Sign in to follow this  
Story Maker

ایک لڑکی کا نوکر سے بدلہ

Recommended Posts

سلام فرینڈز امید ہے آپ سب لوگ ٹھیک ہی ہوں گے . یہ میری ایک آپ بیتی ہے جب میں 23 سال کی تھی. 
میرا نام سعدیہ ہے اور کرنٹ ایج 27 سال اور میں انجینیئرنگ کر رہی ہوں . آپکو میں اپنا جِسَم بتائے بغیر کیسے رہ سکتی ہوں ؟ ؟ ؟ میرے ممے 36 ، گانڈ 38 کی ہے اور بہت ہی کیوٹ بچوں والا فیس ہے میرا سو اندازہ تو آپ نئے لگا ہی لیا ہوگا کے میں سیکس بمب ہوں. . 

میں اپنے پیڑینٹس کی اکلوتی اولاد ہوں اور اس وجہ سے انہوں نئے مجھے بہت ناز و لاڈ سے پالا ہے جسکا فائدہ میں خوب اٹھاتی ہوں . میرے ابو واپڈا میں کافی اچھی پوسٹ پے ہیں اور امی ہاؤس وائف ہیں سو کافی کھلا خرچہ ہوں جاتا ہے ہمارا . کیونکہ ہمارے گھر میں کوئی لڑکا نہیں تھا تو گھر کے کام کرنے میں کافی مشکل ہوتی تھے کیوں کے ڈیڈ بھی اپنے ٹورز پے کافی دن گھر سے باہر رہتے تھے سو میری موم کا آئیڈیا تھا کے ایک نوکر کو فل ٹائم جاب دے کے گھر رکھ لیں . میری موم کافی سیدھی سادھی خاتون ہیں اور زمانے کی چلاکیوں سے بالکل نا واکف ہیں سو انہوں نے ضد کی ایک نوکر کو رکھا جائے . آخر کافی تلاش کے بَعْد میرے ڈیڈ کے دوست سے ریفرنس سے یاسر خان کو نوکرکی جاب دے دی گئی . یاسر کی عمر اس وقت 22 سال ہوں گی لیکن وہ قد کاٹھ کی وجہ سے ایج سے زیادہ لگتا تھا . خیر وہ ہماری گھر کے پیچھے بنے کمرے میں رہنے لگ گیا . 

اسٹارٹ میں تو وہ کافی اچھا ثابت ہوا اور گھر کے سارے کام خود ہی کر لیتا تھا حتہ کے ڈیڈ کے ہوتے ہوئے بھی وہ سب کام خود کرتا سو ڈیڈ اس سے بہت خوش تھے اور اپنی سلیکشن پہ اتراتے رہتے اور اسکی تعریف کرتے رہتے . میرا واسطہ اس سے کم ہی پڑتا تھا لیکن جب بھی میں اپنی گاڑی سے کالج واپسی سے اترتی تو فوراً بھاگ کے میرا سامان پکڑ لیتا اورمیری چھاتی کو غور سے دیکھتا جیسے کچا کھا جائے گا . باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن وہ بہت عجیب اور گندی نظروں سے دیکھتا تھا جب بھی میری امی بغیر دوپٹے کے پھرتی یا کہیں بیٹھی ہوتی تو وہ ہر وقت انکے ممے تاڑتا رہتا یا کبھی کپڑے دحوتی ہوئے میری موم کے گیلے کپڑے جِسَم کے ساتھ چپکے ہوتے تو وہ انکی گانڈ کو اپنی ٹھرکی آنكھوں سے نھارتا رہتا خاص طور پے جب میری عی کی کمیض یا شلوار گانڈ میں پھنسی ہوتی تھی بیٹھنے کی وجہ سے یا سوکھے کپڑےاتارنے کے لیے میری برا اور پینٹیز کو سونگھتا رہتا . میری عادت تھی کے میں لوز ٹی شرٹ میں گھر میں پھرتی تھے اور کیوں کیے میرے ممے بہت ہی بڑے تھے تو عام طور پر شرٹ کا گلا کافی کھلا ہوتا کے کوئی بھی بندہ آسانیسے اوپر کھڑا ہو کے میری کلیویج اور تک دیکھ سکتا تھا . مجھے پتہ تھا کے یاسر میرے ممے بھی تاڑتا رہتا ہے. جب بھی میں صوفہ پے بیٹھ کے ٹی وی دیکھ رہی ھوتی تو فوراً میرے سَر پے آ کے کھڑا ہوں جاتا اور پوچھتا کے باجی کوئی چیز چاہئیے ؟ میں کائی دفعہ اسے پکڑ چکی تھے اپنے ممے اور گانڈ تاڑتے لیکن وہ باز نہیں آیا . خیر مزہ مجھے بھی بہت آتا کیوں کے اگر آپ خوبصورت ہوں اور کوئی آپ کے حسن کو نھارے تو آپکو غرور پیدا ہو ہی جاتا ہے سو میں زیادہ فکر نہیں لے رہی تھے اسکے ممے دیکھنے کو . میں نے سوچا کے ابھی بچہ ہے اور جوان بھی ہے تو ٹھیک ہوں جائے گا لیکن کبھی کڑوا پانی بھی میٹھا ہوا ہے ؟ ؟ ؟ 

ایک رات میں ہمارے گھر کے پیچھے بنے گارڈن میں بیٹھی اپنی دوست سے باتیں کر رہی تھے . میں ادھر اُدھر چل رہی تھے بات کرتے کرتے کے ذرا آگے آ گئی اور دیکھا کے تھوڑی دوڑ ایک آدمی میری امی کے واش روم کی پچھلی دیوار کے ساتھ کھڑا ہوا تھا . پہلے تو میں ڈر گئی اور شور مچانا چاہا کے کہیں چور نہ ہو لیکن حوصلہ کر کے میں دبے پاؤں ذرا آگے گئی تو میرے ہوش اُڑ گئے . میں آگے کا منظر دیکھ کے دہل گئی کیوں کے وہ مرد کوئی اور نہیں بلکہ یاسر تھا اور وہ واش روم کی بیک سائڈ کی طرف بنی چوٹی کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا اور ساتھ ہی اپنا لوڑا پینٹ سے باہر نکال کے مٹھ مار رہا تھا . باتْھ روم کی ہلکی روشی منہ پر پڑنے کی وجہ سے اسکی شکل صاف نظر آ رہی تھے . میرے ذہن میں جھماکا ہوا کے میری موم اس وقت نہا رہی تھی اپنے واش روم میں کیوں کے تھوڑی دیر پہلے انہوں نے مجھ سے ٹاول مانگا تھا. مطلب یاسر میری عی کا ننگا جسم جو کے انکی گانڈ پھدی اور ممموں پے مشتمل تھا وہ دیکھ رہا تھا اپنی گندی نظروں سے. میں اس ذلیل کی حرکت دیکھ کے حیران ہوں گئی لیکن میرے ذہن میں آئیڈیا آیا کے کیوں نا اسکی ویڈیو بناوں ؟ سو میں نے ایک طرف چھپ کے اپنا موبائل نکالا اور اسکی ویڈیو ریکارڈ کر لی مٹھ مارتے ہوئے اور آہستہ آہستہ میں اسکی طرف بڑھتی گئی تا کے اسے ایکسپوز کر سکوں . جب میں اسکے کافی قریب ہوں گئی تو اسے شور سنائی دیا اور پیچھے مڑ کے دیکھا تو میں کھڑی تھی . ایک منٹ تو اسکا سانس رک گیا لیکن میں نے غصیلی آنكھوں سے اسکو دیکھا اور اپنا کیمرہ دکھایا . اسکے ٹٹے شورٹ ہوگئے تھے . میں نے اسے کہا کے گارڈن میں آ کے میری بات سنے . وہ جب گارڈن میں آیا تو بغیر کچھ کہے سنے میں نے ویڈیو اسکی آنكھوں کے سامنے کر دی . وہ ہکا بکا دیکھتا رہا اور میں نے کہا کے صبح کا انتظار کرے. . 

ساری رات میں سوچتی رہی کے کیا کرون اسکا ؟ ڈیڈ کو ویڈیو دکھا دوں ؟ لیکن اس میں میری امی کی بھی بدنامی ہوں جاتی سو میں نے ایک شیطانی منصوبہ بنایا یاسر کے بارے میں کے کیوں نا اسکو ٹریپ کر کے اسکی ویڈیو بھی بنای جائے ؟ ؟ یہ آئیڈیا مجھے اچھا لگا سو میں نے صبح اسکو اشارے سے بلایا کے علیحدہ آ کے بات سنے . وہ فل ڈرا پڑا تھا اپنی قسمت کے بارے میں میں نے اسے کہا کے میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی تم رات کو 12 بجے میرے روم میں آنا میرے کمرے کی بیک کھڑکی سے . میں نے سلیپنگ پلز ( جو میرے ڈیڈ اکثر استمعال کرتے تھے ) اور کچھ رسیاں جمع کر کے اپنی روم میں رکھ لی رات کے لیے . میں نے ریشمی بلیک چوٹی ڈریس پہن لی جو کے اتنی چوٹی تھے کے اگر میں جھکتی تو میری گانڈ نظر آنے لگ جاتی اور اگر فل سیدھی بیٹھ جاتی تو میرے مموں کی کلیویج نظر آتی رہتی . 12 بجے جب وہ اندر آیا تو مجھے دیکھ کے حیران ہوں گیا کے یہ کیا ماجرہ ہے . میں نے نوتے نہیں کیا اسکے ری ایکشن کو اور کہا کے اگر وہ مجھے چود دے کسی کو بتائے بغیر تو میں اسکی ویڈیو کسی کو نہیں دکھاؤ گی . وہ پہلے تو شک میں پڑ گیا لیکن جب میں تھوڑی جھک کے اس سے پوچھا تو میرے ببڑے ممے دیکھ کے اسکی آنکھوں میں چمک آ گئی . وہ کہنے لگا کے ٹھیک ہے لیکن آپ ویڈیو ڈلیٹ کر دو گی نہ؟؟ . 

میں نے اسے بیٹھنے کا کہا اور اپنی ٹیبل سے دودھ اٹھانے کے لیے چلی گئی جس میں میں نے تھوڑی سی سلیپنگ پل ملائی تھے ہلکی ہلکی نیند کے لیے . میں جان بوجھ کے جھک گئی تا کے میری گانڈ دیکھ لے اور اسکا دماغ سوچنے نا لگ پڑے کچھ . میں نے اسے دودھ پینے کو کہا جو وہ فوراً پی گیا میرے مموں کو دیکھتے ہوئے . میں اس کے پاس جا کے بیٹھ گی اوراس سے دھیمے سیکسی لہجے میں باتیں کرنے لگ پری کے یہ ہمارے درمیان سیکریٹ رہے گا . وہ راضی ہوں گیا . میں نے اسے بیڈ پے لیٹنے کا کہا . اس نے فوراً میرے ممے پکڑ لیے لیکن میں پیچھے ہٹ کے اسے لیٹنے کا کہا . وہ بیڈ پے لیٹ گیا میں بولی کے آج اِسْپیشَل سیکس ہوں گا سو میں نے رسیاں نکال لی اور بیڈ پے ڈال دی . پہلے تو وہ پریشان ہو گیا رسیاں دیکھ کے لیکن میں نے جان بوجھ کے ڈریس تھوڑی سی اوپر کی ٹانگوں سے تا کے میری بنا پینٹی کے پُھدی کا نظارہ لے لے وہ . اسکے دماغ پے سیکس سوار ہو گیا اور وہ لیٹ گیا . میں نے اسے ننگا ہونے کو کہا تو بولا کے لائٹ اوف کر دیں لیکن میں غصے سے بولی کے یہاں میرا حکم چلے گا . سو وہ ننگا لیٹ گیا میں نے پہلے اسکا ایک ہاتھ باندھا اور پِھر دوسرا . وہ پریشان تو ہوا لیکن میں نے سمائل دی تو نارمل ہو گیا یہی حال میں نے اسکی ٹانگوں کو بھی کیا . اسکا لنڈ دیکھ کے ایک دفعہ تو میں سکتے میں آ گئی ، 21 سال کی ایج میں اسکا لنڈ 9 انچ لمبا اور 2 . 5 انچ موٹا تھا . اس نے اپنا لوڑا تارتے ہوئے مجھے دیکھ لیا اور ایک شیطانی سمائل دی . میں نے اسے دیکھ کے دِل میں اپنے پلان کو اصل شکل دینے کا فیصلہ کر لیا . پہلے میں اسکے پاس گئی اور کہا کے تمہارا لنڈ تو بہت کمال کا ہے میں نے پھلی نہیں دیکھا ایسا لنڈ . وہ بولا کے اُس کے گاؤں کی ساری لڑکیاں اس پہ فدا تھی اسکے لنڈ کی وجہ سے . ھونا بھی چاہیے تھا . 

میں نے ڈریس اُتار کے انڈرویئر اور برا پہن لی اور جان بوجھ کے اسکے بندھے ہاتھ والی بیڈ سائڈ کے پاس گئی تا کے میری پُھدی کو ٹچ کر سکے . اس نے فوراپنے ہاتھ سے میرے انڈرویئر کے اپر سے ہی میری پُھدی ٹچ کرنا اسٹارٹ کر دی . مجھے ہلکا سا کرنٹ لگا کیوں کے یہ فرسٹ ٹائم تھا کے ایک لڑکے نے میری پُھدی ٹچ کی ہوں . پہلے تو میں نے کوئی ریسپونس نا دیا لیکن وہ مسلتا رہا کبھی انڈرویئر یوکے اپر سے پُھدی میں انگلی ڈالنے کی کوشش کرتا کبھی میرے کلیتورس کو مسلتا . مجھے مزہ آ رہا تھا لیکن میں نے اسے کوئی ریسپونس نہیں دینا چاہ رہی تھے . سو چُپ کر کے کھڑی رہی . ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ آسانی سے نہیں ٹچ کر سکتا تھا سو میں اسکے ہاتھ پے بیٹھ گئی تا کے فریلی ٹچ کر سکے . وہ اب آرام سے میری پُھدی مسل رہا تھا اور میری پُھدی نہ چاہتے ہوئے بھی پانی چوڑی جا رہی تھے لگاتار کیوں کے اسکے ہاتھوں میں جادو تھا وہ بڑے رتھم سے کبھی پُھدی کے لپس کو انگلی کے بیچ پھنسا کے مسلتا کبھی میرے کلٹ کو اپنی انگلیوں میں دبا کے میری جان نکالتا . میں نے دیکھا کے اسکا لوڑا کھڑا ھونا اسٹارٹ ہوں گیا تھا . وہ کہہ رہا تھا کے باجی آپ بہت ٹائیٹ ہوں لگتا ہے کے کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے . بڑا مست مال ہوں آپ لگتا نہیں کے کسی لڑکے نے ابھی تک آپکو چودا نہیں ہو گا . بات سن کر اس ذلیل پر غصہ بہت آیا لیکن پلان کے مطابق اسکو سمائل دی . جب میری پینٹی میرے جوسز سے فل بھر چکی تھے تو میں نے انڈرویر اُتار دی اسکے سامنے . میری پُھدی مسلنے کی وجہ سے سوج چکی ت. وہ خوش ہوا کے باجی گرم ہو گئی ہے اور اب چُودائی کا ٹائم آ گیا لیکن میرے پلان کچھ اور تھے . میں نے اپنے انڈرویئر کی پُھدی والی جگہ کو باہر نکالا جو بالکل گیلی تھے اور فوراً اسکے منہ کے اندرگھسیڑ دیا . یاسر حیران رہ گیا اور میرے پُھدی جوسز کی کرواہٹ اسکو پسند نا آئی اسکا منہ بتا رہا تھا کے وہ کتنا غصہ ہوا اس بات پے لیکن کچھ کر نہیں سکتا تھا . میں اسکی بےبسی پر ہنسی اور بولی کیوں کیسا لگا میرا جوس ؟ ؟ وہ منہ میں کچھ بولتا رہا لیکن پرواہ کس کو تھے ؟ ؟ میں نے فوراً اسکے گالوں پے 4 کس کے تھپڑ لگاے کے اسکی ہوش ٹھکانے آ گئی . میں بولی کیوں پِھر باجی کو چودنا ہے ؟ ہاہاہاہا . یہ کہہ کر دوبارہ اسکے گال پر تھپڑ لگایا . وہ منہ میں غراتا رہا پِھر میں نے اسکے بالوں کو پکڑ کے زور سے کھینچا کے کچھ بال میرے ہاتھ میں آ گئے . اسکی آنكھوں سے آنسو نکل آئے . پِھر میں بولی کے اب دیکھ تیرے ساتھ ہوتا کیا ہے . . یہ کہہ کر میں اسکی ناک پے بیٹھ گئی کے میری پُھدی بالکل اسکی ناک کے سامنے تھے . اسکی گرم سانسیں اپنی پُھدی پر محسوس ہوں رہی تھے اور وہ اپنا منہ ادھر ادھر مار رہا تھا لیکن بیکار رہا اسے میری پُھدی کی خوشبو سونگھنی ہی پڑی . میں نے اپنی پُھدی کو مسلنا اسٹارٹ کر دیا ایک انگلی سے اور تھوڑی دیر میں گرم ہوں گئی اور جب میں نے تھوک لگا کے اپنی انگلی کلٹ پے مسئلی تو میرے جسم نے جھٹکا لیا یہ عجیب منظر تھا کے کسی کے چہرے پے بیٹھ کے فنگرنگ کرنے کا . مجھے بہت اچھا لگا اور میری پُھدی پِھر سے پانی چھوڑنے لگی جو کے سیدحا یاسر کی ناک سے ہوتا ہوا اسکے ہونٹوں پے چپک گیا . مجھے دیکھ کے دلی تسلّی ہوئی کیوں کے یاسر کی آنكھوں میں شدید غصہ تھا . لیکن ابی تو بہت بدلہ پڑا تھا . 

پِھر میں نے اسکے لن کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا ( باقی جو بھی ہوں لوڑا کمال کا تھا ) . میں اسکے لن کو سیحلانی لگی . وہ اپنے جِسَم کو ادھر اادھرادھر کرنے لگا زور زور سے یہ دیکھ کر میں نے 3 اور تھپڑ اسکے گالوں پر مارے اسکا منہ لال ہوں گیا تھپڑوں سے . وہ سکتے میں آ گیا . پِھر میں نے ہلکی سی تھوک لگا کے اسکی مٹھ مارنی اسٹارٹ کر دی . جب بھی میری انگلیاں اسکی ٹوپی تک پہنچتی تو اسکی سانسیں تیز ہوں جاتی . میں مٹھ لگتی رہی جب مجھے پتہ چلا کے وہ چھوٹنے کے قریب ہے تو میں نے فوراً اسکے لوڑے پے کس کے تھپڑ مارا . تھپڑ کھا کے اسکی حوشیاری آدھی ٹوٹ گئی . میں نے دوبارہ زور سے اسکے لوڑے پر تھپڑ مارا . یاسر اپنا سَر یدار ادھر مار رہا تھا . پِھر میں نے اپنی برا اُتار کے اپنے ممے آزاد کر دیے . یاسر میرے ممے دیکھ رہا تھا میں جان بوجھ کے اپنے مموں پر ہاتھ پھیرنےلگ گی. کبھی میں اپنے پورے بوبس پے ہاتھ پھرتی کبھی اپنے نپل کو 2 انگلیوں کے بیچ پھنسا کے ہلکا سا مسلتی . یہ کام بوہت ہی مزے کا تھا اور مجھے جوش آ رہا تھا یہ سب کے ایک لاچار مرد کے سامنے اپنے جِسَم سے کھیلنا . مجھے اب مزہ آنے لگ گیا تھا . کبھی میں اپنی انگلیاں چُوستی اور پھر انکو اپنی اپنی پُھدی پر لگاتی . ایک ہاتھ سے ممے مسلتی اور ایک ہاتھ سے اپنی پُھدی کو رگڑتی رہی. . اب میں گرم ہوں چکی تھے اور ایک انگلی پُھدی کے اندر بھی کرنے لگ پڑی تھے. میری چوت سالی پِھر پانی چھوڑنے لگی . پانی کی وجہ سے میری پُھدی سلپری ہوں گئی اور اور مزہ آنے لگا. میں ہلکی ہلکی چیخیں بھی مار رہی تھے مزے میں گم ہو کے . یہ سب میں کھڑے ہو کر یاسر کے لن کے اپر کر رہی تھے . یاسر کا لوڑا دوبارہ کھڑا ہوں چکا تھا میری سیکسی حرکتیں دیکھ کے . میری پھددی کا پانی اسکے لوڑے پے گر رہا تھا لگاتار . وہ حسرت بھری آنكھوں سے دیکھ رہا تھا . میں نے اپنے سلپری جوسز سے دوبارہ مٹھ مارنا اسٹارٹ کر دی اور اس دفعہ حیرانی ہوئی کے وہ 1 منٹ میں ہی چھوٹ گے اور ساری منی میرے ہاتھوں اور بازو اور کچھ میری آنكھوں پر لگ گئی 

یہ دیکھ کر اسکے چہرے پر سمائل آئی لیکن میرے جِسَم میں آگ لگ گئی . میں نے اسکی ساری منی کو اپنے ہاتھوں میں لیا لیا اور فوراً یاسر کے منہ پے پھینک دی . یاسر ہکا بکا رہ گیا لیکن میں نے وہ منی جو اسکے پیٹ پے گری تھے اپنی ہتھیلی سے صاف کی اور اپنی ہتھیلی پر لگا کے اسی ہاتھ سے یاسر کے منہ پر تھپڑ مار دیا . منی تھپڑ کی وجہ سے اڑ کے کچھ بیڈ پے بکھر گئی . میں نے تھوڑا نمک لے کے یاسر کے منہ میں ڈال دیا پینٹی ایک طرف سے ہٹا کے تاکہ اسکا منہ خشک ہوں جائے . پِھر میں نے تیل پکڑا اور دوبارہ مٹھ مارنے کا سوچا . اسکا لوڑا بالکل سویا پڑا تھا اور فل ڈھیلا تھا لیکن میں نے پرواہ نا کی اور سلپری ہاتھوں سے مٹھ مارنا اسٹارٹ کر دیا . تھوڑی دیر بَعْد اسکا لوڑا دوبارہ کھڑا ہوں گیا لیکن فل ایریکٹ نا ہوں سکا . میں لگاتار تیز تیز مٹھ مار رہی تھے جب بھی وہ مزے میں آتا تو میں اسکے ٹٹے دبا دیتی جس سے ہلکی سی چییخ نکلتی پِھر میں دوبارہ مٹھ مارتی اور ٹٹے دوبااتی رہی . میں نے یاسر کو بولا “کیون یاسر کیسا لگ رہا ہے ؟ بڑی تجھے سیکس کی بھوک تھے نا ؟ اب دیکھ میں بھوک کیسے مٹاتی ہون” . میں ایک ہاتھ سے اسکے نپل پنچ کر رہی تھے اور ایک ہاتھ سے مٹھ لگا رہی تھے . اسکا لورا لال ہوں چکا تھا لیکن جب بھی جھڑنے کے قریب ہوتا تو میں اسکے ٹٹوں پے چٹکی کاٹ دیتی اور ہلکی سی تھپڑ ماتی پِھر میں نے اسکے ٹٹے اپنی مٹھی میں لے لیا اور انھیں دبانا اسٹارٹ کر دیے جب بھی میں دوبااتی اسکی سانس رک جاتی آنکیں باہر کو آ جاتی . میں اسکے پیٹ پے بیٹھ گئی اور ایک ہاتھ سے پینٹی نکالی اور دوسرا ہاتھ منہ پر رکھ لیا تا کے چیخ نا مار سکے . میں نے پوچھا کے بڑا میری امی کو دیکھنے کا شوق تھا نہ تجھے؟ ،چل اب امی کی بیٹی کو ہی دیکھ لے . وہ رونے لگ پڑا اور آنكھوں سے آنسو نکل ہے تو میں نے ہاتھ منہ سے اٹھا لیا . وہ منتیں کرنے لگ گیا کے آئندہ کبھی نہیں کرے گا معافی دے دوں . لیکن اب بدلے کی بجاے میرے اندر حَیوان آ چکا تھا . اب یاسر میرا تجربہ بننے والا تھا . میں نے طنز کرتے ہوی کہا کہا کے “ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے بیتا” . پِھر دوبارہ پینٹی اسکے منہ میں دے دی . پِھر دوبارہ مٹھ مارنے لگ گئے ساتھ ساتھ یاسر کی طرف منہ کر کے ممے مسلنے لگی آخر وہ انکا دیوانہ رہا تھا اور اتنا تو اسکا حق بنتا تھا ? . وہ دیکھ کے گرم ہو گیا پھوبھر میں نے اسکے لوڑے کو اسکے پیٹ کے ساتھ لگایا اور اسکے لوڑے پے بیٹھ گئی . میں نے تھوک لگائی اپنی پُھدی پے اور اسکے لوڑے پے آگے پیچھے ہونے لگی . مجھے بھی بہت مزہ آ رہا تھا کیوں کے ہر بار اسکی ٹوپی میری پھددی ک اندر والے حصّے کو ٹچ کرتی تو کرنٹ دوڑتا تھا . میری پُھدی نے بھی پانی چھوڑنا اسٹارٹ کر دیا اور سلپری ہونے کی وجہ سے یاسر نے اپنے پیٹ پے ہی چھڑوا دیا . اسکے لن نئے پہلی پچکاری ماری جو یاسر کے سینے پے لگی اور کچھ میری پُھدی کے ساتھ چپک گئی . دوسری اور تیسری پچکاری اسکے پیٹ پے گیری . یاسر شرم سے مر رہا تھا . پِھر میں اٹھی اور اپنا موبائل نکال کے لے آ آئی . اسکی ویڈیو میں میں نے پہلے یاسر کا منہ دکھایا اور اسکے منہ میں پھنسی پینٹی پھر زوم آؤٹ کر کے جگا دکھائی کے کیسے یاسر پھنسا ہوا تھا اور اسکی منی اسکے پیٹ پے پڑی تھے باشامول ننگے لوڑے کے . . یاسر کیمرہ سے منہ چھپاتا راہ الیکن کوئی فائدہ نہیں تھا . 

پِھر میں نے ویڈیو پاز کر دی اور اپنے دراز سے ایک ربڑ کا دستانہ نکالا ( جو ہیر کلر کے وقت استمال ہوتا ہے ) . میں نے اسے پہن کے مڈل اور انڈیکس فنگر کو آئل میں ڈبویا اور اچھی طرح تیل لگانی کے بَعْد کچھ آئل یاسر کی گانڈ پے لگانا سٹارٹ کر دیا. یاسر نے ہلنے اور چیخ مارنے کی کوشش کی لیکن میں نے اتنی زور سے اسکے ٹٹوں کو دبایا کے اسکی سانس ہی روک گی. پھر میں نے اسکے گانڈ والی موری کو ٹچ کرنے لگی اور بولی کے اتنی ٹائیٹ گانڈ ، پتہ نہیں لڑکوں نئے کیسے چھوڑی ہوں گی . کیوں کےیاسر کے ہاتھ اور ٹانگیں 4 سائیڈسے باندہے تھے سو یاسر کی جِسَم پوزیشن x میں تھا سو میں نے لمبی انگلی اسکی گانڈ میں گھوسانی کی کوشش کی . گانڈ ٹائیٹ تھی اور کچھ یاسر نئے گھوٹ لی تھے سو انگلی اندر جا نہیں سکی . میں نے الٹے ہاتھ سے ٹٹے پکڑ لیے اور ہلکا سے دوبایا اور سیدھے ہاتھ کی انگلی کو تیل سے تر کر کے زور لگا کے اسکی گانڈ میں ڈال دی . یاسر کا دھیان ٹٹوں کی طرف تھا سو گانڈ میں انگلی چلی گئی . یاسر کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے لیکن مجھ میں رحم نہیں تھا ، میں نے انگلی آگے پیچھے کرنا اسٹارٹ کر دی . اسکی گانڈ سے پُوچھ پوکچ کی آواز آنے لگی پِھر میں نے انگلی باہر نکالی اور اپنی شہادت والی انگلی کو درمیانی انگلی پے اس طرح رکھا کے ایک انگلی بن گئی اور پریشر سے اسکی گانڈ میں ڈال دی . بہت زور لگانا پڑا مجھے ایسا کرتے ہوئے کیوں کے گانڈ کافی ٹائیٹ تھے . وہ درد سے بلبلہ رہا تھا لیکن مجھ پے جنون سوار تھا میں نے گانڈ کے اندر جا کر انگلیاں کھول دی تا کی اسکی گانڈ کھلی ھو جائے . پِھر میں نے کیمرہ دوبارہ چلا دیا اور ویڈیو بنانی لگ گئی کے یاسر کی گانڈ میں اپنی انگلیوں کی اسکی گانڈ سے ٹٹی نکل رہی تھی تھوڑی تھوڑی . وہ میں نے انگلی باہر نکال کے یاسر کو دکھائی اور ہنسنے لگی ( ویڈیو میوٹ تھے ) . یاسر اپنا سَر ادھر ادھر مرنے لگا . میں نے تھوڑا اور نمک اسکے منہ میں ڈال دیا . پِھر میں نے انگلیاں دوبارہ گانڈ میں ڈال دی اور دوسرے ہاتھ سے مٹھ مارنے . یاسر کی شکل منٹوں والی تھے وہ اب ریسسٹ بھی نہیں کر رہا تھا لیکن میں نے خود اپنے کنٹرول میں نہیں تھے . میں زور زور سے مٹھ مارنے لگی اور انجلاین اندر باہر کرنے لگی اور منہ میں میرے کیمرہ تھا جو سارے سین ریکارڈ کر رہا تھا . تھوڑی دیر کے بَعْد یاسر 3رد ٹائم چوت گیا لیکن بہت کم منی نکلی اسکی . 

کچھ 3 دفا مٹھ اور کچھ سلیپنگ پل کی وجہ سے وہ غشی میں زیادہ آ گیا . میں نے انگلیاں گانڈ سے نکال لی اور اندر ویر بھی اسکے منہ سے نکال لی اور ایک ہاتھ سے ٹٹے پکڑ لیے تا کے چیخ نا مار سکے . نمک کی وجہ سے اسکا منہ خشک ہوں چکا تھا اور اسے پیاس لگ رہی تھے اسکے ہونٹ سُوکھ چکے تھے وہ بیلبیلایا کے ایک گلاس پانی دے دوں اور معافی دے دوں اور رونے لگ پڑا میں نے اسے چُپ ہونے کا کہا اور کہا کے اگر وہ میری پُھدی چاٹے تو اسکو پانی مل جائے گا وہ رضامند تو نا تھا لیکن کوئی چارہ بھی نا تھا میں اسکے منہ پے بیٹھ گئی ٹانگیں فولڈ کر کے کے میری پُھدی اسکے ہونٹوں کے اپر تھے . وہ میری پُھدی چاٹنے لگا اور اسکی زبان خشک ہونے کی وجہ سے کافی کھردری ہو گئی تھی جو میں چاہتی تھی تا کے زیادہ مزہ مل سکے . وہ کبھی میرے پھددی کے باہر والے ھونٹوں کو زبان سے چوستا کبھی میری پھددی ک اوپر والے دانے کو چوستا . میں مزے کے ساتویں آسمان پے تھی . میں نے اسے کہا کے اپنی زُبان میری پُھدی کے اندر تک ڈالے . پِھر وہ اپنی زبان میری پھددی ک اندر باہر کرنے لگ پڑا . میں مزے میں پاگل تھی اور پُھدی پانی او او پانی ہوں رہی تھی . وہ تھوڑا تیز ہو گیا اور دانے پے زبان تیزی سے پھیرنے لگا . میرا آرگزم قریب تھا . میرے جِسَم میں بجلیاں دوڑ رہی تھی اور رونگٹے کھرے ہوں چکے تھے میں اپنے ھاتھوں سے سے اپنے مممے مسل رہی تھے پاگل ہوں رہی تھے . میری سانس پھول رہی تھی اور میرے جِسَم میں آرگزم ڈیولپ ہوں رہا تھا. میں اپنی پھدی اسکے منہ پے آگے پیچھے رگڑنے لگی . اسکی زبان پے ہی سلپ ہوتی رہی کے میرا مادہ چھوٹ گیا . میرا کافی فلوئڈ ریلیز ہوں گے اور سارا اسکے منہ پر لگ گیا . مجھے پیشاب محسوس ہوں رہا تھا سو میں نے فوراً کیمرہ اوپن کیا اور فوکس اپنی پھدی اور اسکے منہ کی طرف کر لیا . وہ کیمرہ دیکھ نہیں سکتا تھا . میں نے ایک ہاتھ سے اسکی ناک بند کی اور سانس لینے ک لیے یاسر نے اپنا مو کھولا اور پیشاب کردی اسکے مو پے اور کہا کے لوں پی لوں پانی . ناک بند کی وجہ سے اسکا منہ کھلا اور پیشاب اسکے منہ میں چلا گیا گرم گرم . پھیراحیستا آہستہ سارا پیشاب اسکے منہ اور بالوں میں پھیل گیا کچھ وہ پی گیا جسکی ویڈیو بن چکی تھی . 

پِھر میں اٹھی اور اسے پوری ویڈیو دکھا این ڈی اسکے سامنے ایک کاپی اپنی فرینڈ کو سینڈ کی ( جو کے میری ہی سیکنڈ ایمیل تھی ) اور اسے دھمکایاکے اگر وہ کل گھر سے نا بھاگا تو میں ویڈیو انٹرنیٹ پے ڈال دوں گی . وہ راضی ہوں گیا اور میں نے کپڑے پہن کے اسے بالوں سے دوبارہ کھینچا اور غصے سے بولا کل صبح تم مجھے نظر نا آانا اور اور دفعہ ہوں جاؤ اب . میں نے اسکی رسیاں کھول دی اور چوڑی پکڑ لی حفاظت کے لیے لیکن وہ پہلے ہی ختم ہوا پڑا تھا . وہ کپڑے پہن کے کھڑکی سے نیچی اُتَر گیا اور صبح جب میری آنکھ کھلی تو امی یاسر کو آواز دی رہی تھے لیکن یاسر سن نہیں رہا تھا اور سنتا بھی کیسے ؟ ؟ ؟ ؟ وہ تو بدنامی کے ڈر سے جا چکا تھا . 2 دن بَعْد اسنے ابو کو فون کیا کے میرا بھائی مر چکا ہے سومین کام پر نہیں آ سکوں گا . امی کہہ رہی تھے کے بڑا اچھا لڑکا تھا سارے کام کر لیتا تھا اور کبھی نظر اٹھا کے نہیں دیکھتا تھا لیکن میں دِل میں سوسچ رہی تھے کے معصوم عی جان شکر کریں ابی آپکو پتہ نہیں اک آپکے ننگے جِسَم کو دیکھ کے چودنے کے خواب سوچ کے مٹھ مار رہا تھا اور آپ کہتی شریف تھا ؟ وہ ایک واقعہ مجھے ابھی تک یاد ہے اور ویڈیو دیکھ کے کبھی کبھی خود پے حیرت ہوتی کے یہ کام کیسے ہوں گے لیکن جو بھی ہے ہوں گیا تھا ? ? . 

دوستو میری کہانی کو لائک کرو تا کے میں فیوچر میں بھی زیادے سے زیادہ لکھ سکون. سٹوری لکھنا بوھت مشکل کام ہے لیکن آپ کے پیار میں میں لکھتا رہوں گا. فقط اپکا اپنا دوست........ شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this