Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 03/26/2018 in all areas

  1. 2 points

    Version

    3 downloads

    سہیلی کے پاپا از ڈاکٹر فیصل خان تصویری کہانی ۔۔۔کل صفحات 84 پی ڈی ایف فارمیٹ

    $1.00

  2. 1 point
    جب پطرس بخاری سے پوچھا گیا کیا آپ کبھی لاجواب ہوے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ایک بار ہو گیا تھا. " ہوا یوں کہ میری گھڑی خراب ہو گئی. بازار میں گھڑیوں کی دکان نظر آئی میں دکان میں گیا انھیں گھڑی دی کہ یہ ٹھیک کرانی ہے. وہ کہنے لگے ہم تو گھڑیاں ٹھیک ہی نہیں کرتے" میں نے پوچھا تو "آپ کیا کرتے ہیں؟" جواب آیا "جی ہم ختنے کرتے ہیں " پطرس بخاری: " تو پھر یہ گھڑیاں کیوں لٹکائی ہوئی ہیں؟" دکاندار: : تو آپ ہی بتا دیں کہ ہم کیا لٹکائیں؟"
  3. 1 point
  4. 1 point
    حیدرآبادی چوڑیوں کی وہ تصویریں ثانیہ کو اتنی پسند آئیں۔کہ اس نے گروپ کی سب سے شوخ و چنچل لڑکیمناہل کوفرینڈ ریکوسٹ اسی وقت بھیج دی۔جس نے وہ چوڑیوں کی تصویریں اپلوڈ کی تھیں۔ اگلے دن مناہل نے ثانیہ کی فرینڈ ریکوسٹ قبول کی۔تو ثانیہ جو اسی انتظار میں تھی۔اس نے جھٹ سے مناہل سے ان چوڑیوں کے متعلق پوچھا۔جو مناہل کا بھائی اس کے لیئے لایا تھا۔ مناہل شائد اس انداز سے بات کرنے کی عادی نہیں تھی۔لیکن اس نے ثانیہ کو بتا ہی دیا۔یوں دن گذرتے گئے۔مناہل اور ثانیہ اب اکثر گروپ میں یک جان دو قلب کے مانند نظر آتے ان باکس میں بھی ان کی دوستی گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ مناہل کی ہر پوسٹ پر ثانیہاور ثانیہ کی ہر پوسٹ پر مناہلایک دن ہمت کرکے ثانیہ نے مناہل سے ملاقات کا سوچا۔اور مناہل کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا۔چند دن تک تو مناہل آن لائن نہیں آئی۔پھر اچانک سے ایک دن ثانیہ کو مناہل کا میسج موصول ہوا۔سوری ثانیہ میں مناہل نہیں عبدالغفور ہوں مجھے معاف کرنا۔میں آج بھی تمھیں دوست سمجھتا ہوں۔ثانیہ کے دل پر تو جیسے کسی نے بم پھوڑ دیۓ ہوں کافی دیر تک وہ یہ میسج دیکھتی رہی۔اور بالاخر اسے قسمت کا کھیل سمجھا ۔اور نم آنکھوں کے ساتھ ثانیہ نے لیپ ٹاپ بند کردیا۔اور بائیک سٹارٹ کرکے باہر گلی کا رخ کیا۔جہاں اس کے آوارہ دوست اس کا انتظار کررہے تھے۔
  5. 1 point
    وہ ہر صبح اپنی بیگم کو اس کی یونیورسٹی چهوڑنے جاتا تها۔یونیورسٹی کے مین گیٹ پہ پہنچ کے میں گاڑی روکتا اور نیچے اتر کر دوسری طرف کا دروازہ کھولتا ،خوش اسلوبی اور تبسم ہونٹوں پہ بکهیرتے ہاتھ پکڑ کے انہیں نیچے اتارتا،وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھہنستی مسکراتی اندر چلی جاتی اور وہ گهر کی راہ لیتا ، دوپہر میں آتا چاک و چوبند شاہی نوکر کی طرح گاڑی کا دروازہ کھولتا وہ کسی شہزادی کی طرح گاڑی کی فرنٹ سیٹ میں اک ادائے دلبرانہ اور مسکان قاتلانہ کے ساتھ فروکش ہوتی پهر وہ گهر چلے جاتے اگلی صبح پهر .....یہ ان کا روز کا معمول تها.ادهر یونیورسٹی میں ، اس کا چرچا لڑکیوں کے درمیان خوب ہوا جارہا تها.کوئی کہتی "اللہ ہر کسی کو ایسا رومانس اور ٹوٹ کے محبت کرنے والا شوهر دے." تو کسی کے لبوں میں دعائیں ہوتی ."خدایا اس جوڑے کو صدا سکهی اور شاد رکھے " کچھ رشک کی انتہا کو پہنچتی "رب کریم مجهے بهی ایسا ہی چاہنے والا شریک حیات نصیب کر." لیکن سچ میں ان کے درمیان کوئی رومانس تها نہ محبت دراصل گاڑی کا دروازہ خراب تها جو صرف باهر سے کهولنے کی صورت ہی کهلتا تها
  6. 1 point
    ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اپنے ترکی کے دورے کے دوران ارودغان سے پوچھا: ترکی کی ترقی کے پیچھے آخر کیا راز کارفرما ہے؟ ارودغان نے کہا کہ میں اپنی کابینہ میں سمجھ دار اور دانا وزیر لیتا ہوں جو ایمانداری کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ سے بھی کام لیتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب نے پوچھا: آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ کوئی کتنا سمجھ دار اور عقلمند ہے؟ ارودغان نے کہا: میں ان کا امتحان لے لیتا ہوں تو پتہ چل جاتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے پوچھا: کچھ مجھے بھی تو پتہ چلے کیسے لیتے ہیں دانائی کا امتحان؟ اردغان نے مسکراتے ہوئے کہا؛ ابھی بتاتا ہوں۔ ساتھ ہی اپنے وزیراعظم داؤد اوغلو کو آواز دیکر بلایا اور کہا؛ داؤد اگر تیرے ماں باپ کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، تو یہ لڑکا تیرا کیا لگے گا؟ داؤد اوغلو نے بغیر کسی تاخیر کے کہا؛ جناب عالی یہ تو میں خود ہونگا۔ ارودغان نے مسکرا کر ہمارے وزیر عظم کو دیکھا جو کہ کسی سوچ میں گم ہو گئے تھے۔ ہمارے وزیر اعظم نے ہوٹل پہنچ کر اپنے وفد کے ساتھ آئے ہوئے وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی جناب چوہدری عابد شیر کو بلا کر پوچھا:عابد شیر علی، اگر تیرے ماں باپ کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، بتا یہ بچہ تیرا کیا لگے گا۔ چوہدری عابد شیر علی نے بہت سوچ سوچ کر کہا کہ میں اس کا جواب ایک گھنٹے کے بعد دونگا۔ وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی صاحب نے اپنے کمرے میں جا کر چوہدری نثار علی کو فون کیا اور پوچھا؛ چوہدری صاحب اگر آپ کے ماں باپ کے گھر میں ایک بچہ ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، بتاؤ تو بھلا یہ بچہ تمہارا کیا لگے گا؟ چوہدری نثار صاحب نے کہا؛ یہ تو میں خود ہونگا۔ ایک گھنٹے کے بعد وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی صاحب نے وزیر اعظم کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جیسے ہی وزیر اعظم صاحب باہر نکلے تو انہیں اپنی خوشی پر قابو پاتے ہوئے کہا؛ وزیر اعظم صاحب اگر میرے والدین کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے جس کا نا تو کوئی بھائی ہے اور نا ہی کوئی بہن، تو یہ بچہ چوہدری نثار علی ہوگا۔
  7. 1 point
    بیوی: - ایک کھیل کھیلتے ہیں شوہر: - کون سا کھیل ؟؟؟ بیوی: - اگر میں کلرکا نام لوں تو تم لیفٹ دیوار کو ہاتھ لگانا اور پھل فروٹ کانام لوں تو رائٹ دیوار کو ہاتھ لگانا شوہر: - اگر میں جیت گیا تو ؟؟؟ بیوی: - جو هار گیا وہ جیتنے والے کی ہر بات مانے گا اور وہ بھی زندگی بھر شوہر: - یہ کھیل تو میں جيتونگا چلو کھیلتے ہیں بیوی: - تو ٹھیک ہے تیار..... گو (orange)
  8. 1 point
    جج : کیا ثبوت ہے کہ تم گاڑی تیز نہیں چلا رہے تھے ؟ ملزم : جناب میں سسرال جا رہا تھا بیگم کو لینے جج : کیس ختم ۔۔۔رہا کرو اس معصوم کو
  9. 1 point
    شوہر : میں تنگ آگیا ہوں ! تم ہمیشہ میرا گھر، میری کار ، میرا میرا کرتی رہتی ہو۔ کبھی ہمارا بھی کہا کرو ۔ ۔ اب الماری میں کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟؟ بیوی : ہمارا دوپٹا
  10. 1 point
    ایک نوجوان اپنی بیوی کو ڈنڈے سے مار رہا تھا کہ ادھر سے ایک دانا بزرگ کا گزر ہوا۔ یہ ماجرا دیکھ کر نوجوان سے کہا پُتر، ڈنڈے سے تو جانوروں کو مارا کرتے ہیں، عورت کو تو عورت سے مارا جاتا ہے۔ (یعنی عورت پر عورت (اس کی سوکن) لا کر)۔ نوجوان نے بزرگ کے احترام میں ڈنڈا زمین پر رکھ دیا، بات سنی۔ اور کہا: بابا جی، میں آپ کی بات کا مطلب نہیں سمجھ پایا عورت نے بابے سے مخاطب ہو کر کہا: چل اوئے بابا، چل، کیتھے ہور جا کے اپنا لُچ تل، یہ ہم دونوں میاں بیوی میں آپس کا معاملہ ہے۔ پھر زمین سے ڈنڈا اُٹھا کر اپنے خاوند کو دیتے ہوئے بولی: لیجیئے جی؛ آپ مجھے دوبارہ مارنا شروع کیجیئے۔
  11. 1 point
    میرے خیال میں تو بہت منطقی اور درست فیصلے کیے گئے ہیں بروقت فیصلے کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور فیصلے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہی ہونے چاہییں ایکٹو اور نان ایکٹو ہونے کا معیار بہت ہی منطقی ہے فورم پر سب لطف اندوز ہونے آتے ہیں - سیکس فورم کا تو مقصد ہی سب کی سفلی ٹھرک کی تسکین ہوتا ہے لیکن یہ بھی انسانی فطرت ہے کہ ایک ہی ایکٹیویٹی سے بور ہو جاتا ہے اسلیے کسی ممبر کا کبھی ایکٹو ہونا اور پھر مصروف ہوکر نان ایکٹو ہوجانا ایک فطری سا معاملہ ہے مجھے ہمیشہ افسوس رہا ہے کہ مجھے جب سے ان سیکس فورمز سے آگہی ہوئی ہے بہت سے اچھے ممبر نان ایکٹو ہوگئے پرانی پوسٹیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ کبھی ان فورمز پر بہت معیاری بحث بھی ہوا کرتی تھی اب سوائے ڈاکٹر فیصل کے کون ہے جو ان تھریڈز اور گفتگوؤں میں ریسپانس دیتا ہو پرانے رائٹرز بھی لگتا ہے کہ ایک عرصہ تک کہانیاں لکھ کر اور تھریڈز میں حصّہ لے کر اکتا چکے تھے لیکن ان کی جگہ نئے رائٹرز نے نہیں لی اب امید ہی کی جاسکتی ہے کہ کوئی نئے ایکٹو ممبرز یا رائٹرز بھی فورمز جائن کرکے رونق بحال کریں گے اب تو کوئی تھریڈ سٹارٹ بھی کردیا جائے تو اس میں کسی کا ریسپانس ہی نہیں ہوتا - تھریڈ سٹارٹر خودہی اپنا سر ٹکراتا رہتا ہے
  12. 1 point
  13. 1 point
  14. 1 point
  15. 1 point
  16. 1 point
    A Dr. Khan sahib Regards, Sab se pehlay main ap se eik baat kehna chahta hun keh main ap ka bahot bara fan hun............. wo iss liay nahi keh ap sex story bahot achi balkeh ap eik bahot achay writer hu.............. yeh forum ap aur Guro g ki wajah se abaad hy............. baqi bhi kafi members iss forum par kam kar rahay hain aur unka kam bhi bahot acha hy................ magar wo meri tarah mustakil mazaj nahi hain.................... aur kuch members aisay hain ju sirf time pas kartay forum par aur naa un ki pocket iss ki life time membership ki ejazat deti hy.......... bus app issi tarah likhtay rahay please.............. yeh log ju ap se story ki request kartay yehi inka comments hota............... yahi inki mohbat hy ap se keh wo ap ki story k liay din raat intazar kartay hain magar jab wo usay parh nahi patay tu unko afsos hota hy.............. mujhay forum k rules se koi gila nahi hy........... admin team ki marzi hy wo jiss member ko jitni facilities de..................... Thanks Dr, Khan
  17. 1 point
    جس ممبر نے پورے دو سال میں ایک بھی رپلائی نہ کیا ہو،اس کے لیے یہ کہانی کیونکر فری پوسٹ کی جائے۔ جناب ۹۰۰ صفحات پڑھے آپ نے اور ایک لائن کا کمنٹ نہیں کیا،ا ب باقی کے جو صفحات ہیں وہ ان کے لیے ہیں جو یا تو فورم کی ترقی کے خواہاں ہیں یا کہانی کے اصل شوقین ہیں اور شوق کی خاطر فورم کو بند ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دوست فیس ادا نہیں ہو گی تو فورم کی ہوسٹنگ بند ہو جائے گی اور سب اس کہانی کیا ہر کہانی سے محروم ہو جائیں گے۔ جو اس کے مستقل قاری اور اس میں حصہ لیتے رہے ہیں ،تمام مراعات ان کے لیے ہیں جناب۔ پیڈ ممبران کے لیے اب تو ایک کے ساتھ ایک فری کے طور پر ہوس نام کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے جو پردیس ہی طرح پہلی ہی قسط سے مقبول ہوا ہے۔ بنا کچھ کیے اگر اسے پڑھنا چاہتے ہیں تو فیس ادا کیجیے یا فورم میں مقام بنائیے اور بنا پیسے خرچے اس زون میں ترقی پائیے۔
  18. 1 point
    میں نے قارئین کے تمام رپلائی دیکھے ہیں۔ بطور ایک لکھاری میری یہ خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کہانی کو پڑھیں اور اسے سراہیں۔ مگر کچھ چیزیں دنیا داری بھی ہوتی ہیں۔ مثال دوں گا کہ کسی لکھاری کی کوئی بھی کہانی کسی رسالے میں چھپتی ہے تو یقیناً رسالہ خریدنا پڑتا ہے۔ آپ ہمیشہ یا طویل مدت تک مفت میں کسی سے مانگ کر تو نہیں پڑھ سکتے۔ دوم،ایک دوست نے لکھا کہ کسی بھی کہانی کا جہاں ابتدا ہو اینڈ بھی وہیں ہونا چاہیے۔ درست فرمایا دوست! مگر آپ ہی دیکھیں کہ پوری دنیا میں ایک قانون رائج ہے کہ پہلے فری ٹرائل ورژن آتا ہے بعد میں فل پیڈ ورژن کیونکہ بنانے والے نے سالوں کی محنت سے وہ چیز بنائی ہوتی ہے اور پھر کہیں جا کر آپ کو پیش کی ہوتی ہے۔ پردیس کو لکھنے کے لیے ہر روز دو سے تین گھنٹے درکار ہوتے ہیں،جو میں بلا معاوضہ محض آپ دوستوں کی تفریح کے لیے اپنی بزی شیڈول سے نکالتا ہوں۔ مگر جس جگہ پردیس پوسٹ ہوتی ہے وہاں کی ہوسٹنگ کی ایک فیس ہے،کم ازکم وہ تو مجھے یا انتظامیہ کو ساتھ ساتھ نہ بھرنی پڑے۔ اتنی مہربانی تو قارئین کو کرنی چاہیے۔ پچھلے ایک سال سے میں لگاتار لگا ہوا ہوں کہ کچھ نئے سلسلے شروع کیے جائیں،مگر ان کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔مگر اگر وقت بھی دینا پڑے اور پیسے بھی جیب سے تو بتائیے مجھے کیا فائدہ ہوا وقت اور پیسہ گنوانے کا؟ سہیل صاحب! جناب آپ تو موڈریٹر اور لکھاری دونوں ہیں۔ آپ کو لکھاری کی مجبوری بھی بخوبی پتا ہو گی اور انتظامیہ کی تنگ دستی کا بھی پتا ہو گا۔ آپ کا ایسا رویہ واقعی حیران کن ہے۔ ایک آخری بات یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک انسان ہر روز دس صفحات لکھتا ہے اور ان صفحات کو دن میں پانچ سو کے قریب ریڈر وزٹ کرتے ہیں اور اس پر کمنٹ یا لائیک محض تین یا چار مستقل دوست کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا کہ اس میں ڈھیر لگا ہوتا لوگوں کے رپلائی کا تو خدا کی قسم چاہے جیب سے بھرنے پڑتے پردیس کبھی پیڈ نہ موو کی جاتی۔ اب جو مستقل قاری تھے جو روز اپنا ویو دیتے تھے،اتفاق سے وہ سب پیڈ بھی ہیں۔اگر نہ بھی ہوتے تو یقیناً ان کو پردیس تک رسائی دے دی جاتی،یہ ہم سوچ رکھا تھا۔ اگر تمام دوست محض ہوسٹنگ کی فیس بھر دیں تو پردیس کیا تمام فورم فری کر دیا جائے گا۔ یہ ہمارا وعدہ ہے۔
  19. 1 point
    حصہ دوم زری کی زندگی کا اگلا حصہ۔
  20. 1 point
    بہت ہی فاسٹ ایکشن ہے کافی سنسنی خیز اپڈیٹ دی ہے۔جناب ۔از ونڈر فل ۔۔۔اگر باقی دونوں کے مرنے کے بعد اپڈیٹ کو سٹاپ کیا جاتا تو سپنس ختم ہو جاتا۔
  21. 1 point
    بہت اعلیٰ یار۔ زبردست مزا ہی آ گیا۔ یہ آپشن تو ایسا ہے کہ کہانی کا مزا ہی دوبالا ہو گیا۔اب لکھنے میں بھی مزا آئے گا اور قاری کو پڑھنے میں بھی۔
  22. 1 point
    جناب میاں اسد امین صاحب! دکھ تو خیر کسی کے بچھڑنے کا ہوتا ہی ہے مگر انسان کی بساط ہی کیا ہے وہ کسی کی زندگی موت کا فیصلہ کر سکے۔ جمیل نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ نادیہ کی جان بچانے کی مگر اسلم قریشی نے پہلے ہی سے سوچ رکھا تھا کہ وہ نادیہ کو کبھی نہ کبھی ضرور سزا دے گا۔ جب اسے یہ پتا چلا کہ نادیہ کے پیٹ میں جمیل کا بچہ ہے تو اس کی نفرت ہر حد پار کر گئی۔ اسے یہ بھی پتا چل گیا کہ جمیل کو شدید دکھ سے کیسے دوچار کیا جا سکتا ہے۔ جمیل چاہے جتنا بھی مضبوط اور ہمت والا ہو ہر معاملے میں کامیاب ہونا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہر جھڑپ میں اپنی تمام تر ٹریننگ اور حربی سمجھ بوجھ کے باوجود جمیل کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کسی بھی جھڑپ میں دونوں پارٹیوں کا نقصان ہوتا ہے۔ دشمنی میں یہ تو طے ہے کہ کچھ نہ کچھ نقصان تو اپنا بھی ہوتا ہی ہے۔
  23. 1 point
    ڈاکٹر صاحب آپ نے نئی کہانی لکھ دی اور پُرانی کہانی پردیس اپ ڈیٹ نہیں کی۔ کیا وجہ ہے؟ اگر مصروفیت بہانہ ہے تو نئی کہانی کیسے لکھی؟
  24. 1 point
    waoo muskan g ap k to kitnay he dewanay hain or mai bechari oaann oaann :'(
  25. 1 point
    سب کچھ تو سرفروش نے کہہ دیا ساڈے لئی کوئی گل نئی چھڈی


×