Sign in to follow this  
Play_Boy007

‎ ‎پرسکون اور اچھی نیند کے لیے طریقے

Recommended Posts

Please login or register to see this image.

امید ہے میرے پیارے آئ ٹی دنیا کے دوست ٹھیک ہوں گے. دوستو میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کے آپکے لیے کچھ ایسی شیئرنگز کروں جو آپکے علم میں اضافے کا باعث بنیں اور میں کرتا بھی رہتا ہوں. مجھے امید ہے کے آپکو میرا یہ ٹاپک پسند آۓ گا. چلتے ہیں ٹاپک کی جانب

ماہرین کہتے ہیں کہ نیند کا

علاج نیند لانے کی گولیاں اور

دوائیں نہیں بلکہ زندگی گذارنے

کے انداز میں تبدیلی لانا ہے۔

تاہم کم خوابی اور بے خوابی کی

شدید صورتوں میں ڈاکٹر سے

مشورہ ضروری ہوتاہے کیونکہ

بعض عوارض بھی نیند میں کمی کا

سبب بنتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے پرسکون اور

اچھی نیند کے لیے ان طریقوں سے

مدد مل سکتی ہے۔

سونے کے لیے بستر پر جانے سے

پہلے دن بھر کی پریشانیوں اور

مسائل کو بھول جائیے اور ان کے

بارے میں ہرگز ہرگز نہ سوچیئے۔

ایسے وقت میں سونے کی کوشش

کریں جب آپ تھکے ہوئے ہوں۔

ہلکا پھلکا لباس پہنیں۔ تکیے کو

سرکے نیچے اس انداز میں رکھیں

کہ آپ کو آرام محسوس ہو۔ روشنی

بجھا دیں ۔ کمرے کا درجہ حرارت

ایسا ہونا چاہیے جس پر آپ سکون

محسوس کریں۔

اگر بستر پر 15 منٹ تک لیٹے

رہنے کے بعد بھی نیند آتی محسوس

نہ ہوتو آنکھیں بند کر کے لیٹے

رہنے کی بجائے کوئی ایسا کام

شروع کریں جس سے ذہنی دباؤ میں

کمی آئے اور آپ سکون محسوس

کریں۔ مثلاً کچھ پڑھیں یا کچھ

لکھیں ۔ تاہم ٹیلی ویژن دیکھنے

سے احتراز کریں۔

رات کی پرسکون نیند کے لیے دن

کے وقت قیلولہ نہ کریں۔

سونے سے کم ازکم چار گھنٹے پہلے

تک کافی یا چائے نہ پیئیں۔

سوتے وقت سگریٹ یا تمباکو کی

مصنوعات سے دور رہیں۔

بھوکے پیٹ یا بہت زیادہ کھانے

کے فوراً بعد سونے کی کوشش نہ

کریں۔ بہتر نیند کے لیے ضروری

ہے کہ رات کا کھانا ہلکا پھلکا

اور زودہضم ہو۔

باقاعدگی سے وزرش کی عادت

اپنائیں اور رات کو سونے سے کم

ازکم تین گھنٹے پہلے تک کوئی

سخت ورزش نہ کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بے

خوابی کی وجہ سوتے میں سانس

لینے پیش آنے والی رکاوٹیں ہوں

تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری

ہے ۔ کیونکہ سوتے میں آنکھ

کھلنے کی وجہ پوری مقدار میں

آکسیجن کا نہ ملنا ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں بعض سنگین

نتائج سامنے آسکتے ہیں جن میں

آکسیجن کی کمی کے باعث دماغ کی

کارکردگی کا متاثر ہونا ، نیم

بے ہوشی طاری ہونا ، خون کا

زیادہ دباؤ اور دل کی بیماریاں

شامل ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this