Young Heart

کھلونا تو نہیں ہوں میں

Recommended Posts

کھلونا تو نہیں ہوں میں

کہ تم چاہو کہ ہم
ایک دوسرے کو چھو سکیں
محسوس بھی کر لیں
پھر اپنے آپ کو دریافت کر لیں ہم

جہاں موقع ملے تم کو
عقابوں کی طرح تم کو
جھپٹ پڑنے کی عادت ہے

گریزاں تم سے گر ہوتی ہوں میں
ایسے طلاطم میں
تو تم ناراض ہو جاتے ہو

آخر خود کبھی سوچو
کھلونا تو نہیں ہوں میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

بوسوں کی حلاوت میں
جب ہونٹ سلگتے ہوں
سانسوں کی تمازت سے
جب چاند پگھلتے ہوں
اور  ہاتھ کی دستک پے
جب بند قبا اس کے
کھلنے کو مچلتے ہوں
عشق اور ہوس کے بیچ
کچھ فرق نہیں رہتا
کچھ فرق اگر ہے بھی
اس وقت نہیں رہتا
جب جسم کریں باتیں
دریابھی نہیں بہتا
میں جھوٹ نہیں کہتا
اے شام گواہی دے

(امجد اسلام امجد)

Share this post


Link to post
Share on other sites

کنیز

حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پر
حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر
حضور خیریت تو ہے حضور کیوں خاموش ہیں
حضور بولیے کہ وسوسے وبالِ ہوش ہیں
حضور، ہونٹ اِس طرح کپکپا رہے ہیں کیوں
حضور آپ ہر قدم پہ لڑکھڑا رہے ہیں کیوں
حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے
حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہے
حضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پر
حضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پر
حضور منہ سے بہہ رہی ہے پیک صاف کیجیے
حضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجیے
حضور کیا کہا، مَیں آپ کو بہت عزیز ہوں
حضور کا کرم ہے ورنہ مَیں بھی کوئی چیز ہوں
حضور چھوڑیے ہمیں ہزار اور روگ ہیں
حضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں
(احمد فراز - تنہا تنہا)

Share this post


Link to post
Share on other sites

اگر  محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

لباس تن سے اُتار دینا
کسی کو بانہوں کے ہار دینا
پھر اُسکے جذبوں کو مار دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

گناہ کرنے کا سوچ لینا
حسین پریاں دبوچ لینا
پھر اُسکی آنکھیں ہی نوچ لینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

کسی کو لفظوں کے جال دینا
کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا
پھر اُسکی عزت اُچھال دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

اندھیر نگری میں چلتے جانا
حسین کلیاں مسلتے جانا
اور اپنی فطرت پہ مسکرانا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

سجا رہا ہے ہر اک دیوانہ
خیالِ حسنِ جمال جاناں
خیال کیا ہیں ، ہوس کا تانا
اگر محبت یہی ہے جاناں
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا

عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا، جب جی چاہا دھتکار دیا

تُلتی ہے کہیں دیناروں میں، بِکتی ہے کہیں بازاروں میں
ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں
یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بِٹ جاتی ہے عزت داروں میں
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا

مردوں کے لیے ہر ظلم روا، عورت کے لیے رونا بھی خطا
مردوں کے لیے ہر عیش کا حق، عورت کے لیے جینا بھی سزا
مردوں کے لیے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس اِک چِتا
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا

جن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کا بیوپار کیا
جس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیا
جس تن سے اُُگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیا
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا

سنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہے
چکلوں ہی میں آ کر رُکتی ہے، فاقوں سے جو راہ نکلتی ہے
مردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا

عورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہے
اوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کو بیٹی ہے
یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا

(ساحر لدھیانوی)

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

شاہکار
مصور میں ترا شاہکار واپس کرنے آیا ہوں

اب ان رنگین رخساروں میں تھوڑی زردیاں بھردے
حجاب آلود نظروں میں ذرا بے باکیاں بھر دے

لبوں کی بھیگی بھیگی سلوٹوں کومضمحل کردے
نمایاں رنگِ پیشانی پہ عکس سوزِ دل کر دے

تبسم آفریں چہرے میں کچھ سنجیدہ پن بھر دے
جواں سینے کی مخروطی اٹھانیں سرنگوں کر دے

گھنے بالوں کو کم کردے مگر رخشندگی دے دے
نظر سے تمکنت لے کرمذاقِ عاجزی دے دے

مگر ہاں بنچ کے بدلے اسے صوفے پہ بٹھلا دے
یہاں میری بجائے اک چمکتی کار دکھلا دے

 

(ساحر لدھیانوی)

Share this post


Link to post
Share on other sites

یوں بھی ہوتا ہے صدیوں کے دو ہمسفر


اپنے خوابوں کی تعبیر سے بے خبر


اپنے عہد محبت کے نشے میں گم


اپنی قسمت کی خوبی پہ نازاں مگر


زندگی کے کسی موڑ پر کھو گئے


اور اک دوسرے سے جدا ہوگئے


 


یوں بھی ہوتا ہے دو اجنبی راہ رو


اپنی راہوں سے منزل سے ناآشنا


ایک کو دوسرے کی خبر تک نہیں


کوئی پیمان الفت نہ عہد وفا


اتفاقات سے اس طرح مل گئے


ساز بھی بج اٹھے پھول بھی کھل گئے


Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبت مر نہیں سکتی
مٹائی جا نہیں سکتی
بھلائی جا نہیں سکتی
یہ وہ دولت ہے دل کی جو
چرائی جا نہیں سکتی
حکایت جس نے بھی دردِ محبت کی بیاں کی ہے
کہا ہے بیکراں اس کو
کہا ہے جاوداں اس کو
مگر اب تم جو کہتی ہو
حقیقت یوں بھی ہوتی ہے
محبت بے سبب یونہی کسی دن مر بھی جاتی ہے
چلو تو دیکھے لیتے ہیں
فسا نہ بنتی ہے کیسے حقیقت
دیکھے لیتے ہیں
کہ گلبانگِ محبت گل جھڑی کیوں دل کی بنتی ہے
گرہ یہ کیسے پڑتی ہے!
وہ کیا خوشبو ہے جو کلیوں ہی میں دم توڑ دیتی ہے
وہ کیا موسم ہیں جذبوں کے
جودل کو برف کرتے ہیں
لہو کو سرد کرتے ہیں
وفاکو گرد کرتے ہیں
ہوائے زرد کے مانند
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے؟
کہیں ایسا بھی ہوتا ہے؟
محبت مر بھی سکتی ہے؟
محبت زندہ ہے ہر پل
شکستہ دل کے ہر ذرے کے آئینے میں ہے روشن
محبت جاودانی ہے
محبت مر نہیں سکتی

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

جب بھی اک شام یاد آتی ہے
جیسے دنیا ٹھہر سی جاتی ہے

اک طرف دل ہیں، اک طرف دنیا
اور یہ سین کائناتی ہے

یوں بھی ہوتا ہے شعر، بعض اوقات
جیسے بجلی سی کوند جاتی ہے

موت سے ہمکلام ہونے کے
زندگی راستے دکھاتی ہے

ہار ہوتی ہے عارضی، اس کو
بے دلی مستقل بناتی ہے

حادثے اک پل نہیں رکتے
زندگی ہے کہ چلتی جاتی ہے

اس کے دم سے ہیں رونقیں ساری
یہ جو دنیا کی بے سباتی ہے

بات کوئی سمجھ نہیں آتی
بات اتنی سمجھ میں آتی ہے

(امجد اسلام امجد)

Share this post


Link to post
Share on other sites
 

 ابھی جو لوٹ کر تم پھر
ہمارے در پہ آئے ہو

یہ تم سے کہہ دیا کس نے
کہ تم بن رہ نہیں سکتے
یہ دکھ ہم سہ نہیں سکتے

اگر تم جاننا چاہو
کہ ایسا کیوں کیا ہم نے
یہ دکھ کیوں سہہ لیا ہم نے

تو سن لو غور سے جاناں
پرانی عہد رفتہ کی
روایت توڑ دی ہم نے

محبت چھوڑ دی ہم نے
محبت چھوڑ دی ہم نے

 

 
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت عمدہ - رانیہ


بہت اچھا کلام شئر کیا آپ نے


 


اس تھڑیڈ کا عنوان ہے


یوں بھی ہوتا ہے


یا


ایسا بھی ہوتا ہے


 


کوئی ایسے اشعار یا نظمیں/غزلیں شیئر کریں جن میں یہ مصرع آتا ہو


Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

کبھی یوں بھی ہوتا ہے

دو اجنبی دل

اچانک کسی خوشنما موڑ پر

ایک دوجے سے ملتے ہیں تو ایک لمحہ

اچانک کہیں سے ابھرتا ہے

اور ان کی آئندہ عمروں کے سارے مہ و سال

پر پھیلتے پھیلتے ان کے چاروں طرف

اک بظاہر دکھائی نہ دیتا ہوا دائرہ سا بناتا ہے

جس کی حدیں گھیر لیتی ہیں اک دن

ازل سے ابد تک کے سب فاصلوں کو

کبھی یوں بھی ہوتا ہے

وہ ہمسفر جو

زمانوں پہ پھیلی ہوئی اک مسافت

کو چاہت کے بادلوں کے سائے تلے

قدم درقدم کاٹتے چلے جا رہے تھے
اچانک کسی اجنبی موڑ پر ایک لمحے کو رکتے ہیں
تو دیکھتے ہیں
نجانے کدھر سے ہوائے جدائی کا اک تیز جھونکا
تعلق کے سارے دیوں کو بجھاتا
دلوں میں ِگلوں کی فصیلیں اٹھاتا ، بڑھا آرہا ہے
اور اسکی اڑی ہوئی گرد
لمحوں میں بے شکل کرتی ہے
عمروں پہ پھیلے ہوئے فاصلوں کو

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس تھریڈ میں وہ اشعار/نظمیں/غزلیں پوسٹ کریں جن میں لفظ

چارہ گر

شامل ہو

 

--------------------

 

مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر
یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے

 

--------------------

 

مرے ہاتھ سے ترے نام کی وہ لکیر مٹتی چلی گئی

مرے چارہ گر مرے درد کی ہی وضاحتوں میں لگے رہے

 

-------------------

 

ذکر کرتے ہیں تیرا مجھ سے بعنوانِ جفا
چارہ گر پھول پِرو لائے ہیں تلواروں میں

 

------------------------

 

رکھیں چارہ گروں سے کیا توقع

کہ اے یار ان میں کچھ یارا نہیں ہے

جسے تم کہہ رہے ہو چارہ سازی

وہ چارہ بھینس کا چارہ نہیں ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now