Story Maker

Friend's Baji...فرینڈز باجی

Recommended Posts

یہ کہانی عظیم رائٹر

شاہ جی کی ہے۔۔۔

جس کو میں نے شاہ جی کے کہنے پر بذات خود ترجمہ کررہا ہوں۔

کافی دنوں سے وقت نہیں مل رہا تھا آج فراغت کے لمحات ملتے ہی کہانی شروع کرنے کا سوچا

کہانی شروع کرنے سے پہلے میں چھوٹی سی عرض کرنا چاہوں گا۔

کہانی کو میں روزانہ اپڈیٹ تو نہیں کرسکتا لیکن کوشش کروں گا کہ ہفت روز کہانی کو اپڈیٹ کرتا رہوں۔

شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہیلو دوستو میں ہوں آپ کا شاہ جی۔۔۔ 
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لڑکے سیشنل کھلاڑی ہوتے ہیں میں جب کبھی کرکٹ کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب سٹریٹ فیلوز کرکٹ کے دیوانے نظر آتے ہیں اور ہر طرف کرکٹ ہی کرکٹ چل رہا ہوتا ہے اسی طرح جب فٹ بال کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب لڑکے فٹ بال کیلئے ہی پاگل ہوتے ہیں یہ ایک نارمل بات ہے۔ یہ کہانی فٹ بال ورلڈ کے دنوں کی ہے جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھتا جاتا لڑکوں کا کریز بھی بڑھتا جاتا اور تب ایک دن ہم دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک فٹ بال ٹیم بناتے ہیں اور پھر نیو سٹار فٹ بال کلب کے نام سے ہماری ٹیم بن گئی۔ جس کا میں نائب کپتان اور میرا دوست کپتان بن گئے۔
پریکٹس کے لیے ہم نے میڈیکل کالج راولپنڈی کی گراؤنڈ پسند کی لیکن ابھی ہم نے ایک دو دن ہی پریکٹس کی تھی کہ وہاں سے ہم لوگوں کو بھگا دیا گیا تب ہم نے ایک دوسری گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کردیا۔ لیکن پہلی کی طرح وہاں سے بھی بے دخل کردیا گیا۔ اسی طرح ہم تیسری گراؤنڈ پر پہنچ گئے۔
وہاں سے بے دخلی کے بعد ہم نے ایک گورنمنٹ سکول کے گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کیا یہ گراؤنڈ ایک گورنمنٹ سکول کی ملکیت تھا۔ جہاں پر ہمارے دوست کے پاپا نے پرنسپل سے پرمیشن لے دی تھی۔ یہ سکول ائیر پورٹ کے قریب ہی تھا۔ ہمارے گراؤنڈ سے تھوڑا دور ہی آرمی آفیسران کے گھر تھے۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں گراؤنڈ میں فٹ بال اور کھلاڑیوں کی کٹس وغیرہ لایا بھی کروں اور کسی محفوظ جگہ پر رکھا بھی کروں۔ اب ہم نے ہر شام وہاں پریکٹس کرنا شروع کردی تھی کچھ دنوں کےبعد ایک لڑکا جو شکل سے کچھ سپیشل پرسن سا لگتا تھا ہمارے پاس آکر روزانہ گیم دیکھنے لگا اس سے ہماری خاص کر میری کچھ جان پہچان بھی ہوگئی اور پھر ایک دن اس نے بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کی ریکوسٹ کی لیکن کپتان نے درخواست صرف اسی وجہ سے قبول نہیں کیونکہ وہ خاص دکھتا تھا۔ کپتان کے صاف انکار سے وہ کافی ناامید ہوا اور وہاں سے چلا گیا اگلے دن جب ہم کھیلنے آئے تو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ ایک بیٹ مین(آرمی والا) اور ایک میچور عورت جو کہ اس کی بڑی بہن تھی، آئے ہوئے تھے۔
بیٹ مین نے آگے آکر ہم سے کہا کہ میڈم صاحبہ بولا رہی ہیں جب میں اور کیپٹن میڈم کے پاس گیا تو وہ غصے سے بولیں: دیکھو اگر تم لوگوں کو یہاں کھیلنا ہے تو اس کو بھی ساتھ کھیلانا پڑے گا نہیں تو آپ سب کی چھٹی کردی جائے گی 
اس کھلی بلیک میلنگ سے ہم دونوں کافی گھبرا گئے اور ہم فوراً ہی اس لڑکے کو اپنے ساتھ کھیلانے پر آمادہ ہوگئے۔ اب وہ لڑکا ہمارے ساتھ ہی کھیلنے لگا، گیم شیم تو اس کو تو بالکل ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی بہن کا ڈنڈا تھا تو اس لیے ہم اسے کھلانے پر مجبور تھے۔ لڑکے کی پہلے ہی میرے ساتھ کافی گپ شپ تھی اس لیے فیصلہ ہوا کہ وہ میرے ساتھ بیک پر کھیلے گا۔ ساتھ ہونے کی وجہ سے میری اور اس کی بات چیت تھوڑے ہی دنوں میں فارمل بات چیت سے دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ گراؤنڈ سے کچھ ہی دور اس کا گھر تھا اس لیے اسی نے آفر کی کہ میں ٹیم کی کٹ، فٹ بال اور باقی سامان اس کے گھر رکھ دیا کروں اور وہاں سے لے آیا کروں ، کچھ دنوں بعد میں اس کے گھر با آسانی آنے جانے لگا۔یہ گھر اس کے جیجا کرنل گل کا تھا۔ کرنل صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے مسز گل نے اپنے والدین سے اپنا بھائی مانگ لیا تھا اور وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی بہن مسز گل جس کا نام پل وشاہ مروت تھا لیکن سب اسے مسز کرنل گل کہتے تھے۔ وہ خاندانی پٹھان تھی جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ پٹھان خوبصورت اور گورے چٹے ہوتے ہیں اور ناجانے کیا کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مسز گل ٹھنڈے دماغ اور سمارٹ عورت دکھتی تھی۔ فوجی کی بیوی اور اوپر سے پٹھانی عورت، ہونے کی وجہ سے سٹائلش اور کلاسی۔۔۔
اوپر سے جسم بھی مسز گل نے ویل شیپڈ بنا رکھا تھا۔ صراحی دار لمبی گردن خوبصورت آنکھیں اور گولڈن بال۔۔۔اور جب وہ اپنی آنکھوں پر خوبصورت گلاسسز لگاتی تو بس۔۔۔ قیامت ہی آجاتی۔۔۔ بڑے بڑے پستان۔۔۔ اف اس کے پورے جسم میں سب سے زیادہ خوشنما اس کی نرم اور بڑی سی گانڈ تھی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ
وہ مرد مار خاتون تھی جس (گانڈ) کو جب وہ ہلاہلا کر مستانی چال چلتی تو دیکھنے والے اپنا دل پکڑ کر رہ جاتے۔ مسز گل تھوڑا سپشل پرسن ہونے کی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی فدا سے بڑا پیار کرتی تھی اور اس کا خاص خیال رکھتی تھی فدا کا دوست ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ بھی کافی اچھا رویہ رکھا ہوا تھا۔ ان کے شوہر گھر پر بہت کم ملا کرتے تھے زیادہ تر پل وشاہ باجی ہی گھر پر موجود ہوتی تھیں۔ فدا کی طرح میں بھی ان کو بھی پل وشاہ باجی کہہ کر پکارتا تھا شروع شروع میں تو میں ٹیم کا سامان ان کے نوکر کو دے کر چلا جایا کرتا تھا۔ پر کچھ ہی دنوں کے بعد فدا نے مجھے اپنے گھر لے جانا شروع کردیا اور پھر آہستہ آہستہ حالات یہ ہوگئے کہ ہم دونوں گھر سے ہی تیار ہوکر (کٹ میں) جاتے تھے اور واپسی پر وہیں کپڑے تبدیل کرتا تھا۔
یہ سمر سیزن کی بات ہے ہم دونوں معمول کے مطابق گھر آئے پسینے کی وجہ سے ہم دونوں کا جسم بھیگا ہوا تھا بُری طرح سے پیاس لگی ہوئی تھی۔ اس دن ان کا نوکر بھی گھر پر نہیں تھا
فدا بولا: آؤ شاہ جی فریج پر حملہ کرتے ہیں۔
اکثر نوکر ہی ہم کو ٹھنڈا پانی یا شربت سرو کرتا تھا لیکن اس دن وہ گھر پر نہیں تھا اس لیے ہم دونوں فوراً ہی کچن کی طرف چل دئیے چونکہ کچن کا راستہ ڈرائنگ روم سے ہوکرگزرتا تھا، جیسے ہی ڈرائنگ روم میں پہنچے تو باجی پل وشاہ کسی خاتون کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھیں۔ ان کے سامنے مشروب پڑے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہم پر پڑی وہ بولی: فدا دیکھو تو ہمارے گھر کون آیا ہے؟ ہم تو ابھی تمہیں ہی یاد کررہے تھیں۔
فدا اس خاتون کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور فوراً ہی اس طرف چلا گیا یہ مسز سلیم تھیں پل وشاہ کی دوست۔۔۔ میں نے بھی ان کو دور سے ہائے بولا اور پھر کچن کی طرف بڑھنے لگا تو پل وشاہ باجی بولیں: شاہ جی آپ بھی آؤ نا۔۔۔ آپ سے بھی مسز سلیم ملنا چاہتی ہیں یہ سن کر میں بھی ان کے پاس چلا گیا۔مسز سلیم تو پل وشاہ باجی سے بھی دو دو ہاتھ آگے تھیں اس نے بڑے ہی ٹرانسپیرنٹ کپڑے پہنے ہوئے تھے جس سے ان کا گورا بدن صاف نظر آرہا تھا جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا پل وشاہ باجی بولی: یہ ہیں مسٹر شاہ جس کا میں ذکر کررہی تھی فدا کا اس ٹاؤن میں اکلوتا دوست۔۔۔ مسز سلیم صوفے سے  اٹھی اور میرے ساتھ مصافہ کیا۔ میں ویسے تو ان کے ساتھ مصافہ کررہا تھا پر میری آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اوپن ٹرانسپیرنٹ شرٹ سے جھانکتی ہوئی گورے گورے موٹی پستانوں پر تھی جن کے بس نپلز ہی برا میں چھپے ہوئے تھے۔
باقی وہ ٹوٹلی ننگی تھی اتنے خوبصورت پستانوں پر میری نظر جیسے چپک سی گئی تھی میرے خیال میں پل وشاہ باجی کو میری اس بدتمیزی کا اندازہ ہوچکا تھا اس لیے وہ فوراً بولی: شاہ جی یہ مشروب لے لو۔۔۔ جیسے ہی میں نے ڈرنک کا گلاس اُن کے ہاتھ سے لیا تو انہوں نے ہلکا سا میرا ہاتھ دبایا اور سرگوشی میں بولیں:بُری بات۔۔۔ آپ اپنی نظروں پر قابو رکھیں۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

شکریہ سٹوری میکر جی

لیکن اس میں کچھ  انسیسٹ بھی ہے

تو کیا

ایڈمن اس کی اجازت دے دے گا؟

اور ہاں یہ پلوشہ ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

رومن اردو سے اردو میں سٹوری ٹرانسلیٹ کرنا سٹوری میکر کا اچھا ورک ہے۔میں اس کی اس کوشش پر اس کی محنت کی قدر کرتا ہوں۔  میں نے اس سٹوری کو کل موبائل سے وزٹ کیا تھا تو کہانی کے پلاٹ سے مجھے بھی لگا کہ یہ انسسٹ سٹوری ہے۔اب اگر شاہ جی نے خود کنفرم کیا ہے۔تو اس کہانی کی اجازت اردو فن کلب پر نہیں دی جا سکتی۔کیونکہ اردو فن کلب پر انسسٹ سٹوری کی اجازت نہیں۔ اب اگر سٹوری میکر اسے انسسٹ کے بغیر پوسٹ کر سکے تو اس کی اجازت ہے ورنہ اسے مزید پوسٹ نہ کیا جائے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now