Administrator

طنز و مزاح سے پھرپور دلچسپ قطعات

Recommended Posts

اس تھریڈ میں دلچسپ لطائف اور قطعات شیئر کیئے جائیں گے۔تمام ممبرز بھی اپنی طرف سے اس تھریڈ میں حصہ لے سکتے ہیں۔صرف اردو میں لکھنے کی اجازت ہے۔

ایڈمنسٹریٹر،،،اردو فن کلب

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک مفلس روزانہ ایک کاغذ پر لکھتا "یا اللہ مجھے پچاس ہزار روپے دیدے" اور ایک گیس والے غبارے کے ساتھ باندھ کر اڑا دیتا۔
اس کے گھر کے نزدیک واقع تھانے والے پُلسیئے اکثر اس کے غباروں کو پکڑ لیا کرتے اور اس کے سندیسے پڑھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے سوچا، چلو اس کی مدد کرتے ہیں۔
سارے مل کر بمشکل پچیس ہزار روپے ہی جمع کر پائے۔ پھر بھی پیسے لیکر اس کے گھر گئے اور کہا؛ یہ رہا تیرا رزق پچیس ہزار روپے۔ ہمارے ہاتھ لگ گیا تھا تجھے پہچانے آئے ہیں۔
اس غریب نے پولیس والوں کو منہ پر تو کچھ نا کہا، شکریہ کہہ کر رکھ لیئے۔
اندر جا کر ایک کاغذ پر پیغام لکھا اور گیس والے غبارے کے ساتھ باندھ کر اڑا دیا۔ پولیس والے انتظار میں تھے، پکڑ کر کاغذ دیکھا تو لکھا تھا:
یا اللہ تیری بہت مہربانی جو تونے میری سن لی۔ لیکن یہ تھانے والے بڑے کمینے ہیں، آدھے پیسے دبا گئے ہیں میرے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک نوجوان اپنی بیوی کو ڈنڈے سے مار رہا تھا کہ ادھر سے ایک دانا بزرگ کا گزر ہوا۔ یہ ماجرا دیکھ کر نوجوان سے کہا
پُتر، ڈنڈے سے تو جانوروں کو مارا کرتے ہیں، عورت کو تو عورت سے مارا جاتا ہے۔
(یعنی عورت پر عورت (اس کی سوکن) لا کر)۔
نوجوان نے بزرگ کے احترام میں ڈنڈا زمین پر رکھ دیا، بات سنی۔ اور کہا: بابا جی، میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھ پایا
عورت نے بابے سے مخاطب ہو کر کہا: چل اوئے بابا، چل، کیتھے ہور جا کے اپنا لُچ تل، یہ ہم دونوں میاں بیوی میں آپس کا معاملہ ہے۔
پھر زمین سے ڈنڈا اُٹھا کر اپنے خاوند کو دیتے ہوئے بولی: لیجیئے جی؛ آپ مجھے دوبارہ مارنا شروع کیجیئے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک بزرگ آدمی خون کا عطیہ دینے اسپتال پہنچے اور ڈاکٹر سے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب میرا خون لیجئے۔

ڈاکٹر نے کہا بزرگوار ! آپ کافی بوڑھے ہو آپ کا خون نہیں لیا جا سکتا۔
مگر بزرگ آدمی منت سماجت کرنے لگے اور بضد رہے کہ میں خون ضرور دونگا۔ بالاآخر ڈاکٹر نے کہا اچھا بھئی بزرگو ! بیڈ پر لیٹ جاؤ۔
خون کی بوتل جونہی آدھی ہوئی بزرگ دیکھ کر بےہوش ہو گئے۔ ہوش میں آنے کے بعد بولے ارے کم بختوں! بس بھی کرو کیا سارا خون نکال لو گے۔
ڈاکٹر نے کہا بزرگو ! آپ کو پانچ بوتل خون لگا چکے ہیں چھٹی بوتل لگانے پر آپ کو ہوش آیا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

شوہر : میں تنگ آگیا ہوں ! تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ، میرا میرا کرتی رہتی ہو۔ کبھی ہمارا بھی کہا کرو ۔ ۔ اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟؟ 

بیوی : ہمارا دوپٹا
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جج : کیا ثبوت ہے کہ تم گاڑی تیز نہیں چلا رہے تھے ؟
ملزم : جناب میں سسرال جا رہا تھا بیگم کو لینے
جج : کیس ختم ۔۔۔رہا کرو اس معصوم کو

Share this post


Link to post
Share on other sites

بیوی: - ایک کھیل کھیلتے ہیں
شوہر: - کون سا کھیل ؟؟؟
بیوی: - اگر میں کلرکا نام لوں  تو تم لیفٹ دیوار کو ہاتھ لگانا

اور پھل فروٹ کانام لوں تو رائٹ دیوار کو ہاتھ لگانا
شوہر: - اگر میں جیت گیا تو ؟؟؟
بیوی: - جو هار گیا وہ جیتنے والے کی ہر
بات مانے گا اور وہ بھی زندگی بھر
شوہر: - یہ کھیل تو میں جيتونگا چلو کھیلتے ہیں
بیوی: - تو ٹھیک ہے تیار..... گو
 (orange)

Share this post


Link to post
Share on other sites

شوہر چار ملکی بزنس ٹرپ پر روانہ ہونے لگا تو بیوی بولی
"دوبئی جائیں تو میرے لیے سونے کا سیٹ لائیے گا، جب انڈیا جائیں تو ساڑھی لائیے گا، پیرس جائیں تو پرفیوم اور سوئزلینڈ سے گھڑی لائیے گا۔"

شوہر کو غصہ آ گیا اور بولا
"دوزخ جاوں تو کیا لاوں؟"

"کچھ مت لائیے گا بس اپنی ویڈیو بھیج دیجیے گا"
بیوی سکون سے نیل پالش لگاتے ہوئے بولی

Share this post


Link to post
Share on other sites

ڈاکٹر نے ریسور رکھتے ہوئے نرس سے کہا۔جلدی سے میرا سامان لے آؤ ایک مریض  کا فون آیا ہے وہ میرے بغیر مر رہا ہے۔
 نرس نے آہستہ سے کہا !  ڈاکٹر صاحب وہ فون آپ کے لیے نہیں  میرے لیے تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اپنے ترکی کے دورے کے دوران ارودغان سے پوچھا: ترکی کی ترقی کے پیچھے آخر کیا راز کارفرما ہے؟
ارودغان نے کہا کہ میں اپنی کابینہ میں سمجھ دار اور دانا وزیر لیتا ہوں جو ایمانداری کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ سے بھی کام لیتے ہیں۔
وزیر اعظم صاحب نے پوچھا: آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کوئی کتنا سمجھ دار اور عقلمند ہے؟
ارودغان نے کہا: میں ان کا امتحان لے لیتا ہوں تو پتہ چل جاتا ہے۔
ہمارے وزیر اعظم صاحب نے پوچھا: کچھ مجھے بھی تو پتہ چلے کیسے لیتے ہیں دانائی کا امتحان؟
اردغان نے مسکراتے ہوئے کہا؛ ابھی بتاتا ہوں۔ ساتھ ہی اپنے وزیراعظم داؤد اوغلو کو آواز دیکر بلایا اور کہا؛ داؤد اگر تیرے ماں باپ کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، تو یہ لڑکا تیرا کیا لگے گا؟ داؤد اوغلو نے بغیر کسی تاخیر کے کہا؛ جناب عالی یہ تو میں خود ہونگا۔
ارودغان نے مسکرا کر ہمارے وزیر عظم کو دیکھا جو کہ کسی سوچ میں گم ہو گئے تھے۔
ہمارے وزیر اعظم نے ہوٹل پہنچ کر اپنے وفد کے ساتھ آئے ہوئے وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی جناب چوہدری عابد شیر کو بلا کر پوچھا:عابد شیر علی، اگر تیرے ماں باپ کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، بتا یہ بچہ تیرا کیا لگے گا۔
چوہدری عابد شیر علی نے بہت سوچ سوچ کر کہا کہ میں اس کا جواب ایک گھنٹے کے بعد دونگا۔
وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی صاحب نے اپنے کمرے میں جا کر چوہدری نثار علی کو فون کیا اور پوچھا؛ چوہدری صاحب اگر آپ کے ماں باپ کے گھر میں ایک بچہ ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، بتاؤ تو بھلا یہ بچہ تمہارا کیا لگے گا؟ چوہدری نثار صاحب نے کہا؛ یہ تو میں خود ہونگا۔
ایک گھنٹے کے بعد وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی صاحب نے وزیر اعظم کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جیسے ہی وزیر اعظم صاحب باہر نکلے تو انہیں اپنی خوشی پر قابو پاتے ہوئے کہا؛ وزیر اعظم صاحب اگر میرے والدین کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، تو یہ بچہ چوہدری نثار علی ہوگا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

بیویاں دو طریقے کی ہوتی ہیں
پہلی وہ جو شوہر کی بات سنتی ہے. اس کے خیالات کو سمجھتی ہے. ان سے محبت سے پیش آتی ہے. کبھی بھی کوئی فرمائش نہیں کرتی. اور تو اور شوہر کتنا بھی غصہ کرے وہ مسکراتی رہتی ہے.
اور دوسری وہ..جو سب کے پاس ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ ہر صبح اپنی بیگم کو اس کی یونیورسٹی چهوڑنے جاتا تها۔یونیورسٹی کے مین گیٹ پہ پہنچ کے میں گاڑی روکتا اور نیچے اتر کر دوسری طرف کا دروازہ کھولتا ،خوش اسلوبی اور تبسم ہونٹوں پہ بکهیرتے ہاتھ پکڑ کے انہیں نیچے اتارتا،وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھہنستی مسکراتی اندر چلی جاتی اور وہ گهر کی راہ لیتا ، دوپہر میں آتا چاک و چوبند شاہی نوکر کی طرح گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ کسی شہزادی کی طرح گاڑی کی فرنٹ سیٹ میں اک ادائے دلبرانہ اور مسکان قاتلانہ کے ساتھ فروکش ہوتی پهر وہ گهر چلے جاتے اگلی صبح پهر .....یہ ان کا   روز کا معمول تها.ادهر یونیورسٹی میں ، اس کا چرچا لڑکیوں کے درمیان خوب ہوا جارہا تها.کوئی کہتی "اللہ ہر کسی کو ایسا رومانس اور ٹوٹ کے محبت کرنے والا شوهر دے." تو کسی کے لبوں میں دعائیں ہوتی ."خدایا اس جوڑے کو صدا سکهی اور شاد رکھے "
کچھ رشک کی انتہا کو پہنچتی "رب کریم مجهے بهی ایسا ہی چاہنے والا شریک حیات نصیب کر."
لیکن سچ میں ان کے درمیان کوئی رومانس تها نہ محبت 
دراصل گاڑی کا دروازہ خراب تها جو صرف باهر سے کهولنے کی صورت ہی کهلتا تها

Share this post


Link to post
Share on other sites

جنرل فیض علی چشتی بیان کرتے ہیں جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ ہم فرانس کے دورے پر گئے، وفد کے ارکان کو ایک اعلی ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ۔ اسی شام جنرل ضیاء الحق کے دروازے پر دستک ہوئی ، صدر مملکت نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ دروازے پر سفید وردی میں ملبوس ایک گورا کھڑا ہے جس کے کندھے اور سینے پر کافی تمغے اور پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔
صدر مملکت اسے دیکھ کر فوراً تپاک سے ہاتھ ملایا ، بغلگیر ہوئے اور اسے اندر آنے کی دعوت دی ۔ علیک سلیک اور خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد صوفے پر بٹھایا اور فرانس کے قومی حالات اور فرانس پاکستان فوجی تعاون پر بات چیت شروع کی۔
چند منٹوں*کے بعد گورے شخص نے کہا ” جناب مجھے آپکی باتیں*سمجھ نہیں*آرہیں۔ لیکن پھر بھی میرے لائق جو خدمت ہے وہ بتائیں میں حاضر ہوں ”
جنرل ضیاء الحق حیران ہوگئے۔ اور اب اس شخص کا تعارف پوچھا ۔ جس پر گورا بولا
“جناب میں اس ہوٹل کا بیرا ہوں ۔ اور آپکی سروس کے لیے آیا تھا۔ کوئی خدمت ہوتو بتائیے”
جنرل چشتی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صدر ضیاالحق بڑے شرمندہ ہوئے۔ اس گورے کو رخصت کیا ۔ اور بعد میں، میں نے صدر مملکت سے پوچھا ۔ آپ نے اس بیرے کو کیا سمجھا تھا ۔
جنرل صاحب کہنے لگے۔۔۔۔
” میں سمجھا تھا فرانسیسی بحریہ کے ایڈمرل ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ ”
اسکے بعد ہم دونوں جنرل ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

حیدرآبادی چوڑیوں کی وہ تصویریں ثانیہ کو اتنی پسند آئیں۔کہ اس نے گروپ کی سب سے شوخ و چنچل لڑکیمناہل کوفرینڈ ریکوسٹ اسی وقت بھیج دی۔جس نے وہ چوڑیوں کی تصویریں اپلوڈ کی تھیں۔
اگلے دن مناہل نے ثانیہ کی فرینڈ ریکوسٹ قبول کی۔تو ثانیہ جو اسی انتظار میں تھی۔اس نے جھٹ سے مناہل سے ان چوڑیوں کے متعلق پوچھا۔جو مناہل کا بھائی اس کے لیئے لایا تھا۔
مناہل شائد اس انداز سے بات کرنے کی عادی نہیں تھی۔لیکن اس نے ثانیہ کو بتا ہی دیا۔یوں دن گذرتے گئے۔مناہل اور ثانیہ اب اکثر گروپ میں یک جان دو قلب کے مانند نظر آتے ان باکس میں بھی ان کی دوستی گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔
مناہل کی ہر پوسٹ پر ثانیہاور ثانیہ کی ہر پوسٹ پر مناہلایک دن ہمت کرکے ثانیہ نے مناہل سے ملاقات کا سوچا۔اور مناہل کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا۔چند دن تک تو مناہل آن لائن نہیں آئی۔پھر اچانک سے ایک دن ثانیہ کو مناہل کا میسج موصول ہوا۔سوری ثانیہ میں مناہل نہیں عبدالغفور ہوں مجھے معاف کرنا۔میں آج بھی تمھیں دوست سمجھتا ہوں۔ثانیہ کے دل پر تو جیسے کسی نے بم پھوڑ دیۓ ہوں 
کافی دیر تک وہ یہ میسج دیکھتی رہی۔اور بالاخر اسے قسمت کا کھیل سمجھا ۔اور نم آنکھوں کے ساتھ ثانیہ نے لیپ ٹاپ بند کردیا۔اور بائیک سٹارٹ کرکے باہر گلی کا رخ کیا۔جہاں اس کے آوارہ دوست اس کا انتظار کررہے تھے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک لڑکی نے سوچا کہ اگر میں اچانک اپنے خاوند کو یہ بتائے بغیر چلی جاؤں کہ میں کہاں جا رہی ہوں تو ان کا ردعمل کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر اس نے خط لکھا، "میں آپ سے تنگ آ چکی ہوں اور مزید آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ میں آپ کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں"۔ یہ خط لکھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود بیڈ کے نیچے چھپ گئی۔
جب اس کا خاوند واپس آیا تو اس نے خط پڑھا اور اس کی پشت پر کچھ لکھ دیا۔ پھر اس نے ناچنا اور گانا شروع کر دیا۔ اپنا فون اٹھایا، کسی لڑکی کو نمبر ملایا اور بولا، "جان آج میں بہت خوش ہوں، میں اپنی بیوی سے بہت تنگ تھا، آج مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی، میں بس کپڑے بدل کر تم سے ملنے آ رہا ہوں، اب بس تم ہو گی، میں ہوں گا اور رقص میں سارا جنگل ہو گا"۔
اس کے بعد اس نے کپڑے بدلے اور گھر سے باہر چلا گیا۔ اس کی بیوی کچھ دیر بیڈ کے نیچے ہی لیٹی رہی، منہ پر ہاتھ رکھ کر روتی رہی، آخر ہمت کر کے باہر نکلی۔ پھر اس نے سوچا کہ آخر اس کے خاوند نے خط کے پیچھے کیا لکھا تھا؟ اس نے کاغذ پلٹا تو وہاں لکھا تھا: "پاگل عورت بیڈ کے نیچے سے تمہارے پاؤں نظر آ رہے تھے، میں مارکیٹ سے دودھ لینے جا رہا ہوں، دس منٹ میں آ جاؤں گا"

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now