Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 02/24/2019 in all areas

  1. 12 likes
    کہانی کی پہلی اپڈیٹ میں یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔ لوگوں کے کمنٹ بتائیں گے کہ کیسا رہا؟یاد رہے یہ فری کہانی ہے اور یہ کمنٹ کے ایندھن پہ ہی چل پائے گی۔ نو کمنٹ کا مطلب ہے نو اپڈیٹ
  2. 10 likes
  3. 10 likes
    اگلی اپڈیٹ ایک دو دنوں بعد آئے گی کیونکہ پردیس،آہنی گرفت اور ہوس کی اپڈیٹس پہلے دینا باقی ہیں۔
  4. 8 likes
    کہانی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ رائیٹر کے فرق سے آپ لوگوں کو مایوسی تو نہیں ہوئی۔ جو مجھے مستقل پڑھتے ہیں وہ تو جانتے ہیں کہ میں کہانی کو سیدھا چلنے نہیں دیتا اور گھمن گھمیریوں میں گھماتا رہتا ہوں۔ نئے قاری شاید اسے خاص پسند نہ کریں۔
  5. 8 likes
    میرا اپنا ایک سٹائل ہے، میں سیکس سین پہ زیادہ نہیں لکھ پاتا۔ مگر سیکس سچویشن پہ میری گرفت مضبوط ہے۔ میں شیخو جی کا سٹائل کاپی نہیں کر پاؤں گا کیونکہ سب کا اپنا انداز بیاں ہوتا ہے۔ مجھے صرف اس کو مکمل کرنا ہے تاکہ فورم کے قارئین مایوس نہ ہوں۔
  6. 8 likes
    میں مسلسل اپڈیٹ پہ کام کر رہا ہوں اور دعا کیجیے ایک اپڈیٹ آج رات تک ہو جائے۔ دوسری کل یا پرسوں تک کر دی جائے۔ ساری بات دراصل وقت ملنے پہ ہے اور میں کوشش کر رہا ہوں کہ کوئی بھی اپڈیٹ مس نہ ہو۔
  7. 7 likes
  8. 6 likes
    نیو اپڈیٹ قارئین کو یقیناً شکایت ہو گی کہ میں پرسکون پانی میں تلاطم مچا دیتا ہوں اور کچھ بھی سکون سے نہیں ہونے دیتا۔ مگر کیا کروں عادت سے مجبور ہوں۔
  9. 6 likes
    نیو اپڈیٹ دیکھیں یہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ جو الفاظ میں استعمال کرتا ہوں وہ دراصل میری طبیعت کا حصہ ہیں۔ میں مکالمے ویسے بنا سکتا ہوں الفاظ کا چناؤ میرے بھی بس میں نہیں ہوتا۔
  10. 5 likes
    میرا نام تو آپ لوگوں نے دیکھ ہی لیا ہے ۔ یہ میری حقیقی کہانی ہے ۔ یہ 1997 کہ بات ہے ۔ میں پہلے اپنا تعارف کروا دوں کہ میں ایک انٹر نیشنل کھلاڑی تھا ۔ اور اس وقت کوئٹہ میں رہ رہا ہوں ۔ میرا قد 5فٹ 8 انچ ہے ۔ اور میرا رنگ اور شکل بہت پیاری ہے ۔ جس کی وجہ سے شروع ہی سے لڑکیاں میری طرف مائل ہو جاتی تھیں ۔ مگر چونکہ میرا ذہین کبھی ان کی طرف نہیں گیا ۔ کہ مجھے کچھ بننا تھا ۔ اور دوسرا میری پوری توجہ میری گیم کی طرف جس کی وجہ سے مجھے ان چیزوں کی خاص سمجھ نہیں تھی۔ ان دنوں میں ایک سرکاری محکمے کی طرف سے کھیلتا تھا ۔ مگر صرف ان دنوں ہی جاتا تھا جب گیمز ہوتی تھیں ۔ ورنہ میں سارا سال تقریبا گھر پر ہوتا ۔ جس کی وجہ سے میں ایک پرائیوٹ سکول میں ریاضی پڑھاتا تھا ۔ مگر جب میں دوسرے لڑکوں کو لڑکیوں سے دوستی کرتے دیکھتا تو میرا بھی دل کرتا تھا کہ میری بھی کوئی دوست ہو مگر میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیسے ہو گا سب خیر ان دنوں میں ایک جب میں ایک دن شام کو اپنی پریکٹس کرکے واپس ایا تو پتہ چلا کہ میری والدہ کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہیں ۔ تو میں ان سے ملنے کی بجائے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ ورنہ میں جب بھی باہر سے آتا تھا تو سب سے پہلے اپنے والدہ سے ملتا تھا ۔ کچھ دیر بعد ہی میری والدہ نے مجھے بلایا تو میں ان کے پاس گیا ۔ اور دیکھا کہ ان کے پاس ایک عورت اور ایک مرد بیٹھے ہیں ۔ والدہ نے ان سے میرا تعارف کروا دیا ۔ کہ یہ ہمارے جاننے والے ہیں ۔ اور اپنے گاؤں سے آئیں ہیں ۔ اور یہ کہ ساتھ والی گلی میں ہی کرایے پر گھر لیا ہے ۔مرد کا نام آصف اور عورت کا نام مسرت تھا ۔ کچھ دنوں گزرنے کے بعد میں ایک دن جب سکول سے پڑھا کر واپس آیا ہے ۔ تو والدہ نے کہا کہ میں نے کھیر بنائی ہے ۔ جا کر اپنی باجی مسرت کو دے آو۔ میں نے پہلے تو امی کو بہانہ کیا کہ گرمی بہت ہے ۔ میں ابھی تھک کر آیا ہوں ۔ مگر جب انہوں نے غصے سے کہا تو میں چپ کرکے ان کے گھر کی طرف چل دیا ۔ جب میں ان کے گھر پہنچا اور دروازہ بجایا تو اندر سے ایک عورت نے پوچھا کون ہے تو میں نے اپنا نام بتایا ۔ جس پر دروازہ کھل گیا ۔ اور مجھے اندر آنے کو کہا ۔ جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ مسرت اکیلی ہے ۔ تو میں نے کھیر کی پلیٹ پکڑائی اور واپس انے لگا تو اس نے کہا کہ ایسے نہیں جانا ۔ مگر میں نے بہانا کیا کی میں نے پریکٹس کے لیے جانا ۔ اور وہاں سے واپس آگیا ۔ اب یہ ہوتا کی جب کوئی کام ہوتا تو والدہ مجھے اس کے گھر بھیج دیتی ۔ میں اب آپ کو بتا دیتا ہوں کہ مسرت کیا چیز تھی ۔ وہ کوئی خوبصورت نہیں تھی ۔ بہت زیادہ سانولی رنگت تھی ۔ چہرے پر کچھ زخموں کے نشان بھی تھے ۔ مجموعی طور پر وہ ایک نارمل سی شکل و صورت والی عورت تھی ۔ جوکہ پڑھیں لکھی بھی ۔ نہیں تھی ۔ اور اس کی عمر بھی میرے اندازے کے مطابق تقریبا کوئی 34 سال کے قریب تھی ۔ مگر وہ غیر شادی شدہ تھی اوپر سے وہ ہر وقت بڑی سی چادر لیکر رہتی تھی جس کی وجہ سے اس میں کوئی بھی اٹریکشین نہیں تھی ۔ خیر کچھ دن گزرے تو اس کے ساتھ میری اچھی گپ شپ ہوگئی ۔ ایک دن میں جب گھر گیا تو والدہ نے کہا کہ مجھے کہا کہ ذرا مسرت کے گھر چلے جاؤ ۔ اس کو کوئی کام ہے ۔ میں چپ چاپ اس کے گھر چلا گیا ۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ خیر ہے کیا کام ہے تو بولی کہ کچھ نہیں بور ہو رہی تھی تو تم کو بلا لیا ۔ یہ اگست کا مہینہ تھا اور موسم بھی اچھا تھا ۔ کہ بارشوں کی وجہ سے لاہور کا موسم بیت اچھا تھا ۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا ۔ وہ چائے بنا کر لے آئی ۔ باتیں کرتے کرتے اس نے اچانک مجھ سے پوچھا کہ کہ تمھاری کتنی گرل فرینڈز ہیں ۔ تو میں نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا کہ یہ کیا پوچھنے لگی ۔ جب اس نے دوسری بار پوچھا تو میں میں نے شرم سے بہت آہستہ کہا کہ کوئی نہیں ۔ تو وہ کہنے لگی نہیں بتانا تو نہ بتاو ۔ مگر جھوٹ تو نہ بولو ۔ میں نے کہا کہ تمھیں معلوم ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ میں مجبوری کے بنا جھوٹ نہیں بولتا ۔ اور نہ کسی کو دھوکہ دیتا ہوں ۔ اور میری اس بات کی گواہی وہ لوگ بھی دیتے ہیں جو کہ میرے دوست نہیں خیر میرے بار بار کہنے پر اس نے یقین کر لیا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ اب اس کا سوال یہ تھا کہ کیوں دوست کیوں نہیں اور پھر کہنے لگی کہ پھر تو تم نے کبھی کسی سے کچھ کیا بھی نہیں ہو گا ۔ تو میں نے کہا کہ کہ پتہ نہیں ۔ کہ دوست کیوں نہیں ۔ اور اس کی دوسری بات کو گول کر دیا خیر کچھ دن ایسے گزر گیا ۔ اور جب بھی ہم ملتے تو وہ پہلا سوال کرتی کہ پھر ملی کوئی کہ نہیں ۔ اور ہر وقت چھیڑتی رہتی ۔ ایک دن میں بہت غصے میں تھا ۔ کہ اس کے گھر جانا پڑا ۔ اس نے جب مجھے چھیڑا تو میں نے اس کو کہہ دیا کہ میری اتنی فکر ہے تو تم چدوا لو مجھ سے وہ اس وقت تو چپ کر گئی ۔ مگر کچھ دن بعد س نے مجھے کہا کہ وہ دوستی کے لیے تیار ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ یہ بات کسی کو پتہ نہ چلے ۔ اور ہم اس کے بعد اچھی گپ شپ کرنے لگے ۔ ان دنوں ہی مجھے گیمز کے لیے جانا تھا ۔ اور جس دن جانا تھا میں اس سے ملنے گیا ۔ تو اس نے مجھے پوچھا کہ واپسی کب ہے ۔ میں نے بتایا کہ 7 دن بعد ۔ وہ بولی اچھا۔ اور اچانک میرے پاس آ کر مجھے کسنگ کرنے لگی ۔ جس پر میں پہلے تو کافی دیر اس چیز پر اتنا حیران ہوا ۔ کہ کوئی رسپانس نہیں دے سکا ۔ پر مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ کہ یہ زندگی کی پہلی کسنگ تھی ۔ پھر اس نے مجھے بستر پر گرا لیا ۔ اور میرے اوپر آگئی ۔ کچھ دیر مزید کسنگ کرنے کے بعد اس نے میری شرٹ اوپر کی اور اپنی شرٹ بھی اوپر کر دی ۔ اور اپنے موٹے موٹے مموں کو میرے سینے پر رگڑنے لگی ۔ کچھ دیر بعد اس نے میرا ٹراؤزر اور انڈر وئیر بھی نیچے کر دیا ۔ اور میرے لنڈ کو کو جو اپنے جوبن پر تھا اپنی پھدی کے ساتھ رگڑنے لگ گئی ۔ اور کچھ دیر میں اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگی ۔ اور پھر اس نے مجھے زور سے پکڑ لیا ۔ اور اس کا جسم جھٹکے لینے لگا ۔ اس دوران ہی میں بھی فارغ ہو گیا ۔ اور میری ساری منی اس کپڑوں پر لگ گئی ۔ تو وہ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار یہ کیا کیا ۔ اور اوپر سے اٹھ گئی ۔ جب وہ اوپر سے اٹھ گئی تو میں نے اس کے مموں کو دیکھا جو کہ بہت بڑے تھے ۔ اور لٹکے ہوئے تھے ۔ اور پھر اس نے جو کچھ منی جو میری ٹانگوں پر لگی تھی کو اپنے کپڑوں سے صاف کر دی اور مسکراتے ہوئے باہر چلی گئی ۔ مگر میں اس سب پر حیران و پریشان لیٹا سوچتا رہا کہ یہ سب کیا ہے ۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئی اور کہنے لگی اب اٹھ جاؤ ۔ اور باتھ روم جا کر صاف کر لو میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ اس نے کپڑے بدل لیے تھے ۔ میں بھی باتھ روم جا کر خود کو صاف کیا ۔ اور جب واپس آیا تو اس نے ایک کپ میں گرم دودھ رکھا ہوا تھا۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے 500روپے بھی دیے ۔ میں وہاں سے گھر گیا ۔ اور نہا کر کر سو گیا کہ رات کو مجھے سفر کرنا تھا باقی آیندہ
  11. 5 likes
    پارٹ 2 گیمز سے واپسی تک میں نے بہت بارا بار یہ سوچا کہ مسرت کو کیسے چودوں گا ۔ کہ اس سے پہلے میں نے صرف فلمیں ہی دیکھی تھیں یا دوستوں سے سنا تھا کہ کیا کچھ کرتے ہیں ۔ وہ کیسے یہ سب کرتے ہیں ۔ خیر واپس آنے کے کچھ دن بعد میں خاص تیار ہو کر مسرت کے گھر گیا ۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوئی ۔ اور جیسے ہی میں اس کے کمرے میں داخل ہوا اس نے مجھے اپنے گلے لگا لیا ۔ اسکے مموں نے جیسے ہی میرے سینے کو چھوا ۔ میرے اندر جیسے کرنٹ دوڑ گیا میں ابھی سوچ رہا تھا کہ کیا کروں تو اس نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے ۔ اور میرے دونوں ہونٹوں اپنے ہونٹوں میں لیکر ان کو چوسنے لگی ۔ کافی دیر تک اس نے کبھی میرے ہونٹوں کا رس پیا اور کبھی اپنا رس مجھے پلایا۔ چونکہ یہ میرا پہلا سیکس تھا اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں ۔ مگر میں کافی مزے میں تھا ۔ اس دوران اس نے اچانک میرے لنڈ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ تو مجھے جھٹکا سا لگ گیا ۔ اس دن میں نے انڈر وئیر بھی نہیں پہنا تھا ۔ پھر اس نے پہلے میری شرٹ اتاری ۔ اور پھر مجھے چارپائی پر گرا سا دیا ۔ اور اپنی قمیض اتار دی ۔ اس کے بڑے بڑے ممے اب برا (بریزر) میں سے آدھے نظر آ رہے تھے اور آدھے چھپے ہوئے تھے ۔ اس کی مثال ایسی تھی کے چھپائے نہ چھپے دکھائے نہ دیکھے ۔ اس نے میرے اوپر لیٹنے سے پہلے اپنی شلوار بھی اتار دی ۔ اور میرے اوپر لیٹ گئی ۔ اور دوبارہ سے کسنگ شروع کر دی اور ساتھ ہی اپنے پھدی کو میرے لنڈ پر رگڑنے لگی ۔ اب اس کی سانسیں تیز ہوگئی تھی ۔ کچھ دیر بعد اس میرے ٹراؤزر کو بھی کھنجھااور میرے گھٹنوں تک کر دیا ۔ اور اب میرے کھڑے لن پر اپنی پھدی رگڑنے لگی ۔ جو کہ پوری طرح گیلی تھی ۔ اج جب یاد کرتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس دن میں اس کو چودنے نہیں گیا تھا بلکہ وہ مجھے چود رہی تھی ۔ خیر کچھ دیر بعد اس نے اپنے بریزر کو اوپر کیا اور اپنے ممے کو میرے منہ میں دے دیا ۔ مجھے اج بھی یاد ہے ۔ کہ وہ اتنا بڑا مما تھا کہ اس کا صرف نیپل اور کچھ ہی حصہ میرے منہ میں آیا ۔ اس کا نیپل بھی کم از کم 1 انچ سے زیادہ ہی لمبا تھا میں بڑے مزے سے اس ک نیپل چوسنے لگا ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اس کہ ایک چھوٹا سا بچے اپنی مما کا دودھ پی رہا ہو ۔ اور اس کی سیسکیاں تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھیں اور وہ اب اپنی پھدی کو بہت تیز تیز میرے لن پر رگڑنے رہی تھی ۔ میں بھی مزے کی بہت اونچائی پر تھا ۔ اس نےکی بڑی سے پھدی کے سوراخ پر جب لن کا منہ لگتا تو میرے اندر مزے کی لہر دوڑ جاتی ۔ اس دوران اس نے اچانک اپنی پھدی کا رخ اوپر کو کیا تو میرا لن اس کی پھدی کے اندر گھس گیا ۔ ۔ اب وہ اپنی پھدی کو تیزی سے اوپر نیچے کرنے لگی اور کچھ دیر بعد ہی اس کی سیسکیاں تیز تر ہوگئیں ۔ اور اس کا جسم بھی اکڑنے لگا ۔ پھر اس نے مجھے زور سے پکڑ لیا اور جھٹکے لینے لکی ۔ اور پھر وہ میرے اوپر گر سی گئی ۔ میرا لن اب بھی اس کے اندر ہی تھا ۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی بھی وقت فارغ ہو جاؤں گا ۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ میرے لن نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا ۔ اور جیسے ہی میرا پانی نکل گیا تو وہ بھی مجھ سے اتر کر اس ہی چارپائی پر میرے ساتھ لیٹ گئی۔ اس سب میں تقریبا 3 منٹ لگے ۔ اب حالت یہ تھی کہ وہ اور میں تیز تیز سانسیں لے رہے تھے ۔ اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے میں لگے ہوئے تھے پھر وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اور جب واپس آئی تھی تو مسکرا رہی تھی ۔ اس نے آتے ہی مجھے کہا کہ میں بھی جاؤں اور خود کو صاف کر آؤں ۔ میں نے جب اٹھ کر اپنے لن کو دیکھا کر وہ میرے اور مسرت کے پانی سے مکمل طور پر گندا ہوا ہوا تھا ۔ میں جب واپس آیا تو مسرت نے کپڑے پہن لیے تھے اور پھر اس نے پوچھا کیسا لگا ۔ میں نے کہا کہ مزا تو آیا پر جو دوست بتاتے تھے اتنا نہیں آیا ۔ تو وہ ہنس پڑی کہ تمھاری شرم کی وجہ سے اج سب میں نے کیا ۔ جس دن یہ سب تم کرو گے ۔ اس دن تم کو دیکھنا کتنا مزا آئے گا۔ اور تم بھی خود کہو گے کہ کیا بات ہے پھر وہ گرم دودھ کے 2 کپ لے آئی ۔ جو اس نے اور میں نے پی لیے۔ کچھ دیر بعد اس نے پوچھا دوبارہ کرنے کا موڈ ہے ۔ تو میں بولا ۔ چلو کرتے ہیں ۔ تو وہ بولی اس بار سب کچھ تم کرو گے کہ جب مرد کرتا ہے تو عورت کو بھی زیادہ مزا آتا ہے ۔ میں نے ابھی تک کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا ۔ میں نے اس کو کسنگ کرنا شروع کر دی ۔ اور اپنے ایک ہاتھ سے اس کے ممے دبانے لگا ۔ جب میں نے اس کے ممے کو پکڑا تو مجھے پتا لگ گیا ۔ کہ اس نے صرف قمیض پہنی تھی ۔ نیچے برا نہیں تھا ۔ خیر اس دوران اس کا ہاتھ میرے لن پر آ گیا ۔ اور وہ اس کو مسلنے لگی ۔ جو سکڑ کر نارمل حالت میں تھا ۔ دوسری طرف میں مسلسل اس کو کسنگ کر رہا تھا ور اس کے کبھی ایک ممے کو دباتا اور کبھی دوسرے کو کچھ ہی دیر میں اس کی سانسیں تیز ہونے لگی ۔ اور دوسری طرف مسرت کے مسلسل ہاتھ کھیل نے میرے لن کو دوبارہ کھڑا کرنا شروع کر دیا ۔ اس سارے کھیل میں اب مسرت کے ساتھ مجھے بھی مزا آنے لگا تھا ۔ اس وقت مجھے صرف یہ پتا تھا کہ مرد ۔ عورت کو گرم کرتے ہوئے ۔ کسنگ کرتا ۔ مموں کو چوستا۔ اور چوت کو چوستا ہے ۔ مگر مجھے چوت کو چوسنا پسند نہیں تھا ۔ اور باقی سب کام میں مسلسل کر رہا تھا ۔ اور پھر جب میرا لن کھڑا ہو گیا تو میں نے مسرت کی ٹانگیں اٹھائیں ۔ اور اپنےتقریبا 7 انچ کے لمبے لن اور تقریبا ڈیڑھ انچ موٹے لن کو مسرت کی پھدی کے اوپر رکھ دیا پھر میں نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا لن اس کی گیلی پھدی میں ڈال دیا ۔ آج جب مجھے جب اس کی پھدی یاد آتی ہے تو مجھے ہنسی آجاتی ہے کہ اس کو پھدی کہنا زیادتی ہو گی ۔ کیونکہ وہ نا جانے کتنے لن لینے کے بعد پھدی سے پھدا بن چکا تھا ۔ خیر کچھ دیر کے بعد اس کی پھدی نے اتنا پانی جھوٹ دیا کہ کیا بتاؤں ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں پھدی میں نہیں ۔ کسی کیچڑ سے بھرے سوراخ میں لن ڈال کر ہلایا جا رہا تھا ۔ دوسری طرف اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی ۔ مجھے چونکہ کوئی تجربی نہ تھا اس لیے میں مسلسل گھسے لگا رہا تھا ۔ پھر اس کی پھدی نے کوئی 3 منٹ کی مسلسل چدائی کے بعد پانی چھوڑ دیا۔ جس کا مجھے پتہ نہیں چلا ۔ پھر اس نے مجھے رکنے کو کہا ۔ جب میں اس کے اوپر سے اٹھ گیا ۔ تو۔ اس نے اپنی قمیض اٹھا کر اپنی پھدی کو اچھی طرح صاف کیا ۔ اور مجھے دوبارہ اوپر آنے کو کہا ۔ اب جب میں نے لن دوبارہ اس کی پھدی میں ڈالا تو اب وہ نارمل سی گیلی تھی۔ میں نے دوبارہ اس کو چودنا شروع کر دیا ۔ اب مجھے بھی مزا آ رہا تھا ۔ کوئی مزید 4 منٹ کے مسلسل جھٹکوں کے بعد میں نے اپنا پانی اس کی پھدی میں نکال دیا ۔ اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا ۔ اس نے مجھے اپنی بازوں میں جکڑ لیا اور میرے لن کو جو اس کی پھدی میں تھا اور کچھ اکڑا ہوا تھا کو اپنی پھدی ہلا کر اندر باہر کرنے لگی ۔ اور کچھ دیر بعد اس نے ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا ۔ جس کے بعد ہم نے خود کو صاف کیا ۔ اور میں بنا کوئی بات کیے گھر جانے لگا تو اس نے کہا کہ یار دیکھ لیا کرو کہ میں نے بھی فارغ ہونا ہوتا ہے ۔ اس لیے جب تک میں بھی فارغ نہ ہو آؤں جھٹکے دیتے رہا کرو۔ ابھی تمھارا تجربی نہیں ۔ کچھ دنوں میں ہو جائے گا تو تم سب خود سمجھ جاؤ گے ۔ پر یاد رکھنا ۔ کہ عورت کو بھی لازمی فارغ کیا کرو ۔۔ میں یہ سب سن کر وہاں سے نکل ایا اور گھر جا کر بنا نہائے میں لیٹ گیا کہ کچھ دیر بعد آٹھ کر نہاتا ہوں ۔ مگر مجھے ایسی نیند آئی کہ کیا بتاؤں ۔ شام کو جب میں گیم کرنے گیا تو اس میری حالت ٹھیک نہیں تھی ۔ میرا سانس پھول رہا تھا ۔ اور تھکن بھی ہو رہی تھی ۔ میرے ایک دوست جو کو بہت بڑا چودو تھا نے مجھے سے پوچھا بھائی کیا ہوا ۔ لگتا ہے آج مٹھ کچھ زیادہ ہی مار لی ۔ تو میں ہنس پڑا ۔ چونکہ ہم بہت قریب تھے ۔ اور اس کی ہر چدائی کا مجھے پتا تھا تو میں نے اس کو سب بتا دیا ۔ تو اس نے مجھے کہا کہ یار کرو ضرور ۔ مگر صرف ایک بار ورنہ تمھاری گیم ختم ہو جائے گی اور آگے نیشنل گیمز بھی آنے والی ہیں ۔ کچھ دن بعد میں اس کے گھر گیا تو مجھ سے ناراض تھی کہ بس مطلب پورا ہو گیا تو ملنے سے بھی گئے۔ میں نے کہا ایسی بات نہیں ۔ اصل میں گیمز آنے والی ہیں تو بس س کی تیاری میں لگا ہوا ہوں ۔ اور اس کو کسنگ کی ۔ تو کچھ ناراضگی دکھا کر اور نخرے کر کے مان گئی ۔ میں نے اس کو ننگا کر دیا ۔ اور اس کے کسنگ کرنے لگا ۔ اس کے بڑے بڑے مموں کو چوسنے لگا ۔ اس کی سیسکیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔ کچھ دیر اس کے مموں سے کھیلنے اور اس کو گرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ٹراؤزر اتار دیا ۔ تو اس نے مجھے پکڑ کر نیچے لٹایا ۔ اور خود میرے اوپر آگئی ۔ اور مجھے کسنگ کرنے لگی ۔ جب وہ خوب گرم ہو گئی ۔ تو وہ خود ہی ۔ نیچے آ گئی ۔ میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنا لن ۔ اس کی پھدی میں ڈال دیا۔ اور جھٹکے دینے شروع کر دیے ۔ وہ مسلسل سیسکیاں لینے لگی ۔ کوئی 4 منٹ کی مسلسل چودائی کے بعد اس کا جسم اکڑنے لگا ۔ اور وہ فارغ ہوگئی ۔ مگر میں فارغ نہیں ہوا تھا ۔ اس لیے میں نے اس کی قمیض اٹھا کر اس کی پھدی کو جتنا ہوسکتا تھا خشک کیا ۔ اور اپنے لن کو بھی ۔ اور دوبارہ اس کی چدائی شروع کر دی ۔ اور دوبارہ کوئی 5 منٹ کی چدائی کے بعد وہ اور میں اکٹھے ہی فارغ ہوگئے ۔ اس دن پھر چودا ۔ مگر اس میں وہ مزا نہیں آیا جو دوستوں سے سنتا تھا ۔ جس پر میں نے اپنے دوست سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ باقی آئندہ ۔
  12. 5 likes
    میں اس کا مکمل کر دوں گا مگر اس کے ساتھ ساتھ میرے تین دوسرے سلسلے ہیں جن کو بھی میں ساتھ ساتھ اپڈیٹ کر رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
  13. 5 likes
    جناب کہانی انجوائے کرنے کے لیے ہی ہے اور آپ سب کو کھلی اجازت ہے کہ اپنی رائے کا اظہار کیا جائے۔ مگر رائے کے اظہار کے لیے وہ بات کہنی چاہیے جو کہانی سے متعلق ہو یا کوئی بھی گلہ شکوہ ۔ ہم سب سنتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کو دور کیا جائے۔ مگر اگر کہا جائے کہ اپڈیٹ نہ ہونا بہتر ہے تو ایسے ہی ٹھیک ہے۔ کیا خیال ہے؟
  14. 5 likes
    جناب آپ کی بات درست ہے مگر ایسے بھی ممبران ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے معیار یا مقدار کی ہو تو ٹھیک نہیں تو نہ ہو تو بہتر ہے۔ اس لیے میں نے کہا کہ کیا ضرورت ہے، جب وقت ہو گا اور لمبی لکھنے کا ٹائم نکلے گا تو پوسٹ ہو جائے گی، نہیں تو شیخو جی کا انتظار کر لیں گے۔
  15. 5 likes
    دراصل سب کا ایک انداز ہوتا ہے۔ میرا انداز ہے کہ کہانی ساکن پانی کی طرح نہیں بلکہ منہ زور دریا کی طرح رواں ہونی چاہیے۔ کہانی میں اتنے زیادہ کردار ہوں اور ان کا عملی طور پہ رول کم ہو تو کہانی یکسانیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ میں نے پہلے ہی عرض کی تھی کہ میں اسے اپنے طور پہ ہی لکھ پاؤں گا اور میں خاصا تیز لکھتا ہوں کہ چند ہی لمحوں میں دنیا پلٹ جائے اور ایک کے بعد ایک موڑ آ جائے۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ صرف ایک بندہ ہی پلان کر رہا ہو اور باقی کسی کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ باقی کہانی شیخو صاحب کی ہے، میں تو بس پیوند لگا رہا ہوں۔
  16. 5 likes
    آپ لوگ مایوس نہ ہوں۔ اگر شیخو جی کسی وجہ سے اسے اپڈیٹ نہ کر سکے تو کوئی بات نہیں ہم آپ لوگوں کو مزید انتظار کی سولی پہ نہیں لٹکائیں گے۔ میں کوشش کروں گا کہ اسے کسی طرح اپڈیٹ کر دوں۔ مگر اس سے قبل ہمیں شیخو جی کا انتظار کرنا چاہیے۔
  17. 4 likes
    ڈاکٹر صاحب آپ کے بہت شکر گزار ہیں کہ آپ نے اتنے اچھے طریقے سے کہانی کو آگے بڑھایا اور ہمیں کہیں بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ رایٹر تبدیل ہے یہ کمال صرف آپ ہی کر سکتے تھے اب ہمیں اس کہانی کے متعلق ساری امیدیں صرف آپ سے ہی وابستہ ہیں۔۔ ۔ Good job 100% agreed
  18. 4 likes
    یقین مانیں مجھے ان صاحب کا مشورہ سب سے زیادہ بھایا ہے۔ فورم کی انتطامیہ اور مجھے بھی اس سے سب سے زیادہ فائدہ ہے۔ کیونکہ لکھنے کی مشقت ،پھر کنورٹ کرنے کی محنت اور پھر اپلوڈ کرنے کی خجالت سے کہیں بہتر ہے کہ اپڈیٹ ہی نہ کی جائے۔ کیونکہ اپڈیٹ کرنے سے نہ کرنا بہتر محسوس ہوتا ہے قارئین کو۔ تو میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی وقت برباد نہیں کرنا چاہیے اور ان سلسلوں پہ کام کرنا چاہیے جن کے قارئین کو اپڈیٹ کرنا بہتر محسوس ہوتا ہے اور نہ ہونے سے کوفت ہوتی ہے۔
  19. 4 likes
    کچھ کہنا بڑا مشکل ہے کیونکہ آپ لوگوں کے سامنے میں چار اور اب پانچ سیریل قسط وار لکھتا ہوں اور ساتھ ہی نئی کہانی بھی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایسے میں فورم کے اخراجات کا کوئی اور ذریعہ نہیں سوائے انہی کہانیوں کے۔ اس لیے کچھ کہا نہیں جا سکتا،۔ یہی مسلئہ ہوتا ہے کہ جب کہانی کسی اور کی ہو اور آپ آگے بڑھا رہے ہوں۔ اسی لیے مجھے بار بار پیچھے سے پڑھ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ بہرحال ایسی باریکیاں ابھی نظرانداز کیجیے ،دھیرے دھیرے یہ ڈھل جائے گی اور نیا سانچہ بن جائے گا۔
  20. 4 likes
    فورم صرف ان کہانیوں کی ادائیگی کرتا ہے ۔ جو صرف اردو فن کلب کے لیئے لکھی جائیں۔ اور کسی دوسرے فورم پر پوسٹ نہ ہوں۔ شیخو جی کو میری طرف سے پہلے ہی آفر ہے کہ وہ صرف اردو فن کلب کے لیئے لکھ کر مجھ سے کہانی کی قیمت حاصل کریں۔ مزید ایک ہفتہ تک اس کہانی کی اپڈیٹ نہ آئی ۔ تو ڈاکٹر خان اس کہانی کو مکمل کریں گے۔
  21. 4 likes
    Dear xhekhoo ji app comments ko like karny tu fourm par ate ha but update dene nehi asa kiu ???????? Agar koi problem ha tu bata de hum wait karna he chord de thanks
  22. 3 likes
    ہوس اور اس کی اپڈیٹ پہ کام ہو رہا ہے امید ہے آجکل ہی لمبی اپڈیٹ ملے گی
  23. 3 likes
    شام کو جب میں گیم پر گیا تو میں نے دوست کو کہا کہ آج گیم کے بعد رکنا ۔ اس نے پوچھا کیوں خیر تو ہے ۔ میں نے کہا ہاں کچھ باتیں کرنی ہیں۔ تو اس نے کہا کہ ٹھیک ہے ۔ گیم کے بعد میں نے اس کو سب بتایا کہ میں نے آج ایسے سیکس کیا مگر مجھے مزا نہیں آیا ۔ اس نے کہا کہ میں کچھ سوال کروں گا ۔ ان کے جواب دو ۔ چونکہ ہمارے درمیان کوئی پردا نہیں تھا اس لیے میں نے کہا ٹھیک ہے پوچھو اس نے پہلا سوال کیا ۔ کہ کیا وہ تم سے پہلے فارغ ہو جاتی ہے ۔ میں نے جواب دیا ہاں اگر پہلے فارغ نہیں ہوتی تو میرے ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔ دوسرا اس نے سوال کیا کہ کیا ۔ اس کو گرمی چڑھتی ہے ۔ مطلب تمھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ گرم ہو گئی ہے میں نے کہا ہاں بلکل ۔ وہ مجھے خود بھی کسنگ کرتی ہے ۔ اور اپنے ممے خود میرے منہ میں دیتی ہے ۔ اس نے پوچھا کہ اس کی پھدی کیسی ہے ۔ میں نے پوچھا ۔ مطلب کیسی ہے تو وہ بولا ۔ کہ تنگ ہے کھلی ۔ اور کتنا پانی نکلتا ہے اور دوسرا اب جب تم اس کے پاس جاو تو یہ لازمی دیکھنا کہ کیا اس کی چوت کا پانی چکنا ہے یہ جیسے نارمل پانی ہوتا ہے ویسا ہے ۔ تیسرا یہ دیکھنا کی اس کی پھدی کے باہر کے سرے کیسے ہیں ۔ میں نے اس سے بہت حیرانگی سے پوچھا ۔ کہ ان دونوں باتوں کا کیا مطلب۔ تو وہ بولا یار پہلی بات کا مطلب یہ ہے کہ کچھ عورتوں میں ایک بیماری ہوتی ہے ۔ جسے لیکوریا کہتے ہیں ۔ اگر اس کو وہ ہے تو تمھیں کچھ خاص مزا نہیں آئے گا ۔ پہلے اس کو بولو اس کی دوائی لے ۔ اس نے مجھے ایک دیسی دوائی بھی بتائی ۔ جس سے لیکوریا ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا کہ جب تم کچھ دیر اس کو کسنگ وغیرہ کر لو گے تو پانی چکنا ہو جائے گا جس سے تم کو فرق پتہ چل جائے گا ۔ دوسرے سوال کا مطلب ہے کہ اگر اس نے بہت زیادہ پھدی مروائی ہے اور اپنا خیال بھی نہیں ۔ رکھا تو تو اس کی پھدی کی شکل بدل گئی ہو گی اور اس کی پھدی کے باہر ایسے ایک جھلی نکلی ہو گی جیسے چھچڑے نکلے ہوئے ہیں ۔ اس کی باتیں سن کر میں نے سوچا کہ اب یہ باتیں چیک کروں گا ۔ اس وقت چونکہ انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا اس لیے یہ سب باتیں سب کو معلوم نہیں ہوتی تھیں ۔ اگلے دن سکول سے واپسی پر میں سیدھا اس کے گھر گیا ۔ لیکن جب میں اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ اس کا بھائی اور ایک بہن اور اس بہن کی بیٹی بھی گھر پر تھے ۔ وہ لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے ۔ مسرت کے بھائی نے اپنی دوسری بہن کو بتایا کہ جب میں گھر پر نہیں ہوتا تو ظفر اپنی باجی کا ہر کام کرتا ہے ۔ تو میں ہنس پڑا ۔ مسرت کی بڑی بہن نے بتایا کہ وہ بھی اب لاہور شفٹ ہوگئے ہیں ۔ یہ سن کر میں نے سوچا کہ لو جی ہو گئی چھٹی ۔ پھر میں نے بہانہ کیا اور مسرت کو جان کر پوچھا آپ نے کل بلایا تھا ۔ پر میں بہت لیٹ آیا تھا ۔ امی نے صبح بتایا تو میں سکول سے سیدھا ادھر آگیا ۔ تو مسرت بولی بس وہ کچھ سامان منگوانا تھا ۔ کہ آج باجی نے انا تھا ۔ میں نے کہا اچھا ۔ ٹھیک ہے میں چلتا ہوں تو مسرت کے بھائی نے کہا رک جاؤ کھانا کھا کر جانا ۔ مگر میں نے معذرت کر لی کہ گیم پر جانا ہے ۔ تو انہوں نے وعدہ لیا کہ رات کو آنا کل تو چھٹی ہے۔ کہ ان دنوں جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی ۔ تو میں نے وعدہ کر لیا کہ میں ا جاؤ گا پھر اس کی بہین بولی کہ مجھے بھی ایک کام ہے تو میں نے پوچھا جی بولیں وہ بولی کہ (نام بدل دیا ہے ) آصفہ کا کالج میں داخلہ کروانا ہے ۔ کہ اس نے میڑک کیا تھا گاؤں کے سکول سے میں نے کہا کون سے سبجیکٹ تو انہوں نے کہا جو تم سمجھو یہ پڑھ لے ۔ تو میں نے کہا کہ میں کل پتہ کرواتا ہوں کیونکہ میرے علم کے مطابق داخلے ہو چکے ہیں اور یہ ہی بات میں نے ان لوگوں کو بتا دی ۔ تو وہ بولی اگر کسی کو کچھ دینا پڑے تو بھی دے دینا ۔ کوئی مسلہ نہیں ۔ کہ اس کا شوہر سعودیہ عرب میں تھا۔ میں نے وعدہ کیا جو ہوسکا ضرور کروں گا ۔اور وہاں سے گھر آگیا ۔ پھر ایک دوست کے گھر گیا جو سیاست میں تھا ۔ تو اس نے ٹیلی فون پر ایک بندے سے بات کی جس نے ہزار روپے لے کر داخلہ کروانے کا وعدہ کر لیا ۔ جس پر میں نے اس کو کہو منظور ہے ۔ اس نے اگلے دن تمام کاغذات لیکر کالج آنے کا کہہ دیا ۔ میں نے جب دوست سے پوچھا یہ کون تھا ۔ تو اس نے بتایا کہ اس کالج کا کلرک ہے۔ شام کو جب میں ان کے گھر گیا تو میں نے مسرت کی بہن کو بتایا کہ داخلے کا بندوبست ہو گیا ہے ۔ وی حیران ہو کر بولی ۔ واقعی ہم نے تو بہت کوشش کی پر کچھ نہ بنا ۔ ہم نے تو 5000 تک آفر کی تھی ۔ میرے دماغ میں فورا پیسے لینے کا خیال آیا کہ میں موٹر سائکل لینے کے لیے پیسے بھی اکھٹے کر رہا تھا ۔ میں نے کہا بس ایک جاننے والے کے ذریعے بات کی ہے وہ تو 10 ہزار مانگ رہا تھا مگر ہم نے اس کو 6 ہزار میں فائنل کیا ہے ۔ تو وہ بولی کوئی بات نہیں ۔ دے دئیں گے پیسے ۔ میں نے کہا کہ کل صبع جانا ہے تمام اصل کاغذات لے کر ۔ اور ساتھ 4 تصویریں بھی ۔ تو وہ بولی مگر ہمارے کاغذات تو گھر پر ہیں ۔ میں یہ سن کر سمجھا کہ شاید گاؤں میں ۔ مگر اتنے میں مسرت کا بھائی بولا کہ آصفہ کو میں لے جاتا ہوں ۔ جب تک کھانا بنے گا ہم لے آتے ہیں ۔ پھر تم لوگ کل ادھر سے ہی چلے جانا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ گاوں تو ان کا کم از کم 100 کلو میڑ دور ہے ۔ مگر میں چپ رہا ۔ اور مسرت کا بھائی اور اس کی بھانجی کاغذات لینے چلے گے ۔ کچھ دیر بعد مسرت کی بہن بھی باتھ روم گئی ۔ تو مسرت فورا میرے پاس ا کر بولی واہ میرے شیریہ تو نے جو کیا ۔ تجھے نہیں پتہ اس سے ہمیں ملنے میں کتنی اسانی ہو جائے گی ۔ اور مجھے جب تک دروازہ کھلنے کی آواز نہیں آ گئی کسنگ کرتی رہی۔ میرا لن کھڑا ہو چکا تھا۔ مگر انڈر وئیر کی وجہ سے بس ابھار ہی بنا تھا ۔ میں مسرت سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ جب تمھاری بہن اور بھانجی گھر پر ہوں گے تو کیسے ہو گا ۔ پر اس نے پہلے بولنے نہ دیا اور اب اس کی بہن ا چکی تھی۔ کوئی 30 منٹ بعد مسرت کا بھائی بھی واپس آگیا اور بتانے لگا کہ ہم تصاویر بھی کھنچوا کر لے آئیں ہیں اور کاغذات کی فوٹو کاپی بھی کروا لی ہے ۔ تو میں نے حیران ہو کر پوچھا ۔ اتنی جلدی ۔ گاؤں سے کاغذات بھی کے آئے اور باقی کام بھی کروا لیے ۔ مگر کیسے۔ تو وہ ہنس پڑا اور بتانے لگا کہ باجی نے گھر (م) کالونی میں کی ہے جو کہ ہمارے گھر سے 3 کلومیڑ دور ہے ۔ پھر اس نے کہا کہ وہ کل موٹر سائیکل گھر چھوڑ جائے گا ۔ تم ان کو لے جانا اور لے آنا ۔ اور موٹر سائیکل گھر چھوڑ دینا۔ رات کو کھانا کھا کر خوب گپ شپ کر کے ہم نے لڈو کھیلی اور پھر گھر چلا گیا ۔ اگلے دن میں نے سکول سے چھٹی کی اور 9 بجے تیار ہو کر مسرت کے گھر پہنچ گیا ۔ وہ لوگ بھی تیار تھے ۔ مسرت جو کہ برتن دھو رہی تھی نے پوچھا کہ چائے پیو گئے تو میں نے آنکھ سے اسکے مموں کی طرف اشارہ کر کے بہت ہی آہستہ آواز میں کہا کہ دودھ پینا ہے ۔ جو کہ صرف اس نے ہی سنی ۔ تو اس نے مجھے کہا کچھ انتظار کر لو ۔ اور ہم دونوں ہی ہنس پڑے۔ پھر میں ان کو لے کر نکلنے لگا تو اس کی بہن نے مجھے 7000 ہزار روپے دیے ۔ میں نے جب کہا ک یہ زیادہ ہیں تو وہ بولی ۔ کچھ نہیں ہوتا ۔ رکھ لو ہو سکتا وہاں ضرورت پڑ جائے۔ خیر ان کو کالج لیکر گیا داخلہ کروایا اور ان کو ان کے گھر لے گیا ۔ جہاں اس کی نند ملی جس کا شوہر ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا ۔ اور اس کی ایک بیٹی تھی جو کہ میڑک میں تھی ۔ وہاں سے جب میں واپس مسرت گھر ایا تو وہ جیسے میرا ہی انتظار کر رہی تھی ۔ جیسے ہی میں نے موٹر سائیکل کھڑی کی اس نے مجھے گلے لگا لیا ۔ اس نے کے جب بڑے بڑے ممے میرے سینے سے لگے تو مجھے سیکس چڑھ گیا ۔ اور ہم ایسے ہی گلے لگے کمرے میں آ گئے۔ میں نے چونکہ دل میں دوست کی باتیں بھی تھی تو فورا ایک ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر اس کی پھدی کے پانی کو چیک کیا ۔ تو اس میں چکناہٹ نہ ہونے کے برابر تھی ۔ اس نے مجھے کہا یار کیا ہوگیا بہت جلدی ہے تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اس کے بعد اس نے پہلے میری شرٹ ۔ پھر بنیان اتار دی ۔ اور ساتھ ہی اپنی قمیض بھی ۔ جس کے نیچے اس نے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا ۔ اب ہم دونوں اوپر سے بلکل ننگے تھے ۔ اور میرا لن فل کھڑا تھا اور مجھے درد دے رہا تھا کہ میں نے انڈر ویئر بہت ٹائٹ پہنا ہوا تھا۔ اس نے کچھ دیر میں میرے پینٹ اور انڈر ویئر اور اپنی شلوار بھی اتار دی ۔ جس میں اس کی بلکل صاف شیو کی ہوئی پھدی چمک رہی تھی ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے ابھی ہی بال صاف کیے ہیں ۔ ۔ اس نے کچھ دیر میرے لن کی اپنے ہاتھ سے خوب مالش کی ۔ اس دوران میں نے اس کو کسنگ بھی جاری رکھی اور اس کے دونوں مموں کو خوب دبایا ۔ اور اور جب اس کی سانسیں تیز ہو گئی تو میں نے دوبارہ اس کی پھدی کے پانی کو چیک کیا تو اس میں بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
  24. 3 likes
    ڈاکٹر صاحب آپ کے بہت شکر گزار ہیں کہ آپ نے اتنے اچھے طریقے سے کہانی کو آگے بڑھایا اور ہمیں کہیں بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ رایٹر تبدیل ہے یہ کمال صرف آپ ہی کر سکتے تھے اب ہمیں اس کہانی کے متعلق ساری امیدیں صرف آپ سے ہی وابستہ ہیں۔۔ ۔ اپڈیٹ کے شدت سے منتظر ہیں ہم۔۔
  25. 3 likes
    بات دراصل یہ ہے کہ اپڈیٹ سرے سے نہ ہونے سے تھوڑی ہونا بہتر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اتنی سی اپڈیٹ سے بہتر ہے کہ نہ ہو تو یہ ہمارے لیے تو بہت آسان ہے نا۔ ہم تھریڈ کو بند کر دیں کیونکہ بلاوجہ اس کو چلانا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ یہ مشورہ مجھے پسند آیا ہے کہ محنت کیے بغیر ہی قاری راضی ہوتے ہیں تو کیا برائی ہے؟ بہرحال مذکورہ قاری اس کہانی کو نہیں پڑھ سکیں گے کیونکہ ان کو اپڈیٹ کم ہونا گوارہ نہیں جب لمبی اپڈیٹ ہو گی ان کو رسائی فراہم کر دی جائے گی۔
  26. 2 likes
    مزید اپڈیٹ بھی کر دیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔
  27. 2 likes
    بھائی ۔ یہ بلکل سچی کہانی ہے ۔ اگلی کچھ قسطوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ میں تقریبا 35 کہانیاں شیر کروں گا جو بلکل سچ ہیں
  28. 2 likes
    بھائی جان لوگوں کا کام ہے باتیں بنانا، آپ کی کاوش کا ہم بہت احترام کرتے ہیں، کسی اور کی شروع کردہ کہانی کو ایسے چلانا بہت وقت اور محنت کا کام ہے، یقین کریں میں اپ کا تہدل سے مشکور ہوں، اپ اس سلسلے کو جاری رکھیے، یہ اپ کی محنت ہی ہے کے ہم جیسے لوگ کچھ اچھا پڑھ پاتے ہیں، اور یہ جو اپڈیٹ کی طوالت پر بات کرتے ہیں ان سے خود ایک صفحہ بھی نہیں لکھا جانا۔ اس لیے اپ سے گزارش ہے ان کی فضول لغویات پر توجح نہ دیں اور اس سلسلے کو جاری رکھیے۔
  29. 2 likes
    Dr sahab ap kahani jari rakhen. 1000 main sy koi 2 y 4 aise bat karty han to 9996 to ap ki kahani ko pasand karty han or intzar karty han. ap jari rakhen plz
  30. 2 likes
    Dr.sb yeh kysy ho sakta hy kh sirf phool hee hoon. kanty bhe to hoty hn naa, bake loog zara jazbate ho jaty hn, app ko pata to hy hmari awan aisi he hy sabar o tahamul too hy he nahe,,, app apna kam jari rakheen,,, Zoofi ke entry ka intezar rahy gaa
  31. 2 likes
    دراصل میں ایکشن رائیٹر ہوں اور ایکشن ہی لکھتا ہوں۔ یاداشتیں لکھنے کا مجھے اب اتنا تجربہ نہیں رہا۔
  32. 2 likes
    Dr.sb aap is dastaan ko achi tarah aage let kr chal rahe Hain jo apni manzal ki taraf ravan davan hai bohat khoob. Lekin sheikhu sb hamare aik ache writer theh Meri Admin sb see darkhawast hai k un ki I'd se un ka no. check kr k un ki khareyat daryaft krain thanks
  33. 2 likes
  34. 2 likes
    Story to thek jarhe hai, Albata sex me ab baton ka zda wazahat de rhe the jo story ka maza khrab kr rhe thi. Ap is khani me xheko ka style copy krene ke kohsish krem, apke apne style se wo momentum ni rahe ga
  35. 2 likes
    Zabardast. . Ese he Jaari rakho or jaldi jaldi Update do plz
  36. 2 likes
    کہانی کو اپڈیٹ کرنے سے پہلے ایک سوال کا جواب جاننا ضروری ہے۔ کہانی کے بےشمار صفحات شیخو صاحب نے لکھے ہیں اور ان کی تخلیق ہیں۔ اگر ہم اسے مکمل کرتے ہیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ مگر فورم کی بھی مجبوری ہے کہ ایک مقبول سلسلے کو نامکمل نہیں چھوڑا جا سکتا۔ہاں اسے اسی حالت میں بند ضرور کیا جا سکتا ہے۔ کیا اس کو اپڈیٹ کرنا درست ہو گا؟ دوم، کیا شیخو صاحب کی واپسی کے بعد اس کو اسی انداز میں چلایا جائے یا اس کو وہاں سے آگے چلایا جائے جہاں اس وقت کہانی پہنچ چکی ہو گی؟ بہرحال آپ لوگ کی آرا کا انتظار ہے۔
  37. 2 likes
    I have no experience in chatting but curious though.
  38. 2 likes
    جب سے یہ کہانی شروع ہوئی ہے. کبھی اتنا لمبا وقفہ نہیں آیا. کیونکہ فورم رائٹر کو اس کہانی کی ادائیگی نہیں کر رہا اس لئے یہ فری سیکشن میں پوسٹ ہے اور رائٹر کو اپڈیٹ کے لیے پابند نہیں کیا جا سکتا اگر یہ کہانی ایک ماہ تک اپڈیٹ نہ ہوئی تو فورم رولز کے مطابق اسے ان کمپلیٹ سیکشن میں موو کر دیا جاے گا
  39. 2 likes
    bhai ya to main pagal hun ya ap jhoot bol k hume pagal bna rahay ho pehli story wo b itni achi so awsom i love u yar Forum ko ak aur acha writer mil geya hai
  40. 2 likes
    Bhai mere bura na mano to Ap Dr Khan hi lag rahay ho Pehle pehl to story ak simple c sex story thi but koi 20 number page tak parhne k bad mujhy laga k dr khan hi new id bna k story likh rahay hain Bht achi story hai Apka bht bht shukria forum ko apna time dene pe aur ak achi story nawazne pe
  41. 2 likes
    بہت خوب میں کیا بتاؤں اے جانِ جاناں وہ راز ان مسکراہٹوں کے یقین جانو تو قہقہوں میں ہزاروں آنسو چھپے ہوئے ہیں
  42. 2 likes
    یہ کہانی ہے میری اور میری سالی کی۔اس کہانی میں سارے نام فرضی ہیں۔ کیونکہ یہ کہانی بالکل حقیقت ہے۔میری شادی کو دو سال ہوئے تھے اور میرا ایک خوبصورت سا بیٹا تھا، ایک بار میری بیوی نے فرمائش کی کہ پکنک پر چلتے ہیں سمندر کے کنارے میں نے حامی بھر لی کافی دن سے باہر کا کوئی پروگرام نہیں بنا تھا اس لیے اور میری دو دن کی چھٹی آرہی تھی۔ میری بیوی نے کہا ہم لوگ جیا کو بھی ساتھ لے کر چلینگے جیا میری اکلوتی سالی ہے میرے سسر کے دو ہی بچے تھے ایک میری بیوی اور ایک میری سالی۔ میری سالی کی عمر بیس سال ہے اور وہ خوبصورت تو ہے ہی مگر سیکسی بھی بہت ہے اچھے اچھوں کا ایمان خراب کرسکتی ہے۔خیر پروگرام طے ہو گیا سالی کو بھی مطلع کردیا گیا۔ وہ ایکدن پہلے ہی ہمارے گھر آگئی۔صبح ہم کو نکلنا تھا۔ جلدی جلدی ہم نے ناشتہ وغیرہ کر کے سامان گاڑی میں رکھا اور نکل پڑے 2 گھنٹے کی ڈرایونگ کے بعد ہم لوگ اپنے ہٹ پر پہنچ گئے ہٹ مجھے آفس کی جانب سے ملتا تھا سال ، یہ ہٹ کیا تھا اچھا خاصہ بنگلہ تھا۔ یہ صرف آفیسرز کی عیاشی کے لیے مخصوص تھا مگر میں چکر چلا کر لے لیا کرتا تھا۔ میری بیوی میری سالی سے بہت پیار کرتی ہے اور اسکی ہر بات مانتی ہے اسی وجہ سے مجھے بھی اپنی بیوی کا دل رکھنے کو جیا کی باتیں ماننا پڑتی ہیں۔ خیر ہم لوگ اپنے ہٹ تک پہنچ گئے وہاں کچھ ایسا ہے کہ ہر ہٹ کا کافی بڑا ایریا مخصوص ہے جہاں کسی دوسرے فرد کی آمد نہیں ہوسکتی۔ اسکا راستہ ایک ہی ہے جس سے ہم لوگ آئے تھے اب وہاں دروازے پر گارڈ بیٹھا تھا جو کسی کو بھی بغیر اجازت نامے کے اندر نہیں جانے دے گا۔ اس لئے کافی محفوظ قسم کا ہٹ تھا۔ خیر ہم لوگ وہاں پہنچے اور پہنچتے ہی سمندر میں اتر گئے سمندر بڑا پرسکون تھا۔ موسم بھی بڑا رومانٹیک تھا۔ ہم لوگوں نے کافی دیر تک انجوائے کیا میرا بیٹا اس دوران مزے سے سوتا رہا۔خیر اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور میں تو کافی تھک چکا تھا مگر جیا کو ابھی مستی چڑھی تھی اسنے جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہنی تھی اور وہ پانی سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔میری بیوی نے اس کو آواز دے کر بلایا اور کھانا کھانے کو کہا۔ خیر ہم پھر ہم سب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو میری بیوی اور جیا نے دوبارہ سے پلان کیا کہ سمندر میں جایا جائے مگر میں نے انکار کردیا۔ پھر یہ لوگ چلے گئے اور میں لیٹ کر آرام کرتارہا۔ میرا بیٹا اسی دوران اٹھ گیا میں نے اپنی بیوی کو آواز دی وہ جلدی جلدی سمندر سے باہر آئی اور میرے بیٹے کو دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد جیا بھی واپس آگئی۔ پھر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ جیا کافی تھک چکی تھی سو وہ لیٹی اور لیٹتے ہی سو گئی۔ میں اور میری بیوی باتیں کرتے رہے۔ کافی دیر اسی طرح گذر گئی تو پھر شام ہوئی اور پھر رات بھی ہوگئی اسی دوران جیا جاگ گئی اور اس نے غصے سے میری بیوی سے کہا آپی تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں مجھے سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنا تھا۔ میری بیوی نے کہا تم اتنا تھک گئی تھی اس لیے نہیں جگایا۔ خیر تھوڑی دیر میں جیا نارمل ہوگئی ۔ پھر رات کے کھانے کا انتظام کیا گیا اور ہم لوگوں نے خوب مست ہو کر کھایا۔ اب مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا تھا اور میری بیوی تو کھانا کھانے کے بعد اور بیٹے کو فیڈ کروانے کے بعد مزے سے سو گئی تھی میں نے جیا سے کہا تم بھی سو جاؤ اس نے کہا جی جو اب کہاں نیند آئے گی اتنی دیر تو سو چکی ہوں۔ میں نے کہا اکیلی کیا کروگی مجھے بھی نیند آرہی ہے۔ تمہاری آپی بھی سو چکی ہے۔ اس نے کہا جی جو ابھی نہ سوئیں نا میرے ساتھ سمندر تک چلیں میں نے کہا پاگل ہوگئ ہو کیا میں بہت تھک گیا ہوں تو یہ سن کر اسکا منہ بن گیا۔ خیر میں نے فیصلہ کیا کے اسکی بات مان لیتا ہوں۔میں نے کہا چلو چلتے ہیں باہر، یہ سن کو وہ خوش ہوگئی۔ میں نے اپنی بیوی سے کو جگایا اور اسکو بتایا کہ ہم دونوں ذرا باہر چہل قدمی کرنے جارہے ہیں تم چلنا چاہو گی ہمارے ساتھ تو اس نے کہا نہیں مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے آپ لوگ چلے جائیں۔ یہ کہہ کر وہ تو واپس سو گئی میں یہ بتاتا چلو میری بیوی نیند کی بہت پکی ہے۔ اسکو نیند بھی جلدی آتی ہے اور سو جائے تو اسکو جگانا بہت مشکل کام ہے۔ خیر جیا اور میں ہٹ سے باہر نکلے اور سمندر کے کنارے جا کر بیٹھ گئے ۔ جیا نے کہا جی جو سمندر میں جانے کا دل کر رہا ہے میں نے کہا یہ موسم ٹھیک نہیں سمندر میں جانے کے لیے مگر پھر وہ بچوں کی طرح ضدکرنے لگی میں نے ہار مانتے ہوئے کہا اچھا جو کپڑے تم نے پہنے ہوئے ہیں ان میں سمندر میں نہ اترو یہ سوکھنے میں بہت وقت لینگے اور رات بھر میں ٹھنڈ لگنے سے تم بیمار ہوسکتی ہو۔ تم کپڑے دوسرے پہن کر آجاؤ۔اس نے ذرا دیر سوچا اور پھر ٹھیک ہے کہتی ہوئی ہٹ میں چلی گئی جبکہ میں سمندر کے کنارے ہی بیٹھا رہا چاند نکلا ہوا تھا اسکی چاندنی کافی دور تک سمندر کو روشن کیے ہوئے تھی اتنا کہ ہر منظر کافی صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں جیا واپس آگئی میں نے اسکو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ ایک پتلی سی ٹی شرٹ اور نیچے ٹائڈ پہنے ہوئے تھی جو کہ اسکی پنڈلیوں سے تھوڑا نیچے تک تھا۔ جبکہ ٹی شرٹ اسکی کمر تک ہی تھی اسکی بڑے بڑے کولہے صاف ابل رہے تھے اس ٹائڈ میں سے۔ میں تو اسکو دیکھ کر پاگل سا ہوگیا۔ میں نے کہا اب تم میرا انتظار کرو میں بھی کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں ۔ یہ کہہ کر میں بھی ہٹ میں چلا گیا اور جاکر میں نے ایک بھی ایک ٹائڈ نکالا اور ایک سینڈوز نکالا اور پہن کر جیا کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا چلو اب چلتے ہیں اس نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور ایک تعریفی نظر مجھ پر ڈالی۔ سینڈوز بنیان کی طرح تھا کالے رنگ کا جبکہ ٹائڈ میرے گھٹنوں سے اوپر تک تھا میں نے اسکے نیچے کوئی انڈروئیر نہیں پہنا تھا جس سے میرے لنڈ کی پوزیشن کسی حد تک پتہ چل رہی تھی کہ کس پوزیشن میں ہے۔ خیر ہم دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سمند رمیں چلے گئے پانی ہم دونوں کی کمر تک آرہا تھا تھوڑی دیر ہم پانی سے کھیلتے رہے پھر میں نے جیا سے کہا چلو اور آگے چلتے ہیں اس نے کہا نہیں جی جو دل تو بہت کرتا ہے مگر ڈر بھی لگتا ہے میں نے کہا میں بھی تو چل رہا ہوں تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا یہ کہہ کر میں آگے بڑھا تو جیا کو بھی مجبوراً میرا ساتھ دینا پڑا۔پھر ہم آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گہرے پانی میں پہنچ گئے سمندر بہت پرسکون تھا اس لیے گھبرانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ وہاں پہنچ کر پانی کے دباؤ سے جیا کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اس نے کہا جی جو میرا ہاتھ پکڑ لیں مجھے ڈر لگ رہا ہے میں تو موقعے کی تلاش میں تھا فوراً اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور کافی نزدیک ہو کر کھڑا ہوگیا۔ اب وہ کافی پرسکون لگ رہی تھی۔ کہ اچانک اسکا پاؤں پھسلا اور وہ گرنے لگی کہ میں نے اسکو پکڑااور گرنے سے بچا لیا اسکو پکڑنے کے چکر میں میرا ایک ہاتھ تو اسکے ہاتھ میں تھ دوسرا میں نے اسکی کمر میں ڈالا اوپر پھر اسکو اوپر اٹھاتے اٹھاتے میں نے وہ ہاتھ جو اسکے ہاتھ میں تھا اسکو چھوڑ کر اسکے ایک ممے کو پکڑ لیا اور اسکو دباتا ہوا جیا کو ایک ہی ہاتھ کے بل پر پورا اوپر اٹھایااور اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ تھوڑی دیر تو کچھ نہ سمجھ پائی پھر کہنے لگی جی جو واپس چلیں میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے کہا چلو واپس چلتے ہیں یہ کہہ کر میں نے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا اور ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر ہم چلتے ہوئے واپس آرہے تھے کہ اچانک میں نے سلپ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اسکا وہ ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے کھینچتے ہوئے اپنے لنڈ پر لگایا اور تقریباً زور سے اپنا لنڈ اسکے ہاتھ سے دبا دیا۔ میرا لنڈ جیا کی قربت کی وجہ سے تھوڑا کروٹیں تو لے ہی رہا تھا۔ اسکا ہاتھ لگا تو اسے بھی کرنٹ لگا اور جیا کو بھی مگر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی جو کیا ہو ا سنبھل کے چلیں۔ میں نے کہا ہاں ایسا ہو جاتا ہے جب بغل میں ایک خوبصورت لڑکی ہو یہ کہتے ہوئے میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا ۔ تو اس نے شرما کر نظریں نیچے کر لیں۔ میرا اس سے کافی مذاق چلتا رہتا تھا۔ اس لیے اس نے شاید اس بات کو بھی ویسے ہی لیا ہوگا۔ مگر اسکی آنکھوں کی ایک دم پیدا ہو جانے والی سرخی کچھ اور کہہ رہی تھی۔ خیر ہم لوگ ساحل پر واپس آگئے میں نے جیا سے کہا کپڑے گیلے ہیں چلو تھوڑی دور تک چلتے ہیں کپڑے سوکھ جائیں تو واپس ہٹ میں چلیں گے۔ یہ کہہ کر ہم دونوں چلتے ہو ئے ہٹ سے دور جانے لگے اسی دوران میں نے جیا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے چونک کر میری جانب دیکھا اور پھر مسکرا کر سامنے دیکھنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑاہوا تو تھا ہی ذرا دیر بعد اسکو ہلکے سے دبایا تو وہ منہ نیچے کر کے مسکرانے لگی ، مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں مزید آگے بڑھا تو وہ روکے گی نہیں مگر میں محتاط رہنا چاہتا تھا ہم دونوں خاموشی سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہم لوگ ہٹ سے کافی دور آچکے تھے۔ یہاں ساحل تھا دور تک اور کوئی بندہ نہ بندے کی ذات دوسرے ہٹ بھی کافی دور تھے جہاں سے کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا کچھ کچھ فاصے پر بیٹھنے کے لیے سیمنٹ کی بنچز بنی ہوئی تھیں۔ جن پر ٹائلز لگے ہوئے تھے میں نے جیا سے کہا چلو ادھر بیٹھتے ہیں تھوڑی دیر یہ کہہ کر میں اسکے جواب کا انتظار کیئے بغیر اسکو کھینچتا ہوابنچ تک لے گیا۔ پھر ہم دونوں بنچ پربیٹھ گئے میں اسکے بلکل نزدیک چپک کر بیٹھا تھا اور اسکا ہاتھ ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔میں نے جیا سے کہا ایک بات کہوں ؟ اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہا جی کہیں جی جو۔ میں نے کہا پہلے وعدہ کرو تم برا نہیں مناؤ گی۔ اس نے کہا آپ کی کسی بات کا برا نہیں مناتی میں آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے جیا سے کہا تم بہت خوبصورت ہو جیا۔ میرا دل چاہتا ہے تمکو پیار کرنے کو۔ یہ سن کر اسکا چہرہ سرخ ہوگیا۔پھر میں نے ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھ کر اسکا چہرہ اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں شاید وہ آنے والے لمحات کا اندازہ کر رہی تھی اسی وجہ سے انکی شدت سے اسکی یہ حالت تھی۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے پہلے تو وہ ذرا کسمسائی مگر پھر خود کو تقریباً میرے حوالے کردیا۔ میں نے ایک لمبی کس کی اسکے ہونٹوں پر اور پھر اسکی جانب دیکھتا ہوا اسکا ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا وہ اپنے لنڈ پر رکھ دیا اور ذرا سا دبایا۔ جیا کو ایکدم کرنٹ سا لگا مگر شاید اسے اچھا بھی لگا ہوگا اسی وجہ سے اس نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ جیا میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے اوہ اب تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا میں نے جیا کے ہاتھ سے ہاتھ ہٹا لیا کیونکہ اب وہ ہاتھ خود کام کر رہا تھا میں نے وہ ہاتھ جیا کے ایک ممے پر رکھ کر اسکو زور سے دبایا اور اسکا پورا بدن ایک دم کپکپا اٹھا۔ وہ میری جانب ہراساں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ پھر میں نے مزید انتظار نہ کیا جہاں اتنا کچھ ہو گیا وہاں مزید ہونا بھی مشکل نہ تھا، میں نے اسکی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال دیا اور بریزر پر سے ہی اسکے ممے کو دبانے لگا۔ اب جیا کا سانس تیز چلنے لگا تھا۔ جی جو یہ کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آجائے گا میں بدنام ہو جاؤں گی ۔ میں نے کہا یہاں اس وقت کوئی نہیں آئے گا۔ اور تمہاری آپ مست ہو کر سو رہی ہے۔ تم بس انجوئے کرو، میری بات سن کر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو ہمارا ہٹ اور باقی دوسرے ہٹ کافی دور دور تھے اور پورے ساحل پر ہم دونوں کے سوا کوئی تھا بھی نہیں۔ اسکے چہرے پر اب سکون کے آثار آگئے تھے میں سمجھ گیا کہ اب اسکو کوئی فکر نہیں ہے لہٰذا میں جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکی ٹی شرٹ کو اوپر اٹھایا تو اس نے مزاحمت کی مگر میں نے اسکی جانب دیکھا تو اسکی آنکھوں میں عجیب طرح کی مستی سی تھی۔ میں نے دوبارہ کوشش کی اور اسکی ٹی شرٹ کو اتار دیا اس بار اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ کالے رنگ کے بریزر میں جکڑے ہوئے اسکے گورے گورے بڑے بڑے ممے میرا دماغ ابال رہے تھے۔ میں نے اسکو اپنے سینے سے لگایا اور پیچھے ہاتھ لے جا کر اسکے بریزر کے ہک کھول کر اسکے خوبصورت مموں کو بریزر کی قید سے آزاد کر دیا اس نے شرما کر دونوں ہاتھوں سے اپنے ممے چھپا لیے میں نے مسکرا کر اسکی جانب دیکھااور کھڑا ہو کر اپنا سینڈوز اور ٹائڈ ایک ہی لمحے میں اتار دیا۔ وہ مجھے پور ننگا دیکھ کر عجیب سے ہوگئی میرا لنڈ اسکے ممے دیکھ کر پورا تن کر اپنے فل سائز میں آچکا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ اور پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اب میں اسکے نزدیک بیٹھا اور اس سے کہا کھڑی ہو جاؤ وہ سوچتے سوچتے کھڑی ہوئی تو میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکا ٹائڈ اسکے گھٹنوں تک کھینچ کر اتار دیااب اسکی کنواری چوت میری نظروں کے سامنے تھی۔ میں نے اسکی چوت پر ایک کس کیا تو وہ ایک بار پھر سے کپکپا اٹھی۔ اور میں نے دیکھا کہ اس نے باقی ٹائڈ خود ہی میرے کہے بغیر اتار دیا تھا شاید وہ بھی اب یہ چانس ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھر میں نے اسکو بینچ پرلٹا دیا اور اسکے ممے چوسنے لگا وہ پاگل سی ہور ہی تھی اور اس کے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں اسکا بدن گرم ہونے لگا تھا۔ خود میرا بھی حال کچھ اس سے مختلف نہیں تھا بس فرق اتنا تھا کہ اسکا پہلا موقع تھا اور میں کئی بار اپنی بیوی سے یہ سب کر چکا تھا۔ پھر میں نے مزید آگے بڑھنے کا سوچا اور اسکی چوت پر انگلی رکھی تو پہلے سے گیلی ہو چکی تھی بس اب کیا تھا میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ اور اسکو دبایا تو میرے لنڈ کا ہیڈ اسکی چوت میں چلا گیا وہ تکلیف سے اچھلنے لگی ۔ جی جو بہت تکلیف ہو رہی ہے پلیز یہ سب نہ کریں میں نے کہا ابھی تکلیف ختم ہو جائے گی بس پھر مزے کرنا۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا لنڈ واپس باہر نکالا صرف اتنا کے وہ اسکی چوت سے الگ نہ ہو اسکے بعد دوباہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ میں نے اسے اندر ڈالا اوروہ اسکی چوت کو پھاڑتا ہو کافی اندر تک چلا گیا اب وہ درد سے کراہ رہی تھی چیخ اس لیے نہیں رہی تھی کہ اسکو ابھی بھی ڈر تھا کہ کوئی اسکی آواز سن کر آ نہ جائے۔ پھر میں نے ایک بار پھر وہ ہی عمل کیا اور لنڈ کو تھوڑا باہر نکال کر پھر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اندر گھسیڑا میرا پورا لنڈ اس کی چوت میں داخل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بتاؤں اسکی چوت کتنی ٹائٹ اور کتنی گرم تھی۔ مزے کے ساتوں آسمان پر پہنچ گیا تھا میں میرا دل کر رہا تھا اسی طرح زندگی ختم ہو جائے میرالنڈ اسکی چوت میں ہی رہے۔ پھر میں نے تھوڑا لنڈ باہر نکالا اور پھر اندر کیا اور یہ عمل بار بار کرتا رہا اسکی تکلیف کافی حد تک کم ہو چکی تھی اور وہ تیز سانسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔میں نے پورا لنڈ اسکی چوت میں ڈال کر اسکے اوپر لیٹ گیا اب وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی اس نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا میں سمجھ گیا اب وہ بالکل تیار ہے چدنے کے لیے میں نے اپنا کام شروع کردیا اور تیز تیز لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا ۔ ایک تو سمندر، دوسرے چاندنی رات اور پھر جیا جیسے خوبصورت لڑکی میرا تو دماغ جنت کی سیر کر رہا تھا۔ میں نے بھی زیادہ سے زیادہ وقت کھینچنے کے لیے کوشش کی اور تقریباً دس منٹ تک اسکی زبردست چدائی کی اس دوران وہ دو بار فارغ ہوچکی تھی اور ہر بار زور دار آہیں بھرنے کے بعد کہتی تھی جی جو بس کرو اب میں تھک گئی مگر میرا لنڈ تو جیسے دیوانہ ہوگیا تھا وہ کہاں رکنے والا تھا جب تک اسکا لاوا نہ نکل جاتا۔ خیر پھر میں نے بھی فارغ ہونے کا فیصلہ کر لیا اور لنڈ کو تیز تیز اندر باہر کرتا رہا۔ اور آخر کار زبردست جھٹکوں کے ساتھ میرا لنڈ اسکی چوت کو اپنے لاوے سے بھرنے لگا۔ اب کی بار اسکا پورا بدن ایسے کپکپا رہا تھا جیسے کسی مشین پر لیٹی ہو۔ خیر میں تھوڑی دیر اسکے اوپر ہی لیٹا رہا اور اسکے بدن کو چومتا رہا۔ پھر ہم دونوں اٹھے اور کپڑے پہن کر واپس سمندر میں چلے گئے تاکہ خود کو صاف کرسکیں وہاں بھی میں نے اسکو خوب مساج کیا اور اسکی چوت میں انگلی ڈالی۔ پھر ہم واپس ہٹ میں آگئے اور سو گئے اسکے بعد بھی کئی بار میں نے اسکو چودا جب جب موقع ملا وہ بھی میرے لنڈ کی دیوانی ہو چکی تھی۔
  43. 2 likes
    Thanks paa click kiya jata k like k liy
  44. 2 likes
    laga maine apne legs unki kamar par kanchi ki tarah kas diye aur main bhi ab gaand utha utha kar rythem dene lagi, wo bole, "sabash rani, ab tu randi ho gai hai". main is doran 3-4 baar chut chuki thi, aur wothe ki rukne ka naam nahi tha. 15-16 minute chodne ke bad, unhone mujhe ghodi ban jane ko kaha, mai uth kar farash par aa gai aur ghodi style me ho gai, unhone meri kamar pakad kar apna lund peeche se meri chut me daal diya, mujhe phir dard hone laga,par unhone mujhe smajhaaya ki baada me mazza aayega ye sab se achchi style hai (Meri shehali bhi yehi kahti thi). Main maan gai aur peeche push kar kar ke rythem milane lagi, 10-12 minute ke baad wo meri chut me jehad gaye. is tarah se hum dono poori tarah thak chuke the. aur saath saath let gay.....unhone mujhe pyar se chumma...Thodi der baad unhone mujhe ek goli di, kahan ye khale tu pregnant nahi hogi, ab mai samjhi unhone condom kyo nahi lagaya tha... kuch der baad unhone mujhe khan "ANJU aur mazza legi", aur unhone apna lund jo ki phir khada ho gaya tha mere hath me de diya,"Please ise pyar karo". Maine kahan "Nahi ye sab mujhe accha nahi lagata, aap iske siva kuch bhi kahenge mai karrongi""Thik hai, ab mujhe tumhari GAAND chaiye" main dar gai"Nahi"par unhone mujhe ulta kiya aur meri gaand par apna lund tika diya, mai samajh chuki thi ab mujhe gaand deni hi padegi (meri saheli bhi gaand marwa chuki hai, kahtithi ki ke kuch mard ki hawas isi se shant hoti hai) yeh soch kar mai maan gai ki jab inhone mujhe itna mazza diya he to main bhi inko kyo naa khush karu. aur maine apni gaand unke lund ki taraf adjust kar di, ab main neeche pait ke bal leti hui thi aur wo mere upar lete hue the unka lund meri gaand par tika tha, unhone phir se 2 takiye liye aur merestomach ke neeche rakh diye, ab meri gaand upar ho gai thi unhone mere gaand ke ched par thuk lagaya aur lund tika diya, phir ek gahri sanns li aur dheere-2 lund ghusane lage, unka topa hi andar ja saka, par meri cheekh nikalne wali thi... unhone phir thuk lagaya aur try kiya lekin wo nahi gaya. main bhi cheekh rokne ke liye danto se apne lowerlips ko bheech rakha tha. Abke unhone mujheghodi style me kiya aur lamp shed ki light adjust kar di, ab meri gaand ka ched unhe saaph nazar aa raha tha, unhone phir thuk lagaya aur lund ko ched pe tika ke meri kamar pakad kar teji se dhaka diya...cheeeeeeerrrrrrrrr.. unka aadhe se jyada lund ghus gaya tha......phir wo nahi ruke....andar-bahar---aur mera rona nikal rahatha, par mazza bhi bahut aane laga......kareeb15minute baad wo ruke aur andar hi nikal diya...Is tarah raat ke 3baj chuke the, maine apne kapade pahne aur apne room main chali gai...agle din main bistar se uth bhi nahi saki, main school nahi gai, fever ka bahane maar kar leti rahi. Raat ko phir 11baje unka phone aaya, laakh kosis ke bawjood main apne ko rok nahi saki, aur unke room main phir aa gai...that night he shown me a XXX of sucking lund , unhone aakhir mujhe manahi hi liya, and i had to givehim blowjobs....yah sab agle 6 raat tak chala, unhone mujhe khub pyar diya, har tarah se, har style me mujhe chodo.. .unhone mujhe bistar ke saath baandh kar bhi sex kiya.... 7 din baad unki wife aa gai... aur hamine wo sab rokna pada... baad me unhone apne ek dost ke Flat ka intzaam kiya, par hum 3-4baarhi kar paye. Phir unki biwi ko pata chal gaya aur wo chale gaye, phir koi contact nahi kiya...par main aaj tak unhe nahi bhuli halanki baadme mere 2boy friend bhi bane par un me wo baat nahi thi... Plz hit thanks.... Agrr aap ko pasand i to zrror btyia ga... Meri agli khani jaldi aay gi... Ye meri pahli story ha agr koi ghalt ho to soory
  45. 2 likes
  46. 2 likes
    مجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا میری آنکھ کیسے چھلک گئی یہ دکھ ہے کہ بُرا ہوا میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں ابھی تیرگی ہے ابھی روشنی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہو ا مجھے کیوں نہ سمجھ سکے یہ اپنے دل سے ہی پوچھیے میری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا وار خطا ہوا مجھے راستے میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا کہیں آنسؤوں سے مٹا ہوا جو نظر بچا کے گذر گئے میرے سامنے سے ابھی ابھی یہ میرے شہر کے لوگ ہیں میرےگھر سےگھر ہے مِلا ہوا مجھے ہمسفر بھی ملا تو ستم طریف میری طرح کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں کا لُٹا ہوا میرے اِک گوشہ فِکر میں میری زندگی سے عزیز تر میرا اک ایسا بھی دوست ہے جو مِلا کبھی نہ جدا ہوا
  47. 2 likes
    میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے جو ہیں طعنہ زن میری ذات پر، مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں مجھے جان سے وہ عزیز تر، میری دوستی بھی عجیب ہے میں لہو جگر سے گداز کر، تجھے نقش کرتا ہوں ورق ورق ہے قلم کی نوک سے مختصر، تیری آگہی بھی عجیب ہے میں پہر کی تپتی ہواؤں سے، کڑی دھوپ میں کھڑا بے خبر سرِ راہ گزر تیرا منتظر، میری بے بسی بھی عجیب ہے
  48. 1 like
    Khani ko bar bar parny ko dil kr raha ha kamal ha ya
  49. 1 like
    ........ khan ne whisky ki bottle utha kar peg banaya or mujhe pucha ...... mujhe bhi sarror halka lag raha tha ............... mene bhi apna peg bana liya ..... anju bhi mere sath-2 chipki hui thi ........me khan ke pass padi chair par jake beth gaya .... mene anju ko kaha tum jara hema ke pass jake betho me khan se kuch baat karunga ,..... anju chali gayi mene khan se kaha.... ab kya karna hai mera kaam kaise hoga ........khan kuch bolta itne me singh bhi hamare pass ake beth gaya ...... or bola jara mere liye bhi 1 peg banao ...... mene usko peg bana kar diya or kaha ..... yar tum dono ne to apne-2 lode ko khurak khila di ab mere liye to kuch karo ....... singh ne mujhe tirchi najar se dekhte hue kaha ..... sale tere liye hi to ye sab drama...... ho raha hai warna to ab tak humne in dono ko chod diya hota ......... mene kaha matlab ..... singh ne sip karte hue kaha ....... jab tak hum ... anju ki gand nahi fadenge tab tak wo teri help kyo mangegi ..... or jab tu uski help karega to wo khud tere ko apni choot maarne ko bolegi ..... agar tune sedha-2 usko chodna hai to chod le par aaj ke baad wo teri randi nahi ban ke rahegi .......... tere se wo yaha majboori me chudwakar ...... shayad tujhe wo maja na de jo tu lene chahta hai ..... mene kaha ha yar me usko apni randi bana kar hi chodunga .... ..... usko aise chodkar shayad mere dil ko rahat nahi milegi ....... singh bola isi liye to hum dono drama kar rahe hai................... taki jab usko hum se bachane wala koi nahi ho ................ tab tu usko bachane ki keemat dega ......usko ye lagega ki tune usko hum se bachaya hai ..........tab hi to wo teri randi banegi ....or tu keemat wasool karega .........singh hasne laga bol hai ki nahi ...... tabhi to tu us se keemat wasool karega ........... me singh ke dimag me jo chal raha tha samjh gaya ..... mene kaha ab kya karna hai ..... singh bola hema ko to chod liya hai ab anju ka no lagana hai ....... ab khan anju ko chodne ke liye jayega or anju khan se bachne ke liye tujhse help mangegi tu anju ke saamne khan ko 1 lakh dene ka wada karega ...... khan bola mujhe sach me 1 lakh milenge ya chutiya bana raho ho tum dono ...... mene kaha khan agar anju meri randi ban gayi to me tujhe jo kahega wo dunga sun kar khan bola yar tu to sach me bada dildaar hai ..... singh bola ..... khan sameer se tu kuch nahi lega mujh par iske kai ehsaan hai aaj iske liye kuch karunga to mere liye khushi ki baat hogi .....khan ne ek or bada sa peg banaya or gatagat pee gaya ..... fir bola me ab anju ko chodne ke liye ja raha hu ........ singh bola usko chodna nahi hai bas acting karni hai ........ khan ne kaha pata hai .........khan uth kar anju ke pass chala gaya ........ khan ne anju ko jate hi kaha chal ab jaldi se sidhi let ja .....................tujhe chodunga me ...... ..chudne ke baat ....... ... sun kar anju kaanp uthi ...... usne mujhe dekha ............ me bhala kya kehta ..... me hi to sab karwa raha tha .........me dusri taraf dekhne laga ..... khan ne anju ki chuhi ko jor se dabya or bola jyada natak mat kar nahi to accha nahi hoga anju ne rote hue kaha sahab aapka bahot bada hai me mar jaungi ...... ...... mujhe bada dar lag raha hai .......... khan ne kaha .... tujhe marne nahi dunga .....bas teri choot fat jayegi uski chinta to mat kar ....................me teri choot agar jyada fat gayi to tera ilaaz karwa dunga .... lekin tujhe chodunga jarror ..... khan ne anju ko dhakka marte hue bed par jabardasti ........lita diya or uske uper chad gaya ..... anju bachne ke liye hath per maar rahi thi...................... par khan ke saamne uski ek nai chal rahi thi ......... anju khan se bachne ke liye tadaf rahi thi .... or ro rahi thi .......ye sab hema sab dekh rahi thi ......khan ka lund dekh kar usko bhi dar lag raha tha ...............par wo isliye chup thi ki abhi uska .... no nahi tha ................ singh ne mujhe kaha chal ab tu anju ke pass ja or me hema ko ek bar or chodta hu................ me bed ke pass aa gaya anju ne mujhe dekh kar ......... fir se kaha sir plz mujhe bacha lo ...................khan ne kaha ye tujhe ....... bacha hi nahi sakta ...........or khan fir se anju ko jabardasti chodne ki koshish karne laga ........... anju us se bachne ke liye request kar rahi thi ....khan anju ke jism ko masal raha tha ..... anju ..... ko bhi ab shayad .... lagne laga tha ki uska bachna mushkil hai ......... itne me singh ne kaha ....... khan ...... agar ye choot nahi marwa rahi to .....gand kaise marwaygi .......anju sun kar or darne lagi ...... khan bola pehle iski choot maar lu fir iski gand bhi marunga .......singh bhi ab mood me aa gaya tha ....... singh ne hema ko kaha chal lund choos ...... hema ne singh ka loda chusna shur kar diya ..........ab khan ki pakad me anju ka itna bura haal ho gaya tha .... ki wo ..... sab kuch karke bhi khan se bachna chahti thi .................mene singh ko ishara kiya ...... singh ne loda chuswate hue khan se kaha yar jab nahi maan rahi to chhod sali ko ..... khan ne kaha aise kaise chhod du .............. isko to me chodunga or fir iski gand bhi marunga ..... khan ki baat sunkar anju khan ko dekhne lagi ...... anju ne rote hue mujhe dekha or meri taraf dekh kar kaha ,,......... sir mujhe bacha lo ..... aap jo kahoge me karungi .... mene kaha anju me kya karu...... ye maan hi nahi raha .......agar ye maan jaye to me isko muh mangi keemat dene ko tayyar hu .............dekh nahi rahi me isko kitni requst kar raha hu ....... anju boli sir aap mujhe bacha looge to me aapko ritu se bhi jyada acchi ban kar dikhaungi .......... ye sun kar khan bola ye ritu kon hai ..... mene anju ko ishara kiya ki wo uska naam fir nahi le .......... me khan ko ritu ke bare me kuch nahi batana chahta tha .......... mene khan se kaha .........iske muh se nikal gaya aise hi koi naam ..................fir mene mene khan se kaha khan sahab aap isko chhod do me aapko muh mangi keemat dene ko tayyar hu ...... khan ne kaha dega mene kaha ha aap isko chhod do ..... khan anju ke uper se hat gaya .... or bola isko chhodne ke badle 1 lakh lunga ....... mene anju ki taraf dekha ..... anju bhi 1 lakh sun kar kuch bol nahi payi ..... ..... mene kaha theek hai lekin pehle me anju se akele me baat karunga .... khan bola karlo .... mujhe jaldi se batao nahi to me isko chod dunga ........ me anju ko lekar ek side me aa gaya ... . mene kaha anju ye 1 lakh maang raha hai ...... de du ...... bolo ......... anju ne kaha sir aap mere liye kya 1 lakh de doge ....... ..... mene kaha ha de dunga par wo 1 lakh ke badle tumhe bhi kuch karna hoga ...................anju ne kaha aap jo kahoge me karungi ...... me puri jindgi aapki seva karungi ........ mene kaha tumhe meri randi ban kar rehna hoga ....... anju ne mujhe dekha .......fir mene kaha tumhe meri har baat maanni hogi me jo kahunga tum wo karogi ......kisi baat ke liye mana nahi karogi ..... bolo manjoor hai .... anju ne kaha jo aap kahoge wo karungi ........ mene kaha soch lo kahi baad me koi drama karo ....... .... anju ne kaha sir me aapka har hukum manungi ..... aapki gulam ban kar rahungi ..... bas aap mujhe bacha lo ...... mene khan ko awaj di or kaha ek min khan sahab ...... khan hamare pass aagaya ... mene kaha khan sahab me aapko 1 lakh dene ko tayyar hu ........khan bola theek hai me isko kuch nahi kahunga ........ par sahab ka pata nahi wo mane ya na mane ... anju fir se dar gayi ..... mene khan se kaha tum sahab se baat karlo ho sakta hai wo bhi maan jaye ..........khan chala gaya mene anju ko kaha agar iska sahab maan gaya to fir koi dikkat nahi hai .......singh ab tak hema ki choot me apna lund ...... daal kar hema ko dubara chod raha tha .... heme ko ab utna dard nahi ho raha tha par wo dabi awaj me cheekh rahi thi ....... singh ne hema ko ab apne uper le liya tha or usko chod raha tha .......khan bhi hema ke pass jake apna lund heme ko chuswa raha tha thodi der baad singh jhad gaya ..... jaise hi singh ne hema ki choot se lund nikala khan ne hema ki choot ko anju ki salwar se saaf kiya or apna lund hema ki choot me pel diya khan ke lund se hema ko bada dard hone laga wo dard se tadaf rahi thi khan usko chod raha tha mene anju se kaha tumko khan se dar lag raha tha khan to maan gaya iske sahab se to dar nahi lag ... raha .... anju boli .... sir me in dono se nahi karwana chahti .... mene kaha fir mujhse kaise karwaogi ...... anju ne mere se sat kar sharmate hue kaha aapse karwa lungi.................... ا
  50. 1 like


×
×
  • Create New...