Sign in to follow this  
Play_Boy007

تاریخ کا آئینہ

Recommended Posts

غیاث الدین بلبن،سلطان ناصر الدین محمود کا خسر ھونے کے ساتھ ساتھ وزارت عظمی کے عہدے پر بھی فائز تھا۔بلبن کو اس قدر اختیارات حآصل تھے کہ بادشاہ وقت اس کے سامنے کٹھ پتلی بن کر رہ گیا تھا۔

ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا۔بلبن قلعے میں گھوڑے پر سوار ھو کر باہرکو جانے والا تھا۔وہیں قریب ہی سلطان ناصر الدین محمود اور بلبن کے بچے کہیل ریے تھے۔اچانک محمود کے بچے بلبن کے بچوں سے کہنے لگے۔

ہمارے والد بادشاہ ہیں اور تمہارے والد سے زیادہ طاقت کے مالک ہیں۔

جوابا بلبن کے بچوں نے کہا۔ہمارے والد وزیراعظم ہیں۔اور تمہارے باپ سے زیادہ اختیارات رکھتے ہیں۔تھوڑی سی تکرار کے بعد دونوں کے بچوں میں شرط لگ گئی۔ناصر الدین محمود کے بچوں نے بلبن کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا۔

ہم تمہارے والد کو آواز دیتے ہیں۔اگر وہ ہمارے پاس آکر گھوڑے سے اتر کر یہ لکڑی اٹھا کر ہمیں دے دیں گےتو تم ہار جاو گے۔

بلبن کے بچے مان گئے۔چنانچہ محمود کے ایک بچے نے بلبن کو آواز دی۔اس نے فورا گھوڑے کی باگ موڑی اور بچوں کے قریب آگیا۔شرط کے مطابق محمود کے بچے نے بلبن سے لکڑی اٹھانے کے لیے کہا۔بلبن گھوڑے سے اترا اور بچے کو لکڑی دے کر واپس چلا گیا۔بلبن کا بچہ شرط ہار گیا اور انتہائی شکستگی کے عالم میں گھر واپس آیا۔بلبن نے بچے کو خاموش دیکھ کر اداسی کی وجہ پوچھی۔بچے نے سارا واقعہ سنا دیا۔بلبن ناصر الدین کے بچوں کی ذہنیت کو دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا اور ساری رات جاگتا رہا۔انتہائی غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے خود بادشاہ بن جانا چاہیے۔چنانچہ بلبن نے ناصر الدین محمود کو زہر دلوا دیا اور اس طرح تخت ہندوستان پر جلوہ افروز ہوا کہ اب پورے ملک میں اسے کوئی حکم دینے والا موجود نہیں تھا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this