Sign in to follow this  
Page3

ایک کہانی از اسد علی حسنین

Recommended Posts

ایک کہانی

انسان جس کی تخلیقات سے زمانہ سنورتا چلا گیا۔جس کی کاوشوں سے ہر جاندار شے کی بہتری عمل میں آئی۔جب روشنی کا نام و نشان نہ تھا تو اسی انسان نے آگ سے روشنی پیدا کی حرارت کا یہ عمل نسل در نسل چلتا رہا۔کچھ وقت نے کروٹ بدلی تو انسان نے بجلی بنانے کا عمل شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری زمین پانی سے بننے والی روشنی جس کا نام بجلی رکھا گیا جگمگا اٹھی۔ایسی کئی سہولتیں انسان کے مقدر کا حصہ بنیں۔

مگر ترقی انسان نے کی تھی نہ کہ کسی امیر یا غریب نےنہ کسی گورے نے نہ کالے نے

مگر اس امتیازی ایکٹنگ کو ہر خاص و عام نے زندہ رہنے کے لئے آکسیجن سمجھ لیا۔ایک ابن آدمؑ ایک خوبصورت کمرے میں جس کی چھت کو چاک کی بڑی بڑی اینٹوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے تا کہ کسی پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نہ گرے ۔اے سی کمرے میں نصب کیا جاتا ہے۔خوبصورت اور دلکش فرنیچر بیٹھنے کے لئے سجایا جاتا ہے۔یہ ایک طالب علم کا کمرہ ہے یہ اس کا مدرسہ ہے اسکی پہلی پروان کو پرکھنے کے لئے ایک عمدہ ماحول۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف ایک اور ابن آدمؑ مٹی کے بچھونے پر اپنی ادھ ننگی ٹانگوں کو پھیلائے نیم کے درخت کے نیچے بیٹھا ہے۔اس کو سردی لگتی ہے تو کھلی کھلی دھوپ کا سہارا لیتا ہے اور گرمی ستاتی ہے تو درختوں کی چھاوں میں بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔

دونوں ہی آدمؑ کے بیٹےہیں۔دونوں کی شکل و شباہت بھی انسانوں جیسی ہے بولتے بھی انسانوں جیسا ہی ہیں۔پھر اس دور کے لوگوں نے اتنا بڑا امتیاز کیوں رکھا ہے؟؟؟؟؟

شاکر نے بیمار ماں کے چہرے پر اپنا الٹا ہاتھ رکھا اور چہرے کی حرارت کو نوٹ کیا۔

ارے ماں تمہیں تو بہت سخت بخار ہے؟میں تمہارے لئے دوائی لے کر آتا ہوں۔

پندرہ سالہ شاکر ماں سے جھوٹا وعدہ کرتا ہو باہر نکل جاتا ہے۔جس کی جیب میں ایک پھوٹی کوڑی نہیں وہ اپنی بیمار ماں کے لئے دوائی لینے چلا ہے۔

کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے التجا کی۔ڈاکٹر صاحب میری ماں بہت بیمار ہے۔میرے ساتھ چلیں اس کو چیک کریں وہ چل بھی نہیں سکتی ہے۔

جناب ڈاکٹر صاحب جس نے کبھی میڈیکل کالج میں دوستوں سے جھوٹے وعدے کیے تھے اور کتاب کے پہلے صفحے پر پڑھا ہوا تھا کہ ایک ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ مریضوں کی مدد کے لئے کہیں بھی پہنچ جائے چاہے اس کو کچھ ملے یانہ ملے۔

ڈاکٹر نے شاکر کے پھٹے ہوئے کپٹروں اور عمر سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا ارے کوئی اس بھکاری کو ہسپتال سے باہر نکلالے۔کہیں بھی مانگنے کے لئے آ جاتے ہیں۔

شاکر سارا دن ماں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کے کلینک ہسپتال میں جاتا رہا مگر کسی نے اس غریب کی کوئی بات نہ سنی۔تھپڑوں اور گالیوں سے اسے خوش آمدید کہتے رہے۔

شاکر کے پاس تھا ہی کیا؟؟ سوائے ما ں کے جو لوگوں کے جھوٹے برتن صاف کر کے بیٹے کو ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھا رہی تھی تاکہ شاکر بڑا ہو کر ایک اچھا انسان بن سکے۔

آخر کار شاکر تھک ہار کر لوگوں کی گالیاں تھپڑ کھا کر شام کو مایوس گھر پہنچا تو اسکی دنیا اجڑ چکی تھی۔اس کے گھر کے سامنے لوگ جمع تھے۔۔۔۔وہ بھاگتا ہو گھر میں داخل ہو تو مری ہوئی ماں کے قدموں میں گر گیا۔۔۔اس کے آنسو ماں کے پیروں کو چوم رہے تھے۔اس کی چیخوں میں سسکیوں میں سب کچھ نکل رہا تھا۔ایک معصوم بچہ اور وہ بھی اکیلا ایک آخری سہارا ماں کا تھا وہ بھی جاتا رہا۔۔۔۔۔

چھبیس سال کے بعد

پولیس انسپکٹر صاحب آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟شہر میں دن بدن موتیں واقع ہو رہی ہیں ۔آخر پولیس کیا کر رہی ہے؟یہ آج 17واں ڈاکٹر قتل ہوا ہے۔آخر کون ہے جو اتنی بے رحمی سے صرف ڈاکٹروں کا قتل کر رہا ہے؟؟؟؟؟؟

ختم شد

ہر جرم کی ایک کہانی ہوتی ہے۔۔۔۔اور ضروری نہیں ہر کہانی میں ایک مجرم سچ مچ کا مجرم ہوتا ہے۔۔۔اسے مجرم بنایا جاتا ہے۔۔۔۔کوئی مجرم ماں کے پیٹ سے مجرم بن کے نہیں آتا۔

از۔۔۔اسد علی حسنین

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this