Sign in to follow this  
Play_Boy007

غصہ دبانے سے دفتری کارکردگی متاثر ہوتی ہے

Recommended Posts

ملازمت پیشہ افراد کے منہ سے یہ جملہ اکثر سننے کو ملتاہے کہ ، باس کی بات ہمیشہ صحیح ہوتی ہے، یہ جملہ طنزیہ انداز میں بھی کہا جاتا ہے اور مزاحیہ طور بھی ۔ لیکن ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو باس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے کو کامیابی کی کنجی سمجھتے ہیں اور وہ اس بات کاتصور بھی نہیں کرسکتے کہ کبھی باس کے سامنے اونچی آواز میں بات بھی کی جاسکتی ہے یا اس کے سامنے اپنے غصے کا اظہار بھی ہوسکتا ہے۔اس کا سیدھا سیدھا مطلب نوکری سے چھٹی ہے۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق نے اس نظریے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہاروڈ یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں ایک حالیہ مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے افسر کے سامنے اپنے جذبات یا غصے کودباتے ہیں ،ان میں یہ تسلیم کرنے کی شرح تین گنا زیادہ پائی گئی کہ ان کی ذاتی زندگیاں بہت مایوس کن ہیں اور انہیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی کوئی خاص کامیابیاں حاصل نہیں ہوئیں ہیں۔

جائزے میں شامل جن افراد نے یہ بتایا کہ وہ اپنے غصے کو افسر کے سامنے تعمیری انداز میں بیان کرتے ہیں ، وہ پیشہ ورانہ طورپر دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ کامیاب تھے اوروہ اپنے عزیزوں اور اہل خانہ کے ساتھ خوش و خرم زندگی گذار رہے تھے۔

ہاروڈ میڈیکل سکول کے سائیکائرسٹ پروفیسر جارج ویلنٹ کی نگرانی میں 1965 سے یہ مطالعاتی جائزہ کیا جارہا ہے جس میں گذشتہ 44 سال کے دوران 824 مردوں اور عورتوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا گیا۔

پروفیسر ویلنٹ نے ،جو ہاروڈ یونیورسٹی کی ہیلتھ سروس سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ لوگ غصے کو ایک انتہائی خطرناک جذبہ سمجھتے ہیں اور ان کی اس بارے میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مثبت رویوں کا اظہار کریں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رویہ خود فریبی ہے اور آخر کار خوف ناک حقیقت سے ایک خطرناک حد تک منکر ہونے کا عمل ہے۔

پروفیسر ویلنٹ کہتے ہیں کہ منفی جذبات مثلاً خوف اور غصہ فطری ہیں اور انتہائی اہم ہیں ۔ منفی جذبات اکثر اوقات بقا کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ایسے تجربات جیسا کہ ہم نے کیے ہیں، یہ ثابت کرتے ہیں کہ منفی جذبات ہماری توجہ کو محدود اور مرکوز کردیتے ہیں تاکہ ہم جنگل پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اپنا دھیان درختوں تک محدود کرسکیں۔

اگرچہ پروفیسر کا خیال ہے کہ بے قابو غصہ تباہ کن ہے تاہم وہ غصے پر قابو پانے کے لیے دواؤں اور کونسلنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید نکتہ چینی کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ غصے کا اظہار ہماری شخصیت کی بہتری میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتاہے۔

پروفیسر ویلنٹ کہتے ہیں کہ ہم سب کو غصہ آتا ہے لیکن جو لوگ اپنے غصے کا اظہار مثبت انداز میں کرنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ بھی سیکھ لیتے ہیں کہ غصے کے منفی اثرات سے کس طرح بچنا ممکن ہے، ان کی جذباتی اور ذہنی صحت نمایاں حد تک بہتر ہوجاتی ہے۔ اگر ہم ان طریقوں مسلسل عمل کریں تو ہم زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

جریدے سوشل بی ہیویئر اینڈ پرسنالٹی میں شائع ہونے والے ایک حالیہ جائزے سے معلوم ہوا کہ 55 فی صد افراد نے بتایا کہ غصے کے اظہار سے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے جب کہ ایک تہائی نے یہ کہا تھا کہ اس طرح انہیں اپنی غلطیوں پر نظر ڈالنے میں مدد ملی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this