URDU FUN CLUB

محبت حلال یا حرام

Recommended Posts

محبت حلال یا حرام


رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سوۓ ھوئے تھے ، کیف و مستی میں ڈوبے ھوئے ، ، ،
نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ھو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اُٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاھا ، مگر وہ کامیاب نہ ھو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ھوا،اپنے ھاتھ گیلے کیے اور ایک چھینٹا اس پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !!
یہ تھی وہ محبت بھری کوشش اس مبارک جوڑے کی کہ جس پر اللہ تعالی بھی فرشتوں پر فخر فرماتے ھیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ھو رھا تھا ۔ ۔!!! ۔ ۔ایک پاکیزہ 
محبت 


چودہ فروری کی ایک تاریک شام ۔ ، ،۔ ۔ ۔!


اسے بار بار لوّ میسج وصول ھو رھا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی ۔ ۔ !۔
تھوڑی دیر بعد ۔ ۔ ۔
وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رھی تھی ۔ ۔ ۔ !
! ! ۔ ۔
غیر محرم ھوتے ھوئے اس ملاپ پر ان پر لعنت اللہ تعالی کی طرف سے برس رھی تھی ۔ ۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ ۔ ۔ ۔ ۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ تعالی کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر اللہ تعالی کے غضب اور قہر میں داخل ہو رھے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا ۔ ۔ ۔ ، ، ، ،
وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رھا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی ۔ ۔ ۔
آؤ ، ، ،
ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ھے ۔ ۔ ، ،
اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رھے تھے ۔ ۔ ۔
مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ھے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ھو گی، وھیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ،
مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ھوا تھا کہ ۔ ۔ ۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے اُٹھتے ھوئے جناذے کا بھی احساس تک نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ،
مگر وہ خوش تھی ، ۔ ۔ ۔
ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر ۔ ۔ ۔
ایک بےحیاء دن # ویلنٹائن ڈے#
کی یاد تازہ کرنے پر ۔ ۔ ۔
بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !!
کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ،
۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!

Share this post


Link to post
Share on other sites

محبت تو جذبہ ہے ایک آفاقی جذبہ


شہوت ایک دوسرا جذبہ ہے لیکن یہ بھی ایک فطری جذبہ ہے - انسان کے اندر موجود ٹھرک -- اسے محبت سے مدغم کرنا ایک بہت بڑا مغالطہ ہے


محبت کے جذبے کو پاک ہی ہونا چاہیے کسی بھی نفسانی فائدے یا شہوانی ٹھرک سے پاک ہونا چاہیے


 


محبت تو آپ کو اپنے ہر قریبی رشتے سے ہوتی ہے


والدین سے، بچوں سے، بیوی اور شوہر سے ، بہن بھائیوں سے، چچاؤں، ماموؤں، پھوپھیوں اور خالاؤں سے، کزنز اور دوستوں سے


 


کوئی قریبی رشتہ جتنا آپ سے مخلص ہوتا ہے یا جتنی اچھی فطرت کا ہوتا ہے اس سے محبت زیادہ ہو جاتی ہے


 


لیکن شہوت کا تعلق تو نفسانی منہ زور خواہش سے ہے


اس کے ساتھ حلال یا حرام کی قید ہے


کہ کس رشتے سے آپ کے لیے یہ حلال ہے اور کس رشتے میں حرام


 


اسے قابو میں رکھنے ہی کے لیے مذہب نے رہنمائی کی ہے کہ جیسے ہی لڑکے یا لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کا نکاح کردیا جائے


تاکہ حلال طریقے سے جنسی بھوک کی تسکین ہوسکے


 


اگر یہ ٹھرک حلال طریقے سے  بروقت پوری نہیں ہوگی تو منہ زور ہوکر کچھ بھی گل کھلائے گی


اور انتہائی صورت میں خونی رشتوں کو بھی پامال کردے گی


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now