Sign in to follow this  
Guru Samrat

بے حسی ہماری۔۔۔۔از گرو سمراٹ

Recommended Posts

ایک بحری جہاز پر ایک ڈریکولا انسانی روپ میں سوار تھا۔۔ رات ہوتے ہی وہ جہاز پر سوار کسی انسان کا خون پیتا اور یوں اپنی پیاس بجھاتا۔۔۔ ایک روز یہ بحری جہاز بیچ سمند میں کسی چٹان سے ٹکرا گیا۔۔ لوگ فوراً لائف بوٹس کی طرف بھاگے۔۔یہ ڈریکولا بھی ایک آدمی کی مدد سے ایک لائف بوٹ پر سوار ہو گیا ۔۔ قسمت کی خرابی کے اس کی لائف بوٹ پر صرف ایک ہی شخص تھا اور یہ ہی وہ شخص تھا جس نے اسے بچایا اور بوٹ یا کشتی میں


آنے میں مدد کی۔۔
رات ہوئی توڈریکولا کو انسانی خون پینے کی پیاس ہوئی۔۔ ڈریکولا نے خود کو کہا کہ یہ بےشرمی ہو گی جو میں اپنے محسن کا خون پیوں ۔۔۔ اس نیک بندے نے ہی تو مجھے ڈوبنے سے بچایا ہے۔۔میں کس طرح احسان فراموشی کروں؟؟؟
ایک دن ۔۔دو دن ۔۔۔ تیں دن وہ اسی دلیل سے خود کو روکتا رہا ۔۔۔ بلاخر ایک دن دلیل پر فطرت غالب آ گئی۔۔۔ اس کے نفس نے اسے دلیل دی کہ صرف دو گھونٹ ہی پیوں گا اور وہ بھی اس وقت جب محسن انسان نیند میں ہو گا۔۔ تاکہ اس کی صحت پر کوئی واضع فرق بھی نہ پڑے اور میری پیاس بھی تنگ نہ کرے۔۔۔
یہ سوچ کر روزانہ اس نے دو دو گھونٹ خون پینا شروع کر دیا۔۔ ایک دن اس کا ضمیر پھر جاگا اور اس پر ملامت کرنے لگا ۔۔۔ تو اس شخص کا خون پی رہا ہے جو تیرا دوست ہے۔۔۔ جس نے نہ صرف تجھے بچایا بلکہ جو مچھلی پکڑتا ہے۔۔۔ جو اوس کا پانی جمع کرتا ہے اس میں سے تجھے حصہ بھی دیتا ہے۔۔۔ یقیناً ۔۔یہ بے شرمی کی انتہا ہے۔۔ یہ محسن کشی ہے۔۔۔ اس بے شرمی کی زندگی سے تو موت اچھی ۔۔۔
ڈریکولا نے فیصلہ کیا کہ اب میں کبھی اپنے محسن کا خون نہیں پیوں گا ۔۔۔
ایک رات گزری، دوسری رات گزری ، تیسری رات ڈریکولا کا محسن بے چینی سے اٹھا اور بولا تم خون کیوں نہیں پیتے۔۔۔ ڈریکولا حیرت سے بولا کہ تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میں ڈریکولا ہوں اور تمھارا خون پیتا تھا ۔۔۔ محسن بولا ۔۔کہ جس دن میں نے تمھیں بچایا تھا ۔۔اس دن تمھارے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کر کے میں سمجھ گیا تھا کہ تم انسان نہیں ہو۔۔۔
ڈریکولا ندامت سے بولا ۔۔دوست میں شرمندا ہوں جو میں نے کیا لیکں اب میرا وعدہ ہے ۔۔۔ میں مر جاون گا لیکں تمھیں نقصان نہیں پہنچاوں گا۔۔۔
محسن بولا کیوں مجھ سے دشمنی کا اظہار کر رہے ہو۔۔۔ پہلے پہل جب تم خون پیتے تھے تو مجھے تکلیف ہوتی تھی ۔۔لیکن میں چپ رہتا کہ کہیں تمھیں پتہ نہ چل جائے اور میں مارا جاوں۔۔۔ لیکں اب مجھے خون پلانے کی عادت ہو گئی ہے۔۔اور پچھلے تیں دن سے عجیب بے چینی ہے ۔۔۔ اگر تم نے خون نہ پیا تو میں مر جاوں گا۔۔۔
کتنی حیرت کی بات ہے بحیثیت قوم ہمیں بھی خون پلانے کی عادت ہو چکی ہے، ہم اپنی خوشی سے اپنی مرضی سے خون پینے والوں کو منتخب کرتے ہیں اور پھر اپنا خون پلا پلا کر انہیں پالتے ہیں ، تاکہ اگلی دفعہ بھی انہیں خون پینے والوں کو منتخب کر سکیں ، کیونکہ ہمیں بھی خون پلانے کی عادت ہو چکی ہے ، خون نہ پلائیں گے تو ہم بھی مر جائیں گے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

دو نابینا پائلٹ جنہوں نے گہرے رنگ کے چشمے لگائے ہوئے ہیں جہاز میں داخل ہوتے ہیں ، ایک نے رہنمائی کرنے والے تربیت یافتہ کتے کی رسی تھامی ہوئی ہے جبکہ دوسرے کے ہاتھ میں نابیناؤں والی مخصوص چھڑی ہے جسے وہ دائیں بائیں مار کر رستے کا اندازہ کر رہا ہے.. انہیں کاک پٹ کی طرف جاتے دیکھ کر جہاز میں بیٹھے مسافروں نے نہایت ہی نروس انداز میں قہقہہ لگایا تاہم دونوں پائلٹ کاک پٹ میں داخل ہوگئے اور کاک پٹ کا دروازہ بند ہوگیا



مسافروں میں ہیجان پھیلنا شروع ہوگیا اور وہ بے چینی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، کچھ کے ذہن میں تھا کہ شاید یہ انکے ساتھ ائیر لائن کی طرف سے مذاق کیا جا رہا ہے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے کہ شاید ابھی انکے لیے کوئی اشارہ یا ہدایات لکھی ہوئی ہو
اتنی دیر میں جہاز کے انجن سٹارٹ ہوگئے اور جہاز رن وے پر ڈورنا شروع ہوگیا ، کچھ لوگوں کی دبی دبی چیخ نکل گئی کھڑکیوں والے مسافر گھبرا کر باہر جھانکنے لگ گئے ، جہاز کی رفتار تیز ہوگئی اور وہ رن وے کے آخری سرے کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا،

سب مسافر جانتے تھے کہ اس رن وے کے اختتام پر سمندر ہے اور اگر جہاز اسی طرح دوڑتا رہا تو سمندر میں ضرور گرے گا ، جب سمندر سے فاصلہ بہت کم رہ گیا اور جہاز فضا میں بلند نہ ہوا تو تمام مسافر خوف اور دہشت سے بری طرح چیخ اٹھے، اسی لمحے طیارہ فضا میں بلند ہوگیا اور تمام مسافر کھسیانی سی ہنسی ہنسے لگ گئے تاہم جب انہوں نے طیارہ بلند ہونے کے بعد اپنے آپ کو محفوظ ہاتھوں میں خیال کیا تو وہ مطمئن ہوگئے اور رسائل کے مطالعے یا ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوگئے

کاک پٹ کے اندر ایک پائیلٹ نے دوسرے سے کہا کہ یار آج یہ مسافر دیر سے نہیں چیخے ، دوسرے نے کہا باکل اور مجھے لگتا ہے کہ جس طرح اب یہ چیخنے میں دیر کرنے لگ گئے ہیں تو یہ کسی دن اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی مروائیں گے


کیا ہم عوام کا حال بھی اس جہاز کے مسافروں کی طرح نہیں ہے۔؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

نیو یارک کی ایک شاہراہ پر ایک  کتا ایک بچے پر جھپٹا۔ اس سے قبل کہ کتا اپنا کام کر دکھاتا، ایک راہگیر نے  کتے کی گردن دبوچ لی اور اس وقت اسے چھوڑا جب کتا مر گیا۔ نیویارک ٹائمز  کا ایک رپورٹر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔


 اس نے راہگیر کی تصویر بناتے ہوئے کہا:
  "صبح نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر ایک تصویر اور ایک خبر شائع ہو گی جس  کی سرخی یہ ہوگی۔۔۔۔ ایک نیو یارکر نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ایک بچے  کی جان بچائی۔"
 
 "سرخی تو خوب ہے مگر میں نیو یارکر نہیں ہوں۔" راہ گیر نے کہا۔
 
 "تو پھر سرخی یہ ہوئی، ایک امریکی نے جان پر کھیل کر بچے کو بچا لیا۔" رپورٹر بولا۔
 
 "یہ سُرخی بھی عمدہ ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ میں امریکی بھی نہیں۔"
 "تو پھر تم کون ہو؟" رپورٹر نے پوچھا۔
 
 "میں ایک پاکستانی ہوں۔" جواب مِلا۔
 
 اگلے روز نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی خبر کی سُرخی یہ تھی:
 "ایک بنیاد پرست مسلمان نے پالتو کتے کی گردن مروڑ ڈالی۔"

Share this post


Link to post
Share on other sites

................ملک میں امن کیسے قائم ہو ؟ ...................


 
  ایک دفعہ ایک بادشاه نے ایک کمہار کے گدھوں کو ایک قطار میں چلتے دیکھا۔  کمہار کو بلایا اور پوچھا یہ کس طرح سیدھے چلتے ہیں۔ کمہار نے کہا جو لائن  توڑتا ہے اس کو سزا دیتا ہوں۔ بادشاہ بولا میرے ملک میں امن و امان ٹھیک کر  سکتے ہو۔ کمہار نے حامی بھر لی اور بادشاہ کےساتھ چل پڑا۔
 
 دارالحکومت پہنچتے ہی عدالت لگا لی‘ چور کا مقدمہ آیا تو چور کو ہاتھ  کاٹنے کی سزا دی۔ جلاد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کیا کہ چور کو انکی  سرپرستی حاصل ہے۔ کمہار نے پھر حکم دیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ وزیراعظم  سمجھا شاید جج کو پیغام کی صحیح سمجھ نہیں آئی۔ وہ آگے بڑھا۔ کمہار کے کان  میں کہا کہ یہ اپنا آدمی ہے۔ کمہار نے بطور جج فیصلے کا اعلان کیا چور کا  ہاتھ کاٹا جائے اور وزیراعظم کی زبان کاٹ دی جائے بادشاہ نے فیصلہ پر عمل  کرایا۔ آگ و خون کی لپیٹ میں آئے ہوئے ملک میں ایک فیصلہ سے ہی مکمل امن  قائم ہو گیا۔
 
 اگر گنہگار کی سفارش کرنے والی زبان کاٹ دی گئی۔
 
 اگر اپنوں کی سرپرستی چھوڑ دی گئی۔
 
 اگر مخالفین کو پھنسانے کی سیاسی چالیں بند کر دی گئیں
 
 تو گولیاں بھی بند ہو جائیں گی اور قتل و غارت بھی رک جائےگا، امن بھی قائم ہو جائےگا

Share this post


Link to post
Share on other sites

كسان كى بيوى نے جو مكهن كسان  كو تيار كر كے ديا تها وه اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى  طرف روانہ ہو گيا، یہ مكهن گول پيڑوں كى شكل ميں بنا ہوا تها اور ہر پيڑے  كا وزن ايک كلو تها۔


 شہر ميں كسان نے اس مكهن كو حسب معمول ايک دوكاندار كے ہاتھوں فروخت كيا اور دوكاندار سے چائے كى پتى، چينى، تيل اور صابن وغيره خريد كر واپس اپنے گاؤں كى طرف روانہ ہو گيا۔
 
  كسان كے جانے بعد دوكاندار نے مكهن كو فريزر ميں ركهنا شروع كيا اسے خيال  گزرا كيوں نہ ايک پيڑے كا وزن كيا جائے۔ وزن كرنے پر پيڑا 900 گرام كا  نكلا، حيرت و صدمے سے دوكاندار نے سارے پيڑے ايک ايک كر كے تول ڈالے، مگر  كسان كے لائے ہوئے سب پيڑوں كا وزن ايک جيسا اور 900 – 900 گرام ہى تها۔
 
  اگلے ہفتے كسان حسب سابق مكهن ليكر جيسے ہى دوكان كے تهڑے پر چڑها،  دوكاندار نے كسان كو چلاتے ہوئے كہا کہ وه دفع ہو جائے، كسى بے ايمان اور  دهوكے باز شخص سے كاروبار كرنا اسكا دستور نہيں ہے. 900 گرام مكهن كو پورا  ایک كلو گرام كہہ كر بيچنے والے شخص كى وه شكل ديكهنا بهى گوارا نہيں كرتا۔
 
 كسان نے ياسيت اور افسردگى سے دوكاندار سے كہا:
 “ميرے بهائى مجھ سے بد ظن نہ ہو ہم تو غريب اور بے چارے لوگ ہيں، ہمارے پاس تولنے كيلئے باٹ خريدنے كى استطاعت كہاں؟
 آپ سے جو ايک كيلو چينى ليكر جاتا ہوں اسے ترازو كے ايک پلڑے ميں رکھ كر دوسرے پلڑے ميں اتنے وزن كا مكهن تول كر لے آتا ہوں۔
 
 اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد آپ کیا محسوس کرتے ہیں۔
 کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے کیا ہم پہلے اپنے گریبان چیک نہ کرلیں۔ کہیں یہ خرابی ہمارے اندر تو نہیں ؟ شکریہ
 
 کیونکہ اپنی اصلاح کرنا مشکل ترین کام ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this