irfan1397

لڑکی کی پسند کی شادی

Recommended Posts

بالکل سو فیصد جناب۔


ہر لڑکی کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے اپنی رضا مندی سے اپنا جیون ساتھی منتخب کرے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

.

.

apny jevan sathi k intikhab k liye osy kia kerna chahiye ? matlb k kaisy muntikhab kerna chahiye apna jevan sathi ? ? ?

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس کا بہت آسان کا طریقہ ہے۔


سب سے پہلے خود کو جانے کہ میں کون ہوں،میرا بیک گراؤنڈ کیا ہے،معاشی حالت کیسی ہے،شکل و شباہت کیسی ہے،شعور اور تعلیم کا کیا معیار ہے،گھریلو حالات اور سوچ کیسی ہے۔ علاقہ کیسا ہے اور کسی قسم کا مذہبی و سماجی رجحان ہے۔


یہ سب جاننے کے بعد وہ اس مرد کو منتخب کرے جو ان تمام چیزوں پر مثبت تاثرات رکھتا ہے۔وہ مرد رشتہ دار ہو سکتا ہے،کزن ہو سکتا ہے،کلاس فیلو،دوست،جان پہچان والا۔کوئی بھی۔


مگر وہ لڑکی کو اوپر بیان کیے گئے تمام عوامل کے ساتھ قبول کرتا ہو اور ان چیزوں کی قدر کرتا ہو۔


لڑکی جب یہ خود جان لے گی کہ میں کیا ہوں تو اس کا انتخاب کرنا آسان ہو جائے گا کہ میرے لیے موزوں کیا ہے۔


مثال دوں گا کہ لڑکی خود سانولی ہو اور امید کرتی ہو کہ مرد گورا چٹا ہونا چاہیے۔لڑکی خود ان پڑھ ہو اور اس کی ڈیمانڈ پی ایچ ڈی ہو۔خود دیہاتی مگر مرد شہری چاہیے۔خود غریب اور شوہر کروڑ پتی درکار ہو۔


خود مذہبی رجحان ہو تو شوہر بھی ایسی ہی سوچ کا حامل ہو۔


یہ نہ ہو کہ خود دقیانوسی ہو اور ساتھی ماڈرن ہو ۔


یہ باتیں سوچ سمجھ کر ہر مرد کو پرکھے۔ظاہری شکل و شباہت،دولت،رتبے اور دیگر باتوں کو نہ دیکھے اور دور رس نتائج والی چیزوں پر غور کرے۔


اگر ان سب چیزوں کو وہ کسی بھی مرد میں دیکھے جو اس کے والدین نے پسند کیا ہو یا خود اس نے پسند کیا ہو تو اسے فوقیت دینی چاہیے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

.

.

kuri gori chiti , matric pass hai , family b matwast tabky ki hai .

ab wo apnay rishtay k liye apna jaisa talash kery ge . kisi se jan pehchan berhaye ge , os ki soch daikhy ge , ye sub daikhnay k liye k wo kaisa hai chand din sath rehna b zarori hai ? ? ?

Share this post


Link to post
Share on other sites

ساتھ رہنا ضروری نہیں ہے۔مگر کئی باتیں انسان سن یا جان لیتا ہے۔


جیسا کہ جب کوئی پرپوزل آئے تو تعلیم،مذہبی رجحان،سوچ،گھر کا ماحول،پہناوا،اٹھنا بیٹھنا یہ سب لڑکی کو معلوم ہو جاتا ہے۔کچھ وہ خود محسوس کرتی ہے اور کچھ اسے بتایا جاتا ہے۔اگر نہیں بتایا جاتا تو وہ خود جاننے کی حقدار ہے اور وہ بنا جھجھک پوچھ لے۔


پھر جلدبازی میں فیصلہ نہ کیا جائے اور ہاں کہنے سے پہلے کئی بار دونوں خاندانوں کو باہم مل بیٹھنا چاہیے۔


اسی طرح اگر لڑکی نے خود کسی کو پسند کیا ہے تو وہ ساری باتیں خود نوٹ کرے اور ان کی بنا پر فیصلہ کرے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

.

.

.

ap ki bat k dono khandano ko mil baith ker faisla kerna chahiye

se mein 100% agree hun .

jab dono mil baith ker faisla kerein ge to galti k chances . . .kam. . . hain .

.

.

.

ap ki akhri bat k ager larki ne khud pasand kia hai to wo sari batain khud note kery se mery zehn mein aik sawal aya hai k wo kaisy note kery ? ? ?

os k sath ghoomy phiry ?

os se mily july , ?

ghanta ghanta gup shup lagay ?

ya kisi aur tareeky se ?

os ki aadton ko kaisy note kery ? plz rehnamai farma dain is bary mein .

Share this post


Link to post
Share on other sites

پسند اور نا پسند کا حق لڑکے اور لڑکی دونوں کا ہے اور ہونا چاہیے اور پہتر یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اس صلاح مشورے میں شامل کر کے رشتہ فائینل کریں


Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

ڈئیر سیدھی اور صاف بات ہے۔۔اس میں ڈیٹیل کی ضرورت نہیں۔۔دنیا کے انسانی حقوق کے بل کو ملاحضہ کریں۔۔اُس بل میں آپ کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند کی شادی کرنے کا۔۔دنیا کےکے تمام ممالک نے اقوامِ متحدہ کے اُس بل پہ دستخط کئے ہیں۔۔اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ بل کون سے مذہب کی تعلیمات سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔۔۔مزہبی ،علاقائی،لسانی غرض ہر لحاظ سے پسند کی شادی کی اجازت دی گئی ہے۔۔اور جو کوئی اعتراض کرے یقینی طور پہ وہ جاہل انسان ہی گا۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھائی جی سب سے اہم بات کہ جو چیز ہم کو پسند ہوتی ہے ہم اُس کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔۔اگر ہم اپنی پسند کی پھدی مارنے کی خواہش کر سکتے ہیں تو خواتین کو بھی پورا پورا حق ہے اپنی مرضی کے لن کی سواری کرنے کا۔۔۔اب دیکھیں نہ بھائی پھدی تو خواتین کے پاس ہی ہے۔۔اور جو چیز جس کی ملکیت ہے اُسے پورا پورا حق ہے جیسے چاہے استعمال کرے یا کسی کالے چور کو دے۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

لڑکی کیسے یہ بات نوٹ کرے۔


جب لڑکی نے گھر والوں پر چھوڑا ہو تو وہ ماں بہن یا کسی اور رشتہ دار سے معلوم کرنے کو کہے کہ لڑکے کا مزاج،اٹھنا بیٹھنا،عادتیں،سوچ رجحان وغیرہ کیسا ہے۔


مگر جب خود پسند کیا ہو گا تو یقیناً لڑکی تبھی پسند کرتی ہے جب اس کا لڑکے کے ساتھ غیر رسمی  تعلق ہوتا ہے۔


یہ تعلق ضروری نہیں افئیر کا ہو۔ یہ ایک کلاس فیلو،کولیگ،دوست،جان پہچان والا،پڑوسی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔


 


جب لڑکی کسی کے لیے پسندیدگی کے جذبات رکھے تو وہ اس مرد کو جانے،اس سے بات کرنے یا اس کا مزاج اور سوچ جاننے میں قطعی کوئی قباحت نہیں ہے۔


وہ ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ گھنٹہ گھنٹہ پیکچ پر بات کرے یا کہیں گھومے پھرے۔


وہ مختصر سے ٹاکرے میں اسے باریک بینی سے نوٹ کرے۔ انسان چاہے اوپر سے جتنا مرضی کوشش کر لے اس کے اندر کی سچائی نکل ہی آتی ہے۔


 


جب لڑکی کو محسوس ہو جائے کہ جو میں چاہتی ہوں اور جس خصوصیات کی مجھے ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہیں تو وہ ہاں کر دے۔


یہاں غلطی لڑکیاں یہ کرتی ہیں کہ ہاں کرنے میں جلدی کی اور بعد میں لڑکے کو نوٹ کیا۔


یہ بات منفی ثابت ہوتی ہے۔


اب اگر لڑکی نے خود پسند کیا ہے تو ماں باپ کو چاہیے کہ ایک بار دوبارہ بیٹی کی پسند کو اپنے تجربے کی نظر سے دیکھیں۔


اگر انھیں لڑکے میں کوئی بڑی خامی نہ ملے تو وہ بیٹی کی پسند کو خندہ پیشانی سے تسلیم کر لیں۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now