Young Heart

گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا

Recommended Posts

بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھے
اس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی
 
تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے
 
عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کا
چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا

وہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہے
ڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کا

جب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سے
جینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کا

چوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈ
کیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کا

اب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانب
کیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کا

وہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیں
اور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کا

معشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانو
گٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کا

وہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہے
یہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کا

ہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانا
رستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کا

گانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیں
یہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کا

لوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوں
ورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کا

Please login or register to see this link.

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

بہت شکریہ اس پذیرائی کا

کچھ تو گندے گندے شعر آپ نے بھی سنے ہونگے بچپن یا لڑکپن میں

تو شئر کیجیے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

ہاہاہاہاہا

بہت خوب ڈاکٹر صاحب

بہن کے چڈ کو پنجابی میں غالباََ یوں کہیں گے کہ

جو بھی ملا ہے پین لن ملا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

ہاہاہاہاہا

چچا غالب سے معذرت کے ساتھ

 

بے خودی بے سبب نہیں غالب

سچ بتاؤ کس نے گانڈ ماری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک لڑکی غالب کا دل توڑ کر چلی گئ تو غالب نے عرض کیا

وہ چلی گئی ہماری شکل پر موت کے
چلو اسی بہانے دیدار تو ہوئے اس کی چوت کے

ایک لڑکی نے غالب سے لیٹ نائیٹ ملنے کا وعدہ کیا اور بہت انتظار کے بعد لڑکی ملنے پہنچی غالب نے عرض کیا

لے جا اپنی چوت کسی اور کو دے دے
غالب کو اپنے ہی ہاته سے قرار آ گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

ہاہاہاہاہاہاہا

 

واہ جی واہ بہت خوب

 

اسی طرح کسی شاعر نے فرمایا

 

وہ آئیں میرے خواب میں احتلام ہوگیا

ان کی بھی عزّت بچ گئی اپنا بھی کام ہوگیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سرِ بازار کسی لڑکی نے غالب کو نامرد اور بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا جس پر غالب کا ردّعمل تھا


 


کون کہتا ہے کہ غالب کا کھڑا نہیں ہوتا


سربازار جو نہ دوں تا غالب نہ کہیو


Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا
جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو

اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں
چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں
ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں
اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں
اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو
یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو
اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن
رس بھرے رس داررسیلے جوبن
جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن
اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن
ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں
اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں
اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے
اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے
اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے
یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے
اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا
کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا
اور اے دوست !!!  اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے
صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا
رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا
ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا
اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا
ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی
چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی
لیکن اے دوست
اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے
پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی
سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی
گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی
اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے
چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے
خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے
اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں
اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں
جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار
یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار
نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے
اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار
چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار
موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور  پیشاب کی دھار
مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار
لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے
دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے
اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو

 

Please login or register to see this link.

Edited by Young Heart

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now