Sign in to follow this  
irfan1397

گشتی + شرمندگی

Recommended Posts


 نوید پچیس سال کا ایک بھرپور جوان لڑکا تھا ، چھ فٹ کے قریب قد ، رنگ گورا ، چوڑی چھاتی  اور  دیکھنے میں بہت خوبصورت تھا - لڑکیاں پہلی نظر میں ہی اس پر فدا ہونے کو تیار ہو جاتی تھیں لیکن وہ خود بہت شرمیلا تھا اسلئے آج تک وہ کسی کنواری چوت سے مستفید نہیں ہو سکا تھا - نوید بچپن میں ہی بری صحبت کا شکار ہو گیا تھا  اور بری صحبت نے اس پر خوب رنگ جمایا تھا  ،  رنڈی بازی کا بہت شوقین تھا وہ اپنے شہر کے سارے کوٹھوں سے واقف تھا، اس کی سارے دوست عیاش طبعیت کے مالک تھے اسلئے وہ خود بھی عیاشی کا دلدادہ  تھا،  لیکن گھر میں اس کا امیج بہت اچھا تھا کیونکہ وہ سارے پنگے دن کو ہی  نمٹاٹا تھا اور رات کو جلد ہی گھر آ جاتا تھا  - بکرا عید قریب آ رہی تھی اس کا والد بہت مصروف تھا اور اس کے پاس قربانی کا جانور لینے کے لئے بھی وقت نہیں تھا اس لئے اس نے نوید کو پچیس ہزار دئیے کہ بیٹا بکرا منڈی سے قربانی کے لئے بکرا لیتے آنا -
نوید نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور پیسے پکڑ لئیے -
دوپہر ایک بجے کے قریب گھر سے بکرا لینے کی غرض سے نکلا تو راستے میں اسے راشد مل گیا - یہ راشد ہی تھا جس نے نوید کو رنڈی بازی کی طرف مائل کیا تھا ،نوید راشد سے : ابے سالے کہاں سے آ رہا ھے ؟
ریشم بائی کے کوٹھے کے پاس سے گزر رہا تھا تو ھیلو ہائے کے لئے اندر چلا گیا ، وہاں تو اک پری چہرہ دیکھ کر دنگ ہی رہ گیا ، کیا زبردست پٹاخہ لڑکی ھے ، گورا رنگ ، لمبا قد اور چھاتی ! . . . چھاتی تو قیامت ھے قیامت ،  دیکھ کر لن میں ہلچل ہونے لگی تھی ، راشد نے نوید کو بتایا تو نوید کے منہ میں بھی پانی بھر آیا -
یار پھر تم نے اس کی پھدی لی ؟ نوید نے راشد سے پوچھا -
یار وہ  مزے لے لے کر چودنے والی چیز ھے ، چار پانچ گھنٹے کے لئے  اسے بک کر کے چودوں گا ابھی میرے پاس پندرہ سو تھے پانچ گھنٹے کے دس ہزار لیتی ھے  راشد نے نوید کو بتایا تو نوید کے لن نے بھی انگڑائی لی اور ان دیکھی حسینہ کی چوت  لینے کا ارادہ بنا لیا -
یار راشد اس وقت میرے پاس پچیس ہزار ہیں لیکن میں بکرا خریدنے جا رہا ھوں لیکن تم نے جتنی تعریفیں کی ہیں تو میرا دل کر رہا ھے بکرے کی جگہ اس حسینہ کی چوت لے لوں -     
      نوید نے کہا تو راشد نے کہا چل یار ابھی چلتے ہیں اس کے پاس صبر مجھ سے بھی نہیں ہو رہا  ، دس ہزار تم مجھ سے کل لے لینا اور بکرا بھی کل لے لینا،  نوید نے بھی اپنی رضامندی دے دی  اور وہ دونوں ریشم بائی کے کوٹھے /اڈے کی طرف چل دئیے -
راشد اور نوید ریشم بائی  کے کوٹھے میں داخل ہوئے تو سامنے تین چار لڑکیاں بیٹھی تھیں ، نوید ان سب سے واقف تھا اور ان سے سیکس بھی کیا ہوا تھا ، تھیں تو  وہ بھی اچھی شکل صورت کیں لیکن ان کے انداز و اطوار گشتیوں جیسے تھے ، مطلب چہرے کے تاثرات میں مصنوعی پن تھا جسے دیکھ کر ہی پتا چل جاتا ھے کہ یہ گشتیاں ہیں  - نوید نے راشد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ کہاں ھے وہ لڑکی جس کی تعریف میں تم زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟
راشد نے وہاں بیٹھی ہوئی ایک گشتی سے پوچھا جو نئی لڑکی ادھر آئی ھے وہ کہاں ھے ؟
گشتی مسکراتے ہوئے: لگتا ھے دل میں اتر گئی ھے نیلم ؟ وہ واش روم میں ھے ابھی آتی ھے - اسی اثنا میں ریشم بائی بھی ایک کمرے سے نکل کر آتی ھے اور نوید کو دیکھ کر کہتی ھے ، " سوھنیو  بہت عرصے بعد ادھر کا چکر لگایا ھے آج " -
بس جی آنے کا وقت ہی نہیں ملا ، نوید نےکہا تو راشد درمیان میں بول پڑا، آج بھی میں ہی اسے لے کر آیا ھوں ، نئی لڑکی دیکھ کر صبر نہیں ھو رہا تھا -ریشم بائی: نیلم ھے ہی ایسی جو اسے دیکھ لے رات اسے نیند ہی نہیں آتی - نیلم کے آگے تو پریاں بھی پانی بھرتی نظر آئیں -
ریشم بائی نئی آنے والی لڑکی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی کہ اسی اثنا میں نیلم ایک طرف سے آتی دیکھائی دی جسے دیکھ کر نوید کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی - معصوم شکل ، گورا رنگ ، اونچا قد ، جسم کے نصیب و فراز غضب ڈھا رہے تھے ، اونچی چھاتیاں ، نیلم قیامت تھی  قیامت ! راشد اور ریشم بائی کی تعریف سے بڑھ کر حسین تھی نیلم -
نیلم کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ  اس کے چہرے پر گشتیوں والی کوئی بات نہ تھی اس کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی میک اپ نہیں تھا حتی کہ ہونٹوں پر لپ سٹک بھی نہیں تھی اور  وہ ایک مکمل گھریلو لڑکی نظر آ رہی تھی  اور نوید کے دل میں اس کی خوبصورتی اور سادگی گھر کر گئی -
اس نے دونوں سے ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملایا اور ایک طرف جا کر بیٹھ گئی -
راشد نے ریشم بائی سے کہا کہ ہم نیلم کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں تو اس نے کہا ایک ٹائم کا پندرہ سو اور نائٹ کا پچیس ہزار -
راشد نے کہا کہ ہم اسے چار پانچ گھنٹوں کے لئے لے جانا چاہتے ہیں ،

 

Share this post


Link to post
Share on other sites


 راشد اس سے پہلے بھی نائٹ پروگرام کے لئے ریشم بائی سے لڑکیاں لے جا چکا تھا اور ریشم کو اس پر مکمل اعتماد تھا اسلئے اس نے ساتھ بھیجنے میں کوئی تامل نہ کیا اور راشد سے کہا پانچ گھنٹوں کے پندرہ ہزار روپے ہونگے -
راشد نے کہا ریشم جان اب تم مجھ سے بھی بھاؤ تاؤ کرو گئی ، میں نے آج تک کسی لڑکی کو اس کی خوبصورتی سے کم پیسے نہیں دئیے ، اس کے فائنل میں دس ہزار دوں گا اور شام سات بجے سے پہلے واپس گھر پہنچا بھی دوں گا - ریشم بائی اور راشد کے درمیان بات بارہ ہزار میں طے پا گئی اور راشد اور نوید اسے راشد کے ایک خالی مکان میں لے گئے -
راشد اور نوید دونوں کو ہی نیلم بہت پسند آئی تھی اسلئے دونوں پہلے نیلم سے سیکس کرنا چاہتے تھے- اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ دونوں پہلے سیکس کرنے پر باضد ہو جائیں اس بار  دونوں ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے نیلم  پر دونوں میں سے کوئی بھی کمپرو مائز کرنے کو تیار نہیں تھا ،  نیلم اس دوران ان دونوں کی طرف دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی ، جب کافی دیر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تو نیلم کہنے لگی ، آپ دونوں اگر اسی طرح بحث کرتے رہے تو کوئی بھی مجھ سے سیکس نہیں کرسکے گا کیونکہ وقت ایسے بحث میں ہی گزر جائے گا ، آپ دونوں ٹاس کیوں نہیں کر لیتے ؟ نیلم کی تجویز پر وہ دونوں ٹاس کے ذریعے فیصلہ کرنے پر رضامند ہو گئے ،  
ٹاس ہوا اور نوید جیت گیا ، دونوں میں طے یہ پایا کہ ساڑھے چار بجے تک نوید سیکس کرے گا اور پھر سات بجے تک راشد ، راشد بعد میں نیلم کو ریشم بائی کے پاس چھوڑ آئے گا - نوید نیلم کے ساتھ ایک کمرے میں چلا گیا جبکہ راشد دوسرے کمرے میں جا کر  ٹی وی دیکھنے لگا -
نوید اور نیلم کمرے میں جا کر بیڈ پر بیٹھ گئے ، نوید نے نیلم سے پوچھا کہاں کی رہنے والی ہو تو اس نے کہا  فیصل آباد کی ،
آج سے میں فیصل آباد کے حسن کا قائل ہو گیا ھوں بہت حسین ہو تم ، تم سے ملاقات زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گا کیونکہ ایسا حسن میں نے آج تک نہیں دیکھا نوید نے کہا تو نیلم نے کہا اب ایسی بھی بات نہیں - نوید : ایسی ہی بات ھے اور یہ کہتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور نیلم کو  اپنے سینے سے لگا لیا ،نیلم کی چھاتیاں نوید کے سینے سے لگی تو اس کے سینے میں سرور کی ایک لہر دوڑ گئی اور اس نے بے اختیار نیلم کو اپنے سینے  میں مزید بھینچ لیا اور اپنے ہونٹ نیلم کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے نرم اور سرخ ہونٹوں سے ملا دئیے اور انھیں بیتابی سے چومنے اور چوسنے لگا ، نوید کی بیتابی دیکھ کر نیلم نے بھی بھرپور رسپانس دینا شروع کر دیا اور اس نے اپنی زبان نوید کی منہ میں گھمانا شروع کر دی نیلم اپنی زبان اس کے منہ میں کر کے واپس کھینچ لیتی اور نوید کی زبان اس کا تعاقب کرتے ہوئے نیلم کے منہ میں چلی آتی ، دونوں ہی ایکدوسرے کی زبان اور ہونٹ چوس رہے تھے ، چاٹ رہے تھے اور چوم رہے تھے - نوید کو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ پہلی بار کسی لڑکی سے کسنگ کر رہا ھے اس سے پہلے اتنا بھرپور ساتھ کسنگ میں کسی گشتی نے نہیں دیا تھا ، نوید کے لئے یہ مزا نیا اور انوکھا تھا ، نوید نے چومتے چومتے نیلم کو بیڈ پر لٹا لیا اور اس کے اوپر آ کر اسے چومنے لگا ، اس کے گالوں ، ہونٹوں اور گردن کو بڑی بے صبری  سے چوم اور چاٹ رہا تھا اور جب نیلم کی گردن کو  نوید کے ہونٹ چھوتے تو نیلم کے منہ سے ایک لذت بھری سیکسی سی سسکاری نکلتی جس کی آواز نوید کے جوش کو مزید بھڑکا دیتیاور وہ مزید جوش سے دیوانہ وار نیلم کو چومنا شروع کر دیتا ، اس دوران نوید کا لن کھڑا ہو چکا تھا اور تھوڑا تھوڑا پانی نیلم کی چوت بھی چھوڑنا شروع ہو گئی تھی ، نوید نے نیلم کی قمیض اوپر کی تو نیلم نے اسے اتار ہی دیا ، کیا دودھیا سفید جسم تھا اور اس پر کالی برا بہت زبردست منظر تھا - بھرپور جاندار چھاتیاں کالے برا میں قید تھیں جسے نوید نے فوری قید سے رہائی دلوا دی ، کھڑی پنک نپلز  دیکھ کر نوید سے صبر بالکل بھی نہیں ہو سکا اور اس نے انہیں اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھام لیا اور سہلانا شروع کر دیا ، نوید جیسے جیسے اس کی چھاتیاں سہلا رہا تھا نیلم کے جسم میں مستی کی لہریں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں ، نوید نے نیلم کی نپل جیسے ہی منہ میں لی تو اس کے منہ سے لذت بھری سسکاری نکلی ، نوید نے اس کی چھاتی پر زبان پھیرنا شروع کر دی اور کبھی دانتوں سے دباتا جس سے نیلم کو بھی بہت مزا آرہا تھا - نوید کا لن اب مکمل تناؤ کی حالت میں آ چکا تھا ، اب اس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا ، اس نے نیلم کی شلوار پر ہاتھ ڈالا اور اسے اتار دیا ، نیلم کی گوشت سے بھرپور پھولے ہوئے لپس والی پھدی نوید کے سامنے تھی ،

 

Share this post


Link to post
Share on other sites


نوید جب سے جوان ہوا تھا وہ گشتیوں/رنڈیوں کو ہی چودتا آیا تھا لیکن نیلم اس کی زندگی میں آنے والی پہلی گشتی تھی جس میں گشتیوں والی کوئی بات نہیں تھی ،   نیلم کی پھدی گھریلو لڑکیوں کی طرح تھی ، پھولی ہوئی اور لپس آپس میں جڑے ہوئے ، نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے نیلم کی چوت پر بے اختیار کس (kiss) کر دی ، اس سے پہلے کہ نوید اپنی زبان اس کی چوت میں کرتا کہ نیلم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے کا چہرہ اپنی پھدی سے پرے کر دیا ، نوید نے سوالیہ نظروں سے نیلم کی طرف دیکھا تو نیلم نے اس سے کہا ،
" آج بہت عرصے بعد کسی کی آنکھوں میں اپنے لئے چاہت دیکھی ھے ، تمہارا میری طرف والہانہ نظروں سے دیکھنا مجھے میرا ماض یاد دلا رہا ھے ، تم میں اپنائیٹ ھے تم دوسرے کسٹمزر کی طرح نہیں ہو ، میں تمہیں اپنی چوت نہیں چاٹنے دوں گی کیونکہ بہت سارے گھٹیا لوگوں کا گند اس میں آیا ھے اور  گند پہ ایک عاشق منہ مارے یہ اسے زیب نہیں دیتا اور نہ ہی مجھ سے یہ برداشت ہو گا " -
 پھدی سامنے تھی اور لن کھڑا تھا ، جذباتی باتیں وہ بھی ایک گشتی کے منہ سے نوید کو زیادہ متاثر نہ کر سکیں ، نوید صرف اس کی باتوں پہ مسکرا کے رہ گیا اور اس نے نیلم کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لن اس کی پھدی کے لپس کے درمیان ایڈجسٹ کیا اور اھستگی سے لن آگے کرنے لگا ، لن بنا کسی رکاوٹ کے چوت کی گہرائیوں میں اترنے لگا اور آہستہ آہستہ جڑ تک چوت میں اتر گیا ، نیلم کی چوت بھی عام گشتیوں کی طرح تھی جس میں لن آسانی سے  چلا جاتا ھے ، اوپر سے مس ورلڈ اور نیچے سے گاؤں کی وہ لوفر لڑکی جس نے گاؤں کے ہر لڑکے کی جوانی میں اہم کردار ادا کیا ہو - فرق صرف یہ تھا کہ نیلم کی چوت گیلی تھی اور اس نے فورپلےforeplay انجوائے کیا تھا جو کہ عام گشتیاں نہیں کرتیں وہ سیکس کو ڈیوٹی سمجھ کر کرتی ہیں اسلئے دل سے نہیں کرتیں جبکہ نیلم تو مزے سے چدوا رہی تھی ، نوید نے لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا ، اور اپنی سپیڈ آہستہ آہستہ بڑھانے لگا ، لن اب تیزی سے وادئ چوت کی سیر کرنے لگا اور نیلم کے منہ سے اس سیر کی نشانیاں آہ . . . . آہ . . . . . اں . . . . او . . . . آں . . . . . اہ . . . . . . آھ . . . .  ظاہر ہونے لگیں ، جنھیں سن کر نوید کا لن اور تیزی سے  بھاگنے لگا اور اس کی تیزی کے ساتھ ساتھ نیلم کے منہ سے نکلنے والی لذت سے بھرپور  سسکاریاں بھی  بلند ہونے لگیں ،سامنے سے کرنے سے پھدی کھلی ہوئی محسوس ہوتی ھے اور پیچھے سے تھوڑا پھنس کر جاتا ھے شاید یہ سٹائل کا اثر ہوتا ھے نوید کو پہلے بھی اس چیز کا احساس تھا اس لئے وہ کھلے پھدے والی گشتیوں پر ڈوگی سٹائل ضرور آزماتا تھا ،  نوید نیلم کے کولہوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے اس کی پھدی میں زوردار جھٹکوں سے لن اندر باہر کر رہا تھا ، لن اور گانڈ کے ٹکرانے سے ٹھک ٹھک کی آوازیں پیدا ہو رہیں تھیں ساتھ ہی نیلم کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ، لن تیزی سے نیلم کی چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا اور دونوں گناہ اور مزے کی داستان رقم کر رہے تھے ، نوید کو تو مزا آ ہی رہا تھا لیکن نوید کے جاندار جھٹکے نیلم کو بھی مزا دے رہے تھے اسلئے جب نوید اپنا لن ایک جھٹکے سے اندر کرتا تو نیلم اپنی گانڈ سے پیچھے کو جھٹکا لگاتی تھی اسطرح لن پھدی میں ایک زوردار سٹ مارتا تھا جس سے نیلم مزے کی اتھا گہرائیوں میں ڈوب جاتی - یہ کھیل چند منٹ مزید جاری رہا اور نیلم مزے کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈسچادج ہو گئی اور پھر کچھ جھٹکوں کے بعد نوید بھی ڈسچادج ہو گیا ، یہ ایک بھرپور اور مزے دار چدائی تھی جس کو نوید اور نیلم دونوں نے بھرپور انجوائے کیا تھا

Share this post


Link to post
Share on other sites

story ka 1st. part ap ne read kia . ap k comments se pata chaly ga k story read ker k ap ko maza b aya k nahi ?

dear administration 3 stories ka wada tha to os silsily ki pehli story hazir hai . kaisi lagi batayie ga zaroor

Share this post


Link to post
Share on other sites


 کہانی کافی انٹرسٹنگ ہے۔اپڈیٹ کا انتظار ہے۔امید ہے اسے مکمل بھی کیا جائے گا۔بہت بہت شکریہ کہ اسے آپ نے شیئر کیا ۔



Share this post


Link to post
Share on other sites

 کہانی بہت مزے کی ہے اتنی ہی سٹوری میں کسی اور فورم میں بھی پڑھ چکا ہو مزید اورآگے کا انتظار ہے شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

سیکس کرنے کے بعد دونوں لیٹ گئے ، کمرے میں کوئی کپڑا نہیں تھا اسلئے نیلم نے اپنے پرس سے ٹشو نکالے اور ان سے اپنی پھدی اور نوید کا لن صاف کیا اور ٹشوز ڈسٹ بن میں پھینک دئیے ، چند منٹ بعد نیلم اٹھی اور واش روم چل دی ، نوید بھی پیچھے واش روم چل دیا ، نیلم وہاں اپنی پھدی پر پانی بہا رہی تھی اور اسے صاف کر رہی تھی ، نوید اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور جب وہ اٹھی تو نوید نے اسے پکڑ لیا ننگے تو وہ پہلے سے ہی تھے اسلئے نوید نے ڈائریکٹ اس کے ممے پر حملہ کیا اور اس کی نپل چوسنے لگا ، نیلم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی اور نوید مزے سے اسکی چھاتی اور نپلز چوسنے اور چاٹنے لگا ، نوید اس کی چھاتی کو اکٹھا کر کے ساری کی ساری منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگا لیکن آدھی سے زیادہ چھاتی منہ میں نہ لے سکا ، نیلم کو بہت مزا آ رہا تھا اور وہ نوید کا سر اپنی چھاتی کی طرف دبا رہی تھی کافی دیر ایسے ہی چلتا رہا پھر نیلم نے اسے خود سے علیحدہ کیا اور نل کھول دیا ، پانی ایک پھوار کی صورت میں دونوں پر گرنے لگا ، نیلم نے صابن ہاتھوں پر ملا اور نوید کے لن پر ملنے لگی ، اس نے اچھی طرح سے نوید کا لن دھویا ،

لن دھونے کے بعد نیلم نے نوید سے جپھی ڈال لی اور پانی کے نیچے ہو گئی - دو جلتی جوانیوں پر پانی برس رہا تھا لیکن آگ بجھنے کی بجائے بڑھ رہی تھی ، پانی بھی جلتے جذبات کو سرد کرنے کی بجائے تیل کا کام کر رہا تھا اور جذبات میں آگ کی شدت بڑھ رہی تھی اور یہ شدت نوید کے کھڑے لن اور نیلم کی بہکتی سانسوں میں دیکھی جا سکتی تھی -
نوید نے نیلم کا سر نیچے اپنے لن کی طرف جھکانے کی کوشش کی تو نیلم سمجھ گئی کہ نوید اس سے چوپا لگوانا چاہتا ھے ، یہ اس کی لئے نیا نہیں تھا نیلم اس سے پہلے بھی کئی کسٹمرز کا چوپا لگا چکی تھی اسلئے وہ بلاجھجک گھٹنوں کے بل نیچے ہو گئی اور نیلم کا منہ نوید کے لن کے بلکل سامنے آ گیا ، نیلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے اس کے لن کو پکڑا اور انگوٹھے سے اس کی ٹوپی کے سوراخ کو صاف کیا اور ٹوپی پر زبان کی نوک لگائی اور لن کی ٹوپی کے اردگرد زبان پھیرنے لگی ، نوید نے نیلم کے بالوں کو پکڑ لیا اور اپنا لن اس کے منہ میں گھسانے کی کوشش کرنے لگا - نیلم نے اس کے لن کی ٹوپی اپنے منہ میں لے لی،ایک تو نیلم کے سانسوں کی گرماہٹ اوپر سے اس کے منہ کا لمس نوید کو مزے کے جہان کی بلندیوں پر لے گیا ، نیلم کے چوپے میں ایک عجیب سا مزا تھا ایک عجیب سی گدگدی تھی اور ایک انوکھا نشہ تھا ،نیلم کی ایک اور خوبی ظاہر ہوئی تھی کہ وہ چوپا سپیشلسٹ بھی تھی - نیلم نے نوید کا لن آہستہ آہستہ سارا منہ میں لے لیا اور اس کو اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگی ، نوید کا سارا لن نیلم کے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا اور وہ بڑے مزے اور انہماک سے نوید کا چوپا لگا رہی تھی ، منٹ چار سے پانچ گزرے ہوئے ھوں گے کہ نوید کی ایسے لگا جیسے اس کے لن پر چونٹیاں رینگنے لگی ھوں اور اس کے لن میں سنسناہٹ ہونے لگی ، ادھر نیلم کے گلابی ہونٹوں سے رگڑ کھاتا ہوا نوید کا لن اس کے منہ میں آ جا رہا تھا ادھر نوید کے لن میں سنسناہٹ آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور اس کا لن ہلکے ہلکے جھٹکے کھانے لگا ، نیلم کو احساس ہو گیا کہ نوید بس اب چھوٹنے ہی والا ھے تو اس نے نوید کا لن منہ سے باہر نکالا اور ہاتھ سے اس کی مٹھ مارنے لگی ،
نوید کے لن نے نیلم کے ہاتھ میں چند جھٹکے کھائے اور سفید سے پانی کی ایک لمبی سی لکیر پچکاری کی صورت میں نکلی اور سیدھی واش روم کی دیوار اور کچھ نیچے فرش پر گری ،
نیلم نے نوید کو منہ کے ذریعے دوسری بار میں ڈسچادج کرا دیا تھا -
نہا دھو کر نیلم اور نوید واش روم سے باہر نکل آئے ، تولیہ سے جسم صاف کرنے کے بعد نوید نے کپڑے پہنے اور نیلم کو بھی کپڑے پہننے کا کہا - نیلم تھوڑا حیران ہوتے ہوئے
"کیوں جی جانے کا ارادہ ھے کیا ؟ "
نوید نے کہا " حسن تو کپڑوں میں ہی اچھا لگتا ھے ، دو دفعہ ڈسچادج ہو چکا ھوں اب تیسری دفعہ تھوڑا وقفہ ہونا چاہئے ، اس دوران تم ننگی رھو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا کیونکہ میں حسن کو کپڑوں میں دیکھنے کا قائل ھوں -"
یہی تو فرق ھے ایک عاشق اور ہوس کے پجاری میں - ہوس حسن کو کپڑوں کے بغیر دیکھنا چاہتی ھے ، ہوس کے پجاری کو کیا خبر کہ حسن کیا ہوتا ھے ؟ اس کے لئے جوہڑ اور اس کی سطح پر کھلا ہوا کنول کا پھول ایک جیسی حثیت رکھتے ہیں اتفاقیہ ہاتھ لگنے پر پھول کو چٹکیوں میں مسل دیتے ہیں یہ ہوس کے پجاری - لیکن ایک عاشق کے لئے حسن کلیوں کے گچھے میں گلاب کی مانند ھے جسے دیکھ کر روح تک معطر ہو جاتی ھے " نیلم نے عشق اور ہوس کا عجیب فلسفہ بگھارتے ہوئے کہا تو نوید کو اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہ ہوئی کہ اس لڑکی کو محبت کا ڈنک لگا ہوا ھے اور زہر پوری طرح اس کے رگ و رپے میں سما چکا ھے ، ہر کنجری کے پیچھے اک دکھ بھری داستان ہوتی ھے ، نوید کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی ، اس نے وقت پاس کرنے کی خاطر نیلم سے پوچھا ، تمہاری باتوں میں بہت درد ھے کیا محبت کی ڈسی ہوئی ہو ؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

Sign in to follow this