Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 10/17/2018 in all areas

  1. 4 points
    ہم شیخو صاحب کی کہانی سے بہت متاثر ہیں کیونکہ اتنی طویل کہانی لکھنا بے انتہا مشکل کام ہے اگر یہ فورم کے لیے ایک ایکسکلیوسیو کہانی تحریر کریں جو کہیں اور پوسٹ نہ ہو تو ان کو رائیٹر کا ٹائیٹل اور سہولیات دی جا سکتی ہیں ان کو مکمل کہانی لکھنے پہ فورم کی طرف دیگر مراعات بھی میسر ہو جائیں گی جو پریمیم ممبران کو حاصل ہوتی ہیں
  2. 4 points
    update.... میرے نیچے نہ نسرین تھی نہ ھی عظمی بلکہ نرم سرھانہ میرے نیچے دبا ھوا تھا اور میری شلوار نیچے سے ساری گیلی ھوچکی تھی نسرین میرے سر کے بالوں کو پکڑ کر ہلا ہلا کر مجھے اٹھا رھی تھی کہ اٹھ جاو ہمیں سکول سے دیر ھو رھی ھے ۔ میں شرمندہ سا الٹا ھی لیٹا رھا کہ نسرین کے سامنے کیسے سیدھا ھوکر اٹھوں کیوں کے منی سے میری شلوار اور قمیض دونوں گیلی ھوچکی تھی۔ میں نے خود کو سنبھالتے ھوے نسرین کی طرف غصے سے دیکھتے ھوے کہا جاو دفع ھو جاو یہ کیا بتمیزی ھے چھوڑو میرے بال اور میں نے اسکی کلائی پکڑ کر زور سے جھٹک دی ۔ تو نسرین بُڑ بُڑ کرتی باھر کو چلی گئی ۔ میں کچھ دیر ایسے ھی الٹا لیٹا رھا اور پھر ہمت کر کے اٹھا اور ڈرتے ڈرتے کمرے سے باھر جھانکا کہ صحن میں کوئی ھے تو نھی تو صحن کو خالی پا کر میں نے اپنی گیلی جگہ پر ہاتھ رکھا اور میں سپیڈ سے بھاگا اور سیدھا واش روم میں داخل ھوگیا۔ میں نے کپڑے اتار کر منی والی جگہ کو دھویا اور کپڑوں کو نچوڑ کر واش روم میں لگے کیل کے ساتھ لٹکا دیا اور نہا کر کپڑوں کو نیچے گیلے فرش پر پھینک دیا تاکہ دیکھنے والے کو یہ نہ پتہ چلے کہ میں نے شلوار اور قمیض کو آگے سے دھویا ھے اور نہا کر نازی کو آواز دی کہ میرے کپڑے دے دو تو نازی شاید پہلے ھی گھر سے میرا سوٹ لے آئی تھی اس واش روم کے روشن دان میں پہلے میری شلوار رکھی جب میں نے شلوار اٹھائی تو اس نے قمیض رکھ دی ۔۔ میں نے قمیض بھی اٹھا کر پہن لی اور سر کے بالوں میں انگلیاں مارتا ھوا باہر نکل آیا عظمی نے میرے لیےناشتہ بنا دیا تھا۔۔۔ میں نے ناشتہ کیا اور ہم گھر سے نکلنے ھی لگے تھے کہ دروازے کے سامنے ٹانگہ آکر رکا جس میں فوزیہ اور انکل بیٹھے ھوے تھے ہم ان کو دیکھ کر رک گئے فوزیہ اور انکل ٹانگے سے اترے اور تانگے والے کو پیسے دے کر چلتا کیا اور عظمی نسرین اور نازی کے سر پر پیار دیا میں نے بھی فوزیہ کے آگے سر کیا تو اس نے پیار دینے کی بجاے میرے سر میں چپت لگائی اور ہنستے ھوے اندر چلی گئی ۔ انکل بولے یاسر بیٹا بہنوں کو سکول چھوڑ کر جاتے تھے نہ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ تو انکل نے میرے سر پر پیار دیتے ھوے دعا دی جیتے رھو بیٹا تو عظمی بولی ابو ہمیں سکول سے دیر ھو رھی ھے تو انکل نے کہا جاو جاو دھیان سے جانا اور ہم صدف کی طرف گئے صدف آج بڑی بنی سنوری تھی پوچھنے پر پتہ چلا کہ انکی اکیڈمی میں آج فنکشن ھے خیر ہم سب شہر کی طرف چل پڑے۔ انکو سکول چھوڑ کر میں دکان کی طرف چل دیا انکل سجاد نے دکان کھول لی تھی اور مجھ سے کل نہ آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے مہمانوں کا بہانہ کردیا اور دکان کی صفائی وغیرہ میں مصروف ھوگیا۔ کچھ دیر بعد کسٹمر آنے شروع ھوگئے۔ ایسے ھی سارا دن کام میں گزر گیا شام ڈھلنے لگی میں دکان کے باہر بینچ پر بیٹھا گزرتے ھوے کسٹمر کو دیکھ رھا تھا کی دو شوخ سے لڑکیاں میرے پاس سے گزر کر دکان میں چلی گئی میں بھی جلدی سے اٹھا اور انکو ڈیل کرنے کے لیے انکے پاس پہنچ گیا۔ دونوں لڑکیاں ھی ایک سے بڑھ کر ایک تھی دونوں نے جینز کی پینٹیں اور اوپر لانگ شرٹ پہنی ھوئی تھی جسم انکا ایسے تھا جیسے وہ فٹنس کلب جاتی تھی کمال کا فگر تھا انکا دونوں کی شولڈر کٹنگ تھی اور گولڈن کلر کے بال تھے مجھے تو کوئی انڈین فلم سٹار لگ رھی تھی ایک لڑکی کافی شوخی لگ رھی تھی وہ ریک میں لگے ڈیزائن دیکھ کر منہ بسور کر ساتھ والی لڑکی کو کہہ رھی تھی کہ سب اولڈ ڈیزائنگ ھے چلو یار فضول میں ٹائم برباد کرنا ھے ۔ میں حیران ہوکر اسکی طرف دیکھ رھا تھا کہ اتنی اچھی ڈیزانگ لگی ھوئی ھے اور یہ محترمہ کیسے انکو رد کررھی ھے ۔ وہ واپس مڑنے لگی تو میں نے کہا میم بات سنیں تو وہ ایک دم چونک کر میری طرف دیکھتے ھوے بڑی ادا سے بولی جی فرمائیں ۔۔ میں نے کہا آپ کو کس طرح کی ورائٹی چاہیے تو وہ ناک چڑھا کر بولی ہمارے مطلب کی ورائٹی آپ کے پاس نھی ھے۔۔ میں نے کہا آپ بیٹھیں تو سہی اور بتائیں کس طرح کولیکشن پسند کرتیں ہیں انکے علاوہ بھی ہمارے پاس کافی ورائٹی ھے تو دوسری لڑکی جو پہلے ھی بیٹھی ھوئی تھی اور کھڑی ہونے ھی لگی تھی وہ بولی بھائی ہمیں سلیو لیس امبرائڈڈ میں لانگ شرٹس چاھیے جن کے ساتھ فٹنگ میں ٹراوزر ھو تو میں نے کہا مل جائیں گی آپ پلیز تھوڑا آگے آجائیں ۔ تو وہ لڑکی اٹھی اور دوسری شوخ لڑکی کا ھاتھ پکڑ کر بولی آو یار دیکھ لیتیں ہیں شاید کوئی پسند آجاے،، ۔۔ تو وہ لڑکی اس کے پیچھے چلتی ھوئی دکان کے اینڈ پر آگئیں اور پہلے والی لڑکی بیٹھ گئی اور وہ شوخ چنچل حسینہ ابھی بھی کھڑی تھی جیسے اسکی گانڈ میں درد ھو ۔۔ جنید جو کہ فرنٹ پر میرے ساتھ ھی بیٹھا ھوا تھا وہ بھی ادھر بیٹھا ان کو ھی تاڑ رھا تھا جبکہ دوسرا لڑکا کسٹمر کو ڈیل کر رھا تھا۔۔ میں نے اس شوخ حسینہ کو .کہا میم آپ بھی بیٹھ جائیں کھڑی کھڑی تھک جائیں گی ۔ تو وہ بولی آپ جلدی سے سوٹ دیکھا دیں ہمارے پاس وقت بہت کم ھے ہمیں جلدی ھے ۔۔ میں نے کہا میم آپ پلیز بیٹھیں تو سہی ۔ میں دیکھانے لگا ہوں ۔ تو دوسری لڑکی نے اسکا ھاتھ کھینچتے ھوے کہا کہا ضوفی بیٹھ تو جاو یار ایسی بھی کیا جلدی ھے تو وہ بولی یار میں نے برائیڈل تیار کرنی ھے جا کر تم ایسے مجھے لے آئی ھو برائڈل کو تیار کرنے کا سن کر مجھے یہ تو کنفرم ھوگیا کہ یہ پالر والی ھے ۔۔۔۔ مجھے ضوفی کا نام سن کر یہ سمجھ آئی کہ دوسری لڑکی نے اسے صوفی کہہ کر بُلایا ھے ۔۔ میں حیران ھوکر اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگ گیا کہ یہ صوفی کیا نام ھوا تو ضوفی بولی بھائی دیکھائیں سوٹ آپ تو ہماری باتیں سننے لگ گئے ۔ میں جھینپ سا گیا اور جلدی سے نئے مال سے سوٹ نکال کر انکو دیکھانے لگ گیا ادھر انکل نے بڑے بلب جو 500واٹ کے ہوتے تھے وہ چلا دیے جن کی گولڈن لائٹ میں ان دونوں پریوں کے رنگ چمکنے لگ گئے اور انکے بال مزید گولڈن ہو کر چمکنے لگ تھے ۔۔ میں نے چھ سات نیو ڈیزائن کھولے تو ضوفی پھر بھی منہ بسور کر رجیکٹ کر رھی تھی ۔۔ میں نے ضوفی سے پوچھا میم آپ نے اپنے لیے لینا ھے یا پھر کسی اور کے لیے تو وہ بڑے مغرور سے بولی کہ آپکو اس سے کیا مطلب تو میں نے کہا میم آپ تو ناراض ھو رھی ہیں ۔ میں تو اس لیے پوچھ رھا ھوں کہ پھر آپ کی پرسنیلٹی کے حساب سے مذید ورائٹی دیکھا دوں۔۔ تو ضوفی نے جب اپنی تعریف سنی تو کچھ ٹھنڈی پڑ گئی اور تھوڑے نرم لہجے میں بولی ۔ جی میں نے اپنے لیے ھی لینا ھے ۔ تو میں نے ایک پنک کلر کی سلیو لیس شرٹ کھولی اور اپنے ساتھ لگا کر اسے دیکھاتے ھوے کہا میم آپ یہ لے لیں یقین کریں آپ کے کلر کے ساتھ میچ ھوگی اور بہت ھی خوبصورت لگے گئی تو ضوفی بڑے غور سے شرٹ کو پکڑ کر دیکھنے لگ گئی ساتھ والی لڑکی نے بھی میری تائید کرتے ھوے کہا ۔ضوفی واقعی یار کمال کی ڈیزاننگ ھے ۔۔ تو میں نے ایک بار پھر تعریف کے پُل باندھتے ھوے کہا میم یہ پہلی آپ ھی کسٹمر ہیں جنکو کھول کر دیکھا رھا ھوں بلکل لیٹس ڈیزائن ھے تو ضوفی میری طرف دیکھتے ھوے بولی کیوں جی ہمیں کیوں دیکھا رھے ہیں کیا بیچنے کے لیے نھی لے کر آے ۔۔ میں نے کہا نھی میم ایسی بات نھی ہم ہر کسٹمر کی لُک کے حساب سے ھی اسے ورائٹی دیکھاتے ہیں۔۔ جیسے آپکا کلر پنک ھے ویسے ھی اس سوٹ کا کلر آپ کے کلر کے ساتھ میچ کرے گا اور ہر دیکھنے والا آپ کی تعریف کئے بغیر نھی رھ سکے گا ۔۔ میری باتیں ضوفی کے دل دماغ پر اثر کررھی تھی ۔ میں نے کہا اگر آپ کو یقین نھی تو یہ ٹرائی روم ھے آپ پہن کر چیک کرلیں اگر میری بات غلط ھو تو پھر آپ بے شک نہ لینا ۔۔ ضوفی نے ٹرائی روم کے دروازے کی طرف دیکھتے ھوے میرے ھاتھ سے شرٹ پکڑی اور دوسری لڑکی کو کہا ثانیہ چلو پہن کر دیکھ لیتے ہیں ۔ ثانیہ بولی پاگل تم جاو اندر میں ادھر ھی بیٹھتی ھوں تو ضوفی شرٹ پکڑے ھوے ٹرائی روم میں چلی گئی ۔ اور دوسری لڑکی جس کا نام ثانیہ تھا وہ ادھر ھی بیٹھی رھی اور دوسرے سوٹوں کو پکڑ کر دیکھنے لگ گئی ۔ اور مجھے مخاطب کرتے ھوے بولی بھائی دعا کریں اسے پسند آجاے ورنہ اس نے تو دو گھنٹے سے مجھے ذلیل کیا ھوا ھے تو میں نے کہا آپ گبھرائیں نہ یہ شرٹ انکو بہت سوٹ کرے گی پھر میں نے ثانیہ کو کہا میم ایک بات کروں اگر آپ ناراض مت ہوں تو۔۔ ثانیہ نے ایکدم چونکتے ھوے بڑی حیرانگی سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی جی پوچھیں ۔ میں نے کہا انکا نام صوفی کیوں ھے تو ثانیہ کھل کھلا کر بولی نھی بھائی اس کا نام صوفی نھی ضوفی ھے اور یہ اسکا نِک نیم ھے اصل نیم ضوفشاں ھے ۔۔ میں نے کہا ہممم سوری میم مجھے سمجھ آئی تھی کہ آپ نے انکو صوفی کہا ھے اور میں تب سے پریشان تھا کہ صوفی تو مولویوں کو کہا جاتا ھے ۔۔ تو ثانیہ ہنسنے لگ گئی ۔ ثانیہ ہنستے ھوے بہت ھی پیاری لگ رھی تھی اسکے موتیوں جیسے چمکتے ھوے دانت جب ہنستے ھوے دکھتے تو اسکی ہنسی کو اور چار چاند لگ جاتے۔ میں نے پھر ثانیہ کو مخاطب کرتے ھوے کہا میم آپ کا پالر ھے تو وہ حیران ھوتے ھوے بولی آپکو کیسے پتہ تو میں نے کہا ضوفی میم. برائڈل کو تیار کرنے کا کہہ رھی تھی تو میں سمجھا شاید آپکا پالر ھے ۔ تو ثانیہ بولی جی ضوفی کا پالر ھے جبکہ میں تو ابھی سٹڈی کر رھی ھوں اور یہ میری بیسٹ فرینڈ ھے ابھی ہم باتیں ھی کررھے تھے کہ ٹرائی روم کا تھوڑا سا دروازہ کُھلا تو ضوفی نے سر باھر نکال کر ثانیہ کو آواز دی کے اندر آنا تو ضوفی اٹھ کر اندر چلی گئی میرا بھی بڑا دل کررھا تھا کہ کسی طریقے سے ضوفی کو شرٹ بدلتے دیکھوں ۔ کہ اچانک میرے دماغ میں ایک خیال آیا کہ۔۔۔۔۔ .اگر میں بہانے سے اندر چلا جاوں تو اچانک ضوفی کو دیکھ سکتا ھوں پھر خیال آیا کہ دروازے کو ہلکا سا کھول کر دیکھ لوں ۔۔ پھر اپنی بیوقوفی پر ہنسا کہ ماما تم کونسا اکیلے ھو دکان میں انکل اور باقی کے دونوں لڑکے بھی ہیں ۔ ابھی میں اپنے خیالوں میں ھی گم تھا کہ ٹرائی روم کا دروازہ کُھلا اور دونوں حسینائیں دروازہ کھول کر ہنستی ھوئی باہر نکلی اور ضوفی نے بڑی گہری نظر سے مجھے دیکھتے ھوے شرٹ مجھے پکڑاتے ھوے کہا اسے پیک کردیں اور پرائس بتا دیں میں نے سینہ چوڑا کرتے ھوے کہا کیسی لگی شرٹ میم۔ تو ضوفی بولی ذبردست آپ واقعی انٹیلیجنٹ ھو گڈ اچھی ڈیلنگ ھے آپکی I like it مجھے اس کی آدھی انگلش کی سمجھ آئی اور ادھی اوپر سے گزر گئی۔ میں نے سوٹ کو پیک کیا اور انکو مناسب سے پرائس بتاے تو ضوفی نے حیران ھوتے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے کہا اتنے کم پرائس کہیں اسکا سٹف دونمبر تو نھی ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا میم یہ صرف آپکے لیے خصوصی ڈسکاونٹ ھے ورنہ ہم اس کا ڈبل ریٹ کرتے ہیں۔ ضوفی نے مسکراتے ھوے میری طرف دیکھ کر اپنا پرس کھولا اور مجھے پیسے پکڑاتے ھوے بڑی ادا سے بولی ویسے میں وجہ جان سکتی ھوں کہ مجھ پر اتنی مہربانی کی۔ میں نے کہا میم اسکی کافی وجہ ھے بس آپ نے وجہ جان کر کیا کرنا ھے ۔ تو فوضی نے دلچسپی لیتے ھوے پھر کہا بتائیں نہ کیا وجہ ھے اس کے استفسار کرنے پر میں بولا۔۔ میم پہلی وجہ یہ ھے کہ آپ ہماری دکان پر پہلی دفعہ تشریف لائی ہیں۔ اور دوسری وجہ یہ ھے کہ آپ کو ہماری ورائٹی پسند نھی آرھی تھی ۔ اور تیسری وجہ یہ ھے کہ یقیناََ آپ پر یہ شرٹ بہت جچی ھوگی اور چوتھی وجہ یہ ھے کہ آپ دوبارہ بھی ہمارے پاس تشریف لائیں تو ضوفی نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میرے ھاتھ سے سوٹ والا شاپر پکڑا اور بولی بہت تیز ھو آپ اور ہرنی کی چال چلتی ھوئی باہر نکل گئی تو میں بھی مسکراتا ھوا اس کی گانڈ کو تاڑتا ھوا پیچھے پیچھے کیش کاونٹر تک آیا اور انکل کو پیسے پکڑاے انکل بڑی اشتیاق نظروں سے مجھے دیکھ کر بولے واہ یاسر کیا بات ھے بڑی محنت سے انکو قابو کر لیا تو میں ہنستے ھوے بولا انکل جی آپ کا شاگرد ھوں تو کیسے کسٹمر کو نکلنے دیتا اور میں پھر باہر جاکر جنید کے پاس بیٹھ گیا تو جنید آہستہ سے بولا یار مال بڑا چوکس تھا میں نے کہا ھاں یار دونوں بچیاں ھی بڑی زبردست تھی تو جنید بولا ایک کو تو میں جانتا ھوں میں نے چونکتے ھوے کہا کسکو تو جنید بولا وہ جس نے گولڈن کلر کی شرٹ پہنی ھوئی تھی جو شرٹ پہن کر چیک کرنے اندر گئی تو میں نے کہا ھاں ھاں تم اسے کیسے جانتے ھو۔ تو جنید بولا یار یہ ساتھ والی مارکیٹ کی بیسمنٹ میں اسکا پالر ھے بڑی گرم بچی ھے اسکے محلے کے سارے لڑکے اسکے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں مگر یہ سالی کسی کو گھاس نھی ڈالتی تو میں نے جنید سے اسکے محلے کا پوچھا تو جنید نے محلے کے ساتھ ساتھ مجھے گلی اور گھر کا نقشہ بھی بتا دیا۔۔ میں بڑی حیرانگی سے جنید کی طرف دیکھتے ھوے بولا واہ یار بڑی معلومات رکھتا ھے کہیں تم بھی اسکے پیچھے تو نھی۔ تو جنید ٹھنڈی آہ بھر کر بولا نھی یار میری اتنی قسمت کہاں کہ ایسی پوپٹ بچی کو پھنسا سکوں میں تو اسکے نام کی بس مُٹھ ھی مارلیتا ھوں ۔ تو میں نے ہنستے ھوے جنید کی کمر پر ہاتھ مارتے ھوے کہا چھڈ یار کوئی حال نئی تیرا۔ ٹرائی تو مارنی تھی شاید پھنس ھی جاے۔ تو جنید بولا اس سالی کے پیچھے ایک سے بڑھ کر ایک لڑکا ھے مگر یہ دیکھتی سب کی طرف ھے مگر کسی کو لفٹ نھی کرواتی ۔ تو بھی ٹرائی کر کے دیکھ لے شاید تیرا کام بن جاے تو بھی پوپٹ بچہ ھے ۔ میں نے کانوں کو ھاتھ لگاتے ھوے کہا نہ یار میں ٹھہرا پینڈو اور وہ ٹھہری شہری میم اور اوپر سے ہے بھی پالر والی نہ بابا نہ پٹواے گا اس سے مجھے تو جنید بولا سوٹ لیتے وقت تو تیرے ساتھ بہت ہنس ہنس کر باتیں کررھی تھی میں نے کہا یار مجھے کیا لینا اسکی ہنسی سے میں نے تو بس اسکے پرس سے پیسے نکلوانے تھے سو نکلوا لیے اب لن پر چڑھے تو جنید ہنستے ھوے بولا ماما لن تے اونے ایویں نئی چڑ جانا پتہ نئی کنے لن اودھے انتظار وچ روز روندے نے میں ہنسس پڑا کہ اتنے میں انکل کی آواز آئی کے چلو مُنڈیو سامان اندر رکھو دکان بند کرئیے اور ہم ہنستے ھوے اٹھے اور باہر سے سوٹ اتار کر اندر رکھنے لگ گئے اور دکان بند کر کے میں انکل کہ ساتھ ھی گاوں آگیا ۔۔ گھر آکر میں نے کھانا وغیرہ کھایا اور پھر باہر گلی میں نکل کر فوزیہ کے گھر کی طرف چل دیا۔ اندر داخل ھوا تو صحن میں انکل اور فوزیہ بیٹھی ھوئی تھی جبکہ عظمی اور نسرین مجھے نظر نہ آئیں شاید وہ کمرے میں تھیں ۔ میں نے فوزیہ اور انکل کو سلام کیا اور فوزیہ کے پاس بیٹھنے کی بجاے انکل کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور انسے انکے سالے کا افسوس کرنے لگ گیا گ ئےفوزیہ اپنے بھائی کا ذکر سن کر رونے لگ گئی میں اٹھ کر ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور فوزیہ کو کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتے ھوے حوصلہ دینے لگ گیا کہ ہم جانے والے کو روک تو نھی سکتے جس کا جتنا وقت دنیا میں لکھا ھے اس نے اتنا ھی گزارنا ھے ۔۔ فوزیہ بولی ابھی اسکی عمر ھی کیا تھی ابھی تو اسکی ایک بیٹی جوان کنواری تھی جسکی شادی کرنے کا بیچارا سوچ رھا تھا بیچارے کو اپنی بیٹی کی شادی دیکھنا نصیب بھی نہ ھوا۔ میں نے فوزیہ سے پوچھا آنٹی انکے کتنے بچے ہین۔ تو فوزیہ اپنے آنسو دوپٹے سے صاف کرتے ھوے بولی دو بیٹے اور ایک بیٹی ھے جو جوان ھے ۔ بیٹے بھی ابھی چھوٹے ہین بھابھی بیچاری بھی کیسے انکی کفالت کرے گی جانے والا تو چلا گیا بچوں کا کیا بنے گا اور بیچاری گھر کیسے چلاے گی ۔ فوزیہ یہ کہہ کر پھر رونے لگ گئی ۔۔ میں پھر انکو اپنے ساتھ لگا کر چپ کروانے لگ گیا، فوزیہ کے رونے کی آواز سن کر عظمی اور نسرین بھی باھر آگئی اور وہ بھی فوزیہ کے قریب آکر فوزیہ کو چپ کروانے لگ گئی کہ امی بس کریں جب سے آئیں ہیں روئی جارھی ھیں صبر کریں ۔ تو فوزیہ اور رونے لگ جاتی کچھ دیر بعد فوزیہ کچھ سنبھل گئی اتنے میں محلے کی دو تین عورتیں اندر داخل ھوئی تو میں انکے بیٹھنے کے لیے جگہ چھوڑ کر اٹھ کر اندر کمرے کی طرف چلا گیا میرے پیچھے ھی نسرین بھی آگئی ۔ اور افسردہ سی ھو کر بیٹھ گئی تو میں نے بھی موقع کی مناسبت سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کی اور کچھ دیر ادھر ھی بیٹھا رھا اور پھر گھر آگیا، اگلے دن جمعہ تھا اور مجھے دکان سے چھُٹی تھی اور عظمی لوگوں نے بھی سکول نھی جانا تھا ۔ صبح میں اٹھا تو ناشتہ وغیرہ کر کے صدف کے گھر کی طرف چل دیا اور دروازہ کھلا دیکھ کر اندر جھانکا کے اس کا سڑیل باپ تو نھی مگر صحن میں صرف صدف کی امی بیٹھی کپڑوں کو گھٹری میں باندھ رھی تھی میں نے آنٹی کو سلام کیا اور پوچھا آنٹی کیا کررھی ہیں تو آنٹی بولی۔۔ کُش نئی پُتر اے تون والے کپڑے نے کنے اکھٹے ھو گئے نے تیری پین نوں تے ٹیم نئی ملدا وچاری شام نوں سکولوں آندی اے تے آندے ای بچے پڑن آجاندے نے تے اج نال والی صغراں نہر تے چلی سی کپڑے تون تے میں سوچیا میں وی اودے نال چلی جاواں اودیاں تِن چار کڑیاں نے ہتھوں ہتھ چھیتی نال میرے کپڑے وی تو دین گیا۔۔۔ میں نے کہا آنٹی صدف کو کہیں وہ بھی آپ کے ساتھ چلی جاے تو آنٹی بولی۔ اوس وچاری کولوں ٹیم کتھے میں نے کہا آنٹی میرے لیے کچھ کام ھو تو بتا دینا تو آنٹی بولی جیوندہ رہ پُتر شالا جوانیاں مانے، بس میرے نال اے کپڑیاں دی پَنڈ نہر تے چَھڈ آ تے فیر اپنی پین کول آجاویں او نمانی کلی اے کار تیرا چاچا تے تیرا ویر وی اج کم تے اے او وی پتہ نئی رات نوں آندہ اے کہ اگلے دن ۔ تُوں میرا پُتر چھیتی نال واپس آجاویں تے جدوں تک میں نہ آواں تے تُوں کروں بار نہ نکلیں۔۔ خوشی کے مارے میری تو باچھیں کھل اٹھیں کہ اج دکان توں چُھٹی اے پر پُھدی تو چُھٹی نئی واہ جی واہ بلے بلے ۔تبھی صدف کمرے سے کچھ دھونے والے کپڑے پکڑے ہوے باہر نکلی اور مجھے دیکھ کر حیران ھوگئی اور بولی خیر اے صبح صبح ای چن کِدروں نکل آیا میں نے کہا آنٹی کے ساتھ نہر پر جارھا ھوں کپڑے دھونے کے لیے ۔ تو صدف ہنستے ھوے بولی امی اس سے کپڑے دھلوانے ہیں کیا۔ تو آنٹی بولی ۔۔ کملی ھوگئی ایں اے کیڑا کُڑی اے جیڑا میرے نال کپڑےتواے ااینے مینوں چھڈ کے آنا اے تے فیر ایتھے تیرے کول رے گا ۔ تےاینوں تنگ نہ کریں تیرا چھوٹا ویر اے۔۔ میں نے آنٹی کے پاس جاکر آنٹی کو بڑے لاڈ سے کہا آنٹی جی اسکو اچھی طرح سمجھا دیں یہ ایسے ھی مجھ پر رعب جھاڑتی رھتی ھے اور بھاری بھاری کام مجھ سے کرواتی ھے ۔۔ تو آنٹی صدف کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ گل سُن لےکاکی ہن توں میرے پُتر نوں تنگ کیتا ناں تے تیریاں لتاں میں توڑاں گی ۔۔ صدف مجھے گھورتے ھوے منہ پر ھاتھ پھیر کر بولی امی یہ جھوٹ بول رھا ھے میں اسے کیوں تنگ کروں گی، میں نے ڈرنے کے انداز سے پھر آنٹی کو کہا آنٹی دیکھ لیں مجھے پھر گھور رھی ھے اور دھمکی دے رھی ھے، تو انٹی بولی صدف شرم کر تیرے توں چھوٹا اے، تو صدف پیر پٹختی ھوئی اندر چلی گئی، اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی اندر ائی اور بولی خالہ امی کیندی اے نہر تے چلیے تو انٹی بولی ہاں پتر اپنی امی نوں کے چھیتی نال آجاوے میں لیڑیاں دی پَنڈ بَن لئی اے ۔۔ کچھ دیر بعد ساتھ والی آنٹی اور اسکی تین چار بیٹیاں جو ابھی جوان ھورھی تھی دروازے کے پاس کھڑی ھوکر انٹی کو آواز دینے لگ گئی آنٹی نے مجھے کپڑوں کی بڑی سی گھٹری اٹھانے کا کہا تو میں نے جلدی سے گٹھری کو اٹھا کر سر پر رکھا اور باہر نکل آیا تو انٹی نے صدف کو آواز دی کہ پُتر دروازہ بند کرلے اور ہم نہر کی طرف چل پڑے کچھ دیر بعد ہم نہر پر پہنچ گئے ۔تو آنٹی نے مجھے دعائیں دیتے ھوے کہا پتر سدھا کار جاویں تیری پین کلی اے میں نے اثبات میں سر ہلایا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا صدف کے دروازے پر جا پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کچھ دیر بعد صدف کی آواز آئی کون میں نے کہا تمہارا عاشق تو وہ کچھ دیر خاموش رھی پھر بولی ھاں جی فرماو کنوں ملنا اے میں نے ادھر ادھر دیکھتے ھوے کہا اس گھر میں ایک حسن کی دیوی رھتی ھے اسکی پوجا کرنے کے لیے حاضر ھوا ھوں تو صدف بولی جناب غلط اڈریس پر آے ہیں یہاں ایسی ویسی کوئی دیوی نھی رھتی لحاظ جاءیں ادھر سے میں نے کہا ٹھیک ھے جی جو جناب کا حکم اور میں نے جان بوجھ کر قدموں کو ایسے زمین پر مارا کے صدف کو یہ لگے کے میں واپس جارھا ھوں ۔ تو ایکدم دروازہ کھلا اور صدف نے پورا سر باہر کو نکالا تو میں اس سے پہلے گلی کا جائزہ لے چکا تھا کہ کوئی ھے تو نھی۔ جیسے ھی صدف نے چہرہ باہر کو نکالا تو میں سائڈ سے اچانک نکل کر اس کے سامنے منہ کیا اور اسکے ہونٹوں کو چوم کر بولا میری دیوی مل گی ۔ صدف میرے اس طرح اچانک سامنے آنے اور اسکے ہونٹ چومنے کی وجہ سے بری طرح ڈر گئ تھی اگر اسکی نظر مجھ پر نہ پڑتی تو بلاشبہ اسکی چیخ نکل جانی تھی صدف ایکدم پیچھے اندر کی طرف ھوگئی اور ایک ھاتھ اپنے ہونٹوں پر اور ایک ہاتھ اپنے مموں پر رکھ کر مجھے گھور کر بولی ۔۔۔۔۔ ۔بے غیرت گندا کُتا میری جان نکال دی شرم تو نھی آتی کیسے مجھے ڈرا دیا ھے۔ صدف نے ایک ھی سانس میں میری اچھی سیوا کردی ۔ میں ہنستا ھوا اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کر کے صدف کی طرف ایسے بڑھا جیسے وِلن ہیروئن کی عزت لوٹنے کے لیے قدم بڑھاتا ھے۔۔ میں ایسے ھی سلوموشن میں قدم آگے بڑھا رھا تھا اور صدف اپنی عزت بچانے کے لیے ۔میری طرف منہ کیے پیچھے کی طرف چل رھی تھی میں نے قہقہہ لگایا ھا ھا ھا ھا تو صدف میں مشرقی پینڈو لڑکی کی روح نازل ہوئی اور صدف نے مجھے گریبان سے پکڑ کر مُکا لہراتے ھوے کہا میں اک مارنی اے تیری بوتھی تے آیا وڈا ہیرو، تو میں تھوڑا سا نیچے کو جُھکا اور ایک ھاتھ صدف کی ٹانگوں کے پیچھے کیا اور ایک ھاتھ صدف کی کمر کے گرد اور ایک جھٹکے سے اسے بازوں میں بھر کر اٹھا لیا اور اسے اٹھاتے ھوے میری اووئی بھی نکل گی صدف اپنا آپ مجھ سے چُھڑوا رھی اور ٹانگیں مار رھی تھی کہ چھوڑو مجھے میں نے شور مچا دینا ھے کہ میری عزت لوٹنے لگا ھے میں کمرے کی طرف چلتا ھوا پھر قہقہہ مار کر بولا ھا ھا ھا ھا مار لو چیخ مچا لو شور آج تمہیں کوئی نھی بچا سکتا صدف بولی تیری اتنی جرات ھے کہ تم میری عزت لوٹ سکو میں نے کہا جرات ھے نھی جرات ھوگئی ھے اور ابھی کچھ دیر بعد میں تمہیں چیڑ پھاڑ دوں گا ھا ھا ھا ھا ایسے ھی میں ڈرامہ کرتے ھوے صدف کو لے کر برآمدے میں پہنچ گیا۔ صدف ہنسی بھی جارھی تھی اور میرے سینے پر کے بھی ماری جارھی تھی اور مجھے جعلی دھمکیاں بھی دے رھی تھی ۔ میں اسے اٹھاے ھوے اندر کمرے میں لے گیا اور اسکو چارپائی پر پھینک دیا صدف چارپائی پر گرتے ھی بولی ھاےےےے امی میری کمر ٹوٹ گئی۔ میں صدف کے اوپر جُھکتے ھوےبولا کمر تو اب ٹوٹے گی جب ذور ذور سے جھٹکے لگے گیں تو صدف بولی چل دفعہ ھو آیا وڈا جھٹکے مارنے والا پیچھے ھو میں نے ابھی صفائیاں کرنی ہیں۔ میں نے صدف کی ٹھوڑی کو پکڑا کر کہا کیا بات ھے بدلے بدلے سے سرکار نظر آتے ہیں دل کی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں ۔ صدف ہنس کر ٹھوڑی کو پکڑے میرے ہاتھ کو پکڑ کر بولی جناب شاعر کب کے ہوگئے میں نے کہا جب سے جناب کی قرابت نصیب ھوئی ھے تب سے ہمیں ہر چیز پر شاعری کرنے کا شوق پیدا ھوگیا ہے تو صدف بولی اچھا جی بڑی گل اے میں اس کے ساتھ ھی چارپائی. کے اوپر چڑھ کر ادھ لیٹی ھوئی صدف کے اوپر دونوں اطراف بازو کر کے بازوں کے وزن پر اسپر جھک گیا صدف کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے سامنے تھے اس کی تیز تیز سانسیں میرے منہ پر پڑ رھی تھی اس کے اوپر نیشچے ھوتے ممے میرے سینے سے لگ رھے تھے صدف تھوڑا پیچھے کو کھسکی میں میں ھاتھوں کے بل چلتا ھوا ایک ہاتھ آگے بڑھا تو صدف شرماتے ھوے بولی کیا ھے یاسر مجھے جانے دو گھر میں سارا سامان بکھرا پڑا ھے اماں آگئی تو کیا سوچے گی کہ میں نے صفائی بھی نھی کی ۔۔۔ میں نے کہا مجھے پتہ ھے جناب انٹی تین چار گھنٹوں سے پہلے نھی آتی۔۔ اس لیے جناب بےغم ھوجاو صدف بولی کیا چاہتے ھو میں نے اسی انداز میں کہا تمہیں۔۔۔ صدف بولی یاسرررر مجھے صفائی تو کر لینے ۔ ۔میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔ تو صدف نے ہار مانی اور سیدھی میرے نیچے ڈھے گئی ۔ اور منہ دوسری طرف پھیر لیا میں نے اسکے اوپر لیٹتے ھوے کہا صدف ۔۔ تو اس نے منہ دوسری طرف کئے ھی کہا جی میں نے کہا کیا ھوا ناراض ھوگئی ھو۔ تو وہ نفی میں سر ہلا کر بولی نھی میں نے کیوں ناراض ھونا ھے تو میں بولا پھر یہ بےرخی کیوں دیکھا رھی ھو۔ میں آج سپیشل تم سے ملنے کے لیے آیا ھوں اور تم ھو کہ نخرے کر رھی ھو۔ صدف کی تیز چلتی سانسیں اسکے گرم ھونے کا اعلان کررھیں تھی جبکہ صدف اپنے مشرقی ھونے کا ثبوت پیش کررھی تھی ۔ صدف نے میری طرف منہ کیا تو میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں کے قریب کئے تو صدف نے اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے نرم ہونٹ کھول کر اعلان جنگ کا اعلان کردیا اور ساتھ ھی میں نے اپنے میں سے تلوار نکال کر اسکے ہونٹوں پر پھیرتے ھوے منہ کے اندر گھسا دی تو صدف نے اپنے ہونٹوں کا دروازہ بند کر کے اس تیز تلوار کو ہونٹوں میں بھینچ کر چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد صدف نے اپنا منہ کھولا اور اپنی گلابی زبان کی نوک کو لہراتے ھے باہر نکالا اور ادھر میں نے بھی اسکی تقلید میں ایسا ھی کیا اور نوک کے ساتھ نوک کو ملا کر عجب مزے کا لطف لینے لگ گیا کچھ دیر ایسے ھی نوک سے نوک ملتی رھی ٹکراتی رھی اور جب جنون بڑھا تو دونوں کے لبوں کے پٹ کھلے اور ہونٹوں میں ہونٹ سمانے لگے ایک دوسرے کا لباب اپنے اندر اتارتے رھے۔۔۔ صدف کے ممے میرے سینے میں جزب ھورھے تھے میرا لن تن کر پھدی کے ساتھ ملن کے لیے بے چین تھا اور پھر کے در پر ٹکریں مار مار کر دخول کرنے کا احتجاج کررھا تھا۔ مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں دونوں ڈوب چکے تھے میں صدف سے اوپر اٹھا تو اور صدف کو بازوں سے پکڑ کر اوپر کو اٹھایا اور صدف کی قمیض آگے اور پیچھے سے پکڑ کر اوپر کرنے لگا تو صدف بولی یاسر کمر ے کا دروازہ تو بند کردو میں نے کہا باہر کا تو بند ھے کھلا رھنے دو تو صدف بولی نھی یاسر اسے بھی بند کردو تو میں اپنا کام ادھورا چھوڑ کر چارپائی سے اترا اور دروازہ بند کرنے چلا گیا دروازہ بند کر کے میں پھر چارپائی کے پاس آکر کھڑا ھوگیا صدف ویسے ھی بیٹھی تھی میں نے صدف کا ھاتھ پکڑا اور اسے چارپائی سے نیچے اترنے کا کہا تو صدف بھی چارپائی سے نیچے اتر کر میرے مقابل کھڑی ھوگئی ۔ میں نے صدف کی کمر کر گرد بازوں کا گھیرا ڈالا اور لن کو پھدی والی جگہ پر لگا کر صدف کے کان کے نیچے گردن پر ہونٹ رکھ کر اسے کس کر جپھی ڈال لی ۔ صدفے نے بھی ھاتھ میرے پیچھے لیجا کر مجھے بازوں میں کس لیا دو جسم ایک جسم بن گئے ایک دوسرے میں سما گئے دونوں پر شہوت سوار ھو چکی تھی پھدی اور لن ایک دوسرے کے لمس سے مچل رھے تھے سینے ایک دوسرے میں سامنے کی کوشش کررہے تھے صدف کی آہیں سسکیاں نکل رھی تھی میرے ہونٹ صدف کی گردن کو چومتے ھوے گلے تک آرھے تھے اور یہ سفر چھوٹی چھوٹی پاریاں کر کے طے کررھے تھے میں نے صدف کی کمر سے ھاتھ تھوڑا نیچے کیا اور اسکے گوشت سے بھری گول گانڈ کی پھاڑیوں کو مٹھیوں میں بھر لیا صدف بے چین ھوکر پھدی کو لن پر دبا رھی تھی کچھ دیر بعد میں نے صدف کی قمیض کو پیچھے سے پکڑ کر اوپر کیا تو صدف مجھ سے الگ ھوگئی اور خود قمیض کو آگے اور پیچھے سے پکڑ کر اتارنے لگ گئی قمیض اتار کر اس نے چار پائی پر رکھ دی اور گھوم کر کمر میری طرف کر کے مجھے بریزیر کی ہک کھولنے کا اشارا کیا تو میں نے پہلے اسکے ننگے کندھوں پر ہونٹ رکھ کر چوما جس سے صدف نے جھرجھری لی اور میں نے ہاتھ بڑھا کر اسکی بریزیر کی ہکا کھول کر بریزیر کے سٹرپ کو اسکے کندھوں سے اتارا اور ھاتھوں کو اسکی بغلوں کے نیچے سے گزار کر بریزیز کے کپ کے اندر سے اسکے دونوں ننگے مموں کو پکڑ کر انگوٹھے سے کپوں کو آگے کی طرف پُش کیا تو بریزیر صدف کے پیروں میں گر گیا اور صدف کا اوپر والا حصہ کپڑوں سے بے نیاز ھوگیا میں نے لن صدف کی گانڈ کی دراڑ میں ڈال کر صدف کے ننگی کمر کو اپنے سینے سے لگا کر ھاتھوں میں ممے پکڑ کر جپھی ڈال لی صدف کی سسکاریاں بلند ھوگئی دونوں کو کوئی ڈر خوف نھی تھا کسی کے آنے کا ڈر نھی تھا کسی کے دیکھنے کا ڈر نھی تھا تو اس لیے بے دریغ اپنے مزے کا اعلان بلند سسکاریوں اور آہوں سے کر رھے تھے ۔ کچھ دیر ایسے ھی میں صدف کی کمر سے چمٹا اسکی گانڈ میں لن کو رگڑتا رھا اور اسکے ممے مسلتا ھوا اسکے کندھوں اور گردن کو چومتا رھا پھر میں نے اسکا منہ اپنی طرف کیا اور اپنی قمیض اتارنے لگ گیا قمیض اتار کر میں نے بھی صدف کی ۔ قمیض کے اوپر اپنی قمیض رکھ دی صدف میرے ننگے سینے پر ھاتھ پھیرتی رھی اور پھر آگے ھوئی اور میرے سینے پر اپنے ہونٹ رکھ کر میرے ننگے سینے کو چومنا شروع کردیا۔ اور سینے کو چومتی ھوئی ساتھ دونوں ہاتھ کھول کر میرے سینے پر رکھے نیچے میری ناف کی طرف جارھ تھی اور ساتھ ساتھ پاوں کے بل نیچے بیٹھ رھی تھی اسکے نرم ہاتھ میرے سینے سے رینگتے ھوے میرے پیٹ کی طرف آتے ھوے میرے جسم میں کرنٹ پید کررھی تھی اور مجھے مزے کی شدید لہر اپنے جسم میں دوڑتی محسوس ھو رھی تھی صدف پاوں کے بل بیٹھ چکی تھی اور میرے پیٹ کو چومتے ھوے ناف سے نیچے زبان کو پھیر رھی تھی میرا لن صدف کے گلے لگا ھوا تھا دوستو اس وقت مجھے جو مزہ جو لطف آرھا تھا وہ مین بیان نھی کرسکتا صدف کے ہونٹوں کا لمس مجھے جنت کی وادیوں میں لیے جارھا تھا میں مزے کی نئی دنیا سے واقف ھو رھا تھا۔ صدف نے دونوں ھاتھ آگے کیے اور میرا نالا کھولنے لگ گی میں حیران ھوکر صدف کو دیکھ رھا تھا کہ اسے کیا ھوگیا آج۔۔ صدف نے میرے نالے کا سرا پکڑا اور کھینچ کر نالے کی گانٹھ کو کھول دیا اور میری شلوار کو کھول کر نیچے میرے پیروں کی طرف چھوڑ دیا شلوار خود ھی میرے قدموں میں گر گئی میرا ننگا لن لہرا کر باہر نکلا اور صدف کے ہونٹوں کو ہونٹوں سے چھو کر اسکی ناک کر لگا صدف بڑے غور سے لن کا معائنہ کررھی تھی اور ایک ھاتھ لن کی جڑ پر اور ایک ھاتھ لن کے ٹوپے پر رکھ کر درمیان والی خالی جگہ کو چوم رھی تھی ۔ صدف میری جان لینے پر تلی ھوئی تھی اس کا یہ نیا روپ ۔مجھ پر بھاری پڑ رھا تھا۔ صدف نے زبان نکالی اور ٹوپے کے ہونٹوں کے درمیان زبان کی نوک لگا کر نوک کو دبانے لگ گئی میرا لن پھنکارنے لگ گیا کسی ازدھے کی طرح پھن کو پھلانے لگ گیا میرے لن کی نسیں پھول چکی تھی جیسے ابھی پھٹ جائیں گی صدف کا ہر اگلا قدم مجھ پر بھاری پڑ رھا تھا صدف نے منہ کھولا اور لن کو جڑ سے پکڑ کر ٹوپے کو منہ میں بھر لیا۔ اور لولی پپ کی طرح چوپا لگا کر ٹوپے کو باہر نکال دیا۔ اور زبان نکال کر ٹوپے کے اوپر پھیرنے لگ گئی ۔ اسکی زبان ٹوپے کو چاروں طرف سے اپنے احسار مین لے رھی تھی اور صدف لن کو جڑ سے پکڑ کر ساتھ ساتھ مٹھ بھی مار رھی تھی یہ مزہ بھی میرے لیے نیا تھا۔۔ صدف کسی ایکسپرٹ کال گرل کی طرح۔ لن میں کھوئی ھوئی ہر چیز سے بےگانی ھو کر لن کے ساتھ کھیل رھی تھی لن کو صدف نے جڑ سے پکڑا اور پھر ٹوپے سے چومتی ھوئی لن کے جڑ تک آئی اور پھر ایسے ھی چومتے ھوے اوپر ٹوپے کی طرف چلی گئی کچھ دیر صدف ایسے ھی میرے لن کو چاروں اطراف سے چومتی سک کرتی رھی اور پھر وہ کھڑی ھوگئی اور میری طرف خمارآلود انکھوں سے دیکھتے ھوے بولی مزہ آیا۔۔۔ میں نے اسکی گالوں پر ھاتھ رکھ کر چومتے ھوے اسکے ھونٹ چوم کر کہا واہ میری جان بہتتتتتت مزہ آیا اور میں نے ساتھ ھی جھک کر صدف کے ممے کو منہ میں بھر لیا اور باری باری دونوں مموں کو چوسنے لگ گیا کچھ دیر دونوں مموں کو چوس چوس کر میرے من کی پیاس بجھائی اور صدف کو چارپائی پر لیٹنے کو کہا تو صدف نے کپڑے اٹھا کر دوسری چارپائی پر رکھے اور سیدھی لیٹ گئی میں شلوار پاوں سے نکال کر ایک طرف رکھی اور چارپائی پر چڑھ گیا۔ صدف ایک ٹانگ کو کھڑی کر کے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر لیٹی ھوئی تھی میں صدف کی ٹانگ اسکے گھٹنے سے اتاری اور اسکی شلوار پکڑ کر نیچے لیجانے لگا تو پھدی والے حصے سےطساری شلوار گلی تھی میں نے شلوار کو نیچے کی طرف کیا تو صدف نے گانڈ اٹھائی تو میں نے شلوارنیچے کھینچ کر اسکے پیروں سے نکال دی اب میری آنکھوں کے سامنے صدف کی بالوں سے پاک ملائم پھدی تھی جس کے ہونٹ پھدی کے پانی سے گیلے تھے میں نے پھدی کے نزدیک ناک کی اور پھدی کو سونگھا تو مجھے پھدی سے مدہوش کر دینے والی سمیل نے مجبور کردیا اور میری زبان خود باخود باہر نکلی اور زبان کی نوک نے پھدی کے دانے کو ٹچ کیا تو صدف کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور صدف لمبی سی سسکاری بھر کر دھری ھوگئی جس سے مجھے مزید جوش چڑھا تو زبان اور لمبی کر کے پھدی کے دانے کو چاٹنے لگ گیا صدف کی جیسے جان نکل رھی تھی اسکی ٹانگیں کانپ رھی تھی آنکھیں بند کئے سر دائیں بائیں مار رھی تھی اور سییییییی اممممممم کر رھی تھی میں نے صدف کی پھدی کے دانے کو ہونٹوں میں بھر کر چوسنا شروع کردیا صدف چارپائی سے اچھلتی اور پھر چارپائی پر ڈھےجاتی۔ ۔۔صدف کی حالت قابل رحم تھی وہ بری طرح مچل رھی تھی کمرے میں اس کی سسکیاں گونج رھی تھی ۔ یکلخت صدف کا جسم اکڑا اور پھدی سے گرم منی کا لاوا پھوٹ پڑا میں نے منہ جلدی سے پیچھے کیا مگر پھر بھی منی کی چھینٹیں میرے منہ پر پڑ گئی ۔ صدف کا جسم جھٹکے لے رھا تھا اور منی بہہ کر چادر کو گیلی کر رھی تھی ۔ صدف اب لمبے لمبے سانس لے رھی تھی میں نے صدف کی ٹانگوں کو کھولا جو اس نے بھینچی ھوئی تھی ۔ اور ٹانگوں کو اپنے کندھے پر رکھا اور لن کو پھدی پر سیٹ کر کے لن کو اندر کرنے لگا تو صدف نے میرے پیٹ پر ھاتھ رکھ کر کہا یاسر پلیز ایکدم سارا اندر نہ کرنا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور لن کو آہستہ آہستہ اندر دھکیل کر پورا لن صدف کی پھدی میں اتار دیا پھدی گیلی ہونے کی وجہ سے لن آسانی سے اندر چلا گیا صدف نے بھی آہہہہہہہ کیا اور سییییییی پر ختم کیا اور میں صدف کی ٹانگیں کندھوں پر رکھے اسکے اوپر. جھک کر گھسے مارنے لگ گیا صدف آہ آہ آہ آہستہ آرام سے کرو کر رھی تھی پھدی کی گرمی اور صدف کی سیکسی آوازوں نے مجھے ذیادہ دیر ٹھہرنے نھی دیا اور میں مزے کی اتنی گہرائی مین چلا گیا تھا کہ جب تک میں مزے سے باہر نکلتا میرے لن نے صدف کی پھدی کے اندر ھی پچکاریاں مارنا شروع کردیں جب دونوں کو ہوش آیا تو لن آخری ہچکیاں لے رھا تھکردیا۔صدف کو جیسے ھی احساس ھوا کہ میرے لن نے ساری منی اسکی پھدی میں اُگل دی ھے تو . صدف ایک جھٹکے سے اٹھی اور مجھے پیچھے دھکیلتے ھوے میرے نیم مرجھاے ھوے لن کو پھدی سے نکال کر مجھے گھورتے ھوے بولی یاسررر یہ کیا کردیا تم میرے اندر فارغ ھوگئے ھاےےےے اب کیا ھوگا اگر کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گی کس کو منہ دیکھاوں گی یاسر تمہیں اندازہ بھی ھے کہ تم نے کیا حرکت کی ھے تمہاری. اس حرکت کی وجہ سے میری زندگی تباہ ھو سکتی ھے میں بھی گبھرا گیا تھا واقعی غلطی ھوگئی تھی صدف ایک ھی سانس میں بولی جارھی تھی میں نے ہمت کرکے اسے تسلی دیتے ھوے کہا کہ صدف گبھراو مت کچھ نھی ھوتا میں ہوں نہ تو صدف رونے لگ گئی اور ایک ھی بات کو دھرانے لگ گئی یاسر تم نے کیا کردیا اب کیا ھوگا۔۔ میں اسکے اس طرح مسلسل رونے کی وجہ سے چڑ سا گیا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر ہلا کر بولا یار میں نے کہا نہ کہ کچھ نھی ھوتا تم تو ایسے رو رھی ھو جیسے ابھی کاکا باہر نکل آنا ھے مجھ پر بھروسہ کرو صدف پھر روتے ھوے بولی تم پر بھروسہ کر کے ھی تو یہ سب کچھ ھوا ھے تو میں نے کہا یار میں کونسا تم سے دور جارھا ھوں پہلی بات تو ھے کہ کچھ ھوگا ھی نھی اگر کچھ ھوا بھی تو اسکا حل نکال لیں گے پلیز تم اس حسین موقع کو رونے میں صرف مت کرو اگر آنٹی آگئی تو وہ تم کو روتا دیکھ کر کیا سوچیں گی اور پوچھنے پر انکو کیا جواب دو گی کہ میں تمہارے اندر فارغ ھوگیا ھوں اس لیے اپنے آپ کو ریلیکس کرو یار اور ساتھ ھی میں صدف کے ہونٹ چومنے لگ گیا صدف بیٹھی اپنے بازو سے میرا منہ پیچھے ہٹانے لگی کہ یاسر نہ کرو پلیز میں پہلے ھی پریشان ھوں ۔ تو میں نے صدف کو ذبردستی چارپائی پر لٹا دیا اور خود اسکے ساتھ لیٹ گیا صدف کی پھدی سے میری منی ابھی بھی تھوڑی تھوڑی نکل رھی تھی ۔ میں نے صدف کی طرف اپنی سائڈ تبدیل کی اور اس کے اوپر ھو کر منہ اسکے قریب کر کے صدف کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگ گیا اور اسے پچکار کر ریلیکس کرنے لگ گیا صدف کافی حد تک ریلیکس ھو چکی تھی ہم دونوں کے مادر زاد ننگے جسم ایک دوسرے کے لمس سے پھر گرم ھونا شروع ھو چکے تھے میں نے صدف کے ممے کو ھاتھ میں پکڑ کر دبا رھا تھا اور ممے کے اکڑے نپل کو چٹکی میں لے کر مسل رھا تھا جس سے صدف پھر انکھیں موند کر سسکیاں بھرنے لگ گئی میں اب صدف کے مممے کو منہ میں ڈال چکا تھا اور چوس چوس کر صدف کو مذید گرم کر رھا تھا میرا لن جو چھوارا بنا ھوا تھا اس میں بھی جان ڈلنی شروع ھوگئی تھی اور اس نے بھی سر اٹھا کر جھٹکے مارنے شروع کئے ھوے تھے ۔ صدف پھر مجھ میں سمانے کی کوشش کر رھی تھی ۔ کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا بلاخره میں نے صدف کو گھوڑی بننے کا کہا تو صدف کچھ دیر انکار کرنے کے بعد گھوڑی بن کر مجھے سواری کرنے کا موقع دے ھی دیا میں صدف کی گانڈ کے پیچھے لن اکڑاے ھوے کھڑا تھا اور صدف گانڈ اونچی کر کے سر آگے تکیہ پر رکھے میرے سامنے لُنڈی گھوڑی بنی ھوئی تھی اور میں پیچھے سے لن پھدی میں ڈالنے کی پوزیشن میں بیٹھا صدف کی گانڈ کی دراڑ کو ہاتھ سے مزید کھول کر اسکی گانڈ کے گول چھوٹے سے سوراخ کا جائزہ لے رھا تھا صدف کے مموں کے نپل چارپائی کے ساتھ ٹچ ھو رھے تھے اور وہ بھی میرا انتظار کر ھی تھی کہ میں کب پیچھے سے وار کروں اور اسکا نتیجہ کیا کیسا نکلتا ھے اسی تجسس میں صدف بھی بے چین تھی کہ میں نے اپنی پوزیشن سنبھالی اور ایک تھوک کر بڑا ساگولا اپنی ہتھیلی پر پھینا اور اپنے لوڑے پر مل دیا میرا لن پہلے ھی چکنا تھا تھوک سے مزید چکنا ھو گیا میں نے ٹوپے کو پھدی پر سیٹ کیا اور دونوں ھاتھوں سے صدف کی کمر کو پکڑا اور لن پھدی کی طرف دھکیلنا شروع کردیا۔ ۔آدھا لن میں نے آرام سے ڈالا اور پھر کمر کو مضبوطی سے پکڑے ایک ذور دار دھکا مارا تو کمرے میں تھپ کی آواز کے ساتھ ساتھ صدف کی چیخ کی آواز بھی گونجی اور صدف آگے کو ھوئی جس سے میرا لن پھر باہر کو نکل آیا ۔ صدف بولی یاسرررر کے بچے آرام سے کرلو جانور مت بنا کرو پتہ نھی تمہیں ھو کیا جاتا ھے میرے اندر جا کر لگا ھے ُمیں نے کہا یار مجھے مزہ ھی ایسے آتا ھے تو صدف غصے سے بولی واہ واہ اگلے کی جان گئی جناب کا مزہ ٹھہرہ۔۔۔ میں نے ہنس کر کہا تم تو زندہ ھو تمہاری تو جان نھی گئی تو صدف بولی اب کیا جان لینی ھے تو میں اسے پھر گھوڑی بناتے ھوے بولا اس جان میں تو میری جان ھے تو صدف گھوڑی بنتے ھوے گانڈ کو ہلا کر پیچھے ھوئی اور بولی اگر ایسے کرنا ھے تو آرام سے کرنا۔۔ میں نے کہا جو حکم آقا اور اس کے ساتھ ھی میں نے لن آرام سے پورے کا پورا صدف کی پھدی میں اتار دیا جسے صدف نے صدق دل سے قبول کر لیا اور صدف کی کمر کو پکڑ کر آرام آرام سے اندر باہر کرنے لگ گیا صدف کو بھی مزہ مزہ آنا شروع ھوگیا اور وہ بھی سسکیاں لیتے ھوے گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکیل کر لن پورا اندر لینے کی کوشش کرتی میں نے آہستہ اہستہ اپنی سپیڈ تیز کردی اور ایک ھاتھ سے صدف کی کمر پکڑ لی اور ایک ھاتھ آگے بڑھا کر صدف کے پونی کیے ھوے بال پکڑ لیے جس سے صدف کا منہ بھی تھوڑا سا اوپر اٹھ گیا اس سٹائل میں صدف کو چودنے کا مزہ ھی بہت آرھا تھا اور صدف بھی یس یس یس آہ آہ اہ سسسسسسس ممممممم کر رھی تھی صدف کا جوش بڑھتا جارھا تھا اور اس کے جوش کو دیکھ کر میری سپیڈ حد سے تجاوز کر چکی تھی میرے جھٹکوں سے صدف کے بڑے بڑے ممے ہل رھے تھے کیا منظر تھا کیا نظارا تھا کیا مزہ تھا صدف کی سسکیاں اور آہیں اب چیخوں میں بدل چکی تھی پورے کمرے میں تھپ تھپ چِپ چِپ آہ آہ آہ ھاےےےےےے مرگئی ھاےےےے میں گئی میں گئی میں گئی یاسسسسررررر کی آوازیں گونجی اور اس کے ساتھ ھی صدف نے پورے ذور سے گانڈ میرے ساتھ چپکا دی اور اسکی پھدی میرے لن کو بھینچ بھینچ کر چھوڑنے لگی اور پھدی سے منی کا اخراج جاری ھوگیا صدف لمبی سانس لیتی ھوئی آگے کو گرتی گئی اور اسکے ممے چارپائی کے ساتھ چپک گئے اور منہ تکیے میں دب گیا اور پیچھے سے گانڈ ابھی بھی اونچی اور میرے ساتھ چپکی ہوئی تھی اور صدف کی پھدی ابھی بھی رو رھی تھی ہچکیاں لے رھی تھی اسکے چوتڑے آپس میں مل کر کُھل رھے تھے ۔ کچھ دیر بعد جب صدف ریلکس ھوئی تو اب بدلہ لینے کی میری باری تھی میں نے پھر گیلی پھدی میں ھے لن پھیرنا شروع کردیا اور لن کو صاف اور خشک کرنا بھی گوارہ نہ کیا بس اسی غلطی نے مجھے بہت جلد نیچا دیکھا دیا اور میرے لن نے ایک بار پھر صدف کی پھدی میں ھی منی کی بوچھاڑ کردی اس سے پہلے کہ صدف سنبھلتی یا میں لن کو باہر کھینچتا باہر کے دروازے پر زوردار دستک ھوئی جیسے وہ کب کا دستک دے رھا تھا اور ہم سیکس کے نشے میں اندھے گونگے بہرے ھوے اپنے کام میں مصروف تھے ۔۔۔۔ غلطی تو ہم سے ہوگئی تھی.؟؟؟؟؟
  3. 4 points
    ۔update..... .فرحت کا خیال آتے ھی میں سوچنے لگ گیا کہ مجھے جانا چاھیے یا آج بھی عظمی کے ساتھ ھی سیکس کروں ذہن ڈبل مائنڈڈ ھو چکا تھا فرحت کہ ھاں چانس ففٹی ففٹی تھا جبکہ عظمی کے ساتھ سیکس کرنے کا پورا موقع میسر تھا۔۔ ایسے ھی سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی جب میری آنکھ کھلی تو مجھے کوئی کندھوں سے ہلا رھا تھا۔۔ تو میں نے آنکھیں مل کر غور سے دیکھا تو نسرین تھی جو غصے کے ملے جلے انداز میں مجھے اٹھا رھی تھی ۔۔ میں. اٹھ کر بیٹھ گیا اور جنجھلا کر بولا کیا مصیبت ھے کوئی قیامت آگئی ھے کیا جو سونے نھی دیتے تم لوگ ۔ نسرین بولی ذرہ باہر نکل کر دیکھو پھر تمہیں پتہ لگے کیوں اٹھا رھی ھوں ۔ میں گبھرا کر جلدی سے اٹھا اور جوتا پہن کر باہر آیا تو اندھیرے گھپ میں ادھر ادھر دیکھتے ھوے نسرین سے پوچھنے لگ گیا کیا ھے ۔۔ نسرین بولی آنکھیں ہیں یا ٹچ بٹن نظر نھی آرھا کتنی رات ھوگئی ھے اور ہم اکیلیں تمہارا انتظار کررھیں ہیں ۔۔ تو اچانک مجھے ہوش آیا اور غور کرنے پر یقین ھوا کہ واقعی کافی ٹائم ھوگیا ھے فارغ ھونے کہ بعد نیند آتی ھی ایسے ھے جیسے کوئی نشہ آوار چیز کھا لی ھو یا نیند کی گولی کھا کر سوے ہوں ۔۔ میں نے نسرین کو کہا تم چلو میں آتا ھوں ۔ نسرین نے غصہ سے میرا بازو پکڑا اور کہا اگے لگ آیا وڈا نواب ۔۔ نسرین نے جس انداز سے دونوں ہاتھوں سے میرا بازو پکڑ کر اپنا کندھا مجھے مارتے ھوے آگے چلنے کا کہا تھا تو اس کا مما میری کمر کے ساتھ لگ گیا تھا اور ایسے ھی وہ مجھے دھکیلتی ھوئی باہر کے دروازے کی طرف لے کر چلنے لگی ۔۔ دروازے سے باھر نکل کر اس نے امی کو آواز دی کہ خالہ دروازہ بند کرلو۔۔۔ اور اسی انداز میں مجھے آگے گھسیٹتے ھوے لے کر جارھی تھی ۔۔ جیسے پولیس والے مجرم کو لے کر جاتے ہیں ۔۔ نسرین کے ممے کا لمس میری کمر پر محسوس ھوتے ھی میرے لن میں خارش شروع ھوگئی میں نے جان بوجھ کر ہاتھ اپنی کمر کی طرف لیجا کر اس جگہ خارش کرنے کی ایکٹنگ کی جس جگہ نسرین کا مما لگا ھوا تھا میری انگلیاں سیدھی نسرین کے ممے سے ٹچ ھوئیں مگر نسرین جوں کی توں میرے ساتھ لگی رھی میرا حوصلہ مذید بڑھ گیا میں نے دوبارا پھر خارش کرنے کے لیے ھاتھ الٹا کر کے پیچھے لے گیا کے میری ہتھیلی والی سائڈ نسرین کے ممے پر لگے اور اسکا مما میرے ھاتھ میں آجاے گلی میں کافی اندھیرا تھا جسکا مجھے یہ فائدہ تھا کہ کوئی ہمیں اسطرح جاتے دیکھ نھی سکتا تھا میں نے الٹا ھاتھ پیچھے لیجا کر نسرین کے ممے کے نیچے سے گزار کر ہاتھ اس انداز سے ہلایا کہ نسرین کے نپل پر میری ہتھیلی کی رگڑ لگے اور نسرین کی توجہ اس لزت کی طرف جاے۔ اور میرا یہ خطرناک وار کامیاب ھوا جیسے ھی میری ہتھیلی سے نسرین کے ممے کے نپل نے رگڑ کھائی تو نسرین نے سییی کیا اور ممے کو مزید میری ہتھیلی کے ساتھ دبا کر مجھے آگے چلنے کا کہا نسرین نے اپنی طرف سے مجھے اپنی سسکاری محسوس نھی ھونے دی تھی. مگر اسے کیا پتہ تھا کہ یہ کرشمہ میری ھی پلاننگ سے ھوا ھے ۔ اسکی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ نسرین نے بریزیر نھی پہنا ھوا تھا جس کے وجہ سے اسکے ممے کہ نپل کو میری ہتھیلی کی رگڑ نے سواد دیا تھا. اور وہ سواد نسرین کے دماغ پر اثر کر گیا ممے سے اٹھنے والے مزے کی ایک چھوٹی سی جھلک سے وہ آشنا ھو چکی تھی ۔۔ میں نے پھر تیزی سے ھاتھ کو آگے پیچھے کیا۔ تو نسرین نے پھر وہ ھی حرکت کی مگر اس دفعہ جیسے ھی اس نے میری ہتھیلی پر مما دبایا تو میں نے مٹھی بند کرکے ممے کو مٹھی میں دبا لیا۔۔ نسرین کو جھٹکا لگا اور اس نے فل مزے میں پہلے سسکاری بھری سسسسیییی پھر ایکدم پیچھے ہو کر مجھے چھوڑ دیا اور اسکا مما میرے ھاتھ سے نکلتے وقت بھی مسلا گیا تھا۔۔ میں نے پیچھے منہ کر کے کہا کیا ھوا اب چھوڑ کیوں دیا۔ تو نسرین کو جواب تو کچھ نہ آیا بس یہ کہہ کر چلنے لگی جلدی چلو اور میں ہنستا ھوا انکے گھر میں داخل ھوا تو نسرین بھی میرے پیچھے ھی داخل ھو کر دروازہ بند کر کے کنڈی لگانے لگ گئی اور میں حیران ھوکر دیکھنے لگ گیا کہ آج اس نے مجھے نھی کہا کہ خود ھی کنڈی لگا لو۔۔۔ میں اس کے پاس ھی رک گیا کیوں کہ نازی اور عظمی کمرے میں ھی تھی میں نے نسرین کو کہا آج بھی پکڑن پکڑائی کھیلیں گے اور شرارت بھرے انداز سے اسکی ٹھوڑی کو پکڑ کر ہلاتے ھوے کہا کل سے بھی ذیادہ مزہ آے گا دیکھ لینا نسرین نے شرم والی ہنسی ہنستے ھوے میرا ھاتھ پکڑ کر جھٹک دیا اور بھاگ کر اندر چلی گئی میں اسے پکڑنے کے لیے بھاگا مگر وہ مجھ سے پہلے ھی کمرے میں داخل ھوچکی تھی ۔۔۔ .نسرین کمرے میں داخل ہوکر جلدی سے نازی کے پاس جاکر بیٹھ گئی اور میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تو نازی بولی آگئے نواب ساب میں نے غصے اور طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ھااااں جی آگیا ھوں کوئی تکلیف ھے۔۔ تو نازی میری طرف ھاتھ کا اشارا کرتے ھوے بولی دفعہ ھو میں تیرے منہ نئی لگنا، ۔۔ عظمی بولی چل چھوڑ نازی ایسے لڑتے رہتے ھو، میں بھی انکی چارپائی کے پاس پڑی دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا، ۔۔ اور ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ طنز مزاح کرنے لگ گئے۔۔ کافی دیر ایسے ھی بیٹھے ہنستے اور لڑتے رھے میرے دماغ سے فرحت کے گھر جانے کا خیال بھی نکل چکا تھا ایک تو رات کافی ھوگئی تھی دوسرا انکے گھر بھی رہنا ضروری تھا ۔ نسرین میری طرف دیکھتے ھوے بولی چلو سب پکڑن پکڑائی کھیلتے ہیں ۔ میں اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا سچیییی تو نسرین بھی اسی انداز میں بولی مُچییییی۔ عظمی بولی کل گری تھی بھول گئی ھو پھر کمر کو پکڑ کر ھاے ھاے کرتی رھی ھو۔۔ نسرین بولی تم نے نھی کھیلنا تو نہ کھیلو میرے پے روعب ت جھاڑو عظمی ہاتھ سے اشارہ کرتے ھوے بولی جا دفعہ ھو کھیلدی پھر کلی ای میں تے نئی آندی ہن میں تے سون لگی آں نسرین بولی ھاں ھاں مجھے پتہ ھے محترمہ اس شہری بابو کے ساتھ پھر پھر کر تھک جو گئی ھے،، عظمی کا رنگ ایکدم سرخ ھوگیا اور غصے سے پھنکارتے ھوے بولی زبان سنبھال کر بات کی ہتمیز بےحیاء بے شرم نسرین اسکو ھاتھ سے دھتکارتے ھوے بولی پونکی جا اور یہ کہہ کر نسرین باہر چلی گئی،،، ۔۔۔ میں اس کو غصے سے باہر جاتے دیکھ کر اسکے پیچھے بھاگا اور باہر آگیا۔۔ نسرین صحن میں بنے تندور کے ساتھ ٹیک لگا کر بغلوں میں ہاتھ دے کر ٹانگ کو ٹانگ پر رکھے کھڑی ناک منہ پھلا رھی تھی اور منہ ھی منہ میں عظمی کو برا بھلا کہہ رھی تھی ۔۔ میرے دماغ میں فورن ایک پلان آیا کہ گرم لوہے پر اگر ضرب لگائی جاے تو یقیناً نسرین کی قربت بھی حاصل ھو سکتی ھے اور موقع بھی خلوت کا تھا دونوں صحن میں اکیلے تھے مجھے یقین تھا کہ عظمی نھی آتی اب اور نازی کا ویسے ھی موڈ نھی تھا کھیلنے کا۔۔ میں دھیرے دھیرے چلتا ھوا نسرین کے پاس گیا اور اسکی ٹھوڑی پکڑ کر بولا کیا ھوا میرے چھونے چھونے کاکے کو۔۔ تو نسرین ہلکے سے مسکراتے ھوے میری طرف دیکھ کر بولی دیکھ تو آے ھو کہ کیسے میری بےعزتی کی ھے تمہاری اس لاڈلی نے تو میں نسرین کے بلکل سامنے کھڑا ھوگیا اور اسکو کندھوں سے پکڑ کر بولی پہلی بات تو یہ ھے کہ وہ میری لاڈلی نھی ھے جیسے وہ تمہارے ساتھ بتمیزی کرتی ھے ویسے ھی میرے ساتھ بھی بتمیزی کرتی ھے ۔ اور دوسری بات یہ کہ تم نے بھی تو غلط بات کی کہ شہری بابو کے ساتھ پھرتی رھی ھے ایسے بھی کوئی کہتا ھے کیا۔۔ نسرین بولی میں نے کچھ غلط نھی کہا۔ تو میں نے کہا یار میں لب کہہ رھا ھوں کے تم نے غلط کہا۔ تو نسرین حیران ہوکر میری طرف دیکھتے ہوے بولی کیا واقعی یہ سچ ھے کہ عظمی اس لڑکے کے ساتھ ھی تھی ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ھوے کہا ہاں۔۔۔ نسرین آنکھیں پھاڑے اپنے منہ پر ھاتھ رکھ کر بولی ھاےےےے*****واقعی میں نے کہا یار میں نے اپنی آنکھون سے دیکھا تھا کہ وہ دونوں ۔۔۔۔۔۔۔ نسرین بولی ۔۔ کیا وہ دونوں بتاو ناں ۔۔ میں نے کہا رہنے دو تم اسے یا آنٹی کو بتا دو گی اور ایسے فضول میں سارا الزام مجھ پر آجانا ھے ۔۔ نسرین میرے بازوں کو پکڑتے ھوے بولی ۔ ۔*****کی قسم نھی بتاتی کسی کو پلیز بتاو نہ ۔۔۔ نسرین کی آواز تھوڑی اونچی ھوگئی تھی میں نے جلدی سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے کہا ہولی بول او اندر اے سن لوے گی ۔۔ تو نسرین نے اثبات میں سر ہلایا اور میں نے اسکے منہ سے ھاتھ کو ہٹا لیا۔۔ اور آہستہ سے بولا پہلے تم میرے ساتھ وعدہ کرو کہ یہ بات ہم دونوں میں ھی رھے گی ۔۔ تو نسرین پھر قسم کھاتے ھوے بولی نھی بتاتی۔۔ میں نے اچھی طرح تسلی کر کے اسے کہا میں جب انکے ساتھ نہر کی طرف. گیا تو عظمی میرے دوست کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کررھی تھی ۔ پھر جب ہم مکئی کے پاس پہنچے تو میرے دوست نے کہا میں نے چھلیاں توڑنی ہیں تو عظمی جلدی سے بولی چلو اسد میں چلتی ھوں تمہارے ساتھ۔۔۔۔ نسرین تمہیں تو پتہ ھی ھے کہ یہ کتنی بتمیز ھے میں نے سے کہا بھی کہ نہ جاو مگر میری ایک نگی سنی اس نے اور بولی یاسر تم اور مہری ادھر ٹرین کی پٹری پر رکو میں ااسد کو چھلیاں توڑ کر لا کے دیتی ھوں ۔۔ .نسرین انکھیں پھاڑے منہ پر ھاتھ رکھے میری بات غور سے سن رھی تھی ۔۔ نسرین بیچ میں ھی بےصبری سے بول پڑی ۔۔ تو کیا عظمی چلی گئی اس کے ساتھ ۔۔ میں نے ادھر ادھر دیکھ کر رازداری سے کہا ہاں وہ چلی گئی تھی اور دونوں مکئی کے اندر چلے گئے۔۔ نسرین کا رنگ اڑا ھوا تھا وہ پھر بے صبری سے بولی اور تم انکے پیچھے نھی گئے۔۔ میں نے پھر ادھر ادھر دیکھا اور کہا میں کچھ دیر بعد گیا تو وہ مجھے کہیں نظر نہ آے میں پریشان ہونے کھالے کے ساتھ جو درخت نھی لگے ھوے نسرین بولی ہاں ہاں لگے ھوے ہیں میں نے کہا میں جیسے ھی ان درختوں کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ میں اتنا کہہ کر چپ ہوگیا اور کمرے کے دروازے کی طرف دیکھنے لگ گیا اور نسرین سے جلدی سے بولا لگتا ھے کہ عظمی یا نازی آرھی ہیں ۔ تم رات کو جب یہ سو جائیں تو دوسرے کمرے میں آجانا میں تم کو ساری بات بتا دوں گا مگر تم یہ بات کسی سے کرنا مت میں ایک ھی سانس میں اسے سارا سبق سنا کر اس کا جواب سنے بغیر کمرے کی طرف چلا گیا اور نسرین ہکی بکی مجھے روکتے روکتے چپ ھوگئی کیوں کے میں اتنی دیر میں کمرے میں داخل ھوگیا تھا۔۔ کمرے میں آیا تو عظمی اور نازی ایک ھی چارپائی پر لیٹی ایک دوسرے کے ساتھ کُھسر پُھسر کررھیں تھی ۔۔ میں جا کر انکے پاس بیٹھ گیا۔ تو عظمی بولی منا آے اس لاڈلی کو میں نے کہا یار ایک تو تم دونوں ھی ایک سے بڑھ کر ایک ھو ایک کو سمجھاوں تو دوسری بگڑ جاتی ھے دوسری کو سمجھاوں تو پہلی بگڑ جاتی ھے ۔ تو نازی عظمی کو چپ کرواتے ھوے بولی دفعہ کر اینوں اور ساتھ ھی دونوں پھرباتیں کرنے لگ گئی میں عظمی کی ایک بات نوٹ کر رھا تھا کہ وہ مجھ میں کچھ خاص توجہ نھی لے رھی وہ ایسے ریکٹ کر رھی تھی کہ جیسے اسکی نظروں میں میری کوئی اہمیت ھی نھی ھے ۔ خیر میں کچھ دیر انکے پاس بیٹھا رھا مگر نسرین ابھی تک باھر ھی تھی اندر نھی آئی ۔۔ میں بھی انکے پاس سے اٹھا اور عظمی کو کہا کہ میرا بستر کیا ھے کہ نھی تو عظمی پھر بے رخی سے بولی جاو اپنی اس لاڈلی سے کہو کہ بستر بھی کردے ۔۔ میں پیر پٹختا ھوا کمرے سے باہر نکل گیا اور دیکھا کہ نسرین ابھی تک ادھر ھی کھڑی کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔ میرے چلنے کی آہٹ سن کر وہ چونکی اور میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔ میں اسکے پاس پہنچا اور کہا تم نے ساری رات ادھر ھی کھڑے رہنا ھے جاو جا کر سوجاو صبح سکول بھی جانا ھے ۔ نسرین بولی جب وہ کُتی سوے گی تب ھی اندر جاوں گی ، میں نے پھر اسے پیار سے پچکارتے ھوے کہا ۔ یار میں کہہ رھا ھوں نہ کہ جاو اندر، ۔ تو نسرین بولی مجھے نیند نھی آرھی جب آے گی تو چلی جاوں گی ۔ تم نے سونا ھے تو چلے جاو کمرے میں سوجاو میں نے کہا مجھے نیند تو بہت آرھی ھے ۔ مگر سوؤں گا کہاں کمرے میں تو بستر بھی نھی کیا ھوا۔ تو نسرین بولی او ھو یہ ہڈحرام اتنا سا کام بھی نھی کرسکتی آواراگرد چلو میں کردیتی ھوں ۔ اور نسرین میرے اگے آگے چل پڑی میں اسکے جسم کا پیچھے سے معائنہ کرنے لگ گیا کہ عظمی سے کم بھی جسم نھی نسرین کا گول مٹول سی باہر کو نکلی گانڈ اور چلتے ھوے ہلتے ھوے نرم کولہے 30 کمر 34ممے 36گانڈ بھرا بھرا جسم میری ہوس جوبن پکڑ چکی تھی نتیجہ کیا نکلتا اسکی فکر نھی تھی بس دل کر رھا تھا کہ اندر جاتے ھی نسرین کے نرم مموں کو پکڑ کر لن کو اسکی بپھری ھوئی مست گانڈ کے ساتھ لگا کر جپھی ڈال لوں اور اس شہد کی بوتل کو نچوڑ نچوڑ کر پی جاوں نسرین میری ہوس سے بے خبر اپنی دھن میں چلتی ھوئی کمرے میں پہنچی میں بھی اسکے پیچھے پیچھے اسکی ہلتی گانڈ کو دیکھ کر گنتی کرتا ھوا کہ کتنی دفعہ اوپر گئی اور کتنی دفعہ نیچے گئی۔ میں کمرے میں داخل ھوا تو 100واٹ کا بلب جل رھا تھا اور نسرین جلدی سے چارپائی بچھا کر بستر کرنے لگ گئی اور کمرے سے جانے لگی تو میں نے اسے آواز دی کہ میں سو جاوں تو نسرین. بولی سونے کے لیے ھی تو بسترا کیا ھے اور تم نے تارے گننے ہیں تو بسترا باھر کردیتی ھوں ۔۔ اسکا جواب سن کر میں جھینپ سا گیا اور مجھے اپنی ساری منگھڑت کہانی سنانے کی محنت پر پانی پھرتا ھوا نظر آرھا تھا ۔۔ سہی کہتے ھیں بوتے کراں دا پروناں پُکھا ای ریندا اے میں منہ بسور کر چارپائی پر گرا اور لیٹ کر سوچنے لگا چنگی ھوئی کا کا عظمی کی پھدی کے لیے فرحت کی پھدی چھوڑی اور نسرین کی پھدی کے چکر میں عظمی کی پھدی بھی گنوائی اور نسرین وی لن وکھا کے چلی گئی ہن مار مُٹھ تے سوجا شاباش۔۔۔ .کچھ دیر نسرین کو اور اپنی جلد بازی کو کوستا ھوا سوچتا رھا اور پھر دل کو تسلی دے کر سونے کی کوشش کرنے لگا کہ شاید نسرین یا عظمی خود ھی آجائیں ۔۔ نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور مجھے ایسے لگا جیسے مجھے کوئی جنجھوڑ رھا ھے میں نے آنکھ کھولی تو میری نظروں کے سامنے نسرین تھی جو مجھے اٹھا رھی تھی کہ یاسر اٹھو مجھے آنے کا کہہ کر خود سو رھے ھو ۔ میں نے نسرین کو اسی حالت میں کمر سے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا اور نسرین کے ہونٹ چومنے لگ گیا نسرین منہ ادھر ادھر کر کے میرے سینے پر ھاتھ رکھ کر پیچھے کو ہونے کی کوشش کررھی تھی اور کہے جارھی تھی کی چھوڑو مجھے یہ کیا بتمیزی ھے میں تمہیں بھائی سمجھتی ہوں پلیز یاسر چھوڑ دو یہ سب غلط ھے ۔۔ میں اسکی کسی بات کا جواب نھی دے رھا تھا اور مسلسل اسکو اپنے اوپر بازوں میں بھینچ کر اسکے ہونٹوں کو چومے جا رھا تھا میرا لن فل کھڑا ھو چکا تھا میں نے کچھ دیر اسکے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کی مگر وہ مسلسل مجھ سے اپنا آپ بچا رھی تھی ۔ میں نے نسرین کی کمر کے گرد ڈالے بازوں کو جھٹکا دے کر نسرین کو چارپائی کے اوپر کرلیا اور اسکو اسی حالت میں اپنے نیچے کرلیا ۔ اور اپنے دونوں ھاتھ کمر کے نیچے سے نکال کر اسکے ھاتھ پکڑ کر چارپائی کے ساتھ اسکے سر کے قریب رکھ کر دبا دئیے اور بولا نسرین تمہارے اس سیکسی مموں اور سیکسی گانڈ نے مجھے پاگل کیا ھوا ھے پلیز چپ کر کے مجھے اپنے ان بے قابو مموں کو چوسنے دو دیکھنا تمہیں کتنا مزہ آتا ھے نسرین سر دائیں بائیں مار کر نفی کر رھی تھی مگر میرے دماغ کو منی چڑھی ھوئی تھی میں نے کچھ دیر زبردستی نسرین کے ہونٹ چوسے تو نسرین بھی گرم ھوگئی اسکو ذیادہ گرم میرے اکڑے ھوے لن نے کیا تھا جو اسکی کنواری پھدی کو دبا کر رکھے ھوے تھا۔ نسرین کی مزاحمت دم توڑ رھی تھی اور آخر کار اس نے اپنا جسم میرے حوالے کر دیا میں نے نسرین کی قمیض اوپر کی اور اسکے گورے گورے ممے جن پر بریزیر بھی نھی تھا میری آنکھوں کے سامنے آگئے۔۔ اور میں بھوکے شیر کی طرح مموں پر جھپٹ پڑا اور دونوں مموں کو باری باری چوسنے لگ گیا نسرین کے ممے بلکل عظمی کے مموں جیسے تھے مجھے ایسے ھی لگ رھا تھا کہ چہرہ نسرین کا ھے مگر ممے عظمی کے ہیں نسرین سسک رھی تھی میں کبھی اکڑے ھوے نپل کو دانتوں سے کاٹتا تو نسرین آہ آہ سیییییی کرتی تو کبھی میں پورے ممے کو منہ میں بھرنے کی کوشش کرتا نسرین کی سسکاریاں جنون میں بدلتی جارھی تھیں۔۔ اور وہ میرے بالوں کو نوچنے لگ گئی تھی میرا لن پھدی کو بری طرح مسل رھا تھا اور نسرین بھی گانڈ اوپر کر کے پھدی کو مزید لن کے ساتھ رگڑ رھی تھی میں نے مموں کو چھوڑا اور تھوڑا نیچے کھسک کر نسرین کی شلوار اتار دی اور نسرین نے بھی گانڈ اوپر کر کے شلوار اتارنے میں میری مدد کی شلوار اتار کر میں نے چارپائی سے نیچے پھینک دی اور نسرین کی پھدی پر ھاتھ پھیرا تو پھدی پر بال تھے اور پھدی کے ہونٹ. بھی آپس میں جڑے ھوے تھے پھدی کو جب میرے ھاتھ نے چھوا تو نسرین نے مزے سے بھری سییییییی کی اور گانڈ کو اوپر اٹھایا میں نے لن پر تھوک کا گولا پھینکا اور لن پر تھوک کو گیلا کیا اور لن کو پھدی کے ہونٹوں پر رکھ کر لن کو اوپر نیچے کرنے لگ گیا مجھے لن کی ٹوپی پر گیلا گیلا سا محسوس ھورھا تھا لن تو پہلے ھی گیلا تھا مگر نسرین کی پھدی سے نکلنے والے پانی نے اسے مزید گیلا کر دیا میں نے نسرین کی ٹانگیں کھول کر تھوڑی اوپر کی اور لن کے ٹوپے کو پھدی کے لبوں پر سیٹ کیا اور خود جھک کر نسرین کے منہ کے پاس اپنا منہ کر کے اسکے ہونٹوں کو اپنے میں بھر لیا کہ اسکی آواز نہ نکل پاے اس سے پہلے کی نسرین کچھ سمجھتی میں نے جھٹکا مار کر لن کو پھدی کے اندر کردیا آدھا ن لن نسرین کی پھدی کو پھاڑتا ھوا اندر اترگیا نسرین میرے نیچے تڑپ رھی تھی رو رھی تھی فریادیں کر رھی تھی مگر اسکی غوں غوں کرتی آواز کو میں ان سنی کررھا تھا میں نے دوسرا گھسہ مارا تو لن پورا پھدی کے اندر اتر گیا اور نسرین نے پھر میرے نیچے بری طرح مچلنا شروع کردیا نسرین بری طرح تڑپ رھی تھی نسرین کی سیل ٹوٹ چکی تھی اسکی پھدی سے گرم گرم خون نکل کر چارپائی پر گر رھا تھا نسرین نیم بےھوش ھو کر بےدم ھوگئی میں نے تین چار گھسے مزید مارے مگر نسرین بےہوشی کی حالت میں پتہ نھی کیا بولی جارھی تھی مگر مجھ پر جنون سوار تھا میں بغیر کسی ڈر خوف کے اسکی پھدی پھاڑ رھا تھا پھدی کے اندر اتنی گرمی تھی کے میں صرف چار پانچ مذید گھسے مار سکا اور لن نے ساری منی نسرین کی کنواری پھدی کے اندر ھی اگلنا شروع کردی اور میں بھی مدھوش ھو کر اسکے اوپر لیٹ گیا اور میرا جسم جھٹکے کھا رھا تھا کہ کسی نے میرے بالوں کو پکڑ کر ہلایا تو میں نے نیم بند آنکھوں سے دیکھا تو .نسرین کھڑی میرے سر کے بال کھینچ کر کچھ کہہ رھی تھی ۔۔۔ تو میں پریشان ہوکر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رھا تھا کہ اگر نسرین یہ ھے تو میرے نیچے کون ھے جسکی سیل توڑ کر میں اندر ھی فارغ ھوگیا جیسے ھی میں نے الٹے لیٹے اپنی پوری آنکھیں کھول کر اپنے نیچے دیکھا تو مارے شرمندگی کے میرا برا حال ھوگیا کہ جسے میں نسرین سمجھ کر ذبردستی چود رھا تھا وہ نسرین نھی بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. 4 points
    ۔update... اچانک؟؟؟؟ میرے لن نے عظمی کی پھدی میں جھٹکا مار کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا کہ سائیں میرا وی کُش سوچو۔۔۔ میں نے عظمی کو تھوڑا اوپر کیا اور اسکی ٹانگوں کو دونوں طرف سے پکڑ کر آگے کی طرف کھینچ کر اسے اپنے اوپر گھوڑی کی شکل میں کردیا۔ عظمی نے دونوں بازو گدے پر کہنیوں کے بل کیے اور گھٹنوں کے بل گانڈ اوپر کر کے لن کے کچھ فاصلے پر پھدی کو کرلیا ۔ میں نے اسکےدونوں چوتڑوں پر ھاتھ رکھے اور نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر لن عظمی کی پھدی میں ڈال کر اوپر کی طرف گھسے مارنے شروع کردیے میں جیسے جیسے گانڈ اٹھا کر گھسے مارتا عظمی کے ممے میرے منہ کے سامنے ہلتے میرا لن پھدی کی گہرائی تک جا رھا تھا میرے ھاتھ عظمی کی گانڈ کو دبوچ کر گانڈ کو نیچے کی طرف پُش کررھے تھے میری انگلیاں ساتھ ساتھ عظمی کی گانڈ کے دراڑ میں جاکر گانڈ کے سوراخ کا مساج بھی کرتی جارھی تھی عظمی نے بھی یس یس اففففف اممممم کرنا شروع کردیا ۔ جس سے میرا جوش مذید بڑھ رھا تھا عظمی کی سسکاریاں میرے لطف میں مذید اضافہ کرتی جارھی تھی عظمی کی پھدی کافی گیلی تھی اور اسکی پھدی سے نکلنے والی منی میرے لن پر ھی لگ گئی تھی جس کی وجہ سے لن پھدی میں فراوانی سے اندر باھر ھو رھا تھا میں گھسے مارنے کے دوران اپنا سر اونچا کر کے عظمی کے ممے کو بھی چوم لیتا میرے گھسوں سے ہلتے ممے کمال لگ رھے تھے اس کے مموں کی تھرتھراہٹ سے مجھے اپنے گھسوں کی شدت کا اندازہ ھورھا تھا کچھ دیر بعد میں گھسے مار مار کر تھک گیا عظمی بھی پھر فارغ ھونے کے قریب تھے میرے گھسوں کی رفتار کم ھوئی تو عظمی پھدی کو نیچے کی طرف پُش کرنے لگ گئی اور پھر عظمی کی سسکیاں اور پھدی کو لن پر پُش کرنے کی رفتار تیز سے تیز تر ھوتی ھوگئی اور پھر عظمی نے پورا وزن میرے لن پر ڈال کر لن کو پھدی کی گہرائی تک پہنچا دیا اور میرے ساتھ چمٹ گئی اور اسکا جسم جھٹکے کھانے لگا عظمی کی پھدی کے اندر عظمی کی منی کی دھاریں میرے ٹوپے سے ٹکرا رھی تھی ۔ عظمی لمبے لمبے سانس لیتی ھوی میرے اوپر سے دوسری طرف گر گئی اور دونوں ھاتھ اپنے منہ پر رکھ کر افففففففففف ھاےےےےےےے ھوے ھوے ھوے کرنے لگ گئی میں جلدی سے اٹھا اور عظمی کی ٹانگوں کے درمیان آیا ا اور اسکی ٹانگوں کو کھول کر ٹانگوں کو اوپر اٹھایا اور اسکے گوڈوں کو اسکے پیٹ کے ساتھ لگا کر لن کو پھدی پر سیٹ کر کے ایک ھی دھکے میں سارا لن پھدی کے اندر اتار دیا عظمی نے اپنے منہ پر ھاتھ رکھتے ھوے ابھھھھھپھھھھ کیا اور ذور ذور سے سر دائیں بائیں مارنے لگی چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں اسکے چہرے پر تکلیف کے ایثار نظر آرھے تھے عظمی منہ سے ہاتھ ہٹا کر آہستہ سے بولی ماردتا ای ظالماں کیڑا بدلہ لیا ای میں نے اسکو کوئی جواب نہ دیا اور لن کو باہر کھینچ کر پھر ویسے ھی ذور سے اندر کیا عظمی نے ایکدم اپنی گانڈ کو اٹھایا تو میرا لن اسکی ریڑھ کی ہڈی سے ٹکرایا تو عظمی نے بری طرح اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو بھینچا اور میرے سر کے بالوں کو ذور سے پکڑ کر میرا سر ہلاتے ھوے بولی یاسرررررررررر جانور نہ بنو میں انسان ھوں جانور نھی جو تم ایسے کر رھے ھو میں نے پھر لن پیچھے کو کھینچا اور اس سے پہلے کہ تیسری دفعہ گھسا مارتا عظمی نے گانڈ ہلا کر پھدی کو سائڈ پر کرنے کی کوشش کی تو میرا ٹوپا بھی باہر نکل آیا تو میں نے بنا سوچے سمجھے ویسے ھی گھسا ماردیا میرا لن عظمی کی پھدی کے نیچے اور گانڈ کے سوراخ سے اوپر ذور سے لگا جس سے مجھے تو درد ھوئی ھی ساتھ عظمی بھی تڑپ گئی اور ٹانگوں کی مدد سے مجھے پیچھے دھکیل کر بولی جاو میں نے نھی کروانا تم سے انسان بن کر نھی کیا جاتا تو میں نے عظمی کو پھر پچکار کر ریلیکس کیا اور آرام سے کرنے کا کہہ کر پھر اسکی ٹانگوں کو کھول کر اوپر کیا اور لن کو پھدی کے اوپر سیٹ کر کے آرام سے اندر اتارا دیا اور گھسے مارتے ھوے عظمی کو جپھی ڈال لی عظمی کے ممے میرے سینے کے ساتھ چپکے ھوے تھے اور میں اسکی گالوں کو چومتا اور ہونٹوں کو عظمی نے اپنے دونوں ھاتھ میری کمر پر رکھے ھوے تھے ۔ میں دس پندرہ منٹ عظمی کو ایسے ھی چودتا رھا اور پھر میری سپیڈ تیز ھوئی اور عظمی کی سیکسی آوازیں بھی نکلنا شروع ھوگئیں ۔اس سے پہلے کہ میرا لن عظمی کی پھدی کو منی سے بھرتا میں نے ھاتھ نیچے کیا آخری جاندار گھسہ مارا اور لن کو باہر نکال کر پھدی کے اوپر ھی ساری منی نکال دی کچھ دیر بعد دونوں ریلیکس ھوے اور عظمی نے جلدی سے اپنے کپڑے پہنے میں نے صرف شلوار اور بنیان ھی پہن لی اور عظمی نے گدا اٹھایا اور باھر نکل گئی دوسرا گدا میں نے اٹھا کر چارپائی پر بیچھا دیا اور لیٹ گیا میں نے کچھ دیر عظمی کا انتظار کیا کہ شاید گدا رکھ کر واپس آے مگر وہ آئی کہ نھی آئی میں پتہ نھی کب سوگیا صبح میری تب آنکھ کھلی جب نازی مجھے جنجھوڑ کر اٹھا رھی تھی کہ اٹھ جاو دکان پر نھی جانا عظمی اور نسرین بھی تیار ھوکر بیٹھی تمہارا انتظار کررھی ہیں اور تم گھوڑے بیچ کر سوے ھوے ھو اٹھو جلدی میں آنکھیں ملتا ھوا اٹھا اور نازی کی طرف دیکھتے ھوے کہا کہ کیا تکلیف ھے سونے بھی نھی دے رھی ھو تو نازی بولی سونے کے بچے ٹائم دیکھ کیا ھوگیا ھے انکو بھی سکول سے لیٹ کرواے گا میں نے منہ دیوار کی طرف کر کے کلاک پر جب ٹائم دیکھا تو جمپ مار کر چارپائی سے اترا اور ناذی کو گھورتے ھوے بولا کہ جلدی نھی اٹھا سکتی تھی مجھے تو ناذی بولی ایک گھنٹہ ہوگیا ھے تم کو اٹھاتے ھوے تم پتہ نھی کونسی نشے کی گولی کھا کر سوے تھے کہ اٹھنے کا نام ھی نھی لے رھے تھے میں ناذی کو گھورتا ھوا منہ ھی منہ میں اسے برا بھلا کہتا باہر نکلا تو عظمی اور نسرین سکول یونیفارم پہنے ھوے بیٹھی تھی نسرین مجھے دیکھ کر بولی کھل گئی جناب کی انکھ میں نے اس کی بات سنی ان سنی کی اور جلدی سے واش روم میں گھس گیا اور ناذی کو کہا گھر سے میرے کپڑے لے آو جلدی میں نہانے لگا ہوں نازی بولی جلدی نہاو میں ابھی لے کر آتی ہوں میں نے جلدی جلدی نہایا اور نازی کو آواز دی کے مجھے کپڑے دے دے اس نے واش روم کے بڑے سے روشن دان میں کپڑے رکھ دیے میں نے کپڑے پہنے تو عظمی بولی ناشتہ کیا کرنا ھے تو میں نے کہا جلدی چلو پہلے ھی دیر ھوگئی ھے ناشتہ میں دکان پر کر لوں گا ہم جلدی سے باہر نکلے اور میں نے نازی کو کہا کہ گھر کے دروازوں کو اچھی طرح بند کر کے گھر چلی جانا ۔ اور ہم تیز تیز قدم بھرتے صدف کے گھر پہنچے تو اسکی امی نے بتایا کہ وہ تو چلی گئی تم لوگوں کا انتظار کرتے کرتے میں دل میں صدف کو گالیاں دیتا ھوا ان دونوں کو ساتھ لے کر شہر کی طرف چل دیا سکول والی گلی میں پہنچے تو گلی میں کافی رش تھا لڑکے لڑکیاں سکول کے لیے آ جارھے تھے، ہم ابھی سکول سے تھوڑا پیچھے ھی تھے کہ ہمارے پیچھے کار کے بریک لگانے اور ٹائروں کی چرچراہٹ کی آواز آئی تو عظمی اور نسرین بھی گبھرا کر ایک طرف ھو گئیں اور میں نے بھی بڑے غصے سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسد کار کے شیشے سے سر نکال کر میری طرف دیکھ کر ہنسے جارھا تھا اسے دیکھ کر میرا غصہ بھی کم ہوگیا ۔ اور ساتھ ھی اسد کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور وہ میری طرف اور میں اسکی طرف بڑھا اور دونوں بغل گیر ھوگئے اسد مجھ سے گلے شکوے کری جارھا تھا عظمی اور نسرین بڑی حیرانگی سے اسد کی طرف اور اسکی گاڑی کی طرف دیکھی جارھی تھی ۔ میں نے انکو حیران پریشان کھڑے دیکھ کر انکو مخاطب کیا کہ یہ میرا کلاس میٹ اور بیسٹ فرینڈ اسد ھے اور اسد کو بتایا کہ یہ میری کزنیں ہیں میں نے تعارف کرواتے وقت عظمی کی طرف دیکھا جو بڑے غور سے اسد کو دیکھی جارھی تھی ۔ اور اسد نے بھی شاید نوٹ کیا تھا جو بار بار آنکھ چرا کر عظمی کو دیکھ رھا تھا مجھے عظمی پر بہت غصہ آرھا تھا اور عجیب سی جیلسی ھو رھی تھی جبکہ نسرین منہ دوسری طرف کر کے کھڑی تھی میں نے کچھ دیر اسد سے بات کی اور اسکو بتایا کہ ہمیں پہلے ھی دیر ھوگئی ھے میں ان دونوں کو چھوڑ کر آتا ھوں تم ادھر ھی رکو تو اسد بولا چلو میں گاڑی میں چھوڑ آتا ھوں اور انکو اتار کر ہم آگے چلے جائیں گے میں نے کہا نھی یار وہ سامنے تو سکول ھے تو اسد بولا چل نہ یار ایسے تکلف میں مت پڑو ۔ اور میرا بازو کھینچتے ھوے مجھے فرنٹ سیٹ کی طرف کر دیا اور عظمی کی طرف دیکھتے ھوے بولی آجائیں میں آپکو ڈراپ کردیتا ھون نسرین جلدی سے بولی نھی بھائی ہم چلے جائیں گے شکریہ اور عظمی کا بازو کھینچ کر بولی چلو عظمی میری اور اسد کی طرف دیکھتے ھوے پاوں گھسیٹتی ھوئی چلنے لگ گئی ۔تو میں نے اسد کو کہا یار تم بس ادھر ھی رکو میں ابھی آیا اور یہ کہتے انکے پیچھے بھاگ کر انکے ساتھ مل گیا اسد پیچھے کھڑا دیکھی جارھا تھا ہم سکول کے قریب پہنچے تو عظمی نے گھوم کر ایک دفعہ پیچھے کی طرف دیکھا اور جلدی سے سکول کے گیٹ میں داخل ھوگئ اور میں اسے گھورتا ھوا واپس اسد کے پاس آگیا اور اسد نے فرنٹ گیٹ کھولا تو میں کار کے اندر بیٹھ گیا۔ میں پہلی دفعہ کار میں بیٹھا تھا تو میرے اندر سے عجیب فیلنگ پیدا ھورھی تھی اور میں ایسے ھی سامنے دیکھ دیکھ کر ہنسی کو دبا رھا تھا اور ہر پیدل آتے جاتے کو غور سے دیکھتا کہ وہ مجھے کار میں ببیٹھا دیکھ رھا ھے اور میں کار میں ایسے بیٹھا ھوا تھا جیسے میں ھی کار کا مالک ھوں اور اسد میرا ڈرائیور ھے اور میں کوئی دنیا کی انوکھی چیز میں بیٹھا ھوا ھوں اسد نے مجھے کہا کدھر چلنا ھے جگر میں نے ایکدم چونکتے ھوے کہا کہ میں نے کدھر جانا ھے یار دکان کی طرف چلو اور مجھے ادھر اتار دینا اسد بولا چھوڑو یار دکان پر چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں میں نے کہا تم نے سکول نھی جانا تو اسد بولا لن تے چڑ گیا سکول سکول بھی چلا جاوں گا آج تو چھٹی کرنے کا پروگرام ھے تم اگر نہ ملتے تو میں مہری کو کالج چھوڑ کر سکول ھی جارھا تھا کہ اچانک میری نظر تم پر پڑی میں نے کہا نھی یار تم مجھے دکان پر چھوڑ کر سکول چلے جاو پیپر بھی سر پر ہیں تو اسد ہنستے ھوے میری تھائی پر ہاتھ مارتے ھوے بولا یار پہلے کونسا میں سکول میں فرسٹ آتا تھا جو ایک دن نہ جانے سے پیچھے رہ جاوں گا اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اسد نے کار کو سپیڈ سے گھمایا جس سے ٹائروں کی زبردست چرچراہٹ گونجی اور اردگرد کے سب لوگ ہماری طرف متوجہ ھوے اسد نے جس برے طریقے سے کار کو گھمایا تھا تو ایک دفعہ ۔ میرے ٹٹے تاں چڑ گئے میں بھی گھومتی کار کے ساتھ شیشے کے ساتھ سر لگا کر ایک ٹانگ ہوا میں کیے چکرا گیا اور پھر ایکدم خود کو سنبھال کر سیدھا ھوگیا اسد میری حالت دیکھ کر مسکرا دیا ۔۔۔ میں نے اسد کو پھر کہا یار ادھر کدھر جارھے ھو تو اسد ہنستے ھوے بولا لانگ ڈرائیو پر جانی تو میں نے کہا وہ کس جگہ ھے تو اسد نے حیران ھوتے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے کہا کون؟؟؟؟؟ تو میں نے مشکل سے نام لیتے ھوے کہا لونگ ڈرائیو ،، اسد میری بات سن کر کھل کھلا کر ہنسی جا رھا تھا اور میری طرف ھاتھ کر کے کہتا کوئی حال نئی تیرا یار میں نے کہا کیا مطلب ہنس کیوں رھے ھو یار اسد بولا تیری سادگی پر ہنسی آتی ھے لانگ ڈرائیو کسی جگہ کا نام نھی ھے میں نے اسکی بات کاٹتے ھوے بولا تو اسد بولا لانگ ڈرائیو کا مطلب ھے کہ ہم لمبے سفر پر جارھے ہیں میں اسکی بات سن کر جھینپ گیا اور بولا یار لمبے سفر پر کیا ہم کراچی جارھے ہیں تو اسد بولا نھی یار بس ایسے ھی سڑک پر آوارہ گردی کریں گے اور جب کالج کی چھٹی کا وقت ھوا تو مہری کو لے کر گھر ڈراپ کر کے تمہارے گاوں چلیں گے میں نے ہہ۔ممم کیا اور شیشے میں سے بھاگتے ھوے درختوں اور بھاگتی ھوئی سڑک کو دیکھنے لگ گیا اسد نے بولا یار کون سا گانا سنے گا میں نے کہا جونسا تجھے پسند ھے لگا لے تو اسد نے ٹیپ میں کیسٹ ڈالی اور آواز اونچی کر کے گانا چلا دیا،،، ۔اسد نے ٹیپ کا فل والیم کیا ہوا تھا اور اس وقت کا مشہور گانا چل رھا تھا، ۔ تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم پیار ہوتا ھے دیوانہ ھے صنم۔ اور اسد ٹیپ کی آواز سے بھی بلند آواز کرنے کی کوشش میں جھوم جھوم کر گا رھا تھا اور بار بار میرے پٹ پر ھاتھ مار کر میری طرف مسکرا کر بھی دیکھ لیتا۔ مجھے اسکے اس چھچھورے پن پر غصہ آرھا تھا میں نے ھاتھ آگے بڑھا کر ٹیپ کی آواز کم کرتے ھوے کہا یار کیا کان پھاڑ رھے ھو یا خود گا لو یا پھر اسے گانے دو اسد ہنسنے لگ گیا اور بولا جا یار اتنا مزہ آرھا تھا سارے مزے دی پین نو یے دتا ای، ۔ کچھ دیر بعد ایک اور گانا شروع ھوگیا اک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا جیسے کھلتا گلاب۔۔۔۔۔۔۔ اسد نے پھر آواز بلند کر دی اور پھر جھوم جھوم کر اپنی بےسری آواز میں گانے لگ گیا میں نے پھر آواز کم کردی اور اسے کہا گانڈو تو مجھے گانے سنانے کے لیے لایا ھے ۔مجھے ایسے ھی غصہ آئی جا رھا تھا اور گانے کے بول سن کر اور اسد کی فیلنگ دیکھ کر میرے دماغ میں عظمی کا اسد کو بار بار دیکھنا اور پھر سکول کے گیٹ میں داخل ہوتے وقت پھر مڑ کر دیکھنا یاد آرھا تھا حالانکہ مجھے عظمی سے کوئی پیار ویار نھی تھا بس سیکس کی حد تک ھی تعلق تھا اس سے مگر پھر بھی عظمی کا کسی اور کی طرف دیکھنا مجھ سے برداشت نھی ھو رھا تھا اور یہ چیز مجھے اپسیٹ کیے ھوے تھی ۔ اسد بولا یار ہم انجواے کرنےنکلے ہیں کوئی فوتگی پر تو نھی جارھے ۔ میں نے غصے سے منہ دوسری طرف کیا اور شیشے سے باھر دیکھنے لگ گیا اسد کار شہر سے نکال کر ہمارے شہر سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ ٹائپ علاقہ تھا چونڈہ جو اب کافی اچھا شہر بن چکا ھے ۔۔ اسد نے کار اس علاقے کی طرف لیجانے لگ گیا تھا۔ اسد نے جب میرا خراب موڈ دیکھا تو ٹیپ بند کردی اور میرے بازو پر مکا مارتے ھوے بولا سالیا کوئی مرگیا اے جیڑا شکل وگاڑ کے بیٹھا ایں ۔ میں نے بازو کو مسلتے ھوے کہا گانڈو خود تو گانے سننے میں مست ھوا ھے تو اسد بولا چل اب بند کردی ھے ٹیپ اب موڈ سہی کر اور کچھ دیر بعد. ایک ڈھابے نما ہوٹل پر اسد نے بریک ماری اور میری طرف دیکھ کر بولا چل آ کچھ کھاتے ہیں ادھر سے اور ہم دونوں کار سے اتر کر ڈھابے کے باہر بچھی چارپائیوں پر جا بیٹھے اور تبھی ایک چھوٹا سا لڑکا آیا اور ہم سے پوچھنے لگ گیا کیا کھاو گے بھا جی اسد نے میری طرف دیکھ کر کہا کیا کھاو گے جگر میں نے کہا کچھ نھی یار ابھی تو ناشتہ کر کے آیا ہوں ۔ جبکہ میں نے صبح کا کچھ بھی نھی کھایا تھا۔ اسد نے اسے لسی اور بن وغیرہ کا کہا،۔ تو میں نے اسد کی طرف دیکھ کر ہنستے ھوے کہا ماما لسی پی کہ فیر تینوں ٹٹیاں لگ جانیاں نے، ۔ اسد جھینپ سا گیا اور بولا گانڈو یہ وہ لسی نھی ھے یہ دہی کی لسی ھے، جو میں گھر پر بھی صبح پیتا ھوں ۔ میں نے ہنستے ھوے کہا دیکھنا یار یہ نہ ھو کہ سارے راستے بریکیں مارتے رھو ۔ اسد ہنستے ھوے بولا۔ چل ہن اپنی بکواس بند وی کر لے اتنی دیر میں لڑکا ایک جگ میں لسی اور دو شیشے کے گلاس لے آیا اور ساتھ دو بن بھی ۔ ہم نے لسی وغیرہ پی اور اسد اٹھا اور کاونٹر پر پیسے دے کر واپس آیا اور جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکالی اور دو سگریٹ نکال کر ایک اپنے منہ میں لی اور دوسری میری طرف بڑھاتے ھوے بولا لے پی یار۔ میں نے اسے انکار کرتے ھوے کہا نھی یار میں نے سگریٹ نھی پی کبھی بھی ۔ اسد نے کافی اسرار کیا مگر میں نے انکار کردیا۔ تو اسد نے کندھے اچکا کر کہا مرضی تیری اور سگریٹ واپس ڈبی میں ڈال کر پیکٹ پینٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ میں نے کہا یار تمہاری مما کچھ نھی کہتی تمیں تو اسد بولا میں کونسا انکے سامنے پیتا ھوں۔ یہ تو بس ایسے ھی جب گھومنے نکلوں تو پی لیتا ھوں ۔۔ میں اسکو سمجھانے لگ گیا کہ یہ صحت کے لیے نقصان دہ ھے نہ پیا کرو،، تو اسد نے تاویلیں شروع کردیں۔ ایسے ھی کافی دیر ہم ادھر بیٹھے باتیں کرتے رھے ۔ اسد نے کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ھوے کہا۔ چل جگر مہری کو کالج سے چھٹی ھونے والی ھے اسے گھر چھوڑ کر پھر ۔ تمہارے گاوں چلتے ہیں میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم گاڑی میں بیٹھ کر واپس شہر کی طرف چل دیے ۔ راستے میں بھی وہ طنز مزہ چلتا رھا کوئی خاص بات نہ ہوئی ۔ ہم کالج کے گیٹ پر پہنچے تو اسد نے گیٹ پر کھڑے چوکیدار کو اشارا کیا جو شاید اسد کا پہلے سے واقف تھا ۔ چوکیدار اندر چلا گیا اور کچھ دیر بعد اس کے پیچھے پیچھے مہری چلتی ھوئی کار کے پاس آئی اور مجھے دیکھ کر ۔ اسکی آنکھوں میں چمک سی آئی ۔ اور حیران ھوتے ھوے پچھلا دروازہ کھول کرگاڑی میں بیٹھ گئی اور بیٹھتے ھی ہاتھ میری طرف بڑھا کرکے سلام لیا میں نے کن اکھیوں سے اسد کی طرف دیکھتے ھوے ۔ اس سے ہاتھ ملا لیا۔ اسد اپنی مستی میں بیٹھا گیٹ سے نکلتی باقی لڑکیوں کو تاڑ رھا تھا، مہری نے میرا اور گھر والوں ۔ کا حال احوال پوچھا اور اسد کو چلنے کا کہا اسد نے کار آگے بڑھائی اورگھر کی طرف چل دیا گھر پہنچ کر اسد گاڑی سے اترا اور مین گیٹ کھول کر گاڑی اندر کردی، اور ہم اندر گیراج میں ھی گاڑی سے اترے ۔ مہری نے مجھے ٹی وی لاونج میں صوفے پر بیٹھنے کا کہ اور خود چینج کرنے اپنے کمرے میں چلی گئی اور اسد بھی چینج کرنے اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ اور میں اکیلا بیٹھا ٹی وی لاونج کا جائزہ لینے لگ گیا۔۔ کچھ دیر بعد مہری کپڑے بدل کر آگئی اور آکر میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔ اور دونوں ھاتھ گردن پر لیجا کر بالوں میں انگلیاں پھیر کر اپنے سنہری سلکی بالوں کو اپنے کندھوں پر پھیلانے لگ گئی ھاتھ پیچھے کرنے کی وجہ سے مہری کے ممے آگے کی طرف آے جس کی وجہ سے اس کے ابھار مزید ابھر گئے اور میں غور سے اس کے مموں کو تاڑ رھا تھا۔ مہری نے مجھے اپنے مموں کو تاڑتے ھوے دیکھا تو میری آنکھوں کے آگے ھاتھ ہلا کر اشارے سے بولی کیا دیکھ رھے ھو۔ میں ایکدم جھینپ گیا اور سر نیچے کر کے اپنے پیروں کو دیکھنے لگ گیا۔ مہری نے مجھ سے چاے کا پوچھا تو میں نے انکار کردیا ۔ اور اس سے کوئی خاص بات نہ ہوئی۔ کہ اسد تیز تیز سیڑیاں پھلانگتا ہوا نیچے آگیا ۔ مہری اٹھ کر کچن میں چلی گئی ۔ اور میں نے جب اسد کی طرف دیکھا تو میں اسکو دیکھ کر دیکھتا ھی رھ گیا۔ سکاے کلر کی جینز کی پینٹ اوپر بلیک رنگی کی ہاف بازو ٹی شرٹ بلیک سن گلاسس پہنے کسی ہیرو سے کم نھی لگ رھا تھا۔ اسد نے مجھے اپنی طرف یوں غور سے دیکھتے ھوے کہا کیا دیکھ رھے ھو نظر لگاو گے میں نے کہا کہیں شادی پر جارھے ھو کیا۔۔ اتنا بن ٹھن کر۔ اسد ہنستے ھوے بولا چھڈ یار کوئی حال نئی تیر شادی پر ایسے کپڑے پہن کر تھوڑی جایا جاتا ھے ۔ یہ تو میرا ریگولر ڈریس ھے میں حسرت بھری نگاہ ڈال کر ہمممم کر کے خاموش ھوگیا۔ اسد نے مہری کو آواز دی کہ چاے بنادے۔ میں نے اٹھتے ھوے کہا نھی یار میرا دل نھی کررھا چاے پینے کو۔ تو اسد نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ھوے کہا۔ چل تم نے نھی پینی تو میں نے تو پینی ھے نہ اور تمہیں میرے ساتھ پینی پڑے گی ۔ اور یہ کہتا ھوا وہ میرے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گیا۔ کچھ دیر بعد مہری چاے لے آئی اور ہم تینوں چاے پیتے ھوے ۔باتیں کرنے لگ گئے میں نے اسد کی ایک بات نوٹ کی کہ اسد تھوڑی تھوڑی دیر بعد کلائی کو اوپر کر کے گھڑی پر ٹائم دیکھتا وہ کافی بے چین نظر آرھا تھا جیسے اسے کسی کے آنے کا انتظار ھو اور وقت گزر نہ رھا ھو چاے پیتے ھی اسد کھڑا ھوا اور مجھے بولا چل جگ چلتے ہیں۔ مہری بولی کدھر جارھے ھو۔ اس سے پہلے کہ اسد بولتا میں نے کہدیا کی گاوں جارھے ہیں تو اسد نے مجھے گھور کر دیکھا اور آنکھ دبا کر اشارہ کیا کہ اسے نھی بتانا تھ اور وہ ھی ھوا جس سے اسد ڈر رھا تھا مہری بولی کہ پھر تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ چلوں گی اسد نے یہ سنتے ھی ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے کہا۔ تم نے کیا کرنا ھے جا کہ میں نےتو بس یاسر کو چھوڑ کے ابھی واپس آجانا ھے ۔ مہری بولی مجھے نھی پتہ میں نے بھی ساتھ جانا ھے اسد بولا پھر کبھی تمہیں لے جاوں گا ۔ مہری بچوں کی طرح نیچے پاوں مارتی ھوئی بولی میں نے کہدیا نہ کہ میں نے جانا ھے تو بس جانا ھے ورنہ تمہیں بھی نھی جانے دوں گی اور اگر نہ لے کر گئے تو میں مما کو تمہاری ایک ایک بات بتاوں گی، ۔ اسد مہری کی دھمکی سن کر پریشان ھوگی اور غصہ سے میری اور مہری کی طرف دیکھتے ھوے بولا چلووووو اور تیز تیز قدم اٹھاتا گیراج میں آگیا اور مین گیٹ کھول کر گاڑی باہر گلی میں لے گیا میں اور مہری بھی چلتے ھوے باہر آگئے اور اسد نے گیٹ بند کر کے لاک کیا اور ہم تینوں گاڑی میں بیٹھ گئے میں اسد کی موجودگی میں مہری کو اگنور کرنے کی ھی کوشش کررھا تھا مگر مہری بھی بڑی باتونی تھی کوئی نہ کوئی بات چھیڑ لیتی تھی اسد نے کار گرلز سکول والی گلی میں موڑ دی لی میں سکول سے چھٹی ھونے کی وجہ سے آتی جاتی لڑکیوں کا گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا رش لگا ۔ ہوا تھا جسکی وجہ سے اسد رک رک کر آگے بڑھ رھا تھا اور ساتھ ھی آتی جاتی لڑکیوں کو تاڑ رھا تھا مہری پیچھے بیٹھی اسد پر برس رھی تھی کہ دوسری گلی سے نھی جایا جاتا تھا جان بوجھ کر اتنے رش میں گاڑی لے آے ھو اور اسد اسکی باتوں کو نظر انداز کر کے نظریں ادھر ادھر گھما کر کسی کو تلاش کرنے کی کوشش کررھا تھا اور اس کے چہرے پر کافی پریشانی کے بھی ایثار نمایاں ہو رھے تھ ایسے ھی ہم سکول کا مین گیٹ بھی کراس کرگئے کچھ ھی آگے گئے تھے کہ اسد کا چہرہ ایکدم کھل اٹھا اور اس نے مجھے سامنے اشارا کرتے ھوے کہا یاسر وہ دیکھو ۔تمہاری کزنیں جارھی ہیں میں چونک کر دیکھا تو واقعی عظمی اور نسرین سائڈ پر چلی جا رھی تھیں ۔ میں نے کہا ہے تو وہ ھی۔ اسد بولا گاڑی روکوں انکو بھی ساتھ ھی لے چلتے ہیں بیچاری کیسے اتنی دھوپ میں اکیلی جائیں گی میرا شک یقین میں بدل گیا کہ اسد عظمی کے چکر میں ھی اتنا تیار شیار ھو کر آیا ھے اور یہ اسکی ھی وجہ سے سکول والی گلی میں آیا تھا ورنہ دوسرے راستے سے بھی جاسکتا تھا۔ میں نے کچھ سوچتے ھوے کہا نھی یار یہ روز ھی اکیلی جاتی ہیں خود ھی چلی جائیں گی۔ اسد بولا نھی یار تمہاری کزنیں ھیں تمہارا بھی اخلاقی حق بنتا ھے کہ انکو ساتھ لے کر چلو اگر ہم نہ آتے اس طرف تو اور بات تھی ۔ اتنے میں مہری بولی یاسر اسد سہی کہہ رھا ھے ویسے بھی تو ہم گاوں ھی جارھے ہیں اور اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا۔ مہری نے اسد کو کہا اسد ان کے پاس پہنچ کر گاڑی روکو یاسر نے تو ایسے ھی کہتے رہنا ھے ۔ اور اتنی دیر میں. کار انکے قریب پہنچ چکی تھی تو اسد نے ہارن بجایا اور بریک لگا دی ۔ عظمی اور نسرین نے کار کے ہارن کی وجہ سے کار کی طرف متوجہ ھو کر دیکھا تو فرنٹ سیٹ پر مجھے بیٹھے دیکھ کر حیران ھو کر دیکھنے لگ گئی میں نے شیشہ نیچے کیا اور انکو آواز دی کہ گاڑی میں بیٹھو تو عظمی جلدی سے کار کے قریب آگئی بیچاریوں نے کبھی خواب میں بھی نھی سوچا ھوگا کہ کار میں بیٹھیں گی ۔ عظمی قریب آکر کار کے اندر جھانک کر مہری کو دیکھتے ھوے بولی یاسر تم دکان پر نھی گئے تو میں نے مہری کا اور اسد کا تعارف کرواتے ھوے بتایا کہ انہوں نے گاوں جانا تھا اس لیے دکان سے چھٹی کی اتنے میں مہری نے پیچھے والا دروازہ کھول کر انکو اندر بیٹھنے کا کہا عظمی تو جلدی سے بیٹھ گئی اور نسرین تھوڑا جھجھک رھی تھی اور اس نے ایک دو دفعہ انکار بھی کیا کہ ہم چلی جائیں گی مگر میرے کہنے پر وہ بھی منہ بسورتے ھوے کار میں بیٹھ گئی۔ اور اسد نے کار آگے بڑھا دی اور سلو سلو ھی چلاتے ھوے بہانے بہانے سے مہری سے بات کرتے ھوے پیچھے کی طرف دیکھتا، مجھے اسد کی حرکت پر بہت غصہ آئی جا رھا تھا میرا بس نھی چل رھا تھا کہ اسے کھری کھری سنا کر کار سے نیچے اتر جاوں مگر مہری کی وجہ سے چُپ کر کے برداشت کرتی رھا۔ کچھ دیر بعد ہمارے گاوں کی سڑک آگئی اسد نے کار گاوں کی طرف موڑ دی اور گاوں کے اندر داخل ہوتے ھوے چھوٹے بڑے سب کار کو اور مجھے دیکھ کر حیران ھو رھے تھے اور میں اسی میں فخر محسوس کر رھا تھا جب گلی میں داخل ھوے تو میں نے عظمی کے گھر کے قریب اسد کو رکنے کا کہا کہ انکو ادھر اتار دو ۔ تو اسد نے بریک لگا دی اور وہ دونوں اتر گئی تو عظمی نے انکو اندر آنے کا اسرار کیا تو میں نے عظمی کو گھورتے ھوے کہا کہ تیری امی گھر پر نھی ھے اس لیے مناسب نھی تم جاو جب تمہاری امی ھوگی تو میں ان لوگوں کو ضرور لے کر آوں گا ۔ تو عظمی برا سا منہ بنا کر گھر چلی گئی تو اسد بولا یار تم نے بیچاری کا دل توڑ دیا کتنے خلوص سے کہہ رھی تھی کچھ دیر کے لیے چلے جاتے تو کیا تھا ۔ میں نے کہا نھی یار اسکی امی گھر نھی ھے یہ مناسب نھی ھوگا ۔ تو اسد نے کندھے اچکا کر کار آگے بڑھا دی اور میرے گھر کے پاس جا کر بریک لگائی اور میں آگے سے اتر کر گھر میں داخل ہوا، صحن میں کوئی بھی نھی تھا آپی اور امی کمرے میں تھیں اور بھائی دکان پر گیا ہوا تھا اور میں نے جلدی سے بیٹھک کا دروازہ کھولا اور اسد کو اندر آنے کا کہا مہری اور اسد بیٹھک میں آگئے اور مہری اندر دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی میں نے اسد کو اندر لیجانا مناسب نھی سمجھا کیونکہ پہلے جب اسد اندر آیا تھا تو امی نے بعد میں مجھے سمجھایا تھا کہ گھر میں جوان بہن ھے تو آئیندہ کسی دوست کو ایسے منہ اٹھا کر اندر نھی لے کر آنا،، ۔۔ خیر میں اسد کو بیٹھنے کا کہہ کر اندر کمرے میں گیا تو مہری امی اور نازی سے مل کر ہنس ہنس کر باتیں کرنے میں مصروف تھی امی نے مجھے کولڈ ڈرنک لانے کا کہا تو میں باہر دکان سے دو بوتلیں لے ایا اور ایک بوتل مہری کو دے کر دوسری بوتل لے کر بیٹھک میں آگیا اور اسد کو دے دی ۔ اسد بوتل پینے میں مصروف ھوگیا میں نے دو تین چکر اندر کے لگاے اور مہری کو باتوں میں مصروف دیکھ کر پھر بیٹھک میں آجاتا اور اسد کے ساتھ باتیں کرنے لگ جاتا اسد نے عظمی اور اسکی فیملی کے بارے میں پوچھا اور انکی امی کی غیرموجودگی کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ ان کے ماموں فوت ھوگئے ہیں تو آنٹی نے کل ھی آنا ھکھڑی ۔کچھ دیر میں اسد کے ساتھ گپ شپ کرتا رھا کہ مہری بیٹھک میں داخل ہوئی اور کہنے لگی یاسر چلو نہر پر چلتے ہیں ۔ میں نے کہا چلو۔ تو ہم تینوں گلی میں نکل آے اور پیدل ھی نہر کی طرف چلنے. لگے جب ہم عظمی کے گھر کے سامنے سے گزرنے لگے تو عظمی دروازے میں کھڑی ۔باہر ھی دیکھ رھی تھی میں نے عظمی کو گھورا اور غصے کے انداز میں بولا تم دروازے میں کھڑی کیا کررھی ھو ۔ تو عظمی بولی تمہیں کیا تکلیف ھے خود تو آوارہ گردی کرنے جارھے ھو عظمی کے اس جواب سے میں جھینپ سا گیا اور مہری کے سامنے مجھے اپنی بےعزتی سی محسوس ھوئی ۔ تو میں نے غصہ سے کہا بکواس مت کر آ لینے دو آنٹی کو ۔ تمہاری زبان بس میں کرواتا ھوں تو عظمی غصے سے بولی جا جو کروانا ای کروا لویں میں نئی ڈر دی کسے توں ۔ اس سے پہلے کہ میں مزید کچھ کہتا مہری بیچ میں ٹپک پڑی اور مجھے ڈانٹتے ھوے بولی یاسر کیا بتمیزی ھے کس طرح کا لہجہ اپنا رھے ھو بات کرتے ھوے پھر کیا ھوا اگر وہ دروازے میں کھڑی ھے تو میں نے دیکھا عظمی کی آنکھوں میں آنسو تھے جو وہ دوپٹے سے صاف کررھی تھی شاید اسکو بھی میرے اس لہجے سے اسد اور مہری کے سامنے بےعزتی کا احساس ھوا تھا۔ عظمی روتی ھوئی اندر چلی گئی تو میں آگے بڑھنے لگا تو مہری بولی ٹھہرو یاسر پہلے اپنی کزن سے سوری کرو وہ بیچاری کیسے روتی ھوئی اندر گئی ھے میں نے کہا چھوڑو یار چلو یہ اس کا روز کا کام ھے تو اسد بولا نھی یار تم نے اس بےچاری کے ساتھ ذیادتی کی ہے مہری نے میرا بازو پکڑا اور مجھے کھینچتی ھوئی اندر لے گئی عظمی کمرے میں تھی مہری مجھے لیے ھوے سیدھا کمرے میں لے گئی اسد بھی ہمارے پیچھے ھی کمرے میں آگیا عظمی چارپائی پر گھٹنوں میں سر دے کر روئی جارھی تھی مہری مجھے چھوڑ کر اس کے پاس جا بیٹھی اور مجھے گھورتے ھوے اسکو چپ کروانے لگ گئی اور مجھے کہنے لگی چلو سوری کرو اتنی پیاری گڑیا جیسی تمہاری بہن ھے اور تم نے اسے رولا دیا مہری نے جب لفظ بہن کہا تو عظمی نے ایکدم سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور میں بھی شرمندہ سا کھڑا اسے دیکھ رھا تھا مہری پھر بولی چلو سوری کرو سنا نھی تمہیں میں تھوڑا سا آگے بڑھا اور عظمی کو کہا سوری یار بس ایسے ھی غصہ آگیا تھا تو عظمی کچھ نارمل ھوئی تو مہری بولی چلو تم بھی ہمارے ساتھ ھی نہر پر چلتے ہیں تو میں نے کہا نھی مہری گھر میں کوئی نھی ھے اسکو گھر ھی رہنے دو تو مہری ضد کرتے ھوے بولی کچھ نھی ھوتا ابھی تو ہم نے آجانا ھے چلو عظمی بڑا مزہ آے گا عظمی میری طرف دیکھنے لگ گئی جیسے مجھ سے اجازت مانگ رھی ھو تو میں نے کہا مرضی ھے اسکی. آنا ھے تو آجاو عظمی نھی اوپر اوپر سے انکار کر رھی تھی تو مہری نے عظمی کا بازوں کھینچ کر چارپائی سے اسے اٹھاتے ھوے کہا کم ان یار عظمی اٹھنے ھی لگی تھی کہ ۔ ۔۔نسرین اندر داخل ہوئی اور مہری سے سلام دعا کرنے کے بعد بولی یاسر میں تمہارے گھر جارھی ہوں نازی کو لینے تو میں نے کہا ٹھیک ھے چلی جاو اور ایسا کرنا تم ادھر ھی رہنا جب میں واپس آوں گا تو تم لوگوں کو لے آوں گا تو نسرین بولی عظمی گھر میں اکیلی رھے گی تو میں نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ جارھی ھے تو نسرین. بولی ادھر ماموں جان فوت ھوے ہیں ادھر محترمہ کو سیر سپاٹے کی پڑی ھے ۔۔۔ تو مہری ہنستے ھوے بولی ریلیکس بےبی کچھ نھی ھوتا تم بھی چلو ہمارے ساتھ تو نسرین بولی توبہ توبہ اسکو ھی لے جاو اسکو ھی شوق ھے پھرنے کا تو عظمی بولی پونک نہ کُتی تو میں نے نسرین کو بازو سے پکڑا اور باہر لے آیا اور اسے سمجھا بجھا کر اپنے گھر بھیج دیا اور ہم چارو گھر سے نکل کر نہر کی طرف چل دیے جب ہم گلی کی نکڑ پر پہنچے تو مہری بولی ادھر ٹرین کی پٹری کی طرف سے چلتے ہیں فصلوں کے بیچ سے مجھے ڈر لگتا ھے تو میں نے کہا جیسے تمہاری مرضی مجھے اس دفعہ کچھ زیادہ خوشی نھی ھورھی تھی کہ مہری میرے ساتھ جارھی ھے پتہ نھی کیوں اسد اور عظمی کو لے کر میرا دماغ اپسیٹ ھوچکا تھا خیر ہم ایک ساتھ سڑک پر چل رھے تھے میرے دائیں طرف عظمی تھی اور بائیں طرف مہری اور مہری کے ساتھ اسد تھا ہم چلتے ھوے پٹری پر پہنچ گئے تو مہری بازو پھیلا کر گھومنے لگ گئی جیسے بڑی جنت میں آگئی ھو اور پھر شوخی سے پتھر اٹھا اٹھا کر باغ کی طرف پھینکنے لگ گئی ٹرین کی پٹری کی دوسری باغ تھا جو کہ نہر تک جاتا تھا اور دوسری سمت مکئی تھی ہم ایسے ھی چلتے ھوے نہر کی طرف جارھے تھے مہری اور عظمی کافی فرینک ھوگئی تھی عظمی کا اور اسد کا بار بار ایک دوسرے کو دیکھنا مجھے مذید پریشان کررھا تھا وقفے وقفے سے دونوں ہنسی مزاق بھی کرلیتے تھے جبکہ میں ایسے جارھا تھا جیسے کسی جنازے کے ساتھ جا رھا ھوں کچھ آگے چل کر مہری نے مکئی کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا کہ میں نے سٹے توڑنے ہیں میں نے کہا چلو توڑ لو اور مہری پٹری سے نیچے دوڑتی ھوئی مکئی کے کھیت کہ طرف چلی گئی مین بھی اسکے پیچھے ھی دوڑتا ھوا نیچے اتر آیا جبکہ عظمی اور اسد ابھی تک اوپر ھی کھڑے تھے ۔ میں پٹری سے نیچے اتر کر انکی طرف منہ کر کے بولا تم لوگ بھی آجاو کہ ادھر ھی کھڑے رہنا ھے تو اسد بولا نہ یار مجھے نھی شوق میں نے اپنے کپڑے گندے نھی کرنے اس پاگل کو لے جاو اور سٹے توڑ کے لے آو ۔۔ اور یہ کہتے ھوے اسد پٹری کے اوپر ھی پینٹ اونچی کر کے بیٹھ گیا عظمی ابھی تک کھڑی میری طرف دیکھ رھی تھی میں نے طنزیہ انداز میں اسے گھورتے ھوے کہا جناب نیچے تشریف لے آئیں گی کہ تمہارے کپڑے بھی گندے ھونے ھیں تو عظمی بولی میں نے نھی آنا جاو سڑیل انسان تو میں اسے گھورتا ھوا مہری کے پیچھے چلا گیا جو کھالے کے پاس کھڑی سوچ رھی تھی کے دوسری طرف کیسے جایا جاے ۔ میں نے مہری کے قریب پہنچ کر اسے کہا اب مارو چھلانگ دوسری طرف تو مہری بولی نہ بابا نہ مجھے ڈر لگتا ھے اسد اور عظمی پٹری پر مہری کی طرف دیکھ کر ہنس رھے تھے جبکہ عظمی کی ہنسی مجھے زہر لگ رھی تھی ۔ میں نے چھلانگ لگائی اور کھالے کی دوسری طرف چلا گیا اور مہری کو کہا تم بھی ایسے ھی چھلانگ لگا کر آجاو ۔مہری پھر بھی ڈر رھی تھی اور نفی میں سر ہلائی جارھی تھی میں نے کہا اچھا ایسے کرو میں سٹے توڑ کر پھینک دیتا ھون تو مہری بولی نھی میں نے اپنے ہاتھ سے توڑنے ہیں۔ کچھ دیر سوچتے ھوے میں نے کہا ایسا کرو کہ تم تھوڑا آگے چلو اور آگے جاکر ایک پُلی آے گی اسکے اوپر سے اس طرف آجانا تو مہری ہمممم کرکے آگے چل پڑی اور میں نے عظمی اور اسد کی طرف دیکھا جو ابھی تک مہری کا مزاق اڑا کر ہنس رھے تھے اور عظمی ابھی تک کھڑی ھی تھی ۔ میں نے بھی دل پر پتھر رکھ کر ان دونوں کو انکے حال پر چھوڑا اور مہری کے پیچھے چل پڑا جو کافی آگے جا چکی تھی ۔ آگے جاکر پلی آگئی تو مہری اسکے اوپر سے گزر کر مکئی کی طرف آگئی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی ابھی بھی ہماری طرف ھی دیکھ رھی تھی اور اسد اسے کچھ کہہ رھا تھا ہمارا اور ان دونوں کا فاصلہ کافی ذیادہ ھوچکا تھا مہری نے میرا ہاتھ پکڑا اور پگڈنڈی پر چلتے ھوے مکئی کے اندر چل پڑی دوستو یہ راستہ بھی اس طرف ھی جاتا تھا جدھر میں نے پھدیاں مارنے کی شروعات کی تھی ہم دونوں مکئ کے اندر داخل ھوگئے تھے اب نہ تو میں عظمی کو دیکھ سکتا تھا اور نہ ھی وہ لوگ ہم کو دیکھ سکتے تھے کچھ آگے آکر مہری بولی اس دن تم بھاگ کیوں گئے تھے میں نے کہا ویسے ھی بس تو مہری بولی مجھے پتہ ھے کہ تم کیوں بھاگے تھے میں نے کہا بتاو کیوں بھاگا تھا تو مہری بولی مجھ سے پیار کرتے ھو نہ اسکا ثبوت دینے کے لیے بھاگے تھے ورنہ تم چاھتے تو میرے ساتھ سیکس بھی کرسکتے تھے میں نے کہا مہری اگر میں کچھ کردیتا تو ۔۔۔۔ مہری بولی پہلی بات تو یہ تھی کہ اگر تم میرے ساتھ کچھ کرنے لگتے تو مین نے کرنے ھی نھی دینا تھا کیونکہ میں تو تمہیں آزما رھی تھی اور اگر تم ذبردستی کر بھی لیتے تو وہ ملاقات ہماری آخری ھونی تھی ۔۔ اس کے بعد میں نے تمہاری شکل نھی دیکھنی تھی میں نے رک کر مہری کے کندھوں کو پکڑ کر ہونٹ اس کے ہونٹوں کے پاس کرتے ھوے کہا۔ مہری تمہیں اندازہ بھی نھی ھے کہ میں تمہیں کتنا چاھتا ھوں I 💖 u مہری مہری کا جسم ایک دم کانپنے لگ گیا ہونٹ میری گرم سانسوں کی وجہ سے تھرتھرانے لگ گئے اور اسکے ساتھ ھی مہری نے ۔اپنے تھرتھراتے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے اور بازوں کے احصار میں مجھے لے کر کس لیا میں بھی عظمی اور اسد کو بھول کر مہری کے سحر میں جکڑ کر مہری کے ہونٹوں کو چوسنے لگ گیا،،، ۔۔۔ اسد۔۔ بس کریں وہ چلے گئے ہیں عظمی۔۔۔ ججی ۔اسد۔آپ کون سی کلاس میں پڑھتی ہیں ۔ عظمی۔۔۔ جججی ایٹ کلاس میں اسد ۔۔ واوووو گُڈ اسد۔۔۔۔ بیٹھ جائیں کھڑی کھڑی تھک جائیں گی انکو پتہ نھی کتنی دیر لگنی ھے ۔ عظمی ۔۔۔۔ جججی نھی ٹھیک ھوں میں۔ اسد۔۔عظمی کا ہاتھ پکڑتے ھوے۔ بیٹھ جائیں پلیز میرے پاس یا میں اس قابل نھی ھوں۔ عظمی یکلخت گبھراتے ھوے۔ پپلیز میرا ھاتھ چھوڑ دیں یاسر نے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچے گا۔۔ اسد عظمی کا ہاتھ کھینچ کر اسے پاس بیھٹانے کی کوشش کرتے ھوے۔ کچھ نھی ہوتا پلیزز کول ڈاون یاسر نھی آتا ابھی ۔ عظمی نخرے سے اسد کے ساتھ بیٹھتے ھوے، اچھا بیٹھتی ھوں مممگر میرا ھاتھ تو چھوڑ دیں ۔ اسد۔۔۔ آپکا ہاتھ اگر نہ چھوڑوں تو۔۔۔۔ عظمی ۔۔۔پلیزززز اسد ھاتھ چھوڑ دو اگر یاسر نے دیکھ لیا تو آپکو نھی پتہ کہ کونسی قیامت آجانی ھے ۔۔ اسد۔۔۔ ہاتھ کو چوم کر چھوڑتے ھوے آپ کے ہاتھ بہت پیارے ہیں چومنے کی گستاخی معاف۔۔ عظمی ۔۔ڈر کر یاسر کی سمت دیکھتے ھوے۔۔ ہاےےےے*****یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔۔ اسد۔۔۔ گستاخی کی معافی مانگ چکا ھوں دوبارا مانگ لوں۔۔۔ عظمی ہاتھ چھپاتے ھوے خود سمیٹتے ھوے۔۔ نھی نھی رہنے دیں رہنے دیں ۔ اسد۔۔مسکراتے ھوے ایک تو آپ ڈرتی بہت ھو یاسر ھے جن تو نھی ۔۔ عظمی ۔۔گبھراے ھوے ہاتھ کی انگلیوں کو چٹختے ھوے ۔۔ نھی ایسی تو کوئی بات نھی بس ویسے ھی ڈر لگتا ھے کہ وہ ہمارے بارے میں کیا سوچے گا۔۔ اسد۔۔ محفوظ ھوتے ھوے مسکرا کر۔۔ اچھا یہ بتائیں کہ میں آپکو کیسا لگتا ھوں اچھا کہ برا۔۔ عظمی ۔۔۔ججی آپ اچھے ھو۔ اسد ۔۔ بس اچھا ھی ہوں۔ عظمی پلیز آپ اس طرح کی باتیں نہ کریں میں ایسی ویسی لڑکی نھی ہوں جیسی آپ مجھے سمجھ رھے ھو۔۔ اسد۔۔۔ آپ کیسی لڑکی ھو بتاءیں نہ۔ عظمی چپپپپ اسد چلیں ہم باغ سے اتنی دیر امرود توڑ کر لاتے ہیں عظمی۔۔ ننننننھی آپ جائیں میں ادھر ھی ٹھیک ھوں۔ اسد ۔۔کم ان یار میں تمہیں کھا تو نھی جاوں گا۔۔ عظمی ۔۔۔ نھی میں نے کہا نہ کہ آپ جائیں ۔۔ اسد بات کاٹتے ھوے ۔۔ کیا آپ مہمانوں کے ساتھ اسطرح کا سلوک کرتی ہین۔ وہ یاسر کو دیکھو ایک دفعہ مہری نے کہا اور وہ اڑتا ھوا اسکے پیچھے چلا گیا یہ ھوتی ھے مہمان نوازی ۔۔ اور آپ ھیں کے نخرے کر رھی ھو، عظمی شرمندا سی ھوکر۔۔۔ جی چلیں ہم بھی کسی سے کم نھی ہیں ۔۔ اسد ۔۔عظمی کا ہاتھ پکڑے اٹھاتے ھوے باغ کی طرف جاتے ھوے چلیں پھر اٹھیں ۔۔۔۔ *************** میں نے مہری کو خود سے علیحدہ کیا اور اسے لے کر اپنی پرانی جگہ پر جا پہنچا اور ٹاہلی کے پیچھے لے جاکر پھر سے مہری کو جپھی ڈال لی مہری بولی یاسر اس جگہ کا کوئی آتا تو نھی میں نے کہا نھی ادھر کوئی نھی آتا، تو مہری پھر بولی یہ نہ ھو کہ اسد ادھر آجاے تو میں نے کہا اس نواب کے کپڑے گندے ھو جانے تھے وہ بھی نھی آتا اس کے ساتھ ھی میں نے مہری کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور ایک ہاتھ اس کے سوفٹ سے مموں پر رکھ کر دبانے لگا۔ مہری بے چین ھو کر اپنی پھدی کو میرے کھڑے لن کے ساتھ رگڑنے لگی کچھ دیر ہم ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رھے میں نے ہاتھ نیچے کیا اور مہری کی شرٹ اٹھا کر اوپر کردی اور مہری کے گول مموں کو بریزیر کے اوپر سے ھی مسلنے لگ گیا مہری آہیں بھر رھی تھی میں نے مہری کے ہونٹ چھوڑے اور سر نیچے کر کے مہری کے بریزیر کو اوپر کیا اور اس کے گلابی نوک والے چٹے مموں کو باری باری منہ میں ڈال کر چوس چوس کر لال کررھا تھا مہری میرے سر کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر مموں کی طرف دبا رھی تھی میں نے ایک ھاتھ نیچے لیجا کر مہری کی شلوار میں ڈال دیا اور مہری کی ملائم پھدی پر رکھ کر پھدی کو مسلنے لگا مہری کی پھدی جو گیلی ھو چکی تھی میری انگلیاں بھی گیلی ھو رھی تھی ۔ مہری کی بےچینی بڑھتی جارھی تھی مہری میرے ہاتھ کا لمس پھدی پر برداشت نھی کر پارھی تھی میں نے کچھ دیر مہری کی پھدی کو مسلا اور ھاتھ پیچھے لیجا کر اسکی شلوار گانڈ سے نیچے کی اور مہری کا منہ دوسری طرف کر دیا مہری ننگی گانڈ میری طرف کیے دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ھوگئی میں نے آگے ھاتھ لیجا کر مہری کے شرٹ کے نیچے سے ڈال کر اسے ننگے ممے پکڑ لیے اور مسلنے لگا ۔۔ مہری نے اپنے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں پر رکھے تھے جو اس کے ممے مسل رھے تھے مہری کی شرٹ جو پہلے اوپر تھی سائڈ تبدیل کرنے کی وجہ سے نیچے ھوچکی تھی میرا لن اسکی شرٹ کو بھی اسکی گانڈ کی دراڑ میں گُھساے ھوے تھا میں نے مہری کا ایک مما چھوڑا اور ہاتھ نیچے لیجا کر اپنا نالا کھولا اور میری شلوار میرے پاوں میں گر گئی اور میں نے مہری کی قمیض کو اسکی گانڈ سے اوپر کیا اور لن اسکی گانڈ کی دراڑ میں ڈال کر اسکے چڈوں کی طرف گھسہ مارا لن مہری کی گانڈ کی دراڑ سے ھوتا ھوا اسکی پھدی کے نرم نازک ہونٹوں کو چومتا ھوا رگڑتا ھوا آگے چلا گیا مہری میری اس اچانک حرکت سے گبھرا گئی اور بولی یاسررررر کیا کرنے لگے ھو میں نے کہا میری جان مجھ پر بھروسہ رکھو اندر نھی کرتا اگر اندر کرنا ھوتا تو اس دن ھی کر دیتا۔ مہری بولی یاسر یہ نہ ھو کہ اندر چلا جاے میں نے کہا مجھ پر یقین نھی تو مہری بولی یقین نہ ھوتا تو بات یہاں تک کیسے پہنچتی تو میں نے کہا بس پھر سکون سے کھڑی رھو اور مزہ لو مہری چہ کر گئی تو میں نے لن مہری کے چڈوں میں اندر باھر کرنا شروع کردیا لن پوری طرح مہری کی پھدی کو رگڑ رھا تھا مہری بھی مزے سے سسک رھی تھی اور گانڈ میرے ساتھ جوڑ رھی تھی مہری کی گانڈ اتنی نرم تھی کہ میں جب گھسا مارتا تو مہری کی گانڈ کا گوشت اندر کی طرف چلا جاتا اور مہری سسک جاتی کچھ دیر بعد مہری نے اپنا ہاتھ نیچے پھدی کے پاس کر لیا اور میرے ٹوپے کو اسکی انگلیاں چھوتی تو مجھے مزید جوش چڑھتا مہری نے پھدی کے اوپر ہاتھ ھی ایسے رکھا ھوا تھا کہ میرا لن اوپر سے اسکی پھدی کو رگڑتا اور لن کا نچلا حصہ مہری کی ہتھیلی سے رگڑتا میں مزے کی اتھاء گہرائیوں میں ڈوبتا جا رھا تھا ادھر مہری کا حال بھی مجھ سے جدا نہ تھا وہ بھی لن کو پھدی کے ساتھ مسلسل رگڑنے کے لیے لن کو اوپر کی طرف کر دیتی جس سے لن پھدی کے نازک لبوں میں سے ھوتا ھوا ہڈی کو ٹچ کرتا مہری کو ایک دم جوش چڑھا اور گانڈ پیچھے کو کر کے لن کو پھدی کے ساتھ لگا کر ٹانگوں کو بھینچ لیا اور جھٹکے کھانے لگی اسکی پھدی سے گرم منی میرے لن کے اوپر والے حصے سے بہتی ھوئی اسکے چڈوں کو گیلا کرتے ھوے نیچے اسکے پیروں کی طرف جارھی تھی ۔ مہری لمبے لمبے سانس لے رھی تھی ادھر مجھے بھی جوش چڑھ گیا میں ایسے ھی بھینچے ھو چڈوں میں گھسے مارنے لگ گیا اور مہری کو کہا مہری پلیز کچھ دیر ایسے ھی رھنا اور تیز تیز گھسے مارتا ھوا اسکے چڈوں میں ھی لن سے منی کی بارش شروع کردی اور کس کے مہری کے دونوں مموں کو ھاتھ میں پکڑ لیا اور اسکی گردن کو ہونٹوں میں بھرنے کی کوشش کرنے لگ گیا ۔۔ کچھ دیر بعد دونوں ریلیکس ھوے اور مہری نے چار پانچ سٹے توڑے اور واپس جانے لگے ************** اسد اور عظمیٰ کے درمیان ہونے والا یہ مکالمہ مجھے بہت بعد میں عظمیٰ کی ہی زبانی پتا چلا۔ مگر قارئین کے لیے میں یہیں درج کر رہا ہوں تاکہ وہ ٹھیک سے ساری بات سمجھ سکیں۔ اسد ۔۔۔ عظمی کا ھاتھ پکڑتے ھوے پٹری سے نیچے اترتے ھوے۔۔ دھیان سے اترنا کہیں گر نا جانا۔۔ عظمی ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں۔۔ نھی گرتی پلیز میرا ھاتھ چھوڑ دو مجھے ڈر لگ رھا میں جا تو رھی ھوں آپ کے ساتھ۔۔۔ اسد۔۔۔ باغ میں داخل ھوتے ہوے،، آپ کو کون سے امرود پسند ہیں ۔ عظمی ۔۔اسد کے ساتھ ساتھ چلتے ھوے۔ میں امرود نھی کھاتی ۔۔ اسد۔۔ مسکراتے ھوے عظمی کے مموں کی طرف دیکھتے ھوے ۔ ویری بیڈ اس کا مطلب ھے کہ امرود مجھے ھی توڑنے پڑیں گے عظمی ۔۔۔۔اسد کی نظروں کو سمجھتے ھوے۔ آپ مرد ہو تو امرود توڑنے کا کام مردوں کو ھی اچھا لگتا ھے ۔۔ عظمی ۔۔شرماتے ھوے۔۔ تو پھر توڑ لیں امرود کس نے روکا ھے اسد۔۔۔۔معنی خیز نظروں سے عظمی کے مموں کو دیکھتے ھوے ۔۔ اگر میں امرود توڑوں گا تو باغ کے مالک کو اعتراض تو نھی ھوگا۔۔ عظمی ۔۔نخرے اور اترا کر بولتے ھوے ۔۔۔۔ اس باغ کے مالک اتنے سنگدل اور کنجوس نھی کہ مہمانوں کے ہاتھ روکیں گے ۔۔ اسد ۔۔ شوخی سے بھوکھی نظروں سے مموں کو تاڑتے ھوے۔۔ دیکھ لیں بعد دیکھتا مالک اپنی اس ثقافت کو بھول جاے ۔۔ عظمی۔۔ فخر سے گاوں کی ثقافت زبان پر چلتی ھے گاوں والے زبان کے پکے ہوتے ہیں۔۔۔ اسد۔۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر دونوں مموں کو پکڑ کر دباتے ھوے واہ کیا زبردست نرم امرود ہیں ایسے امرود تو زندگی میں پہلی دفعہ دیکھے ہیں اور پہلی دفعہ ایسے نرم نازک امرودوں کو پکڑنے کا شرف حاصل ھوا ھے ۔۔ عظمی گبھرانے کی ایکٹنگ کرتے ھوے اسد کے ہاتھ پکڑ کر۔۔۔ سسییییی چھوڑیں یہ کیا بتمیزی ھے کیون مجھے بدنام کرنے پر تلے ھوے ہیں یہ آپکا شہر نھی گاوں ھے یہاں کسی نے دیکھ لیا تو دونوں کو چوک میں کھڑا کر کے قتل کردیں گے ۔۔ اسد ۔۔نڈر پن کا مظاہرہ کرتے ھوے عظمی کا ہاتھ جھٹکتے ھوے۔ ایسے نرم نازک حسن کی دیوی کے لیے ہزار جانیں قربان ہیں،، ۔۔۔ عظمی ۔۔ آنکھیں موندھتے ھوے۔۔ اسد پلیز یہاں سے چلو میرا دل گبھرا رھا ھے پلیززززز چھوڑ دو نہ ۔۔ اسد ۔۔۔عظمی کے ممے مسل کر چھوڑ تے ھی اسے جپھی ڈال کر ہونٹوں کو چومتے ھوے۔۔ عظمی پلیز مجھے آج نہ روکو صبح جب تمہیں پہلی دفعہ دیکھا تو تب سے میں تمہارے اس سیکسی جسم اور تتمہارے شربتی ہونٹوں اور یہ ساگر جیسی آنکھوں کا دیوانہ ھوگیا ھوں پلیززز مجھے ان ساگر سی آنکھوں ڈوبنے دو مجھے ان شربتی ہونٹوں کو پینے کا شرف دو مجھے اس سیکسی جسم کو چھونے سے مت روکو میں صبح سے تڑپ رھا ھوں ۔۔۔ عظمی یکدم گبھراتے ھوے اپنا آپ چھڑواتے ھوے ۔۔۔ نھی اسد یہ ظلم مت کرو اگر تم مجھے چاھتے ھو تو میری عزت مت خراب کرو نہ یہ جگہ سہی ھے اور نہ یہ موقع یہاں کوئی بھی آسکتا ھے اور یاسر لوگ بھی کسی وقت آسکتے ہین ۔۔ ابھی مجھے چھوڑ دو پھر جدھر موقع ملا میں تمہیں نھی روکوں گی پلیزززززز۔۔۔۔ اسد ۔۔۔۔جپھی کو کس کر عظمی کے مموں کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچتے ھوے سر کو جھکا کر عظمی کے گلابی ھونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ھوے ۔۔۔ عظمی بس ایک کس کرنے دو پھر چھوڑ دوں گا ۔۔۔ عظمی۔۔۔۔ کانپتے ہونٹ کھولتے ھو ے ۔۔ اسد ۔۔۔۔۔ عظمی کے کانپتے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرتے ھوے لمبا سا چوسا لگا کر چھوڑتے ھوے ۔۔۔۔ بس اب خوش چلو چلیں ۔۔۔ عظمی۔۔۔اپنے ہونٹوں سے اسد کا تھوک صاف کرتے ھوے ۔۔ گندا ۔۔۔۔ اسد۔۔۔شوخی سے اچھا جی ۔۔۔ عظمی شرماتے ھوے ۔۔۔ ھاں جی ۔ اسد ۔۔عظمی کے ساتھ باھر کی طرف چلتے ھوے۔۔ کب ملو گی ۔ عظمی شرما کر نیچے دیکھتے ھوے۔۔۔ پتہ نھی ۔۔ اسد۔۔۔۔ کسے پتہ ھے۔ عظمی۔۔ آپکو پتہ ھوگا۔۔۔ اسد۔۔۔ میں تو کہتا ھوں چلو میرے ساتھ ھی ۔۔۔ عظمی ۔۔۔ ذیادہ گرم گرم نھی کھاتے منہ جل جاتا ھے۔۔ اسد۔۔۔ جلنے دو میرا منہ ھے نہ کوئی بات نھی ۔۔۔ عظمی ۔۔۔ بڑے تیز ھو آپ اسد ۔۔ وہ کیسے جی ۔ عظمی۔۔۔ پہلی ملاقات میں اتنا کچھ کرلیا توبہ توبہ ۔۔۔ اسد ۔۔۔ اتنا کچھ کیا کیا ھے بس ان شربتی ہونٹوں کا ایک گھونٹ ھی بھرا ھے ورنہ تو میرا ارادہ تھا کہ ان کا سارا شربت نگھل جاتا۔۔ عظمی ۔۔۔ بڑی باتیں بنانی آتی ہیں آپکو لگتا ھے کافی لڑکیاں اپنی ایسی باتوں سے امپریس کی ھونگی۔۔۔ اسد ۔۔۔۔ جونسی مرضی قسم لے لو تمہارے علاوہ کسی کو چھوا بھی ہو تو۔۔۔۔ عظمی ۔۔ادا دیکھاتے ھوے ۔۔ بڑی گل اے ویسے ماننے میں نھی آتی بات۔۔ اسد پٹری پر چڑھتے ھوے۔۔ مرضی ھے آپکی نہ مانیں یہ تو آپ کے حُسن کی مہربانی ھے جس نے پہلی ھی نظر میں مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا اور یہ دیوانہ اس حسن کے پیچھے یہاں تک چلا آیا۔۔۔ عظمی ۔سرخ ھوتے ھوے۔۔ بس بس اب اتنا بھی نہ بنائیں کہاں آپ وڈے وڈے لوگ کہاں ہم چھوٹے لوگ کہاں آپ کوٹھیوں میں رہنے والے کہاں ہم جھونپڑی میں رہنے والے اسد ۔۔۔۔ عظمی کے ہونٹوں پر ھاتھ رکھتے ھوے ۔۔۔ عظمی پلیزززززز دوبارا یہ بات کر کے مجھے شرمندہ مت کرنا میرے پیار کو گالی مت دینا عشق امیری غریبی نھی دیکھتا اونچ نیچ نھی دیکھتا ۔بادشاہ فقیر نھی دیکھتا بس یہ ھوجاتا ھے اور جس سے ھوتا ھے تو اس عاشق کے لیے ۔ اسکا معشوق مجازی ھوتا ھے سب کچھ اسکے لیے قربان کردیتا ھے عظمی آنکھیں پھاڑے دیکھتے ھوے ۔۔۔۔ اسد پلیز مجھے ایسے خواب مت دیکھو جو پورے نہ ھوسکیں ۔۔ اسد۔۔۔۔ عظمی تم آزما کر دیکھ لینا تمہارے لیے یہ اسد کیا کرسکتا ھے ہر کسی سے ٹکرا سکتا ھے ۔۔ عظمی پٹری کے اوپر پہنچتے ھوے یاسر کی سمت دیکھ کر ۔۔۔ بات کو پلٹتے ھوے۔۔ دیکھو انکو ابھی تک نھی نکلے۔۔ اسد۔۔۔ نھی نکلے تو ہمارا ھی فائدہ ھے مجھ خوش نصیب کو تمہاری قربت نصیب ھوئی عظمی پھر ادھر دیکھتے ھوے،،، ۔۔ لگتا ھے وہ آرھے ہیں ۔آپ ادھر بیٹھ جائیں یاسر بہت شکی مزاج ھے ۔۔۔ اسد ۔۔ جلدی سے پٹری کے اوپر بیٹھتے ھوے۔۔ جو حکم میرے بادشاہ کا۔۔۔ عظمی ۔۔اداوں سے ہاتھ کا اشارہ کرتے ھوے۔۔۔ چل شوخا۔۔۔ اسد ۔۔دل پر ھاتھ رکھتے ھوے ۔۔ھاےےےےےے مار سُٹیا ای۔۔۔ ************ میں مہری کو لے کر جیسے ھی باہر نکلا تو عظمی ابھی تک ویسے ھی کھڑی ہماری طرف دیکھ رھی تھی اور اسد بھی اسی جگہ بیٹھا ھوا تھا میں تو اچانک مکئی سے نکلا تھا کہ شاید یہ دونوں کوئی حرکت کررھے ھوں ۔ مگر وہ تو ویسے کے ویسے ھی بیٹھےتھے مجھے اپنے آپ پر غصہ آنے لگ گیا کہ خامخواہ ھی بیچاری عظمی پر شک کیا اور وہ بیچاری کیسے میری طرف دیکھ کر بے چینی سے انتظار کررھی ھے یہ ھی سوچتے ھوے ہم ان دونوں کے پاس پہنچے ۔۔ تو عظمی مجھ پر برس پڑی کہ اتنی دیر سے کھڑی ھو ھو کر میری ٹانگیں درد کرنے لگ گئی ہیں تو میں نے کہا بیٹھ جاتی یار تمہیں کسی نے منع کیا تھا۔۔ اسد بولا یار تمہاری کزن تو بہت ھی سنجیدہ طبعیت کی مالک ہے محترمہ بات کرنا بھی گوارہ نھی کرتی ۔۔ تو مجھے عظمی پر فخر ھونے لگا کہ اچھا کیا جو اسے گھاس نھی ڈالی اور میں عظمی کی وفاداری کو دل ھی دل میں سراہنے لگا اور خود کو ایک بات پھر کوسنے لگا کہ جیسے خود ھو ویسے ھی عظمی کو سمجھنے لگ گئے مہری نے نہر پر جانے کا فیصلہ بدل لیا اور واپس جانے کا اصرار کرتے ھوے گھر کی طرف چل دی. مجبوراً ہمیں بھی اسکی تقلید میں چلنا پڑا۔۔ گھر پہنچ کر اسد اور مہری باہر سے ھی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر باے باے کرتے ھوے چلے گئے اور میں کچھ دیر گھر میں ھی رھا تو نازی نسرین اور عظمی کو ساتھ لیے ان کے گھر چلی گئی اور مجھے جلدی آنے کی تاکید کی میں انکے جانے کے بعد واش روم میں گھس گیا اور نہا کر انھی کپڑوں میں باہر آیا اور ٹائم دیکھا تو ابھی چھ بجے تھے تو میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا اور سوچوں میں گم ھوگیا کہ اچانک میرے دماغ میں فرحت کا خیال آیا کہ اسنے تو مجھے آج آنے کا کہا تھا فرحت کا خیال آتے ھی میں ۔
  5. 4 points
    کہانی اچھی جا رہی ہے۔ کہانی کا یہ موڑ جہاں فوزیہ آنٹی کے ساتھ سیکس ہوا مجھے کوئی خاص پرلطف نہیں لگا۔ اس کی دو وجوہات ہیں،اول،یہ کہ جب پہلے وہ بیٹی کی لے چکا تھا تو ماں میں خاص جاذبیت ہونا اتنا عام نہیں۔ یہ کم ہی ہوتا ہے کہ بیٹی سے ماں زیادہ بہتر ہو۔اس کی گفتگو بھی کہیں انتہائی شفیق عورت والی ہے تو سیکس کے وقت بالکل ایک کردار باختہ عورت والی۔ ایک ہی کردار میں تضاد ہے۔فرحت آنٹی کی واپسی کی امید بھی تھی اور اب نسرین سے بھی ٹانکا بھڑنے کی امید ہے۔ جبکہ مہری والا سین اچھا جا رہا ہے،امید ہے کہ اسے آپ بہتر انداز میں آگے چلائیں گے۔ کہانی میں کسی ٹوئسٹ کی ضرورت ہے تاکہ ایک کے بعد ایک سیکس سین سے یکسانیت نہ محسوس ہو۔
  6. 4 points
    سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے میں فورم پر بس اتنی دیر ہی آن لائن ہو پاتا ہوں جتنی دیر میں کوئی اپڈیٹ کرنی ہو۔ اس کے علاوہ میں آ نہیں پاتا۔ اسی وجہ سے یہ کہانی پڑھنے میں مجھے تاخیر ہو گئی۔ آج میں نے خاص طور پر وقت نکال کر مکمل کہانی پڑھی ہے اور مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔ چھوٹی موٹی غلطیاں وہ املا کی ہوں یا پوسٹنگ کی،وہ اہم نہیں ہیں۔ اصل بات ہے کہانی لکھنے کی مستقل مزاجی کی۔ میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ درخواست کرتا ہوں کہ ایسے ہی کہانیاں لکھتے رہیں اور ہم سے شئیر کرتے رہیں۔ بہت عمدہ جناب۔ جہاں تک انسسٹ کی بات ہے یہ انتہائی گھٹیا سوچ کی عکاسی ہے۔ سیکس اور انسسٹ میں کوئی چیز مشترک نہیں،سیکس قدرتی عمل ہے اور انسسٹ حیوانی،دونوں کو ایک ہی طرز سے سوچنا بالکل درست نہیں۔ جہاں تک کسی عورت کو باجی ،منہ بولی بہن یا آنٹی کہنا مگر اس کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کی بات ہے تو یہ اس دنیا میں سب سے زیادہ کامن چیز ہے اور یہ ہوتا ہے۔ کہانی کی کچھ چیزیں بہت عمدہ ہیں،جیسے صدف کا پہلے انکار کرنا مگر اپنے سے کم عمر لڑکے سے سیکس کروا لینا۔اسی طرح عظمیٰ کا دوستی میں جب فری ہونا دکھایا گیا تھا تو اس سے سیکس ہو جانا عین فطری تھا۔ میرے مطابق عظمیٰ سے سیکس کہیں پہلے ہو جانا چاہیے تھا اور ایسا عام طور پر کم ہی ہوتا ہے کہ لڑکے کا کسی لڑکی کے ساتھ جسمانی مذاق یا چھیڑ چھاڑ تک کا تعلق ہو تو درمیان میں مہینوں کا وقفہ آ جائے اور وہ دونوں ایسا نہ کریں۔ کہانی میں درج ہے کہ نسرین اور صدف کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پایا، مگر ایسے عاشق ہر مشکل کو دور کر کے اپنی منزل پر پہنچ کر ہی رکتے ہیں۔ زبردست جناب زبردست
  7. 3 points
    ۔۔update میں نے جلدی سے صدف کی پھدی سے لن نکالا اور چارپائی سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا صدف بھی گبھرا کر جلدی سے اٹھی اور دونوں اپنے اپنے کپڑے پہن کر آگے پیچھے کمرے سے نکل کر صحن میں آگئے تو دروازہ پھر کھڑکا اور ساتھ ھی ایک آواز آئی جسے سن کر ہم دونوں کی ہنسی نکل گئی اور ہنس ہنس کر بُرا حال ھوگیا میں آگے بڑھا اور دروازہ کھولا تو سامنے ایک بچی کندھے پر گندہ سا بیگ لٹکاے سدائیں دے رھی تھی اور خیرات مانگ رھی تھی میں نے اسے غصے سے کہا یہ کیا بتمیزی ھے کسی کا دروازہ ایسے کھٹکھٹاتے ہیں ۔تم تو ایسے کر رھی ھو جیسے ہم سے قرض لینا ھے تو وہ بولی بابو ***کے نام کا مانگ رھی ہوں آٹا ھی دے دو اتنی دیر میں صدف پلیٹ میں آٹا ڈال کر لے آئی اور اس بچی نے اپنے کندھے سے لٹکایا ھوا میلا سا تھیلا آگے کیا اور اسکا منہ کھول کر پلیٹ اس میں انڈھیل دی ۔ میں نے دروازہ بند کیا اور ہم دونوں آگے پیچھے چلتے دوبارہ کمرے میں آگئے صدف نے اندر آتے ھی مجھے چارپائی پر دھکا دیا تو میں جان بوجھ کر چارپائی کے اوپر ایسے گرا جیسے واقعی اس کے ھی دھکے سے میں گرا ھوں تو صدف میرے اوپر لیٹ کر میرا گلا دبانے کی ایکٹنگ کرتے ھوے بولی یاسر کے بچے تم دوبارہ پھر میرے اندر ھی فارغ ھوے ھو نہ تو میں نے کہا یار میرا گلا تو چھوڑو پھر ھی بتاوں گا تو صدف نے ھاتھ میرے گلے سے ہٹاے اور میرے منہ کی طرف دیکھ کر میرے جواب کا انتظار کرنے لگی میں نے کھنگارہ بھرا اور بولا یار پہلے ھی اندر فارغ ھوا تھا دوسری دفعہ میرا لن خود ھی باھر آگیا تھا ۔۔ صدف بولی جھوٹ مت بولو یاسر مجھے خود محسوس ھوا تھا کہ تم میرے اندر ھی فارغ ھوے تھے میں نے کہا نھی یار جہاں تک مجھے پتہ ھے کہ فارغ ہوتے وقت لن باھر نکل آیا تھا۔۔ صدف بولی میں کہہ رھی ھوں کہ تم میرے اندر ھی فارغ ھوے ھو۔ تو میں نے ہنستے ھوے کہا کہ ھو سکتا ھے تو صدف پھر میرا گلا دبانے کے لیے مجھ پر جھپٹی مگر میں نے خود کو بچاتے ھو اسکے ھاتھ پکڑے اور اسکو گھما کر اپنے نیچے کر لیا ۔میں نے اسکے دونوں ھاتھ کلائیوں سے پکڑے ھوے تھے اور میری ٹانگیں اسکی ٹانگوں کے بیچ تھی اور میرا سویا ھوا لن اسکی پھدی کے اوپر لگا ھوا تھا ۔ صدف پورا زور لگا کر مجھ سے اپنا آپ چُھڑوا رھی تھی اور مجھے کہہ رھی تھی اگر کچھ الٹا سیدھا ہوگیا نہ تو میں نے تمہارے گھر آجانا ھے پھر تم جانو اور تمہارا کام میں اسے تسلیاں دے رھا تھا کہ یار گبھراو نہ کچھ نھی ھوتا۔ کچھ دیر ہم یونہی زور آزمائی کرتے رھے ۔ آخر صدف تھک ہار کر لمبے لمبے سانس لینے لگی اور ساتھ ھی اپنا جسم بھی ڈھیلا چھوڑ دیا ۔۔ میں اسکے اوپر لیٹا رھا اور اس سے بولا صدف یار تمہاری پھدی ھی اتنی گرم ھے کہ مجھے پتہ ھی نھی چلتا کہ میں کب فارغ ھوجاتا ھوں ۔۔ تو صدف برا سا منہ بنا کر بولی آئندہ میں تمہیں کچھ کرنے دوں گی تو ھی اندر فارغ ھوگے نہ ۔ تو میں نے کہا۔ یار تم میرے بغیر رھ لو گی تو وہ بڑے اعتماد سے بولی ھاں رھ لوں گی تو میں نے کہا تمہارا جب دل کرے گا کچھ کرنے کو تو پھر کیا کرو گی۔۔ صدف بولی۔ میرا دل نھی کرتا۔۔ میں نے کہا سوچ لو۔ تو وہ بولی سوچ لیا۔ میں نے کہا اگر میرا دل کیا کرنے کو تو میں کیا کروں گا۔۔ تو وہ بولی یہ تمہارا مسئلہ ھے میرا نھی۔ میں نے کہا سوچ لو۔ وہ پھر اعتمادی انداز میں بولی سوچ لیا۔ میں نے کہا مجھ سے تو نھی رھا جانا۔ صدف بولی۔ تو میں کیا کروں۔ میں نے کہا پھر میں کسی اور لڑکی کے ساتھ یہ کام کرلوں گا پھر تم ناراض مت ھونا۔۔ صدف ایک دم مجھ پر پھر جھپٹی اور غصے سے بولی تیری جان ناں کڈ دیواں گی کسے ہور کُڑی ول ویکھیا وی۔ تو میں اپنا بچاو کرتے ھوے بولا ۔ پھر تم ھی بتاو میں کیا کروں۔ صدف بولی تم نے کسی اور لڑکی کے بارے میں سوچا بھی کیسے کیا میں تمہارے لئے کھلونا ھوں کہ جب دل کیا کھیل لیا جب دل کیا توڑ کر پھینک دیا۔ اور ساتھ ھی رونے لگ گئی ۔ تو میں اسے پچکارتے ھوے بولا۔ یار مزاق کررھا ھوں تمہارے علاوہ تو کسی اور کی طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ھوں ۔ کچھ دیر میرے مسکے سننے کے بعد صدف نارمل ھوگئی میں نے پھر کہا اب بتاو نہ کہ جب میرا دل کیا کرے گا تو پھر میں کیا کروں گا۔ تو وہ شرما کر بولی جو ابھی میرے ساتھ کیا تھا وہ ھی کرو گے۔ تو میں بولا کس کے ساتھ۔ تو وہ پھر چیخ کر میری طرف مکا لہراتے ھوے بولی میرے ساتھ ۔ تو میں نے کہا۔ مجھ سے تو اب باہر نھی فارغ ھوا جاتا ۔ تو کچھ گبھرا کر بولی یاسر تمہیں میری عزت کی پرواہ نھی ھے کیا۔ تو میں نے کہا بلکل ھے بلکہ اپنی عزت سے بڑھ کر تمہاری عزت کی فکر ھے۔ تو صدف بولی پھر اندر فارغ ھونے کا کیوں کہتے ھو۔ تو میں نے کہا ایک طریقہ ھے جس سے میں اندر بھی فارغ ھوجاوں گا اور تمہیں کچھ ھوگا بھی ۔نھی ۔ تو صدف جلدی سے بولی وہ کونسا۔ تو میں کچھ دیر چپ رہنے کے بعد بولا اسکے لیے بس تمہیں کچھ دیر کے لیے تکلیف سہنا پڑے گی ۔ تو وہ حیران ہوتے ھوے بولی کیا مطلب میں سمجھی نھی ۔ تو میں نے کہا جب کریں گے تو بتاوں گا ۔ تو صدف استفسار کرنے لگی کہ ابھی بتاو مجھے نھی پتہ ۔ وہ کافی تجسس کا شکار تھی ۔ میں نے کہا یار ابھی کیسے بتاوں جب کریں گے تو تب ھی بتاوں گا نہ ۔ تو صدف جلدی سے بولی ابھی کر لو۔ تو میں نے اپنے لن کی طرف اشارہ کیا کہ ابھی یہ دو دفعہ فارغ ھو چکا ھے اب یہ کھڑا ھوگا تو ھی کروں گا۔ تو صدف بولی. مجھے نھی پتہ جیسے مرضی اس کو کھڑا کرو۔ میں کچھ پل سوچنے کے بعد بولا ۔ اسے ا ب تم ھی کھڑا کر سکتی ھو۔ تو صدف بولی وہ کیسے۔ میں نے کہا اپنے ہونٹوں سے اپنی زبان سے جیسے پہلے کیا تھا۔ صدف بولی نہ بابا اب تو یہ گندہ ھے ۔ میں نے کہا تو پھر رھنے دو جب صاف ھوا تو بتا دوں گا۔ تو صدف ایکدم بولی نھی نھی میں کرتی. ھوں کچھ اور یہ کہتے ھوے اس نے مجھے اپنے اوپر سے اٹھنے کو کہا ۔ تو میں اسکے اوپر سے اٹھ کر اسکے ساتھ لیٹ گیا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ اور شلوار کے اوپر سے ھی لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا جس میں پہلے سے کچھ جان پڑ چکی تھی ۔ صدف لن لو پکڑ کر مٹھی بھرنے لگ گئی لن میں ہلکی سے جنبش پیدا ھونے لگی ۔ تو صدف دوسرے ھاتھ سے میرا نالا کھولنے لگ گئی نالا کھول کر اس نے میری شلوار نیچے کی اور میرے لن کو باہر نکال کر غور سے ادھر ادھر کر کے دیکھنے لگ گئی اور لن کو میری شلوار سے اچھی طرح صاف کرکے اس کے ٹوپے کو چومنے لگ گئی ۔ لن آہستہ آہستہ جھٹکے کھاتا ھواجوبن میں آنا شروع ھوگیا صدف کے ہونٹوں کالمس لن میں سختی پیدا کررھا تھا اور صدف بھی لن کو لولی پاپ سمجھ کر چوس رھی تھی آخر کار صدف کی محنت رنگ لائی اور لن فل تن کر پھنکارنے لگ گیا صدف نے جب لن کو پورے جوبن میں دیکھا تو ٹوپے کو منہ لیے اپنی لمبی پلکوں کی چادر کو آنکھیں سے ہٹا کر میری طرف بڑے فخریہ انداز سے دیکھا جسے کے ٹو کی چوٹی فتح کرلی ھو۔ اور پھر لن کو منہ کے اندر کرنے لگی آدھے سے کم ھی لن وہ منہ میں لے سکی اور اسی طرح جتنا لن وہ منہ میں لے سکتی تھی اتنا ھی لے کر ہونٹوں سے بھینچ کر اند باہر کرنے لگ گئی میں بھی مزے کی گہرائیوں میں ڈوبنے لگ گیا۔ کچھ دیر صدف میرے لن کے ساتھ کھیلتی رھی جب اسکا شوق پورا ھوگیا تو میری طرف دیکھ کر بولی بسسسسس میں نے اثبات میں سر ہلایا اور صدف کو کھینچ کر اپنے ساتھ لٹا کر اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگ گیا اس کے ممے دبانے لگ گیا اور اسکی قمیض اوپر کر دی اور اسے اتارنے کو کہا تو صدف نے اتارنے کا انکار کردیا اور ویسے ھی کھینچ کر مموں سے اوپر کر کے گلے تک کر لی میں اوپر اٹھا اور صدف کی شلوار کو پکڑ کر نیچے کھینچ کر اسکے پیروں سے نکال دی صدف نے جلدی سے اپنی ٹانگیں کھولی لی اور پھدی میرے سامنے کردی میں نے نفی میں سرہلاتے ھوے اسے کہا ایسے نھی الٹی لیٹو تو صدف بولی ایسے ھی کرلو میں نے کہا ایسے تمہیں درد ذیادہ ھوگی ۔ تو صدف حیرانگی سے بولی پہلے بھی تو کرتے ھو کونسا نیا کرنا ھے ۔ میں نے طنزیہ انداز سے ہنستے ھوے کہا تم الٹی تو ھو پھر بتاتا ھوں تو صدف حیران ھوکر میری طرف دیکھتے ھوے الٹی لیٹ گئی میں نے اسکی گانڈ کے پاس منہ کیا اور اس کے چوتڑوں کو کھول کر تھوک کا گولا اسکی موری پر پھینکا تو صدف تھوڑی سی ہلی اور ساتھ ھی میں نے انگھوٹا اسکی گانڈ کی موری پر رکھ کر تھوک کو موری کے اوپر جزب کرنے لگ گیا اور اسی دوران انگوٹھے کا پورا اندر چلا گیا تو صدف نےایک دم سائڈ تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ھوے بولی یہ کیا کررھے ھو ۔ تو میں نے اسکی گانڈ کو ادھر ھی دباتے ھوے کہا کچھ نھی۔ ہوتا صبر تو کرو .صدف بولی کچھ الٹا سیدھا نہ کرنا۔۔ بتا رھی ھوں، ۔ میں اسکی بات کو نظر انداز کر کے اپنے لن کو تھوک سے اچھی طرح گیلا کرنے لگا، اور لن کے گیلے ٹوپے کو صدف کی گانڈ کے دراڑ کے اندر موری پر رکھ کر صدف کےکندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکے اوپر ھوا اور ہلکا سا پُش کیا صدف کی گانڈ اور سوراخ اتنا سوفٹ تھا کہ ٹوپا اسکی کنواری گانڈ کے کنوارے سوراخ میں چلا گیا صدف کے منہ سے ایک ذبردست چیخ نکلی مگر اسی سمے میں نے دوسرا جاندار گھسا مارا اور لن کافی حد تک اندر. اتر گیا اور میرے پٹ اسکی گانڈ کے ساتھ لگ گئے ۔ صدف درد سے بلبلا اٹھی اور رونے لگ گئی ھاےےےےےےے میں مرگئی ھاےےےےےےے امی جییییییی ھاےےےےےےےےے *****ہہہہ میں صدف کے اوپر مکمل الٹا لیٹا ھوا تھا اور میری شلوار میرے پیروں میں تھی اور میرا پیٹ اور سینہ صدف کی کمر کے ساتھ چپکا ھوا تھا میرا لن صرف اتنا ھی باھر تھا جتنا صدف کی گانڈ کا ابھار تھا باقی سارا لن گانڈ کو بری طرح چھلنی چھلنی کر کے اندر گھس گیا تھا صدف ۔بس روے جا رھی تھی گانڈ کو نہ اوپر کر رھی تھی نہ ھی ادھر ادھر میں نے منہ اسکے کان کے پاس کیا اور اسے کہا صدف بس کچھ دیر درد برداشت کرو کچھ نھی ھوتا پھر تمہیں بھی مزہ آے گا۔۔ صدف رو رو کر ہلکان ہورہی تھی۔ صدف منہ سے کچھ نہ بولی بس نفی میں سر ہلانے لگی اور پھر اسکے منہ سے بس اتنا ھی نکلا یاسرررررر نھیییییییی برداشت ھورھا۔ میں نے اسے پھر تسلی دینا شروع کردیب مگر صدف کو شاید درد بہت ذیادہ ھورھا تھا وہ مزید روے جارھی تھی اور ھاےےےےےےے مرگئی ھاےےےےےےےے امی بس امی کو ھی یاد کر رھی تھی جیسے اس نے آکر لن باہر نکال دینا ھے ۔ کچھ دیر میں ایسے ھی صدف کے اوپر لیٹا رھا اور اسے پچکارتا رھا صدف ہچکیاں لے رھے تھی ۔اور کہنے لگی یاسرررر پلیز باہر نکال لو میری جان نکل رھی ھے اتنا بڑا ھے سارا ھی اندر کردیا مجھے بتا تو دیتے کہ ادھر کرنے لگے ھو ھاےےےےے امی جی ۔ میں نے کہا صدف یار برداشت کر لو کچھ ھی تو دیر کی بات ھے ادھر میں اندر بھی فارغ ھوگیا تو کچھ نھی ھوتا۔ تو صدف بولی نھییییی یاسسرررر مجھ سے نھی برداشت ھورھا تم آگے سے کرلو بیشک اندر ھی فارغ ھوجانا میں تمہارا بچہ بھی پیدا کرنے کو تیار ھوں بس ایک دفعہ باہر نکال لو۔ تو میں نے کہا یار اندر تو چلا ھی گیا بس اب کچھ دیر برداشت کرلو میرا یقین کرلو. ۔ تو صدف بولی تیرے یقین نے ای تے مینوں مروا دتا ایییییی کچھ. دیر صدف ھاے ھاے کرتی رھی پھر کچھ نارمل ھوئی تو میں نے پوچھا کچھ فرق پڑا تو صدف بولی تھوڑی سی درد کم ھوئی ھے میں نے ہلکا سا لن کو باہر کھینچا تو صدف پھر تڑپنے لگ گئی اور ھاتھ پیچھے کر کے میری کمر کو پکڑ کر مجھے رکنے کا اشارا کرتے ھوے نفی میں سرہلا کر بولی نھی نھی نھی یاسر ابھی نھی ہلنا پھر درد ھونے لگ گئی ھے ۔ میں ادھر ھی رک گیا۔ اور پھر صدف کہ بالوں پر ھاتھ پھیرتے ھوے انکو سہلانے لگ گیا اور اسے پھر تسلیاں دینے لگ گیا مجھے دس منٹ ھوگئے تھے ایسے ھی میں خود تنگ آگیا تھا کہ کیڑی کُھڈ وچ لن پا بیٹھا واں۔ صدف اب کافی حد تک نارمل ھوگئی تھی میں نے صدف کو کہا یار اب برداشت کرنا تھوڑی سے درد ھوگی مگر برداشت کرلینا صدف پھر میری منتیں کرنے لگ گئی کہ یاسررر پلیز آگے کرلو. مجھ سے نھی برداشت ھوگا تم چاھے اندر ھی فارغ ھوجانا۔ اس سے پہلے کہ صدف اپنی بات ختم کرتی میں نے لن باھر کھینچ کر پھر اندر کردیا اور گھسے مارنے لگ گیا صدف پھر چلانے لگ گئی اور میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر میں نے اسے بری طرح نیچے جکڑا ھوا تھا اور اپنا سارا وزن اس پر ڈالا ھوا تھا۔ میں صدف کی چیخوں اور شور کو نظرانداز کرتے ھوے گھسے ماری جارھا تھا صدف کی آواز بیٹھ چکی تھی اور اب اس نے بھی ھار مان لی تھی اور دھیمی آواز میں رو رھی تھی میں پندرہ بیس منٹ تک مسلسل صدف کی گانڈ کو چودتا رھا صدف نے بھی حلات سے سمجھوتا کر لیا تھا اور اب وہ بھی خاموش ھوچکی تھی کچھ دیر مزید گھسے مارنے کے بعد میں بھی فارغ ہونے کے قریب پہنچ. گیا اور جاندار گھسے مارنے لگ گیا۔ صدف بولی یاسررررر کرلو ظلم آج جتنا کرسکتے ھو مگر اس کے بعد میرے سامنے بھی نہ آنا۔ مگر اس دوران میں خود مزے میں ڈوبا ھوا تھا مجھے اس کی ان باتوں میں بھی مزہ آرھا تھا میرے آخری گھسے شدت اختیار کر چکے تھے اور پھر آخری وہ گھسا جس میں ساری دنیا کا مزہ بھرا تھا مارا اور لن نے صدف کی گانڈ میں الٹیاں کرتے ھوے ساری منی اندر بہا دی اور میں صدف کے اوپر لیٹے لمبے لمبے سانس لینا شروع کردیے اور لن باھر کھینچ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لن کو دیکھنے لگ گیا لن کی حالت صدف کے قُرب کی وضاحت کر رھی تھی سارا لن خون سے لت پت تھا صدف بے جان ھوکر ابھی تک ویسے ھی ننگی لیٹی ھوئی تھی میں ایسے ھی ننگا باہر صحن میں نکلا اور واش روم میں جا کر لن کو اچھی طرح دھویا اور واپس آیا تو صدف آہستہ آہستہ سیدھا ھونے کی کوشش کررہی تھی اور مجھے دیکھ کر نفرت سے منہ دوسری طرف کرلیا میں اس کی حالت سمجھ گیا تھا کہ اب اس سے سواے گالیاں سننے کے کچھ نھی ملنا تو میں نے جلدی سے شلوار پہنی صدف بھی اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور ایک ھاتھ سے گانڈ کو دبا رھی تھی ۔ میں نے صدف کو آواز دی مگر اس نے میری طرف دیکھا بھی نہ میں اسے. اسی حال میں چھوڑ کر واپس گھر کی طرف آگیا اور آتے وقت صدف کو بس اتنا ھی کہا کپڑے پہن کر دروازہ بند کرلینا؟؟؟؟؟؟؟؟
  8. 3 points
    ۔ اور اس میں کوئی شک نھی کہ ایک رائٹر ھی سٹوری کی طوالت پر کی گئی محنت کو سمجھ سکتا ھے کہ ایک اپڈیٹ پر کتنا وقت لگتا ھے اور دماغ کی کتنی انرجی صرف ھوتی ھے میں ڈاکٹر فیصل خاں صاحب کا مشکور ہوں کہ وہ مجھ جیسے اناڑی پر اپنا قیمتی وقت نکال کر توجہ دے رھے ہیں
  9. 3 points
    اگلے دن میں سکول ٹائم پر ھی گھر سے نکلا اور سیدھا آنٹی کے گھر پہنچ گیا تو آنٹی کپڑوں کو گٹھری میں باندھ رھی تھی آنٹی نے کل والا ہی سوٹ پہنا ھوا تھا اور عظمی اور نسرین تیار ہوکر ناشتہ کرنے میں مصروف تھیں آنٹی نے مجھے ناشتہ کرنے کا کہا: ۔۔ تو نسرین جھٹ سے بولی: کر کے ھی آیا ہوگا ۔۔ تو میں نے کہا: کھاؤ کھاو میں تمہارے حصہ کا تو نہیں کھانے لگا کھا کھا کر بھینس بنتی جارہی ھو تو وہ بولی: تمہیں کوئی تکلیف ھے گھر سے ھی کھاتی ہوں تمہارے گھر تو کھانے کو نہیں جاتی تو میں نے کہا: آجایا کرو جہاں اتنے فقیروں کو روٹی دیتے ہیں وہاں تم بھی لے جایا کرو تو نسرین جھنجھلا کر بولی: پونکو پونکو تمہیں سواے پونکنے کے آتا بھی کیا ھے تو میں نے کہا: تمہارا جوٹھا جو کھا لیا ھے تو نسرین رونے کے سے انداز میں بولی: امییییی تو آنٹی بولی: نہ پنگے لیا کر فیر رون لگ جانی اے آنٹی نے پھر مجھے کہا: کہ ناشتہ بناوں تمہارے لیے میں نے آنٹی کو کہا: کہ میں ناشتہ کرکے آیا ہوں ۔۔ کچھ دیر بعد ہم سب نہر کی طرف نکل پڑے ایک گٹھری میں نے اٹھائی ہوئی تھی جبکہ ایک ایک عظمی اور نسرین نے ہم ایسے ھی فصلوں کے بیچ چلتے نہر پر چلے گئے اور عظمی اور نسرین سکول کی طرف چلدیں اور جاتے جاتے یہ کہہ گئیں کہ جب تک ہم نہ آئیں گھر نہیں جانا آنٹی نے ایک گٹھڑی کھول کر کپڑے باہر نکالنے شروع کردیے اور نہر کے پانی کے پاس کنارے پر پاوں کے بل بیٹھ گئی میں بھی ایک سائڈ پر بیٹھ کر آنٹی کو کپڑے دھوتے دیکھتا رھاآنٹی کپڑے بھی دھو رھی تھی اور ساتھ ساتھ مجھ سے باتیں بھی کر رھی تھی مگر میں آنٹی کی باتوں کا ہوں ھاں میں ھی جواب دے رھا تھا یہ بات آنٹی نے بھی محسوس کی آنٹی نے کافی کوشش کی کہ میں انکے ساتھ ویسے ھی ہنسی مزاق کروں مگر میں سیریس ھو کر بیٹھا رھا اور گھاس کے تینکھوں کو توڑ توڑ کر کھیتوں کی طرف پھینکتا رھا تبھی آنٹی نے مجھے کہا: یاسر ادھر میرے پاس آکر بیٹھ جاو کیسے دور بیٹھے ھو جیسے اٹھ کر بھاگنا ھو میں آنٹی کے بلکل سامنے بیٹھ گیا مگر میری نظریں نیچی ھی تھی آنٹی نے مجھے آواز دی کے یاسر میں نے سر نیچے کیے ھی کہا: جی آنٹی جی تو آنٹی بولی: میری طرف دیکھو تو میں نے سر اٹھا کر انکے چہرے کی طرف دیکھا تو آنٹی مسکراتے ھوے بولی: ناراض ھو ابھی تک تو میں نے نفی میں سر ہلاتے ھوے کہا: کہ نہیں تو آنٹی بولی: پھر ایسے منہ لٹکائے کیوں بیٹھے ھو تو میں نے کہا: ویسے ھی آنٹی جی تو آنٹی بولی: ویسے ھی نہیں کچھ تو بات ھے مجھے پتہ ھے تم کل میرے ڈانٹنے کی وجہ سے ناراض ھو تو میں نے کہا: نہیں آنٹی جی ایسی ویسی کوئی بات نہیں اگر میں ناراض ھوتا تو میں نے آنا ھی نہیں تھا تو آنٹی بولی: تو پھر تم اداس اداس کیوں ھو پہلے جیسی شرارتیں کہا:ں گئی تو میں نے ہمت کر کے کہا: میری شرارتوں کی وجہ سے کل آپ پریشان ھوگئی تھی اس لیے تو آنٹی بولی: تم کو پتہ ھے کہ میں تم سے کیوں اتنا پیار کرتی ھوں تو میں نے کہا: جی تو آنٹی نے خود ھی وضاحت کرتے ھوے کہا: کہ کیوں کہ میرا کوئی بیٹا نہیں ھے اور میں تم کو اپنا بیٹا ھی سمجھ کر پیار اور لاڈ کرتی آرھی ھوں گلی میں اور بھی کتنے لڑکے ہیں کبھی کسی کو ہمارے گھر دیکھا ھے یا تمہاری بہنوں نے کبھی کسی لڑکے کے ساتھ مزاق وغیرہ کیا ھے تو میں نے نفی میں سر ہلاتے ھوے کہا: نہیں آنٹی جی تو آنٹی بولی: کل تم نے جو کیا تمہیں پتہ بھی ھے کہ اسکا صدمہ مجھے کتنا ھوا مگر پھر بھی میں تمہارے پیار میں کھینچی چلی تمہارے گھر تمہیں منانے آگئی تھی میں نے کہا: آنٹی جی میں نے ایسا کیا کیا تھا تو آنٹی بولی: تمہیں نہیں پتہ کہ کیا کیا تھا تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا تو آنٹی بولی: دیکھو یاسر میں مانتی ہوں کہ تم اب بچے نہیں رھے بلکہ بڑے ھوگئے ھو مگر تم کو ہمارے رشتے اور عمر کا خیال رکھنا چاہیے تھا تم نے کل جو میرے ساتھ کیا مجھے ذرا سی بھی تم سے یہ امید نہیں تھی میں نےکہا: آنٹی جی آپ بھی مجھے گُد گُدی کر رھی تھی وہ تو میں نے اپنا آپ بچانے کے لیے آپکو بھی گُد گدی کردی اور میں نے سوری بھی کرلی تھی مگر آپ اتنا ناراض ھوگئیں کہ مجھے گھر سے ھی نکال دیا آپکو پتہ ھے کہ میں گھر آکر کتنا رویا تھا تو آنٹی بولی: ھے نہ کملا جیا میں کیڑی گل کرن دئی آں تے اے منڈا گل کدر لے کے جاندا پیا اے تو میں نے پھر معصوم سا منہ بنا کر کہا: کہ آنٹی تو پھر آپ بتا دیں کہ کس بات کی وجہ سے آپ ناراض ہوئیں تھی ۔ تو آنٹی بولی: تینوں سچی اے نئی پتہ تو میں نے پھر نفی میں سر ہلا دیا تو آنٹی بولی: کل جو تم میرے پیچھے کھڑے میرے ساتھ کیا کررھے تھے میں نے کہا: گُد گدی تو آنٹی جھنجھلا کر بولی: گد گدی کی بات نہیں کررھی میرے پیچھے کیا کررھے تھے میں نے پھر کہا: آنٹی جی گد گدی ھی کررھا تھا تو آنٹی اپنے ماتھے پر ھاتھ مارتے ھوے بولی: کوئی حال نئی تیرا تینوں سچی اے نئی پتہ میں نے کہا: آنٹی جی آپکی قسم مجھے نہیں پتہ کہ آپ کیا کہنا چاھ رھی ھو تو آنٹی بولی: چلو مان لیا کہ تمہیں نہیں پتہ کچھ بھی تو پھر تمہارا لن اتنا بڑا کیسے ھوگیا تھا میں آنٹی کے منہ سے لن کا لفظ سن کر ہکا بکا ہو کر آنٹی کا منہ دیکھنے لگ گیا تو آنٹی نے پھر کہا: بتاو اب الو کی طرح آنکھیں کھولے مجھے کیا دیکھ رھے ہو مجھے ایکدم ہوش آیا تو میں نے شرم سے سر جُھکا لیا آنٹی نے پھر کہا: اب چُپ کیوں ھو بولو میں پھر چُپ ھی رھا اب میں کیا بتاتا آنٹی کو مجھے تو ویسے ھی اس بات کی شرم آرھی تھی کے آنٹی نے میرے لن کا ذکر کیسے بےباکی سے کیا ھے ذرا سی بھی شرم نہیں کی آنٹی بولی: جھوٹے ھو نہ اس لیے اب تم سے بولا نہیں جارھا تو میں نے جھٹ سے سر اوپر اٹھایا اور آنٹی کو کہا: کہ میں جھوٹا نہیں ھوں تو آنٹی پھر بولی: بتاو پھر تمہارا لن کیسے کھڑا ھوا تو میں نے کہا: آنٹی جی آپ کیسی باتیں کررھی ھو تو آنٹی بولی: تم ایسے کام کرسکتے ھو تو میں ایسی باتیں نہیں کر سکتی جتنی تمہاری عمر ھے اس سے زیادہ میرا تجربہ ھے اور تم ھو کہ مجھے پاگل بنانے کی کوشش کررھے ھو میں نے تھوڑا غصے سے کہا: کہ میں نے آپ کو پاگل کیوں بنانا ھے آنٹی بولی: تو اور کیا کررھے ھو پاگل ھی بنا رھے ھو میں نے کہا: آنٹی جی اب آپکو مجھ پر یقین ھی نہیں تو میں کیا کرسکتا ھوں آنٹی بولی: یقین کیسے کروں میں خود گواہ ہوں میں نے کہا: کس بات کی آنٹی بنا جھجھک بولی: میرے پیچھے لن کھڑا کر کے لگانے کی مجھے ذرا بھی امید نہیں تھی کہ آنٹی اتنی واحیات باتیں بھی کرسکتی ھے اور وہ بھی میرے ساتھ میں سر نیچے کر کے دانت پیسنے لگ گیا مجھے شرم بھی آرھی تھی اور آنٹی پر غصہ بھی آرھا تھا تب آنٹی بولی: بولو اب کیا کہتے ھو میں پہلے ھی جلا بُھنا بیٹھا ھوا تھا غصہ سے سر اوپر کیا اور بولا آنٹی آپ کی گانڈ ھی اتنی نرم تھی اور آپکا جسم اتنا نرم تھا کہ مجھے خود پتہ نہیں چلا اور میرا لن کھڑا ھوگیا اس میں میرا کوئی قصور نہیں آپ کے سیکسی جسم کا قصور ھے جس نے مجھے بہکا دیا میں نے ایک ھی سانس میں سارا فلسفہ کہہ ڈالا آنٹی نے جب میرے منہ سے اپنی گانڈ اور نرم سیکسی جسم جیسے الفاِظ سنے تو آنٹی کا چہرہ ایکدم سرخ ھوگیا اور انکی آنکھوں میں سیکس کی بھوک کی چمک نظر آئی آنٹی نے یہ سنتے منہ نیچے کر لیا اور بولی: بے شرم انسان شرم کرو میں تمہاری آنٹی ہوں اور تم میرے ساتھ ایسی واحیات باتیں کررھے ھو تو میں نے آنٹی پر ایک اور وار کردیا میں نے کہا: سچ ھی تو کہا: ھے آنٹی جی آپ ھو ھی اتنی خوبصورت اب میں کیا کروں میرا یہ وار کامیاب رھا آنٹی ایسے شرمائی جیسے میری منگیتر ھو اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا مجھے ڈرانے کے لیے میری طرف کیا جیسے مجھے مارنے لگی ھو اور بولی: ؛ٹھہر جا میں کڈنی آ تیری ساری خوبصورتی بغیرت نہ ھوے تے آنٹی نے جیسے ھی میری طرف ڈنڈا کیا میں شوخی سی پیچھے کی طرف ھوا اور اٹھ کر بھاگنے لگا تو میرا پاوں وھاں سے پھسلا اور میں دھڑام سے نہر میں جاگرا، ...میں جیسے ھی نہر میں گرا تو مجھے ایکدم غوطہ آیا میرے ناک اور منہ میں پانی چلا گیا یہ تو شکر تھا کہ نہر اتنی گہری نہیں تھی پانی میرے کندھوں تک ھی تھا مگر اچانک گرنے کی وجہ سے غوطہ آگیا تھا آنٹی نے جب مجھے گرتے دیکھا تو انہوں نے بھی کچھ سوچے سمجھے بغیر میرے اوپر ھی چھلانگ لگا دی مجھے بچانے کے لیے اور میں غوطہ آنا کی وجہ سے پانی میں ھاتھ مار رھا تھا جبکہ آنٹی نے میری کمر کے گرد بازو ڈال کر مجھے اپنے سینے کے ساتھ لگایا ھوا تھا دوستو گاوں کا ماحول پہلے ایسا ھوتا تھا کہ اگر نہر پر عورتیں کپڑے دھو رھی ھوتی تو کوئی مرد بھی اس جگہ کے ارد گرد نظر نہ آتا اگر کوئی اچانک ادھر آ بھی جاتا تو دور سے ھی اپنا راستہ بدل لیا کرتا تھا یہ ڈر یا خوف کی وجہ نہیں بلکہ ثقافت ھوتی تھی اس لیے ہم جس جگہ پر تھے کسی کے آنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا،،،، ۔۔۔میرے اور آنٹی کے کپڑے مکمل بھیگ چکے تھے آنٹی کا رنگ بھی اڑا ھوا تھا آنٹی نے کس کر مجھے اپنے ساتھ لگایا ھوا تھا انکی چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ چپکی ھوئی تھیں اور نیچے سے بھی ہم دونوں کی تھائیاں ایک دوسرے کے ساتھ لگ رھی تھی نہر چھوٹی سی تھی اس لیے پانی کا بہاو بھی کچھ ذیادہ نہیں تھا اس لیے ہم دونوں کے پاوں پانی کے اندر ریت میں ایک جگہ ٹھہرے ھوے تھے میں نے آنٹی کے کندھوں پر ھاتھ رکھے ھوے تھے جبکہ پہلے اپنا آپ سنبھالتے میرے ھاتھ آنٹی کی پھدی اور پیٹ پر لگ گئے تھے مگر وہ غیر ارادی طور لگے تھے میں بلکل ریلکس ھوچکا تھا جبکہ آنٹی ابھی بھی مجھ سے پوچھ رھی تھی کہ چوٹ تو نہیں لگی پاگل تو نہیں ھوگئے تھے اگر ذیادہ غوطہ آجاتا تو کیا ھوتا ڈوبنے کا تو چانس ھی نہیں تھا کیوں کہ پانی ھی بہت کم سطح پر تھا آنٹی نہر کے اندر ھی میرا منہ سر چوم رھی تھی کہ بچ گیا ھوں میں جبکہ ایسی کوئی خطرے والی کنڈیشن بھی نہیں تھی میں نے کہا: آنٹی آپ مجھے ڈنڈا مارنے لگی تھی اس لیے میں ڈر گیا تھا اور میرا پیر پھسل گیا تھا تو آنٹی بولی: میں تجھے مار سکتی ھو بھلا چلا ھویاں اے میں نے کہا: مارنے تو لگی تھی آپ آنٹی بولی: میں تو ڈرا رھی تھی تم جو گندی باتیں کررھے تھے ہم دونوں نے وہیں کھڑے پھر گلے شکوے شروع کردیے تھے اور یہ بھول گئے تھے کہ باہر بھی نکلنا ھے آنٹی بولی: تمہیں شرم نہیں آتی میں نے کہا: کس بات کی تو نے میری کمر کے گرد گرفت تھوڑی ڈھیلی کی جس سے ہمارا جسم جو پہلے ایک دوسرے کے ساتھ چپکا ھوا تھا اب ذرا ڈھیلا ھوگیا مگر انکا نیچے والا حصہ اب بھی میری ٹانگوں کے ساتھ ھی لگ رھا تھا اصل میں میرا روخ اسطرف تھا جدھر کو پانی کا بہاو تھا اور آنٹی کا رخ پانی کے بہاو کے مخالف تھا اس لیے مجھے پانی پیچھے سے دھکلینے کی کوشش کرتے ھوے میرا لن والا حصہ آنٹی کی پھدی والے حصہ کے ساتھ ٹچ کرتا یوں کہہ لیں جیسے سلو موشن میں گھسے مارتے ہیں بلکل کچھ ایسا ھی سین پانی کے اندر تھا،،،،۔ خیر آنٹی بولی: میرے ساتھ ایسی باتیں کرتے ھو شرم نہیں آتی میں نے کہا: آنٹی آپ سچ سن کر بھی غصہ کرتی ھو اور جھوٹ سن کر بھی میری اچانک آنٹی کے گلے پر نظر پڑی تو ایسے لگ رھا تھا کہ آنٹی بلکل ننگی ھے بس کالے رنگ کا بریزیر ھی پہنا ھے اس میں سے آنٹی کا گورا جسم چمک رھا تھا آنٹی نے سکن کلر پہنا ھوا تھا جو انکے رنگ کے ساتھ میچ ھورھا تھا اوپر سے جب انکے کپڑے گیلے ھوے تو سکن کلر ویسے ھی غائب ھوگیا لان کا سوٹ تھا انکے جسم کے ساتھ ایسے چپکا جیسے جسم کا حصہ ھی ھو آنٹی کے آدھے ممے پانی کے اندر تھے آدھے پانی کے باہر انکے مموں کے درمیان والی لائین جو بریزیر سے باہر تھی وہ صاف نظر آرھی تھی اور اوپر سے قیامت کے انکے مموں کی نوک میرے سینے کے ساتھ ٹچ ھورھی تھی اور نیچے سے لن اور پھدی ملاپ کرنے کو ترس رھے تھے آنٹی کے ادھ ننگے اور سیکسی ممے دیکھ کر میرا لن پانی کے اندر ھی کھڑا ھوگیا اور آنٹی کی پھدی کے اوپر چونچیں مارنے لگ گیا اب پھدی کھڑی تو ہو نہیں سکتی تھی اس لیے مجھے پھدی کی کنڈیشن کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ بیچاری کس حال میں ھے، ،۔۔ آنٹی بولی: سچ سچ ھی ھوتا ھے اور جھوٹ جھوٹ ھی میں نے کہا: تو آنٹی پھر سچ سن کر غصہ کیوں کرتی ھو آنٹی بولی: کون سا سچ میں نے کہا: جس کی وجہ سے یہ سب ھوا تھا نیچے سے میرا لن فل اکڑ کر آنٹی کے چڈوں میں گھس جاتا اور باھر آجاتا یہ سب پانی کی مہربانی تھی جو نیچے سے ہماری مدد کررھا تھا آنٹی کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ نیچے کیا ھورھا ھے آنٹی کی بھی اب آواز اور لہجہ بدلتا جارھا تھا وہ جان بوجھ کر باتوں کو طویل کررھی تھی جبکہ یہ باتیں باھر نکل کر بھی ھوسکتی تھی مگر تب جب آنٹی چاھتی ۔۔۔،،، آنٹی بولی: کونسا کام میں نے کہا: وہ ھی جس کی وجہ سے آپ ناراض ھوئی تھی آنٹی کی انکھوں میں لال ڈورے آنے شروع ھوچکے تھے . .آنٹی کی آواز انکا ساتھ دینا چھوڑ رھی تھی نیچے لن اپنا کام کر چکا تھا آنٹی نیچے سے لن کو اپنے چڈوں میں دبا کر پھدی کے اوپر رگڑ لگا کر چھوڑتی لن باہر آتا تو پانی پھر میرے گانڈ کو دھکا مارتا اور لن پھر آنٹی کے چڈوں میں پھدی کے اوپر پھدی کے ہونٹوں کو رگڑتا ھوا اندر جاتا اور آنٹی پورے لن کو اپنے چڈوں میں دبا کر چھوڑ دیتی اور لن پھر پھدی کو رگڑتا ھوا باہر آجاتا آنٹی بولی: بتاوووو نہ کونسا کام میں نے کہا: وہ ھی تو آنٹی فل نشیلی آواز میں بولی: کونسا میں سمجھ چکا تھا کہ لوھا اب فُل گرم ھو چکا ھے میں نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور آنٹی کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا کر اپنے اور آنٹی کے چڈوں کے پاس لیجا کر اپنے لن کے اوپر رکھتے ھوے کہا: یہ والی بات تو آنٹی نے ویسے ھی مدہوشی میں لن کو مٹھی میں پکڑ لیا میرے کپڑے بھی گیلے تھے اور لن کے ساتھ چپکے ھوے تھے اس لیے پورا لن ھی آنٹی کے ہاتھ میں آگیا آنٹی نے لن کی تین چار دفعہ اوپر نیچے سے مُٹھیاں بھریں اور لن کے سائز کو چیک کیا اسکی موٹائی کو چیک کیا اور بولی: یاسسسرررر تم پھر باز نہیں آرھے نہ اور لن کو اپنے چڈوں میں لے کے پھر ھاتھ میری کمر کے گرد ڈال لیے اور ہلکا ہلکا آگے کو پُش کرنے لگ گئیں تو میں نے کہا:. آنٹی میرا کوئی قصور نہیں ھے تو آنٹی میرے لن کو اپنے چڈوں مین لیے گھسے مارے ھوے بولی: کس کا قصور ھے میں نے ہاتھ نیچے لیجا کر دونوں ھاتھوں سے آنٹی کی بنڈ کی پھاڑیوں کو پکڑ لیا اور مٹھی میں بھینچنا شروع کردیا اور بولا آنٹی جی آپکی اس نرم اور موٹی سی گانڈ کا قصور ھے آنٹی کے دونوں ھاتھوں نے میری کمر پر کی جلد کو اپنی مٹھیوں میں بھینچنا شروع کردیا تھا ۔ آنٹی فل گرم ھوچکی تھی انکی آنکھیں بند ھو رھی تھی آنٹی بولی: میری گانڈ اتنی بھی موٹی نہیں ھے جو تم اسے موٹی کہہ رھے ھو میں نے آنٹی کے نیچے پر انگلیاں لگا کر چیک کیا تو آنٹی نے لاسٹک پہنی ھوئی تھی میں نے اندازے سے قمیض کے نیچے ہاتھ کیے انکی قمیض پہلے ھی پانی کے بہاو سے گانڈ سے اوپر ھوک پانی میں بہہ رھی تھی اس لیے آسانی سے میں نے انکی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور انکی شلوار گانڈ سے نیچے کردی اور انکی ننگی ملائم گانڈ کو مٹھیوں میں بھر لیا اور کہا: موٹی ھے دیکھیں کیسے میرے ہاتھ میں بھی نہیں آرھی اور دیکھیں آنٹی جی کتنی ملائم بھی ھے آنٹی بولی: تمہارا لن بھی کتنا بڑا ھے یہ کون سا چھوٹا ھے دیکھو میرے آگے سے ہوکر پیچھے میری بُنڈ کے پاس سے بھی نکل رھا ھے اور ساتھ ھی آنٹی نے نیچے ھاتھ کر کے میرے نالے کے سرے کو پکڑا، کر کھینچا جس سے میری شلوار بھی نیچے چلی گی اور آنٹی نے میرا لن پکڑا کر اپنی بالوں سے پاک نرم پھدی کے ساتھ لگا دیا اور بولی: یہ دیکھو کتنا بڑا ھے تمہارا یاسر آنٹی نے جب خود دعوت سیکس نامہ بھیج دیا تو میری ساری جھجک اور شرم جاتی رھی میں نے ہاتھ نیچے کیا اور لن کو جڑ سے پکڑا اور تھوڑا سا نیچے ھوا اور اپنے ایک گُھٹنے کی مدد سے آنٹی کی ٹانگ کو تھوڑا سا کھولا اور لن کے ٹوپے کو آنٹی کی پھولی ھوئی موٹے موٹے ہونٹوں والی پھدی پر رکھا اور ایک زور دار جھٹکا مارا تو لن سارے کا سارا بغیر سوچے سمجھے اندر چلا گیا آنٹی نے ایکدم چیخ ماری اور میرے کندھے پر دانت گاڑھ دیے آنٹی کی آدھی چیخ نکلی تھی اور آدھی میرے کندھے میں دب گئی اور پھر آنٹی بولی: مار دتا ایییییی کھسماں اوییییی اینی زوررررر دی سارا ای کردتا ایییییییی ظالماں مار سٹیا ای افففففف میں نے آنٹی کی چیخ اور آہوں اور سسکیوں کی پروا کیے بغیر لن کو پھر باہر نکالا اور پھر ویسے ھی سارا اندر کردیا تو آنٹی بولی: ھاااےےےےے ماردتا ایییییی ہولییییییی کرلے کیڑے بدلے لین لگاں ایییییء آنٹی کی اس طرح کی آوازیں سن کر مجھے اور جوش چڑھنے لگا اور میں نے چھ سات دفعہ ایسے ھی لن کو باہر نکالا اور اندازے سے ھی نشانہ لگا کر اندر کر دیتا میرا نشانہ بلکل درست لگتا لگتا بھی کیسے نہ کتنی دیر سے تو لن پھدی کی صلاح مشورے ہورے تھے اچھی جان پہچان ھوجاے تو کون راستہ بھولتا ھے اس لیے لن سہی دشہ میں چوٹ لگا رھا تھا اب میں نے آنٹی کی گانڈ کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا اور مسلسل لن کو پھدی. کی سیر کروا رھا تھا پھدی بھی چکنی اور پانی کی وجہ سے گیلی تھی اس لیے لن روانی کے ساتھ ایک ردھم میں چل رھا تھا میں آنٹی کے ممے کو کپڑوں کے اوپر سے ھی پانی کے اندر ھی منہ میںلے کر چوس رھا تھا جس سے انکے کپڑوں کا اور نہر کے پانی کا ذائقہ میرے منہ میں جارھا تھا اس وقت تو مموں پر زہر بھی لگا ہوتا تو میں پھر بھی ممے چوس لیتا یہ تو نہر کا گدلا پانی تھا آنٹی اب پورا مزا لے رھی تھی اور میرے ہونٹ میری گال میرے ماتھے کو چومی جارھی تھی ہم دونوں ھی فل مستی میں لگے ھوے تھے اچانک آنٹی. کا جنون بڑھتا گیا آنٹی نے مجھے کس کر جپھی ڈال لی اور زور زور سے گانڈ کو آگے کرنے کی کوشش کرتی رھی اس جنون کے آگے پانی کا بہاو بھی دم توڑ گیا اور آنٹی کی گانڈ پانی کو چیرتی ھوئی پیچھے سے آگے کو آکر دھکا مارتی جس سے لن جھٹکے سے اندر جاتا اور آنٹی منہ سے کہتی ھاےےےےے امممم ۔ افففففف ایتھے مار ایتھے ہاں انج ای مار ایتھے ہاں ہٹ ہٹ کہ مار شاوا ش مجھے بھی ایسی آوازیں سن کر مزید جوش انے لگ جاتا اور میں بھی پانی جو چیرتا ھوا زور زور سےگھسے مارنے لگ گیا اچانک آنٹی کے جسم کو جھٹکے لگنے شروع ھوگئے اور آنٹی نے زور سے لن کو پھدی میں بھینچتے ھو میری گانڈ کو پکڑ کر اپنی طرف زورر لگا کر اپنے چڈے ساتھ ملا لیے اور بولی: ھاےےےےےےے گئیییییییی میں اور پھر کافی جھٹکے لینے کے بعد پھدی کو بھی ڈھیلا چھوڑ دیا چڈوں کو بھی اور میری گانڈ کو بھی میں نے پھر گیلی اور گرم گرم منی سے بھری پھدی میں ھی گھسے مارنا شروع کردیے اور میرا لن نہر کے پانی سے آنٹی کی پھدی کی اندر سے صفائی کرنے لگ گیا کچھ دیر بعد میرا بھی چھوٹنے کا وقت آگیا میں. نے آنٹی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں جکڑ لیا آنٹی کو۔فرنچ کس تو کرنی نہیں آتی تھی بس ایسے ہی بُچ بُچ کرتے ھوے چومی جارھی تھی پھر میری سپیڈ بھی تیز ھوگئی اور میں نے آٹھ دس جاندار سٹروک لگاے اور آنٹی کی پھدی کے اندر ھی لن نے الٹیاں شروع کردیں اور آخری قطرے تک لن اندر ھی ہچکیاں لے لے کر ایک آنکھ سے آنسو بہاتے رھا اس سے پہلے کہ ہم علیحدہ ھوتے اور میں لن پھدی سے نکالتا کہ میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے اٹک گیا جب میں نے سامنے دیکھا؟؟؟...
  10. 3 points
    دوستو دوسرے دن میری طبیعت کافی بہتر ھوچکی تھی اور صدف کا خوف بھی تقریبا اتر چُکا تھا میں سکول کے لیے تیار ھونے لگ گیا امی نے مجھے کافی روکا کہ آج بھی چھٹی کر لو مگر میں نے سکول جانے کا اصرار کر کے امی کو منا لیا اور تیار ھوکر آنٹی فوزیہ کے گھر جا پہنچا آنٹی سے سلام دعا اور حال احوال بتانے کے بعد ہم تینوں گھر سے نکل آے اور میں سیدھا کھیت کی طرف جانے لگا تو عظمی نے میرا بازو پکڑتے ھوے کہا کہ باجی کو بھی ساتھ لے کر جانا ھے وہ ہمارا انتظار کررھی ھوگی تو میں نے کہا یار چلو وہ خود ھی آجاے گے ہمیں پہلے ھی دیر ھورھی ھے مگر عظمی اور نسرین کی ضد کی وجہ سے مجھے مجبوراً صدف کے گھر جانا پڑا ہم جب اندر داخل ھوے تو صدف برقعہ پہنے تیار بیٹھی تھی اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر نظریں جھکا کر باہر کی طرف چل پڑی ہم بھی اسکے پیچھے پیچھے گھر سے نکل کر سکول کی طرف چل پڑے دوستوں جہاں پہلے کپاس کی فصل ھوا کرتی تھی اب وہاں بھی مکئی کی فصل کاشت کردی تھی اور مکئی کا ان دوستوں کو پتہ ھے جو گاوں میں رہتے ہیں کہ یہ فصل دنوں میں بڑھتی ھے اور تقریبا سات آٹھ فٹ ھوجاتی ھے ہم آگے پیچھے چل رھے تھے میں سب سے پیچھے تھا اور میرے آگے عظمی تھی اور اس کے آگے صدف اور سب سے آگے نسرین تھی کچھ دور جاکر صدف کو پتہ نھی کیا ھوا وہ بہانے سے عظمی کو آگے کر کے خود پیچھے آگئی اور مڑ کر مجھے دیکھا اسکی آنکھوں میں مجھے واضح طور پر شرارت نظر آرھی تھی مگر میں نے اسکے دیکھنے کا کوئی رسپونس نھی دیا اور میں نے غور سے اسکی گانڈ کو ایک نظر دیکھا تو آج اسکی گاند کافی باہر کو نکلی ھوئی تھی میں نے دوبارا غور سے دیکھا تو واقعی ایسا ھی تھا میں سوچ ھی رھا تھا کہ یہ کیا ماجرا ھے کہ چلتے چلتے میری نظر اسکے پاوں کی طرف پڑی تو آج وہ اونچی ہیل پہن کر آئی تھی جس کی وجہ سے اسکی گانڈ مزید باہر کو نکلی ھوئی تھی اور وہ جب قدم آگے کو بڑھاتی تو اسکی گانڈ کا ایک حصہ جب اوپر کو جاتا تو ساتھ برقعے کو بھی کھینچ کر اوپر لے جاتا اسکی سیکسی گانڈ دیکھ کر میرا تو دماغ خراب ھونے لگ گیا جبکہ میں نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ھوجاے آج کے بعد صدف کے جسم کو نھی دیکھنا کیوں کہ سالی کو پتہ نھی کیسے پتہ چل جاتا تھا خیر میں ناچاھتے ھوے بھی مسلسل نظر ٹکاے صدف کی گانڈ کو دیکھی جارھی تھا کہ اچانک صدف رکی اور ایکدم پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سر کے اشارے سے پوچھا کیا دیکھ رھے ھو تو میں نے شرمندہ سا ھوکر سر نیچے جھکا لیا
  11. 3 points
    گوری میم صاحب (قسط نمبر3) اتنی بات سنانے کے بعد عدیل نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا۔۔ امریکہ میں میری پہلی چودائی کی داستان کیسی لگی ؟ اس کی بات سن کر میں نے ایک طویل سانس لی اور اس سے بولا ۔۔۔ کمال ہے یار ۔۔ میڈم کی چودائی میں خاص کر ہندو چوت اور مسلم لن نے بڑا مزہ دیا۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا تمہیں معلوم ہے کہ فکنگ کے دوران ایسی باتیں کر کے سیکس کا جوش دوبالا ہو جاتا ہے۔۔ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اچھا یہ بتا کہ اس کے بعد تم نے اس سیکسی میڈم کی ۔۔۔ ہندو چوت کتنی دفعہ بجائی؟ ؟ تو آگے سے وہ مجھے آنکھ مار تے ہوئے بولا۔۔۔ تعداد تو یاد نہیں یار۔۔بس یوں سمجھو کہ جب بھی موقع ملا میں نے اس کا بھر پور فائدہ اُٹھایا . اس کے بعد میں نے اس سے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تم نے صرف اسی میڈم کی ہندو چوت ماری تھی یا؟ تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا ایسی بات نہیں ہے یار ۔۔۔ بلکہ میں تو پلوی میم کی تقریباً آدھی دوستوں رشتے داروں کو چود چکا ہوں ۔۔ اور ان میں غالب اکثریت ہندو پھدیوں کی تھیں ۔۔ ہاں یاد آیا ان میں سے ایک آدھ سکھ چوت بھی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری خواتین چوت مروانے کے بعد مجھ سے یہی وچن لیتی تھیں ۔۔۔ کہ میں اس کی خبر کسی دوسری کو نہ ہونے دوں ۔۔۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ ان میں سے سب سے اچھی کون لگی؟ تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا۔۔۔ ویسے تو ساری کی ساری ہی ہی بم شیل تھیں ۔۔۔ لیکن ان میں ایٹم بمب صرف اور صرف پلوی میم تھی۔۔۔ جس کی چودائی مجھے اس لیئے بھی نہیں بھولے گی کہ امریکہ میں وہ میری پہلی سیکس ٹیچر تھی اس پر میں نے اس سے کہا کہ یہ تو ہوئی دیسی چودائی کی داستان ۔۔۔لیکن اب مجھے یہ بتاؤ کہ امریکہ میں تم نے پہلی گوری کو کیسے چودا ؟ میری سن کر عدیل ہنس کر بولا۔۔ بہن چودا تیری سوئی ابھی تک گوری پر ہی اٹکی ہوئی ہے تو آگے سے میں بھی دانت نکالتے ہوئے بولا ۔۔وہ تو ہے۔۔۔ اس پر اس نے ایک فرمائشی سا قہقہہ لگایا اور پھر کہنے لگا کہ آج کے لیئے اتنا ہی کافی ہے ۔ پھر کسی دن میں تم کو گوری کے چودنے کا واقعہ سناؤں گا۔۔۔ فی الحال تو چلو کہ کافی وقت بیت گیا ہے اس کے ساتھ ہی وہ اپنی کرسی سے اُٹھا۔۔۔۔ اور ہم ریستوران سے باہر آ گئے۔۔۔ جاتے جاتے ایک دفعہ پھر وہ مجھے تاکید کرتے ہوئے بولا۔۔کل ضرور آنا کہ ماما تیرا بہت پوچھتی ہیں ۔۔ اس کے بعد وہ مجھے ٹاٹا کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔۔۔ حسبِ وعدہ اگلے دن میں ان کے گھر چلا گیا تو خاص کر آنٹی مجھ سے بڑے تپاک سے ملیں اور اس بات کا شکوہ بھی کیا کہ ان کے کہنے کے باوجود بھی میں کل کیوں نہیں آیا تھا؟ ان کا اتنا زیادہ خلوص دیکھ کر کھٹک تو میں پہلے ہی گیا تھا ۔ اب تھوڑا پریشان بھی ہو گیا۔۔لیکن بوجہ چپ رہا۔۔۔ اور دفتر ی کا م کا بہانہ لگا کر نہ آنے کی معذرت کر لی جسے انہوں نے بڑی خوش دلی کے ساتھ قبول بھی کر لیا۔۔ اور ساتھ ہی اس بات کی خاص تاکید کی کہ جب تک عدیل یہاں پر ہے میں کم از کم لنچ اس کے ساتھ ہی کیا کروں آنٹی کے اتنے زیادہ تپاک کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ امریکہ کی طرح ہمارے ہاں بھی مفت میں لنچ کوئی نہیں کرواتا ۔۔۔ اور پھر من ہی من میں اس عنایت کی وجہ ڈھونڈنے لگا ۔ لیکن بظاہر اس کی کوئی خاص وجہ سامنے نہ آ رہی تھی۔۔۔چونکہ لنچ میں ابھی کچھ دیر تھی اس لیئے عدیل اور میں ڈارئینگ روم میں بیٹھ گئے ۔۔۔ابھی ہمیں وہاں پر بیٹھے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ عدیل کی بیگم (گوری میم) ماریا ۔۔۔بھی وہاں پہنچ گئی۔ ۔۔اسے آتے دیکھ کر میں احتراماً کھڑا ہو گیا اور اسے ہیلو کہا۔۔ جواباً اس قتالہ نے بھی مجھے ہیلو کہا اور اپنے گورے ہاتھ کو میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔میں نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور چند سیکنڈز تک بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہلاتا رہا۔۔۔۔۔۔۔ آج اس قتالہ نے سفید رنگ کی سلیو لیس شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جس میں وہ بڑی شاندار لگ رہی تھی۔۔۔لمبا قد ۔۔ اجلا رنگ ۔۔چوڑے شانے اور عریاں بازو۔۔اور ان سب سے بڑھ کر اس کی ننگی بغلیں (انڈر آرمز) ۔۔۔ جن پر ایک بھی بال نظر نہ آ رہا تھا۔۔۔ پتہ نہیں اس نے کس کریم کے ساتھ اپنی انڈر آرمز صاف کیے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ اس کی بڑی بڑی اور سندر بغلوں سے خوشبو کے لاتعداد ہُلے اُٹھ رہے تھے۔۔۔۔اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ سلیو لیس پہننے کے لیئے اس گوری نے یقیناً آج ہی شیو کی ہو گی ۔۔۔اور پھر بغلوں کی شیو سے ہوتے ہوتے میرا گندہ ذہن ۔۔۔اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ والی جگہ پر چلا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ میڈم نے اپنی سیکسی بغلوں کی صافی کے ساتھ یقیناً اپنی "اس جگہ" بھی کریم لگائی ہو گی۔۔۔ اور انڈر آرمز کی طرح اسے بھی نِیٹ اینڈ کلین کیا ہو گا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور کیا انڈر آرمز کی طرح ۔۔۔۔ اس گوری کی جائے مخصوصہ سے بھی ۔۔۔ ایسے ہی خوشبو کی لپٹیں اُٹھ رہیں ہوں گی؟ ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے چوت کی سمیل بہت زیادہ پسند ہے۔۔۔۔ اس لیئے۔۔۔یہ سوچ آنے کی دیر تھی کہ میرا لن۔۔۔۔ جو کہ پہلے ہی بہانے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ایک زبردست سی چھلانگ لگا کے کھڑا ہونے ہی والا تھا کہ میں نے بڑی مشکل کے ساتھ منت سماجت کر کے اسے واپس بٹھا دیا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔دوستو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بندہ اچھا خاصہ ٹھرکی واقع ہوا ہے۔۔۔۔ اور اس وقت میرے سامنے جو چاند چہرہ ستار ہ آنکھوں والی گوری کھڑی تھی ۔۔۔اس کو اس حلیہ میں دیکھ کر غریب کی تو مت ہی ماری گئی لیکن ۔۔۔بندہ غریب مرتا کیا نہ کرتا۔۔۔۔۔کے مصداق ۔۔۔قہرِ درویش بر جانِ درویش۔۔ کی مکمل تصویر بنے۔۔۔ اپنی کمینگی چھپائے۔۔۔۔۔ بظاہر بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔ ۔۔ ۔۔ یہ بھی شکر ہے کہ۔۔۔ اس دن کے برعکس آج اس کا گلا اتنا زیادہ کھلا نہ تھا لیکن اس کے باوجود اس کے وِی شیپ گلے کی گہرائی سے بہت کچھ دکھائی دے رہا تھا پتہ نہیں کیا بات ہے کہ میں اس گوری کو دیکھ کر ہمیشہ ہی نروس ہو جاتا تھا میری اس حالت کو شاید اس نے بھی محسوس کر لیا تھا ۔۔۔۔ یا پھر کوئی اور بات تھی کہ وہ کچھ دیر تک ہمارے ساتھ بیٹھی رہی پھر اُٹھ کر چلی گئی وہ جتنی دیر بھی میرے پاس بیٹھی ۔۔۔ میں خود پر قابو پاتے ہوئے ۔۔۔ اس کے ساتھ بظاہر بڑی خوش اخلاقی سے بات چیت کرتا رہا۔۔ لنچ کے دوران بھی عدیل کی ماما کا میرے ساتھ خصوصی رویہ رہا۔۔۔۔ جبکہ میں ان کی مہربانی کو انجوائے کرتے ہوئے اس کی وجہ تلاش کرتا رہا۔ اگلے دن کی بات ہے کہ عین لنچ کے وقت آفس میں ایک ارجنٹ کام پیش آ گیا۔جس کی وجہ سے میں نے عدیل کو معذرت کا فون کیا ۔ تو آگے سے وہ کہنے لگا کہ اچھا یہ بتا کہ تم کس وقت فارغ ہو گئے؟ تو میں نے اسے بتایا کہ دو تین گھنٹے تو لگ ہی جائیں گے تو اس پر وہ کہنے لگا تو ٹھیک ہے دوست جب تم آؤ گے تو اسی وقت لنچ ہو گا اور اس کے ساتھ ہی اس نے فون رکھ دیا ۔ آفس کا کام ختم ہونے کے فوراً بعد میں اس کے گھر گیا تو اس کے گھر میں اور کوئی نہ تھا پوچھنے پر کہنے لگا کہ ساری لیڈیز شاپنگ کے سلسلہ میں بازار گئی ہیں اور واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ کب آئیں۔۔ یہ کہہ کر وہ مجھے ڈائینگ ٹیبل پر لے آیا ۔۔۔۔۔ کھانے کے دوران میں نے عدیل سے پوچھا سنا یار بھابھی کو پاکستان کیسا لگا؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا کیا بتاؤں یار اسے ہمارا ملک پسند نہین آیا تو اس پر میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کی کوئی خاص وجہ ؟ تو وہ ایک دم سیریس ہو کر بولا ۔۔ یو نو وہ امریکہ کے آذاد ماحول کی ایک آذاد خیال لڑکی ہے جبکہ ہمارے ہاں بہت زیادہ گھٹن ہے ۔ اس کے باوجود کہ ہمارے گھر والے خاصے روشن خیال واقع ہوئے ہیں لیکن میری بیگم کے حساب سے تم انہیں تنگ نظر ہی کہہ سکتے ہو۔۔ اس کی وجہ اس پر عائید پابندیاں ہیں مثلاً سرد ملک کی ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ اسے دھوپ بہت اچھی لگتی ہے جو کہ ہمارے ہاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے چنانچہ اکثر اس کا بکنی پہن کر سن باتھ لینے کو دل کرتا ہے۔ لیکن یو نو ۔۔اسے اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔۔ہاں پورے کپڑوں میں وہ سن باتھ لے سکتی ہے ۔ لیکن وہ کہتی ہے کہ پورے کپڑے پہن کر سن باتھ لینے کا فائدہ؟۔ ۔۔ دوسری بات یہ کہ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ امریکہ میں شراب پینا ایک عام سی بات ہے لیکن اس کے برعکس یہاں پر آپ اسے سرِعام نہیں پی سکتے ہاں چھپ کر جو مرضی کر لیں۔۔۔۔ شراب والی بات پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔۔ تو کیا بھابھی بھی پیتی ہے؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔ یس ڈئیر ہم دونوں کمرہ بند کر کے روزانہ ایک آدھ پیگ لگاتے ہیں اس کے بعد وہ میری طرف شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا کیوں تم نہیں پیتے؟ تو میں اس کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ سیکس کے بارے میں ہر قسم کی حرام توپی کے باوجود میں نے آج تک کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کیا۔۔۔ اور یہ میرا خود سے وعدہ ہے کہ میں کبھی نشہ نہیں کروں گا چاہے وہ سگریٹ کا ہی کیوں نہ ہو ۔۔تو وہ کہنے لگا میری جان سگریٹ ہی تمام نشوں کی ماں ہے میرا مطلب ہے کہ سگریٹ سے ہی ہر نشے کی ابتداء ہوتی ہے۔۔۔ اس کے بعد وہ ہنس کر کہنے لگا ۔یار یہ تو بہت بری خبر سنائی تم نے ۔۔کہ تم نہیں پیتے ؟ تو میں نے اس سے کہا اس میں برائی کیا ہے ؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا وہ ایسے میری جان کہ ہم لوگ اسٹیسٹس سے جو کوٹہ لائے تھے وہ قریباً ختم ہونے والا ہے اور میرا خیال تھا کہ جب یہ کوٹہ ختم ہو جائے گا تو میں تم سے کہہ کر مزید منگوا لوں گا ۔۔۔ لیکن اب پتہ چلا کہ تم تو پیتے ہی نہیں ہو۔۔۔ اس کی بات سن کر میں اس سے بولا۔۔۔ دل چھوٹا نہ کر ۔۔۔۔ کیا ہوا جو میں نہیں پیتا ۔۔۔ لیکن جب تو کہے گا میں بندوبست کر دوں گا ۔ میری بات سن کر وہ خوش ہو کر بولا ۔۔تھینک یو دوست ۔۔ میں تو اس کے بغیر ۔۔۔۔پھر بھی گزارا کر لوں گا لیکن تیری بھابھی کو اس کے بغیر نیند نہیں آتی ۔۔ اس پر میں عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے ذو معنی لفظوں میں بولا ۔۔۔۔ رات کو پیگ کے بغیر ۔۔۔ نیند نہیں آتی یا ۔۔۔؟ وہ میری پوشیدہ بات کا مطلب سمجھ کر بولا۔۔۔۔ تمہاری بات ٹھیک ہے۔۔۔۔ دوسری گوریوں کی طرح یہ سالی بھی للے (لن) کی بڑی شوقین ہے پھر کہنے لگا۔۔۔۔لیکن یار تو تو جانتا ہی ہے کہ ہر رات۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔۔ چودائی نہیں ہو سکتی۔ اس لیئے ہر رات فکنگ ہو نہ ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پیگ بہت ضروری ہے عدیل کی بات سن کر ایک دفعہ پھر میں نے اس سے کہا ۔۔تب تو بے فکر ہو جا۔۔۔ جب بھی تیری بوتل ختم ہو جائے۔۔۔۔ مجھے بتا دینا ۔۔۔بندوبست ہو جائے گا۔۔ ۔اور اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ عدیل کا یہ پوائنٹ نوٹ کر لیا کہ گوری للے ( لن ) کی بڑی شوقین ہے۔ اس کے بعد میں موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولا۔۔ اچھا یہ بتا کہ بھابی کو تیرے گھر والے کیسے لگے۔۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ جہاں تک ہمار ے گھر والوں کا تعلق ہے تو مجموعی طور پر ۔۔۔وہ ان کے ساتھ بہت خوش ہے ہاں جب ممی کسی بات سے اسے منع کرتی ہیں تو یو نو۔۔۔ ہر بہو کی طرح یہ بھی ناک بھوں چڑھاتی ہے لیکن اوور آل ماما اور باجی کے ساتھ اس کے تعلق بہت اچھے ہیں۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد ہم ڈرائینگ روم میں آ گئے اور صوفے پر بیٹھتے ہی وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا تُو سنا جگر کیسا ہے؟ آنٹیاں کیسی چل رہیں ہیں؟ آخری دفعہ کس کی لی؟ تو آگے سے میں دانت نکالتے ہوئے بولا ۔آخری دفعہ بھی اسی کی لی ۔۔۔۔ کہ جس کی سیکنڈ لاسٹ دفعہ لی تھی تو وہ حیران ہوتے ہوئے بولا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تیرے پاس تو آنٹیوں کا اچھا خاصہ اسٹاک ہوا کرتا تھا یہ الگ بات ہے کہ ہمارے ہزار منت ترلوں کے باوجود بھی تم نے کبھی کسی آنٹی کی ہوا بھی نہیں لگوائی تھی۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا کہ یو نو دوست امریکہ میں میں نے تمہارے اس فارمولے سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔۔۔۔ پھر کہنے گا۔۔میں نے تمہارے اس فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ہزار کوششوں کے باوجود کبھی بھی۔۔۔کسی ایک کی بات کو دوسرے کے ساتھ شئیر نہیں کی تھی۔ اسی لیئے میں پلوی جی کی آدھی سہلیوں/ رشتے داروں کو چودنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔کیونکہ انہیں مجھ پر یقین آ گیا تھا کہ میں راز کو ہمیشہ راز ہی رکھوں گا۔ اس کے بعد وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا اسی لیئے مائی ڈئیر فرینڈ۔۔۔۔ میں تم سے ہر گز نہیں پوچھوں گا کہ لاسٹ اور سیکنڈ لاسٹ والی خاتون کون ہے؟ تو اس پر میں اس سے بولا ۔۔ بیٹا۔۔تو تو مجھ سے نہیں پوچھے گا لیکن اس کے برعکس میں تم سے امریکہ میں پہلی گوری کو چودنے کا واقعہ معہ نمک مرچ ضرور پوچھوں گا ۔ اس لیئے شاباش شروع ہو جاؤ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا کیا بتاؤں دوست کہ جس طرح تم کو میری سٹوری سننے کی بڑی جلدی ہے اسی طرح بلیو مویز دیکھ دیکھ کر ہزاروں پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی کسی گوری کو چودنے کا بڑا شوق تھا لیکن پھر یوں ہوا کہ گوری کی بجائے مجھے ایک دیسی ایٹم بمب مل گئی جس کا ذائقہ ۔۔۔جس کا سٹائل ۔۔۔اور سیکس کرنے کا انداز مجھے اس قدر بھایا کہ وقتی طور پر میں گوری کو بھول گیا اور جتنی دیر تک میں پلوی جی کے ساتھ سٹور پر رہا حرام ہے جو میرے دل میں کبھی کسی گوری کا خیال بھی آیا ہو ۔۔۔۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اور ان کی دوست جن میں ان کی کچھ قریبی رشتے دار بھی شامل تھیں۔۔۔۔ ہمیشہ ہی مجھے پرُ باش رکھتی تھی کہ جب بھی موقعہ ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں انہیں یا ان کی کسی دوست کو چود لیا کرتا تھا اور اگر کبھی وقت کم ہوتا تو وہ ہنسی خوشی چوپا بھی لگا لیا کرتی تھیں۔۔۔ ۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ زندگی بڑی موج سے گزر رہی تھی کہ ایک دن خبر ملی کہ نارائن جی نے ایک عرصہ دراز سے بند سٹور خرید لیا ہے اور اس وقت تک چونکہ میں مامی اور پلوی جی کی مہربانی سے کام سیکھ چکا تھا اس لیئے اس سٹور کو چلانے کے لیئے ان کی نگاہِ انتخاب مجھ پر آن پڑی ۔۔اس کی مین وجہ یہ تھی کہ میں ان کا دیکھا بھالا اور ایماندار لڑکا تھا۔۔ ہر چند کہ نئے سٹور پر مجھے بھیجنے کے لیئے پلوی جی نے بہت مزاحمت کی ۔ لیکن مامی اور نارائن جی نہ مانے ۔۔۔۔اور کچھ مزاحمت کے بعد۔۔۔۔۔ چار و ناچار پلوی جی نے مجھے دوسرے سٹور پر جانے کی اجازت دے دی۔ اور وہ بھی اس شرط پر کہ جب بھی میری ضرورت محسوس ہوئی میں آ جاؤں گا۔ نارائن جی کا یہ سٹور ہمارے اس سٹور سے خاصہ چھوٹا اور گھر سے کافی دور واقع تھا۔ خیر میں وہاں چلا گیا اور کام شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے وہاں کے لوگوں سے ہیلو ہائے بھی ہو گئی۔۔۔ لیکن چونکہ یہ سٹور کافی عرصہ بند رہنے کے بعد ابھی کھلا تھا اس لیئے یہاں پر گاہگوں کی اتنی آمد و رفت نہ تھی۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں کاؤنٹر پر بیٹھا بور ہو رہا تھا کہ اتنے میں ایک نہایت خوش شکل امریکن گورا سٹور میں داخل ہوا اس کی عمر یہی کوئی پینتالیس پچاس کے قریب ہو گی ۔ اس نے گرے رنگ کا برانڈڈ سوٹ پہنا ہوا تھا جو کہ اس پر بہت جچ رہا تھا ۔۔ اس کے ایک ہاتھ میں سیاہ رنگ کا بریف کیس پکڑا ہوا تھا اپنے حال حلیہ سے وہ کوئی امیر آدمی لگ رہا سگریٹ کا پیکٹ خریدا۔۔۔اور مجھے پیسے دے کر جب وہ پرس کو واپس پینٹ کی جیب میں رکھنے لگا تو اس وقت کسی طرح اس کے پرس سے سو ڈالر کا نوٹ فرش پر گر گیا۔۔۔۔ جبکہ وہ گورا صاحب اس بات سے بے خبر پرس کو جیب میں رکھ کر باہر کی طرف چل دیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں تیزی سے کاؤنٹر سے باہر نکلا۔۔۔۔اور سو ڈالر کے نوٹ کو فرش سے اُٹھا کر اسے آواز دی ۔ لیکن شاید وہ کچھ جلدی میں تھا یا شاید اس کے کانوں تک میری آواز نہ پہنچی تھی کہ وہ نہ رکا اور سٹور کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔ چنانچہ میں بھی بھاگم بھاگ اس کے پیچھے چلا گیا اور تھوڑی دور جا کر اسے روک لیا ۔ مجھے اپنے سامنے پا کر وہ ڈیسنٹ شکل والا گورا صاحب پریشان ہو کر بولا۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے!۔۔ جہاں تک مجھے یاد ہے برو۔۔۔۔ میں نے تو پیسے ادا کر دیئے تھے ۔۔۔۔تو اس پر میں نے اس کو سو ڈالر کا نوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک جناب آپ نے پیسے ادا کر دیئے تھے لیکن پرس کو واپس جیب میں ڈالتے وقت یہ نوٹ نیچے گر گیا تھا جو کہ میں آپ کو واپس کرنے آیا ہوں۔۔۔تو اس نے بڑی حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پھر سو ڈالر کا نوٹ پکڑتے ہوئے بولا ۔۔ مجھ سے اکژ اس قسم کی حماقتیں ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔ لیکن کمال ہے برو! تم پہلے بندے ہو جس نے مجھے پیسے واپس کیئے ہیں ورنہ میرے ساتھ آج تک یہ سانحہ نہیں ہوا ہے ۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد اس نے کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر مجھ سے ایکس کیوز کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔سوری برو!۔۔۔۔ اس وقت میں زرا جلدی میں ہوں ۔۔۔ ۔۔۔تم سے پھر کسی دن بات ہو گی۔۔ یہ اس واقعہ سے تیسرے دن کی بات ہے کہ میں سٹور پر ایک گاہک کو ڈیل کر رہا تھا کہ اتنے میں وہی گورا صا حب سٹور میں داخل ہو ا اور میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ میں گاہک سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا تو ڈیسنٹ لُک والا گورا صاحب نے بڑے تپاک سے بولا۔۔۔۔۔۔ہیلو لٹل بوائے ! مجھے پہچانا؟ تو میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا کہ آپ وہی ہیں کہ جن سو ڈالر میں نے واپس کیئے تھے۔۔۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ سوری فرینڈ۔۔۔اس دن ایک ضروری میٹنگ کی وجہ سے میں جلدی میں تھا ۔۔۔۔اس لیئے ڈھنگ سے تمہارا شکریہ بھی نہ ادا کر سکا۔۔ تو اس پر میں نے اس سے کہا کہ اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں سر۔۔۔۔بلکہ یہ تو میرا فرض تھا ۔۔۔تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ مائی ڈئیر لٹل بوائے !۔۔ تمہارا شکریہ اس لیئے بھی بنتا ہے کہ یہاں کے دس ڈالر کے لیئے لوگ قتل تک کر دیتے ہیں جبکہ تم نے مجھے سو ڈالر لوٹائے تھے۔۔۔ اس کے بعد وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے بولا مجھے جان کہتے ہیں۔۔۔۔ اور میں ایک چھوٹی سی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ہوں۔۔ اسکے ساتھ ہی اس نے مصافے کے لیئے میری طرف ہاتھ بڑھا دیا۔۔۔۔۔ اس پر میں بھی اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا کہ میرا نام عدیل ہے اور میرا تعلق پاکستان سے ہے میرے منہ سے پاکستان کا نام سنتے ہی ۔۔۔۔۔وہ ایک دم سے چونک اُٹھا ۔۔۔ اور میری طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولا " یو آر فرام پاکیسٹان"؟؟؟ تو میں نے ہاں سر ہلا دیا۔۔۔۔ میرا اقرار سن کر اس نے ایک لمحے کے لیئے کچھ سوچا۔۔۔ اور پھر بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہینڈ شیک کرتے ہوئے بولا۔۔۔ نائیس ٹو میٹ یو مسٹر ایڈی ۔۔ اچھے خاصے عدیل کو "ایڈی" بنتے دیکھ کر مجھے وَٹ تو بہت چڑھا ۔۔۔۔ لیکن میں چپ رہا۔ اس کے بعد مسٹر جان کافی دیر تک میرے ساتھ گپ شپ کرتا رہا ۔۔۔ ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک سٹور کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔اور پلوی جی اندر داخل ہوئیں۔۔ ۔ پلوی جی کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر میں حیران رہ گیا اس بات کو مسٹر جان نے بھی محسوس کر لیا اور وہ مجھ سے کہنے لگا کہ یہ لیڈی کون ہے؟ تو میں نے اس کو بتلایا کہ لیڈی اس سٹور کی مالکہ ہے۔۔۔ میر ی بات سن کر اس نے سر ہلایا اور پھر مجھ سے ہاتھ ملا کر یہ کہتا ہوا باہر چلا گیا کہ پھر ملاقات ہو گی۔۔ ادھر دروازہ کھول کر جیسے ہی پلوی میم اندر داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ اس نے کالے رنگ کی منی اسکرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ جو کہ گھٹنوں سے کافی اوپر تک ہونے کی وجہ سے ان کی گول گول آدھ ننگی رانیں بڑی صاف دکھائی دے رہیں تھی۔۔ جبکہ اس منی اسکرٹ کے اوپر انہوں نے آف وہائیٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جو کہ ان کو خاصی تنگ تھی ۔۔۔جس کی وجہ سے ان کے سینے کی گولائیں بغیر دیکھے ماپ ہو رہیں تھیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گلے میں منگل سوتر اور ماتھے پر ایک کالے رنگ کا ٹیکہ بھی لگایا ہوا تھا ۔ ۔ ابھی میں ان کا ایکسرے کر ہی رہا تھا کہ وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔۔ اے مسٹر یہ اتنا گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے ان کی چھاتیوں پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا کہ میڈم جی آپ انگریزی لباس میں بھی اتنی ہی کیوٹ لگتی ہو جتنا کہ دیسی لباس میں۔۔ پھر میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ پکے عاشقوں کی طرح کہا کہ آپ کے حسن کے بارے میں شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔۔جامہ زیبی نہ پوچھیئے ان کی ۔۔۔۔۔۔ جو بگڑنے میں بھی سنبھل جائیں۔۔۔ میرے منہ سے شعر سن کر وہ جھوم کر بولیں واہ واہ۔۔۔ کیا موقع کا شعر کہا ہے۔۔۔ مزہ آگیا ۔۔ پھر میرے نزدیک آ کر کہنے لگیں ۔۔ آج میں صرف تیرے لیئے تیار ہوئی تھی۔۔ تم کو میرا یہ روپ پسند آ گیا ۔اتنی بات کر نے کے بعد وہ لکھنوی سٹائل میں جھک کر بولیں۔۔۔دھنے واد!۔۔۔ پلوی جی کی یہ دل کش ادا دیکھ کر میں تو نہال ہو گیا ۔۔۔اور ان سے بولا ۔۔۔ دھنے واد کو چھوڑ میڈم ۔۔آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے۔۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔۔تیرے ساتھ سینے سے سینہ ملانے کے لیئے ہی میں تو آئی ہوں۔۔ ۔۔ اتنی بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے دونوں بازو کھولے ۔۔ اور میرے سینے کے ساتھ چمٹ گئیں۔۔ ان کی چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ گویا دبی ہوئیں تھیں۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی "جائے مخصوصہ " کو میرے آلہء تناسل کے ساتھ رگڑنے کی کوشش تیز کر دی ۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔ کیا بات ہے جی آج تو آپ بہت گرم لگ رہی ہیں ۔۔۔میری سرگوشی سن کر وہ اپنے منہ ۔۔۔۔ کو میرے ہونٹوں کے قریب لے آئیں ۔۔۔اور میرے منہ پر گرم سانسیں چھوڑتے ہوئے۔۔۔۔ شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ جتنی میری سانسیں گرم ہیں نا ۔۔ میں اس سے ہزار گنا زیادہ گرمی فیل کر رہی ہوں۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ان کے منہ کے ساتھ آہستگی کے ساتھ اپنے منہ کو جوڑ دیا۔۔ ادھر جیسے ہی میرا منہ آگے بڑھا۔۔۔ پلوی جی نے بڑی بے تابی کے ساتھ ۔۔۔۔ اپنی زبان کو منہ سے نکالا ۔۔ اور چپکے سے میرے منہ میں ڈال دی۔۔ اور ہم دونوں ۔۔۔ اپنی زبانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے اور ٹکرانے شروع ہو گئے۔۔ کچھ دیر بعد میں نے ان کے منہ سے اپنی زبان کو نکالا۔۔۔۔اور ان کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے شرارت سے بولا۔۔۔ کہ آج نارائن صاحب کی جگہ آپ کیوں آئی ہیں ؟ تو آگے سے وہ میرے لن کو پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولیں ۔۔ نارائن جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔۔ تو صرف اپنے اس (لن ) دوست سے ملنے آئی ہوں ۔۔ ان کی بات سن کر میں بولا ۔۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہوا۔۔۔ کہ آپ کے پتی دیو نیو یارک سے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔۔۔اسی لیئے آپ گل چھرے اُڑانے کے لیئے میرے پاس آ گئی ہو۔۔میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ بہن چود !۔۔ تو ایک نمبر کا حرامی ہے ایک تو میں تمہیں اپنی چوت کی مفت سروس دینے کے لیئے آئی ہوں ۔۔۔ اور تم بجائے میرا شکریہ ادا کرنے کے خواہ مخواہ کی باتیں چود رہے ہو۔۔۔ اس کے بعد وہ سٹور کے مین گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ جلدی سے ڈور لاک کر آؤ کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ ا ن کی بات سن کر میں بھاگ کر گیا۔۔۔۔اور سٹور کے مین گیٹ کو لاک کر آیا۔۔۔ اور واپس آ کر پلوی جی سے لپٹ گیا۔۔انہوں نے جپھی لگاتے ہی۔۔ایک دفعہ پھر سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔ اور بڑی مہارت کے ساتھ میرے منہ میں گھمانا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔ دوسری طرف ان کے ساتھ کسنگ کرتے کرتے ۔۔۔ میں نے بھی ان کی اسکرٹ کے اندر ہاتھ ڈالا ۔۔۔اور پینٹی کے اوپر سے ہی ان کی نازک جگہ پر اپنی انگلی پھیرنا شروع ہو گیا۔۔ ۔۔۔ جیسے ہی میری انگلی ان کی چوت کی درمیانی لکیر پر پہنچی تو ۔۔۔ وہ مجھے گیلی محسوس ہوئی۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنے ہاتھ کو ان کی پینٹی کے اندر لے گیا۔۔۔۔اور ان کی گیلی۔۔۔۔ نرم اور ننگی پھدی پر انگلی پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ میرے اس عمل سے وہ سرک کر میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔۔۔اور پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ ٹنگ کسنگ کرنے لگیں۔۔۔کچھ دیر انگلی پھیرنے کے بعد ۔۔۔ میں اپنی اس انگلی کو ان کے دانے کے اوپر لے گیا۔۔۔اور ان کے پھولے ہوئے دانے کو اپنی دو انگلیوں میں پکڑا ۔۔۔۔ اور اسے مسلنے لگا۔۔۔۔۔ میرا دانے مسلنے کی دیر تھی کہ پلوی جی نے اپنی زبان کو میرے منہ سے باہر نکالا ۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔اور پھر انہی سسکیوں کے درمیان ۔۔۔ انہوں نے میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔ ۔۔۔ اور اسے بے طرح دبانے لگیں۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں دانے کو کچھ مزید تیزی کے ساتھ مسلنا شروع ہو چکا تھا۔۔۔ میرا ایسے کرنے کے کچھ دیر بعد ۔۔۔ ہی میرے کانوں میں ۔۔۔۔ میڈم کی شہوت بھری آواز گونجی۔۔۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ حرام کے پلے۔۔۔مادر چود۔۔ میرے چھولے کو ایسے ہی مسلتا رہے گا ؟ چودے گا نہیں مجھے؟ تو آگے سے میں جواب دیتے ہوئے ۔۔۔۔شرارت سے بولا ۔۔۔ رنڈی کی بچی ۔۔۔ ۔۔آج نہیں چودوں گا۔۔۔۔۔ بلکہ تیرے اس دانے کو ا یسے ہی مسلتا رہوں گا میری بات سن کر وہ ایک دم سے شہوت بھرے غصے میں بولیں۔۔۔ مادر چود ۔۔ جلدی سے اپنے ان کٹ لن کو میرے اندر ڈال۔۔۔ میں یہاں اپنے "چھولے" کو کچلوانے کے لیئے نہیں آئی ۔۔۔ بلکہ اپنی پھدی کی آگ بجھانے کے لیئے آئی ہوں ۔۔۔۔ لیکن میں نے پلوی میم کی بات کو سنا ان سنا کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو دانے سے ہٹا یا۔۔۔۔۔ اور اپنی ایک انگلی ان کی چوت کے اندر ڈال دی۔۔۔۔۔ اور اسے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ بلکل میرے ساتھ لگ گئیں۔۔۔اور ایک موٹی سی گالی دے کر بولی ۔۔۔ سالے حرام کے تخم ۔۔ کتے کے بچے۔۔۔میں اتنی دور سے چل کر تیرے پاس آئی ہوں ۔۔۔ اور تو حرامی پلا۔۔۔۔ میری پھدی میں صرف ایک انگلی ڈال رہا ہے؟؟ ۔۔۔۔ پھر فُل مُوڈ میں کہنے لگی۔۔۔۔ سالے کم از کم دو انگلیاں تو اندر ڈال نا۔۔۔۔۔ ان کی بات کو سن کر میں نے اپنی دو انگلیاں ان کی چوت میں ڈالیں اور تیزی سے ان آؤٹ کرنے لگا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے میری انگلیوں کو زبردستی اپنی پھدی سے نکالا۔۔۔اور میرے گالوں کو اپنے دانتوں سے کاٹ کر بولیں ۔۔ حرام کے جنے ۔۔۔۔ تجھے تھوڑی سی لفٹ کیا کرا دی تو تو میرے سر پر چڑھ گیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پینٹ کی زپ کھولی اور پھر گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گئیں۔۔۔۔اور پھر میرے اکڑے ہوئے لن کو پینٹ سے باہر نکالا ۔۔۔۔ اور بنا کوئی بات کیئے۔۔۔۔۔ اپنے منہ میں لے کر برق رفتاری سے چوپا لگانے لگیں۔۔۔اب کہ سسکیاں بھرنے کی میری باری تھی لیکن انہوں نے مجھے سسکیاں بھرنے کا زیادہ موقعہ نہیں دیا ۔۔۔اور تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے لن چوسنا بند کر دیا۔۔۔۔۔اور سیدھی کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔اور اپنی منی اسکرٹ کو رول کر کے ہپس کے کافی اوپر تک لے گئیں۔۔ اسکرٹ کے نیچے انہوں نے بہت ہی مختصر سی پینٹی پہنی ہوئی تھی جو کہ بمشکل پھدی کی لکیر کو ڈھانپ رہی تھی۔۔ میں اس مختصر سی پینٹی کو ایک سائیڈ پر کر دیا۔۔۔ جس کی وجہ سے ان کی چوت ننگی ہو کر میرے سامنے آ گئی۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ادھر سے فارغ ہو کر میں نے اپنے ٹوپے پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا۔۔۔۔۔ تو میری دیکھا دیکھی وہ بھی اپنی دو انگلیوں کو منہ کی طرف لے گئیں اور پھر ان پر تھوک ڈال کر اپنی پہلے سے چکنی پھدی کو مزید چکنا کر دیا۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔۔۔۔ اب میں نے ان کی رائیٹ والی ٹانگ کو اوپر کر کے پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی ٹانگ اوپر کرنے کی وجہ سے لن پھدی کے ملاپ میں بہت آسانی پیدا ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اب میں نے ان کی چوت کے لبوں پر رکھے لوڑے کو ماہرانہ انداز میں ۔۔۔ ایک جھٹکا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھٹکا کھاتے ہی میرا لن بغیر کسی روک ٹوک کے ان کی شاندار چوت میں اتر گیا۔۔۔۔جیسے ہی میرا لن ان کی چوت میں اترا۔۔۔۔ انہوں نے پہلے تو ایک بہت زبردست شہوت بھری چیخ ماری اور اس کے ساتھ ہی۔۔۔ ۔۔۔ ان کے منہ سے گالیوں کا نہ تھمنے والا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں کہ مادر چود۔۔۔۔ حرام کے جنے۔۔۔۔ کتے کے پلے۔۔۔ڈال دیا ہے ۔۔تو اب رکنا نہیں ۔۔مجھے تیرا لنڈ چاہیئے ۔۔۔ ادھر ۔۔۔ میری چوت میں ۔۔۔ مجھے چودو۔۔۔۔ ۔۔۔ اپنی رانڈ کو چودو۔۔میری چوت کا بھرتہ بنا دو۔۔۔۔ ان کی شہوت سے بھر پور چیخ و پکار سے میں سمجھ گیا کہ میڈم آج کچھ ایکسٹرا گرم ہے۔۔۔۔۔ اور اگر میں ایسے ہی سپیڈی دھکے مارتا رہا ۔۔۔ تو کسی بھی وقت میڈم کا اینڈ پوائیٹ آ جائے گا۔۔۔۔۔یہ سوچ کر میں نے دھکے مارنے کی سپیڈ کو مزید بڑھا دیا۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اس دن میڈم کچھ زیادہ ہی گرم تھی ۔۔ ۔۔۔لیکن میرے اندازوں کے برعکس ۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد میڈم کے جسم نے جھٹکے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ میڈم کی چوت بھی ٹائیٹ ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ ٹائیٹ اور ٹائیٹ۔۔۔ اور ۔۔ اور ۔۔۔ اس کے ساتھ میڈم سسکیاں لیتے ہوئے۔۔۔۔ آہ ۔۔۔آہ ہ ہ اُف۔ف۔ف۔ف اُف۔۔۔ کرنا شروع ہو گئی ۔۔۔ ۔۔۔ اور اس سے ٹھیک اگلے ہی لمحے ۔۔۔۔ میڈم کی چوت سے گدلے پانی کا سیلاب نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ میں کچھ دھکے اور مارنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن تیز تیز سانس لیتی میڈم نے مجھے مزید دھکے مارنے سے منع کر دیا۔۔۔ بلکہ ہاتھ بڑھا کر میرے لن کو اپنی چوت سے ہی باہر نکال دیا اور خود گہرے گہرے سانس لینے لگیں۔۔۔۔۔۔ان کی حالت کو دیکھ کر میں نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔۔۔ اور ان کے سانس بحال ہونے تک انہیں ساتھ لگائے رکھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ان کا سانس بحال ہوگیا ۔۔۔اور وہ نارمل ہو گئیں ۔۔۔۔تو میں نے ان کو خود سے الگ کیا۔۔۔اور اپنے اکڑے ہوئے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا اس کا کچھ کرو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر فرش پر اکڑوں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے منہ میں لے کر۔۔۔اسے اس وقت تک چوستی رہیں کہ جب تک میری منی کی آخری بوند بھی ان کے حلق سے نیچے نہ اتر گئی۔۔۔ ۔۔۔اگلے کچھ دنوں تک مسٹر جان تواتر کے ساتھ سٹور پر آتا رہا۔ اور پھر ہوتے ہوتے میری اس مہذب اور گریس فل آدمی کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ ہو گئی۔۔۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔۔۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم دونوں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران سٹور میں ایک ڈھلتی عمر کی پختہ کار گوری داخل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ ایک لمبے قد کی خوب صورت ۔۔۔سیکسی۔۔ اور توانا عورت تھی ۔ جس نے اپنے جسم کی نمائش میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی ۔۔اس کے جسم کی ہر چیز فٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن وائے افسوس کہ۔۔۔۔۔۔ اس حسین خاتون کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔ لیکن چھاتیوں کے برعکس ۔۔۔ اس کی گانڈ ۔۔۔۔۔اور رانیں ۔۔۔۔ بہت ہی موٹی اور پر گوشت تھیں ۔۔۔۔ جنہیں دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو نے لگا ۔۔۔۔مطلب اس گوری کی مست رانیں دیکھ میری شہوت جاگ اُٹھی اور ۔۔۔۔۔میں (چوری چوری ) اسے بڑی ہی ہوس ناک نظروں کے ساتھ گھورتا رہا۔۔۔ میری یہ حسرت بھری نظریں جان مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ کچھ خریداری کے بعد جب وہ حسینہ ۔۔۔۔۔واپسی کے لیئے مُڑی ۔۔۔۔تو میں اس کی موٹی گانڈ پر دُور بین فٹ کیئے ۔۔۔ ترسی ہوئی نظروں کے ساتھ ۔۔ اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور جب وہ خاتون سٹور سے باہر نکل گئی ۔۔۔تو دفعتاً میرے کانوں میں جان کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔ ویل لٹل بوائے! ۔۔جان کی آواز سن کر ۔۔۔ جب میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟ چونکہ اس وقت تک میری جان کے ساتھ اچھی خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی اس لیئے میں نے اسے کہا کہ جی ضرور پوچھو؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہیں یہ لیڈی بہت پسند آئی ہو۔۔۔ایم آئی رائیٹ آر رانگ؟؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ مسٹر جان! یو آر ویری رائیٹ ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ لیکن تمہاری اور اس کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہے ۔۔ پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔ کہیں تمہیں میچور لیڈیز تو پسند نہیں ؟ تو آگے سے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔اس کے بعد اس نے بڑے ہی ڈرامائی انداز میں مجھ سے سوال کیا۔۔۔ کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ چونکہ میری اس کے ساتھ اس موضوع پر پہلی دفعہ بات ہو رہی تھی اس لئے قدرتی طور پر میں کچھ ہچکچاہت محسوس کر رہا تھا لیکن جب اس نے مجھ سے دوبارہ یہی سوال کیا کہ کیا تمہیں میچور لیڈیز کے ساتھ سیکس کرنا پسند ہے؟ تو میں نے کچھ شرماتے اور کچھ گھبراتے ہوئے ہاں کر دی میری شرماہت کو دیکھ کر وہ بڑا محظوظ ہوا اور پھر شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ سیکس کیا؟ تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تک تو ہاتھ سے ہی کام چلا رہا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ۔۔۔۔ کرتے کرتے اچانک ہی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔۔میں کچھ کروں؟ اس کی بات سن کر میں تو حیران ہی رہ گیا۔۔۔اور کپکپاتی ہوئی آواز میں بولا۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔ میرا مطلب کہ آپ پ پ پ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ سر ہلا کر بولا۔۔۔۔ ہاں میں ۔۔ اتنی بات کرتے ہی اس نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔۔۔اور پرس سے ایک تصویر نکال کر مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔۔ یہ کیسی ہے؟ اس نے جو تصویر مجھے دکھائی تھی یہ ساحل، سمندر سے لی گئی ایک گوری کی ہوش ربا تصویر تھی جس کے بال سنہرے۔۔ چھاتیاں تنی ہوئیں تھیں ۔۔ اس گوری نے بکنی پہنی ہوئی تھی ۔۔ اور اس مختصر سے لباس میں اس کے زنانہ اعضاء کچھ اس طرح سے نمایاں ہو رہے تھے کہ انہیں دیکھ کر میرا دورانِ خون کچھ اور بھی تیز ہو گیا تھا ۔۔۔ اور میں بے یقینی کے عالم میں کبھی جان ۔۔۔اور کبھی اس دل کش ، خوب صورت اور نیم عریاں گوری کی تصویر کو دیکھنے لگتا ۔ ابھی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس تصویر کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک جان نے میرے ہاتھ سے اس تصویر کو اچک لیا۔۔۔۔ اور اسے واپس پرس میں ڈالتے ہوئے بولا۔۔ کیسی لگی؟ تو میں نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔یہ۔۔۔ یہ تو کوئی ہالی وڈ کی اسٹار لگتی ہے تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔ اس بات کو چھوڑو کہ ۔۔۔۔ یہ ہالی ووڈ اسٹار ہے یا کوئی بزنس وومن ۔۔ تم بس یہ بتاؤ کہ ۔۔۔ تمہیں یہ بیوٹی چاہیئے کہ نہیں ؟ نہیں کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ ہم جیسے محکوم ملک کے لوگوں کے لیئے گوری میم ایک آسمان سے اتری ہوئی اپسرا سے کم نہیں ہوتی ۔۔۔چنانچہ میں اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔۔ اس جیسی خوب صورت حسینہ کے لیئے کوئی کافر ہی انکار کر سکتا ہے ۔۔۔ پھر میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ کہ یہ حسینہ ہے کون ؟ تو وہ بڑے پر اسرار لہجے میں بولا۔۔۔۔ ۔ اس سے ملنا چاہو گے؟ ۔۔ جان کی بات سن کر میں بڑی بے تابی سے بولا۔۔ کب ملا رہے ہو؟ تو وہ اطمینان سے کہنے لگا اگر تم ایگری ہو ۔۔۔۔تو کل یا مے بی پرسوں۔۔۔ تو اس پر میں جلدی سے بولا ۔۔ آج ہی کیوں نہیں ملوا دیتے ؟ میری بات سن کر وہ ہنس پڑا ۔۔اور مجھے تھپکی دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ ٹیک اٹ ایزی لٹل بوائے!!۔۔۔ پھر اچانک ہی وہ سیریس ہوتے ہوئے بولا ۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔فرض کرو میں اس سے تمہیں ملوا دیتا ہوں۔۔ ۔۔۔اور ۔۔۔ تم اسے فک کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہو۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے خاص انداز میں بولا۔۔۔بڈی! تم نے تو اپنے مزے لے لیئے ۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟ اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور پھر اس سے بولا۔۔۔ آپ کتنے ڈالر لو گے ؟ تو وہ نفی میں سر ہلا کر بولا۔۔۔ ۔۔ ڈالر نہیں دوست ۔۔۔بلکہ میری ایک شرط ہو گی۔۔ جان کی بات سن کر میں چونک اُٹھا اور اس سے بولا کیسی شرط؟ تو وہ ٹھہر ٹھہر کر کہنے لگا ۔۔ وہ شرط یہ ہے کہ تم اس بیوٹی فل لیڈی کو میرے سامنے فک کرو گے۔۔ جان کی بات سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔۔ اور بے یقینی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تمہارے سامنے؟ تو وہ بڑی مکاری سے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔ہاں میرے سامنے !!!۔۔۔۔پھر کہنے لگا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہارے کسی بھی کام میں مداخلت نہیں کروں گا ۔۔ یہ تم دونوں کی اپنی انڈر سٹینڈنگ ہو گی۔کہ تم اسے کس سٹائل میں فکنگ کرو گے۔۔۔ اس پر میں اس سے کہنے لگا۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔لیکن۔۔۔مم۔ میں۔۔۔ لیکن میری بات کو مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ایک دفعہ پھر جیب سے وہی تصویر نکالی اور مجھے دکھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اس کو فک کرنا چاہتے یا نہیں ؟؟؟ ۔۔تو میں نے جلدی سے اقرار میں سر ہلا دیا۔۔۔ تب وہ اسی مکاری سے بولا تو پھر تمہیں اس کی قیمت دینی ہو گی۔۔۔ جو فقط اتنی سی ہے کہ تم اسے میرے سامنے فک کرو گے ۔۔ اگر منظور ہے تو ویل اینڈ گڈ ۔۔نہیں تو میں اپنی آفر واپس لیتا ہوں۔۔۔ ۔۔ جان کی یہ بات سن کر میری تو گانڈ پھٹ گئی۔۔۔۔ اور ایک مفت کی گوری ہاتھ سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔ تب میں نے آخری چارے کے طور پر اس سے کہا ۔۔۔ اس میں کوئی پرابلم تو نہیں ہو گی ناں؟ میری نیم رضا مندی اور اس گوری کے لیئے ۔۔۔۔ بےتابی کو دیکھ کر وہ بڑا خوش ہو ا۔۔ اور پھر سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ۔۔ یہ میری گارنٹی ہے کہ تمہیں کسی بھی قسم کی ۔۔۔ کوئی پرابلم نہیں ہو گی ۔ بلکہ تم انجوائے کرو گے تب میں نے اس سے کہا کہ کیا وہ آپ کے سامنے مجھ سے فک کروانے پر راضی ہو جائے گی؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔ میں کل اسے تم سے ملوانے لاؤں گا بہتر ہو گا کہ یہ بات تم میری بجائے اس سے خود پوچھ لینا۔۔اس کے بعد اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور سٹور سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
  12. 2 points
    فرحت نے پورے ذور سے میرے پیٹ میں پاوں مارے اور میں اچھل کر پیچھے ھوا اور گرتے گرتے بچا۔ لن کڈن دا بڑا چنگا طریقہ ازمایا سالی نے۔۔ لن جیسے ھی فرحت کی پھدی سے نکلا فرحت درد سے بلبلا کر دُھری ہو کر اپنے پیٹ پر ھاتھ رکھے دوسری طرف منہ کر کے اپنے گوڈے پیٹ کے ساتھ لگا کر ٹیڑھی ھوکر لیٹ گئی اور رونے لگ گئی ہاے میرا اندر گیا ھاےےے میں مرگئی ھاےےےےے ماں میرئیے ھاےےےےےےے فرحت ساتھ ساتھ روے جارھی تھی اور آنکھیں پھاڑے میرے لن کو بھی دیکھی جارہی تھی۔ میں غصے سے آگے بڑھا اور پھر سے فرحت کو سیدھا کرنے کی کوشش کی مگر سالی نے مجھے ٹانگیں مارنی شروع کردی میں نے بڑی مشکل سے اسکی ٹانگوں کو قابو کیا اور فرحت کو سیدھا تو نہ کر سکا مگر اسے الٹا کرنے میں کامیاب ھوگیا فرحت کی ٹانگیں اب بھی بیڈ سے نیچے تھی اور پھدی بیڈ کے ساتھ لگی ھوئی تھی اور گانڈ اوپر تھی میں نے فرحت کو الٹا کر کے اسکے دونوں ھاتھ پکڑ کر پیچھے اسکی کمر کے ساتھ لگا کے پورے ذور سے اسکی کمر پر دبا کے قابو کر لیے فرحت پھر ذور ذور سے چلاے جا رھی تھی اور مجھے واسطے دیئے جا رھی تھی فرحت کو میں نے اچھی طرح قابو کیا ھوا تھا اور مجھے شیطان نے قابو کیا ھوا تھا میرے دل میں ذرہ سا بھی رحم نھی آرھا تھا شاید مہری کے غصہ اور تھپڑ کے غصہ نے مجھے پاگل کیا ھوا تھا بس ہوس ھی ہوس میرے دماغ پر سوار تھی خیر فرحت نیچے سے گانڈ کو دائیں بائیں ہلا کر اپنا بچاو کرنے کی پوری کوشش کررھی تھی فرحت کے شور شرابے سے میں تنگ آچکا تھا میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجھے تکیہ پڑا نظر آیا میں نے ایک ھاتھ سے فرحت کی دونوں کلائیاں قابو کیں اور دوسرا ھاتھ لمبا کر کے تکیہ پکڑا اور تکیے کو فرحت کے سر کے اوپر رکھا اور دبا دیا جس سے اسکی آواز بیڈ کے میٹرس اور تکیے میں دب گئی اب اسکی آواز ایسے آرھی تھی جیسے بہت دور سے آرھی ھو میرا لن پھدی کے پانی سے کافی گیلا ھو چکا تھا میں نے فرحت کی گانڈ کی دراڑ میں لن رکھا اور اندازے سے پھدی کا نشانہ لگا کر پھر زور سے گھسا مارتے ھوے فرحت کے اوپر ھی لیٹتا گیا میں نے جیسے ھی اندازے سے گھسا مارا تو مجھے ایسے لگا جیسے میرا لن کسی تنگ سوراخ میں گھس گیا ھو اس کے ساتھ ھی فرحت ایسے تڑپی جیسے کسی نے اسے ذیبحہ کردیا ھو اسکی تکیہ کے نیچے سے غوں غوں کی آواز آرھی تھی فرحت پہلے تو اپنی گانڈ کو ایکدم اوپر کو کیا جس لن مزید اسکی گانڈ کے اندر چلا گیا تو اسی وقت فرحت نے گانڈ کو ذور سے بھینچ کر میٹرس کی طرف زور لگانا شروع کردیا مجھے اپنے کے گرد فرحت کی گانڈ کے سوراخ کی گرفت اتنی ذیادہ ٹائٹ محسوس ھوئی جیسے فرحت کی گانڈ ابھی میرے لن کا کچومر نکال دے گی میں ایسے ھی سارا وزن فرحت پر ڈال کر اسکے اوپر لیٹا رھا فرحت بری طرح تڑپ رھی تھی اب وہ نیچے سے گانڈ کو ہلا نھی رھی تھی شاید ہلنے سے اسکو درد ھوتی تھی۔ اچانک مجھے محسوس ھوا کہ فرحت مجھے کچھ کہنا چاھ رھی تھی میں نے گھسا مارتے وقت اسکے دونوں ھاتھ کھول کر اسکے پاس لے گیا تھا تو اب وہ ھاتھ کے اشارے سے مجھے کچھ سمجھا رھی تھی اسکی غوں غوں بھی بند ہوگئی تھی میں نے تکیہ اسکے سر سے اٹھا کر سر سے آگے ھی پھینک دیا تو فرحت نے لمبا سانس لیا جیسے اسکا سانس رکا ھوا تھا فرحت روتے ھوے بولی یاسر اسے باہر نکال لو تم نے میری گانڈ پھاڑ دی ھے ایسے بھی کوئی کرتا ھے کیا میں نے کہا جب ایسے ہلتی رھو گی تو لن کہیں بھی جاسکتا ھے آرام سے کروا لیتی تو اتنی تکلیف نہ اٹھاتی بلکہ ماسٹر سے بھی ذیادہ مزا دیتا تم کو۔ فرحت بولی یاسر ادھر سے نکال لو تم جیسے کہو گے میں ویسے ھی کروا لوں گی شور بھی نھی کرتی مگر ادھر سے نکال لو نھی تو میں مر جاوں گی میری جان نکل رھی ھے میں نے بھی محسوس کیا کہ فرحت کی ٹانگیں بری طرح کانپ رھی ہیں تو میں نے فرحت کے منہ پر ھاتھ رکھا اور ایک جھٹکے سے لن باہر کی طرف کھینچا تو فرحت کے منہ سے پھر چیخ نکلی جو میرے ھاتھ میں ھی دب گئی اور ساتھ ھی فرحت نے بڑا سا پد مارا پڑووووووں فرحت نے چیخ مارنے کے بعد میری ہتھیلی پر دندی کاٹ لی مجھے تکلیف تو بہت ھوئی مگر برداشت کرگیا اور ساتھ ھی میں فرحت کے ساتھ ٹیڑھا ہوکر لیٹ گیا میں نے فرحت کو چھوڑا نھی تھا کہ سالی بھاگ نہ جاے فرحت ایک دم سکون میں ہوگئی اور ویسے ھی بےجان ھوکر الٹی لیٹی رھی اور ایک ھاتھ پیچھے کرکے اپنی گانڈ کی دراڑ میں انگلیاں ڈال کر دبانے لگ گئی مین نے اپنے لن کو دیکھا تو میرے لن پر خون اور گندگی لگی ھوئی تھی میں نے بیڈ کی چادر کے ساتھ ھی لن کو صاف کرنا شروع کردیا فرحت کچھ دیر ایسے ھی بلکل خاموش لیٹی رھی میں نے فرحت کو سیدھا کیا تو اس سے سیدھا نہ ھوگیا گیا اسکو واقعی ھی تکلیف بہت ذیادہ ہورھی تھی میں بیڈ سے نیچے اترا اور فرحت کو پکڑ کر سیدھا کیا .اور اسکی ٹانگوں کو اٹھا کر بیڈ پر کیا اور خود بھی بیڈ پر چڑھ کر اسکی ٹانگوں کے درمیان گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور لن کو پکڑ کر فرحت کی انکھوں کے سامنے لہرانے لگا فرحت گم سم سی آنکھیں پھاڑے میرے لن کو دیکھی جارھی تھی میں نے فرحت کی شلوار جو پیروں میں اٹکی ھوئی تھی اسکو اتارا اور فرحت کی ٹ اس ٹانگوں. کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھا اور لن کو پکڑا کر فرحت کی پھدی پر پھیرنے لگ گیا فرحت کو جب لن پھدی پر لگنے کا احساس ھوا تو فرحت نے دونوں ھاتھ جوڑے اور میری آنکھوں کے سامنے کرتے ھوے بلبلا کر رونے لگ گئی اور کانپتی آواز میں بولی یاسر. تم نے اگر کرنا ھی ھے تو کل آجا نا ابھی مجھ میں ہمت نھی ھے میری جان نکل رھی ھے کل تم جیسے کہو گے میں ویسے ھی کروں گی فرحت کی آواز میں اتنا درد تھا کہ اسکی آواز نے میرا دل نرم کردیا اور اسکے لیے میرے دل میں نرم گوشہ پیدا ھوگیا میں نے کہا اچھا جی کل میں آوں تو تم مجھے دروازے پر ھی ذلیل کر کے بھگا دو فرحت بولی یاسر اب میرے پاس بچا ھی کیا جو تم سے چھپاوں گی میں اپنے بیٹے کی قسم کھا کر کہتی ھوں کہ میں سچ کہہ رھی ھوں اگر جھوٹ بولوں تو اپنے بیٹے کا مرا منہ دیکھوں اب بھی تم کو یقین نھی تو بیشک تمہارا جو دل کرتا ھے کرلو میں مرتی ھوں تو مجھے مرنے دو مگر یاسر یہ یاد رکھنا تمہارے دومنٹ کے مزے نے میری جان لے لینی ھے میں کچھ دیر ایسے ھی بیٹھا فرحت کے چہرے کو غور سے دیکھتا رھا اس کے چہرے پر سواے ندامت شرم اور تکلیف کے کچھ نھی تھا میں جمپ مار کر کھڑا ھوا اور اپنی شلوار کو پہنتے ھوے بولا فرحت میں تم پر یقین کر کے تمہیں چھوڑ رھا ھوں اور یہ بھی یاد رکھنا کہ اگر تم نے مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کی تو اسکا خمیازہ تمکو بھگتنا پڑے گا فرحت غور سے میری طرف بس دیکھے جارھی تھی میں نے اسکو پھر کہا میری بات یاد رکھنا میں کل آوں گا اگر بیٹھک کا دروازہ کھلا ھوا تو میں اندر آجاوں گا اگر دروازہ بند ھوا تو پھر میں یہ ھی سمجھوں گا کہ تم جھوٹی مکار ھو یہ کہتے ھی میں اسکا جواب سنے بغیر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا اور بیٹھک کے دروازے سے باھر گلی میں نکلا اور گھر کی طرف چل دیا ۔۔۔ .میں گھر آیا تو امی ابھی تک صحن میں ھی بیٹھی ھوئی تھی شاید میرا ھی انتظار کر رھی تھی جیسے ھی میں اندر داخل ھوا امی مجھ پر ناراض ھونے لگ گئی کہ اتنی دیر لگادی نہ کھانے کی فکر ھے تجھے پہلے کھانا تو کھا لیتا پھر آوارہ گردی کرنے نکل جاتے دوستو ایک واحد ماں ھی ھوتی ھے جسے بچے کی کھانے پینے کی فکر ھوتی ھے جب ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاے تو ھی ماں کی قدر ھوتی ھے ساری دنیا کی لڑکیوں کی محبت ایک ترازو میں رکھ دو تو ماں کی محبت کا ایک ذرہ بھی اسکے قابل رکھ دو تو ماں کی محبت کا وہ زرہ بھی ان پر بھاری ھوگا اس لیے بھائیو جن کی مائیں ان کے سر پر سلامت ہیں انکی جتنی خدمت کر سکتے ھو کرلو دنیا اور آخرت سنور جاے گی ماں کی ڈانٹ بھی دودھ کی نہر ھوتی ھے وہ کہتے ہیں نہ کہ ماں پیو دیاں گالاں تے دودہ دیاں نالاں امی کی ڈانٹ سن کر میں کمرے میں چلا گیا کچھ دیر بعد امی کھانا لے کر آگئی اور پھر سے اپنی ممتا دیکھاتے ھوے مجھے سمجھانے لگ گئی میں چپ کر کے سنتا رھا اور کھانا کھاتا رھا میں نے کھانا کھایا اور امی سے پوچھا کی نازی کدھر گئی ھے تو امی جان مجھ سے پوچھنے لگ گئی کہ اپنی آنٹی کہ گھر نھی گئے تو میں نے کہا نھی امی جی امی بولی تیری آنٹی کا بھائی فوت ھوگیا ھے اور وہ دوپہر کو ھی سرگودھے چلی گئی تھی عظمی اور نسرین اکیلی گھر پر تھی تو تیری آنٹی نے کہا تھا کہ نازی کو انکے ساتھ سلا دینا اور ھوسکے تو یاسر کو بھی کہنا کہ بہنوں کے پاس سو جاے میں نے کہا کہ آنٹی انکو بھی ساتھ لے جاتی تو امی بولی بیٹا انکے پیپر ھونے والے ہیں وہ کیسے سکول سے چھٹی کر سکتی تھی تم ایسا کرو دودھ پی کر بہنوں کے پاس چلے اور ادھر ھی سوجانا صبح انکو ساتھ بھی لیتے جانا کل بھی ھوسکتا ھے کہ تمہاری آنٹی نہ آے میرے اندر تو لڈو پھوٹنے لگ گئے کہ دو پھدیاں تو نھی ملی چلو آج رات پُرانی پھدی ھی سہی نکالنا تو پانی ھی تھا ورنہ مُٹھ مار کر سونا پڑتا میں نے مصنوعی غصے سے کہا امی کیا مصیبت ھے انٹی انکو ساتھ لے جاتی مجھے انکے گھر نیند نھی آنی میں نے صبح جلدی اٹھنا ھوتا تو امی پیار سے مجھے پچکارتے بولی کہ نہ پتر بہنیں اکیلی ھیں جا میرا بچہ کچھ نھی ھوتا دو راتوں کی تو بات ھے میں نے اچھے بچے کی طرح اثبات میں سر ہلایا اور اٹھ کر جانے لگا تو امی نے آواز دی ہن کتھے چلاں آں میں نے کہا کہ امی آپ نے خود ھی تو کہا ھے کہ آنٹی کے گھر سونا ھے تو امی بولی پتر دودھ تو پیتا جا میں نے کہا امی جی ابھی تو روٹی کھائی ھے میں انکے گھر سے پی لوں گا تو امی میرے پیچھے پیچھے دروازے تک آئی اور پیچھے سے بھی آواز دے کر بولی پتر یاد نال دودھ پی لینا میں نے اونچی آواز میں کہا اچھا امی جی پی لوں گا دودھ اور اچھلتا کودتا ٹھک کر کے عظمی کے گھر جا پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا کچھ دیر بعد اندر سے نسرین کی آواز ائی کون ھے میں نے بلی کی آواز نکالتے ھوے میاوں کیا تو نسرین نے پھر پوچھا کون میں نے پھر میاوں کیا نسرین کی اب غصہ سے آواز آئی منہ وچ زبان نئی ھے گی میں نے کہا چور ہوں چوری کرنے آیا ھوں دروازہ کھولو نسرین نے دروازہ کھولا اور غصے سے مجھے دیکھتے ھوے بولی منہ وچ زبان نئی ھے میں کب سے پوچھ رھی ھوں کہ کون ھے کون ھے تو میں نے اسے منہ چڑھایا اور اندر آگیا اور اس سے آگے آکر بولا دروازہ بند کر کے آئیں تو نسرین غصے سے دروازہ کھلا چھوڑ کر کمرے کی طرف چلدی اور بولی میں تیری نوکر نئی آپے بند کرلے ہتھ نئ ٹُٹے تیرے میں نے ہنستے ھوے دروازہ بند کیا اور اس کے پیچھے تیز قدم چلتا ھوا اسکے پیچھے پہنچا اور پیچھے سے اسکے کندھوں پر ھاتھ رکھ کر اسپر وزن ڈال کر جمپ لگایا تو نسرین بولی ھاےےےےے مرگئی کُتا کسے تھاں دا بغیرتا میرے موڈے توڑ دیتے ای شرم تے نئی آندی میں اسکی گالیوں کو انجواے کرتے ھوے ہنستا ھوا اس کے سر پر چپت لگا کر اسکے آگے بھاگ کر کمرے میں آگیا نسرین مجھے مارنے کے لیے میرے پیچھے بھاگی مگر میں تیز بھاگ کر اس سے پہلے کمرے میں پہنچ چکا تھا کمرے میں نازی اور عظمی چارپائی پر بیٹھی گپیں لگا رھی تھیں مجھے دیکھ کر عظمی کے چہرے پر چمک سی ائی اور ناذی شروع ھوگئی کتھے گیا ھویا سی آوارہ گردا میں نے کہا پونک نہ ایویں اپنا منہ بند رکھ تو نسرین جو میرے پیچھے ھی کھڑی تھی اس نے ایڑیاں اٹھا کر میرا کان پکڑ کر مروڑتے ھوے بولی شرم نھی آتی بڑی بہن کے ساتھ بتمیزی کرتے ھو میں نے اپنا کان چھڑواتے ھوتے کہا ھاےےےےےے چھڈ میرا کن چولے تو عظمی نے نسرین کو گھورتے ہوے کہا شرم کر اور میں نے کان چھڑوایا اور کان کو مسلتا ھوا عظمی اور نازی کے پاس دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا عظمی نے پوچھا یاسر کھانا لے کر آوں تو میں نے کہا نھی میں کھا کر آیا ھوں دودھ پیوں گا مگر ابھی نھی ,اور ساتھ ھی نازی سے بچا کر اسے آنکھ ماردی عظمی نے شرما کر منہ نیچے کرلیا میں نے عظمی اور نسرین سے انکے ماموں کا افسوس کیا اور کچھ دیر افسوس کا ماحول چلتا رھا پھر نسرین بولی چلو سب صحن میں سب پکڑن پکڑائی کھیلتے ہیں تو میں چارپائی پر لیٹتے ھوے بولا نہ بابا میں نے تو نھی کھیلنا تو نسرین نے میرے پیر کو پکڑا اور کھینچتے ھو مجھے چارپائی سے گرانے کی کوشش کرتے ھو کہنے لگی آرام سے اٹھتے ھو کی گراوں نیچے میں نے ہنستے ھوے کہا اچھا چھوڑو آتا ھوں تو ہم چاروں باہر صحن میں آگئے صحن کافی کُھلا تھا جس میں ایک بیری کا درخت لگا ھوا تھا اور صحن میں 100واٹ کا بلب لگا ھوا تھا جس کے نیچے چولہا تھا اور دھویں سے بلب کی روشنی نہ ھونے کے برابر تھی باہر آکر میں نے کہا اندھیرے میں کیسے پکڑن پکڑائی کھیلیں گے تو عظمی بولی کچھ نھی ہوتا اتنے دنوں بعد تو کھیلنے کا موقع ملا ھا میں نے کہا چلو جی جیسے آپ کی مرضی پھر ہم نے اپنی اپنی باری پگنا شروع کردی پہلی دفعہ نسرین ھار گئی نسرین کی انکھوں پر دوپٹہ باندھ دیا اور وہ اندھوں کی طرح باہیں پھیلاے ادھر ادھر ہاتھ چلاتے ھوے گھومنے لگ گئی جدھر سے آواز آتی وہ اسطرف بھاگ پڑتی دو دفعہ بیچاری بیری کے درخت سے ٹکرائی ہمارا ہنس ہنس کے براحال ھوتا رھا دس پندرہ منٹ تک وہ ایسے ھی کبھی میری آواز سن کر میری طرف بھاگتی کبھی نازی کی طرف اور کبھی عظمی کی طرف مجھے اس بیچاری پر ترس آیا تو میں نے جان بوجھ کر اسکے قریب ھوا تو اس نے میرا بازو پکڑ کر بڑی فاتحانہ انداز میں چیخ کر فاتح کا اعلان کیا اب میری باری تھی تو نسرین نے جلدی دوپٹہ پکڑا اور میرے پیچھے آکر میری آنکھوں پر دوپٹہ باندھنے کی کوشش کرنے لگ گئی میرا قد نسرین سے لمبا تھا اس لیے نسرین ایڑیاں اٹھا کر میری آنکھوں پر دوپٹہ باندھ رھی تھی تو اسکے ممے میری کمر کو چھو رھے تھے نسرین کے نرم ممے جیسے میری کمر پر لگتے تو میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑ جاتا نسرین جیسے ھی میری آنکھ پر دوپٹہ سہی کرنے کی کوشش کرتی تو میں جان بوجھ کر آگے کو جھک جاتا تو نسرین بھی میرے پیچھے میرے اوپر جھک جاتی جسکی وجہ سے نسرین کے ممے میری کمر کے ساتھ رگڑ کھا جاتے میں نے چار پانچ دفعہ ایسے کیا تو نسرین جنجھلا کر بولی مجھ سے نھی اس لمبو کے دوپٹہ باندھا جاتا تو نازی آگے بڑی اور نسرین کے ھاتھ سے دوپٹہ لے کر میرے باندھنے لگ گئی میں نے آرام سے نازی سے دوپٹہ بندھوا لیا اور ہاتھ لمبے کر کے جس طرف سے آواز آتی اسطرف بھاگنے لگ جاتا تو مخالف مجھے چکما دے کر دوسری طرف ھو جاتا میں اندھوں کی طرح ایسے ھی ھاتھ مار رھا تھا کافی دیر ایسے ھی بھاگ دوڑ ھوتی رھی کہ مجھے نسرین کی آواز اپنے دائیں طرف سے آئی تو میں نے اسکو محسوس نھی ھونے دیا کہ مجھے اسکی آواز سنائی دی ھے جبکہ دوسری طرف سے نازی اور عظمی کی آواز آرھی تھی جو کچھ دور لگ رھی تھی میں نے پہلے بازوں نازی کی آواز کک سمت ایسے کیے جیسے میں اسکو پکڑنے کے لیے بھاگنے لگا ھوں مگر میرا ٹارگٹ نسرین تھی جو میرے قریب ھی کھڑی تھی میں نے ایکدم بازوں کا رخ نسرین کی آواز کی طرف کیا اور تھوڑا آگے بڑھا تو میرے دونوں ھاتھ کسی نرم سی چیز سے ٹکراے تو میں نے جلدی سے ان نرم چیزوں کو اپنی مٹھی میں بھر لیا اسکے ساتھ ھی نسرین کے ہلکی سی چیخ نکلی اور ساتھ ھی اس نے کہا ہارے ربا اور نسرین نے میرے ھاتھوں پر ھاتھ رکھ کر نرم نرم چیزوں کو چھڑوانا چاھا اور پیچھے کو ہٹنے لگی تو میرا پیر کسی چیز سے ٹکرایا اور میں نسرین کے مموں کو پکڑے ھوے اسکو ساتھ لیے نیچے جاگرا نسرین میرے نیچے تھی اور میں اسکے اوپر گرتے وقت نسرین کے ممے میرے ھاتھ سے نکل گئے تھا اور اب میعء سینے کے ساتھ اس کے ممے چپکے ھوے تھا نسرین کی دونوں ٹانگیں کھلی تھی اور میرا لن والا حصہ اسکی پھدی کے بلکل ساتھ ایسے چپکا ھوا تھا جیسے میں لن اسکی پھدی میں ڈال کر اسے چود رھا ھوں نسرین کے منہ سے چیخ نکلی تھی اور گرتے وقت میں نے اسکے کندھوں کے پیچھے اپنے بازو کردیے تھے جس کی وجہ سے اسے چوٹ تو نھی لگی مگر میرے ممے پکڑنے اور پھر ایسے اسکے ساتھ چپک جانے کی وجہ سے وہ ڈر گئی تھی اس لیے اس کے منہ سے چیخ نکل گئی ایسا بس چند سیکنڈ ھی ھوا تھا اس سے پہلے کہ نازی اور عظمی ہمار ے سر پر پہنچتی میں جلدی سے نسرین کے اوپر سے اٹھا اور دوپٹے کو آنکھوں سے اتار کر حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا جیسے ابھی آسمان سے گر کر زمین پر پہنچا ھوں نسر ین اپنی کمر کو پکڑے بیٹھی ھاے ھاے کررھی تھی ۔عظمی اور نازی بھی بھاگتی ھوئی ہمارے پاس پہنچ گئی اور میری دشمن نے آتے ھی نسرین سے پوچھنا شروع کردیا کہ بچ گئی چوٹ تو نھی لگی اور میری ہمدرد عظمی نے مجھ سے پوچھنا شروع کردیا کہ چوٹ تو نھی لگی میں نے اسے تسلی دی کہ کچھ نھی ھوا بچ گئے ہین تو عظمی نسرین کو بولنے لگ گئی کہ ہن مزہ آگیا کھیلن دا تینوں وی بڑا چا سی پھڑن پھڑائی کھیلن دا تو نسرین چپ تھی کچھ بولی نہ بس عظمی کو گھور گھور کر دیکھی جارھی تھی نازی نے بھی نسرین کو اٹھا کر کھڑا کردیا تھا اور نسرین کی گانڈ کو جھاڑ رھی تھی میں نے جیسے ھی نسرین کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا کہ چوٹ تو نھی لگی تو نسرین نے میری طرف دیکھا اور شرما کر نظریں نیچے کرلیں اور بولی بچ گئی ھوں ورنہ تم نے تو کوئی کسر نھی چھوڑی تھی کہ میری کمر توڑنے کی ایسے ھی ہم کچھ دیر اور باتیں کرتے رھے پھر کمرے میں چلے گئے کمرے میں دو ھی چار پائیاں تھی ایک پر نسرین اور نازی لیٹ گئی دوسری پر عظمی میں نے پوچھا کہ میں نے کہاں لیٹنا ھے تو نازی بولی تم ساتھ والے کمرے میں لیٹ جاو تبھی عظمی اٹھی اور بولی چلو میں بستر کر دیتی ھوں اور میں عظمی کے پیچھے چلتا ھوا دوسرے کمرے میں آگیا کمرے میں آتے ھی میں نے عظمی کو جپھی ڈال لی اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگ گیا اور اسکا مما پکڑ کر دبانے لگ گیا عظمی آہستہ سے بولی چھوڑو مجھے پاگل ھوگئے ھو وہ دونوں جاگ رھی ہیں میں نے کہا جاگنے دو ۔تو عظمی بولی یار سمجھا کرو اگر ان میں سے کوئی آگئی تو بڑا مسئلہ بن جاے گا میں کہیں بھاگی تو نھی جارھی تھوڑا صبر کرلو انکو سونے دو میں ادھر آجاوں گی میں نے کہا یار مجھ سے صبر نھی ھورھا کتنے دن ہوگئے ہیں عظمی میرے سینے پر مکہ مارتے ھوے بولی میں نے کہا نہ کہ آتی ھوں تھوڑی دیر کہ بعد اور عظمی نے میرے ہوںنٹوں پر ایک لمبی سی ذور دار کس کی اور مجھ سے علیحدہ ھو کر چارپائی کی طرف چلی گئی جو پہلے ھی بچھی ھوئی تھی اس پر چادر بچھا کر جانے لگی تو دروازے کے قریب پہنچ کر رک گئی اور میری طرف گھوم کر بولی دودھ گرم پینا ھے کہ ٹھنڈا میں نے کہا منہ لگا کر تازہ پینا وہ بھی جب تم آو گی تو ہنسی اور ہاتھ میری طرف کر کے اشارے سے بولی کوئی حال نئی تمہاری اور کمرے سے باہر چلی گئی میں چارپائی پر لیٹ گیا اور نسرین کے نرم مموں میں کھو گیا کہ کیا کمال کے ممے تھے میرا تو کبھی دھیان ھی نھی گیا اسطرف کافی دیر میں ایسے ھی سوچتا رھا اور سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی اور خواب میں نسرین کو چودنے لگ گیا اس سے پہلے کہ میں خواب میں نسرین کی پھدی کے اندر ھی فارغ ھوتا اچانک مجھے ایسا لگا کہ مجھے کو ئی جنجھوڑ رھا ھے میں نے جیسے ھی آنکھیں کھولی تو جو چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا میں اسے آنکھیں پھاڑے دیکھی جارھا تھا کیونکہ وہ چہرہ ۔وہ نھی تھا جسکو خواب میں چود رھا تھا میں نیند میں ابھی اس چہرے کو پہچاننے کی کوشش ھی کر رھا تھا کہ عظمی نے میری گال تھپتھپا کر مجھے خواب سے باہر نکال دیا اور غصے سے دبی آواز میں بولی مجھے آنے کا کہہ کر خود گھوڑے بیچ کر سوے ھوے ھو میں نے عظمی کو دونوں بازوں سے پکڑا اور اپنے سینے کے اوپر گرا لیا عظمی میرے سینے پر لیٹے ھوے میرے سینے پر مکا مارتے ھوے بولی کب سے اٹھا رھی ہوں جناب کو کوئی ہوش ھی نھی تھا میں نے کہا بس یار تمہیں یاد کرتے کرتے سوگیا پتہ ھی نھی چلا عظمی کی ٹانگیں چارپائی سے نیچے تھی اور وہ چارپائی پر گانڈ میرے ساتھ لگا کر میرے سینے پر اپنے ممے رکھے ھوے لیٹی تھی اسکا منہ میرے منہ سے کچھ فاصلے پر تھا کہ اسکی گرم سانسیں میرے منہ پر پڑ رھی تھی عظمی بولی چل جھوٹا جب کوئی کسی کو یاد کرتا ھے اسکی تو نیندیں اڑ جاتی ہیں اور تم جسے یاد کرنے کا جھوٹ بول رھے ھو وہ کب سے تمہیں اٹھانے لگی ھے میں نے کہا اچھا چھوڑو یہ بتاو کہ وہ دونوں چڑیلیں سو گئی کہ نئی تو عظمی نے پیارے سے میری گال پر چپت لگاتے ھوے بولی پاگل اگر وہ جاگتی ھوتی تو میں نے آنا تھا میں نے کہا یعنی کہ وہ سوگئی ہیں تو عظمی نے دھیمی ہنسی ہنستے ھوے کہا بدھو وہ تو کب کے سوئی ہوئی ہیں میں تو صحن کی لائٹ بھی بند کرکے آئی ھوں میں نے اپنے منہ کو تھوڑا آگے کیا اور عظمی کے ہونٹ چومتے ھوے کہا گڈ سیانی ھوگئی ھو عظمی نے تین چار دفعہ میرے ہونٹوں پر کس کی اور بولی کیا ساری رات مجھے ایسے ھی بیٹھاے رکھنا ھے میں تھک گئی ھوں تھوڑا سے پیچھے ہٹو یہ کہتے ھوے عظمی میرے ساتھ لیٹ کر مجھے دوسری طرف دھکیلتے ھوے جگہ بنانے لگ گئی میں نے عظمی کو کہا یار نیچے کوئی چیز بچھا لو چارپائی پر تنگ ھوں گے ساری جگہ تو تم نے ھی گھیر لی ھے یہ دیکھو میں نیچے گرنے والا ھوگیا ھوں میں نے جان بوجھ کر چارپائی کے کنارے پر پہنچ کر گرنے کی ایکٹنگ کرتے ھوے کہا تھا ۔۔ عظمی نے میرے سینے پر مکا مارتے ھوے کہا چل شوخا میں اتنی بھی موٹی نھی ھوں میں نے کہا یار پھر ایسے چارپائی کی چوں چوں نے پورا محلہ اکھٹا کر لینا ھے عظمی میری بات سن کر ہنستے ھوے اٹھی اور مجھے بھی اٹھنے کا کہا اور پھر چارپائی سے گدا اٹھا کر نیچے بچھا دیا میں نے گدے کے اوپر چڑھ کر پیروں پر وزن ڈالتے ھوے کہا یار اگر ایک گدا اور بچھا دو تو مزہ آجاے گا عظمی کچھ دیر سوچتی رھی پھر بولی ایک منٹ میں دیکھ کر لاتی ھوں اور وہ دبے پاوں چلتی ھوئی دوسرے کمرے میں گئی اور وہاں سے ایک اور گدا اٹھا کر لے آئی اور لا اسے بھی اسی گدے کے اوپر بچھا دیا اور دو سرھانے بھی رکھ دیے اور چوکڑی مار کر گدے پر ایسے بیٹھ گئی جیسے میرے ساتھ تاش کھیلنے لگی ھو، میں نیچے بیٹھا اور ساتھ ھی لیٹ گیا اور عظمی کو پکڑ کر بھی لٹا لیا اور ہم دونوں سائڈ کے بل ایک دوسرے کے ساتھ جپھی ڈال کر لیٹے ھوے ایک دوسرے کے ہونٹ چومنے لگ گئے میرا لن فل کھڑا ھوگیا تھا اور عظمی کی پھدی پر دستک دے رھا تھا کہ جلدی دروازہ کھولو آج صبح سے کھجل ھورھا ھوں ۔ کچھ دیر ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے کے بعد میں اٹھا اور اپنی قمیض اتار دی اور پھر بنیان بھی اتار کر ایک سائڈ پر رکھ دی اور پھر عظمی کو اٹھنے کا کہا تو وہ بولی کیا ھے میں نے اسکی قمیض پکڑ کر کہا کہ اسے اتارو تو عظمی بولی نھی قمیض نھی اتارنی اگر وہ اٹھ گئیں تو اتنی جلدی مجھ سے نھی پہنی جانی میں نے کہا یار اگر تمہیں انکا اتنا ھی ڈر تھا تو آتی ھی نہ چلو اٹھو اتارو قمیض عظمی کی مصیبت اے کہتی ھوئی اٹھی اور اپنی قمیض اتار کر سیدھی کر کے رکھ دی اور بریزیر پکڑ کر بولی اسکو بھی اتار دوں میں نے کہا ھاں جی، ۔۔۔ اس نے پھر پیچھے ھاتھ کر کے اپنا بریذیر کھولا اور اسے بھی اتار دیا اور قمیض کے اوپر ھی رکھ دیا عظمی کا گورا بدن اندھیرے میں بھی چمک رھا تھا صحن میں چاند کی روشنی تھی جو ہلکی ہلکی اندر بھی آرھی تھی کمرے میں اندھیرا تھا مگر اتنا بھی نھی کہ ایک دوسرے کو بلکل بھی دیکھ نہ سکتے میں نے عظمی کو جپھی ڈال کر پھر اسی پوزیشن میں لٹا لیا اب عظمی کا اور میرا اوپر والا ننگا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑا ھوا تھا ۔ اور پھر سے ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے میں مصروف تھے میں نے ایک ھاتھ نیچے کیا اور اپنا ن ازاربند کھولا اور لن کو ہوا لگائی اور ھاتھ اوپر کر کے عظمی کے ھاتھ کو پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا عظمی بھی فل گرم ھوچکی تھی اس نے میرے لن کو مٹھی میں بھر کر مٹھ مارنے کے انداز میں ھاتھ کو اوپر نیچے کرنے لگ گئی اور کبھی ھاتھ کو کھول کر انگلیوں سے لن کا مساج کرتی اور کبھی ٹوبے کے گرد انگلیوں کو گھماتی اور انگوٹھے سے ٹوپے کی اکلوتی آنکھ کو ناخن کی مدد سے کھولتی اور انگوٹھے کے پورے سے ٹوپے کو مسلتی ایسے ھی مزے لے لے کر لن کے ساتھ کھیلتی اور کبھی ھاتھ پورا نیچے لیجا کر ٹٹوں کو انگلیوں سے مسلتی اور پھر ویسے ھے ہتھیلی لن پر رکھ کر انگلیوں کو اوپر کی طرف لے آتی اور میرا لن اسکی شرارتوں سے جھٹکے کھانے لگ جاتا میں نے ایک ھاتھ اسکی لاسٹک والی شلوار میں ڈال کر اسکی ملائم گانڈ پر پھیر رھا تھا اور آہستہ آہستہ اسکی شلوار بھی نیچے کرتا جارھا تھا میں نے جب اسکی پوری گانڈ سے شلوار اتار دی تو ھاتھ کی درمیان والی انگلی کو اسکی گانڈ کی دراڑ میں پھرنے لگ گیا عظمی کو بھی مزہ آنے لگ گیا اور وہ گانڈ کو بھینچنے لگ گئی تھی میری انگلی جیسے ھی اسکی گانڈ کے سوراخ پر لگتی تو وہ گانڈ کو ذور سے بھینچ لیتی میں نے ھاتھ تھوڑا سا لمبا کر کے گانڈ کی موری سے تھوڑا آگے کیا تو میری انگلیاں عظمی کی پھدی سے ٹکرائیں اور ساتھ ھی میری انگلیاں آگے سے گیلی ھوگئی عظمی کی پھدی پانی چھوڑ چکی تھی جس سے میری انگلیاں گیلی ھوگئی اور میں ان گیلی انگلیوں کو پیچھے کر کے اسکی گانڈ کی مورے کے کنگروں پر سارا پانی مل کر انگلیاں صاف کر کے پھر پھدی کی طرف لے جاتا اور پھدی کے تلاب میں انگلیوں کو گیلا کرتا اور پھر لا کر گانڈ کے سوراخ کو مزید گیلا کر دیتا ایسے کئی دفعہ کرنے سے اسکی گانڈ کی موری میں کافی چکنائی ھو گئی تھی اور اسکی موری کے کنگرے بھی نرم ھو چکے تھے اب میں نے ایک انگلی اسکی موری پر رکھی اور ہلکے سے اندر کی تو عظمی نے اوئییییی کیا اور میرے بازو کو کہنی مار کر پیچھے کرنے کو کہا میں نے آہستہ سے کہا آرام سے لیٹی رھو تو عظمی بولی پیچھے سے کیوں کر رھے ھو اپنے ھاتھ گندے کرو گے میں نے کہا تینوں ٹٹی آئی اے تے جا پج کے کر آ تو عظمی نے میرے لن کو ذور سے دبا کر کہا چل گندا شرم نھی آتی ایسی گندی باتیں کرتے ھوے میں نے کہا تم جو کہہ رھی ھو کہ ھاتھ گندے کرنے ھے تو عظمی بولی میرا مطلب ھے کہ گندی جگہ ھے ادھر نہ کرو میں نے کہا تم فکر نہ کرو میں نے تمہاری پھدی کے پانی سے اچھی طرح دھو لی ھے وہ جگہ ۔عظمی نے شرما کر اپنا منہ میرے گلے میں دیتے ھوے کہا یاسر تم بہت ھی بے شرم ھو گئے ھو تو میں نے کہا شرم ساری اتار کر سائڈ پر رکھ دی ھے اس لیے تم بھی اب ڈرامے نہ کرو اور یہ کہتے ھی میں نے عظمی کی گانڈ میں کافی ساری انگلی اندر کردی تو عظمی نے ساتھ ھی اوئییییییییییی میں مرگئی یاسر نہ کر ادھر سے درد ھوتا ھے میں نے انگلی اندر باہر کرتے ھوے کہا دیکھنا ابھی کتنا مزہ آتا ھے عظمی بولی مجھے نھی لینا ایسا مزہ میں نے عظمی کی گانڈ کے سوراخ سے انگلی نکالی اور پھر اسکی شلوار آگے سے بھی نیچے کی اور اپنی شلوار کو بھی اتار کر ہاوں سے نکال کر سائڈ پر رکھا اور عظمی کی شلوار بھی پاوں سے نکال کر رکھنے لگا تو عظمی میرے ھاتھ سے شلوار پکڑی اور اسکو سیدھی کر کے قمیض کے اوپر رکھ دیا میں اور عظمی اب مادر زاد ننگے تھے میں نے عظمی کی پھدی پر ھاتھ پھیرا تو عظمی تڑپ کر میرے ساتھ چپک گئی میں نے عظمی کو اہنے سے الگ کیا اور سیدھا لٹا دیا اور خود اٹھ کر بیٹھ گیا اور تین چار دفعہ اسکے گول مموں کو باری باری چوما عظمی کے نپل۔ایک دم اکڑے ھوے تھے اور سخت ھوگئے تھے میں اٹھا اور کھڑا ھوکر عظمی کے سینے کے دونوں اطراف ٹانگیں کی اور مموں سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر نیچے اسکے مموں کے درمیان لن کو رکھ کر مموں کو آپس میں جوڑ کر گھسے مارنے لگ گیا عظمی میرے اس نئے طریقے کو فل انجواے کر رھی تھی میں عظمی کو کہا کہ اپنے دونوں مموں کو پکڑ کر لن کو اس میں بھینچ لے عظمی نے جلدی سے دونوں مموں کو پکڑ کر آپس میں ملا دیا اور میں لن عظمی کے مموں کے درمیان آگے پیچھے کرنے لگ گیا لن آگے سے نکل کر عظمی کی ٹھوڑی کے ساتھ لگ رھا تھا مجھے ایسا کر کے بہت ھی مزہ آرھا تھا میں نے عظمی کے سر کو پیچھے سے پکڑ کر اوپر کیا اور ہاتھ اسکی گردن پر رکھ کر سر کو مزید اوپر کردیا ۔اب میرے لن کا ٹوپا عظمی کے ہونٹوں پر لگتا عظمی پہلے تو ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر ٹوپے کو اپنی طرف آتے دیکھ کر نفرت کا اظہار کرتی تو میں نے کہا عظمی اسکو کس کرو عظمی نے میرے اصرار پر ٹوپے کو چومنا شروع کردیا جب بھی ٹوپا اسے کے ھونٹوں کو چھوتا تو عظمی ٹوپے کو چوم لیتی عظمی کا تو پتہ نھی مجھے یہ سب کر کے بہت اچھا لگ رھا تھا میں نے یہ بلیو فلم میں دیکھا تھا اور اس کا پریکٹیکل آج پہلی دفعہ کر رھا تھا کچھ دیر ایسے ھی مموں میں گھسے مارتا رھا اور عظمی متواتر میرے ٹوپے کو چومتی رھی میں نے اسی پوزیشن می ایک ھاتھ پیچھے کیا اور عظمی کی پھدی پر دو انگلیاں رکھ کر پھدی کے دانے کو ہڈی کے ساتھ لگا کر مسلنے لگ گیا میں نے جیسے ھی دانے کو مسلا عظمی نے مزے کی لزت میں آہ آہہہہہ کیا اور ایسا کرنے سے اسکا منہ کھلا ادھر ٹوپا اسکے منہ کے پاس پہنچ گیا تو میں تھوڑا اور آگے کو ہوا اور اسکی گردن کے پیچھے رکھے ھوے ھاتھ کو مزید اوپر کیا جس سے عظمی کا منہ مذید میرے لن کے قریب ھوگیا اور ٹوپا سیدھا عظمی کے منہ کے اندر چلا گیا عظمی نے جلدی سی منہ ہپپپ کر کے بند کیا تو پوراٹوپا اسکے منہ کے اندر ھی اسکے ہونٹوں میں دب گیا عظمی نے جلدی سے سر ادھر ادھر کرنے کی کوشش کی مگر اسکی گردن میرے ھاتھ میں تھی میں نے اسکے سر کو ہلنے ھی نھی دیا بلکہ گردن کو اور اوپر کر دیا جس سے ٹوپا اسکے منہ کت اندر پھنس گیا میں نے ساتھ ھی کہا جان چوسو اسے تو عظمی نفی میں سر ہلانے کی کوشش کرنے لگ گئی ادھر میں اسکی پھدی کے دانے کو مسلی جارھا تھا آخر پھدی کے دانے کی لذت نے عظمی کو لن چوسنے پر مجبور کر دیا اور عظمی نے ہار مانتے ھوے صرٍ ف ٹوپے کو چوسنا شروع کردیا لن ایسے ھی اسکے مموں کو چود رھا تھا اور جب بھی لن عظمی کے منہ کے قریب جاتا عظمی دلی گیٹ کی طرح منہ کو کھول کر ٹوپے کو اندر جانے کا راستہ دے دیتی اور ٹوپا جب اندر جاتا تو ہونٹوں کو بھینچ لیتی اور میں ٹوپے کو واپس کھینچتا تو ایک مزے کی لہر میرے سارے جسم میں دوڑتی مجھے ایکدم ایسے لگا جیسے میری منی نکلنے والی ھوگئی ھے میں نے پھدی کے دانے کو مسلنا تیز کردیا اور عظمی نے مزے کی بڑھتی ھوئی شدت کی وجہ سے آنکھیں بند کرلی اور اسے پریکٹس بھی ھوگئی تھی کہ کب لن کے ٹوپے کو چوسنا ھے اور کب اسے اندر انے کا راستہ دینا ھے مموں کے درمیان میرے گھسوں کی سپیڈ تیز ھوگئی ادھر میری انگلی بھی تیزی سے پھدی کے دانے کو مسلی جارھی تھی ادھر میری ٹانگوں سے جان نکل رھی تھی ادھر عظمی کا جسم اکڑ رھا تھا جیسے جیسے میری سپیڈ بھڑتی جارھی تھی ویسے ھی عظمی کی جان نکلنے والی ھوگئی تھی کہ اچانک عظمی کے جسم نے ذور دار جھٹکا لیا اور عظمی نے اپنی ٹانگوں کو زور سے بھینچ لیا دوسری طرف میرا بھی آخری گھسا لگا اور عظمی کے جسم کے جھٹکے جاری تھے کہ عظمی نے جھٹکے مارتے ھوے لن کے ٹوپے کومزید اندر نگل کر منہ میں جکڑ کر چوسنا شروع کردیا میرے لن سے بھی اتنا زبردست چوپا برداشت نہ ھو تو میرے لن سے منی کے فوارے عظمی کے منہ میں ھی نکلنے لگے میں بھی کانپتے ھو عظمی کی گردن کو مذید جکڑ لیا اور لن کی منی عظمی کہ منہ میں ھی برسانے لگا ادھر عظمی کے جسم کو جھٹکے لگ رھا تھے اسکی پھدی منی اگل رھی تھی اور اس دوران اس کے منہ میں زہر بھی ھوتا تو نگل جاتی عظمی فارغ ھوتے ھوے مزے میں اتنی ڈوبی ھوئی تھی کہ اسے یہ بھی احساس نہ ھوا کہ نیچے اسکی پھدی منی اگل رھی ھے اور اوپر اسکے منہ کے اندر میرا ببر شیر منی اگل رھا ھے اور عظمی ویسے ھی لن کو چوس۔چوس کر منی گلے کے اندر ھی نگل رھی تھی کہ عظمی کو یکلخت ہوش آیا کہ وہ میرے لن کی ساری منی نگل گئی ھے عظمی نے جلدی سے سر کو پیچھے کیا میرے ہاتھ کی گرفت بھی ڈھیلی ہوگئی جس کی وجہ سے میرا لن جو آخری ہچکیاں لے رھا تھا ۔ عظمی کے منہ سے باھر آگیا عظمی نے ایک ھاتھ اپنے منہ پر رکھا اور دوسرا ھاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے پیچھے دھکیل دیا میں بھی ٹھنڈا ھوچکا تھا دماغ کی ساری گرمی لن کے راستے سے عظمی کے منہ میں نکل کر اسکے معدے میں اتر چکی تھی ۔ عظمی جلدی سے اٹھ کر گدے کے دوسری طرف منہ کر کے الٹی کرنے کی کوشش کرتے ھوے ذور لگا کر کھانسنے لگ گئی مگر منی اس کے معدے میں جاچکی تھی اور معدے نے منی ہضم کرلی تھی اب سواے تھوک اور پانی کے اسکے منہ سے کچھ نھی نکل رھا تھا میں عظمی کی حالت سے بے خبر ھوکر سیدھا لیٹا لمبے لمبے سانس لے کر خود کو ریلیکس کر رھا تھا۔ کچھ دیر بعد عظمی نے میری طرف منہ کیا اور میرے نیم مردہ ننگے لن کو پکڑ کر مروڑتےھوے غصے سے بولی میں اینوں توڑ دینا اے عظمی کی گرفت کافی مضبوط تھی جس کی وجہ سے مجھے کافی درد ھوئی اور میں ٹانگیں سکیڑ کر ھاےےےےےے کیا اور اسکی کلائی پکڑ کر زور سے دبا دی جس سے عظمی کو اپنی نازک سی کلائی میں درد کا احساس ھوا تو اس نے گرفت ڈھیلی کی اور لن کو چھوڑ کر میرے پیٹ کے اوپر ٹانگیں دونوں اطراف کر کے بیٹھ گئی عظمی کی چکنی پھدی سے پانی نکلا جس سے میرا پیٹ بھی گیلا ھوگیا عظمی نے میرے پیٹ پر سوار ھوتے ھی میرا گلا دبانے کے لیے ھاتھ آگے بڑھاے اور بولی شوخیا میں تیرا گلا کُٹ دینا اے سارے جہان دے گندے کم تیرے وچ ای اے میں نے ہنستے ھوے اسکے دونوں ھاتھوں کو کلائیوں سے پکڑ لیا اور انکو پکڑے ھوے ھی پیچھے اسکی کمر کے ساتھ لگا کر عظمی کو آگے اپنے اوپر جُھکا لیا عظمی بولی یاسر یہ اچھا نھی کیا تم نے میں نے کہا یار تم نے چوپا ھی بڑے کمال کا لگایا تھا مجھے پتہ ھی نھی چلا عظمی کے مموں کے نپل میرے سینے کے ساتھ ٹچ ھو رھے عظمی کا منہ میرے منہ کے کچھ فاصلے پر تھا عظمی بولی اچھا میرے ھاتھ تو چھوڑو میں نے کہا نھی جی تم نے میرا گلا دبا دینا ھے عظمی بولی نھی دباتی چھوڑ دو بازو میں نے عظمی کے بازو چھوڑ دیے اور ویسے ھی اسکی کمر کے گرد بازو رکھے عظمی بولی اب جاوں میں تو میں نے بازوں کا گھیرا تنگ کر کے عظمی کو مزید اپنے سینے کے ساتھ لگاتے ھوے کہا ابھی تو کچھ کیا بھی نھی اور جناب جانے کی باتیں کررھی ھے عظمی مصنوعی غصے سے میرا کان پکڑ کر مروڑتے ھوے بولی گندے بچے میرا سارا منہ گندا کردیا ھے اور ابھی کہتے ھو کہ کچھ کیا ھی نھی میں نے عظمی کو کہا ابھی بتاتا ھوں کہ کیا کرنا باقی ھے اور ساتھ ھی میں نے عظمی کے دونوں مموں کو پکڑا اور اپنے منہ کی طرف مموں کے نپل کئے اور سر اونچا کر کے مموں کو باری باری چوسنے لگ گیا۔ عظمی کے منہ سے یکلخت سسکاری نکلی اور عظمی نے ساتھ ھی پھدی کا دباو میرے پیٹ پر بھڑا دیا کچھ دیر عظمی کے ممے چوسنے کے بعد میرے لن نے بھی سر اٹھانا شروع کردیا اور پیچھے سے عظمی کی گانڈ کے دراڑ کے ساتھ لگنے لگ گیا عظمی مزے لے لے کر خود اپنے ممے کو پکڑے نپل کو میرے منہ ڈال رھی تھی میرا لن بھی فل تن چکا تھا میں نے عظمی کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر کیا تو عظمی نے اپنی پھدی میرے لن سے اٹھا کر تھوڑی اوپر کی میں نے عظمی کو کہا تھوڑا پیچھے ھو جاو ۔عظمی ڈوگی سٹائل میں ھی پیچھے ھوئی اور پھدی کو لن کے اوپر کر دیا میں ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو جڑ سے پکڑا اور عظمی کی پھدی کے ہونٹوں کے بیچ سیٹ کرنے لگا عظمی سمجھ گئی تھی اب کالا ناگے پھدی کا ستیاناس کرنے لگا ھے تو عظمی نے جھٹ سے پھدی کو لن سے اوپر کیا اور خود ہاتھ نیچے کر کے لن سے میرا ھاتھ ہٹا کر خود لن کو پکڑتے ھوے بولی یاسر میں خود اندر کروں گی تم پلیز دھکا نہ مارنا نھی تو میری چیخ انکے کمرے تک جانی ھے میں نے بھی لن کو چھوڑ دیا اور اسکی کمر کو دونوں طرف سے پکڑ لیا عظمی نے لن کی ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں اچھی طرح پھیر کر پھدی کے تھوک سے گیلا کیا اور لن کو پھدی کے سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ نیچے بیٹھنے لگ گئی آدھا لن عظمی نے پھدی میں آہ آہ آہ اوییییی کرتے لے لیا اور پھر گانڈ کو اٹھا ااٹھا کر اوپر نیچے کرتے ھوے آدھے لن کا ھی مذہ لینے لگ گئی ۔ میں بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن مذید اندر کرنے کی کوشش کرتا مگر عظمی ساتھ ھی اوپر ھو جاتی اور کہنے لگ جاتی یاسر تم کچھ مت کرو آج میں خود ھی کروں گی میں ہمممم کر کے مما منہ میں لے کر چوسنے لگ گیا کچھ دیر ایسے ھی عظمی آدھے لن پر اوپر نیچے ھوتی رھی اور میں عظمی کے دونوں مموں کو باری باری چوستا رھا عظمی نے آہستہ آہستہ پورا لن پھدی کے اندر اتار لیا اور ٹانگیں میری ٹانگوں کے اوپر لمبی کر کے پورا لن اندر لے کر میرے اوپر لیٹ گئی اور بڑے فخر سے سیکسی اواز میں بولی یاسر سارا چلا گیا نہ اندر میں نے اثبات میں سر ہلا کر اوکے کیا عظمی نے مجھے کس کر جپھی ڈال کر گانڈ کو اوپر نیچے کر کے آہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کردئے میں نے دونوں ھاتھ عظمی کی گانڈ پر رکھ کر گانڈ کو بھینچنے لگ گیا عظمی جیسے ھی گانڈ اوپر کرتی تو میں ھاتھوں کا دباو دے کر گانڈ کو لن کی طرف جھٹکے سے دبا دیتا عظمی ھاےےے کرتی اور مدہوش آواز میں کہتی یاسر بڑا مزہ آرھا ھے ھممممم افففففف آہ آہ آہ میں اسکی ایسی آواز میں سیکسی باتیں سن کر جوش میں آجاتا اور زور زور سے گانڈ کو ھاتھوں میں دبوچ دبوچ کر نیچے کی طرف دباتا کچھ دیر بعد عظمی نے گھسے مارنے کی سپیڈ تیز کردی اور ساتھ ھی مدہوشی میں بولے جارھی تھے ہاں یاسر ایسے کرو ایسے ھی آہہہہہ آہ ھممممم سسسسسسیییی یاسر سارا کرو اور میں نیچے گانڈ اٹھا کر پورے ذور سے لن کو پھدی کے اندر تک کر دیتا عظمی نے گھسے مارنے بند کردئے اور لن کو پھدی میں جکڑ کر میرے اوپر سے کھسک کر پاوں کی طرف چلی گئی جس سے میرا لن پھدی کی ہڈی کے ساتھ لگ گیا مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ عظمی کا سارا وزن میرے لن پر ھی آگیا ھے میرا لن بری طرح پھدی میں جکڑا ھوا تھا اور پھدی کی ہڈی کے ساتھ رگڑ کھاے ھوے تھا عظمی لن کو پھدی میں جکڑ کر سانپ کی طرح بل کھاتے ھوے گانڈ کو ہلا رھی تھی اور مزید لن پر ہڈی کو رگڑ رھی تھی اور پیچھے جانے کی کوشش کررھی تھی میری تو درد سے جان نکلنے والی ھوگئی مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ پھدی کی ہڈی نے میرے لن کو توڑ دینا ھے میں نے دونوں بازو لمبے کیے اور عظمی کی گانڈ کو دبوچ کر آگے کی طرف زور لگانے لگ گیا عظمی میں پتہ نھی کون سا جن آگیا تھا عظمی کی سانسیں بری طرح اکھڑی ہوئی تھیں اسکے ممے میرے سینے میں پوست تھے عظمی بس ایک بات ھی کری جارھی تھی یاسر بُوتتتتت مزہ آرھا ھے کہاں تھا یہ مزہ سییییی ہممممم ایسے کرتی کرتی نے یکدم اپنی ٹانگوں کو بھینچ کر لن کو پھدی میں مزید جکڑ لیا اور میرے ہونٹوں کو بےدردی سے اپنے دانتوں سے کاٹتے ھوے رک کر گانڈ کو پورے زور سے میرے لن کی طرف دبا دیا جسم کو جھٹکے دینے لگ گئی درد کے ماری میری بری حالت ھوچکی تھی ایک منٹ تک عظمی ایسے ھی میرے اوپر لیٹی رھی اور پھر اسکو میری حالت پر ترس آیا تو اسکی پھدی نے میرے لن کی جان چھوڑی اور عظمی کا جسم ڈھیلا ہو کر میرے اوپر پڑا تھا اور عظمی کی تیز دھڑکن مجھے اپنے سینے پر صاف محسوس ھورھی تھی میں نے عظمی کو کہا اچھا ریپ کیا ھے میرا عظمی ہنستے ھوے اکھڑی آواز میں بولی کیوں کیا ھوا میں نے کہا میرا لن ٹوٹنے والا ھوگیا تھا اور تم کہہ رھی ھو کیا ھوا تھا آج تمہیں ھوکیا گیا تھا سہی بدلا لیا تم نے جنگلی بلی عظمی ہنستے ھوے بولی جب تم میری جان نکالتے ھو تب تمہیں احساس ھوتا ھے کہ مجھے کتنی درد ھوتی ھے خود سے تھوڑی دیر کے لیے درد برداشت نھی ھوتی ہم ابھی باتیں ھی کر رھے تھے کہ اچانک؟؟؟؟؟؟؟
  13. 2 points
    update...,,,. ..,مہری کی ٹانگوں کو کندھوں سے ذور سے ہٹا کر نیچے کیا اور جلدی سے کھڑا ھوگیا میرا لن فل تنا ھوا تھا جو اب مہری کی آنکھوں کے سامنے لہرا رھا تھا مہری کی نظر جب میرے لن پر پڑی تو اسکی آنکھیں ایکدم پتھرا سی گئیں وہ کچھ بولنے لگی تھی مگر اسکی آواز اس کے ہلک میں ھی اٹک گئی اور میں اس حسن کے مجسمہ کو اسی حالت میں ننگا چھوڑ کر جلدی سے شلوار پہن کر کمرے سے باہر نکلا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ھوا مین گیٹ کے پاس آیا اور دروازہ کھول کر بند کیا جو خود ھی اندر سے لاک ہوگیا میں گلی میں نکل کر دکان کی طرف چلدیا میں نے پیچھے بھی مڑ کر نھی دیکھا تھا کہ مہری مجھے آواز دے گی کہ نھی یا و میرے اس طرح آنے پراسکا کیا ریکٹ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہری کی باتیں میرے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح ضربیں لگا رھی تھیں اور میرا ضمیر مجھے لعن طعن کر رھا تھا کہ یاسر کیا تم ہوس کے پجاری ھو کیا تمہارے نذدیک صرف سیکس کرنا ھی فرض ھے کیا تم اسکو پیار کہتے ھو نھی یہ پیار نھی ہوس ھے ہوس اگر تم نے مہری کے ساتھ بھی صدف عظمی اور فوزیہ کی طرح سیکس ھی کرنا تھا تو تم نے اس معصوم سے پیار نام کے پاکیزہ شبد کیوں بولے اگر تمہیں اس سے واقعی پیار ھے تو کبھی سوچنا بھی نہ کہ تم اسکو اپنی ہوس کا نشانہ بناو گے اگر اس سے واقعی تمکو پیار ھے تو پھر ہوس کو دماغ سے نکالو اور اس سے شادی کرو پھر جیسے چاھے اسکے ساتھ سیکس کرنا مگر شادی سے پہلے اس کے ساتھ بھی باقی لڑکیوں جیسا سلوک کرو گے تو اس معصوم کو پیار جیسے پاکیزہ لفظ سے نفرت ھو جاے گی اور اس کے ساتھ ساتھ مرد ذات سے بھی پھر ضمیر ساب بولے کیا عظمی کے بارے میں تمہاری ویسے فیلنگ ھے جیسی پہلے ھوتی تھی وہ تو تمہاری بچپن کی دوست تھی میں ایسے ھی ضمیر سے بےعزتی کرواتا دکان پر پہنچ گیا اور جاکر خاموشی سے کاونٹر پر بیٹھ گیا انکل شاید ***پڑھنے گئے تھے جنید نے مجھ سے پوچھا خیریت تو ھے اتنی جلدی واپس آگئے اور پریشان بھی لگ رھے ھو ۔ میں نے اسکو ٹال مٹول کر کے اور دوست کے والد کی طبعیت کو ذیادہ سیریس ۔۔۔بتا کر مطمئن کر لیا۔۔ شام کو انکل کے ساتھ ھی میں گاوں چلا گیا۔ انکل کو میں نے بتا دیا تھا کہ فرحت نے ایک سوٹ رکھا تھا اور شام کو پیسے لینے کا کیا تھا ۔ انکل نے بھی ہمممم. کردیا۔۔ اور مجھے تاکید کی کہ جاکر پیسے لازمی لے آنا۔۔ میں گھر گیا اور کچھ دیر بعد امی کو بتایا کہ میں نے کسی سے پیسے لینے ہیں انکے گھر جارھا ہوں ۔ امی نے بھی ذیادہ تفصیل نھی پوچھی تو میں گھر سے نکل کر سیدھا فرحت کی گلی میں جاپہنچا۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے گلی تقریبا سنسان ھی تھی میں انکی بیٹھک کے دروازے کے پاس پہنچا اور دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا تو حسب وعدہ فرحت نے دروازہ کھلا چھوڑا ھوا تھا۔ میں اندر داخل ھوتے وقت گبھرا بھی رھا تھا کہ کوئی ٹینشن نہ بن جاے مگر پھر بھی میں حوصلہ کرکے اندر داخل ھوگیا جیسے ھی میں اندر داخل ھوا تو سامنے فرحت چارپائی پر بیٹھی ھوئی تھی مجھے دیکھ کر کھڑی ھوکر بولی اتنی دیر کردی میں کب سے تمہارا انتظار کررھی تھی میں نے کہا خیر تھی تو وہ بولی بیٹھک کا دروازہ کھلا چھوڑا ھوا تھا تو مجھے بھی ادھر بیٹھنا پڑا ایسے کوئی بھی اندر آسکتا تھا گھر میں کونسا مرد ھے میں اور امی ھی ہیں امی ویسے ھی شام کو ھی دوائی کھا کر سوجاتی ہیں، ۔ میں نے ہمممم کیا اور چارپائی پر بیٹھ. گیا فرحت بولی گلی میں کسی نے تمہیں اندر آتے تو نھی دیکھا میں نے کہا نھی جی گلی بلکل خالی تھی تو فرحت مطمئن ہو کر بولی اچھا کیا جو احتیاط سے اندر آگئے۔ میں نے فرحت سے اسکی امی کا پوچھا تو فرحت بولی وہ تو کب کی سوگئی ہیں۔ میں نے پھر کہا کہ ایک دفعہ تسلی کرلیں تو فرحت بولی مجھے پتہ ھے وہ کب سوتی ھیں اور کب اٹھتی ہین ۔۔ میں نے بھی ذیادہ بحث نھی کی اور چپ کر گیا فرحت بولی یاسر کیا کھاو گے کھانا لے کر آوں یا چاے پیو گے میں نے کہا نھی شکریہ میں سب کچھ کھا پی کر ھی آیا ہوں فرحت بولی چلو چاے پی لو اسی بہانے میں بھی تمہارے ساتھ پی لوں گی میں نے بھی ذیادہ نخرہ نھی کیا اور چاے کا کہہ دیا فرحت بولی اندر میرے کمرے میں آجاو ادھر سے آواز باہر جاتی ھے میں اٹھا اور اسکے پیچھے پیچھے چلتا ھوا صحن مین آگیا انکا صحن کافی کُھلا تھا اور سامنے چار کمرے ایک ھی لائن میں بنے ھوے تھے اور انکے آگے برآمدہ تھا اور ایک سائڈ پر کچن تھا اور ایک طرف لکڑیاں وغیرہ رکھنے کے لیے کچا سا برآمدہ تھا۔ فرحت مجھے لیے ھوے اپنے کمرے میں آگئی اور مجھے بیٹھنے کا کہہ کر خود چاے بنانے چلی گئی میں بیٹھا آنے والے لمحات کے بارے میں سوچنے لگا اور پلاننگ کرنے لگا کہ پوری کوشش کروں گا کہ آج ھی اس کی پھدی مار کر اس دماغ سے ماسٹر کو نکال کر اسکو اپنی مریدنی بنا لوں ۔ کچھ دیر بعد فرحت چاے لے کر کمرے میں داخل ھوئی اور ٹرے کو سائڈ ٹیبل پر رکھتے ھوے بولی یاسر جوتا اتار کر بیڈ کے اوپر ھو جاو ایسے ٹانگیں لٹا کر کیوں بیٹھے ھو۔ میں نے جوتا اتارا اور بیڈ پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ فرحت بھی میرے سامنے بیڈ پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئی اور مجھے چاے پینے کا کہا میں نے چاے کا کپ پکڑا اور فرحت کو پکڑا دیا اور دوسرا خود پکڑ کر چاے کی چسکیاں لینے۔ لگ گیا فرحت بولی دیکھو یاسر تم اچھے لڑکے ھو اور سمجھدار ھو دیکھو میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے بیچ مین ھونے والی بات بس ہم دونوں میں ھی رھے گی اور تم کو میں نے ماں کی قسم بھی دی ھے اس لیے تم بنا کسی پریشانی کے دوستانہ ماحول ریلیکس ہوکر مجھے سب کچھ بتاو جو تمہیں اس کنجر ماسٹر نے بتایا ھے میں نے کہا مجھے ماسٹر جی نے کچھ نھی بتایا فرحت بولی یاسر پھر جھوٹ۔۔۔۔ میں نے بات کاٹتے ھوے کہا پہلے میری بات تو سن لیں فرحت بولی ھاں بولو میں نے کہا کہ مجھے ماسٹر جی نے نھی بتایا کچھ بھی میں نے خود آپکو اور ماسٹر جی کو دو دفعہ گندے کام کرتے ھوے دیکھا ھے۔ فرحت کا ایکدم رنگ اڑ گیا اور وہ ہکلاتے ھوے بولی کککککب ککیسے کککہاں دیکھا تھا۔ میں نے کہا سکول کے کمرے میں دفتر کی بیک سائڈ پر الماری کے پیچھے سٹور میں ۔۔ فرحت اپنے دوپٹے سے پسینہ صاف کرتے ھوے بولی ۔ تتم نے کہاں سے دیکھا تھا میں نے کہا پہلے جب آپ نے ماسٹر جی کو دھکا دیا تب تھوڑا سا ھی گندا کام کیا تھا اس وقت میں نے پردے سے دیکھا تھا اور دوسری دفعہ جب آپ نے کافی دیر گندہ کام کیا تھا تب میں نے الماری کے پیچھے سوراخ سے بھی دیکھا تھا، اور کمرے کے پیچھے بنی کھڑکی سے بھی دیکھا تھا فرحت منہ میں بُڑبڑائی کنجر نوں کیا وی سی کہ کوئی ہے کمرے وچ پر اوس کنجر نے منی ای نئی۔۔ میں نے کہا جیییییی فرحت ایکدم ہڑبڑا کر بولی کچھ نھی ۔۔ فرحت کی ہوائیاں اُڑ چکی تھی اسکا لہجہ اسکا ساتھ نھی دے رھا تھا پھر بولی تم اندر کیسے آے تھے تو میں نے کہا کہ میں پیشاب کرنے کے لیے کمرے کے پیچھے گیا تھا تو اچانک مجھے آپ کی چیخ کی آواز سنائی دی تو میں گبھرا کر آپکو دیکھنے کے لیے اندر آیا تو مجھے دفتر میں آپ نظر نہ آئیں تو میں نے پردے کو تھوڑا سا ہٹا کر اندر جھانکا تو ماسٹر جی نے آپکی قمیض اوپر اٹھا رکھی تھی اور آپ کے ممے چوس رھے تھے ۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر مموں کا ذکر کیا۔۔ فرحت شرم سے مری جارھی تھی اور اس کا رنگ سرخ ھوچکا تھا۔ اچانک فرحت آگے ھوئی اور۔،اپنم یرے پیروں کو پکڑ کر رونے لگ گئی اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گئی یاسر پلیزز میری عزت کا سوال ھے میں اس کنجر کی باتوں میں آکر بہک گئی تھی مجھ سے غلطی ھوگئی تھی پلیززز کسی کو یہ بات مت بتانا ورنہ میں بدنام ھو جاوں گی میں تو پہلے ھی بیوا عورت ھوں ان گاوں والوں نے ہمارا جینا حرام کردینا ھے میں نے فرحت کے دونوں ھاتھ پکڑ کر اپنے پاوں سے ہٹاے اور پاوں کو پیچھے کھینچ لیا اور بولا آپ کیا کررھی ہیں پلیززززز فرحت بولی یاسر تم نے کسی کو یہ بات بتائی تو نھی تو میں نے پلاننگ کے مطابق کہا کہ پہلے تو کسی سے یہ بات نھی کی تھی مگر وہ زاہد ہمارے گھر کے سامنے والا میرا دوست ھے اس کو پچھلے جمعہ ایسے ھی باتوں باتوں میں تھوڑا سا بتایا تھا مگر آپ کا نام نھی لیا تھا ابھی اس سے کیوں کے باتوں کے دوارن ھی مجھے ایک کام یاد آگیا تھا تو میں نے اسے پھر بتانے کا کہا تھا اور ادھر سے گھر آگیا تھا اب شاید کل ہم پھر بیٹھیں گے تو وہ پھر پوچھنے لگ جاے گا۔ تو فرحت اور اونچی اونچی آواز میں رونے لگ گئی اور میرے سامنے ھاتھ جوڑ کر بیٹھ گئی یاسر پلیزز اسے نہ بتانا تمہیں فلاں کی قسم فلاں کی قسم میں نے خودکشی کرلینی ھے اسکے زمہ دار تم ھوگے ہم گاوں میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نھی رہیں گے فرحت ایک ھی سانس میں بولی جارھی تھی اسکے آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی مجھے اسکی حالت پر ترس آنے لگ گیا میں نے آگے ہوکر اسکے ھاتھ پکڑ کر نیچے کئے اور اسکو تسلی دیتے ھوے کہا کہ پلیز آپ ریلکس ھو جائیں اگر آپ نے یوں ھی رونا ھے تو میں جارھا ھوں ۔اور یہ کہتے ھی میں بیڈ سے نیچے اترنے لگا تو فرحت نے میری دونوں ٹانگوں کو پکڑ لیا اور سر نفی میں ہلاتے ھوے بولی نہی نہی جانا تم نے اچھا بیٹھو تو سہی میں نھی روتی اب میں کچھ بولتی بھی نھی اسکی آواز میں خوف تھا التجاء تھی میں نے پھر ٹانگیں اوپر کرلیں اور بولا دیکھیں میری بات غور سے سُنیں اور پہلے یہ رونا دھونا بند کریں تو فرحت نے دوپٹے سے اپنی آنکھیں اور منہ صاف کرتے ریلکس ھوتے ھوے کہا ھاں جی بولیں، میں نے کہا یہ تو اچھا ھوا کہ آپ نے مجھے منع کردیا ورنہ آج یا کل میں تفصیل سے ذاہد کے ساتھ کرنے والا تھا خیر اب میں وعدہ کرتا ھوں آپ سے کہ یہ بات ادھر ھی دفن کر کے جاوں گا اور مرتے دم تک میرے منہ سے کبھی آپ یہ بات دوبارا نھی سُنیں گی لیکن،، ۔۔۔ کہہ کر میں چپ ھوگیا اور فرحت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگ گیا۔ جو بڑے غور سے میری بات سن رھی تھی میرے لیکن کہہ کر چُپ ہوجانے پر وہ چونک کر بولی لیکن کیا،،، ۔۔۔ میں نے کہا چھوڑیں آپ ناراض ھوجائیں گی ۔۔ فرحت قسم کھا کر بولی کہ تم بتاو میں نھی ناراض ہوتی ۔۔ میں نے پھر کہا دفعہ کریں فرحت میرا ھاتھ پکڑ کر بولی یاسر پلیز بتاو میرا دل بیٹھا جارھا ھے میں پہلے ھی بڑی پریشان ہوں پلیز مجھے اور پریشان مت کرو،، ۔۔ تو میں نے ایکدم بولتے ھوے کہا کہ اس میں میرا کیا فائدہ ھوگا کہ میں آپ کے اس راز کو ہمیشہ کے لیے راز ھی رکھوں ۔۔ فرحت حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر میری طرف گھورنے کے انداز سے بولی کیا مطلب میں سمجھی نھی۔ میں نے کہا میری بات کا مطلب صاف ھے کہ اس کے بدلے میں میرا کیا فائدہ ھوگا فرحت بولی کون سا فائدہ تم چاھتے ھو پیسے لینے ہیں اسکے بدلے میں نے ہنستے ھوے کہا پیسے نھی آپ کی پُھدی لینی ھے فرحت کا رنگ ایکدم لال پیلا ھوگیا اور اس نے غصے سے میرے منہ پر ایک ذور دار تھپڑ مارا اور بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑی ھوگئی اور بولی بےشرم گھٹیا انسان تمہیں شرم نھی آئی یہ بات کرتے ھوے میں تمہیں اپنا بیٹا سمجھ کر بنا کسی خوف کے اندر کمرے میں لے آئی اور تیری میرے بارے میں اتنی گندی سوچ ھے تمہاری جرات کیسے ھوئی یہ بات سوچنے کی بھی اپنی عمر دیکھو کم از کم اپنی اور میری عمر کا لحاظ ھی کرلیتے گھٹیا انسان نکلو ادھر سے فرحت کا تھپڑ کھاتے ھی میری ساری ہوا نکل گئی کہ اس سالی نے تو سارا معاملہ ھی الٹ پلٹ کردیا میں تو بڑی پلاننگ سے آیا تھا میں اپنی گال پر ھاتھ رکھے غصے اور ڈرے ھوے ملے جلے تاثرات سے فرحت کی طرف دیکھتا ھوا اٹھا اور بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑا ھوگیا فرحت پھر بولی تمہیں ذرہ سی بھی شرم نھی آئی یہ بات کرتے ھوے اس کنجر نے میرے ساتھ زبردستی کی ایک دفعہ اور تم نے مجھے چلتی پھرتی عورت سمجھ لیا نکل جاو ابھی کہ ابھی میری تو سمجھ میں نھی آرھا تھا کہ اب میں اس خرافہ عورت کو کیا کہوں سالی مزے لے لے کر پھدی مرواتی رھی تھی اور اب کہتی ھے کہ میرے ساتھ ذبردستی کی ھے ۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجا میں نے کہا ووووہ سوٹ کے پیسے دے دو اس نے جلدی سے منہ دوسری طرف کیا اور اپنی اے ٹی ایم. مشین میں ھاتھ ڈال اور کچھ پیسے نکال کر میرے منہ پر مارے اور کہا پکڑ اپنےس پیسے اور چل دفعہ ھوجا ادھر سے دوبارہ اپنی شکل بھی دیکھائی نہ تو تیرا وہ حال کروں گی کہ تجھے تیرے گھر والے بھی نھی پہچان سکیں گے میں نے پیسے پکڑے اور بند دروازے کے پاس آکر اسکی طرف منہ کر کے اپنے منہ پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا دیکھ لوں گا تجھے جتنی تو شریف ذادی ھے مجھے پتہ ھے پورے پِنڈ وچ بدنام نہ کیتا تے فیر کویں فرحت یہ سُن کر بھوکی شیرنی کی طرح مجھ پر جھپٹی اور مجھے دونوں کندھوں سے پکڑ کر کہنے لگی کیا کہا کہ پورے پِنڈ وچ مینوں بدنام کریں گا دسنی آں تینوں ایتھوں سئی سلامت جاویں گا تے فیر ای کسے نوں دسیں گا فرحت نے مجھے بازوں سے پکڑے ھی گھما کر بیڈ کی طرف دھکا دیا گشتی وچ اینی جان پتہ نئی کتھوں آگئی سی اسکے ایک ھی دھکے سے میں کمزور عورت کی طرح بیڈ پر جاگرا فرحت مجھ پر پھر جپٹی اور میرا گلا دبانے کے لیے اپنے دونوں ھاتھ میرے گلے کی طرف بڑھاے میں اب کچھ سنبھل چکا تھا میں نے اسکے بازو پکڑ کر اسکے ہاتھ راستے میں ھی روک لیے اور اسکو ایسے ھی گھما کر اپنے ساتھ بیڈ پر گرادیا ہم دونوں کی ٹانگیں بیڈ سے لٹک رھی تھی جیسے ھی فرحت بیڈ پر گری میں جلدی سے سائڈ بدل کر اسکے اوپر چڑھ گیا اور اسکے دونوں بازوں کو کلائیوں سے پکڑ کر اس کے سر کے ساتھ لگا دئے اب ہم دونوں کے پاوں فرش پر تھے اور میرا لن اسکی پھدی کے بلکل اوپر تھا اور میرا منہ اسکے بڑے سے گول مٹول مموں پر تھا فرحت بولی چھڈ دے مینوں میں رولا پان لگی آں میں اسکی بات سن کر ڈر بھی گیا تھا کہ یہ ھے تو بڑی حرامذادی اس لیے کچھ بھی کرسکتی ھے میں نے اسے کہا سالیے ماسٹر نوں اپنی پھدی وی چٹوانی اے تے پھدی وچ لن وی مزے لے لے کے لینی اے تے میری واری شریف ذادی بندی ایں فرحت بولی بکواس نہ کر کتے بغیرت گھٹیا انسان میں تیری ماں نو دسنی ایں تیری کرتوت میں نے کہا جا دس دے میں وی دس دیواں گا کہ ماسٹر کولوں پھدی مرواندی رئی اے تے اپنا سارا گند میرے تے پان دئی اے اور ساتھ ھی میں نے ایک ہاتھ سے فرحت کی کلائیاں پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اسکے ممے کو دبانے لگ گیا فرحت کافی زور لگاتی رھی اپنے ھاتھ چُھڑوانے کے لیے مگر میں نے اسکی کلائیوں کو پکڑ کر پورے وزن کے ساتھ بیڈ پر دباے رکھا تھا میرا لن بھی فل تن چُکا تھا میں نے ھاتھ نیچے لیجا کر فرحت کی پھدی کو مسلنے لگا تو فرحت نے ٹانگوں کو آپس میں بھینچ کر چیخ ماری اب پتہ نھی اسکی چیخ کمرے سے باہر نکلی بھی تھی کہ نھی کیوں کے دروازہ بند تھا جو خود ھی اس گشتی نے بند کیا تھا اور ویسے بھی کمرے میں کوئی کھڑکی نھی تھی جس سے اسکی آواز باہر جانے کا چانس ھوتا مطلب کمرہ ساونڈ پروف تھا مجھ پر تو جنون سوار ھوچکا تھا کہ سالی نے مجھے تھپڑ مارا ھے اسکی اتنی جرات میں نے سوچ لیا تھا کہ جو ھوگا دیکھا جاے گا ایک دفعہ اس کو سبق سکھا کر جاوں گا میرا ھاتھ اسکی ٹانگوں کے بیچ پھنسا ھوا تھا میں نے اسکی چیخ کو نظرانداز کرتے ھو ہاتھ باھر کھینچا اور اسے کہا چیخ گشتی عورت اب تجھے میں بتاتا ھوں کہ گھر بُلا کر کسی کو کیسے ذلیل کرتے ہیں آج تیرا پھدا نہ پھاڑا تو پھر کہنا۔ تیرے پھدے میں آج اتنا بڑا لن ڈالوں گا کہ تو ماسٹر کا لن بھول جاے گی میری بات سن کر پہلے تو فرحت کے چہرے پر حیرت کے تاثرات آے پھر غصے سے بولی یاسر اپنی اوقات میں رہ تجھے پتہ نھی کہ تو کس سے اور کیا کررھا ھے مجھے چھوڑ دے اور شرافت سے چلا جاے ورنہ تم ساری عمر پچھتاو گے تو میں نے کہا ماسٹر تو نھی پچھتایا جو میں پچھتاوں گا فرحت سے باتیں کرنے کے دوران میں اپنا نالا کھول چکا تھا اور میری شلوار پیروں میں گر گئی تھی فرحت بولی میرے بھائی کو پتہ چل گیا نہ تو تجھے ویسے ھی وہ قتل کردے گا میں نے کہا لن وڈ لے تیرا پرا تے توں وی بس اک واری میرا لن تیرے پھدے وچ چلا جاوے بعد وچ ویکھی جاوے گی جو ھوے گا فرحت نے جب دیکھا کہ اسکے کسی وار کا اثر مجھ پر نھی ھورھا تو فرحت کے اندر ایکدم عورت جاگی اور اس نے رونا اور منتیں کرنا شروع کردی کہ یاسر پلیز مجھے معاف کردو تم میرے تھپڑ مار لو پھر تم خوش اچھا چلو میں کسی کو نھی بتاتی جتنا تم نے میرا ساتھ کرنا تھا کرلیا اب چھوڑ دو مجھے تم میرے بیٹے جیسے ھو سوچو کوئی بیٹا اپنی ماں کے ساتھ ایسا کرتا ھے کیا فرحت کی یہ آخری بات سن کر میرا پارہ چڑھ گیا اور میں نے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا اور بولا بکواس بند کر گشتی عورت اگر تو ماں کہنے کے لائق ھوتی تو تیرے پیر دھو دھو کہ پیتا کون بیٹا ماں کو کسی غیر مرد سے چُدتا دیکھ کر اس ماں کو زندہ چھوڑ دیتا ھے تو ماں نھی بلکہ ایک گشتی عورت ھے اور گشتی عورت اور ماں میں زمین آسمان کا فرق ھوتا ھے ماں سر پر ہوتی ھے اور گشتی لن کے نیچے لحاظ اپنا منہ بند رکھ یہ نہ ھو کہ پھدی کے ساتھ ساتھ تیری گانڈ بھی پھاڑ دوں فرحت میری بات سن کر اور بات کرنے کے انداز کو دیکھ کر سہم گئی اور رونے لگ گئی اور آہستہ آہستہ آواز میں روتے ھوے کہے جارھی تھی مجھے معاف کردو معاف کردو معاف کردو ہاےےےےے امی اسکے رونے کا اثر مجھ پر نھی ھو رھا تھا میں نے اسکی قمیض کو پکڑ کر پھدی والے حصے سے اوپر کیا اور اس کے نالے کے سرے کو پکڑ کر کھینچ دیا جس سے فرحت کی شلوار ڈھیلی ھوگئی جیسے ھی اس کا نالا کھلا اور شلوار ڈھیلی ھوئی تو فرحت نے جھٹکے سے ایک کلائی میرے ھاتھ سے چھڑوائی اور جلدی سے شلوار کو کس کے پکڑ لیا اور نفی میں سر دائیں بائیں مارتے ھوے کہنے لگ گئی یاسر پلیزز تمہیں تمہاری ماں کا واسطہ فلاں کا واسطہ مجھے چھوڑ دو ایسا ظلم مت کرو میں مر جاوں گی پلیززززز چھوڑ دو میں نے اسکی کلائی کو پکڑ کر جھٹکا مارا اور اسکی کلائی کو واپس اسی جگہ لے جاکر دوسری کلائی کے ساتھ جکڑ کر پکڑ لیا اور جلدی سی ھاتھ نیچے کیا اور اسکی شلوار کو کھینچ کر نیچے کردیا شلوار خود ھی اس کے پیروں میں گر گئی فرحت نے پھر زور دار چیخ ماری اور اپنا آپ چھڑوانے کے لیے ٹانگوں کو اوپر اٹھانے لگی فرحت نے جیسے ھی اپنی دونوں ٹانگوں کو اوپر کر کے فولڈ کیا تو خربوزہ خود ھی چھری کے نیچے آگیا فرحت کی پھدی بلکل میرے لن کے سامنے تھی میں نے اس کے گھٹنوں کو اپنی بغلوں میں جکڑتے ھوے ایک ہاتھ پر بڑا سا تھوک کا گولا پھینکا اور لن کے ٹوپے پر مل لیا اور لن کو پھدی کے لبوں پر رکھتے ھی پوری جان سے ایک ھی گھسے میں سارا لن فرحت کی پھدی کے اندر بچے دانی تک پہنچا دیا فرحت کے منہ سے ایک ذور دار چیخ نکلی ھاےےےءےےے میں مرگئی اے کی واڑ دتا اییییییییی ھوے امیییییییییی ھاےےےےءءےےےےےےےے ابھی میں نے لن واپس نھی کھینچا تھا کہ؟؟؟؟؟؟؟
  14. 2 points
    ۔update دکان پر جب میں پہنچا تو انکل نے دکان کھول لی تھی میں نے انکل کو سلام کیا اور جوتا اتار کر کاونٹر پر چڑھ گیا انکل نے پوچھا کہاں چلے گئے تھے میں نے پیشاب کرنے کا بہانہ بنایا کیونکہ انکل میرے آنے سے کچھ دیر پہلے ھی آے تھے اس لیے مجھے یہ بہانہ معقول لگا میں نے جھاڑن پکڑی اور دکان کی الماریوں میں لگے کپڑوں کو جھاڑنا شروع کردیا پھر ساری دکان کی صفائی کی اور سٹک پکڑ کر کچھ سوٹ دکان کے باھر لٹکاے ۔۔ تو انکل نے مجھے بتایا کہ یاسر بیٹا میں نے مال لینے آج فیصل آباد جانا ھے تو تم دھیان سے بیٹھنا اور لڑکوں کا خیال رکھنا کہ پیسے آگے پیچھے نہ کریں میں جی انکل کہا اور انکو مکمل تسلی دی کے آپ بےفکر ھو کر جائیں کچھ دیر بعد ایک لڑکا آگیا تو انکل نے اس لڑکے کو کہا کہ مجھے لاری اڈے پر چھوڑ آو اس لڑکے نے جسکا نام جنید تھا مجھے سے دو تین سال ھی بڑا ھوگا اس، نے موٹر سائکل باھر نکالی اور انکل اسکے پیچھے بیٹھ گئے اور وہ انکل کو لیے لاری اڈے کی طرف روانا ھوگیا میں گدی پر بیٹھ کر باہر کی طرف دیکھنے لگ گیا تو ایک عمر رسیدہ خاتون اور ایک نقاب پوش برقعہ پہنے آنٹی ٹائپ عورت ھی کہہ لیں باہر لٹکے سوٹ دیکھنے لگ گئیں میں نے انکو آواز دی کے آنٹی اندر آجائیں اندر کافی ورائٹی مل جاے گی تو وہ دونوں ماں بیٹی یا ساس بہو تھی دونوں اندر آگئیں اندر داخل ہوتے وقت نقاب پوش آنٹی مجھے بڑے ھی غور سے دیکھی جارہی تھی میں نے بھی ایک دو دفعہ اسکی طرف دیکھا تو وہ نظریں پھیر لیتی میں انکو لیے پیچھے دکان کے آخر میں چلا گیا کیوں کے انہوں نے بوتیک کے سلے سلاے سوٹ لینے تھے اور بوتیک کی ساری ورائٹی پیچھے پڑی تھی میں نے ان سے پوچھا جی آنٹی جی کس طرح کی ورائٹی چاھیے تو وہ برقعے والی آنٹی جو اب بھی بار بار مجھے ھی دیکھی جارہی تھی بولیں کہ وہ سامنے گرین کلر کا سوٹ دیکھائیں میں نے اسکی آواز سنی تو مجھے آواز جانی پہچانی سی لگی میں نے سوچتے ھوے سوٹ کی طرف بڑھا اور ریک کا شیشہ کھول کر سوٹ نکال کر انکے سامنے کردیا اور انکو کپڑے کی کوالٹی اور امبرائڈڈ کی تعریفیں کرنے لگ گیا تو وہ نقاب پوش آنٹی بڑی اداوں سے بات کری جارھی تھی اور کافی فرینک ھونے کی کوشش کر رھی تھی عمررسیدہ اماں جی بولی بیٹا اسکا کلر تو نھی خراب ہوتا تو وہ نقاب پوش آنٹی بولی امی اگر کلر خراب ھوگیا تو انکے گھر دے آیں گے یہ ہمارے گاوں کا ھی ھے تو میں نے حیران ھوتے ھوے کہا انٹی آپ کہاں رھتی ہیں تو وہ ہنستے ھوے بولی اب جوان ھوگئے ھو تو اپنے دوست کی مما کو بھی نھی پہچانتے تو میں نے اسکو غور سے دیکھتے ھوے کہا آنٹی جی میں نے واقعی آپکو ابھی تک بھی نھی پہچانا تو آنٹی ہنسی اور ساتھ ھی بولی تم یاسر ھی ھو نہ تو میں اپنا نام سن کر اور حیران ھوگیا کہ یہ کون ھے جسکو میرے نام کا بھی پتہ ھے آواز بھی جانی پہچانی لگ رھی اتنے میں آنٹی نے نقاب پر لگی پن نکالی اور نقاب ہٹا دیا میری جیسے ھی اسکے چہرے پر نظر پڑی میں تو ایکدم سکتے کے عالم میں ٹکٹکی باندھے اسکو دیکھے جارھا تھا یہ تو میری پہلی سیکس ٹیچر تھی اس گشتی نے ھی تو میری اچھی بھلی سادا سی زندگی کو بدل کر رکھ دیا تھا اسکی وجہ سے میں سیکس سے آشنا ھوا تھا اس ظالم نے ھی تو مجھے پہلی بار مموں کی ڈیزائنگ دیکھائی تھی اس خرافہ نے ھی تو مجھے پھدی کی خوبصورت شیپ سے آشنا کیا تھا اسی کی ھی لذت بھری آوازوں نے میری نیندیں اڑائیں تھی جی بلکل دوستو آپ سہی سمجھے یہ اور کوئی نھی فرحت تھی مجھے حیران پریشان دیکھ کر فرحت نے ہلکا سا کھانسا تو میں ایکدم خیالوں سے باہر آیا اور اسکی طرف دیکھتے ھوے بولا جججججی آپپپپ تو وہ بڑی ادا سے بولی ھاں جی اب پہچانہ کہ اب بھی انجان بنے ھو میں نے نھی میں سر ہلاتے ھوے کہا ننننھی جی اب تو پہچان لیا آپ قیصر کی مما ہیں نہ تو وہ بولی ھاں جی شکر ھے پہچان لیا تو میں انکا حال احوال پوچھنے لگ گیا اور قیصر کے بارے میں کہ وہ اب کہاں پڑھتا ھے تو فرحت نے بتایا کہ وہ اب لاھور اپنے ماموں کے پاس. چلا گیا ھے اور ادھر ھی پڑھتا ھے ادھر آوارہ گرد ھوتا جارھا تھا اس لے اس کی نانی نے اسے اسکے ماموں کے پاس بھیج دیا ھے میں اتنا ایکسائڈڈ تھا کہ میرے منہ سے اچانک نکل گیا اور ماسٹر جی کیسے ہیں تو فرحت ایک دم گبھرا گئی اور جلدی سے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف دیکھتے ھو بولی کککون ممماسسٹرر فرحت کی حالت دیکھ کر مجھے ایکدم اپنی غلطی کا احساس ھوا تو میں نے جلدی سے بات کو سنبھالتے ھوے کہا وہ سر صفدر صاحب کا پوچھا تھا کیوں میں نے تو سکول چھوڑ دیا تھا اور قیصر مجھ سے دو کلاس پیچھے تھا تو آپ قیصر کا پتہ وغیرہ کرنے جاتی رھی ھوں گی اس لیے انکا پوچھ لیا تو فرحت نے خود کو سنبھالتے ھوے کہا .پتہ نھی مجھے کیا پتہ میں تو بس ایک دو دفعہ ھی گئی تھی اس کے بعد قیصر کو بھی ہٹا لیا تھا سکول سے میں نے ہممممم کیا اور پھر ایک دو سوٹ اور انکو دیکھانے لگ گیا ایک سوٹ سرخ کلر کا تھا میں نے اس سوٹ کو انکی طرف کیا اور کہا کہ آنٹی آپ یہ سوٹ لے لیں یہ آپ پر بہت اچھا لگے گا تو فرحت نے بڑی ادا سے میری طرف دیکھا اور سوٹ کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگ گئی تو اسکی امی نے کہا پُتر دو تِن سوٹ شاپر وچ پا دے اسی کار جاکے ویکھ لواں گے جیڑا چنگا لگیا اور رکھ لواں گے باقی توں آن لگے لے آویں یا فیر تواڈے کار پھڑا دیاں گے میں نے کہا ماں جی کوئی بات نھی اگر ادھر بھی پہن کر چیک کرنا ھے تو اس الماری کے پیچھے بھی سٹور ھے ادھر پہن کر بھی چیک کر سکتے ہین میں نے الماری کے پیچھے سٹور ھے کو ذرا لمبا کر کے کہتے ہوے فرحت کی طرف گہری نظر سے دیکھا تو فرحت بھی ایکدم چونک کر میری طرف دیکھنے لگ گئی اور جلدی سے بولی ننننھی نھی ہم گھر میں ھی پہن چیک کرلیں گے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ نے اپنے لیے لینا ھے یا کسی اور کے لیے تو فرحت بولی میں نے اپنے لیے ھی لینا ھے کیوں ایسا کیوں پوچھ رھے ھو تو میں نے کہا آپ کہہ رھی ہیں نہ کہ ہم گھر جاکر پہن کر دیکھ لیں گی تو فرحت مسکرا کر بولی میرا مطلب ھے کہ میں گھر جاکر پہن کر چیک کرلوں گی میں نے ہممممم کیا اور انکی پسند کے تین چار سوٹ شاپر میں ڈال دیے اور فرحت پرس سے پیسے نکال کر دینے لگی تو میں نے کہا رہنے دیں پہلے آپ سوٹ پسند کر لیں جونسا پسند ھوا میں گھر سے لے لوں گا اور باقی کے سوٹ بھی لیتا آوں گا تو فرحت نے ہممم کہا اور پھر نقاب کر کے پن لگائی اور اٹھنے لگی تو میں نے کہا کتنے بجے آوں توفرحت بولی چاھے رات کو ھی آجانا یا صبح فرحت کی امی دکان سے باہر نکل گئی تھی جبکہ فرحت ابھی تک دکان کی مزید ورائٹی کی طرف نظریں گھما رھی تھی میں نے پھر کہا آنٹی جی سرخ سوٹ ایک دفعہ پہن کر ضرور دیکھنا آپ پر بہت اچھا لگے گا تو فرحت نے میری طرف دیکھا اور بڑی شوخی سے بولی اچھا جی سرخ بھی پہن لوں گی تو میں نے کہا اگر آپکی مرضی ھو تو الماری کے پیچھے بنے ھوے سٹورررر میں بھی پہن کر دیکھ سکتی ہیں یہاں کسی قسم کی کوئی ٹینشن نھی ھوگی تو فرحت نے مجھے بڑی گہری نظر سے دیکھا اور بولی اچھاااا جی امی ساتھ نہ ھوتی تو تمہاری الماری کے پیچھے سٹور کو بھی دیکھ لیتی کہ وہاں کیا اتنی خاص بات ھے جو تم بار بار سٹور کا کہہ رھے ھو اور یہ کہہ کر فرحت نے کپڑوں کا شاپر پکڑا اور باہر نکل گئی میں اسے جاتی ھوئی کو پیچھے سے دیکھنے لگ گیا برقعے میں بھی اسکی گانڈ ہلتی نظر آرھی تھی،، ۔۔ فرحت دکان کے تھڑے پر جاکر رکی اور ایکدم پیچھے کو گردن گھما کر دیکھا جیسے اسکی گانڈ کو دیکھنے کی میری چوری کو اس نے پکڑ لیا ھو اور پھر ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور اپنی امی کے ساتھ آگے چلی گئی اور میں اہستہ آہستہ چلتا ھوا پھر کیش دراز کے پاس گدی پر بیٹھ گیا اتنے میں جنید بھی انکل سجاد کو چھوڑ کر آگیا میں نے کاپی پکڑی اور اسپر فرحت کے بیٹے کا نام درج کر کے ایڈریس کے ساتھ سوٹوں کی تعداد لکھی اور کاپی کو دراز میں رکھ دیا جنید نے مجھ سے پوچھا آیا کوئی کسٹمر تو میں نے اسے بتایا کہ ہمارے گاوں کی آنٹی تھی وہ پانچ سوٹ گھر دیکھانے کے لیے لے گئی ھے تو وہ ہمممم کر کے میرے پاس ھی بیٹھ گیا اور مجھ سے پوچھنے لگ گیا کہ شاہد نھی آیا تو میں نے کہا ابھی تک تو نھی آیا کہیں چھٹی کا پروگرام نہ بنا لیا ھو اس نے، ۔۔ تو وہ بھی اسکی بُرائیاں کرنے لگ گیا کہ اسکو کوئی پروا نھی کل اسکو انکل نے بتایا بھی تھا کہ میں نے صبح فیصل آباد جانا ھے پھر بجی چھٹی کر کے بیٹھ گیا ھے اتنے میں شاہد بھی اگیا اور مجھ سے سلام دعا کے بعد سوری کرنے لگا کہ یار انکل کو نہ بتانا کہ میں لیٹ آیا، تھا میرا بیٹا بیمار تھا اسکی دوائی لینے گیا تھا میں نے اسکو تسلی دی کہ کوئی بات نھی نھی بتاتا پھر ایسے ھی کسٹمر آنا شروع ھوگئے اور ہم سارا دن مصروف ھی رھے رات کو کافی لیٹ دکان بند کی کیونکہ انکل نے آنا تھا تو ھی دکان بند کرنی تھی رات کو دیر ھونے کی وجہ سے میں بھی فرحت کے گھر نھی گیا دوسرے دن صبح صبح ھی میں انکے گھر چلا گیا گھر کا مجھے پتہ تھا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو فرحت کی آواز آئی کون ھے تو میں نے اپنا بتایا کہ یاسر فرحت نے دروازہ کھولا اور مجھے اندر آنے کا کہا میں اندر چلا گیا .فرحت مجھے لیے ھوے اپنے کمرے مین آگئی اس کمرے میں بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل پڑا تھا مجھے اس نے بیڈ پر بیٹھنے کا کہا اور ایک منٹ کا کہہ کر کہ میں آئی اور باہر چلی گئی میں بیٹھا کمرے کا جائزہ لیتا رھا کہ فرحت ہاتھ میں کپڑوں کا شاپر لیے اندر داخل ھوئی اور اس نے سرخ سوٹ نکال کر کہا یہ مجھے اچھا لگا ھے ویسے تمہاری پسند کافی اچھی ھے میں نے فخر سے سینہ چوڑا کرتے ھوے کہا آنٹی دیکھ لین میں نے کہا تھا نہ کہ سرخ سوٹ آپ پر بہت اچھا لگے گا فرحت بولی ھاں ویسے تمہاری پسند کو بھی داد دینی پڑے گی میں نے دل میں ھی کہا داد کے بدلے پھدی دے دو تو مزہ آجاے تجھے ماسٹر بھی بھول جاے گا،، ۔۔ فرحت بولی یاسر تمہیں کیسے پتہ تھا کہ مجھے سرخ رنگ ھی پسند آے گا اور مجھ پر بہت اچھا لگے گا تم نے یہ اتنے یقین سے کیسے کہا میں نے کہا آنٹی جی آپ کا رنگ بہت سفید ھے اور اس سوٹ کی فٹنگ بلکل آپکے جسم کے مطابق تھی اور سرخ رنگ آپ کے گورے رنگ پر چار چاند لگا دے گا اس لیے میں نے سرخ رنگ ھی آپکو لینے کے لیے کہا تھا فرحت حیران ھوتے ھوے بولی واہ بڑی معلومات ھے تمہیں میرے بارے میں میں نے کہا بس جی دیکھ لیں کام کرتے تجربہ تو ھوھی جاتا ھے فرحت بولی یاسر ایک بات تو بتاو مگر سچ بتانا میں نے کہا جی آنٹی پوچھیں میں کیوں جھوٹ بولوں گا فرحت بولی تم نے ماسٹر جی کا مجھ سے کیوں پوچھا تھا میں نے کہا ووووہ میں نے ایسے ھی پوچھ لیا تھا فرحت میری بات کاٹتے ھوے بولی یاسر دیکھو مجھے سچ سچ بتاو میں کوئی بچی نھی ھوں میں نے دل میں ھی کہا کہ واقعی توں ماسٹر کولوں کدوں بچی سی ہن میرے کولوں وی نئی بچدی میں نے کہا میں سچ ھی کہہ رھا ھوں فرحت بولی پھر جھوٹ بول رھے ھو اور یہ جو تم بار بار الماری کے پیچھے سٹور سٹور لگے تھے اور ماسٹر جی کا پوچھ رھے تھے اسکے پیچھے جو سچ ھے وہ مجھے بتاو مجھے پتہ ھے کہ تم کلاس کے مانیٹر تھے اور ماسٹر جی کے بہت لاڈلے بھی اگر تمہیں ماسٹر جی نے کچھ الٹا سیدھا میرے بارے میں بتایا ھے تو پلیززز مجھے سچ سچ بتا دو میرا تم سے وعدہ ھے کہ میں تمہیں کچھ نھی کہوں گی تمہاری ان باتوں نے مجھے ساری رات نھی سونے دیا میں نے کہا آنٹی جی آپ کو کوئی غلط فہمی ھوئی ھے فرحت بولی یاسررر تم مجھے بیوقوف نھی بنا سکتے جو سچ ھے وہ بتا دو میں نے تم سے وعدہ کیا ھے نہ کہ کچھ نھی کہتی۔۔ میں سوچنے لگ گیا کہ چور کی داڑھی میں تنکا سچ ھی کہا ھے کسی نے سالی کی چھٹی حس کتنی تیز ھے ابھی میں یہ سوچ ھی رھا تھا کہ فرحت میرے قریب آکر بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس نے اچانک،،، .میرا ھاتھ پکڑا اور میرے ھاتھ پر اپنا دوسرا ھاتھ رکھتے ھوے بولی تم اپنی امی سے کتنا پیار کرتے ھو تو میں نے کہا یہ کیسا سوال ھے فرحت بولی بتاو نہ کتنا پیار کرتے ھو میں نے کہا اپنی جان سے بھی ذیادہ اپنی ماں سے پیار کرتا ھوں فرحت بولی تمہیں تمہاری ماں کی جان کی قسم مجھے سچ سچ بتاو. اگر جھوٹ بولو گے تو اپنی مری ماں کا منہ دیکھو گے فرحت کی یہ بات سن کر میرا دماغ چکرا گیا کہ سالی نے کیسا سچ اگلوانے کے لیے میرا ویک پوائنٹ پکڑا ھے میں ہاتھ چھڑوا کے ایک دم کھڑا ھوگیا اور کپڑوں کا شاپر پکڑ کر باہر نکلنے لگا تو فرحت نے میرا بازو پکڑ لیا اور جلدی سے کمرے کے دروازے کو بند کر کے کنڈی لگا دی میں نے کہا مجھے دکان سے دیر ھورھی ھے مجھے جانیں دیں فرحت بولی جب تک سچ نھی بتاو گے جانے نھی دوں گی میں نے کہا آپ کی امی کیا سوچے گی کہ کمرے کا دروازہ کیوں بند ھے تو فرحت بولی انکی فکر مت کرو وہ سوئی ھوئی ہیں دوائی کھا کر دس بجے سے پہلے نھی اٹھتی مین نے کہا مگر مجھے تو جانے دیں فرحت بولی یاسر مجھے یقین ھے کہ تم جھوٹ بول رھے ھو اب تو تمہیں تمہاری امی کی قسم بھی دے دی ھے اب بھی جھوٹ بولو گے یا کچھ چھپاو گے تو پھر اس کے تم خود ھی ذمہ دار ھوگے میں نے کہا آنٹی سچی مجھے دیر ھورھی ھے میں نے انٹی فوزیہ کی بیٹیوں کو بھی ساتھ لے کر جانا ھے وہ میرا انتظار کررھی ہوں گی ابھی مجھے جانے دیں میں رات کو آکر سب کچھ سچ سچ بتا دوں گا مگر ایک بات بتاتا چلوں کہ تب بتاوں گا جب آپ کی امی پاس نہ ھوں گی فرحت بولی قسم کھاو کہ تم رات کو آو گے اور سب کچھ بتاو گے میں نے قسم کھا کر فرحت کو یقین دلوایا تو فرحت نے مجھے وقت بتایا کہ اس وقت امی سو جاتی ھے میں بیٹھک کے دروازے کی کنڈی کھول دوں گی اور دروازہ ویسے ھی بند کردوں گی تم دروازے کو ہلکا سا کھولنا اور اندر آجانا اور گلی میں دیکھ کر آنا کہ کوئی تمہیں اندر آتے نہ دیکھے میں نے فرحت سے وعدہ کیا اور جلدی سے کمرے سے نکل کر صحن میں آگیا اور پھر بیرونی دروازے سے نکل کر اپنے گھر کی طرف چل دیا آدھے راستے میں جاکر مجھے یاد آیا کہ میں نے پیسے تو لیے ھی نھی پھر یہ سوچ کر واپس نھی گیا کہ سالی نے نواں کٹا کھول کہ بے جانا اے مجھے پہلے ھی کافی دیر ھوچکی تھی میں تیز تیز قدم اٹھاتا ھوا فوزیہ کے گھر پہنچ گیا تو فوزیہ نے مجھے شرما کر دیکھا جیسے کل ھی اس نے میرے ساتھ سہاگ رات منائی ھو عظمی اور نسرین میرے انتظار میں ھی بیٹھی ھوئی تھی مجھے دیکھتے ھی نسرین مجھ پر بھڑک اٹھی کہ روزانہ ہمیں سکول سے دیر کروا دیتا ھے نواب زادہ میں اسکی باتوں کو نظر انداز کرتا ھوا فوزیہ کے پاس کھڑا ھوگیا تو نسرین کی اچانک نظر میرے ھاتھ میں پکڑے شاپر پر پڑی اور بولی یاسر اس میں کیا ھے میں پہلے ھی اسکی جلی سڑی باتوں سے غصے میں تھا میں بولا کُش نئی بیجا آرام نال تو نسرین بولی بتا دے کیا ھے بھائی نھی میرا میں نے کہا سوٹ ہیں فینسی بوتیک کے تو وہ جلدی سے آگے بڑھی اور میرے ھاتھ سے شاپر پکڑنے کی کوشش کی تو میں نے جلدی سے شاپر اوپر کر کے دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا اس نے جمپ مار کر شاپر پکڑنے کی کوشش کی شاپر میرے سر کے بلکل اوپر تھا تو اسکے دونوں ممے میرے سینے کے ساتھ لگے پہلی دفعہ نسرین کا جسم میرے جسم کے ساتھ ٹچ ھوا تھا اسکے مموں کے لمس سے میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا جبکہ اسکے بارے میں میرے دماغ میں کبھی بھی ایسی ویسی بات نھی آئی تھی اسکا جسم بھی عظمی کی طرح بہت سیکسی تھا اب تو اسکے ممے بھی چونتیس سائز کے ھوچکے تھے اور جسم بھی بھرا بھرا تھا مگر میں نے کبھی اسکو غلط نگاہ سے دیکھا ھی نھی تھا کیونکہ وہ میرے ساتھ کبھی اتنا فری نھی ھوئی تھی اور ویسے بھی وہ سڑئیل مزاج کی تھی اس لیے بھی میں اسکو زیادہ منہ نھی لگاتا تھا ۔۔۔ خیر اسکے مموں کے لمس نے مجھے چونکا دیا اور لن ساب نے بھی کہا کہ ماما اے وہ جوان اے میں نے جلدی سے شاپر دوسرے ھاتھ میں کر لیا اور شاپر کو مزید اونچا کردیا تو نسرین نے پھر شاپر کو پکڑنے کے لیے جمپ لگایا تو اس دفعہ پہلے سے ذیادہ اسکے ممے میرے ساتھ ٹچ ھوے عظمی شاید یہ سب دیکھ رھی تھی اس لیے وہ غصے سے بولی تیری کیوں جان نکل رئی اے پہلے ھی سکول سے اتنی دیر ھوگئی ھے چلو چلیں اگر اتنا ھی شوق چڑھا ھے تو دکان پر جاکر دیکھ لینا نسرین نے بُرا سا منہ بنایا اور اپنے منہ پر ھاتھ پھیرتے ھوے بولی کوئی بات نھی دیکھ لوں گی تجھے اور میں ہنستہ ھوا انکو لے کر صدف کے گھر پہنچا تو اس سے بھی یہ ھی سب کچھ سننے کو ملا اور ہم چاروں شہر کی طرف چل پڑے راستے میں بھی نسرین سب سے آگے منہ بسورے جلدی جلدی تیز قدموں سے چلی جارہی تھی اور اسکی گانڈ بھی اس حساب سے ون ٹو کرتی جارھی تھی صدف میرے آگے تھی اس نے بھی. .مجھ سے پوچھا کہ دیکھاو کون سے ڈیزائن ہیں میں بھی ویسے سی لوں گی دیکھ کر تو میں نے اس کو بھی ٹال دیا کہ پھر کبھی تمہیں دیکھا دوں گا ابھی دیر ھورھی ھے ایسے ھی چلتے چلتے ہم سکول پہنچ گئے انکو سکول چھوڑنے کے بعد میں سیدھا دکان پر چلا گیا اور پھر روز مرہ کی طرح کام میں مصروف رھا تین بجے اچانک میرے ذہن میں آیا کہ میں نے تو چار بجے مہری سے ملنے جانا ھے خیر تین سے چار بجے کا وقت مجھے پتہ ھے کہ میں نے کیسے گزارہ تھا بڑی مشکل سے چار بجے میں نے انکل سے بہانہ کیا کہ میرے دوست کے والد کی طبعیت بہت خراب ھے تو میں نے انکا پتہ کرنے اسکے گھر جانا ھے تو انکل نے بھی ذیادہ پوچھ گچھ نھی کی کیوں کے میں نے کبھی فضول چھٹی نھی کی تھی اور نہ ھی دکان سے کبھی ادھر ادھر گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ میں چھٹی سے پہلے دکان سے جارھا تھا خیر میں انکل سے اجازت لے کر جانے لگا تو انکل نے مجھے آواز دی کہ یاسر اگر تمہارے دوست کا گھر دور ھے تو جنید تمہیں موٹر سائیکل پر چھوڑ آتا ھے تو مجھے انکل کا مشورہ معقول لگا کیوں کہ مجھے جتنی بے چینی تھی مہری کے قرب کی مجھ سے تو اسکے گھر کا راستہ بھی جلدی طے نھی ھونا تھا میں نے کہا نیکی اوت پوچھ پوچھ اور انکل سے کہا اگر جنید کو کوئی کام نھی ھے تو بھیج دیں انکل نے جنید کو کہا کہ جاو یاسر کو اسکے دوست کے گھر چھوڑ آو جنید نے موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور مجھے پیچھے بٹھا کر مجھ سے راستہ پوچھتے ھوے جانے لگا مہری کے گھر سے کچھ ھی دور گلی کی نکڑ پر میں نے جنید کو رکنے کا کہا اور میں موٹرسائیکل سے اتر گیا اور اسکا شکریہ ادا کرتے ھوے اسے جانے کا کہا جیند نے موٹرسائیکل گھمائی اور واپس چلا گیا مجھے جب تسلی ھوگئی کہ جنید چلا گیا ھے تو میں مہری کے گھر کی طرف چلنے لگ گیا گلی سنسان تھی اس لیے میں بنا کسی پریشانی کے چلتا ھوا مہری کے گھر کے سامنے پہنچ کر کھڑا ھوگیا اور ڈور بیل بجائی کچھ دیر بعد اس قاتل حسینہ کی مترنم آواز میرے کانوں کو چھوئی کون ہے تو بے ساختہ میرے دل نے کہا ہم خاک نشیں ۔تم سُخن آرائے سرِ بام۔۔ پاس آکے ملو دور سے کیا بات کرو ہو،۔ میں نے کہا جی میں یاسر تو دوسری طرف سے کچھ دیر خاموشی رھی اور پھر گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھلا اور اس دروازے سے وہ حسین چہرہ نکلا جیسے بادلوں سے چاند نکلتا ہے میرے دل سے پھر آواز آئی حسین چہرہ ۔گلابی رنگت۔ جھیل سی آنکھیں۔ ہو تم اپنی مثال آپ جاناں، اس جہاں میں تجھ سا حسین دیکھا نھی، مہری نے مجھے اپنے حُسن کے سحر میں ڈوبا دیکھا تو شرما کر بولی اب ادھر ھی کھڑے رھو گے کی اٹھا کر اندر لاوں اور یہ کہہ کر وہ ایک سائڈ پر ھوگئی اور میں اس کے خیالوں سے باہر آیا اور جلدی سے اندر چلا گیا، مہری بولی بڑے ٹائم کے پابند ھو ویری گُڈ، اور یہ کہتے ھوے اس نے دروازہ لاک کر دیا مہری نے لائٹ گرین لان کا سمپل سا مگر قیمتی سوٹ پہنا ھوا تھا اور اسکے جسم پر سوٹ بھی انمول ھوگیا تھا کمال کی حسین لگ رھی تھی شارٹ شرٹ چونٹوں والی بیلٹ والی شلوار جو اسکی قمیض کی سائد سے نظر آرھیں تھی وہ کسی گُڑیا سے کم نھی لگ رھی تھی میں نے اسکو سر سے پاوں تک دیکھا اور ساتھ ھی میرے منہ سے نکلا ما*****تو مہری نے شرما کر سر نیچے کرلیا اور مجھے دھکا دیتے ھوے کہنے لگی چلو اندر کہ یہاں کھڑے کھڑے مجھے ھی گھورتے رہنا ھے میں نے ادھر کھڑے ھی اسکو کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کردیا اور غور سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگ گیا مہری نے میری آنکھوں آنکھیں ڈال کر اشارے سے پوچھا کیا ھے تو بےساخطہ میرے لب ہلے چہرے پہ مرےزُلف کو پھیلاؤ ناں کیا روز گرجتے ہو، آج جی بھر کہ برس جاؤ ناں رازوں کی طرح اُترو مرے دل میں آج دستک پہ مرے ہاتھ کی کُھل جاؤ ناں مہری نے شرما کر مجھ سے اپنا آپ چُھڑوایا اور اندر کمرے کی طرف بھاگ گئی میں بھی اسکے پیچھے پیچھے اسکے کمرے میں آگیا اسکا کمرہ بھی اسکی طرح خوبصورت تھا یا شاید اس کے حسن نے کمرے کو اور حسین بنا دیا تھا مہری کمرے میں جا کر اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی اور منہ کے اگے دونوں ہاتھ رکھ لیے میں جاکر اسکے قدموں میں پاوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ھاتھ اسکے حسین نرم ھاتھوں پر رکھے اور اسکے ھاتھوں کو چاند سے ہٹانے لگا جیسے ھی اسکے ھاتھ اسکے چہرے سے ہٹے تو میں نے دیکھا کہ چودہویں کا چاند تو شرم سے ھی سرخ ھورھا ھے مہری نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی میں نے کہا مہری مہری نے ایسے آنکھیں کھولی جیسے گڑیا بےبی ڈول آنکھیں کھول کر پھر بند کرلیتی ھے مگر میری بے بی ڈول نے آنکھیں کھولی تھی مگر بند نھی کی تھی اور مجھے پھر اشارے سے پوچھا کیا ھے اور ہنسنے لگ گئی .میں نے کہا مہری مجھ سے شرما کیوں رھی ھو مہری بولی تم پلیز مجھے اسطرح نہ دیکھو مجھے شرم آرھی ھے میں اٹھ کر اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسکی ٹھوڑی کیا ریشم کا زرہ تھا جس پر میری انگلیاں رکھتے ھی نشان پڑ گئے میں نے اس حسین چہرے کو اپنی طرف گھماتے ھوے کہا مہری تم واقعی ھی بہت خوبصورت ھو مجھے یقین نھی ھورھا کہ تم جیسی حسین پری میری دوست بن سکتی ھے اور مجھے اس کا قرب حاصل ھوسکتا ھے مہری بولی اچھا جی خیر ھے آج بڑے رومینٹک موڈ میں ھو میں نے کہا جس خوش نصیب کے سامنے یہ گلاب کا پھول ھو تو وہ اس کی خوشبو سے مدہوش نہ ھو تو لعنت ھے اس وصال یار پر مہری تھوڑا سے پیچھے کھسکتی ھوئی بولی مجھے تمہاری طبعیت اور نیت کچھ سہی نھی لگ رھی میں نے کہا طبعیت تو بلکل سہی ھے مگر یہ حسن یہ دیدار صنم دیکھ کر نیت کی کیا گارنٹی کہ وہ خراب نہ ھو مہری جلدی سے اٹھی اور مجھ سے کہنے لگی اچھا مجنوں جی پہلے کچھ کھا پی لو پھر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں میں نے کہا اگر پلانا ھی ھے تو پھر سن شربتی گلابی پنکھڑیوں کا رس پلا دو جسے پی کر ہم بھی امر ھو جائیں مہری بولی تمہارا گلا دبا دینا ھے میں نے کہا دیر کس بات کی میری خوش نصیبی ھوگی جو در یار پر میری جاں نکلے تو مہری اففففففف کرتی ھوئی اپنے ماتھے پر ھاتھ مارتے ھوے باہر نکل گئی میں اسے جاتا ھوا اسکی مٹکتی ھوئی گول گانڈ کو دیکھتا رھا۔ مہری کے جانے کہ بعد میں اسکے حسن میں کھویا اسکے تصور میں ہاتھ پیچھے بیڈ پر رکھے ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹکاے آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا کہ اچانک میرے منہ پر پانی کے چھینٹے پڑے اور میں نے ایکدم آنکھیں کھولی تو وہ حسینہ جس کو آنکھیں بند کئے دیکھ رھا تھا آنکھیں کُھلتے ھی میرے سامنے ھاتھ میں ٹرے پکڑے جس میں دو مشروب کےگلاس تھے مجھے دیکھے مسکرا رھی تھی پھر اسکے لب ہلے اور بولی جناب سونے آے ہیں ادھر میں نے کہا نیند اب کہاں رھی آنکھیں بند بھی کروں تو صرف تیرا ھی چہرہ سامنے آتا ھے مہری بولی اچھا جی جناب شاعر بھی ہیں مجھے تو آج پتہ چلا میں نے کہا تیرے حُسن نے شاعر بنا دیا ورنہ شاعری ہمارے بس کا کام نہ تھی مہری نے ایک گلاس مجھے پکڑایا اور ایک گلاس خود پکڑ کر ٹرے سائڈ ٹیبل پر رکھ دی اور مشروب کی چسکی لیتی ھوئی میرے پاس بیٹھ گئی میں نے بھی مشروب کا ایک گھونٹ بھرا اور منہ بسور کر کہا کہ یار یہ تو پھیکا ھے مہری ایکدم گبھرائی اور بولی پھیکا کیسے ھو سکتا ھے میں بھی یہ ھی پی رھی تھی میں نے گلاس اسکی طرف کرتے ھوے کہا یہ پی کر دیکھو مہری نے ایک گھونٹ بھرا اور نگلتے ھوے بولی جھوٹے اتنا تو میٹھا ھے تو میں نے پھر گھونٹ بھرا اور گھونٹ بھرتے اوپر منہ کر کے آہہہہہہہہہہ کیا اور مہری کی طرف دیکھتے ھوے کہا اب میٹھا ھوگیا ھے مہری نے میرے پیٹ میں کہنی ماری اور بولی چل شوخا بتمیز میں نے کہا تمہاری لباب نے اسے میٹھا کیا ھے پہلے تو یہ پھیکا ھی تھا میں نے دو تین لمبے لمبے گھونٹ بھرے اور گلاس خالی کر کے ٹرے میں رکھ دیا کچھ دیر میں مہری نے بھی گلاس خالی کر کے ٹرے میں رکھ دیا میں نے مہری سے پوچھا کہ اسد کب گیا ھے مہری بولی وہ تو اوپر ھے کمرے میں میں جمپ مار کے کھڑا ہوگیا اور گبھراے ھوے انداز میں بولا او شِٹ یار پہلے کیوں نھی بتایا مہری بولی اب بتا دیا ھے کیوں کیا ھوا اتنے پریشان کیوں ھوگئے ھو میں جلدی سے دروازے کی طرف بڑھا اور مہری کو کہا میں جارھا ھوں مہری جلدی سے اٹھی اور بھاگ کر مجھے بازو سے پکڑ کر ہنستے ھوے بولی ڈرپوک میں مزاق کررھی تھی تم سچی میں بڑے ڈرپوک ھو نکل گئی نہ ایک منٹ میں ساری شاعری دوستو اسد کا سن کر واقعی میری ہوا نکل گئی تھی میں نے مصنوعی غصہ دیکھاتے ھوے مہری کی طرف دیکھ کر کہا جاو میں نھی بولتا تمہارے ساتھ اور اس سے بازو چُھڑوا کر باہر جانے لگا تو مہری نے مجھے پیچھے سے جپھی ڈال لی اور بولی دل توڑ کہ نہ جا منہ موڑ کے نہ جا ایسے گانا گُن گناتے ھوے میرے ساتھ جھولنے لگ گئی مہری کے نرم نرم ممے جیسے ھی میری کمر کے ساتھ لگے تو میرے اندر پھر ہوس پیدا ھو گئی۔ اور میں نے مہری کے ہاتھ پکڑ لیے جو اس نے میرے پیٹ پر باندھے ھوے تھے میں نے آہستہ سے اسکے ہاتھ کھولے اور گھوم کر اسکی طرف منہ کرلیا اور اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اسکے ہونٹوں کو چومتے ھوے کہا میں ڈرتا نھی ھوں میں نے نے جیسے ھی مہری کے ہونٹ چومنے کے لیے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں کی طرف بڑھاے تھے مہری نے میرے ہونٹوں کو اتنا قریب آتے دیکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی اور اسکے ہونٹ کانپنے لگ پڑے تھے میں نے پھر اس کے نرم گلابی ہونٹوں کو چوما اور مہری کو ویسے ھی گالوں سے پکڑے اسکو پیچھے دھکیلتے ھوے بیڈ کی طرف بڑھنے لگا مہری بھی میرے ہر قدم کے ساتھ پیچھے ھوتی جارھی تھی کہ بیڈ کے ساتھ اسکی ٹانگیں لگ گئی اور میں نے اسکے ہونٹ چومتے ھوے اسے پیچھے بیڈ پر لیٹا دیا اور خود اسکے اوپر لیٹ گیا ہم دونوں کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھی میرا لن مہری کی پھدی کے بلکل اوپر اسکی پھدی کو دبا رھا تھا میں اب مسلسل اسکے ہونٹوں کو چومی جارھا تھا اور مہری نے ابھی تک آنکھیں بند ھی کی ھوئی تھی میں نے کچھ دیر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھی رکھے پھر اسکی دونوں ٹانگوں کے نیچے ھاتھ لیجا کر اسکی ٹانگوں کو بیڈ کے اوپر کی اور سرھانے والے سائڈ پر اسکا سر کرکے مہری کو بلکل سیدھا بیڈ پر لٹا کر اسکی دائیں طرف اسکے اوپر جھک گیا مہری نے ایک دفعہ اپنی آنکھیں کھولی تو مجھے اسکی آنکھوں میں سرخی نظر آئی اور اس نے پھر جلدی سے ایسے آنکھیں بند کر لی جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ھے میں اسکے اوپر جھکا مہری کے چہرے کو غور سے دیکھ رھا تھا اور ھاتھ کی ایک انگلی کو اسکے چہرے پر پھیر رھا تھا مہری کا ایک مما میرے سینے کے ساتھ لگا تھا جس سے اسکے سینے کی تیز دھڑکن کا پتہ چل رھا تھا مہری کی کنپٹی سے انگلی کو پھیرتے ھوے اسکے ماتھے سے گزار کر اسکی نرم روئی جیسی سوفٹ گال پر پھیرتا ھوا ٹھوڑی سے لے کر اسکے دوسرے گال تک لیجا کر اسکی بند آنکھوں کی پلکوں کو ٹچ کرتا ھوا اسکی چھوٹی سی تیکھی ناک پر پھیرتے ھوے اسکے نرم گلابی ہونٹوں پر انگلی کو پھیرتا تو مہری کا جسم کانپ جاتا اسکے ہونٹ تھرتھرانے لگ جاتے اسکی پلکیں کپکپانے لگ جاتی اسکے ممے تیز سانسوں کی وجہ سے میرے سینے کو ٹچ ھوکر واپس اپنی جگہ پر چلے جاتے میں اسکی یہ حالت دیکھ کر کافی محفوظ ھورھا تھا وہ کسی بے جان مورت کی طرح پڑی تھی نہ مجھ سے بات کررھی تھی نہ مجھے روک رھی تھی بس میری انگلی کے جادو سے تھر تھرا رھی تھی اسکے بالوں کی ایک لٹ پنکھے کی ہوا سے اسکے چاند سے چہرے پر داغ لگانے بار بار اڑ کر آجاتی تھی جسے میں انگلی سے ھی ہٹا کر اسکے کان کی لو کے پیچھے کرتا اور غور سے اپنے مجازی محبوب کے حسن میں ڈوبا اس چاند سے چہرے کو دیکھ کر سوچ رھا تھا کہ یہ مکھ حسن کا دریا ہے۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے۔اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ ، اور اب ، خال اور قد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بیان کروں تو کیسے کروں اور اسکی بالوں کی جو لٹ بار بار اڑ کر اس چاند پر گرتی تھی اسکو سنبل ، سانپ ، ناگن ، زنجیر ، سائباں ، بادل ، رات کا اندھیرا اور ساون کی گھٹا جیسے استعاروں سے تشبیہ دوں یا کیا نام دوں یا پھر یہ کہہ دوں کہ زلف جاں سے ملی فکر و نظر کی چاندنی۔۔ زلفوں کے پیچ و خم میں یہ عارض کی دھوپ چھاؤں۔۔ کس نے کھولا ہے ہوا میں گیسوؤں کو ناز سے۔۔ اڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے بے ساخطہ میرے لب ہلے اور میں نے کہا رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام۔۔ موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام۔۔ مہری نے اچانک اپنی آنکھیں کھولی اور غور سے میری آنکھوں میں جھانکنے لگ گئی مہری کی آنکھوں میں نشہ تھا سرور تھا سرخی تھی اک عجیب سے کشش تھی جو مجھے اپنی طرف کھینچے جارھی تھی اور میں اسکی. جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوبتا جارھا تھا اور ڈوبتے ڈوبتے میرے پھر لرزتے ہونٹ ہلے اور میں مہری کی آنکھوں میں کھویا بول پڑا ----------------------- تمہاری کالی آنکھوں میں ہیں انتر منتر سب۔۔ چاقو واقو، چھریاں وُ ریاں، خنجر ونجر سب ----------------------- پھر میں بولا دیکھ لے شیخ گر تیری آنکھیں پارسائی خراب ہو جائے -------------------------- یہیں پر بس نھی ھوئی تو پھر کہا مہری تمہاری آنکھیں بتاؤں کیسی ھیں؟ جھیل سیف الملوک جیسی ہیں --------------------------- مہری اور بتاوں گلاب آنکھیں شراب آنکھیں, یہی تو ہیں لاجواب آنکھیں۔ ۔انہیں میں الفت انہیں میں نفرت سوال آنکھیں عذاب آنکھیں کبھی نظر میں بلا کی شوخی کبھی سراپا حجاب آنکھیں کبھی چھپاتی ہیں راز دل کے کبھی ہیں دل کی کتاب آنکھیں کسی نے دیکھیں تو جھیل جیسی کسی نے پائی شراب آنکھیں وہ آئے تو لوگ مجھ سے بولے حضور آنکھیں جناب آنکھیں عجب تھا یہ گفتگو کا عالم سوال کوئی جواب آنکھیں یہ مست مست بے مثال آنکھیں نشے سے ہر دم نڈھال آنکھیں اٹھیں تو ہوش و حواس چھینیں گریں تو کر دیں کمال آنکھیں کوئی ہے انکے کراہ کا طالب کسی کا شوق وصال آنکھیں نہ یوں جلیں نہ یوں ستائیں کریں تو کچھ یہ خیال آنکھیں ہیں جینے کا اک بہانہ یارو یہ روح پرور جمال آنکھیں درّاز پلکیں وصال آنکھیں مصوری کا کمال آنکھیں شراب رب نے حرام کر دی مگر کیوں رکھی حلال آنکھیں ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں خدا کی بندی سنبھال آنکھیں. مہری میرے سحر میں جکڑ چکی تھی مجھے یوں اپنے اوپر نچھاور دیکھ کر مسکرا کر کچھ بولنے گی لگی تھی کہ میں نے مہری کے گلابی ہونٹوں کو چوما اور کہا شییییی آج کچھ نہ بولو بس مجھے جی بھر کے دیکھنے دو اور جی بھر کے کہنے دو اور مہری کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا نازکی تمہارے کے لب کی کیا کہنے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے مہری اکھڑے ھوے سانس لیتے ھوے بولی آج میری جان لینی ھے اتنا ظلم مت کرو مجھ پر کہ دور رہنا مشکل ھوجاے میں نے کہا کون کمبخت دور رہنا چاہتا ھے میری تو آرزو بھی یہ ھے کہ میری جاں بھی تیری قربت میں نکلے مہری نے دونوں بازو کھولے اور مجھے کس کر جپھی ڈال لی اور میرے ہونٹوں کو بے دردی سے چوسنے لگ گئی میں نے بھی اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑنا چاھا مگر مہری مجھ پر سبقت برقرار رکھے ھوے تھی کچھ دیر دیوانہ وار کسنگ کر کے مہری نے لمبی آہہہہہہہ بھری اور زور سے سر پیچھے میٹرس پر رکھے تکیہ پر مارا میں تھوڑا سا جھکا اور اسکے پیٹ کے پاس منہ کیا اور اسکی شرٹ کے پلو کو اپنے دانتوں میں جکڑا اور دانتوں جکڑے ھوے پلو کو لے کے مہری کے سینے سے ھوتا ھوا اسکے منہ پر آکر پلو کو چھوڑ دیا اور پھر ادھر سے ھی واپس اسکے ننگے نرم نازک چٹے سفید دودیا مانند پیٹ پر آگیا اور اسکی ناف کے سوراخ پر ایک کس کی تو مہری کا پیٹ وائبریٹ ھونے لگ گیا مہری نے دونوں ھاتھوں میں سرھانے کے نُکریں پکڑ کر بھینچتے ھو سر کو دائیں بائیں کرتے ھو سسسسکاریاں لینی شروع کردی میں پیٹ کو چومتا ھو مہری کے مموں کے قریب تر ھوتا گیا یہاں تک کے اسکی شرٹ جو مموں پر تھی وہ میرے ناک کو چھونے لگی میں نے ھاتھ اسکی کمر کے نیچے کیے اور اسکو تھوڑا سا اوپر ھونے کا اشارہ کیا تو مہری اوپر ھوگئی میں نے اسکی شرٹ کمر سے اوپر اسکے بریزیر تک کردی اور ساتھ ھی اسکے مموں کے اوپر سے شرٹ کو دانتوں میں لے کر اسکے ممے شرٹ سے آزاد کردیے میری جسے ھی مہری کے مموں پر نظر پڑی اففففففففف کیا بتاوں دوست ممے تھے کہ کیا قیامت تھے شاید کوئی انگریزوں کی کسی گوری میم کے بھی ایسے ممے نہ ھوں جیسے اس قیامت کی پڑیا کے تھے ظلم پر ظلم کہ بریزیر بھی سرخ رنگ کا پہنا ھوا تھا بندے کی جان نہ نکلے تو کیا ھو میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیا اگر کھانے والی چیز ھوتی تو اب تک ڈکار مار چکا ھوتا مگر یہ تو کھیلنے والی پیار کرنے والے سنبھال کر رکھنے والے چیز تھی میں نےمموں کے درمیان چومنا شروع کردیا کچھ دیر بعد ایسے ھی چومتے ھوے مہری کی برا کو مموں سے الگ کردیا اففففففف میرے خدایا کیا آج میرا آخری دن ھے کیا بچے کی جان لے گی ممے افففففف کیا لکھوں کیا کہوں نہ میرے پاس الفاظ ہیں نہ اور کچھ بس اسکے سفید مموں کے اوپر بنے پنک گول دائرے اور اکڑے ھوے پنک. نپل پر میں بے دردی سے ٹوٹ پڑا اور پورے ممے کو ایک ھی نوالے میں نگھلنے کی کوشش کرنے لگا تبھی مہری نے زور سے سیییییی کیا اور بولی افففففففف نھیییی یاسسررررر پلیززززز آہستہ کاٹو تو نہ تو مجھے اپنے جانور بننے کا احساس ھوا اور ساتھ ھی میں نے ممے پر دباو کم کر دیا اور آرام آرام سے ممے کو چوسنے لگ گیا مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ میں نے منہ میں روئی ڈالی ھوئی ھے یا جیسے لچھا ھوتا ھے بلکل نرم اور سوفٹ خیر کچھ دیر ایسے ھی میں دونوں مموں کو باری باری چومتا رھا پھر میں نے ایک ھاتھ مہری کی شلوار میں ڈال دیا اور جیسے ھی میری انگلیاں اسکی ملائم نرم نازک بالوں سے پاک پھدی پر لگی تو مہری ایکدم اوپر کو اچھلی اور زور سے ٹانگوں کو آپس میں بھینچ لیا جس سے میری انگلیاں اس کی پھدی کے ساتھ چپک گئی او ر مہری نے میرے سر کے بالوں کو زور سے پکڑ لیا اور ایکدم مہری کے منہ سے نکلا ھاےےےےےےےےےےےے ممممممممممممممم افففففففففف سیییییییییج اور ساتھ ھی میری انگلیوں پر گرم گرم لاوا پڑتا محسوس ھوا اور مہری کا جسم ذور ذور سے ۔ جھٹکے کھانے لگ گیا مہری کا جسم ایسے ھوگیا جیسے برف میں لگ گئی ھے مہری نے ساتھ ھی کروٹ لی جس سے میرا ھاتھ اسکے نرم ملائم چڈوں سے نکل گیا اور مہری نے اپنے گوڈے اپنے پیٹ کے ساتھ لگاے اور منہ دوسری طرف کر کے لمبے لمبے سانس لیتی ھوئی لیٹ گئی اور میں حیران پریشان اسکی ادھ ننگی گانڈ کو دیکھنے لگا گیا ۔۔۔ مہری کی گانڈ آدھی ننگی تھی اور پیچھے سے اسکی قمیض بھی اوپر کندھوں تک تھی جس سے اسکی چٹی سفید کمر اور گانڈ نظر آرھی تھی مہری تو فارغ ھو کر کروٹ لیے اکھٹی سُنگڑ کر لیٹی تھی مگر میرے دماغ اور لن کی گرمی ابھی ویسے ھی باقی تھی مہری کا ننگا گورا جسم دیکھ کر میرا مذید دماغ خراب ھونے لگ گیا میں نے مہری کی کمر پر ھاتھ پھیرنا شروع کیا تو مہری نے میرا ھاتھ پکڑ کر جھٹک دیا میں کہاں باز آنے والا تھا ننگے کنوارے گورے بدن تو پہلے بھی دیکھ چکا تھا مگر مہری کا جسم اور اسکی رنگت اور بناوٹ ان سب سے انمول تھی جس کی جتنی تعریف کی جاے کم تھی میں مہری کے پیچھے اسکی طرف منہ کر کے ٹیڑھا ھوا اور اسکو پکڑ کر الٹا کردیا مہری نے کوشش کی کہ سیدھی ھو جاے مگر میں وقت ضائع کئے بغیر ھی اسکے اوپر الٹا لیٹ گیا مہری میں نیچے دبی ھوئی مجھے اوپر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر میں مرد تھا اور وہ ایک کھلتا گلاب جسکو پہلی دفعہ کسی مرد نے چھوا تھا اور اسے پہلی دفعہ مرد کے جسم کا لمس محسوس ھوا تھا میں نے ہاتھ نیچے کیا اور اپنی قمیض اپنے پیٹ سے اوپر کر کے اپنے سینے کو بھی ننگا کر دیا اور مہری کی پیچھے سے قمیض کو پکڑ کر مزید اوپر کرکے اسکی کمر کے اوپر اپنا ننگا جسم رکھ دیا اور پیچھے سے اپنے پیروں کی انگلیوں کو مہری کے نرم پیروں کے پیچھے رکھ کر لن اسکی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور اسکے ریشم جیسے بالوں کو اسکی گردن سے ہٹا کر ایک طرف کر کے اسکی ننگی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے مہری کا سارا جسم ھی ایک جیسا نرم نازک تھا اس کے جس عضاء کو میں چھوتا مجھے اسکا جسم اک نئی لذت سے آشنا کروا دیتا میرے ہونٹوں نے جیسے ھی مہری کی گردن کو چھوا مہری کی مزاحمت وہاں ھی دم توڑ گئی اور اس نے سیییییییییییی کیا اور اپنا منہ سرھانے میں دبا لیا میں نے اسکی گردن کو چومنا شروع کردیا اور ساتھ ھی زبان نکالی اور مہری کی گردن پر پھیرتے ھوے اسکے کان کے قریب لے جاتا اور مہری سسکیاں بھرتے ھوے خود کو سمیٹنے کی کوشش کرتی اور اپنی گانڈ جے دراڑ میں پھنسے ھوے لن کو بھینچ لیتی اور کہتی یاسرررررر پلیزززززز نہ کرو میں ایسے ھی کچھ دیر اسکی گردن کو چومتا اور گردن کے دونوں اطراف زبان پھیرتا رھا اور مہری میری قربت میں سسکتی رھی میں تھوڑا سا پیچھے کو کھسکا اور میرا لن مہری کے چتڑوں سے نکل کر اسکے چڈوں میں آگیا اور میرے ہونٹ مہری کی ملائم کمر کو چومنے لگ گئے میں کمر کے ایک ایک حصہ کو چومتا ھوا آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آرھا تھا مہری میرے نیچے کانپ رھی تھی میرے ہونٹوں کا لمس اس سے برداشت کرنا مشکل ہورھا تھا کچھ دیر تک میں اسکی گانڈ کے بلکل قریب آچکا تھا میں نے زبان نکالی اور گانڈ کے اوپر جہاں سے ریڑھ کی ہڈی شروع ھوتی ھے وہاں پر رکھ دی اور مہری کے ریڑھ کی ہڈی کو زبان لمبی کر کے چاٹنے لگا مہری سے برداشت نہ ھوا مہری ایکدم پورے زور سے جھٹکا مار کے سیدھی ھوگئی اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی مجھ پر ترس کھا یاسر کیوں مجھے مارنے پر تُلے ھوے ھو میں نے کہا مہری تم چیز ھی ایسی ھو تمہارا جسم ھی اتنے کمال کا ھے کہ میرا بس چلے تو اس جسم کو اپنے جسم میں سما لوں تمہارے اس جسم کو اتنا پیار کروں کہ میری ساری عمر گزر جاے اور میری جان نکل جاے تو مہری نے جلدی سے اپنا ھاتھ میرے منہ پر رکھ دیا اور بولی ***** نہ کرے کیسی باتیں کر رھے ھو یاسر خبردار اگر دوبارا ایسی بات کی تو میں نے اسکا ہاتھ پیار سے پکڑا اور ہاتھ کو چوم کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور ساتھ ھی اسکے اوپر جھک کر اسکے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا مہری بھی میرا برابر ساتھ دے رھی تھی میری گردن پر اپنا نرم نازک ھاتھ رکھ کر انگلیوں کو میرے بالوں میں پھیر رھی تھی ۔جس سے مجھے اور جوش چڑھ رھا تھا کچھ دیر ایسے ھی ہم کسنگ کرتے رھے میں نے مہری کے ہونٹوں کو چھوڑا اور نیچے کی طرف سرکتا ھوا اسکے ننگے مموں پر آگیا اور باری باری دونوں مموں کو چومتا ھوا نیچے اسکے پیٹ کی طرف آیا اور اسکے روئی جیسے نرم اور ریشم جیسے ملائم پیٹ پر زبان پھیرتے ھوے میری کی ناف کے نیچے تک آگیا مہری بلکل مدہوش ھو کر ہممممم اففففففف مممممم سسسسییییی کر رھی تھی تھی اور میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنساے ھوے کبھی بالوں کو مٹھی میں بھرتی تو کبھی میرے سر میں مساج کرنے کے انداز میں پھیرنے لگ جاتی کچھ دیر ایسے ھی میں کبھی ناف کو چومتا چاٹتا تو کبھی ناف کے اوپر تک چلا جاتا مہرے کے پیٹ کا کوئی حصہ ایسا نہ بچا ہوگا جو میں نے نھی چوما چاٹا جسکا ثبوت اسکے سارے پیٹ کا میری تھوک سے گیلا ھونا تھا میں پھر اٹھا اور میں نے جلدی سے اپنا نالا کھولا اور لن باہر نکالا اور مہری کی شلوار جو پہلے ھی کافی اتری ھوئی تھی میں اسے پکڑ کر اور نیچے کرتے ھوے اتار دیا مہری کی انکھیں بند تھی اس نے ابھی تک میرے لن کو نھی دیکھا تھا ورنہ ابھی لات مار کر مجھے بیڈ سے نیچے پھینک دیتی خیر میں نےمہری کی شلوار بھی اتار دی میں مہری کی دونوں ٹانگوں کے بیچھ گُھٹنوں کے بل بیٹھا ھوا تھا میرے سامنے مہری کی بالوں سے پاک نرم پھدی. تھی جس کے ہونٹ بھی پنک تھے اور پھدی کی رنگت اتنی سفید تھی کہ میں نے پہلے کبھی ایسی پھدی خواب میں بھی نھی دیکھی تھی میں نے منہ پھدی کے قریب کر کے پھدی کو سونگھا تو پھدی سے منی کی دھیمی دھیمی خوشبو میرے ناک کو چھوتی ھوئی میرے دماغ میں چلی گئی اور میں اس خوشبو میں مذید مدھوش ھوتا چلا گیا میں نے زبان باہر نکالی اور پھدی کے ہونٹوں کے درمیان گھسا کر پھدی کے ہونٹوں کو کھولا اور پھدی کی ہڈی پر زبان کی نوک سے دباو ڈال دیا مہری پھدی کو سک کرنے سے پہلے کی میری ساری کاروائی سے بے خبر تھی جیسے ھی پھدی پر میری زبان لگی مہری نے چیخ ماری اور بیڈ سے دوفٹ اچھل کر میرے سر کو پکڑ کر مجھے پیچھے دھکا دے دیا اور ساتھ ھی ٹانگو کو سکیڑ کر پیچھے ہٹ کر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھتے ھوے بولی وٹ اس دس یاسر تم اتنا گر سکتے ھو آئی شیم یو میں نے کہا مہری مجھے تمہارے جسم نے پاگل کر دیا ھے پلیز مجھے نہ ترساو بس ایک بار پیار کرنے دو پلیززززززز مہری نے زور زور سے انکار میں سر ہلاتے ھوے کہا پلیزززز ڈونٹ ٹچ می یاسرررررر یہ کیسا پیار ھے کیا تم اسکو پیار کہتے ھو کس جاہل نے اس گندی حرکت کو پیار کا نام دیا یہ پیار نھی ہوس ھے اگر تمہیں مجھ سے پیار نھی بس ہوس پوری کرنی ھے تو لو یاسر ہوس کے پجاری بنو اور اپنی ہوس کو پوری کرلو اور ساتھ ھی مہری ٹانگیں چوڑی کر کے پھدی کو میرے سامنے کر کے لیٹ گئی اور بولی یاسر میں تمہیں نھی روکوں گی میرا جسم بھی تمہاری ملکیت ھے اور میری روح بھی تم پہلے مرد ھو جس نے مجھے ٹچ کیا ھے اور میرے اتنے قریب آے ھو تمہارا جو دل کرے میرے ساتھ کرتے رہنا مگر اس کے بعد میرے اور تمہارے درمیان پیار نام کا شبت نھی رھے گا اگر رھے گی تو بس ہوسسسسسسس،،،،،، مہری نے ٹانگیں میرے کندھوں پر رکھ دیں اور بولی کم ان لیٹس گو میں اسکی باتیں سن کر ہکا بکا آنکھیں پھاڑے سکتے کے عالم میں لن اسکی پھدی کے پاس کر کے بیٹھا اسے دیکھی جارھا تھا مہری نے ٹانگوں سے میرے کندھے کو ہلایا اور مجھے دوبارا ہوش آئی تو میں نے اسکی دونوں ٹانگوں کو. پکڑا اور؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟..؟
  15. 2 points
    ۔۔میں سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو ایک ضعیف العمر بابا دھوتی بنین پہنے آنکھوں پر ہاتھ رکھے غور سے میری طرف دیکھتا ھوا کیاری میں چھڑی ٹکا ٹکا کر چلا آرھا تھا بابے کی شاید نظر کمزور تھی اس لیے وہ بڑے غور سے دیکھ رھا تھا میں نے جھٹکے سے لن باہر کھینچا اور فوزیہ بھی جمپ مار کے بیٹھ گئی اور کھڑے ھوتے ھو ے گبھراے ھوے پیچھے دیکھنے لگ گئی میں نے کہا آنٹی بھاگگگگگگ اور فوزیہ نے جلدی سے کچھ کپڑے جتنے ھاتھ لگے پکڑے اور ننگی باہر نہر کی طرف بھاگی میں نے بھی اپنے کپڑے پکڑے اور جو فوزیہ کے رہ گئے تھے وہ پکڑے اور اس کے پیچھے ننگا ھی بھاگ کھڑا ھوا یہ شکر تھا کہ بابے کی پہچان میں ہم دونوں ھی نھی آے مکئی سے باہر نکلتے ھوے ہم آگے پیچھے نہر پر ننگے ھی چڑھ گئے اور میں نے تو جاتے ھی نہر میں چھلانگ لگادی اور فوزیہ جلدی جلدی سے شلوار پہننے لگی اور پھر جلدی سے قمیض پہن کر کنارے پر بیٹھ کر کپڑے دھونے میں مصروف ھوگئی فوزیہ کا رنگ اب بھی پیلا پڑا ھوا تھا اور پاوں کے بل بیٹھی کی ٹانگیں کانپ رھی تھی میں نہر کے اندر سے ھوتا ھوا دوسری طرف پہنچ گیا اور کنارے کو پکڑ کر پانی میں ھی کھڑا ہوکر فوزیہ کی طرف چل دیا فوزیہ کی نظر مکئی کی ھی طرف تھی میں نے فوزیہ کو اشارہ کیا کے میرے کپڑے ادھر پھینک دے فوزیہ کی اب بھی سانس اکھڑے ھوے تھے بابا ابھی تک مکئی کے اندر ھی تھا نہر کی طرف باہر نھی نکلا تھا فوزیہ نے میرے گیلے کپڑے اکھٹے کیے اور مروڑ کر رول بنا کر زور سے میری طرف پھینک دیے میں نے کپڑے کیچ کیے اور کپڑوں کو کھول کر دیکھنے لگ گیا میرے سارے کپڑے مٹی سے بھر چکے تھے اور جگہ جگہ کیچڑ لگا ھوا تھا میں نے پہلے شلوار پکڑی اور اسکو پانی سے دھویا اور پھر ادھر ادھر دیکھ کر تسلی کی کہ کوئی ھے تو نھی اور گھاس کو پکڑ کر نہر سے باہر نکلا اور جلدی سے شلوار پہن کر نالا باندھا اور پھر قمیض کو دھویا اور اسکو سوکھنے کے لیے وہیں گھاس پر ڈال دیا بابا پتہ نھی کدھر گُم ھوگیا تھا شاید وہ ادھر سے ھی واپس چلا گیا تھا فوزیہ کی بھی حالت قدرے سنبھل گئی تھی فوزیہ نے مجھے آواز دی کے آجاو ادھر اب بابا نھی نکلا میں نے قمیض اٹھائی اور اسے بازو اوپر کر کے پکڑ کر نہر میں اتر گیا اور ایسے ھی چلتا ھوا دوسرے کنارے پر فوزیہ کے پاس آگیا اور فوزیہ سے بولا شکر اے بچ گئے تو فوزیہ میری طرف گھورتے ھوے بولی بچ گئے دے بچے تیری کالیاں تے ضداں نے اج مروا دینا سی شکر کر کے او نمبڑاں دا بڈھا ملازم سی جے کوئی ھو ھوندا نہ تے فیر پجیا وی نئی سی جانا میں نے کہا کش نئی ھوگیا بچ گئیں آں تو فوزیہ نے میرا ھاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھتے ھوے کہا اے ویکھ میرا دل کیویں پھڑکن دیا اے واقعی فوزیہ کا دل تیز تیز دھڑک رھا تھا مجھے پھر شرارت سوجھی میں نے فوزیہ کا مما دبا دیا فوزیہ نے میرے سر پر چپت مارتے ھوے کہا کہ ہالے رجیا نئی تو میں نے کہا ایسے گرم سیکسی مال سے کس دل بھرتا ھے تو فوزیہ غصہ کے انداز میں بولی بتاوں تجھے کھسماں مینوں پیلے ای ٹُرن جوگا نئی چھڈیا میرا اندر ھلا کے رکھ دتا ای میں تے تینوں بچہ سمجھدی سی پر توں تے پورا افلاطون نکلیا ایں میں نے ہنستے ھوے کہا آپکو دیکھ کر بابے جوان ھوجاتے ہیں میں تو پھر ابھی جوان ھو رھا ھوں تو فوزیہ نے منہ پر ھاتھ رکھا اور ایک ھاتھ اپنے کانوں کو لگاتی بولی توبہ توبہ توبہ میرے کولوں کوئی پُچھے کہ اے بچہ اے کہ کی شئے اے میں نے کہا تو بتاو میں کیا شئے ھوں تو فوزیہ بولی چل ھن گلاں چھڈ عظمی نسرین آن والیاں نے تے جلدی نال اپنے کپڑے سکا لے کچھ دیر بعد میں نہر سے نکلا اور اپنی قمیض کو سکھانے کے لیے گھاس پر ڈال دیا تو فوزیہ میری طرف ایک چادر پھینکتے ھوے بولی اے چادر بن لے تے شلوار وی سکنے پا دے میں نے چادر پکڑی اور شلوار اتار کر چادر باندھ لی اور شلوار کو بھی سوکھنے ڈال دیا اور فوزیہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا تو کبھی دھوے ھوے کپڑوں کو سوکھنے ڈال دیتا ایسے کچھ دیر بعد عظمی اور نسرین بھی آگئی اور مجھے چادر میں دیکھ کر میرا مزاق اڑانے لگ گئی کچھ دیر ایسے ھی ہم ہنسی مزاق کرتے رھے اور پھر کپڑے سمیٹے اور گھر کی طرف چلدیے۔۔ ۔۔اگلے دن میں دکان پر پہنچا اور باہر کی صفائی وغیرہ کر کے بیٹھ گیا کچھ ھی دیر گزری تھی کہ ایک نقاب پوش سفید یونیفارم میں لڑکی میری طرف بڑے غور سے دیکھتی ھوئی چلی آرھی تھی میں بھی بڑے غور سے اسے دیکھ رھا تھا کہ آنکھیں اور جسامت جانی پہچانی لگ رھی ھے کہ اتنے میں وہ میرے قریب آکر میرے سامنے کھڑی ھوگئی اور میرے سامنے ھاتھ کر کے بڑی شوخ اور چنچل سی اپنی مترنم آواز میں بولی السلام وعلیکم میں ایک دم گبھرا کر اٹھ کے کھڑا ھوگیا مجھے ہکا بکا پریشان دیکھتے ھوے بولی یاسر ادھر بیٹھے کیا کررھے ھو تو میں فورن اسکی آواز سے پہچان گیا کہ یہ تو مہرالنسا ھے تو میں نے بڑی گرمجوشی سے اسکے ھاتھ کو تھام لیا اور اس سے مصافحہ کرتے ھوے بولا مہری تم ادھر کیسے تو وہ بولی پہلے تم بتاو کہ تم ادھر کیا کررھے ھو تو میں نے اسے یاددھانی کرواتے ھوے دکان کے شٹر کی طرف اشارہ کرتے ھوے کہا کہ یہ ھی تو دکان ھے جس پر میں کام کرتا ھوں تو مہری بولی او آئی سی گڈ دراصل آج اسد مجھ سے پہلے ھی تیار ھوکر نکل گیا تھا شاید اس نے کہیں جانا تھا اس لیے میں آج پیدل ھی کالج کے لیے نکل آئی ۔۔ میں نے کہا کالج تو کافی دور ھے تم اکیلی کیسے جاو گی تو مہری بولی کوئی بات نھی میں اکثر اکیلی ھی چلی جاتی ھوں نو برابلم میں نے کہا نھی نھی ایسے کیسے اکیلی جاو گی چلو میں تمہیں چھوڑ کر آتا ھوں تو مہری کے لاکھ انکار پر بھی میں اسے ساتھ لے کر کالج کی طرف چل پڑا کچھ آگے چل کر مہری نے ایک مارکیٹ کی طرف اشارہ کیا کہ اس مارکیٹ میں مما کا بوتیک ھے تو میں نے مارکیٹ کی طرف دیکھا جو ابھی تک ساری ھی بند تھی اور میں. ہمممم کر کے مہری کے ساتھ آگے چل پڑا بازار سے نکل کر ہم گلی میں داخل ھوگئے تو میں نے مہری کو کہا کہ سوری مہری میں اس دن کے لیے بہت شرمندہ ہوں مجھے ایسا تمہارے ساتھ نھی کرنا چاھیے تھا تو مہری نے ایک دم میری طرف چونک کر دیکھا اور کہنے لگی اٹ از اوکے یار جو ہوا بھول جاو اس میں ہم دونوں برابر کے شریک تھے اسلیے یہ سوری شوری کرنے کی ضرورت نھی میں مہری کے اس بے باک لہجے پر حیران رھ گیا کہ کیسے اتنی بڑی بات کو ہوا میں اڑا دیا خیر اسکی بات سن کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا تو میں نے مہری سے کہا مہری ایک بات کہوں اگر برا نہ مانو تو مہری میری طرف بڑی گہری نظر ڈالتے ھوے بولی بولو میں نے کہا مہری تم بہت اچھی ھو تو مہری ہنستے ہوے بولی لو بتاو بھلا اس میں برا ماننے والی کون سی بات ھے میں نے کہا نھی میرے کہنے کا مطلب ھے کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ھو مہری چلتی چلتی ایکدم رک گئی اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی او ہیلو خیر تو ہے نہ میں نے شرمندہ سا ھوکر سر نیچے کرلیا مہری بولی کیا ھوا چپ کیوں ھوگئے میں نے کہا سوری میں اپنی اوقات بھول گیا تھا مہری بولی نونسینس دوبارا ایسی بات کی تو تمہارا منہ توڑ دوں گی اوقات کا کچھ لگتا میں نے کہا تم ناراض جو ہوگئی تھی میں سمجھا شاید میں غریب ھوں اس لیے میں تمہارے قابل نھی ھوں مہری بولی کیا مطلب قابل نھی ھوں میں سمجھی نھی کھل کر بات کرو کیا کہنا چاھتے ھو میں نے کہا تم نے پھر ناراض ھو جانا ھے مہری بولی اب تم نے نہ بتایا نہ تو پھر میں نے تم سے کبھی بات نھی کرنی ۔۔ میں نے کہا مہری تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو ہر وقت تمہارے بارے میں ھی سوچتا رہتا ھوں مگر جب تمہارے اور اپنے سٹیٹس کے بارے میں سوچتا ھوں تو مجھے اپنی غریبی پر غصہ آتا ھے مہری بولی پہلے تو یہ امیری غریبی والا رونا میرے سامنے مت روو اگر بات کرنی ھے تو چند الفاظ میں بات کو کہہ کر ختم کرو۔۔ میں نے کہا مہری میں تم کو پسند کرتا ہوں اور تم سے دوستی کرنا چاھتا ہوں مہری ہنستے ھوے بولی لو کر کو گل کھودا پہاڑ نکلا چوھا میں سمجھی پتہ نھی جناب کو کونسی ایسی بات کرنی ھے جسکی ۔وجہ سے جناب کہتے ھوے اتنا گبھرا رھے ہیں ۔ ارے بُدھو پہلے کونسا ہم ایک دوسرے کے دشمن ہین اور تمہارا دماغ کام نھی کرتا کہ ایک لڑکی کیسے کسی انجان لڑکے کے ساتھ یوں باتیں کرتے ھوے جاسکتی ھے کیا،، مجھے اپنے آپ پر غصہ آنے لگ گیا کہ واقعی میں بُدھو ھی ھوں، میں نے خوش ہوکر کہا /واقعی ہم دوست ہیں، مہری ہنستے ھوے بولی افکورس میں نے خوشی سے جمپ مارا اور دونوں ھاتھوں کو ھوا میں کر کے مکے بنا کر کہا یسسسسسسسس مہری میری اس حرکت پر ہنسس ہنسس کر دھری ھوتی گئی اور میری طرف ھاتھ سے اشاری کرتے ھوے بولی کوئی حال نھی تمہارا۔۔ میں نے مہری کا ہاتھ پکڑ لیا مہری نے جلدی سے مجھ سے ہاتھ چُھڑوایا اور بولی پاگل ہوگئے ھو کیا ابھی اتنی بھی دوستی نھی بڑھی کے تم میرا سرعام ہاتھ پکڑ کر چلنے لگو میں شرمندہ سا ھوکر رھ گیا میں نے ست کھجاتے ھوے آہستہ سے کہا جب دوست اتنا خوبصورت ھو تو نہ زمانے کا ڈر نہ گھر والوں کا ڈر مہری نے شاید میری بات سن لی تھی وہ ایکدم بولی کیا کہا دوبارا کہنا میں نے کہا کچھ نھی مہری بولی تم باز آجاو کچھ زیادہ ھی اوور ایکٹ کر رھے ھو میں نے کہا ایسا تو کچھ نھی کچھ دیر بعد میں نے مہری سے پوچھا مہری پھر کب ملو گی تو مہری نے شرارت بھری نظر سے میری طرف دیکھتے ھو کہا کیوں مل کہ کیا کرنا ھے میں نے کہا کچھ نھی بس تم سے باتیں کر کے اچھا لگتا ھے مہری بولی اچھااااا جیییی میں نے بھی اسکی نقل اتارتے ھوے کہا ھااااں جییییی مہری بولی جب مرضی آجاو گھر تمہیں کس نے روکا ھے میں نے کہا کہ گھر میں تو اسد کے بغیر نھی آسکتا اور ویسے بھی اسد کیا سوچے گا مہری بولی کیوں پہلے اسد کے سامنے مجھ سے بات نھی کرتے تھے میں نے کہا اسد کے سامنے جپھی تو ۔نھی ڈال سکتا نہ مہری ایک دم شرمندہ سی ھوگئی اور شرما کر بولی چل شوخا میں نے پھر کہا بتاو نہ یار مہری بولی مجھے کیا پتہ تم آجاو جب مرضی میں نے جنجھلا کر پھر پوچھا یار میں اکیلے مین ملنا چاھتا ہوں مہری پھر گہری نظر میں میری طرف دیکھتے ھوے بولی خیر ھے اکیلے مل کر کیا کرنے کا پروگرام ھے میں نے کہا یار تمہیں روس کر کے کھانا ھے مہری یہ سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور ہنستے ھوے بولی سٹوپٹ روس نھی ھوتا روسٹ ھوتا ھے کچھ پڑھ لیتے تو انگلش کی بےعزتی نہ کرتے میں پھر شرمندہ سا ہوکر بولا جو بھی ھے یار بتاو نہ تو مہری بولی شام کو چار سے سات بجے تک میں اکیلی ھی ھوتی ھوں یاسر اکیڈمی چلا جاتا ھے اگر اس وقت آسکتے ھو تو آجانا میں نے کہا پکی بات ھے نہ کوئی ٹینشن تو نھی بنے گی تو مہری بولی نو ٹینشن یار کہہ دیا نہ میں نے کہا چھٹی کتنے بجے ھوتی ھے تو مہری بولی ایک بجے میں نے کہا چھٹی کے وقت لینے آوں تمہیں مہری بولی نو تھینکس اسد لے جاے گا اس نے مجھے کیا تھا کی میں لینے آجاوں گا اتنی دیر میں کالج آگیا اور میں نے مہری کو باے بات کیا اور واپس دکان کی طرف چل دیا
  16. 2 points
  17. 2 points
    مختصر لفظوں میں کہنا چاہوں گا؛ جسٹ کلاسک
  18. 2 points
    ..۔اپڈیٹ،، ۔ ۔میں روزانہ سکول ٹائم پر ھی گھر سے نکلتا اور عظمی نسرین اور صدف کو ساتھ لے کر انکو سکول چھوڑتا اور خود دکان پر چلا جاتا انکل سجاد اچھے انسان تھے میرے ساتھ انکا اخلاق بھی اچھا اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ ایک تو وہ ہماری گلی کے تھے دوسرا انکی وائف آنٹی رضیہ کا میری امی سے کافی اچھا تعلق تھا انکل نے مجھے کئی دفعہ کہا کہ تم میرے ساتھ موٹر سائیکل پر چلے جایا کرو مگر مجھے عظمی اور صدف کا قرب حاصل تھا میں کیسے انکی قربت سے دور ہو سکتا تھا اس لیے میں انکو ٹال مٹول کردیتا ایک بات سے وہ بھی خوش تھے کہ میں پیدل بھی ان سے پہلے دکان پر پہنچ جاتا تھا اور انکے آنے سے پہلے دکان کے آگے سے صفائی وغیرہ کر کے بیٹھا ھوتا تھا انکل کی دکان میں دو ملازم اور بھی تھے اور انکی دکان بھی اچھی چلتی تھی ملازم دکان کھلنے کے بعد آتے تھے اس لیے میں انکے آنے سے پہلے ھی دکان کی اندر سے بھی صفائی کر لیتا اور الماریوں میں لگے کپڑوں کو جھاڑن سے جھاڑ لیتا جس کی وجہ سے میں چند ھی دنوں میں انکل کی آنکھ کا تارا بن گیا دکان میں ذیادہ ورائٹی لیڈیز کی ھی تھی جس میں موسم کے لحاظ سے ہر طرح کے کپڑے میں ورائٹی موجود ھوتی زیادہ کام فینسی سوٹ اور بوتیک کے سوٹوں کا تھا جو شادی بیاہ میں استعمال ھوتے تھے دکان کے آخر میں بلکل سامنے ایک بڑا سا شیشے کا ریک تھا جس میں بوتیک کے سوٹ ٹانگے ہوتے تھے اور ریک کے ساتھ ھی ایک چھوٹا سا دروازہ ٹرائی روم کا تھا جس میں آنٹیاں اور پوپٹ بچیاں سوٹ پہن کر اپنی فٹنگ چیک کرتی تھی باقی دکان میں پھٹے نما کاونٹر تھے جن پر ہم بیٹھ کر کسٹمر کو کپڑے پسند کرواتے اور کسٹمر کے بیٹھنے کے لیے پوشش کیے ھوے بینچ پڑے تھے جن پر آنٹیاں اور گرما گرما بچیاں اپنی پتلی موٹی گول مٹول باہر کو نکلی یا نارمل تشریف رکھ کر بیٹھ کر اپنی پسند کی ورائٹی دیکھانے کی فرمائش کرتیں اور کچھ ایسی بھی ھوتیں جو بار بار ہاتھ لمبا کر کے انگلی کے اشارے سے اپنی پسند کا سوٹ بتاتی کے وہ دیکھائیں تو بے ساخط دھیان انکے تنے ھوے مموں پر چلا جاتا یاں جب اٹھ کر جاتی تو پیچھے سے انکی گانڈ میں پھنسی قمیض کو دیکھنے کا مزہ ھی الگ ھوتا پہلے تو میں کچھ دن دکان پر شرماتا رھا مگر میری یہ شرم صرف جینٹری کی آنٹیوں اور ممی ڈیڈی بچیوں کو دیکھ کر ہوتی اور میرا حوصلہ بھی نہ ھوتا کہ ان سے پوچھ ھی سکوں کہ آپ کو کس طرح کی ورائٹی چاھیے باقی جو دیہات کے تھکی ہوئی مائیاں ھوتی انکو میں دیہاتی انداز میں تھوڑا بہت پوچھ لیتا تھا پہلے پہل تو ملازموں نے مجھے چاے لانے بوتل لانے روٹی لانے پر ھی لگاے رکھا مگر آہستہ آہستہ وہ دن بھی آگئے جب میں کسٹمر کو ڈیل کرنے لگ گیا بلکہ ملازموں سے زیادہ سیل میری ھوتی انکل اب مجھ پر بہت اعتماد کرنے لگ گئے تھے وہ اکثر لاہور جاتے تو دکان کی چابیاں مجھے دے دیتے اور میں بڑی ذمہ داری اور ایمانداری سے سارے دن کی سیل لکھتا اور انکو ایک ایک روپے کا حساب دیتا تھا جس سے وہ مذید مجھ پر اعتماد کرنے لگ جاتے دوستو میں جب بھی آنٹی فوزیہ کے گھر جاتا تو آنٹی مجھے روز چھیڑتی کے میرا شزادہ جوان ھوگیا ھے اور میری ٹھوڑی کو پکڑ کر کہتی واہ اب تو داڑھی مونچھیں بھی نکل رھی ہیں اور کبھی کہتی کہ منڈا کاروباری ھوگیا ھے اب تو اسکی ٹوریں ھی بدل گئی ہیں .میں ہنستا رہتا اور آنٹی کو بھی چھیڑ دیتا کہ انٹی آپ بھی تو ابھی تک جوان ھو انکل آپ کے سامنے بوڑھے لگتے ہیں تو آنٹی جوتا اٹھاتے ھوے مجھے مارنے کی ایکٹنگ کرتی اور کہتی ٹھہر جا ابھی تجھے بتاتی ھوں شہر جا کر خراب ھوگیا ھے اب میں کیا بتاتا کہ خراب تو آپ کی بیٹی نے کیا ھے آنٹی اب بھی میرے ساتھ ویسے ھی رہتی جیسے تین سال پہلے تھی میں ایسے ھی آنٹی کے ساتھ چپکا رہتا اور آنٹی نے بھی کبھی برا محسوس نھی کیا تھا وہ اب بھی میرے سامنے بغیر دوپٹے کے ھی رہتی اور میں انکی بڑی بڑی چھاتیوں کو کن اکھیوں سے دیکھتا رہتا دوستو جمعہ کو دکان سے چھٹی ہوتی تھی میں چھٹی والے دن ذیادہ وقت آنٹی کے ھی ساتھ گزارتا تھا انکل کبھی گھر ھوتے کبھی اپنی تھوڑی سے ٹھیکے پر لی ھوئی زمین پر ھوتے ایک دفعہ جمعہ کا دن تھا میں صبح صبح ھی آنٹی کے گھر گیا تو آنٹی گھر میں اکیلی تھی میں نے عظمی نسرین کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ وہ ٹیویشن گئی ہیں میں نے حیرانگی سے پوچھا آج تو چھٹی ھے پھر وہ کیوں گئی ہیں اور اتنی صبح صبح تو آنٹی نے بتایا انکے پیپر سر پر ہیں اور پیپر بھی بورڈ کے ہیں اس لیے انکو میڈم نگہت کے پاس ٹیویشن رکھوا دیا ھے میڈم نگہت کافی عمر رسیدہ خاتون تھی جو شہر گورمنٹ سکول میں پڑھاتی تھی میں نے ہمممم کہا اور آنٹی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گیا آنٹی کے بال گیلے تھے جس سے صاف لگ رھا تھا کہ آنٹی فوزیہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ھی نہائی ہیں انہوں نے ہلکے سکن کلر کا لان کا باریک سوٹ پہنا ھوا تھا نیچے شمیض بھی نھی پہنی ھوئی تھی جس کی وجہ سے انکا کالے رنگ کا برا صاف نظر آرھا تھا اور قمیض بھی کئی جگہ سے گیلی تھی جس کی وجہ سے انکا گورا جسم کپڑوں سے نمایاں نظر آرھا تھا جس کو دیکھ کر میرے لن نے انگڑائی لینا شروع کردی .۔۔،، آنٹی فوزیہ نے بال کُھلے چھوڑے ھوے تھے اور صحن میں چارپائی پر بیٹھی ہوئی تھی میں انکے ساتھ جُڑ کر بیٹھ گیا ہم دونوں کی ٹانگیں چارپائی سے لٹکی ہوئی تھی میری اور آنٹی کی ٹانگ آپس میں جڑی ہوئی تھی میں نے اپنا بازو آنٹی کے پیچھے سے گزار کر انکی دوسری طرف کندھے سے ذرہ نیچے بازو پر رکھتے ھوے کہا آنٹی آج خیر ھے صبح صبح ھی تیار شیار ھو رھی ہیں کہیں جانا تو نھی تو آنٹی ہنستے ھوے بولی بےشرم انسان ضرور تو نھی کہ کہیں جانا ھو تو ھی تیار ھوا جاتا ھے اور ویسے بھی میں نے کونسا سرخی پاوڈر لگایا ھے یا لال جوڑا پہنا ہے جو تم ایسے کہہ رھے ھو میں نے ایک لمبی سی آہ بھرتے ھوے کہا آنٹی جی آپکو سرخی پاوڈر لگانے کی کیا ضرورت ھے آپ تو ایسے ھی بس نہا لو تو جوان لڑکیوں کو پیچھے چھوڑ جاتی ھو تو آنٹی نے میرے پیٹ میں کہنی مارتے ھوے کہا شرم کرو بےشرم میں تمہاری آنٹی ھوں اور تم اپنی آنٹی پر ھی لائن مار رھے ھو آ لینے دو تمہارے انکل کو بتاتی ھوں انکو کہ یہ شہری بابو آپک کی بیگم کو سیٹ کرنے میں لگا ھوا ھے تو میں نے ہنستے ھوے کہا آنٹی جی آپ چیز ھی ایسی ھو اس میں میرا کیا قصور یہ کہتے ھی میں اٹھ کر صحن میں دوڑ پڑا انٹی ہنستے ھوے بولی ٹھہر تجھے بتاتی ہوں بے شرما اور آنٹی مجھے پکڑنے کے لیے میرے پیچھے بھاگی میں آگے آگے بھاگ رھا تھا اور آنٹی میرے پیچھے پیچھے میں نے صحن کا ایک چکر لگایا اور بیری کے درخت کے چاروں طرف گھومنے لگ گیا آنٹی میری پیچھے پیچھے تھی میں نے بیری کے گرد دو تین چکر لگاے اور کمرے کی طرف بھاگ گیا آنٹی بھی میرے پیچھے پیچھے کمرے میں آگئی میں چارپائی کے پاس جاکر کھڑا ھوگیا آنٹی کو بھی سانس چڑھا ھوا تھا انہوں نے ہانپتے ھوے میرے دونوں بازوں کو پکڑا اور مجھے پیچھے چارپائی پر دھکا دیتے ھوے میرے اوپر جھک گئیں آنٹی کے پاوں زمین پر تھے اور میرے بازوں کو پکڑے ہوے میرے اوپر جھکی ھوئی تھی میرے دونوں گھُٹنے آنٹی کے پٹوں کے ساتھ لگے ھوے تھے اور آنٹی کے بڑے بڑے ممے میرے منہ سے اوپر مجھے گھورے جارہے تھے آنٹی ہانپتی ھوئی مجھے کہنے لگی ہُن پچ پُتر کِتھے پَجیں گاں کیڑی ماں کو نس کے چلا سی میں ڈرنے کے انداز میں اپنے بازوں چُڑانے کی کوشش کر رھا تھا اور آنٹی سے مصنوعی معافیاں مانگتے ھوے کہہ رھا تھا آنٹی ہُن نئی کیندا معاف کردو ہُن نئی کیندا آنٹی پھر بولی توں باز نئی آنا انج اور آنٹی میرے گُدُ گُدی کرنے لگ گئی اور ساتھ کہتی رھی ہن میرے تے لین ماریں گا دس ہن لین ماریں گا میں ہنس ہنس کر دُھرا ہوتے جا رھا تھا اور آنٹی سے معافیاں مانگی جارھا تھا کہ اب نھی کہتا پلیز چھوڑ دو میرا ہنس ہنس کر بُرا حال ھوگیا تھا میری آنکھوں سے پانی نکلنے لگ گیا تھا انٹی بھی میری حالت سے محفوظ ھورھی تھی مجھ سے جب گُد ُگدی برداشت نہ ہوئی تو میں نے آنٹی کی کمر کو زور سے پکڑا اور جمپ مار کر آنٹی کو بھی ساتھ لیتا ھوا کھڑا ھوگیا اب آنٹی بلکل میرے ساتھ جُڑی کھڑی تھی انکے ممے میرے سینے کے ساتھ لگے ھوے تھے مگر آنٹی پھر بھی میرے گُد گُدی کرے جارھی تھی میں پھر کبھی ایک سائڈ کو جُھکتا کبھی دوسری سائڈ کو جُھکتا مجھ جب بلکل ھی برداشت نہ ھوا تو میں ایکدم سے گھوما اور آنٹی کے پیچھے آگیا میرے دونوں بازو پہلے ھی آنٹی کی کمر کے گرد تھے اس لیے میں تھوڑا جھک کر انکے ایک بازو کے نیچے سے اپنا سر نکال کر انکے پیچھے آگیا اب آنٹی کی نرم گانڈ میرے لن کے نشانے پر تھی اور میرے دونوں ھاتھ آنٹی کے پیٹ پر تھے آنٹی نے اب اپنے ہاتھ پیچھے لیجا کر میری بغلوں کے تھوڑا نیچے گُد گُد ی کرنے کی کوشش کی مگر میں تھوڑا سا پیچھے ھوگیا جس سے میرے لن اور آنٹی کی گانڈ کا فاصلہ بڑھ گیا میں نے جلدی سے آنٹی کے پیٹ پر ھی انگلیوں سے گُد گُدی کرنا شروع کردی آنٹی کو ایک دم جھٹکا لگا اور آنٹی نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے اور آگے کو جُھکی جس سے انکی نرم گانڈ میرے لن کے ساتھ جُڑ گئی آنٹی نے اپنے دونوں ھاتھوں سے میرے ھاتھ پکڑے ھوے تھے اور زور لگا کر میرے ھاتھ پیٹ سے الگ کرنے کی کوشش کررھی تھی ادھر میرے لن کو پتہ. نھی کیا سوجھی لن ساب نے اپنی ہی ٹرائیاں مارنی شروع کردی اور ایکدم کھڑا ھوکر آنٹی کی گانڈ کی دراڑ میں ٹھونگے مارنے لگ گیا آنٹی بلکل آگے کو جھکی میرے ھاتھ اپنے پیٹ سے ہٹانے کی کوشش کررھی تھی اور ہنسی جارھی تھی اور ساتھ ساتھ کہی جارھی رھی تھی نہ کرو ھھھھھھ نہ کرو چھڈ مینوں بتمیز ھھھھھھھھ میں بولا اب پتہ لگا نہ تو انٹی بولی اچھا ہن نئی کردی چھڈ دے آنٹی کو میرے لن کی سختی محسوس ھوگئی تھی مگر آنٹی ایسے کر رھی تھی جیسے اسکو پتہ ھی نھی ,اور میں بھی ایسے ھی ریکٹ کر رھا تھا جیسے مزاق مزاق میں ھی سب کچھ ھورھا ھو آنٹی نے اچانک میرے ھاتھوں کو جھٹک کر اپنے پیٹ سے الگ کیا اور جھکے ھوے ھی آگے کو بھاگنے لگی تو میں نے بے دھیانی سے پھر آنٹی کو پکڑنا چاھا تو میرے دونوں ھاتھوں میں آنٹی کے بڑے بڑے نرم ممے آگئے اور بےدھیانی میں ھی مموں کو پکڑتے ھی دبا دیا تو آنٹی کے منہ سے سییییییییی نکلا اور ساتھ ھی آنٹی بولی .بتمیزززز میں نے جلدی سے انٹی کے مموں کو دبا کر چھوڑ دیا اور آنٹی سے الگ ھوگیا آنٹی ایکدم سیدھی ھوئی اور چارپائی پر بیٹھ گئی اور دونوں ھاتھوں پر ماتھا رکھ کر. لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی میں ویسے ھی آنٹی کے سامنے بُت بنے کھڑا آنٹی کو دیکھے جارھا تھا مجھے یہ بھی احساس نھی تھا کہ نیچے لن ساب شلوار میں تمبو بناے بھی آنٹی کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رھے ہیں کچھ دیر بعد آنٹی نے منہ اوپر کیا اور میری طرف دیکھتے ھوے کہا یاسر تم بہت بتمیز ھوگئے ھو میرا کیا حال کردیا ھے میں نے کہا سوری آنٹی آنٹی نے جیسے ھی اپنی نظر نیچے کی تو لن ساب نے بھی آنٹی کو آنکھ مار دی تمبو کو دیکھ کر آنٹی کی انکھیں کھلی کی کھلی رھ گئی آنٹی سکتے کی عالم میں تمبو کے اندر لن کا اندازہ لگانے کی کوشش میں ٹِکٹکی باندھے لن کو دیکھی جا رھی تھی کچھ دیر ایسے ھی آنٹی گم سم لن کو دیکھے جارھی تھی کہ اچانک آنٹی نے ایک ھاتھ منہ پر رکھا اور دوسرا ہاتھ آگے کر کے لن کو پکڑا اور پھر ایکدم چھوڑ کر ہاتھ پیچھے کو جھٹکا جیسے کرنٹ پڑا ھو اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی اے کی اےےےے یاسسرررررر دے بچے اینوں کی کیتا اییی تو میں چپ ھی کھڑا رھا آنٹی کچھ دیر ایسے ھی کبھی میرے لن کو دیکھتی تو کبھی میرے منہ کی طرف دیکھتی میں نے حوصلہ کر کے پوچھ ھی لیا کیا ھوا آنٹی جی تو آنٹی بولی میں تو تمہیں ابھی تک بچہ ھی سمجھتی تھی مگر تم تو آنٹی خاموش ھوگی میں آنٹی کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا تو آنٹی کھسک کر مجھ سے دور ھوگئی اور بولی یاسررررر تم نے اسے کچھ کیا ھے میں نے کہا نھی آنٹی جی تو آنٹی بولی ہو ھی نھی سکتا ہرگز نھی تو میں نے کہا آنٹی جی بتاو تو سہی ھوا کیا ھے تو آنٹی بولی اتنا بڑا تو تمہارے انکل کا بھی نھی ھے مگر تم نے یہ کیسے کر لیا میری تو سمجھ سے باہر ھے میں نے ناسمجھی کے انداز میں کہا کسکو کیا کر لیا آنٹی جی میں آپ کی بات سمجھا نھی تو آنٹی ابھی تک ششوپن کا شکار تھی ان سے بات بھی سہی طرح نھی ھو رھی تھی آنٹی بولی کچھ نھی تم جاو میں نے کہا آنٹی بتائیں ھوا کیا ھے تو انٹی بولی کچھ نھی بس تم جاو تمہارے انکل آنے والے ہیں میں آنٹی کی بات سن کر حیران و پریشان ھوگیا کہ آنٹی کو اچانک ھوا کیا ھے پہلے انکل کونسا نھی آتے یا میں انکل کے سامنے نھی آتا میں تو انکل کے سامنے ھی آنٹی سے چمٹا رھتا تھا میں نے حیران ھوتے ھوے کہا آنٹی جی کیا مطلب انکل کے آنے سے مجھے کیا ھے تو آنٹی بولی میں نے کہا نہ کہ جاو بحث کیوں کررھے ھو میں روہانسی آواز میں بولا آنٹی جی میں جاوں کیوں کہ آنٹی نے پہلی بار مجھ سے اتنی بےرخی کا مظاہرہ کیا تھا میں سچی میں رونے والا ھوگیا تھا میں اٹھ کر کھڑا ھوا اور آنٹی کے سامنے انکی طرف منہ کر کے کھڑا ھوا تو میں نے دیکھا آنٹی کا چہرہ پسینے سے شرابور ھے اور انٹی اپنی قمیض کے پلو سے منہ صاف کر رھی تھی میں نے انٹی کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور آنٹی سے پوچھا آنٹی جی کیا ھوا، میری آواز پہلے ھی گلوگیر تھی تو آنٹی نے اپنی پلکوں کو اوپر کر کے میرے چہرے کو دیکھتے ھوے کہا کچھ نھی تو میں نے آنٹی کے ماتھے کو صاف کرتے ھوے کہا کہ آنٹی جی بتاو نہ کیا ھوا آپکی طبعیت تو سہی ھے. میں دوائی لا دوں تو آنٹی بولی یاسر مجھے کچھ نھی ھوا تم خدا کے لیے چلے جاو مجھے کچھ دیر اکیلا رہنا ھے آنٹی نے جب یہ الفاظ کہے جو سیدھے میرے دل دماغ پر کسی چُھری کی طرح لگے کیوں کہ میں دل سے صاف تھا آنٹی کے جسم کو میں دیکھتا ضرور تھا مگر کبھی ان کے بارے میں سیکس کا زہن میں نھی لایا تھا یہ جو کچھ بھی ھوا تھا بس اچانک ھی ھوا تھا اور اس میں ساری غلطی پین چود لن کی ھی تھی نہ گانڈو آنٹی کو چھیڑتا نہ انٹی ایسے سختی سے پیش آتی میں قدموں کو گھسیٹتا ھوا دروازے کی طرف چلا جارھا تھا میں نے کمرے کے دروازے کے پاس جاکر پھر مڑ کر دیکھا کہ شاید اب آنٹی مجھے آواز دے مگر آنٹی سر نیچے کئے ھوے ہلتے پیروں کو دیکھ رھی تھی اور کسی گہری سوچ میں گُم تھی میری انکھوں سے آنسو نکل آے اور میں آنسووں کو صاف کرتے ھوے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں آیا اور بیرونی دروازے کی طرف تیز تیز قدموں سے چلتا ھوا باہر گلی میں اگیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا .گھر آکر میں سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور چھت والا پنکھا فُل سپیڈ میں چلا کر چارپائی پر لیٹ کر انٹی کے بارے میں سوچنے لگ گیا سوچتے سوچتے میں کب سویا مجھے نھی پتہ چلا جب میری آنکھ کُھلی تو شام ھوچکی تھی اور میں حیران تھا کہ سارا دن میں سویا ھی رھا میں اٹھ کر بیٹھا ھی تھا کہ آپی کمرے میں داخل ہوئی اور بولی کُھل گئی آنکھ نواب زادے کی خیر تھی سارا دن سو کر ھی گزارا نہ کھانے کی فکر نہ پینے کی تو میں نے کہا جا دفعہ ھو کی میرا سر کھان لگ گئی ایں دوستو بہن بھائی کا لڑکپن میں رشتہ ایسا ھوتا ھے کہ سب سے بڑے دشمن بھی اور سب سے ذیادہ دوست بھی اور سب سے ذیادہ ہمدرد بھی بہنیں پرایا گھر ھوتی ہیں جب انکی شادی ھوجاتی ھے تو پھر انکی کمی کا احساس ھوتا ھے ۔پہلے تو ہر بات بات پر لڑنا جھگڑنا ہوتا ھے مگر شادی کے بعد وہ ھی بہن ایک مہمان بن جاتی ھے میں کچھ تلخ باتیں یہاں بیان کرنے لگا ہوں جن بھائیوں کو برا لگے تو وہ بُرا منانے سے پہلے اس حقیقت اور اپنی غیرت کو سامنے رکھتے ھوے ضرور ایک بار سوچیں،،، ۔۔۔ میں نے اس فورم یا دیگر فورم پر انسسٹ سٹوری کے ٹائٹل دیکھے ہیں اور شروع شروع میں چند ایک سٹوری کو ریڈ بھی کیا تھا جب مجھے انسسٹ لفظ کے مفہوم کا بھی نھی پتہ تھا اس لیے چند سٹوری کو پڑھ لیا مگر ان سٹوری کو پڑھ کر میں لکھنے والے کو بھی گالیاں دیتا اور اس سٹوری کو ایپلیشیڈ کرنے والوں کو بھی اور سوچتا کہ یار کیا ھے کس طرف لوگ جارھے ہیں کیا ان میں غیرت نام کی چیز ختم ھوگئی ھے یا پھر یہ معاشرے کو ایسی طرف لے کر جارھے ھیں کہ اگر ان سب میں یہ سٹوری پڑھ پڑھ کر ریالٹی آگئی اور ایسی سٹوری کے نوعمر ریڈرز اسکو حقیقت کارنگ دینے کی کوشش کرنے لگ پڑے تو کس بہن کو اپنے بھائی پر ناز ھوگا کون بہن اپنے بھائی کو اپنی عزت کا رکھوالا سمجھے گی کون بہن اپنے ھی گھر میں اپنی عزت کو محفوظ رکھ پاے گی ارے ظالمو تمہاری بہن کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے تو تمہاری غیرت کا یہ عالم ہونا چاہیے کہ تم اس آنکھ کو اکھاڑ کر باہر پھینک دو جو ہاتھ تمہاری بہن کی طرف اٹھے اس ھاتھ کو کاٹ دو تم اپنی بہن کے محافظ ہو اسکی عزت کے رکھوالے تمہاری بہنیں اپنی سہیلیوں کو فخر سے بتاتی ہیں کہ میرے اتنے بھائی ہیں ارے بدبختو یہ نہ ھو کہ جیسے پہلی امتوں پر عزاب نازل ھوا کرتا تھا. تم بھی اس عزاب میں مبتلا ھوجاو اس لیے اپنے اندر غیرت کا مادہ جگاو تمہاری ایسی. سٹوری سے نوجوان نسل پر کیا اثر پڑ رھا ھے اسکا خمیازہ بھی تمہیں ھی بھگتنا پڑے گا ماں بہن بیٹی یہ وہ محرم اور پاکیزہ رشتےہیں جنکو تم پر ناز ھوتا ھے فخر ھوتا ھے جن کی عزتیں ھی تمہاری وجہ سے محفوظ ہیں اگر تم ھی انکی عزتوں کو لوٹنے لگ گئے تو پھر اس دنیا سے انسان نام کی چیز ھی نھی بچے گی بچے گا تو بس جانور،،،،، ۔۔۔ دوستو معذرت میں کچھ ذیادہ ھی بول گیا مگر یہ غبار بہت دنوں سے میرے دل میں تھا .......... ...آپی میری جھاڑ سن کر بُڑ بُر کرتی باہر چلی گئی میں اٹھا اور باہر صحن میں آکر بیٹھ گیا ۔۔ مجھے ابھی بیٹھے کچھ دیر ھی ھوئی تھی کے آنٹی فوزیہ گھر میں داخل ہوئیں میں دروازے کے بلکل سامنے چارپائی پر بیٹھا ھوا تھا میرا منہ دروازے کی ھی طرف تھا میں نے جیسے ہی آنٹی کو اندر داخل ہوتے دیکھا تو میری اور آنٹی کی نظریں ملیں تو آنٹی مسکرا دی اور میں غصہ سے اٹھ کر دوبارا اپنے کمرے میں چلا گیا میں اندر جاکر چارپائی پر بیٹھ گیا کچھ دیر بعد آنٹی فوزیہ اندر داخل ہوئیں اور آتے ھی میرا کان پکڑ کر زور سے مروڑ دیا اور بولیں بڑی آکڑ اے نواب زادے وچ میں کچھ بولا تو نہ مگر میری آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر گرنے لگے اور میں بے آواز رونے لگ گیا آنٹی نے جب میرے آنسو دیکھے تو وہ گبھرا کر میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئیں اور میرا چہرہ اپنی طرف کیا اور میری گال پر اور ماتھے پر بوسا لیتے ھوے بولی ھے چلا نہ ھوے تے ایویں بچیاں ونگوں رون لگیا اے تو میں نے آواز کے ساتھ رونا شروع کردیا تو انٹی نے میرا سر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور میری کمر تھپ تھپا کر مجھے چُپ کروانے لگ گئی میری رونے کی آواز سن کر امی بھی دوڑی کمرے میں آگئی ۔ اور پوچھنے لگ گئی کی ہویا اے سب خیر تے ہے نہ تو آنٹی امی سے بولی منڈا کیندا میرا ویا کردو میں وڈا ھوگیاں آں انٹی کی بات سن کر میں روتا ھوا ہنسنے لگ گیا تو امی بولی لے کردو ویا بُنڈ تون دا ول نئی آیا تے کردو ایسا ویا تو میں امی کی بات سن کر چڑ گیا اور غصے سے اٹھنے لگا تو آنٹی نے مجھے پکڑ کر بٹھا لیا انٹی امی کو بولنے لگ گئی کہ آپاں کُج تے خیال کریا کر ہن اے بچہ نئی ریا وڈا ھوگیا اے تو امی بولی اے جنا مرضی وڈا ھوجاے میرے واسطے تے بچہ ای رے گا کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد آنٹی بولی یاسر پتر کل توں کم تے نئی جانا میں نے امی اور آنٹی کی طرف دیکھتے ھوے حیران ھوکر پوچھا کیوں نھی جانا تو آنٹی بولی آج میں نے کپڑے دھونے نہر پر جانا تھا مگر عظمی اور نسرین ٹویشن سے ھی لیٹ واپس آئی کل انہوں نے سکول چلے جانا ھے پھر اگلے جمعہ پر بات چلی جاے گی تو تم کل میرے ساتھ نہر پر چلے جانا پھر عظمی اور نسرین بھی وہیں ھی آجائیں گی میں نے کہا میں کیسے چھٹی کر سکتا ھوں سیزن ھے دکان پر رش ھوتا ھے تو امی میری بات کاٹتے ھوے بولی بیجا ایڈا توں وڈا کاماں ریندہ نئی اک دن کم تے نئی جائیں گا تے کیڑا قیامت آن لگی اے ۔ تو میں امی کی بات سن کر چُپ ھوگیا امی یہ کہہ کر باہر چلی گئی تو آنٹی اٹھی اور پھر بولی اب میں بے فکر ھوجاوں نہ تو میں نے پھر بہانہ بناتے ھوے کہا کہ وہ عظمی اور نسرین سکول کس کے ساتھ جائیں گی تو انٹی بولی تم انکی فکر مت کرو وہ چلی جائیں گی بلکہ تم سکول ٹائم پر ھی آجانا وہ بھی نہر تک ہمارے ساتھ ھی چلی جائیں گی اور پھر آگے تو شہر آجاتا ھے ادھر کوئی مسئلہ نھی تو میں چپ کرگیا تو آنٹی پھر میرا سر ہلاتے ھوے بولی دس فیر آئیں گا کہ نئی تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور آنٹی میرے سر پر ہلکی سی ہاتھ سے چپت لگاتے ھوے بولی آجائیں چھیتی مینوں تیرے نال اک ہور وی کم اے اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا انٹی گانڈ ہلاتی ھوئی کمرے سے نکل کر چلی گئی اور میں بیٹھا سوچتا ھی رھا کہ کیڑا ایسا کم اے جیڑا نہر تے جا کہ ہونا اے،،، ۔۔۔
  19. 2 points
    .. Update شام کو ٹیوشن جانے کے لیے عظمی کے گھر گیا تو آنٹی فوزیہ نے بتایا کو دونوں بہنیں بخار سے تپ رھی ہیں پتا نھی ان دونوں کو ایک ساتھ ھی بخار چڑھنا تھا میں یہ سن کر کمرے کی طرف چل دیا اور آنٹی بھی میرے پیچھے پیچھے کمرے میں آگئی نسرین تو سو رھی تھی مگر عظمی چارپائی پر ٹانگیں سیدھی کیے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی تھی میں جا کر عظمی کے پاس بیٹھ گیا عظمی نے مجھے گھور کر دیکھا میں نے شرارت سے کہا تینوں وی بہانہ لب گیا اے ٹیویشن تو چُھٹی کرن دا تو عظمی غصے دے بولی ایویں پونکی نہ جا میں بخار نہ مرن دئی آں تینوں سواے بکواس کرن دے کُش نئی آندا۔۔۔ تو آنٹی بولی عظمی ایسے کیوں بکواس کر رھی ھو بھائی ھے تمہارا شرم کرو کیسے اسکے ساتھ بات کررھی ھو تو عظمی بولی اپنے اس لاڈلے کو کہیں کہ میرے ساتھ کوئی فضول بات نہ کیا کرے اور یہ کہتے ھی وہ سیدھی لیٹ گئی اور چادر جو اسکی ٹانگوں پر تھی کھینچ کر منہ پر لے لی آنٹی بولی پتر دفعہ کر ایس کُتی نوں چل توں آجا بار جا کے بیٹھنے آں میں نے کہا نھی آنٹی جی میں تو ٹویشن جانے لگا تھا سوچا نسرین کا پتہ کرتا چلو تو آنٹی بولی ٹھیک ھے چل جا شاباش میرا پتر دل لا کے پڑیا کر اور میں سر ہلاتا ھوا گھر سے نکل کر صدف کے گھر کی طرف چل پڑا گھر میں داخل ھوا تو صدف کرسی پر بیٹھی پانچ چھ چھوٹے چھوٹے چھ سات سال کے بچوں کو پڑھانے میں مصروف تھی اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اور پھر مجھے اکیلا دیکھ کر میرے پیچھے بھی نظر دوڑائی اور پھر مجھے نظر انداز کر کے منہ بچوں کی طرف کر لیا میں تو یہ سوچ رھا تھا کہ صدف مجھے اکیلے کو دیکھ کر خوش ھوگی مگر اس سالی نے تو مجھے گھاس بھی نہ ڈالی میں نے جاکر سلام کیا اور ذرہ ذوررررر دے کر باججججججی کہا تو صدف نے چونک کر میری طرف دیکھا اور گھورنے لگ گئی اور پھر ادھر ادھر دیکھا کہ آنٹی تو نھی اور پھر میری طرف ھاتھ کا پنجہ کرتے ھوے آہستہ سے بولی لکھ دی لس لانت تیری شکل تے میں نے بھی چاروں طرف دیکھا کہ کوئی ھے تو نھی تو میں نے اسکے قریب بیٹھتے ھوے کہا کیا ھوا باجججججججیییییی تو صدف کا رنگ جو پہلے ھی تھوڑا سا گندمی تھا مزید گہرا ھوتا گیا اور پھر آہستہ سے بولی بککککواسسسسس بند کر تو میں نیچے سر کر کے ہنسنے لگ گیا اور اپنا بیگ کھول کر کتاب باہر نکالی اور گود میں رکھ کر بیٹھ گیا کچھ دیر بعد صدف نے مجھ سے پوچھا عظمی نسرین کیوں نھی آئیں تو میں نے کہا چھوٹے بچوں کے انداز میں معصوم سا، منہ بنا کے کہا باججججیییی ۔۔۔ وہ دونوں بیمار ہیں اور انکی امی نے کہا تھا کہ اپنی باجججیییی کو بتا دینا کہ وہ آج چھٹی کریں گی تو صدف نے پیر آگے کیا اور جوتے کی نوک میرے گھٹنے پر مارتے ھوے بولی تیرییی بکواس بند ھونی اے کہ نئی میں نے پھر اسی انداز میں سارے جہاں کی معصومیت اپنے چہر ے پر لاتے ھوے کہا باججیییی آپ نے خود ھی تو پوچھا تھا تو صدف نے ہاتھ میں پکڑی ھوئی کتاب میرے منہ پر ماری جو میں نے ھاتھ آگے کر کے منہ کو بچا لیا اور غصے سے اٹھی اور مجھے منہ ھی منہ میں گالیاں دیتی پیر پٹختی اندر کمرے کی طرف چلی گئی میں ہنستا ھوا اسے جاتا دیکھتا رھا ۔۔۔ میں نے اسکے اگنور کرنے کا بدلہ باجی کہہ کر لے لیا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد صدف پھر کمرے سے نکلی اور برآمدے میں ھی کھڑی ھوکر بولی امی آج پکانا کچھ نھی ھے تو اسکی امی کی دوسرے کمرے سے آواز آئی کہ پُتر کسے بچے نوں پیج کے ہانڈی واسطے کُش منگوا لے میرے کولوں نئی جایا جانا،،، تو صدف بولی امی بچوں کو کیا پتہ کہ کون سی چیز سہی ھے اور کون سے خراب آپ خود چلی جاو سیمے کی دکان بھی دوسرے چوک میں ھے اور بچے اتنی دور کیسے جائیں گے انہوں نے راستے میں ھی کھلینے لگ جانا ھے تو بس پک گئی ہانڈی پھر،،، تو آنٹی پھر بولی پُتر یاسر آگیا اے تے اونوں پیج دے او کیڑا بچہ اے اونوں کہ اپنے چاچے دا سائکل لے جاے، صدف جنجھلا کر بولی اس نے پیپر کی تیاری کرنی ھے پہلے ھی اسکو سبق یاد نھی آیا بھی لیٹ ھے صبح اس نے پیپر دینا ھے،،، ۔۔۔ میں صدف کی بات سن کر ہکا بکا رھ گیا کہ میرا کیڑا پیپر اے کل تے کیڑا سبق یاد نئی مینوں تو آنٹی آہستہ آہستہ چلتی کمرے سے باہر نکلی اور بولی اک تے میرے گوڈے کم نئی کردے اُتوں اینی دور ٹُر کے جانا پیندا اے، میں دوپیرے تینوں کیا وی سی کے ریڑھی والے کولوں سبزی لے لے پر توں میری مَنیں تے فیر ناں، تو صدف بولی اچھا کل سے لے لیا کروں گی آج تو لے آئیں پھر رات کو ابو بولیں گے کہ کچھ پکایا نھی ۔۔۔ تو آنٹی بولی لا دے پیسے تو صدف نے ہاتھ میں پکڑے پیسے آنٹی کو پکڑا دیے اور آنٹی پاوں رینگتی باہر کو چلی گئی مجھے صدف پر غصہ بہت آیا کہ کیسے وہ جھوٹ بول رھی تھی اور بوڑھی ماں کو اس حال میں اتنی دور بھیج رھی .تھی،،، ۔ آنٹی کے جانے کے بعد صدف بیرونی دروازے کی طرف گئی اور باہر گلی میں جھانک کر دروازہ بند کر کے اندر سے کنڈی لگا دی اور آکر ہمارے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی تھوڑی دیر بعد صدف نے مجھے اونچی آواز میں کہا یاسر کمرے میں جاو اور جاکر پیٹی کے اوپر کھڑے ہوکر چھت سے جالے اتار دو اور نیچے کچھ سامان پڑا ھے اسکو بھی اوپر رکھ دینا میں اسے دیکھ کر مسکرایا اور اسے پھر چھیڑتے ھوے اونچی آواز میں کہا اچھا باجییییی اور جلدی سے اٹھ کر کمرے کی طرف چلدیا میں کمرے کی طرف جاتے سوچ رھا تھا کہ سالی کا کیا دماغ ھے کیسی فلم چلائی ھے اس نے ماں کو بھی بیوقوف بنا دیا پھر سوچا کہ تم آم کھاو بس گُھٹلیاں مت گنو میں کمرے میں جاکر چارپائی پر جاکر بیٹھ گیا مجھے سب سمجھ آگئی تھی کہ کہاں سے جالا اتارنا ھے اور کون سا سامان اٹھا کر اوپر رکھنا ھے کچھ ھی دیر بعد دروازے سے صدف اندر داخل ہوئی اور دروازہ بند کرکے کُنڈی لگا دی اور دونوں ہاتھ آگے کر کے دوڑی میری طرف آئی میں سمجھا شاید جپھی ڈالنے کے لیے ایسے ہاتھ کھولے باہیں میری طرف کر کے آرھی ھی ابھی میں سوچ ھی رھا تھا کہ سالی نے آتے ھی دونوں ھاتھ میرے گلے پر رکھے اور گلا دباتے ھوے مجھے پیچھے دھکیل کر چارپائی پر لٹا کر خود میرے اوپر آگئی میں اس کے اچانک اس حملے سے بےخبر تھا اس لیے اسکے تھوڑے سے زور سے میں پیچھے گر گیا اور صدف غصے سے بولی میں تیرا گلآ کُٹ دینا اے اسکا سارا وزن میرے گلے پر ھی تھا تو میرا تو سانس رکنے والا ھوگیا تھا میری آواز نھی نکل رھی تھی اور کچھ دیر ایسے ھی میرا گلا دبا رہتا تو واقعی میرا سانس بند ہو جانا تھا میں نے دونوں ھاتھوں سے اسکی کلائیاں پکڑی اور پورے زور سے اسے جھٹکا دیا اور اپنا گلا اسکے ہاتھوں سے آزاد کروا لیا اور زور زور سے کھانسنے لگ گیا صدف میرے پیٹ کے اوپر چڑھ کر دونوں ٹانگیں میرے اردگرد کیے بیٹھی ھوئی تھی صدف نے جب میری یہ حالت دیکھی تو وہ بھی گبھرا گئی اور میرا منہ پکڑا کر میری گالوں پر تھپکیاں دیتے ھوے بولی یاسر یاسر کیا ھوا ذیادہ گلا دبایا گیا میں نے غصے سے اسکا ھاتھ جھٹک دیا میری آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ھوگیا تھا صدف کا منہ بھی رونے والا بن گیا تھا میں نے اسے اپنے اوپر سے دھکا دیتے ھوے کہا اترو نیچے چھوڑو مجھے تو صدف نے میرے دونوں ھاتھ پکڑ کر چارپائی کے ساتھ لگا دیے اور پورا زور لگا کر دبا دیے جیسے زبردستی میری عزت لوٹنے لگی ھو اور صدف بولی تم نے مجھے غصہ کیوں دلایا میں نے کہا مجھے نھی تم سے بات کرنی چھوڑو مجھے اگر میں چاھتا تو ایک ھی جھٹکے سے اس کو چارپائی سے نیچے پھینک سکتا تھا مگر صدف کی پھدی مارنے کا موقع ھاتھ سے نکل جانا تھا اس لیے میں ڈرامے کر رھا تھا تو صدف بولی نھی چھوڑنا کر لو جو کرنا ھے ،، ایک تو مجھے تنگ کرتے ھو الٹا مجھ پر رعب جھاڑتے ھو میں نے کہا میں نے کیا تنگ کیا ھے تو صدف بولی تمہیں شرم نھی آتی مجھے باجی کہتے تو میں نے کہا اب کیا سب کے سامنے تمہیں صدف ڈارلنگ کہوں تو صدف بولی میں نے ایسا کب کہا ھے مگر تم جس انداز سے مجھے چڑا رھے تھے میں سب سمجھتی ھوں ۔۔ تو میں نے کہا اب اتر بھی جاو نیچے کیوں بچے کی جان لینی ھے تو صدف بولی آہو بچہ تے دیکھو اس بچے نے مجھے ایک ھفتہ چارپائی سے نھی اٹھنے دیا تھےآج تم سے بچو سارے حساب کتاب چکتا کرنے ہیں تیار ہو جاو تو میں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ھوے اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ھوے کہا عالی جا معاف کردو آئیندہ غلطی نھی ھوگی میرا منہ دیکھ کر صدف کی ہنسی نکل گئی اور میری گال پر چُٹکی کاٹ کر بولی تجھے کچا کھا جاوں گی میں نے کہا عالی جا آپ کے قبضہ میں ہوں کچا کھا لو یا پکا کہ کھالو جیسے آپ کو بہتر لگے تو صدگ ہنستے ھوے بولی شکل دیکھ پیلے اپنی آیا وڈا مغل اعظم دی اولاد تو میں نے صدف کی کو اوپر سے نیچے اتارنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نھی ھو رھی تھی میں نے اسکی بغلوں میں گد گدی کرنی شروع کردی تو صدف ہنستے ھوے دُھری ھوتی میرے اوپر لیٹنے لگ گئی اور میں نے اسے جپھی ڈال کر چارپائی پر سیدھا کر کے لٹا دیا اور اسکے ساتھ لیٹ کر اسکے ہونٹوں پر پاریاں کرنے لگ گیا اور ایک ھاتھ سے اسکے ممے کو پکڑ کر دبانے لگ گیا صدف بھی میرے ہونٹوں کو چوم رھی تھی میں نے اسکی گال کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر چوسنا شروع کردیا اور اسکی قمیض اوپر کرنے لگ گیا جس میں صدف نے بھی گانڈ اٹھا کر میری مدد کی اور اسکی قمیض اسکے بڑے سے گول مٹول مموں سے اوپر کردی اور بریزیر کے اوپر سے ھی اسکے مموں پر مُٹھیاں بھرنے لگ گیا صدف کے منہ سے سسکاریاں نکل رھی تھی میں کبھی اسکی گالوں کو چومتا کبھی چوستا کبھی ہلکی ہلکی کاٹی کر لیتا جس سے صدف مذید مچلنے لگ جاتی میں نے صدف کو الٹا ھونے کا کہا تو صدف الٹی ھوکر لیٹ گئی میں نے پیچھے سے قمیض مزید اونچی کر کے اسکی گردن کے پاس کردی اور اسکی گانڈ کے اوپر چڑھ کر ٹانگیں دونوں طرف کر لیں اسکی کمر بلکل سیدھی تھی میں نے منہ اسکی گردن کے پاس کیا اور زبان نکال کر اسکی گردن پر پھیرنے لگ گیا صدف سے برداشت نہ ھوا تو اس نے سسیییییی کرتے ھو ے چارپائی پر بچھی چادر کو اپنی دونوں مُٹھیوں میں بھر لیا میرا لن بلکل تنا ھوا تھا اور صدف کی موٹی گانڈ میں اسکی شلوار کو اندر لے کر گھس گیا تھا اور صدف زور ذور سے گانڈ کو بھینچ رھی تھی جس سے میں مزے کی وادیوں میں کھوتا جارھا تھا میں نے زبان کی نوک کو گھماتے ھوے اسکے کان کے پیچھے پھیرتا تو صدف کا جسم کانپ جاتا اور وہ مزید گانڈ کو بھیچنے لگ جاتی اور منہ سے لمبی سی سسسکاری لیتی سسسسسسییییی اففففففف اممممممم کی اواز آتی میں بھی لن کو اسکی گانڈ پر دبا رھا تھا اور وہ بھی مزے لے لے کر اپنی گانڈ کو بھینچ کر مجھے مزے دے رھی تھی میں اب تھوڑا سا اوپر ھوا اور اپنی قمیض اوپر کر کر اپنا اگلا حصہ ننگا کیا اور پھر اپنے ننگے جسم کو اسکی ننگی کمر کے ساتھ ملا کر اسکے اوپر لیٹ گیا اور سائڈ سے اسکی گال کو چومتے ھوے گھسے مارنے لگ گیا صدف میرے نیچے مچلی جارھی تھی میں کچھ دیر گھسے مارنے کے بعد اسکے اوپر اٹھا اور اسکے پاوں کی طرف گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکی شلوار کو پکڑ کر نیچے کھینچ کر اسکی پنڈلیوں تک کر دیا اب اسکی موٹی سے گول گانڈ میرے سامنے. تھی میں نے جھک کر اسکی گانڈ کی پھاڑیوں کو چومنے لگ گیا اور ھاتھوں سے اسکی. گانڈ کو پکڑ کر مٹھیوں میں بھینچنے لگ گیا میں نے اسکی گانڈ کو کھولا تو مجھے اسکی گانڈ کے اندر چھوٹی سی موری نظر آئی تو میں نے اسکی موری پر تھوک پھینکا اور انگلی اسکی موری میں گھسانے لگ گیا ابھی تھوڑی سی انگلی اندر گئی تھی کہ صدف جھٹکے سے گھوم کر سیدھی ھوگئی اور مجھے گھور کر بولی بے شرم انسان یہ کیا کر رھے ھو تو میں نے کہا پیار کررھا ھوں تو وہ بولی تمہارا سارا پیار اندر کر کے ھی ھوتا ھے تو میں. نے کہا میرے شونے پیار کا ثبوت اندر کرکے ھی دیا جاتا ھے تو صدف بولی مجھے نھی چاھیے ایسا ثبوت اور یہ کہہ کر وہ سیدھی لیٹ گئی اسکی پھدی میرے سامنے تھی جس پر ہلکے ہلکے بال تھے میں نے پھدی پر ھاتھ پھیرتے ھوے کہا کہ یہ بال کیسے اگ آے اس دن تو نھی تھے ،تو صدف بولی شرم نھی آتی گندی باتیں کرتے ھو ے میں نے اپنی چاروں انگلیاں اسکی ناف کے نیچے رکھی اور انگھوٹھے کو پھدی کے اوپر کر کے انگھوٹے سے پھدی کے دانے کو مسلنے لگ گیا صدف ایک دم اوپر کو اچھلی اور لمبی سی. سسسسکاری بھری اور مٹھیوں کو زور سے بھینچ لیا میں ایک ھاتھ سے صدف کے دانے کو مسلنے لگ گیا اور دوسرے ھاتھ سے اسکے مموں سے بریزیر اوپر کیا اور اسکے گول مٹول مموں کو پکڑ کر دبانے لگ گیا صدف بولی جلدی کرو امی نے آجانا ھے تو میں نے کہا کر تو رھا ہوں تو وہ بولی زیادہ شوخے مت بنو جلدی کرو امی آگئی نہ تو پھر نہ کہنا مجھے میں اسکی بات سمجھتے ھوے جلدی سے آگے کو کھسکا اور اپنے لن کو تھوک سے اچھی طرح گیلا کر نے لگ گیا اور صدف کی پھدی تو پہلے ھی گیلی تھی اسکی پھدی کے بالوں پر پانی چمک رھا تھا میں نے اسکی ٹانگوں کو کھولا اور جیسے ھی لن اسکی پھدی کے لبوں پر رکھ کر دبانے لگا تو صدف نے میرے پیٹ پر ھاتھ. رکھ لیا اور کہنے لگی یاسر پلیز آرام سے کرنا میں نے ہلکا سا اندر پُش کیا تو لن کا ٹوپا اسکی. پھدی میں گُھس گیا صدف نے ہلکی سی سسسسیییی کی اور مجھے کہا ہولی میں نے لن کو آہستہ آہستہ اندر کی طرف دھکیلنا شروع کردیا صدف کافی حد تک لن کو برداشت کر رھی تھی لن پانچ انچ اندر چلا گیا تھا تب صدف نے ادھر ادھر سر مار کر میرے پیٹ پر ہاتھ رکھے مجھے رکنے کا کہا تو میں وہیں رک گیا اور لن کو پیچھے لے آیا اور پھر آہستہ آہستہ اندر کی طرف کرتا گیا صدف نے پھر مجھے روک دیا اور مجھے کہا یاسر بس اتنا ھی کرتے رھو میں لن کو باہر کی طرف آرام آرام سے لے جاتا اور پھر اسی سپیڈ سے اندر کر دیتا کچھ دیر ایسے ھی سلوموشن گھسے مارتا رھا صدف کی پھدی کافی گیلی ھوتی جارھی تھی میں نے جب دیکھا کہ صدف اب انجواے کررھی ھے اور سسسکیاں لے رھی ھے تو میں ہر گھسے کے ساتھ لن مزید آگے کر نا شروع کر دیا یہاں تک کہ میرا لن صدف کی پھدی میں جڑ تک چلا گیا اور صدف نے بھی پورا لن لے کر اوکے کا سگنل اپنی مستی بھری آوازوں سے دے دیا میں اب لن کو پورا باہر کھینچتا صرف ٹوپا ھی اندر رھنے دیتے اور پھر جھٹکے سے لن اندر کردیتا اور صدف ساتھ ھی کہتی ھاےے مرگئی آرام نال میں ایسے ھی کرتا رھا صدف بھی اب میرا ساتھ دی رھی تھی وہ بھی لن اندر جاتے سسکاریاں بھر رھی تھی میں نے اب مسلسل دھکے مارنے شروع کردیے اور گھسوں کی سپیڈ تیز کر دی میں جیسے جیسے گھسہ مارتا صدف کے ممے ویسے ویسے اوپر کو جاتے میرےگھسوں اسکے ہلتے ممے دیکھ کر مجھے اور جوش چڑھتا اور میں مزید گھسا زور کے مارتا صدف بھی ھاےےےےےے مرگئی اففففففف ھاےےےےےے کی اواز نکال میرے مزے کو دوبالا کررھی تھی صدف کی پھدی نے اب میرے لن کو راستہ دے دیا تھا میرا لن فراوانی سے اندر باھر ھو رھا تھا صدف نے میرے چہرے کو اپنے ھاتھوں پکڑ لیا اور میرے ہونٹو ں کو اپنے ہونٹوں لے کر زور زور سے چوسنے لگی اور نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر لن پورا اندر تک لینے کی کوشش کرتی لن اسکی بچے دانی سے ٹکرا رھا تھا کہ اچانک صدف نے اپنے دونوں ٹانگوں کو میری کمر کے گرد لپیٹ لیا اور پیروں کی مدد سے شکنجہ بنا کر میری کمر کو اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا اور گانڈ کو پورا اوپر کر کے میرا لن اندر لے لیاب میں بھی مسلسل گھسے ماری جارھا تھا اسکے ممے میرے سینے میں دبے ھوے تھے اور میرے ہونٹ اسکے ہونٹوں میں تھے کہ اچانک صدف کی ٹانگوں کی گرفت میری کمر کے گرد مزید سخت ھوتی گئی اور اسکی سانسیں اکھڑنا شروع ھوگئی اور اس نے اپنی گانڈ کو زور زور سے اوپر نیچے کرنے لگ گئی پھر ایکدم صدف نے ہلکی سی چیخ ماری آئیییییییی امممممممممم میییییی گگگگئییییییی اور ساتھ ھی صدف نے پورے زور سے گانڈ اٹھا کر پھدی کے اندر میرے لن کو پورا نگل لیا اور اسکی پھدی سے گرم گرم لاوا اگلنا شروع ھوگیا صدف نے میرے سر کے بالوں کو بہت بری طرح دبوچا ھوا تھا اور اسکی ٹانگیں کانپ رھی تھی میں کچھ دیر ایسے ھی رکا رھا پھر صدف نے جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور میری کمر کو بھی اپنی ٹانگوں سے آزاد کردیا میں نے پھر گھسے مارنے شروع کردیے اب اسکی پھدی اور زیادہ گیلی ھوچکی تھی اور لن بھی چِپ چِپ کر رھا تھا اور کمرے میں دھپ دھپ پُچ ُپچ کی آواز گونج رھی تھی کچھ دیر بعد مزے نے شدت پکڑی اور مجھے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ھوئی تو میں جھٹکے تیز کردیے اب میرے جھٹکے اتنے شدید تھے کے چارپائی نے بھی اب چوں چوں ک کر کے احتجاج رکارڈ کروانا شروع کردیا پھر میں نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور لن کو پکڑ کر اسکی پھدی کے اوپر کردیا میرے لن سے منی بارش صدف کی پھدی پر پڑنے لگ گئی اور میں لن کو اسکی پھدی کے اوپر دبا کر صدف کے اوپر لیٹ گیا ابھی میری سانسیں بھی درست نھی ھوئی تھی کہ کمرے کے دروازے پر زور زور سے دستک ہونے لگ گئی ۔ ۔میری تو جان ہلک میں اٹک گئی میں جمپ مار کر چار پائی سے اترا اور صدف نے بھی جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی کہ اچانک باہر سے؟؟؟؟؟؟
  20. 2 points
  21. 2 points
    شام کو میں کھیلنے کے لیے گھر سے نکل کر سیدھا آنٹی فوزیہ کے گھر گیا تو جیسے ھی میں دروازے سے اندر داخل ہوا تو آنٹی فوزیہ دروازے کے بلکل ساتھ ھی لگے ہوے نلکے سے برتن دھو رھی تھی، میں نے آنٹی کو سلام کیا تو آنٹی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور مسکرا کر سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔ آنٹی فوزیہ نے پیلے رنگ کی قمیض اور سفید شلوار پہنی ھوئی تھی اور کُھرے کی بنی پر بیٹھ کر برتن دھونے میں مصروف ھوگئی میں بھی آنٹی کے پاس ھی کھڑا ھوگیا آنٹی پاوں کے بل بیٹھی تھی اس لیے انہوں نے پیچھے سے قمیض اٹھا کر آگے دونوں ٹانگوں میں دی ھوئی تھی کہ قمیض پیچھے سے گیلی نہ ھو اور آنٹی کی گانڈ پاوں کے بل بیٹھنے سے پیچھے کو نکلی ھوئی تھی اور انکی تھوڑی سی کمر بھی ننگی ھورھی تھی میری کمبخت آنکھوں نے کھڑے ھوتے ھی آنٹی کی گانڈ کا اچھے سے ایکسرا کیا میں نے آنٹی سے عظمی لوگوں کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ دونوں کمرے میں پڑھ رھی ہیں میں پہلے تو کمرے کی طرف چلنے لگا مگر آنٹی کے جسم کا نظارا کرنے کے لیے فلحال اپنا ارادہ ملتوی کردیا، اور نلکے کی ہتھی پکڑا کر اوپر نیچے کرتے ھوے آنٹی سے بولا آنٹی میں نلکا گیڑتا ھوں آپ آرام سے برتن دھو لو آنٹی بولی پتر تم جاو اندر میں دھو لوں گی تم ایسے اپنے کپڑے گیلے کرو گے مگر میں نے آنٹی کو کہا کہ کچھ نھی ھوتا اور زور زور سے نلکے کی ہتھی کو گیڑتے ھو آنٹی کے جسم کا معائنہ کرنے لگا آنٹی نے لان کی قمیض پہنی ھوئی تھی اور پیلے رنگ میں سے کالے رنگ کے برا کے سٹرپ صاف نظر آرھے تھے آنٹی جب جھک کر برتن کو مانجھتی تو پیچھے سے اپنی گانڈ کو بھی اوپر نیچے کرتی برتن دھوتے آنٹی کی شلوار ایک سائڈ سے کافی گیلی ھوگئی تھی اور اس میں سے انکا گورا جسم دعوت نظارا دے رھا تھا آنٹی کی گانڈ کی ایک سائڈ صاف نظر آرھی تھی میں چوری چوری نظر گھما کر دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرتا رھا تب تک آنٹی نے سارے برتن دھوکر لوھے کی ٹوکری میں رکھ لیے اور کھڑی ھوکر پیچھے سے گانڈ میں پھنسی شلوار کو نکالا اور قمیض کو درست کیا، تو میں برتنوں کی ٹوکری کو اٹھانے لگا آنٹی بولی پتر رہنے دے میں خود اٹھا لوں گی تیرے سے برتن گر جائیں گے، اور یہ کہہ کر آنٹی میرے سامنے ھی نیچے کو ٹوکری اٹھانے کے لیے جھکی تو آنٹی کے گلے پر میری بے ساختہ نظر پڑی ان کے چٹے چٹے مموں کا نظارا بلکل میرے سامنے تھا کالے بریزئیر میں انکے گورے ممے کیا قیامت لگ رھے تھے اوپر سے پیلا رنگ انپر بہت جچ رھا تھا آنٹی نے برتنوں کی ٹوکری اٹھائی اور سیدھی ھوگئی، میں سکتے کے عالم میں کھڑا ویسے ھی آنٹی کی چھاتی کو دیکھے جارھا تھا آنٹی نے مجھے آواز دی یاسرررر میں ایک دم ہڑبڑا گیا اور آنٹی کی طرف گبھراے ھوے بولا ججججی آنٹی تو آنٹی مسکرا کر بولی کون سے خیالوں میں کھو جاتے ھو میں نے کہا کہیں نھی آنٹی جی تو آنٹی بولی چلو کمرے میں اور آنٹی میرے آگے آگے برتنوں کی ٹوکری کو اٹھاے اپنے پیٹ کے ساتھ لگاے چلی جارھی تھی میں آنٹی کے پیچھے انکی ہلتی ھوئی گانڈ کو گھورتے چلا جارھا تھا آنٹی کمرے میں داخل ھو کر سامنے دیوار پر لگے لکڑی کے پھٹے پر برتن جوڑنے لگ گئی اور میں عظمی اور نسرین کے پاس جا کر کھڑا ھوگیا ،،،،
  22. 2 points
    دوسری طرف ماسٹر جی مزے لے لے کر فرحت کے دونوں مموں کو باری باری چوس رھے تھے ماسٹر جی کبھی مموں کے تنے ھوے نپلوں پر گولائی کے گرد زبان پھیرتے کبھی نپلوں کی سائڈ پر براون دائرے پر زبان پھیرتے اور کبھی ممے کو منہ میں بھر کر ہلکی ہلکی دندیاں کاٹتے اور فرحت اس سے فل انجواے کرتی ھوئی ماسٹر کے بالوں میں انگلیاں پھیر رھی تھی اور منہ چھت کی طرف کیے آنکھیں بند کرکے اففففف اسسسسسس سسییییی اففففف کی آوازیں نکال رھی تھی ماسٹر جی تقریباً دس منٹ تک دودہ کے پیالوں کو منہ لگا کر دودہ ختم کرنے کی کوشش کرتے رھے مگر دودہ کہ پیالے تھے کہ چھت کی طرف منہ اٹھاے ماسٹر جی کا منہ چڑھا رھے تھے ماسٹر جی نے اب فرحت کے تھنوں کو چھوڑا اور مموں کے درمیان لائن میں زبان پھیرتے پھر فرحت کے اوپر اگئے اور زبان کو پیٹ کی طرف لے آے ماسٹر جی کُتے کی طرح زبان کو پیٹ پر پھیر کر پیٹ چاٹ رھے تھے جیسے پیٹ پر شہد لگا ھو ماسٹر جی نے زبان کو فرحت کی ناف کی طرف گھمایا اور لمبی زبان کی نوک سے ناف کے سوراخ کے چاروں طرف پھیرنے لگے جیسے جیسے زبان ناف کے دائرے میں گھومتی فرحت بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگ جاتی ۔ماسٹر جی اب سیدھے ھوکر گُھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور اپنی قمیض اتارنے لگے پھر ماسٹر جی نے فرحت کا نالا کھولا اسی دوران فرحت نے شلوار کو پکڑ لیا مگر ماسٹر جی نے شلوار کو چھڑوا کر شلوار فرحت کے گُھٹنوں تک کی اور پھر باری باری دونوں ٹانگوں سے شلوار نکال کر نیچے پھینک دی ماسٹر جی نے جب فرحت کلین شیو بالوں سے پاک چٹی سفید باہر کو پھولی ھوئی پھدی دیکھی تو ماسٹر جی کے منہ میں پانی آگیا ماسٹر جی نے بنا وقت ضائع کئے اپنی لمبی زبان نکالی اور سیدھی فرحت کی پھدی کے دانے پر رکھ کر کتے کی طرح دانے کو چاٹنے لگ گئے جیسے ھی ماسٹر کی زبان نے پھدی کے دانے کو چھوا تو فرحت تین فٹ چارپائی سے اچھل کر واپس گری اور اس نے ھاےےےےےےےے میں گئی کہ آواز نکالی تو ماسٹر جی نے اپنے دونوں ھاتھوں سے فرحت کے بازو پکڑ کر اسکو چارپائی پر دبا دیا کہ اب یہ دوبارا اوپر نہ اٹھے ماسٹر جی اب زبان کی نوک سے پھدی کے اوپر والے حصہ ھڈی کی جگہ پر کُتے کی طرح زبان کو پھیرنے لگ گئے فرحت کی حالت ایسی تھی جیسے ابھی اسکی جان نکلنے والی ھو اس نے دونوں ٹانگیں چھت کی طرف کھڑی کی ھوئی تھی اور اسکی ٹانگیں کانپ رھی تھی اور ماسٹر جی کی زبان اپنا جادو دیکھانے میں مصروف تھی اِدھر عظمی مسلسل میرا لن دباے جارھی تھی اور میں اسکے ممے دبا رھا تھا مجھے نجانے کیا سوجی میں نے اپنا یک ھاتھ نیچے کیا اور اس سے پہلے کہ عظمی کچھ سمجھتی میں نے اپنا ہاتھ عظمی کی شلوار میں گھسا دیا اور اپنی چاروں انگلیاں عظمی کی چھوٹی اور نرم سی پھدی پر رکھ کر دبانے لگ گیا عظمی کو ایکدم کرنٹ سا لگا اس نے جلدی سے میرا ھاتھ پکڑ لیا مگر میں مسلسل ایسے ھی پھدی کو دباے جارھا تھا عظمی نے میرا لن چھوڑ کر اپنی پھدی کے اوپر رکھے ہوے میرے ھاتھ کے اوپر رکھ دیا تھا میرا لن آزاد ھوتے ھی دوبارا عظمی کی گانڈ میں گھس گیا عظمی کو اب مزا آنے لگ گیا تھا پہلے وہ میرا ھاتھ باہر کو کھینچ رھی تھی پھر میرے ھاتھ کو اپنی پھدی پر دبانے لگ گئی اسکی پھدی پہلے ھی کافی گیلی ھوچکی تھی میری انگلیاں آپس مین چپک رھی تھی میں زور سے تیزی تیزی سے ھاتھ اوپر نیچے کرنے لگ گیا اور پیچھے سے گھسے مارنے لگ گیا اور ایک ھاتھ سے ممے کو دبانے لگ گیا عظمی ایک دم کانپنے لگ گئی اور اس نے اپنی گانڈ کو فل پیچھے میرے لن کے ساتھ جوڑ دیا میرا لن عظمی کی موٹی گانڈ کے دراڑ میں پھنس گیا اور اس نے اپنی گانڈ کو زور سے بھینچ کر میرے لن کو جکڑ لیا اور ساتھ ھی اپنی ٹانگوں کو میرے ھاتھ سمیت جکڑ لیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی مجھے اچانک محسوس ھوا جیسے گرم گرم مادہ میری انگلیوں سے بہتا ھوا عظمی کی ٹانگوں سے نیچے جارھا ھے میں نے غور کیا تو عظمی کی پھدی لِیک کر رھی تھی ادھر ماسٹر جی نے اپنا کام چَک کے رکھا ھوا تھا ماسٹر جی فرحت کی پھدی کو کھویا ملائی سمجھ کر مزے لے لے کر کبھی چوستے کبھی چاٹتے ماسٹر جی پھدی چاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک انگلی کو بجی پھدی کے اندر باہر تیزی سے کر رھے تھے کہ اچانک فرحت کی ٹانگیں اکڑنا شروع ھوگئی اور فرحت کا جسم ایک دم کانپا اور فرحت کی پھدی سے ایک مادہ اور پانی سے ملی جلی پھوار نکلی جو سیدھی ماسٹر جی کے منہ کے اندر اور باھر گری پھر دوسری تیسری ماسٹر جی کا منہ فرحت کی منی اور پانی سے بھر گیا یہ سب دیکھ کر میرا تو دل خراب ھونے لگ گیا اور عظمی جب یہ سب دیکھا تو اس نے ایکدم ہپھھھ کیا اور اس کے منہ سے الٹی نکل کر سیدھی الماری پر گری الٹی کرتے ہوے اس نے کھانسی لی تو اسکی آواز ماسٹر جی اور فرحت نے بھی سن لی ماسٹر جی کو ایکدم کرنٹ لگا اور چھلانگ مار کر چارپائی سے نیچے اترے اور گبھرا کر پردے کی طرف دیکھتے ھوے بولے کون ھے،،،
  23. 2 points
    سب ریڈرز سے مجھے ایک شکایت ھے کہ رائٹر کتنی محنت مشقت اور دماغ کھپا کر اور اپنے سب کام چھوڑ کر آپ سب بھائیوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے سٹوری لکھتا ھے اور آپ سب بھائی صرف سٹوری کو ریڈ کرنے پر ھی اکتفاء کرتے ہیں دوگھنٹوں کی مشقت کر کے لکھی گئی اپڈیٹ پر آپ کے پاس دو سیکنڈ کی مشقت کر کے تعریف کے دو الفاظ لکھنے کا وقت نھی ھوتا میرے خیال سے تبھی اس فورم پر رائٹر اپنی سٹوری کو ادھوری چھوڑ دیتے ہیں میرے بھائیو آپ کی تعریف کے دو الفاظ رائٹر کی دوگھنٹے کی محنت کی مزدوری ھوتے ہیں مختصراً اگر ایسا چلے گا تو پھر سٹوری آگے کیسے چلے گی
  24. 2 points
    کسنگ کرنے کے کچھ دیر بعد نارائن مامی سے کہنے لگا چل ۔۔۔ ۔۔۔ اُٹھ رانڈ ! ۔۔۔اور میرا لوڑا چوس۔۔ نارائن کی بات سن کر مامی ایک لفظ کہے بغیر اپنی جگہ سے اُٹھی اور گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی نارائن کی ٹانگوں کی طرف آ گئی ۔جہاں پر اس کا مست لوڑا اکڑا کھڑا تھا۔۔۔ جیسے ہی مامی نارائن کی ٹانگوں کے قریب پہنچی اسی وقت نارائن نے اپنی دونوں ٹانگوں کو آخری حد تک کھول دیا ۔۔۔جس کی وجہ سے مامی اس کی کھلی ٹانگوں کے بیچ میں آکر بیٹھ گئی۔۔ ۔۔اور نارائن کے لوڑا کو اپنے ہاتھ میں پکڑ ا اور پھر اس پر تھوک کا ایک گولہ سا پھینک کر بولی۔۔ تیرا لوڑا بہت مست ہے رے۔۔۔ تو آگے سے نارائن کہنے لگا۔۔ مست وست چھوڑ ۔۔چوپا لگا۔۔ تو مامی اپنے تھوک کو نارائن کے لن پر ملتے ہوئے بولی ۔۔۔ اسے چوسنے کے لیئے ہی تو ۔۔۔۔تیری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھی ہوں سالے ۔۔۔ ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ نارائن کا لن کوئی اتنا لمبا چوڑا ہر گز نہ تھا بلکہ میرے خیال میں اس کا لنڈ کوئی چھ اینچ کے قریب ہو گا ہاں موٹائی میں تھوڑا زیادہ تھا ۔ ۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس وقت نارائن کا اَن کٹ لوڑا اپنے فل جوبن میں اکڑا کھڑا تھا جبکہ اس کا ٹوپا ان کٹ ہونے کی وجہ سے ایک غلاف ۔۔ جسے اردو میں حشفہ کہتے ہیں میں چھپا ہوا تھا۔۔ ادھر مامی نے بڑے پیار سے ٹوپے پر لگی ایکسٹرا سکن کو پیچھے کی طرف کیا اور پھر ننگے ٹوپے پر زبان پھیرتے ہوئے بولیں ۔۔ تیرا لن بھی کافی ِلیک ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ تو نارائن جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ سالی رانڈ ۔۔ اتنا بھوسڑا چٹوایا ہے ۔۔تو اس بے چارے نے تو ِلیک ہونا ہی تھا۔۔۔ اس پر مامی کہنے لگی ۔۔۔ تم اس لوڑا کو بے چارہ کہہ رہے ہو جو کہ میرے جیسی سیکسی عورت کی بھی چیخیں نکالوا دیتا ہے تو اس پر نارائن ترنت ہی کہنے لگا۔۔۔بےچارہ تو ہے نا ۔۔جو اتنی دیر بعد اسے اس کی باری آئی ہے۔۔۔ نارائن کی بات سن کر مامی نے سر جھکایا اور پہلے تو اس کے ننگے ٹوپے کو چاروں طرف سے چاٹا ۔۔ پھر آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔ اس کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی مامی نے نارائن کے لوڑے کو چوسنا شروع کیا ۔۔۔۔۔ ۔۔اس کے تھوڑی دیر بعد مامی کی طرح نارائن نے بھی اونچی آواز میں ۔۔۔۔ لذت بھری چیخیں مارنا شروع کر دیں ۔۔ نارائن کی چیخیں سن کر مامی نے اس کے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔ سالے آہستہ چیخ !!!!۔۔۔کہیں میرا بھانجھا نہ اُٹھ جائے۔۔۔ مامی کی بات سن کر نارائن نے بھی انہی کی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ میری طرف سے چاہے سارا محلہ اُٹھ جائے لیکن میں چُپ نہیں رہوں گا ۔۔۔ اور ایسے ہی شور مچا کر تیرے چوپے کو انجوائے کروں گا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مامی کے سر کو اپنے لوڑا پر سختی کے ساتھ دبا دیا۔۔۔ مامی نے بھی اپنا سارا منہ کھولا ۔۔۔۔اور پھر نارائن کے لوڑا کو جی بھر کے چوسا۔۔ انہیں ابھی لن چوستے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک نارائن سسکیاں لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ بس کر رانڈ ۔۔۔بس کر۔۔۔ لوڑا چوسنا بند کر۔۔۔تو مامی نے اس کے لوڑے کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور کہنے لگیں ۔۔۔۔ کہ اتنے مزے کا لوڑا نہ چوسوں تو پھر کیا چوسوں ؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو آگے سے نارائن جواب دیتے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ مجھ سے چُدوا ۔۔۔۔۔ نارائن کی بات سنتے ہی مامی نے اس کی طرف دیکھا اور مستی بھرے انداز میں کہنے لگیں ۔۔آج کس سٹائل میں لے گا؟ تو نارائن اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ اپنی تو ایک ہی پسند ہے ڈوگی ۔۔۔۔۔ اس لیئے تو جلدی سے کتیا بن جا ۔۔اس پر فوراً ہی مامی اس کے سامنے گھوڑی بن گئی۔۔اور پھر شرارت سے بولی۔۔ میری گانڈ مارے گا کیا؟ مامی کو گھوڑی بنتے دیکھ کر نارائن بھی سرکتا ہوا مامی کے پیچھے آ گیا اور ان کی شاندار بُنڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ گانڈ بھی مار لو ں گا لیکن اس وقت میرا دل تیری لیس دار پھدی پر آ رہا ہے یہ سن کر مامی نے گردن موڑ کر نارائن کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں۔۔۔ پھدی مارنی ہے تو پھر ۔۔۔ دھکے فُل سپیڈ مارنا ۔۔۔۔ ۔۔ اتنی دیر میں نارائن اپنے ان کٹ ٹوپے پر تھوک لگا چکا تھا ۔۔چنانچہ اس نے اپنے تھوک لگے لوڑے کو ہاتھ میں پکڑ کر مامی کی چوت پر رکھا ۔۔۔۔ اور اسے رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔ اس کی تو فکر نہ کر۔۔۔پھر اس نے مامی کی موٹی گانڈ پر ایک زور دار تھپڑ مارا اور کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔ میں نے پہلے کبھی کمزور دھکا مارا ہے ؟ تو آگے سے مامی جواب دیتے ہوئے بولی ۔۔۔ اسی لیئے تو میں بڑے شوق سے ۔۔۔ تیرے نیچے لیٹتی ہوں۔۔۔کہ سالے تو گھسے بڑے جاندار مارتا ہے مامی کی بات سن کر نارائن نے کوئی جواب دینے کی بجائے۔۔۔۔۔ایک زبددست دھکا لگایا جس کی وجہ سے اس کا لن پھسل کر مامی کی چوت میں غائب ہو گیا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی نارائن نے نان سٹاپ دھکوں کی بارش شروع کر دی۔۔ مامی ٹھیک کہہ رہی تھی واقعہ ہی وہ سالا بہت زبددست قسم کے دھکے مار رہا تھا۔۔۔۔ اور ان گھسوں کی وجہ سے مامی کی لزت بھری چیخوں کے ساتھ ساتھ کمرے کی فضا دھپ دھپ کی زور دار آوازوں سے گونج رہی تھی۔۔۔۔ میں کافی دیر تک وہاں کھڑا ان کی شہوت انگیز فکنگ کا مزہ لیتا رہا ۔۔ لیکن پھر میرا وہاں پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا کیونکہ میرے اندر کی گرمی بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی ۔۔اور میرا لن تن کر آخری حد تک اکڑ چکا تھا اور اب مجھے ۔۔۔ مُٹھ کی شدید حاجت ہو رہی تھی۔۔ اس لیئے میں نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں سے چلا جائے ۔۔لیکن۔۔۔ کمرے میں جانے سے پہلے ۔۔۔ ایک نظر اندر کی طرف جھانک کر دیکھا تو مامی کی دل کش چیخوں کے ساتھ ان کی دھواں دھار چدائی جاری تھی لیکن نارائن کے سٹائل سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے چھوٹنے والا ہے یہ دیکھ کر ۔۔۔۔ میں نے ان کو ان کے حال پر چھوڑا اور بڑے محتاط انداز میں تیز تیز چلتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچ گیا اور اپنی لانگ نیکر ( باکسر) اتار کر سیدھا واش روم میں جا گھسا۔۔۔ ۔ وہاں پہنچ کر یاد آیا کہ گزشتہ روز سے میرا تو شیمپو ہی ختم تھا ۔۔ اور شاہ تم تو جانتے ہی ہو کہ میں شیمپو کے بغیر مُٹھ نہیں مار سکتا ۔۔۔اور اس وقت مجھے مُٹھ مارنے کی حاجت شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔سو میں ننگا ہی مامی کے واش روم کی طرف بھاگا اور وہاں جھانک کر دیکھا تو سامنے ہی مامی کا شیمپو پڑا تھا میں نے جلدی سے اسے اُٹھایا۔۔۔۔ اور وہیں کھڑے کھڑے ۔۔۔پہلے تو اپنا لن پر بہت سا تھوک لگا کر اسے گیلا کیا ۔۔۔۔ اور ۔۔ اسے گیلا کرنے کے بعد ۔۔۔ بہت سا شیمپو اپنے لن پر لگایا ۔۔۔۔ اور کچھ شیمپو اپنی ہتھیلی پر ڈال کر واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔۔۔ اور پھر دروازہ بند کر کے باقی کا شیمپو بھی اپنے لن پر لگا کر۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مُٹھ مارنا شروع ہو گیا۔۔ جیسے جیسے میرا ہاتھ چل رہا تھا ویسے ویسے لن پر شیمپو کی جھاگ بن رہی تھی۔۔۔۔ اور میں مزے کے سمندر میں غرق ہو رہا تھا ۔۔۔ ابھی مجھے مُٹھ مارتے ہوئے ۔۔۔۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی ۔۔۔۔ کہ اچانک میرے کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا۔۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر میں ایک دم سے گھبرا گیا۔۔۔۔اور اسی گھبراہٹ کے عالم میں ۔۔۔۔۔ بے اختیار مُڑ کر دیکھا تو دروازے پر ماموں کھڑے تھے۔۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میری لانگ نیکر فرش پر پڑی تھی اور میں نے اپنے ایک ہاتھ میں لن پکڑا ہوا تھا ۔۔ ماموں کو یوں دروازے میں کھڑے دیکھ کر میرے چہرے کا رنگ اُڑ گیا ۔۔۔۔ میرے اوپر کا سانس اوپر اور ۔۔ نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔میری دونوں ٹانگوں میں جان ختم ہو گئی ۔۔اور ۔۔۔ ٹٹے دل کی طرف چڑھ گئے۔۔۔ ادھر جیسے ہی ماموں نے مجھے اس حال میں دیکھا ۔۔۔تو پہلے تو حیرت کے مارے ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا لیکن پھر اگلے ہی لمحے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  25. 1 point
    intzaar h bht shidat sy bilkul thek mnzar kashi k h ap ny sadaf k seal torny k jb aurat sex k garmi me pagal ho to wo kch prwa nahi krti


×