا ہونے لگا  اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے  میرا  لن فل جوبن میں آگیا اور اتنی سختی سے کھڑا ہو گیا کہ میرا آرام سے فوٹو دیکھنا مشکل ہو گیا اور سیکس کی  آگ آہستہ آہستہ میرے سارے بدن میں پھیلنا شروع ہو گئ۔۔۔۔۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

 اور میں آؤٹ کنٹرول ہو گیا اور  پھر میرا ایک ہاتھ خود بخود لن پر چلا گیا اور میں نے اسے پینٹ کے اوپر سے ہی مسلنا شروع کر دیا ۔۔۔ لن مسلتے مسلتے اور سیکسی فوٹوز دیکھ کر اب میں تھوڑا اور گرم ہو گیا اور پھر میں نے ایک نطر ادھر اُدھر دیکھا اور کسی کو نہ پا کر پینٹ کی زپ کھولی ۔۔۔۔ پھر انڈر وئیر کے سوراخ سے لن کو باہر نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لن انڈر وئیر سے باہر آ کر  مست ناگ کی طرح لہرانے لگا ۔۔۔ لن کے باہر نکلانے سے مجھے کافی راحت ملی ۔۔  اور اب میں  بڑے آرم سے ایکشن پکچرز بھی دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ لن کو بھی مسل رہا تھا ۔۔۔


اس میگزین کی تصوریں اتنی مست اور زبردست تھیں اور میں ان کو دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ میں کہاں بیٹھا ہوں۔۔۔ میں تو بس فوٹو دیکھے جا رہا تھا اور لن کو ہاتھ میں پکڑے مسلسل  دبا رہا تھا۔۔۔۔۔۔  مسل  رہا تھا ۔۔۔ پھر اچانک میں نے بی بی جی  کی آواز سنی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔ بیٹا جی ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔کیا پڑھ رہے ہو ؟؟؟ بی بی جی کی آواز سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے پاؤں میں بم پھاڑ دیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اور میری حالت ایسے ہو گئ۔۔ کہ کاٹو تو لہو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر   میں ان کی طرف دیکھا اور ویسے ہی آئیں بائیں شائیں  ۔۔۔  کرنے لگا اور بولا ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ کچھ  ۔۔۔۔ نہیں میں تو بس  نیوز پیپر پڑھ رہا ہوں ۔۔ تو وہ کہنے لگی وہ تو میں بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپ نیوز دیکھ  رہے ہیں پھر کہنے لگی ویسے بائ دا وے آپ نے  ایسی کون سی خبر پڑھ لی جو اتنا گھبرا رہے ہو۔۔۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

ان کی اس بات کا میں کیا جواب دیتا ۔۔ اخبار کے نیچے" پورنو " میگزین تھا اور میگزین کے نیچے میرا" تنا" ہوا  لن تھا اور لن کے اوپر میرا ہاتھ رکھا ہوا  تھا اور اس کے ساتھ ساتھ میرے چہرے کا رنگ بھی اُڑا ہوا تھا سو اس سچئوشین میں مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا بلا سوچے ان سے کہ دیا کہ بی بی جی  آپ نے بڑا اچھا پرفیوم لگایا ہوا ہے ۔۔۔ میری یہ بونگی سن کر وہ خاصی حیران ہوئ ۔۔۔۔ اور پھر وہ شرارتی سی مسکُراہٹ سے ہنس کر  بولی ۔۔۔۔ ہاں وہ تو ہے۔۔  بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ پھر اچانک کہنے لگی تم لگاؤ کے یہ پرفیوم۔۔۔؟؟؟؟؟


قبل اس کے کہ میں ان کی بات کا کوئ جواب دیتا وہ میرے پاس آئ اور بولی ۔۔اچھا بتاؤ تم کون سی خبر پڑھ رہے  تھے ۔۔ یہ کہا اور پھر بڑی  پھرتی سے اخبار میرے ہاتھ سے چھین لیا۔۔   اور اخبار کے ساتھ ساتھ میگزین بھی ان کے ہاتھ میں چلا گیا ۔۔۔ جیسے ہی  اخبار معہ میگزین ان کے ہاتھ میں گیا ۔۔ میں نے جلدی سے اپنا تنا ہوا لن ( جو اس وقت تک ان حالات کی وجہ سے کافی ڈھیلا پڑھ گیا تھا ) اپنی دونوں رانوں کے بیچ میں  کر لیا اور پھر  فوراً ہی ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر کرسی پر  بیٹھ گیا –


اسی اثنا میں بی بی جی نے اخبار کے نیچے رکھا ہوا پورنو میگ دیکھ لیا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔۔ واقعی خبر تو بڑی ۔۔۔ انٹرسٹینگ ۔۔۔۔ ہے اور میں نے دیکھا کہ یہ بات کرتے ہوۓ اس کے چہرے پر غصوے کے کوئ آثار نہ تھے بلکہ وہ ہلکہ سا مسکرا رہی تھی۔۔ یہ دیکھ کر میری جان میں جان آئ ۔۔۔۔ ۔۔ پر میں کچھ نہ بولا  اور ویسے ہی مسکین شکل بنا کربیٹھا  رہا ۔۔ وہ کچھ دیر تک میری طرف دیکھتی رہی پھر کوئ جواب نہ پا کر بولی ۔۔۔ویسے میں نے تو اپنی طرف سے اسے بڑی سیف جگہ پر چھپا رکھا تھا ۔۔ پتہ نہیں تم نے کیسے ڈھونڈھ لیا ۔۔۔ میں اب بھی خاموش رہا اور کچھ نہ بولا تو کہنے لگی ۔۔۔ ڈرو نہیں ۔۔۔ میں یہاں کافی دیر سے بیٹھی تمھارا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔۔ اور خاص کر  جب تم پورے جوش کے ساتھ  ۔۔۔ اپنے بائیں ہاتھ ۔۔۔ سے ۔۔۔ وہ کر رہے تھے ۔۔ یہ بات کرتے ہوۓ وہ پھر سے مسکُرا ئ ۔۔۔۔ اور بولی ۔۔۔ تمھارے آگے میگزین تھا اس لیۓ میں  تمھارا "سامان"  تو نہیں دیکھ سکی پر  منظر بہت اچھا  تھا ۔۔۔ ان کی یہ بات سُن کر مجھے تھوڑا سا  اطمینان ہوا ۔۔۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ میری ٹانگوں کے پیچ چُھپا ہوا نیم مُردہ  ناگ پھر سے سر اٹھانے لگا ۔۔ لیکن میں ابھی تک چُپ ہی بیٹھا تھا ۔۔۔ یہ دیکھ کر بولی کچھ تو بولو یار ۔۔۔ تم تو ایسے چُپ ہو جیسے  کوئ مر گیا ہو ۔۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

میں کیا بولتا ۔۔ کہ  بولنے کو کُچھ تھا ہی نہیں ۔۔۔ پر ان کے بار بار اصرار پر میں نے مری ہوئ آواز میں بس اتنا ہی کہا ۔۔۔ آئ ایم سوری آنٹی جی ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ اس میں سوری کی کیا بات ہے ۔۔۔ مزے  کرو یار ۔۔۔ اگر تم مجھ سے کہتے تو میں خود تم کو یہ نکال کر دے دیتی ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی میں کوئ اولڈ فیشن لیڈی نہیں ہوں ۔۔ اور تم کو تو پتہ ہے کہ میں پنجاب یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ رہی ہوں اور ہوسٹل لائف بھی خوب  انجواۓ کی ہے اور تم کو پتہ ہی ہو گا  کہ ہوسٹل لائف کیسی ہوتی ہے؟؟؟  ۔۔۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ وہ بولی تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کو کتنی آزادی دی ہے؟؟ وہ اپنے منگیتر کے ساتھ  آزادانہ گھوم پھر رہی ہے ۔۔ تمھارا کیا خیال ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ ۔۔۔۔۔ وہ لوگ کیا کرتے ہوں گے۔۔؟؟


آنٹی کی لمبی تقریرسے  مجھے کافی حوصلہ اور میرا ناگ ۔۔۔ایک دم تن گیا اور میری دونوں رانوں کے پیچ مجھے اس کو سنبھلنا  کافی مشکل ہو گیا ۔۔ پھر  میں نے تھوڑا سا پہلو بدلا اور اپنے سوکھے  ہونٹوں پر زبان پیھری  ۔۔۔ وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور میرا خیال ہے وہ معاملہ کو کچھ کچھ سمجھ بھی رہی تھی ۔۔۔۔ کہ میری رانوں کے بیچ ۔۔۔ کچھ گڑبڑ چل رہی ہے۔۔۔ تب وہ مجھ سے بولی  تکلیف کے لیۓ معزرت ۔۔۔۔۔۔ اور میگزین میری طرف بڑھا کر بولی یہ لو میگزین اور انجواۓ کرو ۔۔۔ میں تو ایسے ہی  تم کو تنگ کر رہی تھی ۔۔۔۔ اور میگزین میری طرف بڑھا دیا  آنٹی اور میرے بیچ کافی  فاصلہ تھا اتنا   کہ  ۔۔  یا تو وہ  آگے بڑھ کر میگزین میرے ہاتھ میں پکڑاتی ورنہ مجھے اُٹھ کے لینا  پڑتا ۔۔۔ اور میں  تنے ہوۓ لن  (وہ بھی پینٹ سے  باہر نکلا  ہوا ) کی وجہ سے اُٹھ  نہیں سکتا تھا ۔۔۔ اُٹھ جاتا تو۔۔۔۔ اس لیۓ میں اپنی جگہ پرہی   بیٹھا رہا ۔۔۔۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

 پھر اچانک وہ بڑے غصوے سے بولی ۔۔۔۔ اُٹھو۔۔!!!!!  ۔۔۔ ان کی آواز میں اتنی کڑک اتنا رعب  اور غوصہ تھا کہ میں بنا سوچے ایک دم کھڑا ہو گیا اور مجھے یہ بھی یاد نہ رہا کہ میرا لن پینٹ سے باہر نکلا ہوا ہے اور فُل تنا ہوا ہے۔۔۔  اور میں بنا سوچے  گھبراہٹ میں ایسے ہی آنٹی کے پاس چلا گیا ۔۔۔۔


جب میں ان کے پاس پُہنچا تو اس ٹائم میرا لن کسی مست ناگ کی طرح لہرا رہا تھا ۔۔۔ ان  کی نظر جیسے ہی  میرے ناگ پر پڑی تو ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔ اور وہ بے اختیار بولی ۔۔۔۔۔۔ باپ رے ۔۔۔ تم ۔۔۔تم اتنے سمارٹ سے لڑکے اور ۔۔۔اور۔۔۔ یار ۔۔۔تم تو پورے مرد ہو ۔۔ بلکہ مرد کیا ۔۔۔ مردوں سے بھی ۔۔۔ اوہ ۔۔۔  اور اس دوران جیسے ہی مجھے  یاد آیا کہ میرا لن ننگا  اور ۔۔۔ اکڑا ہوا ہے میں نے فوراً ہی اپنے  دونوں ہاتھوں سے لن کو ڈھانپ لیا اور پیچھے کی طرف ہونے لگا  ۔۔ اتنی دیر  میں ان کی حیرانی کچھ کم ہو چکی تھی اور وہ بولی ۔۔۔۔ارے ۔۔۔ ارے ۔۔۔ کہاں بھاگے جا رہے ہو ۔۔۔۔ ادھر تو آؤ ۔۔۔۔ اور اصرار کر کے مجھے اپنے پاس بُلا لیا ۔۔۔


 جب میں ان کے نزدیک پہنچا تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے لن پر رکھے ہاتھ  ہٹا دیۓ ۔۔۔۔ اب میرا موٹا ۔۔۔ سا ڈنڈا ۔۔۔ ان کی آنکھوں کے بلکل  سامنے تھا اور میں نے ایک بار بھر  ان کی آنکھوں کو  ڈھیلوں سے باہر آتے دیکھا اور وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔  باپ رے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو بہت بڑا ۔۔۔۔ لوڑا ۔۔۔۔ ہے تم تو پورے مرد ہو ۔۔۔۔ بلکہ مرد نہیں مردوں کے بھی باپ ہو ۔۔۔۔ ریلی ۔۔۔ اتنا بڑا ۔۔۔ تو حبشیوں کا ہوتا ہے ۔۔۔ اکثر آنٹیوں کی طرح وہ بھی مجھ جیسے دبلے سے لڑکے سے اتنا بڑے  لن کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔ میرا موٹا اور لمبا لن ان کے لیۓ کافی حیران کُن تھا—


پھر آنٹی نے شاید  اسی حیرانگی کے زیر اثر چیک کرنے کی خاطر میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسے مختلف زاویوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ جیسے میرا لن نہ ہو کوئ عجوبہ ہو ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ان کے اس طرح لن پکڑنے سے مجھے تو بڑا مزہ آرہا تھا اور ویسے بھیانہوں  نے اپنا ڈر خود ہی ختم کر دیا تھا اور جو تھوڑا بہت ڈر تھا بھی  ۔۔   وہ ان کے لن کے پکڑنے سے اُڑن چھو ہو چکا تھا ۔۔ کچھ دیر لن پکڑے رکھنے کے بعد جیسے ہی انہوں نے اپنے ہاتھ سے میرے  لن کو چھوڑنا چاہا ۔۔۔۔ تو میں نے فوراً   ہی ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ انہوں نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ کیا بات ہے ۔۔؟؟؟؟  پھر خود ہی کہنے لگی اوہ۔۔۔  تم چاہتے ہو کہ میں یسے  پکڑے رکھوں ؟ میں نے سر کو ہاں  میں ہلا دیا اور ان کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔۔۔۔


میری اس بات سے آنٹی کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا ۔۔پھر انہوں نے میجے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور میں نے ان کے ہاتھ سے  اپنا ہاتھ ہٹا لیا ۔۔۔۔  


لن تو پہلے ہی ان کے ہاتھ میں تھا پر اب رنگ کچھ دوسرا ہو گیا تھا اب  انہوں نے لن کو ہلکا سا دبایا  جس سے مجھے   کرنٹ سا  لگا اوراب  انہوں نے لن کو مزید دبانا شروع کر دیا پھروہ مجھےساتھ  لیکر   سامنے صوفے پر پیٹھ گئ اوردوبارہ لن کو پکڑ کر اس  پر ہلکہ ہلکہ   مساج  کرنے لگی  انہوں نے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنی تھی  سو ان کا ہاتھ  میرے تنے ہوۓ لن پر  جیسے جیسے اوپر نیچے ہوتا ۔۔۔تو اس کے ساتھ ساتھ چوڑیوں کی چھن چھن اک عجیب مزہ دیتی تھی  ۔۔۔ ویسے بھی ان کی نازک ہتھیلی میرے سخت لن پر بڑا مست ماحول بنا رہی تھی۔


 مُٹھ مارنے کے ساتھ ساتھ وہ مجھے   بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔  اور پھرکچھ دیر بعد  جیسے ہی میرا بدن اکڑنا شروع ہوا ۔۔۔وہ سمجھ گئ اور بولی۔۔ چھوٹنے والے ہو۔۔ ؟ اور  میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اُلٹا سیدھا ہونے لگا اورپھر  میں نے ان سے کہا کہ ۔۔۔ آنٹی  پلیز لن کو تھوڑا سا چکنا کر لیں تو وہ بولی ۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔ایسے مزہ نہیں آ رہا ۔۔۔؟ تو میں نے  کہا آ رہا ہے پر۔۔۔۔۔اگر آپ اسے تھوڑا سا چکنا کر لیں گی تو!!!  ۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ سن کر  وہ مزے لیتے ہوۓ  بولی ۔۔۔ چکنا کرنے کے کیا چیز لگاؤں ؟؟؟ پھر خود ہی کہنے لگی ویسے بائ دی وے تم مُٹھ مارتےوقت  کیا چیز استعمال کرتے ہو۔۔؟ میں نے کہا ۔۔۔ میں تو تھوک لگا کرمُٹھ مارتا ہوں میری یہ بات سُن کر انہوں نے اپنے منہ میں کچھ دیر تک  تھوک جمع کیا اور پھر    فوراً ہی  اپنا منہ میر ے لن کے   قریب لے آئ  ۔۔۔۔ بلکل قریب۔۔۔  اور بھر اپنا منہ  ٹوپے کے پاس لا کر اس پر ایک بڑا سا   تھوک کا گولا  پھینک دیا  اورپھر   یہ تھُوک سارے لن پر اچھی طرح مل دیا   اوراس کے بعد  لن پر    تیز تیز ہاتھ  چلانے   لگی  ۔۔ اس کے ساتھ ہی ان کی چوڑیوں چھن چھن بھی تیز ہو گئ ۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

انہیں  لن پر  ہاتھ چلاتے  ہوۓ کچھ ہی دیر ہوئ تھی کہ میرے لن سے منی کی   ایک تیز دھار پچکاری نکلی  ۔۔۔۔۔ جو سیدھی ان کے منہ پر جا ٹکرائ ۔۔ انہوں نے فوراً ہی اپنا  دوسرا ہاتھ  میرے ٹوپے کے آگے کر دیا اور اس کے  ساتھ ہی میرے لن کی   ڈائیریکشن     اپنی ہتھیلی کی طرف کر دی ۔۔ اس طرح اب  میری منی  ان کی ہتھیلی پر گرنے لگی ۔۔۔  اور ادھر میں نے جھٹکے لے لے کر ڈسچارج ہونا شروع کر دیا اور میرے خیال میں ان کی مُٹھ کی وجہ سے میں نے  کچھ زیادہ ہی منی گرا دی تھی  ۔۔۔ اس دوران وہ مسلسل میری طرف دیکھتے ہوۓ میرے  لن پر اپنا ہاتھ چلاتی رہیں ۔۔۔۔۔۔ اور  پھر وہ  منی کا  آخری قطرہ نکلنے  تک  مُٹھ مارتی رہی اور دوسرے ہاتھ پر میرے منی جمع کرتی رہی ۔۔ جب میں پوری طرح ڈسچارج ہو کر شانت  ہو گیا ۔۔۔   تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔  اُف اتنی  منی۔۔ !!! ۔۔۔ پھر کہنے لگی  تم نے  کب سے مُٹھ نہیں ماری   ۔۔۔؟ میں اُس ٹائم گہرے گہرے سانس لے رہا تھا اس لیۓ کوئ جواب نہ دے سکا ۔۔ ادھر میرا کوئ جواب نہ پا کر انہوں نے اپنے  منہ پر لگی ہوئ میری  منی ایک  انگلی  سے صاف کی اور پھر  دوسرے  ہاتھ پر جمع کی ہوئ  منی  سب ملا کر میرے نیم کھڑے لن پر مل دی اور بنا کوئ بات کیۓ اُٹھ کر  جانے لگی ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جیسے ہی بی بی جی جانے کے لیۓ اُٹھی ۔۔۔ تو مجھے جیسے ہوش آ گیا ۔۔۔۔ اور  میں نے جلدی سے کہا۔۔۔ ایکسکیوز می ۔۔۔۔ وہ ۔۔ کن اکھیوں میرے لن کی طرف دیکھ کر   بولی ۔۔۔ اب کیا رہ گیا ہے ؟؟؟؟ ۔۔تو میں نے جواب دیا  ۔۔۔ وہ   پرفیوم ۔۔۔۔ والی بات تو پیچ میں ہی رہ گئ۔۔۔ انہوں نے ایک بار پھر  کن اکھیوں سے میرے لن کی طرف دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔  اس پرفیوم کی  سمل کا کیا کرو گے۔۔ مجھے جانے دو ۔۔۔ میں ان سے تھوڑی دور کھڑا اور  ان کو  پکڑا ہوا نہ تھا لیکن   وہ پھر بھی ایسا کہہ رہی تھی  اس کا مطلب تھا کہ میڈم ایسے ہی نخرہ کر رہی تھی میں یہ بات سمجھ گیا اور پھر میں نے ان سے اصرار کر کے ۔۔۔ پلیز بی بی جی ۔۔۔۔ تیار تو وہ پہلے سے ہی تھی بس اپنا بھاؤ بڑھا رہی تھی سو میرے اصرار پر اس نے مجھے بالوں سے پکڑا اور میرا سر نیچے کی طرف کر کے بولی ۔۔۔۔۔۔۔ لے لو سمل۔۔۔۔ اور میں نیچے بیٹھ گیا اور ان کی قمیص ایک سائیڈ پر کر کے اپنی  ناک عین ان کی چوت سے لگا دی ۔۔۔ ان کی پتلی سی شلوار گیلی ہو کر ان کی چوت کی ساتھ چپکی ہوی تھی ۔۔۔ اور وہاں سے ان کی منی اور چوت کی دونوں کی مکس بُو آ رہی تھی جو بڑی مست اور زبردست تھی ۔۔۔۔۔ اتنی مست کہ میرا لن فوراً کھڑا ہو گیا ۔۔۔


میں کچھ دیر تو ان کی چوت کی  مست بُو سونگھتا رہا ۔۔۔ پھر میں نے غیر محسوس طریقے سے اپنا ہاتھ ان کی شلوار کے آزار بند کر طرف لے گیا اور ان کا ناڑہ کھول دیا بھر ان کی شلوار نیچھے کر کے ان کی  ایک ٹانگ شلوا ر سے آزاد کر دی اور دوسری ٹانگ انہوں نے خود ہی  صوفے پر رکھ دی ۔۔  اس دوران انہوں نے میری کسی بھی بات پر روک  ٹوک نہیں کی اور میں جو بھی کرتا گیا انہوں نے کرنے دیا۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this