Sign in to follow this  
Asifa Kamran

جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں پر کیا گزرتی ہے؟ اہم رپورٹ

Recommended Posts

بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی بدسلوکی ایک تلخ حقیقت ہے جس سے متاثرہ شخص کو  اتنا گہرا صدمہ پہنچتا ہے کہ اس کا اثر کئی دہائیوں تک رہتا ہے۔اس طرح کے  بچے دوہری تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ نہ تو وہ اس حادثے کے اثر سے نکل سکتے  ہیں اور نہ ہی وہ کسی سے اس بارے میں بات کر پاتے ہیں۔لیکن یہ دونوں ہی  باتیں آپس میں جڑی ہیں۔ جنسی استحصال کے بارے میں نہ بتانا، استحصال کا درد  تو بڑھاتا ہی ہے ساتھ ہی متاثرہ شخص کو ڈپریشن میں مبتلا بھی کر دیتا  ہے۔پيرس کی عمر اس وقت تیرہ سال تھی جب ان کے سکول میں ایک استاد نے پہلی  بار ان کا جنسی استحصال کیا تھا۔ اس واقعے کو تیس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں  اور وہ آج تک اس کے اثر سے نکل نہیں پائی ہیں۔تقریباً پینتالیس سال کی عمر  میں پيرس نے خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی اور پھر بڑی مشکل سے اس حالت میں آ  پائیں جس میں وہ اپنا درد دوسروں کے ساتھ بانٹ سکیں۔ آخرِکار وہ پولس  سٹیشن پہنچیں، جہاں انہوں نے ساری کہانی بیان کی.بچپن میں جنسی استحصال کا  شکار ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے ایک تنظیم چلانے والے پیٹ سوڈرس کہتے ہیں کہ  جیسے جیسے وقت بيتتا جاتا ہے، ان لوگوں کے لیے اپنا درد بیان کرنا آسان  ہوتا جاتا ہے۔وہ اپنی اس بات کی دلیل میں ایک امریکی تحقیق کا حوالہ دیتے  ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچے  ایسے واقعات کے تقریباً بائیس سال بعد انہیں سامنے لا سکتے ہیں۔"جب آپ پہلی  بار اس بارے میں بتاتے ہیں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ لوگ اس پر یقین  کریں، اور اگر لوگ آپ کی بات پر منفی رویہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کے لیے  دوبارہ اس بارے میں بات کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔"ایلی گوڈسیپیٹ سوڈرس کے  ساتھ بھی بچپن میں جنسی استحصال ہوا تھا اور وہ پچیس سال بعد ہی دنیا کو اس  بارے میں بتا سکے۔وہ کہتے ہیں،’میں ایک طرح سے اس سے کبھی باہر نہیں نکل  سکوں گا۔ مجھے کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ مجھے آخر کیوں نشانہ بنایا گیا تھا.  میں جب تک زندہ رہوں گا، مجھ میں غصہ بھرا رہے گا‘۔ایک اندازے کے مطابق،  ہر چار میں سے ایک بچہ جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ ایلي گوڈسي ایک ماہرِ  نفسیات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ استحصال کا اثر کئی دہائیوں تک بنا رہتا ہے  اور اس سے شخصیت کا کردار، برتاؤ، شناخت سب کچھ بدل جاتا ہے۔
ان کے  مطابق ’ایسی حالت میں ڈپریشن، تشویش، خود کو نقصان پہنچانے کی فطرت، نشہ  آور اشیاء کا استعمال عام بات ہے۔ اس سے کسی شخص کی پوری زندگی پر اثر پڑتا  ہے۔خاص طور پر تب جب آپ اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرتے ہیں‘۔وہ بی بی  سی کے سابق پیشکار جمی سیول کے معاملے کی مثال دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ  ’جس طرح سے لوگ اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کی کہانی کے ساتھ اب سامنے آ  رہے ہیں، وہ بہت اہم ہے‘۔ایلي گوڈسي کہتی ہیں، ’جب آپ پہلی بار اس بارے میں  بتاتے ہیں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ لوگ اس پر یقین کریں، اور اگر لوگ آپ  کی بات پر منفی رویہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کے لیے دوبارہ اس بارے میں بات  کرنا ناممکن ہو جاتا ہے‘۔لوسي ڈک کے ساتھ بھی ایسا ہی حادثہ پیش آیا۔ وہ  کہتی ہیں کہ گیارہ سال کی عمر تک دو پادریوں نے ان کا جنسی استحصال کیا اور  جب ان کی عمر بیس سال سے زیادہ ہو گئی، تب کہیں جا کر وہ اس بارے میں کسی  کو بتاپائیں۔ایلي گوڈسي کہتی ہیں، ’ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ایسا نہیں  ہوتا تھا۔ تو ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ کوئی جمی سیول، کوئی پادری یا سکول  ٹیچر ایسا نہیں کرے گا‘۔
لیکن اب بچے امید کر سکتے ہیں کہ ان کی بات پر  اعتبار کیا جائے گا اور ان سے ٹھیک سے بات کی جائے گی تاکہ وہ اس طرح کے  استحصال کے معاملات میں خاموشی توڑ سکیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this