TEHREEM

Sexual Problems Of girls

Recommended Posts

میں نے سوچا ہے کہ ایک تھریڈ بنایا جائے جس میں لڑکیوں کے سیکس سے متعلق پرابلمز ڈسکس کیے جائیں۔

لڑکیاں اکثر اوقات اپنے مسلئے کہیں پر ڈسکس نہیں کر سکتی تو یہاں اس تھریڈ میں پوسٹ کر سکتی ہیں۔

Please login or register to see this image.

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرا پہلا سوال

 اکثر لڑکیاں یا میرڈ عورتیں کہتی ہیں کہ ان کے شوہر تو سیکس کرنا چاہتے ہیں مگر ان کا بالکل سیکس کا دل نہیں کرتا۔

وہ شوہر کی خوشی کی خاطر کر تو لیتی ہیں مگر ان کو بہت عجیب سی فیلنگ ہوتی ہے۔ 

وہ زبردستی کرتی ہیں اور الجھن ہوتی ہے۔

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟؟؟

مردوں میں بہت دیر تک سیکس پاور باقی رہتی ہے مگر عورت سیکس میں مزا نہیں حاصل کرتی اور اس کا دل نہیں کرتا۔

Please login or register to see this image.

Share this post


Link to post
Share on other sites

اگر یہ سوال ڈاکٹر فیصل سے پوچھا گیا ہے تواس ٹاپک کو اس سیکشن میں نہیں ہونا چاہیے،۔

باقی عورتوں کے مسائل ہیں تو وہی سوال جواب کریں یا ڈاکٹر فیصل فیس کریں 

ہم ننھے منے ممبران کا یہاں کیا کام؟

:-bd

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

اجی جناب یہ کوئی ڈاکٹری سوال نہیں ہے۔

آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ عورتیں زیادہ سیکس نہیں کر پاتیں؟

یہ ایک عمومی رویہ ہے جو ہم خاص طور برصغیر میں دیکھتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

خواتین میں جنسی بےرغبتی  کی تو درجنوں وجوہات ہو سکتی ہیں، جسمانی ،نفسیاتی،گھریلو اور طبقاتی۔

نفسیاتی وجوہات میں پہلی تو سوچ ہے۔ اگر بیویوں کی یہ سوچ ہوتی ہے یہ کام تو بس شوہر کی تسکین کا ذریعہ ہے اور ہماری اس میں کوئی رفاح نہیں۔ ان کے نزدیک یہ شوہر کو خوش کرنے کا طریقہ ہے بس۔ ایسے میں متواتر کسی انسان کی محض خوشی کے خاطر کام کرنے سے جی اکتا جاتا ہے۔ وہ یہ سوچنے لگتی ہیں کہ میں کام کی چیز ہوں جو بس بستر پر استعمال ہونے کے لیے آئی ہوں۔وقت کے ساتھ سیکس لطف کی بجائے اس سوچ کی وجہ سے بےزاری لاتا ہے۔

کئی بار شوہر کے ساتھ تعلقات کوئی خاص خوشگوار نہیں ہوتے مگر اس کے باوجود اس کے ساتھ ہم بستری کرنا مجبوری ہوتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس سے بولنے کا دل نہ چاہ رہا ہو یا جس کی شکل دیکھنے روادار نہ ہو مگر اس سے چدنا پڑے تو یہ واقعی کوفت کا باعث بنتا ہو گا۔ ایسے گھر جہاں شوہر کی بڑی سخت حکمرانی ہو اور عورت اس کی باندی ہو،وہاں شوہر سے خوف اور ڈر میں سیکس کروانا بھی بہت مشکل کام ہو جاتا ہے۔

بعض خواتین میں ایک غیر فطری سوچ بھی ہوتی ہے کہ سیکس گندگی اور بےحیائی کا کام ہے۔ یہ نفسیاتی گرہ بھی ان میں بےزاری لایا کرتی ہے۔

کچھ خواتین کا ماضی کو کوئی تلخ تجربہ بھی سیکس کو بہت تکلیف دہ یا برا بنا دیتا ہے تو وہ کسی دور میں بھی سیکس کے مزے کو محسوس نہیں کر پاتیں۔

گرمجوشی اور محبت سے عاری سیکس۔ اگر فریقین میں پیار محبت اور گرمجوشی نہیں ہے تو سیکس بس جھٹکوں تک ہی محدود ہو جائے گا۔

میاں بیوی کی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

جسمانی وجوہات میں پہلی تو بےلطف سیکس ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کسی عورت کے لیے سیکس بالکل ہی بےمزا اور بےلطف ہو۔ اس کی وجہ کوئی بیماری کوئی کمزوری  نامناسب حالات نامناسب جگہ یا مرد کی ناتجربہ کاری ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک وجہ شوہر کی بیوی کی توقعات سے منحرف ہونا یا متفرق ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ شوہر کو معلوم ہی نہ ہو کہ بیوی کی جنسی خواہشات کیا ہیں اور ان کو کیسے پورا کرنا ہے یا بیوی کی خواہش کسی اور قسم کا سیکس ہو اور شوہر کی پسند کوئی اور۔ وہ اپنی پسند کے مطابق کرتا ہو اور بیوی کی پسندسے یا  تو انجان ہو یا کرنا ضروری نہ سمجھتا ہو۔

نامناسب حالات میں دن کے کوئی ایسے اوقات ہو سکتے ہیں جس میں سیکس عورت کے لیے مشکل لاتا ہو۔ جیسے اسے گھر کے کام نبٹانے ہیں تاکہ وقت سے فارغ ہو سکے اور شوہر سیکس کی ڈیمانڈ کر رہا ہو۔

بیوی جسمانی طور پر تھکن یا کمزوری محسوس کر رہی ہو، طبیعت کی خرابی محسوس کر رہی ہو اور شوہر اس سب سے لاپروا ہو کر سیکس کرتا ہو۔

سیکس کے بعد ایک اہم کام نہانا کپڑے بدلنا اور خود کو صاف کرنا بھی ہوتا ہے۔ بعض خواتین آنے وقت کی طویل کاموں کی لسٹ سے بھی گھبرا جاتی ہیں،خاص کر اگر یہ کام کسی طرح دشوار ہوں۔ وہ سیکس کے وقت بھی اس سوچ میں مبتلا ہوں گی کہ ہائے اب نہانا ہو گا، پانی گرم کرنا ہو گا، صبح جلدی اٹھنا ہو گا، نماز سے پہلے یہ یہ کام کرنا ہو گا، نیل پالش اتارنا ہو گی اور نجانے کیا کیا۔اوپر سے موسمی معاملات الگ سے سردی میں نہانا،نہانے کے بعد سارا دن سردی محسوس کرنا وغیرہ۔

درد یا تکلیف بھی جسمانی وجوہات میں سے ہے۔عورت کو اگر تکلیف محسوس ہوتی ہو تو بھی سیکس کے بےزاری بڑھ جاتی ہے۔یہ تکلیف نامناسب سیکس کے طریقے اور بیماری کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ خواتین کی کئی ایسی امراض ہیں کہ جن میں سیکس سے درد یا تکلیف یا جلن ہوا کرتی ہے۔

نامناسب جگہ میں ہو سکتا ہے کہ گھر کا وہ گوشہ ہو کہ جہاں سیکس کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہو کہ کوئی جان لے گا کہ سیکس ہو رہا ہے،بچے جاگ جائیں گے، کمرے سے باہر آواز جائے گی۔ بعض کمبائنڈ گھروں میں میاں بیوی بھی چھپ چھپا کر کر پاتے ہیں۔

گھریلو ماحول

بعض گھروں میں ایسی چیزوں کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے کہ بہو اٹھ کر سب کے سامنے آئے دن نہانے گھس جائے۔ اسی کنواری بچیوں کے لیے برا سمجھا جاتا ہے۔ ایسے سخت ماحول میں بھی سیکس جس شرمندگی کا باعث بنتا ہے وہ سیکس کو بےلطف بنا دیتا ہے اور عورت سیکس کے مزے کو اس شرمندگی کے سامنے قربان کر دیتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بالکل ہی چھوڑ دیتی ہے۔

کچھ گھروں میں میاں بیوی کا ساتھ ہونا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے تو ڈھکے چھپے اور کبھی کبھار پکڑے جانے والے خوف کے زیراثر رہنے والا سیکس بھی انسان کو لطف سے عاری کر دیتا ہے۔

مذہبی اور دقیانوسی خاندانوں میں اکثر قدغن لگائی جاتی ہے کہ مباشرت کم سے کم ہو پائے۔ ایسے گھٹے ماحول میں سیکس بےلطف ہو جاتا ہے۔

ساس بہو اور دیگر گھریلو حالات بھی اچھے اور خوشگوار نہ ہوں تو بھی عورت ذہنی طور پر پریشان ہوتے ہوئے سیکس سے بےزار ہوتی ہے۔

طبقاتی فرق

اگر گھر میں معاشی آسودگی ہو اور ہر قسم کی خوشی ہو تو انسان سکون سے دیگر معاملات پر غور کرتا ہے۔ اگر ہر وقت کوئی ایسی پریشانی ذہن پر سوار رہے کہ گھر کا فلاں خرچہ کیسے پورا ہو گا تو سیکس اول تو ہو گا نہیں اور اگر ہو  گا تو بھی بے لطف ہو گا کیونکہ ذہن پر وہ مسائل سوار ہوں گے۔

اچھے کھاتے پیتے گھرانوں میں جہاں آسودگی ہوتی ہے وہاں جنسی معاملات بہت بہتر ہوتے ہیں۔ کئی قسم کے مسائل جو اوپر بیان کیے گئے وہ نہیں ہوتے۔ نہانے کی تنگی نہیں، جگہ کی تنگی نہیں ، وقت کا مسلئہ نہیں،موسم کا کوئی مسلئہ نہیں۔

اسی طرح وہ طبقات جن کو مسائل تو ہوں مگر وہ ان سے بخوبی نمٹ لیتے ہوں اور ضروریات یا تو کم ہوں یا ان پر صبر ہو۔ وہاں بھی سیکس بطور اکلوتی تفریح کے طور پر کیا جاتا ہے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ کا بہت شکریہ۔

بنڈل آف تھینکس۔

میں نے یہ مسیج کئی فرینڈز کو واٹ ایپس کیا ہے۔

ایک کا مسیج آیا ہے کہ میرا مسلہ کام والا ہے اور میں جاب کرتی ہوں تو رات کو اگر کر کے سوتی ہوں تو صبح دیر ہو جاتی ہے۔ صبح اٹھ کر نہانے کے لیے ایک گھنٹہ پہلے اٹھنا ہوتا ہے اور کیونکہ اور لوگوں نے بھی نہانے جانا ہوتا ہے۔

اس لیے چھٹی والی رات کو ہی کر سکتے ہیں۔

آپ نے جو انفارمیشن دی وہ بہت ایلیو ایبل ہے۔ جس جس نے مجھے بتایا تھا کہ میرا دل نہیں کرتا میں نے اسے سینڈ کر دیا ہے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

Is that you??????

Okay nice to see u.

میں انٹرو کروا دوں کل میں نے اپنی کچھ  دوستوں کو یہاں کی کچھ پوسٹ کاپی کر کے واٹ ایپ کی تھیں تو کئیوں نے پوچھا کہ تم نے کہاں نے لی ہیں۔ نورکلینک سے یا کسی اور سائیٹ سے۔

میں نے بتایا تو میری اس فرینڈ نے کہا کہ وہ آئی ڈی بنائے گی۔اس نے سیکس سٹوری پڑھی ہیں مگر وہ سب بہت گندی ہوتی ہیں یا انسسٹ والی ہوتی ہیں۔ ہندو رائٹر تو اور بھی گندا لکھتے ہیں۔

اصل مسلہ یہ ہے کہ لوگ پسند نہیں کرتے کہ کسی کو پتا چل جائے کہ کوئی اڈلٹ فورم میں جاتا ہے۔لیکن میں نے یہاں کوئی گندی بات نہیں فیل کی ، یہ تو وہ باتیں ہیں جو سب نارمل اپنے کلوز فرینڈز میں کر سکتے ہیں۔

فورم کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بنا سامنے والے کو آپ کی انفارمیشن کے آپ کا کام ہو سکتا ہے۔ ورنہ لڑکی اگر منہ سے لفظ سیکس نکالے تو سب اسے بدچلن سمجھتے ہیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ مجھے مسیج ملا ہے۔

لڑکیاں ٹائم نہیں ہوتا اس لیے بھی نہیں کرتی اور ہسبینڈ بھی نہیں بولتے تو پھر دل ہی نہیں کرتا۔

Please login or register to see this attachment.

Share this post


Link to post
Share on other sites

 فورم کا ایک فائدہ پردہ داری ہے۔ یہاں کوئی کسی کو کچھ بھی سمجھتا رہے درحقیقت وہ انسان ایک آئی ڈی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔یہاں پر کی گئی خطائیں، کوتاہیاں اور باتیں اس سلیٹ کی طرح ہے تو صفاچٹ ہو سکتی ہے۔ انسان لاگ آؤٹ ہوتے ہی ہاتھ پیر جھاڑ لیتا ہے۔

اس کی اصل زندگی اس ساری گفتگو یا قول و فعل سے محفوظ رہتی ہے۔

یہاں کوئی بھی لڑکی آئے ہم اسے ایسا نہیں سمجھتے کہ وہ سیکس کی بھوکی یا ترسی ہوئی ہے جو یہاں آئی ہے بلکہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ وہ بھی بالغ موضوعات کو زیر بحث لانے کی ہمت رکھتی ہے جو کہ عام طور ہمارے مرد حضرات میں بھی نہیں پائی جاتی۔

ایسے میں وہ اپنے تاثرات بھی بیان کرے اور اپنی حقیقت بھی کسی پر آشکار نہ ہو۔یہ سہولت اور کہاں مل سکتی ہے؟؟؟؟

باقی جو معلومات کی بات ہے تو دراصل مشاہدات اور بحث و تکرار سے ہی حاصل ہوئی ہوتی ہے اور وہی ہم آگے پیش کر دیتے ہیں۔ اس سے کسی کے علم میں اضافہ ہوتا ہے تو اچھا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک سوال مجھ سے کسی نے پوچھا ہے۔

آپ نے لڑکیوں کا بتا دیا۔ اب بتائیں لڑکوں کی کیا وجہ ہو گی کہ وہ شادی کے بعد سیکس نہیں کرتے؟

پہلے تو بہت جوش سے کرتے مگر بعد میں کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

Please login or register to see this attachment.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 

مردوں کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے جنسی اشتعال اور طلب میں کمی واقع ہو۔

مرد اور عورت میں جنسی طور پر ایک بنیادی فرق ہے۔عورت کو اگر طلب نہ بھی ہو تو مرد کے لیے وہ سپردگی اختیار کر سکتی ہے جبکہ مرد میں قدرتی طور پر چونکہ اعضا میں تناؤ درکار ہوتا ہے تو طلب ہونے پر وہ ہو گا۔ اگر تناؤ نہیں ہو گا تو جنسی تعلق نہیں قائم ہو پائے گا۔

ذہنی: سیکس پرسکون اور توانا ذہن کا کھیل ہے۔ اگر ذہن کسی وجہ سے تناؤ کا شکار ہو،کوئی مشکل ہو، کوئی پریشانی ہو۔ کسی قسم کی الجھن ہو یا دماغ پر کوئی ایسا بوجھ ہو کہ جس سے انسان چھٹکارا نہ پا سکتا ہو تو مرد کی سیکس کی طلب بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ عورت کے برعکس مرد سیکس ذہنی طور پر تازہ دم ہو کر ہی کر پاتا ہے۔ 

معاشی تنگدستی اور دیگر پریشانیاں بھی مردوں کو قبل ازوقت عورت سے دور کر دیتی ہیں۔

 اس کے علاوہ خوف اور دیگر عوامل جو دھیان بٹا دیتے ہوں وہ بھی مرد کی جنسی طلب کو ختم کر دیتے ہیں۔جنسی مغالطے جو کہ عموماً حکما کے فراہم کیے ہوتے ہیں وہ بھی مرد میں احساس کمتری جگاتا ہے اور یہ احساس جنسی تعلقات سے خوف پیدا کرتا ہے۔

 جسمانی وجہ: درد تکلیف بخار اور کوئی بھی ایسا جسمانی عارضہ جو نارمل حالات میں نہ ہوتا ہو وہ بھی ذہن بٹا دیتا ہے، سیکس ایک صحتمند جسم کا کام ہے اور اگر جسم ہی صحتمند نہیں ہو گا تو جنسی طلب ہی نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ تھکاوٹ،عمر،کام کی زیادتی،کم خوابی،شوگر،بلڈ پریشر، بھوک گرمی سردی یا دیگر موسمی حالات جن کا بالواسطہ جسم سے تعلق وہ جنسی طلب کو متاثر کرتے ہیں۔

 پسند: مرد کی طلب میں پسند ناپسند کا بڑا عمل ہے۔من چاہی عورت، من چاہا ماحول، لباس، باتیں،سیکس  پوزیشن،وقت، جگہ اور تمام عوامل شامل ہیں۔ جو خواتین مرد کی پسند ناپسند سے واقف ہوتی ہیں وہ ان کی پسند کے مطابق جنسی عمل میں ساتھ دیتی ہیں۔ جو خواتین اس سے انجان ہوتی ہیں وہ دھیرے دھیرے مرد کی طلب پوری کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور مرد کو خود کو دور کر لیتی ہیں۔اس کے ساتھ وہ خواتین جو پہننے اوڑھنے اور اپنے جسمانی نشیب و فراز کی نگہداشت کا اہتمام کرتی رہتی ہیں وہ سکھی رہتی ہیں۔ ان کے شوہر ان سے جنسی طور پر آسودہ حال رہتے ہیں۔

اسی لیے مرد کے لیے عورت کو بناؤ سنگھار کرنے اور خوشبو لگانے کا کہا گیا ہے۔اکثر خواتین امور خانہ داری میں ماں اور بہو کا کردار تو بخوبی نبھا لیتی ہیں مگر بطور جنسی پارٹنر ان کا رویہ بہت روایتی اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ان چیزوں سے نہ صرف جنسی کھنچاؤ کم ہو جاتا ہے بلکہ تعلقات میں بھی فرق آ جاتا ہے۔

بےرونق جنسی زندگی: ایک جیسی جنسی زندگی اور اس میں کسی قسم کا تنوع نہ ہونا بھی مرد کو جنسی بےرغبتی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لیے مختلف اوقات میں جنسی زندگی میں تنوع اور نیا پن لانا ازحد ضروری سمجھا جاتا ہے۔

باہمی ہم آہنگی: بیوی کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات بھی آپس میں محبت اور سیکس کو بڑھاتے ہیں۔ اگر شوہر بیوی کی اطاعت اور خدمت سے خوش ہے تو اس کے دل میں اس کے لیے محبت پیدا ہو گی جو قدرتی طور پر جنسی تعلقات کو بڑھاوا دے گی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now