Recommended Posts


ڈئیٹر فرینڈز۔ کہانی سوچو تو بہت ساری کہانیاں بنتی چلی جاتی ہیں لیکن مزہ انہیں میں آتا جو حقیقت پر مبنی ہوں۔ ایک بار پھر میں آپ کی خدمت میں ایک چھوٹی سی کاویش کو پیش کررہا ہوں۔
میرا نام عثمان ہے۔ جب یہ واقعہ ہوا تب میری عمر ۲۳ سال تھی جس سے کوئی بھی لڑکی، عورت یا کوئی بھی مرد اندازہ لگا سکتا ہے کہ میں شادی شدہ ہوں۔ میرا خود کا چھوٹا سا کاروبار ہے۔ مطلب میری ایک چھوٹی سی دکان ہے جہاں صبح سے شام تک میرا جگری دوست بیٹھا رہتا تھا کبھی کبھی وہ اپنا ڈیرہ قریبی بینک کے پاس بھی ڈال لیتا تھا۔ گھر کا اکلوتا ہونے کا ناتے اس پر ذمہ داریاں ہونی چاہیے تھی لیکن وہ لاپرواہ بنا پھرتا تھا
پھر ایک دن اچانک احسن کے والد کے دوست نے احسن کے لیے سعودی عرب کا ویزہ بھیج دیا۔ تب ماں کو اپنے بیٹے کے بہیانے کی پڑی۔ احسن کی منگنی ہوچکی تھی اس لیے احسن کے سسرالیے فورا مان گئے۔
ہم سب دوستوں اور دکانداروں نے اس کی شادی پر کافی مزا لیا تھا، مزہ صرف کھانے کا تھا لیکن شادی کے دن میرے دوست احسن کی سالی فائزہ مجھ پر کافی حد تک فدا تھی۔ 
میں نے بھی سمائل کے متبادل سمائل ہی پاس کی، نکاح کی تقریب تک میں احسن کی بیوی نازیہ کے بارے میں جان چکاتھا اور سالی کے بارے میں بھی۔ نازیہ کے جسم کے متعلق بتاتا ہوں۔ نازیہ نارمل ہائیٹ کی لڑکی ہے،  بوبز کا سائز ۳۲ بتیس، کمر شاید ۳۰ تیس اور باہر کو نکلی گانڈ صرف ۲۸ اٹھائیس سائز کی تھی۔ جب بھی احسن اپنی منگیتر سے ملنے جاتا تب مجھے رکھوالی کے لیے اپنے ساتھ لے جاتا تھا ان تمام واقعات کے دوران نازیہ مجھے کبھی کبھی مسکرا کر دیکھ لیا کرتی تھی لیکن میں اس وجہ سے آگے نہیں بڑھا۔ احسن چاہے مجھے اپنا جگری یار مانے یا نہ مانے میں اسے ضرور مانتا تھا اس لیے میں نازیہ کی اس مسکراہٹ کا کوئی جواب نہ دیتا تھا۔
اب فائزہ کی طرف آتے ہیں، فائزہ اپنی بہن کی طرح نارمل ہائیٹ کی لڑکی ہے۔ فائزہ کا تھوڑا سا رنگ فئیر ہے نازیہ سے، فائزہ کے بوبزاور گانڈ کا سائز بتیس سے زیادہ تھا، کمر تیس تھا۔
خیر نکاح کی تقریب کے وقت ہم سب دوست احسن کے قریب ہی کھڑے تھے، میں چونکہ اکثر احسن کے سسرالیوں کے گھر آتا جاتا رہتا تھا اس لیے مجھے احسن کے سسر نے ایک کام کے لیے گھر کی بیک سائڈ پر بنے سٹور روم کی طرف بھیج دیا۔ میں فورا سٹور روم کی طرف بڑھا تبھی فائزہ مجھے ساری مجلس میں اکیلے کھڑی نظر آئی مجھے اپنی طرف دیکھتا دیکھ مسکرانے لگی، میں نے بھی موقعہ محل کے حساب سے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ کو رپلائی دیا۔
فائزہ مسکراتے ہوئے اندر کی جانب چل دی، اندر جاتے جاتے اپنے ہاتھ کو اندر کی طرف موڑتے ہوے مجھے اشارہ کیا جسے میں نے چند لمحوں کے بعد سمجھ لیا اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔ میں نے احسن کے سسر کے بتائے کام کو اگنور کردیا تھا۔
میں نے باہر کے تمام دوستوں سے سن رکھا تھا کہ فائزہ کو اپنی پھدی مروانے کا بہت شوق ہے، آج دن تک ناجانے اس نے کتنے لنڈ لیے ہیں اسی سوچ کے ساتھ میں آگے کو بڑھ گیا۔
ہم دونوں کچھ دیر بعد ایک کمرے میں آمنے سامنے کھڑے تھے جہاں احسن کےسسرالیوں نے اپنا سارا قیمتی سامان شفٹ کردیا تھا۔ شاید انہوں نے شادیوں میں چوری چکاری کے سبب ایسا کیا تھا۔ کچھ دیر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر فائزہ نے آگے بڑھ کر دروازے کو لاک کردیا اور میرے سینے سے لگ گئی۔
فائزہ کی بھاری بھرکم چھاتی میری چھاتی سی لگی ہوئی تھی اور میں فائزہ کے جسم کی اتھل پتھل کو واضح محسوس کررہا تھا۔ میں نے اپنے اس دوست کے مطابق خود کو کنوارہ بنائے رکھنے کی ایکٹنگ شروع کردی۔
فائزہ نے کچھ دیر تک میری آنکھوں میں دیکھا پھر اپنا جسم اوپر اٹھاتے ہوئے میرے ہونٹوں کے برابر پہنچ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔
کچھ دیر کی کوشش کے بعد میں نے بھی فائزہ کی طرح کس کرنا شروع کردی تھی وقت کم تھا لیکن شہوت زدہ لمحوں کی وجہ سے میرا لنڈ کھڑا ہوچکا تھا، فائزہ نے ایک ہاتھ سے میرے لنڈ کو پکڑ کر آہستہ آہستہ اوپر نیچے کرنا شروع کردیا۔
فائزہ نے کچھ لمحوں کے بعد اپنے ہونٹوں کو مجھ سے الگ کیا اور نیچے پڑی ہوئی چٹائی پر لیٹتے ہی اپنی شلوار اتار کر سائڈ پر رکھ دی۔ میں خاموشی سے کھڑا یہ سب کارنامہ دیکھ رہا تھا۔ پھر فائزہ نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ میں اس کی بات مان کر اس کی طرف بڑھا تب فائزہ نے میرے لنڈ کو دوبارہ پکڑا اور آہستہ سے بولی
فائزہ: پہلے کبھی یہ کام کیا ہے یا نہیں؟
میں نے انکار میں سر ہلا کر اسے اس کے سوال کا جواب دیا۔ تب فائزہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اس نے اپنے ہاتھ پر تھوک جمع کیا اور میرے لنڈ پر ڈال کر مٹھ لگانے لگی، اس وقت حالات کی نزاکت کی وجہ سے میں بہت کچھ سوچ رہا تھا لیکن فائزہ کی اس حرکت سے میرے جسم کا روم روم سرور کی کیفیت میں مبتلا ہوچکا تھا تب فائزہ سیدھی لیٹ چکی تھی اور مجھے اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔ میں نے ٹھیک ویسا ہی کیا،
فائزہ نے دیر نہ کرتے ہوئے میرے گیلے لنڈ کو پکڑ کر اپنی پھدی کو اندر کا راستہ دیکھا دیا۔ پھر میری ہپس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی: آہستہ آہستہ جھٹکے لگانا شروع کردو۔
میں نے کافی سیکس و پورن کلپس دیکھ رکھی تھی اس لیے آہستہ آہستہ دو سے تین جھٹکے لگا کر اپنے لنڈ فائزہ کی دہکتی ہٹی میں اتار دیا۔ پھر میں اسی رفتار سے چودائی کرتا رہا پھر کچھ لمحوں کے بعد میرے دھکوں کی رفتار میں تیزی آتی گئی فائزہ کبھی میری کمر کو سہلاتی تو کبھی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کو روکنے کی کوشش کرتی تو کبھی اپنا سر دائیں بائیں کرتی، میں یہ سب حرکات خاموشی سے دیکھے جا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے دوستوں کی باتوں پر غور کرتا رہا، پھر میری سوچوں کا وقت ختم ہوا جب فائزہ نے میرے سر کو پکڑ کر اپنے بوبز پر دبا لیا اور میں اس کے بوبز سے نکلنے والی خوشبو میں مدہوش ہوتے ہوئے خود کو روک نہ پایا۔ 
ہم انیس بیس کے فرق سے ایک ساتھ فارغ ہوچکے تھے، میرے لنڈ نے آج کافی عرصے کے بعد اپنا پانی کی پھدی کے اندر چھوڑا تھا۔
میں اس سیکس سے کافی پرسکون ہوچکا تھا فائزہ نے میرے سر کو اپنی گرفت سے آزاد کردیا تب میں خاموشی سے اٹھا اور اپنی شلوار اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ تب تک فائزہ بھی اٹھ چکی تھی فائزہ نے بیٹھے ہوئے میرے لنڈ کو پھر سے پکڑ لیا جہاں ابھی بھی فائزہ اور میری منی لگی ہوئی تھی۔
میں: سب ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ اب چلنا چاہیے۔
فائزہ نے بستروں میں سے ایک کپڑا نکال کر میرے لنڈ کو صاف کیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ مطلب میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ سے آزاد کردیا۔
میں اس وقت جلدی میں تھا اس لیے فائزہ کا انتظار نہ کرتے ہوئے فورا وہاں سے نکل کر اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا۔ جہاں ابھی ابھی نکاح ہوا تھا۔
خیر ہم سب ڈولی لے کر احسن کے گھر چل دیئے۔ میں نے فائزہ والی بات کسی سے بھی نہیں کی، سارے کاموں کاجوں کو ختم کرکے میں اپنے گھر آگیا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو سلام کیا اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔
کچھ دیر بعد خود کو ریلیکس کرنے کے بعد میں دکان کا کام شروع کردیا جو رات کے ایک بجے ختم ہوا۔

 

 

صبح میری نیند اپنے وقت پر کھلی معمول کے مطابق ناشتہ کرنے کے بعد میں اپنی دکان پر گیا کچھ دیر تک ضروری معاملات دیکھ کر، گھر واپس آگیا۔ جلدی کے چکر میں نہانا بھول چکا تھا جب یاد آیا تب میرے پاس وقت نہیں تھا اس لیے بغیر نہائے احسن کے ولیمے کی تقریب میں شرکت کے لیے نکل پڑا۔

ہمارے ہاں بیرونی دوستیاں ہوا کرتی ہیں اس لیے زیادہ شادیاں ہم لڑکوں (مردوں) کو ہی دیکھنا اٹینڈ کرنا پڑتی ہیں۔ میرے احسن کے گھر پر پہنچنے تک احسن کے دوستوں نے تمام معاملات دیکھ لیے تھے، میں دکان سے گھر اور پھر گھر سے ولیمے پر آنے تک مجھے کافی دیر ہوچکی تھی اس لیے میرے آنے تک ولیمے کی تقریب کی تیاریاں ہوچکی تھی۔

میں کچھ دیر احسن اور نازیہ کے قریب بیٹھا رہا پھر کسی وجہ سے اٹھ کر احسن کے گھر کے اندرونی جانب چل دیا۔ کچھ کام جو چھوٹے موٹے تھے ان کو نبٹاتے ہوئے اچانک فائزہ مجھے نظر آئی۔

فائزہ استری اسٹینڈ کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی مجھے دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی، ہال میں تمام افراد جمع تھے کچھ عورتیں اندر اور کچھ باہر آجارہے تھے۔ فائزہ کی مسکراہٹ دیکھ میرے اندر ہلکی سی سنسنی پھیل رہی تھی۔

میں فائزہ کو یکسر فراموش کرتا واپس گھر سے باہر بنے تقریبی ھال میں چلا گیا۔ احسن سٹیج سے تھوڑا دور کھڑا کسی سے موبائل پر بات کر رہا تھا تب میں بھی اس کے پاس کھڑا ہو کر اس کی باتیں سننے لگا کچھ دیر بعد نازیہ نے احسن کو بلایا جس پر احسن نازیہ کی طرف دیکھا۔

نازیہ: مجھے پانی پینا ہے فائزہ گھر گئی تھی ابھی تک نہیں آئی تم جا کر لادو یا منگوادو۔

احسن (مجھ سے دھیمی آواز سے): جا جاکر اپنی بھابھی کی خدمت کر۔۔۔

میں نے نازیہ کے سامنے سے خالی جگ کو اٹھایا اور کچھ دور پڑے ڈرم سے پانی بھرا اور واپس نازیہ کی طرف آگیا۔ نازیہ کو گلاس میں پانی ڈال کر دیتے ہوئے واپس احسن کی طرف مڑنے لگا تب نازیہ بولی: کچھ دیر اپنی بھابھی کے قریب بھی بیٹھ جاو۔ صبح سے بور ہورہی ہوں۔

میں نے ایک نظر احسن پر ڈالی جو اس وقت اپنے دوسرے دوست کے پاس نازیہ کی طرف کمر کیے کھڑا باتیں کررہا تھا۔ مجھے احسن کی طرف دیکھتا دیکھ نازیہ پھر سے بولی:

دیور جی۔۔۔ کس سوچ میں پڑ گئے ہو؟ میں نے کوئی مہنگی فرمائش نہیں ڈالی جس کو پورا کرنے سے پہلے آپ نے احسن سے اجازت مانگنی ہے۔

میں کچھ دیر پہلے احسن کی اور پھر اب نازیہ کی دوہری معنی کی باتیں سن کر سوچ میں ڈوبے ہوئے نازیہ کے قریب بیٹھ گیا۔

نازیہ پانی کا ایک گھونٹ پینے کے بعد بولی: دیور جی۔۔۔ ویسے ایک بات پوچھنی تھی اگر آپ کی اجازت ہو تو؟

میں نے نازیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا: ہاں کیوں نہیں، آپ نے جتنی بھی باتیں پوچھنی ہیں پوچھیں۔۔۔

نازیہ معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ: جب میں نے سوال جواب شروع کرنے ہیں تب سارا دن گزر جانا ہے اور شاید رات بھی، پھر آپ کے دوست کا کیا ہوگا اگر آپ وہاں موجود ہوں گے تو

میں نازیہ کی اس ڈبل میننگ بات سے تھوڑا بہت کنفوز ہوگیا تھا، میں نے پہلے جی، جی کہا پھر فورا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ، بولنے لگا جس پر نازیہ اپنے ناک پر مہندی والا ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی۔

نازیہ: اچھا اچھا۔۔۔ زیادہ باتیں نہیں پوچھتی آپ اتنا زیادہ کنفوز نہ ہوں، یہ لیں پانی پییں۔

میں نے پہلے انکار کیا تب نازیہ بولی: پانی پی لیں نا۔۔۔ یہ نہ ہو کہ بعد میں آپ کو یہ پانی بھی نہ ملے۔

میں نے نازیہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے لیا اور خاموشی سے پانی کے گھونٹ اپنے خشک ہوتے گلے سے نیچے اتارے نازیہ مجھے پانی پیتا دیکھتے ہوئے بولی:

نازیہ: ویسے آپ آج نہائے نہیں نا؟؟؟

میں نے کوئی تاثر نہیں دیا کیونکہ میں نازیہ کی بات پر غور کر رہا تھا، آج دن تک کسی کو بھی معلوم نہیں ہوا تھا کہ میں کب نہایا اور کب نہیں نہایا۔

نازیہ دوبارہ بولی: ویسے آپ کل نکاح کے وقت کہاں تھے؟ فائزہ بھی غائب تھی۔ عجیب معاملہ ہے۔

نازیہ نے ولیمے کی تقریب پر ایک نظر ڈالتے ہوئے دوبارہ سے میری آنکھوں میں دیکھا، میں جہاں تھا وہیں کا وہیں رک گیا۔ کیونکہ اتنے سالوں سے میں دو عورتوں کو ٹھوک ٹھوک کر خود کو ٹھنڈا کر چکا تھا لیکن کسی کو علم نہیں تھا۔ یہ اچانک نازیہ کو کیسے علم ہوگیا۔

نازیہ نے بہانے سے کُشن ( چھوٹے تکیے) کو صحیح کرتے ہوئے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی: گلاس سائڈ پر رکھ دیں دیور جی۔ میں فائزہ کی تمام حرکات پر نظر رکھتی ہوں۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں کسی کو کچھ بھی بتانے والی نہیں، کیونکہ اس میں آپ کی بدنامی کم، اور فائزہ کی زیادہ ہے۔

میں نے ایک نظر نازیہ کی چہرے پر ڈالی پھر دوسری نظر اپنے ہاتھ پر جو نازیہ کے ہاتھ کے نیچے تھا۔ میرے ذہن میں یہ سوال بھی آرہا تھا کہ اگر نازیہ کو اپنی بہن کی حرکات پر شک ہے تو اس نے اب تک اس کو روکا کیوں نہیں،

نازیہ: آج سے سات دن تک آپ آرام سے گزاریں پھر اس کے بعد آپ کو اپنی بھابھی کی خدمت بھی کرنی ہے۔ ہے نا احسن۔

نازیہ نے اپنی گفتگو کے آخری حصے پر تھوڑا سا زور دیتے ہوئے احسن کی جانب دیکھا، احسن نے بھی دور سے مسکرا کر نازیہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔ میں اس وقت ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوچکا تھا کیونکہ میں نے آج دن تک احسن کو اپنا جگری دوست مانا تھا آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں نے احسن کی بہن (جس کی شادی ہوچکی تھی) کو سیکس کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور میں نے خود کو ان دونوں ( عائشہ اور اس کا شوہر جو بعد میں بنا) پر ظاہر بھی کردیا تھا۔ عائشہ نے بعد میں اس بات کو احسن یا احسن کی امی کو نہ بتانے کے بدلے خود کو میرے سامنے پیش کردیا تھا لیکن میں نے انکار کردیا تھا۔

میری سوچ کے لمحات اس وقت ٹوٹے جب فائزہ میرے کندھے پر اپنی بازو رکھ کر بولی۔

فائزہ: جناب دن کو دن کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر دل کر رہا ہے تو بندے حاضر ہو جاتے ہیں۔

فائزہ کی اس بات پر پاس بیٹھی نازیہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی، میں صبح سے معنی خیز باتوں اور اشاروں سے کنفوز ہوچکا تھا اس لیے فورا وہاں سے اٹھ کر احسن کی طرف بڑھ گیا۔

فائزہ کے اشارےو مسکراہٹ، احسن کی اجازت، اور نازیہ کی معنی خٰیز باتوں سے میرا لنڈ ہاف کھڑا ہوچکا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرکے احسن کے ولیمے کی تقریب ختم ہوئی اور میں گھر واپس آکراپنے کام میں مصروف ہوگیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

صبح اپنے وقت پر دکان پر چلا گیا۔ سارا دن کسٹمرز میں مصروف رہا کچھ کسٹمرز سےبحث بھی ہوئی کیونکہ میں دو دن سے مسلسل دکان جلدی بند کرکے چلا جاتا رہا تھا۔ کسٹمرز کی بھی دو اقسام ہیں ایک جو سچے ہوتے ہیں اور دوسرے جھوٹ بولتے ہیں۔ شام کے وقت احسن کی کال آئی سلام دعا کے بعد احسن اصل نکتے کی طرف آیا۔

احسن: عثمان ! ایک چھوٹا سا کام تھا

میں: ہوں۔۔۔۔ (کیونکہ میں ایک طرف احسن کی کال بھی سن رہا تھا اور دوسری طرف کام بھی کررہا تھا)

احسن: یار مجھے آج شام سے دعوتوں میں بھی جانا پڑے گا ایک تو شادی کی دعوتیں ہیں ساتھ ہی میرے سعودیہ والے کام کی وجہ سے بھی،

میں کسٹمر کو فارغ کرتے ہوئے: یہ تو اچھی بات ہے پھر۔۔۔ عیش کر۔ ایک وقت کا کھانا کوئی دوسرا میرے علاوہ بھی کھلانے والا ہے۔

(احسن صبح کی چائے سے شام کی چائے تک میری ہی دکان پر بیٹھ کر پیا کرتا تھا اکثر میرا کھانا سامنے والی بھابھی جی بھیجا کرتی تھی تب بھی وہ (احسن) میرے ساتھ شریک ہوا کرتا تھا۔)

احسن: یار وہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نازیہ کے رشتہ داروں کے گھر اکیلا جاتے شرم اور ججک محسوس ہوتی ہے۔ تمہیں معلوم تو ہے نا کہ میں نازیہ کے گھر چائے کے علاوہ کبھی گیا ہی نہیں۔

میں (نئے کسٹمر کو ڈیل کرتے ہوئے): اچھا پھر

احسن: میں نے یہ بات نازیہ سے رات کو کی تھی تب اس نے تمہارا بولا۔

میں کام کرتے کرتے کچھ سیکنڈز کے رکا، : بھابھی نے پھر کیا بولا؟

احسن: اس نے کہا کہ تم میری شادی کے دوست ہو اس لیے ہر دعوت میں جانا ضروری بھی ہے ساتھ میں میرا ٹائم پاس بھی ہوجایا کرے گا

میں نے اپنے دل میں سوچا: اس نے خود سے ایسا بول دیا ہے نازیہ جو کل کی بہیائی لڑکی کسی دوسرے مرد کے بارے میں ایسا کیوں بولے گی۔

احسن مجھے خاموش دیکھ دوبارہ بولا: یار مجھے معلوم ہے تمہاری دکانداری بھی ہے اس لیے نازیہ نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ ہم صرف رات کے وقت دعوت پر جایا کریں گے۔

میں نے کچھ دیر سوچا پھر نازیہ کے متعلق سوچتے سوچتے ہاں بول دی۔ شام کے ۴ بجے تھے تب سامنے والی بھابھی (صائمہ) کی کھڑکی کھلی یہ ہمارا ایک محسوس اشارہ ہوتا تھا جب بھی گلی میں کوئی نہ ہوتا یا بھابھی کی بیٹی سو رہی ہوتی تب وہ کھڑکی کھول کر کچھ سیکنڈز کے بعد بند کردیتی تھی۔

میں نے ایک بار اپنے کاروباری کاموں کے متعلق سوچا، جب تمام کام کلیئر پا کر میں نے مین سوئچ کو آف کیا اور موبائل سائلنٹ کرکے جیب میں ڈال لیا۔ سامنے والے دکاندار کو چائے پینے کا بتا کر دوسری گلی میں گھس گیا۔ یہ بھی میرا طریقہ کار تھا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ گلے کے کونے میں بنی سیڑھی سے چڑھ کر دوسری جانب صائمہ بھابھی کی گلی میں اتر گیا۔ اس وقت گلی میں ۲ موٹر سائیکل کھڑے تھے جن میں سے ایک میرا بھی تھا۔

میں نے ایک نظر دونوں طرف ڈالی پھر خاموشی سے بھابھی کے گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگا کیونکہ دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔  سیڑھیاں چڑھنے کے بعد مخصوص کمرے کو کھول کر میں بیڈ پر جا بیٹھا۔

کچھ دیر بعد بھابھی چائے کے دو مگ لیے، نیلے رنگ ٹی شرٹ اور جینز پہنے لال رنگ کی لپ سٹک لگائے میرے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔

بھابھی کا یہ روپ صرف اور صرف میرے لیے تھا اس کی ایک ہی وجہ تھی بھابھی گجرات شہر کی ایک ماڈرن لڑکی تھی جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے تمام ارمان، راستے میں ہی رہ گئے ان کے ایک ارمان کی پورا کرنے کے لیے میری وجہ سے ان کا شوہر آج کویت میں اپنے روزگار میں مصروف تھا۔ بھابھی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چائے کے مگ کو میری جانب بڑھاتے ہوئے بولی:

بھابھی: احسن کی شادی اچھے سے ہوگئی نا؟؟؟

میں مگ لیتے ہوئے: ہاں ہوگئی۔

بھابھی نے ہیلز اتار کر بیڈ پر اپنی ٹانگیں سیدھی کرلیں۔ میں ریلیکس ہوکر چائے پینے لگا۔ جیسے ہی چائے ختم ہوئی اسی وقت بھابھی نے مجھے لیٹنے کا اشارہ کیا۔

میں روٹین واز خاموشی سے بیڈ کے کنارے سے ٹیک لگا کر ٹانگیں سیدھی کرکے آدھا لیٹا اور آدھا بیٹا ہوا تھا۔ (ابھی میرے پاس اس پوزیشن کی تصویر نہیں)

بھابھی نے اپنے ہاتھوں کو میری ران پر گھوماتے ہوئے آہستہ سے بولی: عثمان ! تمہیں معلوم ہے میں نے یہ تین دن کیسے گزارے؟

میں نے انکار میں اپنا سر ہلایا جس پر صائمہ بھابھی مسکراتے ہوئے میرے سیمی اریکٹ لنڈ کو پکڑ کر نرمی سے مسلنے لگی۔

بھابھی: ہم نے جو ویڈیو بنائی تھی نا۔۔۔ اسے دیکھ دیکھ کر۔۔۔

میں جیسے ہی سیدھا ہونے لگا اسی وقت بھابھی نے اپنے ہاتھ کی مدد سے میرے چھاتی کو پیچھے کی طرف پش کردیا۔

بھابھی: آج میرے پیریڈز کا آخری دن ہے۔۔۔ (کچھ دیر وقفے کے بعد) تم نے میری ہر خواہش کو پورا کیا۔ آج میں تمہاری خواہش کو پورا کرنے والی ہوں۔

میں ایک طرف یہ سوچ رہا تھا کہ بھابھی کے اگر پیریڈز ختم نہیں ہوئے تو مجھے گرم کیوں کیا اور اب یہ سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی صائمہ میری منی کو پی جائے گی جی ہاں یہی میری خواہش تھی۔ جسے آج پہلی عورت پورا کرنے والی تھی میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکے سے سیکس کیا تھا تب اس نے میرا لنڈ اس وقت تک چوسا تھا جب تک میں فارغ نہیں ہوجاتا۔ اس لذت کو محسوس کرکے میں آج دن تک ناجانے کتنی مرتبہ فارغ ہوچکا تھا۔

یہ سچ ہے کہ میں نے آج دن تک مٹھ نہیں ماری تھی لیکن جب بھی رات کو سونے سے پہلے میں راشد کے بلو جاب کو سوچ کر سوجاتا تھا تب میرا اس رات احتلام ہوجاتا تھا۔ میں نے اپنی خواہش کا اظہار صرف بھابھی صائمہ سے کیا تھا وہ بھی تب جب میں نے ان کے لیے ان کی خواہش کے مطابق سرخ رنگ کی برا و پینٹی لا کر دی تھی۔

میں بھابھی کی بات سن کر سوچ میں ڈبواہواتھا تب بھابھی نے میری شلوار کو میری گانڈ سے نیچے کرتے ہوئے مجھے پکارا۔

بھابھی کی مشکل کو آسان بناتے ہوئے میں نے اپنی گانڈ کو بیڈ سے اٹھا دیا جس پر بھابھی نے فورا میری شلوار میری گانڈ کے نیچے سے نکال کر سائڈ پر رکھ دی۔

اب میرا لنڈ بھابھی کی نظروں کے سامنے جھٹکے کھا رہا تھا تب بھابھی اٹھی اور بیڈ کے پاس پڑے میز سے کیک کریم کو اٹھا لیا اب میری باری تھی میں نے آگے بڑھ کر بھابھی کی نیلی ٹی شرٹ کو اتار کر اپنی شلوار کے اوپر رکھ دیا اور بھابھی کے بوبز کے طرف دیکھنے لگا جو اب ۳۶ کے قریب قریب پہنچ چکے تھے۔ شاید یہ میری ہی محنت کا نتیجہ تھا۔

بھابھی نے آج پہلے کی طرح برا نہیں پہنی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ تمام کپڑے کچھ دیر بعد اتر جانے ہی ہیں پھر کیونکہ انہیں پہن کر گندا کیا جائے۔

میں بھابھی کے بوبز دیکھ کر اپنے ہاتھوں کو روک نہ پایا اور ایک کے بعد ایک اپنے ہاتھوں کو بھابھی کے بوبز پر رکھ کر نرمی سے مسلنے لگا۔

بھابھی کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاریاں نکلنے لگی تھی تب وقت کی کمی کا احساس مجھے بھی ہوچکا تھا اور بھابھی کو اپنے پیریڈز کا بھی علم ہورہا تھا اسی وجہ سے ہم دونوں رک گئے۔

بھابھی نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کیک کریم کو اپنے ہاتھ میں نکال کر اپنے بوبز پر لگانے لگی۔ کچھ دیر بعد بھابھی نے مجھے پھر سے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگانے کا اشارہ کیا لیکن میں سونے کے انداز میں مکمل لیٹ گیا کیونکہ یہ بھی میری ایک چھوٹی سی خواہش میں شامل تھا۔

بھابھی مسکراتے ہوئے بولی: بہت جلدی ہے؟

میں ان کو مسکراتا دیکھ خود ہی مسکرا دیا: آپ کو معلوم تو ہے نا۔۔۔ مجھے یہاں آئے ۵ منٹ سے اوپر ٹائم ہوچکا ہے۔ پھر بھی ایسا سوال

بھابھی: پتا ہے پتا ہے تمہارے بہت سارے کسٹمرز تمہارے لیے لائن لگائے کھڑے ہوتے ہیں۔ بولا بھی ہے ایک عدد لڑکا رکھ لو کام آسان ہوجائے گا۔

میں: لڑکا رکھ تو لوں لیکن وہ مزہ نہیں جو ’’خود‘‘ کرنے میں ہے۔

بھابھی میری بات سمجھتے ہوئے اپنے بوبز کو میرے دوبارہ نرم پڑتے لنڈ پر مسلنے لگی کچھ ہی دیر میں میرا لنڈ پھر سے ہارڈ ہوچکا تھا۔ میں نے ایک نظر بھابھی کے بوبز پر ڈالی پھر اپنی آنکھیں بند کیے نازیہ ، فائزہ اور احسن کے متعلق سوچنے لگا۔ اگر نازیہ کو اپنی بہن کے متعلق سب معلوم ہے تو اس نے اب تک اپنی بہن کو روکا کیوں نہیں؟ اور اگر نازیہ اپنی بہن کی کاری گری میں شامل ہے تو۔۔۔ میں تمام باتیں سوچتے سوچتے نازیہ اور فائزہ کی کڑیاں ملا چکا تھا۔

بھابھی نے مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ میرے لنڈ سے نکلنے والی پری کم کو اپنی زبان سے ٹچ کرکے مجھے خود کا احساس دلایا۔

میں آنکھیں کھول کر بھابھی کے کارنامے دیکھنے لگا۔ بھابھی کے بوبز پر لگی کریم اب میرے لنڈ پر بھی لگ چکی تھی اب آہستہ آہستہ وہ اپنے بوبز کو میرے لنڈ پر اوپر نیچے کرنے کی رفتار کو تیز کرنے لگی۔

یہ سب ہم دونوں نے کافی مرتبہ برادر سسٹر سیکس کی ویب سائٹ پر دیکھ چکے تھے آج ہم تقریبا دسویں مرتبہ کررہے تھے لیکن اصل کام کچھ دیر بعد شروع ہونا تھا۔

بھابھی کے بوبز کی نرمی اور میرے لنڈ کی گرمی ہم دونوں پر اثر دیکھا رہی تھی بھابھی نے آہستہ آہستہ اپنی زبان کو میرے لنڈ پر ٹچ کرنا شروع کردی تھی۔ بھابھی کا ایسا باربار کرنا مجھے سیکس کی جنت کا نظارہ کروانے لگا تھا۔

بھابھی نے کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد اپنے بوبز کو آزاد چھوڑ دیا کیونکہ بھابھی کے بوبز پر لگی کریم اب میرے لنڈ پر منتقل ہوچکی تھی پھر آہستہ آہستہ بھابھی میرے لنڈ پر اپنے چہرے کو جھکانے لگی۔

میں جانتا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے بھابھی کا کسی بھی مرد کا لنڈ چوسنا۔ میں نے ہردم کوشش کرنے کا سوچ رکھا تھا کہ بھابھی کو زبردستی کوئی کام کرنے کا نہیں بولوں گا۔

بھابھی نے ابھی میرے لنڈ کی ٹوپی اپنے گرم منہ میں لیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا لنڈ ایک گشتی کی گرم دہکتی پھدی کےاندر جا رہا ہے۔

میں نے ہر دم کوشش کی کہ میں اپنی کمر کوقابو میں رکھ سکوں میں اس کوشش میں کامیاب بھی ہوچکا تھا لیکن بھابھی جھکنا روکا نہیں کچھ دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ بھابھی نے میرا سارا لنڈ اپنے منہ کے اندر لے لیا ہے۔

میں نے اپنا سر اٹھا کر بھابھی کی طرف دیکھا جہاں مجھے بھابھی کا صرف سر نظر آیا اور کچھ نہیں۔ بھابھی کے سر کے ریشمی بال میرے پیٹ پر پھیلے ہوئے تھے۔

بھابھی نے آہستہ آہستہ اپنا سر اوپر سے نیچے کی طرف کرنا شروع کردیا تھا مجھے معلوم ہو چلا تھا کہ بھابھی نے اس کام کی پریکٹس کی گاجر یا مولی سے شروع کی ہوگی۔ اسی لیے آج ان کا ٹیسٹ کامیاب جا رہا تھا۔ بھابھی کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ میرا دوسرا تجربہ ہے اس لیے بھابھی نے کوئی جلدی نہیں کی۔

بھابھی بالکل نرمی سے آہستہ آہستہ اپنا ٹیسٹ دیے جارہی تھی۔ میں خود کو قابوکرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگا تھا۔

کچھ دیر بعد جب مجھ سے برداشت نہ ہوا تب اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ بول پڑا: بھابھی۔ اب مزید برداشت نہیں ہورہا۔

مجھے ایسا محسوس ہوا کہ بھابھی میری اس بات پر مسکرائی تھی کیونکہ آج وہ اپنے ٹیسٹ میں ۱۰۰ میں ۱۰۰ نمبر لے چکی تھی۔ وہ نادان بچی کی طرح میرے لنڈ کو مزید سک کرنے لگی۔ اسی وجہ سے میرا لنڈ بھابھی کے منہ کی گرمی کی وجہ سے فارغ ہونے لگا۔

میری کمر آہستہ آہستہ بیڈ سے اٹھ چکی تھی مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ میں فارغ ہورہا ہوں اور کچھ نہیں۔

میرے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھی جو میری منی کے آخری قطرے کے نکل جانے کے بعد بند ہوئی۔ بھابھی نے میرے فارغ ہوجانے کے کچھ دیر بعد اپنا چہرہ اوپر اٹھا جو باہر سے بالکل صاف تھا۔ حیرت کا جھٹکا اس وقت لگا جب بھابھی بولی: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ اس کام میں اتنا مزہ آتا ہے تو میں تم دونوں سے پھدی کی جگہ یہاں ڈالنے کا بولتی۔

بھابھی اٹھ کر میری بغل میں لیٹ گئی اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئی بولی: آج سے  

No FUCK ONLY SUCK

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

کچھ دیر بعد میں دکان پر موجود تمام کسٹمرز کو ڈیل کرنے لگا۔ شام ۷ بجے میں گھر پہنچا تو گھر والوں کو میں نے احسن کی بات کو سب کے سامنے رکھا۔ جس پر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔

رات ۸ بجے احسن کی کال آچکی تھی جس کے مطابق مجھے نازیہ، احسن کے ساتھ نازیہ کی دور کی خالہ کے گھر دعوت پر جانا تھا۔ میں نے باتھ لیا اور ٹھیک ۹ بجے احسن کے گھر پہنچ گیا۔ وہ دونوں میرا ہی انتظار کررہے تھے اس لیے ہم پانچ سے دس منٹ کے بعد مطلوبہ منزل کی جانب چل دیئے۔

کھانے کے بعد ہم سب خوش گپیوں مطلب صرف نازیہ اور اس کی خالہ باتوں میں مصروف ہوگئی ہم دونوں دوست گیسٹ روم میں بیٹھ کر اگلی دعوت پر بحث کرنے لگے۔ نازیہ کی یہ خالہ ۴۲ سال کی تھی اسی وجہ سے انکی شخصیت ہم سب سے الگ دکھ رہی تھی۔ خیر ہم دونوں نے اس کے علاوہ ان کے گھر کا ایک راؤنڈ بھی لگایا کیونکہ کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا بس ایسے ہی ٹائم پاس کرتے کرتے چائے بنوا کر نازیہ نے ہمیں بلوا لیا۔

واپسی پر خالہ نے کافی کہا کہ یہی رہ جاو لیکن احسن نہیں مانا شاید اس لیے کہ اسے روزانہ کی طرح آج بھی نازیہ کی دھلائی کرنی تھی۔

میں معامول کے مطابق اگلا دن گزارا شام کو ۷ بجے سے پہلے دکان بند کردی اور گھر چل دیا تب احسن مجھے راستے میں نظر آگیا۔

احسن مجھے ملتے ہوئے بولا: یار۔۔۔ ابھی ہمیں نازیہ کی سکول کی دوست کے گھر چائے کی دعوت پر جانا پڑے گا۔

میں: وہ کیوں؟ ہماری دعوت تو ۔۔۔

احسن درمیان میں بولتے ہوئے: یار سمجھا کر یہ بیویاں اپنی ہر بات منواکر چھوڑتی ہیں اس لیے اب تم جلدی سے گھر جاو تیار ہو کر آجاو۔

گھر پہنچ کر میں نے اپنا ہینڈی بیگ اتارا اور ایک چھوٹا سا باتھ لیا اور کپڑے تبدیل کرکے احسن کے گھر کی طرف چل دیا۔

مختصرا ہم نے اگلی دعوت تک نازیہ کی فرینڈ کے گھر رہے پھر اگلی دعوت پر میں جانے کے لیے تیار نہ ہوا کیونکہ مجھے اپنا کام بھی کرنا تھا اس لیے خاموشی سے نازیہ اور احسن میری بات مان گئے میں نازیہ کی دوست کے گھر سے باہر نکلا ساتھ میں نازیہ اور احسن بھی، وہ دونوں اپنی اگلی دعوت پر نکل گئے میں جیسے ہی اگئے بڑھا تبھی نازیہ کی دوست (ایمان، مطلب میرے چچا کی بیٹی، جی ہاں) نے مجھے پکارا۔ چونکہ اس وقت چچا اور چچی نازیہ اور احسن کے ساتھ ہی نکل کر کسی کام کی سلسلے میں ساجد صاحب کے گھر گئے تھے۔ اس لیے ایمان کو مجھے روکنے کا بہانہ مل گیا۔

میں خاموش لیکن دوسری جانب جس طرف میں جا رہا تھا، دیکھتا دیکھ کر ایمان میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔

ایمان: کیسے ہو؟

میں نے ایمان کو یکسر فراموش کرتے ہوئے بائک کے راستے سے ہٹانے کے لیے اپنی بائک کو پیچھے کی طرف کیا اسی وقت ایمان میری بائک کے اگلے ٹائر پر آکر بیٹھ گئی۔

ایمان: ناراض ہو جناب

میں اپنا چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے ایمان کے گھر کو دیکھنے لگا میرا ایسا کرنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ ایمان زچ ہوکر میرا راستہ چھوڑ دے۔

ایمان نے ٹھیک ویسا ہی کیا جیسا میں نے سوچا تھا لیکن میرے بائک سٹارٹ کرنے پر ایمان میری بیک سائڈ پر آکر میرے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی۔

ایمان: سیاں جی۔۔۔ اب لے چلو ہمیں اپنے سسرال۔۔۔

ایمان کو ۲ گھنٹے سے مسلسل اگنور کرنے کے بعد بھی میرا مقصد کامیاب ہوتا نہ دیکھ کر میں نے ایمان کو اس مرتبہ جھڑک دیا۔ تاکہ وہ اپنے گھر چلی جائے اور مجھے تنگ نہ کرے

ایمان نے اپنے بازو میرے کندھے پر رکھ کر بولی: سیاں جی۔۔۔ ایک آئی لو یو کہنے پر اتنا غصہ۔۔۔ اف توبہ۔۔۔ ہوا کیا ہے؟

میں نے بائک کو گھیر میں ڈالا اور تھوڑا سا دور لے جا کر بائک کو بند کردیا اور بولا: تم سمجھتی کیا ہو؟ میرے ہی گھر والوں کے سامنے پہلے میری بہن بنی رہتی ہو، پھر اچانک ایک ایسے دن آکر جس دن میرے گھر پر میرے رشتے کی بات چل رہی ہو بولتی ہو آئی لو یو۔ کیا تم نے مجھے ایک کھلونا سمجھ رکھا ہے؟

تم جانتی تو ہو نا کہ تمہارے والدین (چچا ، چاچی) نے میری، اور میرے گھر والوں کی کتنی بےعزتی کی تھی؟ بھول گئی؟ نہیں نا۔ پھر آج پھر سے؟ کچھ تو شرم کر لو۔ اوہ سوری۔ اب میں سمجھا۔ جیسے والدین ویسے تم

ایمان میرا پارا ہائی کروا کر اپنی بے عزتی کروا کر خاموشی سے بائک سے اتر تو گئی لیکن جاتے جاتے پھر سے بولی: جہاں تک سوال ہے میرے والدین کی، وہ جیسے مرضی ہوں لیکن میں ویسی نہیں۔ اب محبت کرہی لی ہے تو ساری زندگی نبھا کر بھی دیکھاوں گی۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے

میں آج دو گھنٹے سےایمان کو زچ کرنے میں مصروف تھا لیکن چند لمحوں میں ایمان نے مجھے جلا کر رکھ دیا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اپنی جان ہی دے دوں۔ لیکن پھر اپنے والدین جنہوں نے مجھے بڑی مشکل سے اس مقام تک پال پوس کر لایا۔ ان کو ان کی زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا دینے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی۔

بات وہاں سے شروع ہوئی جہاں سے آپ سب کو بتانا چاہیے۔ میری فیملی جوائنٹ سسٹم میں آتی تھی۔ ہم سب، دادی اماں، ابو(ان کی فیملی)، چچا(ان کی فیملی)، درمیانے چچا(ان کی فیملی) اور سب سے چھوٹے چچا ہم سب ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ ہماری فیملی میں پہلی لڑائی ہوئی مجھے اس کی وجہ ٹھیک سے معلوم نہیں لیکن ابو نے فورا ایک گھر تعمیر کروالیا۔ لیکن وہ گھر دادی کی مرضی سے ان کے گھر کے ساتھ بنا، جب یہ جھگڑا ہوا تب اس پوری فیملی میں دادی، میرے والدین، میں، اور میری دو بہنیں(فرزانہ، عمر ۱۸ سال، طاہرہ، عمر ۱۶ سال، میں، ۱۴ سال)

بڑے چچا اور چچی ان کی بیٹی اور بیٹے، درمیانے چچا اور چچی(ربیعہ، عمر ۲۲ سال رنگ فئیر) ان کی اکلوتی بیٹی ایمان، عمر ۱۴ سال، دو بیٹے، پھر آخر میں چھوٹے چچا نواز رہتے تھے۔

جھگڑے کی وجہ چھوٹے چاچے کی شادی تھی، چاچو کا رشتہ پہلے کہیں ہو نہیں رہا تھا پھر ایک جگہ بات بنتی نظر آئی لیکن سسرالیوں نے جگہ کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے چاچے نواز کو گھر داماد رکھنے کی آفر بھی کردی شاید اس لیے کہ ان کی جاری تعلیم بہت کامیاب جا رہی تھی۔خیر ابو نے دادی اماں سے بات کی اور فورا اپنے لیے ایک گھر تعمیر کروانا شروع کردیا، بڑے چاچو نے پہلے ہی ایک گھر تعمیر کروا رکھا تھا لیکن وہ اپنے نئے گھر نہیں گئے تھے مطلب شفٹنگ نہیں کی تھی۔

اس جھگڑے کی وجہ سے ابو نے گھر کی تعمیر جیسے ہی شروع کی بڑے چاچو نے اپنی فیملی کو اپنے نئے گھر شفٹ کردیا۔

میری بہنیں مین روڈ سے کبھی بجری، کبھی ریت، کبھی اینٹیں تو کبھی سریاں اٹھا کر نئے گھر تک شفٹ کرنے میں لگی رہتی جس میں امی بھی ساتھ دیتی تھی میرا بس یہی کام ہوتا تھا کہ میں اس بجری یا ریت کے ٹھیلے کے قریب رک کر نظر رکھتا تھا۔

چھوٹی چچی (ایمان کی والدہ) راستے میں کھڑے ہوکر ہنستی یا پھر دونوں میاں بیوی طنز کے تیر میری بہنوں اور امی پر چھوڑتے رہتے تھے۔ یہ سب باتیں میرے سامنے کی ہیں اس لیے سب معلوم تھا۔

خدا خدا کرکے مکان تعمیر ہو گیا تب ابو اپنی نوکری سے واپس آکر لینٹر (چھت) اور بجلی وغیرہ جیسے دوسرے مردانہ کام کیے۔ مردانہ کام تو سب ہی ہوتے ہیں لیکن ابو کی مدد امی نے ہر دم کی تھی۔ اگر اس دوران پیسہ آنا بند ہوجاتا تو ہمارے سپنوں والا گھر ادھورا رہ جاتا۔

اسی وجہ سے ابو واپس اپنے کام پر چلے گئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ہمارا گھر مکمل ہوگیا تب ہم نے اپنا سارا سامان اٹھا کر جس میں ۲ رضائی اور۲ بستر، اور اسی طرح دوسرا سامان اپنے نئے گھر شفٹ کردیا۔ ابو نے ہم تینوں بھائی بہنوں کو پڑھنے کی تلقین کی اور ہم ان کی بات مان کر اپنی پڑھائی پر توجہ دینے لگے

میں اپنی بہنوں کی طرح سلمیٰ اور ایمان کو اپنی بہنیں سمجھتا اور اپنی کزنز کو بھائی کہہ کر پکارتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد چھوٹے چاچو کی شادی ہوگئی جس پر ابو نے اپنا حصہ بھی ڈالا ہم بھی اس شادی میں شریک ہوئے لیکن ہماری حیثیت صرف مہمانوں جیسی تھی۔

ایک چھوٹی سی لڑائی کی وجہ سے ہمارا شیرازہ بکھیر گیا تھا۔ ہم تینوں بس یہی دعا کرتے رہتے تھے کہ اب کوئی جھگڑا نہ ہو، اسی وجہ سے ہم تینوں بہن بھائی نہ تو جھگڑتے اور نہ ہی ایسی نوبت آنے دیتے۔

ہماری فیملی میں اور بھی افراد تھے لیکن وہ پھوپھیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش تھی اس لیے ان کا فلحال ذکر کرنا زیادہ ضروری نہیں۔ بس اتنا بتا دیتا ہوں کہ میری چار عدد پھوپھیاں ہیں۔ ایک دادی کے گھر کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں، دوسری بڑے چاچو کے گھر کے قریب، تیسری، دوسری پھوپھی کے گھر کے قریب چند فرلانگ کا فاصلہ تھا۔ چوتھی پھوپھی گجرانوالہ میں رہائش پذیر تھیں۔

چاچو کی شادی میں ہم سب کزنز نے آپس میں کافی ہلہ گلا کیا کیونکہ ہم اس وقت اس موج مستی کی زندگی میں رہنا چاہتے تھے۔ مہندی والی رات تھی میں ہشتم جماعت کا طالب علم تھا اس لیے میرا قد مزید بڑھا ہوچکا تھا۔ میں اپنے کزنز اور محلے کے دوستوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اچانک ایک کمرے میں جا کر چھپ گیا۔ میری عادت تھی کہ میں پہلے خود کو ریلیکس کرلیتا تھا پھر اس کے بعد جو مرضی ہو جائے مجھے کوئی ڈھونڈ نہیں سکتا تھا۔

کچھ وقت گزرا باہر مہندی کی تقریب میں وقت تھا لیکن باہر دما چوکڑی چل رہی تھی میں نے اس وقت پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ پینٹ میں ہلکا سا ابھار رہتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں نکالا جاتاکہ سامنے والا لنڈ کھڑا ہے اوروہ ابھی ابھی سیکس کرکے باہر نکل رہا ہے۔

کچھ دیر گزری ہوگی کمرے میں کوئی داخل ہوا چونکہ میں نے کمرے میں آنے سے پہلے یہ سوچ رکھا تھا کہ اسی کمرے میں آنا ہے کیونکہ اس کمرے کی لائٹ کافی دنوں سے خراب ہوئی پڑی تھی۔

جو بھی اندر داخل ہوا تھا وہ پہلے ایک کونے میں گیا پھر گھومتے پھرتے میری جانب آیا۔ جیسے ہی اس بندے کا ہاتھ مجھ سے ٹکرایا تو وہ بولا

شکر ہے تم ادھر ہو میں ویسے ہی دوسرے کونوں میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔

میں اس آواز کو پہچاننے میں مگن تھا تبھی اس نے میرے نیچلے حصے کو پکڑ کر نیچے کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے پینٹ پہن رکھی تھی اس لیے وہ نیچے نہیں ہوئی۔ تب اس نے بیلٹ کو پکڑ کو کھولا اور خاموشی سے پینٹ کو نیچے کردیا۔

میں کچھ بولنا چاہ رہا تھا لیکن سامنے والی نے مجھے بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔ اس نے میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی۔ مجھے گیلا گیلا محسوس ہوا تو میں نے اس کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تو اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں سمجھا کہ وہ اب باہر چلی جائے گی لیکن میرا اندازا غلط نکلا۔

اس نے اپنی بیک (گانڈ) کو میرے لنڈ سے جوڑ کر اپنی گانڈ کو ہلانے لگی۔ مجھے کچھ دیر پہلے ہلکا سا مزہ تو آیا تھا لیکن زیادہ نہیں شاید اس لیے کہ اس کے دانت میرے لنڈ پر بار بار لگ رہے تھے۔ اس مرتبہ اس کی گانڈ نے مجھے مزہ دینا شروع کردیا تھا میں نے اپنے کزنز سے سن رکھا تھا کہ ایسا کرنے سے ہم لڑکوں کو مزہ آتا ہے لیکن یہ پہلا تجربہ تھا۔

اس کی موٹی گانڈ کے بار بار لگنے سے میں تھوڑا پیچھے ہٹا تو سیدھا دیوار کے ساتھ لگ چکا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ پھر ویسا ہی کیاکچھ دیر بعد میرے کھڑے ہوئے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس نے ایک دو بار مٹھ لگائی پھر شاید وہ جھک کر اپنی پھدی پر سیٹ کرنے لگی۔

جب میرا لنڈ اس کی پھدی پر سیٹ ہوگیا تب اس نے اپنی گانڈ کو باہر نکال کر پیچھے کی طرف دھکیلا تو میرے لنڈ کی ٹوپی اس کے اندر گئی ہی تھی کہ باہر ہلکا سا کھٹکا ہمیں محسوس ہوا۔ میں چونکہ دیوار کےساتھ لگا کھڑا تھا اس لیے ہل نہیں سکتا تھا لیکن سامنے والی جو بھی لڑکی یا عورت تھی اس نے خود کو آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف دبانا شروع کردیا۔

جس سے میرا لنڈ کی پھدی میں مکمل چلا گیا۔ ایک مرتبہ پھر سے ہمیں کھٹکا محسوس ہوا لیکن ہم دونوں کچھ بھی نہ بولے۔ اب ہمیں اندھیرے میں دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہورہی تھی اس لیے میں نے اس سامنے سے آتے بندے کو دیکھا جو ٹھیک ہمارے سامنے کھڑا تھا لیکن اس کا چہرہ دوسری جانب تھا۔

کچھ دیر وہ کھڑا رہا پھر خاموشی سے واپس چلا گیا۔ شاید جو مجھ سے پھدی میروانے آئی تھی اسے احساس ہوچکا تھا کہ وہ جس سے چدوانے آئی تھی وہ باہر جا چکا ہے اور جس سے پھدی مروا رہی ہے وہ کوئی اور ہے۔

کچھ لمحوں کے بعد اس نے آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو ہلانا شروع کردیا۔ میں نے پہلی

مرتبہ اس کی بنڈ پر ہاتھ رکھ کر زور سے مسلنے لگاجس پر وہ بولی: آرام سے کرو

میں نے اس کی بات مان کر نرمی سے اسکی بنڈ کو مسلنے لگا۔ کچھ سیکنڈز کے بعد اس نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا میں تھوڑا سا اس پر جھک چکا تھا۔ اس نے میرے ہاتھ کو پکڑے پکڑے اپنی قمیض کی اندر ہاتھ ڈال کر سیدھا بوبز پر رکھ کر آہستہ سے بولی: ان کو دباو

میں نے اس کی بات مانتے ہوئے اس کے بوبز دبانے لگا۔ بوبز دباتے دباتے میں پہلی بار بولا: تم کون ہو؟

وہ: پھدی مار کر پوچھ رہے ہو کہ میں کون ہوں؟

میں اپنے کام میں لگاہوا تھا اس لیے میں نے جواب نہیں دیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں اس کام میں خود کو بزی رکھنا چاہتا تھا۔ ہر روز کبھی ایک دوست کبھی دوسرا تو کبھی کزنز اپنی سٹوریز سنا سنا کر مجھے پکاتے رہتے تھے ۔

وہ: تم یہاں کیا کررہے تھے؟

میں: ہم کھیل رہے تھے تو میں یہاں چھپ گیا۔

وہ: اب ہم کھیل رہے ہیں کسی کو نظر بھی نہیں آسکتے ہیں نا۔

میں: تم نے اپنا نام نہیں بتایا۔ اگر تم میری کزنز میں سے ہوتو آج رات کو تم پھر سے اسی کمرے میں آنا اور ٹھیک اسی جگہ کھڑی ہوجانا مجھے یقین ہے تم میری کزنز نہیں ہو۔

وہ: میں سلمیٰ ہوں۔

میں (حیرت میں مبتلا ہوکر): میں نہیں مانتا

سلمیٰ (اپنی گانڈ زور زور سے پیچھے مارتے ہوئے): اگر آج میں تمہارے گھر میں، تمہارے ہی کمرے میں سونے کے لیے آجاوں تو؟؟؟

میں نے اس کا مما تھوڑا سا زور سے دباتے ہوئے بولا: پھر جو تم کہو گی وہ بات مانوں گا۔

سلمیٰ: ابھی بس کرو اپنا پانی نکال بھی دو۔ کسی کو شک ہوگیا نہ کہ ہم دونوں یہاں ہیں تو قیامت آجانی ہے

میں: میرا ابھی پانی نہیں نکل سکتا۔

سلمیٰ: اچھا۔ پھر ابھی یہ کام نہیں کرتے رات کو کریں گے جب سب سو جائیں گے تب۔ ٹھیک ہے نا۔

میں نے اس کی بات مان لی اور وہ باہر نکل گئی۔ میں کچھ دیر کھڑا رہا پھر خاموشی پینٹ اوپر کی اوراپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد تقریبا ایک گھنٹے کے بعد باجی کمرے میں آئیں اور بولی: کیا ہوا؟

میں: کچھ بھی نہیں۔ وہاں دل نہیں کر رہا تھا اس لیے یہاں آکر لیٹ گیا ہوں

باجی میرے سر کو دباتے ہوئے بولی: آج میں تمہارے ساتھ سو جاتی ہوں۔

میں سلمیٰ کی بات کو یاد کرتے ہی فورا انکار کردیا: نہیں باجی آپ باجی طاہرہ کے ساتھ سو جاو۔

باجی نے کھانے کا پوچھا پھر اٹھ کر چلی گئی۔ میں نے آنکھیں بند کرکے سونے کی ایکٹنگ کی تب ایمان اور باجی طاہرہ کمرے میں داخل ہوئی ان کے ہاتھ میں کھانا تھا۔

باجی نے کھانا سائڈ پر رکھ کر باہر چلی گئی تب ایمان بچوں جیسی حرکت کرتے ہوئے میرے سینے پر بیٹھ گئی اور بولی: عثمان بچو۔۔۔ باہر تایا ابو نے سب کو پسٹل بھی لے کر دیئے ہیں تم سوتے رہو۔

میں: بلی۔۔۔ اوپر سے اٹھ اور میرا پسٹل مجھے لا کر دے

ایمان: اگر نہ لا کر دوں تو

میں: پھر میں کھانا بھی نہیں کھاوں گا

ایمان: پھر ٹھیک ہے تم بھی نہ کھاو میں بھی نہیں کھاوں گی تب امی تمہیں پھینٹی لگائیں گی

میں: میں ابو کے پیچھے چھپ جاوں گا نا۔۔۔

ایمان میرے اوپر لیٹتے ہوئے بولی: اگر میں لا کردے دوں تب تم میری بات مان لو گے؟

میں نے دل میں سوچا کہ اس نے یہی کہنا ہے کہ تم مجھے کھانا کھلاو تو میں نے پہلے ہاں کی پھر فورا بولا: اب تم جلدی سےلے کر آو پھر ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں

ایمان اٹھ کر دروازے تک جاتے ہوئے ایک دم رکی پھر بولی: میں تو کھانا کھا آئی

میں ایمان کی بات سن کر اس کے پیچھے بھاگا لیکن میری بلی کو پہلے سے علم تھا اس لیے وہ اپنی بات کہہ کر باہر کو بھاگ گئی۔ میری ٹکر چاچی سے ہوئی وہ کسی کام کی وجہ سے میرے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں جا رہی تھی۔

چاچی ایک مرتبہ پھر سے اپنا سارا غصہ مجھ پر نکال کر شانت ہوئی تو میں خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا تب انہوں نے پھر سے روکا۔

چاچی: میرے ساتھ چلو، بستر لگانے ہیں

میں: اچھا چاچی

چاچی: مجھے چاچی مت کہا کرو

میں: سوری

کچھ دیر تک ہم دونوں میرے گھر میں ہر جگہ جہاں جہاں بستر لگ سکتے لگا دیے تب تک ایمان بھی واپس آچکی تھی ہم دونوں نے بہن بھائیوں کی طرح کھانا کھایا اور ایک دوسرے کو بھی کھانا کھلایا، اگر کسی وجہ سے ہم میں سے کسی کو کھانا کھانا پڑ جائے تو دوسرا کھانا نہیں کھایا کرتا تھا اس لیے اب ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا ہم ایک دوسرے کا انتظار کر لیا کریں گے۔

رات کا کھانا کھا کر مجھے ہلکی ہلکی غنودگی ہونے لگی اس لیے میں اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ کچھ دیر تک ایمان مجھے تنگ کرتی رہی پھر وہ بھی اٹھ کر چلی گئی۔ کافی دیر تک سلمیٰ کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہ آئی پھر میں بھی سو گیا۔ کچھ وقت گزرا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے اوپر بیٹھا ہوا۔

میں نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ سلمیٰ تھی۔ کمرے میں زیرو واٹ کا بلب جل رہا تھا جو ٹھیک میرے بستر کے اوپر لگا ہوا تھا۔ سلمیٰ میری حرکت کرنے پر بولی: اتنی جلدی سو جاتے ہو تم؟

میں: ہاں۔ اتنی دیر انتظار کیا تم نہیں آئی

سلمیٰ: ابھی بارہ بجے ہیں

میں: تبھی تو، میں تو زیادہ سے زیادہ دس بجے تک جاگ سکتا ہوں کیونکہ مجھے صبح جلدی جاگنا ہوتا ہے

سلمیٰ: بڑی مشکل سے اپنی امی کو پھر چاچی کو منا کر یہاں سونے کے لیے صرف تمہارے لیے آئی ہوں اورتم ہو کہ صبح جلدی جاگنے کا بہانہ بنا رہے ہو۔

میں نے تھوڑی سمائل دی تو سلمیٰ بھی مسکرا دی۔ میں نے دروازے کی جانب دیکھا تو سلمیٰ بولی : میں نے لاک کر دیا ہے تاکہ کوئی اندر نہ آسکے

میں: میری ٹانگوں سے اٹھو مجھے درد ہورہا ہے

سلمیٰ میرے ساتھ لیٹتے ہوئے بولی: اب کیا ارادہ ہے؟

میں: مجھے کیا معلوم ؟ میں نے زندگی میں یہ گندے کام کبھی بھی نہیں کیے، تم ہی بتاو۔

سلمیٰ: تم چاہتے ہو کہ میں خود ہی تم پر چڑھ کر سواری کروں؟ واہ رے ربا یہ دن بھی دیکھنے تھے

میں: اور نہیں تو کیا؟

سلمیٰ: اچھا، یہ بتاؤ کہ تمہارا کبھی احتلام بھی ہوا کہ نہیں؟

میں: نہیں نا۔ ہوا ہوتا تو۔۔۔

سلمیٰ: اچھا اچھا۔۔۔ تبھی میں بھی کہوں کہ تم فارغ کیوں نہیں ہوئے

میں: ویسے تم اس کمرے میں کس کے لیے آئی تھی؟

سلمیٰ: پہلے تو ایک خاص بندے کے لیے آئی تھی لیکن پھر تم مل گئے تو سوچا کہ تم تو یہی کے ہو تو کیوں نہ تم پر اپنا ہاتھ صاف کرلوں۔

میں: یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے

سلمیٰ: اب تو تمہارے لیے آئی ہوں نا۔ اس بندے کو چھوڑو۔ میں تمہیں ہر چیز سیکھا دوں گی جو تمہارے آگے جا کر ایمان کے ساتھ کام آئے گی

میں ایمان کانام سن کر تھوڑا سا بدک گیا کیونکہ میں نے ایمان کو صرف اور صرف بہن مانا تھا۔

سلمیٰ: کیا ہوا؟ چلو ایمان نہ سہی کوئی اور سہی۔۔۔

میں: اچھا، چلو شروع ہوجاو سیکھاتی جاو

سلمیٰ: اپنی کپڑے اتار دو بلکہ اپنی صرف شلوار اتار دو۔

میں نے شلوار کو اتار کر سائڈ پر رکھ دی اور سلمیٰ کی طرف دیکھنے لگا۔ سلمیٰ نےبھی اپنی شلوار پھر قمیض اتارکر سائڈ پر رکھ دی اور بولی: جتنا بولوں بس اتنا کرتے رہنا۔

میں: ٹھیک ہے بولو۔

سلمیٰ نے اس رات جو کچھ کیا میں ویسا ویسا ہی کرتا رہا مطلب ایک مکمل سیکس کرنے کا طریقہ اس نے زیادہ سے زیادہ ۲ گھنٹوں میں سیکھا دیا اسی بہانے سے اس نے خود کو کم از کم تین مرتبہ فارغ کروایا، میں نے بس ایک کام کرنے سے انکار کیا، وہ تھا اس کی پھدی کو سک کرنا۔

اس رات میں نے صحیح معنوں میں کسی لڑکی کے بوبز کو چوسا، چاٹا، رب کیا، برا کو کھولنا بند کرنا، پینٹی کو کھولنا اور بند کرنا، پھدی کے لپس اور پھدی میں فرق، اور گانڈ کے سوراخ کو غور سے دیکھا۔

اس رات سلمیٰ نے ۲ منٹ میرا لنڈ سک کیا مطلب بلو جاب دی، اگر اس وقت مجھے احتلام آیا ہوتا تو میں اس کے اس بلو جاب سے ناجانے کب کا فارغ ہو چکا ہوتا۔

جب بھی سلمیٰ فارغ ہورہی ہوتی تب وہ ایمان کو میرے ساتھ جوڑ دیتی جس سے میری ساری توجہ ہٹ جاتی۔ آخری مرتبہ سلمیٰ کے فارغ ہونے سے پہلے سلمیٰ نے مجھ سے وعدہ لیا کہ ہم جب بھی ملا کریں گے تب ہم یہ کام لازمی کیا کریں گے۔ میں بھی لذت میں ڈوبے ہوئے ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔ میں نے سلمیٰ کے آخری مرتبہ فارغ ہوتے ہی اپنی شلوار پہنی اور کروٹ لے کر سو گیا۔ اگلے دن بارات تھی ہم سب انجوائے کیا رات کو سلمیٰ ایک مرتبہ پھر میرے پاس سونے کے لیے آئی لیکن چاچی نے اسے یہاں سونے نہ دیا۔ میرے کمرے میں آج کوئی بھی نہ سویا۔

رات کو مجھے سوتے ایک لذت بھرا خواب آیا جس میں، میں سلمیٰ کی چودائی کررہا تھا اور وہ مجھے رکنے کی بجائے مزید تیز تیز کرنے کا بار بار بول رہی تھی اچانک میرے لنڈ سے منی کی دھار نکلی جو سیدھی سلمیٰ کی پھدی کے اندر چلی گئی، میں ہانپتے ہوئے بیٹھ گیا میری نظر سلمیٰ کی پھدی پر تھی جہاں سے میری منی پانی کی طرح نیچے گررہی تھی۔ تبھی سلمیٰ میری طرف گھوم کر میرے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر زورزور سے چوسنے لگی جس سے مجھے اور بھی زیادہ مزہ آنے لگا، میں ایک مرتبہ پھر سے فارغ ہونے لگا۔

میں جب شانت ہوگیا تب میں نے سلمیٰ کا چہرہ پکڑ کر اوپر کیا تو وہ ایمان تھی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

میری آنکھ ٹھیک بارہ بجے کھلی تھی میرا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں بار بار اپنے خواب میں موجود اس سین کو یاد کرکر کے کانپ رہا تھا۔ بےشک ایمان میری کزن تھی لیکن میں نے اسے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔

میں مسلسل گہرے سانس لیے جارہا تھا۔ میں سلمیٰ کے بار بار ایمان کے متعلق گندی باتیں کرتے ہوئے فارغ ہوجانا پھر اس آخری منظر کا بار بار میرے دماغ میں آجانے سے میں بہت پریشان ہو چکا تھا۔ میں اس بات کو سمجھ نہیں رہا تھا۔ کمبخت دل بری طرح دھڑک رہا تھا جیسے میں نے بہت بڑا گناہ کردیا ہو۔

جیسے تیسے کرکے رات گزری صبح میں جلدی سے نہایا کیونکہ میری انر سے کافی بو آرہی تھی اور میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو یہ بو آئے۔

اکثر ایمان مجھے نہالنے کے لیے ’’بو آرہی ہے‘‘ کہا کرتی تھی اس لیے اس کے ہمارے گھر آکر ایسا کہنے سے پہلے میں نہانا چاہتا تھا۔

کچھ دن تک میں ایمان سے دور ہی رہا لیکن جتنا دور ہونے کی کوشش کرتا اتنا وہ قریب آتی۔ سلمیٰ مجھے ولیمے والے دن بھی دور دور دکھی، شاید چاچی جی کا حکم تھا یا اس کے امیر سسرالیوں کی صحبت کا اثر تھا۔

نئی چاچی پہلے پہل تو کافی خاموش خاموش رہیں، لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد چاچی نازی (نازیہ) نے آہستہ آہستہ اپنا رنگ ڈھنگ دیکھانا شروع کردیا تھا۔ چاچی نازی نے چاچے کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا جبکہ دادی اماں کو صبح اور دن کے کھانے کا کام دیا ہوا تھا۔ دادی اماں کی حالت دیکھ، باجی فرزانہ کو ابو اور امی نے کہہ رکھا تھا کہ وہ فارغ وقت میں ان کی مدد کردیا کرے۔

میری روزانہ کی روٹین تھی، صبح جلدی جاگنا، سکول جانا، ہاف ٹفن ایمان کا کھانا اور آدھا اپنا اسے کھلانا، دن کو گھر آنا، دن کا کھانا کھا کر کچھ دیر سو جانا، پھر ۔۔۔۔ چلے جانا، شام کو باجی کے ساتھ کھیلنا، اور رات کو آرام سے پڑھنا، اس دوران کبھی کبھی ایمان کی والدہ مطلب چاچی جی سے نوک جھوک ہوجانا، کبھی باجی کا مجھے دکان پر جانے کے لیے ۵ روپے دینا، دو روپے کی نلکی لانا اور ساتھ میں بارہ ٹافیاں لے آنا، پھر سب نے مل کر ٹافیاں کھانی، کبھی اسی بہانے سے چاچی جی مجھے کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں کہیں بھیج دیتی۔

ہاں اس سب میں چاچی نے ایمان کو مجھ سے الگ ہی رکھا، شاید وہ ہمارے بھلے کے لیے ایسا کررہی تھی، چاہے جو بھی کچھ ہو، وہ اپنی جگہ ٹھیک سوچ رہی تھی

چاچے کی شادی کے ٹھیک دو ماہ بعد ایک بڑا جھگڑا ہوا جس پر لگام امی اور دادی اماں نے لگائی لیکن تھوڑی سی دیر ہوچکی تھی۔ چاچی نازی نے چاچی ربیعہ کو کافی باتیں سنا دی تھی جس کی وجہ سے اگلے ہی دن سے چاچو نے دادی کے گھر کے دائیں جانب اپنے گھر کی بنیاد رکھ دی۔

میں اس دن چاچو کے لائے پتھروں کے اوپر بیٹھا سوچ رہا تھا’’کیا چاچو نے ہم سے نصحیت نہیں پکڑی، جو یہاں مکان بنانے والے ہیں‘‘ کیونکہ بائیں جانب ہمارا گھر تھا اور دائیں جانب اب چاچو بنوانے والے تھے۔

چاچو اور چاچی نے جیسے تیسے کرکے اپنے مکان کو ٹھیک تین ماہ میں مکمل کرلیا تھا بس کچھ چیزیں باقی تھی مثال کے طور پر بجلی، کچھ کھڑکیاں، فرش، پلستر، اور رنگ و روغن۔

چاچو نے چاچی کے گھر والوں سے بھی مدد لی، اور کچھ اپنے دوستوں سے، شاید اپنی نوکری کے ذریعے کوئی ادھار بھی لیا تھا۔

ان سب واقعات میں ایک واقعہ ایک اور پیش آیا۔ جو خصوصاً میری زندگی کو بدل چکا تھا۔ چاچو اور چاچی کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کی وجہ سے دونوں فیملیز میں خاموشی چھائی ہوئی تھی چھوٹے چاچو پہلے پہل اتوار کو ڈیوٹی پر جاتے تھے (بینک میں) اور جمعے والے دن رات کو واپس آتے تھے لیکن لڑائی کی وجہ سے وہ روزانہ صبح ۵ بجے گھر سے نکلتے اور رات کو واپس آجاتے تھے۔

آہستہ آہستہ سب نارمل ہونے لگا، بس فرق یہ تھا کہ پہلے ایمان کی فیملی دن کو گھر پر ہی ہوا کرتی تھی لیکن اس جھگڑے کی وجہ سے سارا دن ایمان اور چاچی اپنے بھائیوں کے پاس رکی رہتی تھیں، جب چاچو گھر آتے تھے تب چاچی اور ایمان (اور اس کے بھائی) واپس آتے تھے اکثر کبھی کبھی وہ وہیں رہ جایا کرتے تھے

ایک دن میں سکول سے واپس آیا کھانا وغیرہ کھایا کیونکہ ایمان موجود نہیں تھی اس لیے اب آہستہ آہستہ اکیلے کھانا کھانے کی عادت ہوچلی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد امی نے مجھے کہا کہ جاو دیکھ کر آو کہ دادی واپس آئیں کہ نہیں؟

میں اپنی دھن میں مگن چلتا ہوا دادی اماں کے گھر میں داخل ہوگیا، دادی اماں گھر میں موجود نہیں تھی لیکن عادت کے مطابق گھر کا مین دروازہ کھلا ہوا تھا اس لیے سوچا کہ شاید دادی اندر ہیں اس لیے اندر کی طرف چل پڑا۔

مین ھال سے گزرتے ہوئے کیچن، ایمان والا کمرہ(جو کبھی ہمارا ہوا کرتا تھا)، پھر درمیانے چاچو والا کمرہ پھر آخر میں چاچی نازی والا کمرہ چیک کیا۔ مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ جیسے ہی میں باہر کی جانب رخ کیا تو ہلکا سا کھٹکا محسوس ہوا۔

میں آج بھی کھٹکا محسوس کروں تو میرے دماغ میں سلمیٰ والا منظر یاد آجاتا ہے۔ میں نے فوراً اپنا رخ چاچی نازی کے کمرے کی طرف کرلیا کیونکہ مجھے کھٹکا اسی جانب سے محسوس ہوا تھا۔

میں چلتا ہوا اس کمرے میں داخل ہوا، میں نے لاپرواہی میں اس کمرے کا باتھ روم کو چیک نہیں کیا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا رخ کمرے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی باتھ روم کی طرف کرلیا۔

باتھ روم کے دروازے پر پہنچ کر میں نے اپنے قدم روکے اور دروازے کے اندر دیکھنے کی کوشش کی، باتھ روم کا دروازہ مکمل طور پر بند تھا لیکن لکڑی کا دروازہ تھا اس لیے اس میں چھوٹے چھوٹے سے کریکس موجود تھے، جن دوستوں کے گھر لکڑی کے دروازے ہیں وہ ان کریکس کو جانتے ہی ہوں گے۔ میں نے ان کریکس میں سے اندر دیکھنے کی کوشش کی تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی اندر ننگا کھڑا ہے۔

ان شارٹ میں اپنے لنڈ کے مجبور کرنے پر سوچنے لگا کہ میں اندر والی کو کیسے مکمل ننگا دیکھ سکتا ہوں، پھر آہستہ آہستہ دماغ نے کام کرنا شروع کردیا تو مجھے یاد آنے لگا کہ اس باتھ روم کا دوسرا دروازہ درمیانے چاچو کے کمرے میں بھی کھلتا ہے۔ میں نے اپنے قدم اسی دروازے کی جانب بڑھا دیئے مجھے اس وقت یہی امید تھی کہ شاید مجھے کوئی چانس مل جائے گا۔

میں گھوم کر دوسرے کمرے کے دروازے سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے دروازے پر رکھ کر غور سے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایسا کرنے سے یہ ہوا کہ جو منظر مجھے تھوڑا تھوڑا نظر آرہا تھا وہ مزید کلئیر ہوگیا۔

میرے قدم وہیں کے وہیں جم چکے تھے کیونکہ میرے سامنے چاچی نازی بالکل ننگی کھڑی اپنے بوبز کے براون رنگ کے نپلز کو پکڑ کر مسل رہی تھی ۔ کبھی وہ اپنی نپلز کو مسلتی، کبھی مروڑتی، کبھی ہاتھ کی مدد سے اپنے بوبز کو دباتی پھر کبھی کبھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بوبز کو دباتے ہوئے اپنے ہاتھ نیچے تک لے جاتی جب ان کا ہاتھ نیچے جاتے تب وہ سسکتی،

سسکنے کا علم مجھے اس رات ہو گیا تھا جب سلمیٰ نے مجھے سب کچھ دو گھنٹوں میں سیکھایا تھا۔ اس لیے سسکنے کا مجھے معلوم تھا۔ میں نے تھوڑا سا غور سے نازی کی باتیں سننے کی کوشش کی تو چند الفاظ میرے کانوں تک پہنچے۔

’’ مادر چود، رات کو اندر ڈال کر، بس پھس ہوجاتا ہے، شادی سے پہلے معلوم ہوتا تو عدنان سے شادی کرلیتی۔ کاش اب کوئی آجائے‘‘

چاچی نازی جب اپنے ہاتھ اپنے جسم کے نیچے والے حصے پر لے جاتی تب ان کے منہ سے ایسی باتیں نکلتی جن کو سن کر میرا برا حال تھا۔ شاید چاچی نازی نے ایک طرف کا دروازہ بند کر رکھا تھا جبکہ دوسری طرف (چاچی ربیعہ) والا دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی یا پھر اس وجہ سے بند نہیں کیا تھا کہ دن کو وہ گھر ہوتے نہیں اس لیے دروازہ لاک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

میں اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اندر دیکھ تو رہا تھا لیکن میرا سارا وزن دروازے پر ہی تھا اس لیے جیسے ہی میں ان کی بار بار خواہش ظاہر کرنے پر خود کو کنٹرول نہ کرسکا تو سیدھا دروازہ کھولتے اندر جا گرا۔

چاچی نازی کا ایک ہاتھ اپنی نپلز پر تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کی انگلی ان کی پھدی میں تھا۔ وہ حیرت کا مجسمہ بنے مجھے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔ میں انہیں۔

میچور ہونے کا اپنا ہی فائدہ ہے، چاچی نازی مجھے یوں خود کو دیکھنے پر ان کو شرم آئی یا پھر میری نظروں آر پار ہوتا دیکھ کر کچھ نیا سوچتے ہوئے فورا میرے سامنے ہٹی اور سامنے ٹنگے تولیے کو پکڑ کر اپنے سانولے جسم کو چھپانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔

نازی کو یوں اپنے جسم کو چھپاتا دیکھ میں شرمندہ ہونے لگا اور گیلے فرش سے اٹھ کر بولا: چاچی جی مجھے معاف کردیں میں نے بغیر سوچے سمجھے دروازے کو کھول دیا۔ اگر معلوم ہوتا کہ آپ اندر ہیں تو دروازہ ناک کرکے آتا۔

(مجھے اس رات سلمیٰ نے اے ٹو زیڈ سب لڑکیوں کی کمزوریاں بتادی تھی) اب میں وہی سب کرنے والا تھا کیونکہ سلمیٰ نے کہا تھا کہ لڑکی کے سامنے تم جتنا معصوم بنے رہو گے اتنے مزے میں رہو گے۔

میری بات سن کر چاچی نازی نے بغور مجھے دیکھا اور بلآخر بولی: تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی جب بھی کسی کمرے میں جاو تو یا تو ناک کیا کرتے ہیں یا آواز دے کر اندر داخل ہوتے ہیں، اگر یہاں چاچی ربیعہ ہوتی تو وہ تمہیں اس وقت مار مار کر گھر سے نکال دیتی، یہ تو میں ہوں جو تمہیں کچھ کہہ نہیں رہی۔

چاچی سلمیٰ اور میرے دماغ سے بھی زیادہ تیز ثابت ہوئی تھی۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس لیے ایک مرتبہ پھر سے معافی مانگی اور کہا: آپ یہ بات میری امی کو نہ بتانا بے شک آپ مجھے مار لیں۔

چاچی نازی کچھ دیر خاموش کھڑی رہیں پھر بولی: اچھا چھوڑو، اب اندر آہی گئے ہو تو میری کمر پر صابن لگا دو۔ کافی دیر سے کوشش کررہی ہوں لیکن ہاتھ نہیں پہنچ رہا۔

چاچی نے اس دفعہ مجھے بلکل آؤٹ کلاس کردیا تھا۔ میں کچھ اور ہی سوچ رہا تھا لیکن چاچی نازی نے میری سوچ کو یکسر کلین بولڈ کردیا تھا۔

میں ہکلاتے ہوئے بس جی جی چاچی جی بول کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ صابن پکڑ سکوں تب چاچی بولی: پہلے باہر جا کر باہر والا دروازہ بند کرکے اندر آؤ

میں نے ایک مرتبہ پھر جی چاچی کہہ کر باہر کا راستہ ناپا، کچھ دیر بعد جب میں دوبارہ باتھ روم میں گھسا تو دونوں دروازے کھلے ہوئے تھے اور چاچی بینڈے کو درمیان میں رکھ اس پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کی کمر میری طرف تھی جبکہ ان کا منہ دوسری طرف تھا۔

میں نے جھک کر چاچی نازی کے ٹانگ کے قریب پڑے صابن کو اٹھایا اور پانی سے گیلا کر کے جھاگ بنانے لگا پھر ہمت کرکے اپنے ہاتھ چاچی کی کمر پر رکھ دیئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ چاچی کے جسم کو میرے ہاتھ لگنے سے ہلکا سا جھٹکا لگا ہے۔ لیکن میں کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعات کی وجہ سے اپنی تھیوری کو اپنے دماغ سے باہر نکال پھینکا اور خاموشی سے چاچی کی کمر پر صابن لگانے لگا۔

چاچی: سارا صابن اوپر ہی ختم کرنے کا ارادہ ہے؟ نیچے تیرے چاچا آکر لگائیں گے؟

میں اس مرتبہ پھر جی چاچی کہہ کر فوراً نہیں چاچی جی بول پڑا۔ چاچی شاید میری اس بوکھلاہٹ پر ہنس پڑی تھیں، میں کشمکش میں مبتلا ہوکر اپنے ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کی طرف موو کرنے لگا۔

جیسے جیسے میرے ہاتھ نیچے جا رہے تھے ویسے ویسے میرا لنڈ کھڑا ہورہا تھا، میں اپنے تمبو بنائے لنڈ کو بھی بار بار دیکھ رہا تھا اور چاچی کی کمر کو بھی، میں سوچ رہا تھا کہ اگر چاچی نے گھوم کر میری طرف دیکھ لیا تو میں کہیں کا نہیں رہوں گا۔ کیونکہ چاچی ربیعہ سے زیادہ چاچی نازی کے واقعات سرگرم تھے۔

میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ چاچی نے اپنا چہرہ میری طرف کرتے ہوئے بولی: اب یہاں (بوبز) پر بھی صابن لگا دو۔

میں نے ایک نظر ان کے بوبز پر ڈالی جو بھینس کی طرح لٹک رہے تھے، سلمیٰ کے مطابق لڑکوں کو سخت (تنے) ہوئے بوبز زیادہ پسند ہوتے ہیں، اگر کوئی کم عمر لڑکا یا بوائے فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کے بوبز پر زیادہ توجہ دے تو اس کے بوبز مزید سخت ہوسکتے ہیں۔

میں ایک مرتبہ پھر معصوم بنتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر صابن کی جھاگ بنائی اور اپنے ہاتھوں کو چاچی نازی کے بوبز پر رکھ کر جھاگ کو اوپر نیچے کرنے لگا۔ جس پر چاچی بولی: تم نے کبھی یہاں صابن نہیں لگایا؟

میں: نہیں چاچی

چاچی مسکراتے ہوئے: آج طریقہ بتا رہی ہو، دوبارہ نہیں بتاؤں گی۔

چاچی نے میرے ایک ہاتھ کو پکڑ کر اپنے ایک ممے پر رکھ آہستہ آہستہ پھیرنے لگی پھر کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد یہی عمل دوسرے ممے پر بھی دوسرے ہاتھ کی مدد سے کیا، پھر باری باری دونوں ہاتھوں کو اپنے بوبز پر دبانے لگی، کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد چاچی بولی: اب ایسا کرتے رہنا جب تک میں رکنے کا نہ بولوں تو۔

میری حالت پتلی ہوئی تھی لیکن سلمیٰ کی بات مان کر میں معصوم بنا رہا، شاید اسی معصومیت کی وجہ سے آج اچانک سے میرے سامنے چاچی نازی ننگی بیٹھی اپنے بوبز دبوا رہی تھیں۔

تین سے چار منٹ تک میں ایسا ہی کرتا رہا، جو مجھ پر گزررہی تھی وہ صرف اور صرف میں ہی جانتا تھا کوئی دوسرا نہیں،

چاچی میرے ہاتھوں کا لمس محسوس کرکے شاید فارغ ہورہی تھی کیونکہ ان کا جسم تھرتھرا رہا تھا، جیسے ہی چاچی فارغ ہوگئی تب انہوں نے مجھے رکنا کا کہا اور خود پاس پڑی بالٹی سے اپنے اوپر پانی ڈالنے لگیں۔

پانی ڈالنے سے ان کی کمر اور بوبز سے سارا صابن اتر چکا تھا۔ تب چاچی بولی: اب تم گھر جاو۔

میں جی چاچی کہہ کر اپنے گھر ڈگمگاتے قدموں سے پہنچا، باہر صحن میں کوئی بھی نہیں تھا، اس لیے کسی کو میری حالت کا اندازہ نہ ہوسکا۔ میں سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا اور لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد مجھے نیند کی رانی نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ ایک مرتبہ پھر میں نے شہوت بھرا خواب دیکھا لیکن فرق بس اتنا تھا کہ پہلے سلمیٰ میرے خواب میں تھی اور آج سلمیٰ کی جگہ چاچی نازی تھیں۔

جب میری آنکھ کھلی تو شام کا وقت ہوچلا تھا، میرا سارا جسم پسینے سے لتھرا ہوا تھا۔ میں کچھ دیر تک خود کو ریلیکس کرتا رہا پھر اٹھنے لگا مجھے محسوس ہوا کہ میری شلوار پھر سی گندی ہوچکی ہے، میں نے دوسرے کپڑے لیے باتھ روم میں گھس گیا۔ اگلے دن کچھ خاص نہیں ہوا، میں چاچی نازی کے گھر گیا لیکن آج دادی اماں گھر ہی تھیں اس لیے کوئی چانس نہیں ملا لیکن چاچی نے کیچن میں مجھے بلا کر مجھے چائے کا ایک کپ زبردستی پکڑا دیا۔ جسے میں خاموشی سے نا نا کرتے پی گیا۔

شام کو ایمان آگئی اس کا ساتھ پاکر میری شام آسانی سے گزرگئی، میں اب آہستہ آہستہ جوانی کی دہلیز میں قدم رکھ چکا تھا۔ میں چھوٹے چاچو کی طرح کافی لائق تھا۔ اس لیے مجھے سکول والے کبھی بھی سکول میں نہ مارتے اور نہ ہی کوئی سختی سے پوچھتا،

کچھ دن بس اسی طرح چلتا رہا، ایک دن میں سکول سے واپس آیا تو سب ہمارے گھر میں جمع تھے میں نے باجی اور امی کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے وجہ مجھے سمجھ نہیں آئی اس لیے کپڑے تبدیل کرکے میں باجی کے پاس جا بیٹھا اور باجی کے خاموش ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ اس وقت ہمارے پورے گاؤں میں ٹیلی فون نہیں لگا تھا۔ مختصراً چاچو کو کسی نے اطلاع دی تھی کہ ابو کو ہارٹ اٹیک آیا ہے جس پر سب غمگین تھے۔

امی نے چاچو کو بولا کہ آپ ابو کے پاس چلے جاو لیکن چاچو نہ مانے کیونکہ ان کی نوکری سرکاری تھی اور سرکاری چھٹیاں وہ چھوٹے چاچو کی شادی میں پوری کرچکے تھے۔ مختصراً دادی اماں اور باجی فرزانہ نے اپنا رحت سفر باندھا اور ابو کی طرف چل دیئے۔

کچھ دن بس اسی بے چینی میں گزرے پھر تمام معمولات ٹھیک ہوگئے، بعد ازاں معلوم چلا کہ ابو کو ہارٹ اٹیک نہیں آیا ان کو سینے میں ہلکی سی گیس ہوگئی تھی جس کی وجہ وہ بے ہوش ہوگئے تھے جسے قریبی دوست ہارٹ اٹیک سمجھ بیٹھے اور فوراً اطلاع گھر دے دی، بعد میں ڈاکٹرز نے ابو کو کلیئر کردیا۔

’’ اگر آپ کے کسی عزیز کو اچانک ایسا دورہ پڑجائے تو خدارا اسے ہارٹ اٹیک مت سمجھیں، اپنے دماغ کو کنٹرول میں رکھیں، اگر آپ نے گیس والا کھانا مثال کے طور پر چنے پکائیں ہیں تو آپ پہلے کسی ڈاکٹر کو بلائیں یا پھر مریض کو سیدھا لیٹا کر دل سے نیچے ابھری ہوئی جگہ کو ڈھونڈیں اگر سچ میں وہ جگہ ابھری ہو تو آپ فوراً ایک عدد بلیڈ اور ایک عدد چوسنی جس سے بچے دودھ پیتے ہیں ڈھونڈ کر اپنے پاس رکھ لیں اور ابھری ہوئی جگہ پر ہلکا سا ٹک لگائیں اور خون صاف کرکے اس چوسنی (نپل) کو اس ٹک والی جگہ رکھ کر ایک ہاتھ کی مدد سے چوسنی کو پکڑ لیں اور دوسرے ہاتھ سے نپل کو اپ ڈاؤن کرتے رہیں، اس سے مریض کی گیس آسانی سے باہر نکل جائے گی اگر یہ طریقہ کار آمد نہ ہو تو یہ کرنے میں ڈریں تو فوری ڈاکٹر کو بلالیں کیونکہ زیادہ دیر ایسا رہنے ہی مریض مر بھی سکتا ہے‘‘

کچھ دن کے بعد میں کسی وجہ سے دن کے وقت چاچی نازی کے گھر گیا تو چاچی کچن میں کام کررہی تھی اور ساتھ ساتھ بڑبڑا بھی رہی تھی، میں کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولا: چاچی جی کیسی ہیں؟

چاچی: زندہ ہوں مری نہیں ہوں

چاچی کو غصے میں دیکھ کر میں چپ ہوگیا تب چاچی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ بولیں: تمہیں کیا ہوا؟ اپنے منہ پر بارہ کیوں بجا کر کھڑے ہوگئے ہو؟

میں: کچھ نہیں چاچی جی۔۔۔ شاید آپ زیادہ بزی ہیں میں بعد میں آجاتا ہوں۔

چاچی: نہیں نہیں، تم وہاں بیٹھو میں بس برتن دھو رہی تھی اب بس کام ختم ہونے والا ہے

میں پاس پڑے ایک پیڑھے پر بیٹھ گیا۔ تب میں نے چاچی کو مسکا لگانے کا سوچا جیسا کہ سلمیٰ نے بتایا تھا کہ اگر تم کسی بھی لڑکی کی اچھائی ظاہر کرو گے تو وہ تم پر فدا ہوسکتی ہے۔

میں: چاچی جی، آپ تو سارا کام کرتی رہتی ہیں جبکہ چاچی ربیعہ سارا دن اپنے بھائیوں کے پاس گزار کر یہاں رات گزارنے آتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس گھر کو اپنا گھر نہیں مہمان گاہ سمجھ رکھا ہے

میرے بس اتنا کہنے پر چاچی بہت گرم ہوگئی اور چاچی ربیعہ کو ناجانے کیا کیا بولنی لگیں، خیر میں نے چاچی کے غصے کو کم کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا اور چاچی پاس کھڑا ہوکر چاچی کی مدد کرنے لگا۔ جس پر چاچی کا غصہ تھوڑا سا ٹھنڈا ہوگیا۔

ہم دونوں کے درمیان تھوڑا سا وقفہ تھا کوئی زیادہ نہیں، اس لیے چاچی کی ایک ٹانگ بار بار مجھ سے ٹکرا جاتی تھی۔

میرے ہاتھ بھی گیلے ہوچکے تھے تب چاچی بولیں: ابھی گھر نہ جانا، مجھے نہانا بھی ہے تم نے اس دن میری کمر سے ایسے میل اتاری کہ آج جا کر محسوس ہورہا کہ مجھے نہانا ہے۔

میں نے چاچی کی بات سن کر ان کی طرف ایک بار دیکھا تو مجھے اپنی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ پیش کردی۔ تب میں بولا: ٹھیک ہے چاچی، لیکن میں ابھی گھر جا کر پھر آوں گا تب آپ کی پیچھے والی ساری میل اتار دوں گا۔

تب چاچی فوراً بولی: نیچے والی بھی

ہم دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے میں کچھ دیر بعد اپنے گھر چلا گیا شکر ہے میں گھر آگیا کیونکہ تھوڑی دیر بعد باجی طاہرہ کسی کام کی وجہ سے چاچی نازی کے پاس جانے والی تھی۔ کچھ دیر بعد طاہرہ باجی واپس آئی تو مجھے آکر باجی نے کہا: چاچی جی تمہیں بلا رہی ہیں کہہ رہی تھی کہ جب تک چاچی ربیعہ نہیں آجاتی تب تک تم یہیں رہو تب میں نے کہا کہ عثمان کو بھیج دیتی ہوں کیونکہ وہ اس وقت فارغ ہے

میں کھلے عام اجازت حاصل کرکے فوراً وہاں سے چاچی کے گھر کی طرف چل دیا، اس دن کی طرح میں نے باہر والا دروازہ بند کرکے اندر والا دروازہ جو کہ مین دروازہ بھی تھا اسے بھی بند کردیا۔

تبھی چاچی اپنے کمرے سے آواز دے کر بولیں: جلدی آجاؤ مجھے کھانا بھی بنانا ہے۔

میں خوشی خوشی باتھ روم میں گھسا تو سامنے چاچی نازی کپڑوں میں کھڑی تھی تب میں نے ان سے کہا: آپ نے ابھی تک کپڑے بھی نہیں اتارے۔

چاچی میری بات سن کر مسکرا دی اور بولی: بڑی جلدی ہے، اپنی چاچی کی میل اتارنے کی،

میں چاچی کی طرح مسکرادیا۔ تب چاچی نے مجھے سائڈ پر کرتے ہوئے میرے سامنے سے گزرتے ہوئے جان بوجھ کر یا شاید اتفاقیہ طور پر اپنا ہاتھ میری ران سے ٹچ کرتے ہوئے میرے نیم کھڑے لنڈ پر ٹچ کرتے ہوئے گزرگئی

میں بس ان کو دیکھتا رہا

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

میں بس ان کو دیکھتا رہا۔ چاچی اپنی کپڑوں والی الماری سے پہلے سبز رنگ کے کپڑے نکالے پھر تھوڑا جھک کر، جیسے مجھے یہ دیکھانا چاہتی ہوں کہ وہ کچھ ڈھونڈ رہی ہیں، میں ان کی بھری ہوئی گانڈ جو زیادہ نہ سہی لیکن قابل قبول تھی دیکھتا رہا، پھر وہ سیدھی ہوئی تو ان کے ہاتھ میں سکن کلر کی ایک برا تھی جو مخملی کپڑے کی بنی ہوئی تھی۔ میرے پاس سے دوبارہ گزرتے ہوئے انہوں نے اپنی برا کی پٹیوں کی مدد سے میرے کھڑے ہوئے لنڈ کو جھکڑ لیا۔ جس سے میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا۔

باتھ روم کے دونوں دروازے بند کرنے کی ہمیں ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ بیرونی دونوں دروازے بند تھے اس لیے کسی کے آجانے کا زیادہ ڈر نہیں تھا،

چاچی جیسے ہی رکی، میں ان کی گانڈ سے جا ٹکڑایا، میرا آدھے سے زیادہ لنڈ ان کی اس وقت موٹی گانڈ میں گھس چکا تھا، میرے لنڈ پر ان کی گانڈ کی نرمی، اور ان کی گانڈ سے نکلنی والی گرمی دونوں سے برا حال ہوچکا تھا۔ چاچی نے آہستہ سے اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دبایا جسے میں نے محسوس نہ کیا، چاچی کے ایسا کرنے سے میرا سارا لنڈ انکی موٹی گانڈ میں اتر چکا تھا جس کا احساس مجھے ہرگز نہیں تھا۔ تب مجھے محسوس ہوا کہ ان کی گانڈ کھل اور پھر بند ہورہی ہے۔

ان کی گانڈ کی موری سے نکلنے والی گرمی سے میرا لنڈ پری کم نکال رہا تھا، جس کا اندازہ مجھے ہورہا تھا، میں بس چاہتا تھا کہ چاچی یہیں کھڑی رہیں اور میرا لنڈ ان کی گانڈ کی لکیر میں رہے۔

چاچی نے آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو میرے لنڈ پر مسلنا شروع کردیا تھا، جیسے ہی ان کی گانڈ میرے لنڈ پر پھسلتی مجھے بے انتہا مزہ آنے لگا، مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ میرے جسم میں موجود خون تیز گردش کرتے ہوئے میرے لنڈ کی جانب جارہا ہے تبھی چاچی نے اپنا رخ میری طرف کرتی ہوئے بولیں: کیا ارادے ہیں؟ آج مجھے کپڑوں کے اوپر سے ہی نہلانا ہے؟

میں فوراً پیچھے ہٹا اور بولا: نہیں نہیں، ایسا میں کیسے کرسکتا ہوں چاچی جی

چاچی جی مسکراتے ہوئے سب سے پہلے اپنی قمیض کو اتار کر نیچے فرش پر رکھ دی، پھر اپنی شلوار کو اتار کر نیچے رکھ دیا، پھر مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنی دوسری سکن کلر کی برا کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی لیکن ایک ہاتھ سے برا کھل نہیں رہی تھی۔ مجھے سلمیٰ نے برا کھولنے کا طریقہ بتا یا تھا لیکن مجھے خود کو اس وقت تک روکنا تھا جب تک چاچی نازی مجھے حاصل نہ ہوجاتی۔

کیونکہ چاچی نازی سے مجھے چند ایک فوائد حاصل ہوسکتے تھے۔ جب برا چاچی سے نہ اتری تو انہوں نے مجھے اپنے قریب بلایا آندھے کو کیا چاہیئے دو آنکھیں؟

میں اس کہاوت کے تحت چلتا ہوا چاچی نازی کے ٹھیک پیچھے گیا اور بولا: جی چاچی جی۔

چاچی: اس ہک کو دوسرے ہک سے باہر نکالو،

میں اناڑی پن کا مظاہرہ کرنے لگا، میں چاہتا تو چاچی کی سلکی سلکی برا کو چند سیکنڈز میں اتار پھینکتا۔ لیکن میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا، جس پر چاچی بولیں

چاچی: ادھر سامنے دیکھو، میں کیسے اس والی برا کو کھولتی ہوں۔

میں چاچی کی بیک (گانڈ) سے جڑتے ہوئے چاچی کے ہاتھ میں موجود برا کو دیکھنے لگا، میرا پہلے سے لنڈ کھڑا تھا جو کسر باقی تھی وہ چاچی کی گانڈ سے ٹچ ہونے پر پوری ہوگئی۔ میں انجان بنا ہوا چاچی کی گردن سے اپنا سر آگے کو نکال کر برا کو دیکھنے لگا۔ میرے گرم لنڈ کو محسوس کرکے چاچی چند سیکنڈز خاموشی سے رکی رہیں پھر خود کو سمبھال کر مجھے برا بند اور کھولنے کا طریقہ سمجھانے لگیں۔ جب طریقہ سمجھا چکی تو میں تھوڑا سا پیچھے ہٹا تو چاچی نے اپنی موٹی گانڈ کو وہی کھڑے کھڑے پیچھے کی جانب دبایا (نکالا)۔

اس سے ان کی پوری گانڈ میرے لنڈ پر چھائی ہوئی تھی یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ، چاچی کے اس عمل سے میرا پورالنڈ چاچی کی گانڈ میں چھپا ہوا تھا۔

میں خود پر کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو چاچی کی برا پر لے آیا اور کانپتے ہاتھوں سے چاچی کی برا کو کھولنے لگا۔ جیسے ہی میں نے برا کے ہکس کھول دیئے تب چاچی نے مجھے برا اتار کر نیچے رکھنے کو کہا میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چاچی کی برا ان کے بوبز سے الگ کرکے نیچے باتھ کے فرش پر پھینک دی۔

چاچی میرے سامنے گانڈ پیچھے کو نکالے ہوئے میرے لنڈ پر دبائے ننگی کھڑی تھیں۔ میں بس چاچی کے اگلے قدم کے انتظار میں تھا۔ چاچی نے اس وقت میری سوچ کے مطابق آہستہ سے ہلنا شروع کردیا۔

میں ایک مرتبہ پھر سیکس کی دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ جہاں بس لذت ہی لذت تھی۔ چاچی کے ہلنے کی وجہ سے میرا لنڈ میری شلوار سمیت چاچی کی موٹی گانڈ میں دھنسا ہوا تھا۔ میں نے ہمت کرکے اپنے ہاتھوں کو چاچی کے ننگے بوبز پر رکھ دیئے۔ چاچی نے ایک مرتبہ پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا پھر سمائل کرتے ہوئے سامنے کی طرف دیکھنی لگیں۔

میں چاچی کی اس سمائل کو اجازت سمجھ کر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کام میں مصروف کردیا۔ میں سلمیٰ کے بوبز کو اس رات کو کافی دبایا تھا مسلا تھا، چوسا تھا، کاٹا تھا، میں وہ سب چاچی کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں سے چاچی کے بوبز کو دباتے ہوئے کبھی ان کی نپلز کو پکڑ لیتا تو کبھی اپنے لنڈ کو ان کی موٹی گانڈ پر دبانے لگتا۔ جس پر وہ سسکاریاں بھرتی رہتی۔

جب ہم دونوں سے برداشت کی قوت ختم ہوگئی تب چاچی مجھ سے الگ ہوئی فوراً نیچے بیٹھ کر میری شلوار کو نیچے کردیا، میں اس وقت بس سیکس کرنا چاہتا تھا اور کچھ نہیں اس لیے میں نے چاچی کو نہیں روکا۔

یہی میری بربادی کا وقت تھا۔ جسے آج میں یاد کرکے کبھی ہنس دیتا ہوں اور کبھی رو بھی دیتا ہوں۔

چاچی کے سامنے میرا لنڈ تنا ہوا ہلکے ہلکے جھٹکے کھا رہا تھا۔ تب پہلی مرتبہ چاچی نے میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس کی ٹوپی کو دیکھا۔ جو اس وقت ہلکی سی سرخ ہورہی تھی۔ میں نے پہلی مرتبہ چاچی کے ہاتھ کے لمس کو محسوس کرکے نیچے کی جانب دیکھا۔ جہاں میرا گورا چٹا سفید گلابی ٹوپی والا لنڈ سانولے ہاتھ میں غصے میں پھنکار رہا تھا۔

تب چاچی نے دو سے تین بار میرے لنڈ کو اوپر نیچے کرکے دیکھا پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سمائل پیش کی اور وہاں سے اٹھ کر مجھے میرے ہی لنڈ سے پکڑ کر اپنے کمرے میں لےآئیں۔

میں اگلا منظر اپنے خوابوں میں دیکھ چکا تھا اس لیے کبھی کبھی اکسائیڈڈ ہوجاتا تو کبھی سوچ میں ڈوب جاتا تھا۔ چاچی اپنے نئے بیڈ تک پہنچ کر مجھے اس طرح میرے لنڈ کو پکڑے ہوئے آرام سے بیڈ کی جانب دھکیلتے ہوئے خود بھی میرے ساتھ اوپر کو آئی۔

کمرے میں جل رہے ۱۰۰ واٹ کا بلب نے ہم دونوں کے چہرے کے تاثرات واضح کردیئے تھے۔ چاچی نے خاموشی سے اپنی ایک ٹانگ میرے داہنی جانب رکھی، جبکہ دوسری بائیں جانب رکھ دی۔ پھر اپنا ہلکا سا وزن میرے لنڈ پر ڈالتے ہوئے بیٹھ گئی۔ میرا لنڈ ابھی بھی پھنکار رہا تھا لیکن اب وہ اس بھینس کے نیچے میرے ہی پیٹ پر لیٹا ہوا تھا۔ تب چاچی نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے میری قمیض کو مزید اوپر کردیا۔

چاچی چند سیکنڈز رکی پھر آہستہ آہستہ اپنی گانڈ کو میرے لنڈ پر گھسانا شروع کردیا۔ اس سے مجھے بھی مزہ آرہا تھا اور شاید ان کو بھی آرہا تھا اس لیے مجھے اپنے لنڈ پر کچھ گیلا گیلا محسوس ہونے لگا تھا۔

کچھ دیر بعد چاچی نے اپنی گانڈ کو روکا پھر میرے منہ پر جھک کر اپنے بوبز کو میرے منہ میں دے دیا۔ میں معصوم بنتے ہوئے خاموشی سے چاچی کے بوبز کو صرف دبانے لگا جس پر چاچی نے فوراً کہا: ان کو منہ میں لے کر چوسو۔

میں نے چاچی کی فوراً بات مانتے ہوئے ان کے بوبز چوسنے لگا۔ کیونکہ اب مجھ سے بھی دیر نہیں کی جارہی تھی اس لیے میں سلمیٰ کے بوبز سوچ کر اسی طرح چوسنے لگا۔ جس پر چاچی کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔

آہستہ آہستہ چاچی نے اپنے جسم کو اوپر نیچے کر خود کو سیٹ کیا اور پھر اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر میرے لنڈ کو پکڑ لیا۔

میں نے اپنا کام اسی رفتار سے جاری رکھا جس پر چاچی نے خوش (یا جوش میں آتے) ہوتے ہوئے میرے لنڈ کو اپنی منزل (پھدی) کا راستہ دکھا دیا۔ میں اپنی بے چینی کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے منہ کو مزید کھولا اور تیز آہ کو باہر نکالا پھر چاچی اپنے جسم کو پہلے پہل آہستہ آہستہ اوپر نیچے کرتی رہیں پھر یہ عمل مزید تیز ہوتا چلا گیا۔

میں بھی خوش ہوکر چاچی کے بوبز کو مسلسل چوسے جا رہا تھا جس پر چاچی بہت پرجوش ہوچکی تھیں۔ کچھ منٹس کےبعد چاچی نے خود کو روکا پھر مجھے بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑے ہونے کا بول کر خود کمر کے بل لیٹ گئیں۔ پھر ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے قریب بلایا تو میں ان کا اشارہ سمجھ کر ان کی طرف بڑھ گیا۔ ہم نے اس پوزیشن میں مزید ۸ سے ۱۰ منٹ لگائے اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ میرے پورے جسم کے خون کی گردش بہت تیز ہوچکی ہے۔ پہلے تو میری ڈھڑکنیں کافی تیز تھی لیکن اب خون کی گردش تیز ہوجانے پر میں اپنے آپے میں نہ رہا۔ میں چاچی نازی کی پھدی میں جھٹکے تیز سے تیز تر کرتے کرتے ایک لمحے کو بھی نہ رکا۔

ہم دونوں چاچی بھتیجے کا اینڈ ایک ساتھ ہوا۔ ہم ایک دوسرے کے جسم سے چمٹے ایک دوسرے سے بوس و کنار ہورہے تھے۔ میرا سب کچھ گھوم رہا تھا، مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میرا سارا خون میری چاچی نے چوس لیا ہو۔

ہم دونوں کے جسم، دو جسم ایک جان بنا پسینے سے تر تھے۔ کافی دیر اسی طرح رہنے کے بعد چاچی نے مجھے اپنے جسم سے الگ کرتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئیں اور اپنی پھدی کو دیکھنے لگیں۔ پھر خاموشی سے وہاں سے ننگی چلتی ہوئی پہلے واش روم گئی پھر کچھ دیر بعد باہر نکلیں ان کے جسم پر نئی برا اور قمیض سج چکی تھی لیکن شلوار انہوں نے ابھی تک نہیں پہنی تھی۔

چاچی: یہ تمہارا پہلا تجربہ تھا؟

میں جیسے ہی بولنے لگا تو ایسے محسوس ہونے لگا جیسے زبان میرے حلق سے لگ چکی ہو۔ تب چاچی میری حالت کو سمجھتے ہوئے باہر گئیں اور کچھ سیکنڈز کے بعد واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا۔ پھر مختصراً ہم دونوں نے ایک دوسرے سے قسمیں وعدے لیے، آدھا میں نے، آدھا چاچی نے گرم دودھ پیا، جب تک چاچی میرے ساتھ رہیں، وہ میرے لنڈ کو ایک مرتبہ پھر سے اپنی پھدی میں لیے میری گود میں بیٹھی رہیں۔

پھر میں نے مختصر سا باتھ لیا اور اپنے گھر آگیا۔ اگلا ایک مہینے ہم دونوں نے اسی طرح سیکس کیا، اس دوران چاچی نے بتایا کہ میرے متعلق انہیں سلمیٰ نے پہلے سے بتا دیا تھا۔ اس لیے وہ اچانک سے سیکس کے لیے مان گئی تھیں۔ دن کو ہم سیکس کرلیتے شام کو میں پڑھتا رہتا اس دوران میرا امتحان بھی ہوا جس میں نے کامیابی حاصل کی۔ ابو صحت اور کام کی وجہ سے گھر نہ آسکے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

میری اس کامیابی پر سب خوش تھے، تایا ابو، چاچو، چھوٹے چاچو سب دادی اماں کے گھر جمع تھے کوئی یہاں سے کوئی گاؤں سے آکر مجھے اور چاچو، امی سب کو مبارکیں دے رہے تھے۔ شام تک ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو مجھے ملا۔ میں ان سب میں صرف ابو کو تلاشتہ رہ گیا۔ خیر رات کو امی نے گوشت بنایا اور سب کو کھانے کی دعوت دی۔

سلمیٰ اور چاچی نازی مجھے بار بار دیکھ کر سمائل پاس کرتی یا پھر آپس میں سرگوشیوں میں باتیں کرتی رہتی، کھانے کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گئے تب چھوٹے چاچو کے دوست نے ان کو گھر سے باہر بلایا جس پر وہ باہر چلے گئے کچھ دیر بعد چاچو اندر آئے اور انہوں نے بتایا کہ ان کے بینک میں ڈکیتی ہوئی جس پر ہیڈ آف منیجر نے ان کو ابھی بلایا ہے۔

جس پر سب پریشان ہوگئے تب درمیانے چاچو بولے: ہم دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔

اسی وقت چاچی بولیں: آپ نوازے کے ساتھ جا رہے ہو تو ہمیں دودھ کون لا کر دے گا، عثمان چھوٹا ہے اس کو میں اس وقت کہیں بھی نہیں بھیجوں گی،(تب مجھے احساس ہوا کہ چاچی ربیعہ مجھ سے کافی پیار کرتی ہیں لیکن وہ دیکھاتی نہیں)

تب امی بولیں: آپ ایسا کرو کہ ربیعہ اور بچوں کو اپنے ساتھ لے جاو راستے میں پراٹ چھوڑ دینا صبح وہیں سے بچے سکول چلے جائیں گے۔

تب چھوٹے چاچو بولے: نازی کے ساتھ کون رہے گا؟

اس بات پر سب کچھ دیر کے لیے چپ ہوئے تب چاچی نازی بولیں: عثمان ہمارے ساتھ رہ جائے گا۔ ویسے بھی اماں جی باہر ہی سوتی ہیں تو کیا مسئلہ ہے۔ آپ سب جاو۔

چاچی کی بات سن کر چاچا نواز کچھ نرم پڑگئے تب چاچی ربیعہ نے فوراً اپنے بچوں کو ساتھ لیا اور جلدی جلدی کچھ چیزیں لینے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ مختصراً دونوں چاچو اور چاچی ربیعہ اپنے بچوں سمیت اپنے ننھیال چلی گئی تب چاچی نازی نے مجھے ساتھ لیا اور اپنے گھر چل دی۔

چاچی نازی نے فوراً ایک چارپائی اپنے بیڈ کے پاس لگائی اور مجھے کچھ دیر آرام کرنے کا بول کر خود دادی امی کو بستر ڈال کردینے لگیں۔ ایسے ہی کافی ٹائم کے بعد چاچی نازی کمرے میں داخل ہوئی تو میں بولا: دادی اماں سو گئی؟

چاچی: ہاں ابھی ابھی ان کی آنکھ لگی ہے تو میں بھی اندر آگئی ہوں۔

میں: اچھا۔

چاچی: میں ایک چکر بھابھی کی طرف بھی لگا کر آجاتی ہوں تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ لوگ سو گئے ہیں کہ نہیں۔

میں نے بس ہاں میں اپنی گردن ہلا کر خاموشی سے اپنے بستر پر دوبارہ سر رکھ لیا۔ کچھ دیر بعد چاچی دوبارہ کمرے میں داخل ہوئیں تب وہ بولیں وہ تو کب کے سو چکے ہیں۔ میں ویسے ہی دیوار کے پاس کھڑی ہوہو کر آئی ہوں۔ میں بس دو منٹ میں آئی۔

میں بھی فوراً اپنا بستر چھوڑ کر بیڈ پر آکر بیٹھ گیا اور باہر جھانکنے لگا۔ چاچی باہر والا مین دروازہ بند کررہی تھی پھر اسے بند کرکے کچن میں گئی واپسی پر دودھ کے دو گلاس لیے کمرے میں داخل ہوئیں۔

ہم نے پہلی چودائی کے بعد جیسے دودھ پیا تھا ویسے ہی آدھا آدھا اب پی رہے تھے۔ فرق تھوڑا سا تھا کہ ہم ان دنوں میں یہ عمل سیکس کرنے کے بعد کرتے تھے لیکن آج پہلے کررہے تھے۔

چاچی میری گود میں بیٹھی میرے نیم کھڑے لنڈ کو اپنی موٹی گانڈ میں محسوس کررہی تھیں۔ میں بھی مست ہو کر ان کی گانڈ کی نرمی و گرمی کو محسوس کرکے نیم گرم ہوا جارہا تھا۔

تب چاچی بولیں: عثمان۔۔۔ سب نے تمہیں پاس ہونے پر کافی گفٹس دیئے ہیں بس میں نے کچھ بھی نہیں دیا۔ اب تم بتاو کہ تمہیں کیا گفٹ چاہیے۔

میں گلاس ان کو پکڑاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ان کی قمیض کے اندر ڈال کر تنے ہوئے بوبز کو دباتے ہوئے بولا: فلحال تو مجھے آپ سے کچھ دیر تک پیار کرنا ہے کیونکہ ایک ہفتے سے میں کتابوں میں کھویا رہا ہوں۔ تو۔۔۔ پہلے اس کو آپ گفٹ کا ریپر سمجھ لیں۔

چاچی میری بات سن کر اپنی گانڈ کو تھوڑا سا پیچھے کی طرف دباتے ہوئے بولیں: میری زندگی کے اتنے حسین پل تمہیں تمہارے گفٹ کے ریپر نظر آتے ہیں۔ ھھمممم

میں ابھی مزید بات چیت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا کیونکہ مسلسل ایک ہفتے سے میرا سارا دھیان اپنے امتحان میں لگاہوا تھا۔ جب فارغ ہوا تو کوئی موقع نہیں مل رہا تھا آج مل رہا ہے تو اس موقع کو بات چیت میں ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنے ہونٹ چاچی نازی کی گردن پر رکھ دئیے جس پر چاچی نازی کے جسم میں ہلکا سا جھٹکا لگا۔

میں نرمی سے آہستہ آہستہ ان کی گردن پر کس کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بوبز بھی دبا رہا تھا۔ جب میں نے پہلی مرتبہ چاچی نازی کے سیکس کیا تھا تب کے یہی بوبز بھینس کے تھن کے مشابہ تھے لیکن آج یہ بوبز (اس وقت کے) میرے آئیڈیل بن چکے تھے (جیسے سلمیٰ کے تھے)

چاچی نازی کچھ دیر خاموش میری گود (لنڈ) میں بیٹھی رہیں پھر آہستہ سے خود کو مجھ سے چھڑوایا اور بولیں: کاش، نکاح کے وقت تم، نواز کی جگہ ہوتے میں اس دن سے لے کر آج دن تک تمہیں اس کمرے سے باہر جانے نہ دیتی۔

اتنا بول کر چاچی نے مجھے پیچھے کی طرف دھکیلا۔ کچھ لمحوں کے بعد چاچی میرے لنڈ کی سواری کر رہی تھی تب میں بولا: اگر ویسا ممکن ہوتا تو میں آپ کو اس بیڈ سے نیچے اترنے بھی نہ دیتا۔

چاچی میری بات سن کر زور زور سے سسکتے ہوئے فارغ ہونے لگیں۔ فارغ ہونے کے بعد چاچی میرے جسم سے لپٹ گئیں۔ میں ان کے ننگے جسم پر اپنے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا: چاچی! ابھی ساری رات پڑی ہے۔

چاچی میری بات سن کر، میری گردن پر کس کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اٹھنے لگیں پھر دو چار جھٹکوں کے بعد وہ بیڈ پر کمر کے بل لیٹ گئیں تب میں نے ان کو سکول میں ہونے والے واقعے کو یاد کرتے ہوئے انکو ڈوگی سٹائل کے مشابہ ہونے کا بولا، لیکن ان کو یہ سٹائل نہیں آتا تھا اس لیے وہ سیدھی پیٹ کے بل لیٹ گئیں۔

تب میرے دماغ میں ایک اور آئیڈیا آیا اور میں نے اپنا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑے پکڑے الٹی لیٹی چاچی کی پھدی میں ڈال کر انہیں کی کمر پر لیٹ گیا۔ (چاچی کی پھدی کافی کھلی تھی یہ نہیں تھا کہ وہ ہر کسی مرد کے نیچے آتی تھیں)

نئی پوزیشن ہونے کی وجہ سے میرا لنڈ بار بار باہر نکل جاتا تھا ساتھ میں ان کو پھدی پر جلن بھی محسوس ہونے لگی تھی اس لیے چاچی نے مجھے رکنے کا بول دیا۔ میں نے تھوڑا ضد کرتے ہوئے چاچی کو پیٹ سے پکڑکر ڈوگی سٹائل میں کرنے کی کوشش کی، تب چاچی بولیں: کیا مسئلہ ہے؟ سیدھے سیدھے کرلو نا

میں: چاچی میں نے آج سکول کے باہر دو لڑکوں کو دو کتوں کو سیکس کرتے دیکھا تو مجھے بھی شوق ہوا کہ دیکھوں تو سہی یہ کیسے کرتے ہیں تب ایک لڑکے نے مجھے دوسرے لڑکے کے ساتھ کرکے دیکھایا بھی۔ اس لیے ایسا کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ مان جاو نا

چاچی: اچھا اس طرح کرنا ہے۔ رک

چاچی نے فوراً اپنی پوزیشن بدلی اور ٹھیک ڈوگی سٹائل میں آگئیں اور بولیں: پاس آو

میں بیڈ پر چلتا ہوا ان کے ٹھیک پیچھے آکر لگ کر کھڑا ہوگیا تب انہوں نے اپنا ایک ہاتھ اپنی ٹانگوں میں سے گزار کر میرے لنڈ کو پکڑ لیا تھوڑی دیر ہلانے کے بعد(جب میں ان کو سمجھا رہا تھا تب لنڈ نیم مردہ حالت میں چلا گیا تھا) اپنی پھدی پر سیٹ کر کے مجھے آگے کو جھٹکا مارنے کا بولا۔

میں نے ہلکا سا جھٹکا لگاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ چاچی کی بنڈ پر رکھ لیے۔ جس پر چاچی نے مجھے مڑ کر دیکھا۔ جب تک میرا آدھے سے زیادہ لنڈ اندر نہیں چلا گیا تب تک چاچی نے اپنا ہاتھ میرے لنڈ پر رکھے رکھا۔

میں آہستہ آہستہ جھٹکے لگانا شروع کردیے جس پر چاچی سسکنے لگیں، چاچی کو گرم ہوتا دیکھ میں نے اپنے جھٹکوں میں تھوڑا سا زور پیدا کرنے لگا جس پر چاچی کے منہ سے بھی سسکاریاں نکلنے لگیں، اس دوران میرے جھٹکوں میں سے ایک جھٹکا تھوڑا سا زور سے لگ گیا جس پر چاچی اوندھے منہ بیڈ پر گر گئی۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا لیکن چاچی فوراً اٹھ کر اسی پوزیشن میں آگئی۔ اس مرتبہ میں نے خود ہی اپنا لنڈ چاچی کی پھدی میں ڈال دیا۔

چاچی: جیسے پہلے میری بنڈ پر ہاتھ رکھے تھے ویسے ہی وہاں سے پکڑ لو، تاکہ میں دوبارہ گر نا جاوں۔

میں چاچی کی بات مانتے ہوئے چاچی کی موٹی سی بنڈ کو پکڑ کر جھٹکے لگانے لگا۔ چاچی ایک مرتبہ پھر گرم ہوکر اپنے منہ سے سسکاریاں نکالنے لگیں۔ مجھے بھی کافی زیادہ مزہ آرہا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے آج چاچی پہلی مرتبہ مجھ سے چدائی کروا رہی ہیں۔ کچھ زور دار جھٹکوں کے دوران چاچی نے اپنی بنڈ کو پیچھے کی طرف پش کرنا شروع کردیا تھا۔

جس کی وجہ سے میں نے اپنی پکڑ ڈھیلی کردی جس پر چاچی پرجوش طریقے سے اپنی بنڈ کو پیچھے کی طرف دھکیلنے لگیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے عضوخاص کی چدائی کرتے کرتے فارغ ہوگئے۔ میں فارغ ہونے کے بعد چاچی کے ساتھ ننگا ہی لپٹ کر لیٹ چکا تھا۔

چاچی مجھ سے لپٹے ہوئے بولیں: ایک دن تھا جب میں خود کی قسمت کو کوستی تھی، اکیلے تنہائی میں روتی تھی، پھر سلمیٰ ملی اس نے راستہ دکھایا لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، پھر اچانک یہ سب ہوگیا۔ آج میں خود کو سب لڑکیوں میں خود کو جوان سمجھتی ہوں کیونکہ تم میرے ساتھ ہو۔

چاچی میٹھی میٹھی پیاری پیاری پیار بھری باتیں کرتے کرتے اپنے ہاتھ کو نیچے لے جا کر میرے دوبارہ نیم کھڑے ہو رہے لنڈ کو پکڑ کر سہلانے لگیں۔ پھر چاچی خاموشی سے اٹھی اور واش روم چلی گئیں۔ دو چار منٹ کے بعد چاچی واپس بیڈ پر آکر میرے ساتھ لیٹ گئیں۔

میں: چاچی ایک بات سمجھ نہیں آرہی۔

چاچی مجھے خود میں سماتے ہوئے بولیں: کیا بات سمجھ نہیں آرہی میرے دلہارے راجہ

میں: چاچی۔ سلمیٰ نے مجھے بتایا تھا کہ جب میری منی کسی بھی لڑکی یا عورت کی پھدی میں چلی جائے گی تب اسے نو ماہ بعد بچہ یا بچی ہوجائے گی لیکن آپ کو ابھی نہیں ہوا، میرا مطلب ہے کہ

چاچی نے فوراً میری بات کاٹتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم کر بولیں: میں تمہاری بات سمجھ چکی ہوں میرے دلہارے راجہ۔ یہ سچ ہے کہ تم کسی بھی لڑکی کو عورت، اور عورت کو اپنے بچے کی اماں بنا سکتے ہو، میں نے شادی کے دو ماہ بعد لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا تھا تو ڈاکٹر نے صاف انکار کردیا تھا کہ ابھی اس قسم کی کوئی نشانیاں ظاہر نہیں ہوئیں۔ پھر تمہارے چاچے نوازے کے کہنے پر میں نے ایک سال کا وقفہ کروا لیا۔ اس لیے تم اور میں کچھ بھی کرسکتے ہیں بغیر ڈرے ہاں اگر کچھ ہونا بھی ہوا تو ہو جانے دو نا۔

چاچی کی بات سن کر میں ریلیکس ہو گیا تب ہم نے ایک مرتبہ پھر سیکس کا راؤنڈ لگایا جس میں ڈوگی سٹائل دیرپا تھا۔ چاچی نے اس رات مجھے جلد سلمیٰ سے بھی ملاقات کروانے کا عندیہ دیا۔ کیونکہ سلمیٰ چاچی کی دوست بھی تھی اور راز دار بھی، اس لیے وہ سلمیٰ کو چارا ڈال کر خاموش رکھنے کی سوچ رہی تھی۔

ہم ساری رات ننگے ایک دوسرے سے لپٹے سوتے رہے پھر میں صبح جلدی جاگ گیا کیونکہ میری عادت جلدی جاگنے کی تھی اس لیے اٹھ کر جلدی سے نہالیا۔ نہاتے وقت چاچی باتھ روم میں آگئی اور اس دوران ہم نے صرف چھیڑ چھاڑ کی اس سے آگے ہم نہ بڑھے کیونکہ دادی کے جاگ جانے کا ڈر بھی تھا کیونکہ انہیں بھی باتھ روم استعمال کرنا تھا۔

چاچی نے زبردستی اپنے گھر ہی ناشتہ مجھے کروایا اور پھر ناشتہ کرنے کے بعد ہم تینوں میرے گھر آگئے۔ دن کے وقت چاچی ربیعہ اپنے بچوں سمیت واپس آگئیں۔ پھر کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں پھر چاچی نازی نے امی سے اجازت لے کر میرے ساتھ دکان پر چل دیں۔ ہم نے دکان سے کھانے پینے کی کافی چیزیں لیں۔ ایسا ظاہر ہورہا تھا کہ چاچی کو چاچے نواز کی رتی بھر بھی پروا نہ تھی۔ ہم گھر واپس آئے سب نے مل کر چیزیں مل کر کھائیں۔

کچھ چیزیں چاچی نازی نے چھپا لی تھی جب شام کا وقت ہوا تو ایمان کو بھیج کر چاچی نے مجھے ہمارے چھت پر بلا لیا۔ پہلے کچھ دیر ہم سب آرام سے بیٹھے گپیں لگاتے رہے پھر بعد میں چاچی ربیعہ نے اپنے  بچوں کو ساتھ لیا اور اپنے گھر چل دیں۔ امی نے باجی کو نیچے بلا لیا۔ کچھ دیر تک چاچی نازی نے اندازہ لگانے میں وقت لگایا۔ پھر بعد میں چھپائی ہوئی چیزوں کو باہر نکالا اور ہم نے کھانا شروع کردیا۔ اس دن مجھے معلوم چلا کہ ایک روپے میں چار ٹافیوں میں یہ والا مزہ نہیں جو ایک روپے میں ایک ٹافی ملتی تھی۔ اسی طرح دوسری چیزوں کا بھی علم ہوگیا۔

جب چیزیں کھا لی تب باجی نے آواز دی کہ چائے بن گئی ہے آکر چائے لے جاو تب چاچی نے موقعہ کے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو روپے والی ڈیکو ٹافی اٹھا کر اسے کیچ کروائی اور اس طرح باجی طاہرہ لالچ میں آکر ہمیں ہماری چائے اوپر دے گئی۔

اس شام مجھے کچھ سیکھنے کے لیے ملا تھا۔ چائے پینے کے بعد چاچی نے مجھے دروازے کے قریب لٹایا اور خود اس انداز میں میرے لنڈ پر بیٹھ گئی جیسے وہ چھت پر بیٹھ کر کچھ ڈھونڈ رہی ہوں۔

چاچی نے پانچ سے دس منٹ لگائے پھر وہ اور میں فارغ ہوگئے تب چاچی اٹھیں اور چھت پر لگی ایمرجنسی ٹوٹنی سے پانی لے کر خود کو اور مجھے صاف کیا۔

اس رات میری سوچ میں بس سلمیٰ تھی اور کوئی نہیں۔ اگلی صبح چاچو اور چاچا نواز ہمارے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کررہے تھے جس کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی آج میں خلاف توقع لیٹ جاگا تھا۔

میں نے دونوں چاچو کو سلام کیا اور پھر کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہاکر ناشتہ کیا اور دھوپ میں بیٹھ گیا تب چاچو بولے: بھابھی جی میں نے سوچا ہے کہ عثمان کو ہائی سکول میں داخل کروا دیتے ہیں آگے جا کر اسے آسانی سے داخلہ مل جایا کرے گا۔

امی نے بھی تائید کی اور اس طرح کچھ دنوں تک میرا داخلہ ہوگیا۔ کچھ دن میں ایمان سے جدائی کی وجہ سے خاموش خاموش رہا پھر نئے ٹیچرز کی حوصلہ آفزائی کی وجہ سے اپنی پڑھائی میں مگن ہوگیا۔

اس دوران کبھی کبھی چاچی نازی مجھے چھپائی ہوئی چیزیں لا کر دیتی اور ہم کبھی چھت پر سیکس کرلیتے ایسے ہی کافی دن گزرگئے تب ایک دن چاچی نازی نے مجھے بتایا کہ اگلے دن شام کو سلمیٰ آرہی ہے۔ تم نے بس اس کو پیچھے سے کرنا ہے میری شرط لگی ہوئی ہے۔

میں ان کی بات صحیح طریقے سے نہ سمجھا لیکن میں بولا کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح اگلے دن چاچو نواز نے امی کو کہا کہ عثمان کو رات میں نازی کے پاس سونے کا بول دیں کیونکہ چاچی ربیعہ کسی وجہ سے ننھیال گئی ہوئی تھیں اس لیے۔ شام ہوئی تو مجھے امی نے چاچو کے گھر بھیج دیا جب رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تب میں چاچی کے کمرے میں گیا تو وہاں چاچی نہیں تھی سلمیٰ، چاچی کے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے چہرے پر کچھ لگا رہی تھی۔ میں نے دادی کو دیکھنے کے لیے دوسرے کمروں کو چیک کیا تو دادی نہ ملیں، تب چاچی نازی کسی وجہ سے کچن سے باہر آئیں تب میں نے دادی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چاچی ربیعہ کے بھائی کو نوکری مل گئی اس کی وجہ سے وہ وہاں چلی گئی ہیں۔

میں کافی زیادہ خوش ہوگیا۔ پھر میں واپس چاچی کے پیچھے پیچھے کچن میں چلا گیا جہاں وہ کھانے کے برتن دھو رہی تھیں۔ میں نے بغیر شرم حیا کے، ان کو پیچھے سے ہگ کر لیا۔ چاچی کی موٹی بنڈ کی نرمی سے میرا لنڈ کھڑا ہونے لگا تھا تب چاچی نرمی سے بولیں: آج میرے ساتھ نہیں سلمیٰ سے کرنا ہے۔ میں باہر سوجاوں گی

تب سلمیٰ کچن میں داخل ہوکر بولی: چاچی ہم تینوں ایک ساتھ کریں گے مان جاو نا

چاچی: مجھے تمہارے سامنے کرواتے ہوئے شرم آئے گی کیونکہ تم چدواتے ہوئے گندی گندی باتیں کرتی ہو جو مجھے پسند نہیں

میں اسی طرح چاچی سے جڑا ہوا کھڑا تھا تب سلمیٰ بولی: ابھی بھی آپ دونوں میرے سامنے ہی شروع ہو، عثمان کو دیکھو اس نے اپنا ہتھیار آپ کی بنڈ میں ڈال رکھا ہے بس فرق شلوار کا ہے۔ مان جاو نا

چاچی نے تھوڑا سختی سے کہا: ایک بار کہا ہے نا۔ بار بار نہ کہو، یہ نہ ہو کہ میں تمہیں چاچے کے سامنے لیٹا دوں۔

سلمیٰ: چاچے کا نام نہ لو، اسے تو شرم بھی نہیں آتی جب میں اسے سرعام گالیاں دیتی ہوں۔

مختصراً سلمیٰ اکیلے میں کرنے کے لیے مان گئی، کچھ دیر بعد سلمیٰ اور چاچی نازی دوںوں دروازہ بند کرکے کافی دیر تک مجھے بور کرتی رہیں۔ پھر کچھ دیر بعد چاچی نازی نے مجھے اندر سے آواز دی : دروازہ کھول کر اندر آجاو، میں باتھ روم جا رہی ہوں

میں نے فوراً چاچی نازی کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ میرے سامنے بیڈ پر سلمیٰ سرخ کپڑوں میں بیٹھی ہوئی تھی اس نے میری طرف ایک نظر ڈالی پھر مسکراتے ہوئے اپنی نظریں نیچی کرلیں۔

میں سلمیٰ کو ہی دیکھے جا رہا تھا تب چاچی نے باتھ روم سے آواز دی: عثمان دروازہ بند کردو، یہ نا ہو کہ میرا دل کرجائے اور تم سے ایک بھی سمبھالی نہ جائے۔

جس پر میں نے فوراً دروازہ بند کیا اور بیڈ کی طرف چل دیا۔ بیڈ پر پہنچ کر میں آرام سے بیٹھ گیا۔ میرے دل میں سلمیٰ کے لیے وہ والے جذبات نہیں تھا اس لیے میں نارمل ری ایکٹ کررہا تھا۔ جبکہ سلمیٰ دھیمی دھیمی مسکرارہی تھی۔ میں نے اپنے جوتے نکالتے ہوئے بیڈ پر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ تب سلمیٰ بولی: بندہ کوئی تعریف شریف ہی کردیتا ہے، کم از کم دو گھنٹوں کی محنت کا صلہ تعریف کرکے ہی دے دو۔

میرے لیے یہ سب نیا تھا اس لیے میں مسکرادیا تب سلمیٰ نے اپنی آنکھوں کو کھول کر میری آنکھوں میں دیکھا پھر آہستہ سے بولی: منہ میں زبان بھی ہے کہ وہ بھی ایمان ساتھ لے گئی ہے؟

میری سوچ میں اچانک سے ایمان آگئی خاص طور پر میرے پہلے شہوت بھرے خواب کا آخری منظر۔

میں نے خود کو سمبھالا اور کچھ دیر تک سلمیٰ کی تعریف کی، پھر آہستہ آہستہ پہلے ڈوپٹہ اتارا، پھر اس کو بیڈ پر لیٹا کر اس کے گلابی رنگ کے ہونٹوں کو چوما پھر گردن کو کس کرتے کرتے تھوڑا نیچے آیا تو سلمیٰ کے بوبز کو نرمی سے پکڑ کر دباتا رہا پھر دوبارہ سلمیٰ کو اٹھایا اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اس کی قمیض کو نرمی سے نکال کر سائیڈ پر رکھ دیا۔ اب سلمیٰ کی ننگی کمر میرے سامنے تھی جس پر سرخ رنگ کی برا کی پٹیاں نظر آرہی تھیں۔

میں نے اپنے ہاتھ کو سلمیٰ کی ننگی کمر پر گھماتے ہوئے برا کے سامنے والے حصے پر لے آیا۔ سلمیٰ اس دوران کچھ بھی نہیں بول رہی تھی تب میں نے اپنی ٹانگوں کو ریلیکس دینے کے لیے سلمیٰ کے رائیٹ لیفٹ کرکے سیدھی کردیں اور سلمیٰ کی کمر سے جڑ کر اس کے بوبز کو دبانے لگا۔ سلمیٰ شاید میرے سامنے بیٹھ کر خواب دیکھ رہی تھی۔ میں نرمی سے اس کے بوبز کو اس کی سرخ برا کے اوپر سے دبائے جا رہا تھا۔ جو کچھ اس نے مجھے شادی والے دن سکھایا تھا اور جو کہ میں نے تجربات چاچی پر کیے تھے وہ سب میں اب سلمیٰ پر کررہا تھا۔

سلمیٰ کی پھدی اس وقت یقیناً پانی (منی) بہا رہی تھی۔ میں نے ہاتھوں کو روکا اور پھر کمر پر لا کر دوبارہ سے گھمانے لگا پھر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے سلمیٰ کی سرخ برا کو کھول دیا۔ جیسے چاچی کے ساتھ میں نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اسی طرح میں نے سلمیٰ کی برا اتاری اور پاس پڑی قمیض کے اوپر رکھ دی۔ سلمیٰ کی مکمل ننگی کمر میرے سامنے تھی۔ تب میں اپنے ہونٹ سلمیٰ کی گردن پر رکھ دیئے جس پر سلمیٰ ہلکی سی کسمسائی۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سلمیٰ کے بوبز کی نپلز پر رکھ دیئے اور آہستہ آہستہ دبانے لگا۔

سلمیٰ کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاریاں نکل رہی تھی جس سے مجھے بھی کافی مزہ آرہا تھا۔ میرا لنڈ میری شلوار کے اندر کھڑا جھٹکے پر جھٹکا کھائے جارہا تھا۔ میں نے کچھ دیر تک سلمیٰ کے بوبز پر محنت کی پھر اپنے ہاتھوں کو بوبز سے نیچے کی طرف پھیرتے ہوئے لانے لگا۔ جیسے ہی میرے ہاتھ کی انگلیاں سلمیٰ کے پتلے پیٹ سے ٹکڑائی تب اس کے جسم میں ہلکا سا جھٹکا لگا، اسی وقت میں نے اپنے ہونٹوں سے ایک اور بوسا اس کی گردن کا لیا۔

جس پر وہ فوراً میری طرف مڑی اور میرے ہونٹوں کے پرجوش طریقے سے چومنے چاٹنے لگی۔ اب منظر یہ تھا کہ میں سلمیٰ کے نیچے اور سلمیٰ میرے اوپر، میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی تھی۔ اس دوران میں نے سلمیٰ کو روکا اور اپنے کپڑے اتار کر سائیڈ پر رکھ دیئے جہاں سلمیٰ کی برا اور قمیض پڑی ہوئی تھی۔

سلمیٰ نے ایک مرتبہ پھر مجھے کس کرنے کی کوشش کی تب میں نے اس کی شلوار پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے جسے سلمیٰ نے محسوس کرتے ہوئے اپنی شلوار کو اتار کر میرے کپڑوں کے اوپر رکھ دی۔ اب ہم دونوں بلکل ننگے تھے۔ سلمیٰ مجھے دوبارہ سے کس کرنے کے ساتھ ساتھ میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر مسلنے لگی پھر جب اس سے مزید برداشت نہ ہوا تب اس نے میرے لنڈ کو پکڑ کر دو چار مرتبہ اپنی گیلی پھدی پر پھیر کر گیلا کیا پھر وہ مجھ پر حاوی ہوتے ہوئے میرا سارا لنڈ اپنی پھدی کے اندر لے لیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

ہم دونوں کے منہ سے ایک ساتھ سسکاری نکلی، جس پر سلمیٰ ایک مرتبہ پھر میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔ سلمیٰ کی پھدی میرے لنڈ پر اوپر نیچے ہورہی تھی لیکن آج ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے سلمیٰ کی پھدی مہندی والی رات کے نسبت آج کافی تنگ ہے۔ میں نے اس سوال کو اپنے دماغ میں رکھ چھوڑا اور فلحال اپنی سیکس پاٹنر کی طرف توجہ دینے لگا۔ مجھے سلمیٰ کی پھدی اپنے لنڈ پر کبھی کھلتی تو کبھی میرے لنڈ کو جکڑنے میں مصروف ہوتا محسوس ہوا۔

میں نے سلمیٰ کو کس کرنے سے روکا پھر خود آہستہ سے اٹھ کر سلمیٰ کی بنڈ کو پکڑ کر اپنے لنڈ پر دبانے اور آزاد چھوڑنا شروع کردیا۔ سلمیٰ کو بے حد مزہ آرہا تھا جس پر سلمیٰ نے میری گردن میں بازو ڈال کر مجھے مزید اپنے قریب کرلیا اور خود بھی اپنی پھدی کو میرے لنڈ پر بار بار دبانے کی کوشش کرنے لگی۔ ایسا کرنے پر مجھے اور بھی زیادہ مزہ آنے لگا تھا۔ میں نے اپنا سر تھوڑا سا نیچے کرکے سلمیٰ کے بوبز پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔

میری حرکت پر سلمیٰ کی حرکت مزید تیز ہوئی میں مزید پرجوش ہوکر اپنے منہ کو کھول کر سلمیٰ کے بوبز کو منہ میں لینے لگا۔ جس پر سلمیٰ کی بلکل بس ہوگئی اور اس کی پھدی سے پانی نکلنے لگا۔سلمیٰ نے مجھے سختی سے بھینچا ہوا تھا۔

کچھ دیر بعد میں نے سلمیٰ کو خود سے الگ کیا اور کان میں بولا: اب تو میرا بھی پانی نکلتا ہے۔

جس پر سلمیٰ مسکرا دی۔ سلمیٰ آہستہ سے اٹھی ڈوگی سٹائل میں ہوکر بولی: تمہارے جیجا جی کو اس سٹائل سے میں دو منٹ میں پُھس کروا دیتی ہوں آجاو تم بھی میدان میں۔

میرے لیے یہ ایک چیلنچ تھا لیکن میں نے اس بات کو اتنا سیریس نہیں لیا۔ میں تھوڑا آگے ہوکر سلمیٰ کی ٹانگوں کے قریب ہوگیا۔ تب سلمیٰ نے میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے دو چار ہاتھ مار کر اپنی پھدی پر سیٹ کردیا اور مجھے جھٹکا دینے کا بول کر آگے دیکھنے لگی۔

میں چونکہ اس سٹائل میں پہلے بھی کرچکا تھا اس لیے میرا سٹارٹ پہلے سلو تھا پھر آہستہ آہستہ میرے دھکوں میں تیزی آتی گئی، ایک لمحے کو سلمیٰ بے سد ہو کر بیڈ پر لیٹ گئی تب چاچی باتھ روم سے باہر نکلی اور سلمیٰ سے بولی: یہ میرا عثمان ہے، اس میں، میں نے اپنی ساری طاقت ڈال دی ہے۔

اس وقت چاچی کے جسم پر ایک بھی کپڑا موجود نہیں تھا اس لیے وہ چلتی ہوئی ہمارے پاس آئیں اور سلمیٰ کو پیچھے ہٹنے کا بول کر خود ہی میرے سامنے ڈوگی سٹائل میں آگئیں۔ میرے ابتدائی جھٹکے سلو تھے پھر میں اپنے جھٹکوں کی رفتار کو تیز سے تیز تر کرتا چلا گیا، تین منٹ کے بعد چاچی نے مجھے دوبارہ سے کرنے کا بولا لیکن ان کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے میں نے ان کو کمر کے بل لٹا کر چودنے لگا۔ جس پر ان کے منہ سے ایک بار پھر سسکاریاں نکلنے لگیں۔ سلمیٰ لیٹے ہوئے ہمیں دیکھے جارہی تھی جب ہم دونوں کی نظریں ملتی تو وہ پہلی رات والی دلہن کی طرح شرما جاتی، یا پھر کبھی کبھی مسکرانے لگتی۔ جس پر میں بھی مسکرانے لگتا۔

کچھ دیر ایسے ہی میں نے چاچی کی اچھی خاصی چدائی کی پھر ان کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہوگیا جس پر سلمیٰ نے بڑے غور سے چاچی کے تاثرات کو دیکھا پھر ہم تینوں نے چھوٹا سا باتھ لیا اور باتیں کرتے کرتے سو گئے۔ رات کسی پہر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر تیار کررہا ہے تب میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ سلمیٰ تھی۔

سلمیٰ مجھے جاگ جانے پر ایک سمائل دی اور اشارہ سے اٹھ بیٹھنے کا بولا۔ لیکن میں ابھی ابھی جاگا تھا اس لیے اٹھنے کا من نہیں کررہا تھا۔ میرے تیار ہوچکے لنڈ کو اس نے اپنی ننگی پھدی پر سیٹ کیا اور اسی پوزیشن میں اپنے اندر لے کر آہستہ آہستہ اپنے جسم کو میرے جسم پر رگڑنے لگی۔

کچھ لمحوں کے بعد سلمیٰ میرے ہونٹوں پر جھک کر کس کرنے لگی، کس کرنے کے بعد سلمیٰ میرے کان میں بولنے لگی اور اپنے کام میں بھی مصروف رہی

سلمیٰ: جس طرح تم دونوں یہ کام کررہے ہو اس نسبت سے تم دونوں پکڑے جاو گے۔ میری بات مانو تو یہ کام ہفتے دو ہفتے بعد کیا کرو، اگر تمہارا دل کرے تو میرے پاس بھی چکر لگا لیا کرو، میری کچھ سہیلیاں ہیں میں ان کو تمہارے ساتھ سیٹ کروا دوں گا۔ لیکن ایسے تم دونوں کھلے عام چھت پر کرو گے تو کوئی نہ کوئی پکڑ لے گا، اس سے بہت زیادہ بدنامی ہوگی۔ اگر باہر کی لڑکی سے کرتے پکڑے گئے تو اس کی خیر ہے، کوئی زیادہ سے زیادہ چار چھ تھپڑ مار کر چھوڑ دے گا لیکن چاچے کو لگ پتا گیا تو وہ تمہیں قتل کردیں گے ویسے بھی جب تک تایا ابو ان کو پیسے دیتے رہیں گے اس وقت یہ سب اچھے بنے رہیں گے لیکن بعد میں یہی نازی تم پر تھوکے گی بھی نہیں۔

سلمیٰ کی آخری بات سن کر میں سلمیٰ کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہونے لگا جس پر سلمیٰ نے میرے ہونٹوں کو زور سے (کس کر) پکڑ لیا۔ سلمیٰ کچھ دیر بعد آرام سے اٹھی اور باتھ روم گئی اور خود کو صاف کرکے واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں گیلا تولیا تھا جسے کنارے سے گیلا کیا ہوا تھا، سلمیٰ نے میرے لنڈ کو صاف کیا اور دوبارہ واش روم گئی اور تولیا اندر چھوڑ کر میرے پاس آئی اور بولی

سلمیٰ: اب تم آرام سے چاچی ربیعہ والے کمرے میں جا کر لیٹ جاو میں یہی سو جاوں گی کیونکہ صبح ابو نے مجھے جلدی لینے آنا تو کہیں کوئی شک نہ کرے اس لیے جاو۔

میں جیسے ہی آگے بڑھا تب سلمیٰ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اب نازی سے اپناتعلق ختم کرلو اس کے علاوہ اور بھی ہیں بلکہ اس کا مقام تمہاری جوتی بھی نہیں۔

پھر اس کے بعد میں چاچی ربیعہ والے کمرے میں آگیا اور سو گیا، ابھی صبح کے چھ بجے ہوں گے اسی وقت مجھے تایا ابو کی آواز سنائی دی، پھر وہ میرے کمرے (چاچی ربیعہ) میں بھی آئے پھر میرے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر باہر چلے گئے۔ میں اٹھ کر گھر آگیا نہا دھو کر کپڑے بھی تبدیل کرلیے۔ تایا ابو نے بتایا کہ سلمیٰ کا داخلہ شہر کے ایک کالج میں کروانے والے ہیں۔ پھر ایسے ہی بات چیت ہوتی رہی میں سارا دن سلمیٰ کی کہی باتوں پر غور کرنے میں گزار دیا اس دوران ہمیں (نازی، مجھے) سیکس کرنے کا موقع بھی ملا لیکن میرا دل نہیں کررہا تھا۔ پھر اچھا بھی ہوا کہ ہم نے سیکس کا موقع استعمال نہیں کیا کیونکہ کچھ دیر بعد چاچے نوازے کی اآمد بھی ہوگئی۔ جس پر چاچی اپنے گھر چلی گئی۔

میں نے پہلی مرتبہ نازی کے علاوہ باہر والی کے متعلق سوچنے کی سوچی تھی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

اگلے دن میں سکول کے لیے نکالا تب مجھے احساس ہوا کہ اس چھوٹی سی دنیا (گاؤں) میں بھی اور بھی نازیاں موجود ہیں۔ سکول ٹائم تھا اس لیے سب لڑکے سکول کی طرف جارہے تھے جب کہ کچھ لڑکیوں کے پیچھے چل رہے تھے کچھ درختوں کے ساتھ کمر لگائے کھڑے لڑکیوں پر کمنٹس کررہے تھے۔

میں بھی ایک لمحے کے لیے رکا اور ان لڑکیوں کو دیکھنے لگا۔ کچھ لڑکیاں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے معنی خیز باتیں کرتے ہوئے سکول کی جانب چل رہی تھی۔ جن کے جواب میں کچھ لڑکے جواب دے رہے تھے جس پر کسی عام شخص کو شک نہیں ہوتا تھا۔

میں نے ان سے دور ایک لڑکی کو الگ لیکن ان لڑکوں کو گورتے پایا، میں نے ہمت پیدا کرکے اپنے دماغ کو ان نازیوں سے ہٹایا اور سکول کی جانب چل دیا۔ سارا دن پڑھائی کے ساتھ ساتھ سلمیٰ کی باتوں کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے گزار دیا۔ اگلے کچھ دن ایسے ہی گزر گئے چاچی موقعے موقعے پر میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ لیتی یا کھڑا کردیتی، مطلب کے وہ مجھے ٹیز کرتی رہیں لیکن میں نے خود کو ناجانے کیوں روکے رکھا شاید سلمیٰ کی خاطر، یا پھر کسی نئی نازی کی خاطر۔

اتنے دنوں سے میں ہائی سکول میں جارہا تھا، پہلے پہل کسی نے مجھ پر زیادہ توجہ نہیں دی لیکن جیسے جیسے وقت آگے بڑھا میری دوستی احسن سے ہوئی۔ احسن درمیانے قد کا بانکا لڑکا تھا۔ اس نے مجھے سکھایا کہ جھوٹے شخص کے ساتھ جھوٹا بن جاؤ۔ اور سچے شخص کے ساتھ سچا۔ مطلب گرگٹ کی طرح بدل لو جیسے لڑکیاں کرتی ہیں، جب خواہشات پوری ہوتی رہیں تو غریب سے چدواتے رہو، جب امیر لڑکا پھنس گیا تو غریب والے کو گانڈ دکھا کر بھگا دو۔

دوستی کے پہلے دن احسن کو سرنے سزا کے طور پر دس راؤنڈ لگانے کا بولا پھر میرے ساتھ بیٹھنے کا بول کر مجھ سے کچھ سیکھنے کی نصحیت کی۔ احسن نے پیریڈ کے اختتام پر مجھ سے دوستی کرلی تھی لیکن وہ دوستی بس مطلب کی تھی جب کہ میں اس دوستی کو دوستی ہی سمجھتا تھا۔

کچھ دن تک ہم ایک ساتھ بیٹھے رہتے پھر آہستہ آہستہ احسن کی طرح میں بھی سر کے کلاس سے نکل جانے کے بعد کلاس سے باہر نکل جاتا۔ تمام ٹیچرز نے مجھے اضافی چارج دیتے ہوئے مانیٹر بنا دیا جس کا فائدہ احسن اٹھانے لگا۔ احسن کی کاپی جب بھی چیک کرنے کے لیے میں اس کی طرف جاتا تو وہ کوری نا کوری کاپی میرے سامنے رکھ دیتا جس پر میں خاموش ہوجاتا اور احسن کو چھوڑ کر دوسرے لڑکوں کی طرف چلا جاتا۔

بس احسن کی ایک بات تھی اس نے ہمارے اس راز کو راز ہی رکھا پھر ایک دن احسن کو میں نے سمجھایا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے پڑھائی میں رتی بھر دلچسپی نہیں ہے بس گھر میں پڑے پڑے بور ہوجاتا ہوں اس لیے سکول آجاتا ہوں۔ احسن کی یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی اس لیے میں نے اسے مزید نہ سمجھایا پھر کچھ دن تک اسرار نامی میرا دوست بنا جو میری ہی طرح یا مجھ سے بھی زیادہ کافی لائق تھا۔ ہم دونوں کی کافی اچھی جوڑی بن چکی تھی ہم دونوں کلاس مانیٹر اور اسمبلی کو ہیڈ بن گئے۔ اسرار کا تعلق غریب خاندان سے تھا اس لیے وہ کلاس میں ہونے والی ہماری سرگرمی کو نظر انداز کردیا کرتا، (احسن والی)

لیکن مجھے اسرار کے ایسا کرنے پر شرمندگی بھی ہوتی، ہوتا یوں کہ جب کبھی اسرار کو سر میری والی لائن چیک کرنے کا بولتے تو وہ چالاکی سے احسن کی کاپی میری طرف بڑھا دیتا جس پر میں اپنا سر پیٹ کر رہ جاتا۔ ہم دونوں ایک دن احسن کو جا لیا اور اسے کافی لعن طعن کی۔ پھر ایسے ہونے لگا کہ احسن اپنے ہاتھ سے نہیں بلکہ کسی اور سے ہوم ورک کروا کر لے آتا۔

ہمیں اس بات کا علم ہماری ہی کلاس کے ایک لڑکے سے ہوا۔ پھر ہم دونوں نے فیصلہ لیا کہ احسن کو اب کبھی ٹچ نہیں کریں گے۔ جس پر یہ ہوا کہ سر نے خود اس کی ہوم ورک کاپی چیک کرنا شروع کردی۔ اسمبلی کے ہیڈ (سر) نے اسمبلی کے آخر میں جان بوجھ کر احسن کو اچھی بات کہنے کے لیے اسٹیج پر بلانا شروع کردیا جس پر احسن نے پہلے پہل کافی چوں چاں کی پھر ہمارے سمجھانے پر وہ مان گیا۔

اس دوران ہماری پھر سے پکی والی دوستی ہوگئی۔ ایک دن اسرار کو سر نے جلدی سے گھر بھیج دیا میں پہلے پریشان ہوا لیکن میری عادت تھی کہ میں سر یا کلاس کے معاملے میں کبھی بھی نہیں بولتا تھا۔

احسن اگلے دن سکول نہیں آیا تب سر نے احسن کو میرے ساتھ اسمبلی کے اسٹیج پر بھیج دیا جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ احسن کی مطلبی دوستی آہستہ آہستہ پکی والی دوستی میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ احسن نے آہستہ آہستہ مجھ سے کچھ سیکھنے کی کوشش کی، اس دن میرا دھیان اپنی پڑھائی پر کم اور احسن کو سمجھانے میں زیادہ تھا۔ احسن نے چھٹی کے وقت مجھے کل تھوڑا جلدی آنے کا بولا اور میں اس کی بات مان کر جلدی سکول پہنچ گیا جس پر اس نے گیٹ پر کھڑے ہوکر ایک لڑکی کی طرف منہ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس لڑکی کے پیچھے مت جانا، یہ ہر کسی لڑکے سے بے وفائی کرتی ہے۔

میں نے بس ہاں میں سر ہلا دیا۔ شاید احسن کی بات اس لڑکی نے بھی سنی جس پر اس نے اپنا چہرہ ہماری طرف موڑ کردیکھا پھر اپنی سہیلیوں کے ساتھ سکول کی طرف بڑھ گئ۔ دن کے وقت سر نے مجھے باہر بنے ٹھیلے سے سموسے لانے کا بولا جس پر احسن بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ سر نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ہم گیٹ سے باہر آئے اور منزل مقصود پر پہنچ کر اپنے سر کا آرڈر دے دیا۔ جس پر اس دکان دار نے دس منٹ انتظار کرنے کا کہا۔ ہمیں اسی وقت سکول واپس چلے جانا چاہئے تھا لیکن میں احسن کی وجہ سے رکا رہا اور احسن اپنی بے وفا محبوبہ کے لیے۔

میں نےپہلے توجہ نہ دی جب میں نے احسن کو ایک طرف مسلسل دیکھتے پایا تو خود بھی اس طرف دیکھنے لگا۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ بے وفا لڑکی کھڑی کسی سے باتیں کررہی تھی اس لڑکے کا ہم نے چہرہ نہیں دیکھا لیکن جس انداز سے وہ لڑکا کھڑا تھا اس سے ایسے نظر آرہا تھا کہ وہ ہم سے کچھ نا کچھ امیر ضرور ہے۔

احسن مجھے اپنی بےوفا محبوبہ کی طرف دیکھتا دیکھ دکان کی اندر چلا گیا میں اسی طرح اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔ جس پر اس لڑکی کو شک ہوا۔ اس لڑکی نے اس لڑکے سے نظریں بچا کر مجھے دیکھنا شروع کردیا۔ میں نے ایک دو بار اپنی نظروں کو اگے پیچھے گھوما پھیرا کر جب دوبارہ اسی لڑکی کی طرف دیکھا تو اسے اپنی طرف دیکھتا پایا۔

احسن نے اندر سے آواز دی: چاچے۔۔۔ آپ کے پاس کوئی بے وفا سموسہ پڑا ہے؟

جس پر دکاندار مسکراتے ہوئے بولا: آہ ہو۔ (پھر اس نے ایک آدھے سموسے کو اٹھا کر پلیٹ میں ڈالا اور تھوڑی سی چٹنی ڈال کر اسے دے دیا)

میں نے یہ ساری کاروائی دیکھی پھر دوبارہ سے اسی لڑکی کو دیکھنے لگا جہاں وہ اپنے نئے بوائے فرینڈ کو الوداع کررہی تھی پھر وہ ہماری طرف آئی اور میرے پاس سے گزرتے ہوئے چاچے کو بولی: یہ لو چاچا جی، اب ہمارا حساب کتاب پورا ہوگیا نا؟؟؟

جس پر چاچے نے اپنے پیلے دانت دکھا کر اسے جانے کا کہا۔ تب وہ ایک نظر احسن پر ڈالتے ہوئے میرے پاس سے گزرنی لگی۔ اس لڑکی نے گزرتے گزرتے اپنی مٹھی کو کھولا اور کچھ نیچے گرا کر چل دی۔

میں نے اسی لمحے احسن اور چاچے کو دیکھا جو اپنے کاموں میں مگن تھے میں نے اپنی نظر اسی لڑکی پر ڈالی تو جاتے جاتے مڑ کر مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے اپنے منہ کو نیچے کرکے اوپر اٹھایا جس کا میں نے یہ مطلب سمجھا کہ اس نے نیچے گرائی چیز کو اٹھانے کا بولا ہے۔ میں نے فوراً اپنے قدموں کے آس پاس کچھ ڈھونڈنے لگا میں جہاں کھڑا تھا اس سے تھوڑا سا آگے ایک چھوٹی سی پرزی تھی۔ جو دوسرے پاپڑوں کے رئیپر کے ساتھ پڑی ہوئی تھی۔ میں نے ایک بار پھر اس لڑکی کی جانب دیکھا جو اب کافی دور جا چکی تھی میں نے نیچے جھک کر اس پرزی کو اٹھا کر اپنی جیب میں رکھ لیا اور سر کے دیئے ہوئے پیسے نکال کر چاچے کو دے دیئے۔

ہم نے سموسے لیے اور کلاس میں آگئے جس پر سر نے ایک نیا اعلان کیا: آج سے احسن بھی آپ سب کا مانیٹر ہے لیکن وہ صرف اسمبلی کی لائنیں بنوائے گا اور جب ہماری کلاس کا ٹیسٹ ہوگا تب یہ نگرانی کرے گا اسی خوشی میں احسن  نے سموسے منگوائے ہیں۔

میں نے حیرت سے احسن کی طرف دیکھا کیونکہ احسن نے ابھی ایک دن پہلے ہی پڑھائی شروع کی تھی پھر اچانک ایسے کیسے؟

میں کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا اس لیے خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ احسن نے اس بات کو نوٹ کرلیا تھا جیسے ہی بریک ہوئی اسی وقت احسن مجھے تنگ کرتے ہوئے بولا: جب پہلی مرتبہ اس بے وفا لڑکی نے روٹھنے کا ناٹک کیا تب میں نہ سمجھا اور آج بھی میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا۔

میں: تم آج صاف صاف بول دو، تم چاہتے کیا ہو؟ پہلے پڑھتے نہیں تھے کل تم نے میرا سارا دن اسی پڑھائی میں گزار دیا اور آج فضول ترین کام کے لیے خود کے لیے سر کے سامنے پیش کردیا۔

احسن: کل تمہیں اسرار کے بغیر اکیلے اسٹیج پر کھڑا دیکھ میرے دل میں اس (بے وفا لڑکی) جیسے جذبات امڈ آئے تھے۔ اس لیے بغیر سوچے اسرار کی جگہ آگیا اور اس کی کمی کل پوری کردی اور آج بھی اس کی کمی کو پورا کررہا ہوں جانی

میرے سامنے پڑے سموسے نے میرے غصے کا سامنا کیا اور میں جلدی سے اٹھا اور کلاس سے باہر نکل گیا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں احسن پر غصہ کیوں ہوں؟ کیونکہ میں خاموش رہنے والا احسن کے لیے کیوں سوچنے لگا؟

سب سے بڑی بات میری آنکھوں میں آنسو کیوں تھے؟ بے شمار سوالات لیے میں دوبارہ چاچے کی دکان پر آکر بیٹھ گیا۔ جس پر چاچے نے مسکرا کر مجھے دیکھا۔ میرے دماغ میں بہت سارے سوالات تھے، تب احسن میرے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا: چچا برف ملے گی؟

جس پر چاچے نہیں کچھ نہیں کہا، کیوں کہ یہاں برف کہاں سے ملنے تھی تب احسن نے لڑکیوں والی حرکت کرتے ہوئے اپنا سر میز پر رکھا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: مجھے ڈر ہے کہ اس دوستی کو کسی کی نظر نہ لگ جائے اس لیے میں مزید آگے نہیں بڑھتا۔

میں نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑلیا تب احسن اٹھ کر میرے سامنے والے چیئر پر بیٹھ گیا ایک طرف بینچ لگے ہوئے تھے دوسری طرف کرسیاں۔ احسن دوبارہ بولا: چھٹی ٹائم تمیں مست مال لا کردوں گا اسے چود چود کر اپنا غصہ نکال دینا جانی

احسن کی بات سن کر میرا غصہ بس بناوٹی ہوگیا لیکن میں نے غصہ دکھانے کے لیے اپنی آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھورا۔ جس پر احسن مسکرانے لگا اور چاچے کی دکان کے پاس سے گزرنے والے ایک لڑکے کو کوئی اشارہ کیا جسے میں نے غصے کی وجہ سے نہیں دیکھا۔

احسن: جب میں نے اس سکول داخلہ لیا تب میں کافی لائق سٹوڈنٹ تھا سب کی امیدیں مجھ سے تھیں تب مجھے ایک لڑکی ملی (بے وفا) اس نے آہستہ آہستہ مجھے اپنی طرف متوجہ کروایا میں سارا سارا دن اس کے انتظار میں کبھی انہیں چاچے کی دکان پر گزارتا پھر کبھی کبھی اس کے پیچھے جانے لگا۔ وہ جب بھی مجھے ملتی تو کوئی نہ کوئی نئی فرمائش تیار کرکے رکھی ہوتی۔ جسے میں اگلے دن پورا کردیتا پھر ایسے ہونے لگا کہ میں اس کی خواہشات کو سمجھ کر پہلے ہی گفٹ شفٹ تیار کرکے اپنے ساتھ لے آیا کرتا، میرا دھیان اس لڑکی پر لگا رہتا جس کیوجہ سے میری پڑھائی شدید متاثر ہوئی اور میں پہلے سمسٹر (فرسٹ ٹرم) میں بری طرح فیل ہوگیا جس پر ہمارے سر نے مجھے پنش منٹ دی لیکن اس دن کے بعد یہ ہماری عادت بن گئی، میں سارا سارا دن اس لڑکی کے پیچھے جانے لگا اور سر مجھے سزا دیتے رہے۔ ایک دن مجھے کسی نے بتایا کہ تمہاری سیائیاں چاچے کی دکان پر کسی کے ساتھ غلط کام کرتے ہوئے پکڑی گئی جس پر سب نے لعن طعن کی ہے۔

میں وہاں سے اٹھا اور مطلوبہ جگہ پہنچا اور چاچے نے ساری بات فر فر بتا دی۔ میں چھٹی کے بعد جہاں ہم ملتے تھے وہاں گیا تو وہ وہاں بھی نہیں تھی کچھ دن کے بعد وہ ملی تو اس نے مجھے اپنا راستہ ناپنے کا بول کر چل دی تب میں نے اس کو کھری کھری سنا دیں۔

پھر اس دن سے لے کر اب تک میرا دھیان اپنی پڑھائی پر نہیں لگ رہا اور میں بس عام سے نمبر حاصل کرکے پاس ہو رہا ہوں۔

میں احسن کی بات سن کر ٹھنڈا ہوگیا تب ہم دوبارہ کلاس میں چلے گئے۔ اگلے دن اسرار بھی آگیا وہ کچھ دیر تک خاموش خاموش رہا پھر پہلے کی طرح بولنے لگا۔ میں نے دو دن کی غیر حاضری کی وجہ نہیں پوچھی۔

چھٹی کے وقت احسن مجھے تنگ کرتے ہوئے بولا: ویسے ایک بات سوچ رہا تھا، تمہارا کل غصہ مال چودنے والی بات سے ختم ہوا تھا یا ماہرہ والی بات پر؟ ویسے تمہارا غصہ ’’مال‘‘ کی وجہ سے ہی ختم ہوا تھا۔

اتنا بول کر احسن بھاگ گیا، میں بھی اس کی بات سن کر دل ہی دل میں مسکرایا، میں بھاگتے ہوئے اسے جا لیا اور بولا: ایک بات تو بتاؤ۔ یہ ماہرہ تمہارے نیچے آئی تھی یا نہیں؟

میرے بولڈ ہوکر بولنے پر احسن ایک لمحے کو رکا پھر دوبارہ چلتے ہوئے بولا: نہیں یار۔ جہاں تک میں نے تفتیش کی ہے، اس کے مطابق وہ مال لیتی ہے لیکن کرواتی نہیں۔

میں: اس سے سیٹنگ تو کروا دے۔

احسن جل بھن کر بولا: بتایا تو تھا اس سے دور رہیو۔ پھر بھی تمہیں اس کے ساتھ سیٹنگ کرنی ہے۔

میں: اگر میں اسے چود دوں تو؟

احسن یک دم رک کربولا: جو تم بولو گے وہ کروں گا۔

میں: چل ٹھیک ہے

ہم ایسے ہی باتیں کرتے کرتے اپنے اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ آج کے واقعے سے احسن اپنی مطلبی دوستی سے آگے بڑھا تھا۔ یونیفارم تبدیل کرتے ہوئے مجھے اچانک ماہرہ کی پھینکی گئی پرزی یاد آگئی میں نے اسے نکال کر دیکھنے لگا تبھی امی نے مجھے چاچی ربیعہ کا پیغام دیا۔ میں چاچی ربیعہ کے پاس گیا اور ان کے بیٹے کے ساتھ دکان کی طرف چل دیا۔ میں ماہرہ کی دی ہوئی پرزی کو کھول کر چلتے چلتے پڑھنے لگا۔ جس پر لکھا تھا کہ وہ کل اسی جگہ ملے گی جہاں وہ کھڑی تھی۔ میں نے پرزی کو اسی طرح مروڑ کر کھیت میں پھینک دیا۔ ہم نے چاچی کی بتائی ہوئی نلکیاں لی اور گھر کی طرف چل دیئے۔

میں کچھ دیر تک چاچی کے پاس بیٹھا رہا اور ان کی نصحیتیں سنتا رہا پھر میں نے وہاں سے اٹھ کر گھر کی راہ لی۔ چاچی نازی اس وقت شاید نہا رہی تھی یا سو رہی تھی اس لیے وہ مجھے نظر نہیں آئیں۔

اگلے دن سکول جاتے ہوئے مجھے ماہرہ سب سے الگ چلتی ہوئی نظر آئی میں نے موقعہ کی مناسبت سے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا۔ ماہرہ مجھے دیکھ کر آگے پیچھے دیکھ کر آہستہ آہستہ چلنے لگی۔

میں نے ہمت کرکے کہا: میں کس وقت وہاں آؤں؟

ماہرہ: بریک کے بعد

میں: بریک کے بعد میں نہیں آسکتا

ماہرہ: پھر اپنے دوست کے ساتھ ہی رہو۔

ماہرہ مجھے یہ بول کر تھوڑا سا تیز رفتاری سے آگے چلنے لگی۔ میں نے ایک بار پھر اپنے آگے پیچھے دیکھا مجھے ڈر تھا کہ کوئی ہمیں اس طرح نہ دیکھ لے۔ جب کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ پاکر میں ریلیکس ہوا تو ماہرہ کو جالیا اور بولا: تم نے میرے دوست کو دھوکہ کیوں دیا تھا؟

ماہرہ دوبارہ آہستہ ہوکر بول پڑی: دھوکہ میں نے نہیں اس کے دوست نے دیا تھا۔ تم تو ابھی نئے ہو اس لیے تمہیں ایک طرفہ بات معلوم ہے

میں: تو تم پوری بات بتا دو

ماہرہ نے کچھ دور آگے جاتی اپنی سہیلیوں کو دیکھا پھر بولی: اس دن مجھے میری سہیلیوں نے کہا کہ تمہیں احسن بلا رہا ہے جاو میں فوراً کلاس آدھی چھوڑ کر بہانہ لگا کر چاچے کی دکان پر آگئی کیونکہ ہم زیادہ وہیں ملتے تھے۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا پھر کچھ لڑکے اکٹھے ہوگئے اور چاچے کو بولنے لگے ہم نے ماہرہ کو اس لڑکے کے ساتھ گندہ کام کرتے دیکھا ہے۔ جس پر سب نے میری بے عزتی کی اور مجھے لے کر سکول پہنچ گئے اور اچھی خاصی سزا دلوائی جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

ماہرہ بات کرتے کرتے بیچ میں رک گئی میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں ہلکی سی نمی تھی۔ پھر اس نے بھی بات مکمل نہیں کی اور میں نے بھی ہمت نہیں کی۔ تب تک اس کی سہیلیاں بھی ہم سے آکر مل گئیں۔

ماورا: اے لڑکے تم کون ہو؟ اور ہماری دوست کو کیوں رلا رہے ہو؟

مسکان: ماہرہ بول بھی، یہ لڑکا تمہیں تنگ کررہا تھا نا

ماہرہ: نہیں نا۔ یہ میری دوست کا بھائی ہے۔ ابو کو بولا بھی تھا کہ ٹیلی فون لگوادیں لیکن وہ سنتے نہیں، اس لیے ہم دونوں سہیلیاں انہیں کے ذریعے بات چیت کرتی ہیں۔

میں: اچھا میں اب چلتا ہوں

مسکان مجھے روکتے ہوئے: ایک منٹ۔۔۔ ہم کیسے یقین کرلیں کہ تم ہماری دوست کی دوست کے بھائی ہو؟ اور راستے میں پیغام رسانی کا کام کرتے ہو؟ یہ بھی ہوسکتا ہے نا اس نے ماہرہ کو ڈرایا ہو۔ کیوں ماورا صحیح کہہ رہی ہوں نا؟؟؟

میں نے فوراً اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑانا شروع کردیئے تب میں بولا: ماہرہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ۔۔۔۔ پڑھتی ہے جبکہ میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول۔۔۔ پڑھتا ہوں جس کی وجہ سے ہم دونوں کا راستہ ایک ہی بنتا ہے۔ اسی وجہ سے ان دونوں سہیلیوں نے فیصلہ کیا وہ دونوں میرے ذریعے میسج دیا کریں گیں، ہیں نا ماہرہ؟

ماہرہ نے فوراً مسکان کو روکا جو دوبارہ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنے والی تھی۔

ماہرہ: اچھا اب تم جاو ہمیں فری ہینڈ دو تاکہ ہم اٹھارہ بیس گھنٹوں کی دوری ختم کرسکیں؟

میں: جی ٹھیک ہے

اتنا بول میں تھوڑا تیز چلتے ہوئے آگے ہوگیا۔ کچھ دور جا کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو تینوں مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔بریک تک میں بہانے سوچتا رہا پھر جیسے ہی بریک ہوئی احسن میرے پاس آیا اور بولا: لگتا ہے آج میرے بھائی کا جگاڑ ہوگیا ہے اسی لیے سوچ میں ڈوبا ہوا ہے

میں مسکراتے ہوئے: کل تم نے مجھے نیا مشن دیا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے مجھے آج لازمی بریک ٹائم کے بعد سکول سے باہر جانا ہے۔

احسن کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا پھر میرے ہلانے پر بولا: کیا بولا تُو نے؟ مطلب تم نے سچ مچ اس ماہرہ کی بچی کو پھنسا لیا؟

میں نے اپنے سر کو ہلکا سا ہاں، پھر نہ میں ہلا کر جواب دیا تو احسن مسکرانے لگا۔

میں: یار کوئی جگاڑ کردے نا۔

احسن: جگاڑ تو کردوں۔۔۔ بدلے میں کیا دے گا؟

میں: میرے پاس دینے کے لیے کچھ بھی نہیں اگر اس چیز کے متعلق سوچ رہا ہے، تو آج سن لے وہ میں تمہیں ہرگز نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے لڑکوں میں دلچسپی رتی برابر بھی نہیں ہے

احسن میری پیٹھ کو ٹھوکتے ہوئے بولا: مجھے تم سے یہی امید تھی۔ چل اٹھ تمہیں کسی سے ملواتا ہوں

احسن نے مجھے اس وقت خالق نامی ایک لڑکے سے ملوایا بعد میں معلوم چلا کہ وہ دو نمبر لڑکا ہے۔ احسن نے اسے بتایا کہ مجھے بریک کے بعد سکول کے گیٹ سے باہر کرنا ہے اور جب واپس آنا ہوا تب اندر بھی لانا ہے۔ خالق نے مسکراتے ہوئے مثبت جواب دے دیا۔

میری پریشانی کا حل احسن نے نکال کر دے دیا تھا لیکن میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ خالق اور ماہرہ کا بریک اپ دوبارہ ایلفی لگا کر کیسے جوڑوں، کیونکہ کل والے لڑکے نے ملاقات کرکے احسن کی بات کو درست ثابت کردیا تھا جبکہ ماہرہ کے آںکھوں کے آنسو مجھے کچھ اور کہانی سنا رہے تھے۔ تب میں نے اپنے دماغ کو ریلیکس کیا اور پیٹ بھر کر ٹفن کھایا اور سلمیٰ کے متعلق سوچنے لگا۔

بریک ختم ہونے سے دو منٹ پہلے خالق نے مجھے گیٹ سے باہر جانے کا بول دیا۔ میں گیٹ سے باہر نکلا اور مطلوبہ جگہ پہنچ کر ماہرہ کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد ماہرہ مجھے کافی دور سے آتی نظر آئی پھر اس نے مجھے اپنے پاس بلا لیا میں اس کی طرف چل دیا تب دل میں کافی اندیشے تھے لیکن میں ماہرہ اور احسن کے بریک اپ کی پوری رام لیلا سننا چاہتا تھا۔

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

ماہرہ کے پاس پہنچ کر میں اس کے سامنے کھڑا ہوگیا تب وہ مجھے اوپر سے نیچے دیکھنے لگی جس پر میں بولا: کیا دیکھ رہی ہو ماہرہ

ماہرہ: یہی دیکھ رہی ہوں کہ مجھ میں ایسا کیا ہے جس کے لیے تمہارے جیسا لڑکا میری خاطر اپنی پڑھائی چھوڑ کر یہاں آگئے ہو

میں: اس طرح سے دیکھا جائے تو یہی سوال میں تم سے کرتا ہوں۔

ماہرہ: یہ تو وقت ہی بتائے گا فلحال میں نے صبح جو بہانہ بنایا تھا اسی پر قائم رہنا میری اس سہیلی کا نام سلمیٰ ہے میں نے اکثر اس کا نام ان کے سامنے لے لے کر تپا رکھا ہے اس لیے یہی نام ہم ان کے سامنے استعمال کریں گے تم سلمیٰ کے کزن بنے رہنا کون سا بل آنا ہے

میں: اچھا ٹھیک ہے

ماہرہ: دوسری بات، میں صرف تمہاری خاطر صبح کے وقت جلدی نکلا کروں گی بریک کے بعد یہاں نہیں ملا کریں گے

میں: ملنا ہے تو احسن سے ملو نا، مجھ میں کیوں دلچسپی ظاہر کررہی ہو؟

ماہرہ: پہلا لڑکا دیکھا ہے جواپنی معشوقہ کو سابقہ عاشق میں دلچسپی ظاہر کروانے کا بول رہا ہے

مجھے ایک زور دار جھٹکا لگا میں سمبھلتے ہوئے بولا: میں تمہاری بات سمجھا نہیں

ماہرہ: پہلی بات، میرے منہ سے اپنی سہیلیوں کے سامنے یہ بات نکل گئی ہے کہ ہم دونوں معشوق بھی ہیں اور دوسری بات، اس مرتبہ وہ دونوں ہم پر نظر بھی رکھیں گی اگر میری عزت پیاری ہے تو میری بات مان کر قدم اٹھاتے رہو گے، اور ہاں، میں احسن کو بھول چکی ہوں کیونکہ اس کی منگنی اس کی دور کی کزن نازیہ سے ہوچکی ہے۔ اس لیے یہ موضوع ختم کرو،

میں: کچھ لڑکے تمہارے متعلق غلط باتیں کرتے رہتے ہیں جس میں احسن بھی شامل ہے، کیا وہ سب کچھ غلط کہتے ہیں یا صحیح؟

ماہرہ: شاید کچھ باتیں سچ بھی ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں انہوں نے تمہیں کیا کیا بتایا ہے لیکن میں آج صاف صاف بتا دوں، مجھے برباد کرنے والا احسن تھا، قسمیں وعدے سب اسی نے کیے تھے جب اپنا مطلب پورا ہوگیا تب اس نے مجھے اپنے دوست خالق سے بھی کرنے کے لیے کہا تھا، میں نے انکار کیا تو اس نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا، ہم سہیلیاں جب بھی گزرتی ہیں تب چاچا ہمیں دیکھ کر مسکرانے لگتا ہے جیسے ہم سربازار ننگی چل رہی ہوں، خالق اور احسن اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ہمارا راستہ بھی روکتے رہے ہیں، احسن یہ سب اپنے لیے کررہا ہوتا تو میں اس سے کبھی بھی بریک اپ نہ کرتی

میں: کل وہ لڑکا کون تھا؟

ماہرہ: مسکان کا بھائی تھا وہ اس کی رپورٹ لینے آیا تھا

میں: رپورٹ سکول والے دیتے ہیں، آج پہلی مرتبہ سن رہا ہوں کہ لڑکیوں کی رپورٹ سکول کے باہر سے ملا کرتی ہیں

ماہرہ: اس وقت بریک ٹائم تھا میں، مسکان، ماورا سکول سے باہر چاچے کی دکان پر آئیں تھیں تب مسکان کا بھائی آیا اور پہلے مسکان سے باتیں کرتا رہا پھر بعد میں اس نے مسکان کو سکول بھیج دیا بعد میں اس نے چند سوال ماورا سے کیے اور پھر مجھ سے، ہم چلتے چلتے وہاں اس جگہ پہنچ گئے تب مجھے یاد آیا کہ چاچے کو پیسے نہیں دیے تو یہاں واپس آکر پیسے دیے۔

مجھے ماہرہ کی بات پر رتی بھر یقین نہیں ہوا تب میں بولا: اب تم کیا چاہتی ہو؟

ماہرہ: میں چاہتی ہوں کہ تم احسن اور اس کے دوستوں سے دور رہو نہیں تو وہ تمہیں پڑھنے نہیں دیں گے۔ سمجھے؟

میں: ٹھیک ہے میں اب چلتا ہوں

ماہرہ: ابھی پانچ منٹ باقی ہے کلاس کے ختم ہونے سے پہلے میڈم کلاس چھوڑ دیتی ہیں تب میں اندر جا سکتی ہوں، تب تک تم رکو۔

میرا ایک دل کیا کہ ماہرہ کی من گھڑت کہانی کی دھجیاں اڑا دوں لیکن پھر کچھ سوچ کر خاموش ہوگیا۔ پانچ منٹ بعد ہم دونوں اپنی کلاس میں پہنچ گئے آج جلدی چھٹی ہوگئی تھی اس لیے میں گھر جلدی پہنچ گیا۔ کچھ دیر ایسے ہی فارغ بیٹھا رہا پھر بار بار سلمیٰ اور نازیہ چاچی کا خیال ذہن میں آنے لگتا جس پر مجھے شہوت طاری ہونے لگا۔ تب میں نے سوچا کہ میں چاچی نازی سے آج یا کبھی بھی سیکس کرلوں تو کون سا سلمیٰ کو علم ہونا ہے، تب سوچتے سوچتے میں چھت پر چلا گیا اور منڈیر پر بیٹھ کر گاوں کا نظارہ کرنے لگا۔ تب ایک طرف کسی کی آواز مجھے سنائی دی، میں اٹھ کر آواز کی سمت گیا تو وہاں ہمارے محلے کے چچا کی بیٹی دیوار کی طرف منہ کرکے بولے جارہی تھی پھر کچھ دیر خاموش رہتی پھر دوبارہ بولنے لگتی، جیسے ہی اس نے مڑ کر آگے پیچھے دیکھا تو اس کی نظر مجھ پر پڑگئی، وہ یک دم سیدھی کھڑی ہوکر مجھے دیکھنے لگی

شاید وحیدہ کی آواز بند ہوجانے پر دیوار کے دوسری طرف جو بھی تھا وہ فوراً وہاں سے رفو چکر ہوگیا تھا اس لیے وحیدہ یک ٹک مجھے ہی دیکھے جارہی تھی پھر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا جہاں امی کھڑی تھی۔ میں نے کچھ دیر ان کی مدد کی اور نیچے چلا گیا۔ شام کو میرا کزن آیا اور مجھ سے بولا کہ باجی آپ کو بلا رہی ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کون سی باجی تب اس نے وحیدہ کا نام لیا۔

میں نے اسے جانے کا بولا اور خود کزن کی بتائی جگہ پر پہنچ کر وحیدہ کو ڈھونڈنے لگا(نظروں سے)، کچھ دور وحیدہ کھڑی ہوئی مجھے ہی دیکھ رہی تھی ہلکا ہلکا اندھیرا ہوچکا تھا، تب وحیدہ نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنے قریب آنے کے لیے کہا، میں ڈرے بغیر اسکی طرف چل دیا۔

وحیدہ کے پاس پہنچ کر مجھے معلوم چلا کہ وہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی، اسے یہ شک تھا کہ میری امی نے ہمیں ایسے چھت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے پکڑ لیا ہے۔ جبکہ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ اس وجہ سے ڈر رہی ہے کہ کہیں میں اس کی حرکت کے بارے میں امی کو یا کسی اور کچھ بتا نہیں دیا تھا؟

میں نے اس کے بازو کو پکڑ کر بولا: اب تو کانپنا بند کردو۔

وحیدہ: مجھے سردی بھی لگ رہی ہے

میں: اچھا، پھر گھر چلی جاو،

وحیدہ: گھر چلی گئی تو اماں خود کسی ہمسائے کے گھر چلی جائیں گی اور مجھے کھانا بنانا پڑے گا۔

میں: پھر ہمارے گھر چلی چلو،

وحیدہ نے اندھیرے میں ہی مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا پھر بولی: ایک کام ہوسکتا ہے

میں: کونسا

وحیدہ نے فوراً مجھے سامنے سے ہگ کرکے بولنا شروع کردیا: اب تم ہلنا نہیں، ورنہ مجھے ٹھنڈ لگتی رہے گی

میں ایک جوان لڑکا، جس نے مسلسل اپنی چاچی کے ساتھ تعلق بنائے رکھا پھر اپنی کزن کو بھی مزہ دیا وہ اچانک ایک جوان لڑکی کے گرم ہوتے جسم کو اپنے جسم سے جڑا ہوا محسوس کرکے کیا کرسکتا تھا؟ جبکہ اس نے سیکس کیے بھی کافی ٹائم گزار دیا تھا۔

کچھ دیر بعد میں بولا: اب تو کانپنا بند کردو۔

وحیدہ: مجھے ابھی بھی سردی لگ رہی ہے

میں زچ ہوتے ہوئے: پھر، میں کیا کروں؟ مجھے چھوڑو، میں تو گھر جاؤں نا۔

وحیدہ مزید مضبوطی سے مجھے پکڑتے ہوئے بولی: ایک اور کام ہوسکتا ہے

میں : جلدی بولو، مجھے سونا بھی ہے

وحیدہ: جیسے جیسے میں کروں گی ویسے ویسے تم بھی کرتے جانا

میں : اچھا ٹھیک ہے

وحیدہ نے آہستہ آہستہ اپنے جسم کو (جو اس وقت کافی گرم تھا) میرے سامنے والے حصے سے رگڑنا شروع کردیا،

وحیدہ: کرو نا۔

میں بھی وحیدہ کی بات سن کر اسی طرح اپنا جسم اس کے گرم جسم کے ساتھ رگڑنے لگا، پھر وحیدہ نے اپنا رخ دوسری طرف کرکے اپنی کمر میری طرف کرکے پہلے صرف کمر رگڑنے لگی بعد میں اپنی بنڈ کو میرے لن پر رگڑنے لگی۔ جس سے نیم کھڑے لن میں مزید جان پڑنے لگی،

وحیدہ جان بوجھ کر بار بار اپنی بنڈ کو میرے لن پر بار بار رگڑنے لگی، پھر وہ آہستہ سے نیچے جھک کر گھوڑی بن گئی اور مجھ سے بولی: کیا سوچ رہے ہو راجہ

میں بھی شہوت کی دنیا میں کشمکش میں مبتلا ہوکر بھٹک رہا تھا تب میں نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنی شلوار کو نیچے کیا اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے وحیدہ کی شلوار کو نیچے کر کے اس کی بنڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا تب وحیدہ بولی: تھوک لگا لینا، سوکھا درد دیتا بھی ہے اور کرتا بھی ہے۔

میں اس کے بوبز دباتے ہوئے: میں نیچے بیٹھ جاتا ہوں تم خود جس طرح کرنا چاہتی ہو کرلو،

وحیدہ فوراً میری بات مان گئی میں دیوار کے ساتھ ٹوہ لگا کر بیٹھ گیا تب وحیدہ چاچی نازی کے سٹائل میں اپنی بنڈ کو باہر نکالا اور میرے لنڈ پر دبانے لگی، کچھ دیر تک میرا لنڈ اس کی پھدی میں غائب ہوچکا تھا۔ وحیدہ بار بار اوپر نیچے ہو کر خود کو تسکین دلوارہی تھی تب میں سرگوشی میں بولا

میں: اور کتنے کتنے یار بنا رکھے ہیں تم نے؟

وحیدہ: پانچواں نمبر تمہارا ہے

میں اس کی بنڈ دباتے ہوئے: ایسا لگتا نہیں، اتنی موٹی بنڈ، شاید بیس پچیس بندوں نے بنائی ہوگی

وحیدہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہانپتے ہوئے بولی: تیری چاچی کی بنڈ بھی پچاس بندوں نے موٹی کی ہے،

میں مزید کچھ بھی نہیں بولا اور چاچی نازی کی بنڈ میں کھوئے ہوئے اپنا پانی وحیدہ کی پھدی میں چھوڑنے لگا جس پر وحیدہ نے مجھے گالیاں دیں اور اٹھ کر سائیڈ پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر ویسے رہنے کے بعد میں اٹھا اور گھر آگیا، پیشاب وغیرہ کرکے خود کو صاف کیا اور کمرے میں آکر لیٹ گیا۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

صبح میری آنکھ اپنے وقت پر کھلی، راستے میں ماہرہ کو متلاشی نظروں سے ڈھونڈتا رہا لیکن وہ نہ ملی البتہ اس کی دونوں سہیلیاں راستے میں ملیں، ہائے ہیلو کے بعد میں سکول روانہ ہوگیا، سارا دن احسن، اسرار کے ساتھ گزرا، پھر واپسی پر کچھ خاص نہیں ہوا۔ شام کے وقت چاچو نے امی کو بولا کہ آج رات ہم نے (چچا کے سسرال) ربیعہ کے گھر رکنا ہے اس لیے عثمان کو نازی کے پاس سونے کے لیے بھیج دینا کیونکہ اب نواز ہفتے میں ایک رات کو آیا کرے گا کپڑے دھلوانے کے لیے۔

امی نے انکار کیا کرنا تھا اس لیے مجھے مجبوراً چاچو کی بات ماننا پڑی اور رات چاچی نازی سے سیکس کرتے ہوئے گزار دی، سیکس کرنے کے بعد چاچی نازی نے شکوے شکایتیں کی، جس پر میں نے ان کو چند ایک دلیلیں دی جس پر وہ مطمین ہو کر ننگی ہی مجھ سے لپٹ کر سو گئی

اگلی صبح میں گھر چلا گیا تب امی نے بتایا کہ انہوں نے آم والے چاچے کے گھر سے دودھ لگوا لیا ہے اور اس ڈیوٹی کو اب تم کو نبھانی ہے کیونکہ فرزانہ تو یہاں ہے نہیں، طاہرہ کو پڑھنا بھی ہوتا ہے اس لیے تم جایا کرو۔

میں نے انکار نہیں کیا اور شام کے وقت ایک کلو اور صبح کے وقت بھی ایک کلو دودھ لانے کی ڈیوٹی مجھے سونپ دی گئی جو پہلے امی، یا باجی خود سرانجام دے لیتی تھیں۔ شام کے وقت میں نے دودھ والی بالٹی (قلمنڈری) اٹھائی اور چاچا ثاقب کے گھر چل دیا۔ چاچا ثاقب اور وحیدہ کے گھر کے درمیان میں آم آتا تھا جس سے فائدہ اٹھانے کی سوچ کر میں نے امی کو انکار نہیں کیا تھا اس لیے آج میں نے مکمل جائزہ لینے کا سوچ لیا۔ راستے میں جاتے ہوئے میں نے مکمل اندازہ لگالیا تب مجھے وحیدہ کسی لڑکی کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ وحیدہ نے مجھے دیکھ کر پہلے آگے پیچھے نظر گھما کر دیکھا پھر وہ مسکرانے لگی جس پر میں بھی مسکراتے ہوئے اس کے قریب سے گزر گیا۔

میں سیدھا چچا ثاقب کی چارپائی پر ان کے ساتھ جا بیٹھا، وہ اس وقت حقہ پی رہے تھے، ایک چھوٹی سی بچی میرے پاس آئی اور بالٹی لے کر چونترے پر چلی گئی۔ پھر جب وہ واپس آتی تب تک چاچا میرے دماغ کی دھی کرچکے تھے۔ باتوں میں معلوم چلا کہ وحیدہ کی ان کی بہو (حرا) سے کافی بنتی ہے۔ حرا: انیس بیس سال کی لڑکی، ایک بچی کی ماں، جو اس کے بھائی نے اسے دی کیونکہ وہ بانجھ تھی۔ پہلے پہل تو اس مسئلے کی وجہ سے کافی لڑائیاں ہوئی پھر بعد میں حرا کے بھائی نے بڑا پن دکھاتے ہوئے اپنی بچی کو اپنی بہن کی گود میں ڈال دیا جس کی وجہ سے بڑی لڑائیاں ختم ہوگئی۔

پہلے دن کوئی خاص بات نہ بنی لیکن جاتے جاتے وحیدہ اور حرا کی دوستی کا جان کر میں دل ہی دل میں خوش ہوا کیونکہ اگر میں نے وحیدہ کو خوش رکھا تو حرا اپنے آپ مجھ سے چدوانے کے لیے تیار ہوجائے گی کیونکہ اس بات کے لیے میں وحیدہ کو لازماً منا لوں گا۔

اگلے دن، شام کے وقت میں دوبارہ دودھ لینے گیا تب چاچے نے مجھے خود یہ مشورہ دیا کہ میں حرا کے قریب کھڑا ہوکر دیکھوں کہ وہ کتنا دودھ ڈالتی ہے؟ جس پر میں خوش بھی ہوا۔ میں ویسے بھی ایسا موقعہ تلاش کررہا تھا۔ میں فوراً حرا کے پاس چلا گیا، وہ ابھی ہانڈی بنا رہی تھی جس کی وجہ سے دودھ نہیں ڈالا تھا۔ میں نے آگ کی روشنی میں اس کے چہرے کو دیکھنے لگا، حرا قابل قبول لڑکی تھی، اس وقت میرے نزدیک اس کے بوبز صرف بتیس کے تھے، کمر کافی پتلی تھی شاید چھبیس کی تھی گانڈ کا سائز میں نے دیکھا نہیں کیونکہ وہ اس وقت بیٹھی ہوئی تھی لیکن بعدازاں مجھے معلوم چل گیا اس لیے پہلے بتا دیتا ہوں اس کی گانڈ کا سائز بتیس تھا۔ چاچی نازی کے علاوہ کسی دوسری لڑکی کو دیکھنے کے بعد میرا نظریہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا گیا۔

حرا مجھے یوں یک ٹک دیکھتے ہوئے تھوڑا سا ھجل محسوس کیا پھر آہستہ سے بولی: کیا دیکھ رہے ہو عثمان؟

میں نظریں نلکے کی طرف گھماتے ہوئے بولا: سوچ رہا ہوں تمہیں آپ کہہ کر مخاطب کروں یا تم کہہ کر، کیونکہ ۔۔۔(اتنے میں وحیدہ بھی وہاں آگئی جس پر میں نے بات مکمل نہیں کی)

وحیدہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی پھر چاچے کی طرف دیکھ کر سرگوشی میں بولی: کل کی طرح جلدی بھاگ مت جانا

میں: کیوں؟ کسی سے ملوانا ہے؟ (میں نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا)

مجھے کل شام ہی شک ہوگیا تھا کہ حرا اور وحیدہ دونوں کی آپس میں کافی بنتی ہے، وہ ایک دوسرے کی راز دار ہوسکتی ہیں کیونکہ جس انداز میں وہ کھڑی باتیں کررہی تھی جس کی وجہ سے مجھے شک ہوگیا تھا)

وحیدہ مسکراتے ہوئے: ہاں اگر اس بندے کو رتی بھر بھی دلچسپی ہوئی تو

میں (حرا کی طرف دیکھتے ہوئے): ویسے اس بندے کو بندہ ناچیز کے متعلق کیا کیا بتایا ہے؟ اگر آخری منظر سنادیتی تو وہ چاچے کا بھی لحاظ نہ کرتا۔

ہم تینوں مسکرانے لگے، ہماری باتوں کی وجہ سے حرا کی ہانڈی کو ہلکا سا آنچ زیادہ لگ گیا جس کی وجہ سے بو پیدا ہوئی، تب میں بولا: میرے پاس صرف پانچ سے دس منٹ ہیں تم اپنے بندے کو بول کر آجانا کہ وہ اپنی ہانڈی کی طرح دور سے دیکھ دیکھ کر مت جلے گی، پاس آجائے تو زیادہ بہتر رہے گی

میں نے فوراً دودھ کی بالٹی اٹھائی اور دھیمے قدموں سے گھر سے باہر نکل آیا۔ گھر سے باہر نکل کر میں نے آم کی طرف رخ کیا جہاں میرے پہنچنے سے پہلے ہی وحیدہ پہنچ چکی تھی، اگر میں چاہتا تو میں شارٹ کٹ راستے سے آبھی سکتا تھا لیکن میں نے عام گزر گاہ استعمال کی، اندھیرا ہوچکا تھا جس پر میں مطمین ہوکر وحیدہ کی طرف چل دیا۔ وحیدہ نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑا اور آم کے نیچے لے گئی۔

وحیدہ: تم حرا کے سامنے ایسی باتیں کیوں کررہے تھے؟

میں بالٹی کو نیچے رکھ کر اس کے بوبز کو دباتے ہوئے بولا: کڑی چود سے ایسی باتیں نہ پوچھا کرو

وحیدہ میری شلوار کو نیچے کر کے میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر بولی: اگر اس کو میں نے سب کچھ نہ بتایا ہوتا تو اس نے چاچے کو آواز دے دینی تھی۔

میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کو آگے بڑھا کر اس کی شلوار کو نیچے کردیا اور کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے نیچے جھکانے لگا جس پر وہ خاموشی سے نیچے جھک گئی۔ میں نے اپنے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے وحیدہ کی بنڈ کو پکڑ کر اپنے قریب کرتے ہوئے بولا: اس کو کب لا رہی ہو یہاں؟

وحیدہ اپنی پھدی پر تھوک لگاتے ہوئے بولی: پہلے اندر ڈالو پھر بتاتی ہوں، مجھے گھر بھی جانا ہے

میں نے تین جھٹکوں میں اپنا لنڈ اندر ڈالتے ہوئے بولا: اب بولو بھی

میں مسلسل جھٹکے لگائے جارہا تھا تب وحیدہ بولی: چچا رات کو جلدی سو جاتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے کمرے میں اکیلے ہوتی ہے بس ڈر ایک بات کا ہے، اس کی بیٹی شور نہ ڈال دے۔

میں نے اپنی رفتارکو لگام لگا کر آم کے درخت سے ٹیک لگاتے ہوئے کھڑا ہوگیا جس پر وحیدہ اپنی بنڈ کو میرے لنڈ پر مارنے لگی، تب میں بولا: اس کی بیٹی کو کوئی ٹافی شافی کھلا کر چپ بھی کروایا جاسکتا ہے ، تم کیا کہتی ہو؟

وحیدہ سسکتے ہوئے: دو چار دن ایسے ہی گزارو، اس متعلق تمہیں جلد بتا دوں گی، آج میرے اندر فارغ نہ ہونا، یہاں پانی نہیں ملے گا

میں: جب تک حرا کی بات فائنل نہیں کرو گی تب تک تمہارے اندر ہی فارغ ہوتا رہوں گا۔

وحیدہ: پلیز مان جاو نا آج نہیں۔

میں نے فوراً اس کی بنڈ کو مضبوطی سے تھام لیا اور خود جھٹکے لگانے لگا جس پر ہم دونوں کی سانسیں مزید اکھڑ گئی اور میں اپنی منی وحیدہ کی پھدی میں چھوڑنے لگا وحیدہ نے فوراً اپنے ہاتھ کو اپنے منہ پر رکھ لیا۔ اس طرح ہم نے اس شام تسکین حاصل کی میں اپنے گھر وحیدہ کو اس آم کے نیچے چھوڑ کر آگیا۔

اگلی صبح میں دوبارہ دودھ لینے گیا تب ہلکی ہلکی سردی تھی جس کی وجہ سے چچا اندر تھے اور حرا کی بیٹی بھی اندر شاید سو رہی تھی کیونکہ اگر جاگ رہی ہوتی تو وہ حرا کے پاس ہوتی یا اپنے دادا جانی کے پاس، لیکن آواز نہیں تھی جس پر یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ حرا کی بیٹی سورہی ہے

میں حرا کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا: کل بندے دور دور سے ہمیں دیکھ کر واپس چلے گئے، ایسا کیوں؟

حرا بھی مسکرا کر مجھے دیکھ کر بولی: بندوں کو کل ڈر تھا کہ کہیں دوبارہ ہانڈی جل نہ جائے اس لیے پاس نہیں آئے

میں: اچھا ابھی مجھے دودھ ڈال دو، مجھے سکول بھی جانا ہے

حرا نخرا کرتے ہوئے: آکر خود نکال لو، مجھے تو ابھی پانی بھی بھرنا ہے، گوبر ہٹانی ہے پھر جا کر دودھ میل کر دوں گی

میں نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی پھر آگے بڑھ کر تھوڑا جھک کر بولا: سچ میں نکال لوں؟ یہ نہ ہوکہ اس وقت بندے برا مان جائیں جیسے بھینسیں برا مان جاتی ہیں جب کوئی پرایا ان کو ہاتھ لگاتا ہے

حرا مجھے سائیڈ پر کرتے ہوئے بولی: ہم ان بندوں میں سے نہیں جو ہر کسی سے ہاتھ لگواتے رہیں۔

پھر اس نے فوراً اپنی بھینس کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی: ہیں نا ؟؟؟

جس پر بھینس نے اپنا سر اوپر نیچے کر کے ہلا دیا ہم دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔ حرا اپنے ہاتھوں سے بھینس کو تھنوں کو دھوتے ہوئے تھوڑا سا جھکی جس پر اس کی گانڈ تھوڑا سا ظاہر ہوئی جس پر میرے لنڈ نے ہلکا سا جھٹکا کھایا۔

میں اب حرا کی گانڈ کو دیکھے جارہا تھا تب کہیں سے وحیدہ ہمارے پاس آدھمکی اور بولی:حرا ویسے ہر بندے کو ہماری ایک ہی چیز کیوں پسند ہوتی ہے؟

حرا نے جھکے ہوئے میری طرف دیکھا میں فوراً بولا: تم کب آئی؟

وحیدہ نے میرے پاس سے گزرتے ہوئے کہا: جب تم میری بیسٹ فرینڈ کی خاص چیز کو گھور رہے تھے تب

میں: تم ہماری جاسوسی کررہی تھی؟

وحیدہ نے چاچے کی کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے میرے نیم کھڑے لنڈ کو پکڑ کر دباکرچھوڑتے ہوئے بولی: آئیندہ میری بیسٹ فرینڈ پر نظر مت ڈالنا،

(حرا اتنی دیر میں نیچے بیٹھ کر دودھ نکالنے میں بزی ہوچکی تھی تب دوبارہ وحیدہ بولی)

تم حرا کو بھول جاو نا۔ وہ تمہیں دانہ نہیں ڈالے گی

میں: وہ دانہ ڈالے یا نہ ڈالے اس کی مرضی، ویسے بھی دانہ اسے ڈالا جاتا ہے جو دانہ کھالے ویسے بھی میں مرغا نہیں ہوں، انسان ہوں۔

حرا نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا تو میں بھی مسکرادیا۔ جس پر وحیدہ شاید تھوڑی سی جلی، کیونکہ عورت کے سامنے دوسری عورت کی ہلکی سی بھی تعریف کردیں تو پہلی والی جل جاتی ہے۔

وحیدہ: تم سکول چلے جاو، میں دودھ گھر دے جاؤں گی۔

میں: میرا تو آج یہی رہنے کا ارادہ ہے، انسانوں والا دانا کھانے کا دل ہے

اس بات پر وحیدہ اپنا پاؤں پٹخ کر وہاں سے نلکے کی طرف چل دی، تب حرا بولی: کچھ باتیں اپنے دل میں بھی رکھا کرو عثمان۔ کچھ بندے ٹھیک نہیں ہوتے،

میں نے وحیدہ کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولا: پھر تم نے اپنی خواہشات کا اظہار اس غلط بندے سے کیوں کیا؟

حرا: بس مجبوری میں ایسا کرنا پڑ جاتا ہے، یہ لو دودھ، شام کو گھر دودھ دے کر واپس آجانا، ٹھیک آٹھ بجے،

میں بالٹی اٹھاتے ہوئے: اور تمہاری بیٹی؟

حرا:وہ آج رات اپنی ماں کے پاس ہی سوئے گی لیکن اس کی ماں انسان کے پاس سوئے گی

میں حرا کی بات سن کر مسکرا دیا اور گھر چلا گیا، سکول جاتے ہوئے مجھے ماہرہ ملی لیکن وہ کچھ اکھڑی اکھڑی ہوئی تھی جس پر میں نے اس سے کوئی خاص بات نہیں کی، پھر شام کو دوبارہ دودھ لینے گیا تب وحیدہ وہیں موجود تھی لیکن میں نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔ دودھ لے کر میں گھر آگیا تب میں سوچنے لگا کہ رات کو کیسے گھر سے نکلوں؟ تب میں نے بڑی ہمت جمع کرکے ٹھیک آٹھ بجے اپنا بستر چھوڑا اور حرا کے گھر کی طرف چل دیا۔

میں ابھی آم کے نیچے سے گزر کر نلکے تک پہنچا تھا کہ مجھے ایک کمرے کے سامنے ایک سایہ نظر آیا جس پر میں رک گیا میں کافی دیر تک کھڑا رہا پھر اس سایہ کو مسلسل دیکھنے کے بعد (جائزہ لینے کے بعد) میں نے ایک مرتبہ پھر اپنے قدم حرا کے کمرے کی طرف بڑھا دیئے۔

میں نے اپنی ایک انگلی سے دروازے پر ہلکا سا دباؤ ڈالا جس پر دروازہ بغیر آواز کے ہلکا سا کھل گیا، پہلی مرتبہ کسی کاروائی پر آیا تھا دل بری طرح دھڑک رہا تھا، میں بغیر آواز پیدا کیے کمرے میں داخل ہوگیا۔ سامنے ایک چارپائی اور کھڑکی کے پاس دو کرسیاں اور بیڈ لگاہوا تھا میں نے چارپائی پر نظر ڈالی جہاں بچی سو رہی تھی جبکہ بیڈ پر کوئی بھی نہیں تھا۔

میں نے احتیاط سے دروازہ بند کیا اور آگے بڑھا تبھی حرا باتھ روم سے باہر نکلی جو اس وقت ایک بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر مسکرائی اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بیڈ پر بیٹھ گیا تب اس نے نائٹ بلب آن رکھ کر سو واٹ کے بلب کو بند کردیا۔ پھر میری طرف بڑھی۔

میں نائٹ بلب کی ہلکی روشنی میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا، تب وہ بیڈ پر آکر میرے سامنے بیٹھ گئی اور سرگوشی میں بولی۔ میں سوچ رہی تھی کہ تم نہیں آو گے اس لیے میں نے کوئی خاص تیاری نہیں کی،

میں نے پہلے خود کو فوراً ریلیکس کیا اور دھیمی آواز میں بولنا شروع کیا: میں بھی آج پہلی مرتبہ کسی سے ملنے کے لیے ایسے گھر سے باہر آیا ہوں، اس لیے ڈر بھی لگ رہا ہے اب آگے بتاو اگر تمہاری بیٹی جاگ گئی تو وہ شور مچا دے گی یا پھر صبح مجھے دیکھتے ہی چچا ثاقب کو بتا دے گی

حرا صحیح سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی: میں نے اس کا انتظام لائٹ بند کرکے کردیا ہے تاکہ اسے کچھ نظر نہ آسکے۔

میں نے فوراً اپنے جوتے اتار اور بیڈ پر سیدھا ہوکر بولا: جلدی سے کپڑے اتارو مجھے گھر بھی جانا ہے

حرا نے بغیر کچھ کیے بیڈ پر لیٹ گئی تب میں نے اس کی طرف دیکھا تو میری آنکھیں مزید کھل گئی کیونکہ حرا نے اپنی چادر کو ہٹا دیا تھا لیکن نیچے سے نکالا نہیں تھا، حرا چادر کے اندر مکمل ننگی تھی۔ میرا لنڈ یہ منظر دیکھ کر کھڑا ہونے لگا۔

میں نے فوراً اپنی شلوار اتار کر سائیڈ پررکھ دی اور حرا کے جسم کے اوپر آیا اور کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا: یہ سب کیا ہے؟

حرا نے اپنے ناف پر میرا آدھ کھڑا لنڈ محسوس کرکے میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی پھدی پر مسلنے لگی، حرا: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وحیدہ مجھے ایک اچھے لڑکے کا بتائے اور میں اس لڑکے کے لیے تیار نہ ہوں۔ آج تم نہ بھی آتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

میں اس کے کان کو کس کرتے کرتے تھوڑا سا اوپر اٹھا اور ایڈجسٹ ہوتے ہوئے اپنے لنڈ کو حرا کی پھدی میں ڈالنے لگا جس پر حرا نے میرے پیٹ پر اپنا ہاتھ رکھ کر آہستہ سے بولی: دو ماہ سے اس نے کچھ بھی نہیں لیا سوائے وحیدہ کی انگلی کے۔

میں نے مزید بات کرنے سے روکنے کے لیے اپنے ہونٹ حرا کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور آہستہ آہستہ اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا جس پر وہ اسی طرح کس کرکے رسپانس دینے لگی۔ میں نے اس دوران اپنا آدھا لنڈ اس کی پھدی میں ڈال دیا تھا، جس کا مجھے بری طرح احساس ہونے لگا کیونکہ اس کی پھدی کی گرفت چاچی نازی، اور وحیدہ سے کافی سخت تھی بلکہ چاچی نازی اور وحیدہ کی پھدیوں میں ایک ہی جھٹکے میں میرا لنڈ چلا جاتا تھا جبکہ یہاں معاملہ الگ تھا۔

حرا نے اپنے ہاتھوں سے میری پیٹھ کو سہلانا شروع کردیا جس کی وجہ سے مجھے مزید مزہ آنے لگا، میں نے اپنے لنڈ کو مزید آگے بڑھانے سے روکا اور اسی مقام پر پھدی میں اپنے لنڈ کو آگے پیچھے کر کے پھدی میں جگہ بنانے لگا۔ آہستہ آہستہ حرا کی پھدی نے پانی نکالنا شروع کردیا تھا جس کی مدد سے میرا لنڈ مزید آگے بڑھا جس پر حرا نے فوراً میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کیا اور سرگوشی میں سسکتے ہوئے بولی: مزید آگے نہ کرنا، مجھے درد ہوگا

میں اس کی بات مان کر اتنی ہی جگہ اپنے لنڈ کو آگے پیچھے کرنے لگا، تب حرا ریلیکس ہوکر میرا ساتھ دینے لگا، جس پر میں نے نرمی سے اپنے لنڈ کو مزید آگے کی طرف دھکیلا، حرا کے منہ سے تیز لیکن دھیمی سسکاری نکلی جس پر میں نے اپنے لنڈ کو اسی مقام پر روک لیا۔

حرا ریلیکس ہونے کے بعد: عثمان۔۔۔ بولا بھی تھا مزید آگے مت کرنا، پھر بھی

میں حرا کے گال چومتے ہوئے بولا: میں اپنی دودھ والی کو مکمل چدائی کا مزہ دینا چاہتا ہوں۔ اگر تم اس مزے سے آشنا ہونا نہیں چاہتی تو بولو، میں رک جاتا ہوں

حرا کچھ لمحات کے بعد بولی: اگر زیادہ درد ہوا تو میں روک دوں گی تو تمہیں رکنا پڑے گا۔ سمجھے؟

میں اس کے بوبز کو کس کرکے بولا: میں کوئی جانور نہیں جو ایک یا دو جھٹکوں میں اپنا جوش نکال دوں۔ آرام سے ہی کروں گا بے شک وحیدہ سے پوچھ لو

حرا میری کمر پر ہاتھ کی انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی: اس کی باتوں کو سن کر ہی یہ فیصلہ کیا تھا ورنہ کوئی میری طرف ایسے دیکھ نہیں سکتا

میں: اب خود کو تیار کرلو

حرا نے فوراً اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کر میرے لنڈ کو راستہ دیا میں نے پہلے پہل اسی مقام تک اپنے لنڈ کو آگے پیچھے کرتا رہا پھر آہستہ آہستہ اس کو مزید آگےکرنے لگا جس پر وہ سسکنے لگی۔ میں اس دوران رکتا بھی اور اس کے گالوں اور ہونٹوں کو چومتا اور اس کو مزید برداشت کرنے کا بولتا۔ میں ساتھ ساتھ سوچ بھی رہا تھا کہ اگر اس لڑکی کا راستہ یہاں تک تھا تو اس نے اس کا ذکر اپنی بھابھی یا وحیدہ سے کیوں نہیں کیا؟ اٹھارہ سال کی عمر میں شادی ہوجانا پھر اچانک سے بانجھ ہونے کا الزام لگا کر بے اولاد رکھنا، سراسر ناانصافی تھی۔ میں نے کچھ دیر تک اپنے لنڈ کو حرا کی تنگ پھدی میں ڈال دیا تھا، جس پر حرا لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔ میں کچھ دیر رکا اور اپنا وزن حرا کے جسم پر چھوڑ دیا۔ تاکہ میں خود بھی ریلیکس ہوسکوں اور حرا کو اپنا لنڈ اس کی پھدی میں محسوس کروا سکوں۔

میں اس وقت تک حرا کے اوپر لیٹا رہا جب تک حرا نے کوئی حرکت نہ کی، جیسے ہی حرا نے مجھے کس کرنا شروع کیا میں نے اپنے جسم کو آگے پیچھے کرکے حرا کی چدائی شروع کردی۔ یہ میری سلو سیکس کی پہلی سیڑھی تھی جس پر میں آج قدم رکھ چکا تھا۔

ہمیں کوئی احساس نہیں تھا کہ ہمیں سیکس کرتے کتنے دیر ہوچکی ہے اس سب کے دوران حرا دو دفعہ ڈسچارج ہوچکی تھی اس بات کا علم مجھے اس لیے تھا کہ مجھے حرا نے دو مرتبہ یہ کہہ کر روکا کہ اسے ہلکی ہلکی جلن محسوس ہورہی ہے۔

پھر تیسری مرتبہ جب میں نے اسی انداز میں اپنے جسم کو رگڑنا شروع کیا تو تب حرا بولی: میں اس طرح تھک گئی ہوں صبح اٹھنا بھی ہےاور وحیدہ کو شک نہ ہو کہ ہم رات کو مل چکے ہیں اس لیے اب بس کرو یا طریقہ تبدیل کرو۔

میرے پاس دو یا تین طریقے تھے میں نے پہلا طریقہ آزما لیا تھا اب دوسرا طریقہ یہی تھا کہ خود بیڈ سے اتر کر کھڑا ہوگیا اور حرا کی ٹانگیں پکڑ کر اپنے لنڈ کو آگے پیچھے کرنے لگا ایسے کرتے کرتے میں نے حرا کی ٹانگیں کچھ دیر بعد کھول کر دائیں بائیں کردیں اور اپنے جھٹکوں کو ہلکا سا تیز کردیا۔

پندرہ بیس جھٹکوں کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں فارغ ہونے کے قریب ہوں تبھی حرا نے بھی اشارہ دے دیا کہ وہ بھی فارغ ہونے والی ہے، میں نے خود کو اس کے چہرے پر جھکا کر اس سے پوچھا: جلدی سے بتا دو، میں کہاں فارغ ہوں؟

حرا میرے جسم سے جڑتے ہوئے بولی: اندر ہو جاو

مجھے پورے سیکس میں آخری لمحات زیادہ مزے دار لگتے تھے، میں نے اپنے جھٹکوں میں ویسا ہی اعتدال رکھا اور حرا کی پھدی میں فارغ ہونےلگا، حرا وحیدہ کی طرح چیخنا چاہتی تھی لیکن میں نے یہ تجربہ پہلے بھی کرچکا تھا، اس لیے فارغ ہونے سے چند سیکنڈز پہلے اپنے ہونٹوں کو حرا کے ہونٹوں سے زبردستی جوڑ لیا تھا۔

آج میری منی کافی دیر تک حرا کی پھدی میں گرتی رہی، پھر اس کے بعد ہم الگ ہوئے حرا لمبے سانس لیتی رہی، میں نے کچھ دیر بعد اپنی شلوار پہنی اور اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں پہنچ گیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

اگلی صبح میری آنکھ ذرا دیر سے لیکن اتنی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی، میں نے منہ ہاتھ دھوئے اور دودھ لینے چل دیا، آج وحیدہ مجھے کہیں نظر نہیں آرہی تھی میں معمول کے مطابق سیدھا حرا کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اور باتیں کرنے لگا، حرا آج ایک الگ ہی ترنگ میں کام میں جتی ہوئی تھی، میں نے اس کی وجہ نہیں پوچھی کیونکہ وہ وجہ میں ہی تھا۔

اس نے رات کو پھر سے آنے کا بول کر مجھے سکول روانہ کردیا، راستے میں بھی بڑا خوش تھا کیونکہ مجھے تنگ یا کھلی ہوئی پھدی کا رتی بھر احساس نہیں ہوتا تھا، آج رات کی کاروائی سے مجھے یہ احساس ہوگیا کہ جس کی بھی پھدی تنگ ہوگی مجھے اتنا ہی زیادہ مزہ آئے گا۔

میں نے راستے میں ماہرہ سے بات کرنے کی زیادہ کوشش نہیں کی، اب اس سے مزید بات کرنے کا میرا بھی دل نہیں کرتا تھا۔ شاید اس نے پہلے ہی دن مجھ سے جھوٹ بول کر خود کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

سارا دن پڑھائی کے ساتھ ساتھ میں حرا کے ساتھ گزاری ہوئی رات کو یاد کرکے گرم ہوتا رہا لیکن دن کے وقت میں کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا اس لیے مجبوراً مجھے اپنا دھیان اپنی پڑھائی پر لگانا پڑا۔

گھر آیا تو معلوم چلا کہ ابو نے باجی فرزانہ کو وہیں مزید پڑھنے کے لیے داخل کروا دیا ہے، جبکہ کچھ دن دور کے دادا ابو کے پاس رہ کر آج واپس آرہے ہیں۔ میں کچھ لمحوں کے لیے چپ ہوگیا کیونکہ باجی میرا امی، اور باجی طاہرہ سے زیادہ خیال رکھتی تھیں،

شام کو معمول کے مطابق میں دودھ لینے گیا تو راستے میں آم کے نیچے وحیدہ کھڑی نظر آئی میں نے اسے دور سے ہی سمائل پیش کی اس نے بھی جواب میں سمائل دی تب میں اس کے قریب سے گزرتے ہوئے سرگوشی میں کہا: کیا ارادے ہیں؟

وحیدہ: فلحال کوئی ارادہ نہیں ہے میں ماموں کے گھر جانے والی تھی سوچا کہ تمہیں بتا کر جاؤں

میں نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی پھر آگے بڑھ گیا کیونکہ کچھ لوگ ابھی بھی کھیتوں میں کام رہے تھے اس لیے میں انہیں شک میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ میں خود بھی جانتا تھا کہ وحیدہ نے جن چار لڑکوں سے مروا رکھی ہے ان میں سے چند ایک اسی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں باقی کے باہر سے ہوں گے، اگر ان کی زبان سے وحیدہ کے متعلق کچھ نکل گیا تو پکا اس میں بھی پھنس سکتا تھا اس لیے احتیاط کے طور پر میں وحیدہ سے دور دور رہا،

حرا نے آج معمول کے مطابق کھانا بنانا شروع کردیا تھا تب ہم پہنچے تو اس نے وحیدہ کو بھینس اندر باندھنے کا بول کر تنہائی حاصل کرلی تب میں بولا: آج تو جناب ایک الگ ہی ترنگ میں ہیں، میرے خیال میں، آج بندوں کو پرہیز کرنا چاہیے

میرے تنگ کرنے پر حرا نرمی سے بولی: آج اگر بندے نہ آئے تو میں خود آجاؤں گی بندوں کو دانہ کھلانے

میں نے ایک نظر وحیدہ کی طرف ڈالی جو دروازے پر کھڑی ہوکر مجھے اندر بلانے کیلئے اشارے بازی کررہی تھی تب میں حرا سے بولا: مجھے تو فلحال کوئی اور دانہ ڈالنے کے لیے بلا رہا ہے جلدی بتاو میں اس دوسرے بندے کے پاس جاؤں یا نہیں

حرا نے سر گھما کر وحیدہ کو دیکھا پھر مجھ سے بولی: نہ جاو

میں: پھر جلدی سے دودھ ڈال دو، بہانہ لگا کر میں گھر جا سکتا ہوں

حرا نے میری بات مانتے ہوئے فوراً دودھ ڈالا اور مجھے دے دیا اور میں بے چارگی والا منہ بنا کر وحیدہ کی جانب دیکھا پھر گھر کی طرف چل دیا۔ رات تک میں اپنی فیملی میں رہا، پھر سونے کے لیے اپنے کمرے میں آگیا، کچھ دیر پڑھائی کی پھر سوچنے لگا کہ مجھے ان سب کاموں میں مزید آگے نہیں جانا چاہیے۔ لیکن دل بول رہا تھا کہ جیسا چل رہا ہے چلنے دو۔ بلاخر دل کی جیت ہوئی اور میں ایک مرتبہ پھر حرا کے کمرے میں پہنچ کر حرا کی اسی انداز میں چدائی کرنے لگا لیکن فرق بس اتنا تھا کہ کل مجھے محنت زیادہ کرنا پڑی تھی اور آج مجھے محنت کم اور مزہ زیادہ مل رہا تھا۔

آج حرا کل کی نسبت زیادہ ساتھ دے رہی تھی، آج میرا لنڈ کل نسبت آسانی سے اندر باہر ہورہا تھا لیکن پھر بھی حرا کی پھدی میرے لنڈ کو پورے سیکس میں جھکڑے رہی، میں ایک مرتبہ پھر حرا کی پھدی میں فارغ ہوگیا، ہم کچھ دیر تک ایک دوسرے میں سمائے ہوئے دو جسم ایک جاں بنے رہے، میں نے حرا کے متعلق سوچ کر خود کو حرا کے جسم سے اتار کر بیڈ پر لیٹا لیا۔

حرا کچھ لمحوں کے بعد اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی کچھ دیر بعد وہ کپڑے پہن کر میرے ساتھ لیٹ کر مجھے دیکھنے لگی۔ میں نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے چھیڑنے لگا، تب حرا نے سرگوشی کی: اب ہمیں صبح بھی موقعہ مل جایا کرے گا اگر تم صبح جلدی سے باڑے میں آجایا کرو تو

میں: کل بھی میں لیٹ جاگا تھا، اگر رات کو کر کے جاؤں گا تو صبح آنکھ کھلنی نہیں اور صبح صبح کیسے آؤں گا۔

حرا میری ننگی چھاتی پر اپنی انگلیاں گھماتے ہوئے بولی: مجھے کچھ معلوم نہیں، صبح کا بولا ہے تو صبح لازمی آنا ہے

میں نےفوراً حرا کو اپنے اوپر کھینچ کر اس کے کان میں کہا: اگر نہ آؤں تو؟

حرا نے فوراً چھوٹی سی چٹکی میرے بازو پر کاٹتے ہوئے کہا: اگر نہ آئے تو میں نے ناراض ہوجانا ہے

میں: اچھا بابا صبح جلدی آنے کی کوشش کروں گا، اب میں گھر جاسکتا ہوں یا نہیں؟

حرا مستی میں: فلحال میرا تو کوئی ارادہ نہیں، اگر تمہیں جلدی ہے تو جا کر دیکھاؤ

میرے آدھے کھڑے لنڈ کو اپنی چوت پر محسوس کرکے حرا فوراً میرے جسم سے اتر کر بیٹھ گئی اور بولی: اس نے تو سچ میں برا منا لیا ہے، جانا ہے تو جاو

میں مسکراتے ہوئے اٹھا اور کپڑے پہن کر میں اپنے گھر آگیا، ہمارے درمیان جتنی بھی گفتگو ہوتی وہ زیادہ تر سرگوشی میں ہوتی اور منہ سے نکلنے والی سسکاریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہم یا تو کس کرلیا کرتے تھے، یا پھر منہ پر ہاتھ رکھ لیا کرتے تھے۔

صبح جلدی جاگنے کا سوچ کر میں سو گیا ہوا بھی ایسا ہی میں جلدی جاگ گیا۔ میں نے بالٹی پکڑی اور دودھ لینے چل دیا، میں نے حرا کے بتائے ہوئے منڈے پر پہنچ کر ایک بار چاروں طرف دیکھا پھر بھینس کے باڑے میں گھس گیا جہاں حرا مجھ سے پہلے ہی کھڑی انتظار کررہی تھی۔ مجھے اندر داخل ہوتے دیکھ اس نے فوراً مجھے اپنے قریب بلایا اور سائیڈ پر پڑے گھانس پر چادر ڈالنے کا کہا، میں نے اس کے ہاتھ سے اس کی چادر لی اور گھانس پر بچھا کر اس کی طرف دیکھنے لگا،

حرا نے فوراً باڑے کے دروازے کو بند کیا لیکن مکمل بند نہ کیا کیونکہ ایمرجنسی میں باہر نکلنے کا راستہ رکھ لیا تھا۔ حرا جب تک واپس آتی میں نے دودھ والی بالٹی کو اس کی بڑی بالٹی کے پاس رکھ دیا۔

حرا میرے پاس گزرتے ہوئے چادر پر لیٹ گئی اور لیٹے ہوئے ہی اپنی شلوار کو نیچے کردیا، میں نے آگے بڑھ کر اس کی شلوار اس کی ٹانگوں سے علیحدہ کردی۔

میں آہستہ آہستہ اس پر جھکتے ہوئے اس کے چہرے کو چومنے لگا، اس نے پہلی مرتبہ اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر میرے آدھ کھڑے لنڈ کو پکڑ کر مسلنے لگی جس کی وجہ سے مجھے ڈر کے ساتھ ساتھ مزید شہوت بھری سوچیں ذہن میں آنے لگی،

میں نے اپنے ایک ہاتھ کو آگے بڑھا کر حرا کی قمیض کو اوپر تک اٹھا دیا جس پر حرا نے فوراً اپنی قمیض کو پکڑ لیا۔ میں فوراً حرا کے جسم کے اوپر پیٹ کے بل لیٹ کر اپنے دوسرے ہاتھ سے لنڈ کو حرا کی پھدی میں ڈالنے لگا، جیسے ہی میرے لنڈ کی ٹوپی حرا کی پھدی کے اندر گئی اسی وقت اس کے جسم کو ہلکا سا جھٹکا لگا۔

میرا ایک حرا کی چادر پر ٹکا ہوا تھا، جیسے ہی لنڈ اندر داخل ہوا میں نے دوسرے ہاتھ کو حرا کے بوبز پر رکھ کر دبانا شروع کردیا اور نرمی سے اپنے لنڈ کو آگے پیچھے کرنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ میری رفتار تیز ہونے لگی جس پر حرا کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی یہاں حرا کو کسی کے آنے کا ڈر نہیں تھا اس لیے اس نے اپنی لذت بھری سسکاریوں پر کنٹرول نہ کیا۔

بھینس سر گھما گھما کر ہماری طرف بار بار دیکھ رہی تھی، مجھے یہ دیکھ کر کافی مزہ آیا کہ ایک مذکر دو مونث کے درمیان موجود ہے اور پہلی والی مونث مزے لے رہی ہے اور دوسری جل رہی ہے۔

حرا نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر پر باندھ لیا جس پر میں نے اپنی سپیڈ کو آہستہ کرلیا۔ حرا سسکتے ہوئے بولی: تمہارے جانے کے بعد مجھے نیند نہیں آتی عثمان۔

میں نے اپنے ہونٹ اس کے گالوں پر رکھ کر چومتے ہوئے بولا: میری ہر صبح رات کی سہانی یاد میں کھڑا ہوجاتا ہے، بس ڈر لگا رہتا ہے کہ کوئی مجھے اس حالت میں نہ دیکھ لے

حرا نے میری بات سن کر اونچی آواز میں سسکنا شروع کردیا جس پر میں سمجھ گیا کہ حرا کا کام تمام ہوچکا ہے، میں نے فوراً اپنے ہونٹ حرا کے ہونٹوں سے لگا کر چومنا شروع کردیا تب میرے مزے میں چار چاند لگ چکے تھے، میں بھی حرا کے فارغ ہونے کے ساتھ ساتھ حرا کی پھدی میں فارغ ہونے لگا۔ میرے فارغ ہوجانے کے بعد میں نے خود کو حرا سے الگ کیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا۔

حرا لمبے لمبے سانس لینے کے بعد بولی: ایسا لگ رہا ہے یہاں کسی کے جلنے کے آثار نمایاں ہورہے ہیں

میں نے حرا کی طرف مسکراتے ہوئے کہا: اگر محترمہ کی اجازت ہوتو ان کے جلنے پر مرہم رکھا جاسکتا ہے۔

حرا نے فوراً میرے کندھے پر مکا مارتے ہوئے بولی: اب تم بھینس سے بھی یہ کام کرو گے؟

میں ہنستے ہوئے: ویسے بھی وحیدہ جیسی کھلی پھدی میں لن ڈال لیا ہے تو یہاں ڈالنا کون سا مشکل کام ہے؟

حرا مسکراتے ہوئے اٹھی: اب کپڑے پہن کر باہر بیٹھو تاکہ کسی کو شک نہ ہو

میں بھی اٹھ کھڑا اور جھکی ہوئی حرا کو پیچھے سے پکڑ کر اپنے نیم کھڑے لنڈ کو حرا کی گانڈ سے رگڑنے لگا جس پر حرا نے اپنے آپ کو نہ چھڑوایا۔ حرا سے ایسے ہی دو منٹ مستی کی پھر میں نے اپنی شلوار پہنی اور باہر نکل گیا۔

باہر ہلکا پھلکا اجالا ہوچکا تھا اس لیے میں نلکے پر کھڑا ہوکر گاؤں کو دیکھنے لگا، صبح کے وقت گاؤں کا نظارہ کرنا، ایک الگ ہی مزہ دیتا ہے۔

کچھ دیر تک حرا کے گھر سے میں اپنے گھر آگیا نہا کر میں سکول چلا گیا، واپس آنے تک میرا وہی حال تھا،

امی نے مجھے سکول سے آنے پر ایک کلو میٹر دور نئی دکان پر سودا سلف لینے بھیج دیا کیونکہ اس دکاندار سے ابو سے کافی اچھا تعلق تھا، ابو نے خصوصی پیغام بھجوایا تھا کہ ان کی دکان سے لازمی سامان لایا کرو،

میں اور چاچو ان کی دکان سے سامان لیا اور واپس گھر کی طرف چل دیئے، میں سارے راستے میں دوسرے گاؤں کو اپنے گاؤں سے میچ کرنے لگا، میں نے راستے میں کافی لڑکیوں کو کام کرتے دیکھا لیکن میں نے ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ چاچو میرے ساتھ تھے۔

گھر پہنچ کر امی نے مجھے تھوڑی دیر سونے کے لیے بول کر نہانے چلی گئی میری اتنی عادت نہیں تھی کہ میں دن کو سوتا رہوں، اتوار والے دن بھی میں اپنے وقت پر جاگ جاتا تھا، میں اپنے کمرے سے باہر نکلا تو سامنے باجی کتاب لیے پڑھ رہی تھی میں نے ان کو بتا کر چاچو کے گھر چل دیا۔

چاچی نے پڑھائی کے متعلق چند سوالات کیے پھر انہوں نے مجھے اکیلا چھوڑ کر، چائے بنانے چلی گئیں۔ کچھ دیر بعد وہ چائے لے کر ہم بچوں کے قریب آبیٹھی، چائے پی کر میں واپس گھر آگیا، امی نے چائے کا پوچھا میں نے چاچی کا بتا کر انکار کردیا، پھر شام ہونے تک میں نے پڑھائی کی، اس دوران باجی نے مجھے دودھ وغیرہ دیا پھر شام ہونے پر امی نے آواز دی کہ جا کر دودھ لے آو، میں نے ان کی بات مان کر دودھ لا دیا، رات کو ایک مرتبہ پھر میں حرا کے سامنے ننگا کھڑا تھا تب میں نے سرگوشی میں کہا: آج تم اسے خود اپنے اندر لو

حرا: کس طرح؟ جس طرح وحیدہ لے رہی تھی ویسے؟

میں: نہیں، جیسے میں بولوں ویسے ویسے کرتی جاو

میں نے فوراً اپنی جگہ تبدیل کی اور بیڈ پر لیٹ گیا اور حرا کو اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا جس پر وہ خاموشی سے میری بات مان کر، میرے اوپر آگئی، میں نے فوراً اس کی ٹانگیں دائیں بائیں رکھ کر اسے اپنے لنڈ پر بٹھانے کی کوشش کرنے لگا، کچھ لمحات کے بعد میرے لنڈ کی ٹوپی حرا کی پھدی میں گھسی تب حرا ایک دم رک گئی اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی

حرا: میں نے ایسے کبھی بھی نہیں کیا، عجیب سا محسوس ہورہا ہے

میں: ایک مرتبہ کوشش کرتے ہیں، اگر مزہ آنے لگا تو ایسے ہی کریں گے

حرا ایک مرتبہ پھر، آہستہ آہستہ نیچے بیٹھنے لگی جس پر اسے مشکل پیش آرہی تھی، پھر میرے کہنے پر وہ اتنے ہی لنڈ پر اوپر نیچے ہونے لگی جتنا وہ لے سکی، میں اور چاچی نازی اکثر چھت پر ایسے ہی سیکس کرتے تھے اس لیے میرے دل میں ایسا کرنے کا دل کرگیا تھا لیکن اتنا مشکل کام کا معلوم نہیں تھا اس لیے اب سوچنے لگا تھا کہ اب حرا کو روک دوں لیکن ہر بار روکنے سے پہلے مجھے تنگ پھدی کے مزے نے ایسا کرنے سے روکا،۔

کچھ دیر کے بعد حرا کی پھدی روا ہوئی تو اسے بھی مزہ آنے لگا جس پر اس کی رفتار کبھی تیز کبھی مدھم ہوجاتی کیونکہ وہ کوئی پورن سٹار تو تھی نہیں، اس لیے بار بار اس کا ردھم ٹوٹ جاتا تھا، میں بیچ میں حرا کو کس بھی کرتا اور اس کے بوبز کو بھی دبا لیتا جس پر اور بھی مزے میں آجاتی، ایسے ہی سیکس کرتے ہوئے حرا تھک گئی تب وہ بغیر بولے خاموشی سے میرے لن سے اتر کر لیٹ گئی جس پر میں نے بھی نئی پوزیشن سنبھالی،

میں پہلے دن کی طرح بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑا ہوا اور حرا کی پانی پانی ہوئی پھدی میں اپنا لن اتار دیا۔ جس پر سسک اٹھی۔ میرے نرم انداز پر وہ ترنگ میں آتے ہوئے بولی: جب تمہارا لن اندر جا کر ٹھوکر مارتا ہے تب مجھے اتنی مستی چڑھتی ہے کہ دل کرتا ہے کہ تمہیں اپنے دانتوں سے کاٹوں

 

 

میں اس کے بوبز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتےہوئے بولا: کاٹ لیا کرو لیکن بتانا مت، کیونکہ مجھے ڈر بھی لگتا ہے جنگلی بلیوں سے

(میں حرا کے اوپر جھک کر، اس سے یہ بات کررہا تھا تب اس نے فوراً مجھے اپنے ہاتھوں کی مدد سے اپنے اوپر گرا لیا اور بولی: میں تو اب بتا بتا کر کاٹا کروں گی

حرا نے اپنا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے یہ دکھانے لگی کہ وہ اب کاٹنے والی ہے تب میں نے اپنے جسم کو رگڑنا شروع کردیا جس پر اس کا منہ کھل گیا، اور وہ سسکنے لگی۔ میں موقعے کا فائدہ اٹھا کر حرا کی گردن اور ہونٹوں کو کس کرنے لگا جس سے وہ مچھلی کی طرح مچلنے لگی۔

ہم دونوں اس راؤنڈ پر ایک ساتھ فارغ ہوگئے جس پر ہم نے راحت کا سانس لیا اور ایک دوسرے سے الگ ہوکر بیڈ پر پیٹھ کے بل لیٹ گئے۔ حرا کچھ دیر کے بعد دوبارہ میرے اوپر آتے ہوئے بولی

حرا: ایک بات پوچھوں؟

میں اپنا ہاتھ بڑھا کر حرا کے بوبز کو دباتے ہوئے بولا: ہاں پوچھو

حرا میرے سر کے بالوں میں انگلیاں گھماتے ہوئے بولی: تمہارا دن کیسا گزرتا ہے؟

میں حرا کی بات کا مطلب سمجھ تو چکا تھا لیکن انجان بنتے ہوئے: اچھا گزر جاتا ہے، سارا دن پڑھائی کرتا رہتا ہوں، پھر دن کو گھر جا کر تھوڑی دیر آرام کرتا ہوں پھر پڑھ کر یہاں آجاتا ہوں

حرا فوراً تھوڑا سا اوپر اٹھ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوبارہ بولی: میں نے کیا سوال کیا ہے اور تم کیا جواب دے رہے ہو

میں اپنے ہاتھوں کو حرا کے بوبز سے ہٹا کر اس کی ننگی کمر پر لے گیا اور آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے بولا: میں نے تو بلکل صحیح جواب دیا ہے، اب تمہیں کس طرح کے جواب کی توقع تھی وہ میں نہیں جانتا

میں نے اپنے ہاتھوں کو مزید نیچے کرتے ہوئے حرا کی بنڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا جس پر حرا مسکراتے ہوئے دوبارہ سے میرے جسم سے جڑ کر بولی: میں نے پوچھا کہ تمہارا دن میرے بغیر کیسے گزرتا ہے؟ میرا تو بس رات کے انتظار میں گزر جاتا ہے

میں نے اپنے ہاتھ کی ایک انگلی کو حرا کی بنڈ کی لائن میں گزارتے ہوئے کہا: میرا بھی وہی حال ہے جو تمہارا ہے۔

حرا نے ہلکا سا سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا شاید وہ میری بات میں صداقت کا عنصر ڈھونڈ رہی تھی۔ میں بھی اسی انداز میں حرا کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جس پر حرا نے مسکرا کر میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا۔ میں بھی حرا کے کس کا رسپانس دینے لگا، کس کرنے کے دوران مجھے میری آنکھوں اور ہونٹوں پر نمکین سا ذائقہ محسوس ہوا، (نمکین ہونٹوں پر، جبکہ آنکھوں پر ہلکا سا گرم) میں نے حرا کے دل کی بات سمجھ کر اسے اپنے جسم سے نیچے اتار اور بیڈ پر لیٹا کر اسے ہگ کرلیا۔

ہم کافی دیر تک ایک دوسرے سے گلے لگے رہے۔ کچھ سیکنڈز کے بعد حرا بولی: میں اس گھر میں کافی ارمان لیے آئی، لیکن سب ارمان صرف ارمان بن کر ہوا ہوگئے، میں آئے روز لڑائی جھگڑوں سے تنگ آگئی تھی تب مجھ پر الزام پہ الزام لگتے گئے اگر وحیدہ سے دوستی نہ ہوتی اور اپنے بھائی کا سہارا نہ ہوتا، تو آج یہ حرا تمہارے سامنے زندہ نہ ہوتی۔

میری حالت کو صرف تین لوگوں نے محسوس کیا، پہلا میرا بھائی، دوسری وحیدہ، اب تیسرا تم، میرے شوہر نے مجھے بس چودنے کے لیے یہاں بیاہ کر لایا تھا، جب اسے مجھ میں کچھ بھی نہ دکھا تب اس نے شہر میں نوکری شروع کردی، پہلے پہل وہ گھر آتا، اور سو جاتا، میں اس سیکس کے نشے میں مجبور ہوکر اس کا انتظار کرتی لیکن وہ روزانہ کی طرح شہر سے واپس آکر سوجاتا، میں وحیدہ سے مل کر ایک دوسرے کی پیاس کو بجھانا شروع کردیا اس دوران میرے شوہر کی دور کی بہنوں نے مجھ پر بانجھ ہونے کا الزام لگا کر میرے شوہر کو مجھ سے الگ کردیا۔

اس رات میں سو نہ سکی اگلے دن بھائی کسی وجہ سے گاؤں آیا تو اسے ساری بات وحیدہ نے بتا دی اور اسی وقت بھائی مجھے اور وحیدہ کو لے کر شہر گیا اور ٹیسٹ وغیرہ کروائے، جس میں، میں بانجھ نہیں تھی

(حرا کے آخری الفاظ نے میرا سکون اڑا دیا تھا کیونکہ میں بے فکر ہوکر اس سے مسلسل سیکس کیے جارہا تھا جبکہ سلمیٰ نے مجھے کسی بھی لڑکی کی پھدی میں اپنی منی چھوڑنے سے منع کیا تھا،)

حرا کچھ دیر رکنے کے بعد دوبارہ بولی: لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا، وحیدہ نے بھائی کے گھر رہ کر مجھے سمجھایا بھی کہ، میں کسی غیر مرد سے ہمبستری کرلوں یا طلاق لے کر کسی دوسرے سے شادی کرلوں، میرے لیے دونوں باتیں مناسب نہ تھیں، کیونکہ دونوں گاؤں والوں کو یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ مجھ میں نقص ہے، جس پر کوئی بھی لڑکا مجھ سے بیاہ نہیں کرتا، تب میں کیا کرتی۔

تب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس شادی کو نبھانا ہے، ہم دونوں کبھی رات کو، یا کبھی اس کے گھر رہ کر ایک دوسری کی آگ کو بجھاتی اس دوران بھائی نے اپنی نومولود بچی میری گود میں ڈال کر میرے قدم یہاں مضبوط کردیئے تاکہ میری شادی ٹوٹ نہ جائے۔ بھابھی نے ایک بہن ہونے کا ثبوت دیا اور ایک ماں کا بھی، میں ہمیشہ سے انہیں اپنی ماں سمجھتی تھی، ہوں اور رہوں گی۔

پھر ایک دن میں نے تمہیں وحیدہ کے ساتھ اشارے بازی کرتے دیکھ لیا وحیدہ اس شام کافی پریشان تھی اس نے شام کو مجھے اپنے ساتھ چلنے کا بولا، میں مان گئی کیونکہ وہ میری راز دار تھی اور میں اس کی، میں تم دونوں سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوکر تم دونوں کی حرکات کو دیکھنی لگی، جب تم اس کی پھدی میں فارغ ہورہے تھے تب میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے بھی اسی طرح کے ایک لنڈ کی ضرورت ہے، جس سے میں اپنی تسکین کرسکوں پھر اس رات میں نے اپنے شوہر سے ہمبستری کی، اگلے دن ہم اس سارے کام میں لگے رہے، شام کو میں نے وحیدہ کے ذریعے تمہارے گھر دودھ کے لیے پیغام بھجوایا اور اس شام میرا شوہر شہر چلاگیا،

(مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ، حرا دوبارہ بولی) حرا: اب یہ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، کیا تم مجھ پر یہ احسان کرسکتے ہو؟

میں نے ہر دم اپنے دماغ کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا، تب میں کسی بھی فیصلے پر پہنچ نہیں رہا تھا جب دوسری مرتبہ حرا نے جواب مانگا تو میرے منہ سے قدرتی یا حادثاتی طور پر نکل گیا۔ ’’ہمارا بچہ کب پیدا ہوگا‘‘

جس پر حرا خوشی سے میرے جسم سے لپٹ کر، مجھے چومنے لگی، میں نے اسے پیچھے کرنے کی دو تین بار کوشش کی لیکن وہ اپنے آپے میں نہیں تھی اس لیے میں نے اس مزید نہ روکنے کا سوچ کر پیٹھ کے بل سیدھا لیٹ گیا جس پر وہ میرے جسم کے اوپر آگئی اور اپنی محبت کی بارش شروع کردی۔

میں ایک مرتبہ پھر، حرا کی محبت میں بہتا چلا گیا۔ میں ایک مرتبہ پھر، حرا کی پھدی میں اسی کے ساتھ فارغ ہوچکا تھا۔ حرا پرسکون ہوکر سیدھی لیٹ چکی تھی تب میں بولا: کیا اس سب کے متعلق وحیدہ کو علم ہے؟

حرا: ہاں۔۔۔ میری ہی وجہ سے وہ اپنے ماموں کے گھر گئی، تاکہ ہمیں دونوں کو موقعہ مل سکے۔

میں بیڈ سے اٹھنے لگا تب حرا نے مجھے ہاتھ پکڑ کر دوبارہ سے بیڈ پر لٹا لیا اور بولی: اگر سمجھتے ہو کہ تم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتے ہو، تو کرسکتے ہو، میں جتنی تمہارے ساتھ رہ کر خوش ہوں اتنی خوشی مجھے اس وقت بھی نہیں ہوئی جب مجھے بھائی اپنی بیٹی دے کر جارہے تھے۔ اچھے سے سوچ لینا، جذباتی ہوکر فیصلہ مت کرنا، میں دوائیاں کھا کر اس عمل کو روک دوں گی اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو میرا بھائی ابارشن کروا دے گا۔ تم پریشان مت ہونا۔

میں کچھ بولے بغیر اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا، اس رات مجھے نیند نہیں آئی بہت سارے پریشان کن خیالات میرے دماغ میں آرہے تھے (اگر انٹرنیٹ ہوتا تو ان خیالات کا علاج بھی ڈھونڈ لیتا)

صبح قدرتی طور پر سلمیٰ گھر آگئی میں نے صبح چھٹی کرلی تھی کیونکہ میری آنکھ صبح کے وقت لگی جو کچھ ہی دیر میں کھل گئی کیونکہ مجھے گھر میں سلمیٰ کی آواز سنائی دی۔ میں سلمیٰ کو نجات دہندہ سمجھ کر اپنی نیند کو قربان کربیٹھا تھا۔ باجی طاہرہ جاچکی تھی، امی مجھے جاگتا دیکھ، دودھ لینے چلی گئیں، تب سلمیٰ میرے پاس آئی اور بولی: کیا چل رہا ہے عثمان؟

میں سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا: کچھ خاص نہیں آج رات کو صحیح سے نیند نہیں آئی اس لیے ابھی جاگا ہوں، تم سناو کیا چل رہا ہے؟

سلمیٰ مزید دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے میرے قریب آئی اور بولی: مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے؟ سچ سچ بولو کیا مسئلہ ہے؟

میں نے اسے ساری بات جو حرا نے بتائی تھی وہ الف تا یے سنا دی، میرے چپ ہوجانے پر سلمیٰ بولی: تم کیا چاہتے ہو؟

میں: دماغ انکار کررہا ہے اوردل ہاں بول رہا ہے۔ اب تم فیصلہ کرو۔

سلمیٰ: فیصلہ تمہیں خود کرنا ہے، میں بس رائے دے سکتی ہوں، اگر تم اس لڑکی سے پیار سے سمجھاو تو وہ سمجھ جائے گی اور تم دونوں کا تعلق ایسے ہی چلتا رہے گا،

میں: میں ایسا کرتا ہوں تم دونوں کی ملاقات کروا دیتا ہوں تم اس سے مل کر بات کرلو، سمجھا دو، اگر وہ مان جائے تو ٹھیک نہیں تو، یہ بچہ ہونے دیتے ہیں کون سا کسی کو غیب کا علم ہے؟

سلمیٰ مسکراتے ہوئے: غیب کا علم تو میرے پاس بھی نہیں ہے عثمان، لیکن میں نے تمہاری پریشانی ان خوبصورت آنکھوں سے تلاش کرلی تھی، اب تم بتاو کہ غیب کا علم میرے پاس ہے یا کچھ اور ہے؟

میں سلمیٰ کی اس بات پر کچھ بھی نہ بولا، تب سلمیٰ بولی: میری نند کے ساتھ ایسا مسئلہ ہوگیا تھا جس پر اس نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے خود کو پرینگنٹ کروالیا تھا جس پر کسی کو شک بھی نہیں ہوا تھا۔ آج وہ تین تین بچوں کی اماں ہے۔

میں نے ایک مرتبہ پھر سلمیٰ کی آنکھوں میں بے یقینی سے دیکھا جس پر سلمیٰ سمائل پیش کرتے ہوئے دوبارہ بولی: میرے خیال میں ، حرا سے ملاقات میں خود ہی کرلوں تو زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ کام تم سے نہیں ہونا، سوائے پھدی مارنے کے۔

سلمیٰ نے اپنی آخری بات پر مجھے ہنسا دیا اسی وقت امی گھر داخل ہوئیں اور بولیں: بڑے ہنس رہے ہو، کسی کی نظر نہ لگے میرے بچوں کو۔

پھر ہم نے مزید اس متعلق کوئی بات نہ کی میں اپنے کمرے میں آگیا کچھ دیر بعد سلمیٰ کمرے میں آئی اور بولی: میں نے تائی امی سے پوچھ لیا ہے حرا اس وقت گھانس کاٹنے کے لیے کھیتوں میں گئی ہوئی ہے میں بھی جانے والی ہوں تمہارا کیا ارادہ ہے؟ اگر چلنا ہے تو آجاو،

میں: نہیں تم جاؤ میں سونے لگا ہوں،

سلمیٰ مسکراتے ہوئے: کیوں؟ رات کو پھر جاگنا ہے کیا؟

میں بھی مسکرا دیا اور اپنے بیڈ پر لیٹ گیا، اور کچھ دیر تک میں دنیاوی زندگی سے لاعلم ہوگیا۔ شام کو باجی نے مجھے بڑی مشکل سے جگایا اور بولی: عثمان کے بچے۔ امی گھر نہیں ہیں جا کر دودھ لے آو کیا پتا انہیں کتنی دیر لگے گی اس لیے فوراً جاو اور دودھ لے کر فوراً واپس آجانا۔

میں ہاں میں سر ہلا کر واش روم میں گھس گیا اور نہا دھو کر دودھ لینے چلا گیا، حرا معمول کے مطابق خاموش تھی، جیسے ہی موقعہ ملتا وہ مسکرا کر بات کرلیتی ، آخر میں اس نے رات کو پھر آنے کا بول کر مجھے جانے دیا لیکن آج میرا رتی بھر دل نہیں تھا۔ کیونکہ میرا دماغ میرے دل پر حاوی تھا۔

میں رات کو کافی دیر تک پڑھنے کی کوشش کرتا رہا لیکن کامیابی نہ ہوئی، پھر میں دوبارہ سوگیا صبح میری آنکھ بہت زیادہ جلدی کھل گئی کرنے کو میرے پاس کچھ بھی نہ تھا، اس لیے اٹھا اور بالٹی لی اور حرا کے کمرے میں جا پہنچا، میری آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی تھی کیونکہ حرا اس وقت اپنا چہرہ اپنی ٹانگوں میں دے کر رو رہی تھی۔ میں نے بالٹی کو سائیڈ پر رکھا اور دروازے کو ہلکا سا بند کرکے حرا کی طرف بڑھ گیا، کچھ دیر تک سمجھانے کے بعد حرا مان گئی لیکن حرا آج کافی زیادہ پرجوش تھی۔

وہ مجھے سمبھلنے کا موقعہ نہیں دے رہی تھی، جب یہ طوفان تھما تو حرا میری چھاتی پر سر رکھ کر بولی: ویسے یہ محبت والا چکر کب سے ہے؟

میں ذہن میں سوچنے لگا کہ اس کو سلمیٰ نے کیا کچھ بتا کر مطمئین کروایا ہے، پھر دوبارہ پوچھنے پر میں نے جواب دیا: کافی ٹائم سے ایسا چل رہا ہے۔

حرا اپنی تھوڑی کو اپنے ہاتھوں پر رکھ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی: ایک مرتبہ پھر کریں؟

حرا کے اس طرح معصوم بن کر، پوچھنا مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا جس پر میں نے اس کی بات مان کر اس کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سیکس کیا اور ہم باہر آگئے آج ہم نے جلدی سے دودھ بھینس سے نکالا(میلا)، پھر میں اپنے گھر آگیا کیونکہ حرا کے ساتھ سیکس کرنے کے بعد مجھے نہانا تھا کیونکہ اگر مزید وقت گزرتا تو میرے جسم سے منی کی بو آنے لگتی جس پر کسی نہ کسی کو شک ہوجانا تھا۔ ناشتے کے بعد میں سکول کے لیے نکل پڑا۔

راستے میں ماہرہ کھڑی نظر آئی، میں اس کو اگنور کرکے آگے چل دیا جس پر وہ تیز قدم اٹھاتے ہوئے میرے ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش کرنے لگی جس میں وہ کامیاب نہ ہوئی تب میں زچ ہوکر بولا: کیا مسئلہ ہے؟

ماہرہ: بات کیوں نہیں کررہے ؟

میں: میری مرضی

ماہرہ: آہستہ تو چلو، میری سانس ہی چڑھ گئی ہے

میں تنک کر: ایسے بول رہی ہو، جیسے میں نے ایک ہی جھٹکے میں تمہارے کپڑے پھاڑ دیے ہوں۔

میں دوبارہ چلنے لگا جس پر ماہرہ بولی: ابھی آدھا گھنٹہ پڑا ہے تمہیں راستے میں ایک خوبصورت لڑکی رکنے کا بول رہی ہے وقت بھی ہے پھر بھی نخرے کرکے سکول جا رہے ہو، کیسے لڑکے ہو

میں اپنی بات کہنے کے لیے رکا: تمہاری جیسی لڑکیاں کپڑے اتار کر زبردستی میرے لن پر بیٹھ بھی جائیں تب بھی میرا لن کھڑا نہیں ہوگا۔ سمجھی۔ اب دوبارہ راستہ روکنے کی کوشش مت کرنا۔

میں یہ کہہ کر دوبارہ چل دیا، ماہرہ نے دوبارہ کوشش نہ کی، جس پر میں پرسکون ہو کر سکول پہنچ گیا، شام کو دودھ لانے کے وقت میں نے حرا کو رات کو نہ آنے کا بتایا کیونکہ مجھے آج رات چاچی نازی کے ساتھ گزارنی تھی، کیونکہ چچا نواز اپنی نوکری کی وجہ سے گھر نہیں تھے، اور چاچو اور چاچی ربیعہ اپنی فیملی کے ساتھ ننھیال گئے تھے۔ جس پر حرا برا سا منہ بنا کر اپنے کام میں لگی رہی۔

میں کافی لیٹ چاچی نازی کے گھر داخل ہوا کیونکہ مجھے حرا کی تنگ پھدی مار کر جو مزہ مل رہا تھا وہ چاچی نازی کی پھدی مار کر نہیں مل رہا تھا، ایک مرتبہ پھر چاچی نازی کے ساتھ سیکس کرنے کے بعد میں چاچی ربیعہ کے بستر جا کر سوگیا، میری آنکھ آج لیٹ کھلی کیونکہ اتوار تھا۔

ویسے بھی رات کو جن دوستوں نے سیکس کیا ہوتا ہے ان کی صبح لیٹ ہی ہوتی ہے، سارا دن پڑھائی اور کام میں گزارنے کے بعد شام کو میں حرا کے گھر سے دودھ لینے چلا گیا حرا نے آج لازمی آنے کا بول کر مجھے جانے دیا جس پر میں دل ہی دل میں مسکرا دیا۔

رات کو ایک مرتبہ پھر، طوفان آیا اور ہم ایک ساتھ فارغ ہوگئے، اب مجھے اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ حرا کو پریگنیسی میری وجہ سے ہوگی۔ اس لیے میں منی کو باہر نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

حرا کے ساتھ سیکس کرتے وقت، ہم نے وہی پوزیشن رکھی ہوئی تھی، حرا نے مجھے وحیدہ کے واپس آجانے کی اطلاع دی۔ میں نے بس اپنا سر ہلا کر اسے جواب دیا اور گھر آگیا۔ صبح کی ڈیوٹی اب دوبارہ باجی کے پاس چلی گئی تھی کیونکہ میں رات کی پڑھائی کی وجہ سے جلدی جاگ نہیں سکتا تھا جس سے چائے بنانے میں دیر ہوجاتی تھی۔

اکثر باجی طاہرہ کو بغیر چائے کے جانا پڑتا تھا اس لیے امی نے صبح والی ڈیوٹی باجی کی لگا دی۔ میں بھی کچھ پرسکون ہوگیا۔ ماہرہ نے راستے میں ایک مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی لیکن میرے رویے کی وجہ سے وہ کوئی بات نہ کرسکی۔

احسن اور اسرار سے دوستی میری ویسی کی ویسی تھی اس متعلق لکھنے کی ضرورت مجھے نہیں تھی اس لیے میں نے مزید کچھ نہیں لکھا۔ اگر آپ چاہتے ہیں میں اس متعلق بھی لکھوں تو لازمی بتائیے گا۔

شام کو میں ٹہلتے ہوئے گھر کے گیٹ کے باہر کھڑا تھا تب چاچی نازی پر میری نظر پڑی جو کسی لڑکے سے باتیں کررہی تھی، مجھے تھوڑا سا غصہ آیا پھر خود ہی سوچا کہ چلو اچھا ہے نا، ان کی جوڑی چلتی رہے میری جان تو چھوٹی رہے گی۔ میں نے ان کی نظر میں نہ آنے کے لیے گھر کی دوسری طرف چلنا شروع کردیا، جہاں کچھ ہی دور کچھ خواتین کھیتوں میں کام کررہی تھی۔ میں کھیتوں سے گزرتا ہوں آگے بڑھنے لگا۔ کچھ دور جا کر میں واپسی کے مڑا تب میری نظر دور کھڑی وحیدہ پر پڑی جو اس وقت مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔

میں نے اسے دیکھ کر سمائل پیش کی جس پر وہ بھی مسکرا کر ایک طرف چل دی، جب وہ ایک مقام پر پہنچ گئی تب میں اسی طرف چل دیا۔ وہاں پہنچ کر وحیدہ نے مجھے پکڑ لیا اور بولی

وحیدہ: کیا باتیں ہیں راجہ جی۔ آج تو کھیت کی رانیوں کی خیر نہیں

وحیدہ نے موقعہ دیکھتے ہی اپنی بنڈ کو میرے لن پر رگڑنا شروع کردیا جس پر مجھ پر شہوت طاری ہونے لگی تب وحیدہ بولی: اتنے دنوں کی پیاس ایک ہی چدائی میں ختم کردو راجا۔

میں نے فوراً اس کو نیچے جھکاتے ہوئے اپنی شلوار کو پیروں تک کرکے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر، وحیدہ کی پھدی پر سیٹ کیا اور بولا: پیچھے کی طرف اپنی بنڈ کو مار

وحیدہ نے فوراً اپنی بنڈ کو پیچھے کر کے میرے لنڈ کو اپنی کھلی ہوئی چوت میں لے لیا جس پراس کے منہ سے ہلکی سی سسکاری نکل۔ جسے سن کر مجھے جوش چڑھ گیا اور میں اس کی بنڈ کو پکڑ کر دھنا دھن ٹھکائی کرنے لگا۔ جس پر وحیدہ بار بار آہیں بھرتی اور بولتی: راجا، تمہیں ان سب رانیوں کی چوت مرواوں گی۔

میں بھی جوش میں بولا، : پہلے اپنی اماں کو میرے نیچے لٹا پھر باقیوں کا نمبر آئے گا۔

وحیدہ نے اپنا سر گھما کر میری طرف دیکھا ، پھر سسکتے ہوئے بولی: آج رات کو حرا کے پاس جانے کی بجھائے میری اماں کے پاس آجانا، ہم دونوں ماں بیٹیاں اپنی پھدی کھول کر تمہارا لن لے لیں گی۔

میں نے مزید چند ایک جھٹکے لگا کر اسکی پھدی میں فارغ ہوگیا جس پر اس کے منہ سے تھوڑی سی تیز سسکاریاں نکل گئی، لیکن میں نے اسے اس وقت تک جانے نہ دیا جب تک میرا آخری قطرہ اس کی پھٹی ہوئی پھدی میں سے ہوتا ہوا اس کی بچہ دانی میں جمع نہ ہوا۔

وحیدہ کو جیسے ہی میں نے چھوڑا اسی وقت اس نے مجھے دو تین مکے میرے بازو پر مارے اور بولی: میں تم سے پھدی مروا لیتی ہوں اس کا یہ مطلب نہیں تم ہر بار اپنی منی میرے اندر ڈال دو، میں حرا نہیں جو ترس رہی ہوں۔ سمجھے

میں نے چاروں طرف نظر گھماتے ہوئے اسے دوبارہ پکڑ کر اپنا ننگا لن اس کی ننگی گانڈ پر مسلنے لگا اور بولا: پھر پیچھے سے کروا لیا کرو تاکہ بچہ نہ ہو۔

وحیدہ نے مجھے تھوڑا سا پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا: اپنی کنجری حرا کے پاس جاو ویسے بھی اسے بنڈ میں انگلی لینے کی عادت ہے

میں نے اسے مزید تنگ نہ کیا اور گھر آگیا کھیتوں میں سے گزرتے ہوئے مجھے سب لڑکیوں اور عورتوں نے بڑے غور سے دیکھا جیسے میں نے ان سب کا ابھی ابھی ریپ کردیا ہو۔ آخری عورت کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ وہ مسکرا رہی ہے تو میں نے چلتے چلتے اس کے چہرے کی طرف بغور دیکھا تو وہ ماسی بدرا تھیں،(وحیدہ کی اماں)

میں نے ماسی کو دانہ ڈالنے کا سوچ کر مسکرا دیا، جس پر وہ بھی مسکرا دی۔ میں مزید وہاں کھڑا رہ نہیں سکتا تھا اس لیے گھر آگیا، میں نے طبیعت کا بہانہ بنا کر کچھ دیر کے لیے لیٹ گیا جس پر باجی کو دودھ لانا پڑا اس دوران ایمان، اور اس کے دونوں بھائی چاچی ربیعہ امی، سب اکھٹے ہوچکے تھے، میں نے ان کو بڑی مشکل سے واپس بھیج دیا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہیں رات کو امی میرے پاس سو نہ جائیں۔

جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا، رات کو امی اور باجی میرے ہی کمرے میں سو گئی، اگلی صبح میں جب جاگا تو آج سچ میں ہلکا ہلکا سر تپ رہا تھا، امی نے جاگتے ہی میرے ماتھے کو چھوا تو بڑھک گئی کچھ دیر تک دوبارہ سب اکٹھے ہوچکے تھے ماسوائے چاچی نازی کے، شام کو بھی چاچی نازی نہیں آئی تھیں۔

خیر واقعہ مختصر مجھے شام تک آرام آگیا لیکن اس دوران مجھے دیکھنے احسن اور اسرار بھی سر کے ہمراہ آگئے، رات کو دوبارہ امی اور باجی میرے ہی کمرے سوئے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

سب فرینڈز سے کمنٹس کرنے کی ایک ادنیٰ سی درخواست ہے، میں اور میرا دوست ہم مل کر اپ ڈیٹ تیار کرتے ہیں پھر یہاں اور دوسرے فورمز پر شئیر کردیتے ہیں۔ 
مجھے امید ہے کہ آپ سب اب کہانی پڑھ کر لازمی کمنٹس کیا کریں گے تاکہ ہم دونوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔
جن دوستوں نے کمنٹس کیے ان کا اور جنہوں نے پول میں ووٹ ڈالا ان سب کا میں بے حد مشکور ہوں، اور جنہوں نے اس کہانی کو پسند نہیں کیا ان سب کا بھی میں مشکور ہوں۔
آپ سب کا دوست 
سٹوری میکر (عثمان)۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

اگلی صبح میری آنکھ اپنے وقت پر کھلی میں نے امی کو ناشتے کی تیاری میں مصروف دیکھ دودھ کی بالٹی اٹھالی تو امی نے ڈانٹ کر مجھے سکول کے لیے تیار ہونے کا بول کر اندر بھیج دیا۔ سکول جاتے ہوئے ماہرہ نے آج ہمت کرکے میرے سامنے رک کر مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی۔

ماہرہ: اس دن میں نے جو کچھ کہا، وہ سب غلط تھا۔

میں: مجھے معلوم تھا

ماہرہ: تمہیں معلوم تھا پھر بھی تم میرے جھوٹ کو سننے کے لیے بریک ٹائم کے بعد بھی آئے

میں: میں نے ہنسی مذاق میں احسن سے شرط لگا لی تھی کہ تم سے دوستی کرلوں گا، پھر تم نے مجھے بلایا تو سوچا کہ اسے تنگ کرکے مزہ لوں، لیکن تم نے جب جھوٹ بولا تب میں نے اس کا مذاق نہیں اڑایا۔

ماہرہ کچھ دیر سوچنے کے بعد: اور اب

میں: فلحال مجھے دیر ہورہی ہے سکول جانے دو

ماہرہ: تم کل سکول کیوں نہیں آئے؟

میں: تم سے مطلب؟

ماہرہ تنک کر: بتانے میں کیا حرج ہے؟

میں: تمہیں ہر ایک بات بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا، سمجھی

ماہرہ: ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی، لیکن میرے جھوٹ کے لیے مجھے معاف کردینا۔

ماہرہ یہ بول کر چل پڑی تب میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا، میں سوچ رہا تھا کہ ماہرہ کو اچانک یہ سب بتانے کی ضرورت کیا تھی، میں آم والی گلی سے گزر کر سکول پہنچ گیا، واپسی پر ماہرہ اور اس کی سہیلیاں میرے پیچھے چلتی رہیں، لیکن میں نے کوئی خاص رسپانس نہ دیا کیونکہ مجھے نہ تو ماہرہ میں اور نہ اس کی سہیلیوں میں دلچسپی تھی۔ گھر آکر میں بور ہونے لگا کیونکہ امی نے مجھے کہیں آنے جانے نہیں دیا، میں بلکل بور ہوئے جارہا تھا سوچا چلو چھت سے ہوآتا ہوں میں ابھی چھت پر پہنچا تھا کہ میرے پیچھے پیچھے چاچی نازی بھی چھت پر آگئیں۔

میں نے مجبوراً مسکراتے ہوئے چاچی کو دیکھا تب انہوں نے چھپائی ہوئی چیزیں نکالی اور ان میں سے چند ایک مجھے دیتے ہوئے بولیں: کل کیا ہوا تھا میرے راجے کو۔

میں اپنے گھر کے صحن میں جھانکتے ہوئے: کچھ بھی نہیں بس ہلکا سا بخار ہوگیا تھا

چاچی نازی دوسری طرف منہ کرکے جس طرف سیڑھیاں تھی، میرے لن کو شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ کر مسلنے لگیں تب میں نے مدہم آواز میں کہا: امی سامنے ہی بیٹھی ہیں۔

چاچی: تو کیا ہوا؟ ویسے آج تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔

میں: وہ کیا

چاچی خاموشی سے نیچے بیٹھ کر میری شلوار کو نیچے کر لیا، میں آپ سب پرھنے والوں کو یہ بات بتانا بھول گیا کہ ہمارے چھت کی باؤنڈری بھی ہے، عجیب معاملہ ہے اس متعلق مجھ سے کسی نے کہانی کے درمیان میں نہیں پوچھا۔ شاید کہانی پسند نہیں آرہی۔

میں نے ایک مرتبہ پھر سے اپنی نظر امی اور دور کام کرتی ماسی بدرا کو دیکھا جو اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھی۔

چاچی نے میری شلوار کو پاؤں تک کرکے میرے کھڑے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کر بولی: تم نے کبھی لن چوسوایا ہے کسی سے؟

میں: آپ اور سلمیٰ ہی سے آج تک یہ کام کیا ہے، نہ تو سلمیٰ نے ایسا گندہ کام کیا ہے اور نہ ہی آپ نے

چاچی میرے لن کو ہلاتے ہوئے: سلمیٰ نے پیچھے بھی لیا ہوگا، ہے نا۔

میں: آپ ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں؟ آپ اپنے دل کی بات بولو، اگر آپ کا دل ہے آپ کے ساتھ میں ایسا کرلوں گا کیونکہ آپ کی خواہش میرے لیے زیادہ عزیز ہے

چاچی نے مسکرا کر مجھے دیکھا پھر نیچے جھانک کر دیکھا پھر میری ٹانگوں کے درمیان میں آکر میری قمیض کو اپنے سر اوڑھا کر میری ٹانگوں کو تھوڑا سا مزید اپنے قریب کرلیا، کچھ لمحات کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے لن کی ٹوپی کسی بہت گرم چیز (موری) میں جا رہا ہے، میں نے نیچے کی طرف دیکھنا چاہا لیکن چاچی کا سر میری قمیض کے نیچے تھا جس کی وجہ سے یہ منظر مجھ سے دیکھنے نہ ہوا،

چاچی نے اپنے منہ کو مزید آگے بڑھایا، اور کچھ دیر کے لیے رک گئی، میرے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاریاں نکل رہی تھی۔ چاچی نے تھوڑا سا لن اپنے منہ سے باہر نکالا پھر دوبارہ اپنے منہ میں اتنا ہی لیا، تب میرے منہ سے تھوڑی زور سے سسکاری نکلی جس چاچی رک گئی،

چاچی: شکر ہے بچ گئے نہیں تو آج تم نے مروا ہی دیا تھا۔

میں: آپ کو ایسے شوق اسی وقت چڑھتے ہیں جب گھر کوئی نہ کوئی ہو۔

چاچی: اب اپنی آوازوں پر قابو رکھنا نہیں تو بدنامی ہوجانی ہے

چاچی اتنا بول کر دوبارہ اپنے کام جت گئیں، یقین مانیئے اس دن مجھے مزہ بھی بہت آیا لیکن دانت بھی کافی لگے۔ شام کو میں نے دودھ نہ لایا، جیسے ہی رات ہوئی میں سونے کا ناٹک کرتے ہوئے لیٹ گیا، کچھ دیر تک امی اور باجی نے مجھے چیک کیا لیکن میں اپنی فنکاری میں کامیاب رہا۔ جب سب سو گئے تب میں اٹھا اور دونوں افراد کو چیک کرکے حرا کے گھر اسی کے بیڈ پر پہنچ گیا۔

حرا سے دو چار باتیں کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر چدائی کرکے اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا تب اس نے بتایا کہ اس نے بھابھی سے بات کی ہے، وہ جلد ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا بندوبست کرلیں گی لیکن ایک مسئلہ ہے، ہم دونوں کی باتیں بھابھی کی بہن نے سن لی ہیں۔ پوچھنے پر اس نے صرف تم سے ملنے کی شرط رکھی ہے۔

میں نے فوراً حیران ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا: وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہے؟

حرا اپنا سر میری چھاتی پر رکھتے ہوئے بولی: وہ اس لیے کہ میرے دل ہارے پر شاید وہ دل ہار بیٹھی ہے۔

میں: مجھے فلحال ان سب چیزوں میں نہیں پڑنا، اس کو سمجھا دو۔

میں نے حرا کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش کی تب حرا دوبارہ بولی: کہاں جا رہے ہو؟

میں: مجھے نیند آرہی ہے سونے جا رہا ہوں گھر

حرا مجھے پکڑتے ہوئے بولی: چچا گھر نہیں ہیں، یہی سو جاو نا

میں نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی تب حرا دوبارہ بولی: مجھے اب اکیلے رات کو ڈر لگتا ہے۔ نا جاو نا

میں حرا کی بات خاموشی سے مانتے ہوئے دوبارہ کے ساتھ آکر لیٹ گیا جس پر حرا نے فوراً مجھے ہگ کر لیا جس پر میں مسکرادیا۔ حرا میری گردن پر کس کرنے کے بعد بولی: جس طرح تمہاری کزن نے مجھے سمجھایا اسی طرح اس کو بھی تم سمجھا دینا، وہ تمہاری بات مان لے گی نا

میں: بات سمجھانے کی نہیں حرا، بات یہ ہے کہ میں ابھی مزید پڑھنا چاہتا ہوں، پڑھائی مکمل کرکے اپنے ابو کے ساتھ مل کر اپنے گھر کو مزید آگے بڑھانا ہے، دونوں بہنوں کی شادیاں کروانی ہیں۔ پھر ان سب کے بعد میں کسی کی طرف متوجہ ہوں گا۔

حرا ایک مرتبہ پھر میرے حواسوں پر چھاتی چلی گئی اس مرتبہ حرا نے کان کے نیچے کافی زور سے کاٹا جس پر میں کچھ بھی بول نہ سکا، صبح کے وقت میں گھر پہنچا جس پر کسی کو علم نہ ہوسکا، شام کو میں ایمان کے ساتھ مستی کر رہا تھاتب سلمیٰ اور بڑے چاچو (تایا ابو) آگئے جس پر ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔

تایا ابو نے بتایا کہ وہ اس اتوار کو سلمیٰ کی منگنی کرنے والے ہیں۔ ہم کافی خوش ہوئے کیونکہ سلمیٰ کے چہرے پر خوشی تھی۔

چاچی نازی کے اصرار پر سلمیٰ کو چاچو نے یہیں رہنے دیا جبکہ چاچی ربیعہ اور ان کی فیملی سلمیٰ کے گھر چلے گئے کیونکہ کام کچھ زیادہ تھا اس لیے تایا ابو ان سب کو ساتھ لے گئے۔ معمول کے مطابق میں نے حرا کے گھر سے دودھ لا کر دیا، پھر تھوڑی دیر تک گھر بیٹھ کر پڑھتا رہا۔ میرے رات والے انکار سے شاید حرا کچھ نا کچھ ناراض ہو اس لیے میں نے رات گزارنے کے لیے حرا کی طرف نہ جانے کا سوچا۔ میں آج کافی جلدی سو گیا تھا کیونکہ کل امی ، باجی کے ساتھ بازار جا کر سلمیٰ اور سلمیٰ کے ہونے والے شوہر کے لیے کچھ گفٹ لانے تھے۔ شام کو جب میں گھر آیا تب امی نے بتا دیا تھا اس لیے میں جلدی سو گیا۔

اگلے دن ہم سب بازار چلے گئے۔ بازار اور عورتیں۔ خدا بچائے۔ میں بہت زیادہ تنگ پڑ گیا لیکن اپنی زبان پر ایک بھی لفظ نہ لایا کیونکہ یہ موقعے ہوتے ہیں جب گھر والوں کو ہم مردوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

شاپنگ کرتے ہوئے امی بولیں: یہ ایمان کے لیے ٹھیک رہے گا، (ان کی یہ بات اتنی اونچی تھی کہ میرے کانوں تک پہنچ گئی لیکن میں انجان بنا رہا)

امی اور باجی نے کچھ گفٹس خریدے پیک کروا کر گھر آگئے۔ شام کو دودھ لینے کے لیے گیا تو حرا نے مصنوعی غصہ دکھایا اور پوچھا کہ رات کو کیوں نہیں آئے تو میں نے بتایا کہ امی نے سلمیٰ کے لئے گفٹس لینے تھے اس لیے جلدی سونا تھا۔

حرا وجہ سن کر خاموش ہوگئی اور کچھ دیر بعد بولی آج آؤ گے تو میں نے دوبارہ انکار کردیا کیونکہ صبح ہم سب نے سلمیٰ کے گھر جانا تھا۔ سلمیٰ کے گھر بھی کافی بور ہوا لیکن اتنا زیادہ نہیں جتنا کل ہوا تھا۔ تقریب کے احتتام تک ایمان اور میں ایک ساتھ رہے، کیونکہ ہم بچوں کو ان سب تقریبات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ سلمیٰ کافی خوبصورت لگ رہی تھی اس لیے میری نظریں بار بار اسی کی طرف اٹھ جاتی میں اس بات کو اتفاق سمجھوں کہ کچھ اور، جب بھی میری نظریں سلمیٰ پر جاتی اسی وقت وہ بھی میری طرف دیکھ رہی ہوتی۔

میں نے زچ ہوکر اپنا رخ ایمان کی طرف کرلیا اور ایمان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے سلمیٰ کے بارے میں پوچھنے لگا جس پر اس نے بتایا کہ اب دیکھ رہی ہے، اب نہیں، پھر دیکھ رہی ہے، ایسے ہی بتاتے چچی ربیعہ آگئیں اور انہوں نے ہمیں جلیبیاں دیں  ہم دونوں آمنے سامنے بیٹھ کر کھانے لگے۔ میں نے دل میں سوچ کر آخری مرتبہ پھر سے سلمیٰ کے متعلق پوچھا تو ایمان کا وہی جواب تھا۔

دل پہلی مرتبہ ہلکا سا دھڑکا، کیونکہ سلمیٰ کے بار بار ایسے دیکھنے سے کچھ غلط بھی ہوسکتا تھا چار عورتوں کو چودنے کے بعد میرے دماغ میں ہلکی پھلکی سیاست، اور میچورٹی آنے لگی تھی۔ اس لیے میں نے فوراً اپنی طبیعت کا بہانہ بنا کر تائی امی کی کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ کیونکہ زیادہ شور کرتا تو میری وجہ سے امی، اور باجی کو واپس جانا پڑتا۔

کچھ دیر تک ایمان باہر سے اندر میرے پاس آکر میرے ساتھ لیٹ گئی اور بولی: کیا ہوا؟

میں کوئی بھی جواب دینے کے تیار نہیں تھا تب کچھ لڑکیاں اندر داخل ہوئیں جوکہ کچھ ایمان کی اور کچھ سلمیٰ کی کزنز تھیں، انہوں نے ایمان کو میرے ساتھ لیٹا دیکھ، تنگ کرنا شروع کردیا۔ ایسے ہی تنگ کرتے کرتے آخر کار ایمان نے تنگ آکر کہہ دیا کہ ہمیں اکیلا چھوڑ دو جس پر سب کزنز ہنس پڑی تب باہر سے چاچی اندر داخل ہوئیں اور ایمان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں: زیادہ تنگ نہ کرو ان دونوں کو، ان کا آپس کا پیار ہے۔ کرنے دو۔

میرا پہلے ہی سلمیٰ کی وجہ سے دماغ ماؤف ہورہا تھا اب چاچی (تائی) کی بات سے بلکل ہی سر گھومنے لگا۔ ایمان میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر فوراً بولی: آپ سب باہر جاؤ عثمان کی آجکل ویسے بھی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔

جس پر ایمان کی ایک کزنز جو کہ کافی ماڈرن ڈریس میں تھی بول پڑی: بڑی آئی عثمان کی طرفدار، اتنی پرواہ ہے تو سلمیٰ کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ کر عثمان سے نکاح کروا لو۔

ایمان نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا: ہاں میں بڑی ہوکر ایسا ہی کرلوں گی اب تم میں سے کوئی بھی نہیں بولی گی

ایمان نے اتنا بول کر فوراً اپنا چھوٹا سا دوبٹا اتار کر میرے چہرے پر ڈال دیا جس سے مجھے ہلکی ہلکی خوشبو آرہی تھی، میں نے اپنی آنکھیں کچھ دیر کے لیے بند کرلیں اور ایمان، تائی، اور سلمیٰ کے ری ایکشن کو سوچنے لگا، تب ان کزنز میں سے ایک نے کہا: دیکھو نا خالہ ایمان نے کیسے عثمان کو چھپا رکھا ہے، ایسا لگتا ہے ان دونوں میں کچھ چل رہا ہے

اب ان میں سے کوئی بھی بولتا، تب میں نے ایمان کے دوبٹے کو پیچھے کیا اور نرمی سے بولا: میڈم جی، معاف کردیں۔ میرے سر میں درد ہورہا تھا اس لیے اندر آگیا، آپ حکم صادر کریں تو میں گھر چلا جاتا ہوں غلطی ہوگئی یہاں آکر۔

میرے نرم لیکن سخت تنبہ والے انداز پر سب کزنز اٹھ کر باہر چل دیں، میں نے دیکھا ایمان میرے رویے سے بیڈ سے اٹھ کر اتر رہی تب میں نے اسے فوراً روکا اور بولا کہ ویسے ہی آکر میرے ساتھ لیٹ جاو باہر جاؤ گی تو یہ سب دوبارہ تمہیں تنگ کریں گی،

ایمان نے فوراً میری بات مانی اور میرے قریب لیٹ گئی، میں نے اسے دوبارہ اپنا دوبٹا میرے اوپر کرانے کا بول کر اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اس دن اگر میں نے یہ نہ بولا ہوتا تو آج (حال) ایمان کے دل میں میرے لیے کوئی جذبات نہ ہوتے۔

ہم دونوں ایسے ہی کافی دیر لیٹے رہے پھر میں نے کچھ دیر بعد ایمان کے دوبٹے کو پیچھے کیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا کیونکہ میں نے سلمیٰ کے متعلق جو کچھ سوچا وہ کافی برا ہوسکتا تھا اس لیے میں نے یہاں مزید رکنا بہتر نہ سمجھا، میں جیسے ہی اٹھا ایمان بول پڑی: ایسے باہر نہ جاو، منہ دھو لو۔

میں نے ایمان کی بات مان کر منہ دھو لیا، اتنے میں امی کمرے میں داخل ہوئیں اور ایمان سے بولیں: یہ گفٹس ہم تینوں نے مل کر تمہارے لیے خریدے ہیں تم کھول کر دیکھ لینا اگر پسند آئیں تو ٹھیک نہیں تو تمہاری مرضی۔

امی نے مجھے بلایا اور ہم گھر کے لیے روانہ ہوگئے، شاید مائیں سب کچھ جانتی ہیں بس وہ بولتی نہیں۔ اس رات میرا دھیان بار بار، سلمٰی اور ایمان کی طرف جارہا تھا۔ میں کسی بھی فیصلے پر پہنچ نہیں رہا تھا۔

میں صبح اٹھ کر نہایا اور سکول کے لیے نکل گیا، احسن اور اسرار اپنی پڑھائی پر توجہ دے رہے تھے اس لیے ان سے کیا بات کرتا، واپسی پر معمول کے مطابق ماہرہ اپنی فرینڈز کے ہمراہ میرے پیچھے پیچھے چلنے لگیں۔ گھر پہنچ کر وہی عام سی روٹین، شام کو امی نے بتایا کہ ابو نے اپنے دوست سے کہہ کر ہمارے گھر ٹیلی فون اور ٹی وی لگانے کا بول دیا ہے۔ ہم دونوں بہن بھائی کافی خوش ہوئے، چند دنوں تک میری وہی عام سی روٹین چلتی رہی، ایک دو دن بعد میں حرا کے پاس چلا جاتا، کبھی کبھی وحیدہ سے ٹاکرا ہوجاتا، تو کبھی کبھی چاچی نازی چھت پر آکر میرا کام تمام کردیتی، جب کبھی وقت ہوتا تو ماسی بدرہ سے آنکھ مٹکا ہوجاتا، اس سب کے دوران ہمارے گھر ٹیلی فون کی سہولت کے ساتھ ساتھ ٹی وی کی سہولت بھی میسر ہوچکی تھی۔ ابو نے اپنے دوست کے ذریعے بتایا کہ وہ جلد واپس آکر سردیوں میں استعمال ہونے والا گیزر لگوانے والے ہیں، ساتھ میں گھر کے کچھ کام بھی کروا دیں گے۔

جس وقت فون لگ گیا اس وقت ابو کے دوست نے امی کو ابو سے کال ملا کر دی اور خود بیٹھک میں بیٹھ کر چائے پینے لگے کچھ دیر سلام دعا کے بعد ابو نے فون بند کردیا۔ پھر امی نے چند پیسے جتنے ابو نے بتائے تھے ابو کے دوست کو دیئے اور اس طرح وہ چائے پی کر چلتے بنے۔

صبح کے وقت میں جب جاگا تو سکول ٹائم گزر چکا تھا کیونکہ اتوار والا دن تھا۔ میں نے ناشتے کے بعد گھر سے باہر نکلا اور آوارہ گردی کی سوچ کر سامنے والے ہم عمر لڑکے کو آواز دی اور گھومنے نکل پڑے، کافی دیر بلا مقصد آوارہ گردی کرنے کے بعد میں اکیلا اسی مقام پر پہنچا جہاں میں نے کچھ دن پہلے وحیدہ کی ٹھکائی کی اور واپسی پر ماسی بدرہ ملی تھیں۔

اس جگہ سے تھوڑی دور ماسی بدرا کام کررہی تھیں مجھے اس مقام پر آتا دیکھ ماسی بدرا نے اپنا کام روکا اور میری طرف بڑھی۔ جس پر میں اسی جگہ رک گیا پہلے سوچا کہ گھر چلا جاتا ہوں لیکن پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ چلو آج ٹیسٹ تبدیل کرتے ہیں۔ ماسی میرے قریب آکر سرگوشی والے انداز میں بولیں: خیر تو ہے راجہ جی، وحیدہ ساتھ نہیں ہے؟

مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کیونکہ کوئی بھی ماں اپنی بیٹی کے سیاہ کرتوت جانتے ہوئے بھی اس پر کوئی روک ٹوک نہ لگائے، تب ماسی نے میرا کندھا پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولی: کیا ہوا؟ آج کسی اور پر دل ہے ہمارے راجہ جی کا؟

میں مسکراتے ہوئے: اصل میں ماسی مجھے وحیدہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی تو سوچا شاید وہ یہاں آس پاس ہو،

 تب ماسی نے ایک دو جگہوں پر نظر ڈالنے کے بعد بولی: جس وقت وحیدہ گھر سے نکلے تم اسی وقت ہمارے گھر آجانا،

میں انجان بنتے ہوئے پوچھنے لگا: کیوں ماسی؟

ماسی مسکراتےہوئے: اب تم، تو ایسے سوال مت پوچھو،

میری سمائل پر ماسی نے میرے لن پر دو تین بار ہاتھ پھیر کر بولی: میں انتظار کروں گی، اگر آئے تو ماسی فضیلتہ کو بھی اگلی مرتبہ بلا لوں گی، اب جاو اور عیش کرو۔

مجھ سے پہلے ماسی وہاں سے نکل گئی جیسے ہی میں وہاں سے نکلنے لگا تب میرے سامنے وحیدہ ایسے کھڑی ہوکر مجھے دیکھنے لگی جیسے میں نے کوئی چوری کی ہو، تب میں بھی اسے دیکھنے لگا۔ وحیدہ: تم نے وہی کام کیا نا، اس لیے میں اماں کو بیچ میں نہیں لا رہی تھی۔

میں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسی جگہ آگیا، کیونکہ یہ جگہ زیادہ محفوظ تھی، ہم یہاں کسی کی نظر میں نہیں آسکتے تھے اس لیے جب ہم دونوں اس جگہ پہنچے تب وحیدہ بولی

وحیدہ: ماسی فضیلتہ اور اماں سے بچ کر رہنا، بے شک حرا سے پوچھ لینا وہ بہت گندے گندے کام کرتی ہیں اس لیے میں نے خود تمہیں اماں سے کرنے کا موقعہ نہیں دیا سمجھے

میں نے فوراً غصیلی وحیدہ کو اپنی چھاتی سے لگا کر بولا: ناراض کیوں ہورہی ہو تم؟ میں نے کون سا چلے جانا تھا؟ تم دونوں کے ہوتے میں ماسیوں کے پاس جا کر خود کو بے وقوف بناؤں ایسا ہوسکتا ہے؟

وحیدہ نے مجھے دھکہ دیتے ہوئے بولی: اب زیادہ مکھن بازی نہ کرو، میں تو شام کا انتظار کررہی تھی اور تم اماں کے ساتھ مل کر ناجانے کیا کیا منصوبے بنا رہے تھے

میں نے فوراً اپنے کان پکڑتے ہوئے کہا: اب معاف کربھی دو نا۔

وحیدہ کے سمائل کرتے میں وہاں سے چلنے لگا جس پر وحیدہ نے مجھے روک لیا اور بولی: اب آئے ہو تو یہیں کرلیتے ہیں ادھر کیا پتا حرا کی بھابھی کے سامنے ہوسکے گا کہ نہیں، یہیں کرلیتے ہیں چلو۔

میں: اپنا دوبٹا ڈالو کھڑے کھڑے مجھ سے صحیح طریقے سے نہیں ہوسکے گا

وحیدہ مسکراتے ہوئے اپنا دوبٹا اتار کر نیچے گھانس پر بچھاتے ہوئے بولی: تم کافی خراب ہوگئے ہو۔

میں نے فوراً اسے اپنے اوپر کھینچ لیا۔وحیدہ نے دوبٹا اتارنے کے ساتھ ہی اپنی شلوار اتار دی تھی، اس لیے جیسے ہی وہ اوپر آئی ہم نے اپنا کام شروع کردیا۔ ہم نے کچھ دیر اس کام پر لگائی پھر میں نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا: آج تمہاری مرضی ہے، کہاں اپنی منی نکالوں؟

وحیدہ گرم گرم آہیں بھرتے ہوئے بولی: اندر۔

میں وحیدہ کی بات سن کر مزید گرم ہوتے ہی اپنی منی کو وحیدہ کی پھدی کے اندر ہی چھوڑنے لگا جس پر وحیدہ کے منہ سے تیز سسکاریاں نکلنے لگیں۔ کچھ دیر بعد ہم اپنے اپنے گھروں میں تھے، دودھ لینے کے لیے میں نہیں گیا کیونکہ مجھے حرا کی بھابھی سے تھوڑی سی شرم، یا ججھک محسوس ہورہی تھی۔ اگلی صبح ابو کی کال آگئی کچھ دیر ایسے ہی عام باتیں ہوتی رہیں پھر باجی سے سلام دعا ہوئی پھر میں سکول چلا گیا۔

سکول سے واپس آیا تو باجی نے مجھے بتایا کہ ابو باجی کا رشتہ انکل کے بیٹے کو دینے والے ہیں۔ میں خاموش ہی رہا، کیونکہ یہ معاملات بزرگ افراد کے تھے میرے ہاں یا نہ سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا تھا، میں شام کو دودھ لینے گیا تو آج حرا کی بھابھی مجھے چاچے ثاقب کے ساتھ بیٹھی نظر آئیں، میں نے دودھ لیا اور گھر واپس آگیا۔ رات کو کچھ خاص بات نہ ہوئی، اگلے دن چھٹی کے بعد ماہرہ پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بول پڑی: عثمان بات تو سنو

میں تھوڑا مدہم ہوتے ہوئے چلنے لگا تب ماہرہ کی دوست ماورا بول پڑی: کیوں بچاری کو تنگ کررہے ہو؟

میں: تم سے مطلب؟ جس نے بات کرنے کے لیے روکا ہے وہ بول نہیں رہی اور تم ہو کہ اپنی ٹانگ درمیان میں ڈال کر اس معاملے کو مزید خراب کررہی ہو۔

ماہرہ نے فوراً اپنی سہیلیوں کو وہاں سے رخصت کیا اور میرے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بولنے لگی: میری پوری سن کر خود فیصلہ کرنا کہ تمہیں مجھ سے رشتہ رکھنا ہے یا نہیں، جب تم اس سکول میں داخل ہوئے تب ہم تینوں کی نظر تم پر تھی کیونکہ تم خوبصورت تھے، پھر ساتھ میں تم اپنی پڑھائی میں بھی کافی اچھے تھے، ہم نے سوچا کہ ہم پہلے سیدھے سیدھے تم سے دوستی کریں گی، اپنی پڑھائی کے مسائل تم سے حل کروائیں گی اور بس اسی طرح دوستی چلتی رہے گی، اگر تم نے اس مدد کے بدلے تم نے کچھ مانگا تو ہم میں سے کوئی ایک تمہیں خوش کرنے کے لیے اپنے گاؤں کی ایک لڑکی سے ملوادیں گی۔ لیکن تم ویسے نہیں نکلے، احسن نے تمہیں صرف میرے متعلق آدھا سچ بتا کر صرف میرے خلاف کردیا۔ یہی سچ تھا، میں نے اس سے بھی دوستی کی میں نے اس کو برباد کرنے کا سوچا بھی نہیں، بس اس نے میرے ہنس کر بات کرنے کو پیار سمجھ لیا۔ اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں تو اپنی سہیلیوں کی وجہ سے اس مصیبت میں پڑ گئی اب تم چاہو تو مجھے معاف کردو اور ہماری مدد کردیا کرنا، اگر نہ بھی کرو تو کوئی مسئلہ نہیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

میں نے ماہرہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: بس اتنی سی بات تھی؟

ماہرہ: ہاں

میں: اتنی سی بات کے لیے تم نے میرے دوست کو برباد کرہی دیا تھا، اگر میں اس سکول میں داخل نہ ہوتا تو تم تینوں کی وجہ سے اس نے پڑھنا بھی بند کردینا تھا، تمہیں ذرا سی شرم بھی نہیں آئی کہ تمہارے جھوٹے سموسے کو وہ اتنے پیار سے کھاتا ہے اور تم ہو کہ اپنی سہیلیوں کی خاطر میرے دوست کا استعمال کر رہی تھی۔ شرم آنی چاہیے

ماہرہ روتے ہوئے: آئی لو یو۔

میں: یہ والا آئی لویو کون سا والا ہے؟ جس طرح احسن کو بولا ہوگا یا اس لڑکے والا جو اس دن تمہارے پاس کھڑا تھا؟ ہاں؟

ماہرہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی، میرے دل و دماغ کی آپس میں جنگ جاری تھی، میں ماہرہ کے روتے ہوئے زمین پر بیٹھ جانا، دل کو ٹھیس لگی، اگر یہ منظر احسن نے دیکھ لیا تو اس نے مجھے جان سے مار ڈالنا ہے کیونکہ وہ ابھی بھی ماہرہ کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ میں نے فوراً ماہرہ کو بازووں سے پکڑ کر اٹھا کر کھڑا کرتے ہوئے ایک نظر دور کھڑی ان دونوں ۔۔۔۔ کو دیکھا پھر ماہرہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا: اب رونا بند کردو، سب ہماری ہی طرف شک بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

ماہرہ اپنا چہرہ نیچے کیے بولی: میں نے نا احسن کو، اور نا ہی عدنان کو آئی لو یو بولا، اور نہ ہی کسی مرد سے جسمانی تعلق ہے۔ چاہے تم کسی سے بھی پوچھ لو۔

میں نے ماہرہ کا بازو پکڑ کر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بولنے لگا: مجھے تم پر اعتبار ہے اب تو رونا بند کردو۔

ماہرہ: پھر میرے آئی لو یو کہنے کا جواب نہیں دیا تم نے

میں: ابھی ہم دونوں کے پڑھنے اور کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھنے کا وقت ہے، ان سب کاموں کے لیے وقت نہیں۔ اگر آج میں تمہارے آنسوؤں کی وجہ سے آئی لویو بول بھی دوں کل بعد میں تمہیں پیار ہوجائے یا مجھے تب میں تمہاری خاطر یا تم میری خاطر اپنے اصلی پیار کو قبول نہیں کرسکتی تو سوچو، اس وقت کیا ہوگا؟

ماہرہ بچوں والی ضد کرتے ہوئے بولی: جب تک ہم ساتھ ہیں، تب تک ہم روزانہ صبح سکول اور سکول سے گھر ایک ساتھ آیا کریں گے، اب انکار نہ کرنا۔

میں ہار مانتے ہوئے اچھا ٹھیک ہے اب دوبارہ رونا نہیں۔

ماہرہ راستے میں جہاں ہم اکیلے ہوتے میرا بازو یا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگتی جس پر مجھے ہر وقت خطرے کا احساس رہتا۔ کچھ دنوں تک ایسا ہی چلتا رہا، ایک دن انکل اور ان کی بیوی ہمارے گھر آئے اور باجی کا رشتہ کرکے چلے گئے، کچھ دنوں تک میرے پیپرز شروع ہوگئے میں کچھ دن مصروف رہا، پھر پیپرز دینے کے بعد اگلی کلاسسز میں داخلہ لے لیا نہم جماعت کے امتحانات دینے کے بعد ہمارے ہاں اگلی کلاس میں شفٹ کردیا جاتا ہے تاکہ پڑھائی کے لیے وقت زیادہ ضائع نہ ہو، ماہرہ روزانہ میرے ساتھ ہی اپنے گھر سے نکلتی اور واپس اندر داخل ہوتی، اب مجھے بھی اس کی عادت ہوچکی تھی لیکن محبت نہیں،

کیوں کہ میرے نزدیک جو لڑکی کسی بھی لڑکے کو دھوکہ دے سکتی ہو، وہ مجھے زندگی کے کسی بھی موڑ پر دغا دے سکتی ہے۔

کچھ عرصہ تک کچھ خاص نہیں ہوا جو یہاں لکھ ڈالوں، میں خود سے یہ نہیں لکھوں گا کہ میں نے ایسا کیا ویسے کیا، نہ، میں ان میں سے نہیں جو پہلی لڑکی پھدی مار کر دوسری، پھر تیسری پھر اسی طرح جہاں جہاں سے گزرتا پھدیاں ہی پھدیاں مارتا چلا جاتا، میں اس طرح کے لکھنے کے خلاف ہوں کیونکہ یہ بات حقیقت سے بلکل برعکس ہوتی ہے کوئی بھی لڑکی پہلی نظر میں اپنی شلوار اتار کر اپنی پھدی میں ہم لڑکوں کا لن لے لیں۔

سکول آنے جانے کے وقت کبھی کبھی ماہرہ مجھے ہگ کرلیتی جس سے مجھے ہلکی پھلکی شہوت چڑھتی،

میں جب بھی کھیتوں میں وحیدہ کے ساتھ سیکس کرکے واپس آتا تو مجھے دونوں ماسیاں دیکھ کر سمائل دیتی لیکن وحیدہ نے منع کررکھا تھا اس لیے میں نے ان کو اس سے آگے بڑھنے نہ دیا۔ ان سب کے دوران حرا پریگننٹ ہوچکی تھی، لیکن میری حاطر وہ مجھے ٹھنڈا کرنے کیلئے اپنی جگہ وحیدہ کو چارپائی پر چدوا لیتی یا بھینس والے باڑے میں،

حرا نے اس سب کے دوران مجھ سے اپنی بھابھی کی بہن کے متعلق بھی پوچھا لیکن میرا وہی کورا جواب تھا، جس پر حرا خاموش ہوجاتی کیونکہ اب میرے مزاج میں بھی تھوڑا سا فرق آرہا تھا،

چچا ثاقب حرا کے ساتویں مہینے میں فوت ہوگئے جس پر حرا کو یہ گھر چھوڑ کر شہر جانا پڑا، کیونکہ اب اس گھر میں اس کا ایسا کوئی بھی نہیں تھا جو اس کی دیکھ بھال کرتا،

چاچی نازی نے مجھ سے تعلق بہت کم کردیا لیکن اس دوران میں نے ایمان کے بھائی کو اسی کی کزنز سے سیکس کرتے ہوئے ان کے نئے گھر میں پکڑ لیا جس پر اس نے مجھے اس لڑکی سے سیکس کرنے کی آفر بھی دی جس پر اس لڑکی نے مجھ سے رحم بھرئی نظروں دیکھا میں نے ان دونوں کو سمجھا بجھا کر گھر بھیج دیا۔

ایمان اس سب میں خاموش محبت میں مبتلا رہی ہمارے گھر میں باجی کی شادی کی تیاریاں جاری تھی، ایمان اب جب بھی میرے گھر آتی تو امی اسے میرے پاس زیادہ دیر رکنے نہ دیتی، اور وہ بھی تائی (امی) کی بیٹی بنی رہتی۔

جیسے ہی میرا میٹرک کلیئر ہوا ابو نے امی سے مشورہ کیا اور میرا اور ایمان کے رشتے کی سرسری سی بات کردی جس پر چاچو، چاچی ربیعہ، چاچی نازی، چچا نواز ان سب کا اعتراض تھا۔ چچی ربیعہ مجھے اپنا مستقبل بنانے کا بول کر صاف انکار کرچکی تھی۔ میں نے کچھ دن تک ایمان سے اکیلے میں پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے (جبکہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا تھا کہ لڑکیوں سے کوئی مشورہ کیا جائے)

تب اس نے اپنا فیصلہ اپنے والدین کے سر تھونپ کر مجھے بری الزمہ قراردے دیا۔ تب گاؤں میں سے ایک اور رشتہ باجی طاہرہ کے لیے آیا جس پر امی ابو اور میرے ماموں نے سوچ بچار کی اور رشتہ کر دیا بعدازاں باجی طاہرہ کی شادی بھی باجی فرزانہ کے ہمراہ کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔

جس دن ہمارے گھر شادی تھی اس دن سلمیٰ، ایمان، ماہرہ، حرا، وحیدہ ، ماورا، مسکان سب کی نظروں کا محور میں تھا لیکن میں کسی کو بھی شک میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ مائیں سب کچھ جانتیں ہیں کے مصداق امی نے شادی کی تقریب کے بعد مجھ سے وحیدہ اور حرا کو چھوڑ کر باقی تمام لڑکیوں کے متعلق پوچھا جس پر میں نے صاف انکار کردیا۔

بہنوں کے چلے جانے کے بعد میں بلکل اکیلا ہوگیا تھا کیونکہ پہلے والی سادہ طبیعت والی ایمان، وہ والی ایمان نہ رہی۔ اس لیے اس کا زیادہ وقت اپنے گھر، یا سکول میں گزرتا۔ میں نے ابو سے بات کی اور ایک چھوٹی سی دکان پر بیٹھنا شروع کردیا۔

میں اپنی پڑھائی کو آگے بڑھانے کے لیے پرائیوئٹ داخلہ دینے کی سوچی پھر کسی وجہ سے ایسا کرنے سے خود کو روک لیا۔

امی ہر شام مجھ سے کبھی فلاں دور کے ماموں کی بیٹی کی بات چھیڑ دیتی، پھر کسی شام دور کے انکل کی بیٹی کی بات چھیڑ دیتی، میں بس انکار میں سر ہلا کر اپنے کمرے میں جا کر لیٹ جاتا، مجھے خود سمجھ نہیں آرہا تھا، کہ میں کیا کررہا ہوں۔

میں احسن کے مصداق آنکھیں بند کرکے کسی ایک کا چہرا تلاشنے کی کوشش کرتا تو سب لڑکیاں میری آنکھوں کے سامنے آجاتیں جس سے میں مزید پریشان ہوجاتا۔

باجی فرزانہ کے سسرال والے گجرات شہر کے رہائشی تھے اس لیے شادی کے کچھ عرصے کے بعد وہ گجرات شفٹ کرگئے جبکہ بہنوئی اور باجی اسی شہر میں رکے رہے جہاں آج کل میری دکان ہے۔ پھر بہنوئی کو ویزہ مل گیا بعدازاں باجی ہمارے ساتھ ہی رہنے لگیں۔

باجی کے بار بار سمجھانے پر میں نے امی اور باجی کو ان سب لڑکیوں کو چھوڑ کر کسی نئی لڑکی سے شادی کرنے کیلئے تیار ہوں، کہہ کر چھت پر چلا گیا جہاں ناجانے کیوں میں رو پڑا۔ میں اس مسئلے میں پڑا ہوا تھا کہ میں کس سے محبت کربیٹھا ہوں؟ کیونکہ نہ تو ایک لڑکی میرے خیالوں میں آتی اور نہ ہی سوتے ہوئے مجھے کوئی خواب آتا جسے دیکھ کر میں بولتا کہ یہی لڑکی ہے جس کی وجہ سے میں پریشان ہوں۔

دکان پر جاتے ہوئے کچھ عرصہ بعد میری ملاقات ایک سکول کی ایک ٹیچر سے ملاقات ہوئی

عینی: بتیس سائز کے بوبز، قد درمیانہ، رنگت درمیانی، میک اپ کیا ہوا تو کسی بھی لڑکے کو اپنے اشاروں پر چلا سکتی تھی، بتیس سائز کی گانڈ پر کوئی بھی عام سا لڑکا مر سکتا تھا، اگر مزید محنت کی جائے تو اس سائز کو تبدیل بھی کیا جاسکتا تھا۔ عینی کی توسط سے اس نجی سکول کی چپڑاسن وحیدہ کو رکھ لیا گیا تھا، وحیدہ اور عینی ایک دوسرے کی بچپن کی دوست تھیں، اکثر وحیدہ عینی کو میرے متعلق واقعات سنایا کرتی تھی لیکن اس نے کبھی میرا نام، یا میرے متعلق اہم باتیں نہیں بتائی تھی اس لیے جب ہم دونوں کی ملاقات ہوئی تب وہ کسی وجہ سے سٹاف روم میں بیٹھی کولر سے پانی پی رہی تھی۔

میں سکول کی پرنسپل کو کلاس ٹیسٹ دینے کے لیے پہلے کلرک آفس میں گیا تو وہاں کوئی بندہ موجود نہ تھا پھر پرنسپل آفس گیا تو وہاں وحیدہ صفائی کررہی تھی تو اس نے مجھے سٹاف روم میں جا کر عینی نامی ایک ٹیچر کو کلاس ٹیسٹ دینے کا بول دیا۔

ہم دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں پیوست تھیں تب میں نے موقعے کی مناسبت دیکھ کر گلا صاف کرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا: میم، یہ سکس کلاس کے کلاس ٹیسٹ ہیں، آپ عینی میم کو یہ ٹیسٹ پہنچا دیں تو مہربانی ہوگی۔

عینی: آپ کو کسی نے مینرز نہیں سکھائے جب بھی کسی کلاس میں جائیں تو ناک، یا اجازت لے کر اندر داخل ہوتے ہیں۔

میں: سوری میم، مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کلاس میں ہوں گی، میں سمجھا کہ میں سٹاف روم میں آیا ہوں۔ سو سوری۔

میں یہ بول کر واپس مڑا تو وہ بولی: اٹس می، عینی

عینی کو مسکراتا دیکھ میں نے بھی مسکرا کر بولا: اوہ۔ سو سوری میم

عینی: بیٹھیے میں چائے کا بولتی ہوں۔

عینی میرے انکار کے باوجود وحیدہ کو چائے کا بول کر واپس میرے پاس پڑی ایک کرسی پر بیٹھ کر میرے متعلق چند سوالات کرتی رہی پھر چائے آگئی تو میں چائے کا سپ لینے لگا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ عینی اور وحیدہ ایک دوسری کی خاص دوست ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کچھ اشارے ہوئے پھر وحیدہ باہر چلی گئی۔

کچھ دیر ہم بیٹھے چائے پیتے رہے پھر اچانک عینی نے اپنی بازو میرے بازو پر ہلکا سا مارتے ہوئے چائے کو گرادیا جو سیدھا میری ران پر گری، چائے کافی زیادہ گرم نہیں تھی کیونکہ میں آدھی سے زیادہ پی چکا تھا، جیسے ہی چائے گری عینی نے سوری ورڈ تقریباً دس سے بارہ مرتبہ کہا پھر مجھے پکڑ کر واش روم لے گئی۔

میں بار بار یہی کہہ رہا تھا: میم میں خود صاف کرلوں گا،

لیکن عینی نہ رکی، میرے دماغ میں یہ بات چل رہی تھی کہ شاید وہ بوکھلا گئی ہے، لیکن جیسے جیسے وہ میری قمیض کے دامن کو دھو رہی تھی اس سے صاف صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اس کے نیک ارادہ ہیں۔

قمیض کو دھونے کے بعد عینی ہوس بھری نظروں مجھے دیکھ کر مسکرا دی، جس پر میں بھی مسکرا دیا تبھی بیل بجنے کی آواز تب عینی جلدی سے بولی: میں آپ سے کانٹیکٹ کرنا چاہوں تو کیسے کروں؟

میں: آپ نمبر لکھ لیں جب بھی کال کریں گی تو بندہ حاضر ہوجایا کرے گا۔

عینی سمائل دیتے ہوئے نمبر نوٹ کرنے لگی پھر میں نے رخصت لی اور دکان پر آکر بیٹھ گیا جہاں دکان کا مالک پہلے سے موجود اپنے رشتہ داروں سے گپیں لگا رہا تھا۔ تقریباً تین بجے کے قریب میری جیب میں پڑے موبائل کی رنگ بجی تو ایک نیا نمبر شو رہا تھا جس پر میں مسکرا دیا کیونکہ مجھے اس نمبر پر کال صرف میرے قریبی ہی کرتے تھے۔

کچھ دیر عینی سے رسمی باتیں کرنے کے بعد میں بولا: آج آپ کا ہاتھ کافی پھسل رہا تھا خیر تو تھی نا میم؟

عینی ترنگ میں آتے ہوئے: وہ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔۔ میرا ہاتھ کہاں پھسل رہا تھا؟

میں کرسی سے سر ٹکاتے ہوئے بولا: عینی جی۔۔۔ آپ بھی وہی چاہتی ہیں جو میں اب چاہتا ہوں اس لیے پیار سے اپنے اصل مدعے پر آجائیں۔ ایسے کرنے سے آپ کا اور میرا دونوں کا وقت بچ جائے گا۔

عینی: مجھے پرنسپل کی کرسی چایئے بدلے میں، میں تمہیں دو دو عورتوں سے جنت کی سیر کرواؤں گی۔

میں مسکراتے ہوئے: عینی جی، ایک تو وحیدہ ہوئی نا، اس کو رہنے دیں، پھر دوسری کا نام لیں۔

عینی: کیا تم وحیدہ سے یہ سب کرچکے ہو؟

میں: جی بلکل، اب جلدی سے نام بتائیے تاکہ اس دوسرے بندے کے نام کی پھدی مارنی ہے۔

عینی مزہ لیتے ہوئے: میں سمجھی نہیں، میں نے یہ تو سنا ہے کہ لڑکے ہم لڑکیوں کے بوبز یا ائز کو سوچ کر اکسٹھ باسٹھ کرتے ہیں لیکن یہ پھدی مارنا میری سمجھ میں نہیں آئی۔

میں: آپ اس بات کو چھوڑیں دوسری عورت کے متعلق بتائیں۔

عینی: وہ میری ہی کولیگ ہے، شادی کو پانچ سال ہوچکے ہیں۔ چیک اپ کروانے پر معلوم ہوا کہ اس میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بچپن میں اس کا اور اس کے والد کا اکسیڈنٹ ہوا جس میں اسے اندرونی چوٹیں آئی جو بعد میں مسئلہ بنا۔ خیر تم بتاو، مجھے پرنسپل کی کرسی کب تک مل جائے گی؟

میں: فلحال پہلی عورت کی جگہ تم پوری کرو تو پرنسپل والی بات بن سکتی ہے۔ ورنہ مشکل ہے

عینی تھوڑی سی تیز آواز کے ساتھ: تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے؟

میں اب وہ پہلے والا عثمان نہیں تھا، اب میں احسن والا عثمان بن چکا تھا، جو حالات کے ساتھ بدل جاتا تھا۔ میں نے اگلا پینترا چلا: میم آپ کی تمام باتیں ریکارڈ ہوچکی ہیں صبح آپ کو سکول چھوڑنے کا آرڈر مل جائے گا۔

عینی فوراً معاملہ سمجھ کر میٹھے انداز میں بولی: عثمان مجھے ایک بیماری ہے۔ میں اپنے غصے کو کنٹرول نہیں کرپاتی، تم برا مت منانا۔ تم کہتے ہو تو میں ابھی تمہارے پاس آجاتی ہوں۔

میں مسکراتے ہوئے دکان سے باہر نکلا اور دکان کے مالک کو اشارہ کرکے دکان اس کے حوالے کرکے اپنی نئی منزل کی طرف چل پڑا۔

میں: تم نے سوچا کہ، میں نے کسی کی مدد کرکے اسے کسی کرسی پر بیٹھا دیا تو میں تمہاری اس معاملے میں بھی مدد کروں گا۔

میں اتنی دیر میں اپنی نئی شکار سکول پرنسپل کے بیڈ روم تک پہنچ چکا تھا، مجھے دیکھ کر ہما مسکرا کر دیکھا پھر ایک گلاس میں ٹھنڈا مشروب بھرکر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

عینی: تم میری مدد کرسکتے ہو اس کے بدلے تم جب تک چاہو مجھ سے میری دوست سے تعلق رکھ سکتے ہو۔

گلاس سائیڈ پر رکھ کر میں نے ہما کی طرف دیکھا جو باتھ روم کے دروازے میں کھڑی میرا انتظار کررہی تھی، میں نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنی قمیض کے بٹن کھولنا شروع کردیے جب تک میں دروازے تک پہنچتا میں بلکل ننگا ہوچکا تھا اس دوران میں دوبارہ بولا

میں: تم اور تمہاری اس دوست کی صبح میں چھٹی کروانے پرنسپل کے گھر بس پہنچنے والا ہوں، اگر معافی تلافی کرنا چاہتی ہو تو جس بھی حالت میں ہو، اسی طرح ٹھیک آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچ جانا۔

فون بند کرکے میں نے اپنے کپڑوں کے اوپر پھینک کر ہمار کے پیچھے جا پہنچا۔

ہما نے مسکراتے ہوئے اپنے خوبصورت بدن سے تولیہ کو اتار سائیڈ پر پھینک دیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

ہما نے اپنے پیچھے مجھے محسوس کرکے فوراً شاور کھول دیا جس سے ہم دونوں نیم گرم پانی میں بھیگنے لگے۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا کر ہما کے ۳۴ سائز کے بوبز کو دبانے لگا پانی کی گرمی اور اور اپنے اندر کی گرمی کے اثر سے اکڑ رہے بوبز کے نپلز میں صاف صاف محسوس کررہا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اسی کام میں مشغول رکھا۔

میرے لنڈ میں اسی وقت جان پڑگئی تھی جب ہما باتھ روم میں جانے کے لیے بڑھی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ھما اور میرے درمیان اب کیا ہونے والا ہے۔ میرا لن اکڑ کر ہما کی بتیس سائز کی گانڈ کے اوپر رگڑ کھا رہا تھا، جب ہما سے پانی کی، میرے لن کی گرمی اور میرے ہاتھوں کے لمس برداشت نہ ہوا تب ہما نے پلٹ کر میری طرف دیکھا پھر گیلے سرخ ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے جوڑ کر تابڑ توڑ کس کرنا شروع کردیا۔

میں ہما کے حملے کا موثر جواب دیتے ہوئے ہما کے ہونٹوں کی لالی کو چومنے چاٹنے لگا، میں نے اس دوران اپنا ایک ہما کے بوبز پر ہی رکھا اور دوسرے ہاتھ شاور کو بند کرکے سامنے پڑے شمپو کو اٹھا کر ہما کے سر پر ڈال دیا، جس پر ہما نے کس کرنا روک کر اپنے بالوں کو شمپودینے لگی، پھر اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اس میں شمپو ڈال کر میرے سر پر بھی لگانے لگی۔

شمپو کرنے کے بعد ہما میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا دی، اسی وقت تیز پانی صرف مجھ پر پڑنے لگا، گرم پانی کے فوراً بعد اگر ٹھنڈا پانی جسم پر پڑے تو چودہ طبق بھی روشن ہوجاتے ہیں میرے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا۔ میں ہما کی اس حرکت کا بدلہ فوراً لیتے ہوئے ہما کو اپنی طرف کھینچ لیا جس پر ہما کے بدن میں کپکپاہٹ دوڑ گئی۔ ایسے ہی جسم کی صفائی کرنے کے بعد ہما نے مجھے کمپاؤنڈ پر بیٹھا دیا اور خود میرے اوپر بیٹھنا شروع کردیا۔

ہما نے اپنی داہنی ٹانگ میری ٹانگ پر رکھ کر جبکہ باہنی ٹانگ کو میری دونوں ٹانگوں کے سینٹر میں رکھ کر میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی درمیانے سائز کی پھدی میں منتقل کرنے لگی جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی ہما کی پھدی میں گھسی اسی وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کسی نے میرے لن کو پکڑ کر کسی گرم جگہ میں ڈال دیا ہو،

ہما آہستہ آہستہ میرے لن پر بیٹھتی جا رہی تھی جبکہ میں اپنی آنکھیں بند کیے ان لمحات کو محسوس کیے جارہا تھا۔ اس پوزیشن میں سارا کام ہما کا ہی ہوتا تھا۔ اس لیے میں نے خاموشی سے بیٹھ کرہما کو اپنا کام کرنے دیا۔

ہما چند جھٹکوں کے بعد اپنے آپ کو سیدھا کر کے ردھم بنا لیا، اب ہم دونوں کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ جس سےپورا باتھ روم ان سسکاریوں سے گونج رہا تھا۔

کچھ لمحات کے بعد ہما نے پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے اپنی داہنی ٹانگ کو میری ٹانگ سے اتار کر میری دونوں ٹانگوں کو درمیان رکھ کر ایک مرتبہ پھر میرے لن پر اوپر نیچے ہوکر مزے سے کی دنیا میں گم ہونے لگی۔ جیسے جیسے یہ سیکس آگے بڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے ہماری سسکاریوں کی گونج بڑھ رہی تھی۔ میری بڑھتی ہوئی سسکاریوں کو سن کر ہما نے جلدی سے میرے لن کو اپنی پھدی سے باہر نکالا اور میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنے گیلے بوبز کے درمیان میرا لہراتا ہوا لن لے کر اپنے دونوں بوبز کو اوپر نیچے کرکے میرے لن کی مٹھ لگانے لگی۔

ہما کے بوبز کی نرمی نے میرے خون کی گردش تیز کردی تھی، میں ہما کو مزید تیز کرنے کا بار بار بول اسے جوش دلا رہا تھا پھر بلآخر میرے لن سے منی کے قطرے ہما کی گردن اور بوبز پر گرنے لگے۔ ہما یہ منظر دیکھ کر مسکرادی۔

ہما خود کو اور مجھے صاف کرنے کے بعد پہلی مرتبہ بولی: اب ہم کبھی بھی نہیں ملا سکیں گے عثمان

میں کپڑے پہنتے ہوئے: وہ کیوں؟

ہما ٹائیٹ کپڑے پہنتے ہوئے: تمہیں تو یہ بات معلوم تھی نا کہ کچھ عرصہ پہلے میری منگنی ہوگئی تھی،

میں: ہاں تو

ہما: میرے خالو نے اب کہہ دیا ہے کہ اب مزید ان نوکریوں کے چکر میں نہ پڑوں کیونکہ ان کا بیٹا (ہما کا منگیتر) اب پاکستان میں ہی اپنا کاروبار شروع کرچکا ہے جس میں اس کو سٹاف کی بھی ضرورت ہے، اس کاروبار کو ہم دونوں نے مل کر چلانا ہے اس لیے۔ باقی کی بات اب تم سمجھ جاو نا۔

میں مسکراتے ہوئے: اچھا ٹھیک ہے۔

ہما چلتی ہوئی آئی میری گود میں دوبارہ بیٹھتے ہوئے بولی: اب صرف ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے

میں فرضی اندازہ لگاتے ہوئے: سکول والا؟

ہما میرے گال کو چومتے ہوئے: ہاں، میں سوچ رہی تھی کہ سکول کی پرنسپل کی سیٹ کس کو دوں؟

میں: اس میں کیا مسئلہ ہے؟ سحرش، عینی، اقرا کسی بھی ایک لڑکی کو بنا دو، اگر سنیارٹی کو دیکھو تو عینی زیادہ بیسٹ ہے کیونکہ وہ تازہ دم ہے اور سبجیکٹس کے لحاظ سے دیکھو تو سحرش بیسٹ ہے۔

ہما میری گود سے اٹھتے ہوئے بولی: تم جانتے ہو نا، اگر میں ان تینوں میں ہونے والی لڑائی میں انٹرفئیر نہ کرتی تو ان میں سے دو نے سکول کو بدنام کردینا تھا۔ اس لیے میں اقرا، یا سحرش کا نام ہرگز نہیں دوں گی۔

میں: اچھا فلحال دو کپ چائے میرے لیے اور ایک اپنے لیے بنا لاو کیونکہ مجھے اس مسئلے کو سوچنے کے لیے دو کپ چائے کی ضرورت پڑے گی۔

ہما مجھے گھورتے ہوئے باہر چلی گئی جب واپس آئی تو ساتھ میں عینی بھی موجود تھی۔ عینی کی شکل کو پریشانی جھلک رہی تھی تب تک وہ دونوں میرے سامنے بیٹھ چکی تھی۔

میں چائے کا سپ لیتے ہوئے: ہما میم۔۔۔ میٹ اوور نیو پرنسپل آف ۔۔۔۔ سکول

ہما نے مسکرا کر عینی کی طرف دیکھا پھر مجھے، عینی مزید پریشان ہوکر کچھ بولنے لگی تب ہما نے عینی کا ہاتھ پکڑ کر مسکرا دی۔ عینی کو مزید کچھ سمجھ آتا تب تک میں اپنی چائے ختم کرکے بولا: عینی میم۔۔۔۔ آپ کل ٹریٹ دے رہی ہیں یا ابھی؟

ہما کو سارا معاملہ سمجھ آچکا تھا کیونکہ یہ سب ہما کے ساتھ بھی میں کرچکا تھا کیونکہ یہ سکول میرے دوست احسن کی بدولت یہاں چل رہا تھا، میں جب چاہتا سکول کی پرنسپل کو تبدیل کردیتا یا سکول کی ٹیچرز تبدیل کرتا، ایک طرح سے دیکھا جائے تو میں بھی اس سکول کا آونرتھا۔

ہما نے عینی کو مبارک باد دینے کے بعد میرا تعارف کروادیا۔ عینی بے یقینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی تب میں دوبارہ بولا: آئی تھینک، احسن کو کال کرنا پڑے گی تب میم عینی کو یقین آئے گا۔

ہما فوراً بولی: فلحال آپ کال کرو یا نہ کرو، مجھے تو دیر ہورہی ہے، مجھے اپنے گھر جانا ہے۔

ہما بائے بول کر ہم دونوں کے درمیان سے اٹھ کر چلتی بنی، یہ میرا دوسرا گھر تھا، جہاں میں اور احسن مل کر کسی نہ کسی لڑکی کو لا کر چود ڈالتے تھے، یہ کبھی کام زیادہ ہو تو یہی رہ کر میں کام وغیرہ کرلیا کرتھا، اگر زیادہ بارشیں ہورہی ہوں یا گرمیوں میں تیز دھوپ میں گھر نہ جانے کے لیے یہ گھر تیار کروایا تھا۔

میں نے ایک مرتبہ ہما کے چلے جانے کی تصدیق دروازے تک جا کر کی پھر عینی کی طرف آیا۔ میں نے عینی کا ہاتھ تھاما تو اس وقت اس کا سکتہ ٹوٹا۔

عینی: مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا، میم ہما نے تمہیں آپ کیوں کہہ کر پکارا جبکہ تم ہمارے سکول کے بس ایک عام سے ڈیلر ہو، جو۔۔۔

میں نے فوراً تھامے ہوئے ہاتھ کو زور دے کر اپنی طرف کھینچ کر عینی کو اپنی گود میں بٹھا لیا اور نرم انداز میں بولا: پہلا سوال کا جواب، میں اور احسن دونوں دوست ہیں اور احسن کا فیصلہ میرے ہی ذریعے سکول تک پہنچتا ہے۔

دوسرا جواب: ہما سے میری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ اس سکول کی پہلی ایم اے پاس کلاس ٹیچر بن کر آئی، چھٹی کے بعد اسے کچھ لڑکے تنگ کررہے تھے تب میں نے ہما کی مدد کی اور وہاں سے یہ سارا سلسلہ چل پڑا۔ جس انداز میں تم عینی شاہ میری گود میں بیٹھی ہو، اسی طرح وہ بھی بیٹھی ہوئی تھی بس فرق اتنا تھا کہ اس نے خود کو مجھے اپنی مرضی سے سونپ دیا تھا۔ اب یہ تمہارا فیصلہ ہے تم اپنی مرضی سے مجھے اپنا آپ سونپ دو گی یا میں کوئی دوسرا طریقہ استعمال کروں؟

عینی ہلکا ہلکا لرزتے ہوئے: مطلب کہ تم، سوری آپ نے مجھے بغیر آزمائے نرسری کلاس کی ٹیچر سے ڈائریکٹ سکس کلاس کی ٹیچر اسی وجہ سے بنایا، اوہ خدایا۔

میں نے عینی کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے: تم اور وحیدہ جو کچھ چھٹی ٹائم کررہی تھی، وہ سب میں دیکھ چکا ہوں۔

عینی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی: آپ نے بولا تھا کہ میم ہما کے گھر آنا، میں تو اسے میم ہما کا گھر سمجھ کر آئی تھی لیکن ؟

میں کچھ دیر ہنستا رہا اور پھر دوبارہ بولا: ہما کے والدین کا بس اکسڈینٹ ہوجانے کے بعد کوئی بھی نہ رہا، تب احسن کے ولفئیر کے ذریعے اس نے اپنی پڑھائی مکمل کی، پھر ہم نے اس کی قابلیت کے تحت یہاں نوکری آفر کی، اور پھر یہ گھر بھی۔ یہ کمرا میرا ہے، ساتھ والا ہما کا، اور اس سے آگے والا احسن کا،

ایسے ہی ترتیب سے کافی کمرے بنے ہیں جو اگر ضرورت پڑنے پر سکول کلاسسز میں بھی تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔ اب بھی میری بات سمجھ آئی کہ نہیں۔

عینی ریلیکس ہونے کے بعد بولی: آخری سوال،،، مجھ سے زیادہ قابل لڑکیوں کے ہونے کے باوجود مجھے ہی کیوں سکس کلاس دی گئی، اور اب پرنسپل کی سیٹ بھی؟

میں: پہلے یہ بتاو کہ ہم سیکس شروع کریں یا پھر اب بھی انکار ہے؟

عینی: آپ کو معلوم تو ہے نا، میں کافی ضدی ہوں۔ اس لیے پہلے سوالوں کے جواب سن کر ان کی کڑیوں کو جوڑ کر سوچ کر پھر فیصلہ کروں گی

میں: پھر ہمیں چھت پر چلنا چاہیے کیونکہ چھت کی تنہائی اور باہر کھیتوں کی ہریالی سے کافی فائدے ملتے ہیں۔

عینی: جی نہیں۔ جیسے بیٹھے ہیں ویسے ہی جواب دے دیں۔

میں: اچھا پھر سنو، تم ماہرہ کی چھوٹی بہن ہو، یہ وہی ماہرہ ہے جس کی وجہ احسن نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی، جب ماہرہ نے مجھے آئی لو یو بولا اور میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ خاموش رہتی، میری بہنوں کی شادیاں ہوچکی تھی، سب مجھے فورس کررہے تھے کہ شادی کے لیے ہاں بول دوں، لیکن میرے مسلسل انکار سے سب خاموش ہوگئے تب تمہاری بہن نے ان دنوں کے دوران مجھ سے شادی کے لیے پوچھا جس پر میں نے اسے ٹال دیا۔

کیونکہ میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا میں ماہرہ کو احسن کی وجہ سے قبول نہیں کرپا رہا تھا، جبکہ ماہرہ میری حالت کو سمجھ نہ سکی، شاید وہ کچھ اور بات سمجھ بیٹھی۔ ایک دن میں گھر آیا تو امی گھر پر نہیں تھی کیونکہ وہ باجی کے گھر کسی وجہ سے گئی ہوئی تھی، جب گھر پہنچا تو انہوں نے مجھے کال کرکے بتایا کہ وہ آج رات گھر نہیں آسکیں گی۔

شام کو اچانک ماہرہ ایک کالے رنگ کا شاپر لیے گھر داخل ہوئی، جب سے ہم میٹرک سے فارغ ہوئے تھے ماہرہ کا میرے گھر آنا، امی کی مدد کرنا، عام سی بات بن چکی تھی۔ میں نے ماہرہ کے آنے کا اتنا نوٹس نہ لیا۔ کچھ دیر بعد ماہرہ نے مجھے چائے پینے کے لیے دی۔

ہم دونوں اکثر دوستوں کی طرح کبھی چھت پر، تو کبھی امی کے پاس بیٹھ کر چائے، یا کھانا کھایا کرتے تھے اس شام بھی ایسا ہی ہوا، ماہرہ میرے ساتھ بیٹھ کر مجھے کام کرتے ہوئے چائے پینے لگی۔ آج ناجانے کیوں میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی تھی، خیر میں کام کے ساتھ ساتھ ماہرہ کے ساتھ مل کر چائے بھی پی رہا تھا ماہرہ کو میں نے خالی کپ پکڑایا تو ماہرہ بولی: عثمان ایک بات پوچھوں؟

میں: ہاں پوچھو

ماہرہ: جناب نے کبھی بلیو فلمز دیکھی ہیں؟

میں پنسل منہ میں ڈال کر سوچتے ہوئے: دیکھی تو تھی لیکن تم آج اچانک یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو لڑکی؟

ماہرہ میرے کندھے پر بازو رکھ کر بولی: میرا دل کررہا ہے پلیز لگاو نا۔

میں: بے شرم لڑکی، میں کام کررہا ہوں، اس وقت کوئی بھی بلیو فلم نہیں دیکھتا۔

ماہرہ ٹوہ لیتے ہوئے: وہ کیوں؟ اس وقت کیوں نہیں دیکھتے ؟

میں: تم نے بلیو فلم دیکھ کر کیا کرنا ہے؟

ماہرہ: ظاہر سی بات ہے، بلیو فلم دیکھی ہوگی تبھی تو مجھے معلوم ہوگا نا کہ تم ہماری سہاگ رات کو کیا کیا کرنے والے ہو؟

میں: آج پھر تم مسکان یا ماورا کے ساتھ اس طرح کی باتیں کرکے آئی ہو نا؟؟؟

ماہرہ نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ کر بولی: اچھا مووی نہ دکھاو، لیکن مجھے زبانی زبانی سمجھا دو نا۔

میں: میں اسی وجہ سے امی کو گھر تمہارے حوالے کرنے سے روکتا ہوں۔ اب پیچھے ہٹو کام کرنے دو۔ بڑی آئی پورن فلم دیکھنے والی۔

ماہرہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی میں پھر اپنے کمرے میں آکر کام کرنے لگا، کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ ٹائم کافی ہوچکا ہے جا کر گیٹ اور باقی دروازے بند کردیتا ہوں جیسے ہی باہر گیا تو ماہرہ کو جھک کر کام کرتے دیکھا، ماہرہ کی گانڈ کو دیکھ کر ناجانے کیوں میرے دماغ میں گند آنے لگا۔ میں چلتا ہوا اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوگیا اور بولا: ماہرہ تم گئی نہیں؟

ماہرہ فوراً سیدھا ہوتے ہوئے: نہیں، خالہ نے امی سے اجازت لے لی تھی کہ رات کو یہیں رہ جانا۔

میں نے اپنا ماتھا پیٹتے ہوئے کہا: میری امی کی عقل پتا نہیں تمہارے سامنے گھانس لینے چلی جاتی ہے۔

ماہرہ نے میری بات سنتے ہی فوراً مجھے غصیلے انداز میں کچن کی دیوار سے لگاتے ہوئے بولی: کیا بولا تم نے عثمان؟

ماہرہ کے بدلتے تیور نے میری سٹی گم کردی تھی، میں پہلے ہی ماہرہ کی موٹی سی گانڈ کو دیکھ کر گرم ہوچکا تھا اب اچانک ماہرہ کی قربت سے میں ہکلانے لگا: کچھ نہیں۔۔۔

ماہرہ نے جیسے ہی مجھے چھوڑا میں خود کو ریلیکس کرنے لگا تبھی مجھ پر افتاد ٹوٹ پڑی، ماہرہ دوبارہ میری طرف پلٹی اور مجھ سے تابڑ توڑ کس کرنے لگی۔ میری سٹی پہلے گم تھی اب اچانک اس حملے سے میں حواس باختہ ہوچکا تھا۔ میں تقریباً ہفتے دو ہفتے بعد کسی لڑکی سے سیکس کرکہ خود کو ٹھنڈا رکھتا تھا، آج یہ دورانیہ کافی لمبا ہوچلا تھا اب اچانک سے کس کرنے سے میں خود کو روک نہ پارہا تھا۔

تبھی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ماہرہ نے میرے لن کو شلوار کے اوپر سے ہی اپنی ٹانگوں کے بیچ پکڑ لیا ہے۔ میری ہمت جواب دے چکی تھی۔ میں بھی ماہرہ کو کس کرناشروع کرچکا تھا۔ میں ذرا سمبھلا تو میں نے ماہرہ کو فوراً اپنے بازوؤں میں بھرا اور اپنے بیڈ پر لاکر لٹا دیا اور ماہرہ کے پورے چہرے کو چومنا شروع کردیا۔

میں نے جیسے ہی نیچے کی طرف سفر شروع کیا تو ماہرہ نے مجھے روک دیا۔

ماہرہ: یہ میری پہلی سہاگ رات ہے عثمان۔۔۔ مجھے تیار تو جانے دو۔

میں ادھورا ادھورا ماہرہ کے جسم سے اتر کر سائیڈ پر لیٹ گیا جس پر ماہرہ کچھ دیر کے بعد بیڈ سے اٹھی اور دروازے پر پہنچ کر مجھے تھینکس کہہ کر باہر نکل گئی۔ اور میں بس ماہرہ کے متعلق سوچنے لگا۔

میں نے سوچ لیا تھا کہ امی کے آتے ہی ماہرہ سے شادی کی بات کروں گا۔ میں اٹھا اور واش روم میں گھس کر نہا کر باہر آیا تو کمرے کی لائٹ آف تھی، میں تھوڑا سا آگے بڑھا تو مجھے محسور کن خوشبو اپنے نتھنوں میں محسوس ہوئی۔ میں نے جیسے ہی لائٹ آن کی تو میرے سامنے ماہرہ میرے بیڈ پر پھولوں کی سیج پر سرخ رنگ کے کپڑوں میں دلہن کی طرح بیٹھی مسکرا رہی تھی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now