TEHREEM

عبیر کی کہانی از تحریم

Recommended Posts

 یہ میری پہلی کہانی ہے۔ یہ ایک سچی کہانی ہے مگر اس میں بہت ساری باتیں اور چیزیں میں نے اس لیے ایڈ کی ہیں تاکہ پڑھنے والوں کو بھی مزا آئے۔کہانی میری ایک دوست کی ہے،جو اب میرڈ ہے اور اپنی زندگی میں خوش ہے۔

یہ کہانی بہت ساری چیزوں سے منع کرتی ہے تو ساتھ ہی ماں باپ کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ وہ کسی پر اندھا دھند ٹرسٹ نہ کیا کریں۔

میری دوست کا اصل نام تو کچھ اور ہے مگر میں یہاں اسے  عبیر کہہ دیتی ہوں۔

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

عبیر  کو قرۃ العین نے ہی بتایا کہ اس کی بہن نادیہ بھی بلو جاب کرتی ہے۔یہ بات بعد میں نادیہ نے خود بھی عبیر کو کہہ دی کہ ہاں میں نے بلو جاب کی ہوئی ہے، جب عبیر کی شادی ہو گئی۔

عبیر کا میڈیکل میں ایڈمیشن نہیں ہوا۔اس نے پی یو میں ڈی فارمیسی میں ایڈمیشن لیا تو دوبارہ وہ کچھ دن کے لیے سرفراز کے گھر گئی۔

اس بار سرفراز نے اس کو بہت  کہا کہ وہ اس سے سیکس کر لے مگر وہ نہیں مانی ۔سرفراز اس کو بولنا لگا کہ تم نے اگر نہیں دینی تو ٹھیک ہے تم مجھے اپنی ویجائنہ دکھاؤ تو سہی۔ مگر وہ نہیں دکھاتی تھی کہ کہیں وہ دکھائے اور سرفراز انر انگلی ڈال دے اور ہائمن ٹوٹ جائے۔ایک رات کو پیریڈز کے بعد  وہ باتھ روم میں نہانے گئی تھی اور سب گھر والے اندر تھے تو سرفراز نے بولا کہ میں  ناک کروں گا تم دروازہ کھول کر مجھے فل ننگی ہو کر دکھا دینا۔اس نے دروازہ کھولا تو اندر گھس گیا اور اندر سے بند کر دیا۔ وہ بولا کہ اگر تم شور کرو گی تو سب کو پتا چل جائے گا کہ میں اور تم ننگے باتھ روم میں ہیں۔ وہ ڈر گئی کہ کوئی آ جائے گا،سر فراز نے اس کو دیوار سے لگایا اور اس کی ویجائنہ کو ننگے ڈک سے بار بار رگڑ دیا۔وہ  عبیر  کو بولا کہ فیس پر ریلیز کروں گا مگر اس نے سرفراز کو بریسٹ پر نکالنے دیا۔وہ ابھی بھی ڈر رہی تھی کہ کہیں ننگے ٹچ کرنے سے اس کے اندر نہ چلا جائے۔مگر سرفراز نے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا۔وہ سرفراز کے گھر ہی تھا کہ محسن جو سرفراز کی خالہ کا بیٹا تھا وہ بھی آ گیا۔ سرفراز نے محسن کو بتا دیا کہ وہ عبیر کے ساتھ کسنگ کرتا ہے۔ عبیر ایک بار کمرے میں تھی تو محسن گھس گیا اور اس نے عبیر کو پکڑ لیا اور زمین پر گرا کر اس کی شلوار اتارنی شروع کر دی۔ عبیر نے اس کو دھکے دینے کی کوشش کی تو وہ بولا کہ میں سب کو بول دوں گا کہ تم باتھ روم میں سرفراز کے ساتھ ننگی ہوتی ہو۔ تم اس کا پکڑتی بھی ہو اور اس کو تم بریسٹ بھی چوسنے دیتی ہو۔ عبیر رونے لگ گئی اور اس نے بڑی مشکل سے محسن سے شلوار بچائی کیونکہ سرفراز کی امی نے آواز دے لی۔محسن بہت گھٹیا بندہ تھا اس نے عبیر کو سرفراز سے بھی زیادہ تنگ کرنا شروع کر دیا اور عبیر کو آتے جاتے انگلیاں دیتا۔عبیر نے سرفراز کو بہت برا بھلا کہا کہ تم نے محسن کو یہ باتیں کیوں بتا دیں تو وہ بولا کہ میرا دوست ہے،میں نے باتوں میں بول دیا۔

ایک دن عبیر چھت پر تھی تو پہلے سرفراز آ گیا۔اس نے عبیر کو پکڑ لیا،عبیر اس نے ناراض تھی مگر وہ منتیں کرنے لگا کہ میں محسن جو منع کروں گا تم  کو نہیں چھیڑے گا۔ مگر عبیر مان نہیں رہی تھی تو سرفراز نے اس کو گلے لگا لیا اور کس کرنے لگا۔ اس نے عبیر کو  چارپائی پر لٹا لیا اور اوپر چڑھ گیا۔ عبیر اس کو منع کرنے لگی کہ کوئی آ جائے گا مگر وہ نہیں مان رہا تھا ۔اس نے زبردستی عبیر کی قمیض اوپر کر دی اور نپلز نکال کر چوسنے لگا۔عبیر رونے لگ گئی کہ کوئی آ جائے گا، آنٹی آ جائیں گی مگر وہ نہیں مانا۔ اس نے زبردستی شلوار کھینچ لی عبیر نے ہاتھ سے پکڑ لی تو محسن بھی آ گیا۔اس نے عبیر کا ہاتھ پکڑ لیا،سرفراز نے عبیر کی شلوار اتار کر اپنا ڈک اس کی ویجائنہ میں ڈالنے کی کوشش کی۔ عبیر نے ٹانگیں ہلانے شروع کر دیں تو سرفراز کا اندر تو نہیں گھسا مگر عبیر کو درد بہت ہوا کہ کیونکہ وہ ہول کے اندر تک ٹچ ہوا اور وہیں  سرفراز کا پورا منی نکل گیا۔سرفراز اٹھا تو محسن نے اپنا نکال لیا اور وہ چڑھ گیا۔اس نے بھی عبیر کو لپس فیس گردن  پر کس بھی کیا اور نپل پر کاٹا تاکہ نشان بھی بن جائے۔اس نے بھی  عبیر کے اندر گھسانے کی کوشش کی مگر اس کا بھی سارا  باہر ہی نکل گیا۔

دونوں نے اس کی ساری شلوار اپنی منی سے گندی کر دی تھی۔وہ بولے کہ ہم تمہاری ضرور لیں گے،اگلی بار تو پکی بات ہے۔ عبیر نے اپنے امی ابو کو کہا کہ مجھے واپس آنا ہے۔ وہ اگلے دن اس کو لے گئے تو عبیر کی عزت بچ گئی۔ مگر اس کو ابھی بھی ڈر تھا  کہ کہیں سرفراز نے جو بالکل ہول کے منہ پر ریلیز کیا تھا اس سے پریگننسی نہ ہو جائے مگر اچھا ہوا کہ نہیں ہوئی۔ وہ بہت روئی اور اس نے بہت دعائیں کی۔

وہ ایک بار لاہور گئی کسی کی شادی پر تو وہاں ایک لڑکی جو محسن کی بہن تھی۔اس نے عبیر کو بولا کہ ہم سب گرلز نے سنا ہے کہ تم نے محسن اور سرفراز دونوں سے کروایا ہوا ہے۔ عبیر بہت روئی کہ یہ سب جھوٹ ہے میں نے تو نہیں کیا۔ وہ بولی کہ سرفراز اور محسن نے بہت سے لوگوں کو بتایا ہے کہ ہم اس کو باتھ روم میں کرتے تھے اور چھت پر بھی کرتے تھے۔یہ خود شوق سے کرتی تھی، یہ بات سرفراز کے امی ابو نے بھی سنی تھی اور انھوں نے ان دونوں کو بہت ڈانٹا تھا کہ تم نے اب یہ بات کسی کو نہیں کرنی۔ اس کے ساتھ ہمارے دوستی ہے تم بلاوجہ لڑائی کرواؤ گے۔ سرفراز کی امی کا موڈ بھی عبیر سے خراب تھا اور سرفراز کی بہن نے بھی سیدھے منہ بات نہیں کی۔عبیر سمجھ گئی کہ ان کی پوری فیملی کو یہ بات معلوم ہو گئی ہے۔اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ بات وہ اس کی فیملی کو نہ بتا دیں مگر اچھا ہوا کہ انھوں نے نہیں بتایا۔ عبیر  کا وہاں ایڈمیشن نہیں ہوا تو اس نے کہا کہ شکر ہے ورنہ ہو سکتا ہے کہ بار بار وہاں رکنا پڑتا جب تک ہاسٹل نہیں مل جاتا۔

عبیر نے یہیں پر باٹنی میں بی ایس ای کرنے کا سوچ لیا اور اپنے کالج میں ہی ایڈمیشن لے لیا۔ وہ آگے پڑھنے لگی۔اس کو ابھی بھی کبھی کبھی ڈر لگتا تھا کہ کہیں سرفراز اور محسن والی کسی کو نہ پتا چل جائے۔ اس کی بہن نادیہ کے ہسبینڈ کا ایک کزن تھا جو میٹرک میں پڑھتا تھا۔ اس کا نام ارسلان تھا۔وہ اکثر نادیہ کے گھر سے کسی نہ کسی کام سے آتا تھا اور عبیر سے اکثر باتیں کرتا تھا۔ عبیر اس کو چھوٹا بھائی سمجھتی تھی۔ ایک بار اس نے عبیر کو ایک کاغذ دیا اور بولا کہ یہ آپ کے لیے ہے۔ عبیر نے کھولا تو اس میں آئی لو یو لکھا تھا۔ عبیر کو بہت غصہ آیا کہ اس نے مجھے ایسا لیٹر کیوں دیا؟اس نے ارسلان کو بلا کر پوچھا کہ میں تمہاری بڑی بہن ہوں تم نے ایسا کیوں لکھا؟ وہ بولا کہ تم میری بہن نہیں ہو میرا دل کرتا ہے کہ میں تمہیں ہونٹوں پر کس کیا کروں۔ عبیر نے بولا کہ اب تم نے ایسی گندی بات کی تو میں تمہارے ابو کو بول دوں گی۔ مگر اس نے بولا نہیں، ارسلان نے اس کو بولا کہ میں اپنی امی سے کہوں گا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں، وہ خود آگے بات کر لیں گی۔ عبیر نے اس کو منع کر دیا کہ تم کسی کو مت بولنا۔ارسلان اب روز عبیر کی منتیں کرتا کہ تم مجھے کس دے دو ۔تم مجھے کس دے دو۔عبیر اس کو ڈانٹتی مگر وہ باز نہیں آتا تھا۔ ایک دن عبیر نے اس کو بول دیا کہ ٹھیک ہے تم کس کر لینا۔ ارسلان جب آیا تو اس نے باہر والے دروازے کے پاس ہی اس کو لپس پر کس دے دیا۔ ارسلان نے اس لپس پر زوردار کس کی اور  چلا گیا۔ عبیر کو ڈر لگا کہ وہ کہیں وہ بھی سرفراز کی طرح کسی کو بتا نہ دے۔مگر ارسلان نے ماں کی قسم کھائی کہ میں کبھی نہیں بتاؤں گا۔ارسلان روز ضد کرتا تھا کس کی۔عبیر جب موقع ہوتا دے دیتی۔دونوں ایک دوسرے کو رقعے بھی دیتے تھے،ارسلان اب عبیر کو گلے لگاتا تھا تو عبیر کو اس کا ڈک فیل ہوتا تھا۔اس نے ارسلان کو لیٹر میں لکھا کہ کل جب تم مجھے کس کر رہے تھے تو تم نے مجھے تھائی پر اپنا وہ ٹچ کیا تھا۔ ارسلان بولا کہ میں جب بھی تمہیں کس کرتا ہوں میرا وہ ہارڈ ہو جاتا ہے۔ارسلان نے اس کو لکھا کہ تم میرا پکڑو گی۔ عبیر نے پہلے تو منع کیا مگر پھر اس کا خود دل چاہتا تھا کہ وہ ارسلان کو اوپر لٹائے اور وہ وہاں پر اپنا ٹچ کرے۔ اس کو معلوم ہو گیاتھا کہ اگر شلوار نہ  اتاری ہو تو بوائے ریلیز بھی ہو جائے تو کچھ نہیں ہوتا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ کی پہلی کہانی ہے۔ امید ہے کہ اچھی ہی ہو گی۔ابھی تک تو کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔ ایک لڑکی فی الحال تو بچتی آ رہی ہے۔

کیا ہی بہتر ہوتا کہ کہانی ان پیج میں لکھی ہوتی تاکہ چوری نہ ہو سکے۔واٹر مارک میں فورم کا لنک ہوتا۔

بہرحال پہلی کہانی لکھنا مبارک ہو۔ کم ازکم فیتہ تو کٹا۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 چونکہ کہ پہلی کاوش ہے تو ایک اچھی کاوش ہے

مسلسل لکھنے سے ہی قلم میں روانی آتی ہے

اگر تو کہانی سچی ہے تو بہت سے سوچنے کے پہلو ہیں

ا۔ لڑکیاں کیسے لڑکوں کی اس قدر بے باکی پر خاموش رہتی ہیں جب ان کی اپنی مرضی نہیں ہوتی

اا۔ کیا واقعی لڑکے اتنے جرآت مند ہوگئے ہیں کہ گھر آنے والی رشتہ داروں کے اوپر لیٹ جائیں اور آتے جاتے انگلیاں دیں

اگر ایسے حالات ہوگئے ہیں تو بہت ہی خطرناک ہیں

 

میرے خیال میں ایک لڑکی اگر صرف کس کرنے، گلے لگانے یا اوپر اوپر سے رگڑنے بھی دیتی ہے ۔۔ تو لڑکے اسے بدنام کرتے وقت اتنے پر نہیں چھوڑتے بلکہ پورا گشتی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ اور ایک حقیقت سے سو افسانے خوامخواہ جنم لیتے ہیں ۔ میں نے ایسا بھی دیکھا کہ لڑکی اچھی خاصی شریف ہے اور اسے کے خوامخواہ کے قصے مشہور کردیے گئے

بدنام لڑکی کے لیے فیملی لائف میں بسنا بڑا دشوار ہوتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

 تحریم ! اب آپ کہانی اسی دیئے گئے فارمیٹ میں اپلوڈ کیا کیجیے گا۔

پہلی کہانی ہے اور چونکہ کہیں اور پوسٹ نہیں کی گئی تو امید ہے قارئین کو پسند آئے گی۔

مجھے جو عبیر کا کردار لگا ہے کہ وہ ڈرپوک ہونے کے ساتھ ساتھ دل ہی دل سرفراز کے ساتھ راضی تھی۔ اگر اسے کوئی خوف تھا تو وہ پریگننسی کا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ منع کر رہی تھی، جس جس کام میں اسے کنوارہ پن کھونے اور حمل کا خطرہ نہیں ہوتا وہ وہ کام وہ کر گزرتی ہے۔

جہاں تک برداشت کی بات ہے تو یہ لڑکوں کا پرانا پینترا ہوتا ہے ۔ پہلے لڑکی کو ہلکا سا چھیڑا،اگر اس نے شدید ردعمل دیا یا شکایت لگا دی تو اپنی راہ لی۔ اگر اس سے خاموشی اختیار کی تو بتدریج اپنی بدتمیزی کو اس حد تک بڑھا لیا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی حد تک چلے گئے۔

اکثر اوقات لڑکیاں جو زیادتی کا شکار ہوتی ہیں وہ ایسے ہی خاموش رہنے کی وجہ سے ہوتی ہیں کہ وہ کسی کو منہ سے بتا نہیں پاتی کہ ان کے ساتھ فلاں بندہ کیا حرکت کر رہا ہے۔یہاں تک کئی چدنے کے بعد بھی نہیں بتا پاتیں۔ان کو ایک خوف یہ بھی ہوتا ہے کہ بتانے کا کہیں نقصان انہی کو نہ ہو۔ اکثر والدین سامنے والے پر تو زور نہیں چلا پاتے الٹا اپنی ہی بچیوں پر غصہ کرنے لگتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

تھینکس مگر وہ والا فارمیٹ مجھے اچھا لگتا تھا کہ بس ٹیکسٹ ہو۔

کوئی طریقہ نہیں ہے روکنا کا؟

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

.

Please login or register to see this attachment.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

Please login or register to see this attachment.

The end

آپ لوگوں کے کمنٹس چاہیے تاکہ میں اور بھی لکھوں۔

پلیز شئیر کریں کی کیا کیا کمی باقی ہے۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اچھی سٹوری تھی لکھتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔

اور افسانے وغیرہ پڑھیں

اور ہو سکے تو کلاسک شاعری بھی پڑھیں یہ

یہ چیزیں پڑھنے سے آپ کو الفاظ برتنے کا سلیقہ آ جائے گا

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہانی کا پلاٹ اچھا تھا اور کہانی لکھنے کی کاوش کو سراہا جانا چاہیے

کسی سہیلی کی کہانی سے ماخوذ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسی قسم کے واقعات ہوتے ہیں آج کل لڑکی کو سیکس کی طرف لے جانے کے لیے

اب معلوم نہیں سچی کہانی میں کتنا مواد محض مسالحہ ڈالنے کے لیے تھا

یہ بھی حقیقت ہے کہ جھجھک اور خوف آغاز میں ہی ہوتا ہے ایک مرتبہ سیکس کی جھجھک دور ہوئی یا اس راہ پر قدم پڑے تو پھر رکتے نہیں

ایک مرتبہ کسی لڑکے کو انگلی کرائی تو بازو وہ خود ہی دے دے گا - اس کے لیے اسے ترغیب کا راستہ چننا پڑے یا بلیک میلنگ کا

بہرحال اسلوب اور اردو میں یقیناََ بہتری کی ضرورت ہے

واقعات کو بھی تھوڑا مزید تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت ہے

لیکن چونکہ  پہلی کہانی تھی تو یہ دونوں باتیں تو مزید لکھتے رہنے بقول شاہ جی کے مزید افسانے وغیرہ پڑھنے سے ہی بتدریج بہتر ہوجائیں گی

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now