Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 12/23/2017 in all areas

  1. 2 likes
  2. 2 likes
    بہت اعلئ ایس ایم بھائ کمال کا لکھتے ہو آپ ابھی میں نے مکمل سٹوری نھیں پڑھی لیکن جتنی پڑھی ھے بھت خوب لکھا ھے آپ نے
  3. 2 likes
  4. 2 likes
    بہت افسوس ناک واقعہ ہے یہ۔ مجھے تو اتنا افسوس ہوا کہ ذہن سے ہٹتا ہی نہیں تھا۔ اسے طرح ایک ڈرامے ایسی ہے تنہائی میں کوما میں لڑکی کے ساتھ سوئیپر ریپ کر دیتا ہے اس سے تو انتہا کا خوف آیا۔ ڈاکٹر صاحب آپ کچھ شئیر کیجیے اس قسم کے واقعے پہ کسی سٹوری کی صورت میں
  5. 2 likes
  6. 2 likes
    welcome dost forum rules lazmi read kar lein
  7. 1 like
    تمام وی آئی پی ممبرشپ پر ٪50 پرسنٹ تک ڈسکاؤنٹ وی آئی پی سلور پرو 3000 کی بجائے صرف 2000 روپے میں حاصل کریں۔ وی آئی پی گولڈ پرو 5000 کی بجائے صرف 3000 روپے میں حاصل کریں۔ وی آئی پی ماسٹر پرو 7000 کی بجائے صرف 4000 روپے میں حاصل کریں۔ نئے سال 2018 کی آمد کے موقعہ پر اردو فن کلب آپ سب ممبرز کے لیئے ممبرشپ کے خصوصی پیکج متعارف کروا رہا ہے۔جو آپ کو 40 سے 50 پرسنٹ تک کی ڈسکاؤنٹ آفر کی سہولت دیتا ہے۔یہ آفر فورم پر موجود وی آئی پی سلور پرو گولڈ پرو اور ماسٹر پرو تینوں پر موجود ہے۔ نئے ممبران کے ساتھ ساتھ جن ممبران کی ممبرشپ ایکسپائر ہو چکی ہے۔وہ بھی اس آفر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اور ڈسکاؤنٹ ریٹ پر ممبرشپ حاصل کر سکتے ہیں۔ جن ممبران کی ممبرشپ ایکٹویٹ ہے۔ اگر وہ بھی چاہیں۔تو ان پیکج کو خرید کر اپنی ممبرشپ کی ایکسپائری ڈیٹ میں اضافہ کروا سکتے ہیں۔ یہ آفر ایک سال کی ممبرشپ کے دورانیہ سے پانچ سال تک کے کسی بھی پیکج پر ہے۔یہ سہولت 31 دسمبر 2017 سے 01 جنوری 2018 تک کی کمپلیٹ ٹرانزیکشن محدود ہے۔اس کے بعد ممبرشپ اپنے پرانی قیمت پر دستیاب ہو گی۔ اس آفر ڈسکاؤنٹ پر خریداری کرنے کے لیئے یہ کوپن کوڈ استعمال کریں۔ وی آئی پی ممبرشپ سیکشن وزٹ کے لیئے یہاں کلک کریں۔ HNY2018 کوپن کوڈ کی معلومات یا اسے استعمال کا طریقہ جاننے کے لیئے یہ تھریڈ وزٹ کریں۔ نوٹ ! کوپن کوڈ ہر ممبرصرف ایک مرتبہ استعمال کر سکتا ہے۔ مزید معلومات کے لیئے ایڈمنسٹریٹر سے رابطہ کریں۔ پے منٹ ان طریقوں سے کی جا سکتی ہے جاز کیش موبائل اکاؤنٹ۔۔۔۔۔ٹیلی نار ایزی پے موبائل اکاؤنٹ۔۔۔۔۔اے ٹی ایم اور بنک اکاؤنٹ ۔۔۔۔۔پے پال آن لائن اور ڈیبٹ / کریڈٹ کارڈ
  8. 1 like
    کوپن کوڈ کا تعارف اور استعمال کا طریقہ کار کوپن کوڈ کا مطلب چند شناختی الفاظ ہیں ۔جو کسی بھی پروڈکٹ اور آفر پر کسی مخصوص ممبر یا گروپ کو مخصوص ٹائم میں خریداری کرنے کے لیئے دیئے جاتے ہیں۔جس سے وہ اس پروڈکٹ کو کوپن کوڈ استعمال کر کے خصوصی ریٹ پر خرید سکتے ہیں۔یہ ایک لفظ کا ہو یا سو الفاظ کا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔یہ بس شناختی الفاظ کے طور پر کوپن کوڈ کے ٹیب میں درج کرنے کے لیئے ہوتے ہیں۔ان کی افادیت فورم سرور پر دی گئی سہولت میں چھپی ہوتی ہے۔جو کوپن ٹیب میں درج کرنے پر موجودہ سہولت/آفر اس پروڈکٹ پر اپلائی ہو جاتی ہے۔کوپن کوڈ پر تمام پرمیشن سیٹ کی گئی ہوتی ہیں۔ کہ یہ کس ممبر یا گروپ کے لیئے کار آمد ہے۔ یا اسے ہر ممبر کتنی بار استعمال کر سکتا ہے۔اور یہ ٹوٹل کتنی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ اس کو استعمال کیسے کیا جاتا ہے یہ تب آپ کے کام کا ہو سکتا ہے۔ جب آپ موجودہ آفر یا سہولت سے فائدہ اٹھانا یا اس پروڈکٹ کو خریدنا چاہتے ہوں۔اس کواردو فن کلب پر استعمال کرنے کا طریقہ ہم نیچے دی گئی ویڈیو کی مدد سے آپ کو بتاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مجھے پیڈ ممبر شپ خریدنی ہے اور ایک آفر کے طور پر مجھے ایک کوپن کوڈ 12345 دیا جاتا ہے۔ یا سب ممبرز کے لیئے اس کوپن کوڈ کو استعمال کر کے پیڈ ممبر شپ پر ٪50 ڈسکاؤنٹ آفر دی گئی ہے۔ تو میرا طریقہ کار کچھ اس طرح کا ہو گا۔ سب سے پہلے تو مجھے مطلوبہ پروٖڈکٹ یا فائل کے پیچ پر جانا ہو گا۔ اور اس پروڈکٹ کے پرچیز ٹیب پر کلک کرنا ہو گا۔ اپنے آرڈر کو جاری رکھتے ہوئے آپ پے منٹ چیک آؤٹ کے صفحے پر آئیں گے۔ یہاں پے منٹ سے پہلے آپ کو یہ کوپن کوڈ استعمال کرنا ہے۔ ورنہ آپ کو اس پروڈکٹ کی پےمنٹ بغیر آفر کے چارج ہو گی۔مزید کے لیئے یہ ویڈیو دیکھیں۔
  9. 1 like
    شاید یہ محبت ہے مجھے اس شخص سے کل تک محبت تھی، حماقت آج لگتی ہے مجھے اچھا لگا شاید اور اس سے بڑھ کے کب کچھ تھا؟ مگر میں یہ سمجھ بیٹھی کہ شاید یہ محبت ہے اور اب جب مجھ کو سچ مُچ دل کی گہرائی سے کوئی بھا گیا جاناں تو میں اس سوچ میں خاموش بیٹھی ہوں کہ کچھ کہنا نہیں مجھ کو میں کیوں دل میں چھپے جذبے عیاں کر دوں قوی امکان ہے کل یہ بھی پچھتاوا نہ بن جائے میں اس لمحے سے ڈرتی ہوں
  10. 1 like
    مجھے تم سے محبت ہے میں جب بھی اس سے کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟ میں بازو کھول کر کہتا ہوں کہ زمیں سے آسماں تک ہے فلک کی کہکشاں تک ہے میرے دل سے تیرے دل تک مکاں سے لا مکاں تک ہے وہ کہتی ھے، کہ بس اتنی!!! میں کہتا ھوں یہ بہتی ھے لہو کی تیز حدت میں میرے جذبوں کی شدت میں تیرے امکاں کی حسرت میں میرے وجداں کی جدت میں وہ کہتی ہے نہیں کافی ابھی تک یہ میں کہتا ہوں ہوا کی سرسراہٹ ہے تیرے قدموں کی آھٹ ہے کسی شب کے کسی پل میں مجسم کھنکھناہٹ ہے وہ کہتی ہے یہ کیسے فیل (محسوس) ہوتی ھے؟؟ میں کہتا ہوں چمکتی دھوپ کی مانند بلوریں سوت کی مانند صبح کی شبنمی رت میں لہکتی کوک کی مانند وہ کہتی ہے مجھے بہکاوے دیتے ہو؟ مجھے سچ سچ بتاؤ نا مجھے تم چاہتے بھی ہو یا بس بہلاوے دیتے ہو؟ میں کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے کہ جیسے پنچھی پر کھولے ہوا کے دوش پر جھولے کہ جیسے برف پگھلے اور جیسے موتیا پھولے وہ کہتی ھے مجھے الو بناتے ہو!! مجھے اتنا کیوں چاہتے ھو؟ میں اس سے پوچھتا ہوں اب تمھیں مجھ سے محبت ہے؟ بتاؤ نا کہ، کتنی ہے وہ بازو کھول کے مجھ سے لپٹ کے جھوم جاتی ہے میری آنکھوں کو کر کے بند مجھ کو چوم جاتی ھے دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی دھیرے سے مسکراتی ھے میرے کانوں میں کہتی ھے فقط اتنی بس اتنی سی۔۔۔۔!!
  11. 1 like
    !السلام علیکم سٹوری میکر (عثمان) بھائی کو 1000 پوسٹ مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے آپ اسی طرح پوسٹ کرتے رہیں گے اور فورم کی رونق بڑھاتے رہیں گے۔ خوش رہیئے اور لکھتے رہیئے۔ ایم-بلال
  12. 1 like
  13. 1 like
    قائداعظم کی زندگی کے چند انوکھے واقعات دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور بانیِ پاکستان محترم قائداعظم محمد جناح رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار ایسی ہی گوہر نایاب شخصیات میں ہوتا ہے- ہر سال 25 دسمبر کو قائداعظم کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ان کی شاندار خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے- اسی مناسبت سے آج قائد اعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہم ان کی زندگی کے وہ چند واقعات آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں جو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں- وقت کی پابندی کتنی ضروری وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا یہ وہ آخری سرکاری تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے انہوں نے دیکھا کہ شرکاء کی اگلی نشست ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکاء کو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا ان میں کئی دوسرے وزراء سرکاری افسر کے ساتھ اس وقت کے وزیرا عظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذراسی غلطی قائد اعظم نے برداشت نہیں کی اور ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھولی گئی ۔ اعلیٰ ظرفی 1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں ہندو اور مسلمان طلباء کے درمیان اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ یونیورسٹی میں کانگریس کا پرچم لہرا یا جائے۔ مسلمان طلباء کا ماننا تھا کہ کا نگریس کا پرچم مسلمانوں کے جذبات کا عکاس نہیں اور چونکہ الہ آباد یورنیورسٹی میں مسلمان طلبہ کی اکثریت زیر تعلیم تھی اس لیے یہ پر چم اصولاً وہاں نہیں لہرایا جا سکتا ابھی یہ تنازعہ جاری تھا کہ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے مسلم طلباء کی یونین سالانہ انتخاب میں اکثریت حاصل کر گئی یو نین کے طلباء کا ایک وفد قائداعظم کے پاس گیا اور درخواست کی کہ وہ پنجاب یورنیوسٹی ہال پر مسلم لیگ کے پر چم لہرانے کی رسم ادا کریں قائداعظم نے طلباء کو مبارک باد دی اور کہا اگر تمھیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نا زیبا حرکت ہے کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے کیا یہ منا سب بات نہیں کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں۔۔ رشوت ایک ناسور ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ ایگزامنر سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ٹکٹ ایگزامنر نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکھٹے ہو گئے ٹکٹ ایگزامنر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بالاخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔۔ کفایت شعاری اختیار کرو محمد حنیف آزاد کو قائداعظم کی موٹر ڈرائیوری کا فخر حاصل رہا ہے ایک بار قائداعظم نے اپنے مہمانوں کی تسلی بخش خدمت کرنے کی صلے میں انہیں دو سو روپے انعام دئے- چند روز بعد حنیف آزاد کو ماں کی جانب سے خط ملا جس میں انھوں نے اپنے بیٹے سے کچھ روپے کا تقاضا کیا تھا- حنیف آزاد نے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے قائد سے ماں کے خط کا حوالہ دے کر والدہ کو کچھ پیسے بھیجنے کی خاطر رقم مانگی- قائداعظم نے فوراً پوچھا ” ابھی تمھیں دو سو روپے دئے گئے تھے وہ کیا ہوئے “حنیف آزاد بولے ”صاحب خرچ ہوگئے قائد اعظم یہ سن کر بولے ” ویل مسٹر آزاد، تھوڑا ہندو بنو “- وکالت کے اصول وکالت میں بھی قائدِاعظم کے کچھ اُصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔ مؤکل:مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی فیس کیا ہوگی۔ قائدِاعظم: مَیں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ مؤکل: کتنی؟ قائدِاعظم: پانچ سوروپے فی پیشی۔ مؤکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔ قائدِاعظم: مجھے افسوس ہے کہ مَیں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوںکہ میرا اصول ہے کہ مَیں فی پیشی فیس لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم ؒنے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا، ’’میں نے اپنا حق لے لیا ہے۔‘‘ عید کی نماز یہ 25 اکتوبر 1947 کی بات ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا۔ عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت فریضہ مشہورعالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دینی تھی- قائد اعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کردیا گیا۔ مگر قائد اعظم عید گاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن درس کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیں۔ مولانا ظہور الحسن درس نے فرمایا ’’میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں‘‘ چناں چہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی۔ ابھی نماز عید کی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے۔ نماز شروع ہوچکی تھی۔ قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائد اعظم نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ قائد اعظم کے برابر کھڑے نمازیوں کو بھی نماز کے بعد علم ہُوا کہ ان کے برابر میں نماز ادا کرنے والا ریاست کا کوئی عام شہری نہیں بلکہ ریاست کا سربراہ تھا۔ قائد اعظم نمازیوں سے گلے ملنے کے بعد آگے تشریف لائے۔ انھوں نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
  14. 1 like
  15. 1 like
    * ایک نوجوان کی کہانی جوگاوں سے شہر پڑھنے آیا تھا *
  16. 1 like
    پاپا !!! ہم جب دوبئی جائیں گے تو میا خلیفہ پر بھی چڑھ جائیں گے اوئے بیغرت ۔۔۔۔ میا خلیفہ نہیں ۔۔۔۔ برج خلیفہ
  17. 1 like
    جنسی جرائم کے ذمہ دار صرف مرد ہیں رائٹر: سلیم ملک آپ سارے بڑے قابل لوگ ہیں اور اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ آپ کی زندگی میں یہ کتنی دفعہ ہوا کہ کوئی عورت آپ کے پاس آئی ہو اور اس نے آپ کو دعوت “گناہ” دی ہو۔ سب لوگ اپنے اندر سوچنے لگ گئے لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس خاموشی کا مطلب واضح تھا۔ اور بول کر بھی اس بات سے کے ساتھ تقریبا سبھی نے اتفاق کیا کہ ایسے واقعات کم ہی ہوتے ہیں کہ عورت کسی مرد پاس ائے اور جنسی عمل کی دعوت دے۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ نے کتنی مرتبہ زندگی میں کسی عورت کے بارے میں ایسا سوچا اور کتنی دفعہ ایسا کر ہی ڈالا۔ یعنی ہمت کر کے “اظہار محبت” کر دیا۔ اس بات پر بھرے ہال میں ایک مسکراہٹ دوڑ گئی اور آہستہ آہستہ ہنسی میں بدل گئی۔ اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ اس طرح کے واقعات تو بہت ہوتے ہیں کہ جب مرد نے عورت کو جنسی عمل یا جنسی تعلق قائم کرنے کی دعوت دی ہو۔ اور اس بات پر بھی کافی اتفاق تھا کہ ایسا سوچا تو اکثر ہی جاتا ہے کہ کاش میں اس خاتون سے یہ بات کہہ سکوں۔ لیکن بے عزتی کے ڈر سے بہت دفعہ مرد ایسا کر نہیں پاتے یعنی اپنے ارادوں یا خواہشوں کو عملی رنگ نہیں دے پاتے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مرد ہی سیکس ورکرز (عورت، مرد یا خواجہ سرا) کو جنسی “فیور” کے بدلے باقاعدہ رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جب کہ دنیا کے تقریبا ہر ملک اور تہذیب میں اس کی سزا ہمیشہ سیکس ورکر عورت کو ہی ملتی رہی۔ اب بھی دنیا کے زیادہ تر ممالک میں یہی ہو رہا ہے۔ ہاں البتہ یورپ کے چند ممالک میں یہ قانون بن گیا ہے کہ مجرم جنسی عمل کے لیے ادائیگی کرنے والے کو قرار دیا گیا ہے نہ کہ رقم وصول کرنے والے کو۔ اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ جنسی عمل کے لیے ادائیگی بہرحال مرد ہی کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا گھناؤنا جرم بھی مردوں ہی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ پاکستان میں “روزن” نام سے کام کرنے والی ایک این جی او ایسے بچوں اور بچیوں کی کونسلنگ کرتی ہے جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہو یا ہو رہی ہو۔ ایسے مسائل کا شکار بچے اور بچیاں انہیں خط بھی لکھتے ہیں اور رہنمائی مانگتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کی جانب سے موصول ہونے والے ایسے ایک سو خطوط کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے 96 فی صد مرد تھے اور چار فیصد عورتیں تھیں۔ صرف اور صرف مرد ہی عورتوں، بچوں اور بچیوں اور خواجہ سراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرتے ہیں۔ یہ جرم اتنا عام ہے کہ شاید ہی کوئی عورت یا خواجہ سرا ایسی ہو جس نے اپنی زندگی میں کئی کئی بار اسے برداشت نہ کیا ہو۔ اور جہاں تک جنسی ہراسانی کے خوف کا تعلق ہے تو اس جرم کے عام ہونے کی وجہ سے ہر عورت اور خواجہ سرا کو اس کا خوف تو رہتا ہی ہے۔ ایک اور مکروہ حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف مرد اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں کے علاوہ جانوروں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور ایسے واقعات میں کبھی بھی عورت ملوث نہیں پائی گئی۔ یہ گفتگو عدلیہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ساٹھ کے لگ بھگ افسران کے ساتھ کی جا رہی تھی۔ ان کے سامنے یہ سلائیڈ چلائی گئی کہ “جنسی جرائم کا ذمہ دار مرد ہوتا ہے” تو انہوں نے یک زبان ہو کر پورے زور سے یہ کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن اوپر دی گئی بحث کے بعد اس مزاکرے میں موجود افسران کی ایک بھاری اکثریت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جنسی جرائم کے ذمہ دار مرد ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گفتگو ان کے لیے ایک سرپرائز سے کم نہ تھی۔ ہماری پولیس اور عدلیہ کے لیے یہ بات سمجھنا بہت اہم ہے کہ جنسی جرائم کا ارتکاب مرد ہی کرتے ہیں۔ بیچاری عورتیں، بچیاں، بچے اور خواجہ سرا تو اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔
  18. 1 like
    فورم پر گوگل اشتہارات حال ہی میں فورم پر گوگل کی طرف سے اشتہارات لگائے گئے ہیں ۔ جس کا مقصد اشتہارات کی مدد سے فورم کے لیئے کچھ ارننگ حاصل کرنا ہے ۔ 2011 سے 2017 تک ہم یہ فورم اشتہارات کے بغیر چلاتے آ رہے ہیں ۔ اب ہم نے اسے اشتہارات سے چلانے کا تجربہ کرنے کا سوچا ہے۔ مگر ابھی ہمیں ان اشتہارات کا بھی کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آ رہا ۔ کیونکہ اس پرممبرز کی طرف سے اشتہارات پر کلک نہیں ہوتے ۔ اور ہمیں گوگل کی طرف سے کچھ خاص ارننگ نہیں دی جا رہی ۔ یہ ٹاپک بنانے کا مقصد یہی ہے کہ ممبرز فورم وزٹ کرتے وقت فورم کو بھی ساتھ ساتھ سپورٹ کریں۔اور روزانہ صرف ایک اشتہار کو وزٹ کریں۔ (ایک اشتہار کا اس لیئے کہا جا رہا ہے۔کہ 24 گھنٹوں میں ایک آئی پی سے تمام کلک ایک ہی شمار ہوتے ہیں) اگر ہمارا اشتہارات کا تجربہ کامیاب رہا۔ تو ہماری کوشش ہو گی ۔ کہ پیڈ ممبرشپ کی قیمت میں کمی یا پھر اسے مکمل طور پر ختم کر کے تمام فورم کو فری کر دیا جائے ۔ یا پھر اشتہارات کو دوبارہ سے ہٹا دیا جائے ۔تمام ممبرز روزانہ کسی بھی اشتہار کو ایک بار زرٹ ضرور کریں۔ تاکہ فورم کو اچھی اررنگ حاصل ہو سکے۔آپ کا ایک سیکنڈ کا کلک فورم کو مکمل سپورٹ کر سکتا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر اردو فن کلب
  19. 1 like
    کوئی شک نہیں ایک نہایت ہی افسوس ناک واقعہ ہے - لیکن حیرت نہیں ہوئی ۔ کیونکہ یہ باتیں پھیل رہی ہیں کہ پیار محبت کے چکروں میں لڑکیوں کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں چونکہ انجام قتل کی صورت میں ہوا ۔ اسلیے یہ مشہور ہوگیا اور میڈیا کی زینت بن گیا یہ ایک آئینہ بھی ہے ۔ ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہو صورت کا لمحہ فکریہ ہے والدین کے لیے - خصوصا ماوں کے لیے ۔۔ جن کے لیے اولین ترجیح اولاد کو ٹائم دینے سے زیادہ کیریئر اور جاب ہے دونوں والدین فیکٹری میں جاب کرتے ہیں ۔ تو ظاہر کا شام کو ہی لوٹتے ہونگے بچوں کو زندگی کی باقی سہولیات تو میسر ہیں، تعلیم، سہولتیں، موبائیل وغیرہ ۔ لیکن شاید والدین کا وقت نہیں ۔ خصوصا ماں کا وقت تو یہ والدین کما کن کے لیے رہے ہیں ۔ یہی کہ بچوں کا مستقبل بنائیں وہ بھی انہیں وقت دیے بغیر اور نتیجہ کیا ہوا ۔ ایک بیٹی قتل اور دوسری کی زندگی برباد دوسری اہم بات یہ کہ ہم نے اس موضوع پر بھی خاصی گفتگو کی کہ پیار محبت کے چکروں میں آج کل کے دور میں سیکس تک پہنچنے کا امکان کہیں زیادہ ہوگیا ہے وجہ انٹرنیٹ اور میڈیا پر جنسی مواد کی فراوانی ایک بڑی تحریک ہے - لیکن اسے بدترین شکل دے دی ہے موبائیل کیمروں یا خفیہ کیمروں کی ٹیکنالوجی نے ۔ اب صرف سیکس نہیں ہوتا بلکہ ویڈیوز بنتی ہیں اور بلیک میلنگ ہوتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ابھی لڑکیوں کی عمر ہی کیا تھی ۔۔۔ سولہ اور اٹھارہ سال ۔۔۔ اور یہ سب سلسلہ نہ جانے کب سے جاری تھا ۔۔۔ جب شروعات ہوئی ہونگی تو عمر مزید کم ہوگی یہ واقعہ تو مشہور ہوگیا اب یہ نہیں معلوم کہ معاشرے میں کتنے فیصد لڑکیاں اس دلدل میں پھنس چکی ہیں
  20. 1 like
    یہ واقعہ ایسے واقعات کی سب سے بدترین شکل ہے۔عام طور پر ان واقعات میں زیادتی، جنسی استحصال اور بدنامی تک بات محدود رہتی ہے مگر یہاں بات قتل تک پہنچ گئی۔ غور سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں بہنیں ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہوئے تھیں اور یہ ساری سرگرمیاں گھر والوں نے نظرانداز کی ہوئی تھیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی لڑکی اس حد تک بگاڑ کا شکار ہو اور کسی نے نوٹس نہ کیا ہو۔ گھر میں غیر مرد آتے جاتے تھے اور گھر والے انجان تھے یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔دراصل گھر والے اس کی سنگینی کو نہیں سمجھ سکے تھے۔ اہم بات ہن ان دونوں کی عمر۔سولہ اور اٹھارہ سال کی عمر میں انھوں نے ہر قسم کی اخلاقی برائی کو اپنایا ہوا تھا۔ یہ والدین کے لیے سبق ہے کہ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ معاملات بگڑنے سے پہلے اصلاح ہو جائے۔
  21. 1 like
    ہیلو دوستو میں ہوں آپ کا شاہ جی۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لڑکے سیشنل کھلاڑی ہوتے ہیں میں جب کبھی کرکٹ کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب سٹریٹ فیلوز کرکٹ کے دیوانے نظر آتے ہیں اور ہر طرف کرکٹ ہی کرکٹ چل رہا ہوتا ہے اسی طرح جب فٹ بال کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب لڑکے فٹ بال کیلئے ہی پاگل ہوتے ہیں یہ ایک نارمل بات ہے۔ یہ کہانی فٹ بال ورلڈ کے دنوں کی ہے جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھتا جاتا لڑکوں کا کریز بھی بڑھتا جاتا اور تب ایک دن ہم دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک فٹ بال ٹیم بناتے ہیں اور پھر نیو سٹار فٹ بال کلب کے نام سے ہماری ٹیم بن گئی۔ جس کا میں نائب کپتان اور میرا دوست کپتان بن گئے۔ پریکٹس کے لیے ہم نے میڈیکل کالج راولپنڈی کی گراؤنڈ پسند کی لیکن ابھی ہم نے ایک دو دن ہی پریکٹس کی تھی کہ وہاں سے ہم لوگوں کو بھگا دیا گیا تب ہم نے ایک دوسری گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کردیا۔ لیکن پہلی کی طرح وہاں سے بھی بے دخل کردیا گیا۔ اسی طرح ہم تیسری گراؤنڈ پر پہنچ گئے۔ وہاں سے بے دخلی کے بعد ہم نے ایک گورنمنٹ سکول کے گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کیا یہ گراؤنڈ ایک گورنمنٹ سکول کی ملکیت تھا۔ جہاں پر ہمارے دوست کے پاپا نے پرنسپل سے پرمیشن لے دی تھی۔ یہ سکول ائیر پورٹ کے قریب ہی تھا۔ ہمارے گراؤنڈ سے تھوڑا دور ہی آرمی آفیسران کے گھر تھے۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں گراؤنڈ میں فٹ بال اور کھلاڑیوں کی کٹس وغیرہ لایا بھی کروں اور کسی محفوظ جگہ پر رکھا بھی کروں۔ اب ہم نے ہر شام وہاں پریکٹس کرنا شروع کردی تھی کچھ دنوں کےبعد ایک لڑکا جو شکل سے کچھ سپیشل پرسن سا لگتا تھا ہمارے پاس آکر روزانہ گیم دیکھنے لگا اس سے ہماری خاص کر میری کچھ جان پہچان بھی ہوگئی اور پھر ایک دن اس نے بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کی ریکوسٹ کی لیکن کپتان نے درخواست صرف اسی وجہ سے قبول نہیں کیونکہ وہ خاص دکھتا تھا۔ کپتان کے صاف انکار سے وہ کافی ناامید ہوا اور وہاں سے چلا گیا اگلے دن جب ہم کھیلنے آئے تو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ ایک بیٹ مین(آرمی والا) اور ایک میچور عورت جو کہ اس کی بڑی بہن تھی، آئے ہوئے تھے۔ بیٹ مین نے آگے آکر ہم سے کہا کہ میڈم صاحبہ بولا رہی ہیں جب میں اور کیپٹن میڈم کے پاس گیا تو وہ غصے سے بولیں: دیکھو اگر تم لوگوں کو یہاں کھیلنا ہے تو اس کو بھی ساتھ کھیلانا پڑے گا نہیں تو آپ سب کی چھٹی کردی جائے گی اس کھلی بلیک میلنگ سے ہم دونوں کافی گھبرا گئے اور ہم فوراً ہی اس لڑکے کو اپنے ساتھ کھیلانے پر آمادہ ہوگئے۔ اب وہ لڑکا ہمارے ساتھ ہی کھیلنے لگا، گیم شیم تو اس کو تو بالکل ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی بہن کا ڈنڈا تھا تو اس لیے ہم اسے کھلانے پر مجبور تھے۔ لڑکے کی پہلے ہی میرے ساتھ کافی گپ شپ تھی اس لیے فیصلہ ہوا کہ وہ میرے ساتھ بیک پر کھیلے گا۔ ساتھ ہونے کی وجہ سے میری اور اس کی بات چیت تھوڑے ہی دنوں میں فارمل بات چیت سے دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ گراؤنڈ سے کچھ ہی دور اس کا گھر تھا اس لیے اسی نے آفر کی کہ میں ٹیم کی کٹ، فٹ بال اور باقی سامان اس کے گھر رکھ دیا کروں اور وہاں سے لے آیا کروں ، کچھ دنوں بعد میں اس کے گھر با آسانی آنے جانے لگا۔یہ گھر اس کے جیجا کرنل گل کا تھا۔ کرنل صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے مسز گل نے اپنے والدین سے اپنا بھائی مانگ لیا تھا اور وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی بہن مسز گل جس کا نام پل وشاہ مروت تھا لیکن سب اسے مسز کرنل گل کہتے تھے۔ وہ خاندانی پٹھان تھی جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ پٹھان خوبصورت اور گورے چٹے ہوتے ہیں اور ناجانے کیا کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مسز گل ٹھنڈے دماغ اور سمارٹ عورت دکھتی تھی۔ فوجی کی بیوی اور اوپر سے پٹھانی عورت، ہونے کی وجہ سے سٹائلش اور کلاسی۔۔۔ اوپر سے جسم بھی مسز گل نے ویل شیپڈ بنا رکھا تھا۔ صراحی دار لمبی گردن خوبصورت آنکھیں اور گولڈن بال۔۔۔اور جب وہ اپنی آنکھوں پر خوبصورت گلاسسز لگاتی تو بس۔۔۔ قیامت ہی آجاتی۔۔۔ بڑے بڑے پستان۔۔۔ اف اس کے پورے جسم میں سب سے زیادہ خوشنما اس کی نرم اور بڑی سی گانڈ تھی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ وہ مرد مار خاتون تھی جس (گانڈ) کو جب وہ ہلاہلا کر مستانی چال چلتی تو دیکھنے والے اپنا دل پکڑ کر رہ جاتے۔ مسز گل تھوڑا سپشل پرسن ہونے کی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی فدا سے بڑا پیار کرتی تھی اور اس کا خاص خیال رکھتی تھی فدا کا دوست ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ بھی کافی اچھا رویہ رکھا ہوا تھا۔ ان کے شوہر گھر پر بہت کم ملا کرتے تھے زیادہ تر پل وشاہ باجی ہی گھر پر موجود ہوتی تھیں۔ فدا کی طرح میں بھی ان کو بھی پل وشاہ باجی کہہ کر پکارتا تھا شروع شروع میں تو میں ٹیم کا سامان ان کے نوکر کو دے کر چلا جایا کرتا تھا۔ پر کچھ ہی دنوں کے بعد فدا نے مجھے اپنے گھر لے جانا شروع کردیا اور پھر آہستہ آہستہ حالات یہ ہوگئے کہ ہم دونوں گھر سے ہی تیار ہوکر (کٹ میں) جاتے تھے اور واپسی پر وہیں کپڑے تبدیل کرتا تھا۔ یہ سمر سیزن کی بات ہے ہم دونوں معمول کے مطابق گھر آئے پسینے کی وجہ سے ہم دونوں کا جسم بھیگا ہوا تھا بُری طرح سے پیاس لگی ہوئی تھی۔ اس دن ان کا نوکر بھی گھر پر نہیں تھا فدا بولا: آؤ شاہ جی فریج پر حملہ کرتے ہیں۔ اکثر نوکر ہی ہم کو ٹھنڈا پانی یا شربت سرو کرتا تھا لیکن اس دن وہ گھر پر نہیں تھا اس لیے ہم دونوں فوراً ہی کچن کی طرف چل دئیے چونکہ کچن کا راستہ ڈرائنگ روم سے ہوکرگزرتا تھا، جیسے ہی ڈرائنگ روم میں پہنچے تو باجی پل وشاہ کسی خاتون کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھیں۔ ان کے سامنے مشروب پڑے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہم پر پڑی وہ بولی: فدا دیکھو تو ہمارے گھر کون آیا ہے؟ ہم تو ابھی تمہیں ہی یاد کررہے تھیں۔ فدا اس خاتون کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور فوراً ہی اس طرف چلا گیا یہ مسز سلیم تھیں پل وشاہ کی دوست۔۔۔ میں نے بھی ان کو دور سے ہائے بولا اور پھر کچن کی طرف بڑھنے لگا تو پل وشاہ باجی بولیں: شاہ جی آپ بھی آؤ نا۔۔۔ آپ سے بھی مسز سلیم ملنا چاہتی ہیں یہ سن کر میں بھی ان کے پاس چلا گیا۔مسز سلیم تو پل وشاہ باجی سے بھی دو دو ہاتھ آگے تھیں اس نے بڑے ہی ٹرانسپیرنٹ کپڑے پہنے ہوئے تھے جس سے ان کا گورا بدن صاف نظر آرہا تھا جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا پل وشاہ باجی بولی: یہ ہیں مسٹر شاہ جس کا میں ذکر کررہی تھی فدا کا اس ٹاؤن میں اکلوتا دوست۔۔۔ مسز سلیم صوفے سے اٹھی اور میرے ساتھ مصافہ کیا۔ میں ویسے تو ان کے ساتھ مصافہ کررہا تھا پر میری آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اوپن ٹرانسپیرنٹ شرٹ سے جھانکتی ہوئی گورے گورے موٹی پستانوں پر تھی جن کے بس نپلز ہی برا میں چھپے ہوئے تھے۔ باقی وہ ٹوٹلی ننگی تھی اتنے خوبصورت پستانوں پر میری نظر جیسے چپک سی گئی تھی میرے خیال میں پل وشاہ باجی کو میری اس بدتمیزی کا اندازہ ہوچکا تھا اس لیے وہ فوراً بولی: شاہ جی یہ مشروب لے لو۔۔۔ جیسے ہی میں نے ڈرنک کا گلاس اُن کے ہاتھ سے لیا تو انہوں نے ہلکا سا میرا ہاتھ دبایا اور سرگوشی میں بولیں:بُری بات۔۔۔ آپ اپنی نظروں پر قابو رکھیں۔
  22. 1 like
    story achi lg rahi ha wesay ......i hope agay better sy best ho jygi
  23. 1 like
    بادلوں کی زوردار گڑگڑاہٹ کے ساتھ آسمانی بجلی کی کڑک نے رومانہ کو خوف سے ایک جھرجھری لینے پر مجبور کردیا ۔۔۔اس نے جلدی سے بستر پر لیٹے اس اجنبی کی طرف دیکھا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کرنے لگی ۔۔۔۔اجنبی نوجوان اب بھی بخار میں جل رہا تھا ۔۔۔۔اس نے جلدی جلدی پٹیاں پانی میں بھگو ئیں اور اس کے ماتھے پر رکھنےلگی ۔۔۔۔ اس طوفانی سرد رات میں وہ اپنی کمپنی کی میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد واپس آرہی تھی جب یہ نوجوان اچانک دائیں جانب سے نمودار ہوا اور اس کی کار کے آگے گر پڑا ۔۔۔رومانہ نے اتنی زور سے کار کے بریکس لگائے کہ ایک زوردار چرچراہٹ کے ساتھ ٹائرز جیسے سڑک پر دھنس کر رہ گئے ہوں اگر رومانہ ایک لمحے کی بھی تاخیر کر دیتی تو یقیناً وہ جو کوئی بھی تھا کار اس کے بدن کو روند کر رکھ دیتی ۔۔۔اس نے جلدی سے چھتر ی نکالی اور کار سے باہر آگئی ۔۔۔اجنبی منہ کے بل اس کی کار کے ٹائرز سے چند انچ دور پڑا تھا ۔۔۔رومانہ نے اس کو آوازیں دینا شروع کیں ۔۔۔ہلا کر دیکھا لیکن اجنبی بے سدھ پڑا رہا ۔۔۔۔رومانہ نے مدد کے لیے ادھر اُدھر دیکھا لیکن اس طوفانی رات میں سڑک بھی سنسان پڑی تھی ۔۔۔رومانہ جیسی حساس فطرت اس طرح اسے چھوڑ کی جا بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔اس نے کار سے رین کوٹ نکال کر پہنا اور بڑی مشکل سے اجنبی کو گھسیٹتے ہوئے کار کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا ۔۔۔۔اجنبی کیچڑ میں لت پت تھا ۔۔۔۔اس نے اس کے دل پر ہاتھ رکھ کر اس کی دھڑکنوں کو چیک کیا تو وہ بہت مدھم چل رہی تھیں ۔۔۔رومانہ بہت پریشان ہوگئی تھی ۔۔۔ اس نے کار ہاسپٹل کی جانب موڑنی چاہی پھر کچھ سوچ کر اس نے کار گھر کی طرف موڑ دی ۔۔۔ہاسپٹل کافی دور تھا جبکہ اس کا گھر چند فرلانگ کے فاصلے پر تھا ۔۔اس نے جلدی سے اپنے پڑوس میں رہنے والے ڈاکڑ عادل کو فون کیا اور انہیں ساری سیچوئشن بتا کر انہیں گیٹ پر انتظار کرنے کے لیے کہا ۔۔۔چند منٹ میں ہی گاڑی اس کے بنگلے کے گیٹ پر تھی ۔۔۔ڈاکٹر عادل اس کی گاڑی دیکھتے ہی تیزی سے اس کی طرف لپکے ۔۔اور واچ مین کی مدد سے اجنبی کو اٹھا کر رومانہ کے بنگلے میں لے گئے ۔۔۔رومانہ گاڑی پارک کرکے اپنا گیلا ڈریس چینچ کرکے کمرے میں آئی تو ڈاکٹر عادل اجنبی پر جھکے اس کے سر کی چوٹ کی ڈریسنگ کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔اجنبی کے کپڑے فرش پر پڑے تھے ڈاکٹر عادل نے اسے کمبل میں اچھی طرح لپیٹ دیا تھا ۔۔۔رومانہ نے سامنے ہوتے ہوئے اجنبی تھی طرف دیکھا تو وہ چوبیس پچیس سال کا انتہائی ہینڈسم نوجوان تھا ۔۔۔اس کے چہرے کے خدوخال سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ کسی اچھی فیملی سے تعلق رکھتا تھا ۔۔۔ڈاکٹر عادل نے رومانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اس کے سر پر ضرب لگائی گئی ہے اور اسے شدید بخار بھی ہے میں نے اسے انجیکشن دے دئیے ہیں اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔۔۔۔لیکن آپ کو مسلسل اس کے ماتھے پر پانی سے بھگوئی پٹیاں کرنے ہونگی اور جب اس کا بخار ٹوٹ جائے تو اسے یہ میڈیسن دینی ہیں انہوں نے میڈیسن رومانہ کو دیتے ہوئے اسے ہدایت کی ۔۔۔شاید اس کو لوٹا گیا ہے کیونکہ اس کا پرس اور فون وغیرہ کچھ بھی اس کے لباس سے نہیں ملا ڈاکڑ عادل نے اجنبی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔رومانہ نے ڈاکٹر عادل کو شکریہ ادا کیا اوروہ اپنا بیگ اور چھتری لئے گھر چلے گئے ۔۔۔رومانہ نے ایک نظر اجنبی کی طرف دیکھا اور اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے ماتھے پر پٹی رکھنے لگی ۔۔۔۔۔ رومانہ ایک تیس برس کی بے حد دلکش نقوش اور خوبصورت جسم کی مالک لڑکی تھی ۔۔۔ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اعلیٰ عہدے پر فائز تھی ۔۔۔اچھی جاب ،بنگلہ ،نوکر چاکر سب کچھ اس کے پاس تھا لیکن اگر نہیں تھا تو سکون ۔۔۔۔شادی کے بھیانک تجربے نے سب کچھ ہونے کے باوجود اس کا آرام و سکون جیسے ہمیشہ کے لیے چھین لیا تھا ۔۔۔۔شرجیل اس کی محبت جس کا خیال آتے ہی اس کی پورے جسم میں نفرت کی چنگاریاں بھڑکنے لگتی ہیں ۔۔۔۔شرجیل اور رومانہ یونیورسٹی فیلو تھے جن کی دوستی محبت میں بدلی پھر جیون ساتھی میں لیکن شادی کے بعد جب شرجیل کا اصل چہرہ سامنے آیا تو سب کے سب خواب ایک ہی لمحے میں چکنا چور ہوگئے ۔۔۔اس کے ساتھ بیتے ہوئے وہ ۳ ماہ اس کی زندگی کا بدترین وقت تھا ۔۔۔شرجیل انتہائی عیاش اور کمینہ فطرت انسان ثابت ہوا ۔۔۔شراب کے نشے میں دھت پر رومانہ پر انتہائی انسانیت سوز تشدد کرتا ۔۔۔رومانہ یہ سب کچھ برداشت نہ کرسکی اور صرف ۳ ماہ بعد ہی رومانہ نے اس سے طلاق لے لی اور اس کے بعدتو جیسے اس کو دنیا کے ہر مرد سے نفرت ہوگئی ۔۔۔پھر دوبارہ کبھی اس نے شادی کے بارے میں نہیں سوچا ۔۔۔۔اس کی چاہت کے طلبگار سر پٹخ پٹخ کر رہ گئے لیکن کوئی اس کا اعتماد نہ پا سکا ۔۔۔ ۶ سال پہلے کا وقت یاد آتے ہی اسے اپنے جسم اور روح پر لگے زخم پھر سے تازہ ہوتے محسوس ہوتے ۔۔۔۔ بادلوں کی ہولناک گڑگڑاہٹ نے ماضی کی تلخ یادوں میں کھوئی ہوئی رومانہ کو چونکا دیا ۔۔۔۔اس کا ہاتھ اجنبی نوجوان کے ماتھے پر تھا اس نے جلدی سے پٹی تبدیل کی اور پھر سے اس کے ماتھے پر رکھنے لگی ۔۔۔۔گرم کمبل میں لپٹا ہوا جسم ، کمرے کے گرم ماحول ،ڈاکڑ عادل کے انجیکشن اور رومانہ کے مسلسل ماتھے پر پٹیاں کرنے سے اس اجنبی کی حالت میں کافی بہتری آ رہی تھی ۔۔۔بخار کا زور ٹوٹ رہا تھا ۔۔۔اجنبی کو ہوش میں آتا دیکھ کر رومانہ نے اس کے ماتھے سے پٹی ہٹا کر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا بخار سے تپتا جسم اب پسینے کی ٹھنڈک میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔اجنبی نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں اور خالی خالی نظروں سے خلا میں گھورنے لگا ۔۔۔رومانہ نے اس کے قریب آکر اسے آواز دی تو اس نے اپنی آنکھیں رومانہ کی طرف موڑیں اور اسی طرح خالی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی آنکھیں دوبارہ موندھ لیں ۔۔۔نقاہت اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہورہی تھی ۔۔۔۔رومانہ نے اس کو دوبارہ آواز دی تو اس نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا رومانہ نے میڈیسن اور پانی کا گلاس اٹھایا اور اسے سہارا دیتے ہوئے اسے دوا دینے لگی ۔۔۔۔دوا لینے کے بعد اجنبی نے دوبارہ لیٹ کر اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔رومانہ اس سے اس کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی لیکن اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ کوئی جواب دے پاتا ۔۔۔۔اس کی طبیعت بہتر ہوتا دیکھ کر رومانہ کو بہت اطمینان ہوگیا تھا ۔۔۔۔اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے ۔۔۔اسے بھوک کا احساس ہوا کچن میں جا کر مائیکرو ویو میں کھانا گرم کرنے لگی ۔۔۔اسی دوران اس نے جلدی سے شاور لیا اور نائٹی پہن کر کھانا لئے ہوئے کمرے میں آگئی ۔۔۔اجنبی اب پرسکون نیند سو رہا تھا ۔۔۔کھانا ختم کرنے کے بعد رومانہ نے کافی بنائی اور کتاب ہاتھ میں لیے اجنبی کے بیڈ کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر کتاب پڑھنے لگی ۔۔۔ اجنبی نے کراہتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں اور رومانہ کتاب سائیڈ پر رکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔اجنبی اٹھنے کی ناکام کوشش کررہا تھا رومانہ نے اسے سہارا دیتے ہوئے بیٹھایا کمبل اس کی گردن تک لپٹا ہوا تھا ۔۔۔رومانہ نے اس سے اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھا کہ اب وہ کیسا محسوس کررہا ہے تو اس نے رومانہ کی طرف ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا ۔۔۔رومانہ نے اس سے اس کا نام پوچھا تو اس نے آہستہ آواز میں اپنا نام فراز بتایا ۔۔۔۔نقاہت اب بھی اس کے جسم پر طاری تھی ۔۔۔۔رومانہ نے جلدی سے اس کے لیے جوس تیار کیا اور ساتھ ایک ٹیبلٹ بھی دی ۔۔۔فراز آہستہ آہستہ جوس پینے لگا ۔۔۔۔جوس پینے کے بعد ایک بار پھر لیٹ گیا ۔۔۔لیکن اب وہ پہلے کی نسبت کافی بہتر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔اس نے رومانہ کو بتانا شروع کیا کہ اسے چار ڈاکوؤں نے ہائی وے پر گن پوائنٹ پر روکا اور اس کی گاڑی ،وائلٹ ،فون لے کر فرار ہوگئے اور جاتے ہوئے گن کا دستہ اس کے سر پر مار کر اسے سڑک کے کنارے پھینک گئے ۔۔۔اسے جب ہوش آیا تو وہ بڑی مشکل سے چلتا ہوا روڈ پر آیا اور پھر اسے ایک زوردار چکر آیا اس کے بعد اس کی آنکھ یہاں کھلی ہے تو رومانہ نے اسے بتایا کہ وہ کیسے اچانک اس کی گاڑی کے سامنے آکر گرپڑا تھا اور وہ اسے لے کر اپنے گھر آگئی ۔۔۔فراز نے بڑی ممنون نگاہوں سے رومانہ کی طرف دیکھا اور اس کا شکریہ ادا کرنے لگا ۔۔۔۔اگر آج آپ نہ ہوتیں تو یقیناً سڑک پر ہی دم توڑ دیتا ۔۔۔۔آپ نے میری جان بچائی آپ کا یہ احسان تا زندگی یاد رکھوں گا ۔۔۔۔۔رومانہ نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور کہا اس میں احسان کی کیا بات ہے یہ تو میرا فرض تھا ۔۔۔اتنی بات کرتے ہوئے اس پر پھر نقاہت طاری ہونے لگی تو رومانہ نے سہارا دے کر اسے لٹا دیا ۔۔۔۔فراز ایک بار پھر نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا ۔۔۔۔رومانہ نے اس کا ٹمپریچر چیک کیا تو بخار بالکل اتر چکا تھا ۔۔۔۔اس نے طمانیت کے ساتھ کرسی پر دوبارہ ٹیک لگالی ۔۔۔ فراز کو نیند میں شاید گرمی محسوس ہو رہی تھی اس نے اپنی ٹانگوں پر سے کمبل ہٹا دیا ۔۔۔۔رومانہ کی نظر جیسے ہی اس کی ننگی ٹانگوں کے درمیان پڑی تو اسے شدید جھٹکا لگا ۔۔۔۔فراز کا سویا ہوا لن اسے صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔رومانہ نے بے اختیار اپنی نظریں اس کے لن سے ہٹائیں اور کمبل دوبارہ اس کی ٹانگوں پر ڈال دیا ۔۔۔۔اس کے دل کی دھڑکنیں بے تاب ہورہی تھیں اس نے دوبارہ کتاب میں دھیان لگانے کی کوشش کی لیکن اس کے ذہن مسلسل فراز کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔اس نے اپنے ذہن کو جھٹکا ۔۔۔برسوں سے دبے ہوئے اس کے جذبات اچانک پوری شدت سے ابھر کر اس کے دل میں ہلچل مچا رہے تھے ۔۔۔۔فراز بھی ایک مرد ہے اس کے دماغ نے کہا ۔۔۔۔ہاں مجھے مردوں سے نفرت ہے اس کے دماغ نے اسے یاد دلایا ۔۔۔۔لیکن تم ایک عورت بھی ہو کب تک اس جوانی کو برباد کرو گی ؟؟ دل نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی ۔۔۔۔نہیں تم دن بھر مردوں کے ساتھ رہتی ہو کئی مرد تمہاری طرف تن من دھن سے بڑھتے ہیں لیکن تم سب کو ان کی اوقات میں رکھتی ہو صرف پروفیشنل تعلق کی حد تک رہتی ہو ۔۔۔دل کی بات پر دھیان مت دو ۔۔۔۔دماغ نے تیز آواز سے اسے پھر سے یاد دلایا ۔۔۔۔۔سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ۔۔۔کب تک اپنے جذبات کا گلا گھونٹتی رہو گی ۔۔۔کب تک اس طرح سسک سسک کر مرتی رہو گی ۔۔۔۔تمہارے اس خوبصورت بدن کو ایک طاقتور بدن کی ضرورت ہے۔۔۔جو اسے پیار کرے اس سے خراج وصول کرے اسے محبت دے یہ تم بھی جانتی ہو کہ تمہارے خوبصورت بدن کو اس کی کتنی ضرورت ہے ۔۔۔دل نے بھی جوابی وار کیا ۔۔۔اسی دوران فراز نے پھر اپنی ٹانگوں سے کمبل ہٹا دیا ۔۔۔۔رومانہ کی آنکھیں اس کے خوبصورت سڈول لن پر جمی ہوئی تھیں جو سویا ہوا بھی موٹا اور توانا دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔دماغ نے پھر اسے یاد دلایا کیا کر رہی ہو رومانہ یہ بھی ظالم مرد ہے بھول گئیں وہ ظلم جو ایک مرد نے ہی تم پر کئے تھے ۔۔۔۔رومانہ اٹھی اور کمبل دوبارہ فراز کی ٹانگوں پر ڈال کر کرسی پر بیٹھ کر تیز تیز سانس لینے لگی ۔۔۔۔بجلی کی کڑکڑاہٹ کے ساتھ ہی اس کے دل میں مچے ہوئے طوفان نے کہا ۔۔۔۔دماغ کی باتوں پر توجہ مت دو رومانہ ۔۔۔۔۔آج نہیں تو کل تمہیں بہرحال کسی مرد کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوگا کب تک اس طرح اکیلی رہو گی ۔۔۔۔پہاڑ جیسی زندگی گزارنی ہے تمہیں ۔۔۔۔تم جتنی بھی بہادر سہی لیکن بہرحال تم ایک عورت ہو اور اس دنیا میں مرد و عورت کا ساتھ اٹل ہے ۔۔۔۔دل و دماغ کی اس جنگ نے رومانہ کو جیسے نڈھال سا کر دیا تھا ۔۔۔وہ آنکھیں بند کئے اپنے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنے جا رہی تھی دماغ کی آواز اب اسے سنائی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔شاید دل نے دماغ کو پچھاڑ دیا تھا ۔۔۔۔ رومانہ نے آنکھیں کھولیں اورجیسے ایک ٹرانس میں اپنی کرسی سے اٹھی ۔۔۔۔اس نے فراز کی ٹانگوں سے کمبل ہٹایا اور اس کا نیم مردہ لن دیکھنے لگی ۔۔۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے لن کو چھوا تو ایک کرنٹ اس کے پورے جسم میں دوڑ گیا ۔۔۔۔اس نے ہاتھ فوراً پیچھے کھینچ لیا ۔۔۔۔اپنی نظریں لن پر گاڑے بس اسے دیکھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔برسوں کے سوئے ہوئے جذبات پوری طرح بیدار ہوچکے تھے ۔۔۔اسے اپنی ٹانگوں کے درمیان والی جگہ سلگتی ہوئی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔۔اس کے ہاتھ میکانکی انداز میں حرکت میں آئے اور اس نے اپنی نائٹی اتار کر پھینک ڈالی ۔۔۔۔اب رومانہ صرف برا اور پینٹی میں تھی ۔۔۔اس کا دلکش جسم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جذبات کی حدت سے جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔اس نے ایک نظر سوئے ہوئے فراز کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور ہاتھ بڑھا کر اس کا لن اپنے نرم و ملائم ہاتھ میں لے لیا ۔۔۔فراز کے لن نے جیسے ہی رومانہ کے ملائم کو محسوس کیا اس نے بے اختیار ایک انگڑائی لی ۔۔۔۔رومانہ اب فراز کا لن ہاتھ میں لیے اسے ٹک دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔پھر سلو موشن اندز میں جھکی اور لن کی کیپ پر اپنی زبان رکھ دی ۔۔۔فراز نیند میں کسمایا اور اپنی ٹانگیں سیدھی کرلیں ۔۔۔۔وہ بدستور نیند کی آغوش میں تھا ۔۔۔رومانہ نے نرمی سے اس کے لن کی ٹوپی منہ میں لے لی اور لولی پوپ کی طرح اسے چوسنے لگی ۔۔۔لن اس کے نرم ہونٹوں اور گرم زبان کا لمس پاتے ہی بیدار ہونے لگا ۔۔۔رومانہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہوچکی تھی ۔۔۔۔اب پورا لن اس کے منہ میں تھا ۔۔۔۔اور ایک ہاتھ پینٹی کے اندر مسلسل چوت کو مسل رہا تھا ۔۔۔۔لن جیسی ہی پوری طرح بیدار ہو کر رومانہ کے حلق سے ٹکرایا ۔۔۔فراز نے بے اختیار آنکھیں کھول دیں ۔۔۔۔پسینے سے شرابور فراز کے جسم نے مستی سے ایک انگڑائی لی اور دوبارہ آنکھیں موند کر اپنی مسیحا کے اس خوبصورت اندز ِمسیحائی کا مزہ لینے لگا ۔۔۔رومانہ کے لن چوسنے کی رفتار میں تیزی آنے لگی ۔۔۔۔کچھ دیر پہلے درد سے کراہنے والا فراز اب مزے اور مستی سے کراہ رہا تھا ۔۔۔رومانہ نے لن منہ سے نکالا اور فراز کے باقی ماندہ جسم پر پڑے ہوئے کمبل کو ہٹا کر دور پھنک دیا اور فراز کی طرف آتے ہوئے اپنے جلتے ہوئے نرم و ملائم ہونٹ فراز کے سرد ہونٹو ں پر رکھ دئیے ۔۔۔فراز نے آنکھیں کھول کر اپنی مسیحا حسینہ کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا ۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ رومانہ کی نرم کمر پر آورہ گردی کرنے لگے ۔۔۔۔رومانہ اپنی گرم گیلی ہوتی چوت فراز کے لن پر رگڑ رہی تھی ۔۔۔اور اس کے ہونٹوں کا گرم لمس فراز کے نقاہت زدہ جسم کو بھرپور توانائی فراہم کررہے تھے ۔۔۔فراز نے اپنے ہاتھ اس کی برا کی ہک کی طرف لے جاتے ہوئے ہک کو کھول دیا اور رومانہ کے ۳۶ کے سڈول نرم ممے برا کی قید سے آزاد ہوتے ہی اس کے سینے میں گڑ گئے ۔۔۔۔بادلوں کی ایک تیز گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی رومانہ نے اپنی ہونٹ اور سختی سے فراز کے ہونٹوں میں پیوست کر دئیے ۔۔۔۔برسوں کی پیاس کو فراز کے ہونٹ بجھا رہے تھے ۔۔۔۔رومانہ کی چوت سے نکلنے والی برسات نے پینٹی کو پوری طرح سے گیلا کر دیا تھا ۔۔۔۔اس نے ہاتھ پیچھے لیجاتے ہوئے لن اور چوت کے درمیان بننے والی پینٹی کی رکاوٹ کو بھی ایک جھٹکے سے دور کر دیا ۔۔۔۔اور خود کو فراز سے الگ کرتے ہوئے اس کے سامنے کھڑی ہوگئی ۔۔۔فراز اس کے توبہ شکن انتہا کے خوبصورت بدن کو دیکھ کر ششدر رہ گیا ۔۔۔۔رومانہ اس کے لن کے اوپر آئی اور اپنی چوت کو اس کے لن پر سیٹ کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے نیچے ہوئی ۔۔۔۔فراز کا لن جیسے ہی برسوں کی پیاسی چوت میں داخل ہوا رومانہ کے ہونٹوں سے ایک طویل سسکاری نکلی اور وہ لطف و کیف کے اس لمحے کا پورا مزہ لینے لگی ۔۔۔اس کی ٹائٹ چوت میں فراز کا موٹا لن آدھے سے زیادہ داخل ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔رومانہ آنکھیں بند کئے فراز کے لن کو اپنی پیاسی چوت میں بس محسوس کئے جارہی تھی ۔۔۔۔دونوں ساکت تھے ۔۔۔۔فراز بھی آنکھیں بند کیے اس دلکش نظارے کو اپنے روئیں روئیں میں محسوس کررہا تھا ۔۔۔رومانہ نے نیچے کی طرف ایک اور جھٹکا لیا اور لن جڑ تک اس کی چوت کی گہرائیوں میں اتر گیا ۔۔۔۔۔رومانہ کے لبوں سے سسکاریوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ۔۔۔۔اس کی برسوں کی پیاسی چوت فراز کے لن کے ملن کو اور زیادہ برداشت نہ کرسکی اور ایک طاقتور آرگیزم کے ساتھ اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔رومانہ لن چوت میں لیے فراز کے چہرے پر جھکی اور دوانہ وار اسے چومنے لگی ۔۔۔۔فراز نے اس کی گردن کے گرد بازو لپٹتے ہوئے اس اپنے اندر سمو لیا ۔۔۔۔رومانہ کے نرم ملائم ممے اس کے سینے میں دھنسے چلے جا رہے تھے ۔۔۔اور اس کا لن رومانہ کی چوت میں دھکے لگاتا ہوا اندر باہر ہورہا تھا ۔۔۔دونوں کے ہونٹ ایک بار پھر ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔۔۔بجلی کی ایک اور خوفناک کڑکڑاہٹ کے ساتھ رومانہ نے اپنے آپ کو فراز کے چوڑے سینے میں سما لیا ۔۔۔فراز کے جھٹکے مدھم پڑنے لگے تھے ۔۔۔شاید نقاہت کی وجہ سے وہ اس گرم پیاسی چوت کے آگے ہار گیا تھا ۔۔۔۔اب رومانہ اس کے لن کو اپنی چوت میں لیے ہوئے اوپر نیچے ہونے لگی وہ لن کو جڑ تک اپنی چوت کی گہرائیوں میں لیتی اور رک جاتی ۔۔۔۔اس کی نرم و ملائم گانڈ فراز کے بالز پر آکر ٹھہر جاتی ۔۔۔پھر تیزی سے لن اندر باہر کرتی اور دوبارہ پورا لن لے کر رک جاتی ۔۔۔۔ایک اور لذت سے بھرپور آرگیزم نے رومانہ کی چوت میں ایک ذبردست ارتعاش پیدا کیا اور رومانہ کی سسکاریاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں ۔۔۔۔فراز کی منزل بھی اب زیادہ دور نہیں تھی رومانہ کی چوت کے رس نے فراز کے لن کو بھی جوش دلادیا اور ایک تیز جھٹکے کے ساتھ فراز کے لن نکلنے والے لاوے نے رومانہ کی برسوں سے پیاسی چوت کی پیاس بالآخر بجھا ڈالی ۔۔۔۔۔شہوت کی حدت سے جلنے والے دونوں جسم شہوت کی گرمی کے پسینے سے شرابور ہو رہے تھے ۔۔۔فراز نڈھال ہو کر آنکھیں بند کیے شاید پھر نیند کی وادی میں جانے کو تیار تھا ۔۔۔۔رومانہ ایسے ہی اس کا لن اپنی چوت میں لیے اس کے سینے پر سر رکھے ہوئے تھی ۔۔۔۔رومانہ کو ایسے محسوس ہوا جیسے صدیاں بیت گئی ہوں ۔۔۔وہ آہستہ سے اٹھی اور لن پچک کی آواز کے ساتھ اس کی چوت سے باہر آگیا ۔۔۔۔رومانہ کےخوبصورت جسم کے انگ انگ میں لطف و سکون کی لہریں دوڑ رہی تھیں ۔۔۔۔اسے اپنا آپ انتہائی ہلکا پھلکا محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔وہ ننگی ہی چلتی ہوئی واش روم میں گئی اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر فراز کی بغل میں لیٹ کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔۔۔۔فراز نے آنکھیں کھولتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور اسے اپنی بانہوں میں چھپا لیا ۔۔۔۔باہر طوفان کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا جبکہ کمرے کے اندر کا طوفان کچھ دیر تھم جانے کے بعد دوبارہ زور پکڑنے لگا ۔۔۔۔ایک بار پھر چوت اور لن کا ملن ہوچکا تھا ۔۔۔۔رومانہ لن پر سوار فراز کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے پوری رفتار کے ساتھ اپنی چوت کو فراز کے لن پر گھما رہی تھی ۔۔۔۔رس سے بھری چوت کا یہ انداز فراز کا لن زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا ایک بار پھر اس کے لن سے منی کا طوفان نکلا اور رومانہ کی چوت کو پوری طاقت سے سیراب کرنے لگا ۔۔۔۔طوفانی رات میں ہونے والی اس طوفانی چدائی نے دونوں کو نڈھال کر دیا تھا ۔۔۔۔رومانہ نے اٹھ کر فراز کے لیے جوس بنایا اور دونوں جوس پی کر کمبل اوڑھے ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے ۔۔۔ صبح رومانہ کی آنکھ کھلی تو فراز اس کے سینے پر سر رکھے سو رہا تھا ۔۔۔۔۔رومانہ کے پورے بدن میں سرشاری چھائی ہوئی تھی ۔۔۔اس نے فراز کو آہستگی سے جگایا ۔۔۔فراز نے آنکھیں کھول کر رومانہ کی طرف مسکرا کر دیکھا ۔۔۔رومانہ بڑی محبت پاش نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔فراز اپنے آپ کو بہت ہشاش بشاش محسوس کررہا تھا ۔۔۔۔فراز نے اٹھنا چاہا تو رومانہ نے بڑے پیار سے اسے روک دیا اور خود سہارا دے کر اسے اٹھانےلگی ۔۔۔۔فراز پہلا قدم فرش پر رکھتے ہوئے تھوڑا سا ڈگمگایا تو رومانہ نے فوراً اسے سنبھال لیا ۔۔۔۔واش روم میں جا کر رومانہ بڑی محبت سے فراز کو نہلانے لگی ۔۔۔اس نے فراز کے سر پر اچھی طرح سے ٹاول لپیٹ دیا تھا تاکہ سر کے زخم پر پانے نہ پڑے ۔۔۔۔فراز کو نہلانے کے بعد اس نے خود بھی شاور لیا اور دونوں ننگے ہی دوبارہ کمرے میں آگئے ۔۔۔رومانہ بڑی ادا سے چلتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی فراز اس کی نظریں اس کی بے انتہا سیکسی ہلتی ہوئی گانڈ پر گڑی ہوئی تھیں ۔۔۔فراز اٹھا اور کچن کی طرف چل پڑا ۔۔۔رومانہ ناشتہ تیار کررہی تھی ۔۔۔فراز نے پیچھے سے اسے اپنے بازؤں میں لے لیا ۔۔۔۔جیسے ہی اس کا ادھ کھڑا لن اس کے نرم چوتڑوں کو ٹچ ہوا رومانہ نے ایک شہوت بھری سسکاری بھری ۔۔۔۔رومانہ ناشتہ تیار کرنے میں مصروف تھی جبکہ فراز اس کی گردن پر ہونٹ رکھے اپنے اب پورے اکڑے ہوئے لن کو رومانہ کی نرم و ملائم گانڈ کی لکیر میں گھسائے ہوئے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔دونوں کچن میں ہی ناشتہ کرنے لگے ۔۔۔ناشتے کے بعد رومانہ فراز کا ہاتھ پکڑے کمرے میں آگئی ۔۔۔۔باہر طوفان تھم چکا تھا لیکن رومانہ کی زندگی میں آنے والا یہ طوفان ابھی تھمنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا ۔۔۔۔فراز نے رومانہ کو بیڈ پر گرایا اور اس کی ٹانگیں کھول کر اس کی چوت کا نظارہ کرنے لگا ۔۔۔۔خوبصورت گلابی چوت ۔۔۔۔بالوں سے بالکل پاک ۔۔۔بالکل کھلے ہوئے گلاب کی مانند ۔۔۔۔اس کے ہونٹ بے اختیار رومانہ کی چوت کے لبوں میں داخل ہوگئے ۔۔۔۔مستی کی ایک تیز لہر نے رومانہ کو سر پٹخنے پر مجبور کردیا ۔۔۔۔۔فراز کی زبان اب رومانہ کی چوت میں داخل ہوچکی تھی ۔۔۔۔جیسے ہی فراز کی زبان کی نوک اس کی چوت کے دانے کو ٹچ ہوئی رومانہ کا جسم ایک بھرپور انگڑائی کے ساتھ لہرایا اور چوت اس شدت سے فارغ ہوئی کہ فراز کو اپنا پورا منہ اس کی چوت سے لگا کر اس کا سارا جوس اپنے حلق تک اتارنا پڑا ۔۔۔۔۔فراز نے لن اس کی چوت پر سیٹ کیا اور ایک ہی جھٹکے سے اسے جڑ تک رومانہ کی چوت میں اتار دیا ۔۔۔۔۔ایک بعد ایک تیز جھٹکا ۔۔۔۔۔رومانہ کی چوت ان طوفانی جھٹکوں کی تاب نہ لا سکی اور ایک بار پھر جھڑ گئی ۔۔۔فراز کا لن رومانہ کی چوت کی گہرائیوں میں اترا ہوا اس کی چدائی کر رہا تھا ۔۔۔۔رومانہ کی سسکاریاں اب مستی بھری چیخوں میں بدل رہی تھیں ۔۔۔۔۔محبت کے اس مزے کے لیے وہ کئی سال ترستی رہی تھی ۔۔۔۔اورآج ایک اجنبی سے اسے یہ محبت اور پیار مل رہا تھا ۔۔۔۔فراز کے جھٹکوں میں آتی تیزی اس بات کا صاف اشارہ تھا کہ اب رومانہ کی چوت پھر سے اس کی منی سے سیراب ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔جیسے ہی اس نے فراز کے لن سے نکلنے والی منی کی پھوار محسوس کی اس نے اپنی چوت کو بھینچ لیا اور فراز کا لن چوت کی گہرائیوں میں اپنا رس گرا کر اسے سیراب کررہا تھا ۔۔۔۔۔فراز کے لبوں سے نکلنے والی سسکاریاں رومانہ کی سسکاریوں سے ملیں اور دونوں ایک بار پھر اس طوفان کے تھم جانے کے بعد ایک دوسرے کی بانہوں میں تھے ۔۔۔۔۔۔پورا دن اور رات دونوں ایک دوسرے میں سموئے رہے ۔۔۔۔بہت کم موقع ایسا آیا تھا جب فراز کا لن رومانہ کی چوت میں نہیں تھا ۔۔۔۔ اس طوفانی رات میں ہونے والا ملن ایک اٹوٹ رشتہ بن چکا تھا ۔۔۔۔۔رومانہ اب مسز فراز تھی ۔۔۔۔۔۔ان کی محبت وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ گہری ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔فراز نے رومانہ کو وہ پیار دیا جس نے اس کے سارے دکھ بھلا دئیے ۔۔۔۔۔فراز آج بھی رومانہ کو اپنا مسیحا کہہ کر چھیڑتا ہے اور رومانہ اپنے دل کو فراز پر نچھاور کر چکی ہے کیونکہ اس کا دل ہی تو تھا جس نے اس فراز کے خوبصورت دل کو پہچان لیا تھا ۔۔۔۔ (ختم شد )
  24. 1 like
  25. 1 like
    ویلکم برادر میں آپ کو اس کلب میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ سٹوریز کے لیئے آپ ٹھیک جگہ آئے ہیں۔ مگر یہاں میں آپ کو ایک بات کی مزید وضاحت کر دوں۔فری سیکشن میں آپ کو کاپی پیسٹ سٹوریز مل سکتی ہیں مگر آپ کو اس فورم کے شاہکار پیڈ سیکشن میں ہی ملیں گے۔فری سیکشن میں بھی پیڈ سیکشن کے کچھ ناول کے چند صفحات پوسٹ ہیں۔ان کو ضرور ریڈ کریں ۔چند لنک آپ کو دے رہا ہوں مزید کے لیئے اگر کرنا چاہیں تو پیڈ سیکشن جوائن کریں۔
  26. 1 like
    umeed ha achha experience ho ga
  27. 1 like
  28. 1 like
  29. 1 like
  30. 1 like
  31. 1 like
    ارے واہ جناب آپ تو چھپے رستم نکلے۔۔ ایک ہزار پوسٹ مکمل کر لی آپ نے ۔۔ مبارک ہو جناب ۔۔۔ یوں ہی رونق بکھیرتے رہئے ۔۔ شکریہ خوش رہیں
  32. 1 like
    میری طرف سے بھی مبارکباد
  33. 1 like
    خوش آمدید بھائی آپ کو کون نہیں جانتا جناب اڈمن بھائی کی بات سے میں بھی متفق ہوں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے اردو فن کلب پاکستانی فورم کو جوائن کیا اور اس فیملی کا حصہ بن گئے۔
  34. 1 like
    ویلکم برادر سیکسیریا ہم آپ کو اس آئی ڈی سے جانتے ہیں۔میں آپ کو اردو فن کلب پر خوش آمدید کہتا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ آپ کا وقت یہاں اچھا گزرے گا۔اور آپ خوب انجوائے کرتے ہوئے دوسرے ممبرز کی انجوائے منٹ کا بھی خیال رکھیں گے۔
  35. 1 like
    ایک مسیحا کی کہانی جو خود مرض عشق میں مبتلا تھی۔ پیار محبت اور شادی میں دھوکہ کھا جانے والی ایک حسینہ جو دل اور دماغ کی کشمکش میں گرفتار تھی۔ عاشی کی ایک لازوال تحریر۔
  36. 1 like
    ڈاکٹر صاحب آپ سیکس کے علاوہ بھی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں پیڈ کا کیا فائدہ سائد پاپولر ہو تو اشتہارات کی مد میں بہت کچھ کیا جاسکتا اب بہت عرصہ ہو گیا ہے اب فری میں بھی اب ڈیٹ کردیں
  37. 1 like
    پچھلے دنوں قصور کے واقعے کا بہت چرچا رہا کہ قصور کے ایک گاؤں میں 8 تا 14 سال کے لڑکوں سے زیادتی کرنے والا کوئی گینگ تھا جس نے سینکڑوں کی تعداد میں کم عمر لڑکوں سے جنسی زیادتیاں کیں، ویڈیوز بنائیں، بلیک میل کیا اور شاید ہی گاؤں کا کوئی بچہ زیادتی سے بچ پایا خبریں اس بات کی بھی تھیں کہ کسی زمین کا جھگڑا تھا، کیسز اور ویڈیوز کی تعداد میں مبالغہ آرائی تھی، کیسز اور ویڈیوز تو ہیں مگرکوئی 30 یا 40 اس بحث سے قطعہ نظر کہ کتنی مبالغہ آرائی اور کس قدر حقیقت تھی - لیکن اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کہ 8 سے 14 سال کے کم عمر بچوں میں جنسی بے راہ روی کےرجحانات اور کم عمر لڑکوں سے جنسی زیادتی کے واقعات صرف قصور میں نہیں پورے ملک کے ہر شہر اور گاؤں میں ہیں اس تھریڈ کا مقصد فی زمانہ بڑھتے ہوئے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات اور بچوں میں بڑھتے سیکس رجحان کے حقائق/وجوہات کے مختلف پہلوؤں کے زیر بحث لانا ہے (نوٹ: اس تھڑیڈ کا مقصد بچوں سے سیکس کو پروموٹ کرنا ہرگز نہیں ہے) ہمارے پاس اس موضوع میں دو ذیلی موضوعات ہوسکتے ہیں ا- بچوں سے جنسی زیادتی اا- بچوں میں سیکس کا رجحان ان دونوں موضوعات پر ہم درج ذیل پہلوؤں کا تجزیہ کریں گے پس منظر، طبقہ، علاقہ، معاشی حالات ، خاندانی سیٹ اپ، والدین کی لاپرواہیاں، خواندگی اور شعور کا اثر، محلوں، مدرسوں اور سکولوں میں واقعات، محلے کے اوباش اور آوارہ لڑکوں کا رول، میڈیا اور انٹر نیٹ کا رول اور مزید یہ کہ اس میں بچوں سے زیادتی کرنے والے گینگ، جرائم پیشہ افراد، بلیک میلنگ اور بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات، بچوں کے جرائم کی راہ پر پڑنے کے خطرات ان پہلوؤں اور نکات پر آپ کا جو بھی تجربہ ہے اسے شئر کیجیے
  38. 1 like
    کیا ہوا پارٹ 32 تک تو صحیح یعنی پڑھنے کے قابل ہے مگر 33 سے آگے آخر تک کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ کونسی زبان ہے یا کونسا فونٹ استعمال کیا گیا ہے کیا کوئی اس کو درست کر سکتا ہے مشکور رہوں گا