khoobsooratdil

پولیو ڈراپ سے متعلق چشم کشا تحریر

Recommended Posts

ڈاکٹر ابو عدنان سہیل

پولیو ڈراپ سے متعلق چونکانے والی مگر چشم کشا تحریر
اقوام متحدہ کے ادارہ ’’یونیسیف‘‘ (unicef) کی زیرِ نگرانی ۱۹۸۵ ؁ء سے ہندوستان کے طول و عرض میں مرض پولیو کے امداد کے لیے ٹیکے لگانے اور اس کے ڈراپس پلانے کی مہم نہایت زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔اس طرح اب تک بلا مبالغہ اربوں ڈالر اس مہم پر خرچ کئے جا چکے ہیں۔جب کہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا بیماریاں جیسے ٹی وی،کینسر،ایڈس وغیرہ کے ذریعہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں لاکھوں لوگ ہر سال لقمۂ اجل بن جاتے ہیں ،ان کے خلاف امداد پولیو جیسی زبردست مہم اور ان پر اتنی خطیر رقم کیوں خرچ نہیں کی جاتی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو عوام الناس کے ذہنوں میں پولیو مہم کے سلسلے میں شکوک و شبہات اور اندیشہ ہائے دور دراز پیدا کرنے کا باعث ہے ۔خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پولیو ڈراپس پلانے کی یہ زبردست مہم یہودی ممالک’’اسرائیل‘‘ کے علاوہ پوری دنیا خصوصاً ایشیائی ممالک میں انتہائی زور و شور سے جاری ہے اور ہندوستان و پاکستان ،بنگلہ دیش اور عرب ممالک جیسے کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں اس پر پورا زور صرف کیا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہو نا لازمی ہے کہ مال کے حریص یہودی اور عیسائی اس مہم پر اربوں کھر بوں ڈالر آخر کیوں خرچ کر رہے ہیں؟ یہ عالم اسلام اور باقی دنیا کے خلاف کو ئی خطرناک سازش تو نہیں ہے؟ اس کے علاوہ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ دور ماضی میں ملیریا اور چیچک کے خاتمے کے لیے ٹیکے لگائے گئے تھے ۔کیا ان کے نتیجہ میں یہ بیماریاں اب معدوم ہو چکی ہیں؟ اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔
عالمی ادارہ صحت (media) میں شائع ہو چکی ہے۔ پوری دنیا میں صرف 600بچے پولیو کا شکار پائے گئے ہیں جب کہ ٹی وی،ایڈس،ملیریا،چیچک،اور سرطان یعنی کینسر وغیرہ میں مبتلا افراد کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہے ۔پھر بھی پولیو کو ختم کرنے کے لئے اربوں کھربوں ڈالر بے تکلف خرچ کئے جارہے ہیں جب کہ مذکورہ بالا سنگین امراض کی دوائیں روز بروز مہنگی اور عوام کی دسترس سے باہر ہو تی جا رہی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ’’میڈیا‘‘ میں چھپ رہی خبروں کے مطابق پولیو کی متعدد خوراکیں پلوانے کے باوجود بہت سے بچے پولیو کا شکار ہو گئے۔ انگریزی اخبار ’’times of india‘‘ مورخہ 18-03-2005 کے مطابق صوبہ بہار کے 18اضلاع میں 2003میں پولیو کے اٹھارہ معاملے سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد جب وہاں پولیو ڈراپس پلانے کی مہم تیز تر کر دی گئی تو اس کے ایک سال بعد 2004میں پولیو میں مبتلا ہو نے والے بچوں کی تعداد کم ہو نے کے بجائے بڑھ کر 41ہو گئی! کیا یہ انکشاف پولیو ڈراپس پلانے کی اس زبردست مہم کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی نہیں ہے ۔ ؟
جہاں تک پولیو ڈراپس پلانے کی یونیسیف(unicef) کی تیار کر دہ حکمت عملی اور اس کے نتائج کی بات ہے، تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جب 1985ء میں عالمی سطح پر پانچ سال کے بچوں کو پولیو ڈراپس پلانے کا آغاز کیا گیا تھا ،تو اس مہم کا نعرہ تھا ’’ایک بوند زندگی میں ایک بار‘‘ اور اب یہ نعرہ بدل دیا گیا ہے ’’دو بوند پولیو ڈراپ کی ہر بار‘‘ اس طرح اب سال بھر میں تقریباً 40 بار سے بھی زائد یہ خوراک پانچ سال تک کے بچوں کو پلائی جا رہی ہے۔آخر ایسا کیوں ؟
ایک سوال اور ذہن میں پیدا ہو تا ہے وہ یہ کہ اقوام متحدہ (u.n.o.) کا ذیلی ادارہ برائے بہبود اطفال ’’یونیسیف‘‘(unicef) جو ہندوستان کے پولیو کا نگراں اور ذمہ دار ہے اور وہ اس پر اب تک اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس ادارہ کی انسانی ہمدردی اور بچوں کی فلاح اور بہبود کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ۱۹۹۱ء ؁ کی پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے اقوام متحدہ (u.n.o.) نے صدام حسین کے دور اقتدار کے آخر تک عراق میں ضروری اور جان بچانے والے ادویات پہنچنے نہ دینے کی پابندی لگا رکھی تھی، جس کی وجہ سے وہاں اس تمام عرصہ میں پانچ لاکھ سے زائد بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو نے کے بعد مطلوبہ ادویہ نہ ملنے سے فوت ہو گئے۔’’سوڈان‘‘ میں دوائیں بنانے کی فیکٹری قائم کی گئی ،تاکہ آئندہ دواؤں سے محروم عراقی بچوں کو موت سے بچا یا جا سکے ،تو امریکہ نے اس فیکٹری پر بم برسا کر تباہ و برباد کر دیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کے قاتلوں کو دنیا کے چند بچوں کے معذور ہو نے سے بچا نے کی فکر کہاں سے لاحق ہو گئی ؟ اس بات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے !
عالمی ادارہ صحت(w.h.o.) جو خالصتاً ایک ’’صیہونی ادارہ‘‘ ہے اور صیہونیت کی عالمی تنظیم زنجری(zengery) کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔ اس کے طبی بلیٹن جلد ۴۷: صفحہ ۲۵۹ (۱۹۷۲ء ؁) کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ کے ایک ڈاکٹر الین کیمپ بیل(allen camp bell) رقمطراز ہیں۔
’’ٹیکوں(vacciness) کے ذریعہ بیماریوں کا مقابلہ کر نے کے نام پر عالمی ادارہ صحت(w.h.o.) ہمارے قدرتی دفاعی نظام (natural immune systen) بر باد کر نے پر تلا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ زمین سے انسانوں کے وجود ہی کو ختم کر دینا چاہتاہے‘‘۔
’’ڈاکٹر الین کیمپ بیل‘‘ جو کہ میڈیسین میں ایم ڈی (m.d.)، ہیں انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’ایڈز وائرس‘‘(h.i.v.) انسانوں کے لئے لیبارٹری میں ہی بنا یا گیا ہے، یعنی وہ (genitically engineered) وائرس ہے،قدرتی پیداوار جرثومہ نہیں ہے۔ اس موضوع پر انہوں نے دو کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ایک کتاب کا نام (aids and the doctor of death) ہے اور دوسری کتاب (queer blood) کے نام سے مارکیٹ میں آئی ہے!۔
ڈاکٹر کیمپ بیل نے لکھا ہے کہ ماضی قریب میں ایک مشہور یہودی سائنس داں جس کا نام ’’جوناس ایڈوارڈ سیلک‘‘ (jonas edward salk) تھا وہ محض ایک اعلیٰ پائے کا بیکٹریا لوجیسٹ(1914-1995) ہی نہیں تھا ،بلکہ ایک بہت بڑا یہودی روحانی پیشوا(ربی) بھی تھا اور جس کا نام آج بھی یہودی ’’ حاخات‘‘ (علماء یہود) اور ربی بڑی عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ اس نے ۱۹۶۳ء ؁ میں امریکہ کے شہر ’’ کیلی فورنیا‘‘ کے ’’لازولہ‘‘ علاقے میں ’’ سیلک انسٹی ٹیوٹ فار بایولوجیکل اسٹڈیز ‘‘ کے نام سے قائم کی تھی، جس کا شمار دنیا کے عظیم الشان بایو لوجیکل اداروں میں ہو تا ہے۔ اس ادارہ کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر( ساڑھے پانچ ارب روپئے) ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چار سو سے زیادہ ’’بایو ٹیکنا لوجیسٹ ‘‘ جنٹک انجینےئر(genetic engineers) اور حیاتی علوم کے سائنس داں شب و روز کا م کر تے رہتے ہیں ۔ڈاکٹر کیمپ بیل کے بیان کے مطابق اس یہودی سائنس داں جوناس سیلک نے ہی اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے چار سال قبل ۱۹۵۵ء ؁ میں ہندوستان اور’’ فلنیائن‘‘ سے چار ہزار بندر منگوا کر کیلی فورنیا کے ’’ بلفٹن‘‘ علاقے میں ندی کے کنارے ایک سنسان مگر پر فضا مقام پر واقع اپنی تجربہ گاہ (laboratory) میں ان بندروں پر کئی سطحوں (stages) پر متعدد مرحلوں پر مشتمل تجربات کئے تھے، اور اس کے بعد ان بندروں کے گردوں (kidney) سے حاصل کر دہ خلیات(cells) سے پولیو(polio) کے پولیو کے مشہور عالم ٹیکے vaccine تیار کر نا اسی یہودی سائنس داں کا کار نامہ ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے ’’ جو ناس سیلک‘‘ کے بتائے ہو ئے پولیو ویکسین کو ہی عالمی امداد پولیو مہموں (world sweeping drives) کے لئے لمبے عرصہ تک استعمال کر نے کا فیصلہ کیا تھا! موجودہ دور میں پولیو ویکسین بنا نے والی سب سے بڑی بین الاقوامی دوا ساز کمپنی ’’ لیڈر لے‘‘( lederle)
جو یہودیوں کی ہی ملکیت میں ہے وہ رے سیس بندروں(rhesis monkeys) کے گردوں (kidneys) سے ہی یہ ویکسین تیار کر رہی ہے ۔اس کمپنی نے ۱۹۶۹ء ؁ سے ۱۹۹۹ء ؁ تک تیس برسوں میں ساٹھ کروڑ پولیو ڈراپس کی فروخت کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔!
’’پولیو ویکسین‘‘ کے سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ (media) نے ،جو اب کے سب یہودیوں کے قبضہ میں اور انہیں کی ملکیت ہیں۔ اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ ’’امریکی تحفظ ادارہ برائے تدارک امراض‘‘ یعنی(cdc) نے سات سال قبل یکم جنوری ۲۰۰۰ء ؁ سے پولیو کے خاتمے کے لئے پلائی جانے والی اورلی پولیو ویکسین(opv) پر امریکہ میں مکمل طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے،اور اس کی وجہ امریکی تحفظ صحت ادارے (cdc)نے یہ بتائی ہے کہ پولیو ویکسین کی ان بوندوں میں مردہ پولیو وائرس (attenuated virus) کے ساتھ پولیو کچھ زندہ وائرس بھی پائے گئے ہیں(جو کہ قصداً اس میں شامل کئے گئے ہیں) ۔
اس سے دوسرے صحت مند بچوں کو بھی یہ مرض لگ سکتا ہے۔ اس کے بجائے اس ادارہ نے امریکہ میں پولیو ڈراپس(opd) پلانے کے بجائے پولیو کی انجکشن لگا نے کی سفارش کی ہے۔ تاکہ پولیو کے پچھلے خطرات کو کم کیا جاسکے۔لیکن اس نئے انجکشن کا خرچ اٹھا نا عوام الناس میں ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ ایک انجکشن کی قیمت تقریباً پانچ ہزار روپئے ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ اتنے مہنگے انجکشن ’’تیسری دنیا‘‘ (یعنی ایشیائی ممالک) کے بچوں کو تو دئے جانے سے قاصر رہے اس لئے عالمی ادار�ۂ صحت (w.h.o.) اور ’’ یونی سیف‘‘ (unicef) جیسے یہودی بین الاقوامی اداروں کے ذریعہ امریکی گوداموں میں کروڑوں کی تعداد میں بیکار ٹیری ’’لیڈر لے کمپنی‘‘ مسترد شدہ پولیو ڈراپس کی خوراکیں(opd) پیکنگ اور لیبل بدل کر دوسری کمپنیوں کے نام سے زبردست پروپیگنڈے کے ذریعہ ایشیائی ممالک میں مفت اور زبردستی پلائی جا رہی ہیں تاکہ غیر یہودی قوموں خصوصاً مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کو آپاہیچ بنا کر عالمی داؤدی سلطنت کے ذریعہ یہودی خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکے
ڈاکٹر الین کیمپ بیل لکھتے ہیں کہ پولیو کی ان بوندوں (opv) کے پینے سے مستقبل میں نئی نسلوں کے پولیو زدہ ہو نے اور ایک خطرناک قسم کے زہریلی جسم کے فالج (paralitic polio) ہو جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔بہر صورت ہندوستان ،پاکستان،سعودی عرب،مصر،یمن،افغانستان،انڈ ونسیا،نائجریاو غیرہ کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں ان پولیو ڈراپس(opd )کو پلا نے کے بعد بھی اچھے خاصے صحت مند بچوں میں اچانک پولیو (polio) ہو جانے کے واقعات کے پیچھے یہی حقیقت کار فرما ہے کہ پلائی جانے والی پولیو ڈراپس (opv) میں موجود ’’زندہ وائرس‘‘ ہی پولیو کے اسباب بن جاتے ہیں۔!!
ایک امریکی صحافی مائیکل ڈورمن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ۱۹۶۲ء ؁ سے ۲۰۰۰ء ؁ تک ڈاکٹر ’’جوناس سیلک‘‘ کے ذریعہ بنائے گئے پولیو ویکسین تیس سال کے عرصے میں صرف عیسائی بچوں کو ہی پلائے گئے تھے ،جبکہ امریکہ کے ڈیڑھ فیصد سے بھی کم یہودیوں نے ’’مذہبی اسباب‘‘ کا بہانہ لے کر اپنے بچوں کو پولیو ڈراپس سے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔!!
پولیو ڈراپس (opd) سلسلے میں سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ : یورپ میں ’’میسو تھیلی یو ما کینسر‘‘ (mesotheliomas cancer) کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ٹیڈ گرنی (dr.tedgerney) جو ایک خطرناک وائرس sv-40 پر ریسرچ کر رہے ہیں ،ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وائرس sv-40 انسانوں میں کینسر (cancer)پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اس وائرس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اتنا خطرناک ہے کہ اگلی نسل انسانی میں بغیر کوئی ٹیکہ یا انجکشن لگائے پیدائشی طور پر مستقل ہو سکتا ہے۔یہ مہلک اور خطرناک ترین وائرس،پولیو ویکسین (opd) میں پائے جانے کے شوہد ان ہی تجربات کے بعد ملے ہیں اور ان شہادتوں کے بعد کہ پولیو ویکسین(opd) میں کینسر کا خطرناک جر ثومہ sv-40موجود ہے۔ کینسر کے ان ماہرین کی رپورٹ پر ہی امریکہ کے محکمہ تحفظ صحت(cdc) نے امریکہ میں پولیو ڈراپس پلانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کی تھی،مگر’’ یہودی ربی‘‘ کے دباؤ پر اس حکم امتناعی کی وجہ صرف یہ ظاہر کی گئی اس میں کچھ زندہ پولیو کے جراثیم پائے گئے ہیں۔!!
بہرنوع! اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عالمی محکمہ صحت(w.h.o.) اور یونی سیف(unicef) جیسے صیہونی ادارے ایشیائی ملکوں،خصوصاً ہند و پاک میں زبردستی اور مسلسل ’’پولیو ڈراپس‘‘پلا کر ایشیائی قوموں بالخصوص مسلمانوں کے معصوم بچوں کے خون میں sv-40 نامی کینسر کا وائرس اور پولیو کے زندہ جراثیم دانستہ طور پر پہونچا کر ان کی آئندہ نسلوں کو آپاہیج اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہو ئے ہیں۔
جہاں تک ایڈز(aids) کے پھیلنے کے ممکنہ خطرات اور امکانات کی بات ہے تو یہ جان لیوا مرض بھی ان صیہونی درندوں کی اپنے دشمنوں(خصوصاً مسلمانوں) کے خلاف حیاتیاتی اسلحوں کی جنگ (biological warfare) کا ایک مہلک ہتھیار ہے، جس کا جر ثومہ(viruses) اصلیت میں لیبار ٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیا گیا وائرس(genetically engineered viruses) ہے، جس کو hiv کا نام دیا گیا ہے۔ یہ جر ثومہ جس کو پہلے چیچک کے ٹیکوں (small pox vaccine) کے ذریعہ، اور اب ہیپاٹائٹس بی (hepatitis-

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_cool.png" alt="B)" /> کے ٹیکوں کے ذریعہ who کی مدد سے
دنیا میں پھیلا یا گیا ہے۔ ۱۱؍مئی ۱۹۷۸ء ؁ کے ’’لنڈن ٹایمز‘‘ میں چھپی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں ’’ایڈز‘‘ کی بیماری پھیلنے کی وجہ ۱۹۷۲ء ؁ میں عالمی محکمہ صحت یعنی whoاور’’یونی سیف‘‘(unicef) کے ذریعہ لگائے گئے چیچک کے ٹیکوں(small pox vaccine) کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے۔ افریقی بندروں کی ایک مخصوص قسم green monkeyپر ’’ایڈز‘‘ کے جراثیم پھیلا نے کی ذمہ داری ڈالنا who کا ’’سفید جھوٹ‘‘ اور قطعی پروپیگنڈہ ہے ،کیو نکہ بقول ڈاکٹر ڈگلس ایم ڈی بندروں کی ’’جین‘‘(gene) کی بناوٹ(structure) کا تجزیہ (analysis) بتا تا ہے کہ بندروں کے ذریعہ قدرتی طور پر ایڈز کے وائرس کا انسانوں کے جسم میں داخل ہو نا ممکن ہی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ۱۹۷۹ء ؁ میں امریکہ کے مختلف شہروں میں آخر ’’ایڈز‘‘وباکیسے پھیلی؟ کیا وہاں بھی افریقی بندر’’ ایڈز‘‘ پھیلا نے پہونچ گئے تھے۔؟؟ حقیقت یہ ہے اس وقت مختلف امریکی شہروں میں ہم جنسی کی لعنت میں گرفتار مردوں کو دے گئے ہیپا ٹائٹس(hepatitis-b vaccine) کے ٹیکوں کے ذریعہ ہی ’’ایڈز‘‘ وہاں پھیلا تھا۔اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ w.h.o. اور unicefکی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہیپا ٹائٹس بی(hepatitis-

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_cool.png" alt="B)" /> جو اب تک دنیا بھر میں پچاس کروڑ سے زائد لوگوں کو لگایا جا چکا ہے،وہ بھی پولیو ڈراپس(opd) کی طرح صیہونی مملکت’’اسرائیل‘‘ میں8 ہی نہیں لگایا جا تا ہے اور اس پر وہاں مکمل پابندی عائد ہے۔
پولیوڈراپس(opd) کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ بندروں کے گردوں کے خلیات(cells) سے تیار کیا جاتا ہے،جس میں’’structure‘‘ ڈی این اے(dna) اور آر این اے(rna) پوری طرح موجود ہو تا ہے۔مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم پر بندر و خنزیر جیسے حرام جانوروں کا نہ صرف گوشت کھانا حرام ہے بلکہ ان کے جسم کے کسی بھی جزء کا اکلاً و شرباً استعمال کرنا بھی شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔اس بات کو ہمیں نظر انداز نہ کر نا چاہئے کہ اس کے علاوہ مذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر جب ہمارے دیرینہ دشمن یہودؔ ، ہماری آئندہ نسلوں کو ناکارہ اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہوئے ہیں تو ہم دانستہ طور پر ان کی اسی مہم میں معاون اور آلہ کار کیوں بنیں؟۔
اگر ہمیں آئندہ نسلوں کا تحفظ اور مستقبل میں مسلمانوں کی بقاء اور ایمان عزیز ہے تو ہمیں ذاتی مفاد اور چند سکوں کے لالچ سے دست بردار ہو کر مسلمانوں کی ’’نسل کشی‘‘ کی اس خطرناک مہم سے دامن کش ہو جانا چاہئے ۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج ہمارے بہت سے بے روز گار مسلمان نوجوان اور پردہ نشین خواتین ذاتی مفاد اور چند روپیوں کے لالچ میں پولیو(polio) کی اس زہریلی مہم کے ورکر بنے ہو ئے ہیں اور گھر گھر جاکر یہ میٹھا زہر(slow poison) مسلمانوں کے معصون بچوں کے حلق میں اتار تے ہو ئے جھجھک تک محسوس نہیں کرتے۔ اور غضب بالائے غضب یہ ہے کہ اب ’’علماء کرام‘‘ کو بھی اس اسلام دشمن اور انسانیت سوز مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور بعض علماء اپنی سادہ لوحی اور حقیقت سے لا علمی کی بنا پر اپنے دشمن یہودیوں کی اس ’’جنگی مہم‘‘ میں ان کے معاون اور آلہ کار بنے ہو ئے ہیں ۔حالانکہ قرآن مجید میں وہ حق تعالیٰ کا یہ فرمان برابر پڑھتے اور طلباء عزیز کو پڑھاتے رہتے ہیں:


’’لوگوں میں مومنوں کا سب سے سخت دشمن تم قوم یہود کو پاؤگے اور ان لوگوں کو جو شرک کر تے ہیں اور مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہلاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں درویش اور عبادت گذار لوگ پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔۔(المائدہ:۸۲)‘‘
کیا ہمارے علماء کرام اور درد مندان ملت اس سلسلے میں اپنی خصوصی توجہ مبذول فرما کر کوئی عملی قدم اٹھا نے کی زحمت گوارہ فرمائیں گے؟۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

Dear un se to achay ki umeed ha hi nahi mager jab hamain un ki haqeeqat pata chal jay to un ki saazish se bhi bachna zaroori ha

kia ap apnay bachon ko Poliyo k Drops pilaati hain?

Share this post


Link to post
Share on other sites

بالکل درست فرمایا کے ڈے بھائی ۔۔دنیا میں جتنے بھی وائرس پائے جاتے ہیں سبھی بنائے جاتے ہیں۔۔اور پھر ان کے اینٹی وائرس بنا کے پیسے کمائے جاتے ہیں۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

jin cities mein pilaye jaty hain wahan polio ki sharah kafi kam hai jab k jin cities mein nahi palany diye jatay wahan ratio ziada kiyon hai ? ? ?

i don't agree with this article .

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

ڈئیر پولیو سے تو بچ جاتے ہیں مگر مزید بہت سی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔میں نے تو یہ تک سنا ہے کہ پولیو ڈراپس میں ایسے جرثومے پائے جاتے ہیں جو مردانہ طاقت کو بے حد نقصان پہنچاتے ہیں۔۔جس سے  آدمی کی بچے پیدا کرنے والے کیپیسٹی گھٹ جاتی ہے۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں اس آرٹیکل سے جزوی اتفاق کروں گا - کیا کریں ہر ہم چیز کو سازش کی عینک سے دیکھنے کے بعد اس کی مخالف ہر سٹوری پر من و عن یقین کرتے ہیں


پولیو درحقیقت ہمارا تو قومی مسئلہ ہے ہی نہیں --- اسے زبردستی ہمارا قومی مسئلہ بنایا گیا ہے


ورنہ ایسی بیماری جس کے پورے ملک میں چند سو کیس ہیں - اور بیماری بھی جان لیوا نہیں بلکہ معذوری کی ہے


اس کے مقابلے میں ہیپاٹائٹس سی کے صرف 40 لاکھ مریض ملک میں موجود ہیں


ہیپاٹائٹس بی کے کیسز اس کے علاوہ ہیں - اور غالبا یہ جان لیوا بیماریاں ہیں


اتنے کیسز کے ساتھ تو ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی لگنی چاہیے - لیکن کسی کے کان میں جوں بھی نہیں رینگتی


ایک کیس پولیو کا نکل آئے تو بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی ہیں


پولیو درحقیقت دنیا بھر کا مسئلہ ہے -  دنیا کے تمام ممالک سسٹیمیٹک پولیو مہمات چلا کر اپنے ملکوں سےپولیو ختم کر چکے ہیں


پاکستان ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جہاں پولیو ختم نہیں ہوا - دنیا کو خطرہ ہے کہ پاکستان سے پولیو ان کے ملکوں میں واپس نہ آجائے


 


تو یہ باقی دنیا کا مسئلہ ہے - اسی لیے دنیا اتنے پیسے لگاتی ہے اس کی مہمات پر


ہمارے اپنے تو اس سے کہیں بڑے دوسرے مسائل ہیں


لیکن کیا کریں ہم تو ہیں ہی دوسروں کی جنگ لڑنے کے لیے


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now