Recommended Posts

اس تھریڈ میں سیکس سے متعلق گپ شپ اور باتیں شئر کی جائیں گی

لیکن ایک بات کلیئر کرتا چلوں کہ یہ شیئر کی گئی باتیں میری اپنی تخلیق نہیں ہیں بلکہ مختلف جگہوں سے پڑھی ہوئی باتیں ہیں اسلیے کاپی پیسٹ کا شکوہ نہ کیا جائے

 

انسان ایڈونچر پسند ہے - کہتے ہیں چوری کے پھل زیادہ مزیدار ہوتے ہیں یعنی جو پھل چرا کر کھاۓ جائیں ان کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے. کیونکہ چوری کر کے پھل کھانے میں اس میں ایڈونچر کا مزا بھی شامل ہو جاتا ہے جو خریدے ہوۓ پھلوں میں بلکل نہیں ہوتا.

سیکس کا بھی بلکل یہی حال ہے جو مزا کسی پرائی لڑکی یا عورت سے چوری چھپے جنسی فعل کرنے میں آتا ہے وہ کبھی بھی اپنی بیوی سے جنسی فعل کرنے میں نہیں آتا. کیونکہ اپنی بیوی سے جنسی فعل کرنے میں کسی قسم کا ایڈونچر نہیں ہوتا. یا لذّت گناہ کی سنسنی خیزی نہیں ہوتی

آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

تقریبا ہر مرد عورت اور جنس کے حوالے سے ہوس پرست ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ روز نئی نئی عورتوں سے جنسی فعل کرے

مرد کی ہوس کبھی بھی ختم نہیں ہوتی چاہے اس کے پاس سو حسین اور نوجوان لڑکیاں کیوں نا ہوں
لیکن عورت اس معاملے میں باذوق ہے ہوس پرست نہیں

عورت کے عام طور پر دو چار یار ہی ہوتے ہیں جن سے ہی وہ اپنی رومانی اور جنسی تسکین کر لیتی ہے

کوئی عورت کتنی بھی چالو اور آوارہ کیوں نا ہو اس کے دس بارہ سے زیادہ یار نہیں ہوتے چاہے وہ ہمارے ہاں کی عورت ہو یا یورپ اور امریکہ کی

ہاں یہ ہوتا ہے کہ کسی عورت کا کوئی یار اس سے دور ہو جاۓ یا اس کے دل سے اتر جاۓ تو اس کی جگہ کوئی دوسرا مرد لے لیتا ہے

لیکن مرد کو اگر دولت اور اختیار مل جاۓ تو وہ حرم آباد کر لیتا ہے

برصغیر کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے جب یہاں کے بادشاہوں اور نوابوں نے حرم کے حرم آباد کرے. ان کے حرم میں کئی کئی سو کنیزیں تھیں پھر بھی اس کی ہوس پوری نہیں ہوتی تھی اور وہ نئی نئی کنیزوں کو اپنے حرم میں دخل کرتے رہتے تھے

جب کہ عورت نے آج تک ایسا نہیں کیا
عورت کا جسم فروشی کرنا ایک بلکل الگ چیز ہے. کال گرلز اور طوائفیں صرف اور صرف پیسے کے لیے بے شمار مردوں سے جنسی فعل کرتیں ہیں. اس میں ان کی جنسی خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوتا صرف پیسے کا حصول ہی ان کا مقصد ہوتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہمارے ہاں اکثر لڑکوں کو جب کبھی باتھ روم یا اسٹور میں اپنی کسی قریبی رشتیدار عورت کا بریزر لٹکا نظر آتا ہے تو وہ اس کو اتار کر اس کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور خاص طور پر ان کا بریسٹ سائز معلوم کرنے کے لیےاس کا ٹیگ ضرور دیکھتے ہیں

جن لڑکوں کو اپنی قریبی رشتیدار خواتین کا بریزر کہیں نہیں ملتا وہ موقع پا کر چھپ کر ان کی کپڑوں کی الماری میں سے ان کا بریزر تلاش کر لیتے ہیں اور پھر اس کا ٹیگ دیکھ کر ان کا بریسٹ سائز معلوم کر لیتے ہیں

کچھ تو ان کو دیکھ کر یا سونگھ کر مشت زنی بھی کرتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ لڑکوں کو کسی کا بریسٹ سائز معلوم ہو یا نہ ہو اپنی قریبی خواتین کا بریسٹ سائز ضرور معلوم ہوتا ہے

آپ کے خیال میں یہ نقطئہ نظر کس حد تک درست ہے ؟؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

جنسی فعل کرنے کے دوران بعض مرد عورت کی شرم گاہ چومتے اور چاٹتے ہیں اور اسی طرح بعض عورتیں بھی مرد کا عضو تناسل چوستی ہیں

لیکن مردوں کو ایسا کرتے ہوۓ جب عورت ڈسچارچ ہو تو اس کی شرم گاہ سے نکلنے والی رطوبت ہرگز نہیں پینی چاہیے

اس طرح عورتوں کو بھی جب مرد دسچارج ہو تو اس کے عضو تناسل سے نکلنے والی منی ہرگیز نہیں پینا چاہیے

اس کے کے پینے سے منہ میں چھالے اور گلے میں انفیکشن ہو سکتا ہے

غالبا اس کی وجہ پیشاب کے اخراج والی جگہ کا قریب ہونا بھی ہے جس کےجراثیم کا موجود ہونا عین ممکن ہے
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہمارے مذہب میں والدین کو یہ حکم ہے کہ جب بچے بالغ ہو جائیں تو ان کا نکاح یعنی شادی کر دو

اگر کوئی غیر شادی شدہ لڑکا یا لڑکی زنا کرے گا تو اس کا گناہ اس کے والدین کو ملے گا کیونکہ انھوں نے اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی.

کوئی ضرورت نہیں مہندی، بری اور ولیمہ کرنے کی اور برات میں دو چار سو لوگوں کو بلانے کی اور لاکھوں روپے خرچ کرنے کی

اس فرض کو ادا کرنے لیے بس لڑکے اور لڑکی کے گھر والے یعنی ان کے والدین، بہن بھائی اور قاضی ہی بہت ہیں

مزید کسی اور رشتہ دار یا جاننے والے کو بلانے کی بلکل بھی کوئی ضرورت نہیں.

اس معاملے میں لڑکے کے والدین زیادہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی پوزیشن لڑکی والوں نسبت زیادہ مصبوط ہوتی ہے

اگر وہ اس بات پر اصرار کریں کہ شادی بلکل سادگی سے ہوگی تو لڑکی والوں کو بھی مجبوراََ ان کی بات مانا پڑے گی

Share this post


Link to post
Share on other sites

پ اس وقت ملک کے صدر، وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے گورنروں اور وزراۓ اعلی ان کے وزیروں اور مشیروں کو دیکھ لیں آپ کو کوئی بھی عہدیدار ساٹھ سال سے کم کا نہیں نظر نہیں آۓ گا. اور جو دو چار عہدیدار ساٹھ سال سے کم ہیں بھی ان کا تعلق بھی شاہی خاندان سے ہے. سوچنے کی بات ہے کہ کڑوروں پاکستانی نوجوانوں میں کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس ملک کا صدر، وزیر اعظم، گورنر، وزیر اعلی، وزیر یا مشیر بن سکے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سولہ سال کے لڑکے کو اعلی عہدیدار بنا دیا جاۓ لیکن پچیس سال سے اوپر کے جوان تو اعلی عہدیدار بن سکتے ہیں نا. اس ملک میں جن لوگوں کو قبر میں ہونا چاہیے وہ اقتدار کے مزے اڑا رہے ہیں اور جن کو اس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی چاہیے وہ بس صبح شام فحش تصویریں اور فلمیں دیکھ رہے ہیں اور موٹھ لگا رہے ہیں. نوجوانوں اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ. ورنہ یہ بڈھے گدھ ہمیشہ اس ملک پر اسی طرح قابض رہیں گے اور اس کو اسی طرح لوٹتے رہیں گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

بعض لوگ عورت کے کولہوں کے درمیان والے سوراخ یعنی اینل میں مباشرت کرنے کے شوقین ہوتے ہیں. ہم جنس پرست مرد بھی ایک دوسرے کے اینل میں مباشرت کرتے ہیں.

طبی نقطۓ نظر سے ایسا کرنا بلکل بھی درست نہیں. کیونکہ کولہوں کے درمیان والے سوراخ یعنی اینل میں ہر وقت غلاظت موجود رہتی ہے. جو اینل میں مباشرت کرتے وقت عضو تناسل پر لگ جاتی ہے. اس سے عضو تناسل میں انفیکشن بھی ہو سکتا ہے. اس کے علاوہ اینل میں مباشرت کرنے سے غلاظت اور جراثیم بھی پھیلتے ہیں کیونکہ کہ جب عضو تناسل اینل میں ڈالا جاتا ہے تو غلاظت اس پر لگ جاتی ہے اور پھر عضو تناسل جس چیز سے بھی لگے گا اس پر غلاظت لگ جاۓ گی.

یاد رکھیں غلاظتوں میں سب سے زیادہ گندی اور ناپاک غلاظت وہ فضلہ ہے جو اینل سے نکلتا ہے.

اسی طرح اینل کو چومنے چانٹے سے بھی گریز کرنا چاہیے.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

درست فرمایا کہ حقیقت میں بالکل یہی نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔

ہم نے کئی بار سنا اور دیکھا ہے کہ انتہائی حسین و جمیل بیوی کے شوہر حضرات کسی میلی کچیلی ملازمہ پر نظربد ٹکائے بیٹھے ہوتے ہیں۔

یہ صرف چوری کر کے کھانے والی سوچ کا ہی اثر ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

یہ بڑی گندی عادت ہے اور مجھے اس سے شدید چڑ ہے۔ یہ کام عام طور پر جوان ہوتے لڑکے کیا کرتے ہیں جن کے لیے سیکس کا تو کوئی راستہ نہیں ہوتا تو یوں اپنی نفسانی خواہشات پوری کرتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

پیچھے سے سیکس کرنا مجھے بھی بڑا پسند ہے۔

اس کے کئی فوائد میں نے مختلف تھریڈز میں دیئے ہیں۔

یہاں بھی پوسٹ کر دیتا ہوں۔ مگر دخول ہر صورت فرج میں ہی ہونا چاہیے۔

لواطت نہایت ہی غلیظ قسم کا سیکس ہے اور صاف ستھرے جنسی عمل میں بلاوجہ ہی پخانہ شامل ہو جاتا ہے جو بڑا ہی غلط کام ہے۔

 

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت خوب

بہترین معلومات ہیں یہ

اور کولہوں سے لن گذار کر سیکس کرنے والی تمام پوزیشنز اینل کے متبادل کے طور پر سوچی جاسکتی ہیں

میرے خیال میں تو کشش اینل میں نہیں ہوتی بلکہ کولہوں میں ہوتی ہیں

عورت کے پستان اور کولہے ہی سب سے زیادہ دلفریب ہوتے ہیں

انہی کو دیکھنے اور دبانے میں بے حد لطف آتا ہے

اینل سے تو پرھیز ہی بہتر ہے کہ یہ سیکس صاف ستھرا ہرگز نہیں

کچھ لوگ اینل سے پہلے اینیما کا پراسس تجویز کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ یہ اس سے اینل سیکس محفوظ ہوجاتا ہے

لیکن جب سیکس ذہن پر سوار ہو تو اتنے جھنجھٹ کا ٹائم کہاں ہوتا ہے - اسلیے میں نہیں سمجھتا کہ اینیما کا پراسس کوئی کر پاتا ہو گا

نتیجہ یہی لگتا ہے کہ اینل سیکس ایک غلیظ احساس سے ہی ہو پاتا ہے

سیکس کہانیاں لکھنے والے تو اینل چاٹنے کو بھی پروموٹ کرتے ہیں جو طبی نقطۃ نگاہ سے انتہائی خطرناک ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

طبی ماہرین کی ریسرچ کے مطابق ایڈز کی بیماری اینل سیکس یعنی کولہوں کے درمیان کے سوراخ میں مباشرت کرنے سے ہوتی ہے

مختلف جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایڈز کی وائرس ان لوگوں میں زیادہ پایا گیا ہے جو کہ اینل سیکس کرتے تھے

اس کے علاوہ یہ بیماری متاثرہ مرد اور عورت کے جنسی اعضاء سے نکلنے والی رطوبتوں سے بھی ایک دوسرے کو لگ جاتی ہے

اس لیے اینل سیکس سے گریز کریں اور کال گرلز اور طوائفوں سے سیکس کرتے وقت اس کی شرم گاہ کو ہرگیز نہ چومیں اور چاٹیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

قدرت نے مرد کو عورت سے افضل بنایا ہے لیکن مرد نے اپنی حرکتوں کی وجہ اپنے آپ کو عورت سے نیچے گرا دیا ہے
ہمارے ہاں اکثر مرد کسی بھی عورت کو ہر وقت چودنے کے لیے تیار رہتے ہیں

پتا نہیں یہ اپنی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو کیسے چھوڑ دیتے ہیں؟

بعض تو اس کے لیے دن رات  سوشل میڈیا، سیکس فورمز یافیس بک پر اشتہار بھی پوسٹ کرتے ہیں کہ اگر کوئی لڑکی یا آنٹی جنسی تسکین حاصل کرنا چاہتی ہے تو ان سے ان بکس میں رابطہ کرے

اگر کوئی لڑکی کسی پوسٹ پر کوئی کمینٹ کر دے تو یہ فورا ایڈمی ایڈمی کرنی لگتے ہیں یا کہتے ہیں ان بکس میں آؤ یا ان سے فضول سوال کرنے لگتے ہیں

اور ہم مردوں کو سب سے زیادہ شرمندگی ان لڑکوں کی وجہ سے ہوتی ہے جو ہر وقت  ان سیکس فورمز یافیس بک پر اپنے عضو تناسل کی تصویریں پوسٹ کرتے رہتے ہیں

بے شرمی اور بے غیرتی کی بھی ایک حد ہوتی ہے. اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو اپنے عضو تناسل پر بہت فخر ہوتا ہے ایسی تصویروں میں اپنا چہرہ نہیں دیکھاتے

ان کو ایسی تصویروں میں اپنا چہرہ ضرور دیکھانا چاہیے تاکہ ان کی ماں، بہنوں اور دوسری رشتہ دار خواتین کو بھی پتا چلے کہ ان کے لاڈلے کا عضو تناسل اتنا عظیم الشان ہے اور وہ بھی اس پر فخر کر سکیں

سمجھ نہیں آتا ان مردوں کی شرم، انا اور خوداری کہاں چلی گئی ہے؟

عورت کے لیے یہ اتنا کیوں گر جاتے ہیں

کیا لڑکیاں اشتہار پوسٹ کرتیں ہیں کہ لڑکے یا مرد حضرات جنسی تسکین کے لیے ان سے رابطہ کریں؟

اگر کوئی لڑکی ایسا اشتہار پوسٹ کرتی بھی ہوگی تو وہ یقیناََ کال گرل ہوگی اور اپنے کاروبار کے لیے ایسا کرتی ہو گی

ہاں کچھ لڑکیاں لڑکوں سے موبائل بیلنس ضرور مانگتیں ہیں

لڑکیاں ایڈمی ایڈمی بھی نہیں کرتیں اور نہ ہی لڑکوں سے کہتیں ہیں کہ ان بکس میں آؤ

اسی طرح لڑکیاں کبھی اپنی شرم گاہ کی تصویریں بھی پوسٹ نہیں کرتیں

ہمارے ہاں کوئی عورت کتنی بھی چالو اور آوارہ کیوں نہ ہو وہ ہر مرد سے نہیں چدواتی

لیکن مرد یہ نیک کام کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں چاہے سامنے والی گھروں میں کام کرنے والی ماسی ہو یا خانہ بدوش ہو یہاں تک کہ فقیرنیوں تک کو چودنے کے لیےتیار رہتے ہیں بس انھیں موقع ملنا چاہیے

ان کو اپنے اسٹیٹس کا بھی خیال نہیں ہوتا

انسان کو عورت کے لئے اتنا نہیں گرنا چاہیے

انا اور خوداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

اکثر جنسی کہانیوں میں پڑھا اور فحش فلموں میں دیکھا کہ امیر اور اعلی طبقہ کی بیگم صاحبہ نے اپنے مرد ملازم یا نوکر سے جنسی تسکین حاصل کی

میرے خیال میں حقیقی زندگی میں ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کیونکہ اکثر امیر لوگ بہت مغرور ہوتے ہیں اور اپنے ملازموں اور نوکروں کو بہت حقیر سمجھتے ہیں

یہ حقیقت ہے کہ اکثر امیر خواتین بہت آزاد خیال اور ماڈرن ہوتیں ہیں لیکن وہ یہ سب اپنے طبقہ کے مردوں کے ساتھ ہی کرتیں ہوں گی اپنے ملازموں اور نوکروں کے ساتھ نہیں

ان کے ملازم اور نوکر بس اپنی بیگم صاحبہ کے نام کی مٹھ ہی لگاتے ہونگے

مجھے تو ایسی کہانیاں اور فلمیں غریبوں کی فنٹیسی ہی لگتی ہے کہ وہ اپنی بیگم صاحبہ کو چودیں

آپ کے خیال میں کیا امیر اور اعلی طبقہ کی بیگمات اپنے مرد ملازمین یا نوکروں کو جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتیں ہیں؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

اصل میں یہ واقعی بڑی فینٹسی ہے۔

مگر کئی جگہوں پر کیس الٹ ہوتا ہے کہ ملازم مالک سے زیادہ خوبرو اور توانا ہوتا ہے۔ صاف ستھرا اور قدرے جاذب نظر ملازم واقعی بیگم صاحبہ کو بھی للچا سکتا ہے۔

مگر حقیقت ہے کہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے اور اس کی کوئی خاص مثال نہیں ملتی۔ کیونکہ عام طور پر لوگ ملازم رکھتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رکھتے ہیں کہ وہ جوان اور خوش شکل نہ ہو کیونکہ گھر میں خواتین ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now