Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 06/17/2019 in all areas

  1. 13 likes
    بڑی مشکل سے پوسٹ کر رہا ہوں اور ایک لمبی اپڈیٹ دے رہا ہوں۔ امید ہے کہ پسند آئے گی۔
  2. 13 likes
    بونس اپڈیٹ یہ اپڈیٹ قارئین کی غیرمعمولی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔
  3. 11 likes
  4. 10 likes
  5. 10 likes
    جناب کیسا تقدس اور کیسی پامالی؟؟ یاسر نے منہ بولی ماں نہیں بخشی،منہ بولی بہن،کزن ،دوست کی ماں بہن،معشوقہ کی سہیلی پڑھانے والی اور علاج کرنے والی نرس کسی کو بخشا؟؟ تو ماہی کونسی سگی بہن ہے؟؟ یاسر کا پورا کا پورا کردار ہوس زدہ ہے جناب
  6. 9 likes
    یہی تو اصل کہانی ہو گی ماہی کیوں مان گئی اور نہ صرف مانی بلکہ اس نے مکمل رسپانس دیا۔ اس درجے کا رسپانس کہ یاسر کو بھی حیرت ہوئی کہ اس نے رتی برابر مزاحمت نہیں کی اور بڑے حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ یاسر کا ہوس پرست ہونا تو کوئی بڑی بات نہیں ماہی کا یوں اس درجے تک کمزور ہونا کہ پہلی بار میں ہی یاسر کو پوری چھوٹ دیناسسپنس ہے۔ جس طرح یاسر کی ایک کہانی ہے، ماہی کی بھی بچپن سے لے کر اب تک کی ایک داستان ہو گی۔ کیاخیال ہے؟
  7. 9 likes
    نیو اپڈیٹ میں کہانی کے تین اپڈیٹ ایک ساتھ کر رہا ہوں۔ اب کہانی ہوس کی اپڈیٹ کے بعد آئے گی۔ اس اپڈیٹ کو تین حصوں میں پوسٹ کیا جانا تھا مگر میں نے یکمشت پوسٹ کر دیا ہے تاکہ سب کو تسلی رہے کہ میری واپسی پہ ہی اپڈیٹ ہونی ہیں سب کہانیاں۔
  8. 8 likes
    ضرور دیتا جناب اور کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اگر میرے پاس بڑا بڑا بڑا بڑا ٹائم ہوتا۔ سر! نوکری، گھر،دیگر ذاتی مصروفیات بھی تو ہیں نا۔
  9. 8 likes
    جناب یہ کیا بات کی ہے آپ نے۔ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ یہ فورم اسی فیصد پیڈ ہے اور اس کے باوجود پرانے تمام ممبران سالوں سے، سالوں سے مراد سات آٹھ سال ہے ، مسلسل پیڈ چلے آ رہے ہیں۔ یہی نہیں اسی مہینے 35-40 ممبران پیڈ ہوئے ہیں۔ اس کہانی سے قبل تمام سیریز پیڈ تھیں اور ممبران خوشی خوشی انھیں پڑھ رہے تھے۔ اس لیے ایسی بات نہیں ہے کہ اگر یہ فورم مکمل پیڈ ہو گا تو کوئی اس طرف منہ نہیں کرے گا۔ ہاں کہانیوں کا معیار خراب ہو گا اور ایسی کہانیاں جو ہر جگہ دستیاب ہوں وہ یہاں بھی کاپی پیسٹ ہوں گی تو پھر کوئی واقعی نہیں منہ کرے گا۔، ہماری کامیابی بس ایک ہی ہے کہ ہم سیریلز اصل ہیں اور صرف یہیں موجود ہیں اور ہم نے کسی سیریل کو ادھورا نہیں چھوڑا۔ ہماری رفتار کم ہے اپڈیٹ کی کیونکہ رائیٹر ان سیریلز کا میں اکیلا ہی ہوں۔ کچھ ساتھی شامل ہوئے تھے جن میں شیخو صاحب بھی ہیں اور ابھی کچھ نیا مثبت اضافہ بھی ہوا ہے۔ مگر وہ سبھی کہیں نہ کہیں ساتھ چھوڑ گئے۔دعاگو ہوں کہ جو ساتھی ساتھ شامل ہوں وہ مکمل کہانیوں تک ساتھ رہیں۔ اور بھی لوگوں کو ہم یہ تحریک دلاتے ہیں کہ وہ بھی لکھیں اور ہمیں محظوظ کریں۔
  10. 8 likes
    طبیعت ٹھیک ہے اور کام بھی کر رہا ہوں مگر ان دنوں کچھ دیگر سلسلوں پہ کام چل رہا ہے۔
  11. 7 likes
    تمام قارئین کو سلام۔ میں ان دنوں اٹلی اور فرانس کے درمیان ہوں۔واپسی پہ اپڈیٹ ہو سکے گی
  12. 7 likes
    بہت سے قاری حیران ہوں گے کہ یہ کیا ہوا؟ مگر جناب کیا یاسر کا سابقہ ریکارڈ ایسا ہی نہیں ہے۔ جہاں بھی اس کو کوئی لڑکی میسر آئی اس نے اسے کوئی رعایت دی؟ چاہے وہ دوست کی بہن تھی یا ماں، ماں کی طرح پیار کرنے والی تھی یا بچپن کی دوست یا اس کی بہن اور ماں۔ محبوبہ کی سہیلی ہو یا اس کی نند،اس نے کسی بھی موقع پہ کسی کو رعایت نہیں دی کیونکہ جنسی طلب اس کی فطرت کا حصہ تھی،ایسے میں ضوفی سے محبت کا دعوےدار ہوتے ہوئے بھی جب اس کی بہن کے ساتھ تنہائی میسر آئی تو اس نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتا آیا ہے کیونکہ یہی تو اس کی طبیعت کا خاصا ہے اس کہانی میں۔ جناب کہانی یہ نہیں تھی کہ ماہی کے ساتھ یاسر نے سیکس کر لیا، کہانی یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟ ضوفی کے ساتھ وہ شادی کی حد تک سنجیدہ تھا اور ہونے والی بیوی کی بہن کے ساتھ سیکس؟؟؟؟ کہانی میں میں نے کہا تھا کہ ضروری نہیں ضوفی کا ریپ ہو تو معاملات خراب ہوں۔ بعض اوقات چیزیں پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔
  13. 6 likes
    سر جو آپ پانچ منٹ میں پڑھ لیتے ہیں نا، وہ پانچ گھنٹوں میں لکھی گئی ہوتی ہے اور شاید پانچ دنوں میں سوچی گئی ہوتی ہے۔ میں آگے کے دو مہینوں کی کہانی جانتا ہوں اور اسی حساب سے اس میں ایونٹ شامل کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپڈیٹ پڑھنا آسان ہے اور اسے آگے چلانا مشکل ہے۔
  14. 6 likes
    بھائی جان ضرور کہتا اگر ممکن ہوتا میں تین کہانیاں اتنی مشکل سے لکھتا ہوں کہ نہ پوچھیں۔یہ اگر قارئین کو پسند نہ ہوتی اور فورم کی ٹاپ فری وزٹنگ تھریڈ نہ ہوتی تو میں کبھی نہ لکھتا اگر کوئی قاری شیخو جی سے رابطے میں ہے تو ان کو پیغام دے کہ کہانی کو کم از کم وزٹ کر لیا کریں بھلے اپڈیٹ نہ کریں۔
  15. 6 likes
    حسب معمول خان صاب نے اپنی کی ھے،جو جو جس نے سوچا تھا وہ ڈفرنٹ ہو گیا سب۔ مجھے یہ لگا تھا کہ ماھی کا گینگ ریپ ہو گا یا اس کے ساتھ کوئی حادثا ہو گا اور پھر ہمارا ھیرو اس کی مدد کے لیے کچھ کرے گا یا مھری والی کہانی یہاں دوبارہ ہو گی کہ یہ دیکھتا رہ جائے گا ضوفی یا ماہی کا ریپ ہو جانا ہے۔اس کے بعد کہانی ہو گی کہ یاسر اب بھی ضوفی کو اپناتا ھے یا نھیں۔مگر اب ساری کھانی ماہی کے پاس ھے کہ وہ ضوفی کو کیا بتاتی ھے اور جس طرھ اس نے سیکس میں مرضی شو کی ھے مجھے لگتا ھے کہ وہ چپ رھے گی اور یہ بات ماہی دبا لے گی یا یاسر اسے مجبور کرے گا کہ کسی کو مت بتانا۔ ایک چانس یہ بھی ھے کہ ماہی کہہ دے کہ میرا ریپ ہوا ھے اور الزام ان لڑکوں پہ لگ جاے گا۔یاسر بچ جائے گا کیونکہ ماہی اس کو بہن کا لور ہونے کی وجہ سے معاف کر دے گی۔ یہ تو سب ہمارا خیال ھے ہونا الگ ھے مجھے پتا ھے۔ کھانی کا یہ موڑ الگ تھا بہت مگر بڑا سچا تھا۔یاسر ایک نمبر کا ہوس پرست ھے اور ماہی کیا کوئی بھی اس کے پاس ننگی ہوتی تو اس نے یہی کرنا تھا کیونکہ اس نے پھلے بھی ایسا ہی کیا ھے سب کے ساتھ۔ماہی کا کردار معصوم تھا مگر اس واقعے کے بعد اس کی معصومیت ختم ہو گئی ہونی ھے کونکہ عزت لٹ جائے تو معصوم لٹ جاتی ھے۔ کھانی اب بدل جانی ھے اور ہر وقت یہ خطرہ رہنا ھے کہ ضوفی تک بات نہ پہنچ جائے۔یاسر مشکل میں ھے کیونکہ ضوفی کی سہیلی،اس کی نند اور بہن سب کے ساتھ ہو گیا ھے،کسی کا بھی راز کھل گیا تو یاسر گیا کام سے،
  16. 6 likes
    میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ لوگ ضوفی کو بڑا پسند کرتے ہیں اور اس کے ساتھ یاسر کے تعلق کو محبت کا نام دیتے ہیں۔ اس کی تشریح کہانی میں ہو جائے گی، بےفکر رہیے مگر اچھی بات یہ ہے کہ لوگ کہانی میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں نے ہفتے کا وعدہ کیا تھا اور لیں جناب میں آج وعدہ خلافی کرنے لگا ہوں۔ اس کی وجہ سے جناب ایڈمن سے ڈانٹ بھی سننی پڑے گی مگر کوئی بات نہیں۔ اس کی اپڈیٹ آج آ جائے گی اور مکمل جامع۔ ایک اپڈیٹ اگلے ہفتے جناب ایڈمن کر دیں گے۔ مجھے مستقل پڑھنے والے قاری بار بار مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ جو جو ہمیں پسند ہوتا ہے اس کے ساتھ آپ بہت برا کرتے ہیں کیونکہ اسی کا درد تو ہمیں اپنا درد لگتا ہے۔ جیسے پردیس میں جمیل انور چوہدری کو جب تکلیف ہوتی ہے تو کچھ قارئین نے یہ تک کہا کہ ان کو رونا آ گیا۔ دراصل لکھنے کے وقت کے حساب سے ہوتا ہے نا کہ میں نے ابھی تک لکھی ہی اتنی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ اگر مکمل لکھ کر پوسٹ کروں اور کوئی بیک اپ نہ ہو پیچھے تو اگر بعد میں نہ لکھ سکوں تو اپڈیٹ اپڈیٹ کی گردان سے بندہ تنگ آ جاتا ہے۔کئی کئی بار آپ یقین کیجیے میں 10 10 دن لکھ نہیں پاتا تو بیک اپ سے ہی کہانی اپڈیٹ ہو رہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے جہاں تک مکمل ہے وہ ڈال دیا جائے کچھ تو حوصلہ ہو۔ کہانی پسند کرنے کا شکریہ۔ کہانی کے کردار مسخ نہیں ہوں گے بس پہلے جو چیز سکون سے چل رہی تھی، اس میں تلاطم آ جائے گا۔ جو تعلقات خوشگوار تھے، وہ پیچیدہ ہو جائیں گے۔ ایسا عام زندگی میں ہوتا ہے کہ کسی شخص سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے اور بعد میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ سب کچھ پرفیکٹ صرف فلموں میں ہوتا ہے۔ کہانی کا اصل کریڈٹ بہرحال شیخو صاحب کو ہی جاتا ہے کہ انھوں نے کہانی کو بڑی تفصیل سے لکھا تھا اور ان کی کہانی میں ٹھہراؤ تھا۔ میں ایک ایکشن اور تیز رفتار لکھاری ہوں جو کم وقت میں کہانی کو بہت آگے لے جانے پہ مجبور ہوں کیونکہ لکھنے کا وقت کم ہوتا ہے، تو کہانی اسی وجہ سے پےدرپے بدل رہی ہے۔
  17. 6 likes
    طے یہ ہوا ہے کہ میں باہر سے جناب ایڈمن کو کہانی بھجواتا رہوں گا اور جناب ایڈمن میری غیر موجودگی میں بھی اس کہانی اور پردیس یا ہوس یا آہنی گرفت کو اپڈیٹ کرتے رہیں گے۔ تاکہ تسلسل بنا رہے۔ اس کہانی کی اپڈیٹ دے رہا ہوں ، ایک آخری اپڈیٹ میں ہفتے کو دوں گا۔ اس کے بعد جناب ایڈمن کے حوالے۔ میری واپس دس دن میں ہو گی۔
  18. 5 likes
    آپ کا۔شکریہ جناب کہ یہاں تک تشریف لائے اور مجھے سمت بتائی۔۔۔ اب میں بھرپور کوشش کروں گا کہ سٹوری کو اسی سمت چلایا جائے۔۔۔ باقی جب ہیرو نے پہلا قتل کیا تو اس وقت وہ جوش اور جنون میں کر تو گیا لیکن حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر پایا اور ویسے بھی پہلا کارنامہ تھا اس لیے مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے چلاؤں تو یہ سب لکھ ڈالا۔ بہرکیف!!!۔ فلحال تو ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں لکھ پایا کیوں کہ یہاں کمپنی میں کچھ ایمرجنسی یا ہنگامی حالات چل رہے ہیں تو ٹائم بلکل نہیں مل رہا بس چار پانچ دن کی بات ہے پھر کچھ حالات نارمل ہوں گے تو میں اگلی اپڈیٹ لکھنا شروع کر دوں گا۔۔اور امید ہے کہ توقع کے مطابق ہی لکھ پاؤں گا۔ ویسے بھی میرے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ تو ہے نہیں اس لیے موبائل پر ہی لکھ کر سیو کرتا جاتا ہوں اور ایک جامع اپڈیٹ بنانے کے بعد موبائل سے ہی اپلوڈ کر دیتا ہوں۔
  19. 5 likes
    بھائی بار بار وضاحت کر چکا ہوں کہ کہانی کی اپڈیٹ پیڈ سیکشن کی کہانیوں کے بعد ہو گی۔ اس وقت تو سب سے تیز رفتار اپڈیٹ اس کی پوسٹ ہو رہی ہیں۔ اگر میرے پاس فرصت ہو تو جناب ہفتے میں ایک کیا چار اپڈیٹ پوسٹ ہو جائیں۔ بس دعا کیجیے۔
  20. 5 likes
    (48) اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیوں سے آزاد کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کوئی دو تین اقسام کے لوشن مکس کر کے ان سے میرے چہرے پر مساج کرنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت جلدی تھی کہ دیکھوں تو سہی ڈاکٹر کی کارگزاریوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔۔۔پر میں صبر اور تحمل سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔۔۔آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے میرے چہرے کو کپڑے سے اچھی طرح صاف کیا اور مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے باہر کامن روم میں لا کر صوفے پر بٹھا دیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد نادر کھنکھارتے ہوئے بولا۔۔۔میرے ویر ہن اکھاں کھول لے۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں تو نادر کو اپنے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے دیکھا۔ نادر کے ساتھ والے ڈبل صوفے پر ڈاکٹر اور اس کی پٹاخہ بیوی شبنم بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میں نے ڈاکٹر کی آنکھوں میں ایک فخر اور خوشی کا احساس دیکھا۔۔۔شبنم مبہوت میرے چہرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ نادر کی آنکھوں میں ایک عجیب احساس تھا۔۔۔اس احساس کو میں کوئی بھی نام نہیں دے پایا۔ میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے پوچھا نادر کیا ہوا۔۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔تو نادر بولا میری جان میں جو تجھ میں دیکھ رہا ہوں وہ تجھے شیشہ دیکھنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔لیکن شیشہ تم گھر میں جا کر ہی دیکھو گے۔۔۔میں نے اچنبے سے پوچھا کیوں یہاں آئینہ دیکھنے میں کیا قباحت ہے تو نادر بولا۔۔۔میرے ویر اتنی سی بات مان لے۔۔۔سمجھ لے اس میں میری خوشی ہے۔ میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ یار نادر کیسی بات کرتا ہے بھائی تیری وجہ سے تو میں ہوں۔۔۔تو بولے تو ساری زندگی آئینہ مت دیکھوں۔۔۔ہماری باتیں سن کر شبنم اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی: ویل مسٹر کمال!!!مبارک ہو آپ کو آپ کا چہرہ صحیح سلامت واپس مل گیا ہے۔۔۔پھر وہ چونکتے ہوئے بولی۔۔۔اوہ سوری میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔۔۔مجھے مسِز رحمان کہتے ہیں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میری طرف مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔۔میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا اور وہ پھر پلٹ کر اندرونی کمروں کی طرف چلی گئی۔ اسی وقت ڈاکٹر نے پاس پڑی میز سے ایک چھوٹی سی بوتل اٹھا کر میری طرف بڑھائی اور بولا کہ یہ میرا تیار کردہ لوشن ہے۔۔۔تین دن تک اس کا مساج چہرے پر کرنا ہو گا۔۔۔تا کہ چہرے کی ملائمیت قائم رہ سکے۔۔۔ورنہ جِلد خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھے نایاب خان کے گھر واپس جا رہے تھے۔۔۔نایاب کے گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔۔۔نادر نے چابی سے تالا کھولا اور ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔ کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد ہم دونوں خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کی شکل تکتے رہے۔۔۔پجر نادر ہی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا۔۔۔کمال میرے دوست!!!میں نے ایک کام تم سے پوچھے بنا کر ڈالا ہے۔۔۔میں خاموش رہا تو وہ بولا لیکن یہ کام میں نے کیوں کیا ہے وہ پہلے ان لو اس کے بعد جو دل چاہے بولنا میں چپ چاپ مان جاؤں گا۔۔۔میں پھر خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔نادر نے دو سگریٹ سلگائے۔۔۔ایک سگریٹ مجھے دینے کے بعد دوسرا وہ اپنے ہونٹوں میں دباتے ہوئے بولا:یار کمالے ایک دن جب میں گھر گیا تو میں نے شمسہ کو عجیب حالت میں دیکھا۔ میں نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ آنکھیں چراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنا منہ دوسری طرف گھماتے ہوئے بولا۔۔۔میں گھر گیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔پہلے بھی اکثر یہی ہوتا تھا کیونکہ ہمسائے والی ماسی سارا دن شمسہ کے پاس بیٹھی رہتی ہے تو آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔اس لیے میں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا اور اپنی ہی دھن میں چلتا ہوا اندرونی کمروں کی طرف چلا گیا۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔ جبکہ میں سوچ رہا تھا کہ آج پہلی بار نادر خلافِ توقع اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ اپنی عادت کے برخلاف پنجابی چھوڑ کر اردو میں بات کر رہا ہے۔۔۔پر میں منہ سے کچھ نہیں بولا اور دھیان سے نادر کی بات سننے لگا۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔ کمالے جمیل بھائی کے جانے کے بعد بھی شمسہ اکیلی ہی اپنے کمرے میں سوتی تھی یا کبھی کبھار ماسی اس کے ساتھ سو جاتی تھی۔۔۔تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں ذیادہ تر گھر سے باہر رہتا تھا۔۔۔اور کیسے ہم دونوں نے مل کر آج تک جمیل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔۔خیر میں بتا رہا تھا کہ اس دن جب میں اس کے کمرے کے پاس پہنچا تو مجھے عجیب سی آواز سنائی دی۔ یہ آوازیں میرے لیے انجان نہیں تھیں۔۔۔یہ آوازیں کوئی لڑکی یا عورت اس وقت حلق سے نکالتی ہے جب وہ کیف و سرور کی منزل سے گزر رہی ہو۔۔۔میں ٹھٹھک گیا کیونکہ یہ آوازیں شمسہ کے کمرے سے ہی آ رہی تھیں۔۔۔پہلے تو میں ایک دم غصے میں آ گیا اور سوچا کہ اندر داخل ہوتے ہی شمسہ اور اس کے ساتھ جو بھی ہو ان دونوں کو گولی سے اڑا دوں۔ میں نے اپنا پستول بھی ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔پھر میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے سوچا کہ پہلے دیکھوں تو سہی کہ یہ کون خنزیر کا پتر ہے جو میرے ہی گھر میں نقب لگا رہا ہے۔۔۔میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو وہیں پتھر ہو گیا۔۔۔اندر شمسہ۔۔۔شمسہ اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔۔۔میں نے نہایت دھیمی آواز میں پوچھا!!!نادر اندر ایسا تم نے کیا دیکھا کہ تم وہیں پتھر کے ہو گئے۔۔۔بھائی مناسب سمجھو تو مجھے بتاؤ۔۔۔نادر آہستگی سے بولا کہ اندر شمسہ ننگی لیٹی ہوئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ایک کھیرا پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان والی جگہ میں ڈال کر زور زور سے ہلاتے ہوئے سسکیاں بھرتے ہوئے جمیل بھائی کو یاد کر رہی تھی۔ ************************* (49) اسی وقت مجھے لگا کہ جیسے وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے کھیرا نکال کر باہر پھینک دیا اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر روتے ہوئے جمیل بھائی کو آوازیں دینے لگی۔۔۔جمیل میری زندگی۔۔۔مجھے یہاں اکیلا تڑپنے کیلئے چھوڑ کر کہاں چلے گئے۔۔۔یہ پہاڑ جیسے زندگی کیسے کٹے گی۔۔۔کمالے مجھ میں اور سننے،دیکھنے یا سہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔میں چپ چاپ وہاں سے نکلا اور کافی دیر بعد گھر واپس گیا۔۔۔اگلے مہینوں میں بھی کئی دفعہ میں نے شمسہ کو اسی آگ میں جلتے ہوئے دیکھا۔ پر میں سوائے اپنا دل جلانے کے اور کیا کر سکتا تھا۔۔۔پھر اس دن میں نے تمہیں دیکھا تمہارے چہرے کی حالت دیکھی تو میں نے اپنے دل میں اندر ہی اندر ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے گاؤں سے آتے وقت گھر سے جمیل کی چند تصاویر اٹھائی تھیں۔۔۔وہ تصاویر میں نے ڈاکٹر کو دے دیں۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ کر گیا۔۔۔لیکن میں کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں پوچھ بیٹھا!!!یار نادر ان تصویروں سے میرا کیا تعلق۔ نادر آگے گیا اور دیوار پر ٹنگا ہوا شیشہ لا کر میرے سامنے کرسی پر رکھا اور چپ چاپ منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔میں نے شیشہ اٹھایا اور اس میں اپنا منہ دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ہکلاہٹ کے مارے میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا۔۔۔نن۔نادر یہ یہ جمیل۔میرا چہرہ۔۔۔اسی وقت نادر جھکتے ہوئے میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔میرے یار میری اس خود غرضی کو معاف کر دینا۔۔۔مجھ سے شمسہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس لیے میں نے تمہیں جمیل کا روپ اور شکل و صورت دے دی ہے تاکہ۔۔۔تاکہ تم جمیل بن کر شمسہ کو سنبھالو۔۔۔اسے سہارا دو،شمسہ کے حصے کی خوشیاں اسے دے دو میرے بھائی۔ میں سکتے کی کیفیت میں بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔پر نادر مم۔مم۔میں کیسے جمیل۔۔۔شمسہ۔۔۔اف فف میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔۔یہ کہہ کر میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔نادر نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو کہہ اٹھا۔۔۔نہیں نہیں میرے ویر پریشان مت ہو۔۔۔چنگی طرح سوچ لے۔۔۔پر یاد رکھنا اس کے علاوہ میرے پاس ایک ہی حل ہے کہ میں شمسہ کو گولی مار کر خودکشی کر لوں۔۔۔میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ نادر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر سر پکڑے بیٹھا رہا۔۔۔پھر میں نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو اچانک ایک انوکھی بات میرے ذہن میں آئی کہ اب میرا چہرہ میرا نہیں تھا جمیل کا تھا اور سب کو یہی پتہ ہے کہ جمیل سعودی میں بیمار ہے۔۔۔صرف میرے گھر والوں کو پتہ تھا اور وہ دنیا میں نہیں رہے۔۔۔تو مطلب اب اس راز کو جاننے والے میں اور نادر تھے۔ میں اس شکل کے ساتھ واپس اپنے گاؤں جا سکتا تھا اور وہاں سیالوں کے سامنے رہ کر ان کے سینوں پر مونگ دل سکتا تھا۔۔۔ویسے بھی میرا اپنا چہرہ تو بری طرح سے جل گیا تھا اور اب نادر کی مہربانی سے مجھے جمیل کی وجاہت ملی تھی۔۔۔چاہے اس میں نادر کی خود غرضی چھپی ہوئی تھی پر نادر کا خلوص اور اس خود غرضی کے پیچھے ایک معصوم لڑکی کی مدد یہ سب باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں۔۔۔میں وہاں سے اٹھا اور چلتے ہوئے باہر نکل آیا۔ نادر باہر صحن میں بیٹھا ہوا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر نادر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نےبھاگ کر نادر کو گلے لگا لیا اور شوخی بھرے لہجے میں بولا۔۔۔نادر تو وڈا حرامی ایں۔۔۔اینا کجھ کر لیا پر مینوں خبر وی نہ ہون دتی۔۔۔نادر نے ایک دم مجھے خود سے علیحدہ کیا اور جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔مطلب تجھے اس سارے پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں؟تو میں نے گردن جھکاتے ہوئے کہا:یارا آج میں جو بھی ہوں تیری وجہ سے ہوں۔ میں تیرے خلوص کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔میرے یار تو جو بھی کرے گا چنگا ہی کرے گا۔۔۔میں ہر طرح سے تیرے ساتھ ہوں۔۔۔نادر نے میری بات سن کر مجھے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگا۔۔۔او جی خوش کیتا ای جواناں۔۔۔بس ہن فٹافٹ میں شمسہ نوں ایتھے لیان دا بندوبست کردا واں تے توں اپنی ٹریننگ آپ شروع کر لے کہ اودے نال کی گل کریں گا کداں اونوں سنبھالیں گا۔۔۔باقی جمیل الوں سارے خط تے توں اونوں اپنے ہتھ نال ای لکھدا ریا ایں نا۔۔۔اس لئی مینوں یقین اے کہ سارے حالات جاندے ہوئے تو اونوں چنگی طرح سنبھال لویں گا۔ میں نے اسے پکڑ کر چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا!!!یار نادر شمسہ کو یہاں لانے کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ گاؤں بھی تو جا سکتے ہیں نا۔۔۔اب میں،میں نہیں ہوں اب میں جمیل ہوں۔۔۔نادر چند لمحے تو میری بات سمجھ نہیں پایا پھر جیسے ہی میری بات اس کی سمجھ میں آئی وہ ایک دم جوش میں میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا"ایتھے رکھ،،یار ایہہ گل تے میرے ذہن وچ ای نہیں آئی۔ پھر وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔کمالے یار گاؤں جانے سے پہلے کچھ اہم کرنے باقی ہیں۔۔۔سیالوں کی طرف سے ہم پر بہت بھاری قرض ہے جو کہ ہمیں بہت اچھے انداز میں چکانا ہے۔۔۔سیالوں کے ساتھ جو کچھ کرنا ہے اس کیلئے ابھی ہمیں بہت طاقت درکار ہے۔۔۔جسمانی طاقت نہیں،کچھ اور ہی طرح کی طاقت۔۔۔ایسی طاقت جس کے ذریعے ہم ان کتی کے پتروں کے سامنے چٹان کی طرح جم کے کھڑے ہو سکیں۔۔۔بولتے بولتے نادر کے جبڑوں کی رگیں تن گئیں اور میں خوشی سے سرشار سوچنے لگا کہ پتہ نہیں یہ میری کس نیکی کا صلہ ہے جو قدرت نے مجھے نادر جیسا جانثار دوست عطا کیا ہے۔۔۔پھر نادر بولا:میں اتنے دن خالی نہیں بیٹھا۔۔۔کچھ بھاگ دوڑ کی ہے جس سے کافی کام کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ************************* (50) پھر وہ چند لمحے کچھ سوچ کر بولا:بلکہ تو ایسا کر ابھی میرے ساتھ چل میں تجھے کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔میں اس کے ساتھ وہاں سے نکلا۔۔۔نادر نے ایک ٹیکسی کو روک کر کوئی ایڈریس بتایا پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔۔۔بیس منٹ بعد ہم لوگ ایک درمیانے درجے کی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اتر رہے تھے۔۔۔ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر فارغ کرنے کے بعد ہم لوگ سیدھا اندر چلے گئے۔ اندرونی کمروں میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک دفتر نما کمرہ تھا۔۔۔نادر مجھے لیے ہوئے سیدھا اس کمرے میں گھستا چلا گیا۔۔۔اندر ایک بڑی سی میز کے پیچھے کرسی پر ایک مارواڑی سندھی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔علیک سلیک کے بعد ہم لوگ اس کے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔نادر کو دیکھ کر سندھی کی باچھیں کھل گئیں اور وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔آؤ جی نادر صاحب کیسے مزاج ہیں۔۔۔آج ہماری یاد کیسے آ گئی۔۔۔نادر نے جواب دیا سیٹھ تمہارے پاس ایک کام سے آئے ہیں۔۔۔ہمیں کچھ اسلحہ چاہیے جو کہ فارن میڈ ہو۔ وہ سندھی ہمیں لیکر اندرونی حصے میں موجود ایک تہہ خانے میں پہنچ گیا۔۔۔تہہ خانے میں ہر قسم کے چھوٹے بڑے ہتھیار موجود تھے۔۔۔تہہ خانہ کیا بلکہ یہ تو کسی آرمی بٹالین کا اسلحہ خانہ لگتا تھا۔۔۔میں نے اپنے لیے ایک جرمن لیوگر ہی پسند کیا جس کے ساتھ ایک چھوٹے سائز کا نہایت نفیس قسم کا سائلنسر تھا۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر نے بھی ایک جرمن لیوگر ہی اٹھا لیا۔ اس کے بعد نادر نے دو نہایت اعلیٰ قسم کی سٹین گنیں پسند کیں۔۔۔میں نے ایک تیز دھار خنجر،جو کے چمڑے کی ایک پیٹی میں بند تھا وہ پسند کیا۔۔۔تسمے کی مدد سے یہ خنجر میں نے اپنی داہنی پنڈلی کے ساتھ باندھ لیا۔۔۔سیٹھ کو پیمنٹ کرنے کے بعد سٹین گنیں اور سارے ہتھیاروں کا ایمونیشن دو دن بعد گاؤں والے ایڈریس پر پہنچانے کا کہہ کر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے۔ گھر پہنچ کر اپنے پاس موجود گنز ہم نے ایک الماری میں رکھیں اور نادر مجھے لیکر پھر گھر سے نکل پڑا۔۔۔اب کی بار ہم لوگ ایک بینک پہنچے جہاں جا کر نادر نے بینک مینجر سے میرا تعارف اپنے بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا۔۔۔پھر نادر نے اپنے اکاؤنٹ پر میرا نام بھی لکھوایا تا کہ نادر کی غیر موجودگی میں رقم نکالتے وقت مجھے کوئی پرابلم نہ ہو۔۔۔بینک سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے تو نادر نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور دوسرا خود اپنے ہونٹوں سے لگا کر جلاتے ہوئے بولا:لالے دی جان ایتھے آلے تے سارے کم مک گئے۔۔۔ہن دس پنڈ واپسی دا کی پروگرام اے۔ میں دھواں اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں نادر ابھی ایک کام باقی ہے یار۔۔۔پھر بنا نادر کو کچھ بتائے میں نے ایک پی سی او سے ڈاکٹر رحمان کے نمبر پر کال ملائی تو شومئی قسمت شبنم نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے مدعے کی بات شروع کی۔ شبنم!!!تمہیں یاد ہے اس رات میں نے تم سے کہا تھا کہ ہو سکتا مجھے تمہاری ضرورت پڑے تو شبنم نے جواب دیا:کیوں نہیں میری جان سب یاد ہے تم بتاؤ تو سہی کیا کام ہے۔۔۔میں نے کہا شبنم میری ساری کہانی تو تم سن ہی چکی ہو۔۔۔اب مجھے ایک دو ایسے جانثاروں کی ضرورت ہے جو کہ پورے خلوص سے میرے ساتھ مل کر کام کریں۔۔۔تم ڈاکٹر کے ذرائع استعمال کر کے پتہ چلاؤ کہ ایسے لوگ کہاں سے ملیں گے۔۔۔چونکہ ڈاکٹر کرنل بھی ہے تو وہ لازمی ایسے لوگوں کو جانتا ہو گا۔ شبنم کہنے لگی یار اتنے سے کام کیلئے ڈاکٹر کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔میں بذاتِ خود ایسے دو آدمیوں کو جانتی ہوں جو کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں۔۔۔اور زندہ رہنے کے تمام گر سیکھ چکے ہیں۔۔۔جرائم کی دنیا کی ساری اونچ نیچ سے واقف ہیں۔۔۔باقی تم ان دونوں سے مل لو خود ہی معلوم پڑ جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔میں بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ تمہارے کام آ سکتے ہیں۔۔۔تم اپنا ایڈریس مجھے بتاؤ میں ان کو بھیج دیتی ہوں۔ ************************* (51) میں نے ایڈریس اسے بتایا تو اس نے دو گھنٹے کا کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔نادر چپ چاپ میری شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے نادر کو اس رات کی ساری داستان سنائی تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا:جیو شہزادے کہاں ہاتھ مارا ہے۔۔۔علاج کے دوران ہی ڈاکٹر کی بیوی چود ڈالی۔۔۔او کمالے تو واقعی کمال ہے۔۔۔اسی طرح ہنستے کھیلتے،باتیں کرتے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔دو گھنٹے بعد گھر کے صدر دروازے پر دستک ہوئی تو نادر نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔دروازے پر دو نوجوان موجود تھے۔ نادر ان کو لیکر اندر کمرے میں آ گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہم لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔رسمی باتوں کے بعد میں نے ان کا ماضی جاننے کی استدعا کی تو انہوں نے اپنا ماضی الضمیر کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔واقعی یہ زمانے کے ستائے ہوئے جوان تھے۔۔۔ایک کا نام سردار علی اور دوسرے کا نام حنیف خان تھا۔۔۔سردار علی جسامت میں حنیف خان سے کافی تگڑا تھا۔۔۔جبکہ حنیف خان لمبوترے قد کے ساتھ سانپ جیسی آنکھیں رکھتا تھا۔۔۔حنیف خان کے گھر والے کسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔۔۔دشمنوں نے اس کے پورے خاندان کو گولیوں سے اڑا دیا تھا۔ اس وقت حنیف خان کمزور تھا۔۔۔کچھ کر نہیں پایا لیکن وہ اپنے دشمن کو شکل سے پہچانتا تھا۔۔۔بعد میں حنیف خان نے چن چن کر مخالفوں کو قتل کر کے اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کا بدلہ لیا۔۔۔میں حنیف خان کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوا کیونکہ میں بھی تو اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اپنا سارا خاندان کھو بیٹھا تھا۔ سردار علی لاولد تھا۔۔۔مطلب اس کو اپنے والدین بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ایک یتیم خانے میں پل کر بڑھا ہوا۔۔۔اور معمولی چوری چکاری کرتے کرتے ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔۔۔اسے جیل ہو گئی اور پھر جیل سے وہ جرائم کی دنیا کے تمام قوانین سیکھ کر باہر نکلا۔۔۔شبنم کے ان لوگوں سے تعلقات بارے یہ پتہ چلا کہ حنیف خان تو شبنم کا دور پار کا رشتے دار تھا۔۔۔شبنم چونکہ حنیف کے سارے حالات جانتی تھی اس لیے اکثر شبنم اسے کہیں نہ کہیں کام دلوا دیا کرتی تھی۔۔۔اور حنیف کے توسط سے ہی سردار کو کام مل جاتا تھا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی لائن کے آدمی تھے اس لیے آپس میں تعلقات تھے۔ میرے پاس آنے سے پہلے وہ ایک اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے۔۔۔لیکن وہ اسمگلر چند مہینے پہلے ہی اپنے گروہ کے چیدہ چیدہ کارندوں سمیت قانون ساز اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تو اس لیے آج کل یہ دونوں فارغ البال تھے۔۔۔چنانچہ شبنم کے کہنے پر میرے پاس چلے آئے۔۔۔میں جسے معمولی لڑکی سمجھتا رہا وہ تو بڑی توپ قسم کی شے نکلی۔۔۔شبنم کا کریکٹر مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔۔بہرحال میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اس کا کریکٹر سمجھ کر کرنا بھی کیا ہے۔ اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا۔ مجھے اپنے کام سے غرض رکھنی چاہیے۔۔۔مجھے حنیف خان کی آنکھوں میں بجلیاں سی دوڑتی نظر آئیں۔۔۔آنے والے وقتوں میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ بظاہر منحنی اور مجہول نظر آنے والا یہ شخص بے مثل صلاحیتوں کا مالک تھا۔۔۔اسے دیکھ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کتنا پھرتیلا اور طاقتور ہے۔۔۔اژدھے کی طرح وہ اگر کسی کو ایک بار اپنی گرفت میں جھکڑ لیتا تو پھر جان سے مار کر ہی چھوڑتا۔۔۔اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں،ذہنی طور پر بھی بہت پھرتیلا اور مستعد تھا۔۔۔کسی بھی صورتحال میں فوری فیصلہ کرنا اور اس پر عملدرآمد کرنا اس کی خصوصیت تھی اور عام طور پر وہ فیصلہ درست ہی ثابت ہوتا تھا۔ میں نے ان دونوں ہر اعتماد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں شروع سے لیکر آخر تک اپنی ساری رام لیلا سنائی۔۔۔ساری تفصیلات جاننے کے بعد وہ دونوں بہت متاثر ہوئے اور میرے لیے کام کرنے پر آمادہ ہو گئے۔۔۔پھر ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں واپس گاؤں جانا چاہیے۔۔۔اسلحہ کے نام پر دونوں کے پاس ریوالور موجود تھے۔۔۔ہم لوگوں نے اگلے دن وہاں سے گاؤں کوچ کرنے کا قصد کیا۔ ************************ (52) میں کافی دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ میرے دماغ میں کراچی کے حوالے سے کوئی چیز کھٹک رہی ہے۔۔۔لیکن بہت زور دینے پر بھی میں اپنے دماغ کو کلئیر نہیں کر پایا تھا۔۔۔ابھی اچانک جب واپسی کا قصد کیا تو اچانک میرے دماغ میں دو نام گونجے۔ رضیہ عرف راجی۔ چوہدری صفدر سیال۔ حالانکہ میری براہِ راست صفدر سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔۔۔لیکن صفدر کا وڈے چوہدری کے خاندان کا حصہ ہونا ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔۔۔اوپر سے راجی کے کہنے کے مطابق وہ راجی کا مجرم بھی تھا اور سفاکیت میں اپنی مثال آپ۔۔۔راجی کے خاندان کو قتل کرنے والا صفدر سیال۔۔۔جیسے جیسے میں اس بارے سوچتا گیا۔۔۔میرے دماغ میں جیسے پارہ بھرتا گیا۔۔۔میرے ذہن میں کھچڑی سی پک رہی تھی ، میرے وجود میں کہیں کوئی چنگاری سی پھوٹی تھی اور شعلہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔میں سر تا پا مبتلائے اذیت تھا۔۔۔میرا رواں رواں جل رہا تھا۔۔۔جسم کا ہر مسام آگ اگل رہا تھا۔ مجھے یوں مٹھیاں بھینچ تے ہوئے دیکھ کر نادر نے مجھے آواز دیتے ہوئے پوچھا۔۔۔لالے دی جان کی گل خیر تے ہے۔۔۔میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔نادر ہم لوگ یہاں سے جا تو رہے ہی ہیں۔۔۔کیوں نہ جاتے جاتے وڈے چوہدری کیلئے ایک تحفہ ہی چھوڑ جائیں۔۔۔تحفہ؟ نادر نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے پھنکارتے ہوئے کہا:وڈے چوہدری کا ایک تخم یہاں کراچی میں بھی تو موجود ہے نا۔ نادر نے سرسراتے انداز میں کہا:کہیں تم صفدر سیال کی بات تو نہیں کر رہے۔۔۔میرے سر ہلانے پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔صفدر سیال جب بھی کہیں باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ محافظوں کا پورا دستہ ہوتا ہے۔۔۔راستے میں اس پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل کام ہے البتہ ہم لوگ رات کے اندھیرے میں ان کو غفلت میں دبوچیں تو ذیادہ بہتر رہے گا۔۔۔تو کیا خیال ہے دوستو کام کی ابتدا کی جائے؟ یہ بات نادر نے سردار علی اور حنیف خان کو دیکھتے ہوئے کہی تھی۔۔۔حنیف خان بولا:سر جیسے آپ کہیں۔۔۔میں تو خود معاشرے کے اس ناسور کو مٹانے کیلئے بہت بیتاب ہوں۔ نادر نے مجھے مخاطب کیا:یار ایک مسئلہ ہے اس کنجر کے تخم کو ڈھونڈیں گے کیسے؟ کیونکہ میں صفدر سیال کی رہائش گاہ کے بارے میں نہیں جانتا۔۔۔البتہ ایک دفعہ وڈے چوہدری کے کسی کام سے مجھے صفدر کے ایک گودام میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔۔۔اس گودام کا ایڈریس مجھے معلوم ہے بس۔۔۔میں نے چونک کر پوچھا گودام۔کس چیز کا گودام؟ نادر نے بتایا کہ صفدر نے کسی انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں کراچی میں چھوٹے سائز کی جیپ بنانے کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے جو کہ بہت منافع میں جا رہا ہے۔۔یہ بہت ہی منافع بخش یونٹ ہے۔ کراچی کے مضافات میں انہوں نے بڑے بڑے گودام بنا رکھے ہیں، جہاں وہ تیار شدہ جیپں اسٹور کرتے ہیں۔۔۔انہیں وہ پوائنٹ ون کے نام سے پکارتے ہیں۔۔۔اس پوائنٹ ون اور گوداموں کا انچارج ایک جبار باری نام کا بندہ ہے جو کہ عرفِ عام میں جے باری کہلاتا ہے۔۔۔یہ جے باری ان گوداموں کا انچارج بھی ہے اور ویسے یہ ایک چلتا پھرتا پرزہ ہے۔۔۔درجنوں قتل کر چکا ہے اور عادتاً انتہائی سفاک ہے۔۔۔جب میں وہاں گیا تھا تو اسی سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔پھر اس کی جنم کنڈلی نکالی تو اس کے بارے میں یہ سب معلومات حاصل ہوئیں۔ ************************ (53) میں سر جھکائے کچھ سوچ رہا تھا تبھی حنیف خان گلا کھنکھارتے ہوئے بولا:سر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ آپ ان گوداموں کے مالک کو گھیرا چاہتے ہیں۔۔۔تو اس کا ایک سیدھا سادھا حل میرے پاس ہے۔۔۔پہلے ان گوداموں کے بارے میں مکمل معلومات نکالتے ہیں۔۔۔پھر موقع دیکھ کر وہاں کوئی بڑی کاروائی کرتے ہیں۔۔۔اب ظاہری سی بات ہے کہ گودام کی تباہی پر مالک تو ضرور آئے گا نا۔ میں نے تحسین بھرے انداز میں حنیف خان کا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا۔۔۔واہ میرے دوست تم نے تو ایک منٹ میں انتہائی آسان حل بتا دیا۔۔۔چلو پھر لگ جاؤ کام پر اور جتنی جلدی ہو سکے ان گوداموں کا مکمل بائیو ڈیٹا اکٹھا کر لو تا کہ ان کتی کے بچوں پر ایک کاری ضرب لگا کر جنگ کا آغاز کریں۔ حنیف خان نے سردار علی کو اٹھاتے ہوئے کہا سر مجھے صرف چند گھنٹے درکار ہیں۔۔۔امید ہے کہ کل صبح تک پوری معلومات کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔اس کے بعد وہ دونوں نادر سے گوداموں کا ایڈریس معلوم کر کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔یہ رات نایاب خان کی معیت میں بڑی اچھی گزری۔۔۔یہ خان بھی یاروں کا یار تھا۔۔۔وہ ہمارے بارے میں صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ ہم لوگ کسی دشمنی کا شکار ہوئے ہیں اور میں اپنا چہرہ تبدیل کرنے کراچی آیا ہوں۔۔۔اس سے ذیادہ نہ ہم نے اسے بتایا اور نہ ہی اس سیدھے سادے انسان کو بتانے کی ضرورت تھی۔ رات کو آتے وقت وہ بازار سے فرائی چکن اور گرما گرم تندوری روٹیاں لے آیا۔۔۔ہم تینوں نے مل کر خوب مزے سے کھانا کھایا۔۔۔پھر ہم لوگوں نے نایاب کو بتایا کہ ہم لوگ کل صبح واپس چلے جائیں گے تو ہمارے جانے کا سن کر وہ تھوڑا غمگین ہوتے ہوئے بولا بھائیو!!!تم لوگوں کے ساتھ تو ٹھیک سے بیٹھ کر گپ شپ بھی نہیں کر پایا اور تم لوگوں نے واپسی کی نوید سنا دی۔۔۔بہرحال اس کو کوئی میٹھا پپلو سنا کر ہم لوگوں نے اپنی واپسی بارے میں رام کیا اس کے بعد کافی دیر گپ شپ لگاتے رہے۔ اگلے دن صبح نو بجے حنیف خان اور سردار کی آمد ہوئی۔۔۔اس وقت نایاب خان کسی کام سے باہر نکلا تھا۔۔۔نایاب خان کو ہم نے یہی بتایا تھا کہ گیارہ بجے ہم لوگ گھر سے نکلیں گے تو وہ اس سے پہلے پہلے واپس آنے کا کہہ کر کسی ضروری کام سے چلا گیا۔۔۔چند لمحوں بعد میں اور حنیف آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔حنیف کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک محسوس کر کے میں پوچھے بغیر رہ نہ سکا۔۔۔کیا بات ہے حنیف بہت پرجوش لگ رہے ہو تو وہ بولا:سر بات ہی خوشی کی ہے۔۔۔ہم نے کل رات پورا بائیو ڈیٹا نکال لیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق پانچ سو کے قریب تیار شدہ جیپیں وہاں موجود شیڈز میں منتقل کی جا چکی ہیں۔۔۔پروڈکشن کا خام مال بھی کافی مقدار میں سٹور کیا ہوا ہے۔۔۔دھڑا دھڑ مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے اور جیپ کے ٹینک میں پٹرول ڈال کر جیپ کو شیڈ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔۔جیسے ہی مجھ پر یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان جڑواں گوداموں میں سیال اینڈ کمپنی کی پانچ سو تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔میری ذہن میں موجود چنگاری شعلہ بن کر ابھرنے لگی۔۔۔میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانی ہے۔ ان کی ماں کی پھدی۔ کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور میں بھی اس وقت سیالوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تن تنہا ان گوداموں میں گھسوں گا اور ان گشتی کے بچوں سیالوں کو یادگار نقصان پہنچاؤں گا۔۔۔میرا ٹارگٹ گوداموں میں موجود وہ بڑے شیڈز تھے جہاں کمپنی کی تیار شدہ پانچ سو جیپیں موجود تھیں۔ میں نے حنیف اور نادر دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اس بھلے مانس نایاب خان کو چکر دینا ہے۔۔۔اس بابت میں نے ساری بات حنیف کو سمجھائی تو وہ بولا اس بات کی آپ فکر مت کریں۔۔۔آپ لوگ یہاں سے سیدھے ریلوے اسٹیشن جائیں اور میں آپ لوگوں کو ریلوے سٹیشن سے گیارہ بجے اٹھا لوں گا۔۔۔اس کے بعد باقی کا پروگرام میرے ٹھکانے پر بیٹھ کر طے کریں گے۔ پروگرام فائنل ہونے کے بعد سردار اور حنیف وہاں سے نکل گئے۔۔۔کچھ دیر بعد ہی نایاب خان گھر پہنچ گیا۔۔۔ٹھیک ساڑھے دس بجے نایاب خان خود ہمیں ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آیا۔۔۔اس کو دکھانے کیلئے ہم نے باقاعدہ لاہور والی گاڑی کے ٹکٹ خریدے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔گاڑی کے وصل دیتے ہی وہ سادہ لوح آدمی ہمیں الوداع کہہ کر واپس چلا گیا اور ہم اگلے ڈبے سے ہو کر گاڑی سے اتر کے محتاط انداز سے دیکھتے ہوئے سٹیشن سے باہر نکل آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق حنیف خان ایک سرمئی رنگ کی فوکسی میں موجود تھا۔ ************************ (54) ہم گاڑی میں بیٹھے تو حنیف خان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔میں نے پوچھا حنیف یہ گاڑی کہاں سے لائے ہو تو وہ بولا:سر یہ ایک دوست کی ورکشاپ سے لایا ہوں۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے گاڑی سے اتر رہے تھے۔۔۔سردار علی دروازے پر ہی موجود تھا۔۔۔ہم لوگ اندر چلے گئے یہ دو کمروں کا مکان تھا۔۔۔کمرے میں موجود کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے آگے کا پلان ڈسکس کرنا شروع کر دیا۔ میں نے انہیں ساری بات تفصیل سے سمجھائی۔۔۔اس کام کیلئے ہمیں ایک بڑی گاڑی کی ضرورت تھی۔۔۔اس کی حامی سردار علی نے بھر لی کہ عین وقت پر وہ کسی پارکنگ لاٹ سے گاڑی اڑا لائے گا بقول اس کے یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔کاروائی کرنے کے بعد گاڑی کہیں بھی چھوڑی جا سکتی تھی۔۔۔نادر نے سردار کی بات سے اتفاق کیا۔۔۔بقیہ وقت ہم لوگوں نے کچھ ضروری خریداری میں گزارا۔۔۔پھر اپنے پروگرام کے مطابق رات تقریباً دس بجے سردار علی ایک نئی کالے رنگ کی تاریک شیشوں والی کرولا کار اڑا لایا۔ ہم چاروں اس تاریک شیشوں والی کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکلے اور اس شخص کی کوٹھی پر پہنچ گئے جو کہ ان گوداموں کا کرتا دھرتا تھا۔۔۔جی ہاں میں جے باری کی بات کر رہا ہوں۔۔۔میں نے اور نادر نے انتہائی قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو کہ سپیشل آج ہی اسی مقصد کیلئے خریدے گئے تھے۔اسلحے کے نام پر ہم دونوں کے پاس جرمن لیوگر موجود تھے۔۔۔حنیف پروگرام کے مطابق کوٹھی سے تھوڑے فاصلے پر اتر گیا جبکہ سردار ڈرائیور کی حیثیت سے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود رہا۔۔۔حنیف کو اتارنے کے بعد ہم سیدھا باری کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔۔۔ہماری نئی نویلی کار دیکھ کر اس کے گارڈز بڑی تعظیم سے پیش آئے۔ میں نے جے باری کو پیغام بھجوایا کہ میں ایک ابھرتا ہوا صنعتکار ہوں اور کاروباری حوالے سے ہمارا باری صاحب سے ملنا اشد ضروری ہے۔۔۔اسی ضمن میں پہلے سے تیار کردہ ایک فرضی کارڈ بھی اندر بھجوایا۔۔۔تھوڑی سی مدوکدر کے بعد جے باری کے کارندے مجھے اور نادر کو ڈرائنگ روم میں لے گئے۔۔۔ہم لوگ صوفوں پر بیٹھے تھے کہ چند منٹ بعد جے باری بھی وہاں پہنچ گیا۔۔۔اس کو آتے دیکھ کر اس کا کارندہ جو ہمیں وہاں لیکر آیا تھا تعظیم دیتے ہوئے واپس چلا گیا۔ جے باری سانولی رنگت اور چست جسم والا چونتیس، پی تیس سالہ شخص تھا۔۔۔اس کے ساتھ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی۔۔۔خوش شکل لڑکی نے جزبات بھڑکانے والا ایسا لباس پہن رکھا تھا کہ دیکھتے ہی لن سر اٹھانے لگے۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکا سا خمار تھا صاف دکھتا تھا کہ وہ شراب پیتے ہوئے اٹھ کر آئے ہیں۔۔۔لڑکی کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ نہایت"اونچے درجے کی گاہک"پھانسنے والی رنڈی ہے۔۔۔آج ہفتے کی رات تھی اور غالباً جے باری اس ویک اینڈ پر گشتی کی پھدی مارنے کیلئے اس کو لایا تھا۔ پر جے باری کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک اینڈ اس کے سر پر کیا قیامت توڑنے والا ہے۔۔۔میرے دل کا موسم عجیب ہو رہا تھا۔۔۔سیالوں اور ان سے وابستہ کسی بھی فرد کیلئے میرے دل میں رحم کی رمق نہیں تھی۔۔۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔ٹرالی ہر شراب کی بوتل اور گلاس رکھے ہوئے تھے۔۔۔ملازم نے ہم سب کیلئے شراب کے جام بنائے اور الٹے قدموں واپس کمرے سے باہر چلا گیا۔ میں نے جے باری سے پوچھا"کیا ہم یہاں پورے تحفظ کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔،، دوسرے لفظوں میں میرا مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری بات چیت کے درمیان یہ لڑکی یہاں ہی موجود رہے گی؟ جے باری نے کہا" ہاں آپ پورے اعتماد سے بات کر سکتے ہیں یہ کمرہ ہر طرح سے محفوظ ہے اور جب تک میں نہیں چاہوں گا کوئی ملازم بھی اندر قدم نہیں رکھے گا۔۔۔وہ ہمارے بیش قیمت لباسوں سے خاصا مرعوب نظر آ رہا تھا۔ ************************ (55) باری کی بات سن کر میں نے اور نادر نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہم دونوں نے سائلنسر لگے لیوگر باہر نکال لیے تو جے باری اور اس کی ساتھی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔پہلے تو جے باری نے فٹافٹ اٹھنے کی کوشش کی پھر گن کا رخ اپنی جانب دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ کون ہو تم؟،، اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کے اندیشے سمٹ آئے۔ میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔تیری ماں کا ٹھوکو ہوں۔۔۔میرا نام کمال ہے اور اگر میرا موڈ ہو تو میں بلاوجہ ہی بندہ مار دیا کرتا ہوں۔۔۔میری بات سن کر جے باری کی آنکھوں میں خوف کی لہر ابھر آئی۔۔۔اس نے اپنا شراب کا جام ٹرالی پر رکھا اور خود کو سنبھال کر بولا،، میں کسی کمال کو نہیں جانتا۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو، میں تمہیں بتا دوں کہ یہاں چھ مسلح گارڈ موجود ہیں۔تم کسی بری نیت سے آئے ہو تو یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔ اس دوران نادر اٹھ کر دروازے کے پاس چلا گیا اور دروازہ کور کر لیا مباداً کوئی آ نہ جائے۔۔۔میں نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا،، تیرے جیسے نامرد کتوں کی فوج کے سہارے حرامی پن کر سکتے ہیں۔۔۔یہ میرے ہاتھ میں جو گن موجود ہے اس پر بڑا نفیس سائلنسر لگا ہوا ہے۔۔۔تمہیں گولی ماروں گا تو شاید ساتھ والے کمرے میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔یہ نمونہ دیکھو۔،، میں نے گولی چلائی تو ٹھس کی آواز نکلی اور گولی سیدھا لڑکی کی آنکھوں کے بیچوں بیچ ماتھے پر جا لگی اور کھوپڑی کو توڑتی ہوئی پیچھے سے نکل گئی۔ وہ گشتی باری کے پہلو میں بیٹھی تھی اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی وہ ایک دم جھکی اور اوندھے منہ قالین پر گر گئی۔۔۔اس کے خون سے سرخ قالین سرخ تر ہونے لگا۔۔۔جے باری جیسے سکتے کی حالت میں رہ گیا تھا۔۔۔اس کے ہونٹ کانپتے رہ گئے مگر آواز،، ندارد،، تھی۔۔۔میں نے زہریلے لہجے میں کہا:دیکھا بلکل بھی آواز نہیں آئی۔۔۔پانچ دس سیکنڈز تک قیامت خیز سناٹا جاری رہا۔ کک۔کیا چاہتے ہو تم؟" جے باری نے رندھے ہوئے گلے سے پوچھا۔ میں تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن فلحال تم بنا چوں چراں کیے میرے ساتھ پوائنٹ ون کے گوداموں پر چلو گے۔۔۔جہاں صفدر سیال اینڈ کمپنی کی تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔اس نے سر گھما کر لڑکی کی طرف دیکھا تو اس گشتی کی لاش تھوڑی دیر جنبش کرتی نظر آئی پھر ساکت ہو گئی۔۔۔جے باری نے ایک نہایت دہشت زدہ نظر لاش پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے جے باری کو گن دکھا کر اسے نشانہ پر رکھتے ہوئے لیوگر جیب میں ڈال لیا۔ یہاں شاید دوستوں کو مجھ سے اختلاف ہو کہ میں نے بے رحمی سے ایک بے قصور لڑکی کو مار دیا۔۔۔دشمنی کے اس انداز کو یقیناً آپ لوگ غیر اخلاقی قرار دیں گے لیکن سیالوں نے جس بے رحمی سے میری فیملی کو قتل کیا اور میری معصوم بہن کی عزت لوٹی اس کو پامال کیا تھا اس نے میرے اندر نفرت کا ایک ایسا الاؤ بھڑکا دیا تھا کہ اب میرے اندر اخلاقی اور غیر اخلاقی کی اہمیت بلکل بھی باقی نہ رہی تھی۔ میں سیالوں کے ساتھ جڑے ہر شخص کو بے رحمی سے ہی قتل کر دینا چاہتا تھا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اب جو میں کرنے جا رہا ہوں یہ کروڑوں کا نقصان ہو گا لیکن یہ سب ایک ایسے دشمن کا نقصان تھا جس کا ہر فائدہ اس کی کالی طاقت میں اضافہ کرتا۔۔۔اور اس کی طاقت میرے جیسے بے ضرر لوگوں کو مجرم بناتی۔۔۔چھیمو جیسی لڑکیوں کی زندگیاں اجیرن کرتی۔۔۔راجی جیسی لڑکیوں کو اس کے عیش کدے کی زینت بناتی۔۔۔میری فیملی جیسے بے قصور لوگوں کا خون پیتی۔۔۔یہ طاقت ایک کالی شکتی تھی۔۔۔یہ کسی بھی حالت میں ہوتی تو اسے تباہ کرنا میرے نزدیک نیکی ہی ہوتی،، بہت بڑی نیکی۔ ******************** (56) ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہم پوائنٹ ون میں اس طرح داخل ہو رہے تھے کہ جے باری اپنی شاندار ٹیوٹا جیپ چلا رہا تھا اور میں اس کے پہلو میں اس طرح بیٹھا تھا کہ لیوگر میرے ہاتھ میں اور اس کی نال باری کی طرف تھی۔۔۔جبکہ نادر پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔میں نے کن اکھیوں سے بیک مرر میں دیکھا تو حنیف اور سردار گاڑی میں پیچھے پیچھے آتے نظر آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق اگر ہم اندر کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو سائلنسر نکال کر ایک فائر کر دیتے۔۔۔جسے سنتے ہی وہ دونوں ہماری مدد کو اندر آ جاتے۔۔۔ پوائنٹ ون میں داخل ہوتے وقت میں نے کہا،، میرا خیال ہے کہ تم مجھے اچھی طرح جان چکے ہو اور ابھی تازہ تازہ میری کارکردگی بھی دیکھ چکے ہو۔۔۔تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ کوئی بھی چالاکی دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ سیکورٹی کے ایک دو مراحل سے گزر کر ہم پوائنٹ ون کے گوداموں کے قریب پہنچ گئے۔۔۔یہ گودام چھ عدد وسیع و عریض شیڈز پر مشتمل تھے۔۔۔یہاں تیار شدہ جیپیں قطار در قطار پارک کی گئی تھیں۔۔۔جے باری کو ابھی تک کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ہم گاڑی سے اتر کر ایک وسیع و عریض شیڈز میں داخل ہو گئے۔۔۔یوں لگتا تھا کہ کسی اسٹیڈیم پر چھت ڈال دی گئی ہے۔۔۔اس شیڈ میں کم و بیش ڈیڑھ سو گاڑیاں موجود تھیں۔ دوسرے تین شیڈز بھی بلکل ساتھ ساتھ واقع تھے۔۔۔یہ ہفتے کی رات تھی۔۔۔گودام پر صرف ایک تہائی عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔۔۔میں نے جے باری کو ہدایت کی کہ وہ کسی مناسب بہانے سے عملے کے ارکان کو پندرہ بیس منٹ کیلئے کسی دوسرے شیڈ کی طرف بھیج دے۔۔۔تھوڑی سی پش و پیش کے بعد باری نے میری ہدایت پر عمل کیا۔۔۔تاہم میں نے محسوس کیا کہ عملے کے انچارج کو باری کی یہ ہدایات کچھ پسند نہیں آئیں۔۔۔اس کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے اور وہ میری اور نادر کی طرف سے بھی شک کا شکار معلوم ہوتا تھا۔ بہرحال اس نے عملے کے تین چار افراد کو باہر بھیج دیا۔۔۔میں اور نادر باری کے ساتھ شیڈ کے آفس میں کھڑے تھے جب انچارج اندر آگیا۔۔۔اس نے باری سے کہا:کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟ تم نے جو کہنا ہے یہیں کہہ دو۔" باری نے مری مری آواز میں کہا۔۔۔انچارج بولا" گستاخی معاف سر! یہ رولز کے خلاف ہے کہ ہم سب دوسرے شیڈ میں چلے جائیں۔۔۔اس کے علاوہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ۔۔۔" ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ نادر کی بے آواز گن سے ایک گولی نکلی جو کہ انچارج کی کھوپڑی توڑ کر نکل گئی۔۔۔وہ لہرا کر زمین کی طرف آیا۔ میں نے اسے ایک ہاتھ سے سنبھالا اور آہستگی سے زمین پر لٹا دیا۔۔۔گولی چلنے سے جو ٹھس کی آواز نکلی تھی اس نے ایک بدقسمت پہرے دار کو اندر کھینچ لیا۔۔۔باہر کھٹکے کی آواز سنتے ہی میں لپک کر آفس کے دروازے کے پیچھے گیا تھا اور جیسے ہی پہرے دار اندر داخل ہوا میں نے پیچھے سے اس کے منہ کو دبوچتے ہوئے لیوگر کی ایک زوردار ضرب اس کی گدی پر لگائی اور وہ بھی لہرا کر نیچے آ رہا۔۔۔جے باری کا انتہائی زرد رنگ کچھ اور بھی زرد ہو گیا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی گر کر بیہوش ہو جائے گا۔ تھوڑی ہی دیر بعد باری عملے کے دوسرے ارکان کو کسی نہ کسی بہانے سے دوسرے شیڈ کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔اب وہ بلا چوں چراں میری ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔۔۔آفس میں بس ایک ٹیلی فون سیٹ تھا جس کی تار میں نے کاٹ دی اور فون سیٹ اٹھا کر باہر پھینکتے ہوئے نادر کو اشارہ کیا تو اس نے جیب میں موجود ایک رسی کے ساتھ فٹافٹ جے باری کے ہاتھ باندھے اور اسے آفس میں دھکیل کر آفس کو باہر سے بند کر دیا۔۔۔میں جانتا تھا کہ شیڈز میں موجود گاڑیوں کے اندر کافی مقدار میں پٹرول ہو گا۔۔۔یہ پٹرول کمپنی کی طرف سے گاڑیوں کو آگے پیچھے حرکت دینے کیلئے گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ میں نے نادر کو اشارہ کیا اور خود ایک طویل قطار میں موجود چند گاڑیوں کے بونٹ اٹھائے اور ان کی فیول لائنیں ایک پلاس کی مدد سے کاٹ دیں۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر بھی ایک دوسری قطار میں گھس کر یہی کاروائی دہرانے لگا۔۔۔جونہی ہم فیول لائن کاٹتے تھے پٹرول ایک باریک دھار کی شکل میں فرش پر بہنے لگتا تھا۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم لوگوں نے اس شیڈ میں موجود کم از کم بیس مختلف جیپوں کی فیول لائنز کاٹ دیں۔ پٹرول تیزی سے فرش پر بہنے لگا۔۔۔پٹرول کی بو یقیناً جے باری تک بھی پہنچ گئی ہو گی۔۔۔لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی سوال کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔آفس کے قریب ہی مجھے موبل آئل سے بھرے ہوئے چند ڈرم بھی نظر آ گئے۔۔۔میں نے ان ڈرمز کے کیپ ہٹائے اور انہیں بھی فرش پر لڑھکا دیا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ موبل آئل بھی فرش پر پھیلتا گیا۔۔۔اب فقط ایک دیا سلائی دکھانے کی دیر تھی۔۔۔میں نے لیوگر ہاتھ میں سنبھالا اور آفس کا دروازہ کھولا۔۔۔جے باری کی آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے لیوگر باری کی طرف سیدھا کرتے ہوئے کہا:سوری باری،، تم نے مجھ سے تعاون کیا ہے لیکن میں تمہیں زندہ نہیں رکھ سکتا۔ ************************ (57) پپ۔پلیز۔۔۔فار گاڈ سیک مجھے معاف کر دو۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وعدے توڑنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور جو وعدہ جو تم کر رہے ہو یہ تو ویسے ہی بڑا نا پائیدار ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ جاتے جاتے تم ایک نا پائیدار وعدہ کرو۔ ،،خدا حافظ میں نے ٹرائیگر دبا دیا۔گولی اس کی شہہ رگ چیرتی ہوئی سر کے عقب سے نکل گئی۔۔۔وہ الٹ کر ریوالونگ چئیر پر گرا اور زمین بوس ہو گیا۔۔۔اسے گولی مار کر میں نے اس کی موت کو آسان بنا دیا تھا۔۔۔ورنہ اسے بھی وسیع شیڈ اور اس میں موجود گاڑہوں کے ساتھ زندہ نظرِ آتش ہو جانا تھا اور یہ بڑی دردناک موت ہوتی۔۔۔شیڈ کے مین دروازے کے بلکل قریب کھڑے ہو کر میں نے دیا سلائی روشن کی۔۔۔پٹرول کی ایک لکیر بہتی ہوئی میرے بلکل قریب چلی آئی تھی۔۔۔میں نے دیا سلائی اس لکیر پر پھینک دی۔۔۔آگ بڑی تیزی سے اپنے سفر پر روانہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈز میں ہی قطار در قطار کھڑی جیپوں کے نیچے پھیل گئی۔ شعلے تیزی سے بلند ہوئے تو میں اور نادر جلدی سے مین گیٹ سے سلپ ہو کر باہر نکل گئے۔۔۔آگ دیکھتے ہی ایک دم ہر طرف ہاہاکار مچ گئی اور ہم نے درجنوں باوردی کارکنوں کو آگ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔۔۔یہ افراتفری بھاگنے کیلئے بے حد موزوں تھی۔۔۔ہم احتیاط سے پیچھے ہٹتے گئے۔۔۔چند منٹ میں ہم آتشزدگی کے مقام سے دور محفوظ مقام تک پہنچ چکے تھے۔۔۔تبھی ہم نے ان گِنت دھماکوں کی آوازیں سنیں۔۔۔یہ ٹائر برسٹ ہونے اور پٹرول ٹینک پھٹنے کی آوازیں تھیں۔۔۔شیڈ میں بھڑکنے والے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے چالیس پچاس فٹ کی بلندی تک چلے گئے تھے۔۔۔جے باری کی ٹیوٹا جیپ کی چابی اس کے اگنیشن میں ہی موجود تھی۔۔۔ہم فٹافٹ جیپ میں بیٹھے نادر نے جیپ سٹارٹ کی اور بھاگتے دوڑتے لوگوں کے درمیان سے ڈرائیو کرتا ہوا بڑی سڑک کی طرف نکل گیا۔ کچھ دیر بعد ہم ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گئے۔۔۔ہمیں ٹھکانے پر پہنچانے کے بعد حنیف خان اور سردار علی گاڑیاں ٹھکانے لگانے چلے گئے۔۔ اگلے روز کے اخبارات میں پوائنٹ ون میں ہونے والی آتشزدگی کی خبریں شہہ سرخیوں کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔گودام میں موجود چار شیڈز جل کر بلکل راکھ ہو چکے تھے۔۔۔ان میں موجود باقی اشیاء بھی راکھ کا ڈھیر ہو گئیں۔۔۔اس آگ نے کم و بیش چار سو گاڑیوں کو اسکریپ میں بدل دیا تھا۔۔۔ان خبروں کے ساتھ تین ہلاکتوں کی خبر بھی چھپی تھی۔۔۔اور پولیس کی طرف سے اس آتشزدگی کو مجرمانہ فعل قرار دیا جا رہا تھا۔ پوائنٹ ون کے عملے نے بیان دیا تھا کہ دو شخص رات گئے جے باری کے ساتھ گودام میں آئے تھے جن کے عادات و اطوار مشکوک تھے۔۔۔مخاطب امکان ہے کہ وہ دونوں شخص ہی اس المیے کے ذمے دار ہوں۔۔۔مجھے کامِل یقین تھا کہ اس المیے کے بعد صفدر سیال اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر پوائنٹ ون کا رخ کرے گا اور یہی میں چاہتا تھا اس کاروائی کا مقصد ہی یہی تھا۔۔۔میری توقع کے عین مطابق اگلے روز صبح سویرے صفدر سیال اپنے پانچ عدد باڈی گارڈز کے ساتھ پوائنٹ ون پر موجود تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ وہاں پہنچے تھے جو کہ نقصان کا جائزہ لینے آئے تھے۔ میں نے سردار اور حنیف خان کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ صفدر کی آمد و رفت اور اس کی نقل و حرکت کا مکمل حساب رکھیں اور مجھے صورتحال سے آگاہ کریں۔۔۔صفدر کے پوائنٹ ون پہنچتے ہی انہوں نے خوش اسلوبی سے اپنا کام کرنا شروع کر دیا۔۔۔حنیف نے وہاں کسی کے ساتھ یاری گانٹھ لی تھی تا کہ صفدر کے آنے پر وہ اس کو پہچان کر اس کی تصدیق کر سکے۔۔۔اتنا تردد صرف اسی لیے کہ حنیف خان پہلے صفدر سیال کو نہیں جانتا تھا۔ ************************ (58) رات گئے تک وہ دونوں واپس نہیں آئے تو میں اور نادر کھانا کھانے کیلئے باہر نکل گئے۔۔۔ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ٹیکسی کی تلاش میں باہر فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔اسی وقت میں نے ہوٹل کے گیٹ سے کچھ دور ہوٹل کی دیوار کے ساتھ پھیلی ہوئی سبزے کی پٹی پر ایک انتہائی بوڑھے اور آٹھ دس سال کے بچے کو بیٹھے دیکھا۔۔۔ان کے جسموں پر میلے کچیلے جیتھڑے جھول رہے تھے۔۔۔وہ ہوٹل کے گیٹ سے نکلنے والی ہر گاڑی کے سامنے پر امید انداز میں ہاتھ پھیلا رہے تھے۔۔۔مگر ہر گاڑی ان کے قریب سے گزرتی چلی جاتی تھی۔ ہم بھی ان کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔وہاں سے گزرتے وقت میں نے اس معصوم سے بچے کی آنکھوں میں جس طرح امید کے ستارے ٹوٹتے دیکھے اس نظارے نے یکلخت ہی گویا مجھے کسی اونچی چوٹی سے دھکیل دیا۔۔۔اگر وہ پیشہ ور بھکاری تھے تب بھی قابلِ رحم تھے۔۔۔رات کا پچھلا پہر اور شہر کا یہ کنارہ۔۔۔ان کے جسموں پر جھولتے ہوئے چیتھڑے،، پھر ان کی عمریں بھی تو کیسی تھیں۔۔۔ایک اتنا معصوم اور کم سن کہ ابھی اس کی آنکھوں نے محرومی اور آسودگی پر افسردہ ہونا بھی نہیں سیکھا تھا۔۔۔دوسرا اتنا ضعیف کہ زندگی کی مزید نا انصافیوں کو سہنے کی سکت اس میں منقعود تھی۔۔۔مگر جانے وہ کس قرض کو چکانے کیلئے اپنی آپ کو ایسے گھسیٹ رہا تھا۔ ان تمام سوچوں اور ساری کیفیت نے ایک لمحے میں مجھ پر غلبہ پا لیا اور مجھے خود احساس نہیں ہوا کہ کب میں نادر سے پیچھے ہٹ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ان کے چہروں کی لجاجت اور بے بسی دیکھ کر میرا جسم جیسے مزید سرد پڑ گیا۔۔۔عجیب بات یہ تھی کہ مجھے ان پہ ترس نہیں آ رہا تھا بلکہ میں ان سے اپنے آپ کو خوفزدہ محسوس کر رہا تھا جیسے میں ان کا مجرم ہوں۔۔۔میں نے اپنے بٹوے سے پانچ سو والے دو نوٹ نکال کر بوڑھے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ نوٹ لو اور فوراً یہاں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔۔۔دو منٹ بعد میں تم لوگوں کو یہاں نہ دیکھوں۔۔۔بوڑھے نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ تھامے،، بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا" اتنے پیسوں میں تو پورا مہینہ آرام سے گزر جائے گا جی۔۔۔اب مجھے یہاں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔لیکن کیا آپ واقعی یہ رقم مجھے دے رہے ہیں۔ ہاں۔ہاں تمہیں ہی دے رہا ہوں۔۔۔شاید میں تمہارا مقروض ہوں۔جن آسائشوں پر میرا قبضہ ہے،، شاید ان میں کچھ تمہارا بھی حصہ تھا۔۔۔میں نے تیزی سے کہا،، اب فوراً یہاں سے روانہ ہو جاؤ۔۔۔اتنا کہہ کر میں پیچھے ہٹ آیا۔نادر فٹ پاتھ پر کھڑا میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔میں بوجھل قدموں سے نادر کے پاس پہنچا اور بنا کچھ بات کیے ہم لوگ آگے چلنے لگے۔۔۔اسی وقت ایک خالی ٹیکسی نظر آ گئی۔نادر نے اشارے سے اسے روکا۔۔۔اگلے ہی منٹ میں ہم لوگ وہاں سے نکل رہے تھے۔ ہم لوگ گھر واپس پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں بھی واپس آ کر کھانا کھا چکے تھے۔۔۔حنیف خان نے رپورٹ دی کہ صفدر سیال اپنے پانچ باڈی گارڈز کے ساتھ آیا تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ گاڑیوں میں بھر کر وہاں پہنچے تھے۔۔۔انتظامیہ کے بھی کافی لوگ تھے۔۔۔اب یہ تو نہیں جانتا کہ وہ تفتیش کو کس رخ پر چلا رہے ہیں۔۔۔لیکن صفدر بہت غصے میں بولتے ہوئے بات بات پر چلا رہا تھا۔ صفدر کی روانگی کے وقت وہ دونوں انتہائی احتیاط سے اس کے پیچھے ہو لیے اور اس کی رہائش گاہ دیکھ آئے۔۔۔کراچی کے ایک پوش ایریا گلشنِ اقبال ٹاؤن میں اس کی رہائش گاہ ہے۔۔۔یہ ایک کوٹھی نما مکان ہے جہاں ہر وقت گھریلو ملازمین کے علاوہ چار پانچ مسلح محافظ موجود ہوتے ہیں۔۔۔چونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہو سکتی تھی کہ صفدر پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم چاروں نے بنا ٹائم ضائع کیے پوری طرح مسلح ہو کر دو گھنٹے بعد ہی صفدر کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس طرح کے لوگوں نے ایسی رہائشوں میں صدر دروازے کے آس پاس ہی سکیورٹی کا کیبن بنایا ہوتا ہے۔۔۔جہاں ہر وقت ایک یا دو محافظ موجود ہوتے ہیں۔حنیف کے ذمہ دروازہ کھلوانے کا کام لگایا گیا اور ہمارے اندر داخل ہو کر گاڑی سے باہر آنے تک ہمیں کور بھی اسی نے مہیا کرنا تھا۔چنانچہ پروگرام کے مطابق ہم لوگ صدر دروازے پر پہنچ گئے۔۔۔میں اور نادر گاڑی میں پچھلی سیٹوں پر دبکے ہوئے تھے جبکہ حنیف نے کال بیل بجانے کی بجائے آہستہ سے دروازہ بجایا تو توقع کے عین مطابق ایک منٹ بعد ہی گیٹ کی چھوٹی کھڑکی کھلی اور ایک غنڈہ ٹائپ آدمی نے سر باہر نکالا۔۔۔میں آہستہ سے سر اٹھائے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔حنیف نے باہر نکلنے والے منہ پہ اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک زور دار پنچ مارا تو وہ سر ایک دم اندر غائب ہو گیا۔۔۔گمان غالب یہی تھا کہ وہ بندہ اس زوردار پنچ کہ تاب نہ لاتے ہوئے الٹ کر اندر جا گرا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی حنیف اندر داخل ہو گیا۔عین اسی وقت نادر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور تقریباً اڑتے ہوئے گیٹ تک پہنچا اور غڑاپ سے اندر غائب ہو گیا حالانکہ یہ ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔میں بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے نیچے اترنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اسی وقت صدر دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیا تو سردار نے گاڑی بڑھائی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔۔۔اندر دو عدد محافظ اوندھے پڑھ ہوئے تھے جن کو حنیف اور نادر ساتھ موجود کیبن کی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔میں بنا کوئی وقت ضائع کیے گاڑی سے اترا اور اندرونی کمروں کی طرف بھاگا۔۔سامنے راہداری میں آمنے سامنے بلکل ہوٹل طرز کے کئی کمرے تھے۔۔۔ایک کمرے کے دروازے سے مجھے دو گارڈز نکلتے دکھائی دیے تو میں نے لگاتار دو بار ٹرائیگر دبایا ایک تو سر میں گولی کھا کر پٹ سے گرا جبکہ دوسرے کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی۔۔۔جو کہ لازماً اندر دوسروں کمروں تک سنی گئی ہو گی۔چنانچہ مجھے اس پر ایک گولی اور ضائع کرنی پڑی۔۔۔ سائلنسر لگے ریوالور کی گولیوں سے ان دو گارڈز کو مار گراتے ہوئے چند منٹ میں ہی مختلف کمروں میں جھانکتا ہوا ایک عالیشان کمرے تک پہنچ گیا۔۔۔یہ کمرہ اندر سے لاک تھا۔میں نے دروازے کے لاک پر لیوگر کی نال رکھ کر ٹرائیگر دبایا تو لاک کے پرخچے اڑ گئے اور میں دروازے کو دھکیلتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ ************************ (59) اندر ایک اٹھائیس تیس سال کا نوجوان لڑکا جو کہ لازماً صفدر ہی تھا کیونکہ اس کے خباثت بھرے چہرے کے نین نقش بلکل اپنے باپ مظفر سیال سے ملتے تھے۔۔وہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مجھے یوں گن اٹھائے اندر گھستے دیکھ کر وہ وہیں ساکت ہو گیا۔۔۔اس کی آنکھیں میں ابھی تک نیند کا خمار موجود تھا۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ میرے اندر داخل ہونے پر اس کی آنکھ کھلی ہے۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ چلایا،، اوئے کون ہو تم۔۔۔اس وقت تک میں کمرے کے درمیان میں پہنچ چکا تھا۔۔۔ابھی بتاتا ہوں کتے کے بچے،، میرا لہجہ دھیما تھا لیکن مجھے امید تھی کہ وہ اس لہجے کی تہہ میں سرسراتی ہوئی سفاکی کی لہر کو محسوس کر سکتا تھا۔ اتنی دیر تک میں جو کہ بیڈ کے پاس پہنچ چکا تھا میں نے اپنا ہاتھ گھمایا اور لیوگر کا دستہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پر مارا تو وہ تیورا کر وہیں گر گیا۔۔۔صفدر کو بدستور لیوگر کی زد میں رکھتے ہوئے میں نے تنبیہہ کی۔ اپنی جگہ سے ہلنا مت۔ یہ کہہ کر میں نے نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر ادراک ہوا کہ صفدر کی آنکھوں میں موجود کینہ اسے چین نہیں لینے دے گا وہ لازمی قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔عین اسی وقت صفدر یکلخت ٹوٹ جانے والے اسپرنگ کی طرح اچھل کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔۔۔لیکن دوستو میں وہاں چھولے بیچنے تو نہیں گیا تھا کہ اس سے غافل ہو جاتا۔۔۔میں کاوا کاٹ کر گھوم گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچ پاتا میں نے ایڑھی پر گھومتے ہوئے ایک زور دار ٹھوکر اس کی ناف پر رسید کی۔۔۔اس کے منہ سے اوغ،، کی آواز نکلی اور وہ ابکائی لیکر دہرا ہو گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ میں خود بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔ لیوگر کے دستے نے ایک بار پھر پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ اسی جگہ کو بوسہ دیا جہاں چند لمحے پہلے ایک دفعہ وہ اپنی مہر لگا چکا تھا۔ اسی وقت نادر اور سردار علی اندر داخل ہوئے۔۔۔اندر کی سچویشن دیکھ کر سردار علی تو مطمئن ہوتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن نادر میرے پاس ہی کھڑا ہو کر بولا۔۔۔ہٹ جا کمالے اینوں میں ویکھدا آں۔۔۔میں نے اسی وقت اس کو روکتے ہوئے کہا:نہیں نادر تم نہیں اس سے تو مجھے خود ہی حساب چکتا کرنا ہے۔۔۔میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔۔۔صفدر اب بے حس و حرکت ہو چکا تھا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اس کمرے کی تلاشی لینی شروع کر دی۔۔۔الماری کے ایک خانے میں کافی رقم اور سونے کی چند اینٹیں نظر آ گئیں۔۔۔یہ دیکھ کر نادر نے تکیے کا غلاف اتارا اور یہ سب غلاف میں ڈال لیا۔۔۔ہمارا مقصد چوری نہیں تھا بلکہ جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان تھا۔ آخرکار مجھے اپنی ضرورت کی چیز مل ہی گئی۔۔۔ایک قلم اور راٹنگ پیڈ۔میں وہاں سے پلٹ کر واپس آیا۔۔۔صفدر کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے میں نے بلکل راجو کی طرح ہی لیوگر کی نال اس کی گانڈ میں گھسائی اور ٹرائیگر دباتا چلا گیا۔۔۔ہر گولی کے ساتھ اس کے جسم کو جھٹکے لگتے گئے اور وہ شعور میں آنے سے پہلے ہی عدم بالا کو روانہ ہو گیا۔ آخرکار لیوگر سے ٹرچ ٹرچ کی آواز نکلی تو میں ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔میرا دل اس وقت نفرت سے لبریز تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس کنجر کا انفرادی طور پر کوئی حصہ تھا یا نہیں لیکن میری نفرت کو دوچند کرنے کیلئے یہی احساس کافی تھا کہ یہ اسی موذی سانپوں کا بیٹا ہے جن کا نام میں اپنے دشمنوں کی مختصر سی فہرست میں لکھ چکا تھا۔ صفدر کے جسم کو بیہوشی کے عالم میں ہی چند جھٹکے لگے تھے اور پھر وہ ساکت ہو گیا۔ ************************ (60) سوری ڈئیر صفدر۔۔۔،، میں نے زیرِ لب کہا:تمہارا قصور میری نظر میں صرف اتنا تھا کہ تم چوہدری مظفر سیال کے خاندان سے ہو۔۔۔لیکن تم نے ایک معصوم لڑکی اور اس کی ماں کو زبردستی داغدار کرنے کے بعد اسے اس کی کے ماں باپ کے ساتھ قتل کر دیا۔۔۔میں اگر تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا تو ایک نہ ایک روز تم کسی اور کے ہاتھوں مارے جاتے۔ پھر میں دل ہی دل میں بولا:راجی تیرا بدلہ پورا ہوا۔ اس کے بعد میں نے ایک کرسی کھینچ کر میز کے پاس کی اور بیٹھ کر نہایت توجہ اور انہماک سے لکھنے لگا۔ چوہدری مظفر سیال!!! اپنے ایک نادیدہ دشمن کی طرف سے یہ تحفہ قبول کرو۔۔۔تم اپنے ایک بے ضرر دشمن کو مار کر بہت خوش ہوئے تھے نا۔۔۔تو سوچا کہ اسی خوشی کے موقع پر ہم بھی تھوڑی خوشی منا لیں۔ اس طرح تھوڑا حساب بھی ہلکا ہو جائے گا۔۔۔ بہت جلد میں تم تک پہنچوں گا اور میرا وعدہ رہا اس دفعہ تجھے ایسی ہستی کی لاش پیش کروں گا جو کہ تمہیں جان سے ذیادہ پیاری ہو گی۔۔۔اپنی حفاظت کیلئے تم جو کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا چاہو۔۔۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔میں اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے تم تک پہنچوں گا ضرور۔۔۔!!! منتظر رہنا۔ اب تم شاید سمجھ نہ پاؤ کہ میں ہوں کون۔۔۔ایک بات یاد رکھنا۔۔۔میری طرف سے جو بھی لاش کا تحفہ ملے گا اس میں کوئی نیا سوراخ نہیں ہو گا۔۔۔پورے جسم پر صرف ایک ہی جگہ گولیوں کے نشان ہوں گے۔۔۔امید ہے کہ تم سمجھ چکے ہو گے کہ میں کون ہوں۔ خط لکھ کر میں نے تنقیدی زاویہ نظر سے ایک دفعہ خط کو پڑھا۔۔۔ٹھیک ہی لکھا گیا تھا۔۔۔اس خط سے وڈے چوہدری پر یقیناً وہی اثر ہوتا جو کہ میں چاہتا تھا۔۔۔وہ ورق میں نے پیڈ سے اتار کر صفدر کی لاش کے گریبان میں پھنسایا۔۔۔پھر ہم لوگ نہایت اطمینان بھرے انداز میں صفدر کی ہی ایک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل آئے۔۔۔راستے میں ایک پبلک فون بوتھ میں کھڑے ہو کر میں نے وڈے چوہدری کا نمبر ملایا تو چند گھنٹیوں بعد کسی نے فون اٹھا لیا۔۔۔ہیلو کون ہے بھئی؟ وڈے چوہدری صاحب کیلئے ایک پیغام ہے!!! میں نے آواز بدلنے اور لہجہ حتیٰ الامکان سپاٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ وڈے چوہدری صاحب کو جب تم میرا پیغام دو گے تو وہ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ میں کون ہوں۔" میں نے سرد مہری سے کہا۔،، ان سے کہنا کہ کراچی میں صفدر سیال کی رہائش گاہ پر ان کیلئے ایک تحفہ موجود ہے۔۔۔جس قدر جلد ممکن ہو اسے وصول کر لیں۔۔۔اس سے پہلے کہ پولیس وہاں پہنچے۔۔۔چوہدری صاحب کم از کم ایک نظر اسے دیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔۔۔کک۔کک کیا مطلب آگے سے وہ ہکلایا لیکن میں نے کال کاٹ دی۔ پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور گھر کے پاس پہنچ کر ہم سب اتر گئے جبکہ سردار اس گاڑی کو کسی انسان جگہ پر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔تاریک رات تھی اس لیے کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر ہم لوگ سلامتی سے گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر آتے ہی نادر نے پیسوں اور سونے کی اینٹوں والا غلاف میری طرف کر دیا۔۔۔میں نے چند لمحے اسے دیکھا پھر اس میں سے نقد رقم نکال کر اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی اینٹیں حنیف خان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ حنیف یہ سب تم اور سردار آپس میں بانٹ لینا۔ حنیف خان نے شکریہ کہہ کر وہ اپنے پاس رکھ لیا اور سردار کے واپس آنے پر میرے سامنے ہی اس مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ سردار کے حوالے کر دیا۔۔۔اتنا سونا اور پیسے دیکھ کر سردار کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری جسے میں کوئی خاص نام نہیں دے سکا۔۔۔بہرحال ہم لوگوں نے آگے کا پروگرام سیٹ کیا اور اس کے بعد ہم سو گئے۔۔۔اگلی صبح دس بجے میں اور نادر وہاں سے ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ************************
  21. 5 likes
    سر! پڑھ پڑھ کر لکھنا نہیں آتا، لکھ لکھ کر لکھنا آتا ہے۔ لکھنا شروع کر دیں اور اگر کسی مدد کی ضرورت ہو گی یا اصلاح کی تو ہم بیٹھے ہیں نا۔ دوم، خدا کا واسطہ ہے کہ بھائیوں کوئی میرا ساتھ دے۔ اس کہانی کی طرح چار پانچ کہانیاں اور بھی چل رہی ہوں گی تو میرا ہاتھ بٹے گا۔ مجھ پہ سے بوجھ کم ہو گا۔ اس لیے لکھیں اور جیسا بھی ہو کوئی مسلئہ نہیں ہے۔
  22. 5 likes
    ظالم بندے ہو آپ ڈاکٹر صاب۔ اسد کی ماں اپنی بیٹی کی بات کرنے آئی یہ الگ بات ھے کہ اس کی اپنی نیت صاف دکھ رھی تھی کہ جب تک مہری کی عزت برقرار تھی اس نے کبھئ اس قسم کا کوئ پیغام نھین دیا۔اب جب کہ بیٹی کی عزت لٹ چکی ھے تو اب یاسر یاد آ گیا۔ یہ خودغرضی ھے۔مہری نے بھی اسے کہا ہو گا کہ یاسر ٹھیک ھے۔ یہ تو اب آگے معلوم ہو گا مگر یاسر کا اسے یہ کہنا یاسر کی زیادتی تھی۔ایک طرف تو اس نے اس کی ماں کو اس کی اوقات دکھا دی کہ بیٹی کو چھوڑو اپنی بات کرو، کیوں بھول رہی ہو کہ تم نئ کیا گل کھلایا تھا دوسری طرف اس نے صاف مہری کی طرف سے ایک قسم کا گندا جواب دیا کہ آنٹی جی تم کو میں بس اسی کام کے قابل سمجھتا ہوں۔ دینے کئ بات کرو یہ رشتہ چھوڑو۔ ضوفی کا تعلق میرا خیال ہے نہیں ٹوٹے گا اور بس اس میں بہت بڑے عجیب سے موڑ آئیں گے۔وہ کیا ہوں گے ہم ابھی نہیں سوچ سکتے۔ ماہی کی خاموشی معنی خیز ہے اور ایک بات کھٹک رہی ھے، یہ دو بار سیکس کا کیا چکر ھے، یہ بات چبھ رھی ھے۔ بالی یقیناً ماہی کی ہو گ۔
  23. 5 likes
    @saabbi81 یہ تو انتہائی غلط بات ہے آپ کو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے کہ دنیا کے دھندے ایسے ہی چلتے ہیں۔۔۔ اس ہاتھ دے اور اس ہاتھ لے۔ اب انسان اپنے شوق کیلئے چند روپے تو خرچ ہی سکتا ہے ناں۔۔۔آپ کو بھی کرنا چاہیے اگر نہیں کر سکتے تو کھلے عام ایسا تذکرہ کرنا انتہائی غلط بات ہے۔۔۔۔یہ آپ کی شخصیت سے میل نہیں کھاتا۔۔۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب اس ٹائم فرانس اور سپین کے درمیان میں گھوم رہے ہیں جبکہ میں گلف میں گوروں کے ایک نیوڈ کلب میں بیٹھا اردو فن کلب پہ آنلائن ہوں۔۔۔حالانکہ میرے آس پاس ہر طرف اس ٹائم کیبرے ڈانس ہو رہا ہے۔۔۔لیکن میں اردو فن کلب پہ آنلائن ہوں۔۔۔ہے نا مزے کی بات۔
  24. 5 likes
    (24) کچھ دیر ریسٹ کرنے کے بعد جب ہم نارمل ہو گئے تو میں نے راجی سے پوچھا۔۔۔راجی تم خود کو میرے ساتھ کیسا محسوس کر رہی ہو۔ میرا پیار کرنا کیسا لگا۔ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ راجی کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور وہ روتے ہوئے بولی۔ کمال باؤ۔ تم واقعی کمال ہو۔ چھیمو بڑی خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسا پیار کرنے والا ملا۔۔۔ورنہ ہم جیسی لڑکیوں کے نصیب میں تو زبردستی چدائی اور حلق میں پھنسے لنوں کا منی پینا ہی لکھا ہوا ہے۔۔۔ابھی جب تم نے تھوڑی دیر پہلے مجھے ہونٹوں پر چوما تو مجھے یقین نہیں ہوا کہ مجھ جیسی رانڈ کو کوئی ہونٹوں پر بھی چوم سکتا ہے۔ ان ہونٹوں پر جہاں آج تک سیال زادوں کے لن رگڑے گئے۔۔۔ان گشتی کے بچوں نے کبھی بھی مجھے پیار سے کس نہیں کی۔۔۔میرے راضی خوشی چدوانے کے باوجود وہ لوگ زبردستی چدائی کو فوقیت دیتے ہیں۔ مجھے اچانک ایک بات یاد آئی تو میں بول اٹھا راجی مجھے جب چھیمو نے تم دونوں کی داستان سنائی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ پہلی دفعہ سیال زادوں سے چدوانے کے بعد تم خود وڈے چوہدری کے آگے لیٹنے کو تیار ہو گئی تھی اور اپنی مرضی سے پھدی مروائی تھی۔ اگر تم مظلوم ہو تو وہ سب کیا تھا جو اس دن وڈے چوہدری کے کمرے میں ہوا۔ میری بات سن کر راجی کچھ دیر خاموش رہی پھر جیسے خلا میں تکتے ہوئے بولی۔ جو بات میں ابھی بتانے جا رہی ہوں وہ تو چھیمو بھی نہیں جانتی۔۔۔اس دن میں جان بوجھ کر حویلی گئی تھی۔۔۔مجھے پتہ تھا کہ یہ سب ہو گا۔ لیکن اس درندگی کے ساتھ ہو گا یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں چوہدری کہ حویلی میں گئی ہی کیوں۔ تو یہ جاننے کیلئے چند سال پہلے کا قصہ سناتی ہوں۔ ہم دو بہنیں تھیں۔ میرا نام تو تم جانتے ہی ہو جبکہ مجھ سے چھوٹی کا نام نغمہ تھا۔ رنگ روپ میں اتنی خوبصورت کہ پریاں بھی دیکھ کر شرما جائیں۔ جسم کی اٹھان بھرپور تھی۔ وہ ہم سب کی لاڈلی تھی۔ گھر میں میرے امی ابو میں اور نغمہ ٹوٹل چار لوگ ہی تھے۔۔۔صرف مکان اپنا تھا زمین بلکل بھی نہیں تھی اس لیے ابا لوگوں کی زمینوں میں کھیتی باڑی کر کے گھر کی دال روٹی چلاتے تھے۔ مجھے بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔۔۔آس پاس کے گاؤں میں اور خود اپنے گاؤں میں اگر کوئی شادی بیاہ ہوتا تو مجھے اسپیشل بلایا جاتا تھا کہ میں وہاں رنگ جماؤں۔ اس طرح چار پیسے کی آمدنی بھی ہو جاتی۔ اور میرا گانے کا شوق بھی پورا ہو جاتا تھا۔ زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔۔۔کہ تبھی اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا بھونچال آیا کہ سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن ہمارے گاؤں کی دوسری نکڑ پر موچیوں کے گھر شادی تھی۔۔۔ان کی عورتیں گانا گانے کیلئے مجھے بلا کر لے گئیں۔ آدھی رات تک کا فنکشن تھا۔ رات کو جب فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے کافی پیسے دیے۔۔۔اور ایک بزرگ ملازمہ جس کا نام ماسی صغراں ہے۔۔۔مجھے اس کے ساتھ واپس گھر بھیج دیا۔۔۔ماسی صغراں ہمارے گھر کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ **************************** (25) ماسی کی داستاں بھی عجیب تھی۔۔۔ماسی کا خاوند کافی سال پہلے نشے کی ذیادتی کی وجہ سے مر گیا۔ پھر ایک دن ماسی کا جواں سال بیٹا پیسے کمانے گھر سے نکلا تو آج تک واپس نہیں آیا۔ ماسی دائی کا کام بھی جانتی تھی مگر اس کا ذیادہ تر وقت ادھر ادھر کے گھروں میں ہی گزرتا تھا۔ جھاڑو پونچھا کر کے روٹی پانی کھا پی لیتی اور اسی طرح اس کی زندگی کی گاڑی بھی چل رہی تھی۔ میں اور ماسی شادی کی باتیں کرتے ہوئے جیسے ہی میرے گھر کے قریب پہنچے تو مجھے گھر کے سامنے ایک بڑی جیپ کھڑی دکھائی دی جس میں کچھ لوگ بیٹھ رہے تھے۔ جیپ دیکھتے ہی ماسی کے منہ سے نکلا ***** خیر۔ میں نے گھبرا کر ماسی سے کچھ پوچھنا چاہا تو ماسی نے مجھے سختی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور میرا بازو پکڑ کر پاس ہی موجود درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئی۔۔۔چند منٹ بعد جیپ سٹارٹ ہوئی اور غراتی ہوئی ہمارے سامنے سے گزرتی چلی گئی۔ جیپ میں چار گن مینوں کے ساتھ دو سوہنے سوہنے منڈے بھی موجود تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ سوہنے منڈے وڈے چوہدری کا پتر صفدر سیال اور اس کا کوئی شہری دوست تھے۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ بندوق بردار آدمیوں کا میرے گھر میں کیا کام۔۔۔میں ہولتے دل کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھی اور ماسی سے اپنا بازو چھڑا کر بھاگتے ہوئے درختوں کے جھنڈ سے باہر نکلی اور سیدھا اپنے گھر میں داخل ہو گئی۔۔۔جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو۔ جیسے ہی میں گھر میں پہنچی تو اندر کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا۔اسے دیکھ کر میرے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔سامنے فرش پر میرے ابا اور امی کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی تھیں۔ امی کا جسم پورا ننگا تھا اور ان دونوں کے سینوں میں دستے تک خنجر پھنسے ہوئے تھے۔ میں پھٹی آنکھوں کے ساتھ لڑکھڑائی تو سہارا لیتے لیتے فرش پر کسی چیز کے ساتھ پاؤں الجھے اور میں گر پڑی۔۔۔میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد جب آنکھیں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میری نظر اس چیز پر پڑی جس سے میرے پاؤں الجھے تھے۔ اس چیز کو دیکھ کر یوں لگا آسمان سر پہ آن گرا ہو۔۔۔وہ میری بہن، چھوٹی لاڈلی بہن، نغمہ کی لاش تھی۔۔۔جس کے بدن پہ کپڑوں کے نام پر ایک تار بھی نہیں تھا۔ نغمہ کو اس حالت میں دیکھ کر اور پے در پے جھٹکوں نے مجھے تکلیف سے نجات دلائی اور میں چیخیں مارتے روتے روتے بیہوش ہو کر وہیں زمین پر گر گئی۔ پھر جب ماسی صغراں اندر آئی اور اس نے سارا ماجرہ دیکھا تو اس کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔۔۔لیکن وہ بیہوش ہونے سے بچ گئی۔ جہاندیدہ تھی سارا معاملہ سمجھ گئی۔۔۔اس نے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر مجھے اٹھایا پھر پانی کے چھینٹے میرے منہ پر ڈالے اور جب مجھے ہوش آیا تو دیکھا ماسی مجھے ہلا رہی تھی۔ چند لمحے تو میں غائب دماغ سی ماسی کی طرف دیکھتی رہی لیکن جب شعوری کیفیت میں واپس آئی تو ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ماسی مجھے چپ کرواتی رہی۔ میں روتے ہوئے پوچھا رہی تھی ماسی یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔کون لوگ تھے وہ اور ان کی ہمارے ساتھ کیا دشمنی تھی جو انہوں نے یہ کر دیا۔ اتنا کہہ کر میں نے لاشوں کی طرف اشارہ کیا تو دیکھا کہ اب امی اور نغمہ کی لاشیں ننگی نہیں تھیں۔۔۔اس وقت غم کی شدت میں اس بات پر دھیان نہیں دے کہ ان کے ننگے جسموں کو کپڑے کس نے پہنائے۔ مجھے روتی کو چپ کرواتے ہوئے اور دلاسے دیتے ہوئے ماسی نے کہا۔۔۔چپ کر جا میری دھی۔۔۔فٹا فٹ اپنے آپ نوں سانبھ لے پر کسے نوں پتہ نا چلے کہ لاشاں پہلے ننگیاں سن۔۔۔ایہہ بری گل اے لوکی طرح طرح دیاں گلاں کرن گے۔۔۔میں روتی ہوئی بولی پر ماسی وہ لوگ کون تھے تو ماسی نے جواب دیا کہ پتر مینوں کی پتہ کون سی۔ پر شکلاں توں تے ڈاکو ہی لگدے سی۔ (26) بہرحال کسی نا کسی طرح ماسی مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے وہاں سے باہر لائی اور شور مچا مچا کر گاؤں والوں کو گھروں سے اٹھا لیا۔ جب گاؤں والے اکٹھے ہوئے اور انہیں اس حادثے کا پتہ چلا تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی تو پولیس بھی آ گئی اور چند گھنٹے ادھر ادھر گھوم پھر کے روٹی ٹکر کھانے کے بعد ساری کاروائی ڈاکوؤں کے سر ڈال کر لاشوں کو دفنانے کا کہہ کر چلی گئی۔ سب کو دفنا دیا گیا اور میں اس دنیا میں اکیلی رہ گئی۔۔۔ماسی نے میرے گھر کو تالا لگایا اور مجھے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔۔چند دن تو میں گم صُم رہی۔ ہر وقت امی ابو اور نغمہ کے ہنستے کھلکھلاتے چہرے نظروں کے سامنے آتے رہتے اور میں گھنٹوں تک گھٹنوں میں سر دیے روتی رہتی۔ ماسی بے چاری میری اشک جوئی کرتی رہی اور حوصلہ دیتی رہی۔۔۔آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ دستورِ دنیا بھی یہی ہے اور وقت کا تقاضا بھی کہ جانے والے کی یاد آہستہ آہستہ دماغ سے جھڑنے لگتی ہے چنانچہ میرا غم بھی کم ہوتا گیا۔ پھر میں اور ماسی اکٹھے ہی گھر سے نکلتے اور لوگوں کے گھر کام کاج کر کے سرِشام ہی گھر کو لوٹ آتے۔ زندگی آہستہ آہستہ پھر سے ٹریک پر آ گئی تھی۔۔۔پھر چار مہینے بعد ایک دن ماسی کی طبیعت بہت ذیادہ خراب ہو گئی۔۔۔ماسی کو بہت تیز بخار تھا۔ میں نے گاؤں کی اکلوتی ڈسپنسری پر موجود کمپاؤنڈر کو بلایا تو اس نے ماسی کو چیک کرنے کے بعد مجھے ایک دوائی دی کہ یہ ماسی کو ہر چار گھنٹے بعد کھلاتی رہنا اور اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہنا۔۔۔کل تک بخار ٹھیک ہو جائے گا۔ میں ساری رات ماسی کے سرہانے بیٹھی رہی اور دوائی کھلانے کے ساتھ ساتھ پٹیاں کرتی رہی۔۔۔لیکن جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا!!!۔ اگلے دن ماسی کی طبیعت تھوڑا سنبھل گئی لیکن شام تک ماسی کی حالت بہت خراب ہو گئی۔۔۔میں نے ماسی سے کہا کہ میں جاتی ہوں کسی کو کہہ کر تانگے کا بندوبست کر کے آپ کو ہسپتال لیکر چلتے ہیں۔ لیکن ماسی نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولی۔ دھیے نا کر ایتھے میرے کول رہ مینوں لگدا میرا آخری ویلا آ گیا۔۔۔تے پتہ نئیں میں کس ویلے ٹر جانا۔ میرے کول بہ جا تے دھیان لا کے میری گل سن۔۔۔اتنا کہہ کر ماسی کمزوری سے ہانپنے لگی۔ میں نے فٹافٹ دو گھونٹ پانی ماسی کو پلایا اور پھر ضد کی کہ شہر چلتے ہیں۔ ماسی غصے سے بولی بکواس نہ کر میری گل دھیان نال سن۔۔۔اک گل اے جیڑی تینوں نئیں پتہ پر ہن میں مردے مردے سینے تے بھار لے کے نئیں مرنا چاندی اس لئی اج سب کجھ تینوں دساں گی۔ پتر رضیہ!!!سب توں پہلے او ٹرنک کھول۔۔۔ماسی نے سامنے پڑے ایک پرانے ٹرنک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔میں نے اٹھ کر کھولا تو ماسی بولی:سب توں تھلے اک خاکی رنگ دا لفافہ پیا ہونا اونوں کڈ بار۔ میں نے ڈھونڈ کر لفافہ نکالا اور ماسی کے ہاتھ پر رکھ دیا تو ماسی نے مجھے بتایا کہ پتر میں اک اک پیسہ جمع کر کے کچھ رقم جوڑی سی۔۔۔کہ منڈے دا ویاہ کر دیواں گی پر او اک دن ایسا گیا کہ مڑ واپس ای نئیں آیا۔ ************************** دنیا کیندی او مر مک گیا ہونا پر میرا یعنی ماں دا دل کیندا کہ میرا پتر زندہ اے۔ میں پیسے جوڑ جوڑ انتظار کردی رئی پر او ناں آیا۔۔۔فیر اک دن میں کسے کم لاہور گئی سی تے اوتھے مینوں میرا پھپھی دا پتر ٹکر گیا۔ اسی دونوں اک دوجے نوں مل کے تے بڑے خوش ہوئے۔۔۔اک دوجے دا حال احوال پچھیا۔ میرے پتر بارے جان کے اونوں بڑا ای افسوس ہویا۔۔۔فیر اکثر میل ملاقات ہوندی رئی۔۔۔میں اودے گھر وی آندی جاندی رئی۔۔۔اک دن میں لاہور گئی تے اونوں ملی۔۔۔گلاں باتاں اچ اونے ذکر کیتا کہ آپاں ایتھے اک موقعے دی دکان لبھ رئی اے۔ بڑی چنگی جگہ تے ہے۔۔۔تیرے کول جنے پیسے نیں لگا کے تے دکان خرید لے۔۔۔جیڑے پیسے گھٹن گے میں پا دیواں گا۔۔۔آخر توں میری بہن ایں۔ پر میری گل من جا تے دکان لے لا۔۔۔اک تے دکان دا کرایہ آندا رہو نالے اگاں اودا ریٹ وی بڑھ جاؤ۔ ہر پاسے فیدہ ای فیدہ۔ میں بڑا سوچیا فیر میں سارے پیسے اکٹھے کیتے کجھ پیسے ادھار چکے تے لاہور چلی گئی۔۔۔جیڑے پیسے کم ہوئے او میرے بھرا نیں پا دتے تے او دکان میری نام تے خرید لئی۔۔۔پکے پیپر تے انگوٹھے لگ گئے۔ (27) پتر!!!میں چند دن توں سوچ رئی سی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ریندی تے او میرا پتر وی پتہ نئیں کدوں آوے۔ پر میرا دل کیندا آوے گا ضرور۔ بہرحال تینوں یاد اے ناں پچھلے ہفتے میں لاہور گئی سی۔۔۔میں نے ثبات میں سر ہلایا تو ماسی پھر سے بولی:میں اپنے بھرا نوں ساری گل دس کے پکے کاغذ تے تیرا نام لکھا کے دکان تیرا نام کر دتی۔ میں تے انگوٹھا لا چھڈیا تے توں میری دھی رانی۔۔۔توں وی انگوٹھا لا لے۔۔۔میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا تو ماسی نے ایک دم کہا ناں ناں پتر ٹیم ناں ضائع کر ہجے میری گل پوری نئیں ہوئی۔ میرے مرنے توں بعد توں اس دکان دی مالک ایں۔۔۔جے کدی میرا پتر واپس آ جاوے تے اونوں ساریاں گلاں دس دویں۔۔۔نالے اونوں دسیں کہ تیری ماں دی بڑی خواہش سی کی تیری یعنی رضیہ دی تے میرے منڈے دی شادی ہو جاوے۔ اگر او من جاوے تاں اودے نال ویاہ کر لویں۔۔۔جے نا منے تے لاہور آلی دکان ویچ کے اودی رقم دے دو حصے کر لینا اک تیرا تے اک میرے پتر دا۔ جے کدرے او ناں آیا تے توں آزاد ایں۔۔۔دکان تیری ہوئی۔۔اودے واسطے جیڑے پیسے میں ادھار چکے سی او میں پورے کر دتے نیں۔ ساتھ ہی ماسی نے ایک پرچہ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہا میرے بھرا دے گھر دا پتہ ہے۔ دکان دے کرائے دا سارا حساب اوہی رکھدا۔۔۔اونوں مل لویں۔بڑا ایماندار اے تیرا خیال رکھے گا۔۔۔اتنی بات کہہ کر ماسی پھر کھانسنے اور ہانپنے لگی تو میں نے فٹا فٹ ماسی کو دو گھونٹ پانی کے ساتھ دوائی دی۔ اور سرہانے بیٹھ کر پھر سے پٹیاں کرتی رہی۔۔۔کچھ دیر بعد جب ماسی کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو وہ پھر بولنا شروع ہوئی۔ پتر رضیہ!!!سب توں اہم گل۔ تینوں یاد اے او رات جس دن تیرے ماں پیو تے پین دا قتل ہویا سی۔۔۔یاد اے نا او رات۔ ماسی کی بات سن کر میں بیٹھے بیٹھے جیسے کھو گئی۔۔۔میرے لبوں سے نکلا ماسی وہ رات میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔آج بھی میری نگاہوں کے سامنے ان کی ننگی لاشیں آتی ہیں۔ تو ماسی آہستہ سے بولی راجی اس دن میں تیرے توں اک گل چھپائی سی۔۔۔میں ایک دم خیالوں کی دنیا سے باہر آ گئی اور حیرانی سے بولی وہ کیا بات تھی ماسی۔ تو ماسی بولی پتر تینوں پتہ اے ناں کہ میں دائی آں۔۔۔تے ایداں دے معاملات میری نظر توں بچ نئیں سکدے۔ میرے دل میں اندیشوں نے گھر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ماسی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی اس رات توں نٹھ کے اپنے گھر وڑ گئی تے میں وی تیز تیز قدماں نال تیرے پیچھے آئی تے اندر لاشاں ویکھ کے میرا وی حال برا ہو گیا سی۔دماغ نوں چکر آ گیا نالے اکھاں اگے ہنیرا۔ فیر اچانک تیرا یاد آیا،،تھوڑی ہوش پھڑی تے فٹا فٹافٹ تینوں چیک کیتا تے ساہ چلدا ویکھ کے مینوں حوصلہ ہویا۔۔۔فیر میں تینوں چھڈ کے سب توں پہلے تیرے پیوں نوں ویکھیا اودے ساہ مک چکے سن۔ تیری ماں دے ساہ وی مک چکے سن۔۔۔نغمہ وی دور جا چکی سی۔۔۔پر اک چیز میں غور نال ویکھی،،چیک کیتا تے میرا دماغ سن ہو گیا۔ اتنا کہہ کر ماسی نے چند لمحے سانس لیا اور بولی کہ تیری ماں تے نغمہ دوناں دی عزت لٹی گئی۔ اوناں نال زبردستی ہوئی۔۔۔اسے واسطے میں تیرے ہوش توں آن توں پہلے کھچ دھو کے اوناں دوناں بدنصیباں نوں کپڑے پا چھڈے۔ میں کدے وی ہا گل تینوں نہ دسدی پر اج مینوں لگدا کہ میرا ویلا آ گیا تے اج ساری گل کھول چھڈی۔ ہن میں آرام نال مر سکاں گی۔۔۔میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ماسی کو دکھتے ہوئے بولی۔۔۔ماسی وہ کون لوگ تھے۔پھر اچانک کچھ یاد آیا تو آنکھیں سکوڑے ماسی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ماسی تم ان کو جانتی ہو نا۔۔۔تو ماسی نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ او گورا سوہنا منڈا یاد ای جیڑا جیپ دی اگلی سیٹ تے بیٹھا سی۔۔۔تو میں نے اس کی شکل دل میں یاد کرتے ہوئے کہا ہاں ماسی یاد ہے کون تھا وہ مجھے بتاؤ کون تھا وہ؟ تو ماسی بولی او منڈا نال آلے پنڈ چک اکتیس دے وڈے چوہدری دا منڈا سی۔۔۔اودا نام صفدر سیال اے۔ میں اوناں کنجراں نوں چنگی طرح جاندی آں۔پہلے وی آس پاس دے پنڈاں وچ او کنجر اپنے یاراں نال مل کے ایداں دیاں دو چار وارداتاں کر چکیا۔ لوگ سب جاندے نیں پر اوناں تو ڈردے رو دھو کے چپ وٹی رکھدے۔۔۔اس دن اوناں نیں تیری ماں تے پین دی عزت لٹی سی۔اس گل دا میں بعد اچوں پتہ وی لوایا سی۔پر میں خاموش رئی۔تینوں دسن دی ہمت نہ ہوئی۔ اس کے بعد میں ساری رات ماسی کی خدمت کرتی رہی اور اس واقعے بارے سوچتی رہی۔۔۔رات بارہ بجے کے قریب ماسی کی آنکھ کھلی اور مجھے اپنے سرہانے بیٹھے دیکھ کر بولی۔۔۔کملی نا ہووے تے۔ چل اٹھ منجی تے پے کے سو جا کل رات دی توں اکھ نئیں لائی۔۔۔میں ہن ٹھیک آں چل شاباش میری دھی رانی۔۔۔سچ پوچھو تو ساری رات سوچ سوچ کر دماغ سن ہو چکا تھا اس لیے نیند سے میری بھی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔۔۔چنانچہ اٹھ کر ماسی کے ساتھ ہی موجود اپنی چارپائی پر لیٹ گئی۔۔۔اور اس واقعے کے بارے میں سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ (28) میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ دن چڑھ آیا تھا۔ میں نے ماسی کی طرف دیکھا تو وہ چادر اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔میں اٹھی اور اٹھ کر واش روم چلی گئی واپس آ کر میں نے ماسی کو دیکھنے کیلئے جیسے ہی چادر اٹھا کر ماسی کے ماتھے کو چھوا تو پتہ چلا کہ ماسی تو کب کی سانس پورے کر چکی تھی۔ اب تو اس کی لاش بھی اکڑ رہی تھی۔۔۔میں ایک دفعہ پھر یتیم ہو چکی تھی۔۔۔میں ماسی کی لاش سے لپٹتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔تھوڑی دیر تک سارے گاؤں کو پتہ چل گیا اور شام تک ماسی کو بھی دفنا دیا گیا۔ شام کو ماسی کے ہمسائے چاچی کنیز اور اس کا خاوند ملک رمضان مجھے اپنے گھر لے گئے۔۔۔ماسی کے گھر کو بھی تالا لگا دیا گیا۔ چند دن بعد جب باتوں ہی باتوں میں انہیں پتہ چلا کہ اب ماسی کا کوئی بھی نہیں اور ماسی کا مکان خالی ہے تو انہوں نے آنے بہانے مکان پر قبضہ کر لیا۔ مجھے یہ بتایا کہ ماسی نے ان سے کافی ادھار پیسے لیے تھے اس لیے اب مکان پر ان کا حق ہے ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے دھوکے سے ایک کورے کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر مجھے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ رضیہ تم بڑی منحوس ہو۔۔۔پہلے اپنے پورے گھر کو کھا گئی پھر ماسی کو بھی نگل گئی۔ اب ہم تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتے اس لیے تم یہاں سے چلتی بنو۔۔۔میں نے بنا کوئی بات کیے ماسی کے گھر سے اپنا تھوڑا سا سامان اٹھایا اور اپنے گھر آن بسی۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔ انتقام۔ انتقام۔ انتقام۔ پر کیسے؟میں ٹھہری ایک عورت ذات اور وہ ٹھہرے وڈے چوہدری۔۔۔انہی سوچوں میں دو مہینے نکل گئے۔ میں لوگوں کے گھر کام کاج کر کے اپنا پیٹ کاٹ رہی تھی۔ایک دن اچانک مجھے پتہ چلا کہ چک اکتیس کے وڈے چوہدری کے پتر کی شادی ہے اور اسے گھر میں کام کاج کیلئے ملازمائیں چاہیے۔۔۔یہ سننے کی دیر تھی کہ میں نہا دھو کر صاف ہوئی اور بنا کسی کو بتائے تانگے میں بیٹھ کر وہاں پہنچ گئی۔ آگے کہ ساری کہانی تمہیں پتہ ہے کہ کیسے سیال زادوں نے ہم دونوں کی عزت اتاری۔۔۔اور اس کے بعد ہم کیسے کامی کے ذریعے وڈے چوہدری تک پہنچے۔ جب چوہدری نے زبردستی چھیمو پر ہاتھ ڈالا تو میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ او کمزور عورت ایک یہی ذریعہ ہے کہ تو مستقل یہاں رہ سکتی ہے۔ واپس تو میں جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔کیونکہ میں اس لیے تھوڑی نہ آئی تھی کہ چوہدری اور اس کے کنجروں سے پھدی مروا کر واپس چلی جاؤں۔۔۔میرے سامنے ایک مقصد تھا جس کو پورا کرنے کیلئے میرا وہاں رہنا ضروری تھا۔ اور وہ مقصد تھا صفدر سیال کا قتل!!!۔ **************************** (29) میں نے چونک کر راجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مجھے بجلیاں لپکتی ہوئیں نظر آئیں۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا نہیں راجی نہیں تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گی۔ ان چوہدریوں کے ظلم دیکھ دیکھ کر میرے اندر بھی ان کیلئے نفرت پیدا ہو چکی ہے۔ وہ مجھ سے بھی پنگا لے چکے ہیں۔۔۔بس موقع محل دیکھ کر ہم ان پر ہاتھ ڈالیں گے۔ راجی قطعیت سے بولی۔ نہیں کمال بابو یہ میری لڑائی ہے اور اسے میں خود ہی لڑوں گی۔۔۔چاہے مجھے اپنی جان کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔بس تم مجھ پر ایک مہربانی کرو۔ کبھی کبھی مجھے یاد کر لیا کرنا میں آ جایا کروں گی اور تمہارا پیار مجھے سہارا دیتا رہے گا۔ میں نے اس کی نم ہوتی آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پھر بھی راجی!میں یہی کہوں گا کہ تھوڑا تحمل سے کام لو۔۔۔ہم کچھ ایسا پلان کریں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس کے علاوہ تم جب چاہو چھیمو کے ساتھ آ سکتی ہو۔۔۔میں تمہیں بھی اتنا ہی پیار دوں گا جتنا کہ چھیمو کو۔۔۔اچھا ایک بات تو بتاؤ اتنی دیر سے تم یہاں ہو کیا تمہیں صفدر سیال نظر نہیں آیا۔ تو میری بات سن کر راجی بولی: کمال بابو!!!۔ صفدر سیال وڈے چوہدری کے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال کا چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔چوہدری ظفر سیال کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شبینہ سیال ہے یہ دونوں وڈے چوہدری اپنی فیملیوں کے ساتھ اسی حویلی میں رہتے ہیں۔ مگر ان کا کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے۔۔۔اور سنا ہے کہ ناجائز اسلحہ کی تجارت اور ساتھ ساتھ ڈاکوؤں سے بھی اس کے تعلقات ہیں۔ اس لیے وہ یہاں نہیں آتا اور اگر آیا بھی ہو تو وڈی حویلی تک نہیں پہنچا۔۔۔میں اسی آس پر وہاں ٹکی ہوئی ہوں کہ کبھی نہ کبھی تو اس سے سامنا ہو گا نا۔ اس کی شکل میرے دل د دماغ پر نقش ہو چکی ہے۔۔۔جس دن اس کا میرا آمنا سامنا ہوا!!!وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ میں نے کہا راجی میں پھر کہہ رہا ہوں کوئی بے وقوفی مت کرنا اور اپنی زندگی کی حفاظت کرنا۔ ہم مل جل کر کوئی راستہ نکالیں گے کہ تمہیں اپنا انتقام لینے کا موقع مل جائے تو راجی منہ سے کچھ نہیں بولی بس مجھے گھورتی رہی۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں اور میں خیالات کے تانے بانے بنتا نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ *********************** (30) اگلے دن میرے آنکھ کھلی اور معمول کے مطابق ناشتہ کر کے میں گھر سے نکلا تو پتہ چلا کہ آج گاؤں میں ناظم کے الیکشن ہو رہے ہیں۔۔۔ابو صبح سے ہی گھر سے غائب تھے۔ دراصل ابا جان کی گاؤں میں کافی عزت تھی اس لیے الیکشن کے انتظامات میں وہ بھی پیش پیش تھے۔ معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ سیالوں کی طرف سے وڈا چوہدری مظفر سیال الیکشن میں امیدوار ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے پر ساتھ والے گاؤں سے چوہدری رحمت علی کڑیال امیدوار تھا۔ دراصل ہمارے سسٹم میں ناظم کے تحت آس پاس کے آٹھ گاؤں آتے تھے۔۔۔تو ناظم ہونے کا مطلب آٹھ گاؤں کا سربراہ۔۔۔اس لیے دونوں پارٹیوں میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ پولنگ سٹیشن بن چکے تھے تمام انتظامات مکمل تھے۔۔۔صبح آٹھ بجے گاؤں کے سکول میں ووٹنگ شروع ہو گئی۔ لوگ جوق در جوق آ کر ووٹ ڈال رہے تھے۔۔۔میں بھی گیا تو ابا جان مجھے وہیں پولنگ سٹیشن کے باہر چارپائی پر بیٹھے مل گئے۔ میں نے ابا جان کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر کھڑی گاڑیوں کے جھرمٹ میں لیجا کر پوچھا ابا جان ہمارے ووٹ کس سائیڈ پر ہیں؟ تو ابا جان مجھے حیرت سے دیکھتے ہوئے بولے:یار یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔۔ پتر! کتے کے منہ میں کھیر نہیں سجتی۔۔۔کھیر کھانے کیلئے بندہ بننا ضروری ہے۔ ہمارے گھر کے اور ہمارے سارے ہاریوں کے اور ان کے خاندانوں کے ووٹ چوہدری رحمت علی کڑیال کو جا رہے ہیں۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وڈے چوہدری مظفر سیال کی نیت کیسی ہے اگر وہ الیکشن جیت گیا تو سب پر عرصہِ حیات تنگ کر دے گا۔ اس لیے ہم سب چوہدری کڑیال کو سپورٹ کر رہے ہیں۔۔۔اور دیکھ لینا **** کی رحمت سے کڑیال ہی جیتے گا۔ اب گھر جاؤ،،اپنی ماں،بہن کو بھی لیکر آؤ اور ووٹ ڈالو۔۔۔اتنا کہہ کر ابا جان واپس جا کر گاؤں کے معززین کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی گھر کی طرف جانے کیلئے قدم بڑھائے۔۔۔سامنے کھڑی ایک پجیرو کے پاس سے گزرتے وقت بے ارادی طور پر میری نظر پجیرو کے شیشے میں گئی!!!تو میں نے دیکھا کہ چند منٹ پہلے جہاں میں اور ابا جان کھڑے باتیں کر رہے تھے عین اسی جگہ پر وڈے چوہدری کا ایک کارندہ کھڑا پیچھے سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا نام بعد میں پتہ چلا کہ یہی چوہدری کا پالتو کتا شاہنواز ہے۔ اس وقت تو میں نے دھیان نہیں دیا اور گھر چلا گیا لیکن یہ بات لاشعور میں رہ گئی کہ میں نے وڈے چاہدری کا پالتو کتا وہاں کھڑا دیکھا تھا۔ میں گھر سے امی اور بینا کو ساتھ لے گیا اور ووٹ ڈالنے کے بعد ان کو واپس گھر پہنچا دیا۔۔۔سارا دن آرام سے گزر گیا۔شام کو نتیجہ آ گیا۔۔۔چوہدری رحمت علی کڑیال واضح برتری حاصل کرتے ہوئے جیت گیا۔ وڈے چوہدری مظفر سیال سے یہ ہار برداشت نہیں ہوئی اور اسی ہار کے غصے میں انہوں نے ایک ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے میری دنیا بھی تہہ و بالا ہو گئی۔ اگلے دن دوپہر تین بجے میں گھر سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی داہنی سمت سے اپنا نام سنائی دیا۔۔۔میں نے مڑ کر داہنی طرف دیکھا تو زمینوں پر کام کرنے والے دو لڑکے زور زور سے میرا نام پکارتے ہوئے بھاگتے چلے آ رہے تھے۔ میں وہیں ٹھٹھک گیا۔ قریب آتے ہی پھولی سانسوں کے ساتھ ا ہوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی ہر ان کی سانس اس بری طرح سے پھولی ہوئی تھی کہ نہ وہ صحیح طرح سے کچھ بول پا رہے تھے اور نہ ہی میں ان کی بولی سمجھ پا رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ان میں سے ایک سانس روک کر بولا۔ باؤ کمال۔ کھیتوں پر۔ چاچا جمال۔ سیال لڑائی۔ بس یہ تین چار الفاظ ہی مجھے ساری بات سمجھانے کیلئے کافی تھے۔میں لپک کر اندر گیا اور اپنا ریوالور جو کے چند دن پہلے ہی خریدا تھا ڈب میں لگا کر وہاں سے باہر نکلا اور ان لڑکوں کے ساتھ تیزی سے کھیتوں کی طرف بھاگا۔۔۔بھاگتے بھاگتے ان سے بھی آگے نکل گیا۔۔۔میں بھگٹٹ بھاگتا ہوا کھیتوں کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں ہی سامنے سے مجھے اپنے ہاری چارپائی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔۔۔مجھے بھاگتے دیکھ کر انہوں نے چارپائی وہیں زمین پر رکھ دی پھر دو تین لوگوں نے آگے ہو کر مجھے روکا۔ میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیالوں نے ابا جان کو بہت بری طرح سے پیٹا ہے۔۔۔اس لیے ان کو فوری طور پر ٹانگے میں ڈال کر ڈسپنسری بھیج دیا ہے۔جبکہ یہ ایک اور ملازم کو بڑی بری طرح سے مارا ہے اس کو بھی اب ڈسپنسری لے جا رہے ہیں۔ میں وہیں سے مڑا اور بھاگتے ہوئے ڈسپنسری جا پہنچا۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو برآمدے میں ہی چارپائی پر ابا جان بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ان کی حالت دیکھ کر میں غیض و غضب میں مبتلا ہو گیا۔ ابا جان کا سر پھٹا ہوا تھا جہاں سے خون بہہ کر پوری قمیض کو رنگین کر چکا تھا۔جبکہ ابا کی داہنی آنکھ بھی بری طرح مضروب ہوئی تھی۔۔۔آنکھ پھول کر سوجھی ہوئی تھی۔۔۔میں نے فوراً ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ چوٹیں تو خاصی لگی ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔آنکھ بھی بچ گئی ہے اور سر پر لگنے والی چوٹوں سے دماغ بھی متاثر نہیں ہوا۔۔۔بس ان کو اب سخت آرام کی ضرورت ہے۔ ابا جان کی مرہم پٹی ہونے کے دوران میں نے اپنے ایک ملازم کو گھر کی طرف دوڑایا کہ احاطے سے گاڑی لے آئے وہ ملازم بھی گاڑی چلانا جانتا تھا۔۔۔ڈاکٹر سے دوسرے لڑکے شاکر کے بارے پوچھا تو ڈاکٹر جس کا نام امتیاز اور وہ میرا دوست تھا نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔کسی بھاری چیز سے اس کی ٹانگ پر ضرب لگائی گئی ہے۔۔۔منہ اور سر پر بھی خاصی چوٹیں آئی ہیں۔۔۔ناک سے بھی خون بہہ رہا ہے۔ ابھی تک اس کو ہوش نہیں آیا۔۔۔میں ڈاکٹر امتیاز کو اس لڑکے کا خیال رکھنے اور خود تھوڑی دیر تک واپس پہنچنے کا کہہ کر وہاں سے نکل کر اباجان کے پاس پہنچ گیا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اباجان نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کراہتے ہوئے بولے: کمال پتر!!!میری لاعلمی میں کوئی حرکت مت کرنا۔ تمہیں اصل بات کی آگاہی نہیں ہے۔۔۔میں پریشانی سے بولا ابو یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔۔۔آپ چپ چاپ اپنی مرہم پٹی کروائیں۔۔۔پھر ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔اس موضوع پر پھر بات کریں گے۔۔۔اباجان کچھ نہیں بولے بس مجھے دیکھتے ہوئے کراہتے رہے۔۔۔مرہم پٹی ہونے کے بعد میں نے اپنی گاڑی جو کہ اتنی دیر تک گھر سے منگوا چکا تھا کا دروازہ کھولا اور ابا جان کو بٹھایا تو ابا جان بولے:پتر!!! وہ شاکر بھی زخمی ہوا تھا۔ تو میں نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں میں ابھی ڈاکٹر سے ہی مل کر آیا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے گاڑی موڑی اور بڑے آرام سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔گھر پہنچ کر میں نے ابا جان کو گاڑی سے نکالا اور سہارا دیتے ہوئے گھر کے اندر لے گیا۔ ************************ (31) ابا جان کو اس حالت میں دیکھتے ہی امی اور بینا دونوں پریشان ہو گئیں۔۔۔میں نے ان کو مختصراً صورتحال بتا ہی رہا تھا کہ گھر کے باہر موٹر سائیکل رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں الٹے قدموں باہر نکلا تو کمپاؤنڈر نظر آیا۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔بھایا شاکر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے۔اس کو شہر ہسپتال لیجانا پڑے گا۔۔۔آپ جلدی سے گاڑی لے آئیں۔۔۔میں پریشانی کی حالت میں گھر کے اندر داخل ہوا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو دروازے تک پہنچتے ہی امی کی آواز سنائی دی۔۔۔رکو کمال!!!میں وہیں رک گیا تو امی جان بولیں:کمال!!!کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا امی وہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے میں اس کو لیکر شہر ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔ آپ ابوجان کا خیال رکھیں اور اگر ابو میرے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے گا کہ میں کہاں گیا ہوں۔۔۔تو امی میرا ماتھا چومتے ہوئے بولیں:میرے لال جلدی واپس آنا میرا دل ہولتا رہے گا۔۔۔میں جی اچھا امی کہہ کر ان کا ماتھا چومتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا اور گاڑی بھگاتے ہوئے ڈسپنسری پہنچا تو باہر ہی کھڑے ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ شاکر کی حالت بہت خراب ہے۔۔۔اس کا سانس رک رک کر آ رہا ہے۔ اب گاؤں میں تو ایسی سہولتیں موجود نہیں کہ اس کو آکسیجن وغیرہ لگا کر باقاعدہ علاج کیا جا سکے تو اسی لیے آپ کو بلایا کہ آپ گاڑی لے آئیں تو اس کو لاہور لے چلتے ہیں۔۔۔ہم یہی باتیں کرتے ہوئے ڈسپنسری کے اندر پہنچے تو اسی وقت ایک کمرے سے رونے پیٹنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے سر گھما کر دیکھا تو شاکر کا والد روتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔میں نے اس کا بازو تھامتے ہوئے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چاچا انور آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ہم شاکر کو لیکر لاہور ہسپتال جا رہے ہیں۔۔۔تو چاچا انور دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے بولا نہیں پتر!!!شاکر کو اس کی ضرورت نہیں رہی اب۔۔۔وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ سنتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ میں تیزی سے اندر کمرے میں داخل ہوا تو شاکر کی ماں اس سے لپٹ کر رو رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی وہ دھاڑیں مارتے ہوئے اپنا سر پٹخنے لگی۔۔۔میں نے تیزی سے ان کو تھامتے ہوئے صبر کی تلقین کی اور خود نظریں گھما کر شاکر کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔اور ناک سے نکلا ہوا خون بھی جم چکا تھا۔ سر پر لگنے والی چوٹوں نے شاکر کو جانبر نہیں ہونے دیا۔۔۔میں وہیں ان کے ساتھ رہا اور شاکر کی لاش کو لیکر اس کے گھر تک پہنچا کر خود وہاں سے نکلا اور اپنے گھر پہنچ گیا۔۔۔میری زمینوں اور احاطے پر کل ملا کر چودہ لوگ کام کرتے تھے۔۔۔چونکہ ہم اپنے سب ملازمین کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے تو اس وقت ہمارے دکھ کی گھڑی میں سارے ملازمین گھر پہنچے ہوئے تھے۔۔۔اس وقت شام کے سات بج چکے تھے۔ میں سب لوگوں سے ملا۔۔۔وہ لوگ ابا جان کا حال چال پوچھنے آئے تھے۔۔۔تھوڑی دیر بعد وہ چلے گئے۔۔۔ان کے جانے کے بعد ہمارا ایک ہاری نوشاد جو کہ میری ہی عمر کا تھا لیکن مجھ سے اور ابا جان سے بہت پیار کرتا تھا وہ بھی آ گیا۔۔۔میں اسے اندر اپنے کمرے میں لے آیا اور بٹھا کر پوچھا کہ وہاں کیا بات ہوئی کیسے ہوئی۔۔۔نوشاد نے بتانا شروع کیا۔بھایا!!!ہم لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔۔۔چونکہ آج پانی کی باری ہماری تھی اس لیے دو بندوں نے پانی کاٹ کر اپنے کھیت میں چھوڑنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے دو پاؤں والے کتے بھونکنے لگے کہ آج پانی ہماری سائیڈ پر چلے گا۔ شاکر انہیں بتانے کیلئے آگے گیا کہ آج شیڈول کے مطابق ہماری باری ہے تو انہوں نے شاکر کو بری طرح سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ہم لوگوں نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی تبھی پچھلی طرف سے ان کے چھ رائفل بردار آدمی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ہمیں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔۔۔ چچا جمال نے آگے ہو کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو وڈے چوہدری کے بیٹے راجو سیال نے چچا کے پیٹ میں ایک ٹھوکر ماری اور انہیں گرا کر لاٹھی سے مارنے لگا۔۔۔ اس کام میں اس کا ساتھ چوہدری کا خاص کتا شاہنواز بھی دے رہا تھا۔۔۔میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ وہ دونوں چچا کو پیٹتے ہوئے گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ تیرے اتنے پر نکل آئے کہ تو ہمارے مخالفین کا ساتھ دے گا۔اتنا کہہ کر نوشاد چپ کر گیا۔۔۔جبکہ میری رگوں میں میرا خون کھولنے لگا تھا۔ میری مٹھیاں آپوں آپ غصے سے بھینچ گئیں۔مجھے کھڑا ہوتے دیکھ کر نوشاد بولا:بھایا میں نے بڑی کوشش کی کہ چچا جان کو بچا لوں۔۔۔لیکن وہ مجھے اٹھا اٹھا کر دور پٹخ دیتے تھے۔۔۔کافی مار پیٹ کرنے کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ چاچا اور شاکر دونوں کی حالت خراب ہو چکی ہے تو وہ گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں بھایا۔میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا نوشاد تمہیں معلوم ہے کہ میں اس وقت کہاں سے آ رہا ہوں۔۔۔ پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور بولا کہ میں اپنے ان ہاتھوں سے شاکر کی لاش کو اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔ابا جان کا حال بھی تم دیکھ چکے ہو۔۔۔اور کتنا برداشت کریں گے ان کنجروں کو۔۔۔آج میں ان کنجروں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ پھر میں نے نوشاد کو مختصراً یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ لوگ لوگوں کی لڑکیوں کو خراب کر رہے ہیں۔۔۔نوشاد جواب دیتے ہوئے بولا ہمارے لوگ بھی سب کچھ جانتے ہیں لیکن کہاں کوئی کسی پرائی آگ میں کودتا ہے۔۔۔ویسے بھی آج تک اپنے گاؤں میں انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی پاس پڑوس کے گاؤں میں ہی ان کی سرگرمیاں سننے میں آئی ہیں۔۔وہ بھی صرف سنا ہے آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا اس لیے آج تک سب چپ رہے۔۔۔ میں نے بھی چھیمو کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن بھایا اب شاکر مر گیا۔۔۔اس کا کیا قصور تھا وہ تو صرف بات کرنے گیا تھا۔۔۔اور میرے باپ جیسے چچا کا یہ حال کیا ہے۔۔۔پھر وہ اپنی گردن نفی میں ہلتے ہوئے بولا:نہیں نہیں کم از کم میں تو یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔بھایا اب تم بدلہ لو نہ لو کم از کم میں تو پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔ان سیالوں کو کتے کی موت ماروں گا۔۔۔نوشاد کو اتنے جوش میں دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں اسے گلے لگاتے ہوئے بولا:نوشاد میرے بھائی تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہو گا میں کروں گا۔ بس جہاں مجھے تمہاری ضرورت پڑی میں پکار لوں گا فلحال تم میرے ساتھ چلو اور کوئی ہتھیار ہے تمہارے پاس؟؟۔۔۔نوشاد نے الٹا مجھ سے پوچھ لیا بھایا اسلحہ کا کیا کرو گے تمہارے پاس کیا ہے۔ میں نے اپنی ڈب سے ریوالور نکال کر اسے دکھایا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور وہ بولا بس ٹھیک ہے بھایا میرے پاس بھی پستول ہے میں بھی وہ لے آتا ہوں۔۔۔تو میں نے کہا نوشاد تم کھیتوں میں اپنے ڈیرے پر پہنچو میں بس تھوڑی دیر بعد وہاں ملتا ہوں۔۔۔خیال سے جانا۔ کسی کو کانوں کان بھی پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور کس قسم کی کھیر پک رہی ہے۔۔۔نوشاد نے میری طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑا۔ نجانے مجھے کیوں محسوس ہوا کہ نوشاد کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔۔نوشاد کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے سے نکلا اور امی کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ابو کا بستر بھی اندر کمرے میں ہی لگایا گیا تھا تا کہ ان کا خیال رکھا جا سکے۔۔۔ابو دوائی کے زیرِ اثر سو رہے تھے۔۔۔بینا اور امی بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر امی سوالیہ لہجے میں بولیں:ہاں پتر!!!گاؤں والے چلے گئے؟تو میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جی امی وہ سب لوگ چلے گئے۔۔۔اب آپ لوگ بھی سو جائیں۔۔۔میں بھی سوتا ہوں۔اتنا کہہ کر میں نے جھکتے ہوئے ابو کا ماتھا چوما اور وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔باہر کے دروازے کی کنڈی اندر سے لگا کر میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔ ************************* (32) مجھے سچ میں بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آج میں کیا کر جاؤں گا۔۔۔بس اتنا یاد ہے کہ بدلہ لینا ہے اور سیالوں کو سبق سکھانا ہے۔۔۔چند منٹ سوچنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور اپنے پلان کے تحت میں چھیمو کے گھر کی دیوار پھلانگ کر ان کے صحن میں اتر گیا۔۔۔چھیمو کے گھر والے اندر کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا سیدھا باہر کے دروازے کے پاس پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا میں چپکے سے گلی میں نکل آیا۔۔۔باہر نکل کر میں نے ادھر ادھر دیکھا مباداً کوئی مجھے ایسے چوروں کی طرح نکلتے دیکھ لے تو کیا سوچے گا۔۔۔لیکن اطراف میں سناٹا تھا۔۔۔میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے ڈیرے پر پہنچ گیا۔۔۔ڈیرہ ہم اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہم نے اپنے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران آرام کرنے کے لیے ایک کمرہ سا بنایا ہوتا ہے۔ میں ڈیرے پر پہنچا تو نوشاد مجھے کمرے کے باہر چارپائی بچھائے بیٹھا سگریٹ پیتے ہوئے مل گیا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے اس کے شانے پر وزن ڈالتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہی چارپائی پر بٹھایا اور اسی سے لیکر ایک سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔میں وہاں پہنچ تو جاؤں گا لیکن اندر کیسے گھسوں گا۔۔۔چند منٹ میں وہاں بیٹھا سوچتا رہا پھر میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا اور ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میرے ساتھ ہی نوشاد بھی اٹھ گیا۔ ہم دونوں کھیتوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہوئے وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف چل دہے۔۔۔چلتے وقت نوشاد نے چارپائی سے دو چادریں اٹھائیں جو کہ وہ ساتھ لایا تھا۔۔۔ایک چادر مجھے دینے کے بعد دوسری چادر اس نے اپنے شانوں پر ڈال لی۔۔۔میں نے پوچھا:نوشاد یہ کس لیے تو وہ بولا بھایا یہ کام آئیں گی۔۔۔میں نے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنے قدم بڑھا دیے۔ ایک عجیب طرح کی وارفتگی میری راہنما تھی۔۔۔ہمارا رخ وڈے چوہدری کی حویلی کی طرف ہی تھا۔۔۔ذہن میں واضح تصور نہیں تھا کہ مجھے وہاں جا کر کیا کرنا ہے۔۔۔بس ایک ہی سوچ میرے دماغ میں چنگاریاں بھرتی جا رہی تھی کہ انہوں نے میرے باپ کی یہ حالت کی ہے۔۔۔اب بغیر مزاحمت ان فرعونوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے۔ ان کنجروں کو ان کی اوقات یاد دلانی ہے کہ شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ ابھی تک میں بیگناہ تھا ایک دفعہ ہتھیار اٹھا لینے کے بعد میں جرم کی راہ پر چل پڑوں گا۔۔۔لیکن اس سے پہلے کچھ تو تڑپ پھڑک لینا چاہیے۔ اگر میرے باپ کو کچھ ہو گیا تو۔۔۔یہ تصور ہی میرے لیے جان لیوا تھا۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا جب دور سے حویلی کی مدھم روشنیاں نظر آنے لگیں۔۔۔میں اور محتاط ہو گیا۔۔۔کماد اور مکئی کے کھیتوں سے ہوتا ہوا میں وسیع و عریض عمارت کے پچھواڑے کی جانب نکل گیا۔۔۔سامنے سے حویلی کے بے رحم اور سنگلاخ چار دیوادی نظر آنے لگی۔۔۔اس چار دیواری کے کئی حصے ٹیوب لائٹس کی روشنیوں میں چمک رہے تھے۔۔۔میں نے نوشاد کے کندھے پر ہاتھ مارا اور اسے جھک کر چلنے کو کہا۔۔۔پھر ہم محتاط قدموں سے قریب تر قریب ہوتے چلے گئے۔ کماد کے کھیت بیرونی چار دیواری سے ملے ہوئے تھے۔۔۔یہاں رک کر ہم دونوں نے چادریں اس طرح چہروں پر لپیٹ لیں کہ صرف ہماری آنکھیں کھلی تھیں۔۔۔میں نے نوشاد کو اشارے سے ریوالور دکھاتے ہوئے پوچھا کہ اس کا پستول کدھر ہے تو اس نے بھی اپنی شیروانی کی جیب سے پستول نکال کر دکھایا۔۔۔ہم دونوں نے جھکے جھکے انداز میں حویلی کی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ آخر کار ایک جگہ جہاں سے حویلی کی دیوار مڑ کر دوسری سائیڈ پر جا رہی تھی وہاں سے مجھے چند اینٹیں اس انداز میں اکھڑی دکھائی دیں کہ اگر ہم احتیاط سے چڑھتے تو اوپر پہنچ سکتے تھے۔۔۔جیسے ہی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھا تو نوشاد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور دھیمی آواز میں بولا:بھایا یہاں سے نہیں آگے راستہ ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ چلتا ہوا آگے گیا تو دیوار کے ساتھ ساتھ مڑنے کے بعد چند قدم آگے مجھے ایک قد آدم درخت نظر آیا۔ میں نوشاد کی بات سمجھ گیا تھا۔درخت اس انداز میں تھا کہ اس کی بڑی بڑی ٹہنیاں حویلی کے اندر جھکی ہوئی تھیں۔۔۔یہاں دیوار پر روشنی بھی نہیں تھی۔میں اور نوشاد باری باری اوپر چڑھ گئے۔۔۔اوپر چڑھنے کے بعد میں نے اندر کا جائزہ لیا تو مجھے ادراک ہوا حویلی کے اندر کا فرش دیوار سے کچھ آٹھ نو فٹ نیچے تھا۔۔۔میں نے نوشاد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ نوشاد تم یہیں رک کر میرا انتظار کرو گے۔اس نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی تو میں نے کہا سمجھا کرو یار۔۔۔اگر میں پھنس گیا تو تم میرے لیے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہو ناں۔۔۔اگر دونوں ایک ساتھ پھنس گئے تو بہت برا ہو گا۔ نوشاد نے نا چاہتے ہوئے بھی حامی بھر لی۔۔۔میں نے پھر کہا نوشاد میں چاہے ایک گھنٹے تک واپس نہ آؤں تم نے میرے پیچھے نہیں آنا۔۔۔ہاں اگر میں کہیں پھنس گیا تو فائر کر دوں گا یا حویلی میں کسی بھی قسم کے فائر کی آواز سنو تو اندر آ جانا۔ نوشاد کے سر ہلانے پر میں شاخ سے لپٹ کر آگے ہوا اور حویلی کی دیوار پر لیٹ کر اندر کی طرف لٹکتے ہوئے ہاتھ چھوڑ دیے۔۔۔کچے فرش پر گرنے سے ہلکی سی دھپ کی آواز سنائی دی۔میں تیزی سے اٹھ کر ساتھ موجود گملوں میں لگے ہوئے پودوں کے پیچھے ہو گیا۔۔۔وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے چند لمحے آس پاس کی سن گن لی۔۔۔کسی قسم کی ہلچل نہ محسوس کرنے کے بعد میں اٹھا اور دبے پاؤں چلتے ہوئے اندرونی کمروں کی جانب چل پڑا۔ ************************** (33) چند وسیع و عریض کمروں سے گزر کر میں ایک نیم روشن کوریڈور میں پہنچا۔۔۔یہاں ایک زینہ نظر آ رہا تھا جو کہ اوپر کی بجائے نیچے جا رہا تھا۔۔۔مطلب میں پہلے ہی گراؤنڈ فلور پر تھا تو یہ زینہ مجھے سپردِ خاک کر دیتا مطلب نیچے تہہ خانے میں لے جاتا۔ اس سے پہلے کہ میں سوچتا مجھے کدھر کو جانا ہے کوریڈور کے دوسرے سرے سے مجھے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔میں بلا سوچے سمجھے تیزی سے دبے پاؤں زینے سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلا آیا۔۔۔سیڑھیوں کے اختتام پر ایک دروازہ دکھائی دیا جس کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے۔۔۔اندر داخل ہونے پر پتہ چلا کہ یہ واقعی ایک تہہ خانہ تھا لیکن میرے تصورات سے بلکل مختلف۔۔۔فلمی تہہ خانوں کی طرح نہ اس میں پیٹیاں تھیں نہ گاڑیوں کے استعمال شدہ ٹائر اور ڈرم۔۔۔حتیٰ کے فرش پر جھاڑ جھنکاڑ والا کوئی مدقوق قیدی بھی نظر نہیں آیا۔ بلکہ یوں کہیے کہ فرش ہی نظر نہیں آیا۔۔۔نیچی چھت کے ایک وسیع کمرے میں دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔۔۔اس کمرے میں تین اطراف صوفے لگے ہوئے تھے۔۔۔اور پیچھے ایک قد آدم الماری تھی۔ رنگین ٹی وی،وی سی آر۔ (جو ان دنوں عجوبہ سمجھا جاتا تھا) فریج،تمام آسائشیں اس کمرے میں موجود تھیں۔۔۔میں ابھی کھڑا ہونقوں کی طرح کمرے کی سجاوٹ ہی دیکھ رہا تھا کہ تبھی مجھے کسی کے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا تو صرف سیڑھیوں کا دروازہ ہی ایک ایسی جگہ نظر آئی جہاں میں چھپ سکتا تھا۔۔۔میں نے ایک زقند بھری اور بھاگتے ہوئے دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔چند لمحوں بعد ہی کمرے میں دو آدمی داخل ہوئے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے سیدھا سامنے صوفے کی طرف گئے۔۔۔اچانک میں نے سوچا کے اگر وہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئے تو میرا دیکھ لیا جانا اظہر من الشمس تھا۔۔۔چنانچہ اس سے پہلے کے وہ صوفے پر بیٹھتے میں سرعت سے دروازے کی اوٹ سے نکلا اور دروازے کے دوسرے پٹ کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔۔وہ دونوں واقعی سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔ بیٹھنے کے بعد جیسے ہی ان کا رخ میری طرف ہوا میری ساری حسیات کھچ کر آنکھوں میں چلی آئیں۔۔۔میری قسمت نے یاوری کی تھی۔۔۔سامنے صوفے پر ریاض عرف راجو سیال اور اس کا کوئی آدمی بیٹھے تھے۔۔۔ریاض کو دیکھ کر میرا دماغ غصے سے کھولنے لگا کہ یہی وہ بھین کا چھنکنا ہے جس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔ ************************ (34) بیٹھتے ہی راجو نے اپنی ڈب سے ایک جرمن لیوگر نکالا اور سامنے میز پر رکھ دیا۔۔۔چونکہ مجھے اسلحے کا شوق تھا اور اکثر میں اسلحے کے بارے معلومات حاصل کرتا رہتا تھا اس لیے دیکھتے ہی لیوگر کو پہچان لیا۔گن کے آگے ایک لمبی سی نال لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں جانتا تھا کہ اس کو سائلنسر کہتے ہیں۔ میں جو ان پر جھپٹنے کو پر تول رہا تھا راجو کے ہاتھ کی رسائی میں گن دیکھ کر وہیں رک گیا۔۔۔وہ مجھے سے تقریباً دس میٹر کی دوری پر صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔۔اگر میں وہاں سے بھاگ کر بھی ان کی طرف جانے کی کوشش کرتا تو ناممکن سی بات تھی۔۔۔کیونکہ جیسے ہی میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلتا میرا دیکھ لیا جانا یقینی تھا۔۔۔اور لیوگر راجو کی رسائی میں تھا۔ ریوالور میرے پاس بھی تھا لیکن وہ میں نے انتہائی ایمرجنسی کیلئے رکھا ہوا تھا میں یہاں گولی نہیں چلانا چاہتا تھا کیونکہ جیسے ہی گولی چلتی ساری حویلی کو پتہ چل جاتا۔۔۔اس لیے میں وہیں دبکا ان کی باتیں سننے لگا۔۔۔راجو نے جیب سے ایک چھوٹی سی چرمی تھیلی نکالی اور اسے کھول کر احتیاط سے میز پر الٹ دیا۔۔۔میری آنکھیں ایک دم چندیا گئیں۔ تھیلی میں سے قمیض کے بٹن برابر شیشے کی طرح چمکتے ہوئے ہیرے باہر نکلے۔۔۔میں فلموں میں پہلے ہی ہیرے دیکھ چکا تھا۔۔۔لیکن آج پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے ہیرے دیکھ رہا تھا۔۔۔راجو نے ہیرے باہر نکالے اور اٹھا اٹھا کر غور سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔اچھی طرح ہیرے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد راجو نے ہیرے واپس تھیلی میں ڈالے اور تھیلی اٹھا کر اس آدمی کو دیتے ہوئے کہا کہ اسے پیچھے الماری میں رکھ دو۔۔۔ساتھ ہی راجو نے اسے چابیوں کا ایک گچھا پکڑایا تو وہ آدمی سعادت مندی سے اٹھا اور ہیروں کی تھیلی لیجا کر الماری میں رکھ کر دروازہ بند کر کے واپس مڑا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ راجو نے اپنا جرمن لیوگر اس کی طرف سیدھا کیا ہوا تھا۔۔۔وہ آدمی ہکلاتے ہوئے بولا:بب۔بب۔باس یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔تو راجو قہقہ لگا کر بولا:میں اپنے پیچھے کبھی بھی کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا۔۔۔اگر تمہیں زندہ چھوڑ دیا تو یہ راز میرے علاوہ تم بھی جانتے ہو جو کہ میں نہیں چاہتا۔۔۔تو وہ آدمی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا:بب۔باس میں نے آپ کا نمک کھایا ہے تو نمک حرامی کیسے کر سکتا ہوں تو راجو دانت پیستے ہوئے بولا:جب تو اپنے مالک کا نہ ہوا تو میرا کہاں سے ہو گا۔ یہ کہتے ہی راجو نے گولی چلا دی۔۔۔سائلنسر ہونے کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز کے ساتھ گولی نکلی جو کے سیدھا اس کی داہنی آنکھ سے تھوڑا اوپر کھوپڑی میں لگی۔اور اس کی کھوپڑی پرزوں میں تقسیم ہو گئی۔۔۔وہ آدمی گرنے سے پہلے ہی مر چکا تھا۔۔۔میرے لیے یہی موقع تھا۔۔۔راجو نے اس کو مارنے کے بعد لیوگر صوفے پر پھینکا اور آگے ہو کر الماری کو تالا لگانے لگا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔۔۔میں دروازے کی اوٹ سے باہر نکلا اور دبیز قالین پر دبے قدموں تیزی سے راجو کی طرف بڑھا۔۔۔جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کی چھٹی حِس نے اسے گڑبڑ کا احساس دلایا اور اس نے مڑنا چاہا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ پوری طرح مڑ پاتا میں نے دو قدم بھاگ کر چھلانگ لگائی اور اسے لیتا ہوا نرم نرم روئی جیسے قالین پر گِرا۔۔۔راجو کے جسم پر ہاتھ پڑتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا وہ بھی ایک مضبوط جسم کا مالک اور کڑیل جوان ہے۔ نیچے گرتے ہی اس کے منہ سے ایک انتہائی فحش گالی نکلی۔۔۔کیڑا اوئے کسی کتی ماں دا جنیا۔۔۔ساتھ ہی اس نے بے دریغ ایک ٹکر میری پیشانی پر دے ماری۔۔۔مجھے اس سے اس حرکت کی قطعاً توقع نہیں تھی۔۔۔ٹکر اور گالی کھا کر میرا دماغ بھی گھوم گیا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی پر جما دیا۔۔۔وہ زور لگا کر مجھے پہلو کے بل نیچے گرانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی کوشش میں میرے چہرے سے میری چادر بھی اتر گئی۔ اسی وقت مجھے اس کے بائیں ہاتھ کی غیر موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔بایاں ہاتھ مجھ سے پنجا آزما نہیں تھا بلکہ کسی اور کام میں مصروف تھا۔۔۔میری یہ خبرداری میری زندگی کی ضمانت بن گئی۔۔۔ورنہ جو گراری دار چاقو راجو کی قمیض کے نیچے سے اس کے ہاتھ میں برآمد ہوا وہ ایک لمحے بعد میری آنتیں قالین پر ڈھیر کر دیتا۔۔۔چاقو کے باہر آتے آتے میں نے راجو کی کلائی جکڑ لی اور دوسرے ہاتھ سے ایک طوفانی مکا اس کی ناک پر دے مارا۔۔۔اسی وقت وہ سمجھ گیا کہ اس کا واسطہ بھی کسی سخت جان سے پڑا ہے۔۔۔اس نے اچانک چاقو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور دونوں ہاتھ اپنی ناک پر رکھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ میں نے چاقو اٹھایا اور پھل مطلب دھار والی سائیڈ سے پکڑتے ہوئے پوری جان سے چاقو کا دستہ اس کی کھوپڑی پر جماتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ ہاتھ پاؤں جھٹک کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔اس کے بیہوش ہوتے ہی میں اس کے اوپر سے اٹھ کر سائیڈ پر ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ یہ میری زندگی کی پہلی لڑائی تھی۔۔۔دو منٹ سانس درست کرنے کے بعد میں سیدھا ہوا راجو کو ہلا کر دیکھا تو الماری کی چابیاں مجھے اس کے نیچے سے مل گئیں۔۔۔میں نے پھرتی سے الماری کو کھولا تو کھولتے ہی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔الماری کے ایک خانے میں بڑے بڑے نوٹوں کی گڈیاں چنی ہوئی تھیں۔۔۔جبکہ دوسرے خانے میں کچھ ملبوسات پڑے تھے۔۔۔سب سے نچلے خانے میں چند رائفلیں اور ان کا ایمونیشن پڑا ہوا تھا۔ رائفلیں دیکھ کر میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔لیکن مجھے کسی اور چیز کی تلاش تھی۔۔۔میں نے پیچھے ہو کر نظر دوڑائی تو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ ہی مجھے وہ چرمی تھیلی نظر آ گئی جس میں ہیرے تھے۔ میں نے تھیلی کھولی اور اس میں ہاتھ ڈال کر ایک ہیرا باہر نکال کر اپنی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔روشنی میں ہیرا پورا آب و تاب سے چمک رہا تھا۔۔۔پھر کچھ سوچ کر میں نے تھیلی واپس رکھی اور مڑ کر راجو کی طرف دیکھا جو کہ ابھی تک بیہوش تھا۔۔۔میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو مجھے میرے مطلب کی چیز نظر نہیں آئی۔۔۔پھر میری نظر گھومتی ہوئی راجو پر ہی آن ٹکی۔ راجو نے بھی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی مطلب شلوار میں نالا ضرور ہو گا۔۔۔میں نے ٹٹول کر اس کا نالا کھولا اور زور لگا کر شلوار سے باہر نکال لیا۔۔۔راجو کو پہلو کے بل لٹاتے ہوئے اس کے ہاتھ پیچھے کر کے باندھ دیے۔۔۔پھر آگے بڑھ کر میں نے تہہ خانے کا دروازے اندر سے بند کر دیا۔۔۔دروازہ بند کرنے سے امید تھی کہ اندر کی آواز باہر تک نہیں جائے گی۔۔۔پھر الماری سے ایک قمیض نکال کر اسے پٹیوں میں پھاڑ دیا۔۔۔ان پٹیوں سے میں نے راجو کی ٹانگیں بھی باندھ دیں اور باقی ماندہ پٹیوں کا گولہ بنا کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد میں نے دوسرے آدمی کی طرف دیکھا تو اس کی کھوپڑی سے خون بہہ بہہ کر قالین کو داغ دار کر چکا تھا۔۔۔پھر میں نے فریج کھولی اور اندر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر آدھی بوتل اپنے معدے میں اتاری اور باقی پانی راجو کے چہرے پر انڈھیل دیا۔۔۔چند لمحوں بعد ہی راجو ہوش میں آ گیا۔۔۔کچھ دیر تو وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔۔۔پھر جب اس کے دماغ کو صورتحال کی سمجھ آئی تو وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو جھٹکے دیتے ہوئے اوں اوں کرنے لگا۔ ************************ (35) راجو کو ہوش دلانے سے پہلے میں نے اپنی چادر واپس چہرے پر لپیٹ لی تھی۔۔۔پہلے مارا ماری میں وہ ٹھیک سے میرا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ہوش آنے کے بعد میں نے اس کو گالی دیتے ہوئے کہا او رانی خاں کے سالے،،کسے کتی کے پتر اپنی کتی زبان ذرا قابو میں رکھنے اور شور نہ مچانے کا وعدہ کرے تو میں تیرے منہ سے کپڑا نکالتا ہوں۔۔۔اس کے ہاں میں سر ہلانے پر میں نے آگے بڑھ کر اس کے منہ سے کپڑا باہر نکال لیا۔ کون ہے تو؟؟اس نے غصیلی سرگوشی کی۔" میں نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد اپنے چہرے سے چادر ہٹا دی۔۔۔مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتا ہے۔۔۔مجھے دیکھتے ہی اس نے مجھ سے ایک نازیبا رشتہ جوڑا اور اس کے منہ سے بوچھاڑ کی صورت میں گالیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ میں نے ایک زور کا طمانچہ اس کے گال پر مارا۔۔۔اور پھناتے ہوئے بولا کہ اب تو نے ایک بھی گالی بکی تو تیری زبان کاٹ دوں گا ساتھ ہی زمین پر پڑا گراری دار چاقو اٹھا کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔وہ چاقو کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا:کیا چاہتے ہو مجھے ایسے کیوں باندھا ہوا ہے۔۔۔تم جانتے نہیں ہو کہ ہم کون ہیں۔۔۔میں نے کھڑے ہوتے ہوئے ایک ٹھوکر اس کے جبڑے پر ماری تو اس کے منہ سے ایک دھاڑ برآمد ہوئی۔۔۔کتی کے بچے ہو تم۔۔۔تو نے میرے باپ پر ہاتھ اٹھایا اور اس معصوم شاکر کا کیا قصور تھا جسے تم نے مار ڈالا۔ مرنے کی بات سن کر ایک لمحے کیلئے اس کا چہرہ تاریک ہوا پھر وہ سنبھلتے ہوئے بولا:تم نے پہلے میری کزن شبینہ کے ساتھ بدتمیزی کی میں برداشت کر گیا۔۔۔پھر کل تیرے باپ نے میرے پاپا کو گالی دی۔۔۔تم لوگوں کو کیا لگا ہم آسانی سے ہضم کر جائیں گے نہیں۔۔۔اور اب تم حویلی کے اندر گھس کر مجھ سے الجھ گئے۔۔۔ہم تمہارا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔۔۔اور شبینہ کو چھیڑنے کے بدلے میں تیری بہن کو یہاں اٹھا لاؤں گا۔۔۔وہ سب کے سامنے ناچے گی اور پھر میں اس کی پھدی ماروں گا۔ اس کے منہ سے یہ بکواس سننا تھی کہ میرے دماغ پر جیسے چھپکلی سی رینگ گئی۔۔۔دم سمٹ کر میری آنکھوں میں آ گیا۔۔۔میں عجیب لہجے میں بولا:گشتی کے بچے تو میری بہن کو اٹھائے گا،،نچائے گا اور اور۔۔۔اس کے آگے الفاظ میرے منہ میں ہی اٹک گئے۔۔۔جب میرے منہ سے آواز نکلی تو اپنی آواز سن کر مجھے ٹھیک ٹھاک تسلی ہوئی۔۔۔اس وقت میرے لہجے میں وہ درندگی تھی جو شاید پتھر کو بھی پانی کر دیتی۔میں یکا یک اس کے پاس بیٹھا اور ایک ہاتھ سے اس کا جبڑا اتنی زور سے بھینچا کہ درد کے مارے اس کا منہ کھل گیا۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے کپڑا پھر سے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔۔پھر صوفے سے لیوگر اٹھا کر میں اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھتے ہوئے غرایا۔۔۔تجھے میں زندہ چھوڑوں گا تو ہی یہ سب کر پائے گا نا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی شلوار کھینچتے ہوئے لیوگر کے آگے لگے سائلنسر کی نال پورے زور سے اس کی گانڈ میں گھسائی اور پاگلوں کی طرح ٹرائیگر دباتا گیا۔۔۔اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب گن سے ٹرچ کی آواز سنائی دی۔ میں پانچ منٹ تک وہیں صوفے پر بیٹھ کر اپنے آپ پر قابو پاتا رہا۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب دماغ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے الماری میں سے چرمی تھیلی اٹھائی۔۔۔اچھی طرح تلاشی لینے پر مجھے الماری سے ہی لیوگر کا ایمونیشن بھی مل گیا جو کہ تین ڈبوں کی شکل میں تھا۔۔۔میں نے ایمونیشن اپنی جیبوں میں ڈالا۔۔۔لیوگر کی نال صوفے کے ساتھ رگڑ کر صاف کی اور تہہ خانے سے نکل آیا۔۔۔اب چونکہ میرا بدلہ بھی پورا ہو چکا تھا اور میں ہیروں کی شکل میں بھی سیالوں کو ایک کاری ضرب لگا چکا تھا تو اب مجھے یہاں سے نکلنے کی فکر تھی۔ میں دبے قدموں چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر پہنچا اور آس پاس دیکھ کر وہاں سے باہر نکلا۔۔۔چند لمحوں بعد میں کوریڈور کراس کر کے صحن کی طرف کھلنے والے دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔جیسے ہی میں دروازے سے باہر نکلنے لگا سامنے سے اچانک کوئی اندر کی طرف مڑا اور میں نا چاہتے ہوئے بھی اس سے ٹکرا گیا۔۔۔جس سے میں ٹکرایا اس نے سنبھلنے کیلئے ہوا میں ہاتھ مارے تو میری چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں آیا جسے کھینچتے ہوئے وہ زمین پر جا پڑا۔۔۔چادر کا پلو اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور چادر کھل کے نیچے گر گئی۔
  25. 5 likes
    سوری دوستوں ۔ ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے آپ لوگوں سے کچھ وقت کے لیے رابطہ نہ ہو سکا جلد آپ سے دوبارہ رابطہ ہو گا
  26. 4 likes
    جی ہاں بالکل،آپ ایک ہی کہانی میں سب واقعات لکھ دیں۔ ہم منتظر ہیں
  27. 4 likes
    تمام ہائی کلاس رائٹرز کو فری ممبرشپ کے ساتھ ساتھ ان کی لکھی گئی کہانی کی پے منٹ ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔۔۔۔۔مگر پھر بھی لکھنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا۔۔۔۔واقعی لکھنا بھت مشکل کام ہے۔ اسی ٹاپک پر ایک تھریڈ بھی موجود ہے۔اور آفر آج بھی ہے۔کوءی لکھنے والا ہے تو آئے ۔ اور سہولیات اور ارننگ حاصل کرے https://urdufunclub.win/topic/11551-paid-files-via-paid-writers/
  28. 4 likes
    جناب ہم آپ کی بات سے متفق ہیں ۔ ایک گزارش اور ہے برائے مہربانی پلیز اپڈیٹ تھوڑی بڑی دیا کریں تو آپ کی بڑی بڑی بڑی بڑی بڑی مہربانی ہوگی ۔ شکریہ
  29. 4 likes
    کیسے ہیں بھائی جان۔ کیسا رہا آپ کا ٹور۔ صرف کام ہی کیا یا کچھ گھومے پھرے بھی۔ باقی میں تو سمجھتا ہوں کہ وہاں سے کسی نئی سٹوری کا پلاٹ ضرور لیکر آئے ہوں گے۔ خوش رہیئے۔ آباد رہیئے۔
  30. 4 likes
    تمام قارئین کو سلام میں واپس آ گیا ہوں اور کل سے دوبارہ فارم میں ہوں گا اس کہانی اور ہوس کی اپڈیٹ ہو گی اس کے بعد اس مہینے آہنی گرفت پہ زیادہ کام ہو گا۔ شکریہ
  31. 4 likes
    بہت ہی زبردست انداذ سے اپ نے تمام واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اور جہاں تک بات ہے ماہی کی تو پھدی تو پھدی ہوتی ہے چاہے بیگم کی ہو یاسالی کی!
  32. 4 likes
    کہانی شیخو صاحب کے بنائے یاسر کے کردار کے حوالے سے ہی لکھی گئی ہے۔ ماہی کا کردار بھی انہی سے کشید کیا گیا ہے اور اگر ہم ماہی کے کردار کو پہلے پڑھیں تو اس کا کئی بار کا ردعمل خاصا معنی خیز رہا ہے۔ ضوفی کی بہن ہونا الگ بات ہے اور یاسر کی بہن ہونا الگ۔ آپ کی بات سولہ آنے درست ہے۔ تعریف کا شکریہ۔ بہت سی سالیوں کو بہنوئی پہ کرش ہوتا ہے اور بہنوئی کا ایمان ویسا ہی کوئی خاص مضبوط نہیں ہوتا۔یاسر کا کیا ہونا تھا۔ دوسرا ریپ ایک انتہائی قبیح فعل ہے مگر یہ بھی دیکھیں کہ کئی لڑکیاں بھی اس کی فینٹسی رکھتی ہیں۔ ماہی کا باآسانی ننگی ہو جانا بھی ایک معمہ ہے، وہ چاہتی تو کہہ سکتی تھی کہ کھلے آسمان اور بنا چار دیواری والی جگہ پہ مکمل ننگی نہیں ہو سکتی یا صرف جسم پونچھ کر دوبارہ پہن لیتی۔اس کے پیچھے بھی اس کی کوئی سوچ موجود تھی، یہ طے تھا کہ یاسر کی پیش قدمی پہ اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی اور نہ اسے اس پہ خاص اعتراض تھا۔ اس کا جواب ماہی ہی دے سکے گی کہ ایسا کیوں ہوا؟ بالکل یاسر شروع سے ہی ہوس پرست تھا اور اس کا سب کے ساتھ تعلق جنسی رغبت کی بدولت ہی قائم تھا۔ اس خیال میں بھی وزن ہے کہ ماہی اپنی عزت کے حوالے سے مایوس ہو چکی تھی اور ذہنی طور پہ اس رات اپنا کنوارہ پن کھونے کو تیار تھی۔ اپنی جان اور عزت بچانے کے لیے وہ یاسر کی اس درجے احسان مند تھی کہ اس نے یاسر کو پیش قدمی سے نہیں روکا۔ سر! میری بھی مجبوری ہے کہ ویسا ہرگز نہ لکھوں جیسا سب نے سوچا ہے، نہ ہی ایک جیسا واقعہ دہراؤں، ماہی الگ ہو،مہری الگ،عظمیٰ الگ اور نسرین الگ۔ ورنہ آپ لوگ کہاں چونکیں گے یا کہاں دلچسپی رکھیں گے،الٹا آپ کہیں گے کہ اب بس یہ ہونا ہے ہو جائے گا۔ مہری کا ریپ کسی نے سوچا تک نہیں تھا اور نہ ضوفی کی بجائے ماہی کا سیکس۔ مجھے سب نارمل چیزیں سوچنے کے بعد وہ چیز جو کسی نے نہ سوچی ہو، وہ لے کر کہانی لکھنا ہوتی ہے۔
  33. 4 likes
    واہ واہ کیا خوبصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ لگتا ہے کہ ریڈر بھی موقع پر موجود ہے یا یوں کہیں کہ جو کر رہا ہے ریڈر ہی کر رہا ہے۔ آپ کو اپنا خیال بیان کرنے میں جو قدرت حاصل ہے بہت کم مصنفوں کو وہ قدرت اور اختیار اپنے الفاظ پر ملتا ہے۔ اور ماہی کے ساتھ جو معرکہ یاسر نے جیتا ہے اس میں ماہی کی کلی رضامندی ظاہر ہوتی ہے ماہی کے لیے ننگی ہونا قطعاً ضروری نہیں تھا مگر اس نے تو فوراً ہی کپڑے اتار دیئے۔ پھر اس نے یاسر کی پیشقدمی کو بھی سختی سے روکنے کی کوشش نہ کی۔ یا تو وہ بھی یاسر پر کرش رکھتی تھی یا آج کے ریپ کی کوشش کے دوران وہ جنسی طور پر مشتعل ہو چکی تھی۔ اور یاسر تو ہے ہی پین یک آدمی اسے بس پھدی چاہیے بےشک جس کے ساتھ مرضی لگی ہو۔ ڈاکٹر صاحب اپڈیٹ دینے اور تشنگی کو سیراب کرنے کا شکریہ۔
  34. 4 likes
    کمال کر دیا جناب آپ نے تو مزا آ گیاایک نیا ٹوسٹ مزا آ گیا
  35. 4 likes
    جناب آپ کو کھلی چھوٹ ہے کہ آپ دو تین اپڈیٹ اکٹھی کر کے کمنٹ دے دیا کریں۔ کمنٹ میں تعریف ضروری نہیں ہے، تنقید بھی چلے گی۔ کہانی پہ اپنی رائے ہو اور کہانی کے متعلق خیال کا اظہار ہو۔اس پہ بات ہو اور اس پہ مباحثہ ہو۔ تاکہ جن دنوں اپڈیٹ نہیں آنی، ان دنوں اس پہ باتیں تو ہوں۔ گیمز آف تھرون ایک سیریز تھا، جو کئی سال چلا۔ اب ایک سیزن یا قسط پہ درجنوں آرٹیکل لکھے جاتے تھے، اب بھی ختم ہونے کے باوجود اس پہ روز کوئی نہ کوئی بحث ہوتی ہے۔ یہی اس کی کامیابی تھی کہ اس پہ بےشمار تبصرے ہوئے تھے۔مقصد ہے کہانی کی تھریڈ کو زندہ رکھا جائے۔جو تھریڈ زندہ رہے گی اس کی اپڈیٹ بھی زیادہ ہو گی۔
  36. 4 likes
    جناب اس کی آنے والی اپڈیٹس آپ لوگوں کو اور بھی چونکا دیں گی۔ بس نوک پلک درست کر رہا ہوں۔ دوم اگلے ہفتے میں پردیس اپڈیٹ نہیں کر پاؤں گا اس لیے اسی ہفتے پردیس کو اپڈیٹ کیا جانا ہے۔ اس پہ کام چل رہا ہے۔
  37. 3 likes
    واہ ڈاکٹر صاب کمال ای کر چھڈیا غیر متوقع سیکس سین اپنی جگہ لیکن انداز بیاں اپنی جگہ شروع سے آخری اپڈیٹ تک سٹوری اک طرف اور آخری اپڈیٹ اک طرف واہ واہ لاجواب زبردست بہت شکریہ داکٹر صاحب مزید کا انتظار رہتا تھا اب تو مزید شدت بڑھ گئ انتظار کی
  38. 3 likes
    wah... kahani ko usi taraf ley ja rahey hain jis ka ishara kuch din pheley kisi ne member ne yahan bataya tha maza aa gay
  39. 3 likes
    یہ میں نے کیا پڑھا؟؟؟؟؟ ماہی نے یاسر کو مجبور کیا کہ وہ اس کے ساتھ سیکس کرے۔کہانی اور الجھ گئی ہے کہ ماہی آخر کیا چاہتی ہے۔یہ تو طے ہے سیکس تو اب وہ باربار کرے گی اور یاسر کو ضوفی سے دور بھی۔ایک نیا ٹوئسٹ ہے جو بڑا انوکھا ہے اور غیر معمولی بھی
  40. 3 likes
    جاوید بانڈ صاحب! آج ایک ہی نشست میں مکمل کہانی پڑھ ڈالی۔ دراصل وقت کی کمی کی وجہ سے میں کہانی تفصیل سے پڑھ نہیں پا رہا تھا، جو وقت ملتا وہ پڑھنے کی بجائے لکھنے میں صرف ہو جاتا تھا۔ خیر، دیرآید درست آید۔ کہانی میں سب سے پہلی چیز اس کا پلاٹ ہے، دیہاتی پس منظر میں لکھی گئی کہانی کا پلاٹ واقعی عمدہ ہے۔ ہیرو کا رول بھی اچھا ہے، اس کا ہر لحاظ سے مضبوط ہونا بھی ایک مثبت پہلو ہے۔ کہانی کے ثانوی کردار جیسے کہ وہ لڑکیاں جو سیالوں کے ظلم کا شکار ہوئیں ان کا کردار روایتی ہے،اس میں مزید جدت لائی جا سکتی ہے کہ اگلے جو بھی کردار ہوں ان کا ہیرو کا ماضی یکساں نہ ہو۔ ایکشن اچھا ہے اور حقیقی ہے۔ایک جگہ مجھے ہیرو کی طرف سے حالات کی سنگینی کو بھانپنے میں غلطی محسوس ہوئی۔ اس نے سیالوں کا ایک بندہ قتل کر دیا اور اسے یہ احساس نہ ہوا کہ اس کا خمیازہ اس کے خاندان کو بھگتنا پڑے گا۔ اس نے اس کو قدرے لاپروائی سے لیا۔ قتل کا معلوم ہوتے ہی وہ اس کے گھر جائیں گے اور انتقامی کاروائیاں کریں گے۔ اس کی نسبت ایسا ہوتا کہ وہ روپوش ہونے کی بجائے ان کا دلیری سے استقبال کرتا،تصادم ہوتا،ماں باپ بہن کو بچانے کی کوشش کرتا مگر ناکام ہوتا اور ان کے ساتھ ظلم وہ ہوتے دیکھتا تو بہت بہتر منظرنگاری ہو سکتی ہے۔کہانی میں ایک دردناک موڑ آ جاتا اور قارئین بھی ویسا ہی غصہ محسوس کرتے جیسا ہمارا ہیرو محسوس کر رہا ہے۔ بہرحال یہ بھی مناسب طریقہ تھا۔ اب آخری مرحلہ جو شائع ہوا ہے کہ اب نئی شناخت کے ساتھ ہیرو کیسے آگے بڑھتا ہے تو یہ سسپنس ہو گا۔ بہتر یہ ہو گا کہ وہ اس بار جوش کی بجائے چالبازی اور ہوش سے کام لے کر دشمنوں کا خاتمہ کرے۔ کیونکہ شناخت بار بار نہیں مل سکتی۔ کہانی لکھنے کے لیے بہت بہت شکریہ اور ہم اس کے لیے آپ کے مشکور ہیں۔ ساتھ ہی ایک اعلان بھی میں یہاں کر دوں کہ جو رائیٹر صرف ہمارے لیے لکھے گا اس کا الگ سیکشن بنایا جائے گا اور اس سیکشن کی جو بھی آمدن ہو گی وہ اسے ملے گی۔
  41. 3 likes
    ڈیئر کبھی اس کہانی کے بارے میں بھی کہا کرو کے اس مہینے اس پر بھی زیادہ کام ہوگا
  42. 3 likes
    سر ٹارگٹ تو یہی ہوتا ہے کہ کہانی کا مزا بھی محسوس ہو اور دکھ درد خوشی کا بھی احساس ہو ماہی کا سیکس لمبا تھا اور اس کی وجہ بہت بڑی ہے
  43. 3 likes
    سٹوری پڑھنے کے بعد اپنی اپنی رائے ضرور دیجئے گا۔۔۔مطلب سٹوری کا ٹیمپو یہاں سے گر گیا۔۔۔یا پھر یہاں سے ایسا نہیں ایسا ہونا چاہیے تھا۔ مطلب کچھ تو۔ اگر کوئی کچھ کہے گا تو پتہ چلے گا ناں کہ کیا میں صحیح لکھ رہا ہوں یا پھر کھچیں مارتے ہوئے اپنا اور آپ سب لوگوں کا ٹائم ضائع کر رہا ہوں۔ منتظر۔ جاوید بانڈ
  44. 3 likes
    دیکھیے گا کہ کسی کو بھی نظر انداذ نہیں کیا گیا اور یاسر بیک وقت سب معاملات دیکھے گا۔ اس نے جنید کو کہانی ڈالی ہے اب دیکھنا ہے کہ ہوتا کیا ہے۔
  45. 3 likes
    ماہی ضوفی کی بہن ہے نہ کہ یاسر کی۔اور اول تو یاسر ماہی کا بہنوئی ابھی بنا نہیں ہے اگر بہنوئی مان بھی لیا جائے تو جیسے بہت سی سالیوں کو اپنے بہنویوں پر کرش ہوتا ہے وہی معاملہ ماہی کا بھی ہو سکتا ہےاس نےضوفی اور یاسر کو رومانس کرتے کافی دفعہ دیکھا ہے تو قدرتی طور پر یاسر کی طرف مائل ہونا عین ممکن ہے۔
  46. 3 likes
    صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔ یاسر کی فطرت کے مطابق یہ ہی متوقع تھا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ ابھی آپ کو بہت کم پڑھنے کے باوجود میں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ آگے کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے
  47. 3 likes
    واہ ڈاکٹر صاحب بہترین لیکن مختصر قسط لکھی ہے کہانی میں مسلسل سسپنس کا اضافہ ہو رہا ہے میرے اندازے میں دونوں طرف ریپ ہوگا باقی آپ لکھنے والے ہیں آپ ہی بہتر انداز میں بتا سکتے ہیں کہ آیا کہ اگلی قسط میں یک مشت دو ریپ ہوں گے یا نہیں ایک ضوفی کا اور دوسرا اس کی بہن کا
  48. 3 likes
    باقی سٹوریز کمپلیٹ ہیں اور یہ ایک سیریز تو اپڈیٹ کی ڈیمانڈ کے کمنٹس آنا نارمل بات ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ کمنٹس رائٹر کی حوصلہ افزائی کے لیے ہوں ۔ تاکہ رائٹر مزید زیادہ لکھے۔اور جلد اپڈیٹ آءے
  49. 3 likes
    یہ بات رائٹر بھی محسوس کرتا ہے کہ وہ جن ممبرز کے لیے اتنے پیج لکھ رہا ہے۔ وہ کچھ لائن کا کمنٹ بھی نہیں کر سکتے ؟؟؟ ابھی اس کہانی کو پیڈ کر دوں تو کمنٹس کی ۔۔لائنیں لگ جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔کیا خیال ہے کہ اس کو پیڈ ہی کر دیا جائے۔
  50. 3 likes
    doc sahb jis trah ap story likhte hu achi likhte hu kamaal ki par jis trah update dete hain usse behtr ha k ap na hi likho sari kahaani bhol jati ha peeche se k huwa kiya tha do do hafte update ka namo nishan tak nhi
×
×
  • Create New...