Administrator

حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح

Recommended Posts

حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کر کے پھر طلاق دیکر دوسری شادی کرنے پر خاتون شوہر کیخلاف کارروائی کیلئے عدالت آ گئی


لاہور(اُردو فن کلب  اخبار تازہ ترین۔یکم نومبر 2014ء) حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کر کے پھر طلاق دیکر دوسری شادی کرنے پر خاتون شوہر کیخلاف کارروائی کے لئے عدالت آ گئی۔ کاہنہ کی رہائشی نبیلہ نے سیشن عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مئوقف اختیار کیا کہ اسکے خاوند جاوید نے اسے طلاق دے دی بعد میں وہ اپنے کئے پر پچھتانے لگا اور میرا حلالہ کروا کر دوبارہ مجھ سے شادی کر لی اب جاوید نے دوبارہ اسے طلاق دے دی ہے اور کسی اور خاتون سے شادی کر لی۔ نبیلہ نے عدالت کو بتایا کہ جاوید کا یہ فعل غیر قانونی ہے۔ اسکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ایڈیشنل سیشن جج اعظم چودھری نے کاہنہ پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے فریقین کو اگلے ہفتے طلب کر لیا ہے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

ye aurat kay ik khatarnak roop ki kahani hay...

ik esi kahani jisay sun kr aap ke rongtay kharday ho jayen gayn

apki nazron main aurat ki rahi sahi izzat woh bhi khatam ho jaye gi

aur phr ap ye sochnay per majboor ho jayen gayn ke......................

Kya Aisa Bhi HO Sakta Hay?

Share this post


Link to post
Share on other sites

  دلچسپ معاملہ ہے

عورت نے کہا کہ خاوند طلاق دے کر پچھتایا اور اس کا حلالہ کروا کر دوبارہ نکاح کیا

اب حلالہ عورت کی مرضی کے بغیر تو ہونے سے رہا

اور ایسا حلالہ جو جان بوجھ کر کرایا جائے ایسا کرنےوالے اور جس کے لیے کیا گیا ہے  دونوں پر لعنت بھیجی گئی ہے

معلوم نہیں پاکستان کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے

طلاق دینا تو شاید قانون میں جرم نہیں

البتہ اکٹھی تین طلاقیں دینے والے کو ضرور قرون اولٰی میں کوڑے پڑتے رہے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے اس موضوع پر کافی سنا اور پڑھا ہے۔

ایک تو حلالہ اسی صورت ہی قابل قبول ہے کہ جب عورت کسی دوسرے کی بیوی بن جائے اور اس کی نیت گھر بسانے کی ہو مگر کسی وجہ سے بس نہ پائے اور طلاق ہو جائے۔

تب خاوند اول دوبارہ رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔

کسی اور صورت میں جان بوجھ کر پلاننگ کر کے حلالہ کرنا مناسب نہیں۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک رات بسر کرنا بھی ضروری ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں۔

مولوی حضرات کا کہنا ہوتا ہے کہ کسی دور پار کے بندے سے کروایا جائے،ایسے افراد جو گھر کے ہی ہوں یا جن سے ملنا جلنا ہوتا ہو وہاں نہ کیا جائے۔ کیونکہ اس سے قربت اور شرم وحیا ختم ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں بطور میاں بیوی مباشرت کر چکے ہوتے ہیں تو دوبارہ ان کے بھٹکنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

آج کل حلالہ ایک دلچسپ موضوع بن گیا ہے  - لوگ اس موضوع کو دلچسپی سے سنتے ہیں اور چسکے لیتے ہیں

پچھلے دنوں تو حلالہ سے ملتے جلتے موضوعات پر کئی ڈرامے بھی آئے ہیں

ایسا محسوس ہوا جیسے حلالہ کو پروموٹ کیا جارہا ہو

میں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ بہت سے لوگ حلالہ کو جائز سمجھتے ہیں

کئی مولوی حضرات حلالہ کو جائز بتاتے ہوئے حلالہ کرنے کی خدمات مہیا کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں

میں نے اس پر بہت تحقیق کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے ہمارے مذہب میں۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ دوسرے خلیفۃ راشد ایسے لوگوں کو زانیوں کے برابر سمجھتے تھے۔ اور ان کا فرمان تھا کہ مجھے کوئی ایسا کیس نظر آیا تو میں دونوں کو سنگسار کروا دوں گا - کیونکہ ایسے شخص کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو شارع نے نکاح سے مراد لیا ہے

فقہہ کے تمام مذاہب میں بھی سازشی حلالہ کے بارے میں ایسی ہی رائے ہے - مطلقہ سے نکاح کرتے وقت اگر یہ شرط رکھی جائے کہ  مباشرت کے بعد طلاق دیگا تاکہ پہلے خاوند سے نکاح کرلے یہ طریقہ تمام آئمہ کے نزدیک حرام ہے۔البتہ امام شافعی امام مالک امام حنبل کے نزدیک عورت پہلے خاوند کے لیے حلال  ہی نہیں ہوتی جبکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک عمل حرام ہے لیکن پہلے خاوند سے نکاح کےلیے عورت جائز ہو جاتی ہے 

خیر اس بحث سے قطع نظر میرے نزدیک حلالہ کا مسئلہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں سمجھتے ہیں کہ طلاقیں جب تک تین نہ دی جائیں صحیح طلاق نہیں ہوتی

میں نے کتنے ہی لوگوں سے گفتگو کی  اور معلوم ہوا کہ سب کے پاس یہی غلط تصور ہے کہ اگر ایک طلاق دی جائے تو مکمل علیحدگی نہیں ہوسکتی اور عورت کسی دوسرے سے تب تک نکاح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہوگی جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں -حالانکہ تما م فقہیں اس بات پر متفق ہیں کہ  ایک طلاق دینے کے بعد اگر عورت کے اگلے تین حیض آنے تک اس سے  رجوع نہ کیا جائے تو حقیقی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے

اور احسن طریقہ طلاق کا یہی ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے

ایک یا دو طلاقوں کے بعد یہ گنجائش رہتی ہے کہ اگرعدت کے اندر رجوع کیا جاسکتا ہے اور اگر عدت گذر  بھی جائے تو دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے حلالہ کی نوبت نہیں آئے گی --- اور اگر نکاح نہ کرنا چاہیں تو عورت عدت کے بعد آزاد ہوگی کہ کسی اور سے نکاح کرلے

میرے خیال میں تو حلالہ کو پروموٹ کرنے کی بجائے اس بات کو پروموٹ کرنا چاہیے کہ اگر عورت سے علیحدہ ہی ہونا ہے تو ایک طلاق دے کر علیحدہ ہوا جائے --- تین طلاقیں بیک وقت دینے والے  طریقے کی تو سختی سے حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور حکومت کی طرف سے سزا ملنی چاہیے

Share this post


Link to post
Share on other sites

لندن (رپورٹ، آصف ڈار)

اپنے شوہر کے ہاتھوں بیک وقت طلاق حاصل کرکے ایک خفیہ حلالہ سینٹر پہنچنے والی ایک پاکستانی مسلمان عورت کا کہنا ہے کہ ایک نام نہاد مولوی نے اسے کئی مردوں کے پاس بھیج کر اس کا حلالہ کردیا اور جب وہ تنگ آگئی اس نے مولوی کی بات ماننے سے انکار کردیا اور واپس اپنے شوہر کے پاس چلی گئی

مگر مولوی نے اس کے ذہن پر اس قدر منفی اثرات ڈالے کہ وہ نفسیاتی مریضہ بن گئی۔

پاکستان سے شادی کرکے مڈلینڈز میں سیٹل ہونے والی اس عورت نے اپنی جی پی کو بتایا کہ اس کے شوہر نے غصے میں آکر اسے تین طلاقیں دے دی تھیں۔ چونکہ اس نے پاکستان میں اپنے والدین سے سن رکھا تھا کہ شوہر اگر تین بار طلاق کہہ دے تو طلاق ہوجاتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنا شک دور کرنے کے لئے ایک اور پاکستانی عورت کی مدد سے خفیہ حلالہ سینٹر پہنچ گئی جہاں پر بیٹھے ہوئے نام نہاد مولوی نے اس سے کہا کہ اب وہ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے اور اسے حلالہ کرنا ہوگا۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کو چھوڑ کر اپنی ایک دوست کے ساتھ رہنے لگ پڑی تھی کیونکہ وہ سمجھنے لگی تھی کہ اب اس کا شوہر اس کے لئے غیر مرد بن گیا ہے۔ حالانکہ اس کے شوہر نے اسے بارہا سمجھایا اور ایک فتویٰ بھی لاکر دکھایا کہ ان کی طلاق نہیں ہوئی مگر اس نے اپنے شوہر کی بات نہیں سنی بلکہ مولوی کے کہنے میں آکر اس نے مولوی کے بتائے ہوئے ایک مرد کے ساتھ ایک رات کے لئے حلالہ کرلیا تاہم جب وہ کچھ دن بعد وہ اسی مولوی کے پاس دوبارہ گئی تو اس نے اسے بتایا کہ اس کا حلالہ موثر نہیں ہوا۔ لہٰذا اسے ایک مرتبہ پھر حلالہ کرنا پڑے گا۔

اس عورت کی داستان سننے والی جی پی نے جنگ لندن کو اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ یہ سادہ لوح عورت مولوی کے چنگل میں پھنس گئی تھی اس لئے مولوی نے خود بھی اس کے ساتھ ایک رات کے لئے حلالہ کیا اور اس کی عزت کو مذہب کی آڑ میں تار تار کیا گیا۔ اس کے اب یہ عورت سمجھتی ہے کہ اس کی سخت توہین کی گئی ہے۔ اس لئے اس کو ڈپریشن ہوگیا ہے اور وہ دل ہی دل میں یہ سمجھتی ہے کہ اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ دھوکہ کررہی ہے جسے اس کے حلالوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔

حلالہ کا شکار ہونے والی عورتوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک پاکستان نژاد برطانوی سوشل ورکر نے بتایا کہ ان کے پاس اس قسم کے بہت زیادہ کیس آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات ان کے پاس ایسے سادہ لوح جینوئین افراد آتے ہیں جو بعض مولویوں کے ہاتھوں لٹ چکے ہوتے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے لئے مشورہ مانگتے ہیں مگر قانون ان کی اس لئے مدد نہیں کرسکتا کہ چونکہ حلالہ کرانے والی عورت خود اپنی اور اپنے شوہر کی مرضی سے حلالہ مولوی کے ساتھ نکاح کرتی ہے۔ چونکہ اس کو ریپ نہیں کہا جاسکتا اس لئے پولیس اس پر کارروائی نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی یہ لوگ اپنی عزت کے ڈر سے معاملے کو زیادہ اچھالنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک ایسی عورت بھی آئی تھی جس کے شوہر نے اسے غصے میں طلاق دے دی مگر بعد میں وہ سخت نادم ہوا اور وہ دونوں ایک مولوی کے پاس گئے۔ مولوی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی سے حلالہ کرالیں مگر انہوں نے اپنی بدنامی سے بچنے کے لئے مولوی کو حلالہ کرنے کی درخواست دی۔ مولوی نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے ہی روز اس عورت کو طلاق دیدے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اگلے روز اس عورت کا سابق شوہر آیا مولوی سے طلاق کا تقاضا کیا تو اس نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنی بیوی کو کسی بھی صورت میں طلاق نہیں دے گا۔ اس شخص نے مولوی کی بہت منتیں کیں مگر وہ نہ مانا۔ چنانچہ اس کے شوہر کو اس معاملے میں محلے اور مسجد کے دوسرے لوگوں کو ملوث کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مولوی کو مارپیٹ کر طلاق پر آمادہ کیا۔

اس سوشل ورکر نے کہا کہ بعض نام نہاد مولوی نو مسلم عورتوں کو سخت پریشان کرتے ہیں اور حلالہ کے نام پر ان کا سخت جنسی استحصال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نومسلم عورتیں معلومات نہ رکھنے کی وجہ سے ہر چھوٹی موٹی بات پوچھنے مولویوں کے پاس جاتی ہیں مگر ان میں سے بعض مولوی ان کی کم علمی کا فائدہ اٹھا کر انہیں داغ دار کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کئی نومسلم عورتیں آئی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر شکایت کی ہے۔ ان میں سے بعض عورتیں اب اسلامی فلاحی اداروں میں بھی مقیم ہیں۔ جہاں ان کی بحالی کا کام ہورہا ہے۔

لندن سے تعلق رکھنے والے ایک سنگل مدر نے اپنا نام افشاء نہ کرنے کی شرط پر جنگ کو بتایا کہ وہ دو مردوں کے درمیان پنگ پانگ بن گئی تھی جس کے بعد اس نے شادیوں سے توبہ کرلی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی تھی کہ اس کے اپنے شوہر کے ساتھ اختلافات ہوگئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرکے طلاق لے لی۔ اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ بعد اس نے ایک اور مرد کے ساتھ شادی کرلی مگر ایک دن اس نے غصے میں آکر اسے طلاق دے دی جس کے بعد وہ سخت پریشان بھی ہوا اس نے بتایا کہ وہ اپنے اس شوہر کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی چنانچہ وہ ایک مفتی کے پاس پہنچ گئی جس نے اسے مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کرکے اس سے طلاق لے لے تو اس کا حلالہ ہوجائے گا اور پھر وہ اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کرسکتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے ایسا ہی کیا اور اپنے پہلے شوہر کو دوبارہ شادی اور طلاق دینے پر آمادہ کریں۔ جب وہ طلاق لے کر دوسرے شوہر کے پاس آئی تو اس نے اسے دوبارہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جب وہ پھر مفتی کے پاس گئی تو اس نے کہا کہ اگر اب وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ تیسری مرتبہ شادی کرنا چاہتی ہے اسے کسی اور کے ساتھ حلالہ کرنا پڑے گا۔ اس نے بتایا کہ وہ حلالوں سے تنگ آگئی ہے اور اب اس نے کسی سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا چھوٹا بیٹا اپنی ماں کو شوہر تبدیل کرتے ہوئے دیکھ کر بڑا نہ ہو۔

حلالہ کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر کا نکتہ نظر ایک ہی ہے کہ حلالہ محض اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ اس عورت کی اپنے شوہر کے پاس جانے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اس سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔ بلکہ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طلاق کے بعد اگر کوئی عورت حلالہ کے ارادے کے بغیر کسی دوسرے مرد کے ساتھ شادی کرلے اور کچھ عرصے بعد ان دونوں میں طلاق ہوجائے تو وہ دوبارہ شادی کرسکتے ہیں۔ تاہم حلالہ کے نام پر شادی کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں دی گئی۔

اس بارے میں برطانیہ کے مقتدر علماء کرام کا کہنا ہے کہ بعض نام نہاد مولویوں اور مفاد پرستوں نے مذہب کے نام پر دوکانیں لگا رکھی ہیں اور لوگوں کی بھاری اکثریت ان کے چنگل میں پھنس جاتی ہے۔ ان علماء نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں نکاح، شادی، طلاق، خلع وغیرہ کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ صرف مستند اداروں میں ہی جائیں اور ایسے لوگوں کے ہتھے نہ چڑھیں جو عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس موضوع پر مطالعے سے جو بات میں سمجھ پایا وہ یہ کہ اگر طلاق اس طرح دی جائے جس طرح ہدایت کی گئی ہے تو حلالہ کا مسئلہ ہی نہیں پیدا ہو سکتا

مزیدار بات یہ ہے کہ طلاق دینے کے صحیح طریقہ پر سبھی مسالک متفق ہیں

اور وہ طریقہ یہ ہے کہ

اگر یہ فیصلہ کرہی لیا ہے کہ گھر نہیں بس سکتا، اور علیحدہ ہونا ہی ہے تو

۔ طلاق ایک ہی دی جائے اور اس کے بعد عورت کے تین حیض (پیریڈز) آنے تک عدت پوری ہونے کا انتظار کیا جائے -عدت تک اگر رجوع نہیں کیا تو طلاق واقع ہوجائے گی (حاملہ کی عدت حمل ختم ہونے تک ہوتی ہے)۔

۔ طلاق غصّہ کی حالت میں نہ دی جائے بلکہ غصّہ اترنے کے بعد ٹھنڈے دل سے یہ سوچا جائے کہ کیا مصالحت اور گذارا ہو سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔ اگر مصالحت کی صورت نظر نہیں آتی اور طلاق کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تو

۔ طلاق  حیض کی حالت میں ہرگز نہ دی جائے بلکہ جب عورت غسل کر کے پاک ہوجا ئے تب دی جائے یا اگر وہ پہلے ہی پاکیزگی (طہر) کی حالت میں ہے تو

۔ جس پاکیزگی کے دورانیے میں مباشرت کی گئی ہے اس میں طلاق نہ دی جائے بلکہ اگلے پیڑیڈ کے بعد پاکیزہ ہونے کا انتظار کیا جائے اور طلاق دینی ہے تو اس طہر میں مباشرت سے گریز کیا جائے 

۔ طلاق دینے کے بعد عورت کو تین حیض تک عدت شوہر کے گھر میں ہی گذارنی ہے اس دوران شوہر اگر اپنے فیصلے کو واپس لینا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے لیکن اگر طلاق کے فیصلے پر قائم ہے تو اسے جسمانی تعلق سے پرھیز کرنا ہے اور بستر الگ رکھنا ہے - البتہ عورت کے لیے ہدایت ہے کہ اگر وہ بسے رہنا چاہتی ہے تو اس دوران خوب بناؤ سنگھار کر کے مرد کو لبھائے تاکہ رجوع ہو جائے

۔ عدت ختم ہونے تک اگر رجوع نہیں کیا تو تیسرے حیض کے شروع ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی

اب عورت آزاد ہے اور اس شخص کی بیوی نہیں رہی اور کسی دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ( اگر عورت آزاد ہونا چاہے تو اس طریقہ سے کم سے کم مدت میں عدت پوری ہوتی ہے جو غالباََ دو ماہ بھی ہو سکتے ہیں)۔

لیکن چونکہ ایک طلاق کے بعد عدت پوری کی گئی ہے اسلیے اگر شوہر اور بیوی بعد میں پچھتائیں تو اب ان کو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور نیا حق مہر ہوگا

لیکن ہمارے ہاں سب یہی سمجھتے ہیں کہ جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں مستقل علیحدگی ہوتی ہی نہیں

میرے سامنے آج تک ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جس میں صحیح طریقے سے طلاق دی گئی ہو جیسے کہا گیا ہے

اگر طلاق صحیح ہدایات کے مطابق دی جائے تو ایسی صورت میں حلالہ کرنے کی نوبت تقریباََ ناممکن ہے اوراگر ہے تو وہ یہ ہوسکتی ہے کہ

ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی - تین حیض گذرنے کے بعد طلاق واقع ہو گئی اور دونوں علیحدہ ہوگئے --- بعد میں پچھتائے اور دوبارہ نکاح کرلیا ---- پھر کچھ عرصہ بعد جھگڑا ہوا اور نوبت دوبارہ طلاق تک پہنچی --- تین مہینے گذرنے کے بعد طلاق واقع ہوئی اور علیحدگی ہو گئی --- پھر دوبارہ فیصلہ کرلیا کہ غلطی کی اور ایک بار اور نکاح کرلیا --- لیکن  چونکہ دو بار طلاقیں ہو چکی ہیں -- اب اگر تیسری بار طلاق ہو گئی تو عورت مکمل حرام ہو جائے گی ۔۔۔ اور حلالے کے بغیر اس سے اب نکاح ممکن نہ رہے گا

اگر اس طریقہ کو اختیار کیا جائے تو کبھی حلالے کی نوبت آہی نہیں سکتی

میں نے کہیں یہ بھی نہیں سنا کہ لوگ جو طریقہ بتایا گیا ہے اس طریقے سے طلاق دیتے ہوں

اگر آپ کے سامنے ایسی کوئی مثال ہو تو مجھے کم از کم ضرور آگاہ کیجیے گا

مگر ہو کیا رہا ہے --- غصّے میں سوچے سمجھے بغیر ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں --- یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ عورت کہیں حیض کی حالت میں تو نہیں ، کہیں حاملہ تو نہیں ۔ بس غصّے میں آؤٹ ہوئے اور طلاق دی ۔۔۔ پھر بچوں کی وجہ سے پچھتائے کہ بچوں کی ماں کہاں سے لائیں --- مولوی کے پاس گئے اور حلالہ کے لیے شکار تلاش کیا

اور بھائی غصے میں آپ نے طلاق دی ہے --- بیوی کا کیا قصور ہے جو اسے دوسروں سے چدوا رہے ہو ۔ نہایت ہی توہین آمیز بات ہے یہ عورت کے لیے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Meri ilam ke mutabik halala shaid hi kabhi aplicable hoota ho . halala ki zaroorat jab ap teen dafa talaq hassan se talaq de dain ( 3 talaq ka means 1 talaq ) agar ap teen dafa talaq de b dain tu

aurat ke tessre ayam se qabil rajhoo jaiz hai aur agar tesree ayyam se qabil rajho na ho tu fir nia naka nia haqmar ke sath usi aurat se jaiz hai

is tara 2nd time aur agar third time aisa ho jaye fir halala karna parta hai ...

mere zaati hail main itni dafa talaq yan kisi aurat ke nikal kar fir rajoo yan nia nika ke baad lakhon main koi 1 case ho ga jo dobara rajoo karna chahe ga

For reffernce kindly

 

surah baqra       aiyat # 228 to 240
surah talaq        aiyat  1 to 7
surah nisa         aiyat   35
surah baqra       aiyat  232 for concept of halala
ibne abbas         sahi muslim jild  # 2 hadith # 3491

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

بھائی آپ کی تین طلاقوں والی بات درست ہوگی -- یہ حوالے بھی درست ہونگے

لیکن پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ میں نے ایک طلاق دینے والی جو بات کی ہے وہ سارے مسالک حتی کہ اہل تشیع میں بھی متفق ہے

کہ طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دی جائے (تین نہ دی جائیں - اور یک مشت تو ہرگز نہ دی جائیں)۔ اور عدت تک انتظار کیا جائے - اسے غالبا کچھ مسالک میں طلاق احسن کہا گیا ہے کہ صحیح طریقۃ طلاق تو یہی ہے

دوسرا طریقہ ہے تین طلاقوں کا --- کہ تین طلاقیں اگر دینی ضروری ہی ہیں اور عورت سے صرف علیحدہ ہی نہیں ہونا بلکہ اسے اپنے لیے مکمل طور پر حرام کر دینا ہے تو پھر ایک طہر (پیریڈ کے بعد پاکیزگی میں) ایک ہی طلاق دی جائے اور تین طہر میں تین طلاقیں دے دی جائیں --- یہاں تک بھی میری معلومات کے مطابق اتفاق ہے -- اور اسے طلاق حسن کہا جاتا ہے --- تین طلاقوں کے بعد عورت حلالہ کے بغیر نکاح میں نہیں آسکتی

یہاں تک تو جو لکھا ہے اس میں تقریباََ سبھی متفق ہیں

میں نے اوپر کی پوسٹ میں جو کچھ لکھا کوشش کی تھی کہ صرف اتنا ہی لکھوں جس پر سب کا اتفاق ہے کوئی مسلکی بحث نہ چھیڑوں --- مگر ہماری عادت ہے کہ ہم اتفاق والی چیزوں پر گذارہ کرنے تیار نہیں ہوتے اور اتفاق والی باتوں کو مکمل نظر انداز کرکے اختلافی مباحث میں غیر ضروری الجھ جاتے ہیں

خیر اب ہے تیسری صورت --- جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے (کہ جو طریقہ بتایا گیا ہے اس کی خلاف ورزی ہے)۔ اور وہ ہے کہ ایک ہی مجلس میں یا ایک ہی موقع پر تین طلاقیں دے دی جائیں

یہاں مسالک میں اختلاف ہے -- کہ کیا ایک ہی بار دی گئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہونگی یا تین شمار ہونگی

حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک کے مطابق وہ تین طلاقیں شمار ہونگی ، اہل حدیث کے نزدیک ایک مجلس میں جتنی بھی طلاقیں دی جائیں ایک ہی شمار ہو گی (لیکن اتنی بات پر یہ بھی متفق ہیں کہ زیادہ طلاقیں دینا ایک ساتھ ہے گناہ کاکام)۔ اور غالباََ اہل تشیع کے نزدیک بھی ایک ساتھ تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں ۔۔۔ بلکہ طلاق دینے کی کنڈیشنز ان کے ہاں اور بھی سخت ہیں کہ غصّے میں دی گئی طلاق نہیں ہوتی

یہاں کون صحیح ہے کون غلط میں اس بحث کا غیر ضروری سمجھتا ہوں - اور سبھی کا احترام کرتاہوں --- ان کی بحثیں میں پڑھی ہیں -- سبھی ان اوپر دیے گئے حوالوں اور حدیثوں سے ہی نتیجہ نکال رہے ہیں لیکن ان میں رائے کا اختلاف ہے - ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک تو صحیح تشریح کررہا ہے اور دوسرا غلط 

بھائی آپ کا جو مسلک ہے آپ وہ رائے رکھو اور کسی دوسرے پر اپنی رائے نہ ٹھوسو

ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ  سازش کے تحت کئے گئے حلالہ کے سبھی متفقہ طور پرسخت  خلاف ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام رپلائی پڑهے بحث مثبت ہے

خدا نے انسانی فطرت کو جس طرح ترتیب دیا ہے کوئی کام اس سے الٹ کیا جائے تو ایک بار انسان کا کم عقل ذهن ہل کر رہ جاتا ہے. انسانی رشتوں میں میاں بیوی کا رشتہ جس قدر اہم ہے اسی قدر نازک بهی ہے.ہمارے مذهبی پیشواؤں نے اپنی ذاتی ضرورتوں کو مذہبی انداز میں اپنے تابع کر لیا. اور اپنے فائدے کو ہی مد نظر رکها.قصور مرد کا اور زیر عتاب بے چاری عورت ،،،ہوتا تو یہ کہ مرد کو کوئی  مالی یا اس قسم کی کوئی تادیبی سزا دی جاتی پهر بهی بات بنتی تهی. مگر نہیں انہیں قربانی ہمیشہ عورت سے ہی چاہیئے،ذرا سوچیں .جس خاوند کی عورت ایک رات کے لیئے کسی اور کے بستر پر ہو تو کیا وہ غیرت سے ہی نہ مر جائے گا.اگر اس بات کا اندازہ لگانا ہو تو دو پل کے لئے تصوراتی طور پر ہی خود کو اس کی جگہ پر رکه کر سوچیں .جواب با آسانی مل جائے گا

ایک طرح سے حلالہ اس چیز سے بهی غلط قرار پاتا ہے کہ یہ وہ نکاح ہے جو چهپ کر کیا جاتا ہے.جبکہ نکاح کا مطلب ہی اپنی شادی کا اعلان کرنا ہے.اور کوئی بهی نکاح شرطیہ یا مخصوص مدت تک کے لیئے نہیں کیا جاتا. میری معلومات کے حساب سے ایسا نکاح ہی غلط ہے. جبکہ حلالہ میں پہلے مدت کا تعین کیا جا رہا ہوتا ہے.اور پهر جب ایک بیوی ابهی اپنے پہلے خاوند کے نکاح میں موجود ہے وہ دوسرا نکاح کیسے کر سکتی ہے.طلاق کا سہی طریقہ وہی ہے تو اوپر ینگ ہارٹ نے لکها.مگر طلاق ایک نا پسندیدہ عمل ہے .خدا سب کو اس سے محفوظ رکهے.جہاں تک میری معلومات ہیں . اس معاملے میں ہر فرقہ کی الگ رائے ہے.اور ہر فرقہ سے تعلق رکهنے والہ اپنے فرقہ کی روشنی میں ہی اس بات پر بحث کرے گا.جیسا کہ ینگ ہارٹ نے کہا.میں بهی ہر فرقہ کا دل سے احترام کرتا ہوں.مگر ان حالات کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو ان سب میں اہلحدیث فرقہ کی رائے بہتر محسوس ہوتی ہے.کیونکہ بهت سے دوسرے فرقے اپنے ذاتی معاملے میں اہلحدیث سے فتوی لیتے دیکهے گئے جبکہ دوسروں کو وہ حلالے کی چهری سے ذبح کرتے ہیں مجلس میں دی گئی تمام طلاقیں ایک ہی شمار ہو گی.اور عدت کے اندر خاوند رجوع کر سکتا ہے .رجوع کے لیئے عورت ست اتنا کہنا کافی ہو گا کہ میں نے تجه سے رجوع کیا.

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہاہاہاہا

یہی تو مجھے المیہ لگتا ہے --- ہم تین طلاقوں کے بحث میں اتنا الجھتے ہیں کہ لوگوں کے دماغ میں کہیں بیٹھ گیا ہے کہ ایک طلاق دینے سے مکمل علیحدگی ہوتی ہی نہیں ہے

سب سے پہلے تو لوگوں کے دماغ میں یہ بٹھانے کی ضرورت ہے کہ علیحدہ ہونے کے لیے ایک طلاق کافی ہے - تو پھر کہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں

اوپر سے ظلم ہمارے ہاں طلاق رجسٹر کرانے کے طریق کار میں بھی ہے --- جب تک تین طلاقیں نہ لکھی جائیں طلاق ہی رجسٹر نہیں ہوتی - اب یہاں کیا کیا جائے - ہر کام ہی الٹا ہے -

 

دراصل مسالک کا اختلاف وہیں شروع ہوتا ہے جہاں سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے -  کیونکہ تلقین کی گئی تھی کہ علیحدہ ہونا ہے تو ایک ہی طلاق دو اور عدت کا انتظار کرو (کم از کم پچھتانے کی صورت میں دوبارہ نکاح کی گنجائش تو ہوتی)۔

لیکن دے ڈالی جاتی ہیں تین وہ بھی ایک ہی مجلس میں - تو یہاں خلاف ورزی ہوئی احکام کی۔ اور میرے نزدیک صریحاََ ظلم کیا گیا عورت پر

اسی لیے ایسے معاملے میں حضرت عمر تین اکٹھی طلاقیں دینے والے کو 20 کوڑے مارا کرتے تھے - کہ یہ صریحاََ دین کے ساتھ مذاق ہے

اب اختلاف یہ ہے کہ اگر تین طلاقیں دے دی ہیں تو انہیں تین سمجھا جائے یا ایک

میں نے چونکہ سبھی کی رائے کو ان سب کے نقطۃ نظر سے پڑھا ہے اور میرے خیال میں تو سبھی اپنی اپنی جگہ مضبوط مؤقف اور دلیلیں رکھتے ہیں - اگر اختلاف ہے تو صرف ان مسلک کے آئمہ میں نہیں بلکہ صحابہ کرام کے درمیان بھی اس معاملے پررائے کا اختلاف رہا ہے

ہم اگر یہ کہیں گے کہ ہمیں یہ مؤقف زیادہ بہتر لگتا ہے تو ساتھ ہی ذاتی رائے کے مطابق بھی کہہ دینا چاہیے -- مفتی نہ ہی بنیں تو بہتر ہے 

لیکن جیسے کوئی پھنسنے کے بعد راستہ تلاش کرتا ہے تو تین اکٹھی طلاقیں دے کر اہل حدیث کے مؤقف اختیار کرنے سے کچھ لوگوں کی نجات کا راستہ مل جاتا ہے  - جو کم از کم سازشی حلالے سے کہیں بہتر ہے

میرے نوٹس میں دو ایسے کیسزرہے ہیں جن میں اکٹھی تین طلاقوں کے بعد، اہل حدیث موقف کے مطابق دوبارہ نکاح کیا گیا

لیکن لوگوں کا ردّعمل بڑا ہی واھیات تھا --- سبھی محلے والے جینا حرام کیے رکھتے تھے - اور بے ہودہ تبصروں کا ریکارڈ قائم کرنے میں سبقت لینے کی کوششیں کرتے رہتے

میری جس سے بحث ہوتی میں لاکھ کہتا کہ ایک فقہ میں یہ گنجائش اور مؤقف ہے لیکن ہمارے ہاں ہر بندہ ہی کنویں کا مینڈک ہے - جو فتوی اس کے پاس ہے اس سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں سکتا - دوسروں کے لیے سوائے مشکلات پیدا کرنے کے اور کوئی کام نہیں کرتا

لیکن بہرحال اگر طلاق ہی  شرعی قانون/طریق کار کے مطابق دی جائے تو مسئلہ تو پیدا ہی نہیں ہوتا

اب سازشی حلالے میں بھی دیکھ لیں

مالکی، شافعی، حنبلی کہتے ہیں کہ حلال کرنے کی نیت سے دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے نکاح ہوگا ہی نہیں اور بیوی حلال ہی نہیں ہوگی - صرف زنا ہوگا

امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہے تو یہ نہایت گناہ کا کام لیکن حلالہ ہو جائے گا اور بیوی حلال ہوجائے گی

جبکہ امام ابوحنیفہ کے اپنے دو قابل شاگردوں نے بھی ان کے مؤقف سے اختلاف کیا

حضرت عمر کا کہنا تھا میرے پاس کوئی سازشی حلالہ کا کیس آیا تو میں سنگسار کردوں گا - ان کے بیٹے کا مؤقف تھا کہ سازشی حلالہ کرکے 20 سال بھی نکاح میں رہیں گے تو زنا ہی کرتے رہیں گے، حضرت عثمان نے اپنے دور میں ایک اس طرح کے کیس میں میاں بیوی کی علیحدگی کروا دی تھی کہ یہ نکاح  ہوا ہی نہیں ہے

تو یہ سب پڑھ کر جب پتہ چلتا ہے کہ کچھ مولوی اور سنٹرز حلالہ کی سروسز دیتے ہیں تو اسے کیا کہا جائے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

جی درست کہا آپ نے نکاح اعلانیہ ہوتا ہے چھپ کر نہیں

رجوع میں اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایک اور دو طلاق کی صورت میں عدت کے اندر اندر رجوع کیا جاسکتا ہے - اور اس میں واقعی یہ کہنا کافی ہے کہ میں نے رجوع کیا یا جسمانی تعلق قائم کرلے --- عدت اگر گذر جائے اور رجوع نہ ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی --- عدت کے بعد یہ گنجائش رہے گی کہ دوبارہ نکاح کرلیا جائے

لیکن اگر تین طلاقیں ہوگئیں تو دربارہ نکاح کی گنجائش ختم ہوجائے گی سوائے ایسی صورت کے کہ عورت کسی اور سے اصلاََ نکاح کی نیت سے نکاح کرے جسمانی تعلق قائم ہو اور پھر کسی وجہ سے نباہ نہ ہوسکے اور طلاق ہو جائے

یہ ہوگا اصل حلالہ

میرے نزدیک تو شادی کرتے وقت یہ ساری باتیں لڑکے اور لڑکی کو اچھی طرح سمجھا دینی چاہییں -اتنی بنیادی باتوں سے لاعلمی کے نتائج سب کے سامنے ہیں -- اس میں کیا راکٹ سائنس ہے

کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ طلاق کا صحیح طریقہ کیا ہے

اور کوئی یہ بھی ماننے کو تیار نہیں کہ ایک طلاق کی علیحدگی کے بعد دوبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے

سب یہی سمجھتے ہیں کی طلاق ہو گئی تو اب حلالہ ضروری

Share this post


Link to post
Share on other sites

معلوم نہیں آپ کو میری کون سی بات فتوی لگی اور کس بات پر آپ کو ہنسی آئی؟

حلالہ سنٹر اور اس طرح کی سہولت دینے والے واضح طور پر زنا کا کاروبار ہی کرتے ہیں

آپ کی باقی تمام باتوں سے میں متفق ہوں

آپ کی یہ بات کہ شادی سے پہلے لڑکے کو طلاق کا طریقہ یا یہ ساری باتیں سمجھا دینا چاہیں کچھ مناسب نہیں..اس سے شاید منفی تاثر پڑتا ہے.بلکہ اسے شادی کی اہمیت اور اس کو اس ذمہ داری کو نبھانے کا بتایا جائے 

عموما طلاق جب بھی دی گئی غصہ کی حالت میں ہی دی گئی تو اس صورت حال میں ایک یا تین کا ہوش مشکل ہی ریتا ہو گا. زیادہ دیکھنے سننے میں یہی آیا ہے. شاید اسی لیے ایک مجلس میں دی گئی تمام طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی ہے.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now