Story Maker

گھٹنے کی چوٹ

Recommended Posts

گھٹنے کی چوٹ 
میرے ساتھ یہ خوشگوار اتفاق ایک حادثاتی طور پر ہو گیا تھا . اسی دن میرے شوہر صبح كے وقت اپنے دوست کی شادی میں شریک ہونے کے لئے ایک ہفتے كے لئے کراچی گئے تھے . 
میری بھی ایک سہیلی کی چھوٹی بہن کی منگنی کی رسم تھی ، جس میں شریک ہونے كے لئے میں اپنے آپ کو بنا سنوا ر رہی تھی . میرا 15 سالا چھوٹا بھائی ، جو گاؤں سے ، میرے شہر میں ایک مدرسے میں پڑھنے آیا ہوا تھا ، وہ بھی اچانک میرے گھر آ گیا . وہ 10 12 دن بَعْد میرے گھر آ جایا کرتا تھا ، اور 6 7 گھنٹے گزا ر کر پِھر واپس چلا جایا کرتا تھا . وہ اس وقت میرے بچوں كے پاس بیٹھا ہوا انکے ساتھ کھیل رہا تھا . میرے بچوں کی عمریں اس وقت 4 سال اور چھوٹی کی 14 منتھ تھی . میں اپنے چھوٹے بھائی كے لئے کچن میں جا کر کچھ بنانے لگی تھی ، کہ اوپری شیلف پر رکھا ہوا بیلن لڑھکتا ہوا نیچے کی طرف آیا اور سیدھا میرے دائیں گھٹنے پر اتنی زور سے لگا ، كہ میری تو چیخیں نکل گئیں . 
میری اتنی بلند چیخیں سن کر میرا بھائی اور میری ساتھ والی ہمسائی دوڑتی ہوۓ میرے پاس آئیں . مجھے روتے ہوئے دیکھ کر مجھ سے رونے کی وجہ پوچھی ، تو میں نے بتلا دیا کہ بیلن میرے گھٹنے پر لگا ہے ، لگتا ہے میری گھٹنے کی ھڈی ٹوٹ گئی ہے . 
فنکشن میں جانے کی تیاری تو دھری کی دھری رہ گئی . میری ہمسائی نے میرے بچوں اور میرے گھر کو سنبھالا اور میں چھوٹے بھائی كے ساتھ ، بازار میں بیٹھے ہوئے ایک پہلوان كے پاس آ گئی جو ٹوٹی ہڈیوں کو ٹھیک کرتے ہیں . یہ بھی اچھا ہی ہوا کہ ہم ٹائم سے وہاں پہنچ گئے تھے ، ورنہ انکی دکان كے وقفے کا ٹائم شروع ہونے والا تھا . پہلوان کی شاپ پر اس وقت صرف ایک بوڑھی عورت اپنے ہاتھ کی پٹی کروانے آئی ہوئی تھی . اس نے مجھے روتے ہوئے دیکھا تو وجہ پوچھی . میں نے وجہ بتلائی ، تو وہ میرے کپڑوں کو دیکھ کر کہنے لگی ، بیٹی ، تمھارے گھٹنے پر چوٹ آئی ہے ، تو لازمی بات ہے کہ گھٹنے کی مالش بھی ہو گی ، یہاں پٹی بھی باندھی جائے گی . مگر تمہاری شلوار کا پائِنچا اتنا چھوٹا سا ہے کہ یہ تو تمہاری پنڈلیوں كے اوپر بھی نہیں جائے گا ، گھٹنا کراس کرنا تو دور کی بات . بہتر ہو گا کہ تم پہلوان کے کمرے میں جانے سے پہلے اپنی شلوار کا پائِنچا ادھیڑ لو ، تاکہ یہ آسانی سے اوپر ہو سکے . میں نے ابھی ہاں یا نا کچھ بھی نہیں کہا تھا کہ وہ خود ہی بولی ، بیٹی ، لیکن اگر تم نے اپنا پائِنچا پھاڑ لیا ، تو تمھیں بازار سے گزر کر واپس جانے میں کافی شرمندگی سی اٹھانی پڑے گی . شاپ كے باہر تو رکشہ آنے کی جگہ بھی نہیں ہے . رکشہ لینے كے لئے بھی تمھیں کم ازکم آدھا بازار پیدل گزر کر جانا ہو گا . 
اس بوڑھی عورت نے مجھے ایک نئی الجھن میں ڈال دیا تھا . میں ابھی کسی نتیجے پر بھی نہیں پہنچی تھی کہ جس کیبن پر ڈریسنگ روم لکھا ہوا تھا ، پہلے ایک جوان لڑکی باہر نکلی ، اسکی ہتھیلی پر پٹی بندھی ہوئی تھی . وہ لڑکی اس بوڑھی عورت كے ساتھ دکان سے چلی گئی . تو کچھ دیر بَعْد اسی ڈریسنگ روم سے ایک 30 31 سال کا کافی صحتمند جوان نکلا . میرا پہلے کبھی کسی پہلوان سے واسطہ نہیں پڑا تھا . نا میں اسے جانتی تھی . وہ میری طرف دیکھ کر بولا ، ہاں بی بی جی ، تمہارا کیا مسئلہ ہے . میں نے اپنی چوٹ کا بتلایا ، پِھر وہ میرے چھوٹے بھائی سے پوچھنے لگا تو میں نے کہا کہ یہ تو میرے ساتھ ہے . 
اس نے کہا اچھا ، اور پِھر دکان كے گلاسڈور پر وقفے کا بورڈ لگا کر ، دروازے کو چٹخنی لگا دی . واپس ہماری طرف آتے ہوئے بولا ، تم پٹی کروا کر اس چھوٹے دروازے سے نکل جانا . اس نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا . 
مجھے اس نے ڈریسنگ روم میں آنے کا کہا ، میرے چھوٹے بھائی نے مجھے سہارا دے کر ڈریسنگ روم میں لا کر ڈریسنگ بیڈ پر بٹھا دیا تو پہلوان نے میرے بھائی کو باہر جا کر بیٹھنے کو کہا . وہ تو بچہ تھا ، وہ فوری اس کمرے سے نکل کر باہر چلا گیا . 
تب پہلوان میرے قریب آئے اور کہنے لگے . بی بی تمھارے گھٹنے پر چوٹ آئی ہے . اسکی مالش کرنی ہو گی ، پِھر پٹی بھی کرنی ہو گی . اپنے گھٹنے کو کیسے ننگا کرنا چا ہو گی . میں تمہاری شلوار کا پائِنچا پھاڑتا ہوں . 
مجھے اس بوڑھی عورت کی بات یاد آ گئی اور جھٹ سے بولی ، نہیں نہیں ، پِھر میں بازار سے گزر کر کیسے 
جاؤں گی . میں تو تماشہ بن جاؤں گی . ہاں یہ بات تو ہے ، چلو پِھر اپنی شلوار کو نیچے کی طرف کرو . ایک غیر آدمی كے سامنے ، اپنی شلوار اتارتے ہوئے بھی شرم آ رہی تھی ، مگر مجبوری ایسی تھی کہ اس كے بغیر گزارا ہی نہیں تھا . 
میں نے اپنے چوتڑ تھوڑے سے اوپر اٹھا کر اپنی شلوار کا الاسٹک نیچے کی طرف کر دیا . تب پہلوان نے میری شلوار کو پکڑ کر میرے گھٹنے سے بھی کافی نیچے کر دیا ، اور ہلکا ہلکا ہاتھ پھیرتے ہوئے ، میری گھٹنے کی ھڈی کو چیک کرنے لگا . 
کچھ دیر بَعْد بولا ، بی بی شکر کرو تمھارے گھٹنے کی ھڈی تو محفوظ ہے . مگر اس پر دباؤ کافی پڑا تھا ، اس لئے مالش کرتے ہوئے تمھیں درد تو کافی ہو گا ، مگر یہ صرف 1 2 منٹ كے لئے ہو گا . اگر میں نے ھڈی کو اسکی سہی جگہ پر ایڈجسٹ نا کیا ، اور ویسے ہی پٹی باندھ دی ، تو درد تو تمہارا 1 2 دن بَعْد ختم ہو جائے گا ، مگر تم ساری زندگی لنگڑا کر ہی چلا کرو گی . اِس لئے تمھیں پہلے سے کہہ رہا ہوں کہ درد کو برداشت کر لینا ، زیادہ چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں ہے . اسکی باتیں سن کر تو میری اور بھی جان نکل گئی تھی . میں ساری زندگی لنگڑی بن کر نہیں رہنا چاہتی تھی ، اِس لئے اپنا دل مضبوط کرتے کہا ، نہیں آپ جیسا بہتر سمجھتے ہیں وہ کریں ، میں درد برداشت کرنے کی پوری کوشش کروں گی . 
پِھر اس نے ایک تیل کی شیشی سے میرے گھٹنے پر تھوڑا سا تیل گرایا ، میری ٹانگ کو سیدھا کرتے ہوئے جیسے ہی اس نے میرے گھٹنے پر ہاتھ رکھا ، درد کی وجہ سے بے اختیاری طور پر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ یا کسی اور چیز کو پکڑنے کی بجائے ، پہلوان کی ہی دونوں ٹانگوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا . وہ پہلے دھیرے دھیرے میرے گھٹنے کے ارد گرد مالش کرتا رہا ، اسکا ہاتھ میری ران پر کافی اُوپر تک جا رہا تھا ، مگر اس وقت مجھے اتنی ہوش کہاں تھی . کچھ ہی دیر میں اس نے میرے گھٹنے کو ایک جھٹکا دیا ، تو درد سے میں بلبلا اٹھی . میرا دایاں ہاتھ اچانک ہی اچھلا اور جب واپس کسی چیز کو ٹکرایا تو میں نے اسے بہت زور سے بھینچ دیا . مجھے تو تب ہوش آئی ، جب پہلوان کی چیخ مجھے سنائی دی . میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ میرا دایاں ہاتھ اُس کے لنڈ کو کافی مضبوطی سے دبوچے ہوئے تھا . میں شرم سے پانی پانی ہو گئی . اپنا ہاتھ تو میں نے اُس کے لنڈ سے ہٹا لیا تھا ، مگر اسکی شلوار میں ایک تمبو سا کھڑا ہوا دیکھ رہی تھی . میں نے فوراََ اپنی نظریں نیچے کر لیں . اب تو پہلوان نے میرے گھٹنے كے ساتھ ساتھ میری پنڈلی اور ران کی بھی 
اچھی طرح مالش شروع کر دی تھی . . پھلوان متواتر مالش کرتا رہا کچھ ہی دیر بعد میرا دَرْد آہستہ آہستہ کم ھونا شروع ہو گیا اور آخر معدوم ہو گیا . . . 
پہلوان مسلسل اپنے کھردرے ہاتھوں سے میری نازک اور بالوں سے پاك ٹانگ سے بھرپور انصاف کر رہا تھا . . تکلیف کا اثر زائل ہونے کے بَعْد میں اپنے حواس میں لوٹی اور خود کو ایک غیر محرم کے سامنے صرف قمیض اور پینٹی میں دیکھ کر مجھے فطری شرم و حیا نے آ گھیرا جو ایک شریف اور عزت دار عورت کا خاصا ہوتا ہے . . 
لیکن میں اپنی تکلیف کے ہاتھوں بھی مجبور تھی ورنہ میں نے آج تک اپنے شوہر کی امانت میں خیانت نہیں کی تھی . . لیکن پہلوان کے اِس طرح مالش کرنے سے میرے اندر کی چھپی ہوئی سیکسی ‫ عورت ‬ نے سَر اٹھانا شروع کر دیا تھا . . پہلوان بہت پیار سے مالش کر رہا تھا . . وہ میرے پاؤں سے شروع کرتا اور پھر پنڈلی اور ران کو انوولو کرتا ہوا اپنے ہاتھ 0 پوائنٹ سے کچھ دور تک لے آتا . . پہلوان کا اکڑا ہوا لن ایسے دِکھ رہا تھا جیسے ابھی شلوار کو پھاڑتے ہوئے باہر نکل آئیگا . . . 
میری نگاہوں نے فوراً بھانپ لیا کہ پہلوان کا لن کافی تگڑا ہے . . پہلوان کے چہرے پہ مختلف رنگ آ جا رہے تھے اور خود میری حالت بھی ناگفتہ ( بے چین ، بیمار ) تھی . . لیکن میں اِس وقت انجوئے کے موڑ میں قطعی نہیں تھی . . 
گو کہ پہلوان نے مجھے کافی ہوٹ کر دیا تھا اور میری پینٹی بھی بھیگ گئی تھی لیکن مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی بھی فکر تھی جو اپنی بہن کے انتظار میں گُھل رہا تھا . . تو میں نے جلدی سے کہا کہ پہلوان جی میرا دَرْد ختم ہو گیا ہے آپ سے التماس ہے کہ پٹی کر دیں اب . . پہلوان کے میری گوری ران پہ چلتے چلتے ہاتھ رک گئے . . . اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پٹی کرنے لگا . . پہلے اس نے میرے گھٹنے کے نیچے ایک تختی نما لکڑی کی بنی ہوئی مربعی شکل کی سلیٹ رکھی . . پھر پٹی اُٹھائی اور باندھنے لگا . . تھوڑی دیر میں پٹی ہوگئی . . پھر اس نے مجھے شلوار پہنائی . . جب میں نے شلوار پہن لی اور اٹھ کے بیٹھ گئی تو پہلوان میرے رائٹ سائڈ میں آیا اور ایک بازو میری کمر میں ڈال کے مجھے آہستگی سے اوپر اٹھایا اور مجھے سنگل بیڈ سے نیچے اتارا اور مجھے تقریباً اپنے ساتھ چمٹا لیا . وہ میری رائٹ سائڈ پہ تھا اور اس نے اپنا لیفٹ آرم میری کمر کے گرد حمائل کیا ہوا تھا اور اس کا ہاتھ میرے لیفٹ بوب سے تھوڑا نیچے تھا . . دفعتا اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ غیر محسوس اندازِ سے میرے بوب پہ رکھ دیا اور آہستگی سے متواتر دبانے لگا اور مجھے دروازے کی طرف لے کر چل پڑا . . اس کے دباؤ کی شدت آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی . یہ وہ لمحہ تھا جو ‫ عورت ‬ کے لیے بہت صبر آزما ہوتا ہے . . میں نے لذت کی وجہ سے اپنے منہ سے نکلنے والی سسکی کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا . . پھر ہم آہستہ آہستہ چل کے دروازے سے باہر نکل گئے . باہر نکلتے ہی پہلوان نے اپنا ہاتھ میرے ممے سے ہٹا لیا اور تھوڑا نیچے کی طرف کر دیا . پھر ہم باہر کاؤنٹر والی سائڈ پہ نکل آئے . . میرا چھوٹا بھائی پریشانی کے عالم میں باہر بیٹھا اپنے ہونٹ کاٹ رہا تھا . . کیوں کہ پہلوان کے پاس آتے ہوئے میری حالت بہت شکستہ تھی . . تو اِس لیے اسکا پریشان ھونا فطری بات تھی . . جب میرے چہرے پہ اس نے سکون اور ٹھہراؤ دیکھا تو وہ کچھ پرسکون ہوا اور آگے بڑھ کے مجھے سہارا دیا اور پہلوان کے چنگل سے نکال کے مجھے بینچ پہ بٹھا دیا . . پھر پہلوان نے چھوٹے کو چند گولیاں اور مختلف کلر کے شربت دیئے ، اور بتانے لگا کہ کب ان کو یوز کرنا ہے اور کیسے . . اور ساتھ میں کہا کہ ایک ویک بعد پٹی کھلوانے دوبارہ آنا ہے . . یہ سب بتاتے ہوئے پہلوان میری طرف کن اکھیوں سے دیکھ رہا تھا . . پہلوان کی فطرت کو میں بَخُوبی سمجھ رہی تھی . میرا پکا یقین تھا کہ پہلوان اپنے لن کو کوئی کئی عورتوں کی چوت میں دھکیل چکا ہے اور انکی مالش کر چکا ہے . . . پہلوان جیسے لوگ ہی زمانے کا ناسور ہوتے ہیں جو عورتوں کی عزت کو مجروح کرتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ زبردستی بناتےہیں . . . میرے جسم میں پہلوان نے جو آگ لگائی تھی وہ بجھ چکی تھی لیکن اسکی چنگاری ابھی بھی باقی تھی اور ایک ہلکا سا ہوا کا جھونکا اسے پھر سے جلا سکتا تھا لیکن اب ایسا ممکن نہیں تھا . . . خیر یہ معاملہ جلدی ختم ہوا اور ہم گھر پہنچ گئے . . گھر پہنچ کے بھی میرا سارا دھیان پہلوان کے لن اور اس کے ہاتھوں کی اپنی ٹانگ میں کی گئی مالش پہ تھا . . میرے ذہن میں باربار وہ سین چل رہا تھا کہ پہلوان کبھی میری پنڈلی پہ تو کبھی میری ران پہ مالش کر رہا ہے . . . اور اسکا موٹا سا لن شلوارمیں اکڑ کے کھڑا ہے . . ایسا سوچتے ہوئے میں بہت لذت محسوس کر رہی تھی . . میں چونکہ بیڈ پہ تھی اور سہارے کے بغیر اٹھ بھی نہیں سکتی کہ واش روم جا کے فنگرنگ ہی کر کے اپنی پیاس بجھا لوں . . 
پھر میں نے یکبارگی اپنا ہاتھ اپنی شلوار میں گھسیڑ دیا اور اپنی پھدی پہ رگڑنے لگی . . میری آنکھوں میں لذّت کے وہ مناظر چل رہے تھے جو تھوڑی دیر پہلے میں نے پہلوان کی دکان میں فلمائے ہوئے تھے . . 
میں نے تیز تیز اپنی پھدی کو رگڑنا شروع کر دیا . میں بہت ہوٹ ہو گئی تھی اور تیز تیز اپنی پھدی میں انگلیاں چلانے لگی . . میری آنکھیں بند تھیں اور مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں کہاں ہوں . میرا مقصد تو بس اپنے جسم میں لگی اس آگ کو بجھانا تھا جو اندرہی اندر مجھے جلا رہی تھی . . . میں نے اپنی رفتار بہت تیز کر دی . . دفعتا میرا جسم اکڑا اور میری چوت نے پانی چھوڑ دیا . . پانی جب نکل چکا تو مجھے سکون کا احساس ہوا . . میں نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی . . تھوڑی دیر کے بعد میں نارمل ہو گئی . . میرا ہاتھ ابھی تک میری شلوار میں تھا . . اپنی چوت کی لگی آگ کو بجھانے میں اتنا مگن تھی میں کہ مجھے پتہ نہیں چلا کہ دروازے پہ کھڑا کوئی مجھے دیکھ رہا تھا . . قدموں کی چاپ سے میں نے آنکھیں کھولی تو میری ہمسائی رشیدہ تھی جس کے چہرے کا رنگ ریڈ تھا غالبا وہ بھی میرے اِس کھیل کو دیکھ کے ہوٹ ہو گئی تھی . . اس کی آنکھوں میں سوالات تھے . . میں نے اسے دیکھتے ہوئے جھٹ سے اپنا پانی سے بھیگا ہوا ہاتھ اپنی چوت سے باہر نکالا . . وہ خاموشی سے میرے پاس آئی اور میرے بیڈ کے کنارے ٹانگوں والی سائڈ پہ بیٹھ گئی . . اس نے مجھے بلایا سدرہ ( میرا نام ) تو کیا کر رہی تھی ، . تھوڑے دن رہ گئےہیں تیرے میاں آ جائیں گے . . . یہ سب تو مجھ جیسی بیوہ عورتیں کرتی ہیں . . میں بولی دیکھ رشیدہ انسان اپنے منہ زور جذبات کا غلام ہوتا ہے اور انکے آگے ٹک نہیں پاتا . . . یہ میری ضرورت تھی اور مجھے کوئی رستہ نہیں ملا تو میں یہ سب کرنے پہ مجبور تھی . . 
رشیدہ : باجی آپ تو پھر بھی خوش نصیب ہیں کہ آپ کے میاں زندہ سلامت ہیں اور آپکو اپنی پیاس بجھانے کے لیے کہیں منہ مارنے کی ضرورت نہیں ہے . . اور اگر ہم اپنی نفسانی خواہش کو پورا کسی سے کروائیں تو وہ ہمیں زمانہ نہیں چھوڑتا . . میں بولی کہ رشیدہ تو ابھی اتنی جوان اور بھرپور ہے تو تو دوسری شادی کیوں نہیں کر لیتی . . رشیدہ تاسف سے بولی باجی میں کیا کروں 3 بچوں کو پالنے کی ذمہ داری ہے میری . . میں شادی کر لیتی لیکن کوئی بھی میرے بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہے . . یہ کہتے ہوئے کئی آنسو اس کی خوبصورت پلکوں کو بھگو گئے . . باجی زمانہ اکیلی ‫ عورت ‬ کو مفت کا ما ل سمجھتا ہے . . ہوس کے پجاری صرف ‫ عورت ‬ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں . . پھر اس نے مجھے بتایا کہ اس نے ایک آدمی سے مراسم بنائے تھے اور اس سے شادی کے لیے تیار تھی لیکن وہ اسے صرف شادی کا لالچ دیتا رہا اور اسے بہت دفعہ چود کے نکل جاتا ، پھر ایک دفعہ اس نے اپنے 2 دوستوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا جو اس سے ساری رات انسانیت سوزسلوک کرتے رہے . . 
روتے روتے اس کا گلا رندھ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی . مرد کی ‫ عورت ‬ کے ساتھ یہ زیادتیاں کافی پرانی ہیں جو اسے ہوس کا نشانہ تو بنا لیتےہیں لیکن قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے . . میں نے اسے گلے لگا لیا اور اسے چُپ کروانے لگی . . میرے گلے سے جب وہ لگی اور اس کے سخت ممے مجھ سے ٹکرائے تو میرے جسم میں سنسنی سیدوڑ گئی . . سب باتیں اور رونا دھونا مجھے بھول گیا اور ایک نئی راہ مل گئی . . میں نے اسے خود سے الگ کیا اور کہا دروازہ بند کر آؤ . . وہ تھوڑی حیران ہوئی لیکن بند کر دیا . . رشیدہ واپس دروازہ بند کر کے میرے پاس آ گئی . . اور سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی . . . اس کے بوب جب میرے بوب سے ٹچ ہوئے تھے تو وہی کیفیت دوبارہ پیدا ہو چکی تھی جو تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی . . اب میرا کا م تھا کہ میں اسے اپنےڈھب پہ لاتی . . میں نے ٹیبل پہ پڑے تیل کی طرف اشارہ کیا اور کہا رشیدہ میری مالش کر دو . . رشیدہ نے اِثْبات میں اپنی منڈی ہِلائی اور تیل اٹھا کے میرے پاس لے آئی . اس نے آہستگی سے میری شلوار کا پائِنچا اٹھایا اور اوپر کرنے کی کوشش کرنے لگی . . پائِنچا تنگ ہونے کی وجہ سے اوپر نہیں ہو رہا تھا میں بولی رشیدہ شلوار اُتَا ر دو میری اِس سے آسانی ھوگی . رشیدہ ایک لمحے کو جھجکی پھر اس نے سَر کو ہلاتے ہوئے آہستگی سے میری شلوار اُتار دی . . 
اب وہی صورت حال پیدا ہو گئی تھی جو پہلوان کی دکان میں تھی . . میں تصور تصور میں خود کو پہلوان کی دکان میں محسوس کر رہی تھی . رشیدہ نے آہستگی سے ایک تکیہ اٹھا یا اور میرے گھٹنے کے نیچے رکھ دیا . . پھر اس نے اپنے ہاتھوں پہ تیل ملا اور میری پنڈلی پہ مالش شروع کر دی . . گھٹنے پہ چونکہ پٹی بندھی ہوئی تھی اِس لیے اِس سے تھوڑا نیچے ہی محدود رہی . . آہستہ آہستہ میں پھر جوش میں آنے لگی . . میری چوت میں پِھر سے کھجلی ہونے لگی . . رشیدہ اب پنڈلی سے ران پہ منتقل ہو گئی تھی . . میرا جوش عروج پہ تھا میرے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں گو کہ رشیدہ کے نازک ہاتھ پہلوان کے کھردرے ہاتھوں جیسے نہیں تھے لیکن پھر بھی مزہ بہت آ رہا تھا . . میں نے اپنا ہاتھ پھر سے اپنی پینٹی میں ڈال دیا اور اپنی پھدی کو سہلانے لگی . . سہلاتے ہوئے میں لذت اور نشے سے بھرپور آوازیں بھی نکال رہی تھی . . رشیدہ نے میری سیکسی کیفیت کو دیکھتے ہوئے میرا ہاتھ کھینچ کے میری پھدی سے باہر نکالا اور میری پینٹی کو اُتار دیا . . اب میں آدھ ننگی لیٹی ہوئی تھی . . یکبارگی مجھے اپنی قمیض سے الجھن ہونے لگی میں نے اس کو بھی رشیدہ کی مدد سے اُتَا ر دیا . . میرے جسم پہ اب صرف برا تھا . . جس میں میرے 36 کے ممے باہر آنے کے لیے بے چین ہو کے پھڑپھڑا رہے تھے . . . رشیدہ نے ان پہ بھی احسان کیا اور ا نہیں برا جیسے پنجرے سے آزاد کیا . . میرے ممے آزاد ہو گئے . . پھر رشیدہ نے مزید تیل اپنے ہاتھوں پہ لگایا اور میری ٹانگوں سے اسٹارٹ ہو گئی . . پہلے ایک ٹانگ پہ ہاتھ چلاتی اور پھر دوسری ٹانگ پہ یہی عمل دہراتی . . میری پھدی میں آگ لگ چکی تھی جس سے میں جلنے لگی . . میرے جذبات بے لگام ہونے لگے تھے . . میں کسی چڑیا کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی . . رشیدہ بہت سلولی مالش کر رہی تھی . وہ اپنی انگلیوں کے پوروں کو اِس طریقے سے دباتی کہ بے اختیار میری آہ نکل جاتی . . 
وہ اب میری پھدی کو بھی اپنی انگلیوں کے پوروں سے ٹچ کر رہی تھی جس سے میں لذّت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب چکی تھی . . اس نے پھر اپنی ایک انگلی میری پھدی میں ڈال دی اور آگے پیچھے کرنے لگی . . میں ہواؤں میں تھی اور کمرا میری سیکسی آوازوں سے گونج رہا تھا . . دفعتا رشیدہ میری رائٹ سائڈ سے تھوڑی ٹیڑھی ہوئی اِس طرح کہ اس کا منہ میرے مموں پہ تھا اور اسکا ہاتھ میری پھدی پہ تھا . . اس نے میرے رائٹ بوب کا نپل اپنے منہ میں لے لیا اور سک کرنے لگی ، . مزے کی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا میں بری طرح مچل اٹھی تھی . . رشیدہ جانوروں کی طرح میرے بوب کو کچل رہی تھی . وہ ذیادہ سے ذیادہ کوانٹیٹی میں میرا بوب اپنے منہ میں سما رہی تھی ...اور میری پھدی پہ اسکا ہاتھ بڑی شدت سے چل رہا تھا . . . میرے ہاتھ چونکہ خالی تھے اِس لیے میں نے گھما کے رشیدہ کے بوبز پہ رکھ دیے اور زور زور سے دبانے لگی . . رشیدہ کی آنکھوں میں سرخی آ گئی اس نے یکدم اپنا ہاتھ میری پھدی سے نکالا اور اپنا منہ میرے بوب سے ہٹا لیا . پھر اس نے اپنی قمیض اتاری اور برا کی ہُک کھول کے اپنے ممے بھی آزاد کیے جوانی سے بھرپور براؤن نپل والے رشیدہ کے بھا ری ممے باہر نکل آئے . . 
پھر اس نے شلوار اتاری اور بالکل ننگی ہو گئی . ادھر میں بری طرح تڑپ رہی تھی . اس نے مجھے منزل کے بالکل قریب پہنچا کے چھوڑ دیا تھا . . خود کو کپڑوں کی قید سے آزاد کروانے کے بعد میرے اوپر آئی . . میرے پیٹ کے اوپر آ کے اس نے اپنی ٹانگیں کھول کے ارد گرد رکھی . .اسکی بالوں سے پاك چوت مجھے بکھرتی نظر آ رہی تھی . . 
لیسبیئن سیکس میں وہ اتنی طاق ھوگی مجھے پتہ نہیں تھا . . ( اس نے بَعْد میں بتایا تھا کہ وہ بلو فلمز دیکھتی رہتی ہے اور لیسبیئن سیکس پسند کرتی ہے ) میرے اوپر آ کے اس نے اپنے لپس میرے لپس سے ملائے اور چوسنے لگی . . میں بھی اسکا بھرپور ساتھ دے رہی تھی . . وہ اپنی زُبان کو میری زُبان پہ ٹچ کرتی تو مزہ ایک کرنٹ بن کے میرے پورے جسم میں پھیل جاتا . . ہونٹوں کی چوسا چوسی کافی دیر تک جاری رہی . . پھر اس نے اپنا ایک مما میرے منہ میں ڈال دیا . . میں اس کے مموں کو جی جان سے چوسنے لگی اور کبھی ہلکا سا دانتوں کا دباؤ بھی ڈالتی . . اس نے اپنا ہاتھ اپنی چوت پہ ایڈجسٹ کیا اور رگڑنے لگی . دفعتا اس کے منہ سے سسکاری آہ نکلی اسکا جسم اکڑا اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا . . . چونکہ وہ گھوڑی بنی مجھ سے ممے چسوا رہی تھی اور اسکی پھدی میرے پیٹ سے اوپر تھی . . تو اسکا پانی رس رس کے میری ناف پہ گرنے لگا اور اسے بھرنے لگا . . وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی . . پھر وہ سائڈ پہ ہو گئی اور میرے ساتھ گر گئی . . میرا برا حَا ل تھا . میری آگ تو ویسے جل رہی تھی . . میں بے چینی کے عالم میں اپنا ہاتھ اپنی چوت پہ سیٹ کیا اور رگڑنے لگی . پھر اچانک رشیدہ اٹھی میرے چلتے ہوئے ہاتھ کو روکا اور اپنا منہ میری پھدی پہ سیٹ کر دیا اور . . . . اور اپنی زُبان میری چوت میں داخل کر دی اور اندر باہر کرنے لگی . . میں بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی . . . رشیدہ اپنا منہ میری پھدی میں گھسیڑے ہوئے تھی اور اپنی زُبان چلا رہی تھی . . میں اپنے ہاتھوں سے اسکا سَر پکڑ کے اپنی پھدی پہ دبا رہی تھی مانو میرا بس چلے تو پورا کا پورا سَر اپنی پھدی میں ڈال کے اسے پھاڑ دوں . . میری مزے سے بھرپور سسکاریاں نکال رہی تھی . . جب رشیدہ کبھی اپنی زُبان کو دانے پہ ٹچ کرتی تو یکبارگی ایک لہر سی جسم میں اٹھتی اور پورے جسم میں پھیل جاتی . . میرا انگ انگ مستی میں ڈوبا ہوا تھا . . پھر میں نے اپنے ہاتھ رشیدہ کے سَر سے ہٹا لیے اور اپنے مموں پہ رکھ کے انہیں زور زور سے دبانے لگی جس سے مزے کی کیفیت دوبالا ہو گئی . . 
رشیدہ اپنا کا م پوری تندہی ( جوش ) سے کر رہی تھی . . . دفعتا مجھے لگا کہ میں منزل پہ پہنچنے لگی ہوں تو میں نے اپنے مموں کو اور زور زور سے رگڑنا شروع کر دیا . . . پھر وہ منزل قریب آ گئی اور اچانک میرا جسم اکڑا اور میری پھدی نے فوارہ اگل دیا اور پے دَر پے اگلنے لگی . . رشیدہ کا منہ اور فیس میرے ما ل سے بھر گیا تھا . . . میں لمبے لمبے سانس لینے لگی اور تھوڑی دیر بعد خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا . . . رشیدہ نے میرے ما ل سے بھرا ہوا منہ تھوکا اور پھر ٹاول اٹھا کے اس سے اپنا منہ صاف کیا اور پھر میری نیم جان پھدی صاف کی جو لذت اور مزے کی کیفیت سے گزر کے آ گئی تھی . . پھر رشیدہ نے خود کے کپڑے پہنے اور مجھے بھی پہنائے اور خود نہانے کا کہہ کے چلی گئی . . پٹی کی وجہ سے میں سہی طرح سے نہا بھی نہیں سکتی تھی . . . پھر رشیدہ نہا دھو کے واپس آئی مجھے بھی نہلایا . . گھٹنے پہ چوٹ کی وجہ سے دقت بہت نہانے میں آئی لیکن اس نے اسکو بچا کے نہلایا کپڑے پہنائے اور بیڈ پہ لٹا کے كھانا بنانے چلی گئی . . پھر ایک ویک گزر گیا . . اِس ایک ویک کے دوران رشیدہ آتی رہی اور میری خدمت برابر کرتی رہی . . . . اور گھر کے دوسرے کا م کا ج میرا چھوٹا بھائی کرتا تھا . . . اور اِس دوران میں نے اپنی ٹانگ پہ وزن ڈالنا شروع کر دیا تھا اور آہستہ آہستہ چل کے چھوٹے موٹے کا م بھی کرنے شروع کر دیئے . . لیکن میں کوئی رسک بھی لینا نہیں چاہتی تھی . پہلوان نے مجھے ڈرا اتنا دیا تھا اور ساری عمر کی لنگراہٹ کا سوچ کے میری جان نکل جاتی تھی . . . اب ویک چونکہ گزر چکا تھا اور آج پٹی کھلوانے کی باری تھی . . . چھوٹا تیار تھا کہ آج وہ مجھے لے جائیگا لیکن میں نے اسے منع کر دیا اور کہا کہ تم بچوں کا دھیان رکھو اور میں رشیدہ کو لے کر جاتی ہوں . . میں آج بہت نک سک سے تیار ہوئی تھی . . آج میں نے اپنا فیورٹ پرپل کلر کا سوٹ پہنا جو بہت باریک تھا . . . ہونٹوں کو لپ سٹک سے آشْنا کروایا اور ہلکا ہلکا میک اپ کیا . . میری رنگت چونکہ بہت وائٹ تھی تو اِس لیے میں ہلکا سا میک اپ کرتی تھی . . آج میں نے بریزر نہیں پہنا تھا اور پہلوان کو اپنے مموں کا نظارہ کروانا مجھے مقصود تھا . . جب میں تیار ہو گئی تو خود کو آئینے میں دیکھ کر اپنا جائزہ لیا . . میں ان تمام اسلحہ سےلیس تھی جو مرد کو پل بھر میں ڈھیر کر دیتا ہے . . پھر میں ایک بڑی سے چادر اٹھا کے باہر نکل آئی . . باہر رشیدہ میرا ویٹ کر رہی تھی . مجھے دیکھ کے وہ میری تعریف کیے بغیر نا رہ سکی . . پھر ہم دونوں گھر سے باہر نکلیں اور آٹو رکشہ میں بیٹھ گئی . . آٹو رکشہ والے نے پہلوان کی دکان کے سامنے اُتَا ر دیا . . ہم دکان کے اندر داخل ہو گئے . . . اندر صرف ایک بڈھا اور ایک نو عمر لڑکا بیٹھے تھے . . 
کاؤنٹر پہ بیٹھی ہوئی نو عمر لڑکی نے ہمیں بینچ پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا کہ استاد ابھی مصروف ہیں . . 
ہم ایک سائڈ پہ بیٹھ گئے . . تھوڑی بعد ایک نوجوان لڑکی جس کے بازو پہ پٹی بندھی ہوئی تھی باہر نکلی اور دھیمے قدم اٹھاتے باہر نکل گئی اور وہ بڈھا بھی اس کے پیچھے نکل گیا غالبا وہ اسکا باپ تھا . . 
تھوڑی دیر بعد پہلوان باہر نکلا ، پہلوان کے چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا اور وہ تھوڑا تھوڑا ہانپ رہا تھا مجھے سمجھنے میں بالکل دیر نہیں لگی کہ پہلوان نے اس لڑکی کو چودڈالا ہے . . میں چادر اوڑھے ہوئے تھی لیکن پہلوان کی زِیرَک نگاہوں نے مجھے پہچان لیا . . وہ کاؤنٹر کے پیچھے چیئر پہ بیٹھ کے بولا بی بی جی اب آپ کے گھٹنے کی کیا صورت حال ہے . . 
پھر میں بتانے لگی کہ اب تقریباٹھیک ہے اور آج پٹی کھلوانے آئی ہوں . . پہلوان نے مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا اور کہا کہ آپ اندر جائیں میں پٹی اتا رتا ہوں . . میں اٹھی اور اندر چلی گئی اور رشیدہ باہر رہ گئی ، 
میں جا کے اسی بیڈ نما چارپائی پہ بیٹھ گئی جہاں پہلی دفعہ پہلوان نے میری مالش کی تھی اور یہاں پہ ہی میں نے اسکا جھازی سائز لن دیکھا تھا . . تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور وہ نو عمر لڑکا ہاتھ میں کولڈ ڈرنک لے کے آیا . . اس نے ٹرے میری سائڈ پہ رکھی اور چلا گیا . . میں ان کے ساتھ انصاف کرنے لگی اور آنے والے لمحوں کا سوچنے لگی . . میں نے چادر اتاری اور اپنے پرس سے آئینہ نکال کے خود کو دیکھنے لگی . . . 
سب کچھ او کے تھا اور میں پہلوان پہ بجلی گرانے کو تیار تھی میں شدت سے پہلوان کا انتظار کرنے لگی . . 
تھوڑی دیر بعد پہلوان کمرے میں داخل ہوا . ، اس نے میری طرف دیکھا تو رزلٹ میری توقع کےعین مطابق تھا . . وہ آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھتا رہ گیا . . . اس کی نگاہیں میرے جسم کے خدوخال کا بہت گہرائی سے جائزہ لے رہی تھیں . . پھر اس نے سَر جھٹکا اور میرے قریب آ گیا . . میں چونکہ برا کے بغیر تھی تو میرے ممے صاف دِکھ رہے تھے اور پہلوان کا لن اب اٹھک بیٹھک کرنے لگا جسے میں صاف دیکھ سکتی تھی . . پہلوان نے مجھے میرے کندھوں سے پکڑ لیا . . پہلوان بہت گرم ہو چکا تھا . . اس نے کندھوں سے پکڑ کے مجھے لٹایا . . 
حالانکہ وہ خود بھی مجھے کہہ سکتا تھا کہ لیٹ جاؤ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا . . اور شاید اس نے میری نیت بھانپ لی تھی کہ میں خود کو اس کے حوالے کرنا چاہتی ہوں . . پہلوان بنا پوچھے میری شلوار کی طرف بڑھا اور اتا رنے لگا . . 
میں نے اپنی گانڈ اُٹھائی اور پہلوان کے لیے آسانی کر دی . . پہلوان نے آہستگی سے شلوار اتاری اور ایک طرف رکھ دی . . اب میں آدھ ننگی تھی . پہلوان کا لن اکڑ چکا تھا ، یہ وہ منظر تھا جسے میں دیکھنے کے لیے پچھلے ایک ہفتے سے بے چین تھی . . اس نے میری چوٹ والی ٹانگ کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور پٹی کھولنے لگا . . پٹی کھولنے کے بعد میں نے اپنا گھٹنا دیکھا تو میری جان میں جان آئی ، گھٹنا بالکل ٹھیک تھا اور صرف ایک زخم کا نشان تھا . . میرے دِل میں لنگڑی ہونے کے جو ہول آ رہے تھے وہ ختم ہو گئے . . 
پہلوان بولا : بی بی جی مبارک ہو آپکا گھٹنا بالکل تندرست ہے . . 
پھر وہ ہاتھ بڑھا کے پھیرنے لگا اور ایسے ظاہر کرنے لگا جیسے چیک کر رہا ہو . . 
پھر وہ مکاری سے بولا بی بی جی گھٹنا تو آپکا ٹھیک ہو چکا ہے لیکن مجھے لگتا ہے تھوڑی بہت کسک رہ گئی ہے . 
میں : وہ کیسے پہلوان جی ؟ ؟ 
پہلوان : بی بی جی بات یہ ہے کہ گھٹنا تو آپکا ٹھیک ہو گیا ہے لیکن یہ خاصا کمزور ہے . . 
میں : وہ کیسے پہلوان جی ؟ ؟ 
ابھی تو آپ مجھے مبارک دے رہے تھے میں نے ایک دلفریب مسکان لبوں پہ سجاتے ہوئے کہا . ، 
پہلوان بی بی جی میرا مطلب ہے کہ اسکی کمزوری دور کرنے کے لیے اِس پہ دوائی لگانی پڑے گی اور مالش کرنی پڑے گی . . 
پہلوان کی ساری چالاکی مجھے سمجھ آ رہی تھی لیکن میں اپنی پھدی کو پہلوان کے لن سے سیراب کروانا چاہتی تھی . پہلوان کے لن کا اتنا نشہ مجھ پہ چڑھ چکا تھا کہ میں پچھلے ایک ہفتے سے اپنے تاثر تاثر میں پہلوان سے کئی بار چدا چکی تھی . . . 
تو میں نے اپنے نازک لبوں کو ہلایا اور بڑے پیار سے بولی جیسے آپ بہتر سمجھیں پہلوان جی . . . 
پہلوان اش اش کر اٹھا . . اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی . . اس نے کمرے میں پڑا ہوا ایک بکس کھولا اور اس میں سے تیل کی ایک بوتل نکال لایا . . 
پہلوان فرط جذبات میں بہت جوش سے کام کر رہا تھا . 
میں اسکی تیزی کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی اور خوش تھی کہ آج میرا سپنا پہلوان سے اپنی پھدی چُدوانے کا پورا ہو رہا ہے . . 
میں بہت پرجوش تھی اور شدت سے ان لمحات کا انتظار کر رہی تھی . . پہلوان نے اپنے ہاتھوں پہ تیل ملا اور میری ٹانگ پہ ہاتھ چلانا شروع کر دیئے . . میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور مزے سے اپنے ہونٹ کوچبانے لگی . . پہلوان اسی اندازِ سے اپنے ہاتھ چلا رہا تھا جسکی میں کلپنا کر رہی تھی . پہلوان کا ہاتھ بہت دھیما چل رہا تھا . . پِھر پہلوان اچانک اپنے ہاتھ گھٹنے سے اوپر میری ران پہ لایا اور اپنی انگلیوں کے کھردرے پوروں سے دبانے لگا . . میں مزے سے آنکھیں بند کر کے خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کر رہی تھی . . پہلوان رفتہ رفتہ زیرو پوائنٹ کی طرف بڑھ رہا تھا . . اب خود کو کنٹرول کرنا بہت مشکل تھا . پہلوان کے ہاتھوں کی گرمی کی حدت سے میں پگھل رہی تھی . . مزے کی شدت سے مجھ پہ کنٹرول نا رہا اور میں آہ آہ آہ کرنے لگی . . پہلوان کو گویا گرین سگنل مل گیا . . اس نے میری پینٹی کے اوپر میری پھدی پہ ہاتھ رکھ دیا اور آہستہ آہستہ سہلانے لگا . . . پہلوان تھوڑی دیر اوپر اوپر ہاتھ رگڑتا رہا پھر میری پینٹی اتا رنے لگا . . میں نے اپنی دونوں سیکسی ٹانگیں ہوا میں اٹھا دیں اور پہلوان کے لیے پینٹی اتا رنے میں آسانی پیدا کر دی . . پہلوان نے میری پینٹی اُتَا ر دی اور مجھے قمیض سے بھی آزاد کیا میرے 36 کے ممے اور میری شیوڈ پھدی دیکھ کر اسکی باچھیں کھل گئیں . . 
اس نے جھٹ سے اپنی قمیض اور شلوار اتار دی . . رزلٹ پھر سے میری توقع کے مطابق تھا . پہلوان کا لن قریبا 8 انچ لمبا اور کافی موٹا تھا اور اسنیک کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا . . میرے منہ میں پانی بھر آیا . . اور میرے جذبات کو مزید آگ لگ گئی . . پہلوان میرے اوپر آ گیا اور میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور ان کی لالگی بکھیرنے لگا . پہلوان بہت آرام سے میرے ہونٹ چوس رہا تھا . . تھوڑی دیر ہونٹ چوسنے کے بعد پہلوان نیچے آیا اور میرے مموں پہ ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیئے . وہ نپل منہ میں ڈالے اپنے ہونٹوں کے دباؤ سے اسکو دبا رہا تھا . . میں لذت کا ایک دریا عبور کر رہی تھی . میرے منہ سے نکلنے والا آہ آہ آہ کا میوزک کمرے کے ماحول کو بہت گرما رہا تھا . خوب ممے چوسنے کے بعد پہلوان نے میری پھدی پہ اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور چاٹنا شروع کر دیا . 
اب رشیدہ کی زبانی سنیں . . . . . 
میں بڑی دیر سے انتظار کی کشمکش میں تھی کہ کب پٹی کھلے اور باجی باہر آئیں . . لیکن بہت دیر ہو گئی تو مجھے شک ہوا کہ ڈال میں ضرور کچھ کالا ہے .. تو میں نے سوچا کہ اندر جا کے جائزہ لیا جائے . . . میں نے اس لڑکے کو تھوڑے پیسے دیئے اور کہا کہ بیٹا جاؤ میرے لیے ایک میٹھا پان تو بنوا کے لاؤ . . . 
لڑکا پان لینے چلا گیا . . میں اپنی جگہ سے اٹھی اور اندر داخل ہو گئی . . اندر صرف ایک چھوٹا سا کمرا تھا . . جس کے باہر لکڑی کا دروازہ تھا . . میں نے کھولنا چاہا تو پھر کچھ سوچ کے رک گئی . . میں نے دروازے پہ کان لگا دیئے تو مجھے سیکسی آوازیں سنائی دیں . . . میری بیک بون میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی . . میں نے دروازے پہ انتہائی ہلکا اور احتیاط سے دباؤ ڈالا کہ ہلکی سے آواز بھی نا نکل پائے . . تھوڑا سا چھید ہوا تو اندر ایک ہوشربا منظر تھا . . میں نے دیکھا کہ باجی مکمل ننگی ہیں اور پہلوان ان کے ممے چوس رہا تھا . . . . 
میں تاسف سے سوچنے لگی کہ باجی کے شوہر کس قدر ان سے پیار کرتے ہیں اور باجی دوسری جگہ منہ مار رہی ہیں ؟ ؟ ! خیر میں نے اِس وقت اِس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹکا اور اندر کے سیکسی منظر کو بغور دیکھنے لگی . . . پہلوان باجی کے ممے زور زور سے چوس رہا تھا . . اور باجی مزے سے آہ آہ آہ کی آوازیں نکال رہی تھیں . . . یہ منظر دیکھ کر میرا ہاتھ خود بخود میری چوت پہ چلا گیا اور میں نے اپنی چوت کو سہلانا شروع کر دیا . . . دفعتا میں نے دیکھا کہ پہلوان نے باجی کی چوت کو چاٹنا شروع کر دیا ہے . . باجی مزے سے پاگل ہو کے آہ آہ آہ آہ کی آوازیں نکال رہی ہیں . . . پھر پہلوان نے باجی کی ٹانگیں پھیلا کے باجی کی نازک گانڈ کے نیچے ایک تکیہ رکھا اور اپنی کافی لمبا اور موٹا لن باجی کے پھدی پہ سیٹ کیا اور ایک زوردار جھٹکا مارا اور اپنا لن باجی کی پھدی میں گھسیڑ دیا . . باجی کی ایک چیخ نکل گئی. . . 
(سدرہ کی زبانی ) . . . . . . . . . . 
پہلوان میری پھدی کو بڑی شدت سے چاٹ رہا تھا اور اپنی زُبان گھما گھما کے میری پھدی کو سیراب کر رہا تھا . . . پہلوان نے چاٹا چاٹی مزید تھوڑی دیر کی اور پِھر ایک تکیہ اٹھا کے میری گانڈ کے نیچے رکھا اور اپنا لن میری چوت پہ سیٹ کر دیا . . . پہلوان کے لن کا لمس اپنی رسیلی چوت پہ محسوس کر کے میں بہت تراوت محسوس کر رہی تھی . . پھر یکبارگی پہلوان نے اپنے لن کو جھٹکا مارا اور اپنا لن جڑ تک میرے اندر اُتار دیا . . پہلوان کے اِس جھٹکے سے میں خود کو نا سنبھا ل پائی اور شدید دَرْد مجھے اپنی پھدی میں محسوس ہوئی جو پھر ہر جھٹکے کے بعد ختم ہوتی گئی . . . . پہلوان نے تیز تیز جھٹکے مارنے شروع کر دیئے . . 
پھر پہلوان نے ایک اور طریقہ استعمال کیا . . پہلوان پورا لن ایک دفعہ باہر نکلتا پھر سیٹ کر 
کے زور سے جھٹکا مارتا . . . ہر جھٹکا ایک الگ ہی مزہ دیتا جس سے میں محظوظ ہوتی . . . پہلوان نے اب یکبارگی سیٹ کیا اور جھک کے میرے منہ پہ آیا اور اندر باہر کرنے لگا . . . پہلوان جیسے میری دسترس میں آیا میں نے اپنے ہونٹ پہلوان کے ہونٹوں سے ملا دیئے اور چوسنے لگی . . پہلوان ایک خوبصورت اور کسرتی جسم کا ما لک تھا . . پہلوان کی سخت جسامت ‫ عورت ‬ کو بہت متاثر کرتی تھی اِس لیے عورتیں پہلوان سے چُدوانے کے لیے آئیڈیل سمجھتی تھیں . . 
میں نے بھی پہلوان سے پہلی دفعہ مالش کروائی تھی تو جب اسے دیکھا تھا تو اس پہ عاشق ہو گئی تھی . . 
اور تب سے میرا خواب اور مقصد پہلوان سے چدوانا بن گیا تھا . . . اور آج وہ خواب حقیقت کا روپ دھا ر گیا تھا . . پہلوان دھڑا دھڑ میری پھدی کے بخیے ادھیڑ رہا تھا . . میں پہلوان کے ہونٹوں کو بڑی شدت سے چوس رہی تھی اور اپنی زُبان پہلوان کے منہ میں ڈال رکھی تھی اور پہلوان مزے سے چوس رہا تھا اور اپنے لن کو تیز تیز میری پھدی کے اندر باہر کر رہا تھا . . پھر میرا جسم زور سے اکڑا اور میں نے پانی چھوڑ دیا اور ڈھے گئی . . . 
پہلوان نے اپنی سپیڈ سلو کی اور اپنا لن باہر نکال لیا . . پہلوان کا لن ابھی فل جوبن پہ تھا اور اکڑو خان بُنا ہوا تھا . . اس نے رومال سے میری پھدی سے پانی صاف کیا اور پھر سے خود نیچے ہو گیا . . میں پہلوان کے لن کے اوپر بیٹھ گئی اور اوپر نیچے ہونے لگی . . پچک پچک کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں اور ہم دونوں آہ آہ کر رہے تھے . . پھر اچانک پہلوان کے لن نے اپنی منی میری چوت میں اگل دی . . پہلوان مزے سے آہ آہ کر رہا تھا . . اس نے اپنا سارا مال میری چوت میں نکال دیا . . . اور لمبے لمبے سانس لینے لگا . . میں بھی بہت تھک گئی تھی اِس لیے اس کے اوپر گر گئی . . پہلوان نے مجھے خود میں سمیٹ لیا اور اپنی باہوں کا گھیرا میرے نزدیک تنگ کر لیا . . تھوڑی دیر ہم اِس طرح ایک دوسرے چومتے اور چاٹتے رہے . . پھر ہم الگ ہو گئے کپڑے پہنے اور کمرے سے باہر نکل آئے . . . جیسے ہی کمرے سے باہر نکلے ایک نیا سین ہماری آنکھوں میں ابھرا جو مجھے حیران کر گیا . . . 
( نوعمر لڑکے کی زبانی ) 
میرا نام ساجن ہے اور میں استاد سلیم پہلوان کی دکان پہ کام کرتا ہوں جو ہڈیوں وغیرہ کو جوڑتا ہے . . 
استاد عورتوں کی ہڈیاں جوڑنے کے ساتھ ساتھ ا نہیں چودتا بھی تھا اور میں نے کئی بار چھپ چھپ کے استاد کو چودتے ہوئے دیکھا تھا . . یہ اِس دن کی بات ہے کہ 2 سیکسی عورتیں ہماری دکان میں آئیں اور استاد کا پوچھنے لگیں . . استاد پہلے اندر ایک لڑکی کو چود رہا تھا . . وہ دونوں باہر بیٹھ گئی . . تھوڑی دیر بعد استاد اور وہ لڑکی فارغ ہوئے اور وہ لڑکی چلی گئی . . پھر ان میں سے ایک ‫ عورت ‬ جس نے بڑی سی چادر اوڑھ رکھی تھی اسے استاد نے اندر جانے کو کہا تو وہ اندر چلی گئی . . میں سوچنے لگا کہ آج یہ بھی چد ے گی . . پھر استاد نے مجھے کولڈ ڈرنک لانے کو کہا اورد وسری ‫ عورت ‬ سے باتیں کرنے لگا جو نقاب میں ملبوس تھی . . میں کولڈڈرنک لینے چلا گیا . . تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو استاد نے کہا کہ اندر جو بی بی گئی ہیں انہیں دے آؤ اور خود ایک بوتل اٹھا کے نقاب والی کو دے دی . . میں اندر گیا تو وہ ‫ عورت ‬ بیٹھی کسیخیالوں میں گم تھی . اس نے جا منی رنگ کا ڈریس پہنا ہوا تھا اور کافی خوبصورت اور پرکشش تھی . . خیر میں کولڈ ڈرنک دے کے واپس آ گیا . . تھوڑی دیر بعد استاد اندر چلا گیا . . اس ‫ عورت ‬ نے نقاب اُتَا ر دیا اور کولڈ ڈرنک پینے لگی ، یہ بھی کافی خوش شکل تھی . . پھر بہت دیر ہو گئی لیکن استادباہر نا نکلا تو وہ ‫ عورت ‬ تھوڑی پریشان ہو گئی . . اور جبکہ میں سب کچھ جانتا تھا . . پھر اس نے مجھے کچھ پیسے دیئے اور کہا کہ پان لے آؤ . . میں سمجھ گیا کہ یہ اندر جانا چاہتی ہے اور استاد کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہ دیتا . . میں نکل گیا اور تھوڑی دیر میں واپس آ گیا . . وہ عورت اندر جا چکی تھی . . میں آہستہ سے اندر اینٹر ہونے والے دروازے سے جھانکا تو وہ ‫ عورت ‬ میری طرف پیٹھ کیے سامنے دروازے پہ آنکھ لگائے کچھ دیکھ رہی تھی . . اس کا ہاتھ اپنی شلوار میں تھا اور وہ اپنی پھدی کو اندر کا منظر دیکھ کر سہلا رہی تھی . . میرے لیے یہ بہت اچھا موقع تھا کیوں کہ استاد سے میں نے سنا تھا کہ اِس موقع پہ ‫ عورت ‬ انکار نہیں کرتی . . میرا 7 انچ کا لن کھڑا ہو گیا تھا . . میں خاموشی سے واپس آیا اور بغیر آواز پیدا کیے آہستہ آہستہ شٹر بند کرنے لگا . . . شٹر بند کرنے کے بعد میں اندر داخل ہوا اور دبے پاؤں اس ‫ عورت ‬ کے پیچھے پہنچا . . وہ بے خبر اپنی چوت میں ہاتھ ڈال کے کھڑی تھی اور اندر کا منظر دیکھنے میں مگن تھی . . میں تھوڑی ہمت کر کے اس کے بالکل پیچھے آیا اور اپنا کھڑا لن اسکی گانڈ پہ لگا دیا . . اس کے ہپس بہت نرم تھے اور اس وقت مجھے بہت مزہ آیا . . میرے اِس طرح لن لگانے سے وہ ‫ عورت ‬ یکدم ہوش میں آئی اور اس نے اپنا ہاتھ اپنی چوت سے باہر نکالا اور ہڑبڑا کے میری طرف مڑ کے پیچھے دیکھا . . . مجھے پیچھے دیکھ کر تھوڑی حیرت زدہ رہ گئی . . پھر اس نے کچھ سوچتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا وہ مجھے باہر لے آئی . . 
پھر اس نے بنا کوئی سوال جواب کیے نیچے سے میرا کھڑا لن پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ دبانے لگی . . مجھے اِس طرح اسکے دبانے سے بہت مزہ آ رہا تھا . . پھر میں نے پوزیٹو ایکشن دیکھ کر اپنی شلوار اور قمیض اُتار دی . . وہ ‫ عورت ‬ بھی مجھے ننگا دیکھ کر ننگی ہو گئی . . اس کے ممے بہت بڑے بڑے تھے اور اس کی پھدی بالوں سے بھری ہوئی تھی . . وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گئی اور میرا لن چوسنے لگی . . یہ پہلا ٹائم تھا جب میرا کسی نے لن چوسا تھا . . مجھے ایسا لگا کہ میرا لن کسی دہکتی ہوئی کھائی میں چلا گیا ہو . . مجھے اِس وقت اتنا مزہ آ رہا تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا . . . پھر یکدم میں بہت ہوٹ ہو گیا اور میرے لن نے 3 4 جھٹکے کھائے اور میرا پانی اس ‫عورت ‬ کے منہ میں چلا گیا جسے اس نے اگل دیا . . میرا لن آہستہ آہستہ سکڑتا گیا اور پھر زیرو پہ پہنچ گیا . . پھر اس ‫عورت ‬ نے خود بینچ اٹھایا اور دکان کے درمیان میں رکھ دیا اور اس پہ لیٹ گئی اور اپنے مموں کا رخ میری طرف کیا اور ہاتھ کے اشارے کہا کہ انہیں چوسو . . میں استاد کو کئی دفعہ دیکھ چکا تھا ممے چوستے ہوئے تو میں فٹافٹ لیفٹ سائڈ کے ممے کا نپل منہ میں ڈال لیا اور چوسنے لگا . . . وہ ‫ عورت ‬ مزے سے سسکاریاں لینے لگی . . میں کافی دیر اس کے مموں کو چوستا رہا . . وہ ‫ عورت ‬ ممے چوسوانے کے ساتھ ساتھ اپنی پھدی میں اپنی 2 انگلیاں بھی ڈالے ہوئے تھی اور انہیں ہلا رہی تھی . . 
اب میرا لن آہستہ آہستہ حرکت میں آ گیا تھا . . پھر تھوڑی دیر بعد اکڑ کے کھڑا ہو گیا . . اس ‫ عورت ‬ نے یہ دیکھا تو جھٹ سے مجھے بینچ پہ لٹایا اور خود میرے اکڑے ہوئے لن پہ بیٹھ گئی اور سارا لن اپنی پھدی میں لے لیا . . اسکی پھدی اس کے منہ سے بھی ذیادہ گرم تھی . وہ اوپر نیچے ہونے لگی اور مزے سے آوازیں نکا لنے لگی . . مجھے بھی بے حد مزہ آ رہا تھا . . 
( پہلوان کی زبانی ) 
جیسے ہی میں سدرہ کی پھدی کا سواد چکھ کے باہر نکلا تو دیکھا کہ ساجن سدرہ کے ساتھ جو ‫ عورت ‬ آئی ہے اسے چود رہا تھا . . دکان کا شٹر کلوز تھا اور وہ دونوں چودائی میں مصروف تھے . . وہ ‫ عورت ‬ ساجن کے اوپر اسکا لن اپنی پھدی میں لیے ہوئے اوپر نیچے ہو رہی تھی . . دکان اسکی سیکسی آوازوں سے لرز رہی تھی . . 
سدرہ بھی یہ منظر دیکھ تھوڑی حیران ہوئی لیکن پھر ہم دونوں ٹک ٹکی باندھ کے دیکھنے لگے . . اس ‫ عورت ‬ کے ہلتے ممے اس وقت بہت دلنشیں لگ رہے تھے اور میں اسے چودنے کا پروگرام بھی بنا چکا تھا سدرہ کے علم میں لائے بغیر . . خیر ان دونوں کی چدائی تھوڑی دیر مزید جاری رہی اور پھر تھوڑی دیر بعد دونوں جھڑ گئے اور لمبے لمبے سانس لینے لگے . . . 
( سدرہ کی زبانی ) 
میں اور پہلوان انہیں جھڑتا دیکھ رہے تھے . . تھوڑی دیر وہ اِسی طرح پڑے رہے اور پِھر اٹھے اور اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور رشیدہ نے لن کا مزہ لینے کے بعد دوبارہ نقاب اپنے منہ پہ چڑھا دیا . . . اس لڑکے نے دکان کا شٹر اٹھا دیا اور سیدھے ہو کے بیٹھ گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں . . خیر میں اور پہلوان باہر آ گئے . . 
پھر میں اور رشیدہ گھر کو روانہ ہو گئیں . . . سارے رستے ہم ایک دوسرے سے نظریں چراتی رہیں . . گھر پہنچیں تو میرے شوہر آئے ہوئے تھے . . میں جاتے ہی ان کے گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی اور مگرمچھ کے آنسوؤں کی بھرمار کر دی کہ میرا ساتھ حادثہ ہو گیا تھا . . خیر انہوں نے مجھے چُپ کروایا اور حوصلہ دیا . . میں بہت خوش تھی کہ میں نے پہلوان کے لن کا سواد چکھ لیا . . 
اور یہ خوشگوار واقعہ بہت عرصے تک میرے دِل میں تازہ رہے گا . . . . 

دی اینڈ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now