Sign in to follow this  
hasnain

! اٹلی کے مردوں کو ’عورت مہنگی لگتی ہے‘ !

Recommended Posts

دنیا اور خصوصاً یورپی ممالک میں کساد بازاری نے جہاں لوگوں کو روزگار سے محروم کیا ہے وہیں اس نے لوگوں کی رومانی زندگی کو بے رنگ کر دیا ہے۔ اٹلی کے مرد جو غیر ازدواجی تعلقات میں خاص شہرت رکھتے تھے ، اب اپنی خفیہ محبوباؤں سے چھٹکارا حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 

 

Please login or register to see this image.

 

 

اٹلی یورپ کے ان ممالک میں شامل ہے جو کساد بازاری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اٹلی میں بے روزگاری بارہ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں بہتری کے کوئی آثار بھی سامنے نہیں آ رہے ہیں۔
معاشی ابتری کی وجہ سے اٹلی کے مرد اپنے پیشروؤں کی طرح عورتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کرنے کے لیے دولت نچھاور کرنے کی سکت سے محروم ہو چکے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق میلان کے مرد بیویوں کو فریب دینے کے لیے مشہور تھے اور وہاں طلاق کی شرح بھی انتہائی زیادہ تھی۔ لیکن 2008 میں شروع ہونے والی کساد بازاری نے اٹلی کے مردوں کو اب اپنی بیویوں تک محدود کر دیا ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق 2008 سے اب تک اٹلی میں طلاق کی شرح میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے۔
میلان کی ایک آئس بار میں دو بزنس مین آئس کریم خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ وہ آئس کریم کو دیکھ کر نوجوانوں کی طرح اپنی زبانیں ہونٹوں پر پھیرتے ہیں لیکن جب ان کی باری آتی ہے تو قدرے کھسیانے سے ہو کر ویٹر کو مدھم آواز میں کہتے ہیں’ جی لیتو پی کولو‘ یعنی چھوٹا کپ۔
آئس کریم کا چھوٹا کپ اٹھائے شخص کہتا ہے اٹلی میں ’اب تو ہر چیز کا سائز چھوٹا ہوگیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لیے رقم نہیں ہے حتیٰ کہ عورت کے لیے بھی نہیں۔عیاشی کے دن گزر چکے اب تو بس ایک ہی عورت اور بھی مہنگی لگتی ہے‘۔
کساد بازاری نے اٹلی کے مردوں کی رومانوی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب وہ اپنی خفیہ گرل فرینڈ کے لیے علیٰحدہ فلیٹ، مہنگے ملبوسات اور خفیہ چھٹیاں گزارنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔
صحافی ٹیری موراکو کہتی ہیں کہ اب کس کے پاس اتنی رقم ہے کہ وہ ’دو کرسمس منائے، دو اپارٹمنٹ خریدے، دو ڈنر کرے، دو بار چھٹیوں پر جائے۔‘
وہ کہتی ہیں:’اب تو اٹلی کے مرد اتنے غریب ہوگئے ہیں کہ اگر وہ اپنی محبوبہ کو ہوٹل میں لے کر جاتے ہیں تو اسے آدھا بل ادا کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں۔‘
ٹیری موراکو کہتی ہیں کہ کساد بازاری سے پہلے اگر اٹلی کا مرد کسی عورت کو ڈنر کی دعوت دیتا تھا تو وہ اسے گلدستہ پیش کرتا تھا اور پھر محبوبہ کے ہمراہ ہوٹل کا رخ کرتا۔‘
’اب تو مرد عورتوں کو کافی کی دعوت دیتے ہیں اور انہیں لے کر پارک میں گھومنے چلے جاتے ہیں۔‘
نفسیاتی امراض کی ماہر روبرٹا ربالی مردوں کے جنسی مسائل کے سلسلے میں خصوصی تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ معاشی بدحالی نے اٹلی کے بڑی عمر کے مردوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔’یہ مرد اپنی دولت سے عورتوں کی قربت خریدنے کے عادی ہیں لیکن اب جب ان کی دولت غائب ہو چکی ہے انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔‘
روبرٹا ربالی کہتی ہیں کہ نوجوان مرد کساد بازاری سے قدرے کم متاثر ہوئے ہیں، لیکن ’کم عمر مرد اپنی جوانی کے بل بوتے پر عورتوں کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں لیکن بڑی عمر کے مردوں کے لیے کساد بازاری کسی سانحے سے کم نہیں ہے۔‘

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this