Sign in to follow this  
khoobsooratdil

برما کے تاریخی حقائق

Recommended Posts


واضح رہے کہ برما کا ایک  صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں ہارون رشید کے  عہدِ خلافت میں مسلم تاجروں  کے ذریعے اسلام پہنچا، اس ملک میں مسلمان بغرض  تجارت آئے تھے اور اسلام کی  تبلیغ شروع کردی تھی،اسلام کی فطری تعلیمات  سے متاثرہوکر  وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اورایسی قوت کے مالک  بن بیٹھے کہ  1430ء میں سلیمان شاہ کے ہاتھو ں اسلامی حکومت کی تشکیل  کرلی، اس ملک پر  ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی، مسجدیں بنائی  گئیں، قرآنی حلقے  قائم کئے گئے، مدارس وجامعات کھولے گئے، ان کی کرنسی پر’  لاالہ الا اللہ  محمدرسول اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے خلفائے  راشدین کے نام درج  ہوتے تھے۔

بدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ مسلمان برما میں  باہر سے آئے ہیں اور  انہیں برما سے بالکل اسی طرح ختم کردیں گے جس طرح  اسپین سے عیسائیوں نے  مسلمانوں کو ختم کردیا تھا۔
واضح رہے کہ برما کا  ایک صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں ہارون رشید کے  عہدِ خلافت میں مسلم  تاجروں کے ذریعے اسلام پہنچا، اس ملک میں مسلمان بغرض  تجارت آئے تھے اور  اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی،اسلام کی فطری تعلیمات  سے متاثرہوکر وہاں کی  کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اورایسی قوت کے مالک  بن بیٹھے کہ 1430ء میں  سلیمان شاہ کے ہاتھو ں اسلامی حکومت کی تشکیل  کرلی، اس ملک پر ساڑھے تین  صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی، مسجدیں بنائی  گئیں، قرآنی حلقے قائم کئے  گئے، مدارس وجامعات کھولے گئے، ان کی کرنسی پر’  لاالہ الا اللہ محمدرسول  اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے خلفائے  راشدین کے نام درج ہوتے تھے۔
اس ملک کے پڑوس میں برما تھا جہاں بودھوں کی حکومت تھی، مسلم حکمرانی   بودھوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784ء میں اراکان پر حملہ کردیا،   بالآخر اراکان کی اینٹ سے اینٹ بجادی، اسے برما میں ضم کرلیا اوراس کا  نام  بدل کر میانمار رکھ دیا۔
1824ءمیں برما برطانیہ کی غلامی میں چلاگیا،  سوسال سے زائدعرصہ غلامی کی  زندگی گذارنے کے بعد1938ءمیں انگریزوں سے  خودمختاری حاصل کرلی، آزادی کے  بعدانہوں نے پہلی فرصت میں مسلم مٹاؤ پالیسی  کے تحت اسلامی شناخت کو مٹانے  کی بھرپور کوشش کی، دعاة پر حملے کئے ،  مسلمانوں کو نقل مکانی پر  مجبورکیا ،چنانچہ پانچ لاکھ مسلمان برما چھوڑنے  پر مجبورہوئے، کتنے لوگ  پڑوسی ملک بنگلادیش ہجرت کرگئے، مسلمانوں کی ایک  اچھی خاصی تعداد نے ہجرت  کرکے مکہ معظمہ میں بودوباش اختیارکرلی، آج مکہ کے  باشندگان میں 25فیصد  اراکان کے مسلمان ہیں۔
اس طرح مختلف اوقات میں  مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا گیا، جولوگ  ہجرت نہ کرسکے ان کی ناکہ  بندی شروع کردی گئی، دعوت پر پابندی ڈال دی گئی ،  اسلامی تبلیغ کی سرگرمیوں  پرروک لگادی گئی، مسلمانوں کے اوقاف چراگاہوں  میں بدل دئیے گئے ، برما کی  فوج نے بڑی ڈھٹائی سے ان کی مسجدوں کی بے  حرمتی کی، مساجد و مدارس کی تعمیر  پر قدغن لگا دیا، لاؤڈسپیکر سے اذان  ممنوع قرار دی گئی، مسلم بچے سرکاری  تعلیم سے محروم کیے گیے، ان پرملازمت  کے دروازے بندکردئیے گئے ،1982میں  اراکان کے مسلمانوں کو حق شہریت سے بھی  محروم کردیا گیا، اس طرح ان کی نسبت  کسی ملک سے نہ رہی، ان کی لڑکیوں کی  شادی کے لیے 25 سال اورلڑکوں کی شادی  کے لیے30 سال عمر کی تحدید کی گئی،  شادی کی کاروائی کے لیے بھی سرحدی  سیکوریٹی فورسیز سے اجازت نامہ کا حصول  ناگزیر قراردیا گیا، خانگی زندگی سے  متعلقہ سخت سے سخت قانون بنائے گئے۔  ساٹھ سالوں سے اراکان کے مسلمان ظلم  وستم کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کے  بچے ننگے بدن، ننگے پیر، بوسیدہ کپڑے  زیب تن کئے قابل رحم حالت میں دکھائی  دیتے ہیں، ان کی عورتیں مردوں کے  ہمراہ کھیتوں میں رزاعت کا کام کرکے  گذربسر کرتی ہیں ۔ لیکن خوش آئند بات  یہ ہے کہ ایسے سنگین اورروح فرسا  حالات میں بھی مسلمان اپنے دینی شعائر سے  جڑے ہیں اور کسی ایک کے متعلق  بھی یہ رپورٹ نہ ملی کہ دنیاکی لالچ میں اپنے  ایمان کا سودا کیاہو۔
جون کے اوائل میں مسلم مبلغ 10مسلم بستیوں میں  دعوت کے لیے گھوم رہے تھے  اور مسلمانوں میں تبلیغ کررہے تھے کہ بودھوں کا  ایک دہشت گردگروپ ان کے  پاس آیا اور ان کے ساتھ زیادتی شروع کردی، انہیں  مارا پیٹا، درندگی کا  مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے جسموں پر چھری مارنے لگے، ان  کی زبانیں رسیوں سے  باندھ کر کھینچ لیں یہاں تک کہ دسیوں تڑپ تڑپ کر مرگئے،  مسلمانوں نے اپنے  علما کی ایسی بے حرمتی دیکھی تواحتجاج کیا، پھر کیا تھا،  انسانیت سوز  درندگی کا مظاہرہ شروع ہوگیا، انسان نما درندوں نے مسلمانوں  کی ایک مکمل  بستی کو جلادیا ،جس میں آٹھ سو گھر تھے ، پھر دوسری بستی کا رخ  کیا جس  میں700 گھر تھے اسے بھی جلاکر خاکستر کردیا، پھر تیسری بستی کا رخ  کیا  جہاں 1600گھروں کو نذرآتش کردیا اور پھر فوج اور پولیس بھی مسلمانوں کے   قتل عام میں شریک ہوگئی۔ جان کے خوف سے 9ہزار لوگوں نے جب بری اور بحری   راستوں سے بنگلادیش کا رخ کیا تو بنگلادیشی حکومت نے انہیں پناہ دینے سے   انکار کردیا اور اس کے بعد سے بدھ مت کے دہشت گرد برمی فوج کے ساتھ مل کر   مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگر دنیا اس پر خاموش تھی، اور   کوئی بھی عالمی ادارہ اس پر خبر تک دینے کو تیار نہ تھا مگر اسلامی دنیا   میں مسلمانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس قتل عام کی تصاویر پھیلائیں اور   عوامی احتجاج شروع ہوا تو پھر برما سے متصل بھارتی ریاست آسام میں بھی   مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔
اسلامی دنیا میں مسلم عوام کے احتجاج  کے بعد کچھ مسلم حکومتوں نے بھی  اپنی تشویش ظاہر کی اور عالمی ادارے بھی  اپنی رپورٹس جاری کررہے ہیں۔ اسی  سلسلے میں چھپن صفحات پر مشتمل اس رپورٹ  کو جاری کرنے کا مقصد دنیا کی  توجہ برما میں اقلیتی مسلمانوں کے خلاف جاری  ریاستی تشدد کی جانب مبذول  کروانا ہے۔
فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت نےامدادی کارکنوں اور صحافیوں کومتاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی۔
فل رابرٹسن کا کہنا تھا کہ جو بات مسلسل سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت   ابھی تک پر تشدد واقعات کو روکنے میں ناکام رہی اور یہی وجہ تھی کہ دونوں   اطراف کے لوگوں نے اپنے دفاع کے لیے مسلح ہونا شروع کر دیا ہے اور دونوں   طرف سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ نے ان واقعات کی تحقیقات کے  لیے اپنا ایلچی برما روانہ کر  دیا ہے۔ فل رابرٹسن نے مطالبہ کیا کہ برما  اقوام متحدہ کے ایلچی کو  تحقیقات کے لیے مکمل رسائی اور معلومات کے حصول کے  لیے سہولتیں فراہم کرے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this