Sign in to follow this  
(._.)Milestone(._.)

پیا کا گھر پیارا لگے

Recommended Posts

پیا کا گھر پیارا لگے…سیدہ تہمینہ زہرا

بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔ مزدک اس کے برے برے منہ کے زاویے دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا۔ تبھی دروازہ کھٹ سے کھلا اور شہر بانو انواع و اقسام کے لوازمات سے بھری ٹرالی سمیت داخل ہوئی۔تو سنی نے سکون کا سانس لیا۔

’’لو…تم کچن میں تھیں…رانیہ تمہارے کمرے میں گئی ہے تمہیں بلانے…یہ دیکھو حسین میاں…ایسی ہوتی ہے بہو…بنا کہے اپنی ذمہ داریاں سمجھنے والی…اگر ایسی کوئی لڑکی پسند کرو تو ضرور بتانا…‘‘ شہربانو کے سلام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے سنی کو بھی رگیدا تو شہر بانو نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کھسیائے بیٹھے سنی سے قصہ جاننا چاہا۔ جواب میں سنی نے پہلے سے بھی زیادہ بیچارہ منہ بنالیا تو وہ مسکراتی ہوئی بڑی اماں کے ساتھ بیٹھ گئی۔

اور کسی نے دیکھا ہو یا نہیں لیکن مزدک نے سنی اور شہر بانو کے درمیان ہونے والی اشاراتی گفتگو کو کافی ناگواری سے دیکھا۔ گرے کاٹن کے سادہ سے سوٹ میںبالوں کو سختی سے باندھے اس عام سی نقوش والی لڑکی سے اس لمحے مزدک کو شدید نفرت محسوس ہوئی جو اس محفل کا شاید سب سے خاص حصہ تھی۔

’’اب تم ہی بتاؤ شہر بانو!…کیا حل کروں اس مسئلے کا…صالحہ کا پکا فیصلہ ہے یہاں آنے کا…لیکن آخر رمیز کی بھی تو وہ ہی اکلوتی پھوپو ہے…میں نے تو کہا ہے ہماری طرف سے شرکت کرے وہ…‘‘صالحہ پھوپو کا نام سنتے ہی سنی کے کان کھڑے ہوگئے اور شہر بانو کے چہرے کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی۔

’’میں کیا کہوں بڑی اماں!…جو آپ کو ٹھیک لگے…‘‘ شہر بانو کی سعادت مندی کم از کم اس وقت سنی کو بے حد بری لگی۔

’’بھابھی…صالحہ اور اس کی بچیاں یہاں سے شامل ہوں یا آپ کی طرف سے بات تو ایک ہی ہے…لیکن آپ بچیوں کو یہاں بھیج دیں تو بہتر ہے…آمنہ اور رانو تو بچپن کی سہیلیاں ہیں…وہ صالحہ آپا سے نہیں کہے گی لیکن مجھے پتا ہے وہ یہاں آنا چاہتی ہوگی…‘‘فاطمہ بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیا تو سنی کا دل چاہا ان کے گلے لگ جائے۔ انجانے میں ہی سہی وہ اس کی خواہش پوری کر رہی تھیں۔

’’ہاں…چلو یہ بھی ٹھیک ہے…‘‘ بڑی اماں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو شہر بانو سنی کو وکٹری کا نشان دکھانے لگی۔ آخر اس نے ہی فاطمہ بیگم کو اس بات پر راضی کیا تھا۔ لیکن سنی کو اس پر غصہ آرہا تھا۔ وہ منہ پھلائے بیٹھا رہا۔مزدک نے ایک لمحہ اس ماحول کو دیکھا۔ایک گہرا ملال اس کے دل میں گھر کرنے لگا۔سب کے درمیان ہو کر بھی وہ کسی کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ آہستگی سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس کے اٹھتے ہی شہربانو نے ایک گہری پر سکون سانس لی۔ اس کی موجودگی کو برداشت کرنا ایک بہت بڑا مرحلہ تھا جو شہر بانو کو اس وقت بہت مشکل لگ رہا تھا۔ بظاہر وہ نارمل نظر آرہی تھی لیکن جب سے وہ اس کمرے میں آئی تھی اس کے ہاتھ پاؤں اس شخص کی موجودگی کے احساس سے کانپ رہے تھے اور دل سکڑ کر رہ گیا تھا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ پھیر کر مزدک کرمانی کو نہیں دیکھا تھا لیکن جب تک وہ موجود تھا،وہ اپنی جگہ سہمی بیٹھی رہی اگر وہ یہ بات جان جاتا تو ضرور شہربانو کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا۔

الارم کی آواز پر وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ساری رات وہ اس الارم کی کشمکش میں سو بھی نہیں پایا تھا۔ اسے ہر حال میں ناشتہ سب کے ساتھ کرنا تھا کیونکہ ایک اسی وقت پر گھر کے تمام افراد موجود ہوتے تھے۔ اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ تقریباً بھاگتا ہو وہ ڈرائنگ روم تک پہنچا۔توقع کے مطابق سب موجود تھے۔اسے یہ دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی کہ شہربانو اس وقت ندارد تھی۔

’’صبح بخیر…‘‘ فاطمہ بیگم کے برابر والی کرسی گھسیٹتے ہوئے وہ مسکرایا۔

’’گڈمارننگ برادر!… یہ تم صبح صبح کیسے اٹھ گئے… تمہاری صبح تو کافی بعد میں ہونی چاہیے تھی نا…‘‘ سنی کا بھی اپنا انداز تھا طنز بھی اتنی خوبصورتی سے کرتا کہ مخاطب سمجھ کر بھی مسکرانے پر مجبور ہو جاتا۔

’’ہاں…بس میں چاہتا ہوں…ہمارے وقت میں جو دوری ہے وہ اب ختم ہو جائے…کیوں اماں!…کیا میں اب پھر سے آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا…؟‘‘ پلیٹ اپنے سامنے کھسکاتے ہوئے وہ انتہائی آہستگی سے فاطمہ بیگم سے مخاطب ہوا تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگیں۔ وہ اندازہ کر سکتی تھیں۔ اس انا پرست انسان نے یہ الفاظ کس قدر مشکل سے ادا کیے تھے۔ اس کے چہرے کی تنی رگیں اس کے دل و دماغ میں چلتی کشمکش عیاں کر رہی تھیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کا دایاں بازو محبت سے تھاما اور اسے اپنے ساتھ لگالیا۔

’’شامل ہونا یا نہ ہونا تو تم پر ہے مزدک!…ہم تو کل بھی تم سے پیار کرتے تھے اور آج بھی…اور پیار میں اتنی گنجائش تو ہوتی ہی ہے۔ بیٹاہم سب تو تمہارے…‘‘ مزدک کا دل ایک ہی لمحے میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

شدید ناگواری اور غصے سے بھر گیا۔ اماں انتہائی محبت سے اس کے گزرے وقت کے زخموں پر پھائے رکھ رہی تھیں۔ وہ بھولتا جا رہاتھا کہ پچھلے چند برس اس نے کس قدر تنہائی اور تکلیف میں گزارے تھے کہ بڑا سا ہاٹ پاٹ اٹھائے وہ چلی آئی اور اس کے آتے ہی اماں انتہائی غیر محسوس انداز میں مزدک سے فاصلے پر ہوگئی تھیں اور اس بار مزدک کا دل شہر بانو کی موجودگی سے نہیں دکھا تھا بلکہ اس کے آتے ہی اماں کے رویے میں پیدا ہونے والی بیگانگی نے اسے تکلیف دی تھی۔ اس نے بلا ارادہ اس عام سی صورت والی لڑکی کو دیکھا جس کے لیے اس کی ماں کی سبھی محبتیں وقف تھیں۔ ایک ہی پل میں جیسے اسے سارے جہان کی خوشی مل گئی۔ شہر بانو کے سانولے چہرے پر اسے فاطمہ بیگم کے اس قدر قریب دیکھ کر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ کر نظر پھیر گئی تھی لیکن مزدک سے اس کی بے چینی چھپی نہ رہی۔

’’واہ…محترمہ… اب بھلا کیسے برداشت ہوگا تم سے…کہ میں اپنا حق واپس لے لوں…لیکن یہ تو ہونا ہی ہے…اور اب میں جو کروں گا…وہ تو شاید تم برداشت بھی نہ کر پاؤ…‘‘ ایک ہی لمحے میں شہربانو کی ذات کی بہت بڑی کمزوری اس پرظاہر ہوئی تھی۔ کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ ہاٹ پاٹ رکھ کر وہ کرسی پرگر سی گئی۔مزدک نے ایک لمحے میں ہی ساری بازی اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے ایک نظر ڈائننگ ٹیبل پر موجود سب لوگوں کو دیکھا اور گلہ کھنکارتے ہوئے گویا ہوا۔

’’میں اب اپنی سبھی غلطیاں سدھارنا چاہتا ہوں۔ اماں!جو بھی ہوا…شاید ویسا نہیں ہونا چاہیے تھا…اسی لیے…میں نے سوچا ہے…کہ…اگر آپ کو ٹھیک لگے تو…میں بانو کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں…‘‘ اس نے بڑی مشکل سے اپنا فقرہ مکمل کیا۔ اتنی بڑی بات وہ کیسے کہہ گیا تھا یہ یقین اسے نہیں آرہا تھا تو پھر باقی سب بے یقین کیوں نہ ہوتے۔ اماں، سنی، علی اور رانیہ سب انتہائی حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے اور شہر بانو پر کیا بیتی تھی یہ جاننے کا اسے کوئی شوق نہ تھا۔ وہ جو چاہتا تھا وہ ہو چکا تھا۔ اس کے سب اپنے پوری توجہ کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے اور پہلے کی طرح اس کے انکشافات پر حیران بھی تھے۔

’’میں بھی اب جینا چاہتا ہوں اماں…!اور میں جان چکا ہوں کہ آپ کا ہر فیصلہ میرے لیے درست ہی ہوگا…‘‘ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہنے کی پوزیشن میں آتا وہ تیزی سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے جاتے ہی جیسے سب کے وجود میں جان آگئی۔ سب کی نظریں ساکت بیٹھی شہر بانو پر ایک ساتھ جم گئی تھیں۔ جس کا وجود اس وقت قیامت کی زد میں تھا۔ یہ تو اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ’’وہ‘‘ یوں بھی کر سکتا تھا۔

’’جب دل چاہا بھری محفل میں ٹھکرا گئے اور جب جی میں آئی اپنانے چلے آئے…یوں تو کوئی کھلونوں کے ساتھ بھی نہیں کرتا…مجھے زہر دے دیجیے گا خالہ!…کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے…‘‘ بنا ایک بھی آنسو بہائے وہ انتہائی مضبوط لہجے میں بولی۔ اسے صرف مزدک کرمانی پر ہی نہیں ان سب پر بھی غصہ آرہا تھا جنہوں نے یہ خرافات سن کر بھی کچھ نہیں کہا تھا۔

’’شہربانو!…تم…‘‘

’’خالہ!…میرے لیے صرف موت کا فیصلہ کیجیے گا…مجھے اور کوئی فیصلہ منظور نہیں ہوگا…‘‘ اتنا کہہ کر وہ خود پر ضبط کھوبیٹھی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر سر رکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ فاطمہ بیگم کا دل جیسے کسی نے مسل ڈالا۔ اس نہج پر تو انہوں نے ابھی تک سوچا بھی نہیں تھا۔ مزدک نے ایک بار پھر انہیں کشمکش میں ڈال دیا۔

’’ارے…ہو کیا رہا ہے یہ سب… کوئی تو مجھے بھی بتائے…اماں چپ چاپ ہیں…شہربانو کے چہرے پر مسکراہٹ بھول کر بھی نہیں آرہی…برادری اکٹھی کرکے تم سب سناٹوں میں ڈوبے ہوئے ہو…مذاق بنوانا ہے کیا… سب ہنسیں گے ہم پر… رانو!…کیا تماشہ ہے یہ سب…؟‘‘ثنا کے ہاتھ جب کوئی اور نہ لگا تو اس نے کمرے میں چھپی بیٹھی رانیہ کو آن گھیرا۔ اس سے گھر پر چھایا سکوت برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

’’ہم کیا تماشہ کریں گے…تماشہ تو اس بار بھی وہی کریں گے جنہوں نے پہلے کیا تھا…‘‘ رانیہ بھی اس سے زیادہ خاموش نہیں رہ سکتی۔ایک ہی سانس میں اس نے ثنا کو صبح کا سارا واقعہ سنا ڈالا۔ اس کی بات سن یر ثنا کے ماتھے پر بل پڑگئے۔ شادی سر پر تھی اور ایک نیا مسئلہ شروع ہو گیا تھا۔

’کتنی دیر تک بھابھی روتی رہیں…اتنی بڑی بات کہہ کر وہ تو سکون سے اٹھ گئے…اور ہم سب…‘‘

’’چلو…تم خوش ہو جاؤ ناں…لالہ کو بلاؤ…لالہ کو بلاؤ…تم ہی نے شور مچا رکھا تھا…اب وہ آئے ہیں تو کچھ تماشہ تو ہوگا ہی ناں…‘‘

’’ثناآپی…میں تو…‘‘

’’چپ رہ رانو!…سوچنے دو مجھے…ایسا بھلا کیسے چلے گا…سارا خاندان جمع ہو رہا ہے…ہر کسی کو یہی ٹوہ ہے مزدک لالہ اتنے عرصے بعد لوٹے ہیں تو اب کیا ہوگا۔ ان کے اور شہربانو کے

Share this post


Link to post
Share on other sites

درمیان…ہر کوئی کہانیاں بنائے گا…کیسے سنبھالا جاسکتا ہے اس سچویشن کو… اب پھر سے ہم رشتے داروں کے درمیان قصہ بنیں یہ مجھ سے تو برداشت نہیں ہوتا…‘‘ ثنا کے فکر میں ڈوبے الفاظ اندر داخل ہوتی شہربانو نے بڑے دکھ سے سنے تھے۔ وہ جانتی تھی اس وقت سب کس قدر پریشان تھے لیکن یہ ایسا معاملہ تھا جس میں وہ چاہ کر بھی سب کی مشکل آسان نہیں کر پا رہی تھی۔

’’ثنا آپی!…آپ بھابھی سے بات کریں ناں…‘‘ رانیہ اس کی آمد سے بے خبر تھی تبھی اس نے ثنا کو مشورہ دیا۔

’’رانو!…اصل میں یہ سارا جھگڑا شروع ہی تیری وجہ سے ہوا ہے…اس لیے تو، تو چپ ہی رہ…‘‘

’’آپی!…میں نے کیا، کیا ہے؟وہ دونوں ایک مضبوط رشتے میں جڑے ہیں…اور جب تک یہ رشتہ ہے ایسے سوال تو اٹھیں گے ہی ناں…‘‘

’’رانیہ ٹھیک کہہ رہی ہے ثنا…‘‘ رانیہ کی بات کے جواب میں ثنا اسے کچھ سنانا ہی چاہتی تھی کہ شہر بانو کی آواز پر وہ دونوں حیران سی مڑیں۔

’’جب تک رشتہ ہے…سوال تو اٹھیں گے ہی…تم نے جو بھی کہا…وہ بھی غلط نہیں ہے…میں نہیں چاہتی خاندان میں ہمارے حوالے سے کوئی تماشہ بنے…اور ایسا نہ ہو…اس کے لیے میں کچھ بھی برداشت کروں گی…یہ میرا وعدہ ہے…‘‘ شہر بانو نے اندر آتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا لیکن بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں جمع ہونے والا پانی اس کے دل میں مچی تباہی کا پتہ دے رہا تھا۔

’’ہم میں سے کوئی بھی تمہیں امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتا…لیکن یہ جو رشتے کی پھوپیاں…خالائیں ہوتی ہیں ناں…یہ ہر بات کی کہانی بنا ڈالتی ہیں…تم کتنا ہنستی ہو… کیا باتیں کر رہی ہو…ہر بات کو تولیں گی وہ…میری شادی پر تم نے ہی سب سنبھالا تھا…اور تمہارا رویہ اتنا مضبوط تھا کہ کسی کو حوصلہ نہیں ہوا، سوال اٹھانے کا…لیکن اب اگر تم ہی حوصلہ ہار جاؤ گی تو کیا کیا قصے نہ بنیں گے…میں تو بس اتنا جانتی ہوں شہربانو!…ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تم کو ہی اپنے رویے سے سب کی زبانیں بند کرنی ہیں…اور رہ گئے مزدک لالہ!…تو ان کا فیصلہ اماں کریں گی…وہ ان پر چھوڑ کر تم اپنی ذمہ داریاں سنبھالو…انشاء اﷲ…پھر سب ٹھیک ہوگا…‘‘ ثنا کے الفاظ میں اس کے لیے خلوص اور پیار تھا اور ان ہی احساسات کے خیال میں تو وہ کچھ بھی سہہ سکتی تھی۔

’’واہ بھئی واہ… دیکھا رانو!…یہ ثنا کتنی سیانی لگ رہی ہے۔مجھے تو لگتا ہے اس میں بھی کسی پرانی پھوپی یا خالہ کی روح حلول کر گئی ہے… اور یہ کیا ثنا!…تمہیں جرأت کیسے ہوئے رانو کو اتنا ڈانٹنے کی…کچھ ہی دن کی مہمان ہے وہ…اور تم اسے ڈرا رہی ہو۔‘‘شہربانو نے بروقت خود پر قابو پاتے ہوئے اپنے مخصوص لہجے میں بولنا شروع کر دیا تو رانیہ اور ثثنا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرگئی اور انہیں مسکراتا دیکھ کر شہربانو کا دل شانت ہونے لگا۔وہ اس گھر اور اس گھر کے لوگوں کی خوشی کے لیے ہی تو جیتی تھی پہر بھلا وہ کیسے برداشت کرتی کہ اس کی وجہ سے اس کے پیاروں کی آنکھوں میں آنسو ہوں۔

’’اور کیا بھابھی!…اتنا ڈانٹا ہے انہوں نے مجھے…انہیں کچھ تو خیال کرنا ہی چاہیے تھا آخر میری شادی ہونے والی ہے…‘‘ رانیہ نے اس کے ساتھ لگتے ہوئے لاڈ سے کہا۔

’’توبہ…توبہ… ایسی بے شرم لڑکی میں نے تو زندگی بھر نہیں دیکھی…اپنی ہی شادی کی بات کتنے دھڑلے سے کر رہی ہے…کچھ تو شرم کو رانو!…اب یوں اترا اترا کر تو میرا دل نہ جلا…‘‘ سنی نہ جانے کب سے ان لوگوں کی باتیں سن رہا تھا لیکن رانیہ کی بات سن کر وہ خود پر قابو نہ رکھ سکا اور فوراً رانیہ کو شرمندہ کرنے چلا آیا۔

’’ہاں…تو کیوں نہ اتراؤں…آخر اتنا اچھا سسرال مل رہا ہے مجھے…‘‘ رانیہ کی دشمنی علی سے بھی کافی پرانی تھی تو وہ کیوں اسے تنگ کرنے میں پیچھے رہتا اور اس بار رانیہ سچ مچ تڑپ گئی یہ تو اس کی اور بڑی اماں کی راز کی بات تھی۔ علی کو کیسے پتہ چل گئی۔

’’فکر نہ کرو…کرلے یہ ان ساس…سسر سے لاڈ…منیر ہے ناں… وہ اس کے لاڈ نکالے گا…سنجیدہ نہ بناڈالا اسے تو پھر کہنا…ساری فرمائشیں کرنا بھول جائے گی…سنی نے اسے ڈرانا چاہا۔

’’دفع ہو جاؤ سنی اور علی یہاں سے…بد دعائیں دے رہے ہو اسے…اور تمہارے اس اینگری ینگ مین کے بھی سارے پول کھل گئے ہیں، بڑی اماں…رانو کی چوائس…رانو کی مرضی کے علاوہ وہ بھی آج کل کچھ نہیں بول رہا…رانو کبھی نہیں بدلے گی وہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی…گول روٹی نہ پکانے والی…موٹی موٹی کتابیں پڑھنے والی اور اپنی ضدیں منوانے والی…‘‘

’’واہ بھابھی!…آپ اچھی سپورٹر ہیں میری…آپ تو طعنے دے رہی ہیں…‘‘رانیہ کو دیر سے ہی سمجھ آہی گئی تو وہ احتجاجاً چلائی اور اس کے چیخنے پر سب ہنسنے لگے۔

’’میں ہنستی ہوں تو یہ سب ہنستے ہیں…لیکن میرا نصیب…میرے مولا!…مجھے حوصلہ دے کہ میرے آنسو ان سب کی ہنسی سے دور رہیں… اور میں ان کو خوشیاں دے سکوں۔‘‘ رانو کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے شہربانو نے چپکے سے دعا مانگی۔

’’مجھے سب کچھ ایک دم پرفیکٹ چاہیے علی… پچھلی بار کی طرح عین ٹائم پر ہنگامہ مت مچا دینا… ٹینٹ والا نہیں ملا۔لائٹ والا دیر سے آئے گا…ابھی اور اسی وقت سب فائنل کرو…مجھے کوئی ڈرامہ کرکے مت دکھانا…‘‘ شہربانو کی آواز پر اس کی توجہ اخبار پر سے ہٹ گئی تھی

Share this post


Link to post
Share on other sites

سارے کمرے میں کھلبلی سی مچی تھی اور وہ سب کو ہدایات جاری کرتی کافی مصروف نظر آرہی تھی۔ گرین اینڈ بلو چائنہ سلک کے سوٹ پر معمول کی نسبت سے ڈارک میک اپ کیے وہ کافی اچھی لگ رہی تھی۔

’’کتنا بولتی ہے یہ…پتا نہیں اماں کو اس میں کیا نظر آیا تھا…میرا تو خیال تھا صبح میں نے جو بم پھوڑا تھا اس کے بعد کچھ سکون میں آجائے گی…خیر ہوگا تو اب بھی وہی جو میں چاہوں گا…جتنا بول سکتی ہے بول لے بے چاری…پھر تو بولتی بند ہونی ہی ہے…‘‘اخبار پر نظریں ٹکائے ہوئے وہ بے خیالی میںاسے ہی سوچنے لگا۔ آخر کار وہ ایک ایسا پلان بنا ہی چکا تھا جس کے تحت وہ شہر بانو نام کی اس مصیبت سے چھٹکارا پاسکتا تھا۔

’’شکر ہے تمہیں یاد تو آئی…‘‘ اس کی آواز نے ایک بار پھر مزدک کرمانی کی سوچ کا سلسلہ توڑ دیا تو وہ جھنجلا گیا۔

’’جاہل…گنوار…‘‘ اس نے سر جھٹکتے ہوئے اس پر ایک ناگوار نظر ڈالنا چاہی لیکن اس کی نظر وہیں جم کر رہ گئی۔ کندھے تک جھولتے سنہری بال، دمکتی رنگت اور دلکش مسکراہٹ، اتنے برسوں بعد بھی وہ ایک ہی لمحے میں اسے پہچان گیا تھا۔

’’روحمہ میر…میری روحی…‘‘ اس کے اندر کے سرکش مزدک کرمانی نے کوٹ لی اور وہ جیسے کسی جادو کے اثر میںکھڑا ہو گیا۔روحمہ میر کو دیکھ کر وہ بھول ہی گیا کہ اتنے سالوں میں ان کے درمیان سب کچھ بدل چکا تھا اور اب وہ پہلے سی بے ساختگی کہیں نہیں تھی لیکن اس پر تو جیسے جنون سوار ہوا تھا۔وہ تقریباً بھاگتا ہوا درمیان کا فاصلہ طے کر گیا تھا۔ اسے دیکھ کر شہربانو کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا لیکن مزدک کو اس کے تاثرات کی کیا پرواہ تھی۔

’’روحی!…روحی!…تم…آئی…ڈونٹ بلیو کہ تم میرے سامنے ہو…‘‘روحمہ کا بازو پکڑ کر اس نے اسے اپنی طرف موڑا تو روحمہ کے چہرے کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی تھی۔

’’مزدک… اوہ…گاڈ…تم کب واپس آئے…اچھا…تو یہ سرپرائز تھا… شہربانو…تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ مزدک لوٹ آیا ہے…‘‘روحمہ کھلکھلاتی ہوئی شہربانو سے مخاطب ہوئی تو مزدک کو جھٹکا سا لگا۔ پچھلے لمحے کی بے خودی شہر بانو کا نام آتے ہی مٹ گئی اور تمام تلخ حقیقتیں اس کی رگوں میں انگارے بھرگئیں۔ وہ غیر محسوس انداز میں روحمہ سے فاصلے پر ہو گیا۔ اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو شہربانو نے پوری شدت سے محسوس کیا تھا۔

’’میںنے سوچا تم کو سرپرائز دوں…‘‘ شہربانو بہت سنبھل کر بولی تو مزدک نے ایک کڑوی نظر اس کے سانولے چہرے پر ڈآلی۔روحمہ کے ساتھ اس کی بے تکلفی مزدک کو ذرا نہ بھائی تھی۔

’’بہت ہی اچھا سرپرائز ہے…کتنا بدل گئے ہو تم…مونچھیں رکھ لی ہیں…کتنے ڈیشنگ لگ رہے ہو…ایک لمحے کو میں تمہیں پہچان ہی نہ پائی تھی…‘‘ روحمہ نتائج کی پرواہ کیے بنا ہی اپنی مخصوص بے تکلفی سے بولتی چلی گئی۔

’’لیکن…میں نے ایک لمحے میں تمہیں پہچان لیا تھا…تم بالکل نہیں بدلیں۔‘‘

’’بالکل…ہم بدلنے والوں میں سے نہیں ہیں…تم بتاؤ…اتنا عرصہ کہاں رہے…‘‘ روحمہ میر ہمیشہ کی طرح پرسکون تھی۔ اسے مزدک کے لہجے میں کچھ معنی محسوس نہیں ہوئے تھے لیکن شہر بانو پر اس کے انداز کے معنی اچھی طرح واضح ہوگئے تھے۔ اسے اپنا آپ روحمہ میر اور مزدک کرمانی کے بیچ اضافی لگ رہا تھا اور شاید مزدک بھی اس وقت یہی چاہتا تھا کہ شہربانو یہاں سے ہٹ جائے۔

’’ارے…تم کہاں چل دیں…ابھی تو محفل سجے گی…آج تو ہمارا گروپ مکمل ہوا ہے…‘‘روحمہ جتنی بے خبر ظاہر ہو رہی تھی یقیناً اتنی تھی نہیں تبھی تو اسے کھسکتے دیکھ کر روحمہ نے ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا۔

نہیں…وہ…میں آتی ہوں ابھی…‘‘شہربانو نے بہانہ تراشنا چاہا۔

’’ہرگز نہیں… مسز مزدک کرمانی!…آپ میرے ساتھ بیٹھیں گی…کام تو ہوتے ہی رہیں گے…تم سناؤ مزدک اتنا عرصہ کیا کیا…وہاں تو خوب گوریوں سے چکر چلائے ہوں گے…‘‘ روحمہ کی روانی سے چلتی زبان مزدک کو مسکرانے پر مجبور کرگئی۔

’’مجھے ایسا کوئی شوق نہیں ہے…اور نہ ہی میرے پاس ان کاموں کے لیے وقت تھا…‘‘

’’جی…ہاں…اب تمہاری بیوی جو سامنے بیٹھی ہے…یونہی نیک بنو گے…‘‘

’’مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے…میں جو ہوں…اس پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے…تم بتاؤ…تمہاری لائف میں کیا چل رہا ہے…؟‘‘ مزدک کو اس کے بار بار شہربانو کا ذکر لے آنے سے چڑ ہونے

Share this post


Link to post
Share on other sites

لگی تو اس نے موضوع ہی بدل ڈالا۔

’’میری لائف تو ہمیشہ کی طرح سپرہٹ ہے…تمہاری مسز کی طرح بڑا تو نہیں ایک چھوٹا سا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس چلا رہی ہوں…اور ایک عدد انگیجمنٹ بھی کرواچکی ہوں۔جلد ہی اس کا انجام شادی کی صورت میں ہونے والا ہے…یوں سمجھو…آرام ہی آرام ہے۔‘‘شہربانو کے بارے میں سن کر وہ اس قدر چونکا کہ روحمہ کی انگیجمنٹ والے انکشاف پر غور ہی نہ کر سکا۔

’’یہ جاہل…گنوار… کس چیز کا بڑا بزنس چلا رہی ہے…؟‘‘مزدک نے حیرت سے سوچا لیکن بھلا پوچھتا تو کس سے۔

’’تم بتاؤ… کیا پلان ہے…ہمیشہ کے لیے لوٹ آئے ہو یا…‘‘

’’نہیں…فی الحال تو میں وہاں سیٹل ہوں…اور واپسی کا کوئی پلان نہیں… صرف رانیہ کے بیاہ تک یہاں ہوں…پھر میں شہربانو کے ساتھ…‘‘ مزدک کا فقرہ مکمل ہونے سے پہلے شہربانو کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ جھٹکے سے اٹھی اور وہاں سے چلی گئی۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں چھلک آنے والے آنسو مزدک سے چھپے نہ رہے تھے۔چند لمحے پہلے کی اس کی ساری بہادری مزدک پر عیاں ہوگئی تھی۔ اس کے لیے یقیناً یہ ذکر ناقابل برداشت تھا اور مزدک یہی تو چاہتا تھا کہ وہ اختلاف کرکے سب کی نظر میں بری بن جائے۔

’’مشکل تو ہے…لیکن شہربانو! تمہاری برداشت کی آخری حد تک میں تمہیں آزماؤں گا…‘‘ مزدک کے ہونٹوں پر بڑی پراسرار سی مسکراہٹ بکھری تھی جسے چھپاتے ہوئے وہ روحمہ کی طرف متوجہ ہوا۔جو اس کے نامکمل فقرے پر کافی حیران بیٹھی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا شہر بانو کو ہوا کیا تھا۔

’’میں نے فیصلہ کیا ہے روحی!…کہ بانو کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں…‘‘روحمہ کے سامنے اس قدر بے تکلفی سے شہربانو کا نام لینا اسے اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن کیا کرتا اس وقت اس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات کی تکرار ہو رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح شہربانو کو اپنے گھر والوں سے دور کرنا ہے۔

’’کیا…یہ تم کیا کہہ رہے ہو مزدک!…‘‘ روحمہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں اس نامکمل فقرے کی وضاحت اس کے ہوش ٹھکانے لگاگئی تھی۔

’’کیوں… کچھ غلط ہے اس میں… صبح سب گھر والوں کا بھی یہی ری ایکشن تھا…بھلا ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے…‘‘ مزدک اس قدر سادگی سے بولا جیسے سچ مچ اس حیرانگی کی وجہ نہ جانتا ہو۔

’’نہیں…وہ…آج تک جو بھی ہوا…کیا تم اس رشتے کو قبول کر چکے ہو…‘‘ روحمہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح بات شروع کرے۔

’’میں اس کا جواب تمہیں اماں کے سامنے دو گا…آؤ…‘‘ روحمہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ اسے فاطمہ بیگم کے کمرے کی طرف لے آیا۔ فاطمہ بیگم اپنے سامنے بہت سے زیورات رکھے ان کا معائنہ کرنے میں مصروف تھیں۔ ان دونوں کو ایک ساتھ آتے دیکھ کر وہ کچھ ٹھٹک سی گئیں۔ ماضی کی بے نام سی سرگوشیاں انہیں پریشان کرگئیں۔ مزدک نے کبھی ان کے سامنے نہیں کہا تھا لیکن اس کے جانے کے بعد جعفر کرمانی نے دبے لفظوں میں مزدک کے احتجاج کی وجہ روحمہ کو قرار دیا تھا۔

’’روحی!…تم کب آئیں بیٹا…‘‘ انہوں نے کافی تردد بھری نظر مزدک کے ہاتھ میں دبے روحمہ کے ہاتھ پر ڈالتے ہوئے خود کو نارمل ظاہر کرنا چاہا۔یوں شاید وہ خود کو مزدک کی کسی نئی بغاوت کے لیے تیار کرنا چاہتی تھیں۔

’’وہ…میں…‘‘

’’روحی!…تم چپ رہو…اور یہاں بیٹھو…‘‘مزدک اسے فاطمہ بیگم کے برابر بیٹھنے کا اشارہ کرتا ایک گہری سانس لیتے ہوئے گویا ہوا۔

’’صاف اور سیدھی بات کروں گا…جب یہاں سے گیا تھا تو شاید کچھ غلط فہمیوں میں تھا… لیکن آج مجھے خواب اور حقیقت کا فرق معلوم ہو گیا ہے…میں اپنی زندگی میں سب نارمل کرنا چاہتا ہوں۔تو کیا یہ غلط ہے…جب میں نے اس رشتے سے انکار کیا تھا تو کیا کیا نہیں ہوا…اور اب میں سدھارنا چاہتا ہوں سب کچھ…تو سب مجھے بے یقینی سے دیکھتے ہیں…آخر کیا کروں میں…روحی!…تم تو میری دوست ہو ناں…تم اماں سے میری سفارش کرو کہ وہ میری غلطیاں معاف کرکے مجھے ایک موقع دیں سب ٹھیک کرنے کا…پلیز…یار!…تم تو میرا ساتھ دو…‘‘ روحمہ اس کے الفاظ پر قدرے پریشان دکھائی دینے لگی تھی۔ مزدک کا انداز اور الفاظ چیخ چیخ کر اس کی سچائی کا الان کر رہے تھے لیکن وہ شہر بانو کے دل میں اٹھتے طوفانوں سے بھی انجان نہیں تھی۔ وہ تو سوچا کرتی تھی کبھی مزدک کرمانی سے سامنا ہوا تو وہ اس کی خوب کھنچائی کرے گی لیکن آج وہ سامنے آیا تو اس نے کشمکش میں ڈال دیا۔ کسی زمانے میں روحمہ کی عادتوں میں جائز یا ناجائز کسی بھی صورت مزدک کا ساتھ دینا شامل رہا تھا اور اتنے عرصے بعد بھی اسے اپنا آپ بے بس لگ رہا تھا۔ اس کا دل مچل اٹھا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے سب سے پیارے دوست مزدک کا ہی ساتھ دے اور اس بار بھی وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

’’میں تمہارے ساتھ ہوں… اس عرصے میں جب تم ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ تم پر سب کچھ واضح ہو جائے… اس عرصے میں جب تم ہمارے ساتھ نہیں تھے۔میری تمام تر ہمدردیاں شہربانو کے ل یے ہی تھیں…میرا یہی خیال ہے تم نے جلد بازی میں بہت بڑی غلطی کی تھی جس کا ازالہ مشکل ہے…لیکن ہم پھر بھی کوشش کریں گے… سب ٹھیک ہو جائے…اور میرا نہیں خیال کہ فاطمہ آنٹی اس سلسلے میں ہمارا ساتھ نہیں دیں گی…آنٹی!…آپ اتنا تو جانتی ہیں ناں…آپ کا بیٹا غصے والا ضرور ہے لیکن منافق نہیں…وہ شرمندہ ہے…‘‘ روحمہ اس کی توقع کے عین مطابق اس کا ساتھ دے رہی تھی اور یہ مزدک کے لیے بہت بڑی جیت تھی۔اگرچہ دل میں کچھ شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ روحمہ جیسی اچھی لڑکی کے اعتبار کا فائدہ اٹھا رہا تھا لیکن اس کا مقصد ان سب باتوں سے زیادہ اہم تھا۔

’’میں کیا کرسکتی ہوں روحی!…تم ہی بتاؤ…شہر بانو کے لیے یہ قبول کرنا ممکن نہیں…‘‘ فاطمہ بیگم بے بسی سے بولیں۔

’’میں جانتا ہوں اماں!…اور یہی بات تو میرے فائدے کی ہے…‘‘مزدک سوچ کر مسکرایا تھا۔

’’جو بھی ہے آنٹی!…ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ سب ٹھیک ہو جائے…‘‘

’’ہاں…لیکن…میں کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتی…پہلے بھی سب اسی نے کیا تھا…اب بھی یہ خود ہی قائل کرلے اسے…‘‘

’’ہوں…اس گنوار کے نخرے اٹھانے ہی تو رہ گئے ہیں میرے نصیب میں…‘‘مزدک خاموش تھا لیکن اس کے دل کی تلخی بڑھ رہی تھی۔ اس کے احساسات سے بے خبر فاطمہ بیگم کہہ رہی تھیں۔

’’میرے لیے تو اس سے بڑی کوئی بات ہی نہیں ناں…دیر سے ہی سہی اسے میری بہو کی قدر تو ہوئی… میری طرف سے کوئی تلخی نہیں ہے۔اسے کیسے منائے گا… یہ اس کو سوچنا ہے…‘‘

’’کیوں نہیں منائے گا…بس آپ کی اجازت مل گئی…اب ہم کھل کر آپ بہو کو منانے کی کوشش شروع کردیں گے…کیوں مزدک!‘‘روحمہ کے مسکرا کر پوچھنے پر اسے اثبات میں سر ہلانا پڑا۔

’’کتنی بے ایمان ہو تم روحی!…مزدک کو دیکھتے ہی پارٹی بدل لی…شہربانو بہت بگڑے گی تجھ پر…‘‘

’’میں جانتی ہوں آنٹی!…لیکن میرے ماتھے پر لگا بدنامی کا داغ یونہی مٹے گا کہ مزدک شہر بانو کو اپنا لے…کہ پہلے جو بھی ہوا تھا اس میں کہیں نہ کہیں میں بھی حصہ دار تھی…‘‘ روحمہ نے دکھ س سوچا لیکن مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔

’’بے شک وہ میری دوست ہے…لیکن سب سے پیارا دوست تو آج بھی مزدک ہی ہے…تو میں اسی کا ساتھ دوں گی۔‘‘روحمہ کے اترا کر بولنے پر فاطمہ بیگم نے اسے محبت سے ساتھ لگالیا۔روحمہ کے خلوص نے آج انہیں بہت متاثر کیا تھا۔

’’تو ٹھیک ہے…سمجھا دو اپنے سب سے پیارے دوست کو…کہ شادی پر ساری برادری اکٹھی ہوگی… اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کوئی تماشہ نہ کرے…‘‘

’’نہیں اماں!…اب میں ایسا کچھ نہیں کروں گا…جس سے آپ کو تکلیف ہو۔‘‘ ان کے قریب بیٹھتے ہوئے مزدک نے لاڈ سے ان کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا تو فاطمہ بیگم کا دل پرسکون ہو گیا لیکن اندر آتی شہربانو کی آنکھوں میں یہ منظر آنسو بھر گیا۔ فاطمہ بیگم کے ایک طرف روحمہ اور دوسری طرف مزدک بیٹھا تھا اور ان تینوں کے چہرے انجانے احساس سے چمک رہے تھے۔

’’تو کیا یہاں پر میری جگہ ختم ہوگئی…‘‘ پژمردگی سے سوچتے ہوئے وہ واپس مڑگئی تھی۔ مزدک کرمانی کے لیے اس کے دل میں کوئی احساس نہیں تھا لیکن روحمہ کے لیے وہ کچھ بھی قربان کر سکتی تھی۔

’’میں ہمت نہیں ہاروں گی اگر برسوں بعد کچھ ٹوٹے رشتے پھر سے جڑ جائیں تو کیا برا ہے کسی کو تو خوشی ملے۔‘‘آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے حوصلے سے سوچنا چاہا لیکن آنسو رک ہی نہیں رہے تھے اتنے برسوں بعد بھی اپنے بے قدری کا دکھ کافی بے رحم لگ رہا تھا۔

’’تو پھر وہ مجھے ساتھ لے جانے کی بات کیوں کرتا ہے…کیا یہ کوئی نیا طریقہ ہے مجھے آزمانے کا جب کہ روحمہ اس کی پہلی محبت اس کے ساتھ ہے۔کتنی چمک آگئی تھی اس کے چہرے پر روحمہ کو دیکھ کر اور خالہ بھی کب تک میرا ساتھ دیں گی…مجھ میں ایسا ہے ہی کیا جو…‘‘

’’بھابھی!…بھابھی!…آپ کہاں ہیں… سارا ڈیکوریشن کا سامان آگیا ہے آکر دیکھ لیں…‘‘علی کے چلانے کی آواز پر وہ جھٹکے سے کھڑی ہوگئی اور کچھ نہ بھی ہوتا اس میں دوسروں کی پرواہ تو بہت زیادہ تھی اس کو۔ شاید یہی خوبی خوبصورتی سے بڑھ کر تھی۔

گھر میں شادی کے ہنگامے زوروشور سے جاری تھے۔مایوں والے دن سے ثناء اپنے بیٹے سمیت آگئی تھی۔ دوسرے رشتے دار بھی آرہے تھے لیکن صالحہ پھوپو کا ابھی تک کہیں پتا نہ تھا اور اس غم میں سنی کافی بے قرار تھا۔ ثناء اس کی چند دوستیں اور روحمہ ڈھولکی سنبھالے گانوں سے نبردآزمائی کر رہی تھیں لیکن سنی کو اس ہنگامے میں کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔وہ بیقرار سا کبھی دروازے کی طرف دیکھتا اور کبھی

Share this post


Link to post
Share on other sites

فون کی طرف۔ شہربانو کافی دیر سے اس کی بے قراری نوٹ کر رہی تھی۔

’’فکر نہیں کرو… آنے ہی والی ہوگی…‘‘شہربانو اس کے پاس آتے ہوئے معنی خیزی سے بولی۔

’’کون…کس کی بات کر رہی ہیں آپ…؟‘‘ سنی نے انجان بننے کی کوشش کی۔ لیکن شہربانو کی ہنسی اسے شرمندہ کر گئی۔

’’کیا کروں یار!…اس کے آنے کے خیال سے ہی دل دھڑکے جا رہا ہے۔‘‘

’’سنی!…تم بھی بالکل پاگل ہو…لگتا ہے اب کچھ سوچنا پڑے گا…‘‘شہربانو نے بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔’’سرخ چہرے اور اڑے اڑے حواسوں کے ساتھ وہ ہمیشہ سے لاپرواہ سنی سے کافی الگ لگ رہا تھا۔

’’ہاں…اڑالیں مذاق… آپ کو کیا پتا محبت کیا ہوتی ہے خود پر اختیار ختم ہو جاتا ہے…دل چاہتا ہے ہر پل وہ سامنے رہے۔ اسے دیکھتے رہنے کے سوا کوئی کام نہ ہو۔اب آپ کہیں گی میں احمق ہوں…لیکن یہ محبت ہے جو اتنی احمق ہے…پتا نہیں میں اپنے دل کی بات اس سے کہہ بھی پاؤں گا یا نہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے وہ مجھے تیز بولنے کی وجہ سے بے حد بری لگتی تھی اور اب آپ اس کی یہی بات اسے سب سے منفرد کرگئی ہے میری نظر میں۔ میں اسے کہوں تو وہ مانے گی بھی نہیں۔ کتنا ستاتا رہا ہوں میں اسے لیکن محبت کو بھلا اس الجھن سے کیا واسطہ ہے۔بھائی آپ نے ٹھیک کہا…میں پاگل ہو گیا ہوں۔ بھلا کوئی نارمل انسان ایسا کرتا ہے…؟‘‘وہ بہت زیادہ بدحواس ہو رہا تھا۔ اس کی کسی بات میں ربط نہیں تھا لیکن اس کے انداز اس کے الفاظ میں کچھ تو ایسا تھا جو شہربانو کو نامکمل ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔

’’نہیں…سنی!…ایبنارمل تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی میں کبھی محبت نہیں کر پاتے…میں نے تمہاری طرح کبھی محبت تو نہیں کی لیکن مجھے لگتا ہے اس جذبے کے لیے کوئی خاص شخص یا وجہ ہونا ضروری نہیں ہے…کیا تمہاری الجھن اس بات سے ختم نہیں ہوتی کہ چند نارمل لوگوں میں تم ایک ہو…جسے محبت کا جذبہ نصیب ہوا۔ ڈونٹ وری اس محبت کو تو میں تمہاری قسمت بناؤں گی۔‘‘

شہربانو نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھیمے سے لہجے میں کہا اور اس لمحے اس کے چہرے پر جانے کیسی تشنگی تھی کہ اپنے کمرے سے نکلتا مزدک ٹھٹک سا گیا۔ پیلے سوٹ پر ہری اور پیلی چنریا اوڑھے، بڑے بڑے جھمکے اس کے سانولے چہرے پر وشنی پھیلا رہے تھے اور سیاہ آنکھوں میں اتری اداسی اس کے وجود کو عجیب طرح سے پرکشش بنا رہی تھی۔مزدک کو کبھی بھی اس کے وجود سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی اور نہ ہی ہونی چاہیے تھی لیکن اس لمحے میں جانے کیا ہوا تھا کہ وہ اس پر سے نظر نہیں ہٹاپا رہا تھا۔ سنی کے بازو پر ہاتھ رکھے وہ اس سے کچھ کہہ رہی تھی اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کی کرن چمکی جس نے ایک پل میں اس کے سانولے چہرے کی ساری اداسی مٹا دی۔ وہ ہنسی تو اس کا عام سا چہرہ کھل اٹھا تھا۔ ہنستے ہنستے اس نے ایک جھٹکے سے اپنی لمبی سی چوٹی کو پیچھے کیا تھا اور مزدک کو لگا اس کا دل ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا تھا۔شاید یہ مزدک کی زندگی کا سب سے بے بس لمحہ تھا کہ وہ اس لڑکی کو بے خودی سے دیکھے جا رہا تھا جس سے اس نے سب سے بڑھ کر نفرت کی تھی۔ اسے ہمیشہ اس کا چہرہ بدصورت لگا تھا لیکن اس لمحے میں اس کے سانولے چہرے پر پھیلی سادگی اور دلکشی مزدک کرمانی جیسے خودپسند بندے کو بے بس کرگئی اور جانے اسی خودفراموشی میں کتنے ہی کمحے بیت گئے تھے کہ اچانک موبائل پر تسلسل سے ہوتی بپ اسے ہوش کی دنیا میں لے آئی۔

’’مزدک!…کہاں ہو تم…میں کب سے تمہارا نمبر ٹرائی کر رہی تھی…‘‘ سنعیہ کی آواز اسے سب کچھ بھلا دیا کرتی تھی لیکن ابھی تک وہ گزرے لمحے کے سحر سے نکلا نہیں تھا۔ تبھی اسے باقاعدہ کوشش سے خود کو حاضر کرنا پڑا۔

’’وہ…میں…‘‘

’’مزدک!…یو نو ناں…آئی مس یو…تم کب آرہے ہو…‘‘

سنیعہ شاید واقعی اس وقت کافی پریشان ہو چکی تھی تبھی اسے بولنے کا موقع دیے بغیر ہی اپنی کہے گئی اور چند لمحوں پہلے تک مزدک کے لیے اس کی یہ بے قراریاں کافی خاص تھیں لیکن اب جانے کیا ہوا تھا کہ وہ جھنجلا سا گیا۔

’’میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں سنیعہ…ابھی بزی ہوں یار…‘‘مزدک نے اس کی فیلنگز کی ذرا بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے موبائل آف کر دیا اور اس کی نظر میکانکی انداز میں اس طرف اٹھی تھی جہاں ابھی چند ثانیے قبل سنی اور شہربانو کھڑی تھی لیکن اب کوئی نہیں تھاں وہاں۔ مزدک کے دل میں یکبارگی سناٹا سا چھا گیا۔ یہ کیوں ہوا وہ سمجھ نہیں پایا تھا لیکن جو جوں اس پر اپنی پچھلے لمحے کی خود فراموشی کا ادراک ہوا وہ حیران ہو گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

’’کیا میں شہربانو کو دیکھ رہا تھا…اس کے لیے میں نے سنیعہ کو ڈانٹا…ایسا بھلا کیوں ہوا…کہیں میں پاگل تو نہیں ہو رہا ہوں…نہیں…میں بھلا اس گنوار کو کیوں دیکھوں گا جو…‘‘

’’لالہ!…مزدک لالہ!…آپ کو اماں بلا رہی ہیں…رسم کرنی ہے…‘‘ علی کی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا۔

’’آر…یو…او۔کے لالہب…‘‘

’’ہوں…ہاں…چلو…سب مہمان آگئے کیا…؟‘‘ خود پر سے علی کا دھیان بٹانے کے لیے اس نے جلدی سے موضوع بدلا۔

’’اور…کیا…سب ہی تو آگئے ہیں… بس آپ کا انتظار ہے۔‘‘علی کے ساتھ وہ لان کی طرف آگیا۔ سب سے ملتا وہ اماں تک پہنچا۔

’’چلو…اب تو مردک آگیا ہے…رسم شروع کرو…‘‘فاطمہ بیگم نے اسے دیکھتے ہی کہا۔مزدک کے چہرے پر ایک بڑی خوبصورت مسکراہٹ آگئی۔آخر وہ اپنا حق حاصل کر ہی چکا تھا۔فاطمہ بیگم اس کے بغیر کچھ نہیں کر رہی تھیں اور یہ بڑی اہم خوشی تھی اس کے لیے۔ مزدک نے محبت پاش نظروں سے ان کو دیکھتے ہوئے ان کے کندھے پر اپنے بازو پھیلادیے تو وہ طمانیت سے مسکرادیں۔

’’اب کیا انتظار ہے بڑی بھابی!…‘‘ صالحہ پھوپو نے بڑی اماں سے پوچھا۔ وہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے پہنچی تھیں۔

’’ارے…مرنا ہے کیا مجھے…شہر بانو کے بغیر کیسے رسم کردوں۔شروع…بلاؤ اسے… سات سہاگنیں ابٹن لگاتی ہیں اور شہر بانو ہے کہاں…سب سے پہلے وہی ابٹن لگائے گی۔ آخر بڑی بھابھی ہے۔‘‘بڑی اماں نے حسب عادت کا فی تفصیل سے جواب دیا لیکن ان کے الفاظ پر مزدک کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا۔اس کی نظر بے ساختہ کسی کی تلاش میں بھٹکی۔ ہر طرف شور اور ہنگامہ تھا۔ہر کوئی ہنستا مسکراتا مگن تھا لیکن جانے کیوں مزدک کو اس ہلچل میں بھی کچھ خالی پن محسوس ہو رہا تھا۔

’’کیا ہوا مزدک!…کچھ ٹینشن ہے…‘‘ روحمہ نے دور سے ہی اس کے چہرے پر پھیلی کشمکش کا اندازہ لگالیا۔

’’نہیں…وہ میں یہ دیکھ رہا تھا کہ…‘‘اور اس کا فقرہ بیچ میں ہی رہ گیا کیونکہ نظر نے سارا دھیان سامنے سے آتی شہربانو پر مرکوز کردیا۔ ہاتھوں میں ڈھیر سارے پیلے پھولوں کے ہار اور زیور لیے وہ انتہائی بے فکری سے ہنستی چلی آرہی تھی۔اس کے سانولے چہرے پر پیلے پھولوں کا عکس بڑا حسین رنگ پھیلا رہا تھا۔ مزدک کا دل عجیب کیفیت سے دوچار تھا۔ایک نرم گرم سا احساس تھا جو رگ و پے میں دھیرے دھیرے سرایت کرتا جا رہا تھا۔اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ شہربانو کو یوں ایک ٹک دیکھے ہی جائے لیکن اس لمحے نظر نے جیسے اس پر سے ہٹنے سے انکار ہی کر دیا تھا۔

’’لیں آگئی ہیں…اف…یہ اب آئے پھولوں کے زیور…وہ بھی مجھے نہ یاد آتا تو…خیر…بڑی اماں!…رسم شروع کریں…‘‘ رانیہ کے بازو میں گجرے ڈالتے ہوئے وہ بولی۔

’’تم کو ہی کرنا ہے بھئی شروع…آؤ مزدک میاں!…تم بڑے بھائی ہو…اپنا فرض ادا کرو…‘‘بڑی اماں یک دم اس سے مخاطب ہوئیں تو مزدک سٹپٹا سا گیا۔

’’مجھے کیا کرنا ہے…ان رسموں کا مجھے کیا پتا…ابھی تو سات سہاگنوں کی بات ہو رہی تھی…اور میں…‘‘

’’چلے جاؤ مزدکب…کیوں نخرے کرتے ہو…اسی بہانے شہر بانو کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع بھی مل جائے گا…‘‘ روحمہ کی شرارتی آواز پر وہ حیران سا مڑا۔ یقیناً وہ چند لمحے پہلے کی اس کی ساری بے خودی بھانپ چکی تھی۔تبھی تو اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیلی تھی۔

’’تم کو کچھ نہیں…بس آکر شہربانو کے ساتھ کھڑے کھڑے ہو جاؤ…‘‘صالحہ پھوپو نے بھی اسے پکارا تو وہ روحمہ کی شرارتی نظروں سے نظر چراتا تیزی سے اسٹیج کی طرف بڑھا اور روانیہ کے برابر میں بیٹھ گیا۔یوں وہ رانیہ کو پھولوں کے زیور پہناتی شہربانو کو کافی قریب سے دیکھ سکتا تھا جس کے چہرے پر اس وقت مسکراہٹ کا شائبہ تک نہ تھا اور ایسا مزدک کی وجہ سے ہی تھا۔ مزدک نے ایک اچٹتی سی نظر اس کے سپاٹ چہرے پر ڈالی اور پھر بے ساختہ اس کی نگاہ اس کے لمبے بالوں کی چٹیا پر ٹھہرگئی جو جھک کر کھڑے ہونے کی وجہ سے آگے آگئی تھی۔ وہ رانیہ کو گجرے پہنا رہی تھی اور اس کے اپنے بال ویران تھے۔

’’تم بھی اپنی چٹیا میں گجرا لگاؤ ناں…اچھا لگے گا…‘‘ رانیہ کے بالوں میں گجرا لگا کر وہ سیدھی ہوئی تو جانے کس جذبے کے تحت مزدک کے ہونٹوں سے بے ساختہ یہ فقرہ ادا ہوا تھا۔اس کے یوں براہِ راست مخاطب ہونے پر شہربانو کی آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں اور سارے وجود پر لرزش سی طاری ہوگئی تھی۔ بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے ابٹن کے تھال کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن مزدک تو تھا ہی سدا کا بے لگام۔ شہربانو کا نظرانداز کرنا اسے ضد دلا گیا۔

’’بڑی اماں…یہ کیسی سہاگن ہے…نہ ہاتھوں میں چوڑیاں…نہ بالوں میں گجرے…پہلے آپ اپنی سہاگن کا سنگھار تو پورا کریں۔‘‘اس نے براہ راست بڑی اماں سے رابطہ۔شہربانو کا دل تو جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا تھا۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا مزدک کرمانی کا یہ کون سا نیا ڈھونگ تھا۔ان دونوں کے درمیان بیٹھی رانیہ مسکرائے جا رہی تھی پتا نہیں کیوں اسے لگ رہا تھا مزدک کو واپس بلانے کی

Share this post


Link to post
Share on other sites

ضد کرنا رائیگاں نہیں گیا۔

’’بیٹا!…سہاگن بھی تیری ہے اور سنگھار بھی تجھ سے ہی پورا ہوتا ہے۔ یہ گجرا اور کنگن لے اور پہنا دے اسے…‘‘ بڑی اماں کے لہجے سے بے پناہ خوشی عیاں تھی۔ مزدک نے وہاں موجود سب لوگوں کے چہرے تابناک ہوتے دیکھے۔ سوائے اس کے جس نے انجانے میں اس کے دل کی لے ہی بدل ڈالی تھی۔

’’ٔخالہ!…‘‘وہ شکوہ کناں نظروں سے فاطمہ بیگم کی طرف متوجہ ہوئی لیکن ان کے چہرے پر پھیلی مسکان اسے اپنی شکست کا احساس دلا گئی۔ ایک بار پہلے بھی اس نے یوں ہی بھری برادری میں ذلت اٹھائی تھی لیکن اب ایسا کوئی منظر وہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی چنانچہ اس لمحے خاموش رہنے میں ہی عافیت تھی۔

’’میں پہنادوں…؟‘‘ بڑی اماں سے گجرے پکڑتے ہوئے وہ کچھ کشمکش کا شکار ہوا۔

’’ہاں…مزدک!… یہ حق صرف تمہارا ہے…‘‘روحمہ نے نعرہ لگایا تو ساری ینگ پارٹی اس کا ساتھ دینے لگی۔سب کی توجہ اس وقت رانیہ کی بجائے شہربانو پر تھی جو ابٹن کا تھال ہاتھ میں تھامے لرز رہی تھی۔ سب کے جوش دلانے پر مزدک اس کے قریب آگیا۔

’’ایکسکیوزمی…مسز مزدک کرمانی…میں آپ کے بالوں میں گجرا لگانا چاہتا ہوں…‘‘ اس نے شرارت سے اس کے قریب جھکتے ہوئے کہا۔ شہربانو تو اس لمحے جیسے ختم ہوگئی تھی، ہونٹوں کو سختی سے بھینچے ہوئے اس نے اپنی سسکی کو روکا۔ مزدک کے ہاتھوں نے بڑی نرمی سے اس کی لمبی چٹیا کو چھوا اور اس لمس نے جیسے سارے زخم تازہ کر دیے۔ شہربانو کو لگا وہ اسے ایک بار پھر سیڑھیوں پر گھسیٹتا ہوا سب کے سامنے لے آیا تھا۔ اس کی روح پر پڑتی ضربوں سے بے خبر کہہ رہا تھا۔

’’او…ف…اتنی بد صورت لڑکی…آپ اس کی شکل تو دیکھیں کیسا گنوار پن ٹپک رہا ہے…‘‘ شہربانو نے جلتی آنکھوں سے مسکراتی نظروں سے دیکھتے اپنے اردگرد کھڑے سب لوگوں کو دیکھا۔وہ سب خوش شاید مزدک کا یہ نیا روپ ان سب کے لیے بہت خوبصورت تھا، اس لیے وہ پرانی ساری باتیں بھلائے مزدک کرمانی کو اس کے بازوؤں میں کنگن پہناتے دیکھ رہے تھے اور اس کا روم روم انگاروں کی زد میں تھا۔ وہ مر کر بھی اس شخص کے ظلم نہیں بھلاسکتی تھی اور اب شاید وہ وقت آگیا تھا کہ وہ اپنے وجود کی بقا کے لیے اس خودپسند شخص کی چالیں سب کے سامنے کھول کر رکھ دیتی۔ وہ مضبوطی سے خود کو بچانا چاہتی تھی لیکن آنکھ سے نکلنے والے آنسو آج بھی اس کے بس میں نہیں تھے۔

vvv

’’مما!…اس نے میرا فون بند کر دیا ہے…اور اب تک مجھ سے رابطہ نہیں کیا…اسے تو ایک منٹ کے لیے بھی مجھ سے ناراض ہونا نہیں آتاتھا…لیکن آج جو بھی ہو رہا ہے…یہ آپ کی وجہ سے ہے۔ آپ نے اسے اس کے گھر کے قصے سنا سنا کر مجبور کر دیا کہ وہ پاکستان چلا جائے اور اب…‘‘

’’اور اب تم پر اس کی حقیقت کھل جائے گی…‘‘ انیقہ اعظم نے چہرے کا مساج کرتے ہوئے انتہائی سرسری انداز میں اس کا فقرہ کاٹا تھا لیکن ان کا سرسری فقرہ سنیعہ کا دل کاٹ کر رکھ گیا تھا۔

’’ہاں…سونی!…میں ٹھیک کہہ رہی ہوں…تم یوں سمجھو یہ اس کا امتحان ہے…وہ اپنی حیثیت منوانے گیا ہے ناں…اگر وہ لوٹ کر آیا…تبھی اس کی نمحبت اور دعوے ثابت ہوں گے…ورنہ تم سمجھنا وہ کبھی تمہارا تھا ہی نہیں…ہم پاکستان میں نہیں رہتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمہیں میں اس کی فیملی کی پسند کے بغیر ہی اس کے حوالے کردوں۔وہ شادی شدہ ہے بیٹا!…اور جب تک وہ اس لڑکی سے جڑا ہے…مکمل طور پر تمہارا نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ اپنے ماضی کے ساتھ جڑا رہے گا۔یوں اسے بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ وہ کیا چاہتا ہے…اور اسے کیا کرنا چاہیے…‘‘ انیقہ اعظم نے آج واضح الفاظ میں اس پر اپنا نظریہ واضح کر دیا لیکن ان کے الفاظ سنیعہ کی آنکھوں میں آنسو لے آئے۔

’’مما…مزدک جھوٹا نہیں ہے…وہ دل سے مجھے اپنانا چاہتا ہے۔‘‘

’’میں بھی اسے جھوٹا نہیں کہہ رہی…شادی کا فیصلہ دل سے نہیں۔ دماغ سے کرنا بہتر ہوتا ہے ڈارلنگ!…ورنہ تمہارا انجام بھی میری ہی طرح ہوتا۔میں اور تمہارے ڈیڈی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ایک ساتھ نہیں ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ تب ہم نے دل سے ایک دوسرے کا ساتھ تو پالیاتھا لیکن نہ وہ اپنی اسوچ بدل پائے…نہ میں…ایشین مرد ذہنی طور پر ہمیشہ اپنے خاندان سے جڑا رہتا ہے اور میں اعظم کو سب سے الگ کر لائی تھی…لیکن اعظم اپنی فیملی کبھی نہیں بھول پایا…اور تم بھلا کیسے سوچ سکتی ہو کہ مزدک صرف تمہارا ہو سکتا ہے…جب کہ اس کے گھر میں پہلے سے ایک بیوی بھی ہے…‘‘

’’پلیز…مما!…آپ جانتی ہیں…وہ زبردستی کی شادی تھی۔‘‘

Share this post


Link to post
Share on other sites

’’ہاں…لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس شادی کے نتیجے میں جو لڑکی اس کا نصیب بنی تھی…وہ اس کی فیملی کے لیے کتنی اہم ہے…اور اس کے رہتے تم کبھی اپنی جگہ نہیں بناسکتیں۔مزدک تو کبھی اس سے ملا ہی نہیں تھا پھر وہ کیسے اس سے قطع تعلق کر سکتا ہے…اگر شادی کے بعد مزدک اس سے ملتا تو سوچو تمہارا کیا بنتا…؟بہتر ہے وہ ابھی اس سے مل کر تمام فیصلے کر لے…‘‘

’’او۔کے…تو آپ کو بھروسہ ہے مزدک کو اس سے محبت ہو جائے گی اور وہ واپس نہیں آئے گا…؟‘‘

’’میں نے ایسا کب کہا…بہتر ہے تم سب فیصلے وقت پر چھوڑ دو اور خود کو اتنا انوالو نہ کرو کہ تمہیں بعد میں مشکل ہو…‘‘انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے کہا اور واش روم کی طرف بڑھ گئیں لیکن ان کے کہنے پر بھی وہ خود کو سمجھا نہیں پائی۔ آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے۔ وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہونے والی اور مزدک کا رویہ تو ایک بہت بڑا صدمہ تھا اس کے لیے۔وہ کئی سالوں سے ایک ساتھ تھے اور ان دونوں کے درمیان بے حد دوستی بھی تھی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے اس دوستی نے محبت کا رنگ اختیار کر لیا تھا۔ مزدک نے کبھی واضح الفاظ میں نہیں کہا تھا لیکن اس کے ہر ہر انداز سے چھلکتی محبت سنیعہ سے چھپی نہیں رہی تھی۔ مزدک ہمیشہ سے ہی الگ تھلگ رہنے کا عادی تھا اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں کسی دوسری لڑکی کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن جب سے انیقہ اعظم پاکستان سے آئی تھیں انہوں نے اس قدر شہربانو اور اس کے رویوں کی گردان کی کہ مزدک کو ضد ہونے لگی۔ وہ اس لڑکی سے سب کچھ چھین کر اپنا مقام حاصل کرنے کا سوچنے لگا۔ سنیعہ نے اس کی سوچ بدلنے کی بہت کوشش کی لیکن مزدک کو اس کی ہٹ دھرمی سے روکنا ناممکن تھا اور پھر وہ چلا گیا۔ جانے سے پہلے وہ سنیعہ کے پاس آیا اور انتہائی سادہ لہجے میں گویا ہوا۔

’’میں بہت جلد آجاؤں گا…اور تم تیار کرے رکھنا…اگلی بار تم کو بھی میرے ساتھ ہمارے گھر چلنا ہے…ہمیشہ کے لیے…‘‘اس خود پسند شخص کے یہ سادہ اسے الفاظ سنیعہ کی زندگی کا اثاثہ بن گئے۔

’’تو مما نے باقاعدہ پلاننگ سے مزدک کو پاکستان بھیجا ہے…اور اگر وہ واپس نہ آیا تو…نہیں…ایسا نہیں ہو سکتا…مزدک یہ بندھن نہیں توڑ سکتا…وہ بزی ہوگا اسی لیے مجھ سے بات نہیں کر پایا ہوگا…‘‘اس نے آنسو پوچھتے ہوئے خود کو بہلایا اور اپنی محبت کی بے بسی میں وہ بھول ہی گئی کہ اس سے مضبوط بندھن وہ برسوں پہلے کسی اور سے جوڑ چکا تھا۔ پتا نہیں اس کی تقدیر میں کون سا بندھن نبھانا لکھا تھا۔یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا۔

vvv

’’کیا میں پاگل ہو گیا تھا…شہربانو کے لیے کوئی بھی فیلنگز بھلا کیسے آسکتی ہے میرے دل میں…‘‘ سنیعہ سے سوری کرکے اس نے فون بند کرتے ہوئے ایک بار پھر اس معاملے کو کریدا لیکن دل دل تو جیسے دغا دینے پر تلا ہوا تھا۔رات بھر ایک ہنگامہ اٹھائے رہا اور اب یوں ساکت تھا جیسے جانتا ہی نہ ہو کہ اس نے کوئی غلطی کی ہے۔ یہ دل کی باتیں بھی نرالی ہوتی ہیں۔

’’اوہو…یہ صرف ایک لمحاتی اٹریکشن تھی…اب میں کوئی دل پھینک ٹائپ کا بندہ تو ہوں نہیں کہ یوں ہر کسی سے محبت جھاڑتا پھروں۔

محبت تو میں سنیعہ سے کرتا ہوں اور وہ بھی تو مجھے اتنا پیار کرتی ہے۔میری ہر بات بنا کہے جان لیتی ہے…اور وہ گنوار شہربانو…وہ تو کسی زمرے میں آتی ہی نہیں…لیکن جو بھی رات کو ہوا…ٹھیک ہی رہا…اب سب کا خیال ہے کہ میں بدل چکا ہوں…اور اس وقت یہی بہتر ہے…اسی بات کا فائدہ اٹھانا ہے مجھے…چلو مزدک کرمانی ایک روشن دن تمہارا منتظر ہے…اٹھو اور سب اپنوں سے ایک قدم اور قریب ہو جاؤ…

سنیعہ! اب وہ وقت دور نہیں جب تم میرے ساتھ ہوگی…اور ہماری زندگی میں کسی شہربانو کا کوئی گزر نہ ہوگا…‘‘کھڑکی کھولتے ہوئے اس نے ایک گہری سانس لے کر مضبوط ارادوں کے ساتھ نئے دن کو خوش آمدید کہا۔

’’خالہ!…میں لان میں ہی ناشتہ لگوا رہی ہوں…‘‘ شہربانو نے چلا کر فاطمہ بیگم کو بتایا لیکن انہوں نے کوئی جواب دیا ہو یا نہیں مزدک کی ساری توجہ اس پر مبذول ہوگئی۔ لائٹ گرین شلوار سوٹ میں وہ بغیر کسی سوئیٹر کے اندر سے باہر متحرک تھی۔ معمول کی نسبت اس کا سانولا چہرہ اس لمحے کافی تھکا ہوا اور مژمردہ لگ رہا تھا لیکن اس کی زبان فراٹے سے چل رہی تھی۔

’’ساری چیزیں ٹھیک سے رکھو…آمنہ! بھاگ کر پلٹیں تو لے آؤ کچن سے… بس ناشتہ تیار ہے سب کو بلا لو…اب کون سا بہت سردی ہے جو کمروں میں چھپ کر بیٹھیں۔ کتنی فریش ہوا ہے…‘‘

’’فریش…مر رہے ہیں ہم سب سردی سے…اور آپ کو نئے نئے آئیڈیاز سوجھ رہے ہیں…‘‘سنی دو تین سوئیٹر چڑھائے گرم شال اوڑھے ایک کونے میں لگا بیٹھا تھا۔ اسے ویسے بھی سردی زیادہ لگتی تھی۔ اس پر شہربانو نے لان میں ناشتہ کروانے کا فیصلہ سنا کر اسے اچھا خاص تپا دیاتھا۔

’’ارے…لاجواب ہیں آپ اور آپ کی آمنہ…

Share this post


Link to post
Share on other sites

’’دیکھو…سنی!…مجھ سے جھگڑے کی کوشش نہ کرنا۔ بھابھی تک ہی رہو…تو تمہارے لیے بہتر ہے…‘‘ آمنہ نے فوری طور پر اسے دھمکایا تو سنی بھی سیدھا ہو گیا۔ لڑنے کے معاملے میں وہ کسی کو نہیں چھوڑتا تھا اور آمنہ کو تو وہ چھوڑا چاہتا بھی نہیں تھا۔

’’ہاں…تم تو چاہتی ہو…میرے اور بھابھی کے تعلقات بگڑ جائیں اور ہمارے گھر کا سکون غارت ہوجائے…‘‘ سنی لڑاکا انداز میںبولا۔

’’لو…بھلا… میںکیوں ایسا چاہوں گی…بھابھی! اسے سمجھا لیں۔ آپ…‘‘ آمنہ نے شہربانو کو بھی گھسیٹنا چاہا لیکن اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ آمنہ کو چڑاگئی۔

’’بھابھی!…کبھی تو آپ سنی کی بجائے کسی اور کا ساتھ دیا کریں۔‘‘

’’اوہ۔ بھابھی کیا کسی کا ساتھ دیں گی…میں تو خود کمزور پارٹی بن گیا ہوں…کتنی سمجھایا بھابھی نے…لیکن میںبھی اپنی ضد سے باز نہیں آیا…صاف کہہ دیا…شادی کروں گا تو صرف آمنہ سے…‘‘سنی اپنی ترنگ میں روانی سے کہہ گیا لیکن آمنہ کے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیا۔وہ ہکا بکاسنی کو دیکھنے لگی۔

’’او…میری ہونے والی دیورانی جی!…ایسے موقعوں پر ہمیشہ شرمایا جاتا ہے…‘‘شہربانو نے قہقہہ لگاتے ہوئے اسے ساتھ لگایا تو وہ ہوش میں آگئی۔ سنی شال میں منہ دیے یوں بیٹھا تھا جیسے اس نے چند لمحے قبل کچھ کہا ہی نہ ہو۔

’’بھابھی!…آپ…میں،ممانی سے شکایت کروں گی…‘‘آمنہ بری طرح بدحواس ہوچکی تھی اس پر شہربانو کی ہنسی نے سونے پر سہاگے کا کام کیا وہ پاؤں پٹختی اندر کی طرف بڑھ گئی۔

’’اب بس کرو نیک شہزادۂ سنی!…ظالم جادوگرنی چلی گئی ہے۔‘‘شہربانو کی ہنسی کنٹرول میں ہی نہیں آرہی تھی۔ پتا نہیں تازہ ہوا کا کمال تھا یا دل سے ابھرتی اس ہنسی کا کہ اس کے سانولے چہرے پر ایک بڑی دلکش سی چمک پیدا ہوگئی تھی کہ مزدک کرمانی چاہتے ہوئے بھی اس منظر سے نگاہ نہ ہٹاپایا۔

’’ظالم جادگرنی تو آپ لگتی ہیں مجھے…اتنی سردی ہے یار!…‘‘ سنی اس کی شال کھینچنے پر چیخا تو شہربانو کی ہنسی میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔

’’اب بنو مت…تب تو کیسے ہیرو بن رہے تھے اور اب یوں…‘‘اپنے مخصوص انداز میں پٹر پٹر بولتے ہوئے اسے اچانک اپنے چہرے پر کچھ گرم سا احساس ہوایوں جیسے کوئی بڑے انہماک سے اسے دیکھ رہا ہو۔ اس نے الجھ کر سامنے دیکھا۔کھڑکی سے جھانکتے مزدک کرمانی نے اس کی جان ہی نکال دی۔مزدک کرمانی کی نظروں کی وہ متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اس نے چور سی نگاہ سنی پر ڈالی جو اس پر بیتے لمحے سے بے نیاز اب بھی شال میں چہرہ چھپائے بیٹھا تھا۔وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔اس کی ایک دم بند ہوتی زبان اور بدلتے تاثرات کو مزدک نے پوری شدت سے محسوس کیا اور اس کے ماتھے پر بل پڑگئے۔اس نے جھٹکے سے کھڑکی بند کردی۔ رگ و پے میں عجیب سی ناگواریت سرایت کر گئی تھی۔

’’ہوں…ہر وقت سب کے ساتھ باتیں بناتی رہتی ہے…اور مجھے دیکھتے ہی یوں سنجیدہ ہو جاتی ہے…جیسے بولنا جانتی ہی نہ ہو۔سچ کہا سنی نے اسے…ہے ہی جادوگرنی!…سب کو اپنے بس میں کر رکھا ہے…لیکن میں بھی اسے اتنا چکراؤں گا کہ سارے منتر بھول جائے گی۔‘‘شہربانو کے رویے نے اس کے اندر کے ہٹ دھرم انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ آج بھی شہربانو سے جواباً ناگواری کی توقع نہیں کرتا تھا۔

’’یہ لڑکی میرے گھر میں…میرے ہی نام کی زندگی جی رہی ہے اور مجھے دیکھ کر منہ پھیرنے کی اس کی حیثیت ہے بھلا…خود کو کیا حور سمجھتی ہے…جسے میں چھپ کر دیکھوں گا…ہوں…جاہل…گنوار…جادوگرنی…‘‘شہر بانو کے لیے القابات میں ایک نیا اضافہ کرتے ہوئے وہ بری طرح تپ چکا تھا۔

’’دوبار فون آچکا ہے…کتنی دیر میں نکل رہے ہیں ہم لوگ…؟‘‘ سنی نے فاطمہ بیگم کو متوجہ کیا۔ آج وہ لوگ رمیز کو مہندی لگانے جا رہے تھے۔

’’بس نکلتے ہیں بیٹا!…یہ لڑکیاں تیاری مکمل کر لیں تو…

ثناء اب بس بھی کرو رات ہوگی تو نکلیں گے کیا ہم۔ راستے کا پتا ہے ناں تم لوگوں کو آج کل کتنی چوریاں ہو رہی ہیں۔‘‘ فاطمہ بیگم نے ایک بار پھر ان لوگوں کو پکارا۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ سب ’’آرہی ہیں۔‘‘ کے نعرے لگا رہی تھیں لیکن ابھی تک کوئی ایک لڑکی بھی برآمد نہیں ہوئی تھی۔

’’واہ…اماں!… ان لوگوں کی تیاری کا انتظار کیا تو پھر کل ہی نکلیں گے۔‘‘ سنی جھنجلاتا ہوا واپس مڑا۔

’’اﷲ نہ کرے سنی!…کبھی تو اچھی بات منہ سے نکالا کرو۔

بس خالہ!…سب تیار ہیں…سب چیزیں تو آپ نے گاڑیوں میں رکھوا دی ہیں ناں۔‘‘ حسب توقع شہربانو ہی سب سے پہلے آئی اور آتے ہی اسے انتظامات کی فکر لگ گئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

’’ہاں…سب ہو گیا ہے ماشاء اﷲ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔ چلو شہربانو تم لوگ نکلو۔ گاؤں سے دوبار فون آچکا ہے۔ ہم لوگ بھی بس پہنچتے ہیں۔‘‘فاطمہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے اطلاع دی۔

’’پہلے کون کون جا رہا ہے خالہ!…اپنے کان کی بالی درست کرتے ہوئے اس نے پوچھا لیکن ان کا جواب سن کر وہ ٹھٹک سی گئی۔

’’وہ اصل میں روحمہ پہنچ نہیں پائی تو اس نے فون کرکے کہاکہ اسے گھر سے ہی لیتے جائیں تو میں نے سوچا تم اور مزدک اسے لے کر آؤ…‘‘

’’پلیز…خالہ!…میں ان کے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گی۔‘‘ وہ بری طرح سٹپٹا کر بولی۔ اسے تو بھرے گھر میں اس خود پسند شخص سے وحشت ہوتی تھی اور اس کے ساتھ تنہا جانے کا تصور ہی اسے ہولا گیا۔

’’مجھے پتا ہے شہربانو!…‘‘ فاطمہ بیگم نے اس کے قریب آتے ہوئے آہستگی سے بات کا آغاز کیا۔

’’جب روحمہ کا فون آیا تھا تب کنیز آپا اور شائستہ میرے ساتھ بیٹھی تھیں…اور بیٹا…تم تو ان عورتوں کی فطرت جانتی ہو ناں…کسی بھی بات کا پتنگڑ بنادیتی ہیں میری خاطر چلی جاؤ۔بس روحمہ کے گھر تک کی ہی تو بات ہے…پھر تو وہ بھی تمہارے ساتھ ہوگی ناں…جا میری اچھی بیٹی…چلی جا…‘‘ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ اتنی لجاجت سے کہاکہ وہ چپ ہوگئی۔

’’اچھا…میں اپنی چادر لے لوں…‘‘ وہ منہ بسورتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تو فاطمہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ آحر روحمہ کی بنائی ہوئی ترکیب کام کر گئی۔ جتنی دیر تک وہ چادر لے کر باہر آئی انہوں نے مزدک کو گاڑی تک پہنچا دیا۔ اصل میں وہ بھی روحمہ اور فاطمہ بیگم کی سازش سے ناواقف تھا ورنہ شہربانو کے ساتھ تنہا ڈیڑھ دو گھنٹے کا سفر کرنا اسے بھی گوارا نہ ہوتا۔

’’آخر مسئلہ کیا ہے اماں!…یہ روحی بھی نئی نئی مصیبت کھڑی کرتی ہے…‘‘مزدک بری طرح جھنجلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا۔

’’اب ایسا بھی کیا ہوگیا ہے مزدک۔شہربانو…ادھر آجاؤ بیٹا…‘‘ان کے پکارنے پر وہ حیران سا مڑا۔ سیاہ چادر میں پری خود کو ڈھانپتے وہ چلی آرہی تھی لیکن اس کے وجود کی سج دھج یہ سیاہ چادر بھی چھپا نہیں پائی تھی۔ میرون اور گولڈن آرگنزا کے سوٹ پر نفاست سے کیاگیا میک اپ اسے معمول کی نسبت بہت خوبصورت بناگیاتھا۔ نہ چاہتے ہوئے مزدک کی نگاہ ایک لمحے کو اس پر ٹھہر گئی۔ سانولے چہرے پرجھنجلاہٹ اور پریشانی کا بڑا خوبصورت سا امتزاج نمایاں تھا۔

’’جاؤ اب تم لوگ۔ مزدک گاڑی دھیان سے چلانا۔‘‘انہوں نے عجلت بھرے انداز میں شہربانو کو بازو سے پکڑ کر فرنٹ سیٹ پر بٹھاتے ہوئے ضروری ہدایات دیں اور دروازہ بند کر دیا۔شہربانو کے حواس تو جیسے جواب دے گئے تھے۔ اسے نہ کچھ سنائی دے رہا تھا، نہ دکھائی۔ خود کو پوری طرح سمیٹ کر وہ دروازے سے چپکی بیٹھی تھی۔گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور کن راستوں پر سفر کرنے لگی اسے بالکل ہوش نہ تھا۔ مزدک کرمانی کی اس درجہ قربت اسے سہما رہی تھی اگرچہ اس نے پہلے کی طرح کوئی چیخ پکار نہیں کی تھی لیکن شہربانو تو اب تک اس کے وہ پہلے ستم ہی نہ بھول پائی تھی۔

’’بہت شوق تھا تمہیں میرے ساتھ جانے کا…‘‘نہ جانے کیوں مزدک کو اس کی مسلسل خاموشی سے جھنجلاہٹ ہونے لگی تھی پھر کسی طرح تو بات کا آغاز کرنا ہی تھا ناں۔ ورنہ شاید کبھی اس سے چھٹکارا نہ ملتا۔

’’میں نے آپ سے کچھ کہا ہے محترمہ!…کیا سمجھتی ہو تم اپنے آپ کو…ویسے تو کسی وقت زبان بند نہیں ہوتی اور میرے سامنے یوں بن جاتی ہو جیسے کچھ بولنا جانتی ہی نہیں ہو۔ کان کھول کر سن لو میں تمہاری ان اداؤں سے متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔‘‘ وہ بولنے پر آیا تو ذرا بھی مروت نہ برت سکا لیکن اس کے آحری فقرے نے شہربانو کو بھڑکا ہی تو دیا۔ ایک ہی لمحہ لگا اسے تمام ڈر، خوف بھلانے میں۔ کچھ بھی برداشت کیا جاسکتا تھا لیکن طنز برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا اور نہ وہ اتنی کمزور تھی کہ اس شخص کے طنز سہتی اور پھر یہاں کون سننے والا تھا جو اسے زمانے کا خوف ستاتا۔

’’کیا…کیا…کیا کہا آپ نے…میں آپ کو ادائیں دکھاؤں گی وہ کس خوشی میں۔میں آپ جیسی نہیں ہوں کہ دل میں کچھ ہو زبان پر کچھ اور۔میں آپ کی کسی بات کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔‘‘

’’واہ…کیا بات ہے…ظاہر ہے آپ کی تو دلی خواہش جو پوری ہوگئی۔ ایک میں ہی تو تھا آپ کے سحر سے باہر اگر میں تنہا میسر ہو جاتا تو…‘‘

’’ایکسکیوزمی…مسٹر مزدک کرمانی!…مجھے آپ کے ساتھ آنے کا کوئی شوق نہیں…میں تو کل ہی آپ کی خوش مزاجی میں چھپی گہری سازش کو سمجھ گئی تھی۔ آپ چاہتے ہیں سب آپ کو اچھا سمجھنے لگیں…لیکن معاف کیجیے گا مجھے لگتا ہے خالہ ابھی بھی روحمہ میر کے معاملے میں آپ پر بھروسہ نہیں کرپائیں اسی لیے زبردست مجھے آپ کے ساتھ بھیجا… گاڑی کے ٹائر زور سے چرچرائے تو دھیان نہ ہونے کی وجہ سے اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

’’کیا بکواس کی ہے تم نے…سمجھتی کیا ہو تم خود کو۔‘‘ابھی وہ سر کی چوٹ سہلا نہ پائی تھی کہ اس کی پھنکارتی آواز سے دہل گئی۔

’’کیوں…سچ برداشت کرنا مشکل لگتا ہے آپ کو…؟‘‘وہ بری طرح جھنجلا گئی تھی۔

’’اب اگر تم نے مزید ایک لفظ بھی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…مجھے تمہاری فضول گفتگو سننے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ اماں کا خیال نہ ہوتا تو ایک لمحہ بھی میں تمہیں اپنے ساتھ برداشت نہ کرتا اور پھر اس سناٹے میں چاہے تم جہنم یں جاتیں۔‘‘ مزدک نے اسے اچھا خاصا جھاڑ دیا اور اس کی یہ دھمکی کافی کارگر بھی رہی۔ وہ اس کو کرارا سا جواب دینا چاہتی تھی لیکن گہری ہوتی شام کے سائے اسے چپ کرواگئے۔ بھلا مزدک سے کیا بعید وہ راستے میں ہی اتار دیتا۔ اسے خاموش دیکھ کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

ماحول پر ایک بار پھر سناٹا چھاگیا۔ مزدک کا دل غصے سے بری طرح بھڑک اٹھا تھا وہ ابھی بھی اسے سنانے کا سوچ رہا تھا کہ موبائل پر ہوتی بپ نے اسے چونکادیا۔شہربانو پر ایک سلگتی نظر ڈال کر اس نے موبائل ڈیش بورڈ سے اٹھایا تو روحمہ کا نمبر جگمگا رہا تھا۔

کیسا جا رہا ہے دوست!…حالات کچھ ٹھیک ہو رہے ہیں…؟‘‘ روحمہ کی کھلکھلاتی آواز مزدک کو کچھ حیران کر گئی اسے ایک دم گڑبڑ کا احساس ہوا۔

’’کیا مطلب روحی!…؟‘‘روحمہ کے نام پر شہربانو بھی متوجہ ہوگئی۔

’’ارے…اب تم پر ناسمجھی کا اٹیک ہوگیا ہے مزدک…میں نے اور فاطمہ آنٹی نے تمہیں اتنا اچھا چانس دے دیا اور تم سوالوں پر ٹائمبرباد کر رہے ہو…دوگھنٹے ہیں تمہارے پاس…اس سفر کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا لو مزدک۔‘‘اسے منالو…ویسے مجھے یقین ہے تم لوگ لیٹ ہی پہنچو گے لیکن کوئی فکر نہ کرنا میں سب سنبھال لوں گی۔ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ گاؤں پہنچ رہی ہوں…بس تم اب جلدی سے سب ٹھیک کر لو اور…‘‘

’’روحی!…میری بات تو سنو…‘‘

’’جی…نہیں…اب سب کچھ اپنی بیوی سے کہو…مجھے یقین ہے وہ مان جائے گی۔ وہ بہت اچھی ہے…تمہاری طرح دوسروں کو ستانے کی عادت نہیں ہے اسے…او۔کے…بائے۔‘‘روحمہ نے اپنی بات مکمل کی اور موبائل آف کر دیا۔ ایک لمحے کے لیے تو مزدک کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کرے تو کیا۔ وہ بری طرح پھنس چکا تھا۔ شہربانو کے ساتھ دو گھنٹے تک سفر کرنا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا اور واپس گھر جانا اماں کی نارضی مول لینے کے مترادف تھا۔

’’کیا ہوا…روحی نے کیا کہا…؟‘‘ شہربانو کو اس کی مسلسل چپ پر پوچھنا پڑا۔

’’ہوں…کیا…وہ…وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ گاؤں جا رہی ہے…‘‘مزدک گہری سوچ میں مبتلا تھا لیکن شہربانو کے ری ایکشن نے اسے چونکا دیا۔

’’اچھا…تو پھر ہم گھر چلیں مزدک۔‘‘ فقرہ انتہائی عام تھا لیکن لہجہ اور سیاہ آنکھوں سے جھلکتی روشنی ہرگز بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھی۔ مزدک نے ایک نظر ڈال کر رخ پھیر لیا لیکن کچھ عجیب ہوا تھا۔ اس ایک نظر میں شہربانو کے وجود کی ساری روشنیاں سمٹ آئی تھیں۔ وہ گھر جانے کا سوچ کر پرسکون ہوگئی تھی۔اس سکون نے ایک دم سے مزدک کے لیے فیصلہ کرنا آسان کر دیا۔

’’گھر کیسے جاسکتے ہیں…اب گاؤں ہی چلتے ہیں۔ وہ لوگ بھی نکل گئے ہوں گے۔‘‘وہ اس قدر نرم لہجے میں بولا کہ شہربانو کچھ بول ہی نہ پائی۔وہ برا سا منہ بناتی باہر دیکھنے گی۔ وہ مزدک کی دلی حالت سے قطعی بے خبر یہ سوچنے میں مصروف تھی کہ جلد سے جلد سب گھر والوں کے پاس پہنچ جائے۔

’’آپ کو راستہ تو پتہ ہے ناں؟‘‘ شام کے بڑھتے سائے شہربانو کے دل میں عجیب وسوسے جگانے لگے تھے۔ اس کے اس عجیب سوال پرمزدک نے حیرت سے اسے دیکھا۔ مزدک کی سوالیہ نظروں پر وہ گڑبڑا کر گویا ہوئی۔

’’میرا مطلب شام کافی گہری ہو رہی ہے اور…کتنے سال آپ باہر رہے ہیں…یہاں کے راستے بھول جانا کچھ اتنا ناممکن بھی نہیں ہے۔‘‘

’’میں تمہاری طرح گنوار نہیں ہوں اور مجھے ہر راستے کا پتہ ہے فکر نہ کرو۔‘‘

’’آپ کا کیا بھروسہ…‘‘شہربانو زیر لب بڑبڑائی لیکن اتنے سناٹے میں مزدک کے لیے اس کا فقرہ سننا کچھ مشکل نہ تھا۔

’’مجھے کچھ ضرورت بھی نہیں کسی بھروسے کی…اگر تم اترنا چاہو تو میں گاڑی کر تمہیں یہیں اتاردوں…؟‘‘وہ بری طرح تلملا کر بولا۔

’’نہیں…پلیز…میرا دل بہت ڈر رہا ہے۔ اس راستے پر چوری کی بہت سی وارداتیں ہوئی ہیں۔‘‘ وہ واقعی کافی ڈر چکی تھی۔ راستہ سنسان تھا اور ان کی اگڑی کے علاوہ دور دور تک کچھ دکھائی نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

دے رہا تھا۔

’’ارے…واہ…میں نے کچھ اور ہی سنا تھا آپ کے بارے میں…سنا ہے پورا گھر آپ نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے…یقین نہیں آتا اس قدر ڈرپوک لڑکی…‘‘

’’میںڈرپوک نہیں ہوں…‘‘ وہ ایک دم اس کا فقرہ کاٹتے ہوئے گویا ہوئی۔ اس کے چہرے پر عجیب سا احساس نمایاں تھا۔

’’مدت ہوئی میں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔ بہت چھوٹی تھی تو اماں کہا کرتی تھیں میرے چچا مجھے مار ڈالیں گے…اور پھر…بابا اور اماں مجھے چھوڑ گئے…تو جیسے میرا ڈر بھی ان کے ساتھ ہی چلا گیا…چچاؤں کا ڈر بھی نہیں رہا۔ بچا ہی کیا تھا گنوانے کو…لیکن آج…سوری میں بھی کیا لے بیٹھی۔‘‘بولتے بولتے اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ مزدک کرمانی سے اپنے دل کا سب سے تکلیف دہ دکھ کہہ رہی تھی اور اس شخص سے کچھ بھی شیئر کرنے کی بھلا کیا تک تھی۔ مزدک نے اس کے ایک دم چپ ہوجانے پر رخ پھیر کر اسے دیکھا۔ سیاہ چادر کو اپنے گرد لپیٹے ہوئے شاید وہ اپنے آنسو چھپا رہی تھی اور شاید یہ ان دونوں کی زندگی کا سب سے خاص لمحہ تھا جو ان کے درمیان کے سارے فاصلے مٹا گیاتھا۔

’’تم کو پتا ہے مجھے خود اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ اماں سے پوچھنا میں نے کتنے ڈرامے کیے ہیں…کبھی لائٹ چلی جاتی تو…‘‘مزدک نے انتہائی غیر محسوس انداز میں اس کا دھیان اپنی طرف راغب کیا اور پھر اپنے بچپن کے قصے سناتے ہوئے وہ اتنا مگن ہوا کہ سامنے سے آتے گنے سے بھرے ٹرک پر بھی دھیان نہ دے سکا۔

’’مزدک!…سامنے دیکھیں…‘‘ شہربانو کی نگاہ بے ساختہ سامنے پڑی اور اس نے چیختے ہوئے مزدک کے بازو کو دوبچ لیا تھا۔ اس کے اس قدر شدید ردعمل پر مزدک بمشکل اپنے اپنے حواس قابو میں رکھ پایا۔ اسٹیرنگ کو گھماتے ہوئے اس نے گاڑی سائیڈ پر کچے راستے پر ڈال لی تھی۔ ٹرک ڈرائیور شاید ہوش میں نہیں تھا۔ مزدک بری طرح حواس باختہ ہوگیا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ایک امتحان بنی شہربانو اس کے بازو سے چپکی کانپ رہی تھی۔گاڑی کو ایک طرف روکتے ہوئے مزدک نے ایک پرسکون اور گہری سانس لے کر خود کو زندہ ہونے کا احساس دلایا۔

’’ہم ٹھیک ہیں بانو!…کچھ نہیں ہوا…‘‘اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بہت نرمی سے بولا۔ شہربانو نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور مزدک کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ وہ اس کے تصور سے بھی زیادہ قریب تھی۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں ڈولتے خوف کے سائے انہیں ہمیشہ سے بڑھ کر حسین بناگئے تھے۔ مزدک کے دل نے بہت دھیرے سے اسے بتایا تھا کہ پچھلے لمحے میں وہ موت کو تو شکست دے چکا تھا لیکن ان قاتل نینوں سے بچ پانا ناممکن تھا۔ مزدک نے بے ساختہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھ کے پیالوں میں لیتے ہوئے اسے زندگی کی موجودگی کا یقین دلانا چاہا تو جیسے اس کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا۔

’’کیا ہوگیا تھا آپ کو…دیکھ کر نہیں چلا سکتے تھے…اگر کچھ ہو جاتا تو…کچھ فکر بھی ہے آپ کو…یہی کہہ رہی تھی ناں…دھیان کہاں تھا آپ کا…‘‘اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہ غصے کے مارے بولتی چلی گئی،جیسے جیسے وہ بولی رہی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور مزدک کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔

’’کچھ نہیں ہوا ہے!… سب ٹھیک ہے…سب ٹھیک ہے، سن رہی کچھ نہیں ہوا ہے…‘‘اس کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے مزدک نے اس کے حواس بحال کرنے کی کوشش کی۔ مزدک کے چیخنے پر اسے جیسے ہوش آگیا۔ اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپاتے ہوئے وہ بری طرح رو دی۔ اس کے یوں شدت سے رونے پر مزدک جھنجلا گیا۔ اس کے آنسو مزدک کو تکلیف دے رہے تھے۔صرف ایک لمحہ لگا مزدک کی برداشت ختم ہونے میں۔اس نے سختی سے اس کا بازو پکڑا اور اسے اپنی طرف موڑتے ہوئے گویا ہوا۔

’’باقی کے انسو بچا کر رکھ لو…میں مر جاؤں تو پھر رولینا، ٹھیک ہے…‘‘اس کے بازو کو جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ اس کے جارحانہ انداز پر شیربانو بری طرح سہم گئی لیکن اس وقت اس میں کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی اور اگلے پندرہ منٹ بعد وہ گاؤں کی حدود میں داخل ہو رہے تھے۔

’’اپنا حلیہ درست کر لو…میرا قصور نہ ہوتے ہوئے بھی سب سوچیں گے میں نے تمہیں رلایا ہے جب کہ میرا خیال ہے تم کو رونے کے سوا اور کچھ آتا ہی نہیں۔‘‘ انتہائی درشت لہجے میں وہ بولا حالانکہ دل پر گزرنے والی خوبصورت واردات کا تقاضا کچھ اور تھا لیکن حالات نے اسے اس رویے پر مجبور کردیاتھا۔ اپنا دھیان اس پر سے ہٹانے کے لیے وہ پوری طرح سڑک پرنظریں جمائے ہوئے تھا لیکن ضدی دل بار بار اسے بھٹکا رہا تھا۔ اور جب اس نے سیاہ چادر سر سے اتاری تو اس کی نظر تمام مصلحتیں بھلائے شہربانو پر آن ٹھہری۔ وہ لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو سمیٹ رہی تھی۔

’’آخر۔ یہ اتنی اچھی کیوں لگ رہی ہے…وہی تو ہے…پھر یہ کیا ہو رہا ہے مجھے…اتنے سالوں میں اس کے تصور سے بھی نفرت کی ہے میں نے اور اب…‘‘

’’آئی… ایم…سوری…میری وجہ سے آپ کو پریشانی ہوئی…میرے بابا اور اماں اسی طرح ایکسیڈنٹ میں… مجھے رات کے سفر سفر سے بہت ڈر لگتا ہے…مجھے معاف کر دیجیے گا…‘‘گاڑی سے اترتے ہوئے وہ بہت آہستگی سے بولی۔ اندر ہوتے ہنگامے کی وجہ سے وہ بمشکل اس کے الفاظ سن پایا تھا اور جب وہ اترنے لگی تو مزدک نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے رکنے کا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اشارہ کیا۔ شہربانو کو اس کا یہ انداز حیرانی میں مبتلا کرگیا تھا۔

’’کیا تم رونا چھوڑ سکتی ہو…؟مجھے تمہارے آنسوؤں سے پریشانی ہوتی ہے۔ پہلے بھی تمہارے آنسو سب کچھ ختم کرگئے تھے اور اب…مجھے آنسوؤں سے نفرت ہے…اگر ہو سکے تو آئندہ میرے سامنے مت رونا… تمہاری مہربانی ہوگی۔‘‘قطعی سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اس نے نرمی سے شہربانو کاتھ تھپتھپایا اور گاڑی سے باہر نکل گیا۔ اس کے الفاظ شہربانو کو الجھن میں مبتلا کرگئے تھے وہ کتنی آسانی سے سب الزام اس کے نام لگاگیاتھا اور وہ کچھ نہ بول پائی۔

vvv

تو پیا سے مل کر آئی ہے

بس آج سے نیند پرائی ہے

اب دیکھے گی سپنے بالم کے

تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے

پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

’’یہ تم کو کس وقت کے راگ سوجھ رہے ہیں روحمہ میرا!…کزن یاد ارہا ہے…‘‘ تکیہ ٹھیک کرتے ہوئے اس نے روحمہ کو شرارت سے چھیڑا۔ صبح بارات تھی اسی لیے وہ رات یہیں رک گئی تھی۔

’’ہاں…جی…ہم تو یاد ہی کر سکتے ہیں…آپ کی طرح تھوڑی خوش نصیب ہوں کہ دو گھنٹے تک پیا کے ساتھ لانگ ڈرائیو کے مزے لوٹوں۔‘‘

’’بکو مت روحی!…تمہاری بکواس کے علاوہ بھی مجھے بہت کام ہیں۔‘‘

’’اسے معاف کردو شہربانو۔ وہ سچ مچ تمہیں بہت چاہتا ہے۔‘‘

’’روحی!…یہ کون سا ٹائم ہے اس بکواس کا۔ ساڑھے تین بج رہے ہیں اور…‘‘

’’ہرکام اپنے وقت پر ہو ہی جاتا ہے شہربانو۔ تم اسے موقع تو دو۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔‘‘

’’میں پہلے ہی بہت خوش ہوں۔ کیا کمی ہے مجھے۔ میرا خیال ہے تمہیں نیندن نہیں آرہی اس لیے ایسی بے کار باتیں سوجھ رہی ہیں۔ میں تمہارے لیے کافی لاتی ہوں، اچھی سی۔‘‘ شہربانو نے اپنا لہجہ نارمل رکھا لیکن سچ تو یہ تھا کہ دل میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں وہ چاہ کر بھی روحمہ کو یہ یقین نہیں دلاسکتی تھی کہ وہ خودپسند شخص اپنے علاوہ کسی سے محبت نہیں کر سکتا تھا اور ابھی تو اسے ان لمحوں کا افسوس کم نہیںہوا تھا جب وہ اس کے سامنے اپنے کچھ دکھ رو دی تھی اور وہ…

’’اے شہربانو!…تم کافی لا رہی تھیں…اس کا کیا بنا؟‘‘ روحمہ کی آواز پر وہ چونکتے ہوئے باہر نکل آئی۔

’’یہ روحی بھی حد کرتی ہے…کچھ پتا نہیں چلتا اس کا۔‘‘ کچن کی طرف آتے ہوئے اس نے اپنا دھیان مزدک سے ہٹانے کے لیے روحمہ کو سوچنا چاہا لیکن کچن کے دروازے پر اسے رکنا پڑا کیونکہ وہ دشمن جاں پہلے سے کچن میں موجود تھا۔ چولے پر پانی دھرا تھا اور وہ موبائل کان سے لگائے بہت آہستہ آواز میں بول رہا تھا۔

’’ہاں…یار!…کل بارات ہے۔ میںنے تو کہا تھا تم بھی ساتھ آؤ لیکن تب…‘‘ اسے ایک دم اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو چونک کر مڑا اور شہربانو کو سامنے دیکھ کر وہ بس ایک لمحے کو چپ ہوا اور پھر اس نے تیزی سے الوداعیہ کلمات کہہ کر موبائل بند کر دیا۔ اس کے اس رویے پر شہربانو چور سی بن گئی۔

’’کیا اس کو لگ رہا ہے میں اس کی بات سن رہی تھی…بھلا مجھے کیا ضرورت ہے جو…‘‘

’’اچھا ہوا تم آگئیں…پلیز میرے لیے ایک کپ چائے بنادو۔‘‘موبائل سائیڈ پاک میں ڈالتے ہوئے وہ سرسری سے لہجے میں کہتا چولے کے سامنے سے ہٹ گیا۔ شہربانو کو اس کا انداز بالکل اچھا نہیں لگا۔ وہ کوئی اس کی ذاتی ملازمہ نہیں تھی کہ اتنی رات گئے اس کی خدمت کرتی لیکن جب تک وہ کوئی جواب سوچتی۔ وہ بڑے پرسکون انداز میں ڈائننگ ٹیبل پر جا بیٹھا۔ کچھ لمحے کے لیے خاموشی چھائی رہی۔شہربانو نے اپنے اور روحمہ کے لیے بھی کافی کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے کتیلی میں کچھ پانی بڑھادیا۔

’’کوئی اور بھی جاگ رہا ہے۔‘‘ اسے تیسرا مگ دھوتے دیکھ کر اس نے یونہی پوچھا جسے سن کر بے ساختہ شہربانو کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this