shahg

جھگڑالو عورت

Recommended Posts

 جھگڑالو عورت

آنٹی  کا منہ پوری طرح سے  کُھلا  ہوا تھا  اور اُنہوں  نے اپنے منہ  سے اپنی  ساری  زبان سے  باہر نکالی ہوئ تھی اور اس لمبی   ریڈیش زبان پر میرا موٹا سا  لن رکھا ہوا  تھا اور یہ لن   ان  کی پھدی  کی  آف وائیٹ منی سے لتھڑا ہوا تھا   ۔۔۔۔  اور منی کی ایک  پتلی سی تہہ تھی جو  لن کے چاروں طرٖف   لگی ہوئ تھی ۔۔۔ اور بلب کی روشنی میں وہ لن منی  لگی ہونے کی وجہ سے  بڑا چمک رہا تھا  ۔۔ لن آنٹی کی  زبان پر ہونے کی  وجہ سے وہ منہ سے تو  کچھ نہ بول  سکتی تھیں ۔۔ اس لیۓ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اپنے دونوں ہاتھوں کے  اشارہ سے بار  بار   یہ ہی  کہہ رہی تھی  ۔۔۔۔  آنے دو ۔۔آنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ چُھوٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چُھوٹو۔۔۔۔۔۔۔ وہ میری منی کے لیۓ بڑی بے قرار نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اب  انہوں  نے اپنے ایک ہاتھ میں میرا لن پکڑ لیا تھا اور اس کو بڑی  بے تابی سے آگے پیچھے کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اور   دوستو  یہ تھی ہمارے محلے کی ثوبیہ آنٹی ۔۔۔ جس کو لوگ  ماسی جھگڑا یا جھگڑالو  ماسی  بھی کہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جب سے وہ ہمارے محلے میں آئ  تھی۔۔۔۔ تقریباً سب سے ہی لڑ چکی تھی  اور تقریباً سارا ہی  محلہ ان سے ناک تک آیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے لیۓ  ستم بلاۓ ستم  یہ تھا کہ ان کا گھر عین  ہمارے  گراؤنڈ کے سامنے تھا اور کرکٹ کھیلتے ہوۓ اگر کوئ  بال ان کے گھر چلی جاتی تھی  تو ۔۔۔۔ وہ نہ صرف  یہ کہ بال   واپس  نہ کرتی تھی  بلکہ الٹا  ہزار ہزار باتیں بھی مفت میں  سناتی تھی ۔۔۔۔۔ اسی لیۓ محلے والوں کے ساتھ ساتھ یہ خاتون ہمیں بھی زہر لگتی تھی کہ اس نے اب تک  ہماری ایک بھی بال واپس نہ کی تھی ۔۔۔۔۔

ہیلو دوستو ۔۔۔۔ کیسے ہو آپ ۔۔۔  میں ہوں آپ کا شاہ ۔۔۔۔ آگے آپ جانتے ہی ہیں ۔۔۔ تو چلیں کہانی کر طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ  تب کی بات ہے جب ہم ڈھوک کھبہ راولپنڈی میں رہتے تھے ۔۔ ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک خالی پلاٹ تھا جہاں پر ہم ہر   شام  کرکٹ کھیلتے  تھے ۔۔۔۔ اور بد پومتی سے ۔۔۔ اس خالی پلاٹ کے عین  سامنے  ثوبیہ آنٹی کا گھر تھا ۔۔ وہ لوگ  کچھ ہی دن پہلے یہاں شفٹ ہوۓ تھے گھر میں اب تک ہم نے  صرف  دو میاں بیوی ہی دیکھے تھے ۔۔۔ میاں جی تو صبح صبح کام کو چلے جاتے تھے اور کہیں رات گۓ ہی واپس آتے تھے ۔۔۔ پیچھے گھر میں یہ خاتون اکیلی رہ جاتی تھی اور جس کا مشغلہ شاید لڑائ تھا ۔۔ ان کے باقی فیملی ممبر کہاں  رہتے تھے ۔۔؟  فیملی میں اور لوگ تھے بھی کہ نہیں۔۔۔ ؟ کسی کو کچھ علم نہ تھا کہ نہ تو وہ کسی کے گھر جانا پسند کرتی تھی نا ہی ان کے ڈر سے کوئ ان کے گھر جاتا تھا   ۔۔۔  بیٹنگ کرتے ہوۓ اگر زرا بھی زور سے شارٹ لگتی  تو بال سیدھا آنٹی کے گھر جا گرتا  تھا ۔۔۔ جو وہ نہ صرف  واپس نہ کرتی   ۔۔بلکہ  اُلٹا باہر نکل کر ہمیں خوب  صلواتیں سناتیں تھیں ۔۔ہم لوگ بہتیری کوشش کرتے تھے مگر اس کے باوجود ۔۔۔ ہردوسری  شام ہمارا ایک آدھ بال  ان کے گھرضرور  جا گرتا تھا۔۔۔ جو ظاہر ہے کھبی واپس نہ ملتا تھا ۔۔ اس طرح   ہم   نۓ بال خرید خرید کر عاجز آ چکے تھے ۔۔۔ آخرتنگ آ کر  ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کی بھی  ہٹ سے بال آنٹی کے گھر جائ گی وہ ہی نیا بال خریدے گا ۔۔۔۔ اس فیصلے کے بعد ہم  لوگ کافی محطاط ہو گۓ تھے ۔۔۔۔۔  پر کھبی کھبی ۔۔۔۔ بندہ جوش میں  آ کر ہٹ لگا ہی دیتا ہے خاص کر جب لوز بال ملے  تو۔۔۔۔۔۔۔!!!!

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 سو خوش قسمتی یا بد قسمتی سے ایسا ہی ایک  دن  میرے ساتھ بھی ہوا۔۔۔۔ میں بیٹنگ کر رہا تھا اب  پتہ نہیں دوست نے جان بوجھ کر یا کسی اور وجہ  سے مسلسل   لوز بالیں پھینکیں ایک دو بار تو میں نے لحاظ کیا ۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔ اس حرامی نے آخری بال کچھ زیادہ ہی لوز پھینک دی ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اتنی لوز بال کو دیکھ کر میں رہ نہ سکا اور۔۔۔ بیٹ گھما دیا ۔۔۔۔ رزلٹ وہ  ہی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ جو ہونا چا ہیۓ تھا  ۔۔۔ بال نے زقند بھری  ۔۔۔ ہوا میں اُڑا ۔۔۔۔ اور اُڑتے اُڑتے ۔۔۔۔۔سیدھا ۔۔۔ آنٹی جی کے گھر جا ۔۔۔ گرا ۔۔۔۔۔


 


 


 شارٹ لگا کر جتنا مزہ آیا تھا   ۔۔۔۔  آنٹی کے گھر بال گرتا دیکھ کر  میں اتنا ہی   بے مزہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے  ساتھ ہی میرے ٹٹے بھی  ہوائ ہو گۓ  کہ فیصلے کے مطابق اب مجھے نئ بال لانا تھی اور میری جیب بلکل  خالی تھی ۔۔ ادھر دوستوں کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا کہ میں جلدی سے نیو بال لاؤں کہ گیم شروع ہو ۔۔ ۔۔ او ر ادھر میرے پاس ایک  پُھوٹی کوڑی بھی نہ تھی ۔۔۔ محلے کے اکلوتے دوکاندار نے بھی ہمارا ادھار بند کیا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور کسی سے ادھار کیا مانگتا کہ سب کا حال ایک جیسا تھا ۔۔ ادھر سب مجھ سے  نئ  بال کا تقاضہ کر رہے تھے ۔۔۔ آخر میں نے سوچا کہ نئ بال تو میں لانے سے رہا ۔۔۔۔۔ چلو آنٹی کے گھر جا کر بال مانگتے ہیں۔۔ کیا پتہ ۔۔بال مل ہی جاۓ ویسے بھی اگر یہاں کھڑا رہا تو۔۔۔۔ یہ لوگ جان کو آ جائیں گے ۔۔۔یہ سوچا اور آنٹی کے گھر کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر     ڈرتے ڈرتے آنٹی  کے گھر کی گھنٹی بجائ ۔۔۔۔ دروازہ آنٹی نے ہی کھولا اور حسب عادت کھا جانے والی نظروں  سے مجھے دیکھا  اور پھر  سخت  آواز میں بولی ۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟؟؟ اس کے لہجے کی پھنکار سن کر ایک بار تو میری  جان ہی نکل گئ ۔۔ پر۔۔۔۔۔ پھر بھی  میں نے ہمت کر کے (کہ اس کے سوا  کوئ چارہ  نہ تھا )   بولا ۔۔۔وہ آنٹی بال آئ ہے۔۔۔  ایسا کہتے ہوۓ میں نے بڑا ہی مسکین منہ بنا لیا اور نطریں نیچی کر کے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔


 


اب  مجھے نہیں  پتہ کہ  ان کو میری مسکین شکل پر رحم آیا تھا یا   کوئ اور وجہ تھی   ۔۔۔۔۔۔ بحرحال  میں نے محسوس کیا کہ  آنٹی جی کچھ ڈھیلی پڑ گئیں ہیں ۔۔ سو میں نے ایک دفعہ پھر سارے جہان کی مسکینی اپنے اکلوتے  منہ پر طاری کی اور بڑے ہی عاجزانہ لہجے میں دوبارہ درخواست کی کہ پلیز آنٹی آج بال دے دیں ۔۔ آئیندہ  ایسی غلطی   نہیں ہو گی ۔۔!!!  میری بات سُن کر وہ کہنے لگی ۔۔ اگر میں بال نہ دوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟  تو میں نے کہا کہ مجھے نئ بال خریدنی پڑے گی اور میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔۔۔۔   پہلی د فعہ میں نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔  ۔۔۔۔ ابھی تو مہینہ شروع  ہی ہوا ہے اور تمھارے پاس پیسے کیوں  نہیں ہیں ؟؟؟ کیا  تمہیں جیب خرچ نہیں ملتا ؟ تو میں نے جلدی سے کہا وہ تو جی سارے کا سارا  خرچ بھی ہو گیا  ہے  بلکہ تھوڑا ادھار بھی چڑھ گیا ہے ۔۔۔ اس پر وہ تھوڑا حیران ہو کر بولی۔۔۔ خرچ ہو گیا ہے  ۔۔؟ پر  وہ کیسے ۔۔؟؟؟ وہ میری حالت/ ایکٹنگ  دیکھ کروہ  خاصی محظوظ ہو رہی تھی۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 ۔۔۔ ۔۔۔ ویسے بھی  میں اس ٹائم  خاصہ کنفیوز تھا سو گھبراہٹ میں بولا  وہ۔۔وہ  جی ۔۔ ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ یہ سُن کر وہ قدرے غصوے سے بولی ۔۔۔۔ جلدی بولو کیسے خرچ ہوۓ پیسے ؟؟؟ ان کا ڈر تو پہلے ہی دل میں بیٹھا ہوا تھا سو میرے منہ سے جلدی میں سچی بات نکل گئ اور نے کہہ دیا کہ وہ جیب خرچ سے میں نے اپنی گرل فرینڈ کو سال گرہ کا تحفہ لے دیا تھا میری بات سُن کر  وہ بڑی حیرانی سے مجھے دیکھنے لگی اور بولی ۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔پھر تو پرابلم ہے  ۔۔ پھر کہنے لگی اوکے ۔۔  انتظار کرو میں بال لاتی ہوں ۔۔اور خود گھر کے اندر چلی گئ ۔۔۔


 


 


          کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئ تو اس کے ہاتھ میں بال تھی۔۔۔  جسے دیکھ کر میری جان میں جان آئ اس نے  مجھے بال دینے سے پہلے   کہا ۔۔۔۔۔ فرض کرو اگر میں تم کو بال نہ دیتی تو تم کیا کرتے ۔۔؟ تو میں نے جواب دیا  کسی نہ کسی طرح  نیا بال خریدتا ۔۔۔۔  اور اس کے بعد پھر  تین چار دن تک  روزانہ آپ کی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتا ۔۔۔( یہ بھی ہماری ٹیم کا فیصلہ تھا)۔۔۔ میری بات سُن کر وہ دوبارہ حیران ہو گئ اور بولی ۔۔۔۔اچھا ۔۔۔ تو جس کو بال نہیں ملتی   تو وہ یہ کام  کرتا ہے ۔۔ ۔۔۔ پھر اس کو پتہ نہیں کیا خیال آیا بولی ۔۔۔۔اوہ ۔۔۔۔ اچھا اچھا ۔۔تو یہ چکر ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس کا چہرہ غصوے سے لال ہو گیا  پر۔۔۔ مجھے کچھ نہ کہا ۔۔۔اور بال میرے ہاتھ میں پکڑا دی ۔۔۔۔۔۔۔  جب میں بال لے کر واپس جانے لگا تو وہ بولی ۔۔۔ سُنو ۔۔۔!!!!! ۔۔ میں نے مُڑ کر ان کی طرٖف دیکھا تو وہ کہنے لگی  اپنے دوستوں سے کہہ دو کہ آئیندہ ہماری گھنٹی نہ بجایا کریں ۔۔۔ میں بال دے دیا کروں    گی پر میری اک شرط ہے  ۔۔۔ اور  وہ یہ کہ بال لینے صرف اور صرف  تم ہی  آؤ گے میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی   صرف میں ہی آؤں گا اور وہاں سے چلا آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔


 


 


واپس آ کر جب میں نے دوستوں کو یہ بات بتائ تو وہ بڑے خوش ہوۓ ۔۔ پر میری جان مصیبت میں آ گئ تھی وہ اس لیۓ کہ جب بھی بال گرتی مجھے ہی جانا پڑتا اور وہ عموماً دو چار سُنا کر ہی   بال  مجھے دیتی تھی روز  روز کے اس آنے جانے سے اب میری ثوبیہ آنٹی کے ساتھ پہلے تواچھی  ہیلو ہاۓ ہوئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پھر  کچھ  کچھ فرینڈ شپ بھی  ہو گئ تھی ۔۔۔ گاہے گاہے اب وہ بال دیتے ہوۓ مجھ سے میری گرل فرینڈ کے بارے میں بھی  پوچھ لیتی تھی ۔۔۔ اور میں بھی ان کو سچ سچ بتا دیتا تھا ۔۔۔ اس طرح کچھ دن بعد   ہماری گپ شپ تھوڑی اور  بڑھ  گئ تھی ۔۔۔ اب کھبی کھبی وہ  مجھے کولڈ ڈرنک کی بھی آفر دیتی تھی اور بعض دفعہ تو میں خود بھی ان کے گھر کے  اندر جا کر بال لے آتا تھا ۔۔۔۔ہاں مگر ایک بات تھی وہ یہ کہ جس دن میں کھیلنے نہ جاتا اور بال ان کے گھر چلی جاتی تو وہ میرے سوا   کسی اور  کو ہر گز ہرگز  بال نہ دیتی تھی ۔۔


صرف  اور صرف میں ہی ان کے گھر سے   بال لا سکتا تھا ۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک دن کی بات ہے کہ جب میں ان کے گھر سے  بال لینے گیا تو وہ کافی گھبرائ  ہوئ  لگ رہئ تھی ۔۔ میں نے ان کے چہرے کا رنگ  دیکھ کر  پوچھا ہی لیا کہ  آنٹی خیر تو ہے نا ؟؟؟ تو وہ گھبراہٹ میں بولی ۔۔۔۔۔ امی کی طبعیت اچانک زیادہ ہی خراب ہو گئ ہے ( ان دنوں ان کی ماما ان سے ملنے آئ ہوئ تھیں ) تو میں نے کہا کوئ دوائ وغیرہ نہیں دی۔۔ ؟؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگی دوائ ہی تو ختم ہونے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہو رہی ہے پھر بولی اگر تم برا۔۔  نا مانو تو مجھے ان کی دوائ لا کر دے سکتے ہو۔۔؟ تو میں نے کہا اس میں بُرا ماننے والی کون سی بات ہے۔۔؟   آپ حُکم  کریں کہ  کون سی دوائ لانی ہے میں منٹوں میں  لا دیتا ہوں تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ یہ بہت ارجنٹ مسلہ ہے پلیز تم 10،15 منٹ میں دوائ لا سکتے ہو کیونکہ اس کے بعد ان کی طبیعت اور  زیادہ بھی خراب ہو سکتی ہے اس لیۓ پلیز  جتنی جلدی ہو سکے مجھے دوائ لا دو۔۔۔۔ اور پھر مجھے جلدی سے ایک کاغز پردوائ کا نام لکھ دیا اور ایک بار پھر تاکید کی کہ جتنا جلدی ہو سکے یہ دوائ مجھے پہنچاؤ ۔۔۔۔ کہ ٹائم بہت کم ہے۔۔۔ میں نے ان کے ہاتھ سے کاغز  لیا۔۔۔۔۔  بال میں  پہلے ہی    صحن سے لا چکا تھا  ۔۔ سو میں نے جلدی سے  کاغز پکڑا اور  وہا ں سے دوڑ لگا دی ۔۔۔ راستے میں گراؤنڈ پڑتا تھا وہاں  بال اپنے دوست کو دی اور یہ کہ کر دوڑ لگا دی   کہ میں  آنٹی کے لیئے   میڈیسن لے  کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔ اور پھر وہاں سے     بھاگم بھاگ   میڈیکل  سٹور پر جا پہنچا ۔۔  ان کو دوا کا کاغز دکھایا تو پتہ چلا کہ ان کے پاس   ۔۔۔۔ وہ دوائ  ختم ہو چکی ہے ۔۔ دوسرا سٹور  وہاں سے تھوڑا  دُور تھا  سو اب میں اور بھی تیز بھاگ کر اس  سٹور پر گیا خوش قسمتی سے وہ دوائ ان کے پاس  موجود تھی چنانچہ میں نے جلدی جلدی دوائ لی اور پھر وہاں سے فُل سپیڈ سے   بھاگ کر آنٹی کے گھر پُہنچ  گیا  --


 


 


 


وہ دروازے پرکھڑی میرا ہی انتظار کر رہی تھیں  جب میں نے دوائ  ان کو پکڑائ  تو اس وقت  میرا سانس دُھوکنی کی طرح چل رہاتھا۔۔۔ سخت گرمی لگی ہوئ تھی اور  تیز  سانسوں کے ساتھ ساتھ میں پسینے میں  شرابور   تھا ۔۔۔۔۔ انٹی نے مجھ سے دوائ لی اور فوراً اندر اپنی  امی کے کمرے میں  چلی گئ اورجاتے جاتے مجھ سے کہہ گئ کہ میں ڈرائینگ روم میں بیٹھ جاؤں ۔۔۔۔۔ اور پسینہ سُکھا کر ہی جاؤں ۔۔


 


یہاں میں  ایک بات  بتانا بھول ہی گیا وہ یہ کہ اس دن میں نے پینٹ کے نیچے نائیلون کا انڈر ویئر پہنا ہوا تھا ( کہ کاٹن کا ملا نہیں تھا اور ہمیشہ کی طرح مجھے جلدی بڑی تھی ) اب میں  ڈرائینگ  روم میں گیا اور پنکھا فل سپیڈ پر کر کے صوفے پر بیٹھ گیا پر۔۔۔۔۔ گرمی پھر بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور خاص کر میرا نایئلون کا انڈروئیر تو آگ کا گولا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ میں نے پہلے تو اپنی شرٹ اتاری اور صوفے پر عین پنکھے کے نیچے بیٹھ گیا ۔۔۔ اس  وقت جینز کے نیچے  میرا انڈر وئیر پسینے سے بُری طرح بھیگا ہوا تھا ۔۔۔ جس سے میں بڑا تنگ ہو رہا تھا اب میں نے یہ سوچ کر کہ آنٹی اپنی امی کے ساتھ بزی ہوں گی ۔ پینٹ کی زپ کھولی اور خاص کر لنڈ والی سائیڈ بلکل پنکھے کے نیچے کر دی ۔۔۔ اور کارپٹ پر لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ  5 سات منٹ تک میں ایسے ہی   سانس لیتا رہا۔۔۔۔ پھر پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئ ۔۔۔۔ اور میں سو گیا اب مجھے یاد نہیں کہ میں کتنی دیر تک سوتا رہا اور یہ بھی نہیں معلُوم کہ ثوبیہ آنٹی کب کمرہ میں داخل ہوئ ۔۔ جب میری آنکھ کھلی تو وہ ڈرائینگ روم میں موجود تھیں اور سامنے صوفے پر بیٹھی میری  ہی طرف دیکھ رہی تھیں ۔۔ اور جب میری نطر ان کی نظر سے ملی  تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دی ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے نہیں پتہ   کہ آنٹی کب سے وہاں بیٹھی مجھے  دیکھ رہی تھیں  پھر   میں نے ان کو دیکھ  کر اُٹھنے کی کوشش کی  ۔۔۔  تو مجھے  اُٹھتا دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔ کافی تھکے لگتے ہو۔۔۔۔ اور پھر ٹائم پر دوائ لا کر دینے پر میرا شکریہ ادا کرنے لگی اور بولی ۔۔۔ اگر تم بھا گ دوڑ نہ کرتے تو پتہ نہیں آج کیا ہو جاتا ۔۔۔۔۔ پھر میز کی طرف اشارہ کر کے بولی  ۔۔ سامنے میز پر ٹھنڈے  شربت کا  جگ اور  گلاس رکھا ہے اُٹھ کر  پی لو ۔۔ اور  پھر بڑے ہی  معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔

۔

لگتا ہے  تم کو  بہت گرمی لگی تھی  ۔۔

 

جیسے ہی آنٹی نے یہ با ت کی میری نظر اپنی پینٹ کی طرف چلی گئ ۔۔۔۔۔ جو کہ اس وقت میرے گُھٹنوں تک  آئ ہوئ تھی  اور میں صرف   انڈروئیر پہنے لیٹا تھا  ---  اور یہ انڈروئیڑ بھی کافی  چھوٹا تھا جو  صرف میرے لن کو ہی کور کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ لن کے آس پاس کا باقی حصہ  جس میں میری جھانٹیں بھی شامل تھیں  جو  اس ٹائم کافی  بڑھی ہوئ تھیں صاف نظر آ رہی تھیں اور وہ  بھی میرے خیال میں یہی دیکھ رہی تھی ۔۔ ۔۔ ان کی نظروں کو  اپنی طرف پا کر میری تو جان ہی نکل گئ اور میں نے فوراً ہی اپنی پینٹ اوپر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔اور اس سے پہلے کہ میں اپنی پینٹ  اوپر کرتا ۔۔۔ وہ بولی ۔۔ ناں ۔۔ ناں ۔۔۔ ایسا مت کرو ۔۔۔ میں نے یہ بات اس لیۓ نہیں کہی تھی کہ تم فوراً ہی  اپنی پینٹ درست کرنی شروع کر دو  ۔۔ پھر بولی ۔۔۔۔  مجھے پتہ ہے کہ تم کافی تیز  بھاگ کر آۓ تھے اور اس سے پہلے تم نے  2،3 گھنٹے تک گیم  بھی  کھیلی تھی۔۔۔۔ سو  اٹس او کے یار  ۔۔۔ ایسا ہو جاتا ہے اس میں ڈرنے کی کوئ بات نہیں ۔۔۔۔   اب تم جلدی سے  اُٹھو اور ٹھنڈا   شربت پی لو ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ان کی بات سُن کرمیری کچھ جان میں جان آئ   ۔۔۔ اور پھر  میں نے ان سے پوچھا کہ اب آپ کی امی  کیسی ہیں ؟ ۔۔۔ کہنے لگی  ٹھیک ہیں اور دوائ کھا کر سو گئ ہیں  - اب میں نے دوبارہ اپنی پینٹ پہننے کے لیۓ ہاتھ جیسے ہی گھٹنوں تک لانے کی کوشش کی۔۔۔۔  تو وہ خود ہی  اُٹھتے ہوۓ  بولی ۔۔۔ بیٹھے رہو شربت میں لا دیتی ہوں ۔۔۔ پھر وہ اُٹھی اور جگ سے شربت کا گلاس بھر کر لائ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شربت کا گلاس تو میرے ہاتھ میں  پکڑا رہی تھیں پر  اُن کی نظریں  ابھی بھی میرے انڈروئیںر کی طرف تھیں  ۔۔ یہ محسسوس کرتے ہی میں نے ایک دفعہ پھر اپنی پینٹ اوپر کرنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگی  ۔۔۔۔ ابھی رہنے دو۔۔ کہ    تمھارا پسینہ ابھی   خشک  نہیں ہوا ہے  ۔۔۔ ۔۔۔   اور    تمھارے کپڑے   ابھی تک ویسے کے ویسے     بھیگے ہوۓ ہو۔۔  زرا پسینہ  سوکھ جاۓ تو   بے شک پہن لینا  ۔۔۔    پھر میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ یہ تم  اتنے گھبراۓ ہوۓ کیوں ہو؟  ۔۔ ؟؟؟  تو میں نے کہا ۔۔۔وہ جی ۔۔ وہ جی میں ڈر تو بلکل بھی  نہیں رہا ۔۔۔ تو وہ مسکُرا کو بولی کمال ہے یہ تم ڈر نہیں رہے تو پھر   تمھارا رنگ اتنا  کیوں اُڑا ہوا ہے ؟ ( وہ بات تو مجھ سے کر رہی تھی پر ان کی نظریں سٹل میرے انڈروئیڑ ہی  کی طرف تھیں ۔۔۔۔) آخر میں نے سچی بات کرنے کا فیصلہ کر لیا اور بولا ۔۔۔ آنٹی مجھے آپ سے ڈر لگتا  ہے ۔۔ تو وہ تھوڑا حیران ہو کر بولی ۔۔۔  تم مجھ سے ڈرتے ہو۔۔؟ کیوں کیا  میں کوئ جن  ہوں  ؟؟ جو مجھ سے ڈر رہے ہو پھر خود ہی  ہنس کر بولی ۔۔۔۔۔  تم مجھ سے نہ ڈرو ہم دوست ہیں یار ۔۔۔ ہاں میں بہت سخت ہوں اور کھچہ  بلڈ پریشر کی مریضہ بھی ہوں  ۔۔۔۔ پر میری سختی  دوسروں کے لیۓ ہے  ۔۔۔ تمھارے لیۓ تو ایسی کوئ بات نہیں اور آئ تھنک ۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی  میں نے کھبی تم سے ایسی کوئی سخت  بات   کی ہے  ۔۔۔ ۔۔۔  پھر مُسکراتے ہوۓ ۔۔۔ بولی  ٹیک اٹ ایزی یار  (بے شک  میں اُس وقت  عمر میں کم تھا پر اتنا بھی کم نہیں تھا کہ آنٹی ۔ کے اشارے نہ سمجھ سکتا۔۔ ویسے بھی مجھے  آنٹیاں چودنے کا  کا فی وسیع  تجر بہ تھا  )  ۔۔۔ اب میں نے ان  کے ہاتھ سے  شربت کا گلاس لے کر ان کا شُکریہ ادا کیا اور شربت پیتے ہوۓ  ان سے باتیں کرنے لگا   ۔۔۔   وہ  اب بھی چور نظروں سے اُدھر ہی دیکھ رہی  ہیں  ۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

       اور  پھر میں نے دیکھا کہ اب وہ انڈروئیڑ کی طرف  دیکھنے کے ساتھ ساتھ  وہ بار بار اپنی زبان   خشک ہوتے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی ۔۔۔ اور  اُن کا رنگ بھی تھوڑا لال   ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اُن کی یہ حالت دیکھتے ہوۓ اچانک مجھے اپنے انڈروئیر سے کلئیر سگنل    موصول ہونا شروع ہو گۓ ۔۔۔۔ اور اب میں ۔۔۔۔ تھوڑا ۔۔۔ الگ ۔۔تھوڑا ۔۔۔۔ ۔  تھوڑا ۔۔۔۔ مختلف سوچنے لگا اور اُن کی یہ حالت دیکھ کر میرا لن اندر ہی اندر   مست ہونے لگا ۔۔ اورپھر  میں نے میڈم کو تھوڑا ۔۔۔  تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ اور یہ سوچ کر میں جو بیٹھ کر  ان سے باتیں کر رہا تھا اب  میں نے  اپنی کُہنیاں قالین پر ٹکا دیں اور  نیم دراز ہو کر ان سے باتیں کرنے لگا ۔۔۔ اور میں نے جان بُوجھ کر ایسے زاویہ سے نیم دراز ہؤا ۔۔۔۔۔۔  کہ میرا سامان عین ان کی سامنے آ گیا  تھاجسے وہ باربار چور نظروں سے دیکھے جا رہی تھیں ۔۔۔ اب ان کی یوں دیکھتے دیکھ کر میرے لن نے جان پکڑنی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔پر میں ابھی لن کھڑا کر کے ان کو نہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔میں ان کو تھوڑا اور ترسانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ سو میں نے اپنی سانس روک   لی جس سے لن کو آتی ہوشیاری کچھ کم  تو  ہو گئ تاہم  یہ ہوشیاری    اتنی بھی کم نہ ہوئ تھی  کہ لن بلکل  ہی مر گیا ہو ۔۔۔ اور پھر اسی دوران   اک شرارت میرے زہن میں  آئ۔۔۔۔۔ اور میں نے خارش کے بہانے اپنے  سوجھے ہوۓ ٹوپے کا موٹا سرا ۔۔۔۔ انڈروئیر کی ایک سائیڈ سے باہر   نکالا۔۔۔۔۔۔ اور پھر ویسے کا ویسا  ہی نارمل ہو کر کر ان سے باتیں کرنے لگا ۔۔۔۔۔ اُف ۔۔۔ اس دفعہ ان کی حالت دیکھنے والی تھی۔۔۔۔ ٹوپے کو دیکھ کر ان کا رنگ لال سُرخ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اور ایک لمحے کو تو جیسے ان کی آنکھیں میرے ٹوپے پر جم سی گئیں پھر آئ تھنک  ۔۔۔انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی نگاہوں کو میرے ٹوپے سے ہٹایا اور پھر سر جھکا لیا اور اپنے ہونٹ چبانے لگی ۔۔۔۔ اور میں ان کی یہ حالت دیکھ کر انجواۓ کرنے لگا ۔۔۔۔ پھر میں نے ان سے پوچھا ۔۔۔۔ آنٹی آپ کتنے بھائ بہن ہو ۔۔۔۔ میرا سوال سُن کر انہوں نے عجیب سی  نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔ خشک  ہونٹوں کو زبان پھیر کر تر کیا اور پھر تھوک نگل کر بولی ۔۔۔۔ وہ ۔۔وہ ہم ۔۔ پانچ بھائ بہن ہیں اور پھر چوری چوری   میرے انڈروئیر سے جھانکتے ہوۓ ٹوپے کو دیکھ کر اپنے دانتوں میں اپنے ہونٹ لے لیۓ ۔۔۔اور سر جھکا لیا ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر تک کمرے میں بڑی ہی گمبھیر سی   خاموشی  چھا گئ  ایسی خاموشی جو طوفان آنے سے پہلے چھایا کرتی     ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 یہ خاموشی ہم دونوں کے  پیچ  وہ  خاص سگنل دے رہی تھی  جسے سمجھ وہ بھی رہی تھی اور میں بھی ۔۔۔۔ پر ر ر ۔۔ دونوں انجان بنے بیٹھے تھی ۔۔۔ وہ بدستور نگاہ نیچ کیے گردن   جھکا کر قا لین پر اپنے پاؤں کا انگوٹھا رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔ اور گاہے چور نظروں سے میرے انڈروئیر کو بھی تاڑ لیتی تھی  ۔۔۔ اور میں مسلسل ان کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔پھر جب انہوں نے  چھٹی یا ساتھویں دفعہ زبان اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیۓ پھیری تو ۔۔۔۔ اچانک مجھے ایک آئیڈیا سوجھا اور میں نے خواہ مخواہ ہی کہہ دیا کہ ۔۔۔۔ کہ لگتا ہے آپ کو بھی سخت گرمی لگ رہی ہے ۔۔۔ میری بات سُن کر اُنہوں نے سر اُٹھا کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولی گرمی میں گرمی ہی لگے گی نا ۔۔۔۔ اور کیا سردی لگے گی ؟ پھر میں نے ان کی بات کا کوئ جواب نہ دیا اور قالین سے یہ کہتا ہوا  اُٹھ گیا کہ آپ کو بھی ایک گلاس ٹھنڈے شربت کی سخت ضرورت ہے جب میں شربت کے لیۓ اُٹھا تو پینٹ میرے پاؤں میں آگئ ۔۔۔۔۔ اور میں پینٹ اُتار کر انڈروئیر میں ہی میز کے پاس چلا گیا اور پھر جگ سے شربت کا گلاس بھرا اور  وہ گلاس  آنٹی کے پاس لے گیا ۔۔۔۔ اور ان کے پاس جا کر  اس زاویہ سے کھڑا ہوا کہ ۔۔۔ میرا انڈروئیر سے جھانکتا ہوا ٹوپا ان کے چہرے کے پاس ہو ۔۔ پھر میں  ان کےتھوڑا اور قریب ہو گیا اور گلاس ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور اس کے ساتھ ہی اپنا لن ہلکے سے ان کے کندھے کے ساتھ  مس کر دیا ۔۔۔۔ جیسے ہی میرا  لن ان کے  کندھے  ٹکرایا ۔۔۔ تو انہوں نے ایک جُھرجھری  سی لی ۔۔۔۔ اور پھر شربت پینے لگ پڑیں ۔۔۔۔۔ اور کوئ ردعمل نہ شو کیا ۔۔۔۔۔ ان کے نرم کندھے سے لن ٹکرانے کے بعد میرا جی چاہا کہ میں دوسری دفعہ بھی لن کو ان کے کندھے سے لگاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔ نہ لگایا ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

        اور پھر ایک اور خیال کے تحت میں ان کے سامنے قالین پر لیٹ گیا اور ۔۔۔ اور ان سے زُومعنی لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔۔۔  آنٹی جی کچھ گرمی کم ہوئ ؟؟؟؟ ۔۔۔ وہ بھی میری بات کی تہہ تک پہنچ گئ اور بولی۔۔۔ نہیں بلکہ کچھ اور بڑھ گئ ہے اور مسکرا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب صورت حال یہ تھی کہ وہ میرے سامنے صوفے پر دونوں ٹانگیں اُوپر  کر کے بیٹھی تھیں اور میں ان کے بلکل سامنے کار پٹ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔ پھر میں تھوڑا کھسک کر صوفے کے اور قریب آیا اور اور اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کر ان کے پاس صوفے پر رکھ دی ۔۔۔۔ اور پھر پوچھا ۔۔۔۔۔ ایک گلاس اور ڈالوں ۔۔ ؟؟؟۔۔۔  یہ کہتے ہوۓ خاص کر  " ڈالوں " پر تھوڑا زیادہ زور دیا اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی ایک ٹانگ صوفے پر رکھ دی ۔۔۔۔۔ ادھر وہ بھی میری بات کا مطلب سمجھ کر بولی ۔۔۔ اس چھوٹے سے گلاس سے بھلا کہاں پیاس بجھتی ہے۔۔۔ پورا جگ پلاؤ تو بات پنے گی ۔۔۔ اور ساتھ ہی مُسکرا دی ۔۔۔۔ اور اب میں نے اپنا صوفے پر دھرا  پاؤں دھیرے دھیرے سرکانا شروع کر دیا یہاں تک کہ انگھوٹھا  سرکتے سرکتے ان کی نرم گانڈ سے جا لگا ۔۔۔۔۔   یہ دیکھ کر  انہوں نے بھی فوراً  اپنی دونوں ٹانگیں صوفے سے نیچے لٹکا دیں اور اپنی ایک ٹانگ میری تھائ پر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔  اور اُسے میرے لن کی طرف سرکانا  شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کرنے لگیں ۔۔۔ جب انہوں نے اپنی ٹانگیں نیچے اُتاری تھیں تو میں نے بھی اُس وقت کا فائدہ اُٹھاتے ہوۓ اپنا انگھوٹھا ان کی چوت کے پاس کر دیا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب وہ  بھی  میری " ٹرک " کی کاپی کرتے ہوۓ اپنا پاؤں سرکاتے سرکاتے میرے لن کے قریب  لے آئیں تھیں  ۔۔ مجھے اس کھیل میں بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ کہ بظاہر تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کر رہے تھے پر اندر کھاتے ہم ایک دوسرے کے ساتھ سخت چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔  اور میرا خیال ہے اب وہ بھی  میری طرح  اس صورت حال کا بوری طرح لُطف لے  رہی تھی ۔۔۔۔ کیونکہ اب ان کا چہرہ گل  گلنار تو پہلے کی طرح ہی  تھا پر اب وہ    نیچے نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ بلکہ میری آنکھوں آنکھیں ڈال کر باتیں کر رہی تھی۔۔


۔


 ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جیسے ہی اس نے اپنا پاؤں نیچے کر کے میری تھائ   پر رکھا توں ہی میں نے اپنے آپ کو تھوڑا ایڈجسٹ کیا ۔۔ اور تھوڑا کسمایا اور اب ان کا  پاؤں عین میرے لن پر تھا ادھر      اسی رولے گولے  میں  ، میں بھی  اپنا پاؤں ان کی چوت کے اوپر لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اب میں نے اپنے  چوتڑ کو تھوڑا سا اٹھا کر ادھر ادھر کیا اور اب آنٹی کا پاؤں میرے لن عین پاس  تھا۔۔ پھر  میں خود ہی تھوڑا سا ہلہ۔۔۔ کسمسایا ۔۔۔۔ جس سے آنٹی کے پاؤں  نے میرے لن کو چُھو لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس دوران میرا انگھوٹھا بھی ان کی چوت کو چُھو چکا تھا اور جیسے ہی میرے انگھوٹھے ان چوت کو۔۔۔ شلوار کے اوپر سے  چھوا تو۔۔۔۔۔ ان کی شلوار چوت والی  جگہ سے  بری طرح  بھیگی ہوئ تھی ۔۔۔ اور انگھوٹھے کو  چوت کی گرمی شلوار کے اوپر سے ہی   محسوس  ہو رہی تھی  ۔ ۔۔۔ اب صورت حال یہ ہو چکی تھی کہ جوش کے مارے میرا بُرا حال تھا اور میں لمحہ نہ لمحہ خود پر کنٹرول کھو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میرے حواس میرے قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اور پھر میں نے ایک بے خودی کے عالم میں ان کا پاؤں پکڑا اور لن پر رگڑ دیا ۔۔۔ وہ کھچہ نہ بولی بس۔۔۔ تھوڑا سا کراہی ۔۔۔۔ اُ ف ف ف ف۔۔۔۔۔ اب میں نے زیادہ نہ سوچا اور ویسے بھی سوچنے کی اب ضرورت بھی نہ تھی میں اُٹھا ۔۔۔ اور ان کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا ۔۔۔ اور پھر ان کے ایکھ  گال کو چوم لیا۔۔۔۔۔۔ اب مجھے ان کی آواز سُنائ دی وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟ تو میں نے جواب دیا آپ کے گال کو چوم رہا ہوں تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ یہ  یہ  ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔ تمھاری گرل فرینڈ کیا سوچے گی ؟؟۔۔۔ تو میں نے کہا گرل فرنیڈ کو کچھ پتہ چلے گا تو وہ کچھ سوچے گی نہ ۔۔۔ تو وہ سرگوشی کی سی آواز میں بولی ۔۔۔۔  پھر بھی یہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں ۔۔ تمھاری آنٹی ہوں اور تم سے بہت بڑی بھی ہوں ۔۔۔۔۔ تم اپنی گرل فرنیڈ کے ساتھ یہ سب کرو  ۔۔۔ اور مجھے چھوڑ دو پلیز۔۔۔!!!! ۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے صریحاً جھوٹ بولتے ہوۓ جواب دیا کہ آنٹی وہ مجھے یہ سب نہیں کرنے دیتی ۔۔ تو وہ تھوڑا حیران ہو کر کہنے لگی ۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔۔ پر وہ کیوں ؟ تو میں نے ایک اور جھوٹ بوتے ہوۓ کہا کہ ۔۔۔۔۔ وہ کہتی ہے یہ سب شادی کے بعد کریں گے ۔۔۔۔۔۔  تو وہ کہنے لگی بات تو وہ ٹھیک کہہ رہی ہے نا ۔۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا وہ ٹھیک تو کہہ رہی ہے پر ۔۔۔ ہیں اس کا کیا کروں اور ساتھ ہی انڈروئیر سے لن باہر نکال کر ان کے سامنے کر دیا ۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

لن کو چور نظروں سے تو وہ شروع سے ہی دیکھتی آ رہی تھی ۔۔۔ پر اب جب میرا موٹا لمبا ۔۔۔۔اور سانڈ نما لن ننگم ننگا ان کی آنکھوں کے سامنے آیا تو وہ گھبرا گئ اور بولی ۔۔۔ ارے ارے ۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ۔۔ کچھ شرم بھی ہے تم میں کہ نہیں ؟؟ پر میں نے ان کی کوئ بات نہ سنی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا اور خود ان کے منہ پر جھک کیا اور ان کے گالوں کو  چومنے لگا جو اُس ٹائم شرم سے لال ہو رہے تھے  ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے گالوں کو چومتے ہوۓ دیکھ کر وہ کہنے لگی ۔۔۔ نہیں کرو ۔۔ پلیز ز ز زز  ززز  ۔ز ۔ز۔ز۔زز۔زز۔۔۔۔  پر میں ان کی کہاں سننے والا تھا ۔۔ سو میں اپنے کام میں لگا رہا ۔۔۔۔


 


اب میری زبان اُن کے منہ پر اپنے کرتب دکھا رہی تھی ۔۔ اور ان کے لال گلابی ہونے والے منہ کے ایک ایک انچ کو چاٹ رہی تھی ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ان   کے منہ سے دبی دبی سسکیوں کی آوازیں بھی آ نے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔ اس طرح میں نے اپنی زبان سے ان کے سارے چہرے کو  گیلا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔  پھر میری زبان ان کے ہونٹوں کی طرف بڑھی اور میں نے اپنی زبان کی نوک بنائ اور اُن کے ہونٹوں کو چاٹنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُف ۔ف۔ف۔ف۔ف۔ ان کے ہونٹ اتنے نرم تھے کہ جیسے پنکھڑی کوئ گلاب کی سی ہو ۔۔۔۔ جی کر رہا تھا کہ بس ان کو ہی چاٹتا جاؤں ۔۔۔۔ چاٹتا جاؤں ۔۔۔۔۔ اور مجھے ایسا لگ رہا  تھا کہ ان ہونٹوں سے رس ٹپک رہا ہو اور میں وہ رس جی بھر کر پینا چاہتا تھا ۔۔ سو میں ان کے ہونٹوں کا رس پیتا رہا پیتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   میرے ہونٹ ان کے ہونٹوں کے ساتھ سختی سے جُڑے ہوۓ تھے اور کمرے میں پوچ ۔۔۔ پووو چ چ چ۔۔۔ پوچ ۔۔ چ چ چ کی کسسنگ کی مخصوص آوازیں گونج رہی تھیں ۔۔۔ کچھ دیر بعد انہوں نے بھی تھوڑا تھوڑا رسپانس دینا شروع کر دیا اور ۔۔۔۔ میرے لن پر دھرا ہوا ان کا ہاتھ حرکت میں آیا اور ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی مُٹھی میں میرے  لن کو گرپ کر لیا ۔۔۔۔۔۔ اور پھر اسے ہولے ہولے دبانے لگی ۔۔۔۔۔۔     ادھر میں بڑے جوش سے ان کے رس بھرے ہونٹ چوس رہا تھا کہ اچانک آنٹی نے اپنی زبان سے میرے دانتوں کو برش کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔  ہوں ۔۔۔۔۔اب آنٹی شرمانا چھوڑ کر  بوری طرح چارج ہو گئ لگتی تھی ۔۔۔ سو میں نے فوراً ہی اپنا منہ تھوڑا کھول دیا اور اور انہوں نے جھٹ سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی  اور میں ان کی زبان کو چوسنے لگا ۔۔۔۔ اُف ف ف ف ۔۔۔۔ان کی ان کی زبان تو ان کے ہونٹوں سے بھی زیادہ ٹیسٹی تھی ۔۔۔۔ ہم دونوں ہی پوری طرح سے مست ہو چکے تھے ۔۔۔۔  ہونٹ اور ایک ودسرے کی زبانیں چوسنے سے  ہم دونوں کے پیچ  پہلے سے لگی شہوانی آگ  اب  کچھ اور تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی    کچھ دیر کسنگ کرنے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہو گئ ۔۔۔ اور کہنے لگی اس کام میں مجھے  تم کافی  ٹرینڈ لگتے ہو ۔۔۔۔ تو میں نے کہا یس س س ۔۔۔۔  اور کہا آنٹی جی میں فکنگ سپیسلسٹ بھی  ہوں تو وہ ہنس کر بولی ۔۔۔۔ لگ رہے ہو بابا لگ رہے ہو۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی تمھاری  کسنگ  کی خاص کر تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔۔۔۔۔۔ پھر وہ بولی رہی فکنکگ کی بات تو ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاۓ گا یہ کہا اور اپنی باہیں پھیلا کر میری طرف بڑہی اور مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور اس دفعہ ہم نے کسنگ نہیں کی بلکہ زبانیں باہر نکال کر ان کو آپس میں لڑانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

        گلے سے لگاتے ہوۓ میں نے آنٹی کی قمیض کے پیچھے لگی ہوئ زپ کو کھولنا شروع کر دیا اور وہ فوراً میری بات  کو سمجھ کر بولی رُکو میں خود قمیض کو اُتارتی ہوں ۔۔ سو پہلے انہوں نے اپنی قمیض اُتاری اور میری طرف دیکھتے ہوۓ قدرے شرما کر شلوار بھی اُتار دی ۔۔۔ انہیں ننگا ہوتے دیکھ کر میں نے بھی اپنے باقی ماندہ کپڑے اُتارے اور ننگا ہو کر اُن کے سامنے کھڑا ہو گیا اور آنٹی کے ننگے جسم کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔۔ واہ ۔۔۔آنٹی کا جسم الٹرا گورا ۔۔۔۔ اور سیکسی تھا ۔۔۔۔۔ اور ان کے ممے  قدرے  بڑے  اور پتلی سی کمر تھی اور گانڈ ۔۔۔۔۔۔ جو مجھے بڑی پسند ہے اور جس پر میں مرتا ہوں ۔۔۔۔ یعنی کہ موٹی گانڈ ۔۔۔ ان کی گانڈ کافی بڑی ، پیچھے سے  گول اور موٹی تھی ۔۔ ان کی چوت پر کالے اور گھنے لمبے بال تھے جبکہ ان کی پھدی ابھری ہوئ اور موٹی تھی ۔۔۔۔ گوری پھدی پر کالے گھنے بال بڑا ہی  مسرُور کُن نظارہ پیش کر رہے تھے ۔۔۔ ایک چیز اور جو میں نے نوٹ کی تھی وہ یہ کہ یہ بال ان کی پھدی پر بے ہنگم سے نہیں اُگے ہوے تھے بلکہ صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ بال بڑی مہارت سے ٹرم کیے  گۓ ہیں ۔۔۔ اسی لیۓ وہ ان کی پھدی پر بڑے اچھے لگ رہے تھے۔۔۔۔


 


       کافی دیر تک میں ان کے سیکسی جسم کو اور وہ میرے لنڈ کو دیکھتی رہی ۔۔ پھر میں آگے بڑھا اور ان کا ایک مما منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا ۔۔۔ تو وہ بولی نہیں نہیں یہاں نہیں ۔۔۔۔ مجھے اپنے رُوم میں اور اپنے بیڈ پر ہی  فکنگ کا  مزہ آتا ہے ۔۔۔ تم اپنے کپڑے اُٹھاؤ اور میرے ساتھ میرے رُوم میں آ جاؤ ۔۔۔۔ میں نے اپنے کپڑے اُٹھاۓ اور ننگا ہی ان کے پیچھے ٌیچھے چل پڑا ۔۔۔ وہ بھی میرے آگے آگے اپنے کپڑے اُٹھاۓ چل رہی تھی ۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

۔


 


روم میں جا کر وہ سیدھا بیڈ پر لیٹ گئ اور سیکسی پوز بنا کر بولی میرا جسم کیسا ہے ؟ تو میں نے کہا بہت خوبصورت بہت سیکسی  ۔۔۔۔ پھر اس نے اپنے دونوں مموں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور کہنے  لگی ۔۔۔ اور یہ بتاؤ تم کو میرے بریسٹ کیسے لگے ؟  لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہ ہی خاتون ہے جس سے سارا محلہ ناک ناک آیا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور محلے کی ہر عورت اس لیڈی سے پناہ مانگتی تھی ۔۔۔۔ اس وقت تو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ایک سیکسی لیڈی ہے ۔۔۔ اور جواس وقت  سیکس کے نشے میں ٹُن ہے ۔۔۔ ہا ں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھو ں میں اپنے ممے پکڑے ہوۓ تھے اور مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ بتاؤ نہ میرے ممے کیسے ہیں ؟ اب میں بیڈ پر ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور ان کا ایک مما اپنے منہ لیا اور اسے چوس کر  بولا ۔۔۔۔۔۔ بڑے ہی ٹیسٹی اور بڑے شاندار ہیں آپ کے ممے ۔۔۔۔ یہ سُن کر انہوں نے مجھے بالوں سے پکڑا اور میرا سر اپنی پھدی پر لے گئ اور بولی ۔۔۔ اب بتاؤ بتاؤ یہ کیسی ہے ،،؟؟ ۔۔ اور اسکے ساتھ ہی  میرا منہ اپنے پھدی پر زبردستی رگڑنے لگی ۔۔۔۔ جیسے ہی وہ میرا منہ اپنے پھدی پر لے گئ میں نے فوراً ہی اپنی ناک ان کی چوت سے لگا دی ۔۔ با لوں کی وجہ سے ان کی چوت