Sign in to follow this  
Guru Samrat

ٹرین کا انتظار۔۔۔ایک حکایت ایک واقعہ

Recommended Posts

کیا آپ نے اس عورت کے بارے میں سنا جس کی شکایت تھی کہ اس کے گھر کے پاس سے گزرنے والی ہر ٹرین اس کے بستر کو اس طرح سے جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ اس کے لیے دو گھڑی کا سونا بھی محال ہو کر رہ گیا ہے!

"ناممکن!" عورت کی اس شکایت پر اسٹیٹ ایجنٹ کے منہ سے نکلا تھا۔ عورت نے اسی اسٹیٹ ایجنٹ کی رہنمائی میں کچھ عرصہ قبل ریلوے لائن کے پاس مکان کرائے پر حاصل کیا تھا اور اب وہ بضد تھی کہ جو وہ کہہ رہی ہے وہ سچ ہے۔ اس نے اسٹیٹ ایجنٹ سے استدعا کی کہ وہ اس کے ساتھ گھر چلے اور یہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔

جب وہ عورت کے گھر آیا تو اس نے ایک چوہے دان دیکھا جس میں مچھلی کا ایک ٹکڑا لگا ہوا تھا۔ اس نے عورت نے اس بارے میں دریافت کرنا چاہا مگر اس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر بعد میں بات کرے گی۔

"اب سے کچھ ہی دیر میں ایک ٹرین آنے والی ہے۔" عورت نے کہا۔ "اور میں چاہتی ہوں کہ تم بستر کی جھنجھناہٹ کا خود مشاہدہ کرو!"

وہ دونوں بیڈ روم میں داخل ہوئے۔ اسٹیٹ ایجنٹ نے پھر کہا: "میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ گزرتی ہوئی ٹرینوں سے آپ کا بستر ہل کر رہ جاتا ہے۔ "

"تم سوچ نہیں سکتے اور میری تو جان نکل جاتی ہے۔" عورت نے اصرار کیا اور گھڑی پر نظر ڈالی۔ دور کہیں سے ٹرین کی سیٹی کی آواز سنائی دی۔

"یہ پانچ پینتیس والی آرہی ہے۔ جلدی سے بستر پر لیٹ جاؤ۔" عورت نے کہا اور دوسری طرف وہ خود لیٹ گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب اس کا شوہر کمرے میں داخل ہوا۔

"یہ سب کیا ہو رہا ہے!" شوہر کی غراہٹ اسٹیٹ ایجنٹ کے کانوں سے ٹکرائی۔

"کیا آپ یقین کریں گے۔" اسٹیٹ ایجنٹ نے کپکپاتی آواز سے کہا۔ "میں ایک ٹرین کا انتظار کر رہا ہوں۔"

Share this post


Link to post
Share on other sites

ڈئیر گرو سمراٹ!۔

سوری یار! میں اسے ایک مزاحیہ تحریر سمجھ کر پڑھنے کے لیےآیا تھا۔ تحریر کے متن سے لگا کہ یہ مزاحیہ کم اور کچھ کچھ سیکس کے جال میں پھنسانے کی ترکیب ہے۔ لیکن سچ پوچھو تو بالکل مزہ نہیں آیا۔ ضروری نہیں کہ میری رائے سے سب ہی متفق ہوں۔ ہر ایک کا اپنا ایک الگ نظریہ ہوتا ہے۔ اب جیسے کہ ایڈمن جی نے کہا کہ بہت ذومعنی تحریر ہے۔ بہرحال اپنا دل چھوٹا نہ کرنا یار۔ یہ تحریر کم کہاوت زیادہ نظر آرہی تھی۔ اور یہ آپ نے کہاوت پیش کی یا لطیفہ؟ کچھ سمجھ سے بالاتر ہے۔ امید ہے آئندہ آپ اپنی تحریروں کو معیاری انداز میں پیش کریں گے جیسا کہ آپ کا طرّہء امتیاز ہے اور آپ واقعی اچھوتے موضوعات پر کہانی پیش کرنے میں ملکہ رکھتے ہیں لہٰذہ میری آپ کو یہی تجویز ہے کہ آپ اپنے اسی ہنر پر توجہ دیں۔ ہاں کبھی کبھار ہلکی پھلکی تحریر ایسی بھی لکھ دیا کریں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

عمدہ تحریر تھی ، ذو معنی تو تھی ہی لیکن راجہ کا پوائنٹ بھی بے جا نہیں تھا۔ مجھے تحریر پڑھ کر ہنسی تو آئی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس چوہے دان کی بھی سمجھ آگئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this