Sign in to follow this  
hasnain

’تیونس سے خواتین جہاد النکاح کے لیے شام جاتی ہیں‘

Recommended Posts

تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا ہے کہ کئی خواتین ’جنسی جہاد‘ کے لیے شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے شام جا کر واپس آ گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیر داخلہ نے تیونس کی قومی قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ ’یہ خواتین شام میں بیس، تیس یا ایک سو جنگجوؤں کے ساتھ سیکس کرتی ہیں۔ یہ سیکس ’جہاد النکاح‘ کے طور پر کیا جاتا ہے اور وہ حاملہ ہو کر واپس تیونس آتی ہیں۔‘

Please login or register to see this image.


وزیر داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ جہاد النکاح کے لیے کتنی خواتین شام گئیں اور حاملہ ہو کر واپس آئی ہیں

تاہم وزیر داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ جہاد النکاح کے لیے کتنی خواتین شام گئیں اور حاملہ ہو کر واپس آئی ہیں۔ تاہم مقامی میڈیا کے مطابق ایسی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
سینکڑوں مرد بھی بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے شام گئے ہیں۔
تاہم وزیر داخلہ نے اراکین پارلیمان کو بتایا ’مارچ میں جب میں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو اس وقت سے اب تک لگ بھگ چھ ہزار نوجوان لڑکوں کو شام جانے سے روکا گیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سرحد پر نگرانی سخت کردی گئی ہے جس کے باعث لوگوں کا شام جانا مشکل ہوگیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پندرہ ماہ سے جاری شام میں خانہ جنگی میں حصہ لینے کے لیے تیونس سے ہزاروں لوگ شام جا چکے ہیں۔
سلفی فقہ سے تعلق رکھنے والی تنظیم انصار الشریعہ کے سربراہ ابو عیاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نوجوان لڑکوں کو شام میں حکومتی فورسز کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ابو عیاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق اس گروہ سے ہے جس نے نو ستمبر 2011 میں افغانستان میں شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کو خودکش حملے میں قتل کیا تھا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

خبردار رہیں دشمن پروپیگنڈوں کے اخری وار کر رہے ہیں۔امریکہ اور اس کے بچے عنقریب بھاگنے والے ہیں انشا ء اللہ(جہاد تو چودہ سو سال سے جاری ہے لیکن پچھلے عرصے میں بھی بہت جگہ اور بہت عرصہ جہاد ہوا ۔۔۔۔۔افغانستان میں روس کے خلاف جہاد ہوا، فلسطین میں عرصہ سے جہاد جاری ہے۔ کشمیر کے محاذبھی دہائیوں سے گزم ہیں،،،،عراق اور افغانستان میں اب تک آگ اور خون کا بازار گزم ہے، چچنیا، بوسنیا حتیٰ کہ دنیا کے ہر کونے میں غیرت مند مظلوم مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ نرہے ہیں۔۔۔لیکن کبھی جہاد باالنکاح جیسی بات سننے کونہیں ملی۔۔حالانکہ افغانستان میں تو کئی غیر مسلم خاتون صحافیوں کو بھی گرفتار کیا گیا اور جب وہ رہا ہوئیں حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر چکی تھیں۔۔۔حیرت کی بات ہے شام میں لڑائی شروع ہوتےہی ایسی باتوں اور افواہوں کا سیلاب ہے کہ تھمنے میں ہی نہیں آ رہا۔۔۔۔وہی نوجوان جن کی غیرت کی مثالیں زمانہ دیا کرتا تھا آج ان کے دامن پر کیچڑ اچھالے جا رہے ہیںیقینا امت اور مجاہدین کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس بار ان کا مقابہ صرف ایک ظالم دشمن سے نہیں بلکہ ایک ایسی قوم سے بھی ہے جن کے لیے جھوٹ اور بکواس کوئی معانی نہٰیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔اور شاندار قسم کا بکواس پروپیگنڈا جن کا طرہامتیاز رہا ہے۔۔۔

Edited by suhail502
ok

Share this post


Link to post
Share on other sites

Post ka jawab to me ne de dia ha mager mera khayal ye ha k is terha ka thread sex forum nahi hona chaheye kion k is se buhat sari deeni or siyasi behas chir sakti ha jo k forum rules k khilaf ha

Share this post


Link to post
Share on other sites

شام میں جہاد بالنکاح ڈرامہ نکلا،حقائق سامنے آگئے

میڈیا میں آج کل جہاد کی ایک نئی قسم کا بہت زور وشور سے ذکر ہو رہا ہے جسے جہاد باالنکاح کے نام سے پکارا جارہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جہاد بالنکاح یا جنسی جہاد کی اصلاح شام میں اسدی فوج کے خلاف لڑنے والے جہادیوں کی جنسی ضروریات پوری کرنے کیلئے قریبی ہمسایہ ممالک سے جانیوالی خواتین کے حوالے سے پیش کی گئی تھیں،مغربی میڈیا میں کافی عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ جہاد بالنکاح کے نام پر شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغی مسلمان خواتین کا مذہب کی آڑ میں جنسی استحصال کر رہے ہیں۔اس جنسی جہاد کے حوالے سے خبروں کو زیادہ تقویت کچھ عرصہ قبل اس وقت ملی جب تیونس کے وزیرداخلہ لطفی بن جدوہ نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ ان کے ملک سے بھی کئی خواتین جنسی جہاد کیلئے شام گئی ہیں اور حاملہ ہو کر واپس آئی ہیں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ خواتین جہاد بالنکاح کے نام پر کئی باغیوں کے ساتھ جنسی عمل کرتی رہی ہیں اور اب شام سے وطن واپس آرہی ہیں ۔اس حوالے سے شام میں بشار الاسد کی فوج کی طرف سے بھی کچھ خواتین کو میڈیا پر پیش کیا گیا تھا جن کو سرکاری میڈیا پر اعتراف کرتے دکھایا گیا کہ وہ باغیوں کی جنسی ضروریات جہاد بالنکاح کے نام پر پوری کر تی رہی ہیں تاہم کچھ اب کچھ ایسے شواہد منظر عام پر آئے ہیں جن سے ثبوت ملتا ہے جہاد بالنکاح پراپیگنڈہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔اس حوالے سے تیونس کی ہی ایک خاتون جن پر جہاد بالنکاح کیلئے شام جانے کا الزام عائد کیا گیا تھا میڈیا پر آکر اس الزام کوسراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔تیونس سے تعلق رکھنے والی تیئس سالہ لیلیٰ جو کچھ عرصہ قبل ہی شام سے واپس لوٹی ہیں اور اس وقت ماں بننے والی ہیں انہوں نے میڈیا پر آکر کہا کہ میں دو سال قبل رضاکارانہ طور پر بطور نرس شام گئی تھی جہاں میں زخمی باغیوں کی تیمارداری کرتی رہی اسی دوران وہاں میں نے ایک نوجوان سے شادی کی اور وہی میرے بچے کا باپ ہے۔شام میڈ مجھے آج تک میرے شوہر کے علاوہ کسی نے چھوا تک نہیں،لیلیٰ کے مطابق انکی شادی مکمل اسلامی طریقے کے مطابق ہوئی اور پھر وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی رہی تاہم جب وہ واپس آئی ہے تو اسے علم ہوا کہ اس کے بارے میں کیا خبریں پھیلائی جا رہی ہیں اسی طرح کی خبروں کے باعث اسے کے والدین نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا،لیلیٰ کے مطابق اب اسکے گھر والے جانتے ہیں کہ وہ شادی شدہ ہے جبکہ اسکا شوہر آج بھی اسدی فوج کے ساتھ شام میں جہاد کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ جہاد بالنکاح بارے سب قصہ کہانیاں ہے اور ایسا کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔لیلیٰ کوئی واحد خاتون نہیں ہیں جو جہاد بالنکاح کے حوالے سے سچ سامنے لے کر آئی ہیں اس سے قبل بھی شامی فوج کی طرف سے جن خواتین کو سرکاری میڈیا پر پیش کیا گیا ان کے حوالے سے بھی ایسے شواہد ملے ہیں کہ ان پر دباﺅ ڈالکر جہاد بالنکاح کیلئے استعمال ہونے بارے بیانات دلوائے گئے۔بشار الاسد حکومت کی طرف سے شامی میڈیا پر پیش کی جانیوالی ایک لڑکی کو دیکھ کر اسکے والد نے روتے ہوئے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس کی بیٹی کو کچھ عرصہ قبل اسکی یونیورسٹی سے شامی فوج کے اہلکار اس وقت اغوا کر کے لے گئے تھے جب اسکی بیٹی نے بشار الاسد کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کے حق میں بیان دیا تھا۔تب سے لے کر آج تک انہیں اپنی بیٹی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئی اور اب اسدی فوج نے اچانک اسکی بیٹی کی ویڈیو جاری کردی ہے جس میں وہ جہاد بالنکاح کے نام پر باغیوں کی جنسی ضروریات پوری کرنیکا اعتراف کرتی دکھائی گئی ہے،یہ ویڈیو سراسر جھوٹ اور فریب ہے جو بشارلاسد کی فوج نے یقیناً میری بیٹی پر تشدد کر کے مجبوراً اس سے ریکارڈ کروائی ہے کیونکہ ہمارے سب عزیز اور یونیورسٹی کے طلباءجانتے ہیں میری بیٹی کسی جہاد بالنکاح کیلئے باغیوں کے پاس نہیں گئی تھی بلکہ اسی بشار الاسد کے غنڈے سب کے سامنے اٹھا کر لے گئے تھے۔اسی طرح ایک اور ویڈیو میں پیش کی گئی لڑکی کے بارے میں بھی تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں کہ شامی فوج کے ہاتھوں اس لڑکی کے اغوا کی بھی نہ صرف ایک سال قبل ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی بلکہ اس کے والدین نے اسدی فوج سے اس کی بازیابی کیلئے مقامی سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی تھی تاہم وہ اسے بازیاب نہیں کرا سکے تھے اب مذکورہ لڑکی کو بھی بشارالاسد حکومت کی طرف سے جہاد بالنکاح کا اعتراف کرتے ہوئے میڈیا پر پیش کردیا گیا۔جبکہ تیسری پیش کی جانیوالی ویڈیو میں واضح آواز سنائی دے رہی ہے جس میں کوئی مرد کیمرے کے پیچھے سے خاتون کو سخت لہجے میں ہدایات دے رہا ہے کہ وہ جہاد بالنکاح کا اعتراف کرے جس کے بعد وہ خاتون بھی جہادیوں کی جنسی ضروریات پوری کرنے کا اعتراف کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔مذکورہ واقعات نے جہاد بالنکاح کے واقعات کی قلعی کھول دی ہے ۔اس حوالے سے شام میں ایسی متعدد شکایات عام ہے کہ شامی فوج نے کئی خواتین کو اغوا کیا جن کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور ان اغواءشدہ خواتین کو نہ صرف اسدی فوج جنسی تشدد کا نشانہ بناتی ہے بلکہ ان میں سے ہی متعدد کو جہاد بالنکاح کی ملزموں کے طور پر آج کل میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

Edited by suhail502
link removed other site

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this