Sign in to follow this  
khoobsooratdil

دادی کی اقسام

Recommended Posts

دادی  جان...کس قد مٹھاس ھے اس رشتے میں- وه رشتہ جو آپ کے باپ کی جنت ھے- آپ کی  ماں سے چاھے بنے نہ بنے پر آپ پر جان و دل سے صدقے واری ھونے والی ھستی-  اس رشتے کے آپ سے وابسطہ احساسات تو مشترکہ ھیں مگر معاشرے میں رنگ ڈھنگ  مختلف- اصل میں عادتا دادیاں کئ قسم کی ھوتی ھیں مگر میں چند کا ذکر کروں  گی
 
 
 
 -----------1------------
 
  یہ وه دادیاں ھیں جو اپنی عمر اور رتیہ کو نظر انداز کرتے ھوۓ جدید  طرز_زندگی اپناۓ ھوۓ ھوتیں ھیں-ان کا لباس و انداز بعض اوقات نوجوان لڑکیوں  کو بھی مات کرتا ھے- (آپ نے زبیده طارق کو تو دیکھا ھی ھو گا) جدید انداز  کی ساڑھیاں سلیو لیس چنے منےبلاؤز میچینگ جیولری اور کانونٹ کی پڑھی ھوئی  فرفر انگریزی بولتی ھوئی اور کسی ایک این جی او کی سرکرده اپنے ایئرکنڈیشنڈ  آفس میں بیٹھ کر فرنچ بلوریں گلاسز میں امپورٹڈ ڈرنک پیتے ھوۓ یہ دادیاں  غریبوں کے مسائل حل کرنے کی ناکام کوشش کرتی رھتی ھیں- درحقیقت ان کا حال  بھی اس ملکہ کے جیسا ھوتا ھے جس کا فرمان تھا اگر روٹی غریب کی قوت_خرید سے  باھر ھے تو اسے کیک کھانا چاھیئے- شطرنج اور تاش کی رسیا یہ دادیاں ایلیٹ  کلاس میں وافر مقدار میں پائی جاتی ھیں
 
 
 
 -----------2------------
 
  یه وه قسم ھے جو نفیس قسم کےغراره میں ملبوس تخت پوش پر مسند نشین پاندان  کو سنبھالے کٹر کٹر چھالیہ کترتے ھوۓ اپنی اور محلے کی تمام بہوؤں پر  ڈونگی نظر رکھتی ھیں- ون پاؤنڈ فش کو سنتے ھوۓ مہنگائی پر مفصل گفتگو کرتی  ھوئی یه دادیاں وطن کی محبت سے سرشار غیرملکی ڈرامے جو کہ گھریلو سیاست و  محلاتی سازشوں پر مبنی ھوتے ھیں، بڑے شوق سے دیکھتی ھیں- اور خود بھی ڈراما  کرنے میں ماھر گردانی جاتی ہیں- یه ٹی وی کی حد درجہ شوقین ھوتی ھیں- کرکٹ  بھی پوتے پوتیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاتا ھے اور اور مخالف ٹیم کی ھار  پر اسی طرح ری ایکٹ کرتی ھیں جیسے ھر پاکستانی شاھد آفریدی کے بگ شاٹ پر-  ان کو دیکھ کر وه لطیفه یاد آتا ھے، جس میں بیٹا باپ سے پوچھتا ھے دادی  فلموں میں کام کرتی ھیں تو باپ جواب دیتا ھے __ نہیں ___ جواب میں بیٹا  کہتا ھے ____ تو پھر امی کیوں یه کہتی ھیں کہ تمھاری دادی آ رھی ھے اب روز  کوئی ڈراما ھوا کرے گا
 
 
 
 -----------3------------
 
 .تیسری قسم بڑی معصوم اور بے ضرر قسم کی دادیوں کی ھے- ھلکے رنگوں کے کپڑے  پہنے ھوۓ ململ کے ڈوپٹے اوڑھے روشن چہرے ہمہ وقت تسبیح میں مشغول رھتی  ھیں- یہ الگ بات کہ بےدھیانی میں تسبیح کے دانے باتوں پر بھی گرتے رھتے  ھیں- یہ دادیاں اپنے پوتوں پوتیوں کے لیے اپنے تکیہ کے نیچے ٹافیاں اور گڑ  کی ڈلیاں رکھتی ھیں، جنکا لالچ دے کر اپنی ٹانگیں دبواتی ھیں- چابیاں اپنے  پلو سے بندھ رکھتی ھیں مہمان کی آمد ھو تو سمجھدار بہو بیٹی اماں کی پائنتی  پر آ کہ ٹک جاتی ھیں اور اماں دھیرے سے چابی والا پلو نیچے سرکا دیتی ھیں  اور اور وه کمال_مہارت سے کھول لیتی ھیں-لیونگ روم میں تشریف فرما ان  دادیوں کی نظر ہمہ وقت باورجی کھانے پر بھی ھوتی ھے، کہ کہیں اچھی بوٹی بہو  خود نہ ھڑپ لے
 
 
 
 -----------4------------
 
 آخر  میں ذکر گاؤں کی اس دادی کا جنکو سب ھی دادو کہا کرتے تھے حتی کے ان کا  شوھر بھی کبھی کبھی بےخیالی میں دادو کہہ جاتا تھا. الله بخشے مرحومه بہت  سیدھی سادی خاتون تھیں- گاؤں میں نئی نئی بجلی آئی ٹی وی دیکھا تو پوچھنے  لگیں____ پتر !!! آ چورس ڈبے وچ بندے آوندے کتھوں نیں، تے جاندے کدھر نیں؟
 
 شروع میں تو دوپٹا اوڑھ کے ٹی وی دیکھتی تھیں- ایک دن گونگھٹ نکالے پشت  کیے بیٹھی ٹی وی دیکھ رھی تھیں اور پوچھنے پر فرمایا کہ ٹی وی والا بنده  باتیں تو اسلام کی کرتا ھے، اچھی باتیں ھوتی ھیں، پر مرن جوگا مینوں ویکھدا  بہت وا- رات 9 بجے پی ٹی وی پر خبر نامه یوں سنتیں جیسے انتخابات میں حصه  لینے کا اراده رکھتی ھوں- موسم کا حال سن کر ارشاد کرتیں اس بندے کو پتا  ھوتا ھے میں ٹی وی دیکھ رھی ھوں مجھے بتا دیتا ھےکہ آج بارش ھونی ھے- بالن  اندر رکھ کے تندور ڈھک دے اماں بڑا خیال کرتا ھے میرا بڑا بیبا بچه کسی نیک  ماں کا- ڈراما دیکھتے ھوۓ لائٹ چلی گئی تو بولیں ڈبے والے بندے اب نظر  کیوں نھیں آ رھے. بتایا گیا اماں بجلی چلی گئی ھے تو معصومیت سے بولیں ____  "تو پت بتی بال کے ڈبے اتے رکھ دیو،  سوھنے سوھنے کڑیاں منڈے گلاں کردے  پئے سی"-  ھمارے ھاں آئی تو ابو نے کہا اماں کو تکیہ دیں- میں نے لا کے رکھ  دیا تو کافی دیر کے بعد ابو سے کہنے لگی تم نے تکیے کا کہا تھا بچی لے کر  نہیں آئیں والد صاب نے کہا آپکو سرھانا دے تو دیا ھے اماں جی .. تو گویا  ھوئیں اچھا میں سمجھ کوئی کھانے والی شئے ھے- ھمارے ھاں کی ایک دادی کا  امریکہ جانا ھوا تو جاتے ھوۓ ساتھ اپنے باغات کے آم بھی لے گیئں- جب خریت  دریافت کرنے کے لیے فون کیا تو بتایا ایئرپورٹ پر کچھ بندے میرے آم دیکھ کر  مینگو مینگو کر رھے تھے میں نے کہا او پتر مہنگے ھون یا سستے ھمارے تو  اپنے ھیں یہ تو میں اپنے پتر کے لیے لائی ھوں جب پھر پاکستان گئی تو تم  لوگوں کے لیے بھی لاؤں گی- اور پتر یہاں کے لوگ شڑاپ(شٹ اپ) ٹھینکو  (تھینکیو) ھاۓ ھاۓ بہت کرتے ھیں- اور اب کے بار، وہ پاکستان آئیں تو میں  ملنے کے لیے گئی اور حیران و پریشان ره گئییہ دیکھ کر کہ دادو صحن میں  بیٹھی لیپ ٹاپ پر فیس بک کھولے نوٹیفیکیشن چیک کرتے ھوۓ گنگنا رھیں تھیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this