Sign in to follow this  
Guru Samrat

آمد بہار

Recommended Posts

آمد بہار

قانون قدرت کی پاسداری پر مشتمل ایک خوب صورت تحریر

کسی دور پار کے پھلوں اور پھولوں سے مہکتے دیس کے کسی ہرے بھرے باغ کے ایک درخت کی ٹہنی پر ایک چڑا اکیلا اور اداس بیٹھا تھا۔ وہ ابھی ابھی اپنے گھونسلے سے رخصت کردیا گیا تھا۔ جہاں اس کی اماں چڑی اور چار چھوٹے چھوٹے چڑے بچے رہتے تھے۔ وہ ان سب میں بڑا تھا اور اماں چڑی کا سب سے لاڈلا بچہ تھا۔

اسے مکمل پرواز سیکھے کچھ عرصہ ہوگیا تھا۔ پہلے ایک ہفتے میں ہی وہ سارا باغ دیکھ چکا تھا۔ پہلے چند روز اماں چڑی اس کے ساتھ ساتھ سارے باغ میں گھومی تھی تاکہ وہ صحیح سلامت اپنے گھونسلے تک پہنچ سکے اور اس کا راستہ بھول نہ جائے۔ جب اماں چڑی نے یہ جانچ لیا کہ اب اس کا چڑا بیٹا بڑا ہوچکا ہے اور اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے تو وہ بہت خوش ہوئی۔ چڑے بیٹے کو دعائیں دی اور کہا اب تم جا کر اپنی زندگی بناؤ اور اپنے لئے ایک پیاری سی چڑی بیوی ڈھونڈو۔ چڑا اپنی اماں اور بھائی بہنوں کو چھوڑنے پر بہت اداس تھا۔ وہ گھونسلے سے سب کی دعاوں کے ساتھ رخصت ہوگیا اور دور پار کے ایک باغ کے پھلوں سے بھرے درخت پر بسیرا کرنا شروع کیا۔ اپنے لئے ایک عارضی گھونسلہ تیار کیا تاکہ سردی دھوپ اور بارش سے بچا جاسکے۔ اس کے بعد اپنے دانے پانی کا انتظام کر کے آگے کے لائحے عمل کے بارے میں سوچنے لگا۔

چڑیوں کا یہ قبیلہ رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے چڑے اور چڑیوں پر مشتمل تھا۔ مگر اس قبیلے کا رواج دوسرے قبیلوں سے بہت مختلف تھا۔ یہ چڑے چھوٹے تو تھے مگر نہایت محنت کش اور بہادر بھی تھے۔ چڑے نے اپنی اماں کو گھونسلہ بناتے اور وقتا فوقتا اس کی مرمت کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اماں چڑی نے بہت محنت سے اسے پال پوس کر جوان کیا تھا۔ صبح سویرے وہ دانے کی تلاش میں روانہ ہوجاتی اور دوپہر ڈھلے چونچ بھر دانہ یا ماس وغیرہ لے آتی۔ جب بچے سیر ہوجاتے تو پانی کی تلاش میں روانہ ہوجاتی۔ وہ کبھی خالی نہ بیٹھتی۔ چوں چوں کرتی جاتی اور پر پھیلا کر کام نمٹاتی جاتی۔ کبھی تنکوں کا ڈھیر تو کبھی انہیں گرم رکھنے کے لئے چیتھڑے اور بالوں کے گھچے، کبھی روئی تو کبھی کوئے کا پر۔ کبھی وہ بارش میں بھیگتی ہوئی مرمت کر رہی ہوتی تو کبھی تیز دھوپ میں پانی کی تلاش۔ وہ اماں کو اتنی محنت کرتے دیکھ کر حیران رہ جاتا۔ چڑے بچے ہر وقت بھوک بھوک شور مچاتے تو اماں پھر اڑ کر دانے کے لئے روانہ۔ مگر اماں کی نرم نرم روؤں سے بھری پیشانی پر کبھی ایک شکن تک نہ آتی۔ اس کی حمد وثناء کرتی چونچ پر شکوے کا ایک لفظ نہ نکلتا۔ وہ بچوں کو کھلا کر خوش ہوتی۔ جھٹ پٹے کے وقت انہیں اپنے نرم گرم پروں کے سائے میں چھپالیتی اور وہ سب مزے سے ممتا کی آغوش میں بےخبر سوجاتے۔ مگر اماں چڑی کبھی پوری نیند سے نہ سوتی ایک آنکھ اور ایک کان ہمیشہ کھلا ہی رہتا۔ ان دیکھے خطروں سے چوکنا رہتی۔ وہ اپنی جان مار کر اپنے بچوں کی پرورش کا سامان کر رہی تھی۔

چڑے کو نہیں یاد کہ اس نے کبھی اپنے ابے چڑے کو دیکھا ہو۔ اسے بہت دھندلا سا یاد تھا۔ جب ابا چڑا اماں سے رخصت لے کر چلا گیا دور دیس۔ یہ کہہ کر کہ میرے ذمے قدرت نے جو کام رکھا تھا وہ میں نے پورا کیا۔ اب میں یہاں نہیں ٹھہر سکتا اب تم ان بچوں کی اماں بھی ہو اور ابا بھی۔ اماں چڑی اس دن بہت اداس تھی۔ مگر یہ قدرت کا قانون تھا اور وہ اس قانون کی ہر حالت میں پابند تھی اور یہ چڑیوں کی بقا کے لئے ضروری بھی تھا
۔

دوسرے دن صبح سویرے چڑے نے باغ کے اس حصے کی سیر کی جو سب سے خوبصورت تھا اور جہاں گھونسلہ آباد کرنے اور دانہ پانی کی فراہمی بھی آسان تھی۔ پہلے اس نے یہ جائزہ لیا کہ یہاں سے کنواری الہڑ اور شریر چڑیوں کے غول کا گزر ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد اس نے گھونسلہ بنانا شروع کیا۔ باغ کے کونے کونے میں اڑ کر دل کو لگتے تنکے، باریک ٹہنیاں اور رنگ برنگی پھولوں کی پتیاں اکٹھی کیں۔ تنکوں کو آپس میں گوندھا اور چکنے گارے سے جوڑا۔ باریک ٹہنیوں سے گھونسلے کا فرش بنا کر اسے شاخ سے مضبوطی سے باندھا۔ دو دن کی محنت کے بعد پیالہ نما گھونسلہ تیار ہوا۔ گھونسلے کو مزید مضبوط کرنے اور تیز ہواؤں کی زد سے بچانے کے لئے دو ٹہنی والی شاخ جس پر گھونسلہ بنایا گیا تھا، اس کے پیندے سے لمبی لمبی نرم گھاس کی ڈلیوں کو گزار کر رسی کی طرح آپس میں گوندھا اور اس کے سرے پر مزید گندھے سوکھے گھاس پھوس کا گولا سا بنا کر لٹکا دیا تاکہ اس کے وزن سے گھونسلہ اپنی جگہ مضبوطی سے جما رہے۔ گھونسلے کے اندرونی حصے کو آرام دہ اور گرم رکھنے کے لئے مردار پرندوں کے بالوں اور پروں سے سجایا۔ بیرونی حصے کو پھولوں کی پتیوں سے آراستہ کیا۔ اس کے بعد چڑیوں کے غول کا انتظار کرنے لگا۔

جب اس نے محسوس کیا کہ چڑیوں کے گزرنے کا وقت ہورہا ہے تو اپنے آپ کو تیار کیا اور اپنی سریلی آواز میں چہکنے اور لہکنے لگا۔ وہ اپنے گھونسلے کے آس پاس اڑ اڑ کر چہکتا جاتا اور متلاشی نظریں ادھر ادھر دوڑاتا۔ کچھ دیر بعد افق پر پرواز کرتی چڑیوں کے غول میں سے دو چڑیاں اڑ کر قریبی شاخ پر آکر بیٹھ گئیں۔ دونوں بڑے شوق سے گھونسلے اور چڑے کا جائزہ لینے لگیں۔ ایک چڑی بہت موٹی تازی اور صحت مند تھی اس کے رنگین پر سورج کی روشنی میں چمک رہے تھے۔ گلابی پاؤں ہری شاخ پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ چھوٹی سی مڑی ہوئی لال چونچ چڑے کو دیکھ کر لرز رہی تھی۔ اس کی گول آنکھوں میں چڑے کے لئے پسندیدگی کے رنگ تھے اور ساتھ ساتھ اپنی حسن و جوانی کا غرور بھی موجود تھا۔

چڑے کو وہ پہلی نظر میں ہی بھاگئی۔ وہ کچھ دیر اس کے آس پاس چہکتا اور اڑتا رہا۔ اپنا گول مٹول مضبوط جسم اور پھیلے ہوئے بھرے بھرے پر دکھاتا رہا۔ چڑی دلچسپی سے اپنا سنہری سر اٹھائے چڑے کا رقص دیکھتی رہی۔ دوسری چڑی بھی اتنی ہی دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ جب چڑے کو یقین ہوگیا کہ چڑی نے اسے پسند کرلیا ہے تو وہ اڑ کر اس کے قریب بیٹھ گیا۔ چڑی بھی چڑے کے قریب ہوکر چہکنے لگی۔ یہ بات دوسری چڑی کو پسند نہ آئی اور لگی اپنی سکھی سے چونچ لڑانے۔ اتنے میں چڑا بھی اس لڑائی میں شامل ہوا۔ سہ پہر کے سکوت میں باغ کے اس حصے میں چوں چوں کی آوازیں بلند ہوئیں اور رنگین پروں کے پھڑپھڑانے سے دوسرے پرندے متوجہ ہونے لگے۔ کچھ ہی دیر میں دونوں خوبرو اور صحت مند جوڑے نے مل کر دوسری چڑیا کو بھگا دیا۔

چڑا بہت خوش تھا کہ پہلی منزل پر کامیابی ہوئی۔ اب دوسرا اہم مرحلہ چڑی کے حضور اپنے آشیانے کی قبولیت کا تھا۔ وہ اپنے گھونسلے کے آس پاس پھدکتا ہوا چڑی کو متوجہ کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد چڑی نے گھونسلے کے ارد گرد اڑ کر اس کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس کی کچھ دیر پہلے کی پسندیدگی بتدریج ناپسندیدگی میں بدلی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے غصے میں، اور وہ لگی چڑے سے چونچ لڑانے۔ اسے یہ گھونسلہ بالکل پسند نہ آیا۔ کچھ دیر چڑا مری مری چوں چوں کرتا گڑگڑاتا رہا مگر چڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ شام کے سائے لمبے ہونے لگے تو چڑے پر مایوسی کا غبار بڑھا۔ چڑی تھک ہار کر اپنی راہ ہولی اور چڑا اپنے گھونسلے میں اداسی سے پر لٹکائے سو رہا۔

سویرے سورج کے ابھرتے ہی چڑے نے ایک نئی تازگی کے ساتھ نیا گھونسلہ بنانا شروع کیا۔ اس بار اس کا ارادہ بڑا اور کشادہ گھونسلہ بنانے کا تھا تاکہ چڑی زیادہ سے زیادہ انڈے دے سکے۔ اس نے اسی درخت کی دوسری بڑی اور مضبوط دوٹہنی والی شاخ کا انتخاب کیا جو نسبتاَ پتوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور ممکنہ خطروں سے محفوظ تھی۔ اس بار چڑے نے گیلے اور سوکھے دونوں طرح کے تنکوں کا انتخاب کیا۔ ٹہنیوں کا فرش بنانے کے بجائے گارے کا فرش بنایا۔ سوکھی ٹہنیوں کی دیواریں بھی اونچی رکھیں اور بیچ بیچ میں خالی جگہیں گھاس پھوس سے بھر دیں۔ دیواروں کے چاروں طرف سے گیلی نرم لمبی گھاس کو لٹکایا پھر ان کے نیچے تک لٹکتے سروں کو آپس میں چوٹی کی طرح گوندھ کر کناروں کو سوکھے گھاس کے گولے سے جوڑ کر لٹکا دیا۔ گارے کے فرش کو بالوں پروں، تنکوں سے سجایا کہیں کہیں پھول کی پتیاں بھی خوبصورتی کے لئے لگادیں۔ یہ کافی محنت طلب کام تھا اس میں کئی دن لگ گئے۔ اس دوران صرف ایک دفعہ ہی چڑی اس کام کا جائزہ لینے اس طرف آئی۔ چڑی کو واپس آتا دیکھ کر چڑے کے حوصلے بھی بلند ہوئے ۔ وہ نہایت دلجمعی سے اپنے گھونسلے کو مکمل کرنے لگا۔

جس دن گھونسلہ مکمل ہوا چڑا بہت خوش تھا اور بار بار اتنی محنت سے بنائے گھونسلے کو گھوم گھوم کر سراہ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی۔ فصل گل عروج پر تھا۔ بہار کا سا سماں تھا۔ ہر طرف رنگ اور خوشبوئیں بکھری پڑی تھیں۔ یہ چڑے کی جوانی کا پہلا موسم تھا۔ اور وہ قانون قدرت کے مطابق اس موسم میں اپنی پہلی نسل کو وجود میں لانے کا پابند تھا۔ وہ اس موسم کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنا مقررہ کام ختم کرنا چاہتا تھا۔ ساتھ میں وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ان کی زندگیاں ہمیشہ خطروں کے دامن سے لپٹی ہوتی ہیں۔ وہ لقمہ اجل بننے سے پہلے اس دھرتی پر اپنے نشان چھوڑنا چاہتا تھا۔ یہ ہی اس کے قبیلے اور نسل کی بقا کی ضمانت تھا اور یہی قدرت سے کیا گیا وعدہ بھی۔

بارش کے بعد گھونسلے کو گیلا اور ٹپکتا دیکھ کر چڑی نے جب دوسری بار بھی گھونسلے کی قبولیت سے انکار کردیا۔ تو چڑا واقعی بڑا مایوس ہوا۔ موسم نکلا جارہا تھا۔ قدرت سے وعدہ وفائی کا وقت عنقریب ختم ہونے والا تھا مگر وہ کچھ ثمر دینے سے اب تک محروم تھا۔ وہ مایوسی سے اڑتا دوسرے درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھ گیا۔ کچھ دور اسے اپنے قبیلے کا ہی دوسرا نسبتاؐ بوڑھا چڑا نظر آیا۔ وہ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ اڑ کر اس کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ بوڑھے چڑے کی گہری زمانہ شناس آنکھوں میں بہت سی کہانیاں رقم تھیں۔ وہ ان کہانیوں کو پڑھتا رہا اور اپنی زندگی سے جوڑتا رہا۔

دوسرے دن پھر سے اس نے گھونسلہ بنانا شروع کیا۔ اب کہ گھونسلہ بننے میں ایک ہفتہ لگ گیا۔ اس بار اس نے نہ صرف گھونسلے کو چھت سے محفوظ کیا بلکہ آنے جانے کے لئے راہداری بھی بناڈالی۔ اس دوران چڑی دو بار چڑے سے ملنے آئی۔ ہر بار چڑی کی آنکھوں میں چڑے کے لئے محبت اور اس کی محنت کرنے پر احترام دیکھ کر چڑا نئے جذبے اور لگن سے اپنے کام میں جت جاتا۔ اس کا دل کہتا تھا کہ اس دفعہ کامیابی ہوگی۔ اس نے اپنی محنت سے چڑی کا دل جیت لیا ہے۔ یہ گھونسلہ اسے چڑی سے ملانے کا ذریعہ بنے گا۔ وہ اس پر مزید محنت کرنے لگا۔ اب کی بار باغ سے باہر آبادی کا چکر بھی لگاتا۔ وہ آبادی سے باہر بنے کچے راستے کے کنارے پڑے کوڑے کرکٹ سے اچھی اچھی چیزیں ڈھونڈ لاتا۔ رنگین کترن، گتے کے ٹکڑے، کاغذ وغیرہ سے گھونسلے کو مزید سجاتا۔ اب کہ واقعی گھونسلہ شاندار بنا تھا۔ اور چڑے کی محنت و لگن گھونسلے کی مضبوطی پائیداری اور خوبصورتی سے نظر آرہی تھی۔ شام گہری ہوچکی تھی۔ مگر چڑی اب تک نہیں آئی تھی۔ وہ کافی دیر انتظار کرتا رہا اور ہولتا رہا کہیں چڑی کو اجل نے نہ جالیا ہو۔ آخر تھک ہار کر مزید انتظار صبح تک کے لئے ملتوی کر کے سو رہا۔

اگلی صبح اس کی آنکھ چڑی کی چوں چوں سے کھلی۔ وہ خوشی سے پھدک پھدک کر اڑ رہی تھی۔ اور لہکتی جھومتی، گھونسلے کے ارد گرد گھومتی اور چہچہاتی اپنی خوشی کا اظہار کرتی جارہی تھی۔ چڑے کے لئے یہ روشن چمکیلی صبح نیا دن نئی امید لے کر طلوع ہوئی تھی۔ خوشی میں اس کی چونچ سے بارگاہ ایزدی میں ایک حمد بلند ہوئی۔ چڑی کا اس نے گھونسلے کے اندر استقبال کیا۔ چڑی نے گھونسلے کا اندر سے جائزہ لینے کے بعد چڑے کو اپنے ساتھ آنے پر متوجہ کیا۔ چڑا ناسمجھی سے چڑی کے پیچھے اڑنے لگا۔ وہ اسے قریبی نسبتا چھوٹے درخت کی ایک صاف ستھری شاخ پر لے آئی۔ وہاں اس نے چڑے کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک سادہ سا گھونسلہ تیار کر دیا۔ چڑی اڑ کر قریبی شاخ کے ایک دوچکرمیں چند پتے توڑ کر لے آئی اور گھونسلے کو اس سے خوبصورتی سے چھپا دیا۔ اب دور، قریب یا اوپر سے دیکھنے پر کسی دشمن کو گھونسلے کی موجودگی کا اندازہ نہ ہوتا۔ چڑا کہیں کہیں چڑی کی مدد کے لئے پر پھیلاتا مگر چڑی مدد لینے سے صاف انکار کردیتی۔ جب وہ اپنا کام ختم کرچکی تو چڑے کے ساتھ اڑ کر ایک قریبی نالے سے دانہ پانی چگ کر دونوں واپس چڑی کے بنائے گھونسلے میں داخل ہوئے۔ اندر داخل ہوتے ہی چڑے کو اندازہ ہوا کہ واقعی یہ گھونسلہ کھلا کھلا ہوادار اور ممکنہ حد تک دشمن کی نگاہوں سے محفوظ ہے۔ چڑی نے کسی قسم کی سجاوٹ اور رنگ استعمال نہیں کئے تھے۔ صرف ٹہنیاں اور پتوں کا صاف ستھرا آپس میں گوندھا ہوا ڈھیر نظرآرہا تھا۔

اس دن چڑے اور چڑی نے اپنی نئی زندگی کی ابتداء ایک ساتھ کی۔ اب چڑا اکیلا نہیں تھا اس کی صبحیں اور شاموں میں چڑی اس کی ہم راہ تھی۔ جلد ہی چڑی نے چھے انڈے دیئے اور چڑے کا اس موسم میں قدرت سے کیا پیمان پورا ہوا۔ اب چڑی کا کام انڈے سینا تھا اور چڑے کا اپنے اور چڑی کے لئے دانے پانی کا انتظام کرنا تھا۔ صبح چڑا دانہ ڈھونڈنے کے لئے اڑا تو اس کا گزر اپنے سابقہ بنائے گھونسلے کے قریب سے ہوا۔ اس کے بنائے تینوں گھونسلوں پر اب کسی اور پرندوں کے جوڑوں کا بسر تھا۔ وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اپنے کاموں کی طرف روانہ ہوا۔ اسے اپنے محنت سے بنائے گھونسلے پر کسی اور پرندے کے تصرف کا دکھ تو تھا مگر دوسرے پرندوں کی طرح ان کی بھی سرشت میں قدرت کے قانون پر سوال کا مادہ ہی نہیں تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ چھوٹی جسامت کے باوجود خدا نے ان کی نسل میں دوسری تمام اقسام کی نسبت گھونسلہ بنانے کی کئی زیادہ صلاحیت رکھی ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کئی اقسام ایسی بھی ہیں جو کہ اس صلاحیت سے بالکل ہی نابلد ہے اور ہمیشہ دوسروں کے چھوڑے ہوئے گھونسلے میں اپنا گھر بناتے ہیں۔ لہذا قدرت نے چڑی کے ذریعے اس سے یہ کام بخوشی کروالیا تھا۔

کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ ایک روشن صبح چڑی اور چڑے کی چوں چوں میں مزید کئی چھوٹی باریک چہچہانے کے آوازیں شامل ہوگئیں۔ اس طرح اس موسم میں چڑا بھی اپنے حصے کا ثمر دینے میں کامیاب رہا۔ وہ دونوں مل کر بچوں کا خیال رکھتے۔ چڑی اسی طرح دانہ پانی کا بندوبست اور گھونسلے کی مرمت کرتی نظر آتی جس طرح اماں چڑی کیا کرتی تھی۔ وہ کبھی سوچتا اماں اور اس کے بھائی بہن کہاں ہوں گے۔ وہ اپنا گھر چھوڑنے کے بعد پھراس طرف کیوں واپس نہیں جاسکتا۔ لیکن اس بات کا جواب بھی نا پاتا۔

چند دنوں میں بچے اس حد تک بڑے ہوگئے کہ چڑی اب اکیلے ان کا خیال رکھ سکتی تھی تو وہ اپنے اندر سے آتی کئی روز کی صداؤں کے آگے سرنگوں ہوا۔ چڑی اور بچوں سے رخصت ہوتے وقت وہ جہاں اداس تھا وہاں خوش بھی تھا کہ جو وعدہ اس سے اپنی نسل کو آگے بڑھانے کا لیا گیا تھا اس نے اسے اپنی پوری ایمانداری سے نبھایا اور سرخ رو ہوا۔ اسے ابے چڑے کی رخصت یاد آئی۔ ابے کے بعد جس طرح اماں نے بھی اپنے حصے کا کام بخوبی نبھایا تھا چڑی بھی بالکل اسی طرح اپنی ذمہ داری نبھائے گی۔ وہ سب قدرت کی طرف سے بخشی ہوئی زندگی اور اس کے پہلے سے ودیعت کئے گئے تمام اصول کے اتنے پابند تھے کہ انہیں یہ جاننے کی بھی ضرورت نہ تھی کہ اگر ان میں تھوڑی ردوبدل کی گئی تو کس حد تک نقصان ہوسکتا ہے۔ صرف اتنا جانتے تھے کہ یہاں ان کی آمد و زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ موت کا پنجہ انہیں جالے اپنے عہد کی تکمیل کس طرح کی جاسکتی ہے۔ یہاں سے اڑ کر اسے واپس نہیں آنا تھا۔ آگے کی دوردراز منزل کی طرف بھی قدرت کی قیادت ہوگی اس کا اسے یقین تھا اور اگلے فصل گل میں اگر اجل سے بچا رہا تو پھر وہ ہوگا اور نیا گھونسلہ۔

ختم شد

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this