Pakdragon

شباب حیات

Recommended Posts

ہیلو دوستو کیسے ہو امید کرتا ہوں سب ٹھیک ہیں ہی کہانی میری خود کی تخلیق ہے اس کے سارے کردار مرکزی اور صرف سوچ پر مبنی ہیں اک کہانی کے چھ حصے ہیں یہ کہانی ڈر خوف اور سکس کے گرد گومے گی امید کرتا ہوں اپکو پسند اے گی 

ذیادہ وقت ضائع نہ کرتے ہوے کیانی کی ترف اتا ہوں 

دسمبر کی اخری رات تھی ہوا میں خنکی بھری ہوئی ہوئی تھی گاوں سے دور اک سایہ کالے کپڑوں میں ملبوس خاموشی سے قبرستان کی طرف جا رہا تھا اس کی انکھوں میں اج اک عجیب سی چمک تھی جیسے اس کو اپنی زندگی کا مقصد ملنے جا رہا ہے۔دور کہی سے کسی جنگلی جانور کی اواز ماحول کو اور زیادہ خطرناک بنا رہی تھی وہ سایہ خاموشی سےقبرستان میں داخل ہوا اور اک پرانی قبر کے پاس اپنی مخصوص جگہ پر حصار بنا کر بیٹھ گیا اور کسی عمل میں مصروف ہو گیا

اچانک اک طرف سے ایک طوفان اٹھا اور اک قبر کے کھلنے کی اواز ائی اس میں سے اک بھیانک ڈائن باہر نکلی اس کے جسم سے جگہ جگہ سے خون بہ رہا تھا اس کے بالوں کی جگہ سانپ پھنکار رہے تھے اس کے مموے کسی جوان دوشیزہ کی طرح سامنے کھڑے تھے اس کی پھدی کالے بالوں سے بھری ہوئی تھی اور اس کے آتے ساتھ ہی ماحول میں اک منی کی ناگوار سی بدبو پھیل گئی اس نے اس حصار میں موجود شخص کو گھورااور ساتھ ہی اس کوچیخ کر کہا چلا جا اے ادم ذاد کیوں بے موت مرنا چاہتا ہے لیکن اس کی بات کا اس پر کوئی اثر نا ہوا اور وہ خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہا اس بات کو دیکھ اس ڈائن کو غصہ آ گیا اس بالوں والے سانپ زور زور سے پھنکارنے لگے اس نے کچھ پڑھ کر اپنی پھدی پر ہاتھ پھیرا تو اس کی پھدی سے اک بھیانک سی مخلوق نکل کر اس حصار میں بیٹھے شخص پر حملہ اور ہوئی لیکن جیسے ہی حصار سے ٹکرائی اچانک دھماکے کے ساتھ غائب ہو گئی۔اپنا حملہ ناکام دیکھ کر اس کی انکھوں میں انگارے جلنے لگے اس نے پوری طاقت سے حصار سے اس شخص کو نکالنے کے لیے لپکی مگر جیسے ہی حصار سے ٹکرائی  اس کے پورے بدن میں اگ لگ گئی اور اس کی بھیانک چیخوں سے پورا قبرستان دہل اٹھا پوری رات کوئی نہ کوئی مخلوق اسے ستاتی رہی مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا آخر وہ وقت آ گیا جس کے لہے اس نے اتنی مشقت برداشت کی تھی 

اچانک اس کے سامنے اک قبر روشن ہوئی اور اس میں اک دروازہ بن گیا اس میں سے جو باہر نکلی اس کو دیکھ اس کے دل نے اس کے ساتھ بغاوت کرنا شروع کر دیا سامنے حسن کی ملکہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑی تھی اس کے پیچھے کچھ اور لڑکیاں بھی تھیں مگر ملکہ حسن کی بات اور تھی اس کے ہونٹ موتیوں جیسے اس کی انکھیں جھیل سی گہری اس کے چہرے کو دیکھ چاند بھی شرما جاے اس کی صراحی جیسی گردن دیکھ کسی کی بھی سانسیں رک سکتی ہیں اس کے نیچے کا عالم دیکھنا کسی انسا ن کے بس کی بات نھی سونے جیسا بدن اس کی چھاتیاں 34 سائز کی گول مٹول  ان ابھاروں کو چھو لینے سے ہی زندگی کا مقصد پورا ہو جاے اس کی پتلی بل کھاتی کمر کسی ہرن سے ملتی ہے اس کے ناف کی گہرائی ایسے جیسے زندگی اس میں فنا ہو رہی ہو اس کے نیچھے اس کی بنا بالوں کے بن چدی پھدی ایسے جیسے کسی نے قلم سے خوبصورت لائن لگائی ہو اس کی سڈول ٹانگیں ایسے  جیسے سونے کی بنی ہوں غرض دنیا کے حسن کی ملکہ میرے سامنے کہڑی تھی 

اتے ساتھ اس نے اس شخص کو پکارا

ملکہ:  بولو اے انسان کیوں بلایا

انسان: اس نا چیز کا نام علی ہے اور ملکہ حسن سے ملاقات کا طلبگار ہے

ملکہ: بولو انسان ہم تمہارے سامنے کھڑے ہیں مانگو کیا مانگتے ہو کیوں کے تم نے تمام مشکلات کا بخوبی مقابلہ کیا اور ہمیں خوش کیا مانگو جو مانگنا ہے

علی: ملکہ میں شباب حیات کا طلبگار ہوں 

ملکہ نے مسکرا کر کہا ہمیں پتہ تھا تم مرد زاد اس کے لیے ہی مجھے بلا سکتے ہو

علی: ملکہ اگر اپ جانتی ہیں تو کیوں مجھ ناچیز کا امتحان لے رہی ہیں 

ملکہ نے مسکرا کر اس کو شباب حیات کا پیالہ دیا علی نے اس کو بڑی عقیدت سے پی لیا 

اخری گھونٹ پیتے ہی علی کو اک جھٹکا لگا اور اس کے جسم میں اک عجیب سی ہلچل ہونے لگی ایسا لگا اس کے جسم میں طاقت کا پہاڑ پھٹ رہا ہے  اس کے ساتھ ہی ملکہ جانے لگی اور اس نے علی کو اخری بات بولی تم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر دی ہے اب تیرے بہت سے دشمن بنے گے مگر مجھے امید ہے تو ثابت قدم رہے گا 

زندگی میں جس دن تم نے کسی مرد کے ساتھ سکس کیا اس دن تیری یہ طاقت ختم ہو جاے گی ان الفاظ کے ساتھ ملکہ غائب ہو گئی اور علی بے حوش ہو کر گر گیا 

انکھ کھولنے پر علی اٹھا اور گھر کی طرف چل پڑا مگر پتہ نہیں کیوں علی کچھ بوجھل بوجھل لگ رہا تھا گھر آ کر علی نے باتھ میں گھس کر نہانا شروع کیا  مگر اج علی کے جسم میں نمایاں تبدیلیاں تھیں جو اس کی بھی محسوس ہو رہی تھیں 

Share this post


Link to post
Share on other sites

آغاز امید کے مطابق اچھا ہے

اڈمن بھائی نے درست کہا ہے کہ املا کی کافی غلطیاں ہیں جن کو اگر درست کرکے پوسٹ کیا جائے تو کہانی کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

نئی کہانی شروع کرنے پر میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

علی نے نہا کر جیسے ہی شیشہ دیکھا تو خود کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اتنا حسن کے وہ خود اپنے اپ میں کھو گیا علی نے خود کو نہارا اور بیگ اٹھا کر کالج چلا گیا اج کالج میں سب اس کو اتنا بدلا بدلا دیکھ کر حیران تھے ان میں سب سے خاص علی کی انکھیں تھی جو کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا لینے کے لیے کافی تھیں اج لڑکیوں میں علی کافی مشہور تھا ہر کوئی اس کی انکھوں کی بات کر رہا تھا 

صبا سارا دن علی کا نام سن سن کر تھک گئی تھی اس کو پتہ نہیں کیوں علی سے سخت نفرت تھی کالج میں اس کی اتنی تعریف اس کو غصہ دلا رہی تھی  حد تب ہوئی جب رمشاء نے بھی علی کی تعریف کی اس وقت وہ اس پر پھٹ پڑی 

صبا: بکواس بند کرو اپنی کیا صبح سے علی علی لگا رکھا ہے ارو خاص طور پر تم رمشاء تم کو اج کیا ہوا اس کی بڑی تعریف کر رہی ہو یاد ہے نہ اس نے پورے کالج میں تمہیں زلیل کیا تھا 

رمشاء:  صبا بات وہ نہیں ہے اس کی انکھیں جھیل سی گہری ہو گئی ہیںجب سے وہ کراچی سے ایا ہے بت نکھرا نکھرا سا ہے اک عجیب سی کشش اآ گئی ہے اس میں 

صبا : خاموش اک لفظ بھی نہیں تیری عزت کی وجہ سے میںے اس کو تھپڑ مارا تھا اور اج تم کو اس میں کشش نظر اا رہی ہے 

رمشاء:  مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے میںے کیسے اس کو زلیل کیا اس نے صرف دوستی کے لیے ہی تو ہاتھ بڑھایا تھا مگر ہم نے اس کو اس کی اوقات گھٹا اور ناجانے کیا کیا کہا مجھے اب افسوس ہو رہا ہے

صبا : اتنا ہی دکھ ہو رہا ہے تودفع ہو جاو اس کے پاس میرے پاس کیا ہے

رمشاء:  جانے دو یار مینے تو بات کی ہے تم اتنا کیوں بھڑک گئی جاو نہیں کرتی اس کا ذکر اب خوش اس کے ساتھ ہی رمشاء نے اس کے بائیں ممے کو زور سے مسل کر انکھ ماری جس سے صبا سسک کر رہ گیئ اور رمشاء کو مارنے کے لیے اس کے پیچھے دوڈی

علی اج سب کی باتوں کا محور رہا کالج کی لڑکیاں کیا ٹیچرز بھی اس پر فدا تھیں سارا دن علی کو دیکھنے کے بعد اخر میتھ ٹیچر ریحانہ سے رہا نہ گیا اور اپنی پھدی کی اگ کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے علی کو بولا 

ریحانہ:  علی تم دو ماہ سے کالج کیوں نہیں اے

علی : مس میں اپنے گھر گیا تھا کراچی 

ریحانہ:  تمہیں پتہ ہے امتحان میں 3 ماہ باقی ہیں کیسے کرو گے سب  پڑھائی میں تم پہلے ہی بہت کمزور ہو

علی : مس میں کوشش کرو گا سب کور ہو جاے 

ریحانہ:  علی تم کالج ٹائم کے بعد میری بات سن کر جانا میں تمہیں کچھ نوٹس دوں گی 

اس کے علاوہ تم اک گھنٹہ میرے گھر ٹیوشن لیا کرو گے 

علی : جی مس ٹھیک ہے 

میڈم ریحانہ کی عمر 29 سال ہے مگر ان کی ابھی شادی نہیں ہوئی ان کے مموں کا سائز 36 ہے اور بہت ڈیپ گلے پھنتی ہیں علی سمجھ گیا اب اسے کیا کرنا ہے 

کرتے کرتے کالج سے چھٹی ہوئی اور وہ میڈم ریحانہ کے ساتھ ان کے گھر چل پڑا سارے رستے ریحانہ علی کو گھورتی رہی اور علی اس سب کے مزے لیتا رہا گھر میں مس اکیلی ہی رہتی تھی ان کی فیملی حیدر آباد میں تھی میڈم نے علی کو اندر بلایا اور بیڈ روم میں لے جا کر بیٹھنے کو بولا اور علی سے پوچھا کیا لو گے علی نے انکار کیا تو بولی اسے اپنا گھر ہی سمجھو شرماو مت یہا کوئی نہیں اتا  میں اس گھر میں اکیلی رہتی ہوں تم ارام سے بیٹھو علی سمجھ گیا ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے  علی نے کہا مس اپ ٹھنڈا ہی لے آئیں ہاں ویسے بھی اس وقت   ماحول  بہت گرم ہو رہا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ریحانہ بولی پھلے میں فریش ہو لوں علی بولا میں بھی فریش ہونا چاھتا ہوں کیوں نا مل کر ہی ہو لیں علی کی بات سن کر ریحانہ مسکرائی اور بعلی آ جاو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے علی نے جلدی سے کپڑے اتارے اور باتھ میں گھس گیا اندر کا ماحول کافی خوبصورت تھا ریحانہ کپڑے اتارے علی کا انتظار کر رہی تھی علی نے جاتے ساتھ اس کے ہونٹوں پر حملہ کر دیا  اور ہاتھوں سے اس کے نرم نرم مموں کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ریحانہ بھی بھرپور ساتھ دےرہی تھی اس کا اس نے شاور کھول دیا اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو خود سے ملا لیا اس کے 36 سائز کے ممے علی کی کشادہ چھاتی میں دبنے لگے پانی دو جسموں کی اگ کو مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا  کچھ دیر نہانے کے بعد دونوں ننگے ہی کسنگ کرتے باہر اے اور بیڈ پر لیٹ گیے علی نے دوبارہ پوزیشن سنبھالی اور اک ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ کر اس کی گرمی چیک کرنے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے مموں کو اور نرم کرنے لگا کچھ دیر بعد علی نے پوزیشن بدل کر 69 میں اا گیا ریحانہ کے سامنے جب علی کا لن ایا تو ریحانہ کو احساس ہوا اس نے غلط بندے کو چھیڑا ہے علی کا لن 9 انچ لمبا اور 3 انچ موٹا ہے جو کسی بھی پھدی کو پھدا بنانے کے لیے کافی ہے 

علی کے ہونٹوں نے جیسے ہی ریحانہ کی پھدی کو چھوا تو ریحانہ کا پورا بدن کانپ گیا اور مزے کا عجیب سا نشہ محسوس ہوا ریحانہ نے علی کے لن پر زبان پھیرنا شروع کر دیا اور اس کے لن کو منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی مگر علی کا لن پورا اس کے منہ میں نہیں جا رہا تھا علی نے چوس چوس کر اس کی پھدی سے پانی نکالا اور سارا پی گیا ریحانہ کی زندگی کا پہلا موقع تھا اج کسی نے اس کی پھدی کا پانی پیا تھا وہ زور زور سے لن چوسنے لگی لیکن علی فارغ نہیں ہوا اخر تھک کر بولی علی اب اور برداشت نہیں ہوتا میری پھدی کو پھاڑ دو علی نے یہ سن خر ریحانہ کو لٹا کر اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور لن کو اس کی پھدی پر رگڈنے لگا اس سے ریحانہ کی رہی سہی کسر بھی نکال گیئ اور وہ تڑپنے لگی وہ بار بار گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینے کے لیے ترسنے لگی 

اخر علی کو اس پر رحم آ گیا علی نے اپنے موٹے لن کو اس کی پھدی کے لبوں پر رکھا اس کی پھدی کے لب کپکہا رہے تھے علی موقع ضائع کیے بغیر اک دھکا لگایا علی کا لن پھسلتا ہوا ٹوپی تک اس کی پھدی میں پھنس گیا ریحانہ کی انکھیں درد کی شدت سے پھیل گئیں علی نے بنا وقت گنوائے اک دھکا لگایا علی کا لن اس کی پھدی کو چیرتا ہوا ادھا اندر داخل ہو گیا اس وقت ریحانہ کے منہ سے چیخوں کا طوفان نکل ایا اور وہ علی کو روکنے کے لیے منتیں کرنے لگی اس کے انسو اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے اس کے لال گالوں کو بھگو رہے تھے علی نے کچھ لمحے رکنے کے بعد پھر سے حرکت دینا چاہی مگر ریحانہ نے اس کو ہلنے نا دیا علی نے اس کے مموں کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا اور اس طرح اس کو نارمل کرنے لگا علی نے کچھ دیر میں محسوس کیا کے ریحانہ کافی حد تک نارمل ہے تو علی نے اسی انداز میں پیٹھ کو تھوڑا سا ہلایا اور لن کو ٹوپی تک باہر نکالا علی کو اپنے لن کو باہر اتے ساتھ ہی کچھ گرم گرم پانی بھی باہر اتا محسوس ہوا علی نے جب نیچے دیکھا تو خون دیکھ علی اور جوش میں آ گیا علی نے ادھے لن کے ساتھ ہی ریحانہ کو چودنا شروع کیا اور ٹوپی تک لا کر ادھا لن اک آہستہ سے جھٹکے سے اندر ڈال دیتا اسی طرح چودتے علی نے محسوس کیا ریحانہ کافی حد تک نارمل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اور اندر لینے کی کوشش کرنے لگی مگر علی نے اپنا انداز وہی رکھا اس طرح کرنے کے کچھ منٹ میں ریحانہ کے جسم میں اچانک تھوڑی تیزی آ گئی اور علی کے گرد اس کے ہاتھوں کی پکڑ مضبوط ہونے لگی علی اسی وقت کا انتظار کر رہا تھا اچانک ریحانہ کے جسم نے اکڑنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ہی وہ فارغ ہونے لگی اس بات کو محسوس کرتے ہی علی نے لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اک زور دار جھٹکے میں پورا لن اس کی پھدی میں اتار دیا علی کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی کپڑا پھٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی علی کا پورا لن ریحانہ کی پھدی میں اتر گیا اور ریحانہ اک زوردار چیخ مار کر بےہوش ہو گئی علی نے اس کے منہ پر کافی تھپڑ مارے مگر وہ دنیا سے بیگانہ ہو گئی تھی مگر بےہوشی کی حالت میں بھی ریحانہ کی انکھوں سے انسو جاری تھے اور اس کی ٹانگیں بری طرح کانپ رہی تھیں علی رکا نہیں اور اپنے جھٹکے اس کی ہھدی کی گہرای میں لگاتا رہا کچھ دیر بعد ریحانہ کو ہوش انھ لگا مگر وہ درد اور مزے کی ملی جلی حالت میں کچھ بولنے سے خود کو روک رھی تھی پورے کمرے میں تھپا تھپ اور مدھر اہ اہ اہ اہ اوئی ماں مار ڈلا نیکالو پلیز جیسیا آوازوں سے گونج رہا تھا اسی سب میں ریحانہ اک بار اور فارغ ہو گیئ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

لیکن علی کو محسوس ہوا کے ریحانہ کی بس ہو گیئ ہے علی نے ریحانہ کی پھدی سے لن نکالا اور صاف کر کے اس کو گھوڑی بنا خر اس کے پیچھے آ گیا اور ریحانہ کو پیچھے سے دھکے لگانے لگا پیچھے سے لن ڈالنے سے لن اور زیادہ پھنس کر جانےعلی نے ریحانہ کی بچہ دانی کو بھی چوٹ لگنے لگی ریحانہ پر اب اک عجیب سی غنودگی چھا رہی تھی اسی دوران ریحانہ تیسری بار فارغ ہو گئی گھوڑی سٹائل میں ریحانہ زیدہ دیر ٹک نھیں پائی اور پیٹ کے بل گر گئی اس دوران علی نے محسوس کیا اس کا لن اچانک اور لمبا اور موٹا ہو رہا ہے اورریحانہ کی حالت اور بگڑنے لگی اور چیخوں کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا مگر علی نے اپنے دھکوں میں کوئ کمی نا لائی اچانک علی نے اور زور سے دھکے مارنے شروع کر دیےعلی کا لن ریحانہ کی بچہ دانی کے منہ سے ٹکرا کر واپس آ رہا تھا اچانک علی نے خون اور ریحانہ کےپانی سے بھرا لن نیکال کر اس کے منہ میں دے دیا اور اس کے منہ کو چودنے لگا اس کے ساتھ ہی علی نے ریحانہ کے منہ میں پانی کی دھار چھوڑ دی اس دوران علی کی منی نے ریحانہ کے پورے جسم کو بھگو دیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا کچھ دیر بعد اس نے ریحانہ کو اٹھا کر پانی گرم کر کے اس کی پھدی کو پانی سے سینک کر اس کو کچھ ارام پہنچایا اور اٹھا کر واپس بیڈ پر لٹا دیا ریحانہ نے اک ادا سے اسے کس کیا اور بولی زندگی میں پہلی بار ایسے انسان سے چدوایا ہے جو سچ میں چودنا جانتا ہے کچھ دیر بعد علی کے لن نے پھر سختی پکڑنی شروع کر دی یہ دیکھ ریحانہ گھبرا گی

علی بولا میڈم کیا خیال ہے اک شوٹ اور ہو جائے مگر ریحانہ کی پھدی کا پہلے ہی کچومر بناپڑا تھا وہ اس حالت میں نہیں تھی اس لیے اس نے علی کو روکنے کی کوشش کی کہ علی اب بس کرو میری پھدی میں درد ہےاگلی بار کریں گے مگر تب تک بہت دیر ہو گئی تھی علی کا لن جوان ہو کر پورے جوبن میں جھٹکے کھا رہا تھا ریحانہ کے نازک ہاتھوں کا لمس پا کر اس کا لن اور بھی وحشی لگ رہا تھا اس پر غضب یہ کہ اس پر ریحانہ کی پھدی کا گرم گرم خون لگا تھا علی نے ریحانہ کا کوئی بہانہ نا سنا اور لن کو سیدھا اس کے منہ میں دے دیا اور اتنی زور سے منہ میں دھکا مارا کے کن سیدھا ریحانہ کے حلق میں چلا گیا اور اس کی انکھیں ابل ایئںمگر علی کو اس کی کوئی پروہ نہیں تھی اس نے اس کے منہ میں زور دار دھکے مارنے جاری رکھے اور ریحانہ کی آنکھوں سے انسو بہتے رہے جب علی کو لگا کے اس کا لن پورا گیلا ہو گیا ہے تو اس نے پورا زور لگا کر پہلے پورا لن اس کے حلق میں اتارا اور پھر جھٹکے سے باہر کھینچ لیااس سے ریحانہ کو بہت درد ہوا مگر علی نہ روکا اس نے ریحانہ کر لٹا کر لن کو اس کی پھدی کے منہ پر رکھا اور اک ہی جھٹکے میں پورا لن اس کی نازک پھدی میں ڈال دیااور ریحانہ کے منہ سے اک زوردار چیخ نکلی اور وہ بن آب کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی اسے یوں محسوس ہوا جیسے لوہے کا موٹا راڈ کسی نے اچانک اس کی پھدی میں دے دیا ہو علی اک پل کو رکا ریحانہ اس کو پیچھے ہٹانے کی نا کام کوشش کرنے لگی مگر علی نا روکا اس نے ریحانہ کی پھدی میں اپنا لن پورا ڈالا ہوا تھا اور زوردار دھکوں نے بیڈ کی چیخیں بھی نکلوا دی تھی علی کے ہر جھٹکے کے ساتھ ریحانہ کے منہ سے اہ ہ ہ ہ ہ نکلتی تو بیڈ بھی چررررر کی اواز نکلتی اس دوران ریحانہ کا درد کم ہو کر مزے میں بدلنے لگا اور اس نے اب گانڈ اٹھا اٹھا کر اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا کچھ جھٹکوں کے ساتھ دیتے ہوئے ریحانہ کی پھدی ہار گئی اور ریحانہ نے پانی چھوڑ دیا علی کو یوں محسوس ہوا اس کی پھدی میں پانی کا سیلاب آ گیا ہے 

علی نے اس سب کے ساتھ ہی اپنا لن باہر نکالا اور لن کو دیکھا لن پوری طرح ریحانہ کی پھدی کے پانی سے لت پت تھا علی نے ریحانہ کو اچھانک سے مسکرا کر دیکھا اور ساتھ ہی اس کو گھوڑی بننے کو بولا اس دوران ریحانہ بھی سنبھل چکی تھی اس نے خود کو گھوڑی بنایا علی نے پیچھے آ کر لن کو اس کی پھدی پر رگڑا اور سختی سے ریحانہ کو پکڑ لیا اور ساتھ میں بولا تھوڈا سا درد ہوگا برداشت کرنا ریحانہ کو کچھ سمجھ نا ایا علی کا مطلب علی نے اپنے اک ہاتھ سے ریحانہ کے بالوں کو پکڑااور دوسرے ہاتھ سےاس کے کندھے کو پکڑا اور لن کا رخ پھدی کے سوراخ سے ہٹا کر ریحانہ کی گانڈ کا کر دیا ریحانہ پھر بھی نا سمجھی علی نے کچھ سوچ کر لن پھر سے اس کی پھدی میں ڈال دیا اور ساتھ میں اپنی انگلی کو ریحانہ کی گانڈ میں ڈال دیا ریحانہ تھوڑا سا ہلی مگر زیادہ نھی رکی اس کے ساتھ ہی علی نے دو انگلیاں ڈال دی اس کے ساتھ ہی علی نے انگلیاں اندر باہر کنا شروع کر دی

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

علی نے جب محسوس کیا ریحانہ فارغ ہونے والی ہے تو علی نے لن باہر نکالا اور اس کی کنواری گانڈ میں رکھتے ساتھ ہی اک زور کا دھکا مارا اور اس کے موٹے لن کی ٹوپی اس کی گلابی گانڈ کو روندتی ہوئی اندر داخل ہو گئی ریحانہ کو درد تو ہوا لیکن اتنا خاس نہیں جتنا ہونا تھا علی روکا اور ریحانہ اس کو گالیں دینے لگی کتے باہر نکال اسے ہرامخور زلیل انسان اپنی اوقات بھول گیا کیا علی کو اخری بات بہت بری لگی اس کی اوقات والی بات نے علی کو اور غصہ دلا دیا علی نے غصے میں کہا ہرامزادی تو مجھے گالی دیتی ہے رک تیرا وہ ہال کرو گا کہ تو درد سے بلبلا اٹھے  اور تیرا چلنا بھی مشکل کر دو گا اس کے ساتھ ہی اس نے اک زوردار دھکا مارا لن اس کی گانڈ پھاڑ کر اس کی گانڈمیں رستہ بنانے لگا اس درد کو وہ برداشت نا کر سکی اور بے ہوش ہو گئی علی نے اگلا جھٹکا مارا اور پورا لن اند ڈال دیا ریحانہ بیہوشی میں بھی چلا رہی تھی علی پر ا س کا کوئی اثر نا ہوا اور وہ اپنی دھن میں لگا رہا اور جھٹکوں سے ریحانہ کی گانڈ پھاڑنے میں لگا رہا 55 منٹس لگاتار سیکس کرتا رہا بیچ بیچ اسے ہوش اتا اور وہ درد کی وجہ سے پھر بیہوش ہو جاتی 55 منٹ کی زبردست چدائی کے بعد علی اس کی گانڈ میں فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر لیٹ کر سانس بحال کرنے لگا ریحانہ کو ہلکا ہلکا ہوش آ گیا کچ دیر ایسے ہی گزرنے کے بعد علی نےباتھ لیا اور ریحانہ کو کس کر کے جانے لگا تو ریحانہ بولی علی یہ چدائی مجھے ہمیشہ یاد رہے گی دوبارہ کب او گے اس کے ساتھ ہی ریحانہ نے انکھ ماری علی بولا جب بلاو گی اا جاوں گا اور اپنا نمر دے کر رخصت ہو گیا 

اگلے دن کالج ۔یں ریحانہ کہیں نظر نہیں ائی پتہ چلا اج ان کو بخار ہے اس لئےوہ نہیں آ سکتیں علی نے معمول کے مطابق کلاس لی اور گھر آ کر اپنی نئی طاقت کے بارے میں سوچنے لگا دوسری طرف جہاں علی نے شباب حیات تھوڑی عمر میں حاصل کر لیا وہی اک ایسا انسان بھی تھا جو چار سو سال سے شباب حیات حاصل کرنے کے لیے دن رات اک کیے ہویے ہے جیسے ہی اس کو پتہ چلا کے اک معمولی سے بندے نے شباب حیات حاصل کر لیا ہے تو وہ غصے سے بھڑک اٹھا اور ملکہ حسن سے بدلہ لینے کا سوچا اس کا نام شیوا تھا اور شیوا کالے علم کا بہت بڑا ماہر مانا جاتا تھا اسے پتہ تھا ملکہ حسن سے جنگ مطلب سارے دیوتاؤں سے جنگ ہو گی مگر شیوا اپنی دھن کا پکا تھا اس نے اپنی کالی طاقتوں سے اخری بار ملکہ حسن کو بلانے کی سوچی اسنے اپنے رمل کو تیز کر دیا اچانک ہی ملکہ حسن ائی اور بہت غصے سے شیوا کو اٹھایا 

ملکہ: کیوں بلایا مجھے شیوا تو جانتا ہے جو تو چاہتا ہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی شباب حیات جس تک پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے

شیوا: ملکہ تونے یہ اچھا نہیں کیا اس وردان کے پیچھے میں نے اپنی کیا 27 لوگوں کی زندگیاں بھی قربان کر دی مگر آخر میں تو نے مجھے مایوس کر دیا میں یہ کبھی برداشت نہیں کروں گا میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا تجھے اپنے نیچے لٹا کر تیری پھدی مار کر تجھے اپنے بچے کی ماں بناوں گا یہ سن کر ملکہ غصے میں کانپنے لگی اس کے چہرے کی لالی اس کی انکھوں میں آ گئی اس نے دایاں ہاتھ شیوا کی ترف کیا تو شوا کے جسم کو آگ لگ گئی اور اس کی چیخیں اس کے درد کا اندازہ کروانے لگیں ملکہ نے بھڑک کر کہا توں مجھ سے مقابلہ کرے گا تیری اتنی مجال توں مجھے چودے گا  ہاہاہاہا اس کے ساتھ ہی ملکہ کے دماغ میں اک عجیب سی سوچ ائی اور ملکہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا شیوا کا بدن کافی ہد تک جل چکا تھا اور وہ کسی خارشی کتے کی طرح تڑپ رہا تھا ملکہ نے شیوا کو مخاطب کیا اور کہا شیوا کیا تم مجھے چودنا چاہتے ہو 

شیوا ۔ ہاں ملکہ میں اپنی ضد کا پکا ہوں میں وردان حاصل نہیں کر سکا تو کیا ہوا میں تجھ سے کسی بھی حال میں بدلہ لوں گا 

ملکہ۔ مسکرا کر اچھا تو توں مجھ سے ضد لگاے گا ملکہ حسن سے ہاہاہاہاہا اگر تو مجھے چودنا چاہتا ہے تو ابھی اجا میں تیری یہ خواہش ابھی پوری کر دیتی ہوں میں بھی دیکھو شیوا میں کتنا دم ہے 

شیوا ۔ ملکہ یاد رکھ میں کالیا کا داس ہوں اور کالیا نے تجھے زیر کیا تھا یاد ہے یا بھول گئی

ملکہ غصے سے غضبناک ہو گئی اور اسے پطھلے وقت کی یاد آ گئی

مگر ملکہ نے غصے کو برداشت کرتے ہوے کہا ہاں یاد ہے کیسے اس نے میرے وشنو کا روپ دھارن کر کے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی تھی مگر وشنو نے مجھے اس سے بچا لیا تھا خیر اس قصے کو چھوڑ اور آجا اپنا اور اپنے گرو کا بدلہ پورا کر لے

یہ سن کر شیوا نے کچھ پڑھ کر خود پر پھونکا اس کے ساتھ ہی شوا کے سارے زخم ٹھیک ہو گئے اور اگلے لمحے ہی شوا کا لن بڑھنے لگا شیوا کا لن کالا ناگ بن رہا تھا اس کا لن پورا تن کر 8 انچ موٹا اور 2 انچ موٹا ہو گیا ملکہ جانتی تھی یہ اس کے جادو کا کمال ہے جو اس کو اک خاص علم سے حاصل ہوئی تھی

Share this post


Link to post
Share on other sites

ملکہ نے شیوا کو بلایا اور پاس انے کی اجازت دی شیوا غرور کے ساتھ اپنے لن کو مسلتا ہوا ملکہ کی جانب بڑھ رہا تھا ملکہ پر سکون کھڑی تھی ملکہ کی نوکرانیا ں بھی اس تماشے کا۔لطف لینے کے لیے بیقرار تھیں شیوا ملکہ کے پاس ایا اور جیسے ہی ملکہ کے جسم کی خوشبو اس کے ناک میں پڑھی شیوا کے دماغ میں گرمی چڑھ گئی اور شیوا کو اک دم سے جھٹکا لگا اور اس کے لن نے اچانک ہی پانی چھوڑ دیا شیوا کو اس کی امید نہیں تھی ملکہ نے مسکرا کر دیکھا اور زور کا قہقہہ لگایا اور بولی 

ملکہ ۔ کیا ہوا شیوا توں تو مجھے چودنا چاہتا تھا اب کیا ہوا نکل گئی گرمی تم تو نامرد نکلے ملکہ کے الفاظ شیوا کی روح پر تیر کی طرح برس رہے تھے ملکہ نے کہا میں تو سمجھی بہت بڑے سورما ہو تم مگر تم تو نکھٹو نکلے تم مجھے چود کر ماں بنانے والے تھے مگر یاد رکھنا جو مرد نہیں ہوتا وہ باپ نہیں بنتا تمیں کیا لگا شباب حیات کوئی طاقت ہے مورکھ انسان یاد رکھنا شباب حیات اک وردان ہے اور وردان نبھانا پڑتا ہے اور ویسے بھی جس نے وہ وردان نبھانا ہوتا ہے اس کو چن لیا جاتا ہے 

شیوا یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا ملکہ نے شیوا کو بولا تمیں آخری موقع دے رہی ہو  سدھر جا ورنہ انجام بہت برا ہو گا اس کے ساتھ ہی روشنی غائب ہو گئی شیوا نے انکھ اٹھا کر دیکھا تو ملکہ جا چکی تھی شیوا کو اج خود سے نفرت ہو رہی تھی اس کی اتنی بعزتی کبھی نہیں ہوئی  اس نے خنجر نکالا اور اپنی کلائی کاٹ کر اپنا خون نکالنا شروع کر دیا اس نے اک ایسا فیصلہ کیا تھا جس سے کا انجام بہت برا ہونے والا تھا اس نے کالی دنیا کے بادشاہ شاہکال کو اپنی جان دینے کا فیصلہ کر لیا تھا اسنے اپنا خون اگ میں ڈالنا شروع کیا اور ساتھ ہی اس نے اونچی آواز میں شاہکال کو بلانا شروع کر دیا اور ساتھ کہا اے کالی طاقتوں کے بادشاہ میں اپنی زندگی تجھ پر قربان کرتا ہوں میری قربانی قبول کر اس کے ساتھ ہی  اس کے خون کو آگ نے پکڑ لیا اور اہستہ اہستہ شیوا زمین پر گر گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی انکھیں بند ہو گئی اور وہ دنیا سے بیگانہ ہو گیا 

خون اگ میں جلتا رہا اور اس میں سے کالا دھواں اٹھنے لگا اس دھویں نے اک ہیبت ناک شیطان کی شکل اختیار کرلی اس نے جب دیکھا کے اسے اپنی زندگی دینے والا خود کو موت کے حوالے کر چکا ہے تو اس نے مسکرا کر اس کی کٹی بازو کی طرف اشارہ کیا تو اس کا زخم خودبخود بھر گیا اس نے شیوا خو اواز دی اور شیوا کو ہوش انے لگا شیوا نے جب اپنے سامنے اپنے مالک کو دیکھا تو اس کے سامنے جھکتا گیا اور کہنے لگا دیوا میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا شہکال نے اس سے پوچھا کیا مصیبت ان پڑی جو تجھے اپنی زندگی داو پر لگانا پڑی 

شیوا ۔ دیوا تیرے اس داس کا دنیا میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں رہا دیوا اج ملکہ حسن نے میری حیوانی روح کو مجروح کیا ہے اس نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا اس نے مجھے نامرد بنا دیا اس لیے مجھے یہ سب کرنا پڑا

شہکال۔ تو جانتا ہے میں حسن لوک کا دشمن ہوں وشنو نے مجھے وہاں سے زلیل کر کے نکالا تھا

شیوا ۔ دیوا اسی لیے میں نے تجھے اپنی مدد کے لیے بلایا ہے میں تیرا سچا بھگت ہوں مجھے ملکہ حسن کو زیر کر کے اپنا اپنے گرو کا اور اپکا بدلا لینا ہے

شہکال۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے اس کے لیے تجھے اک جان لیوا عمل کرنا ہوگا تجھے عورت کا درد محسوس کرنا ہوگا تھے اپنی گانڈ کے رستے اک بچہ پیدا کرنا ہو گا پھر اس بچے کا دل نکال کر کھانا ہوگا پھر تجھ میں اک ایسی طاقت آ جائے گی جس کے سامنے ملکہ حسن تو کیا وشنو بھی نہیں ٹک سکتا 

شیوا ۔ مگر دیوا یہ کیسے ہو سکتا ہے اک مرد بچہ کیسے جن سکتا ہے 

شہکال۔ اک خاص جادو کے ذریعے یہ ہو سکتا ہے اس کے لیے  تجھے میرا شیطانی نطفہ اپنے پیٹ میں داخل کروانا ہو گا وہ بھی گانڈ کے ذریعے سوچ لے اس کام میں تیری جان بھی جا سکتی ہے 

شیوا نے کچھ سوچا اور آخر میں بدلہ لینے کے لیے ہر مشکل سے گزرنے کا فیصلہ کیا 

شیوا ۔ دیوا مجھے تیری ہر شرط منظور ہے 

شہکال۔ ٹھیک ہے شیوا کتے کی طرح ہو جاو مگر یاد رکھنا تیرا سر اس عمل میں زمین سے نہیں ٹکرانا چاھئے اگر ایسا ہوا تو تیری جان چلی جائے گی شیوا نے گھوڑی بن کر اپنی گانڈ پیچھے کو نکالی شہکال نے اک منتر پڑھ کر ہوا میں پھونک ماری تو اک کالے رنگ کا لن نمودار ہو گیا اس کی موٹائی 4 انچ اور لمبائی 12 انچ ہو گی کالے رنگ کا یہ لن کسی گھوڑے کے لن سے ملتا جلتا تھا شہکال نے شیوا کو بولا شیوا تو تیار ہے اس قربانی کے لیے 

شیوا بولا ہاں میں تیار ہوں 

شہکال نے اشارہ کیا اور لن تیزی سے اڑتا ہوا شیوا کی طرف بڑھ گیا اور عین اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ ہو گیا اس کے ساتھ ہی غائبی ہاتھوں نے شیوا کو مظبوطی سے تھاما اور اک زوردار جھٹکے سے وہ لن شیوا کی گانڈ پھاڑ کر ادھا اندر داخل ہو گیا شیوا کی آنکھوں میں تارے آ گئے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now