Sign in to follow this  
athra jutt

بے وفائی کا انجام

Recommended Posts

بے وفائی کا انجام
کیسے ہو یار تم کو پتا چلا ہے عمیر کو اس کی گرل فرینڈ نے اغوا کر لیا ہے
کیا بکواس ہے یہ
یار میں سچ کہ رہا ہوں اس کے بوڑھے ماں باپ تو اس کی جدائی مے پاگل ہو گے ہیں
یار سچ بتاؤ مذاق نہ کرو
مجھے لگتا ہے تم مذاق کر رہے ہو کیوں کے آج یکم اپریل ہے اور تم مجھے اپریل فول بنا رہے ہو
یار قسم سے اگر نہیں یقین آتا تو اس کی ماں اور باپ سے مل آؤ خود پتا چل جاے گا
چلو اگر یہ بات سچ ہوئی تو پھر
یار طلحہ ہو سکتا ہے یہ بات سچ ہو کیوں کے دو دن سے اس کا نمبر بند جا رہا ہے
ہم لوگ یہ باتیں کرتے ہوۓ اس کے گھر تک آ گے تھے
اس کے گھر کا دروازہ بجایا تو اس کی چھوٹی بہن باہر ائی
کیسے ہو طلحہ بھائی آج کیسے آنا ہوا
عمیر کہا ہے
(سونیا عمیر کی بہن ) روتے ھوے اندر چلے گئی
میں عمیر کے گھر آسانی سے چلا جاتا تھا وہ بھی میرے گھر آ جایا کرتا تھا
میں اندر گیا اور اپنے دو دوستوں کو یعنی کے علی اور حمزہ کو باہر روکنے کا کہا
اسلام و علیکم
ماں جی کیسی ہو آپ
اس کی ماں سے آنکھیں کھولی تو میرے پاؤں سے زمین نکل گئی تھی اس کی ماں کی آنکھیں رو رو کر لال ہو چکی تھی اور سوجی ہوئی بھی
ماں جی نے رونا بند کرتے ھوے کہا بیٹا کیا بتائیں عمیر تین دن سے گھر نہیں آیا
کیا ماں جی آپ کیا کہ رہی ہیں
بیٹا میں سچ کہہ رہی ہوں
لکین ماں جی وہ تو دو گھنٹے باہر نہیں رہتا تھا اور تین دن سے کدھر گیا ہے کچھ آتا پتا ہے
نہیں بیٹا لکین اس کی گرل فرینڈ تھی نہ کیا نام تھا اس کا (سمن) عمیر کی گرل فرینڈ کا نام ہے )
ھاں سمن اس نے اس کو اغوا کروا لیا ہے عمیر نے اس کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا تھا
لکین عمیر بھی تو اس پیار کرتا تھا تو اس نے انکار کیوں کیا ہے
عمیر کے باپ نے اس کی شادی اپنے بھائی کی بیٹی سے کرنی ہے
سمن امیر لوگوں کی بیٹی ہے اس لئے ہم نے اس کو مانا کر دیا تھا اس نے اس کو اس لئے اغوا کر لیا ہے
ماں جی میں کچھ کرتا ہوں
میں اسی وقت باہر آ گیا باہر علی اور حمزہ میرا انتظار کر رہے تھے اور سگریٹ پی رہے تھے
میں نے ان کو کہا یار تم لوگ ٹھیک کہ رہے تھے تم کو سمن کا کچھ پتا ہے کہا رہتی ہے مجھے اس کے گھر کا پتا ہے لکین تھوڑا کنفیوز ہو رہا ہوں علی نے مجھے کہا مجھے پتا ہے لکین کرنا کیا ہے
میں نے کہا تم لوگوں کو ایک بات بتا دوں سمن کا کردار ٹھیک نہیں تھا یہ بات مجھے عمیر نے بتائی تھی
لکین اس کی ماں اور باپ نے یہ بات مجھے پتا نہیں لگنے دی اور یہ کہ دیا کے عمیر کے باپ نے اپنے بھائی کی بیٹی سے اس کی شادی کرنی ہے خیر سمن کی تو اب خیر نہیں اس کی پھدی میں ماروں گیا اور تم لوگ بھی
میں نے کہا کے آج شام کو چاچے کی دوکان پر ا جانا وہا بیٹھ کر چاہے پیئں گے اور عمیر کو کیسے اس کے چُنگَل سے آزاد کروانا ہے اور کیسے سمن کی پھدی مارنی ہے یہ میں تم کو بتا دوں گا
تم لوگ اگر میرا ساتھ نہیں دینا چاھتے تو ابھی بتا دو
طلحہ کیسی باتیں کر رہا ہے عمیر تیرا دوست نہیں ہے ہمارا بھی ہے اس کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے تو پریشان نہ ہو سمن کی پھدی کے ساتھ ساتھ اس کی گانڈ بھی ماریں گے
چلو ٹھیک ہے
پھر ہم دوست اپنے اپنے گھر آ گے
میں گھر آ کر سوچنے لگ گیا کہ کیسے عمیر کو سمن کے چُنگَل سے چھڑایا جاۓ اور سمن کو اس بات کہ سبق سکھایا جاۓ. لکین کوئی آئڈیا نہیں آ رہا تھا عمیر میرا لنگوٹیا دوست تھا وہ ہر بات بتاتا تھا اس نے مجھے یہ بتایا تھا کے سمن نے ایک کالے علم والے کو پھدی دی ہے. اس لئے دی ہے کہ (عمیر) اس کو چھوڑ نہ دے لکین سمن نے اپنی سال بند پھدی سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ عمیر کی محبت کو نفرت مے بدل دیا تھا. عمیر اس سے شادی کروانا چاہتا تھا لکین اس کی حرکت نے اس کے دل مے نفرت پیدا کر دی تھی. یہ بات سمن کو نہیں پتا تھی کے عمیر کو پتا چل گیا ہے کالے علم والے آدمی کا....
عمیر کو یہ بات سمن کی کزن نے بتائی تھی وہ عمیر کو دھوکہ نہیں دینا چاہتی تھی وہ اس کو اپنا بھائی مانتی تھی اس نے عمیر کو یہ بات کھل کر نہیں بتائی تھی بلکے ایک پیپر پر لکھ کر دی تھی.
عمیر کو جس دن یھ بات پتا چلی عمیر دو دن بیمار رہا لکین اس نے خود کو قابو مے رکھا اور اس کی کزن سے یہ بات جاننا چاهی سمن کی کزن اس کو اس آدمی کے پاس لے کر چلے گئی تھی جس نے سمن کی پھدی ماری تھی..
اس آدمی نے سمن کی کزن کو باہر جانے کا کہا اور میرے سامنے سری بات بتا دی عمیر آگ بھگولا ہو گیا اس نے اس آدمی کو مارنا شروع کر دیا لکین نے مے اور سمن کی کزن نے اس کو چھڑوا دیا تھا ....
عمیر نے سمن سے بات کرنا چاہی لکین اس کی کزن نے منا کر دیا اور اس کو کہا کے تم سمن سے اپنا پیچھا چھڑوانا چاھتے ہو تو اس سے دور ہو .....
عمیر نے سمن کی کزن کی بات مان لی اور سمن سے دور دور رہنے لگ گیا یہ بات سمن نے نوٹ کی اور عمیر سے بات کی.
عمیر نے کہا کے میرا باپ میری شادی اپنے بھائی کی بیٹی سے کروانا چاہتا ہے اس لئے میں دور ہو رہا ہوں یہ بات سمن سے گوارا نہیں ہی اور اس نے میرا خیال اس لئے عمیر کو اغوا کروا لیا تھا.
میرے ذھن نے یہ بات ا گئی تھی
عمیر کی اور سمن کی ملاقات ایک پارٹی مے ہوئی تھی اس دن عمیر بہت ہاٹ لگ رہا تھا وہ گبرو جوان تھا خوبصورت تھا.. شاید اس لیے اس نے اسی دن عمر کو دوستی کا کہا تھا عمیر نے مانا کر دیا تھا لکین اس نے ضد کی تھی دوستی کی عمیر کے دوستو نے اور میں نے اس کو کہا کے کر لو دوستی تم سے لڑکی دوستی کا خود کہہ رہی ہے کر لے اس نے ہاں کر دی تھی..
اس دن کے بعد سمن اور عمیر ساتھ ساتھ رهتے تھے عمیر کو بہت دفعہ موقع ملا تھا کہ سمن کے ساتھ کچھ غلط کر دے لکین اس کو اس کے ساتھ سچا پیار ہو گیا تھا تبھی اس نے ایسا قدم نہیں اٹھایا تھا سمن اس کی اس خوبی کی وجہ سے اس کے اور نزدیک ا گئی تھی..
سمن کے بارے مے بتا چلوں
اس کی عمر 19 سال تھی اس کا قد 5 فٹ 7 انچ تھا اس کی جوڑی عمیر کے ساتھ بہت اچھی لگتی تھی..سمن کہ رنگ پنک تھا ہونٹ ایک دم گلابھی تھے سمن تنگ کپڑے پہنتی تھی جس مے اس کے ممے اس کی بونڈ اس کی کمر لن کو کھڑا کر دیتی تھی لڑکے اس کے پیچھے رهتے تھے لکین وہ کسی کو منہ نہیں لگاتی تھی عمیر کو اس کی یہ ادا بہت پسند آتی تھی اور وہ عمیر کے دل نے جگہ بناتی رہی لکین اس کی اس حرکت کی وجہ سے عمیر کے دل نے نفرت پیدا ہو گئی تھی..
عمیرکے اغوا ہونے کی کچھ دن پہلے اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ سمن کی پھدی مر کے رہے گا اور میں اس کہ ساتھ دوں گا میں نے اس کو کہا یہ غلط ہے لکین اس کو بہت غصہ تھا...اس نے کہا یہ غلط ہے تو جو سمن نے میرے ساتھ کیا ہے وہ ٹھیک ہے اس کو مجھ پر یقین نہیں ہے میں اس کو دھوکہ کیسے دے سکتا تھا لکین اب دوں گا جو کرنا ہوا اس کو کر لے....
میں عمیر کی مدد کرنا چاہتا تھا اور اس کہ بدلہ پورا کرنا چاہتا تھا... لکین عمیر کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا.
میں یہ کام علی اور حمزہ کی مدد سے کرنا چاہتا تھا میں نے یہ سب باتیں علی اور حمزہ کو بتانی چاھی.. اور میں نے سوچ لیا تھا اب سمن کی خیر نہیں تھی
میں نہا دھو کر گھر سے نکل گیا اور چاچے کی دوکان پر چلا گیا علی اور حمزہ وہاں آ گے تھے.. ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گے میں نے علی اور حمزہ کو سب باتیں بتا دی تھی ان کو اس بات پر یقین نہیں تھا میں نے عمیر کی قسم کہا کر کہا کے یہ سچ ہے تب انہو نے یقین کیا
اب باری تھی سمن کی شامت کی...
علی اور حمزہ مجھ سے پوچھنے لگ گے کے کیسے ہم عمیر کو آزاد کروائیں گے اور سمن کو اس کی کیے کی سزا دیں گے. میری سمجھ مے نہیں ا رہا تھا کہ کیا کیا جاۓ آخر حمزہ نے ایک بات بتائی جس کو سن کر ہم کو کچھ حوصلہ ہوا اس کی بات بھی ٹھیک تھی
کرن (سمن) کی کزن تھی جس نے عمیر کو بھائی بنایا ہوا تھا.حمزہ چالاک ذھن کہ مالک تھا اس نے کہا تھا کے کیوں نہ ہم یہ بات کرن سے کریں کے سمن نے عمیر کو اغوا کر لیا ہے شاید وہ ہماری مدد کر دے لکین ایک مسلہ تھا ہم کرن تک نہیں جا سکتے تھے کیوں کے سمن کہ کزن عمیر کے خلاف تھا اور اس کی شادی کرن سے ہونی تھی مسلہ بہت سنگھن تھا سمجھ سے باہر تھا تھا کے کیسے کرن سے بات کی جاۓ ہم پریشان تھے کے علی نے کہا حمزہ تیری بہن کرن کی اکیڈمی پڑتی ہے کیوں نہ اس کی مدد لی جاۓ.. علی کی اس بات نے حمزہ اور میرے چہرے پر ہلکی سے رونق لانا چاہی لکین نہ لا پایا کیوں کے حمزہ کی بہن کی کلاس اور تھی اور کرن کی کلاس اور تھی...
لکین ہم نے ہمت ہاری
حمزہ نے کہا کے میں گھر چلتا ہوں تم لوگ بھی گھر جاؤ رات کو میری طرف آنا..میں عالیہ (حمزہ کی بہن ) کو لے آؤں.
میں اس سے بات کرتا ہوں اگر کوئی حل نکل گیا تو میں تم کو بتاتا ہوں
پھر ہم لوگ اپنے گھر آ گے تقریباً ایک گھنٹے کے بعد حمزہ نے مجھے فون کیا اور کہا کے کام بن گیا ہے میں نے کہا کے کیا بنا ہے اس نے کہا کے فون پر بات نہیں ہو سکتی تو آ جا میری طرف علی بھی آ رہا ہے ہم لوگ مل کر بات کرتے ہیں..
میں گھر سے نکلا اور حمزہ کی طرف چلا گیا علی بھی ا گیا تھا.. ہم لوگ حمزہ کی بیٹھک میں بیٹھ گے تھے
علی نے پوچھا حمزہ کام کیسے بن گیا ہے بتا ذرا
اس نے کہا کے عالیہ نے کہا ہے کے اس کے پاس کرن کہ نمبر ہے میں نے عالیہ سے کہا کہ کرن سے بات کرو اور کہو کے میرے بھائی نے عمیر کے متعلق بات کرنی ہے اس نے ایسے ہی اس کو کہا تھا اس نے کہا کے مجھے اپنے بھائی کا نمبر دے دو میں خود فری ہو کر اس سے بات کرتی ہوں عالیہ نے میرا نمبر اس کو دے دیا ہے
مجھے ابھی فون آیا تھا اس نے کہا کے سمن عمیر کو اپنے مری والے گھر لے کر گئی ہے اور اس نے یہ بات مجھے بتائی ہے اور کسی کو نہیں پتا میں چاہتی ہوں کے تم لوگ میرے بھائی کو بچاؤ بیشک وہ میرا منہ بولا بھائی ہے لکین اس نے مجھے بھائی کی کمی نہیں محسوس ہونے دی تم کو جس جس چیز کی ضرورت ہوئی مجھے بتانا جب جب میری ضرورت ہوئی مجھے بتانا میں تمہاری ہر ممکن کوشش کر کے مدد کروں گی...........
ہم کو حمزہ جیسے بتا رہ تھا ویسے تو امید تھی کے ہم عمیر کو چھڑوا لیں گے لکین پھدی ایک ایسی چیز ہے جو یاروں کو دھوکے باز بنا دیتی ہے ایسا ہی کچھ علی نے ہمارے ساتھ کیا تھا ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کے علی اس حد تک گزر سکتا ہے
ہوا کچھ یوں کے ہم نے حمزہ کو کہا کے وہ دوبارہ بات کرے کرن سے اور سمن کا نمبر لے اس نے ایسا ہی کیا کرن نے اس کو نمبر بھی دے دیا ہم سب نے باری باری اس کو فون کیا اور سمجھایا کے یہ اچھا نہیں ہے لکین وہ فون کاٹ دیتی تھی.. ہم تھک ہار کے اپنے اپنے گھر آ گے تھے. علی نے ہم کو دھوکہ دیا (مجھے اس دن پتا چلا جب میں اور علی کرن کے بتاۓ ھوے پتے پر عمیر کو آزاد کروانے نکلے....)
علی نے ھر ممکن کوشش کی کے وہ حمزہ کو میری نظر مے گرا گے اور ایسا ھی ہوا ہم لوگوں نے یہ تھا کے ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنی گرل فرینڈ سے بات نہیں کرتے تھے ہم کو پلنٹی پر جاتی تھی.. علی لڑکیوں جسی آواز مے بات کر لیتا تھا اس نے حمزہ کے ساتھ دوستی کر لی تھی حمزہ نے ہم کو بتایا بھی تھا... ہم نے حمزہ سے پارٹی بھی لی تھی..
جب ہم کو کرن بتاتی کے سمن نے عمیر کو اس جگا چھپایا ہے ہوں وہاں جاتے لکین کوئی نہ ملتا ہم کو سمجھ نہیں ا رہی تھی کے یہ سب کیا ہوتا ہے جب بھی آتے ہیں کہیں نہ کہیں سے بات خراب ہو جاتی ہے
ہم عمیر کو ڈھونڈنے مری ، سوات ، آزاد کشمیر ، کراچی ھر جگہ گے لکین ناکامی ہوئی
جیسا کے اپ کو بتا دیا ہے کے ہم لوگ بات نہ کرتے اپنی گرل فرینڈ سے اس لیے علی نے میرے دل پر شک دلوا دیا تھا کے حمزہ سمن کو باتیں بتاتا ہے اس نے کہا تھا کے میں یہ نہ بتاؤں کے علی نے کہا ہے علی اس کا دوست رہے گا اور کی باتیں تم کو بتاۓ گا میں نے اس کی بات کو سچ من لیا اور اپنا دوست کھو دیا
ہم لوگ جب بھی آتے وہ علی سے بات کرتا ہوتا میسج پر اور ہمارے سامنے فون کو جیب مے ڈال لیتا... یہی وجہ تھی کے میرا شک پکا ہو گیا تھا اور میں نے ایک دن حمزہ پر ہاتھ اٹھا لیا تھا
علی نے مجھے روکا لکین میں نہیں روکا اس کو چارباتیں سنائی میں نے اس کو کہا کے تجھ سے دوستی رکھنا دوستی کی توہین ہو گئی آج کے بعد اپنی گندی شکل مجھے نہ دیکھانا
حمزہ نے اف تک نہ کی اور میری باتیں سنتا رہا لکین اس بات پر وہ رو دیا اور کہا کے طلحہ یقین کرو میں سمن کو کچھ نہای بتاتا یہ کسی کی چال ہے میں نے کہا کے کسی کی چال نہیں ہے تم بتاتے ہو اس نے کہا تم کو کس نے بتایا ہے
میں نے کہا کے میں اندھا نہیں ہوں مجھے بھی نظر آتا ہے
اس نے کہا کے پچھتاؤ گے ایک دن جس کی وجہ سے مجھے پر شک کر رہے ہو اور وہ اپنے گھر چلا گیا
مجھے دکھ ہوا کے مجھے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا
حمزہ بھی امیر باپ کا بیٹا تھا سمن نے زیادہ امیر تھا اس نے غرور نہیں تھا اچھا انسان تھا وہ جوڈو کراٹے کا چمپین بھی تھا اور فٹ بال بھی کھیلتا تھا...بہت اچھا انسان تھا وہ دل کا بھی اچھا تھا. لکین ایک غلط فہمی کی وجہ سے یہ سب ہوا..خیر جو ہوا سو ہوا لکین مجھے عمیر کی فکر تھی کس حل مے ہو گا علی سے رابطہ کیا اس نے کہا میں نے پتا کروایا ہے سمن کا نیا اڈا کدھر ہے ہم لوگ پرسوں جائیں گے وہاں
عالیہ نے بھی مجھے کہا کے طلحہ بھائی حمزہ بھائی بےقصور ہے اپ میری بات کا یقین کرو میں نے کہا نہیں مجھے کسی پر یقین نہیں ہے اب مجھے فون نہ کرنا
اگلے دن مجھے ایک پارسل آیا جس میں ایک گن تھی چاقو تھا اور ایک خط تھا جس مے لکھا تھا طلحہ تو غلط کر رہا ہے یہ چیزیں تیرے کام ا سکتی ہے اب تم لوگ جدھر جا رہے ہو کرن نے بتایا ہے کے سمن نے وہاں کچھ لوگ رکھے ہیں اس کو تمھارے آنے کی خبر ہو گئی ہے میں اپنا ماں کی قسم کہتا ہوں میں نے نہیں بتایا یقین کر آگے تیری مرضی اپنا خاص خیال رکھنا باے
مجھے اس کی بات سن کر تھوڑی شرمندگی ہوئی اور احساس بھی کے یہ اپنی ماں کی قسم کھا رہا ہے کون ہو سکتا ہے اگر یہ نہیں ہے... رات کو علی سے بات کی اس کو یہ بتا دیا جو حمزہ نے لکھ کے بیھجا تھا لکین گن اور چاقو کا نہیں بتایا تھا.... علی نے پھر ایک دفعہ مجھے اپنی باتوں پر رنگ لیا تھا اس نے کہا یہ بہانہ بنا رہا ہے ساتھ جانے کا پھر کوئی پریشانی ہو گئی میں اس کی چکنی چڑی باتوں مے آ گیا تھا علی نے کہا چل یار گھر چلتے ہیں کل جانا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے
ہم لوگ یعنی کے میں اور علی ہم لوگ دونو نکل پڑے راستے میں ہم کو ایک لڑکا ملا تھا جس نے منہ پر کپڑا لیا ہوا تھا اور ہمارے پیچھے بیٹھ گیا تھا ہم نے غور نہیں کیا تھا.
راستے میں علی نے مجھے بتایا یار سمن نے کچھ لوگوں کو وہاں تعینات کر دیے ہیں ہم کو خطرہ ہو سکتا ہے ہم کو پہلے جائزہ لینا چاہیے اس جگہ کا پھر کچھ کرنا چاہیے میں نے کہا یار میں انتظام کر کے آیا ہوں میرے پاس ایک چاقو ہے اور گن ہے (یہ بات اس کے کان مے بتائی تھی) ہم 5 گھنٹے کے بعد پشاور کو پآڑ کر گے تھے راستے میں بس رکی ہم نے کچھ کھانے کو لیا پھر بس میں آ کر بیٹھ گیا تھا میں نے علی کو بوتل دی اور برگر دیا ہم دونو نے یہ کھایا اور آنکھیں بند کر لی سارے راستے میں تو گانے سنتا رہا لکین علی سمن سے بات کرتا رہا سمن اور علی نے مجھے اور عمیر کو مارنے کا پلان بنا لیا تھا... میں نے چپکے سے ایک میسج پڑھنا چاہا تا کے اس کو پلنٹی دل سکوں لکین علی نے مجھے ایک دم سے کہا یار طلحہ اپنی گن اور چاقو مجھے دے دے تجھے کوئی پریشانی نہ ہو میں نے کہا نہیں ہوتی پریشانی تو فکر نہ کر اگر کچھ ہوا بھی تو پولیس کو بتا دیں گے.... وہ خود سمبھال لے گی علی یہ بات سن کرتھوڑا ہڑبڑا کے بولا ک ک کیا پولیس پاگل ہے ان کو بتایا تو وہ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے تو پھر چپ ہو جا میرا دماغ نہ کھا اگر تجھے کوئی پرابلم ہے تو تو اتر جا میں خود اس کو بچا لیتا ہوں مجھے اس جگہ کا پتا بتا دے
علی
پاگل ہے تو میں بھی تیرے ساتھ جاؤں گا جو ہو گا دیکھا جاے گا پھر ہم دونو وھی کرنے لگ گے جو پہلے کر رہے تھے وہ بات کرنے لگ گیا اور میں گانے سننے لگ گیا
اس دوران میری آنکھہ لگ گئی علی نے موقع دیکھا اور میری گن نکل لی لکین چاقو نہ نکل سکا کیوں کے وہ میری کمر کے پیچھے تھا میری آنکھہ تب کھولی جب ہماری منزل ا گئی تھی..... وہ بھی علی نے اٹھایا ہم اس وقت پتا نہیں کدھر تھے لکین لوگوں کی آنکھیں ہم کو مشکوک سمجھ رہی تھی میں نے علی کو کہا چل جلدی کر ورنہ کچھ غلط نہ ہو جاے ہم لوگو نے ایک رکشہ روکا علی نے اس کو جگہ کے بارے میں بتایا وہ جگہ کا نام سن کر ہم سے بولا لگتا پہلی بار آے ہو یہ راستہ بہت خطرناک ہے میں نے پیسے پوچھے تو اس نے کہا 1000 لوں گا ہم نے کہا پاگل ہو کیا کہتا صاحب جی خود دیکھنا راستہ اور پھر بتانا کے 1000 زیادہ ہیں کے کم ہم لوگو رکشے میں بیٹھ گے تھے.. اس نے منزل کی طرف رکشہ چلانا شروع کر دیا
ابھی ہم نے 5 منٹ کا سفر تہ کیا ہو گا کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگ گئی اندھرے میں صرف رکشے کی روشنی تھی اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا رات بہت دہشت زدہ تھی اس لِیے علی اور میں دونو ڈر گے تھے لکین رکشے والے نے ہم کو تسلی دی اور کہا کے اپ فکر نہ ہو میں ادھر روز آتا ہوں کچھ نہیں ہو گا اگر ہو گا بھی تو میں اپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ہم مسلسل ڈر رہے تھے لکین رکشے والا ہم کو تسلی پر تسلی دے رہا تھا کچھ آگے جا کر روشنی ہی تو ڈر دور ہوا لکین یہ روشنی محض چند سیکنڈ کی تھی... پھر سے وھی دہشت وھی کتوں کی آوازیں پتوں کی شائیں شائیں رات کا منظر بہت ڈرونا تھا میرا تو جسم کا ایک ایک بال کھڑا تھا ڈر کی وجہ سے جسم میں کپکپی طاری ہو گئی تھی یہی حال علی کا تھا منظر بہت دہشت زدہ تھا آخر 15 منٹ کے ڈارونے سفر کے بعد ہم ایک پہاڑی کے پاس روکے..
ہم دونو اتر گے تھے میں نے دیکھا کے وہاں ایک ہوٹل تھا ہم نے پہاڑی کی طرف دیکھا تو ٹٹوں سے جان نکل گئی تھی پہاڑی تو پہاڑی کسی جن کا گھر لگ رہا تھا رکشے والے کو ہم نے پیسے دے اور ہوٹل مے چلے گے ابھی ہم کمرہ لے رہے تھے کے وھی لڑکا جو بس مے ہمارے پیچھے تھا وہ ادھر آ گیا اس لڑکے کو علی نے نہیں دیکھا تھا میں نے علی کو کچھ نہیں بتایا وہ میرے پاس سے گزارا تو اس نے آنکھیں میری آنکھوں مے ڈالی. اس کی آنکھیں مجھ سے کچھ کہنا چاہتی تھی لکین ہمارا کمرہ بک ہو گیا میں ادھر چلے گیا.،
کمرے مے پوھنچے تو علی فورن سو گیا تھا میں بھی سونے کی تیاری کرنے لگ گیا میں بستر پر آیا میں نے اپنا چاقو اور گن نکل کر رکھنا چاہیے لکین گن نہیں تھی میں پریشان ہو گیا میں نے سوچا چلو یار کہیں گر گئی ہو گی اس لِیے میں سونے کے لِیے آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا نید آنکھوں سے خاصی دور تھی. اتنی وحشت زدہ رات تھی تو نیند لوڑا آنی تھی میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی تو پتوں کی شائیں شائیں اور خوف سے بھرپور رات نے جان نکل دی تھی.... میرے سامنے وہی لڑکا ا رہا تھا کون ہے یہ اس کے منہ پر کپڑا بھی ہے لکین ہوٹل والوں نے اس کو کچھ نہیں کہا اس کو بھی کمرہ دے دیا ہے یہ کیا ماجرا ہے. میں نے پہاڑی کی طرف دیکھا تو مجھے عمیر کا خیال آیا وہ بیچارہ کیسے اتنے دن اس گھنے سنسان بیابان جنگل میں رہ رہا ہو گا کیا سمن نے اس کو کچھ کھانے کو دیا ہو گا کیا سمن نے اس پر ظلم تو نہیں کیا ہو گا یہ باتیں میرا سر پھر رہی تھی میں رات کی پروا نہ کی اور علی کو کہا کے مجھے بتاؤ سمن نے عمیر کو کہا چھپایا ہے میں خود ہو کر آتا ہوں اگر تم نہیں جانا چاھتے اتنی رات کو علی نے کہا یار پاگل ہے اتنی رات کو وہ بھی جنگل مے جانا ہے کچھ دیر انتظار کر لے سورج نکلنے دے میں خود تیرے ساتھ جاؤں گا فکر مت کر ابھی کچھ نہیں نظر اے گا اور یہ نہ ہو کے لینے کے دینے پر جائیں یہ کہ کر وہ پھر سے آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا
میں بھی اپنے بستر پر ا گیا میں نے سوچا ٹھیک کہ رہا ہے اتنی رات کو کیسے جائیں گے ہمارے پاس کچھ نہیں تھا سب یار کی خاطر اے تھے لکین اب سوچ لیا تھا جو ہو گا دیکھا جاۓ گا
اتنا سوچ رہا تھا کے مجھے بھی نیند آنے لگ گئی
میں نید کی وادیوں نے کھو گیا تھا میری آنکھہ کھولی تو میں نے بھر دیکھا سورج کی روشنی نکل ای تھی میں نے علی کے بستیر کی طرف دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھا میں سوچ رہا تھا کے کدھر گیا ہو گا کہ اچانک دروازہ کھولا اور وہ اندر ا گیا. میں نے کہا کدھر گیا تھا اس نے کہا نیچے گیا تھا ناشتہ کا کہنے تو نہا لے میں نے نہا لیا ہے ناشتہ کر اور پھر چلتے ہیں میں نے باتھ لیا اور ناشتہ کیا اور علی کے ساتھ نیچے ا گیا تھا ہوٹل سے باہر نکلے اور علی نے کہا یار دیاکہ خطرہ بہت ہے ادھر اس پاس کے لوگوں سے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں کے اس جنگل میں جو بھی جاتا ہے واپس نہیں آتا ایسا نہیں ہے کے یہاں کوئی سایہ ہے جنگل کے رہنے والے نہیں آنے دیتے پکا کر کہا جاتے ہیں اور اکثر رات کو ہڈیاں پھینک جاتے ہیں میں باتیں کر کے جا رہے تھے کے سامنے ایک کھوپڑی پڑی ہی تھی جس کو دیکھنے پر ایسا معلوم ہوتا تھا کے یہ رات کی ہے اور اس پر تازہ خون بھی لگا ہوا تھا میرے تو پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی.. میں نے علی کی طرف دیکھا تھا ڈر ہم دونو کے چہرے پر تھا لکین ہم نے اس کو بڑھنے نہیں دیا ہم لوگ جلدی سے وہاں سے نکلے اور اس راستے کو اپنایا جہاں سمن نے عمیر کو اغوا کیا ہوا تھا.. اس جگہ پر دور دور تک درخت ہی درخت تھے علی کو کیسے یہ راستہ پتا تھا مجھے نہیں معلوم تھا لکین وہ لے کر جا رہا تھا ابھی ہم نے جنگل میں کچھ سفر تہ کیا ہو گا کہ دو تین لوگ ہمارے سامنے ا گے میں اور علی ڈر گے انہوں نے مجھے دھکا دیا... علی کچھ نہ کہا اتنے مے سمن بھی آ ہے
میں نے کہا چھوڑنا نہیں آج تجھے یہ پیار تھا تمہارا کے اپنے یار کو اغوا کر لیا ہے
علی ہسنے لگا سمن علی کے پاس ای اور اس کو کس کی میں نے کہا علی یہ کیا ہے علی نے کہا پاگل ہے تو جو تو نے اپنے یار پر یقین نہیں کیا بیچارہ تجھے قسم کہا کر کہتا رہا لکین تو نہیں مانا
کیا مطلب
ملطب میں سمجھاتی ہوں علی نے حمزہ کو لڑکی بن کر میرے کہنے پر پھسایا تیرے دل نے شک میری وجہ سے ڈالا... تیری گن علی نے نکالی اور تو اور اس نے میری پھدی مر لی ہے
علی یہ ٹھیک ہے علی نے مجھے تھپڑ مارتے ہوۓ کہا ھاں یہ سچ ہے تو تو پاگل تھا میری بات پر یقین کرتا رہا میں تجھے نہیں چھوڑوں گیا میں علی کی طرف لپکا تو علی نے مجھے گن نکل کر گولی مارنی چاہیے اس نے سیدھا فائر کیا لکین میری قسمت اچھی تھی کے میرے بازو پر لگ گئی علی نے پھر سے فائر کرنا چاہا لکین گولی نہ نکلی
علی نے سمن کو کہا جانو طلحہ کہ کام ختم کر لوں تم جو عمیر کے پاس آخری دفعہ بات کر لو اگر من گیا تو ٹھیک ورنہ اس کو بھی مر دیں گے اور پھر تم اور میں شادی کر لیں گے
سمن نے کہا تم اس کہ کام ختم کرو پھر دیکھوں گی...
سمن چلے گئی
اب میں اکیلا تھا اور وہ 5 لوگ تھے علی نے میرے بازو پر مکے مارنا شروع کر دے وہ لوگ بھی مجھے مر رہے تھے لکین اچانک ایک آدمی کو گولی لگی اور وہ گر گیا اس تارہا دوسرا پھر تیسرا پھر چوتھا لکین علی کو نہیں مرا مجھے سمجھ نہیں ا رہی تھی کے کون ہے لکین اچانک ایک درخت سے ایک لڑکا اترا اس نے اپنا نقاب اتارا تو میری آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی وہ حمزہ تھا اس نے آتے ہی علی کو ایک ہٹ مری علی نیچے گر گیا اس نے علی کے بازو پر فائر کیا پھر ٹانگ پر میں نے حمزہ کو مانا کیا لکین اس نے اس پر چار فار کِیے... کتی کے بچے تیری ماں کی پھدی مروں برا شوق ہے یاروں سے دھوکا کرنے کہ آج تجھے بتا دوں گا ساتھ ہی حمزہ نے علی کے بازو پر ٹانگوں پر اپنی ٹانگوں سے ہٹ کرنا شروع کر دی اس نے بہت بیدردی سے علی کو مارنا شروع کر دیا دیکھا دھوکے کہ انجام میں اس لئے اس دن نہیں بولا تھا کے تجھ کو سب پتا تھا تو ادھر آیا تھا سمن کی پھدی مرنے کے لئے اس کے لئے تو نے ہم کو دھوکا دیا ہے..
اب دیکھنا دھوکے کا انجام حمزہ نے علی کو رسی سے باندھ دیا تھا علی نے کہا مجھے معاف کر دو پلیز غلطی ہو گئی تھی میں اندھا ہو گا تھا علی کی درد بھری آواز سے میرے دل ہل گیا
حمزہ چھوڑ یار معافی دے دے کہتا نہیں اس نے تجھے مرا ہے اگر تجھے گولی لگ جاتی تو پھر کیا ہوتا میں نے خود ایک گولی ڈالی تھی تا کے کچھ غلط نہ ہو...بات حمزہ کی بھی ٹھیک تھی میں نے حمزہ کو کہا مجھے بھی معاف نہیں کرے گا کیسی باتیں کرتا ہے تو تو اپنا جگر ہے مف کیا لکین اس کو نہیں کرنا علی کو اس نے فائر مر دے اور وہ بیچارہ وہی مر گیا میں حمزہ کے چہرے پر غصہ صاف دیکھ رہا تھا اتنا غصہ نہیں دیکھا تھا اس کے اندر جتنا آج نظر آیا
اس نے ایک فون کیا اور ایک گاڑی ای حمزہ نے ان کو کہا کے یہ سب کے سب غائب کر دو اور جسے ہی یہ کام ختم ہو مجھے فون کرنا
میں حمزہ کے پلان پر دل ہی دل نے داد دے رہا تھا.. حمزہ نے ایک آدمی کو کہا کے اس کی گولی نکال دو اس نے میری گولی نکالی میری چینخیں نکل ای درد کی وجہ سے میرے آنسو نکل رہے تھے...اس کے بعد وہ آدمی چلے گا علی کی لاش کو لے کر اور باقیوں کی لاش کو بھی لے کر....
پھر حمزہ نے مجھے کہا چل اب سمن کی باری ہے
حمزہ یار مجھے تو سمن کا نہیں پتا کدھر ہے وہ کہتا مجھے تو پتا ہے
جس رات یہ سمن کی پھدی لینے آیا تھا میں نے اس کا پیچھا کیا تھا مجھے سب پتا ہے تو فکر نہ کر درد ہو تو نہیں ہو رہی میں نے کہا ہلکی ہلکی ہو رہی ہے اس نے کہا ابھی فرق پڑ جاۓ گا اس نے ایک سپرے نکالا اور میرے بازو پر لگا دیا مجھے درد تو ہی تھی لکین پھر آرام آ گیا تھا
ہم لوگوں نے ابھی آدھا راستہ تہ کیا ہو گا کے ہمارے سامنے پھر کچھ لوگ آ گے اور 2 لڑکیاں میں نے ہرات سے ان کی طرف دیکھا لڑکیاں وہ بھی ادھر... حمزہ نے اپنی گن سے ان کو مار دیا ان کے پاس کچھ نہیں تھا کیوں کے علی نے ان کو سب کچھ بتا دیا تھا شاید اس وجہ سے...
لکین حمزہ نے لڑکیوں کو نہیں مارا وہ 2 تھی حمزہ نے ان کو پتا نہیں کیا کہا پہلے تو وہ من گئی لکین پھر انہو نے حمزہ کو مارنا چاہا حمزہ کو جوڈو کراتے آتے تھے مجھے نہیں آتے تھے ایک لڑکی نے حمزہ کو مارنا شروع کیا ایک نے مجھے میری تو بازو درد کر رہی تھی اس لئے میں کچھ نہیں کر سکتا تھا لکین حمزہ نے 2 منٹ مے اس لڑکی کو ٹھکانے لگا دیا اس کو مارا نہیں تھا لکین وہ اٹھ نہ پائی تھی اس لڑکی نے میرے پیٹ ور کک مری میں دور جا گرا میرا پیٹ درد ہو رہا تھا... لڑکی میری طرف لپکی حمزہ نے اس کو بھی ٹھکانے لگا دیا حمزہ نے پھر سے رسی کو پکڑا اور ان کو باندھ دیا تھا... حمزہ تیاری کر کے آیا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this