Administrator

مختصر ترین حقائق اور قصے

Recommended Posts


اس تھریڈ میں مختصر ترین حقائق اور قصے پوسٹ کیئے جائیں گے ۔ ایسے حقائق جو حیران کر دینے والے ہوں۔تمام ممبرز بھی اس تھریڈ میں اپنی پوسٹ کر سکتے ہیں۔لیکن پوسٹ صرف اردو میں کی جائے گی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

انیس سو ننانوے میں ایک ماہی گیر کو ایک بند بوتل میں ایک لو لیٹر ملا یہ لو لیٹر پہلی جنگ عظیم (جو کہ انیس سو چودہ سے انیس سو اٹھارہ تک جاری رہی )کے دوران ایک فوجی نے اپنی بیوی کو لکھا تھا۔۔ماہی گیر نے وہ لو لیٹر اس فوجی کی بیٹی تک پہنچا دیا تھا کیوں کہ فوجی کی بیوی انتقال کر چکی تھی

Share this post


Link to post
Share on other sites

جون دو ہزار ایک میں سٹین فورڈشائر برطانیہ میں لورا بک سٹون نامی ایک لڑکی نے ہیلیم گیس سے بھرا ایک غبارہ فضا میں چھوڑا جس پر اس نے اپنا نام اور پتا درج کیا ساتھ یہ بھی لکھا کہ غبارہ جس کو ملے وہ مجھے جواب دے اور آ کر ضرور ملے۔۔
یہ غبارہ اس لڑکی کے گھر سے ایک سو چالیس میل دور پیوسے نامی گاؤں میں ایک اور لڑکی کے گھر کے پچھلے لان میں جا گرا
اب یہاں سے کچھ حیرت انگیز اتفاقات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے

جس لڑکی کے گھر یہ غبارہ گرا اس کا نام بھی لورا بک سٹون تھا وہ بھی دس سال کی تھی۔
ان دونوں کے صرف نام ایک جیسے نہیں تھے ان کے قد بھی ایک جیسے تھے ان کے بالوں کا رنگ بھی ایک جیسا تھا۔
جس دن یہ دونوں ملیں دونوں نے گلابی رنگ کی فراک پہن رکھی تھی۔
دونوں لڑکیوں نے گھروں پر پالتو کتے رکھے تھے جو کہ لیبرو ڈاگ کی نسل سے تھے اور دونوں کتوں کا رنگ بھی سیاہ تھا دونوں کتوں کی عمر بھی تین تین سال تھی۔
دونوں لڑکیوں نے سرمئی رنگ کے خرگوش بھی پال رکھے تھے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this image.

/monthly_2016_04/Kevin-Carter-Child-Vulture-Sudan.jpg.4c5209e7fe2365d97c3c68ec15f65074.jpg" alt="Kevin-Carter-Child-Vulture-Sudan.jpg">


مارچ انیس سو ترانوے میں کیون کارٹر نے یہ تصویر کھینچی اس تصویر نے انعام بھی جیتا تھا۔۔
یہ تصویر سوڈان میں لی گئی جب وہاں خوراک کا قحط تھا اور اقوام متحدہ کے تحت وہاں وہاں خوراک کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔
فوٹو گرافر کیون کارٹر کے مطابق وہ ان خوراک کے مراکز کی فوٹو گرافی کرنے جا رہا تھا جب راستے میں اس لڑکے کو دیکھا جو کہ انہی مراکز کی جانب جانے کی کوشش میں تھا لیکن بھوک کمزوری فاقوں کی وجہ سے اس کا یہ حال تھا کہ اس سے ایک قدم اٹھانا دوبھر تھا
آخر یہ لڑکا تھک ہار کر گر گیا اور زمین سے سر لگا دیا۔۔
تصویر میں دیکھیں پیچھے ایک گدھ موجود ہے جو کہ اس انتظار میں ہے کب یہ لڑکا مرے کب میں اسے کھاوں
بس اسی منظر نے اس تصویر کی تاریخ کو آنسووں سے بھر دیا
کیون کارٹر نے یہ تصویر نیو یارک ٹائمز کو بیچی اور نیویارک ٹائمز کے مطابق جب انھوں نے یہ تصویر شائع کی تو ایک دن میں ان سے ہزاروں لوگوں نے رابطہ کیا اور اس لڑکے کا انجام جاننا چاہا کہ کیایہ بچ گیا تھا؟
لیکن نیو یارک ٹائمز والے خود اس کے انجام سے بے خبر تھے

بات یہیں ختم نہیں ہوتی

فوٹوگرافر کیون کارٹر جس نے یہ سارا منظر کیمرے میں قید کیا وہ اس تصویر کے بعد اکثر اداس رہنے لگا اور ڈپریشن کا مریض بن گیا آخر اس میں موجود منظر نے اس فوٹو گرافر کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا
کیون نے تینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی

اس کی خود کشی کا طریقہ بھی بہت عجیب تھا

وہ اپنے گھر کے پاس والے اس میدان میں گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلتا تھا اس نے اپنے کار کے سائلنسرمیں ایک ٹیوب فکس کی اور اس ٹیوب کو ڈرائیورنگ سیٹ والی کھڑکی سے کار کے اندر لے آیا تمام کھڑکیاں تمام دروزے لاک کر دیے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔گاڑی میں سائلنسر سے نکلتا ہوا دھواں بھرنا شروع ہوا دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتی ہے جو کہ جان لیوا ہوتی ہے اسی کاربن مونو آکسائیڈ نے کیون کی جان لے لی

اس نے جو تحریر چھوڑی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا

" درد،بھوک ،اور فاقوں سے مرتے بچوں کی لاشوں کا مجھ پر سایہ ہے."

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہومر اور سقراط کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلسفیوں میں ہوتا تھا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم فلفسیوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک لائن تک نہیں لکھی 
کیوں کہ
یہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ خواب مین صرف ان چہروں کو دیکھتے ہیں جنھیں آپ جانتے ہیں۔

سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کے چانس اتنے ہی کم ہیں۔

کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔

انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔

پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔

کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔

A nut for a jar of tuna 
ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے ایک ہی بات ہے۔

ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ

سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے۔

جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہو اتھا۔

کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے بعد کا جذباتی وقت آپ کی اوور تھنکنگ کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے آپ خود کو زخم لگاتے ہیں۔۔

آپ اپنے آپ کو آئینے میں حقیقت سے پانچ گنا زیادہ حسین دیکھتے ہیں۔۔۔تھینکس ٹو یو یور برین۔۔۔
Thankx to your brain

نوے فیصد لوگ اس وقت ڈر جاتے ہیں جب انھیں یہ میسج آتا ہے

"کچھ پوچھوں آپ سے"
Can I Ask you a question


 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

جرمنی میں جیل توڑنے کی کوشش کرنا قانونی ہے
اس حرکت پر کوئی سزا نہیں
کیوں کہ ان کے مطابق آزادی کی کوشش کرنا انسان کا بنیادی حق ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جن لوگوں کا آئی کیو لیول ہائی ہوتا ہے یعنی جوبہت زیادہ ذہین ہوتے ہیں اکثر اوقات انھیں رات کو سونے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے

ایسا صرف اور صرف دماغ کی ایکٹویٹی یعنی سرگرمی بڑھ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کمپیوٹر کی دنیا میں کسی عورت کا کوئی خاص کارنامہ نہیں
چلیں آج آپ کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دیتے ہیں
کمپیوٹر پروگرامنگ آئی ٹی کی دنیا میں ایک مشکل ترین فیلڈ ہے
اور کمپیوٹر پروگرامنگ کی موجد ایک عورت ہی تھیں
جی ہاں سب سے پہلے کمپیوٹر پرامنگ ایک عورت نے شروع کی 
ان کا نام
Ada Lovelace
تھا جنھوں نے اٹھارو سو باون میں محض چھتیس سال کی عمر میں وفات پائی اور اس وقت برطانیہ میں مدفون ہیں

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

تاریخ میں ایک دن ایسا بھی گزرا ہے جس دن ایک بادشاہ مرا دوسرا تخت نشیں ہوا اور تیسرا پیدا ہوا.

یہ 13 اور 14 ستمبر 786 عیسوی کی درمیانی رات تھی.
ہادی مرا
ہارون الرشید تخت نشیں ہوا
مامون الرشید پیدا ہوا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this image.

/monthly_2016_04/ae5a78e0a1_opt-1.jpg.2df7a5b4cd3abfd5890049132b069ee2.jpg" alt="ae5a78e0a1_opt-1.jpg">

ایسا شہر جو پندرہ سو سال زیر آب یعنی پانی کی تہہ میں رہا
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جزیرہ ہوائی میں موجود ایک ساحل جس کی ریت سبز ہے

Please login or register to see this image.

/monthly_2016_04/papakolea-beach-green-beach-hawaii-1.jpg.97f93d6dd7a485a55c8624b99eee7b29.jpg" alt="papakolea-beach-green-beach-hawaii-1.jpg">

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this image.

/monthly_2016_04/inca-girl-817x1024_zps11fab3cb.jpg.b8d2720069f228bca00a4f991ea286f1.jpg" alt="inca-girl-817x1024_zps11fab3cb.jpg">


تصویر دیکھنے سے تو یہ احساس ہو گا جیسے ڈاکٹرز کسی عام سی لڑکی کو طبی امداد دے رہے ہیں
لیکن
 یہ عام لڑکی نہیں بلکہ یہ زندہ ہی نہیں یہ لڑکی پانچ سو سال پہلے مر چکی ہے۔۔انیس سو ننانوے میں اس لڑکی کی لاش ملی جو کہ اس وقت بھی درست حالت میں تھی اس وقت اس لڑکی کو مرے ہوئے قریبا پونے پانچ سو سال گزر چکے تھے۔اس لڑکی کی تاریخ یہ ہے کہ اسے مذہب کے نام پر قتل کیا گیا تھا اس کی عمر پندرہ سال تھی اسے اس لیے قتل کیا گیا تھا کہ تم خدا کے پاس جا کر رہو۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now