Sign in to follow this  
Asifa Kamran

پیدائش کے وقت باپ کی موجودگی ضروری کیوں؟

Recommended Posts

کسی زمانے میں جب بچہ پیدا ہوتا تھا کہ تو باپ کو پتہ  ہی نہیں ہوتا تھا کہ بچہ دن کے کس وقت، کن طبی حالات میں پیدا ہوا، تاہم اب  حالات بدل چکے ہیں۔ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بچے کی پیدائش کے  وقت باپ کی موجودگی کا رحجان فروغ پا رہا ہے۔


سنہ انیس سو پچاس کی دہائی میں بچے کی پیدائش کے وقت باپ کی موجودگی بہت  ہی کم ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ڈیلوری روم میں خاتون کو ہسپتال کی ٹرالی  میں ڈیلوری ٹیبل تک پہنچایا جاتا تھا۔


اس وقت ڈیلوری روم میں نرسیں ڈاکٹر کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں اور ان کی  مدد اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے بچے کی پیدائش ہو جاتی تھی تاہم اس وقت بچے  کا باپ کہاں تھا؟


برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر لورا کنگ کا کہنا ہے کہ  سنہ پچاس میں آدمیوں کا یہ خیال تھا کہ ڈیلوری روم ان کی جگہ نہیں ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں پیدا ہونے والے بچوں کے والد اپنے بچے کی  پیدائش کے دوران ان کی ڈیلوری روم میں موجودگی کے خیال کے لیے ہی تیار نہیں  تھے۔


لورا کنگ کے مطابق اس عرصے کے دوران متعدد خواتین بھی اس خیال کو پسند  نہیں کرتی تھیں کہ ان کے خاوند بچوں کی پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں موجود  رہیں۔


ڈاکٹر کنگ کے مطابق سنہ انیس سو بیس، تیس اور چالیس کی دہائی میں آپ کو  ایسی متعدد مثالیں ملتی ہیں جس میں میاں بیوی یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں  کہ انہوں نے کبھی ایک دوسرے کو برہنہ نہیں دیکھا۔


ڈاکٹر کنگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے جوڑوں کے چھ چھ بچے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی ایک دوسرے کو مکمل برہنہ نہیں دیکھا۔


سنہ انیس سو پچاس کی دہائی میں یہ رحجان بدلنے لگا اور چند باپ اپنے  بچوں کی پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں اپنی موجودگی کو ترجیح دینے لگے۔


سنہ انیس سو اڑتالیس میں برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس متعارف کروائی  گئی جس کے تحت زیادہ تر خواتین اپنے بچوں کی پیدائش گھر کے مقابلے میں  ہسپتالوں میں کروانے لگیں۔


اس بارے میں ڈاکٹر کنگ کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو اکاون میں لندن  یونیورسٹی کالج ہسپتال نے بچوں کی پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں مردوں کی  موجودگی کی حوصلہ افزائی کی۔ تاہم اس بارے میں اصل تبدیلی سنہ انیس سو ستر  کی دہائی میں آئی۔


ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان اعدادوشمار کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے تاہم  سنہ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آخر سے لیکر سنہ انیس سو ستر کی دہائی کے آخر  تک یہ شرح ستر سے اسی فیصد تک ہے۔


سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں جب فرینک سپینسر کی بیٹی جیسیکا کی پیدائش  ہوئی تو فرینک سپینسر نے ڈاکڑوں سے اجازت لیکر ڈیلوری روم میں آئے۔


اب وقت بہت زیادہ بدل گیا ہے۔ اب لوگ ٹی وی پر ’ون بارن اِن ایوری منٹ‘  جیسے پروگرام دیکھتے ہیں۔ اب شوہر بچوں کی پیدائش کے دوران ہسپتال میں اپنی  بیوی کے ساتھ موجود ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ پیدا ہونے والے بچوں کی ’کارڈ‘  کو کاٹ کر بچے کی جنس کا اعلان کرتے ہیں۔


سنہ انیس سو باسٹھ میں امریکی ڈاکٹر رابرٹ بریڈلے کی تحقیق کے مطابق  پیدائش کے وقت ڈیلوری روم میں باپ کی موجودگی سے ماؤں کو ریلیکس ہونے میں  مدد ملتی ہے۔


ایک اندازے کے مطابق چودہ فیصد باپ اب بھی اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہیں ہوتے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this