faizanoor

الٹی شلوار

Recommended Posts

                                                                الٹی شلوار                               
صاحب اب میرا کام ہو جائیگا نا؟اس نے دیوار کی طرف رخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔ہاں ہاں بھئی ہو جائیگا۔میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ پھر میں پیسے لینے کب آوں؟ڈوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھرجھٹک کر لپیٹ لیا۔پیسے ملنے تک تو تمہیں  ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے۔ کل ہی میں مالکان سےتمہارے شوہر کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے شرٹ کے بٹن لگائے۔ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم سےباہراحتیاط کے طور پہ ایک طائرانہ نظر دورانے لگا۔ویسے تو دفتر کا چوکیدار مجھ سے چائے پانی کے پیسے لیکر میرا وفادار ہی تھا مگر میں کوئی مشکل میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔پھر میں کل ہی آجاوُں؟وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔نہیں کل نہیں!!!میں روز روز یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔اس لئے بس آہ بھر کے رہ گیا۔ ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں۔میں نظروں سے اس کے جسم کے نشیب و فراز کو تولتے ہوئے سوچنے لگا۔ارے سنو!! تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہو گئی۔اسے اتار کر سیدھی پہن لو۔میں چلتا ہوں میرے پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سےنکل جانا۔اور ہاں احتیاط سے جانا۔ کہیں تمہیں کوئی دیکھ نا لے۔زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدارتھادو مہینے پہلے ڈاکووُں سے مزاحمت کے دوران ٹانگ پہ گولی لگی اور اب بستر پہ لاچار پڑا تھا۔فیکٹری کے مالکان اس کی امداد کے لئے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کر کے بھول چکے تھے۔اس کی بیوی اس سلسلے میں بار بار چکر لگارہی تھی۔میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور شام کو اسے چھٹی کے بعد فیکٹری آنے کا اشارہ دیا۔
عمر!عمر!اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عقب سے مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔اسکے اور میرے گھر آنے کا وقت ایک ہی تھا۔وہ ایک چھوٹے بنک مین کلرک تھی۔ایک خوشخبری ہے عمر!وہ تیزی سے اوپر آرہی تھی۔خوشی سے اس کی باچھیں کھل رہی تھیں۔مینجر صاھب میرے کام سے بہت خوش ہیںاور آج ہی انھوں نے میرے پروموشن کی بات کی ہے۔دروازے کے سامنے اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولااور چابی نکالی۔انہوں نے کہا تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائےگا۔
ارے واہ مبارک ہو۔میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی۔ تمہیں پتہ ہے پانچ امیدوار ہیں مگرمینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیںاور کیوں نہ ہوںمیں محنت جو اتنی کرتی ہوں۔وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے جارہی تھی۔ میں اسکی پیروی کرتے ہوئےاس کی فتح کی داستان سے محفوظ ہورہا تھا کہ ۔ اچانک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں سے الجھ گئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

یقین سے نہیں کہا جاسکتا مگر انداز تحریر منٹو ہی کا ہے.

Share this post


Link to post
Share on other sites

 الٹی شلوار فرحانہ صادق کا ہے اور یہ سعادت حسن منٹوں کی وفات کے کم و بیش پچاس سال بعد کا ہے۔

سعادت حسن منٹو کا کالی شلوار تھا۔

مماثلت انداز تحریر کے ساتھ ساتھ ناموں میں بھی ہو جاتی ہے جیسے ٹھنڈا گوشت سعادت حسن منٹو کا ہے اور سستا گوشت واجدہ تبسم کا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now