Sign in to follow this  
Asifa Kamran

بھارت: خاتون سے زیادتی کرنیوالے رکن پارلیمنٹ کی ننگا کر کے پٹائی

Recommended Posts

نئی دہلی: خاتون سے زیادتی  کرنے والے حکمراں کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے اعتراف جرم کے بعد  مشتعل خواتین نے کپڑے اتار کر پٹائی کردی واقعے کی فوٹیج ٹی وی پرنشر ہو  گئی ۔
طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے 5 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے  اورمقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگئی۔ طالبہ سے اجتماعی زیادتی اور قتل کے  خلاف سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن کے حق میں فیصلہ آنے سے جنسی زیادتی کے  الزام میں ملوث بھارتی ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیے جانے کا امکان پیدا  ہوگیا ہے۔اے ایف پی کے مطابق چیف جسٹس التماس کبیر نے طالبہ سے اجتماعی  زیادتی کیس کے حوالے سے عوام کے اشتعال اور جلد سماعت کے مطالبے کے پیش نظر  کہا کہ کیس کی تیز رفتار سماعت کیلیے انصاف کے تقاضوں کو پس پشت نہیں ڈالا  جاسکتا۔
آسام کے ایک دور دراز گاؤں میں لڑکی سے زیادتی پر حکمراں کانگریس پارٹی  کے رکن پارلیمنٹ بکرم سنگھ برہما کو گرفتار کرلیا گیا۔گاؤں کی خواتین نے  کانگریسی رہنما کو ننگا کرکے پٹائی کردی اس واقعے کی فوٹیج ٹیلی ویژن پر  نشر ہوگئی ۔گزشتہ روز ہزاروں مظاہرین نے طالبہ سے اجتماعی زیادتی واقعے کے  خلاف گاندھی کی یادگار پر خاموش احتجاج کیا۔این این آئی کے مطابق بھارتی  ریاست آسام میں کانگریس رہنما بکرم سنگھ نے خاتون کے ساتھ زیادتی کا اعتراف  کرلیا، ان کا جرم قبول کرتے ہی وہاں موجود خواتین مشتعل ہوگئیں اور ان کو  خوب مارا پیٹا۔
بکرم سنگھ پر آسام میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے کا الزام تھا، جس  پر پولیس نے انھیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔کانگریس رہنما نے دوران  تفتیش خاتون سے زیادتی کا اعتراف کیا۔واقعے پر گائوں کی خواتین مشتعل  ہوگئیں اور انھوں نے بکرم سنگھ پر حملہ کردیا۔ خواتین نے بکرم سنگھ پر  تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔ بکرم سنگھ کی اس حرکت پر حکمراں جماعت  کانگریس پر بھی شدید تنقید کی گئی ۔آن لائن کے مطابق طالبہ کے ساتھ اجتماعی  زیادتی کے 5 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے اس کے ساتھ ہی اس مقدمے  کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگئی اور فاسٹ ٹریک عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر  یہ مقدمہ سنا جائے گا۔

Please login or register to see this image.


ایک ملزم کی عمر کم تھی اس لیے اس پر بچوں کی عدالت میں مقدمہ چلے گا  پولیس نے اس مقدمے میں 6 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔ مقدمے کے 5 ملزم دہلی  کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ نابالغ ملزم کو بچوں کے اصلاح خانے میں رکھا  گیا ہے جنوبی دہلی کی ساکیت کی عدالت میں فرد جرم عائد کرتے وقت سیکیورٹی  وجوہات کے سبب ملزمان کو عدالت میں پیش نہیںکیا گیااس عدالت میں 5 فاسٹ  ٹریک عدالتیں قائم کی گئی ہیں ۔ امکان ہے کہ کیس کی سماعت ایک ماہ کے اندر  مکمل ہوجائے گی ۔ساکیت کی عدالت کے احاطے میں اس موقع پر قومی اور بین  الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کی زبردست بھیڑ تھی جو عدالتی کارروائی کی  کوریج کے لیے جمع تھے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرد جرم عائد ہونے سے پہلے عدالت کے احاطے  میںخواتین وکلا نے ایک مظاہرہ بھی کیا۔آن لائن کے مطابق اس وقت بھارت کے6  ریاستی ارکان پارلیمنٹ جنسی زیادتی اور 2 مرکزی پارلیمنٹرینز خواتین سے  زیادتی میں ملوث ہیں۔ 23سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے بعد سابق حکومتی  ایڈمنسٹریٹرز پرومیداشنکر نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی کہ جنسی زیادتی  میں ملوث تمام ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیا جائے جسے چیف جسٹس التماس کبیر  نے سماعت کیلیے منظور کرلیا۔آن لائن کے مطابق بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر  میں پولیس نے ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے روانڈا کے 3 طالبعلموں  کو گرفتار کرلیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ پولیس کمشنر دلویر سنگھ نے کہا  ہے کہ روانڈا کے شہری طالبعلم ایک نجی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں جنہیں  ایک لڑکی کے ساتھ سربازار چھیڑ چھاڑ کرنے پر مقامی لوگوں نے پکڑ کر پولیس  کے حوالے کردیا۔این این آئی کے مطابق نئی دہلی میں ہزاروںخواتین نے آبرو  ریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف ریلی نکالی اور سخت قوانین بنانے کا  مطالبہ کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ریلی کے شرکا نے وزیر اعلی شیلا ڈکشٹ سے  مطالبہ کیا کہ آبروریزی کے خلاف قوانین پر عملدرآمد کیا جائے۔ واقعے کے  خلاف بھارت بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this