lukyryk

فوزیہ کی چدائی مکمل کہانی

Recommended Posts

یہ کہانی میں نے نیٹ سے لی ہے اور اس میں اپنی طرف سے کچھ اضافہ کر کے مکمل کیا ہے

میرا نام علی ہے ۔فوزیہ ہمارے محلہ کی جانی مانی لڑکی کے طور پر جانی جاتی تھی اس نے محلہ کے ہر لڑکے کو لائن دی ہوئی تھی، ہر لڑکا فوزیہ کو چودنے کا دعویدار تھا بہرحال باوجود اس شہرت کے میری کبھی بھی فوزیہ سے کوئی تعلق اور شناسائی نہی رہی ، سکول اور کولج میں بھی دور دور ہی رہے جس دفتر میں میں نے کام شرو ع کیا کچھ عرصے کے بعد جب وہ بھی وہاں کام کرنے آئی تو مجھے تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی کیونکے اس کے مضامین مجھ سے مختلف تھے مگر میرے کام میں ہر طرح کے گراجویت کی گنجائش تھی، خیر یہاں بھی میرا اور اس کا تعلق صرف محلے دار کی حد تک ہی رہا، کچھ عرصے بعد مجھے ایسا لگا کے دفتر کے لڑکوں میں فوزیہ مشہور ہونے لگی تھی جو کہ میرے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں تھی ، اس کی عادت مجھے معلوم تھی اور میں صرف یہ دیکھ رہا تھا کے کون کون اس کے ہاتھوں بےوقوف بنتا ہے، میرا ایسا کوئی اس کی طرف جھکاؤ تھا اور میں اس کو زیادہ توجہ بھی نہیں دینا چاہتا تھا، دفتر کے لڑکے فوزیہ میں دلچسپی تو رکھتے تھے مگر شاید فوزیہ ان میں سے کسی کو بھی کوئی خاص گھا نس نہیں ڈال رہی تھی، ایک شام جب میں دفتر سے گھر جانے کے لیے نکلا تو فوزیہ گاڑی کے انتظار میں کھڑی تھی مگر رش کی وجہ سے کوئی بھی خالی ٹیکسی نہیں مل رہی تھی، مجھے بائیک سٹارت کرتے دیکھ کر وہ لپک کر میرے پاسس آئی اور مجھ سے درخواست کرنے لگی کہ میں اسے راستے میں اس کے گھر اتار دوں پہلے تو میں نے سوچا کہ منا کر دوں مگر پھر دل میں خیال آیا کے اب یہ کہاں خوار ہوتی پھرے گی، میں اسے آج چھوڑ دوں گا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ میں اسے راستے میں اتار تو دوں گا مگر کیا اسے بائیک پر ڈر تو نہیں لگے گا تو وہ ہنس کر کہنے لگی کے ڈر کیسا میں تمہیں دبوچ کر بیٹھوں گی، جب تک تمھیں کچھ نہیں ہوگا مجھے بھی کچھ نہیں ہوگا، اسکی یہ بات سن کار مجھے بھی ہنسی آ گئی صاف لگ رہا تھا کے وہ مجھے بھی بیوقوف بنا نے کے ارادے سے آئی تھی میں نے بھی دل میں سوچا کہ کوئی بات نہیں اسے کوشش کر لینے دو، دیکھتے ھیں کہ کون کس کو کتنا بیوقوف بناتا ہے، فوزیہ کو بائیک پر بیٹھنے کا کافی اچھا تجربہ تھا جس کا احساس مجھے اس کے بیٹھتے ہی ہو گیا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ مجھے راستے میں اپنے کپڑے اٹھانے ھیں اسے کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا جس پر اس نے کہا کہ کوئی مسلہ نہی ، جیسے ہی بائیک نے سٹارت لیا فوزیہ نے مجھے اپنے دونوں بازوں میں دبوچ لیا یہ پہلی بار تھا جب مجھے اس کے پوشیدہ خزانوں کا احساس ہوا اور اس کے ساتھ ایک بہت ہی نرم و ملایم لمس کا احساس ہوا جو بہت قابل ے قبول تھا، فوزیہ کا اس طرح سے مجھے پکڑنے سے مجھے کافی لطف آ رہا تھا اور میں دھیمے دھیمے بائیک چلاتا ہوا آگے جا رہا تھا، فوزیہ نے پیچھے سے پوچھا کے تم بائیک ہمیشہ اتنی ہی آہستہ چلتے ہو یہ آج کوئی خاص بات ہے، میں نے جواب میں کہا جب تمھیں معلوم ہے کہ کیا خاص بات ہے تو پوچھ کیوں رہی ہو، فوزیہ نے کہا آج تک تو تم نے مجھ سے کبھی بات نہی کی تو آج کیسے خاص وجہ ہو گئی میں نے بھی اسے کہا کے اس سے پہلے تم نے بھی تو مجھ سے کبھی بات نہی کی، تو وہ ہنسنے لگی ، ہنستے ہوے اس کے مممے میری کمر سے اور زیادہ ٹکرانے لگے جس سے مجھے اور مستی چڑھنے لگی اور میں بائیک کو آہستہ آہستہ جھٹکے دینے لگا ، یہ جھٹکے محسوس کر کے فوزیہ نے مجھ سے پوچھا تم جان بوجھ کر جھٹکے مار رہے ہو نا، میں نے جواب میں کہا کہ جب تمھیں اندازہ ہے تو کیوں پوچھ رہی ہو، منجو کہنے لگی کہ میں کوںفرم کر رہی ہوں کہ کہیں مجھے کوئی غلط فہمی تو نہی ہو رہی ،میں نے ایک اور زوردار جھٹکا دیتے ہوے فوزیہ سے کہا کے کوئی غلط فہمی نہی ہے، فوزیہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ ہم دونوں ایک ہی گلی میں رہتے ھیں آور اتنے سالوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے آ رہے ھیں تو پھر تم نے کبھی پہل کیوں نہی کی، میں نے تو کی بار تمہاری طرح دیکھا مگر تم ہی مجھے نہی دیکھتے تھے ، میں نے فوزیہ سے کہا کے تم تو ہر لڑکے کے ساتھ دوستی رکھی تھیں تو میں کیوں پھر تمھیں دوست بناتا، ہر لڑکا تو روز تمہاری چو ت مارنے کا دعوہ کرتا تھا ، یہ سن کر فوزیہ نے کہا کہ اگر ایسی بات تھی، تو ابھی تم کیوں اتنے مزے لے رہے ہو یہ سن کر میں نے فوزیہ سے کہا کے بس ایسے ہی مستی چڑھ گئی، فوزیہ یہ سن کار مجھ سے پوچھنے لگی کہ تمھیں یقین ہے، کہ مجھے سب دعویدار لڑکوں نے چودا ہوگا، فوزیہ کا یہ بے تکلفانہ سوال سن کار میں سوچ میں پڑ گیا اور سوچنے لگا کہ اس سوال کا کیا جواب دوں، میں نے کہا کہ میں کیا بول سکتا ہوں ، فوزیہ کہنے لگی کہ جواب ہاں یا نا میں دو، میں نے فوزیہ سے کہا کے اس طرح تو میں جواب نہی دے سکتا، فوزیہ نے کہا کے مجھے آج تک کسی بھی لڑکے نے ہاتھ تک نہی لگایا جس نے بھی کوشش کی میں نے اسے بھگا دیا کیونکے میں بچپن سے ہی تم سے پیار کرتی ہوں اور کسی کا مجھے چھونے کا سوال ہی پیدا نہی ہوتا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ اب تم مجھے بھی بے وقوف بنا رہی ہو فوزیہ نے کہا کے تم کسی بھی لڑکے کو سامنے لے آؤ، میں دیکھتی ہوں کون میرے سامنے میرے منہ پر یہ بات کہ سکتا ہو، میں نے فوزیہ سے کہا کہ آخر تمہاری اس بات کا مطلب کیا ہے، فوزیہ نے مجھے پیچھے سے اور بھی زیادہ زور سے دباتے ہوے کہا کہ میں صرف اور صرف تم سے پیار کرتی ہوں اور صرف اور صرف تم سے ہی چدواوں گی اور جب تم مجھے چود و گے تو تمھیں خود ہی میری سچائی کا یقین آ جایے گا میں نے پوچھا وہ کیسے، تو فوزیہ کہنے لگی میری کنواری چو ت ہے، تمھیں پھاڑنے میں بہت محنت کرنی پڑے گی بس جب تمہارے پسینے چھوٹیں گے تو تمھیں خود یقین آ جایے گا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ یقین نہی آ رہا ہے، تو فوزیہ کہنے لگی کہ یقین بھی آ جایے گا جس دن تم مجھے چودو گے، فوزیہ کی یہ بے باک باتیں سن کر مجھے بہت لطف آ رہا تھا اور یقین نہی آ رہا تھا کہ فوزیہ میرے بارے میں ایسا سوچتی ہو گی، فوزیہ اب پیار سے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے اور پیٹ پر پھیر رہی تھی اور میری گردن پر اپنے ہونٹ اور زبان رگڑ رہی تھی، فوزیہ کی اس حرکت سے میرا برا حال ہو رہا تھا، اور میری سمجھ میں نہی آ رہا تھا کہ کیا کروں میں نے فوزیہ سے پوچھا، فوزیہ تم اگر مجھ سے اتنا پیار کرتی ہو تو میں تمھیں کیسے چوم سکتا ہوں، فوزیہ یہ سن کر ہنسنے لگی اور کہنے لگی کے اب یہ بھی میں ہی بتا وں، کہ تم مجھے کیسے چوم سکتے ہو، مجھے چودنا ہے تو سارا انتظام تمھیں ہی کرنا ہوگا، مجھے تو صرف وقت بتا دینا، میں آ جا وں گی، پھر جہاں بھی تمہارا دل چاہے مجھے لے جانا میں صرف اور صرف تمہاری ہوں، فوزیہ کی یہ باتیں سن کر میرا برا حال ہوچکا تھا اور میرے لیے بائیک چلانا ممکن نہی ہو رہا تھا، راستے میں مجھے ایک سائبر کافے نظر آیا اور میں نے فورا اپنی بائیک وہاں روک دی سائبر کافے دیکھ کر فوزیہ ہنس پڑی اور مجھے پوچھنے لگی کہ کیا ارادہ ہے، میں نے کہا یار کافی پینے کا دل چاہ رہا ہے اور میل بھی چیک کرنا ہے، فوزیہ نے پوچھا سچی، میں نے کہا اب زیادہ باتیں نہی کرو ابھی تو تم نے کہا تھا کے تم صرف اور میری ہو، فوزیہ نے مزید کچھ نہی کہا اور اپنے چہرے کو دوپٹے سے چھپا لیا، اور بائیک سے اترنے کے بعد میرے اکڑے ہوے لنڈ کے ابھار کو دیکھتے ہوے کہنے لگی کے اپنے لنڈ کو تو بٹھاؤ صاف کھڑا ہوا نظر آ رہا ہے لوگ دیکھتے ہی سمجھ جائیں گے، میں بھی اپنے اکڑے ہوے لنڈ کو دیکھ رہا تھا، مگر لنڈ کو بٹھانا بالکل بھی ممکن نہی تھا، میں نے اپنی جیکٹ اتاری اور اگے رکھ لی ایسا کرنے سے سارا کام آسان ہو گیا، میری یہ چالاکی دیکھ کر فوزیہ بھی کھلکھلا کر ہنس دی اور میرے ساتھ سائبر کافے میں داخل ہو گئی استقبالیے پر ہمیں پرائویٹ کبین مل گیا ہم دونوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہی تھی، میں فوزیہ کو اور فوزیہ مجھے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، کیبن میں داخل ہونے کے بعد میں نے اندر سے کنڈی لگائی اور جکٹ کو کرسی ٹانگ دیا، فوزیہ کرسی پر بیٹھ گئی، کبھی وہ شرما کر میرے لوڑے کو دیکھتی اور کبھی مجھے، فوزیہ نے مجھ سے کہا کہ تمہارا لنڈ تو میری توقع سے کہیں زیادہ لمبا اور موٹا لگ رہا ہے، میں نے کہا کہ ابھی تو تم نے دیکھا ہی نہی ہے، اور لمبائی چوڑائی کا اندازہ بھی لگا لیا تو وہ کہنے لگی اتنا بھرپور انداز میں تنا ہوا کھڑا ہے کسی اندھی کو بھی پتا چل جایے گا اس کی لمبائی اور چوڑائی کا، یہ کہتے ہوےٴ فوزیہ کی آنکھیں میرے لنڈ پر ٹک کر رہ گئیں اور اس کے چہرے پر شہواتی مسکراہٹ پھیل گئی وہ اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی، فوزیہ کو بیچین دیکھ کر میری بھی بیقراری بڑھتی جا رہی تھی، میرا لنڈ بری طرح سے اکڑا ہوا تھا پھر اچانک فوزیہ نے اپنا ہاتھ میرے اکڑے ہوے لنڈ پر رکھ دیا، جس سے مجھےبڑے زور کا کرنٹ لگا اور میں اچھل پڑا، میری اس حرکت پر فوزیہ کو ہنسی آ گئی، اور وہ مجھے میٹھی نظروں سے دیکھتی ہوئی میری پنٹ کی زپ کھولنے لگی، فوزیہ کی انگلیوں کے لمس نے میرے جسم میں کرنٹ کی لہروں کو دوڑا دیا، فوزیہ نے بڑے پیار سے میرے لنڈ کو باھر کھینچ کر نکالا، میرا لنڈ باھر نکل کر تھوڑا سا لہرایا اور پھر تن کر فوزیہ کے چہرے کے سامنے کھڑا ہو گیا، فوزیہ بہت محبت کے ساتھ میرے کھڑے ہوے لنڈ کو دیکھ رہی تھی اور آہستہ آہستہ میرے لنڈ کی ٹوپی کو اپنے انگوٹھے سے مسل رہی تھی، فوزیہ کے مسلنے کی وجہ سے میرے لنڈ سے پانی کی پھواریں نکالنی شروع ہو گئیں تھیں اور میرے جسم میں مستی کی لہریں دوڑ رہیں تھیں، میں نے فوزیہ کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور اس کے گال سہلانے لگا میری یہ حرکت فوزیہ کو بھی بہت اچھی لگی اور وہ میرے لنڈ کو اپنی مٹھی میں لے کر میری مٹھ مارنے لگی ، مجھے فوزیہ کے مٹھ مارنے سے بہت مزہ آ رہا تھا اور میں ساتھ ساتھ ہلتا بھی جا رہا تھا، فوزیہ نے ایک دم مٹھ مارنے کی رفتار میں اضافہ کار دیا، جس کی وجہ سے میرے لطف دوبالا ہوتا جا رہا تھا، فوزیہ بڑی محویت کے ساتھ میری مٹھ مارے جا رہی تھی اور میں مست ہوا جا رہا تھا، مجھے فوزیہ کا مٹھ مارنا بہت اچھا لگ رہا تھا، تھوڑی دیر میں فوزیہ نے مٹھ مارنا روک دیا اور مجھے کہنے لگی تم میں بہت جان ہے، چھوٹ ہی نہی رہے ہو، میں نے کہا فوزیہ میری جان تمھیں اتنا آسان کیوں لگ رہا تھا تو وہ کہنے لگی واقعی یہ اس کی غلط فہمی تھی کہ وہ آسانی سے میری مٹھ مار کر پانی چھڑوا دی گی، مگر اب لگتا ہے اور بھی زیادہ منحت کرنی پڑے گی اور اس کے ساتھ فوزیہ نے اپنا بہت سارا تھوک میرے لنڈ پر اگل دیا، فوزیہ کے گرم گرم تھوک نے اور اس کی چکناہٹ نے فوزیہ کی مٹھی کو اور بھی غضبناک کر دیا، مجھے لگ رہا رہا تھا کہ میں کسی بھی لمحے چھوٹ جوں گا، میں نے فوزیہ سے کہا کہ وہ ٹشو پیپر پکڑ لے، میرا لنڈ پانی چھوڑنے والا ہے، فوزیہ نے فورن میرے لنڈ کو ٹشو پپیپر سے ڈھک دیا اور اسی لمحے میرے لنڈ نے ایک زور دار پیچکاری کے ساتھ منی اگلنی شروع کر دی، فوزیہ نے احتیاط کے ساتھ میری منی میرے لنڈ سے پونچھی اور نفاست کے ساتھ میرے لنڈ کو صاف کر دیا، مجھے اس وقت فوزیہ پر بہت پیار آ رہا تھا، میں نے فوزیہ پوچھا کہ اگر اسے بھی مٹھ لگوانی ہو تو مجھے بتاے، فوزیہ نے تھوڑا سا سوچا اور پھر رضا مند ہو گئی، میں نے کہا کتنا اچھا ہوتا اگر ہم گھر پر ہوتے تو ایک دوسرے سے مکمل طور پر فیضیاب ہوتے، فوزیہ نے کہا کہ گھر کا انتظام جلد کرنا کیونکے اب وہ مزید انتظار نہیں کر سکتی، خاص طور پر میرے اتنے شاندار لنڈ کی مٹھ مارنے کے بعد تو وہ بہت ہی بی چین ہو گئی تھی، ان ہی باتوں کے درمیان فوزیہ نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں، میں نے فورن اپنی انگلیاں فوزیہ کی چو ت پر پھیرنی شروع کر دیں جس کی وجہ سے فوزیہ پر مستی چڑھنی شروع ہو گئی اور وہ میرے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کو سختی سے دبانے لگی، فوزیہ کی شلوار بری طرح سے گیلی ہوئی وی تھی، میں نے اپنا ہاتھ فوزیہ کی شلوار کے اندر ڈال دیا، یہ میرے لیے بڑا ہی مزیدار کام تھا، فوزیہ کا شہوات سے برا حال تھا ، اس کے شہوت دانے پر میری انگلی لگتے ہی فوزیہ کی سسکیاں نکالنی لگیں، اس کے ساتھ ہی فوزیہ نے میری گردن میں اپنا بازو ڈال کر میرے چہرے کو اپنے چہرے کے سامنے لے آئی اور میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ملا کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی، فوزیہ نے میری انگلیوں کے ساتھ ہی اپنی چو ت کو بھی رگڑنا شروع کر دیا، فوزیہ بہت زیادہ گرم ہو چکی تھی، میرے ہونٹوں کو چاٹ چاٹ کر چوس رہی تھی، اور ساتھ ساتھ مجھ سے مٹھ بھی لگوا رہی تھی، پھر اچانک فوزیہ کے جسم میں زور زور کے جھٹکے لگنے لگے اور پھر ایک دم ہی فوزیہ کا جسم اکڑ گیا اور پھر وہ ایک دم بالکل ہی ڈھیلی پڑ گئی ، جس سے مجھے اندازہ ہوا کے فوزیہ فارغ ہو چکی ہے، میں بھی پھر فوزیہ کی چو ت کی صفائی کری ، اور پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سختی سے جکڑ کر ہونٹوں سے ہونٹوں کو جوڑ کر چوما لیا، فوزیہ بہت خوش تھی اور میرا بھی خوشی کے مارے برا حال تھا، فوزیہ نے مجھ سے پوچھا کے میرا کب تک اسے چودنے کا ارادہ ہے ، میں نے اسے کہا کہ اس ہفتے کی صبح کے لیے تیاری کروں گا، فوزیہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی، اس نے کہا کے اسے جلد سے جلد میرا لنڈ اس کی چو ت میں چاہیے، فوزیہ نے کہا کے کہ ہو سکتا ہے ہفتے کی صبح اس کے سب گھر والے کسی کے گھر جایئں، اگر ایسا ہوا تو وہ مجھے بتا دے گی اور پھر تو کوئی مسلہ ہی نہیں ہوگا اپنے ہی گھر میں ، اپنے ہی پلنگ پر بے خوفی کے ساتھ چد نے کا لطف ہی کچھ اور ہوگا، یہ سن کر میں فوزیہ سے کہا کے تم نے تو سب سے بڑی مشکل حل کر دی، اب تو کوئی مسلہ ہی نہی رہا، بس اب تم پہلی فرصت میں اس پروگرام کو کنفرم کر ڈالو، تا که اس سلسلہ کو زیادہ مزیدار بنایا جا سکے، فوزیہ یہ سن کر کچھ سوچ میں پڑ گئی اور کہنے لگی کہ گھر پوہنچ کر میں تم کو فون کر کے کونفرم کرتی ہوں، بس اب جلد از جلد مجھے گھر پوہچاؤ، یہ سن کر میں نے فوزیہ کو ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر زور سے بھینچ لیا، اور تیزی کے ساتھ اس کے ہونٹوں اور گالوں کو چومنا چاٹنا شروع کر دیا، یہ دیکھ کر فوزیہ نے کہا کہ اب آخری پانچ منٹ لے لو، اس کے بعد ہر حال میں یہاں سے نکل جانا ہے، ان آخر کے پانچ منٹ میں، میں نے فوزیہ کو خوب مزے لے لے کر چوما چا ٹا اور پانچ منٹ ختم ہوتے ہی باھر نکل آیے، دس سے پندرہ منٹ میں فوزیہ کو اس گھر پر اتار کر اند اپنے گھر پوہنچ گیا

رات کا کھانا صحیح سے کھایا نہی گیا، ہر لمحے فوزیہ کے فون کر انتظار تھا، رات کو کوئی بارہ بجے کے قریب میرے موبائل کی گھنٹی بجی، فوزیہ کی آواز سن کر مجھے بہت اچھا لگا، فوزیہ نے مجھ سے پوچھا کے کیا کر رہے ہو، میں نے کہا کہ بس لیٹا ہوا ہوں، تو وہ ہنسنے لگی اور پوچھنے لگی کہ سیدھے لیٹے ہو یا الٹے، میں نے کہا کہ بس آ کر دیکھ لو، سچ میں الٹا ہی لیٹا ہوں، دونوں تکیے کے بیچ میں اپنے لنڈ کو دبا کر لیٹا ہوں، اور کیا کر سکتا ہوں، تم تو پاس ہو نہی ورنہ تمہارے ہاتھ میں دے کر سکون سے آنکھیں بن کر کے لیٹ جاتا، میری باتیں سن کر فوزیہ بے اختیار کھلکھلا کر ہنسنے لگی، اور کہنے لگی کہ تم بہت ہی سیکسی ہو، اتنی گرم گرم باتیں کرتے ہو کہ بغیر ہی کچھ کیے پانی چھوٹ جاتا ہے، یہ سن کر میں بھی ہنسنے لگا، اور فوزیہ سے پوچھا کہ کیا نئی تازی خبر ہے، اس نے کہا کہ تمہارے لیے اچھی خبر ہے، یہ سن کر میں خوشی کے مارے اچھل پڑا اور فوزیہ کو فون پر ہی چومنا شروع کر دیا، میرے چوموں کی آواز سن کر فوزیہ بھی بیقرار ہو گئی اور وہ بھی مجھے فون پر چومنے لگی، تھوڑی دیر کے بعد میں نے فوزیہ سے کہا کہ ایک دن بھی کافی مشکل سے گزرے گا، فوزیہ کا بھی یہی حال تھا، وہ بھی میرے لنڈ کو حاصل کرنے کے لیے بیتاب تھی، میں نے فوزیہ سے پوچھا کہ ہفتے کو تو ملاقات ہوگی ہی، مگر اس وقت کیا کریں، مجھے تو نیند آنے والی نہی تھی، اور یہی حال فوزیہ کا بھی تھا، میں اسے کہا کے کمپیوٹر پر آ جاؤ، ہم دونوں ایک دوسرے کو ننگا دیکھ کر مٹھ مار لیں گے،میرے اس خیال کو فوزیہ نے بہت پسند کیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہم دونوں اپنے ویب کیم کی مدد سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، میں نے فوزیہ سے کہا کے وہ اپنی قمیض اتارے، تو فوزیہ نے کہا کہ تم بھی اپنی قمیض اتارو، ساتھ میں ہی فوزیہ نے کہا کہ جیسے جیسے میں اپنے کپڑے اتاروں گی، ویسے ہی ویسے تم بھی اپنے کپڑے اتارتے جانا، میں فوزیہ کی بات سے پوری طرح متفق تھا، اور پھر فوزیہ کے ساتھ ہی میں نے اپنی قمیض اتار دی، اب میں تو ننگا تھا، مگر فوزیہ کی برا ابھی تک اس کے ممموں کو ڈھانپے ہوئی تھی، میرے فرمآ یش کرنے پر فوزیہ نے اپنی برا بھی اتار دی، اب ہم دونوں اوپر سے پوری طرح ننگے تھے اور خوب مزے لے لے کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، پھر فوزیہ نے کہا کہ میں اپنی پینٹ اور انڈر ویر اتاروں، فوزیہ کی فرمائش میں نے فورن پوری کر دی، اب میرا لنڈ پوری طرح سے کھڑا ہوا تھا، جسے دیکھ کر فوزیہ بالکل ہی مست ہو گئی، اور اس نے اپنی شلوار اتار دی، اب ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر مزے لے رہے تھے، فوزیہ نے کہا کہ میں اپنے لنڈ کو بالکل کیمرے کے سامنے رکھوں، وہ میرے لنڈ کو خوب دل بھر کر دیکھنا چاہتی تھی، فوزیہ کہ رہی تھی کہ اس نے انٹرنیٹ پر بڑے بڑے لنڈ دیکھے، مگر وہ سوچ بھی نہی سکتی تھی، کہ ایک دن اسے بھی اتنا مضبوط اور تناور لوڑا مل جایے گا، وہ بہت خوش تھی، اور آہستہ آہستہ اپنی انگلی سے اپنی چو ت کو مسل رہی تھی، اس نے مجھے بھی کہا کے میں لنڈ کی ٹوپی کو اس کے لیے مسلوں، فوزیہ کی اس خواھش کو میں نے پورا کرنا شروع کر دیا، جیسے جیسے میرا ہاتھ میرے لوڑے پر چل رہا تھا، ویسے ہی فوزیہ بھیایک ہاتھ سے اپنی چو ت مسل رہی تھی، اور دوسرے ہاتھ سے اپنے مممے مسل رہی تھی،اس کے ساتھ ساتھ، اس کی دھیمی دھیمی مستی بھری آوازیں مجھے بھی مست کر رہیں تھیں، اور بلاخر ہم دونوں ایک ہی ساتھ چھوٹ گیے، تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد ہم دوں نے ایک دوسرے کو شب بخیر کہا، اور اس وعدے کے ساتھ، کہ جب آفس میں ملاقات ہوگی تو کچن میں ایک بھر پور کس کریں گے. اور پھر ہفتے کا پروگرام بھی فائنل کر لیں گے،دوسرے دن صبح میں فوزیہ کو راستے میں سے اٹھایا اور آفس پوھنچنے کے بعد سب سے پہلے کچن میں فوزیہ کو اپنی آغوش میں بھر کر خوب منہ بھر کر اس کے ہونٹوں کو چوسا اور چانٹا اور اس کے بعد کام میں مصروف ہو گیا، تھوڑی دیر کے بعد فوزیہ نے انٹر کام پر مجھے کہا کہ مجھے کچن میں ڈوبا ملوں، کچھ خاص بات کرنی ہے، پانچ منٹ میں ، میں دوبارہ کچن میں فوزیہ کو چوم رہا تھا، فوزیہ نے کہا کہ اس گھر والوں نے اپنا پروگرام فائنل کر لیا ہے، وہ سارے کے سارے کوئی چھ بجے وہ لوگ دوسرے شہر کے لیے نکل جایئں گے،اور دو دن کے بعد صبح کو واپس یں گے، مجھے فوزیہ نے کہا کہ میں کوئی سات بجے تک میں اس کے گھر پوہنچ سکتا ہوں، مگر اس سے پہلے مجھے اسے فون کر کے کونفرم کرنا ہوگا، جو میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا. فوزیہ سے میں نے پوچھا کہ چھہ سے سات کے پیچ میں وہ کیا کرے گی، تو وہ ہنس کر ٹال گئی اور کہنے لگی کہ خود ہی دیکھ لینا. بہرحال باقی کا سارا دن ایک دوسرے کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوے گزارا، اور شام کو فوزیہ کو اس کے گھر پر اتار کر اپنے گھر آیا اور پھر اپنے آپ کو دوسرے دن کی تیاری میں مصروف ہو گیا ، پہلے نائی سے بال کٹواے، پھر سارے بغل کے بال صاف کیے اور پھر جھانتوں کی صفائی کی اور صبح کے انتظار میں سونے کے لیے لیٹ گیا.
رات جیسے جیسے گزر رہی تھی بیقراری تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی، نیند تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، فوزیہ بھی فون کا جواب نہیں دے رہی تھی، جس کی وجہ سے اور تکلیف بڑھ رہی تھی، بہرحال جیسے ہی صبح کا اجالا دیکھا تو نہانے کے لیے دوڑا اور پھر شیو کر کہ تیار ہو کر وقت کے مزید گزارنے کا انتظار کرنے لگا، لگ رہا تھا کہ جیسے ہی فوزیہ کو دیکھوں گا، اسے بری طرح سے چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا، بہت زیادہ پیاس بڑھ چکی تھی تھی اور مزید کا انتظار بہت مشکل ہو چکا تھا، سات بجے کے قریب فوزیہ کی مس کال آئی جس کا مطلب تھا میدان صاف ہو چکا تھا، میں فورا گھر سے نکل کر فوزیہ کے گھر کی طرف چلنا شروع کر دیا اور کوئی دس منٹ میں اس کے گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا کوئی ایک منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا ، میرا خیال تھا کے فوزیہ خود دروازہ کھولے گی، مگر کوئی اور ہی لڑکی تھی جو بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی، حلانکے میری اور فوزیہ کی پوری اندر سٹانڈنگ تھی کہ فوزیہ میرا اکیلے ہی انتظار کرے گی، مگر ان خاتون کو دیکھ کر میں بری طرح سے گڈ بڑا گیا، ابھی میں اسی سوچ میں تھا کہ کیا بولوں ، مجھے آواز سنائی دی کہ کیا باھر ہی کھڑے رہو گے، اندر نہیں آنا کیا، میری حیرت کی انتہا نہیں رہی، کیونکے یہ آواز فوزیہ کی تھی، اور وہ میرے سامنے کھڑی تھی اور مسکرا رہی تھی، میں فورا اس کے گھر میں داخل ہو گیا، اور غور سے فوزیہ کو دیکھنے لگا، وو بالکل مختلف لگ رہی تھی، اس نے اتنی مہارت سے میک اپ کیا تھا کے اس کا چہرہ بالکل مختلف ہو گیا تھا، میں اسی محویت میں ڈوبا ہوا تھا جب فوزیہ نے میرے گال پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا کیا پہلی بار دیکھ رہے ہو، میں نے اس کے ہاتھ کو چومتے ہوے کہا کہ ہاں تمہارا یہ روپ آج پہلی بار دیکھ رہا ہوں، تم کسی اپسرا کی طرح خوبصورت لگ رہی ہو، فوزیہ نے کہا یہ تیاری صرف اور صرف تمہارے لیے ہے، ویسے تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو، تمھیں ایک بات بتاوں، میرے گھر والے تو رات کو ہی چلے گیے تھے، مگر مجھے بہت ساری تیاریاں کرنی تھیں ، اس لیے تمھیں اس وقت بلایا، ایک تو مجھے خود تیار ہونا تھا، اور اس میں بہت وقت لگنا تھا، مگر اس سے زیادہ خاص چیز تھی، دو دن کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرنا تھا، کیونکے اب اس وقت سے کل رات تک ہم اتنے مصروف ہوں گے ایک دوسرے میں کہ باھر جانے کا وقت نہیں ملے گا، اور میں تمھیں اپنے ہاتھوں سے بنا ہوا سارا کھانا کھلانا چاہتی ہوں، ویسے تو جب میں گھر سے چلا تھا تو میرا حال یہ تھا کہ میرا خیال تھا کہ فوزیہ کو دیکھتے ہی میں اس پر چڑھ جاؤں گا، مگر اس فوزیہ کو دیکھ کر میں بالکل ہی بدل گیا تھا، مجھے اپنے اندر ایک بڑی تبدیلی محسوس ہو رہی تھی، اب میں فوزیہ کو پہلے بہت غور سے دیکھنا چاہ رہا تھا، اس کا یہ روپ سب سے الگ تھا اور اور بہت ہی دلنشیں بھی تھا، میں نے اس کو پورا ننگا بھی دیکھا تھا اور خود اس کی مٹھ بھی مار چکا تھا، مگر آج فوزیہ نے مجھے بالکل اپنے لیے مہبوٹ کر لیا تھا، فوزیہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ڈرائنگ روم میں لائی، جو بڑی نفاست کے ساتھ سجا ہوا تھا، مجھے صوفے پر بیٹھا کر وہ میرے لیے ناشتا بنانے کے لیے کچن میں چلی گئی، اس کی چال بہت خوبصورت تھی، دونوں بھاری چوتڈ آپس میں ٹکرا تے تھے اور بہت ہی دلنشیں نظارہ پیش کرتے تھے، تھوڑی دیر میں ہم دونوں ناشتا ختم کر کے دوبارہ صوفے پر آ کر بیٹھ گیے، فوزیہ نے میوزیک آن کر دیا اور ہم اپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے،میں فوزیہ میں گم تھا تھا اور اس کے خوبصورت سلے ہوے کپڑوں کو دیکھ رہا تھا، ایسا لگتا تھا کے وہ کپڑے اس کے جسم پر رکھ کر سینے گیے تھے، مموں کی گولائی ، کمر پر کسی ہوئی قمیض قیامت ڈھا رہی تھی، گلابی رنگ کی ریشمی قمیض اور سفید رنگ کی ریشمی شلوار اور اس پر سفید دوپٹہ فوزیہ پر بہت ہی جا زیب ے نظر لگ رہا تھا، فوزیہ کو بھی میری کپڑوں کی کمبینشن بہت اچھی لگی، وہ میرے پاس آ کر بیٹھی اور کہنے لگی، تم پر نیلا رنگ بہت اچھا لگتا ہے، اس وقت تم بہت پیارے لگ رہے ہو، اور ساتھ ہی میرے گالوں کو چوم لیا، مجھے فوزیہ کے ہونٹ اپنے گالوں پر بھر اچھے لگے اور اس کے چوموں کی حللاوت میٹھی میٹھی لگ رہی تھی، حلانکے میرا بھی دل چاہ رہا تھا کے میں اسے دبوچ لوں، مگر اس سے زیادہ میری خواھش تھی کہ فوزیہ مجھے پیار کرے اور اس کو بھی دل چاھے وہ کرتی جاے وہ کرتی رہے میں جب وقت آے گا تو پھر ساری کسر نکال لوں گا، فوزیہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کا ایک ہاتھ میری کمر سہلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ کبھی میرے سینے کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی اور کبھی میرے سر کے بالوں میں کنگھی کرنے لگتی تھی، وہ ساتھ ساتھ مجھے جہاں بھی اس دی چاہتا تھا چومتی بھی جا رہی تھی، مجھ پر بھی آہستہ آہستہ مستی تری ہو رہی تھی، مگر پھر بھی مجھے لگ رہا تھا، کہ ابھی بہت وقت ہے، اور فوزیہ کا جو بھی دل چاھے وہ کرتی رہے میں ابھی اپنی طرف سے کوئی ابتدا نہیں کرنا چاہتا تھا، میرا ایک ہاتھ فوزیہ کی کمر پر تھا اور دوسرے سے میں بھی کبھی فوزیہ کے چہرے کو سہلا دیتا تھا یا پھر اوپر نیچے جہاں بھی ہاتھ پوہنچ سکتا تھا، وہاں سے اسے سہلا رہا تھا، فوزیہ کی آنکھیں لال ہوتیں جا رہیں تھیں، مگر وہ بھی شاید مطمئن تھی اور جلدی میں نہیں لگ رہی تھی، پھر فوزیہ اچا نک کھڑی ہو گئی اور میوزیک سیسٹم کو بہت تیز کر دیا، میں بڑے غور سے فوزیہ کی اس حرکت کو دیکھ رہا تھا اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، فوزیہ پہلے تو جھکی ہوئی تھی، ہے پھر آہستہ آہستہ سیدھی کھڑا ہونا شروع ہوئی، مگر اس کے ساتھ ہی اس نے میوزیک پر تھرکنا بھی شروع کر دیا، یہ ایک اور دلنشیں نظارہ تھا، فوزیہ جیسے جیسے تھرک رہی تھی، اس کے جسم کا ایک ایک حصہ ساتھ ساتھ حل رہا تھا، اس کے رقص کرنے کی وجہ سے کمرے میں ایسا لگا کے کچھ اور ہی جان پڑ گئی، میں صوفے پر بیٹھا فوزیہ کو آہستہ آہستہ رقص کرتے ہوے دیکھ رہا تھا، اس میوزیک کی خاص بات یہ تھی، کہ آہستہ آہستہ وہ تیز ہوتا جا رہا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ فوزیہ کے پیروں اور جسم میں بھی شدت آتی جا رہی تھی، فوزیہ نے اپنے بلوں کو کھول دیا، جس نے اس کی خوبصورتی میں اور چار چاند لگا دیے، فوزیہ ناچتی جا رہی تھی، اور مجھے دیکھ کر مسکراتی جا رہی تھی، میرے قریب آ کر اس نے کہا، آج میں بہت خوش ہوں، آج میں نے تمھیں پا لیا ہے، آج میں تمھیں جی بھر کر پیار کروں گی، اور پھر اچا نک فوزیہ نے ناچتے ہوے مریر قریب آ کر اپنے آپ کو میرے اوپر گرا دیا، فوزیہ میرے اوپر آ کر گری تو میں نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا اور پہلی بار اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ پیوست کر دیے، ایک منٹ احتیاط کے ساتھ فوزیہ کا بوسہ لینے کے بعد، میں نے فوزیہ سے کہا کہ وہ دوبارہ رقص کرنا شروع کرے، کیونکے مجھے وہ ناچتی ہوئی بہت سیکسی لگ رہی تھی، میں اس کے جسم کے ہر حصے کو تھرکتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا، میری اس خواھش کو فوزیہ نے فورا پورا کیا اور دوبارہ سے ناچنا شروع کر دیا، اس بڑ اس نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھڑا کر لیا اور مجھے اپنے جسم سے رگڑ رگڑ کر اور ٹکریں مارتے ہوے اپنے رقص میں تیزی لانے لگی، مجھے فوزیہ کی ادائیں بہت اچھی لگ رہیں تھیں، اس کے جسم کا لمس بہت ہی نرم اور ملایم تھا، جس کی واضح سے میرے پورے جسم میں تھرتھری سے پھیل رہی تھی
۔

اس طرح ناچتے ناچتے فوزیہ نے اپنے کپڑے اتارنا شروع کیے سب سے پہلے اس نے اپنی قمیض اتاری پھر شلوار اتاری اور ساتھ ہی مجھے بھی کپڑے اتارنے کا اشا رہ کیا ۔اب ہم دونوں صرف شارٹس میں ھی ڈانس کر رہے تھے کمرے میں میوزک کی آواز سے خوابناک ماحول بنا ہوا تھا ۔ایسا لگ رہا تھ کہ جیسے ہم کسی اور ھی دنیا کے باسی ہو ۔

ہمیں ایک دوسرے کے سوا کسی بات کا ہو ش نہ تھا

بلا آخر ڈانس کرتے کرتے ہم نے ایک دوسرے کو چومنا شروع کیا اور میں نے جب فوزیہ کی برا اتاری ہو اس کے ممے دیکھ کر حیران رہ گیا کیا قیامت تھی اس کی باڈی اور نرم ملائم اتنی کہ جیسے ریشم اور نپل لائٹ برائون بس پھر میں اس کے نپل کو منہ میں لیا چوسنے لگا کبھی ایک کو کبی دوسرے کو اور اسی طرح چومتے چومتے نیچے کی طرف آگیا اور اس کا انڈر وئیر بھی اتار دیا تازہ شیو کی ہو کیا آئوٹ کلاس پھدی تھی ایسی کہ جیسے لکیراور تھوڑی سی ابھری ہو ئی نرم ملائم جب میرے ہو نٹ اس کی پھدی پر لگے تو اس کے ہو نٹو ں سے مزے سئ سسکا ریا نکلنے لگی ۔اور ئس نے میرے سر اند کی طرف دبانا شروع کر دیا مین سمجھ گیا کہ اب یہ فارغ ہو نے والی ہے ۔چند منٹ بعد اس کا جسم نے جھٹکا کھا یا اور اس نے نےلمبے سانس لینے شروع کر دیے ائر اس کی پھدی نے نے نمیکین پانی چھوڑ دیا ۔

چند منٹ وہ اسی طرح لیٹی رہی اور پھر اس نے اُٹھ کر مجھے چومنا شرو کر دیا اس نے مجھے ہونٹو ں سے چو منا شروع کیا اور چومتے چومتے میرا انڈر وئیر اتا را تو میرا لن جو کی فل تیا تھا اس کہ منہ کے سامنے آگیا اس نے اس نے پہلےایک ہلکی سی کس اس کی کیپ پر کیا اور اور پھر کیپ کو منہ میں لے کر لو لی پاپ کی طرح چو سنا شروع کیا اور پورا لوڑا منہ میں لے لیا اور اس کو چو سنا شروع کر دیا جڑ سے لے کر کیپ تک کبھی سارا منہ میں لے جا تی کبھی نکال دیتی میرے منہ سے مزےکی وجہ سے سسکا ریا ں نکل رہی تھی کیا بتا ئوں کیتنا مزا آرہا تھا بس دل کرتا تھا کہ وقت یہں تھم جا ئے اور کبھی ختم نہ ہو مگر ہر خوا ہش کب پو ری ہو تی ہے اس کے منہ کی گرمی اور ہو نٹو کی نر میں نیے مجھے فارغ ہو پر مجبور کر دیا ۔اور میں مزے سے بھرپور آہ کے سا تھ اس کہ منہ میں ھی فارغ ہو گیا ۔اس نے میری منہ کا ایک بھی قطرہ باہر نہیں نکلنے دیا ۔

اس کہ بعد ہم نے تقریبا آدھا گھنٹا ریسٹ کیا اور پھر ایک دوسرے کے گلے لگ کر پیار کر نا شروع کیا اور پیار کر تے کرتے ہم 69پو زیشن میں آگئے اور اور ایک دوسرے کو سک کر نا شروع کر دیا سک کرتے کرتے جب میرا لو ڑا فل تنائو میں آ گیا تو فوزیہ نے کہا جانو ں اب اس کو میرے چوت کی سیر کرائوں اب مجھ سے صبر نہیں ہو تا پلیز اور چاہے میں کتنا ہی روکو ں ایک ھی جھٹکے میں میرے اند ڈالنا میں جتنی بھی تکلیف ایک ھی بار میں جھیلنا چا ہتی ہو ۔بس اس کا یہ کہنا تھا کہ میں نے اسے سیدھا کیا اور اس کی ہپ کے نیچے تکیہ سیٹ کیا اور اس کی دونوں ٹا نگو کو اٹھا کر اپنے کاندھو ں پر رکھا اور اپنے لو ڑے کو اس پھدی کے کٹ  میں گھسا نے لگا اس نے کا یہ نہ کروں اصل کام کروں میری جان نکل رہی ہے ۔ اس کا یہ کہنا تھ اکی میں اپنے لؤڑے کی ٹو پی کو اس کے سوراخ کہ منہ پہ سیٹ کیا اور تھوڑا سا پیچھے ہو کراس کے ہو نٹوں پر ہو نٹ رکھ کر  ایک زوردار جھٹکا مارا توآدھے سے زیا دہ لو ڑا اس پھدی میں چلا گیااور اس کے منہ سے چیخ نکلی اور اس کا جسم ایلک لمہے کے لیا تڑپا مگر میں کوئی آسرا نہ کیا اور ایک سکینڈ کا وقفہ لیتے ہو دوسرا جھٹکا اور زور سے ما را تو پورا کا پورا لوڑا فوزیہ کی پھدی میں گم ہو گیا ۔

فوزیہ کہ آنکھوں سے تکلیف کی وجہ سے آنسوں آگئے ۔میں نے ان آنسووں کو اپنے ہو نٹو ں سے چوس لیا اور چند لمحوں کی بعد جب فوزیہ نے آنکھیں کھہو لیں تو اس طرح چمک رہی تھی جیسے اس نے کو ئی خزا نہ پا لیا ہو ۔اس نے کہا جانو ں آج سے میں صرف اور صرف تمہا ری ہو ں ۔تم نے مجھے آج لڑکی سے عورت بنا دیا ہے ۔میں کہ انہیں آج تم کلی سے پھول بن گئی ہو جس کی خوشبو ں صرف مین ہی سونگھو ں گا ۔اس طر ح میں نے اور فوزیہ نے پہل مکمل سیکس کیا اور پھر دو دن تک جب تک اس کے گھر والوں کے آنے کا ٹا ئم نہیں ہو گیا اس وقت تک ہم ایک دوسرے سے پیا ر کرتے رہے اور سیکس کرتے رہے ان دو دنو ں میں ہم نے کو ئی دس با ر سیکس کیا اور ہر با مختلف طریقے سے کیا ۔ایسا لگتا تھا کہ بس دنیا میں ہی ہمیں جنت مل گئی ۔وہ دو دن ہما ری زندگی کے یا دگار دن تھے ۔اس کے بعد بھی کئی بار ہم نے سیکس کیا وہ پھر کبھی سہی ۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now