Sign in to follow this  
khoobsooratdil

منافقت

Recommended Posts

وہ  بہت غصے میں دفتر میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرنے کا انداز ظاہر کررہا تھا  جیسے کسی سے لڑ جھگڑ کر آیا ہو۔ آتے ہی کہنے لگا، یہ کیا بدتمیزی ہے؟ تم  لوگ کیا نئے نئے اصول بناتے ہو؟ ناک میں دم کرکے رکھا ہے۔ یہ رپورٹ دو، وہ  رپورٹ لکھو۔ ہم لوگ اپنا بھی کوئی کام کرسکتے ہیں یا پھر صرف آپ جیسے دفتری  لوگوں کی فرمائشیں پوری کریں؟’ وہ بولتا ہی چلا گیا۔
 
 ٹیم لیڈر نے اس کی طرف دیکھا، اور کہا، ‘کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟’
 
 اس نے پھر بھنا کر کہا، ‘ارے ایک مسئلہ ہو تو بتاؤں۔ تم لوگ ہر روز نئے  نئے مطالبے کرتے ہو۔ کام میں روڑے اٹکاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’ وہ پھر وہی  رونا شروع ہوگیا۔
 
 ‘ٹھیک ہے، ہم دیکھتے ہیں، کیا مسئلہ ہے۔ آپ ناراض نہ ہوں۔’ ٹیم لیڈر نے اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
 
 ‘ارے پریشان ہوتی ہے میری جوتی۔ میں کیوں* پریشان ہوں بھلا؟ میں تو تم  لوگوں کو یہ بتانے آیا ہوں کہ مجھے اپنا کام کرنے دو، یہ فضول کے نئے نئے  طریقہ کار میرے لئے درد سر ہیں۔’
 
 دفتر میں بیٹھے باقی سارے لوگ  اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کچھ ادھیڑ عمر پرانے کھلاڑی ایک  دوسرے کو اشاروں سے آگاہ کررہے تھے، کہ اب ٹیم لیڈر کی خیر نہیں۔ آفس بوائے  بھی سارے کام چھوڑ کر کیبن کے باہر کان لگا کر کھڑا تھا۔ ٹیم لیڈر کے ساتھ  بیٹھے معاونین بھی اس نئی صورتحال پر پریشان تھے۔ احتجاج کرنے والا ان کا  اپنا ساتھی تھا، لیکن دفتر کے دوسرے سیکشن میں کام کرتا تھا۔
 
 ایک  معاون نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، ‘جناب یہ تو  نئے سسٹم کا تقاضا ہے۔ اس طرح آپ کمپنی کے اصولوں کے مطابق عمل کرتے ہیں تو  سب کا فائدہ ہوتا ہے۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ سب کو کام میں* آسانی ہو۔  پھر بھی ہم کوشش کریں گے، آپ کی بات اعلیٰ افسران تک پہنچائیں گے۔’
  ‘جی بالکل، جناب کی شکایت بجا ہے۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا، کہ اس طرح کام  میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔’ دوسرے معاون نے شکایت کنندہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔
 ‘میں بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اس نئے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔’ تیسرے معاون نے بھی سر کجھاتے ہوئے کہا۔
 
 ٹیم لیڈر بھی بے بس ہوگیا۔ کہا، ‘ٹھیک ہے، ہم آپ کی بات نوٹ کرکے اپنے سینئر افسران کو پہنچادیں*گے۔’
 
 یہ سن کر شکایت کنندہ نے سب کی طرف دیکھا اور باہر نکل گیا۔
 
 اس کے جانے کے بعد ٹیم لیڈر نے میز پر پڑے ہوئے ٹرے کو ہاتھ سے دھکا دے کر  نیچے پھینک دیا۔ ‘ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو؟ بڑا آیا بڑھکیں مارنے والا!’
 
 ‘ارے بہت ہی فضول قسم کا بندہ ہے جناب۔ میرا تو دل کررہا تھا، کہ سیدھا دو تین جڑ دوں اس کے منہ پر۔’ پہلے معاون نے غصے سے کہا۔
 
 ‘جناب، میں تو اس سے بولنے ہی والا تھا کہ اپنی بکواس بند کرکے دفع ہوجائے  لیکن آپ لوگ اس کو سمجھا رہے تھے تو میں نے بھی اس کو سمجھانے کی کوشش  کی۔’ دوسرے معاون نے میز پر پڑے کاغذات کو درست کرتے ہوئے کہا۔
 
  تیسرا معاون اپنی کرسی سے اٹھ کر فرش پر پڑے ٹرے کو اٹھانے لگا جو ٹیم لیڈر  نے غصے میں نیچے پھینک دیا تھا، اور کہنے لگا، ‘ اگر وہ دوبارہ آیا تو میں  اس کو ایسا جواب دوں گا کہ یاد رکھے گا۔’
 
 میں اس ساری کارروائی  کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ ساری باتیں سن کر مجھ سے رہا نہ گیا  اور پوچھا، ‘ آپ لوگوں نے یہ باتیں اس بندے کے سامنے کیوں* نہیں کی؟’
 
 ‘ارے تو تم بول دیتے نا۔ منہ میں زبان نہیں تھی کیا؟’ ٹیم لیڈر نے پھنکار کر میری عزت افزائی کی۔
 
 ‘یہ کیا بولیں گے جناب، ہم پر طنز کرتا رہتا ہے۔’ پہلے معاون نے حسبِ معمول ہاں میں ہاں ملائی۔
 
 ‘بزدل کہیں کا۔’ دوسرے معاون نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا مناسب سمجھا۔
 
 ‘ڈرپوک کہیں کا۔’ تیسرے معاون نے بھی مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا۔
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this