Sign in to follow this  
DR KHAN

اپنے نونہالوں کی حفاظت کیجئے از ڈاکٹر فیصل

Recommended Posts

اپنے نونہالوں کی حفاظت کیجیے۔

یہ تھریڈ میں نے بالخصوص ان حضرات کے لیے بنائی ہے،جو حال یا مستقبل قریب میں صاحب اولاد ہوں گے۔

میں کچھ نقاط یہاں بیان کروں گا،جنہیں ہم عام حالات میں نظرانداز کر جاتے ہیں،مگر وہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

وقت

سب سے پہلا نقطہ ہے وقت۔اپنے بچوں کو وقت دیں۔اگر آپ کا شیڈول بہت مصروف ہے تو ہفتے میں کم از کم ایک بار بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ اس دوران ان کی جسمانی اور ذہنی نشونما کا جائزہ لیں۔ان کا مقابلہ اس عمر کے دوسرے بچوں سے کریں،تاکہ اگر بچے کسی بھی حوالے سے مختلف ہیں تو یہ فرق جلد ہی نظر میں آ جائے۔مثال کے طور پر اگر بچہ ذہین ہے مگر محنتی نہیں ،تو بروقت اس مسلئے کا حل تلاش کریں۔اگر بچہ مناسب خوراک نہیں لے رہا،یا لے رہا ہے مگر گروتھ کم ہے تو فوری طور پر اس معاملے پر توجہ دیں۔

اصلاح

بچوں کی کسی غلطی کو نظرانداز نہ کریں۔سختی،نرمی یا ناصحانہ انداز جو بھی وقت کی ضرورت ہو،اپنائیں اور غلطی کی اصلاح کریں۔چوری،جھوٹ،مارپیٹ،بدکلامی،گالی گلوچ یہ سب سختی اورتوجہ سے ڈیل کریں۔

جنریشن گیپ

بچوں کے ساتھ ایک اچھا دوستانہ ماحول بنائیں،جس میں ان کو سختی کے ساتھ ساتھ پیار بھی دیں۔انھیں یہ احساس دلائیں کہ اچھے کام پر ان پر محبت کی بارش ہوگی تو غلطی پر سخت رویہ اپنایا جائے گا۔

کھیل کود

بچوں کا تجزیہ کریں ،ان کے کھیل کا مطالعہ کریں۔ایک دوست جس طرح گھر میں وقت گزارتے تھے،ان کے بچے کھیل میں ویسا ہی کرتے۔ایک گھر کے بچے ٹی وی کے ڈرامے کی کاپی پر کھیل کھیلتے تھے۔اس صورت میں آپ دیکھیں کہ کیا ان کا کھیل صحتمندانہ ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو کوئی ایسا پلیٹ فارم تیار کریں کہ بچے اچھے کھیل کی طرف راغب ہوں۔

خواص

بچوں میں معافی ،درگزر،عدل،حب الوطنی،ایمانداری اور دوستانہ پن آپ ہی پیدا کر سکتے ہیں۔بچوں کے سامنے نوکروں ملازموں اور دیگر لوگوں سے تہذیب سے بات کریں۔انھیں بار بار یہ باور کروائیں کہ ایمانداری،سچائی،حب الوطنی کیسی اچھی چیزیں ہیں۔ان کے سامنے ملک وقوم کا ذکر اچھے الفاظ میں کریں۔ملکی رہنما کرام کا ذکر احترام سے کریں۔قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عزت اور تکریم سے یاد کریں۔

ایک دوست کا ایک بار ٹریفک میں چالان ہو گیا،انھوں نے بچوں کے سامنے بےچون وچرا چالان بھر دیا اور بعد میں بچوں پر یہ باور بھی کیا کہ غلطی انہی کی تھی،پولیس مین نے چالان کر کے ملکی فریضہ انجام دیا۔

خود مختاری

بچوں کو ان کی عمر کے مطابق خود مختاری دیں۔جیسے اگرانھیں کہیں کچھ خریدنا ہے تو خریداری ان پر چھوڑیں۔ جو چیز وہ پسند کریں،اس کے فوائد نقصانات،مالیت اور خرچ کی حدود اسے سمجھائیں اور اگر آپ کے خیال میں کوئی بہتر چیز ہے تو اسے وہ دیکھا کر دونوں کا مقابلہ کر کے اسے سمجھائیں۔دھیرے دھیرے وہ خود ہی بہتر پسند کے مالک ہو جائیں گے۔

تعلیم

بچوں کی تعلیم وہ نہیں جو وہ کسی ادارے میں سیکھتا ہے بلکہ وہ ہے جو آپ اسے دیتے ہیں۔بچے سے جانیں کہ سکول میں کیا کیا ہوا؟اگر کوئی غلط بات یا رویہ اس نے دیکھا یا سیکھا ہے،اسے پیار سے سمجھائیں کہ ایسا کرنا غلط ہے۔بچے کی کارکردگی ہمیشہ دیکھتے رہیں،کسی ایسے بچے سے بچے کا مقابلہ نہ کریں جو اچھی کارکردگی دکھاتا ہو۔اس سےبچے میں حسد پیدا ہوتا ہے۔آپ اپنے بچے کو محنت سکھائیں اور ساتھ میں یہ کہ اگر کوئی آگے ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے کیونکہ اس کی محنت زیادہ تھی۔

ملکیت

بچوں کو ملکیتی حقوق سمجھائیں۔انھیں بتائیں کہ ایک چیز اگر آپ کی ملکیت ہے تو اس پر صرف آپ کا حق ہے۔اسی طرح کسی دوسرے کی ملکیت صرف اسی کی ہے۔کسی کی چیز لینا یا اٹھانا سخت غلط ہے۔بچے کے پاس اگر ایسی اشیا ملتی ہیں جو اس کی نہیں تو شدید ردعمل ظاہر کریں۔ اس کے لیے اس کے اساتذہ کی بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

مالی حیثیت

بچوں پر اپنی مالی حیثیت واضع کریں۔انھیں اس احساس میں مبتلا نہ ہو نے دیں کہ پیسے کے بل پر انسان کی عزت ہے۔بچوں کو اپنے والدین کی معاشی حالت پر کوئی ندامت یا شرم نہیں ہونی چاہیئے۔

شکل وصورت

بچے شروع ہی سے شکل و شباہت کو اہمیت دیتے ہیں۔انھیں نا صرف اپنی بلکہ دوسروں کی بھی ظاہری خوبصورتی کو چھوڑ کر دیکھنے کا عادی بنائیں۔

نگرانی

بچوں پر پوری نگرانی کریں۔اس میں ان کے دوست احباب ،مشاغل،سیل فون،مطالعاتی ذوق،کمپیوٹر سب شامل ہیں۔کبھی کبھار اچانک ہی بچوں کی ذاتی چیزوں کو چیک کریں تاکہ کوئی بھی قابل اعتراض بات نظر میں آ جائے۔بچوں کے دوستوں سے ملیں،انھیں پرکھیں ،ان کےوالدین سے میں تاکہ گھر اور ماحول کا اندازہ ہو سکے۔

جنس مخالف

بڑھتے بچوں میں مخالف جنس میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔بچوں کی مخالف جنس میں دلچسپی کی نوعیت کا جائزہ لیں اور ایک حد سے زیادہ قریبی کبھی نہ ہونے دیں۔

کزن اور دیگر رشتہ دار کسی صورت بھی قابل اعتبار نہیں ہوتے۔بچوں کو ان کے ساتھ صرف اپنی نگرانی ہی میں مکس اپ ہونے دیں۔

کزن،ٹیچر،ملازمین اور دیگر کوئی بھی غیرمتعلقہ فرد بچوں کے ساتھ مکمل تنہائی میں کبھی کسی صورت میں نہ ہو۔

ٹیچرز چنتے وقت کوشش کریں کہ ٹیچر اسی جنس سے تعلق رکھتا ہو،اور پڑھائی کے وقت بار بار چکر لگا کر اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔

سکول، کالجز اور اکیڈمیز کا ماحول دیکھتے رہیں اور وہاں چکر لگانا اور اساتذہ سے رپورٹ لینا اپنے روٹین میں شامل رکھیں۔یہی نہیں ،اساتذہ کے کردار کوبھی جانچتے رہیں۔

ملازموں پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔بچیوں کے ساتھ مرد ملازمین کسی صورت نہ رکھے جائیں۔بچوں کے ساتھ بھی اگر عورت ملازمہ ہو تو عمر میں خاصا فرق ہونا چاہیئے۔

خونی رشتوں کا احترام بھی بچوں کو سکھائیں اور بچوں کا ان کی طرف کا رویہ ضرور دیکھیں۔

جنسی رجحان ایک قدرتی عمل ہے،اس کا مثبت استعمال کریں۔بچوں کو آگاہ کریں کہ کسی کےلیے کشش محسوس کرنا بری بات نہیں،بس اسے ایک حد میں رہنا چاہیئے۔

اس حد کی پوری تفصیل انھیں معاشرتی،مذہبی،اخلاقی اور طبی حوالہ جات سے سمجھائیں تاکہ وہ اپنی حد کو پہچانیں اور اس کا پاس رکھیں۔

ایک مثال یہاں دونگا۔ایک ٹین ایجر کے والد کو بیٹے کی ملکیت سے ایک لڑکی کے خطوط اور دوسرے مواد ملے جن پر انھوں نے خوب زودوکوب کیا۔

جبکہ ایک جگہ ایک بچے نے خود اپنے والد سے یہ مسلئہ ڈسکس کیا کہ مجھے فلاں لڑکی اچھی لگتی ہے،مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں؟

والد نے بیٹھ کر پہلے اسےسمجھایا کہ کسی کو پسند کرنا ایک اچھی بات ہے مگر کیا آپ اس ہستی کو بدنامی دکھ اور رسوائی دینا چاہیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں؟نمبر دو،اگر آپ اس سے راہ روابط رکھتے ہیں توجذبات پر بند قائم کرنا مشکل ثابت ہو گا۔کوئی امید وابستہ کرتے ہیں تو بعد میں دکھ ہو سکتا ہے۔سوم ،وقت کے ساتھ ساتھ پسند بدلتی ہے،اسی لیے وہ اس وقت کا انتظار کریں ،جس وقت وہ خود کو کسی قابل نہ بنا لیں،اس وقت بھی یہ پسند برقرار رہی تو ہمیں قطعی اعتراض نہیں۔

والد نے ہر مرحلے پر اپنے بچے کو گائیڈ کیا اور ایک وقت آیا کہ بچہ اس بچگانہ بات کو یاد کر کے ہنس دیتا۔

میڈیا

بچوں کو اپنی پسند کی مکمل آزادی دیں مگر انھیں وہی میڈیا یا پروگرام استعمال کرنے دیں ،جو ان کی عمر کے مطابق مناسب ہو۔

کمیونیکشن

بچوں کو اتنی آزادی ضرور دیں کہ وہ ہر قسم کے موضوع پر اپنے مسائل آپ سے ڈسکس کر سکیں۔

ایک بچہ فیل ہو گیا اور باپ کی مار کھائی،جبکہ ایک بچہ باپ کے پاس آیا اور بولا کہ میں فلاں فلاں مضامین میں خود کو کمزور سمجھ رہا ہوں،اسی لیے کسی قسم کا رزلٹ متوقع ہے۔اس بات پر باپ سے جتنا ہو سکا ، اس نے بچے کی مدد کی اور بچہ پاسنگ مارکس لے کر بھی مطمئن تھا۔فرق صرف اسی چیز کا ہے کہ بچہ اپنے مسائل بیان تو کرے۔

امید ہے یہ نقاط آپ سب کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔

دعاؤں کا طالب

فیصل خان

Share this post


Link to post
Share on other sites

Waho kya baat hain forum mazed ais kisam ki topic banayai ,, bahut hee achi information di hain

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

Janaab Aap khud bhi aise Topic Create kar sakti hain

Thanks Dr. Faisal for such a nice Topic

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this