Sign in to follow this  
hasnain

! ’معاشرہ صرف مرد اور عورت کی محبت سمجھ سکتا ہے‘ !

Recommended Posts

سلیم اور رضا (ان کی مرضی کے فرضی نامِ) ایک ہی صوفے پر ایک دوسرے کے پہلو میں لیٹے جب ٹی وی دیکھ رہے تھے تو ان کے تاثرات اور چہرے سے محبت عیاں تھی۔ یہ دیکھ کر پھر احساس ہوا کہ معاشرے نے ہمیں ’کنڈیشنڈ‘ ہی ایسا کیا ہے کہ ہم مرد اور عورت کی محبت کے علاوہ کسی اور محبت کو معاشرے میں جگہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں۔
ان دونوں کی عمر بیس برس ہے اور تعلق امیر طبقے سے ہے جو اپنے اندر شناخت کے بحران کی جنگ لڑ چکے ہیں اور روشن خیال گھر والوں کو بھی معلوم ہے کہ اسے تسلیم کرنے میں ہی سب کا بھلا ہے۔

 

 

Please login or register to see this image.


گھر سے باہر قدم رکھتے ہی یہ حقیقت ان پر فاش ہوتی ہے کہ اپنی جنسی شناخت کو گھر کی بات سمجھ کر گھر میں ہی رکھا جائے

 

 

لیکن گھر سے باہر قدم رکھتے ہی یہ حقیقت ان پر فاش ہوتی ہے کہ اپنی جنسی شناخت کو گھر کی بات سمجھ کر گھر میں ہی رکھا جائے۔
پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی پر کھلے عام بات کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کوئی اسے بیماری سمجھ کر ماہر نفسیات کے پاس چلا جاتا ہے تو کہیں اسے بچپن کا شوق سمجھ کر بھلا دینے کو کہا جاتا ہے۔ کہیں اسے صدیوں پرانے رواج سے جوڑا جاتا ہے تو کہیں اسے قسمت سمجھ کر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔
تاہم ہم جنس پرستوں کی آگاہی سے متعلق ویب سائٹ کویئر پاک ڈاٹ کام (queerpak.com) کے بانی وقاص (فرضی نام) کہتے ہیں: ’پاکستانی معاشرے میں ہم جنسی پرستی کو چھپانے سے ہم جنس پرست بعض اوقات استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ پراکسی کے ذریعے اس ویب سائٹ پر ہر روز تقریباً 20 سے 25 ہزار پاکستانی ہم جنس پرست نوجوان بیک وقت آن لائن ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم جنس پرستی پاکستان میں موجود ہے۔‘
’لیکن اس ملک میں تو سیکس کی تعلیم پر بھی بات نہیں کی جاتی تو ہم جیسے لوگوں کی آگاہی کے لیے کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ ان وجوہات کی وجہ سے ان کم عمر ہم جنس پرستوں کا استحصال کرنا آسان ہو جاتا ہے جو شناخت کے بحران سے گزر رہے ہوتے ہیں۔‘
25 سالہ نوجوان وقاص خود بھی جنسی استحصال کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کے بقول ’اپنے ساتھی ہم جنس پرستوں کو اس سے بچانے کے لیے میں نے ویب سائٹ شروع کی ہے جس کے ذریعے ہم جنس پرستوں کو جنس سے متعلق آگاہی دی جا سکے۔ ان کے صحت کے مسائل کے حل بتائے جائیں اور انہیں شخصی بحران سے نکالنے کی راہ تلاش کی جاسکے۔‘
وقاص نے کہا ’زبان کے محتاط استعمال کے باوجود بھی پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے ان کی ویب سائٹ پر پابندی عائد کر دی۔ یہ پابندی نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ آزادیِ رائے پر بھی قدغن ہے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’کویر پاک ڈاٹ کام کو نئے ڈومین پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ صارفین اس پر جا سکیں اور یہ غیر قانونی کام کرنے پر ہمیں مجبور کیا گیا ہے۔‘
متوسط طبقے میں موجود ہم جنس پرستوں کا احوال جاننے کی کوشش کی تو اسد (فرضی نام) سے ملاقات ہوئی۔ اٹھائیس سالہ اسد نے مسائل کی بڑی فہرست میرے سامنے رکھ دی۔ ’اس مسئلے کو تو گلی محلوں میں بھی دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ مین سٹریم میڈیا بھی اسے قابل بحث موضوع نہیں سمجھتا۔‘
اسد نے والدین کے طعنوں سے بچنے کے لیے شادی کر لی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں لڑکے ان کا مذاق اڑاتے تھے اس لیےانہیں لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا ڈھونگ رچانا پڑتا تھا تاکہ وہ منفرد نظر نہ آئیں۔
’پاکستانی معاشرہ ہمیں دوہری زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے اور جھوٹ پر مبنی زندگی کب آرام دیتی ہے۔ اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں ایک لڑکے سے شادی کرتا مگر یہاں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی ہو رہی ہے۔ عام شہریوں کے حقوق روز پامال ہوتے ہیں ایسے میں ہمارے حقوق کی بات کرنا ناممکن ہے۔‘
پاکستان میں نہ تو معاشرے کی سطح پر اور نہ ہی قانون میں ہم جنس پرستوں کے لیے گنجائش موجود ہے۔ اقوام متحدہ کو ہم جنس پرستوں کو تسلیم کرنے میں بھی خاصا وقت لگا۔ 2011 میں اقوام متحدہ میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قرارداد پاس کی گئی تھی۔ دنیا میں ایسے ممالک کی تعداد گو کہ کم ہے جو ہم جنس پرستی کو تسلیم کرتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا میں ان کے حقوق سے متعلق بحث میں تیزی آ رہی ہے۔
آپ میں سے بعض پڑھنے والے بھی شاید وہی کہیں جو میرے بعض ساتھیوں نے کہا: ’صوبہ بلوچستان میں لوگ مر رہے ہیں اور آپ کو ہم جنس پرستوں کا غم کھائے جا رہا ہے!‘

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this