Story Maker

پھوپھی کی چدائی

Recommended Posts


اب میں اپنے بارے میں بتا ہوں .. میری عمر 20 سال ہے، قد 5 فٹ 8 انچ .. رنگ صاف ہے ظہور میں کشش ہوں، میں بيےسسي. کر رہا ہوں. ظہور میں میں نے کافی سجیلا اور خوبصورت ہوں ..
مجھے ذرا گدراي اور بھری ہوئی شادی شدہ خواتین پسند ہیں .. کیونکہ جب وہ چلتی ہیں .. تو ان دبر ممے بہت بانس کرتے ہیں. نہ جانے کیوں میری فیملی کی تمام مہلایں مجھ کو بہت پیار کرتی ہے .. اور میری بہت کیئر کرتی ہیں.
جب ایک صبح اچانک میرے دادا جی کی موت ہو گئی .. اس وقت وہ ہماچل پردیش میں تھے .. اور دادی نے اس وقت ہمیں فون کیا .. تو ہم سب فوری طور پر آپ پیکنگ کرکے ہماچل کے لئے نکل پڑے.
اس رات 12 بجے ہم سب ہماچل والے گھر پہنچے. گھر میں سب لوگ تھے .. نانی .. بڑی دادی چھوٹی دادی .. پھوپھی چاچی .. چچا پھوپھا جی مراد سب لوگ تھے.
ہم سب جاتے ہی وہاں دادی کے پاس بیٹھ کر بہت دیر تک خوب روئے. پھر تھوڑی دیر بعد جب ماحول کچھ ٹھنڈا ہوا تو سب نے طے کیا کہ کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں .. کل داغ دینے جانا ہے.
تو جب شام کی تیاری کرنے لگے. میری تمام باے اور چاچيا مجھ سے باتیں کرنے لگیں کہ اور کیسا ہے .. کیا چل رہا ہے .. پڑھائی لکھائی کیسی چل رہی ہے. لیکن میری نینا پھوپھی (بدلا ہوا نام) میرے کچھ زیادہ نزدیک تھیں اور ہوتی بھی کیوں نہیں .. میں بچپن میں ان کی گودی میں کھیلا بھی تھا ..
ہم سب سونے لگے .. لیکن لوگ زیادہ ہونے کی وجہ سے بستر کم پڑنے لگے تھے .. تو دادی نے بولا دو جنے ایک ساتھ میں سو جاؤ.
تو نینا پھوپھی اور میں ساتھ میں سوئے اور باقی سب بھی 2-2 کے گروپ میں لیٹ گئے، نائیٹ بلب روشن کر دیا گیا، سب سو گئے .. سردی تھوڑی زیادہ تھی .. تو میں پھوپھی سے چپک گیا.
پھوپھی نے میری طرف پیٹھ کی ہوئی تھی. میں اسی طرف اپنا منہ کرکے لیٹ گیا.
میرا لنڈ ان چوتڑوں سے بالکل چسپاں ہوا تھا. مجھ کو تھوڑا سا عجیب سا لگا .. تو میں تھوڑا سا پیچھے ہو گیا ..
لیکن میرے دماغ میں تھوڑی دیر بعد كوچار آنے لگے.
دوستو، نہ جانے مجھ میں کیا پرابلم ہے کہ بس تھوڑا سا الٹا سیدھا سوچنے پر ہی میرا ہتھیار بری طرح سے کھڑا ہو جاتا ہے اور بہت دیر تک بیٹھ نہیں ہے. اسی وجہ سے مجھ کو بہت بار مم ڈیڈ سے ڈانٹ بھی پڑ چکی ہے.
زیادہ سوچنے سے میرا لؤڑا ہارڈ ہو گیا تھا اور میں نے لوور پہنا ہوا تھا .. تو وہ خیمہ بن گیا اور پھوپھی کے دونوں چوتڑوں کے بیچ کی درار میں جانے لگا.
میں اور واپس کو ہوا .. تو پھوپھی اور بھی میرے نزدیک آ گئیں. میرا لنڈ ان موٹی گانڈ کے درمیان میں ان کے لباس کے اوپر سے پھنستا چلا گیا.

 


اب میں بھی نہیں ہلا .. پھر اپنے آپ میرا ہاتھ ان کے پیٹ پر چلا گیا اور انہوں نے بھی میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جیسے ایک شوہر بیوی سوتے وقت رکھ لیتے ہیں ویسے ہی ہاتھوں کی صورت حال ہو گئی.
ہمارے اس کھیل کو شروع ہوئے تقریبا 15 منٹ ہو گئے تھے. میرا لنڈ بری طرح سے سخت ہو چکا تھا .. تو میں نے اپنا ہاتھ پھوپھی کے پیٹ سے ہٹا کر ان کے چوتڑوں پر رکھ دیا تھا اور آہستہ آہستہ ان کے چوتڑوں کو دبانے لگا. ساتھ ہی ان کی گردن میں کس کرنے لگا.
کچھ پاچےك منٹ پھوپھی نے میرا ہاتھ ہٹایا اور میری طرف منہ کیا اور میرے گال پر ایک کس کیا اور آہستہ سے بولا اگوري .. ابھی نہیں پیارے یہ صحیح ٹائم نہیں ہے .. ٹائم آنے دے .. پھر آرام سے کریں گے اوکے.
میں نے سوچا کہ جی ہاں یار پھوپھی صحیح بول رہی ہیں اب سب ہیں بعد میں کریں گے اور یہ موقع بھی گم کی ہے ..
اگلے دن سب اٹھ گئے تھے .. پر میں لیٹ اٹھا .. کیونکہ سفر سے تھکا ہوا تھا. پھوپھی نے اٹھایا اور بولي- اگوري .. اٹھ کب تک سوئے گا .. اب اٹھ جا ..
انہوں نے میرے سر پر ایک کس کر دیا میں نے آنکھ کھولی .. تو دیکھا کہ پھوپھی چائے لے کر کھڑی تھیں.
میں نے چائے لی اور پھوپھی مسکرا کر چلی گئیں .. ان مسکراہٹ تھوڑی سیکسی تھی، میں سمجھ گیا کہ وہ قاتل مسکراہٹ رات کی حرکت کی وجہ سے آئی ہے.
پھر میں اٹھ کر پھریش ہونے چلا گیا اور آیا تو پھوپھی بولي- اگوري نہا لے .. پانی گرم ہو رکھا ہے اور کپڑے اور اڈرگارمےٹس بھی رکھ دیے ہیں.
میں بولا- پھوپھی میں اتارے ہوئے کپڑے اندر ہی رکھ دوں گا .. آپ لے لینا.
وہ بولي- ٹھیک ہے ..
پھر میں نہا کر نکلا .. تو پھوپھی نے مجھے کپڑے دیے اور ناشتا بھی دیا.
اب پھوپھی میرے سارے کام کرنے لگیں .. جیسے میں ان کا شوہر هوو .. اور وہ میری بیوی ہوں.
پھر اس دن دوپہر میں میں اور پھوپھی باتیں کر رہے تھے تو پھوپھی نے پوچھا تیری کوئی گرل ہے یا نہیں؟
میں بولا- نہیں پھوپھی .. میں ان چیزوں سے دور رہتا ہوں.
تو پھوپھی مسکرا دیں اور ہم لوگ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے.
اس درمیان میں میں پھوپھی کو گانڈ اور بوبوں پر ہاتھ جا رہا تھا. میرے ہر بار چھونے پر پھوپھی مسکرا دیتی تھیں.
تھوڑی دیر بعد پھوپھی آپ کام کرنے چلی گئیں.
رات کو پھوپھی پھر میرے ساتھ سوي .. اور آج گھر میں صرف گھر والے لوگ ہی رہ گئے تھے. میرے اور پھوپھی کے آس پاس کوئی نہیں تھا. آج پھر ہم دونوں ایک ہی کمبل اوڑھ کر سوئے تھے اور آج پھوپھی نے پھر میری طرف پیٹھ کی ہوئی تھی.
کچھ ہی دیر میں میں پھوپھی کے موٹے چوتڑ دبانے لگا تھا، ان کی گانڈ کو دبانے سے بہت مجا آ رہا تھا.
تھوڑی دیر ہپ دبانے کے بعد میں نے اپنا ہاتھ ان کے پیٹ پر رکھا اور ان کا نرم اور گرم پیٹ پر ہاتھ گھماتے ہوئے ان کی چوچیوں پر لے گیا. ان کا کرتہ ٹائیٹ تھا .. تو میں نے کسی طرح زور لگا کر اسے اوپر کیا اور ان کی برا کے اوپر سے ان ممے دبانے لگا.
ہیلو .. کتنا مجا آ رہا تھا ان ممے دبانے میں .. میں بتا نہیں سکتا آپ کو ..
پھر میں نے ان کی برا کو اوپر کر کے ان کے ٹھوس مموں کو دبانے لگا .. اي .. هي .. کیا مست مزہ آ رہا تھا.
میں اپنا ہاتھ نیچے ان کی سلوار پر لے گیا .. ان کا ناڑا کھول لگا.
ناڑا بہت کسا بندھا ہوا تھا .. تو پھوپھی نے پیٹ کو ذرا اندر کو لیا .. تو میں نے ناڑا کھول دیا اور ان کو سیدھا کر دیا. پھر ان کی سلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر جاںگھیا پر سے ان کی چوت سہلانے لگا.
تبھی پھوپھی نے میرا سر پکڑا اور اپنے مموں پر رکھ دیا. میں نے ان کے مموں کو چوسنے لگا. وہ میرے سر پر ہاتھ گھمانے لگیں .. تھوڑی دیر بعد میں نے میرے لنڈ پر کچھ محسوس کیا .. ہاتھ لگایا تو دیکھا کہ وہ پھوپھی کا ہاتھ تھا.
پھر پھوپھی میرے لؤڑے کو آگے پیچھے کرنے لگیں.
اهه .. کیا نرم نرم رابطے تھا ..
پھر میں مموں کو چھوڑ کر پھوپھی کی چوت کے پاس آ گیا، ان جاںگھیا تب تک مکمل گیلی ہو چکی تھی.

میں نے ان کی جاںگھیا اور سلوار مکمل طور پر کھینچ کر اتار دی اور ان کی ٹانگوں کو پھیلا کر ان کی چوت کو چاٹنے لگا تھا.
ان کی چوت پر چھوٹے چھوٹے بال اگے تھے .. جیسے ابھی کچھ دن پہلے ہی دکان صاف کی ہو.
پھر میں نے بیش 15 منٹ تک انکی چوت چاٹی .. اس درمیان وہ پانی نکال چکی تھیں. پھر انہوں نے مجھے اوپر کھینچا .. کس کیا .. اور لٹا دیا. میرا لوور اور انڈرویئر نکال کر میرے لنڈ کو پاگلوں کے جیسے چوسنے لگیں ..
ان دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے بہت دنوں سے لنڈ کی پیاسی ہوں. دس منٹ میں میرا پانی نکل گیا اور پھوپھی وہ سارا پانی پی گئیں.
اس کے بعد میرا لنڈ ڈھیلا پڑنے لگا مگر پھوپھی نے میرے لنڈ کو چوستے نہیں چھوڑا اور دو منٹ بعد میرا لنڈ پھر کھڑا ہو گیا.
اب پھوپھی میرے لنڈ کو اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکا کر دم سے بیٹھ گئیں .. جس سے میرا پورا لنڈ ان بھٹی جیسی گرم چوت میں گھستا چلا گیا.
دونوں کے منہ سے ایک میٹھی سیتکار نکلی اور صرف مزے کے دریا میں گوٹہ لگ گیا.
دو منٹ بعد پھوپھی نے لنڈ کو اندر ہی رکھا .. جیسے لنڈ کو اندر محسوس کر رہی ہوں.
کچھ لمحوں بعد پھوپھی میرے اوپر کودنے لگیں .. کافی دیر تک یہ دھكاپےل چلی. کبھی پھوپھی میرے اوپر .. کبھی میں ان کے اوپر .. پھوپھی بار بار اکڑ جاتی تھیں .. تو میں نے اوپر آ جاتا تھا .. پھر میرے کچھ ہی دھکوں بعد .. وہ مورچہ سنبھالنے اوپر آ جاتی تھیں.
آخر میں میں اوپر تھا تو جیسے ہی میرا نکلنے کو ہوا .. تو میں نے پھوپھی سے بولا پھوپھی .. آ رہا ہوں.
پھوپھی نے بولا آ جا .. اندر ہی چھوڑ دے ..
تو میں نے اپنا سارا مال پھوپھی کی چوت میں ہی چھوڑ دیا.
پھوپھی بھی جھڑ چکی تھیں اور وہ نڈھال ہو کر میرے اوپر ہی لیٹ گئیں.
میں نے پھوپھی سے پوچھا پھوپھی خوش کل کتنی بار نکلا ..
تو پھوپھی بولي- تو نے مجھے مار ہی دیا .. میں تو پتہ نہیں کتنی بار جھڑی ہوں.
پھوپھی نے مجھے کس کیا اور بولي- اگوري آئی لو یو .. تیرے پھوپھا جی نے کبھی مجھے اتنا مزہ نہیں دیا .. جتنا تم نے آج مجھے دیا .. میں آج سے تمہاری .. جب بھی تمہارا دل کرے .. میرے پاس آ جانا .. میری چوت اب تمہاری ہوئی ..
اس کے بعد آج بھی مجھے جب بھی موقع ملتا ہے .. تو میں پھوپھی کو چود دیتا ہوں.

ختم شُد 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now