Sign in to follow this  
Play_Boy007

تتلی چیونٹی کو کیسے قابو کرتی ہے

Recommended Posts

تتلی چیونٹی کو کیسے قابو کرتی ہے

ڈنمارک کے کچھ سائسندانوں نے نیلے رنگ کی ایک تتلی (ایلکن بلو) کی چیونٹیوں کو دھوکہ دیکر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ ایلکن بلو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چیونٹیوں کو ایسا دھوکہ دیتی ہے کہ چیونٹیاں بیچاری خود کھانا بھول کر تتلی کی خوراک کا بندوبست کرنے میں مگن ہو جاتی ہیں۔ ڈیوڈ نیش اور ان کے ساتھی سائنس میگزین میں بتاتے ہیں کہ ایسا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تتلی ایسا لاروا خارج کرتی ہے جسکی خوشبو انڈوں سے نکلتے ہوئے چیونٹیوں کے بچوں کی خوشبو سے ملتی ہے۔

مضمون کے مطابق لاروا کی خوشبو جتنی زیادہ چونٹیوں کے بچوں سے مماثلت رکھتی ہے چیونٹیاں اتنا زیادہ دھوکے میں آتی ہیں۔ڈاکٹر نیش نے بتایا کہ کیٹر پلرز پہلے تو ایک غذائی پودے سے خوراک حاصل کر کے نشوونما پاتے ہیں لیکن ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر وہ غذائی پودے کو چھوڑ دیتے ہیں اور زمین پر ان چیونٹیوں سے اپنے دریافت کیے جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ ان کیمیائی مادوں کی شکل لے لیتے ہیں جو ان چیونٹیوں کے اپنے انڈوں پر بھی ہوتے ہیں۔ 'اور ہم یہ بتانے کے قابل ہوگئے ہیں کہ یہ مشابہت جتنی زیادہ ہوگی اتنی جلدی تتلی کے یہ لاروے چیونٹیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور وہ ان کو اپنے انڈوں میں شامل کر لیتی ہیں۔'

ڈاکٹر نیش کے مطابق جب یہ ایک بار وہاں پہنچ جاتے ہیں تو یہ طفیلیے بن جاتے ہیں۔ یوں کیٹر پلر نہ صرف انڈوں کا کچھ حصہ بھی کھا جاتے ہیں بلکہ کارکن چیونٹیاں بھی ان کو خوراک فراہم کرتی ہیں۔ تحقیق کرنے والوں نے ڈنمارک میں مختلف مقامات کا مطالعہ کیا ہے۔مختلف آبادیوں کی حیاتیات، مدافعت اور متعدی بیماریوں کے نمونوں کو دیکھتے ہوئے ٹیم یہ بتانے کے قابل ہوئی کہ کس طرح تتلیوں اور چیونٹیوں سے مختلف کیمیائی مادے ایک ساتھ نکلتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this