Sign in to follow this  
Guru Samrat

کیونکہ "میں ایک مرد ہوں"

Recommended Posts

کیونکہ "میں ایک مرد ہوں"

خواہش کرنا کسے اچھا نہیں لگتا۔۔۔،میں نہیں سمجھتا کے کسی دل میں آرزو،خواہش یا تمنا ناں ہو۔آج کل میرے دل میں بھی اک خواہش شدت سےہلکورے لے رہی ہے وہ الگ بات کے مر کے بھی میں اس آرزو کو پورا نہیں کر سکتا کیونکہ "میں ایک مرد ہوں"

میرا نہیں خیال کے دنیا میں کسے مرد کو اپنی جنس پے افسوس ہو گا لیکن میں ھالات اور زمانے کا اتنا ستایا ہوا ہوں کہ دل میں یہ خٰیال کنڈلی مارے بیٹھا ہے کہ کاش میں مرد نا ں ہوتا۔۔۔۔،اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کس قدر نا شکرا انسان ہوں۔۔"نہیں میں نا شکرا بالکل نہیں بلکہ دکھی انسان ہوں, کیونکہ میں ایک مرد ہوں۔۔۔۔۔،

میں ہمشہ سے اپنے مرد ہونے پے شاکی نہیں ہوں۔بلکہ یہ خیال تو میرے دل میں اس وقت آیا جب بالشت بھر کی لڑکی نے مجھے مرد ہونے کا طعنہ دیا۔

"آپ کا نام۔۔۔?"میرا ایف ایس سی میں پہلا دن تھا جب ایک تیکھی،کانفڈ ننٹ،اور جانے کیا کیا۔۔۔۔، لڑکی نے مجھ سے میرا نام پوچھا وہ بھی ہاتھ آگے کرتے ہوے۔۔۔میں شریف النفس انسان ہوں میں نے ہاتھ آگے بڑھانے کی بجائے اپنا نام بتایا۔"گرو سمراٹ۔۔۔"میرا نام سن کے اس نے قہقہ لگایا۔۔۔،بالکل مردوں کی کی طرح۔۔۔،تمھے کوئی مردوں والا نام نہیں ملا تھا۔۔۔،وہ ہنستے ہوئےلوٹ بھوٹ ہو رہی تھی۔پہلی بار مجھے اپنا نام برا لگا۔یہ میری مردانگی پر پھلا تازیانہ تھا جو کسی عورت نے لگایا بلکہ یوں کہو کے مجھے پہلی بار محسوس ہواکہ میرا نام مردوں والا نہیں پھر تو یہ سلسلہ چل سو چل نکلا۔۔۔یا یوں کہو میں محسوس زیادہ کرنے لگا۔۔۔۔ کہ میں ایک مرد ہوں۔۔۔

،

کون کہتا ہے روک ٹوک اور پابندیاں صرف عورت کے لیے ہوتی ہیں۔۔۔?،بہت ساری ناقابل نظر پابندیاں مردوں کے لیے بھی ہوتی ہیں۔حقوق نسواں کے نعرے تو ہر کوئی لگاتا ہے۔۔۔۔کوئی حقوق مرداں کے لیے آواز کیوں بلند نہیں کرتا مرد کو تکلیف کے اظہار کا حق نہیں صرف اس لیے کہ "وہ ایک مرد ہے"

میں آہینے کے آگے کھڑا بالوں کو نیا سٹائل دے رہا تھا آج کل مردوں کے لمبے بال فیشن میں ہیں۔میں نے بھی بری مشکلوں سے اپنے بالوں کو لمبا کیا۔۔۔،میں کھڑا اپنے بالوں کی پونی بنا رہا تھا جب آپی کمرے میں آئی۔۔۔،"یہ کیا تم ہر وقت عورتوں کی طرح آئینے کے سامنے کھڑے رہتے ہو۔۔۔۔،کوئی مردوں والا کام نہیں ہے تم میں۔۔۔۔?آپی کی جھاڑ نے مجھے آینے کے سامنے سے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔میں کھسیانا سا ہو کے مسکرانے لگا۔۔۔اور ابھی تک تم نے بال نہیں کٹوائے ۔۔،گرو تم میں عورتوں والی حرکتیں آتی جا رہی ہیں۔۔۔،ابھی جا کے بال کٹواوں ورنہ میں تمھاری حجامت کر دوں گی ۔۔۔،وہ مردوں کی طرح غصہ کرتے ہوئے بولیں۔میں جو اسی بات سے خائف تھا جی اچھا کہتا کمرے سے نکل گیا۔میں اپنی مرضی سے بال بھی نہیں رکھ سکتا۔کیونکہ میں ایک مرد ہوں۔۔۔،

"آج کیا بنا ہے ۔۔۔۔?"میں کچن کے دروازے میں کھڑا پوچھ رہا تھا۔۔۔،جنے کی دال۔۔۔۔،آپی نے توے پر روٹی ڈآلتے ہوے کیا۔۔۔،"کھانا دے دیں۔۔۔"میں کہہ کے پلٹ آیا۔چند منٹ بعد انھوں نے میرے سامنے گرم گرم روٹی اور تڑکالگی دال رکھی۔۔۔،"اچار بھی لا دیں۔۔۔"میں منہ میں پانی بھرتے ہوے مزے سے بولا"کبھی کسی مرد کو اچار کھاتے دیکھا ہے۔۔۔،وہ حیرانگی سےمیری جانب دیکھتے ہوئے بولیں۔مجھے لگا میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہے۔آپی حیران واپس جا چکی تھیں میں نے سر جھکا کے بے دلی سے گرم گرم روٹی کا نوالہ بنا دال کے منہ میں ڈالا جس نے میرا حلق تک جلا دیا۔میں چپ چاپ بنا اچار کےدال کھانے لگا۔کیونکہ میں ایک مرد ہوں۔۔۔،

"یہ اتنا کپڑوں کا ڈھیر کیوں لگا رکھا ہے۔۔?‘‘ امی میرے کمرے میں ائی تو بیڈ پر کپڑوں کا ڈھیڑ دیکھ کے کہا۔۔۔۔اماں یہ سارے آوٹ آف فیشن ہو چکے ہیں۔۔،اب ڈبل شیڈ کی جینز کا فیشن نہیں رہا۔۔۔ڈبل کف والی شرٹ نہیں چلتی اب۔۔،بلیک کلر کی شلوار ان نہیں اب۔۔۔۔"میں ایک ایک کپڑے کا نقص بتانے لگا۔"تیرا دماغ چل گیا ہے۔۔،اچھے بھلے نئے کپڑے ردی کر دئیے ہیں۔۔۔۔مردوں کو کیا لگے فیشن سے۔۔۔،مرد جو بھی کپڑآ پہنے وہی فیشن۔۔،رکھ ان کو الماری میں۔۔،اماں نے میری عقل پر ماتم کیا۔اور کپڑے دوبارہ الماری میں سیٹ کرنے لگی۔۔میں چپ چاپ انکو کپڑے ہینگ کرتے دیکھنے لگا۔۔،مجھے فیشن ایبل کپڑے پہننے کا حق نہیں۔۔۔،کیونکہ میں ایک مرد ہوں۔۔۔،ا

میں نے اپنی زندگی میں اپنی بہت سی خواہشات کو صرف اک اس لفظ کی خاطر کھویا ہے۔

میں تیسری اور جب چوتھی بار بھی انٹریو میں ناکام ہوا۔تو مایوسی میرے انگ انگ سے چھلکنے لگی تھی۔میرا شدت سے دل چاہا کہ میں ماں کی نرم گرم آغوش میں سر رکھ کے اپنی ناکامی کا دکھ آنسوںمیں بہا دوں اور میری ماں میرے بال سلہاتے ہوے مجھے تسلی دیتی رہے یہا ں تک کے میں ہردکھ سے آزاد ہو جاؤں۔" کیوں عورتوں کی طرح منہ پھلا رکھا ہے۔لیکن میری اس حسرت کو اس جملے نے کچل دیا۔اتنی زور سے پھانسی دی کہ آہ بھی ناں نکلی۔"نوکری نہیں ملی۔۔۔"میں مایوسی کی انتہاوں پر کھڑا تھا۔"تو اس میں پریشانی والی کونسی بات ہے۔۔،مرد بن مرد۔۔۔،ہر بات پر دل چھوٹا کرنا مردوں کو زیب نہیں دیتا۔۔"ماں نے غم بانٹنے کی بجائےمردانگی کا جوش دلایا۔اور میں ماں کی گود کی خواہش چھوڑ کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔،مجھے مایوس ہونے کا حق نہیں کیونکہ میں ایک مرد ہوں

آپا کی رحصتی پر سبھی رو رہے تھے ان کو گلے لاگتے ہوے میرے آنسو بھی نکل پڑے۔"۔لو مرد ہو کے کیسے عورتوں کی طرح ٹسوے بہا رہا ہے۔۔۔"کسے نے اپنے لفظوں کی کاٹ سے میڑے آنسو روک دیئے۔یعنی مجھے ماں جائی کی جدائی بھی بھی رونے کا حق نہیں صرف اس لیے کہ میں ایک مرد ہوں

دن ،مہینے ،سال گزر گئے مجھے یہ لفظ سنتے ہوئے کہ میں ایک مرد ہون۔مجھے میری عزیز از جان محبوبہ نے ٹھکرا دیا میں اس کی جدائی اور بے وفائی پے ماتم بھی ناں کر سکا،صرف اس لیے کہ مرد کو عورت کی کمی نہیں۔۔۔وہ مرد ہے۔اور مردوں کو دل ٹوٹنے پر آہ کا بھی حق نہیں۔

برسوں سےیہ جملہ اس قدر شدت سے میری گھٹی میں رچھ بس گیا ہے کہ میں اندر تک ڈھیٹ اور بے حس ہو گیا ہوں۔اتنا سخت جان کے کوئی چھوڑ کے بھی چلا جائے تو دکھ نہیں ہوتا۔مرد کو اتنا سخت جان ہونا چاہیے کہ اپنی بربادی پر بھی صرف اس لیے ماتم ناں کرے کہ وہ ایک مرد ہے۔،اور مرد اپنا دھک باہر نکالے تو یہ اس کی مردانگی پے کاری صرب ہے۔اس کی مردانگی کی توہین ہے۔ہونی مرد ناں ہو گیا۔پتھر کا بت ہو گیا،بظاہر اتنا مضبوط کہ کاری ضرب سے بھی پاش پاش ناں ہو اور اندر سے اتنا کھوکھلا کہ ریت کی بھربھری دیوار۔۔۔۔،

بتائیے قارئیں آپ انصاف کریں۔۔میرے سامنے میرے نومولودبچے اور بیوی کا جنازہ پڑا ہے۔لیکن مجھے صبر اور ہمت کی تلیقین کی جا رہی ہے مجھے ایک بھی آنسو بیانے کی اجازت نہیں۔۔۔کیونکہ میں ایک مرد ہوں۔آج مجھے معلوم ہوا کہ نوے فیصد مرد دل کی بیماریوں میں مبتلا کیوں ہوتے ہیں۔،صرف اس لیے کہ ان کو دل کے درد کو بیان کرنے کا حق نہیں۔۔۔،انھیں اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے کندھے کا سہرا نہیں۔۔،لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ میں ناں رویا تو میرا دل غم اور دکھ کی شدت سے پھٹ جائے گا،آج میں دھاڑین مار مار کے رونا چاہتا ہوں ۔اتنے برسوب کے سارے آنسو نکال دینا چاہتا ہوں۔اس دم چھلے کو ہٹا کر کہ میں ایک مرد ہوں۔۔،اس سے پہلے کہ میں اپنی خواہش کی تکیل کرتا۔۔،میرا سالا میرے گلے سے لگا کہہ رہا تھا"بھائی جان صبر کریں آپ نے ہمت ہار دی تو ماں اور خالہ جان{میری ماں}کو کون سنبھالے گا۔اس نے چپکے سے میرے کان میں یہ احساس ڈال دیا کہ مجھے رعنے کا حق نہیں۔میں نے حسرت اور بیچارگی سے اپنی ماں اور سان کو دیکھا۔۔،جو جنازے کے پاس بیٹھی بین ڈال ڈال کے رو رہی تھی۔اس دم مجھے ان کے عورت ہونے پر فخر ہوا۔اور خود کے مرد ہونے پر افسوس

اپنی بیوی کے مرنے کی چار ماہ بعد میں نے دوسری شادی کر لی۔اپنے دو سالہ بیٹے انس کی خاطر ۔۔۔،جو میری بیوی مجھے سونپ گئی تھی۔۔۔میں اس کی تنہا پرورش نہیں کر سکتا تھا۔۔۔،ایک ماں جائی تھی جو اپنے گھر کی ہے اور ماں اس عمر میں چے نہیں سنبھال سکتی اور مجھے اور بھی کام ہیں کیونہ میں ایک مرد ہوں۔۔۔،

میں نے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھا ہے۔۔،میرا انس پورا جوان مرد بن چکا ہے۔۔،وہ اکسر مجھ سے ایسی ایسے فرمائشیں کرتا ہے جن سے میں صرف اپنی بزدلی اور اس ظعنے کی وجہ سے محروم رہا کہ میں ایک مرد ہون۔۔۔۔،ڈیڈ چلیں آج گھول گپے کھانے چلتے ہیں۔۔۔،انس کی انوکھی فرمائیش حاضر میں مسکرا دیا۔میں نے آج تک گھول گپوں کا نام بھی نہیں لیا ۔۔۔،"تم میں ساری عادتیں اور شوق عورتوں والے کیوں ہیں۔۔۔"بیوی کو اکثر اس کی ایسی عادتیں کھلتی ہیں۔۔۔کیوں کیا مرد گھول گپے نہیں کھا سکتا۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں تو کوئی ریزن ۔۔۔"وہ وہ گرو سمراٹ نہیں ہے،انس سمراٹ ہے جو باقاعدہ جرح کرتا۔بیوی بڑبڑآتے ہوئےکمرے سے غائب ہو گئی۔وہ ہنستے ہوئے مجھ سے لپٹ گیا۔۔۔"کیونکہ ہم مرد ہیں۔۔۔"ہم دونوں کا مشترکہ قہقہ کمرے کے درودیوار ہلا رہا تھا۔۔۔برسوں کے اس طعنے نے پہلی بار مجھے لطف دیا تھ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this