Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 12/23/2018 in all areas

  1. 9 likes
    update.. .میں نے مٹھ مار کر ساری منی نسرین کے جسم پر انڈھیل دی ۔ اور لمبے سانس لیتا ھوا چارپائی سے اترا ۔ اور جب بلب کی روشنی میں لن کو دیکھا تو میرا لن نسرین کی پھدی سے نکلنے والے خون سے رتا لال ھوگیا تھا ۔۔ خون کی بدبو بھی میرے نتھنوں سے ٹکرا رھی تھی ۔ نسرین ابھی تک ویسے ھی لیٹی ھوئی کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔ میں نے لن صاف کیے بغیر ھی ٹراوزر پہنا اور نسرین کے بازو کو پکڑ کر اسے ہلاتے ھوے کہا ۔ نسرین اٹھو بہت دیر ھوگئی ھے جلدی سے کپڑے پہنو ۔۔ نسرین نے آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرائی اور پھر اٹھنے لگی تو آہہہہہہہہ کرتے ھوے پھر لیٹ گئی ۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھا کے بٹھایا اور ادھر ادھر دیکھتے ھوے کپڑا تلاش کرنے لگ گیا ۔ اور پھر میری نظر ایک میلے سے گہرے رنگ کے کپڑے پر پڑی جسکو شاید جھاڑ پونچھ کے لیے استعمال کرتے تھے ۔۔ میں نے جلدی سے وہ کپڑا اٹھایا ۔ اور نسرین کے جسم پر لگی منی صاف کی اور پھر اسکی ٹانگوں کو صاف کیا جو خون سے بھری ہوئیں تھی ۔ نسرین کی حالت کافی خراب تھی مگر اس کی ہمت تھی کہ وہ خود کو سنبھالے ھوے تھی اور صفائی کے بعد کراہتی ھوئی چارپائی سے اتری تو جیسے ھی اسکی نظر شیٹ پر پڑی تو اس نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے اور پھٹی آنکھوں سے خون سے بھری شیٹ کو دیکھنے لگ گئی ۔ ۔ میں. نے اسے دلاسا دیتے ھوے کہا ۔ نسرین گبھراو نہیں یہ تمہارے کنوارے پن کی نشانی تھی پہلی دفعہ خون نکلتا ھی ھے ۔۔ نسرین میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ یاسر جو بھی ھوا اچھا نہیں ھوا ۔ تم نے مجھے کسی کا نہ چھوڑا ھے ۔ ھاے میری بدقسمتی کہ تمہارے ساتھ کیوں آئی ۔۔ اس سے پہلے کہ نسرین کے رونے اور دُکھڑے پھر شروع ھوتے میں نے جلدی سے شیٹ اکھٹی کی اور اسے یہ کہتے ھوے کمرے سے باہر نکل گیا کہ جلدی سے شلوار پین لو اور یہ رونا دھونا بند کرو ورنہ عظمی اور نازی کو شک ھوجانا ھے ۔۔ میں شیٹ پکڑے واش روم میں گیا اور اسے اچھی طرح دھو کر واپس کمرے میں آیا اور شیٹ کو ویسے ھی لپیٹ کر جس جگہ پڑی تھی ادھر رکھ دیا ۔ نسرین بھی کپڑے پہن کر اپنا حلیہ درست کرکے کھڑی تھی ۔ میں. نے اسے نمبر والی پرچی کا پوچھا تو اس نے ھاتھ میری طرف کیا اور بند مٹھی کو کھول کر پرچی میرے سامنے کی میں نے اسکے ھاتھ سے پرچی پکڑ کر جیب میں ڈالی اور پھر اسے چلنے کا کہا ۔ نسرین ٹانگیں چوڑی کر کے ہاتھ ناف کے نیچے رکھ کر چل رھی تھی ۔۔ میں نےا اسکو یوں چلتے دیکھا تو بولا ۔ نسرین یار سہی ہوکر چلو ایسے چلو گی تو لازمی پھنسو گی ۔ کچھ دیر کے لیے اپنے آپ پر کنٹرول کرو اور جب بستر پر لیٹ جاو گی تو صبح تک سہی ھو جاو گی ۔ نسرین بولی ۔یاسر میں کون سا جان بوجھ کر ایسے چل رھی ھوں میرے درد بہت ھو رھا ھے اور ابھی بھی نیچے سے خون نکل رھا ھے ۔۔ میں نے کہا تم ایسا کرنا صبح اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ ماہواری شروع ھوگئی ھے ۔۔ نسرین بولی تمہیں بہت پتہ ھے ان باتون کا ۔۔ میں نے کہا لو جی توں ہن نواں کٹا کھول کے بے جا۔۔ میں کوئی بچہ تو نہیں ھوں جو مجھے ان سب باتوں کا علم نہیں ۔۔۔ چلو شاباش سہی ھوکر چلو ۔۔۔ نسرین خقد پر کنترول کرتے باہر دروازے تک میرے کندھے پر ھاتھ رکھ کر آئی ۔۔ اور پھر ہمارے گھر تک آتے ھوے اس نے اپنے آپ پر مکمل کنترول کر لیا تھا ۔۔ میں نے دروازہ کھولا اور نسرین بھی میرے ساتھ گھر میں داخل ھوئی ۔ تو میں نے دروازہ لاک کیا اور نسرین کو کہا کہ میں سونے جارھا ھوں اگر وہ دیر سے آنے کی وجہ پوچھیں تو کوئی بھی بہانہ لگا دینا اور یہ کہتے ھوے میں واش روم میں گیا ٹراوزر اتار کر اچھی طرح لن کو دھویا ۔ اور کپڑے پہن کر بیٹھک میں چلا گیا اور لیٹتے ھی پرسکون نیند نے گھیر لیا۔۔۔ صبح اٹھا تو گھر میں سب نارمل ھی تھا میں نے شجر ادا کیا کہ نسرین نے سب سنبھال لیا ھے ۔ میں نے فریش ھوکر بائک نکالی اور شہر پہنچا ضوفی کو اسکے گھر سے لیا اور دکان پر پہنچا ۔ سارا دن کام میں گزر گیا میں نے فری وقت میں آنٹی فوزیہ کے بھائی کو کال کی اور آنٹی سے بات کر کے انکی اور انکل کی خیریت دریافت کی آنٹی نے مزید دو تین دن بعد آنے کا کہا ۔اور عظمی نسرین کا اچھے سے خیال رکھنے کا کہا۔ میں نے انکو تسلی دی اور بے فکر رہنے کا کہا ۔۔۔ پھر میں نے فرحت کا نمبر ڈائل کیا تو پتہ چلا کہ وہ ہسپتال ھے اپنی امی کے ساتھ میں نے کال سننے والے کو جو شاید اسکا رشتہ دار تھا کہا کہ آنٹی فرحت کو بتا دینا کہ یاسر کی کال آئی تھی اور انکی امی کی صحت یابی کا پوچھ رھا تھا ۔۔۔ رات کو میں ضوفی کو لے کر گھر پہنچا کچھ دیر انکے گھر رکا آنٹی کا حال احوال اور ماہی کی سٹڈی کا پوچھا اور واپس گھر آگیا ۔۔۔ گھر میں سب کچھ نارمل ھی تھا مگر نسرین بخار سے بستر کے ساتھ لگی ھوئی تھی ۔میں نے نسرین سے حال احوال پوچھا تو نسرین سواے مجھے گھورنے کے کچھ نہ بولی ۔ جبکہ عظمی مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رھی تھی ۔ اور اسکا موڈ بھی کچھ اوف لگ رھا تھا ۔ مجھے اسکی نظروں اور اسکے موڈ سے کھٹک رھی تھی کہ اسے پتہ تو نہیں چل گیا ۔ میں نے انکو آنٹی کو کال کرنے اور انکل کی طبعیت سہی ھونے کا بتایا اور ابھی دو تین دن تک آنٹی کے نہ آنے کا بھی ۔ مگر عظمی ہوں ہاں اچھا کہہ کر میری بات کا جواب دیتی رھی ۔ میں اندر سے ڈر بھی گیا تھا کہ کہیں سچ میں تو نہیں عظمی کو پتہ چل گیا اور پھر اسے اپنا وہم سمجھ کر دل کو دلاسا دیتا رھا ۔ اگلے دن جمعہ تھا دکان سے بھی چھٹی مارنی تھی اس لیے میں باہر نکل گیا اور دوستوں کے ساتھ خوب گپ شپ کی اور رات کو کافی لیٹ گھر آیا دروازہ کھول کر اندر داخل ھوا تو سب کمروں کی لائٹ بند تھی جسکا مطلب تھا کہ سب سے ھوے ہیں ۔۔۔ میں واش روم کے آگے سے گزرنے لگا تو مجھے واش روم کی لائٹ جلتی نظر آئی اور دروازہ بھی بند نظر آیا ۔ میں یہ سوچ کر کمرے میں جانے لگا کہ ھوسکتا ھے بھا واش روم وچ ھوے۔۔ جب میں کمرے کے دروازے پر پہنچا تو واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو میں نے گردن گھما کر پیچھے دیکھا تو ۔ عظمی واش روم سے نکل کر نلکے کی طرف ہاتھ دھونے جارھی تھی ۔۔۔ میں نے جلدی سے چاروں طرف کا جائزہ لیا تو ہر طرف شانتی دیکھ کر دبے پاوں چلتا ھوا نلکے کی طرف جانے لگا ۔ عظمی کی چھٹی حس نے اسے احساس دلایا تو اس نے گردن گھما کر پیچھے دیکھا تو مجھے دیکھ کر چونک گئی اور پھر سیدھی ھوکر چلتے ھوے نلکے کے ہاس پہنچی ۔۔ میں بھی اتنی دیر میں اسکے سر پر پہنچ گیا ۔۔۔اور نلکے کی ہتھی پکڑ کر اوپر نیچے کرکے نلکے سے پانی نکالتے ھوے بولا دھو لو ھاتھ ۔۔ عظمی خاموشی سے ھاتھ دھو کر اہنے دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ھوے کمرے کی طرف جانے لگی تو میں نے آہستہ سے اسے آواز دی تو عظمی میری آواز سن کر رک گئی میں چلتا ھوا اسکے پاس پہنچا اور بولا۔۔۔ عظمی کیا بات ھے ناراض ھو مجھ سے ۔ عظمی نے نفی میں سر ہلانے پر ھی اکتفاء کیا ۔ میں نے کہا ۔ تو پھر اتنی بےرخی کیوں ۔ عظمی آہستہ سے بولی میں نے کیا بےرخی دیکھائی ھے ۔ میں نے کہا جس دن سے تم ہمارے گھر آئی ھو میرے ساتھ سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتی ھو ۔۔ا اگر مجھ سے کوئی غلطی ھوگئی ھے تو بتاو۔۔ عظمی بولی ۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں تمہیں لگتا ھے ورنہ میں کیوں تم سے ناراض ھوں گی ۔ میں. نے عظمی کا ہاتھ پکڑا تو عظمی نے ادھر ادھر دیکھتے ھوے ہاتھ مجھ سے چھڑوانا چاہا ۔ اور دھیمی آواز میں بولی ۔ ہاتھ تو چھوڑو میرا کوئی آجاے گا ۔۔ میں نے کہا سب سے ھوے ہیں کوئی نہیں آتا۔۔ عظمی بولی یاسر پلیززز تم جاو یا مجھے جانے دو اگر کسی نے دیکھ لیا تو پتہ نہیں کیا ھوجاے گا ۔۔۔۔ میں تو پہلے ھی مر رھی ھوں ۔۔ عظمی کا ہاتھ کانپ رھا تھا ۔۔ میں نے کہا یار کیا ھوا ھے ایسے کیوں ڈر رھی ھو کچھ نہیں ھوتا ۔۔ عظمی بولی ۔ یاسر تم لڑکے ھو اس لیے ایسی باتیں کررھے ھو ۔ میں نے عظمی کی بات کاٹتے ھوے کہا کیوں لڑکوں کی عزت نہیں ھوتی ۔ عظمی جھنجھلا کر بولی مجھے نہیں پتہ پلیز میرا ھاتھ چھوڑ دو۔۔ میں نے کہا اچھا میری بات سنو ۔ عظمی بولی ھاں جلدی بولو۔۔ میں نے کہا چلو میرے ساتھ بیٹھک میں ۔ عظمی مجھ سے ہاتھ چھڑواتے ھوے بولی پاگل ھوگئے ھو ۔ کمرے میں بھا سویا ھوا ھے ادھر نازی کے ساتھ سے میں اٹھ کر آئی ھوں کیوں مجھے مروانا ھے ۔۔۔ میں. نے کہا اچھا تو پھر کل چھٹی ھے کسی طرح ادھر گھر جانے کا پروگرام بناو مجھے تم سے لازمی ملنا ھے ۔۔۔ عظمی بہت گبھرائی ھوئی تھی اور بار بار کمروں کی طرف دیکھی جارھی تھی ۔ میری بات سنتے ھی بولی اچھا ٹھیک ھے صبح کچھ کروں گی اب تو مجھے جانے دو ۔۔ میں نے اسے کھینچ کر اہنے ساتھ لگایا اور اسکے ہونٹوں کو چوم کر اسے چھوڑ دیا ۔ عظمی مجھ سے جان چھڑوا کر تقریباً بھاگتی ھوئی کمرے کی طرف چلی گی اور میں کچھ دیر ادھر کھڑا کمرے کی طرف دیکھتا رھا اور پھر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔ صبح میں دیر تک سویا رھا مجھے امی نے اٹھایا کہ پتر اٹھ جا کہ سارا دن سویا رہنا ھے ۔۔ میں نے انگڑائی لیتے ھوے آنکھ کھولی اور امی سے ٹائم پوچھا تو امی نے بتایا کہ دس بجنے والے ہیں ۔ اٹھ جا میں نسرین کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جارھی ہوں شہر اسکا بخار نہیں اتر رھا ۔۔ .میں ڈاکٹر کا سن کر جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔کہ کہیں لیڈی ڈاکٹر کی بات تو نہین کررھی ۔ میں نے آنکھیں ملتے ھوے کہا ۔ اسکو کیا ھوا چنگی پلی تے سی. ۔امی بولی پتہ نہیں لگتا ھے اپنے ابو سے اداس ھوگئی ھے باپ کی بیماری سے بیچاریاں پریشان بھی تو بہت ہیں ۔۔ میں نے ہمممم کیا اور امی سے پوچھا کہ میں موٹر سائکل پر لے چلوں آپ کو ۔ تو امی نے بتایا کہ نازی نے بھی ساتھ جانا ھے اس کے بھی کان سے ریشہ نکلتا رھتا ھے ۔ میں نے کہا تو عظمی کو بھی پھر ساتھ لے جائیں اسکی بھی کوئی دوائی لے آئیں ۔۔ امی نے میرے سر پر چپت مارتے ھوے کہا ۔ ہے نہ چلا جیا ۔ اونوں کی ھوگیا اے جیڑا اودی دوائی لیانی اے ۔ میں نے کہا ایک وہ ھی تو رھ گئی میں نے کہا اسے بھی لے جاو ساتھ میں تو سکون سے سووں ۔۔ امی بولی ۔ چل ہن بوتی بکواس نہ کری جا اٹھ کہ منہ ہتھ دھو تے تینوں ناشتہ کروا کے ای جاواں گیاں ۔۔ میں جلدی سے اٹھا اور نہا کر فریش ھوا اور ٹریک سوٹ پہن لیا ۔۔ امی نے ناشتہ دیا اور بولیں ناشتہ کر کے تانگہ لے آ تے نالے اپنی آنٹی کار وی چکر لا آویں عظمی کپڑے تون چلی گئی اے تے تیان نال پین کول رویں ایویں آوارہ گردی کرن نہ نکل جاویں ۔۔۔ میں نے منہ بسورتے ھوے کہا امی ایک جمعہ کی تو چھٹی ھوتی ھے اور چھٹی بھی سکون سے نہیں گزارنے دیتی ۔۔ امی بولی ایویں بوتیاں گلاں نہ کری جا جیڑا کم کیا اے او چپ کر کے کریں ۔ میں برا سا منہ بنا کر سرنیچے کر کے ناشتہ کرنے لگ گیا ۔ اور پھر امی سے پوچھا کہ کتنی دیر تک واپس آئیں گی ۔ امی بولی ۔ کیوں توں کیڑا آفس جانا اے ۔ میں نے کہا ویسے ھی پوچھ رھا ھوں میں نے بھی شہر جانا ھے ۔ امی بولی شہر رھ رھ کے رجدا نئی جیڑا اک دن وی پنڈ وچ تینوں اوکھا لگدا اے ۔ میں نے کہا امی مجھے کام ھے ایک دوست کی طرف جانا تھا ۔۔ امی ادھر ادھر دیکھتے ھوے بولی مینوں سب پتہ اے جیڑے دوست نوں ملن جاناں اے کوئی نہ تن چار کینٹے تک آجاواں گیاں فیر چلا جاویں میں نے پھر روٹھنے والے انداز سے کہا پھر تو شام ھوجانی ھے ۔ امی ہنستےھوے بولی ۔ پتر شہر آن جان وچ گھنٹہ لگ جاندا اے اسی کیڑا سکوٹر تے یا رکشے تے چلیاں ایں ۔۔ میں نے ہمممم کیا اور امی سے باتوں کے دوران ھی ناشتہ ختم کیا اور پھر جلدی سے چوک کی طرف گیا اور تانگے والے کو کہہ کر میں واپس گھر آگیا ۔۔ اور نسرین کے پاس گیا جو بیچاری واقعی بخار سے مرجھا گئی تھی ۔۔ ایک دن میں ھی بخار نے اسے نچوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔ نسرین کا اب بھی میرے ساتھ موڈ اوف ھی تھا ۔ خیر کچھ دیر بعد گلی میں تانگے کی آواز آئی تو امی نے نازی کو آواز دی کے تانگہ آگیا ھے جلدی سے برقعہ پہن لو دونوں بہنیں اور چلو میرے ساتھ ۔۔ عظمی لگتا تھا میرے سوے ھوے ھی اپنے گھر چلی گئی تھی کپڑے دھونے کے بہانے ۔۔۔ میں دل ھی دل میں بہت خوش ھوربا تھا کہ آج جی بھر کے چدائی کرنے کا موقع ملا ھے اور بےفکری سے نہ کسی کے آنے کا ڈر اور نہ ھی کوئی اور پریشانی ۔۔۔ خیر کچھ دیر بعد نازی نسرین کا بازو پکڑے اسے باہر لے آئی نسرین اب بھی ٹانگیں کھول کر چل رھی تھی اور تقریباََ جھک کر چل رھی تھی اس نے ہیٹ درد کے بہانے ناف کے نیچے ھاتھ بھی رکھا تھا ۔۔ خیر دس پندرہ منٹ بعد سب تانگے پر سوار ھوکر شہر چلے گئے وہ دس پندرہ منٹ میرے لیے دس پندرہ گھنٹے تھے ۔۔ انکے جانے کے بعد میں ایک دفعہ پھر چوک کا چکر لگا آیا کنفرم کرنے کے لیے کہ تانگہ واقعی گاوں سے نکل چکا ھے ۔ کنفرم کرنے کے بعد میں گھر آیا اور ۔بائک اندر کمرے میں کھڑی کر کے لاک کی اور پھر سیٹی بجاتا ھوا ۔ عظمی کے گھر کی طرف چل دیا۔۔۔ .گلی میں چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رھے تھے ۔ حالانکہ کے ایسی کوئی ڈر والی بات بھی نہیں تھی کہ مجھے کوئی آنٹی کے گھر جاتا دیکھتا تو شک کرتا ۔۔ مگر پھر بھی میرے اندر کا چور مجھے چوکس رکھے ھوے تھا ۔۔ میں گلی کا جائزہ لیتا ھوا تیز تیز قدم اٹھاتا دروازے پر پہنچا تو دروازہ اندر سے کنڈی لگا کر بند کیا ھوا دیکھ کر مجھے غصہ چڑھنے لگا کہ کوئی مجھے دیکھ نہ لے ۔ میں نے دروازہ بجایا تو کچھ دیر بعد عظمی کی آواز آئی کون۔۔ میں نے جنجھلا کر کہا کون دی بچی جلدی نال دروازہ کھول ۔۔ عظمی نے جلدی سے دروازہ کھولا اور گبھراے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے کہا کی ھویا خیر تے ھے ۔۔۔۔ میں جلدی سے اندر داخل ھوا اور لمبا سانس کھینچ کر چھوڑتے ھوے بولا ۔ کنڈی کیوں لائی سی ۔۔ عظمی حیران ھوکر میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ کیوں لگائی تھی کا کیا مطلب ۔ گھر ہر اکیلی تھی اس لیے لگائی تھی ۔ مگر تمہارے رنگ کیوں اڑے ھوے ہیں ۔اور سانس کیوں چڑھا ھوا ھے میں کھسیانا سا ھوکر خود کو سنبھالتے ھوے بولا ۔ کچھ نہیں چوک سے بھاگ کر آیا ھوں اس لیے ۔۔ عظمی حیران ھوتے ھوے بولی چوک سے بھاگ کر آے ھو وہ کیوں ۔۔۔ میں نے جنجھلا کر کہا ویسے ھی یار تم کیوں پولیس والوں کی طرح تفتیش کرنے بیٹھ گئی ۔ اور میں یہ کہتے ھوے اندر کمرے میں چلا گیا ۔۔ اندر داخل ھوتے ھی میری نظر سب سے پہلے چارپائی پر پڑی اور پھر دستر خوان والی شیٹ پر ۔۔ سب کچھ ٹھیک تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد عظمی بھی کمرے میں آگئی مین نے کہا باہر کی کنڈی لگا دی ھے ۔ عظمی حیران ھوتے ھوے بولی کیوں باہر کی کنڈی کیوں لگانی ھے ۔۔۔ میں. نے جھنجھلا کر کہا یار ایسے کوئی اندر نہ آجاے ۔۔ عظمی پھر سنجیدہ ھوکر بولی آجاے جس نے آنا ھے ہم کون سا ننگے بیٹھے ہیں ۔۔۔ میں جلدی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا تو عظمی ہنستے ھوے بولی ۔ بیٹھ جاو جناب کنڈی لگا کر آئی ھوں ۔۔۔ میں نے عظمی کے پاس سے گزرتے ھوے اسکے سر پر چپت ماری اور بولا ۔ بہت شوخی ھو تم ۔۔۔ عظمی منہ میں بڑبڑائی تیرے نالوں کٹ ای آں ۔ میں. نے اسکی بات سن کر بھی انجان بنتے ھوے کہا کیا کہا۔۔۔ عظمی سر ہر دوپٹہ سہی کرتے ھوے بولی کچھ نہیں ۔۔۔ میں چارپائی پر بیٹھتے ھوے بولا ۔۔ امی نسرین اور نازی شہر گئیں ہیں ۔۔۔ عظمی لاپرواہی سے بولی ۔ مجھے پتہ ھے ۔۔۔ میں نے کہا واہ یعنی کے تم جان بوجھ کر نئی گئی ۔۔ اور میرے لیے ادھر آگئی ھو۔۔ عظمی اپنی انگلیوں کو مروڑتے ھوے بولی۔ زیادہ خوش ھونے کی ضرورت نہیں میں نے کپڑے دھونے تھے اس لیے آئی ھوں ۔۔ میں نے اتھ کر باہر نلکے کی طرف دیکھا اور بولا تو دھوے نہیں کپڑے عظمی بولی میری مرضی جب مرضی دھووں ۔۔ میں چلتا ھوا عظمی کے پاس آیا اور اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اوپر کرتے ھوے بولا ۔ بڑا غرور ھے ۔۔۔۔ عظمی کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی اور بولی ہوووووں غرور ۔۔۔۔ کاش غرور ھوتا۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ھی اسکی آنکھیں نم ہوگئیں ۔۔۔ مجھے اسکی کیفیت کا اندازہ ھوگیا میں نے ماحول کو مزید خراب ھونے سے بچاتے ھوے اسکو بازوں سے پکڑا اور اپنے سینے کے ساتھ لگا کر بازو اسکی کمر کمر کے گرد کس لیے ۔ مگر یہ کیا معاملہ پھر بھی خراب ھوگیا ۔۔۔۔ عظمی میرے سینے کے ساتھ لگتے ھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی ۔۔۔ میں اسکی کمر کوسہلاتے ھوے اسے چپ کرانے لگ گیا ۔ کچھ دیر بعد عظمی نارمل ہوئی تو میں ہاتھ سے اسکی گال سے آنسو صاف کرنے لگ گیا ۔ عظمی کی ہچکی بندھی ھوئی تھی ۔۔ میں اسکو بغل میں لے کر چارپائی کی طرف گیا اور اس کندھوں سے پکڑ کر چارپائی پر بیٹھایا اور خود اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگالیا اور بولا ۔ عظمی بس کرو اب اتنا اچھا ماحول تھا تم نے سارا خراب کردیا ۔ عظمی اپنے آنسو صاف کرتےھوے بولی ۔۔۔۔ یاسر میں کیا کروں میں روزمرتی ۔یہ جو میرے نیچے نام لکھاھے یہ ہر وقت مجھے اس واقعہ کی یاد دلاتارہتا ھے ۔۔ میں نے اسےمذید اپنے ساتھ لگاتے ھوے کہا۔۔۔ یار بھول جاو سب ۔۔۔ .عظمی میری بات کاٹتے ھوے بولی کیسے بھول جاوں ۔۔ یہ مجھے پتہ ھے کہ میں سانس بھی کیسے لے رھی ہوں میں تو خودکشی بھی نہیں کرسکتی کہ میرے ماں باپ کی بدنامی ھوجاے گی ۔ اور وہ جیتے جی مرجائیں گے ۔۔ مجھے تو اپنے اس جسم سے بھی گھن آتی ھے ہر سانس پر مجھے وہ واقعہ یاد آتا ھے جو مجھے اندر ھی اندر کھاے جا رھا ھے ۔۔ میں نےکہا عظمی تم خود کو سنبھالو ۔ دیکھو میں ھوں نہ میں انکو ایسا سبق سکھاوں گا کہ انکی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی ۔۔بس مجھے تھوڑی مہلت دو پھر دیکھنا کہ میں کیا کرتا ھوں ۔۔۔ اور رھی یہ نام لکھے کی بات تو اسکا بھی میں کل ھی کوئی حل نکالتا ھوں تم بس اپنے آپ کو پہلے جیسی کرلو ۔ اور اس واقعہ کو ایک ڈراونا خواب سمجھ کر بھول جاو۔۔۔۔ عظمی پھر سر نیچے کر کے نفی میں ہلاتے ھوے بولی ۔ نہیں بھولتا یاسر نہیں بھولتا بہت کوشش کرکے دیکھ لی ھے ۔۔ میں نے اسکی ٹھوڑی کو پکڑا اور اسکا چہرہ اوپر کر کے اپنی طرف گھماتے ھوے کہا۔۔۔ مجھ پر یقین نہیں ھے تمہیں ۔۔۔عظمی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔ میں نے کہا تو پھر اب میں تمہیں روتا ھوا نہ دیکھوں نہ ھی افسردہ ۔بلکہ جیسے تم پہلے تھی ہنستی کھیلتی ویسے مجھے نظر آو ۔۔۔ اگر نہیں تو پھر آج کے بعد تم میری شکل نہیں دیکھو گی ۔۔۔ عظمی پھر سر نیچے کر کے گہری سوچ میں گم ھوگئی ۔۔ میں نے کچھ دیر اسکے بولنے کا انتظار کیا اور پھر اٹھتے ھوے کہا ۔ ٹھیک ھے عظمی پھر میں یہ ھی سمجھوں کہ تمہاری نظر میں میری کوئی اہمیت نہیں ھے ۔۔میں چلتا ھوں عظمی نے جلدی سے میرا بازو پکڑ کر مجھے واپس بٹھاتے ھوے کہا ۔۔نہیں یاسر ایک تم ھی تو ھو جس پر مجھے اندھا یقین ھے اور تم بھی ایسی باتیں کرنے لگ گئے ۔۔ میں نے بیٹھتے ھوے کہا۔ تو پھر میری بات کیوں نہیں مانتی ھو۔۔ عظمی بولی اچھا اب نہیں روتی خوش ۔۔۔ میں نے کہا صرف رونا ھی نہیں افسردہ رہنا اور خود کو یوں ملنگنی جیسا بناے رکھنا بھی ختم کرو اور مجھے پہلے والی ہنستی کھیلتی عظمی چاہیے ۔۔۔ عظمی میری گالوں کو ہاتھوں میں تھام کر بولی ۔ ٹھیک ھے جیسے تم کہو گے میں ویسا کروں گی ۔ مگر میری ایک شرط سمجھ لو یا منت سمجھ لو ۔ میں نے کہا کیا ۔۔۔ عِظمی بولی ۔ تم نے ان کنجروں کے منہ نہیں لگنا اوپر والا خود ھی انکو سزا دے گا ۔۔۔ میں نے کہا مگرررر۔۔۔۔ عظمی میری بات کاٹتے ھوے بولی ۔ اگر مگر کچھ نہیں ۔ میں نے تمہاری ساری باتیں مان لی ہیں ناں۔ تم میری ایک بات نہیں مان سکتے ۔۔ میں نے مسکراتے ھوے کہا چلو ٹھیک ھے میں انکے منہ نہیں لگوں گا ۔۔ عظمی مسکراتے ھوے بولی ۔ وعدہ میں نے ہممممممم کیا تو عظمی نے ساتھ ھی اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر میرے ہونٹوں کو ذوررررر سے چوما اور پھر چہرہ پیچھے کر کے بیٹھ گئی ۔۔۔ .2 میں چارپائی سے اٹھا اور کمرے کا دروازہ بند کر کے واپس عظمی کے پاس آگیا جو بیٹھی میری طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ۔ میں نے عظمی کی کلائیوں کو پکڑ کر اسے کھڑا کیا عظمی ۔ نے سمپل سا سوٹ پہنا ھوا تھا مگر اس میں بھی اسکا جسم بہت سیکسی لگ رھا تھا ۔ اس کے جسم کے نشیب وفراز نمایاں نظر آرھے تھے ۔ ممے قمیض میں پھنسے ھوے اور تنے ھوے تھے ۔ میں نے عظمی کا دوپٹہ اتار کر چارپائی پر پھینکا اور اسکے بازوں کے نیچے سے بازو گزار کر اسکی کمر پر ھاتھ رکھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اسکے نرم گلابی ہونٹوں کو اپنی ہونٹوں کی گرفت میں کرکے چوسنے لگ گیا ۔عظمی کے ساتھ جپھی ڈالتے ھی میرا لن تن کر عظمی کی ناف کے ساتھ لگ گیا تھا ۔ میں نے کچھ دیر بعد ایک ھاتھ عظمی کی گردن پر لیجا کر اسکے سلکی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے اسکا اوپر والا ہونٹ چوسنے لگ گیا ۔ عظمی بھی گرم ھوچکی تھی اور وہ بھی میرے نچلے ہونٹ کو چوستے ھوے میرے ساتھ چپکتے ھوے مموں کو میرے سینے کے ساتھ مسل رھی تھی عظمی کے نرم نرم ممے میرے سینے میں دھنسے ھوے تھے ۔۔۔ ہم کچھ دیر ایسے ھی ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رھے کبھی میں عظمی کا اوپر والا ہونٹ چوستا تو عظمی میرا نیچے والا ہونٹ چوستی کبھی میں اسکا نیچے والا ہونٹ چوستا تو وہ میرا اوپر والا ہونٹ چوستی کبھی زبانوں کی لڑائی ھوتی تو کبھی دونوں کی سانسیں ایک دوسرے کے اندر ٹرانسفر ھوتی تو کبھی ایک دوسرے کے لباب کو نگھلتے اسی دوران میں نے عظمی کی پیچھے سے قمیض اوپر کر کے اسکی لاسٹک والی شلوار میں ھاتھ ڈال کر اسکی گول مٹول سڈول گانڈ کے چوتڑوں کو پکڑ کر مٹھیاں بھرنے لگ گیا عظمی کی گانڈ بہت ھی ملائم تھی اور کافی گوشت چڑھا ھوا تھا ساتھ ساتھ میں اپنی گانڈ کو دائیں بائیں ہلا ہلا کر لن اسکے جسم کے ساتھ رگڑ رھا تھا عظمی بھی فل مستی میں آئی ھوئی تھی اور اسکا بھی یہ ھی حال تھا وہ بھی لن پھدی کے اندر لینے کے لیے تاولی ھوتی جارھی تھی ۔ عظمی بھی ایڑیاں اٹھا کر لن کو پھدی کے ساتھ ملانے کی کوشش کررھی تھی میں تھوڑا سا نیچے ھوا اور کپڑوں کے اوپر سے ھی لن اور پھدی کا ملاپ کر دیا اب میرے ہونٹ عظمی کے ہونٹوں کو چوم اور چوس رھے تھے اور میرے سینے کے نپل صدف کی چھاتیوں کے نپلوں کو چوم رھے تھے اور نیچے سے لن اور پھدی بھی بھرپور انداز میں مشاورت کررھے تھے کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا پھر ہم دونوں الگ ھوے اور عظمی اپنے ہونٹوں کو مسلتی ھوئی بولی میرے ساڑ پین لگ گیا اے یاسر پتہ نی تینوں کی ھو جاندا اے ۔میں نے کہا یار تیرے ہونٹوں کا رس ھی اتنا لزیز ھے کہ انکو چوستے دل ھی نہیں بھرتا۔۔ عظمی بولی کہیں جوش میں کھا ھی نہ جانا میں نے کہا یہ کھانے کی نہیں بس چوسنے والی شے ھے ۔ اور پھر میں نے عظمی سے پوچھا ادھر کوئی گدا نہیں پڑا عظمی بولی گدا کیا کرنا ھے میں. نے کہا یار نیچے لیٹ کر پیار کرتے ہیں چارپائی پر مزہ نہیں آتا تو عظمی نے چارپائی پر سے چادر اٹھائی اور نیچے سے گدا اٹھا کر فرش پر بچھانے لگ گئی ۔ میں نے چادر پکڑی اور گدے پر چادر درست کر کے بیچھا دی اور عظمی کو لے کر چادر کے اوپر بیٹھ گیا اور بیٹھتے ھی میں نے عظمی کو سیدھا لٹا دیا اور اسکی قمیض پیٹ سے اوپر تک کردی ۔ میں نے عظمی کے چٹے سفید ریشم سے ملائم پیٹ پر ھاتھ پھیرا تو عظمی کے منہ سے سسکاری نکلی ۔۔ میں ھاتھ سے پیٹ پر مساج کرتا ھو ھاتھ کو نیچے اسکی کمر تک لے گیا اور ھاتھ سے اسکو تھوڑا اوپر ہونے کا کہا تو عظمی نے گانڈ اٹھا کر کمر اوپر کو کی تو میں نے نیچے سے اسکی قمیض اوپر کردی اور پھر ھاتھ آگے لا کر آگے سے بھی اسکی قمیض اسکے مموں سے اوپر کردی عظمی نے سکن کلر کا بریزیر پہنا ھوا تھا میں نے اسکے مموں کو بریزیر کے اوپر سے ھی مسلنا شروع کردیا جوش میں آکر مجھ سے اسکا مما ذیادہ دبایا گیا تو عظمی نے زور سے سیییییییی کیا اور بولی یاسسسرررر آرام سے کرو میں نے ھاتھ نرم کر لیا اور پھر بریزیر کو نیچے سے پکڑ کر اوپر کردیا اور اسکے کِھلتے ھوے ممے ایکدم میرے سامنے آے میں مموں پر ایسے جھپٹا جیسے بچہ بھوک کی حالت میں مموں کو منہ مارتا ھے عظمی میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر سسکیاں لینے لگ گئی ۔۔ عظمی کی سسکاری سنتے ھی میں نے ایک ھاتھ اسکی شلوار میں ڈالدیا اور پھدی کو مسلنے لگ گیا ۔ جیسے ھی پھدی کو میری انگلیوں نے چھوا تو ساتھ ھی عظمی کا برا حال ھونا شروع ھوگیا اور چند لمحوں میں عظمی کی پھدی کافی گیلی ھوچکی تھی میں نے دوسرے ھاتھ سے اپنے ٹراوز کی ڈوری کھولی اور ٹراوزر نیچے کیا اور لن کو باھر نکال لیا اور عظمی کا ایک ھاتھ پکڑ کر اپنے ننگے لن پر رکھا عظی جو پہلے ھی سیکس میں چُور چُور ھوئی تھی اس نے بھی بنا کچھ کہے لن کو پکڑ لیا اور مٹھیاں بھرنے لگی ساتھ ساتھ وہ میرے لن کے سائز کو بھی ایسے ناپ رھی تھی جیسے پہلی دفعہ میرا لن دیکھ رھی ھو وہ کبھی ٹوپے کو انگلیاں لگا کر اسکی موٹائی کو چیک کرتی کبھی لن کو جڑ سے پکڑتی اور پھر ٹوپے تک ھاتھ کو لا کر لمبائی چیک کرتی میں نے عظمی کے مموں سے ہونٹ ہٹاے اور اسکی طرف دیکھ کر بولا ۔پہلے جتنا ھی ھے یا اور بڑا ھوگیا ھے ۔ عظمی نے ذور سے میرے لن کو مٹھی میں بھینچا اور بڑی سیکسی آواز میں نیم بند آنکھوں سے بولی بووتتتتت بڑاااااااا آہہہہہ میں نے مسکرا کر پھر اسکے مموں پر ہونٹ رکھ دیے اور تنے ھوے نپلوں کو باری باری چوسنے لگ گیا۔۔ میں عظمی کی پھدی مسلنے کے ساتھ ساتھ اسکی شلوار بھی نیچے کردیتا یہاں تک کہ اسکی شلوار اسکے گھٹنوں سے نیچے کردی تھی اور میں نے اپنیا ٹراوزر بھی اپنے پیروں تک نیچے کردیا تھا اور پھر اسی پوزیشن میں اپنے ٹراوزر کو پاوں کے ساتھ ھی اتار دیا اور پھر اپنی شرٹ اوپر گلے تک کی اور اپنے ننگے جسم کو عظمی کے ننگے جسم کے ساتھ ملاپ کرانے لگ گیا عظمی ابھی تک لن کو ٹٹول رھی تھی جیسے اسے ابھی تک یقین ھی نھی ھوا ھو کہ یہ واقعی پہلے جتنا ھی ھے یا پہلے سے بڑا ھوگیا ھے ۔ میں نے اپنی ایک ٹانگ عظمی کی ٹانگوں کے درمیان کی اور پاوں کے ذریعے اسکی شلوار مزید نیچے کی طرف لے گیا اور اسکے پاوں سے اتار دی عظمی کی قمیض اور میری شرٹ ھی جسم پر تھی وہ بھی دونوں کے کندھوں تک تھیں جبکہ ہم دونوں کا جسم سینے سے پیروں تک بلکل ننگا تھا میں نے عظمی کے ھاتھ میں پکڑے لن پر ھاتھ رکھ کر ہلاتے ھوے کہا اپنے اس شزادے کے ہونٹوں پر ایک کس تو کردو تو عظمی نے میرے ھونٹوں پر کس کردی میں نے کہا اس شزادے پر نہیں ۔ اور اس کے ساتھ ھی میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور لن ہلا کر اسکے منہ کی طرف کردیا تو عظمی نے پریشان ھوکر کہا شرم کرو گندے کام مجھ سے کرواتے ھو کیا ایسے بھی کوئی گندے کام کرتا ھے تو میں نے کہا بس ایک چھوٹی سی کس کردو کچھ نھی ھوتا اور میں عظمی کی ٹانگوں سے نکل کر اسکے چہرے کے قریب آکر لن اسکے ہونٹوں کے بلکل قریب کردیا عظمی نخرے دیکھاتے ھوے نھی نھی میں سر ہلانے لگ گئ اور ہونٹوں کو مضبوطی سے آپس میں بھینچ لیا۔۔ میں نے کہا یار تم تو ایسے کررھی ھو جیسے پہلے اسکو چوما نہیں ۔۔ عظمی بولی یاسر مجھ سے یہ گندا کام نہیں ھوتا۔ میں مزید آگے کی طرف ھوا اور لن اسکے ہونٹوں پر رکھ کر اسے کہنے لگا بس ایک چمی بس بس ایک تو عظمی نے آنکھیں بند کر کے کڑوی دوائی پیتے ھوے ایک چھوٹی سے چُمی لی اور دوسری طرف منہ کر کے تھوکنے لگ گئی . اور کہنے لگ گئی گندے بےشرم گندے کام کرتے ھو میں نے کہا تم کو مجھ سے پیار نھی ھے اس لیے تمہیں یہ گندا لگتا ھے پیار کیا ھوتا ھے اور کسکو پیار کہتے ہیں یہ میں تمہیں بتاتا ھوں اور میں یہ کہتے ھی اسکی ٹانگوں کے پاس آیا اور عظمی کی دونوں ٹانگیں اوپر کی تو عظمی پھدی پر ہاتھ رکھ کر میری طرف دیکھنے لگ گئی ہاتھ ہٹاو عظمی بولی تم پھر گندا کام کرنے لگے ھو تو میں نے کہا پیار کرنے لگا ہوں یار تو عظمی نے منہ بسورتے ھوے گنداااا کہتے ھوے ھاتھ پیچھے کرلیا تو میں عظمی کی کلین شیو پھدی کو غور سے دیکھنے لگ گیا عظمی کی پھدی گیلی ھونے کی وجہ سے چمک رھی تھی میری نظر اچانک لکھے ھوے ناموں پر پڑی تو ایک دفعہ تو میرا دماغ گھوما مگر میں نے انکو نظر انداز کیا اور پھدی کے دونوں باریک سے ہونٹ جو آپس میں ملے ہوے تھے انکو غور سے دیکھنے لگ گیا ۔ اتنی بار چدنے کے باوجود بھی عظمی کی پھدی کی شیپ وہسے کی ویسی تھی اور ہونٹوں کی لمبائی بھی اتنی ذیادہ لمبی نہیں تھی میں نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور دو انگلیاں جوڑ کر پھدی کے ہونٹوں کو کھولا تو گلابی ہونٹ تھوڑا سا کھلے اور اندر کی جلد ایسے سرخ نظر آئی جیسے سارا خون ادھر ھی جمع ھو پھدی کے شروع کے حصے میں چھوٹی سی جھلی تھی جو پیشاب کرنے کا سوراخ تھا میں نے اس جھلی کو انگلی سے دبا کر مسلنا شروع کیا تو عظمی ایک دم تڑپی اور میری کلائی کو مضبوطی سے پکڑ لیا میں کچھ دیر چھوٹی سی جھلی کے ساتھ کھیلتا رھا پھر میں نے پھدی کے قریب منہ کر کے لمبا سانس اندر کھینچ کر پھدی کو سونگھا تو مجھے بدبو سی آئی اور ابھکائی سی آنے لگی میں نے تھوڑا سا اپنا منہ پیچھے کیا اور چند لمحوں کے بعد میں نے سانس روک کر زبان باہر نکالی اور پھدی کے لبوں کے درمیان ایک چھوٹے سے ابھرے ھوے دانے کے اوپر زبان رکھ کر زبان کو اوپر نیچے کر کے چاٹنا شروع کردیا جیسے ھی میں نے یہ عمل کیا عظمی کے منہ سے آواز نکلی ھاےےےےےےےےےے میییییں مرگئیییییییی اور وہ یہ کہتے ھی ساتھ ھی اوپر کو اٹھی اور دونوں ھاتھوں سے میرے سر کو پیچھے کی طرف دھکیلا اس کے اس اچانکے دھکے سے ایک دفعہ تو میری زبان اسکی پھدی کے ہونٹون سے نکل گئی مگر میں نے اسکی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھی اور اسکے بازوں کو مضبوطی سے پکڑ کے گدے کے ساتھ لگا دیا اور پھر سے پھدی کے لبوں میں زبان پھیرنے لگ گیا .عظمی ذور ذور سے سر دائیں بائیں مار رھی تھی اور اپنا آپ مجھ سے چھڑوانے کی کوشش کررھی تھی مگر میں نے اسکو قابو ھی ایسے کیا ھوا تھا کہ میرے شکنجے سے نکل ھی نھی سکتی تھی عظمی ساتھ سسکیاں اور اففففففف یاسرررررررر نہ کرو میں مرجاوں گی ھاےےےےے یاسر میری جان نکل رھی ھے یاسرررررر پلیززززززز نہ کرو ھاےےےےےے امممممممم اففففففف عظمی کی سسکیاں اور آہیں سن کر مجھے اور جوش چڑھ رھا تھا اور میں زور زور سے پھدی کو لِک کر رھا تھا کہ اچانک عظمی کی سسکیاں اور آہیں تیز ھوگئی اور اس نے بُنڈ اوپر کر کے پُھدی کو میرے منہ کے ساتھ مزید جوڑ کر اوپر کو گھسے مارنے شروع کردیا اور دونوں ھاتھ سے چادر کو مٹھی میں بھر لیا اور چند لمحوں بعد ھی اچانک عظمی نے اپنی ٹانگیں بلکل سیدھی چھت کی طرف کر کے اکڑا لیں اور اسکے ساتھ ھی عظمی کی پھدی سے ایک لمبی سی پھوار نکلی اور عظمی نے زور سے ھاےےےےےےےےے میں گئیییییییی اور اسکی پھدی سے نکلنے والی پھوار میرے منہ پر میرے ناک پر میری آنکھوں پر پڑی اس سے پہلے کے دوسری پھوار بھی میرے منہ پر پڑتی میں پیچھے کو ہٹ کر منہ کے آگے ہاتھ رکھ لیا اور باقی کی تین چار منی اور پانی کی پھواریں میرے ھاتھ پر گری اور ساتھ ھی عظمی کی پھدی کے ہونٹ کھلتے بند ھوتے ہوے گاڑھا گاڑھا پانی اگلنے لگے ۔ اور پھر عظمی بےجان ھوکر جسم ڈھیلا چھوڑ کر لیٹی لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی کچھ دیر بعد عظمی کچھ سنبھلی تو میں اسکی ٹانگوں کے درمیان اسکے اوپر لیٹ کر اپنا منہ اسکے منہ کے قریب کیا تو اچانک اس نے میرے دونوں کانوں کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ کر ذور سے میرے سر کو ہلاتے ھوے کہا یاسررررررر تم نے باز نہیں آنا اس گندے کام سے تو میں نے مسکرا کر کہا دیکھ لیا میرے پیار کا ثبوت اسے کہتے ہیں پیار تو عظمی نے ویسے ھی میرے کان پکڑے میرا منہ اپنے منہ کے قریب کیا اور ایک لمبی سی فرنچ کس کی اور میرے کان چھوڑ دیے ۔۔ میں نے عظمی کو کہا اب کیا پروگرام ھے ۔ عظمی میری طرف غور سے دیکھتے ھوے بولی کون سا ۔۔۔ میں نے لن اسکی آنکھوں کے سامنے لہراتے ھوے کہا ۔ اپنے شزادے کے ساتھ لاڈیاں کرنے کا ۔۔۔ عظمی جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ تو میں نے اسے قمیض اور بریزیر اتارے کا کہا تو عظمی نے جھٹ پٹ میں دونوں چیزیں اتار کر ایک طرف رکھیں ۔ .تو میں نے بھی اتنی دیر میں اپنی شرٹ اتار کر اایک طرف رکھ دی اب ہم دونوں مادر ذاد ننگے تھے ۔۔۔ عظمی کا جسم انڈے کی طرح سفید تھا اور چمک رھا تھا ۔ بیشک اسکے چہرے کی ککش پہلے جیسی نہیں رھی تھی ۔ مگر اسکا فگر اور جسم کی رنگت ویسی کی ویسی دودھیا تھی ۔۔۔ میں گھٹنوں کے بل تنے ھوے لنڈ کے ساتھ بیٹھا ھوا تھا کہ عظمی بڑی ادا سی میری طرف بڑھی اور میرے سینے پر دونوں ھاتھ رکھ کر مجھے پیچھے کی طرف دھکیل کر لیٹاتے ھوے میری سیدھی ٹانگوں پر گانڈ رکھ کر بیٹھ گئی اور پھر میرے لن کو مٹھی میں پکڑ سہلاتے ھوے لن کی مٹھ مارنے لگ گئی ۔ اور پھر میری ٹانگوں سے پیچھے کو کھسکی اور جھکتے ھوے زبان نکال کر میرے لنڈ کے ٹوپے کے چاروں اطراف پھیرتے ھوے اپنی پلکوں کو اٹھا کر میری طرف دیکھ دیکھ کر زبان ٹوپے پر پھیرنے لگ گئی ۔۔ عظمی کی زبان کا لمس پاتے ھی میرے منہ سے سیییی نکلا تو عظمی نے ساتھ ھی ٹوپے کو لبوں میں بھر کر چوسا لگایا افففففففففف کیا مزہ تھا عظمی کے چوسے کا۔۔ پھر عظمی لن کو جتنا منہ میں لے سکتی تھی اتنا لن منہ میں لے کر منہ کو اوپر نیچے کرتے ھوے چوپا لگانے لگ گئی ۔ کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا ۔ چوپے سے میرے لن کی رگیں پھول کر ہھٹنے والی ھوچکی تھی ۔ دس پندرہ منٹ تک عظمی لگا تار لن کو ہر ذاویعے سے چوستی چاٹتی رھی ۔ اور پھر آگے کو کھسک کر اپنی گانڈ میرے لن کے قریب رکھی اور پھر گانڈ اٹھا کر میرے اوپر جھک کر اپنے ممے میرے منہ کے قریب کردیے ۔ میں نے جلدی سے منہ کھولا اور باری باری دونوں مموں کو چوسنے لگ گیا ۔ عظمی منہ چھت کی طرف کر کے سییییییییی اففففففففف آیہہہہہہہ کرنا شروع ھوگئی عظمی مزے لے لے کر خود اپنے ممے کو پکڑے نپل کو میرے منہ ڈال رھی تھی میرا لن بھی فل تنا عظمی کی پھدی کو گھور رھا تھا جو لن کے ٹوپے سے چند فاصلے پر لن جو ترسا رھی تھی ۔ میں نے عظمی کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر کیا تو عظمی نے اپنی پھدی میرے لن سے مذید تھوڑی اوپر کی میں نے عظمی کو کہا تھوڑا پیچھے ھو جاو عظمی ڈوگی سٹائل میں ھی پیچھے ھوئی اور پھدی کو لن کے اوپر کر دیا میں نے ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو جڑ سے پکڑا اور عظمی کی پھدی کے ہونٹوں کے بیچ سیٹ کرنے لگ گیا عظمی سمجھ گئی تھی اب کالا ناگ پھدی کا ستیاناس کرنے لگا ھے تو عظمی نے جھٹ سے پھدی کو لن سے اوپر کیا اور خود ہاتھ نیچے کر کے لن سے میرا ھاتھ ہٹا کر خود لن کو پکڑتے ھوے بولی یاسر میں خود اندر کروں گی تم پلیز دھکا نہ مارنا نھی تو میری چیخ کمرے سے نکل کر باہر گلی تک جانی ھے میں نے بھی لن کو چھوڑ دیا اور اسکی کمر کو دونوں طرف سے پکڑ لیا عظمی نے لن کی ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں اچھی طرح پھیر کر پھدی کے پانی سے گیلا کیا اور لن کو پھدی کے سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ نیچے بیٹھنے لگ گئی آدھا لن عظمی نے پھدی میں آہ آہ آہ اوییییی کرتے لے لیا اور پھر گانڈ کو اٹھا ااٹھا کر اوپر نیچے کرتے ھوے آدھے لن کا ھی مذہ لینے لگ گئی ۔ میں بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن مذید اندر کرنے کی کوشش کرتا مگر عظمی ساتھ ھی اوپر ھو جاتی اور کہنے لگ جاتی یاسر تم کچھ مت کرو آج میں خود ھی کروں گی میں ہمممم کر کے عظمی کے مموں کو ھاتھ میں پکڑ کر سن سے کھیلنے لگ گیا ۔ کچھ دیر ایسے ھی عظمی آدھے لن پر اوپر نیچے ھوتی رھی اور میں عظمی کے دونوں مموں کو باری باری دباتا اور نپلوں کو مسلتا رھا عظمی نے آہستہ آہستہ پورا لن پھدی کے اندر اتار لیا اور ٹانگیں میری ٹانگوں کے اوپر لمبی کر کے پورا لن اندر لے کر میرے اوپر لیٹ گئی اور بڑے فخر سے سیکسی اواز میں بولی یاسر سارا چلا گیا نہ اندر میں نے اثبات میں سر ہلا کر اوکے کیا .عظمی نے مجھے کس کر جپھی ڈال کر گانڈ کو اوپر نیچے کر کے آہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کردئے میں نے دونوں ھاتھ عظمی کی گانڈ پر رکھ کر گانڈ کو بھینچنے لگ گیا عظمی جیسے ھی گانڈ اوپر کرتی تو میں ھاتھوں کا دباو دے کر گانڈ کو لن کی طرف جھٹکے سے دبا دیتا عظمی ھاےےے کرتی اور مدہوش آواز میں کہتی یاسر بڑا مزہ آرھا ھے ھممممم افففففف آہ آہ آہ میں اسکی ایسی مدہوش آواز میں سیکسی باتیں سن کر جوش میں آجاتا اور زور زور سے گانڈ کو ھاتھوں میں دبوچ دبوچ کر نیچے کی طرف دباتا کچھ دیر بعد عظمی نے گھسے مارنے کی سپیڈ تیز کردی اور ساتھ ھی مدہوشی میں بولے جارھی تھی ہاں یاسر ایسے کرو ایسے ھی آہہہہہ آہ ھممممم سسسسسسیییی یاسر سارا کرو اور میں نیچے سے گانڈ اٹھا کر پورے ذور سے لن کو پھدی کے اندر تک کر دیتا عظمی نے گھسے مارنے بند کردئے اور لن کو پھدی میں جکڑ کر میرے اوپر سے کھسک کر پاوں کی طرف چلی گئی جس سے میرا لن پھدی کی ہڈی کے ساتھ لگ گیا میرا لن بری طرح پھدی میں جکڑا ھوا تھا ا عظمی لن کو پھدی میں جکڑ کر سانپ کی طرح بل کھاتے ھوے گانڈ کو ہلا رھی تھی اور مزید لن پر ہڈی کو رگڑ رھی تھی اور پیچھے جانے کی کوشش کررھی تھی میری تو درد سے جان نکلنے والی ھوگئی مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ پھدی کی ہڈی نے میرے لن کو توڑ دینا ھے میں نے دونوں بازو لمبے کیے اور عظمی کی گانڈ کو دبوچ کر آگے کی طرف زور لگانے لگ گیا عظمی کی سانسیں بری طرح اکھڑی ہوئی تھیں اسکے ممے میرے سینے میں پوست تھے عظمی بس ایک بات ھی کری جارھی تھی یاسر بُوتتتتت مزہ آرھا ھے کہاں تھا یہ مزہ سییییی ہممممم آہہہہہہہہ عظمی ایسے کرتی کرتی یکدم اپنی ٹانگوں کو بھینچ کر لن کو پھدی میں مزید جکڑ لیا اور میرے ہونٹوں کو بےدردی سے اپنے دانتوں سے کاٹتے ھوے رک کر گانڈ کو پورے زور سے میرے لن کی طرف دبا دیا اور اپنے جسم کو زبردست جھٹکے دینے لگ گئی پانچ منٹ تک عظمی ایسے ھی میرے اوپر لیٹی رھی ۔۔ جب عظمی اچھی طرح نارمل ھوئی تو میں نے عظمی کو تھوڑا اوپر کیا اور اسکی ٹانگوں کو دونوں طرف سے پکڑ کر آگے کی طرف کھینچ کر اسے اپنے اوپر گھوڑی کی شکل میں کردیا۔ عظمی نے دونوں بازوں گدے پر کہنیوں کے بل کیے اور گھٹنوں کے بل گانڈ اوپر کر کے لن کے کچھ فاصلے پر پھدی کو کرلیا ۔ میں نے اسکےدونوں چوتڑوں پر ھاتھ رکھے اور نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر لن عظمی کی پھدی میں ڈال کر اوپر کی طرف گھسے مارنے شروع کردیے میں جیسے جیسے گانڈ اٹھا کر گھسے مارتا عظمی کے ممے میرے منہ کے سامنے ہلتے میرا لن پھدی کی گہرائی تک جا رھا تھا میرے ھاتھ عظمی کی گانڈ کو دبوچ کر گانڈ کو نیچے کی طرف پُش کررھے تھے میری انگلیاں ساتھ ساتھ عظمی کی گانڈ کے دراڑ میں جاکر گانڈ کے سوراخ کا مساج بھی کرتی جارھی تھی عظمی نے بھی یس یس اففففف اممممم کرنا شروع کردیا ۔ جس سے میرا جوش مذید بڑھ رھا تھا عظمی کی سسکاریاں میرے لطف میں مذید اضافہ کرتی جارھی تھی عظمی کی پھدی کافی گیلی تھی اور اسکی پھدی سے نکلنے والی منی میرے لن پر ھی لگ گئی تھی جس کی وجہ سے لن پھدی میں فراوانی سے اندر باھر ھو رھا تھا میں گھسے مارنے کے دوران اپنا سر اونچا کر کے عظمی کے ممے کو بھی چوم لیتا میرے گھسوں سے ہلتے ممے کمال لگ رھے تھے اس کے مموں کی تھرتھراہٹ سے مجھے اپنے گھسوں کی شدت کا اندازہ ھورھا تھا کچھ دیر بعد میں گھسے مار مار کر تھک گیا عظمی بھی پھر فارغ ھونے کے قریب تھے میرے گھسوں کی رفتار کم ھوئی تو عظمی پھدی کو نیچے کی طرف پُش کرنے لگ گئی اور پھر عظمی کی سسکیاں اور پھدی کو لن پر پُش کرنے کی رفتار تیز سے تیز تر ھوتی ھوگئی اور پھر عظمی نے پورا وزن میرے لن پر ڈال کر لن کو پھدی کی گہرائی تک پہنچا دیا اور میرے ساتھ چمٹ گئی اور اسکا جسم جھٹکے کھانے لگا عظمی کی منی کی دھاریں میرے ٹوپے سے ٹکرا رھی تھی ۔ عظمی لمبے لمبے سانس لیتی ھوی میرے اوپر سے دوسری طرف گر گئی اور دونوں ھاتھ اپنے منہ پر رکھ کر افففففففففف ھاےےےےےےے ھوے ھوے ھوے کرنے لگ گئی .میں جلدی سے اٹھا اور عظمی کی ٹانگوں کے درمیان آیا اور عظمی کی ٹانگیں اٹھا کر اسکے گھٹنے اسکے پیٹ کے ساتھ لگا دیے اور لن کو پھدی پر سیٹ کر کے ایک دھکے میں سارا لن پھدی کے اندر اتار دیا عظمی نے اپنے منہ پر ھاتھ رکھتے ھوے ابھھھھھپھھھھ کیا اور ذور ذور سے سر دائیں بائیں مارنے لگی اسکے چہرے پر تکلیف کے اثار نظر آرھے تھے عظمی منہ سے ہاتھ ہٹا کر آہستہ سے بولی یاسر ررررررر مجھ پر ترس کھاو میں نے اسکو کوئی جواب نہ دیا اور لن کو باہر کھینچ کر پھر ویسے ھی ذور سے اندر کیا میرا لن اسکی ریڑھ کی ہڈی سے ٹکرایا تو عظمی نے بری طرح اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو بھینچ اور میرے سر کے بالوں کو ذور سے پکڑ کر میرا سر ہلاتے ھوے بولی یاسرررررررررر پلیزززززز آرام سے بہت درد ھورھا ھے میں نے گھسے مارتے ھوے عظمی کو جپھی ڈال لی عظمی کے ممے میرے سینے کے ساتھ چپکے ھوے تھے اور میں اسکی گالوں کو چومتا اور ہونٹوں کو عطمی نے اپنے دونوں ھاتھ میری کمر پر رکھے ھوے تھے ۔ میں دس پندرہ منٹ عظمی کو ایسے ھی چودتا رھا اور پھر میری سپیڈ تیز ھوئی اور عظمی کی سیکسی آوازیں بھی نکلنا شروع ھوگئے اس سے پہلے کہ میرا لن عظمی کی پھدی کو منی سے بھرتا میں نے ھاتھ نیچے کیا آخری جاندار گھسہ مارا اور لن کو باہر نکال کر پھدی کے اوپر ھی ساری منی نکال دی کچھ دیر بعد دونوں ریلیکس ھو کر اٹھنے ھی لگے تھے کہ اچانک ۔۔۔۔
  2. 7 likes
    update.. .نسرین کا جیسے ھی میں نے ہاتھ پکڑا نسرین کو کرنٹ لگا اور اس نے جلدی سے مجھ سے ہاتھ چھڑوایا اور کھسک کر مجھ سے پرے ھوکر بیٹھ گئی ۔۔ میں نے کہا کیا ھوا میرے نال کنڈے لگے ھوے نے ۔۔۔ نسرین دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرتے ھوے بولی ننننہیں کچھ نہیں بولو کیا بتانا تھا۔۔ میں بھی کھسک کر نسرین کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا ۔۔ اور پھر نسرین کا ہاتھ پکڑ لیا تو نسرین پھر مجھ سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔ میرا ہتھ تے چھڈ دے ۔ہتھ پھڑ کے کیڑی گل کرنی اے ۔۔۔ میں نے اسکے ھاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور بولا ۔ ایسے مجھ میں ہمت بڑھتی رھے گی کہ تم میرے ساتھ ھی ھو ورنہ مجھ سے ساری بات نہیں ہونی ۔۔۔ نسرین نے میری بات سن کر ہاتھ ڈھیلا چھوڑ دیا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔ چل چھیتی نال دس کی دسنا اے ۔۔۔ میں نے کہا ۔ حوصلہ تے کر اکو واری کالی پے جانی ایں ۔۔ نسرین بولی یاسر مینوں تیرے ارادے ٹھیک نئی لگدے ۔ چل چلیے کار نئی تے میں چلی آں ۔ یہ کہتے ھوے نسرین اٹھنے لگی تو میں نے اسکا بازو کھینچ کر اسے واپس چارپائی پر بٹھا لیا۔۔ نسرین بولی یاسر مینوں جان دے میرا دل ڈری جاندا اے ۔۔۔ میں نے کہا یار کیا ھوا تم تو ایسے ڈر رھی ھو جیسے میں تمہیں کھا جاوں گا ۔ نسرین بولی فیر میرا ہتھ چھڈ تے نالے میرے کولوں دور ھو کے بیٹھ ۔۔ میں نے کہا یار تم تو ایسے کررھی ھو جیسے پہلی دفعہ میرے ساتھ بیٹھی ھو ۔ نسرین بولی پہلے کی بات اور تھی اب ہم بڑے ھوگئے ہیں بچے نہیں ہیں ۔۔۔ میں نے کہا اچھا چھوڑ سب باتوں کو ۔ اس دن جب میں اور اسد اور عظمی باغ کی طرف گئے تھے تو عظمی اور اسد مجھے اور اسد کی بہن کو پٹری پر چھوڑ کر امرود توڑنے کے بہانے باغ میں گھس گئے تھے ۔ نسرین سب کچھ بھول کر میری بات سننے لگ گئی ۔ وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ اسکا ھاتھ میرے ھاتھ میں ھے اور اسکی نرم نرم ران میری ران کے ساتھ لگی ھوئی ھے اور میں اسکے ساتھ جڑ کر بیٹھا ھوا ھوں ۔ نسرین بڑے غور سے میری بات سن رھی تھی ۔۔ میں نے بات آگے بڑھاتے ھوے کہا۔ میں پٹری پر کھڑا ھوکر انکو باغ میں دیکھنے لگ گیا تو اسد کی بہن کہتی کہ میں چھلیاں توڑنے جانے لگی ھوں ۔ تو میں نے اسے کہا تم جاو میں ادھر کھڑا ھوں ۔۔ نسرین بولی فیر رررر ۔ میں نے کہا پھر میں اکیلا ادھر کھڑا ھوگیا اور پھر جب اسد کی بہن مکئی میں چھلیاں توڑنے چلی گئی تو میں عظمی کو دیکھنے انکے پیچھے باغ میں چلا گیا ۔ میں چھپ چھپ کر باغ میں داخل ھوا تو میں نے دیکھا ۔۔۔ نسرین بولی کیا دیکھا ۔ میں نے کہا ۔ میں نے دیکھا کہ اسد اور عظمی جپھی ڈال کر کھڑے تھے اور ایک دوسرے کی چمیاں لے رھے تھے ۔۔۔ نسرین ایکدم اچھلی ھاے میں مرگئی فیررررررر میں نے نسرین کے ہاتھ کو کھول کر اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں ڈال لی تھیں اور ہاتھ میں نے اسکے نرم پٹ پر رکھ دیا تھا جسکا احساس اسے نہیں ھوا تھا ۔۔۔ میں نے کہا ۔ پھر میں درخت کی اوٹ میں کھڑا ھوگیا اور چھپ کر ان دونوں کو دیکھنے لگ گیا ۔ عظمی اور اسد نے ایک دوسرے کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ھوے تھے اور ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوس رھے تھے ۔ نسرین میری انگلیوں میں پھنسی اپنی انگلیوں سے ہلکے ہلکے میری انگلیوں کو دبا رھی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے خشک ہونٹوں پر بار بار زبان بھی پھیرے جارھی تھی ۔ میں اسکی کیفیت کو نوٹ کر رھا تھا ۔ اور مجھے اندازہ ہورھا تھا کہ ۔ گھی پگھلنا شروع ھوگیا ھے ۔۔ میں نے اپنی بات میں مذید ٹوسٹ لاتے ھوے کہا۔ پھر ایکدم اسد نے عظمی کے ۔۔۔۔۔۔ نسرین میرے خاموش ھونے پر فورن بولی ۔۔ کیا ایکدم ۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا اسد نے ایک دم عظمی کے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگ گیا ۔۔۔ نسرین نے دونوں رانوں کو آپس میں ملا کر بھینچتے ھوے کہا ۔۔ پھر ررررر۔ عظمی نے اسے روکا نہیں ۔۔ میں نے کہا جماں ای نئی ۔۔ عظمی کو تو مزہ آرھا تھا وہ تو مزے سے آنکھیں بند کر کے اسد کے ہونٹ چوس رھی تھی ۔ نسرین نے میرے ھاتھ سے اپنا ھاتھ چھڑوایا اور دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرنے لگ گئی ۔ میں نے اسکے چہرے کو دیکھا تو پسینے سے اسکا چہرہ چمک رھا تھا ۔ نسرین اپنا چہرہ صاف کرے کے پھر اپنی رانوں کے بیچ پھدی کے اوپر ہاتھ رکھ کر میری طرف نشیلی آنکھوں سے دیکھتے ھوے بولی فیررررر کی ھویا۔۔نسرین کی آواز میں لرزش تھی ۔۔ میں نے کہا نسرین کے پٹ پر الٹا ھاتھ رکھا ھوا تھا ۔۔ میں نے ہاتھ کو سیدھا کیا اور نسرین کی ران پر ہاتھ کو رکھ کر آہستہ آہستہ سہلاتے ھوے بولا ۔ پھر اسد نے ایک ھاتھ نیچے کیا اور عظمی کے پٹ پر پھیرنے لگ گیا اور عظمی مزے سے سیییییی سییییی کرنے لگ گئی ۔۔ میں نے بھی اپنے ہاتھ کی گردش وسیع کرتے ھوے نسرین کے پورے پٹ پر ھاتھ پھیرنے لگ گیا ۔۔۔ نسرین کے ہونٹ کانپ رھے تھے اور اسکا جسم بھی ایسے کانپ رھا تھا جیسے اسکو سردی لگ رھی ھو۔ نسرین بار بار دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کررھی تھی اور جب وہ چہرہ صاف کرنے لیے دوپٹہ اوپر لیجاتی تو اسکے بڑے بڑے تنے ھوے ممے صاف نظر آتے اور اسکی تیز تیز سانسوں سے ممے اوپر نیچے ھوتے صاف محسوس ھوتے ۔ میں ہاتھ ل کو اسکے ران پر پھیرتے پھیرتے ہاتھ کی انگلیاں اسکی رانوں کے بیچ لیجانے لگا جس میں کافی کامیاب بھی ھوگیا میری دو انچ انگلیاں اسکی رانوں کے بیچ پہنچ چکی تھیں ۔ میں نے اگلا وار کرتے ھوے کہا ۔ پھر اسد نے عظمی کی قمیض آگے سے اوپر کی اور ھاتھ اسکی ٹانگوں کے بیچ لے جا کر اسکی شلوار میں ڈال دیا ۔۔ میں نے بھی ساتھ ھی ہاتھ کو مزید نیچے کھسکا کر انگلیاں نسرین کی پھدی کے ساتھ ٹچ کی ۔ اور ساتھ ھی میں نے کہا جیسے ھی اسد نے ھاتھ عظمی کی شلوار میں ڈالا تو عظی تڑپ کر اسد کے ساتھ چمٹ گئی ۔ اور میرا وار بلکل کامیاب ھوا میری انگلیوں نے جیسے ھی نسرین کی پھدی کے لبوں کو چھوا تو نسرین نے سیییییییی کیا اور اپنی رانوں کو ذور سے بھینچ کر میری انگلیوں کو گستاخی کی سزا دیتے ھوے رانوں کے بیچ کس کر قید کرلیا اور نسرین نے میری کلائی کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔ میں نے اگلی چوٹ لگاتے ھوے کہا ۔۔ پھر اسد نے عظمی کے ہونٹوں کو منہ میں ڈال لیا ۔۔۔ اور مجھ میں پتہ نہیں کہاں سے اتنی ہمت آئی کہ میں نے یہ کہتے ھی نسرین نسرین کی گردن میں بازو ڈالا اور اسکے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے ھوے اسے اپنے ساتھ ھی پیچھے کی طرف لیٹاتا ھوا چارپائی پر گرا ۔نسرین نے پہلے تو احتجاج کرتے ھوے منہ ادھر ادھر کیا مگر لیٹنے کی وجہ سے نسرین کی رانیں بھی کھل گئیں تھی تو میرا ہاتھ بھی آزاد ھوچکا تھا تو میں نے ساتھ ھی نسرین کی پھدی پر ہاتھ کی چاروں انگلیاں رکھ کرشلوار کے اوپر سے ھی پھدی کو مسلنا شروع کردیا نسرین کے جسم کو ایک ذوردار جھٹکا لگا اور ساتھ ھی نسرین نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے لیا اور میرے ھونٹ چوسنے لگ گئی ۔ میں بھی نسرین کی پھدی کو مسلی جارھا تھا ۔ نسرین کی پھدی کے بال مجھے اپنی انگلیوں پر محسوس ھورھے تھے ۔ مگر اسکی پھدی ابھی چھوٹی تھی اس لیے پھدی کے ہونٹ اتنے ذیادہ انگلیوں کو محسوس نہیں ہورھے تھے ۔ جو بھی تھا مگر اس وقت مجھے نسرین کی کنواری پھدی مسلنے کا مزہ بہت آرھا تھا ۔ نسرین بھی فل گرم ھوکر پھدی مسلواتے ھوے میرے ھونٹ چوسی جارھی تھی ۔ میں نے پھدی مسلتے مسلتے ہاتھ کھسکا کر نسرین کی لاسٹک والی شلوار میں ڈال دیا افففففففففف کیا ھی نرم نرم جگہ تھی نسرین کی پھدی پر بال تھے مگر بال بھی بہت نرم اور ملائم تھے میری انگلیاں پھدی کے چھوٹے چھوٹے لبوں کے درمیان گھس گئیں اور جیسے ھی میری انگلیوں نے نسرین کے چھوٹے سے دانے کو مسلا تو نسرین کے منہ سے چیخ نکلی اور ساتھ ھی نسرین کا جسم کانپا اور ایک ھی بار ننگی پھدی کو چھوتے ھی نسرین کی گیلی پھدی سے یکے بعد دیگرے پانی کے فوارے نکلے اور نسرین نے اپنی رانوں کو ذور سے بھینچ لیا اور ساتھ میں میرے ہونٹوں کو بےدردی سے چوسنا شروع کردیا ۔۔ کچھ دیر میں ھی نسرین ٹھنڈی ھوگئی اور اسکی گرمی پھدی کے راستے سے نکل کر میری انگلیوں میں جزب ہوتے ھوے میرے دماغ میں منتقل ہوگئی ۔۔۔ .نسرین کو جیسے ھی ہوش آیا کہ یہ کیا کربیٹھی تو اس نے میرے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکا دینے کی کوشش کی مگر تب تک دیر ھوچکی تھی ۔ کیونکہ نسرین کو جب ہوش آیا تب تک میں ہوش حواس کھو بیٹھا تھا ۔ اپنے سینے پر دھکے مارتے میں نے نسرین کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور ہاتھوں کو پکڑ کر اسکے سر کے پیچھے لیجا کر ایک ھاتھ میں دونوں کلائیوں کو پکڑ کر دبا دیا۔ اور بڑی پھرتی سے ھاتھ نسرین کی قمیض میں ڈال کر اوپر لیجاتے ھوے اسکے ممے کو پکڑ لیا ممے پر ہاتھ لیجاتے ھوے میں نے انگلیاں بریزیر کے نیچے سے ڈال کر بریزیر کو ممے سے اوپر کر دیا تھا ۔ اور نسرین کا ننگا مما میری مٹھی میں تھا جسے میں دباتے ھوے ۔۔نسرین کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کررھا تھا ۔۔ جبکہ نسرین سر کو دائیں بائیں مارتے ھوے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کی پہنچ سے دور رکھنے کی کوشش کررھی تھی اور ساتھ میں مجھے کہے جارھی تھی ۔۔۔ یاسر کیا کررھے ھو یہ ٹھیک نہی ******کے واسطے مجھے چھوڑ دو ۔ میں تمہیں اپنا بھائی سمجھتی ہوں تم یہ کیا کررھے ھو ۔ میں امی کو بتاوں گی چھوڑو مجھے نہ کرو یاسر ۔۔۔ مگر مجھ پر جنون سوار تھا میں اندھا گونگا بہرہ ہو کر اپنی ہوس کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ھوے ۔ نسرین کے دونوں مموں کو باری باری دباتا تو کبھی اسکے نپلوں کو مسلتا۔۔۔ میں نے نسرین کے احتجاج کی پرواہ نہ کرتے ھوے مموں کو چھوڑا اور ہاتھ پھر نیچے شلوار میں ڈال کر ایک ھاتھ سے ھی اسکی شلوار نیچے کرنے لگ گیا ۔۔ جبکہ نسرین کروٹیں لے لے کر اپنا بچاو کرنے کی کوشش کررھی تھی ۔ نسرین میری منتوں پر اتر آئی کہ ۔ پلیززز یاسر نہ کرو میری عزت خراب نہ کرو میں کسی کو منہ دیکھانے کے لائک نہیں رہوں گی ۔ میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتی تھی ۔ تم تو ہماری عزت کے رکھوالے ھو تم ھی میری عزت لوٹنے لگ گئے ۔۔۔ مگر مجھے کچھ سنائی نہیں دے رھا تھا بس مجھے ایک ھی چیز نظر آرھی تھی ۔ اور وہ تھی نسرین کی کنواری پھدی ۔۔ میں نسرین کے ہلنے اور احتجاج کے باوجود اسکی شلوار اسکے گھٹنوں تک کرنے میں کامیاب ھوگیا ۔ اور پھر جلدی سے اپنا لن ٹراوزر سے باہر نکالا اور نسرین کی ٹانگوں کے اوپر چڑھ کر اسکی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں کے درمیان لے کر لن اس کے ننگے چڈوں پر رکھا تو نسرین بلک بلک رونے لگ گئی ۔ نسرین کی ٹانگیں چارپائی سے نیچے تھی اور اسکی گانڈ چارپی کے ڈنڈے پر اور اسکا دھڑ چارپائی پر تھا۔ میں لن کو پکڑ کر تھوڑا سا آگے ھوا اور اسکی پھدی کے اوپر ٹوپا رکھا اور گھسا مارنے ھی لگا تھا کہ نسرین بولی ۔ یاسر میری عزت خراب کر کے تمہیں کیا ملے گا کچھ دیر کے مزے کے لیے تم میری ساری زندگی خراب کردو گے ۔ سوچو اگر میری جگہ تمہاری بہن نازی ھوتی تو کیا ھوتا ۔۔۔ اگر اسکے باوجود بھی تم نے میری عزت خراب کرنی ھے تو ٹھیک ھے کرلو جو دل کرتا ھے کرلو مگر اسکے بعد میرا منہ دیکھو گے مین نے خودکشی کرلینی ھے نسرین کی بات سنتے ھی ۔ مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں نے جھٹکے سے اسکے ہاتھ چھوڑے اور بڑی پھرتی سے اس کے اوپر سے آٹھا ۔۔۔ اور جلدی سے لن کو ٹراوز میں کیا اور اسکو ویسے ھی لیٹا چھوڑ کر میں کمرے سے نکل آیا۔۔۔ .اور صحن میں کھڑا ھوکر اپنے سر پر تھپڑ مار نے لگ گیا ۔ کہ مجھے اسکے ساتھ ذبردستی نہیں کرنی چاہیے تھے ۔۔۔ کچھ دیر کھڑے رہنے کے بعد میں واپس پھر کمرے میں گیا تو نسرین شلوار اوپر کر کے اپنی قمیض درست کررھی تھی ۔۔۔ مجھے دیکھ کر وہ ایکدم چونکی اور دو قدم پیچھے ہٹی ۔ میں چلتا ھوا اس کے قریب گیا ۔۔۔ اور اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ھوگیا اور روہانسے لہجے میں بولا ۔ نسرین پلیز مجھے معاف کردو مجھ سے غلطی ھوگئی مجھے پتہ ھی نہیں چلا کہ میں کیا کررھا ھوں ۔ میں بہک گیا تھا نسرین میں بہک گیا تھا ۔پلیزززز مجھے معاف کردو۔۔۔ اور یہ کہتے ھوے میں گھٹنوں کے بل اسکے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھ گیا ۔۔ نسرین منہ کھولے مجھے دیکھی جارہی تھی ۔۔۔ اور چند لمحوں بعد نسرین آگے بڑھی اور مجھے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور میرے بندھے ھاتھ کھول کر بولی ۔۔۔ بس کرو یاسر غلطی میری بھی تھی ۔ اکیلے تم ھی قصور وار نہیں ھو ۔۔۔ میں نے نسرین کے کندھون کو پکڑا اور بولا نسرین تم نے مجھے معاف کردیا ۔۔۔ نسرین میرے چہرے کو غور سے دیکھتے ھوے مسکرا کر بولی ہممممم اور میں نے جلدی سے نسرین کی گالوں پر ھاتھ رکھا اور تھینکیو تھینکیو کرتے ھوے دس پندرہ چھوٹی چھوٹی چُمیاں بڑی تیزی سے اسکے ہونٹوں پر لیں ۔۔ نسرین مممممممممم کرتی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ھوے مسکرائی ۔۔۔ اور بولی چل گنداااا نہ ھوے ۔۔۔ اور میں اسکو کندھے سے پکڑ کر بغل میں لیے کمرے سے باہر آیا اور صحن میں چلتا ھوا باہر دروازے کی طرف چلنے لگا تو اچانک نسرین میری بغل سے نکل کر اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ھوے بولی ۔ بُدھو جو لین آے سی او تے کمرے وچ ای اے ۔۔۔ میں نے ینستے ھوے کہا جاو لے آو کہ میں بھی آوں ۔۔ نسرین منہ بسورتے ھوے بولی ۔۔ آرام نال ایتھے ای کھڑا رہ ۔۔ اور نسرین بھاگتی ھوئی کمرے میں گئی اور کھیس اور چادر لے کر کمرے کو لاک کیا اور پھر دوسرے کمرے کو بھی لاک کرنے کے بعد ہم باہر نکلے اور مین دروازے کو تالا لگانے کے بعد گھر کی طرف چل دیے میں نت شکر ادا کیا کہ ۔بچ گیا ورنہ نسرین جیسی منہ پھٹ تھی وہ کچھ بھی کرسکتی تھی ۔۔ مجھے اب نیگٹیو سین یاد آنے لگ گئے کہ نسرین اگر گھر بتا دیتی تو یہ ھونا تھا وہ ھونا تھا ۔ ان ھی خیالوں میں ہم گھر کے قریب پہنچے تو میں نے نسرین کو کہا تم گھر جاو میں تھوڑی دیر کے بعد آتا ھوں ۔ اگر وہ دیر ھونے کی وجہ پوچھیں تو کہنا کہ میں تمہیں گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا تھا اور تم میرا انتطار کرکر کے اکیلی ھی یہ سامان لے کر آئی ھو ۔۔۔نسرین میری بات سمجھ کر اثبات میں سر ہلاتی ھوئی دروازے کے پاس پہنچی تو میں سیدھا نکل گیا اور سوچنے لگ گیا کی اب کدھر جاوں دوست بھی چلے گئے ھوں گے ۔۔۔ اچانک میرے دماغ میں فرحت کا خیال آیا تو میرے قدم بےاختیار فرحت کے گھر کی طرف اٹھ گئے ۔۔۔ کچھ ھی دیر بعد میں فرحت کے گھر کے سامنے کھڑا تھا ۔ اور جیسے ھی میں نے درواز ناک کرنے کے لیے ھاتھ آگےبڑھایا تو میری نظر دروازے پر لگے تالے پر پڑی تو میں نے وہیں سے ھاتھ واپس کھینچ کر اپنے ماتھ پر مارا کہ سالی آج تو قسمت ھی خراب ھے۔ اب یہ گشتی پتہ نہیں گھر کو تالا لگا کر کہا گئی ھے ۔۔ میں کچھ دیر کھڑا ادھر ادھر دیکھتا رھا مگر گلی سنسان تھی ۔۔ میں کچھ دیر مزید کھڑا رھا اور پھر مایوس ہوکر قسمت کو کوستا گھر آیا تو آگے سے سب کی سڑی سڑی سننے کو ملیں کہ نسرین بےچاری کو اکیلی چھوڑ کر کہا دفعہ ھوگئے تھے ۔۔ .وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ میں سب کی باتیں سن کر بیٹھک میں چلا گیا ۔۔ اور کچھ دیر بعد سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔ اگلے دن صبح دکان کے لیے تیار ھوکر گھر سے نکلا اور معمول کے مطابق ضوفی کو گھر سے لیا اور دکان پر آگیا ۔ ضوفی سے میں نے ماہی کے کالج جانے اور کوئی مسئلہ مسائل پیدا تو نہیں ھوا پوچھا تو ضوفی نے تسلی بخش جواب دیا ۔ دکان پر سارا دن کام میں گزر گیا ۔ شام کو میں دکان کے اندر کاونٹر پر بیٹھا سیل گن رھا تھا اور جنید باہر بیٹھا ھوا تھا ۔ کہ دو نقاب پوش لڑکیاں دکان میں داخل ہوئیں انکے پیچھے ھی جنید بھی اندر آگیا ۔ میں نے سر اٹھا کر بس ایک نظر ھی انکو دیکھا اور جنید کو دیکھ کر میں پھر سر نیچے کر کے پیسے گننے لگ گیا۔۔۔ جنید ان کو لے کر پیچھے چلا گیا اور ورائٹی دیکھانے لگ گیا ۔۔ میں بھی سیل گن کر سیدھا ھوکر چیئر پر پیچھے ٹیک لگا کر چئیر کو آگے پیچھے کر کے چئیر پر جھولتے ھوے کبھی باہر کی طرف دیکھتا توکبھی ان دونوں لڑکیوں کو جو اپنے دھیان سوٹ دیکھنے میں مصروف تھیں ۔ لڑکیوں کے مجھے بس سائڈ پوز ھی نظر آرھے تھے ۔۔ کچھ دیر بعد ان لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا تو اس وقت میں بھی انکی طرف ھی دیکھ رھا تھا ۔ جیسے ھی اسکا دھیان مجھ پر پڑا تو اسکی آنکھیں باہر کو ابلنے والی ہوگئیں مجھے بھی اسکا یوں اپنی طرف دیکھنا عجیب لگا اور میں نے بھی جب غور سے اسے دیکھا تو میں بھی ایکدم اچھل کر کرسی سے کھڑا ھوگیا ۔۔ کہ یہ سالی کدھر آگئی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو غور سے دیکھنے لگ گئے ۔۔۔ میں نے اسے کچھ دیر غور سے دیکھا اور پھر اس سے نظریں چرا کر باہر دیکھنے لگ گیا ۔۔ کچھ دیر بعد انکی ریٹ پر جنید کے ساتھ بحث ھونے لگ گئی ۔تو وہ لڑکی سوٹ پکڑ کر میرے پاس آگئی جبکہ دوسری لڑکی پیچھے ھی جنید کے پاس کھڑی دوسرا سوٹ دیکھنے لگ گئی ۔۔ لڑکی چلتی ھوئی میرے سامنے کاونٹر کی دوسری طرف کھڑی ھوگئی اور سوٹ میرے سامنے کاونٹر پر رکھتے ھوے نقاب درست کرتے ھوے آنکھوں کو بڑے سٹائل سے گھماتے ھوے بولی ۔ یاسر جی اب ہم اتنے برے ھوگئے کہ دیکھ کر بھی انجان بن گئے۔۔۔ میں نے تھوڑا ہچکچاتے ھوے کہا ۔۔ نننہیں سویرا جی ایسی بات نہیں ۔ وہ دراصل آپ کے ساتھ دوسری لڑکی تھی تو میں نے اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ آپ سے سلام دعا لوں کہ کہیں وہ کچھ غلط نہ سمجھ لے ۔ سویرا بولی وہ میری چھوٹی سسٹر ھے ۔ میں نے ہممم کیا ۔ تو سویرا بولی یہ آپکی شاپ ھے میں نے کہا جی میری ھی شاپ ھے بس تھوڑی ھی دیر ھوئی ھے بناے ھوے ۔۔ سویرا بولی ۔ اچھی سیٹنگ کی ھے آپ نے اور ورائٹی بھی بازار سے ہٹ کر ھے ۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ھوے حال احوال پوچھا ۔ اور سٹڈی کے بارے میں پوچھا تو سویرا بولی سٹڈی تو اچھی جارھی ھے مگر آپ تو بھول ھی گئے میں تو روز کالج جاتے وقت آپکو دیکھتی رہتی تھی کہ شاید آپ نظر آجائیں مگر آپ نے تو آنا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔ میں نے کہا ۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ھے سویرا ۔ اصل میں مجھے یہ مناسب نہیں لگتا کہ یوں چھچھوروں کی طرح کالج کے باہر کھڑا رہوں اور ویسے بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں ھوتا ۔ سویرا بولی آپ کو اور آپکی دکان کو دیکھ کر بہت خوشی ھوئی ۔۔۔ اتنے میں سویرا کی بہن دوسرا سوٹ پکڑے سویرا کے پاس آگئی اور بولی کیا بنا ڈسکاؤنٹ ملا کہ نہیں ۔ سویرا ہنستے ھوے بولی ۔ جویریہ یہ اپنی ھی دکان سمجھو یہ اپنے جاننے والے ہی ہیں ۔ ہم تو بغیر پیسوں کے بھی سوٹ لے جا سکتے ہیں ۔ سویرا کی بات سنتے ھی میری چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجایا کہ کاکا بچ کے اے مال مُچھن والیاًں کُڑیاں نے ۔۔۔ میں نے سویرا کی بات کو نظرانداز کیا اور جنید کو آواز دے کر کہا جنید انکو ریٹ ذرہ مناسب لگا دو اپنے جاننے والے ھی ہیں ۔ تو جنید نے جی کہ کر انکو کافی ڈسکاؤنٹ دے دیا جس سے دونوں ھی خوش ہوگئیں ۔۔ سویرا پرس سے پیسے نکالتے وقت بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی کہ میں اسکو کہوں کہ رہنے دیں پیسے ۔ مگر میں بھی شیخ بچہ تھا ۔ گھر کو گھاٹا نہیں پڑنے دینا تھا ۔۔۔ میں بھی چپ کر کے کھڑا پیسے لینے کا انتظار کرتا رھا ۔ آخر سویرا نے دل پر پتھر رکھ کر پرس سے پیسے نکال کر مجھے دیے ۔ تو میں نے خاموشی سے پیسے پکڑے اور دراز میں رکھ کر انکا شکریہ ادا کیا ۔ تو سویرا پھر آنے کا کہہ کر چلی گئی اور میں نے بھی لمبا سانس بھرا اور کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔ جنید بولا استاد اے ایٹماں کون سی ۔۔۔ میں نے کہا یار انکے رشتہ دار ہماری گلی میں رہتے ہیں تو دو چار دفعہ انکو وہاں آتے جاتے دیکھا تھا اور آنکھوًں آنکھوں میں بس ہیلو ہاے ھوئی تھی ۔ .اور یہ سالیاں وکھری رشتے داریاں کڈ کے بے گئیاں سی ۔۔۔ جنید میری طرف دیکھ کر بڑی سنجیدگی سے بولا ۔۔ ایدا مطلب اے کے میں اک ہور پین بنان واسطے تیار رواں ۔۔۔ جنید کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں پیٹ پر دونوں ھاتھ رکھ کر ہنستے ھوے دھرا ھوتا جا رھا تھا ۔۔۔ جنید بھی ہنستے ھوے بولا ۔ یار پہلے بتا دے تیرا بھی کوئی پتہ نہیں چلتا کہ کیڑے پاسوں میری پین کڈ لینا ایں ۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ھے ۔ مجھے تو یہ چالو مال لگتا ھے ۔ اگر پروگرام ھے تو انکو پھنسا کر اکھٹے ھی چودیں گے ۔ جنید بولا جان دے اے پھسن والیاں نئی نے ۔ میں نے کہا شرط لگا لے اگر پھنسا لوں ۔۔ جنید بولا ماما میں تیری نئی اپنی گل کر ریاں ایں کہ او میرے نال نئی پھس سکدیاں ۔۔۔ توں تے اونوں پھسا لیا جدے بارے وچ کوئی سوچ وی نئی سکدا سی ۔۔۔ میں جنید کا اشارہ سمجھتے ھوے بولا ۔ گانڈو شرم کر تیری پرجائی اے ۔۔۔ جنید ہنستے ھوے بولا ۔ یار میں نے کونسی غلط بات کی ھے ۔ بلکل میری بھابھی ھی ھے ۔۔ اور تیری عزت میری عزت ھے ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا شکر ہے کہیں یہ نہیں کہدیا کہ تیری بیگم میری بھی بیگم ھے ۔۔ جنید میری گردن پکڑ کر میرا سر نیچے دباتے ھوے بولا ۔ ماما جدوں وی گل کریا کر پُٹھی ای کریا کر ۔۔۔ ہم ابھی ایک دوسرے کے ساتھ ہنس کھیل ھی رھے تھے کہ ۔ کسٹمر دکان میں داخل ھوے تو جنید کسٹمر کو دیکھ کر جلدی سے میری گردن چھوڑ کر سیدھا ھوگیا ۔۔۔۔ اور پھر کسٹمر کو ڈیل کرنے لگ گیا۔۔۔ رات لو دکان بند کی اور ضوفی کو گھر چھوڑنے کے بعد میں گاوں پہنچا اور گھر جاکر کھانا وغیرہ کھایا عظمی نسرین بھی گھر ھی تھیں ۔ نسرین بار بار مجھے بڑی عجیب نظروں سے دیکھتی مگر میں نے سب کے سامنے اسکو نظر انداز ھی کیے رکھے ۔ میں تو پہلے ھی کل کا ڈرا ھوا تھا کہ اگر میں جلد بازی میں نسرین کے ساتھ کچھ غلط کردیتا تو پتہ نہیں کیا ہوجانا تھا ۔ آنٹی کے گھر بنی عزت بھی خاک میں مل جانی تھی اور اپنے گھر والوں کے سامنے بھی وکھرا ذلیل ھونا تھا ۔ مگر نسرین پھر جان بوجھ کر پنگے لے رھی تھی اور مجھے ایسے دیکھ رھی تھی جیسے میں اسکا معشوق ھوں ۔۔ عظمی ذیادہ چپ چپ ھی رہتی تھی ۔ جیسے پہلے وہ ہنسی مزاق کرتی تھی مگر اب اس میں وہ بات نہیں تھی ۔ ویسے بھی وہ پہلے کی نسبت کافی کمزور ھوگئی تھی اور اسکا رنگ بھی پہلے جیسا سفید اور گلابی نہ رھا تھا ۔ بیچاری کو دکھ ھی اتنا بڑا لگا تھا کہ جو اسے اندر ھی اندر کھاے جارھا تھا ۔ اسکی آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑے ھوے تھے ۔ کھلتا گلاب کھلنے سے پہلے ھی مرجھا گیا تھا ۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طریقہ سے عظمی کے ساتھ علیحدگی میں بات ھوجاے یا اسکے ساتھ سیکس کا موقع مل جاے مگر نازی ھی اسکی پوش بنی ھوئی تھی ۔ اور نازی تھی بھی بڑی باتونی اسے بس کوئی سننے والا چاہیے اور پھر اسکی زبان کو کون روکے ۔۔۔ میں نے کافی دفعہ عظمی کو اشارہ بھی کیا مگر وہ مجھے آنکھوں سے نازی کی وجہ بتا دیتی ۔۔ اور نسرین. تھی جو بہانے بہانے سے مجھ سے بات کرتی اور پھر ہوس بھری نظروں سے مجھے تاڑتی ۔ مگر نہ جانے کیوں نسرین سے میں اب کترانے لگ گیا تھا ۔ ایک ھی رات میں مجھے اس، سے خوف سا محسوس ھونا شروع ھوگیا تھا ۔ جبکہ اب اسکی نظریں بتا رھی تھی کہ وہ اب خود میرے نیچے لیٹنا چاھتی ھے ۔ مگر اسکے باوجود مجھے اسپر اب یقین نہیں رھا تھا کہ یہ کسی وقت بھی بدل سکتی ھے اور یہ بھی سوچ تھی کہ ایسے چھوٹی سی غلطی کہیں میری بدنامی کا باعث نہ بن جاے ۔۔۔ خیر میں کچھ دیر انکے پاس بیٹھا انکی بک بک سنتا رھا اور پھر باہر گلی میں آگیا اور ایک بار پھر میرے قدم فرحت کے گھر کی طرف اٹھ گئے .مگر آگے سے پھر وہ ھی مایوسی. ملی ۔ دروازے پر لگا تالا مجھے منہ چڑھا رھا تھا ۔۔ آخر میں نے فرحت کے گھر پر تالا لگنے کی وجہ معلوم کرنے کا سوچا ۔ اور میں نے کچھ سوچ کر ساتھ والے گھر کا دروازہ بجایا تو کچھ دیر بعد دروازے پر دس بارہ سال کر لڑکا نکلا ۔ جو مجھے تو جانتا تھا مگر میں اسے نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کا بیٹا ھے ۔ میں نے اسے پوچھا کہ یہ ساتھ والے گھر پر تالا کیوں لگا ھے لڑکا بولا انکے گھر تو دو مہینے سے تالا لگا ھوا ھے ۔ میں نے حیران ھوتےھوے کہا کیوں کیا یہ لوگ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں یا کوئی اور وجہ ھے وہ لڑکا بولا کہ آنٹی فرحت کی امی کی طبعیت ذیادہ خراب ھوگئی تھی ۔ تو انکو وہ لاہور لے گئیں تھی جہاں انکا علاج ھورھا ھے ۔۔ میں نے ہممممم کیا اور اسکا شکریہ ادا کر کے چلنے لگا تو پھر میں رکا اور واپس مڑتے ھوے لڑکے کو آواز دی کہ بات سنو ۔ لڑکا بولا جی یاسر بھائی ۔ میں نے کہا یار انکا لاہور کا اڈریس یا فون نمبر مل سکتا ھے ۔۔ تو وہ لڑکا بولا مجھے تو نہیں معلوم میں امی یا ابو سے پوچھ کر بتا سکتا ھوں ۔ تو میں نے کہا یار مہربانی ھے اگر بتا دو ۔۔۔ انکا بیٹا میرا کلاس فیلو ھے تو اسکی نانی اتنی بیمار ھے تو میرا بھی حق بنتا ھے کہ انکی خیریت دریافت کروں ۔ اگر نمبر نہ ھوا تو اڈریس کا ھی پوچھ لینا ۔۔۔ کیوں کے میں نے اس جمعہ کو لاہور جانا ھے ۔ تو انکا پتہ کرتا آوں گا۔۔۔ لڑکا جی اچھا کہہ کر اندر چلا گیا اور کافی دیر بعد باہر آیا تو اسکے ہاتھ میں پرچی تھی جس پر موبائل نمبر لکھا ھوا تھا ۔۔۔ میں نمبر دیکھ کر حیران ھوا کہ یہ اتنا لمبا نمبر کیا باہر کے ملک کا ھے تو لڑکے نے بتایا کہ پتہ نہیں ۔ آنٹی جاتے ھوے ہمیں یہ نمبر لکھ کر دے گئیں تھی کہ اگر کوئی مسئلہ ھو یا کوئی کام ھو تو یہ میرے بھائی کا موبلیل نمبر ھے ۔۔۔ میں نے چونک کر لڑکے کی طرف دیکھا اور اس سے پھر پوچھا کہ کس چیز کا نمبر ھے تو لڑکا بڑے کانفیڈنس سے بولا ۔ بھائی موبلیل کا نمبر ھے ۔۔۔ اسکی بات سن کر مجھے ہنسی آگئی کہ سالا موبائل کو موبلیل کہہ رھا ھے ۔ دوستو تب ہمارے شہر میں ابھی موبائل سروس شروع نہیں ہوئی تھی ۔ مجھے موبائل کی شکل کا تھوڑا بہت پتہ تھا مگر موبائل کے نمبروں کا ابھی تک پتہ نہیں تھا کہ اتنا لمبا نمبر ہوتا ھے ۔۔۔ اسی لیے میں نمبر دیکھ کر یہ سمجھا کہ شاید یہ بیرون ملک کا نمبر ھے ۔ لڑکا مجھے ہنستے ھوے دیکھ کر بولا کیا ہوا بھائی یاسر ہنس کیوں رھے ہیں میں نے کہا ۔ کچھ نہیں یار ۔ اور میں نے پرچی فولڈ کر کے اپنے وائلٹ پرس میں رکھی ۔ اور پرس پینٹ کی جیب میں ڈال کر لڑکے کا شکریہ ادا کر کے وھاں سے گھر کی طرف آگیا ۔۔۔ دوستو پورا ہفتہ پھدی لیے بغیر گزر چکا تھا اور منی میرے دماغ کو چڑھ رھی تھی مُٹھ میں نے کبھی ماری نہیں تھے ایسے لن کا ستیاناس کرنے والی بات تھی مُٹھ مار کر ۔ اس لیے میں کافی اپسیٹ سا ھوچکا تھا ایک یہ ھی امید تھی فرحت کی وہ بھی نہ ملی ۔ میں مایوسی سے گھر پہنچا ۔ .تو سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے بھا ۔۔۔بھی دکان سے گھر آچکا تھا وہ بھی کمرے بستر پر لیٹا ھوا تھا ۔ میں پہلے سیدھا بیٹھک میں گیا پینٹ اتار کر ٹراوز پہنا اور شرٹ اتار کر ٹی شرٹ پہن لی جو میں سوتے وقت پہنتا تھا اور پھر میں اپنے بستر پر لیٹ گیا اور کچھ دیر بعد میں اٹھ کر بیٹھ گیا پتہ نہیں عجیب سے بے چینی ھورھی تھی اور پھر میں بستر سے اٹھا تو بھا کے کمرے میں پہنچا تو بھا گھوڑے بیچ کر سویا ھوا تھا اور اسکے خراٹے کمرے میں گونج رھے تھے ۔میں واپس بیٹھک میں آنے لگا مگر دروازے کو پکڑ کر پھر کمرے سے نکل کر صحن میں آگیا صحن میں گھپ اندھیرا تھا مگر نازی کے کمرے کی لائٹ جل رھی تھی اور دروازہ بھی کھلا ھوا تھا میں پہلے امی کے کمرے کی طرف گیا تو انکے کمرے دروازہ اور لائٹ بند تھی۔۔۔ تو میں ادھر سے ھی نازی کے کمرے میں گیا تو نازی اور عظمی ایک چارپائی پر لیٹی تھیں اور نسرین اکیلی ایک چارپائی پر ۔ مگر تینوں جاگ رہیں تھی اور انکی باتیں جاری تھیں ۔ مجھے بھی ابھی نیند نہیں آرھی تھی ۔اس لیے میں بھی ٹائم پاس کرنے انکے کمرے میں چلا گیا مجھے دیکھ کر تینوں اٹھ کر بیٹھ گئیں نازی اور عظمی اپنے دوپٹے کو درست کرنے لگ گئی مگر میری عزت کی دشمن ویسے ھی اپنے بڑے بڑے دودھ کے پیالوں کو میری آنکھوں کے سامنے چھلکاتے ھوے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ نسرین کے مموں کو دیکھ کر میرا پھر دماغ خراب ھونے لگ گیا ۔ نازی بولی بھائی سوے نہیں آپ میں نے کہا نیند نہیں ارھی تھی تو سوچا کہ تھوڑی دیر تم لوگوں کی چغلیاں سن لوں ۔ نسرین بڑی شوخی سے بولی ۔ اسی تینوں چُغل خور لگنے آں ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ھوے کہا ۔ اس میں کونسا شک والی بات ھے ۔ یہ تو سب کہتے ہیں کہ لڑکیاں جب بھی فارغ ہوکر بیٹھتی. ہیں تو سواے چُغلیوں کے انکو کوئی کام نہیں ھوتا۔۔ نسرین بولی نئی جی ہم تو بس اپنے بچپن کی باتیں کررہیں تھی ۔ میں نے ہممممم کیا اور بولا چلو میں. بھی سنوں کہ کونسی بچپن کی باتیں ھورہیں ہیں اور اسکے ساتھ ھی میں ایک طرف رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ عظمی اور نازی پھر میرے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئیں ۔ جبکہ نسرین اب خاموش تھی اور نسرین کی طرف میری جب بھی نظر جاتی تو اسے اپنی طرف دیکھتے پاتا۔۔ اور جب میری نظر اس کی نظر سے ملتی تو وہ نظر پھیر کر نازی کی طرف دیکھنے لگ جاتی ۔ میں نے عظمی سے پوچھا کہ آنٹی کا فون وغیرہ نہیں آیا تو عظمی بولی ابھی تک تو امی کا فون نہیں آیا پتہ نہیں ابو کی طبعیت کیسی ھوگی امی بھی لاپرواہ ہیں جاکر کم ازکم ایک فون کر کے اپنی اور ابو کی خیریت تو بتا دیتی ۔ میں نے عظمی سے اسکے ماموں کا نمبر پوچھا کہ میں صبح کال کر کے پتہ کرلوں گا ۔ عظمی بولی مجھے زبانی یاد تو نہیں مگر گھر ماموں کا نمبر لکھا پڑا ھے ۔۔ میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں صبح مجھے لاکر دے دینا ۔ تبھی نسرین بولی ۔ عظمی صبح یاسر نے جلدی دکان پر چلے جانا ھے پھر اس نے رات کو آنا ھے تم ابھی گھر جاکر نمبر لا دو صبح یاسر دکان پر جاکر کال کرلے گا ۔۔۔ عظمی بولی تیرا دماغ خراب اے ایس ٹیم ادی رات نوں میں پاگل آں کہ کار جاواں گی ۔۔۔ نازی بھی بولی کہ عظمی نسرین سہی کہہ رھی ھے یاسر تو صبح سات بجے ھی گھر سے نکل جاتا ھے ۔ اس وقت تو ہم سوے ھوں گے ۔۔۔ عظمی میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ نہ بابا مجھے تو ڈر لگتا ھے اس ٹائم ۔۔ تو نسرین بولی ہر ویلے ڈردی ریا کر ۔ تو عظمی غصے سے بولی ۔ توں چلی جا ایڈی بہادر ایں تے ۔۔ نازی دونوں کو جھگڑتے دیکھ کر بولی او ھو اس میں لڑنے کی کیا بات ھے یار ۔ بھائی ہیں نہ بھائی جا کر لے آتے ہیں ۔۔۔ میں نے چونک کر نازی کی طرف دیکھا ۔ اور اسکو گھورتے ھوے اسکی نقل اتارتے ھوے بولا ۔۔ بھائی لے آتے ہیں جیسے بھائی نے نمبر والی پرچی اپنے ہاتھ سے رکھی ھے ۔۔ پاگل تے نئی توں ۔۔۔۔۔۔ نازی منہ بسورتے ھوے چپ کرگئی تو ۔ نسرین بڑے کانفیڈینس کے ساتھ چارپائی سے ٹانگیں نیچے اتار کر بیٹھتے ھوے بولی چلو یاسر میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں یہ تو نری ڈرپوکن ہے ۔ عظمی بولی ایڈی توں بہادر ایں تے فیر یاسر نوں نال لے کے کیوں چلی ایں ۔کلی جا کہ وکھا ویکھنی آں توں کنی کہ سورماں ایں ۔۔۔ .نسرین جب جھٹکے سے ٹانگوں کو ہوا میں اچھال کر دونوں ٹانگوں کو جوڑے چارپائی سے نیچے لے کر گئی تھی تو ۔ اسکی شلوار میں پھنسے اسکے گول متول پٹ اور نیچے سے پھدی والی جگہ مجھے صاف نظر آئی ۔ میں تو پھدی کی تلاش میں پہلے ھی خوار ھوا بیٹھا تھا ۔ تو نسرین کی شلوار میں چھپی پھدی بھی مجھے ننگی نظر آئی اور جب وہ ٹانگوں کو نیچے لٹکا کر بیٹھی تو اس کے چھلکتے مموں نے میرے لن کو انگڑائی لینے پر مجبور کردیا۔۔ نسرین بولی لاو دو گھر کی چابی ۔ نسرین نے سرہانے کے نیچے ھاتھ ڈالا اور چابیاں نکال کر نسرین کی طرف پھینکی نسرین نے ہوا میں ھی چابیاں کیچ کرلی ۔ اور جلدی سے چپل پہنتے ھوے شفون کے دوپٹے کو سر پر لے کر مموں پر پھیلایا جس سے نسرین کے ممے مذید سیکسی لگنے لگ گئے اور کھڑی ہوتے ہوے چابیوں میں ڈالی ڈوری کو انگلی میں گھماتی ھوئی میری طرف دیکھ کر مسکراتے ھوں آنکھ سے اشارا کرتے ھوے بولی ۔ چلو یاسر میں تمہیں نمبر لا کر دیتی ھوں ۔۔۔ میں نے اسکی طرف دیکھا تو میری آنکھوں کے سامنے پھر وہ ھی سین آگیا ۔۔ یاسر میں نے خود کشی کر لینی ھے ۔۔۔۔۔ میں نے وہیں بیٹھے نفی میں سر ہلایا اور بولا میں تیرا نوکر لگا ایں جیڑا میرے تے رعب چاڑن لگی ایں ۔۔۔ تو عظمی کھی کھی کھی کر کے ہنسنے لگ گئی ۔۔۔ نسرین نے اپنی بےعزتی ھوتے دیکھا تو عظمی کی طرف گھورتے ھوے بولی ۔ ویکھ کیویں کھوتے وانگوں کھی کھی کھی کرن دئی اے ۔۔۔ نسرین پھر میری طرف دیکھتے ھوے بولی یاسر چلو اٹھو نہیں تو میں اکیلی جارھی ھوں ۔۔۔۔ میں نے کہا ۔ جا دفعہ ھو چلی جا میرے تے احسان کرنا اے ۔۔۔ چل شاباش نکل ۔۔۔۔ نسرین نے مجھے گھور کر دیکھا اور بولی میں نے چلی بھی جانا ھے میں ڈرتی ورتی نہیں ھوں ۔۔۔ میں نے انگلی کے اشارے سے کہا ۔ نکلو ادھر سے پھر کھڑی کیا کررھی ھو ۔۔۔ نسرین نے ہووووں کیا اور چابی کو گھماتی باہر نکل گئی ۔۔۔ تو عظمی نے پیچھے سے آواز دی کی پرچی کا تو سن لو کہ کہاں پڑی ھے نسرین بغیر پیچھے دیکھے بولی میں آپے لب لواں گی تو بے جا ایڈی آئی۔۔۔ میں وہیں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا رھا ۔۔۔ اندر سے دل میں بھی کر رھا تھا کہ آج اسکی گرمی نکال ھی دوں مگر نہ جانے کیوں میرا جسم میرے دل کا ساتھ نہیں دے رھا تھا ۔۔۔ نسرین کے جانے کے بعد نازی مجھے گھورتے ھوے بولی ۔ یاسر ویسے ھو بڑے بتمیز کیسے بیچاری کی بےعزتی کردی ۔ میں نے کہا اس کی میں نے منت کی تھی کہ مجھے کام کہے میں اس نواب ذادی کا نوکر نہیں لگا۔۔ نازی بولی یاسر جاو اس کے پیچھے بیچاری اکیلی اتنی رات کو گئی ھے میں نے کہا مجھ سے نہیں جایا جاتا ۔ میں نے تو نہیں کہا تھا کہ وہ اکیلی جاے ۔۔ نازی مجھے پیار سے پچکارتے ھوے بولی جا میرا ویر نئی جا شاباش او کلی گئی اے بار ہنیرا وی ایناں اے ڈر جاوے گی ۔۔۔ .عظمی بھی بولی یاسر جاو اسکے پیچھے وہ تو پاگل ھے تم تو سمجھدار ھو ۔۔۔ میں منہ بسورتا ھوا اور منہ میں بُڑ بُڑ کرتا ھوا کرسی سے اٹھا تو نازی بولی بھائی باہر کے دروازے کی باہر سے کنڈی لگاتے جانا میں نے نازی کی بات سنی ان سنی کی اور تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے نکل کر صحن میں آیا اور چلتا ھوا بیرونی دروازے کے پاس پہنچا تو نسرین ابھی تک دروازے پر ھی کھڑی تھی ۔ میں نے اسے دیکھ کر کہا ۔ ہن گئی نئی اندروں تے بڑی شوخی نال نکلی سی ۔۔۔ نسرین مسکراتے ھوے چابیوں کو انگلیوں میں مروڑتے ھوے مجھے کندھا مارتے ھوے بولی ۔ مجھے پتہ تھا کہ تم میرے پیچھے لازمی آو گے ۔۔ میں نے دروازہ کھولتے ھوے ۔ کہا او ہیلووووو کسی خوش فہمی میں مت رہنا ۔۔ میں صرف عظمی کے کہنے پر آیا ھوں ۔۔ اور ساتھ ھی ہم اگے پیچھے گلی میں نکل آے ۔۔ میں نے اپنے گھر کے دروازے کی باہر سے کنڈی چڑھائی ۔۔ اور ہم چلتے ھوے جب بیٹھک کے دروازے کے قریب پہنچا تو پتہ نہیں کیا سوچ کر میں نے بیٹھک کے دروازے کی بھی باہر سے کنڈی لگا دی اور بھاگ کر نسرین کے ساتھ جا ملا ۔ نسرین بولی بیٹھک کے دروازے پر کیا کرنے گئے تھے میں نے کہا دروازہ دیکھنے گیا تھا کہ کھلا تو نہیں ۔۔۔ اور پھر نسرین بولی ۔ دیکھ لو آ ھی گئے ھو نہ ۔۔۔ میں نے پھر اسکو چڑاتے ھوے کہا میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ھے کہ میں عظمی کے کہنے پر ایا ہوں ۔۔۔ نسرین جنجھلاتے ھوے بولی افففففف یہ کیا بار بار عظمی عظمی لگا رکھی ھے ۔ بہت اچھی لگتی ھے تمہیں عظمی ۔۔۔ اتنی دیر میں ہم. انکے گھر کے دروازے کے پاس پہنچ چکے تھے ۔۔ میں نے نسرین سے چابیاں پکڑتے ھوے کہا ۔ ھاں بلکل اچھی لگتی ھے ۔ اور ساتھ ھی میں تالا کھولنے لگ گیا۔ نسرین دونوں بازوں سینے پر باندھ کر ہاتھ بغلوں میں دیے کھڑی بولی وجہ جان سکتی ھوں کہ کیوں اچھی لگتی ھے ۔۔ میں نے دروازے کی کنڈی کھولی اور دروازہ کھولتے اندر داخل ھوا تو نسرین بھی اندر داخل ھوئی ۔ تو میں نے دروازہ بند کرتے ھوے کہا ۔ کہ وجہ یہ ھے کہ وہ تمہاری طرح نخرے نہیں کرتی ۔ نسرین بولی میں نے کیا نخرہ دیکھایا ھے ۔ میں نے نسرین کے باوز پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تو نسرین جھٹکے سے مجھ سے الگ ھوئی ۔اور بولی کیا کررھے ھو ۔۔۔ تو میں نے ہنستے ھوے کہا یہ والا نخرہ ۔۔۔۔ نسرین سر نیچے کرکے اپنے پیروں کو دیکھتے ھوے بولی اسکا مطلب ھے کہ تم اور عظمی یہ سب کرتے ھو۔۔۔ میں نے اپنے دونوں کانوًں کو پکڑتے ھوے کہا ۔ توبہ توبہ توبہ میری توبہ ۔ ویسے تمہیں شرم آنی چاہیے یہ بات سوچتے ھوے ۔۔ کہ میں اور عظمی اففففففففف توبہ توبہ ۔۔ نسرین میری طرف دیکھ کر بولی تو پھر تم نے یہ کیوں کہا کہ عظمی ایسے نخرے نہیں کرتی اسکا تو صاف مطلب ھے کہ تم اسکے ساتھ بھی یہ سب کرتے ھو اور وہ تمہیں روکتی نہیں ھے ۔۔ میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور بولا جا اااا نی کملی روح ۔۔۔ میں تو یہ کہہ رھا تھا کہ وہ کیسے اسد کے ساتھ سب کچھ بڑے پیار سے کررھی تھی اور تم ایسے نخرے دیکھاتی ھو ۔۔ .نسرین بولی وہ تو بے حیاء بےغیرت ھے جو غیر مرد کے ساتھ سب کچھ کتنی بےشرمی سے کررھی تھی ۔ اور تم مجھے اس جیسا بنانا چاہتے ھو ۔۔ میں نے کہا یار ایک تو تم. ہر بات کو الٹ لے لیتی ھو پڑھی لکھی جاہل ھو چلو کھولو کمرے کا دروازہ اور لو وہ کیا لینے آئی تھی ہاں وہ نمبر والی پرچی ۔۔ نسرین. چپ کر کے کمرے کی طرف چل دی اور پھر کمرے کا تالا کھول کر دروازہ کھولا اور اندر چلی گئی ۔۔ میں باہر ھی کھڑا ہوگیا ۔ نسرین نے اندر داخل ہوتے ھی مڑ کر میری طرف دیکھا اور بولی اندر آجاو باہر کیوں کھڑے ھوگئے ھو۔ میں نے کہا ۔۔ تم جلدی سے پرچی لو اور نکلنے کی کرو۔۔ نسرین میری بات سن کر باہر نکلی اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچتے ھوے اندر لے گئی ۔ کمرے میں داخل ہوتے ھی نسرین نے میراھاتھ چھوڑا اور بولی ۔ ایک تو تم نخرے بہت کرتے ھو اور کہتے مجھے ھو۔ میں نے کہا ۔ میں نے کیا نخرے دیکھانے ہیں ۔ اپنی بات کرو ۔۔ نسرین بولی میں ایسے ھی سہی ھوں مجھے عظمی جیسی بےشرم بننے کا شوق نہیں جو غیر مردوں کو جپھیاں ڈالے ۔۔ میں. نے منہ بسورتے ھوے کہا ۔ اس کا مطلب ھوا کہ میں تمہارے لیے غیر ھوں ۔۔ نسرین ماتھے پر ھاتھ مار کر بولی ۔ اوووو ھو بُدھو میں اسد کی بات کررھی ھوں ۔۔ میں نے کہا۔ تو پھر مجھے نخرے کیوں دیکھا رھی ھو ۔ اب کیا میں اسد سے بھی گیا گزرہ ہوں ۔۔ نسرین نے جلدی سے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور بڑے لاڈ سے سر کو کندھے کی طرف جھکا کر بولی ۔ نہیں یاسر ایسی بات نہیں ھے اصل میں مجھے ڈر لگتا ھے کہیں بدنامی نہ ھوجاے ۔ میں نے نخرہ دیکھاتے ھوے کہا۔۔ شرم تو نہیں آتی تمہیں کیا تم مجھے ایسا سمجھتی ھو کہ میں تمہیں بدنام کروًں گا ۔۔۔ نسرین نے ایک ہاتھ میں میرا ھاتھ پکڑا اور دوسرا ھاتھ میری گال پر پھیرتے ھوے بولی ۔ نہیں یاسر میں نے ایسا تو نہیں کہا۔ میں تو یہ کہہ رھی تھی کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو کتنی بدنامی ھوگی ۔۔ میری گال پر نسرین کے ہاتھ کے لمس نے میرے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا۔۔۔ اور میں نے ایک ہاتھ نسرین کی کمر میں ڈالا اور ہاتھ کو کمر پر رکھ کر نسرین کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ نسرین کے ممے میرے ساتھ چپک گئے اور میرا لن اسکی ناف کے ساتھ لگ گیا۔۔۔ میرے ساتھ لگتے ھی نسرین کا جسم ہلکے سے کانپنے لگ گیا۔ میں نے نسرین کے ھاتھ سے اپنا دوسرا ہاتھ چھڑوایا اور اسکی ماتھے پر ہتھیلی رکھ کر ہاتھ کو سرکاتے ھوے اسکے سر پر لیجا کر اسکا دوپٹہ سر سے اتار کر پیچھے کر دیا نسرین. نے کانپتی آواز میں کچھ کہنا چاھا مگر اس سے پہلے کے اسکے منہ سے کوئی بات نکلتی میں نے جلدی سے اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے اور اسکا اوپر والا ہونٹ منہ میں لے کر چوستے ھوے اسکی کمر کو سہلانا شروع کردیا اور ساتھ ساتھ اسکی کمر کو اپنی طرف دباتے ھوے لن اس کے پیٹ کے ساتھ رگڑنے لگ گیا ۔۔۔ نسرین نے کچھ دیر احتجاج کیا اور میرے بازوں میں کسمکسائی مگر جلد ھی سب کچھ بھول کر کسنگ میں میرا برابر ساتھ دیتے ھوے ایڑھیاں اٹھا کر اپنی پھدی کو لن کے قریب کرتی مگر اسکا قد مجھ سے چھوٹا تھا اسلیے اسکی پھدی میرے لنڈ تک رسائی حاصل نہ کر پائی ۔ آخر اس کی آسانی کے لیے مجھے ھی تھوڑا نیچے جھکنا پڑا اور ٹراوز میں لن کے تمبو کو نسرین کے چڈوں کے درمیان پہنچا دیا اور پھدی کے اوپر مسلنے لگ گیا ۔ لن پھدی کے ساتھ لگتے ھی نسرین کا جوش بھی بڑھ گیا ۔۔ مگر میں اب پہلے والی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ کہ یہ سالی جلدی سے فارغ ھوجاے اور پھر اسکی ٹون بدل جانی تھی ۔ نسرین کی سانسیں جیسے ھی تیز ھوئیں میں نے لن کے تمبو کو پھدی سے ہٹا لیا اور اوپر ھوکر لن پہلے کی طرح اسکے پیٹ پر لگا دیا ۔ لن کیا پھدی سے ہٹا نسرین کی جان پر بن گئی وہ ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر پھدی کو لن تک پہنچانے کی کوشش کرتی ۔پر نہ ااااااااا غلطی ایک دفعہ ھی ھوتی ھے ۔۔۔ میں نے اس ترسنے دیا اور کچھ دیر بعد میں نے نسرین کے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹاے اور آگے سے اسکی قمیض پکڑ کر اوپر کر دی اور اسکے ممے قمیض کی قید سے آزاد کردیے ۔ اور چند لمحوں میں ھی نسرین کے ممے بریزیر کی قید سے بھی آزاد تھے ۔ اب نسرین کی قمیض اور اسکا بریزیر اسکے بڑے بڑے مموں کے اوپر اٹکے ھوے تھے ۔ اور اسکے ننگے گول مٹول چٹے سفید ممے میرے سامنے مست ہاتھی کی طرح جھوم رھے تھے اور ننگے کنوارے مموں کو دیکھ کر میرا لنڈ میرے ٹراوزر کو پھاڑنے پر تُلا ھوا تھا ۔ نسرین نے قمیض اوپر کرنے پر کافی احتجاج کیا نہی نہی نہی نک کرو کوئی دیکھ لے گا مگر اسکی نہیں نہیں میں میرا شوق بڑھتا گیا اور پھر نسرین ننگے ممے لیے میرے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ میں نے نسرین کے مموں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اسکی براون ٹکی میں براون تنے ھوے نپلوں کو انگوٹھے سے مسلتے ھوے مموں پر مساج کرنے لگ گیا ۔ نسرین جب اس نئے مزے سے آشنا ھوئی تو سب کچھ بھول گئی اور چھت کی طرف منہ کر کے آہہہہہہہہہہہ سیییییییی ہولی ییییییییی کرتے ھوے چڈوں کو آپس میں بھینچنے لگ گئی ۔۔۔ کچھ دیر مموں کے مساج کے بعد میں نے ہونٹ مموں پر رکھے تو نسرین کے منہ سے ایک ذوردار سسسکاری نکلی اور ساتھ ھی اس نے میرے سر کے بالوں کو پکڑ کر میراسر مموں پر دبانے لگ گئی ۔۔ اور میں گرین سگنل ملتے ھی مموں پر ٹوٹ پڑا ۔ اور مزے لے لے کر دُودُو چوسنے لگ گیا۔۔۔ کچھ دیر مموں پر تسلی کی مگر میں نے نسرین کی پھدی کو چھیڑا نہیں ۔ اور اسے مذید تڑپنے اور سسکنے دیا ۔ اگر نسرین کی پھدی کا بن ٹوٹ جاتا تو میری ساری محنت پر پانی پھر جانا تھا ۔۔۔ نسرین نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح میں اسکی پھدی کو مسلوں مگر میں ہاتھ پھدی کی طرف لے کر ھی نہیں جارھا تھا ۔ بلکہ جب بھی نسرین میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتی میں ھاتھ کو کبھی اسکی گانڈ پر لے جاتا تو کبھی اسکی کمر پر تو کبھی اسکے بالوں کو سہلانے لگ جاتا ۔۔ کچھ دیر مموں پر تسلی کرنے کے بعد میں نے نسرین کو جپھی ڈالی اور اسکو پیچھے کی طرف دھکیلتا ھوا چارپائی پر لے گیا ۔۔۔۔ چارپائی کے ساتھ نسرین کی ٹانگیں لگیں تو میں نے اسکو ہلکا سے پیچھے کی طرف پُش کیا تو نسرین مجھ سے لپٹی ھی پیچھے کی طرف چارپائی پر لیٹتی چلی گئی اور میں اسکے ااوپر ھی اسکے ساتھ جھکتا گیا۔ اب ہم دونوں کی ٹانگیں نیچے اور اوپر والے دھڑ چارپائی کے اوپر تھے ۔ نسرین کی کمر چارپائی پر لگتےھی میں جلدی سے اسے کے اوپر سے اٹھا اور اسکے بازوں کو پکڑ کر اسکو کھینچ کر چارپائی پر سیدھا کیا اور ساتھ ھی اسکی ٹانگیں اٹھا کر چارپائی پر کیں اسکی چپل خود ھی اتر کر نیچے گرگئی ۔۔ نسرین اب چارپائی پر سر تکیہ پر رکھے بلکل سیدھی لیٹی ھوئی تھی. میں نسرین کو سیدھا لیٹانے کے بعد چارپائی پر چڑھا اور اسکی ٹانگوں کو کھول کر ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھتے ھوے اسکے مموں سے قمیض اوپر کرنے لگ گیا جو دوبارہ مموں ہرآگئی تھی ۔۔ نسرین منہ سے کچھ نہیں بول رھی تھی بس ھاتھوں سے مجھے منع کر رھی تھی وہ بھی لاڈیاں کرتے ھوے ۔۔ میں نے ممے ننگے کیے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ھی نسرین کے ننگے مموں کو مٹھیوں میں بھر کر دبانے لگ گیا اور نسرین بھی سیییییییی آہہہہہہہہہہ کرتے ھوے سر پیچھے کی جانب لیجانے لگی ۔۔۔ مموں کے مساج کے بعد میں نے ہاتھ سلو موشن میں نسرین کے پیٹ کی جانب لیجانے شروع کردیے ۔ نسرین کی سانسیں تیز تیز چل رھیں تھی جس سے اس کے ممے اوپر نیچے ھورھے تھے ۔ اورمیری انگلییاں اسکے نرم نرم پیٹ پر ہل چلاتی ھوئیں اسکی شلوار کی جانب بڑھ رہیں تھی ۔۔۔ کچھ ھی دیر میں میرے ھاتھ کی انگلیاں۔۔ نسرین کی لاسٹک پر آکر رکیں اور پھر انگلیوں نے لاسٹک کو پکڑا اور نیچے کھینچنے ھی لگیں تھی کہ نسرین نے جلدی سے شلوار کو پکڑ لیا اور ۔ نخرے سے ھووووں کرتے ھوے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔ میں نے اسکی طرف گھور کر دیکھا تو اس نے مسکراتے ھوے شلوار کو چھوڑ دیا ۔ اجازت نامہ ملتے ھی میں نے شلوار نیچے کی طرف کھینچی تو شلوار پھدی سے تو نیچے ھوگئی مگر گانڈ میں اٹک گئی مین نے انگلیوں کو گانڈ پر دبا کر نسرین کو گانڈ اوپر کرنے کا کہا تو نسرین نے پھر منہ بسور کر ھووووووووں کیا اور گانڈ اوپر اٹھا لی تو میں نے شلوار کھینچ کر اسکے گھٹنوں تک لیجا کر پھر اسکے پاوں سے نکال کر ایک طرف پھینک دی ۔۔۔ افففففففف گولڈن کلر کے سوفٹ سلکی بالوں میں چُھپی ھوئی نسرین کی ننھی سی پھدی اور پھدی کے اوپر گولڈن سلکی بالوں پر چمکتے پھدی سے نکلنے والے پانی کے قطرے گوری رانیں ۔ ہلکا سا، ابھرا پیٹ افففففف کیا سیکسی نظارا تھا ۔۔ نسرین نے مجھے یوں ندیدوں کی طرح پھدی کو تاڑتے دیکھا تو جلدی سے پھدی پر دونوں ہاتھ رکھ لیے اور ہنستے ھوے بولی ۔ بے شرم ۔۔۔ شرم نہیں آتی ۔۔ میں نے نسرین کا ہاتھ پھدی سے اٹھاتے ھوے کہا۔۔ پہلی دفعہ پھدی دیکھ رھا ھوں اور وہ بھی اتنی سیکسی اففففففف دیکھنے دو یار دیکھنے سے کون سا اسکو نظر لگ جانی ھے یا پھر اسکا کچھ اتر جانا ھے ۔۔۔ نسرین بولی نہ کرو یاسررر مجھے شرم آرھی ھے ۔۔۔ میں نے کہا شرم آرھی ھے تو آنکھیں بند کرلو ۔۔ نسرین سر ہلاتے ھوے بولی ھاااااں تا کہ تم گندا کام کرنے لگ جاو۔۔۔۔ .میں نے کہا یار یہ گندا کام نہیں ھے سب لڑکے لڑکیاں کرتے ہیں اور ساتھ ھی میں نے ٹراوزر کی ڈوری کھول کر تروزر کو نیچے کھسکا کر لن جو کب سے باہر نکلنے کے لیے بےچین تھا اسکو ٹراوزر سے نکال دیا ۔ لن جھٹکے سے باھر نکلا اور پھدی کی طرف دیکھ کر اپنی اکلوتی آنکھ پوری کھول لی ۔۔۔ نسرین نے ابھی تک میرا لن نہیں دیکھا تھا اور میں اسے دیکھانا بھی نہیں چاھتا تھا ۔نسرین کی نظریں چھت پر تھیں اور میں نے جلدی سے لن پر تھوک لگایا اور لن کو پکڑ کرٹوپے کو پھدی کے لبوں میں پھیرنے لگ گیا ۔ نسرین اس نئے مزے کو محسوس کرتے ھی سسک پڑی اور آہہہہہہہہ سییییییییییی کرتے ھوے آنکھیں بند کر کے لن کا پھدی پر مساج انجواے کرنے لگ گئی۔۔۔ بیچاری کو اگلے مرحلے کا اندازہ ھی نہیں تھا جس میں اسکی چیخ اور سیل ٹوٹنے کے بعد خون نکلنا تھا ۔۔۔ میں لن کو پھدی کے لبوں میں پھیرتے ھوے ادھر ادھر دیکھ کر کوئی کپڑا تلاش کررھا تھا ۔ کیوں کے چارپائی پر بچھی چادر خراب ھوجانی تھی ۔ اچانک میری نظر پلاسٹک کی شیٹ پر پڑی جسکو یہ لوگ دستر خوان کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔ میں جلدی سے چھلانگ مار کر چار پائی سے نیچے اترا اور برتنوں کی الماری میں رکھی شیٹ کو پکڑا اور واپس چارپائی پر آ کر اسی پوزیشن میں بیٹھ گیا ۔۔ نسرین نے اآنکھیں کھول کر جیسے ھی مجھے شیٹ پکڑتے دیکھا تو حیرانگی سے بولی ۔۔۔۔ اسے کیا کرنا ھے ۔ میں نےکہا کچھ نہیں بس چپ کر کے لیٹی رھو ۔۔۔ اور ساتھ ھی میں نے شیٹ کھولی جو کافی بڑی تھی اور نسرین کی ٹانگیں ایسے اوپر کیں جیسے بچے کو پیمپر لگاتے ہیں اور نسرین کو گانڈ اوپر کرنے کا کہا اور شیٹ اچھے طریقے سے نیچے بچھا دی ۔۔ نسرین کہتی رھی کہ یہ کیوں بچھا رھے ھو میں نے اسے چپ ہونے کاا ھی کہتا رھا ۔۔ اور پھر لن کو پکڑ کر ٹوپے کو پھدی کے لبوں میں رگڑنے لگ گیا۔۔ نسرین جلد ھی واپس مزے کیطرف آگئی اور آنکھیں موند کر مزے لینے لگ گئی ۔۔۔ میں نے لن کے ٹوپے کو اچھی طرح گیلا کیا اور پھر لن پر تھوک پھنک کر لن کو بھی اچھی طرح گیلا کیا ۔۔۔ اور پھدی میں ٹوپے کو اڈجسٹ کر کے نسرین کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔ اور اسکے ہونٹ چوسنے لگ گیا ۔۔ نسرین بھی گانڈ اٹھانے کی کوشش کر کے پھدی کو لن کے ساتھ رگڑنے کی کوشش کررھی تھی ۔ اور اسی دوران میں نے ہلکا سا جھٹکا ماراتو ٹوپا پھدی مین اتر گیا ۔۔۔ نسرین کے منہ سے آہہہہہ نکلا اور میں نے دوسرا. گھسا مارا تو لن کا تھوڑا سا حصہ پھدی کے اندر گیا تو نسرین کے منہ سے آئیییییییییییییی نکلا اور اس نے میرے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔ اور بولی اویییییییییی یاسررررر درد ھورھا ھے۔۔۔ میں نے اسکے ہونٹوں کو چوما اور اسکا اوپر والا ہونٹ منہ میں ڈال کر چوسنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ نسرین کی پھدی میں ہلکے ہلکے گھسے مارنے لگ گیا تھوڑے سے لن کے گھسے سے بھی نسرین ممممممم کرتی ھوئی ہاتھوں کے اشارے سے مجھے روک رھی تھی یا آہستہ کرنے کا کہ رھی تھی ۔۔ کچھ دیر میں ھی نسرین کو مزہ آنے لگ گیا اورمزے کی سسکاری اسے مہنگی پڑی ۔ میں نے لن کو ٹوپے تک پیچھے کیا اور نسرین کو اچھی طرح بازوں میں جکڑا اور اسکے ہونٹوں پر اس انداز سے ہونٹ رکھے کہ اسکی آواز نہ نکلے اور پھر ایک جھٹکا مارکر لن آدھے سے ذیادہ پھدی کے اندر اتار دیا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے لن کسی شے کو پھاڑ کر اندر گھسا ھے اور اندر آگ کی گرم بھٹی ھے ۔ لن جیسے ھی اندر گیا تو نسرین نے بڑے زور سے پھدی کو بھینچا اور ممممممممم پھپھپھہ بببببببب ابببببب کی آوزوں کے ساتھ ٹانگیں چلاتے ھوے میری کندھوں کو بہت ذور سے پکڑ لیا ۔۔۔ میں کچھ دیر رکا اور نسرین کے منہ سے اپنا منہ نہیں ہٹایا نسرین نے بڑی کوشش کی مگر اسکی ایک نہ چلی ۔۔۔ میں نے اسکے اوپر والے ہونٹ کو اچھے سے اپنے منہ کی گرفت میں کیا ھوا تھا۔ نسرین کی پھدی سے گرم گرم چیز بہہ رھی تھی جسکا احساس مجھے لن کی رگوں سے ھو رھا تھا۔۔ میں نے چند لمحوں کے بعد ھی ل. تھوڑا سا پیچھے کھینچا اور پھر ایک ھی ذوررررررد دار دھکے سے لن نسرین کی بچے دانی میں ڈال دیا ۔ لن پورا پھدی کی گہرائی میں اترتا ھو نسرین کی بچے دانی میں گھس گیا تھا ۔۔۔ نسرین کٹے ھوے بکرے کی طرح میرے نیچے تڑپ رھی تھی ۔ میرے کندھوں پر تھپڑوں کی بارش میرے سر کے بال نوچ رھی تھی ۔ ممممممممممممممم بھببببببببببب کی آوازیں میرے منہ کے اندر ھی گم ھورھیں تھی ۔۔۔ میں ل. کو پھدی کی گہرائہی میں اتار کر ویسے ھی اسکو اپنی گرفت میں لیے نسرین کے اوپر لیٹا ھوا تھا ۔۔۔۔نسرین پانچ منٹ تک تڑپتی رہی اسکی آنکھیں آنسوں سے بھیگ گئی۔۔ میں بے جان ہوکر اسکے اوپر لیٹا نہ ہل رھا تھا نہ ھی اسکی جان چھوڑ رھا تھا۔۔۔ .نسرین کافی دیر میرے نیچے سے نکلنے اور مجھے پیچھے کرنے کی کوشش کرتی رھی مگر ۔ میں نے اسے مکمل طور پر اپنے احصار میں لیا ھوا تھا ۔ بلاخره نسرین کا جسم ٹھنڈا برف ھونا شروع ھوا اور اسکی حالت نیم مردہ ھوگئی اور نسرین نے ہلنا جلنا بند کردیا اور بس سسکتے ھوے ہچکیاں لینے لگ گئی ۔ میں نے بھی ہونٹ اسکے ہونٹوں سے ہٹاے اور نسرین کے نارمل ھوتے ھی میں نے لن کو آہستہ آہستہ حرکت دینا شروع کردی ۔ نسرین آہہہہ آہ آہ ھاےےےےےے کرنے لگ گئی مگر نسرین نہ میری طرف دیکھ رھی تھی نہ ھی مجھے کچھ کہہ رھی تھی ۔ میں نے آہستہ آہستہ گھسوں کی رفتار تیز کرنا شروع کردی ۔ نسرین ہونٹوں کو بھینچ کر درد برداشت کررھی تھی ۔ اور ساتھ میں آہہ آہ آہ آہ اوئی اوئی ییییییییی ھاے ماں میریے ھاے ماں ھاے امی ھاےےےےےے کری جارھی تھی ۔ میں گھسے مارتا مارتا نسرین کے اوپر سے اٹھتا جارھا تھا اور گھسوں سے اب نسرین کے ہلتے ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے نسرین کی پھدی میں کافی پھسلن تھی مگر اسکی ٹائٹ پھدی کی وجہ سے لن پھنستے ھوے ھی اندر باہر ھورھا تھا ۔۔ کچھ دیر بعد ھی نسرین کی آواز بدلنا شروع ھوگئی اور وہ آہستہ آہستہ گاند کو اٹھاتے ھوے لن پورا اندر لینے میں مشغول ھوگئی۔۔۔ اور اسکی آہیں اب سسکاریوں میں بدلنے لگ گئیں تھیں ۔۔۔ نسرین کی انکھیں فل نشیلی ھوتی جارہیں تھی اور اسکے ہلتے ممے مجھے پاگل کررھے تھے ۔ میں بھی اسکی ٹانگوں کو اٹھاے اندر تک سٹ مار رھا تھا ۔ نسرین کی پھدی آہستہ آہستہ سکڑنا شروع ھوگئی اسکا جسم فل گرم ھوکر اکڑنے لگا اور ساتھ ھی نسرین کے منہ سے چیخ نکلی اور ھاےےےےےےے امممممممممممممممممم گگگگگگگگ کرتے نسرین نے پھدی کو فل ٹائٹ کرتے ھوے دونوں ھاتھوں سے تکیہ کو مضبوطی سے پکڑ کر زوردار انگڑائی لی اور ساتھ ھی پہلی چدائی کی اسکی پھدی سے پہلی منی میرے لن کو نصیب ھوئی اور نسرین کا جسم تیز سے ہلکے جھٹکوں کے ساتھ بے جان ھوا اور نسرین نے لمبا سانس کھیمچ کر چھوڑا اور آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور ساتھ ھی منہ پھیر کر آنکھ بند کرلیں ۔۔۔ میں نے بھی اب رکنا مناسب نہ سمجھا اور چند تیز تیز گھسے اور نسرین کی آہوں سسکاریوں کے بعد آخری مزے سے بھرپور جاندار گھسا مارا اور جلدی سے لن پھدی سے نکال کر توپ کا منہ نسرین کے مموں کی طرف کردیا ۔اور پھر لن سے فائرنگ شروع ھوگئی جو نسرین کی ٹھوڑی مممے پیٹ کو زخمی کرتے ھوے اسکی پھدی پر اختتتام ھوئی ۔۔۔۔ ھاےےءءےےےےءءےءےےےےےےےےے اور پھر دوستو وہ ھی ھوا جسکا مجھے ڈر تھا ۔ کہ آخر کار نسرین بھی چُد ھی گئی ۔۔۔۔۔ The end…….
  3. 7 likes
    بھائی جان میں سٹوری صرف شوقیا لکھ رھا ہوں میں کوئی رائٹر نہیں ہوں ۔ اور لمبی اپڈیٹ کے لیے وقت بھی لمبا درکار ہوتا ھے ۔ سٹوری کے علاوہ بھی بہت سے معاملات کو دیکھنا پڑتا ھے اور جب بھی تنہائی میسر ہوتی ھے تو لکھ لیتا ھوں ۔ thanks to my all brothers for appreciated Love u. 💖💞💗💕💓💛💗
  4. 5 likes
  5. 5 likes
    یہ بھی گئی ہا ہا ہا سٹوری لکھنا وہ بھی اس فورم پر واقع مشکل ہوتا ہے لیکن پھر بھی بہت عمدہ لکھا ہے۔۔ ویسے اس اپڈیٹ میں یہ بات بلکل سچ لکھی ہے کہ جب تک لڑکی خود راضی نہ ہو کوئی اسے سیکس کے لیے راضی نہیں کر سکتا۔۔۔۔
  6. 4 likes
    جانی تواڈی جان نئی چھڈدا او تے بس اس وقت ماحول ایسا بن گیا سی کہ نسرین دی حالت دا دی اینڈ ھوگیا سی تے او لکھیا سی
  7. 4 likes
  8. 4 likes
  9. 4 likes
    میں نے اس مہینے چھوٹا چوہدری کے نام سے ایک کہانی مکمل کر دی ہے اور ایڈمن اسے نیو ائیر پہ پوسٹ کریں گے۔
  10. 4 likes
    update.. .ضوفی کچن میں چلی گئی تھی اور مجھے اپنی غلطی کا احساس جب ھوا تو میں بھاگا ھوا ضوفی کے پیچھے کچن میں جب داخل ھوا تو ضوفی شیلف پر رکھے چولہے کے سامنے دوسری طرف منہ کر کے کھڑی دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ھوے چاے کی کیتلی چولہے پر رکھ رھی تھی ۔ میں جب کچن میں داخل ہوا تو ضوفی نے گردن گھما کر ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ہوگئی ۔ ضوفی کو روتا دیکھ کر میں اپنے آپ کو کوسنے لگ گیا اور چلتا ھوا ضوفی کے پیچھے پہنچا اور اسکی کمر کے گرد بازو ڈال کر ھاتھ اسکے مخمل سےنرم پیٹ پر رکھ کر تھوڑا سا جھکا اور اسکے کندھے پر ٹھوڑی رکھ کر بولا ۔ میرا چھونا ناج ھو دیا اے ۔۔ ضوفی روہانسے لہجے میں بولی تمہیں کیا لگے کسی سے ۔۔۔ میں نے کہا میری جان میں تو مزاق کررھا تھا میں تو خود صبح سے خالی پیٹ مارکیٹ میں گھومتا رھا اور اسی خوشی میں بھوک ھی نہیں لگی کہ آج اپنی جان کے ھاتھ کا بنا ھوا کھانا کھاوں گا ۔۔ اور تم اتنی کنجوس ھو کہ ایک دفعہ صلح مار کر جان چھڑوا کر جلدی سے کچن میں بھاگ آئی ھو ۔۔۔ ضوفی ایکدم چونک کر گھومی اور میری طرف منہ کر کے دونوں بازوں میرے سینے پر لاکر دونوں ہاتھوں سے میرے سینے پر مکے مار کر بولی ۔ شوخے پہلے کیوں نہیں بتایا میں صبح سے تمہارے اتنظار میں بھوکی ھوں کچھ بھی نہیں کھایا ۔ کہ تم آو گے تو ھی تمہارے ساتھ کھانا کھاوں گی اور جناب نے آتے ھی کہہ دیا کہ کھانا کھا کر آیا ھوں ۔۔ میں ضوفی کی کمر سے ھاتھ ہٹاے اور اسکی روئی سی گالوں کو تھام کر اسکی نم آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اسکی پلکوں پر سجے شبنم کے قطروں کو اپنے ہونٹوں سے چنا اور بولا ۔ پاگل ھو تم بھی قسمت سے تو تمہارے ھاتھ کا بنا کھانا کھانے کو موقع ملتا ھے اور میں پاگل ھوں جو اپنی جان کے ساتھ کھانا کھانے کا یہ قیمتی موقع ضائع کرتا ۔۔ اور پھر میں نے ضوفی کے مخملی ہاتھوں کو پکڑا اور ہاتھوں کو چومتےھوے بولا اب جلدی سے ان پیارے سے ہاتھوں سے کھانا بناو اور اپنے ہاتھ سے کھلاو قسم سے بہت بھوک لگی ھے ۔۔ ضوفی بولی بڑے مسکے لگانا جانتے ھو۔ چلو جا کر نہا کر فریش ھوجاو میں ابھی کھانا لے کر آتی ھوں ۔ میں نے ضوفی کا ہاتھ چھوڑا اور اسکے کندھوں کو پکڑ کر بڑے رومینٹک انداز سے بولا ۔ جان فریش تو تمہیں دیکھتے ھی ھوگیا ۔قسم سے تمہارے چہرے پر نظر پڑتے ھی ساری تھکاوٹ اتر گئی تھی ضوفی بڑے غور سے آنکھیں جھپکاتے ھوے میری بات سن رھی تھی ۔ میں نے بڑے سسپنس سے کہا جان میری ایک بات مانو گی ۔ضوفی جو پہلے ھی میری باتوں میں کھوئی ھوئی تھی میرے یوں سوال پرچونک کر بولی حکم کرو جان ۔میں نے بڑا مسکین سا منہ بنایا اور بولا ضوفی اگر تم مجھے پہلے نہانے والا تو کردو تو پھر میں نہا بھی لوں گا۔۔ اور یہ کہہ کر میں باہر کی طرف بھاگا ضوفی پیر پٹختی ھوئی کھانے کا چمچہ پکڑ کر میرے پیچھے بھاگی شوخےےےےےےےےٹھہر جا ابھی کرتی ھوں تجھے نہانے والا ۔۔ میں بھاگتا ھوا اوپر کمرے میں آگیا ضوفی بس کچن کے دروازے سے ھی واپس مڑ گئی ۔۔ میں کمرے میں داَخل ھوا اور شرٹ اتار کر بیڈ پر ایسے پھینکی جیسے یہ کمرہ میرا اور ضوفی کا بیڈ روم ھو اور کمرے میں آکر میری فیلنگ بھی کچھ ایسی ھی ھو جاتی تھی ۔ میں سیٹی بجاتا ھوا واش روم میں گھس گیا اور نہانے لگ گیا نہا کر فریش ھوکر پینٹ پہن کر واش روم سے باہر نکلا اور پھر شرٹ پہنی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ھوکر سیٹی بجاتے ھوے بالوں میں برش پھیرنے لگ گیا۔۔ کہ ضوفی کے ہنسنے کی آواز آئی تو میں نے گردن گھما کر دیکھا تو ضوفی کھانے کی ٹرے پکڑے ہنستے ھوے کہہ رھی تھی ۔ واہ واہ لگتا ھے میرے شہزادے کو لاہور کی ہوا لگ گئی ھے خیر ھے بڑے موڈ میں ھو ۔ میں جھینپ کر سر نیچے کر کے اپنے پیروں کو دیکھنے لگ گیا ۔۔ ضوفی میری حالت کو دیکھ کر قہقہہ لگا کر ہنس پڑی اور ٹرے ٹیبل پر رکھتے ھوےبولی او ہوووووو میرے چھونے کو چھماں آگیاں ہیں ۔۔ میں نے سر اٹھایا اور مسکراتا ھوا ضوفی کی طرف چلتا ھوا آیا اور بولا ۔ چھمیں تو اب اتارنی پڑیں گی اور ساتھ ھی میں نے پینٹ کی بیلٹ پر ہاتھ رکھا اور بیلٹ کو کھولنے لگ گیا ۔ ضوفی ایکدم گبھرا کر میری طرف بھاگ کر آئی اور میرے ھاتھوں کو پکڑکر بولی ۔ بس بس بس ذیادہ شوخے مت بنو ۔۔ چلو کھانا کھا مجھے بہت بھوک لگی ھے ۔۔ میں ہنستا ھوا صوفے کی طرف چل پڑا۔۔ ضوفی بھی میرے ساتھ بیٹھ گئی اور ہم ایک دوسرے کے منہ میں نوالے ڈالتے ھوے کھانا کھانےلگ گئے۔۔۔ میں ساتھ ساتھ ضوفی کو مال لینے کی ڈٹیل بتاتا رھا اور جنید نے جیسے میرے ساتھ محنت کرکے مختلف جگہ سے ورائٹی اور کلر سکیم لی اسکی بھی ساری ڈٹیل بتاتا رھا ۔ اچانک ضوفی بھولی یاسر ایک بات کہوں میں نے چونک کر ضوفی کی طرف دیکھا اوربولا ہاں جان بولو ۔ ضوفی بولی یاسر جنید کو میرے اور تمہارے ریلیشن کاپتہ ھے ۔ میں نےنفی میں سر ہلایا ۔ ضوفی بولی یاسر پہلے کی بات اور تھی اب جنید بھائی تمہارے ساتھ ہوگا اور میں نہیں چاہتی کہ وہ ہم دونوں کی محبت اور اس رشتہ کو غلط نام دے اس لیے تم اسے سب بتا دو مگر یہ راز ہمیشہ اپنے دل میں چھپاے رکھنا کہ تم نے کس سے پیسے لے کر کام کیا ھے ۔ یاسر مجھے غلط مت سمجھنا دوستی میں دراڑ پڑتے دیر نہیں لگتی میں یہ نہیں کہتی کہ جنید بھائی غلط ھے یا وہ تمہارے ساتھ مخلص نہیں مگر میں یہ ہرگز برداشت نہیں کرسکوں گی کہ کوئی تمہیں یہ پیسوں کا طعنہ دے ۔ راز وہ ھی ہوتا ھے جو اپنے دل میں ھو ایسے ہم راز دوست جب علیحدہ ھوتے ہیں تو جگہ جگہ بدنام کرتے ہیں اس لیے تم جنید کو صرف میرے اور اپنے رشتے کے بارے مین بتا دینا تاکہ وہ ہم دونوں کے بارے میں غلط راے نہ قائم کرے ۔۔ میں نے کہا ٹھیک ھے جان تم نے بلکل سہی کہا مجھے اسکو بتا دینا چاہیے ۔ یہ نہ ھو کہ وہ تم پر ھی لائن مارنا شروع کردے ۔۔ ضوفی مجھے گھور کر بولی ۔ میں اودھی بوتھی نہ پن دیواں گی جے میرے ول اکھ وی چک کے ویکھیا۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔۔ مزاق کر رھا ھوں یار ۔ جنید ایسا لڑکا نہیں ھے یاروں کا یار ھے ۔ وہ تمہاری عزت بھابھی سمجھ کر ھی کرے گا ۔ تم بے فکر رھو ۔ مین اسکو اچھی طرح جانتا ھوں ۔۔ اور میں موقع ملتے ھی اسے بتا دوں گا اس لیے اسکی طرف سے بےفکر رھو ۔ ضوفی نے ہممممم کیا ۔ اور پھر کچھ دیر میں ہم نے کھانا ختم کیا اور ضوفی برتن اٹھاتے ھوے بولی یاسر وہ سامنے ٹراوزر لٹکا ھوا ھے وہ پہن لینا میں چاے بنا کر لاتی ھوں ۔۔ میں نے ہمممم کیا ضوفی برتن اٹھا کر باہر نکل گئی اور میں نے دیوار پر ہینگر میں لٹکے ٹراوزر کو اتارا اور جلدی سے پینٹ اتار کر ٹراوزر پہنا۔ اور بیڈ پر تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد ضوفی چاے لے آئی اور بیڈ کی سائڈ ٹیبل پر چاے رکھ کر میرے ساتھ جُڑ کر بیٹھ گئ۔ ہم دونوں ٹانگیں سیدھی کر کے بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم دونوں کی رانیں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئیں تھی ۔ میں نے ضوفی کا ہاتھ پکڑا اور ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسکے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں کی طرف لا کر ضوفی کے ہاتھ کی الٹی سائڈ کو چوما اور بولا جان دروازہ تو بند کردو ضوفی نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بولی کیوں جی دروازہ بند کرکے کیا کرنا ھے ۔۔۔میں نے ضوفی کے کندھے پر سر رکھا اور ھاتھ کو پھر چومتے ھوے بولا ۔ جپھی ڈالنی ھے ۔۔۔ضوفی بولی ۔ اوے ھوے چپ کر کے اچھے بچوں کی طرح سوجاو پہلے ھی سارے دن مارکیٹنگ کرکے اور پھر سفر میں تھکے ھوے ھو اور صبح دکان کی سیٹنگ بھی کرنی ھے میں نے نفی میں سر ہلایا اور نیچے کھسکتا ھوا ضوفی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اور ضوفی کے ھاتھ کو اپنے سینے پر رکھ کر ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے بولا ۔ میں نے تو تمہاری گود میں سر رکھ کر سونا ھے ۔ ضوفی مسکراتے ھوے دوسرے ہاتھ سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے بولی ۔ یاسر تنگ کیوں کرتے ھو ۔سمجھا کرو ایسے تمہاری طبعیت خراب ھوجاے گی ۔ میں نے ضوفی کے ہاتھ کو چوما اور نظریں اسکے چاند کی طرح چمکتے ھوے چہرے کی طرف کرتے ھوے کہا کہ تمہاری قربت میں میرے اندر شکتی بڑھتی ھے تم سے جدا ہوکر میں کمزور پڑجاتا ھوں تم میرے پہلو میں ہو تو میں ساری زندگی جاگ کر گزار سکتا ھوں ۔۔ ضوفی ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھی ھوئی تھی اور میں ٹانگوں کو دوسری طرف کرکے سر ضوفی کی گود میں رکھ کر لیٹا ھواتھا ضوفی میرے اوپر جھک کر میرے ہونٹوں کو چومتی ھوئی بولی ۔ اوے ھوے میرے مجنوں ۔۔ چلو اٹھو پہلےچاے پیو پھر میں اپنے کاکے کو لوری سناکر سلاتی ہوں ۔۔ میں جھٹکے سے ضوفی کی گود سے سر اٹھا کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور بڑے جوش سے خوش ہوکر بولا سچییییییی ضوفی بھی میری نکل اتارتے ھوے بولی مُچییییییی۔ اور پھر ضوفی نے چاے کا کپ اٹھا کر مجھے پکڑایا اور خود بھی چسکیاں لے کر چاے پینے لگ گئی ۔۔ میں نے جلدی سے چاے پی اور سائڈ ٹیبل پر کپ رکھنے کے بہانے بیڈ سے نیچے اترا اور کپ رکھ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا اور دروازہ بند کر کے لاک کر کے بھاگ کرجمپ لگا کر ضوفی کے قدموں کی طرف بیڈ پر چڑھ گیا ۔۔ اور الٹا لیٹ کر کہنیوں کے بل ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر ضوفی کو دیکھنے لگ گیا ۔۔ ضوفی نے جلدی سے ٹانگیں سیدھی کیں اور چوکڑی مار کر بیٹھتے ھوے مجھے گھور کر دیکھتے ھوے بولی ۔ بہت ضدی ہو تم یاسر بہت تنگ کرنے لگ گئے ھو ۔۔ میں نے کہا اور کس کے ساتھ ضد کروں کس سے اپنی بات منواوں ایک تم ھی تو ھو جس پر اپنا حق جتانا مجھے اچھا لگتا ھے ۔۔ ضوفی بولی چلو اٹھو میرے پیروں کی طرف مت لیٹو کیوں مجھے گناہ گار کرتے ھو ۔ اور یہ کہتے ھوے ضوفی نے میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے اوپر کی طرف کھینچا اور میں گھٹنوں کے بل چلتا ھوا ضوفی کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا ۔۔ ضوفی نے بھی چاے ختم کرکے کپ رکھ دیا اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کرکے لیٹ گئے ۔ ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ ہماری سانسیں ایک دوسرے کے چہرے پر پڑ رہیں تھی میں نے ایک بازو ضوفی کے سر کے نیچے کیا ھوا تھا اور دوسرا بازو اسکی بغل سے گزار کر ہاتھ اسکی کمر پر رکھا ھوا تھا ضوفی کا سینہ میرے سینے کے ساتھ لگا ھوا تھا ہم دونوں کی رانیں ایک دوسرے کے ساتھ لگی ھوئی تھیں میں ضوفی کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر اسکی آنکھوں میں کھویا ھوا تھا ضوفی نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا کہ کیا دیکھ رھے ھو ۔ میں نے کہا دیکھ رھا ہوں کہ ان آنکھوں میں. میرے لیے کتنا پیار ھے ضوفی بولی پیار آنکھوں میں نہیں دل میں ہوتا ھے آنکھیں دھوکا دے دیتی ہیں اور دل کبھی دھوکا نہیں دیتا میرا دل صرف تمہارے لیے دھڑکتا ھے کاش تمہیں اپنا سینہ چیر کر دیکھا سکتی کہ تم سے کتنا پیار کرتی ہوں ۔ میں نے ضوفی کے ہونٹوں کو چوما اور اسکی کمر کو سہلاتے ھوے بولا ۔ جان تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں میں تو اپنی قسمت پر ناز کر رھا ھوں کہ مجھے تم جیسا جیون ساتھی ملا تم اوپر سے جتنی خوبصورت ھو اندر سے اس سے دگنی خوبصورت ھو اوپر والے نے تمہیں صورت کے ساتھ سیرت سےبھی نوازہ ھے ۔ پتہ نہیں مجھ سے کون سی ایسی نیکی ھوئی جس کے بدلے اوپر والے نے تمہارا ساتھ مجھے دیا ۔ ورنہ میں تو اتنا گناہ گار ھوں کہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی جلدی تم میرے قریب آجاو گی اور اتنی جلدی میں اپنے پیروں پر کھڑا ھوجاوں گا ۔ ضوفی بولی خوش قسمت تو میں ہوں کہ مجھے اتنا چاہنے والا جیون ساتھی ملا ۔ یاسر کبھی کبھی تو مجھے بہت ڈر لگتا ھے کہ کہیں تم ۔۔۔۔۔ ضوفی ایکدم چپ ھوگئی اور اسکے چہرے پر افسردگی چھا گئی ۔ میں نے کہا کیا۔۔۔۔۔ ضوفی بولی کچھ نہیں ۔ میں نے کہا بولو نہ جان کیا کہنے لگی تھی ۔ ضوفی بولی یاسر تم ساری زندگی مجھے یوں ھی پیار کرتے رھو گے نہ۔ میں نے کہا کوئی شک ھے۔ ضوفی بولی یاسر پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی مجھے اس زمانے سے ڈر لگنے لگ جاتا ھے کوئی تیسرا ہمارےبیچ نہ آجاے ۔۔ میں نے کہا پاگل ھو کیا ۔ میری ہر سانس تمہاری مقروض ھے تمہیں دیکھ دیکھ کر تو جیتا ھوں ۔ یہ سوچنا بھی نہ کہ کوئی اور تمہاری جگہ لے سکتا ھے تم سے بےوفائی کروں اس سے پہلے میں مر۔۔۔۔۔۔۔۔ ضوفی نے جلدی سے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر پیار کا تالا لگا دیا ۔ اور پاگلوں کی طرح میرے ہونٹوں کو چوسنے لگ گئی اور اپنے جسم کو میرے جسم کے ساتھ چپکا کر مجھ میں سمانے کی کوشش کرنے لگ گئی ۔۔ ضوفی کے جسم کا لمس پاتے ھی مجھ پر بھی خمار چھانے لگ گیا میں بھی کسنگ کی ضوفی برابر ساتھ دینے لگ گیا ۔۔ کتنی دیر ہم یوں ھی ایک دوسرے کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈالے ایک دوسرے کے ساتھ چپکے لیٹے رھے ۔۔ اور بیچ میں کبھی ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتے ھوے پورے بیڈ کی سیر کرتے رھے ۔ ضوفی کا جسم اتنا نرم اور سوفٹ تھا کہ میں اسکے جسم کے جس اعضاء پر بھی ہاتھ رکھ کر انگلیوں کو دباتا میری انگلیاں اندر دھنس جاتی ۔ ضوفی ہر لحاظ سے فٹ تھی ۔۔ بنانے والے نے کسی چیز کی کمی اس میں نہیں رکھی تھی ۔ ضوفی دیکھ کر بس دل کر تا تھا کہ دیکھی جاوں میری نظریں اسکو دیکھ دیکھ کر نہ تھکتی تھی ۔ اور جب اسکا قرب حاصل ھوتا تو دل کرتا کہ اسکو اپنے جسم میں سمو لوں اسکے ہونٹوں کو کھا جاوں اسکے جسم کو ہاتھوں سے نچوڑ دوں ۔ کافی دیر کے بعد ہم نے ایک دوسرے کے ہونٹوں کی جان چھوڑی اور دونوں سیدھے ھوکر لیٹ گئے اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئے ۔ضوفی بولی یاسر تم میری مت مار دیتے ھو ۔ میں نے سایڈ کے بل بوتے چہرہ ضوفی کی طرف کیا اور بولا اصل مت تو شادی کے بعد ماروں گا ۔۔ ضوفی بولی ۔۔کہیں مت مارتے مارتے مجھے ھی نہ مار دینا ۔ میں نے کہا تمہیں مار کر میں نے خود مرنا ھے ابھی تو جینا سیکھا ھے اور مجھے ابھی لمبی زندگی جینا ھے ۔ اورتمہارے بغیر جینا مشکل ھی نہیں ناممکن ھے ۔ یہ میرا پیار ھے میرا جنون ھے میرا بس چلے تو تم کو اپنے اندر سمو لوں ۔۔ ضوفی نے بھی میری طرف سایڈ بدلی اور میرےبالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے بولی یاسر مجھ سے کیوں اتنا پیار کرتے ھو کیوں مجھے پاگلوً ں کی طرح چومتے چاٹتے ھو ۔ میں نے کہا ضوفی تم چیز ھی ایسی ھو جسے سواے دیکھنے اور چومنے کہ اور کچھ کرنے کو دل ھی نہیں کرتا ۔ ضوفی نے پھر مجھے جپھی ڈال لی اور ہم کتنی دیر ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کرتے رھے اور اسی کوشش میًں پتہ نہیں کب آنکھ لگی اور آنکھ تب کھلی جب کوئی مجھے ۔۔۔۔
  11. 3 likes
    update.. .چیخ اتنی ذوردار تھی کہ اگر کوئی آس پاس ہوتا تو ضرور سنتا۔۔ میں جو فارغ ہونے کے مزے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ چیخ کی آواز سے ایک دم گبھرا گیا۔ اس سے پہلے کہ میرے ہوش وحواس قائم ہوتے کہ دوسری چیخ کے ساتھ ھی ثانیہ کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ آآآآآآآآآآآآئی مرگئ ییییییییییییی ھاےےےےےےےے میری بُنڈ پاٹ گئی ۔۔۔ امیییی جییییییی میں مرگئ جے ےےےےےےے اور ثانیہ نے پورے ذور سے مجھے پیچھے کو دھکا دیا ۔ اور ساتھ ھی پُچ کے آواز کے ساتھ میرا لن ثانیہ کی گانڈ کی موری سے نکل گیا۔۔۔ تو مجھے ایک سیکنڈ میں سارا ماجرا سمجھ آگیا۔ کہ چھوٹتے وقت میں نے لن ثانیہ کی گانڈ کے دراڑ میں ڈالا تھا اور سارا وزن اس پر ڈال کر مزے میں ڈوبا اپنی گانڈ کا ذور آگے کو لگا بیٹھا جس کی وجہ سے منی سے چکنی ثانیہ کی گانڈ کی موری میں لن گھس گیا۔۔۔۔ ثانیہ کے دھکے سے میں گبھراے ھوے پیچھے کو گرتا گرتا بچا ۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا۔ ثانیہ گانڈ پر ھاتھ رکھے گانڈ کو بائک کی سیٹ کے ساتھ لگا کر آگے کو جھکی رو رھی تھی ۔۔ میں کچھ دیر پریشانی کی عالم میں کھڑا کبھی ثانیہ کی طرف دیکھتا تو کبھی چاروں اطراف دیکھتا کہ کسی نے ثانیہ کہ چیخ نہ سن لی ھو۔۔ مگر چاروں اطراف ہو کا عالم تھا ۔ رات کے اندھیرے نے ہر طرف سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ میں نے جلدی سے پہلے اپنی پینٹ اوپر کی اور بیلٹ باندھ کر ثانیہ کی طرف بڑھا ۔ جو ابھی تک جھکی ھوئی ھاےےےےے مر گئی کرتے ھوے رو رھی تھی ۔۔اور ساتھ ساتھ گانڈ کو سیٹ کے ساتھ مسل رھی تھی ۔میں آگے بڑھا اور اسے کے کندھوں کو پکڑ کر اسے سیدھا کرتے ھوے سوری بولنے ھی لگا تھا کہ ثانیہ نے جھٹکے سے میرے ھاتھوں کو پیچھے جھٹکتے ھوے بولی ۔ دور رھو مجھ سے ۔جاہل گنوار خبردار مجھے چھوا بھی ۔۔ میں ہکا بکا پیچھے ہٹ کر کھڑا ھوگیا ۔۔ ثانیہ مجھے برا بھلا کہہ کر نیچے جھک کر اپنا پاجامہ اوپر کرنے لگ گئی ۔۔۔ میں نے پھر دور کھڑے ھی کہا ۔ ثانیہ سوری یار مجھے پتہ نہیں چلا غلطی سے ہوگیا۔۔ ثانیہ پھر غصے سے بولی بکواس بند کرو ایڈیٹ ۔۔ مجھے اسپر غصہ تو بہت آیا مگر میں خود پر کنٹرول کرتے ھوے بولا ۔ ثانیہ تمہارا غصہ بجا ھے جو مرضی کہہ لو جتنی مرضی گالیاں دے لو ۔ مگر قسم سے میں نے جان بوجھ کر اندر نہیں کیا ۔ بس غلطی سے اندر چلا گیا۔۔ میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتا ھوں پلیز غصہ تھوک دو۔۔ ثانیہ اپنا دوپٹہ سر پر لے کر دوپٹے کو درست کرتے ھوے بولی ۔ مجھے پہلے پتہ ھوتا کہ تم ابھی بھی جاہل کہ جاہل ھی ھو تو تم کو کبھی پاس نہیں آنے دیتی ۔ چلو مجھے گھر چھوڑ کر آو ۔۔۔ اور یہ کہتے ھوے بڑی حقارت سے میری طرف دیکھ کر درختوں سے نکل کر سڑک کی طرف جانے لگ گئی ثانیہ کی بات سن کر میرے اندر غصے کی چنگاریاں سلگنے لگ گئیں کہ گشتی کی بچی میں آکڑ کتنی ھے ۔ میرا دل تو کررھا تھا کہ اس گشتوڑ کو ادھر ھی چھوڑ کر گھر چلا جاوں ۔ مگر پھر ضوفی کا خیال آتے ھی میں نے غصے سے ہنکارا بھرا اور بائک کو بغیر سٹارٹ کیے ثانیہ کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔ سڑک پر پہنچ کر میں نے بائک سٹارٹ کی تو ثانیہ بڑے آرام سے گانڈ سیٹ ہر رکھ کر میرے پیچھے مجھ سے فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔ میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی ۔ اور بائک آگے بڑھائی اور کالونی کی طرف چل پڑا میں اب بائک سپیڈ سے چلا رھا تھا اور کچھ ھی دیر میں ۔ میں ثانیہ کے دروازے پر تھا ۔ ثانیہ خاموشی سے اتری اور ٹانگیں چوڑی کرکے چلتی ھوئی دروازے پر پہنچی میں کھڑا اسے دیکھ رھا تھا ۔کہ یہ گھر میں داخل ھوجاے تو ھی میں جاوں ثانیہ نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور غصے سے بولی ۔ اب جاو بھی ادھر کھڑے کیا کررھے ھو ۔ میں نے غصے سے ایک نظر اس پر ڈالی اور بڑی پھرتی سے بائک کو ادھر کھڑے کھڑے ھی گھمایا اور بڑی سپیڈ سے بائک کو بھگا کر اسکی گلی سے نکلا ۔ میں نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ ثانیہ اتنی رات کو سنسان گلی میں اکیلی باہر کھڑی ھے ۔ میں گلیوں سے نکل کر مین روڈ پر آیا تو فل سپیڈ سے بائک کو بھگاتا ھوا ضوفی کے گھر کی طرف جانے لگا۔ میں کوئی دس پندرہ منٹ میں ۔ ضوفی کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ میں نے بائک روکی اور بائک سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھا اور میں ابھی بیل پر ہاتھ لیجانے ھی لگا تھا کہ گیٹ کھلا اور ضوفی کا مسکراتا ھوا چہرہ مجھے نظر آیا۔۔ میری جب ضوفی سے نظر ملی تو ضوفی بولی اتنی دیر لگا دی ۔۔ میں نے کہا یار بائک پنکچر ھوگئی تھی ۔۔۔اور بڑی مشکل سے پٹرول پمپ پر پینکچر والے سے پنکچر لگوایا۔ اور میں ضوفی کا جواب سنے بغیر ھی واپس مڑا اور بائک اندر لے آیا ضوفی نے گیٹ بند کیا ۔۔ تو میں اور ضوفی آگے پیچھے چلتے ڈرائنگ روم میں پہنچے تو میں نے ماہی کا پوچھا تو ضوفی بولی وہ تمہاری لاڈلی اوپر تمہارے دیے ھوے گفٹ دیکھ رھی تھی ۔ میں تو کب کی نیچے بیٹھی تمہارا انتظار کررھی تھی ۔۔۔ میں نے کہا چلو اوپر ھی چلتےہیں ۔۔ اور یہ کہتے ھوے میں اور ضوفی آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے ھوے کمرے میں پہنچے تو ۔ ماہی بیڈ پر ٹانگیں سیدھی کر کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز ہوکر بک پڑھ رھی تھی ۔ ہمیں دیکھ کر ماہی نے جلدی سے اپنی ٹانگوں کو سمیٹا اور بک بند کر کے سائڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔۔ اور بولی ۔ یاسر بھائی اتنی دیر کہاں لگا دی ۔۔ میں نے پنکچر والی بین اسے بھی سنائی ۔۔۔ تو ماہی بولی ۔ بائک پنکچر تو ہونی ھی تھی ساتھ جو کرماں والی گئی تھی ۔۔۔ ضوفی ماہی کو جھاڑتے ھوے بولی ۔ ماہی تمیز نہیں ھے تمہیں بات کرنے کی ۔۔ وہ میری فرینڈ ھے اور ہماری مہمان بھی تھی ۔۔۔ ماہی بولی ۔ آپی مجھے تو وہ ذہر لگتی ھے ندیدی ھے ایک نمبر کی اور شوخی بھی بہت ھے پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ھے آپکو پتہ نہیں اس میں کیا نظر آتا ھے ۔۔ آپ نے دیکھا نہیں تھا کیسے بھائی کو بار بار گھور گھور کر دیکھ رھی تھی ۔۔ ماہی کی بات سن کر میں ایک دم چونکا ۔ کہ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ باتوں کے دوران ثانیہ مجھے بار بار دیکھ رھی تھی ۔ ضوفی بولی ۔ ماہی شرم کرو شرم یاسر کیا سوچے گا ۔۔۔ وہ میری فرینڈ ھے اور میں اسے تم سے ذیادہ جانتی ھوں ۔ وہ ایسی چھچھوری لڑکی نہیں ھے ۔۔ میں نے موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ھوے جلتی پر تیل ڈالنے کا سوچا ۔ کیوں کہ میں بھی اب نہیں چاہتا تھا کہ ضوفی اس سے ملے یا وہ انکے گھر آے ۔۔ کیونکہ اسکے دل میں ان فرشتہ صفت لوگوں کے لیے جو میل تھی وہ میں دیکھ چکا تھا۔۔۔ میں جلدی سے بولا ۔۔ ضوفی ۔۔ماہی صحیح کہہ رھی ھے مجھے بھی وہ لڑکی صحیح نہیں لگی بہت اوور ایکٹ کررھی تھی ۔ اور مجھے ایسی لڑکیوں سے سخت نفرت ھے ۔۔ تو ماہی جلدی سے بولی دیکھا آپی اب یقین آگیا اب تو بھائی نے بھی گواہی دے دی ھے ۔۔۔ ضوفی میری طرف حیرانگی سے دیکھتی ھوئی بولی ۔ مگر یاسر مجھے تو وہ ایسی لڑکی نہیں لگتی میں تو بہت عرصہ دراز سے اسے جانتی ہوں وہ بیچاری تو پہلے ھی بڑی پریشان ھے اپنے خاوند کی وجہ سے ۔۔۔ ۔میں نے کہا یار کچھ بھی ھے مگر وہ مجھے بلکل بھی پسند نہیں ھے ۔۔۔ ضوفی سنجیدہ سی ھوکر میرے قریب آئی اور میرے کندھے کو پکڑ کر بولی ۔۔ کیا ھوا یاسر اس نے راستے میں کوئی بات کی ھے ۔۔۔ میں نے آخری وار کیا۔۔ اور بولا دفعہ کرو ضوفی. میں نہیں چاہتا کہ تمہاری اس کے ساتھ منہ ماری ھو اس لیے بہتر یہ ھی ھے کہ تم اس سے جتنا دور رھو اتنا ھی بہتر ھے ۔۔۔ میرے سسپنس سے ضوفی مذید پریشان ھوگئی اور ماہی بھی چونک کر میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔۔ ضوفی نے دوسرا ہاتھ بھی میرے کندھے پر رکھا اور میرے کندھوں کو ہلاتے ھوے بولی ۔۔ یاسر بتاو کیا بات ھوئی ۔۔۔۔ میں نے کہا کچھ نہیں یار دفعہ کرو۔۔۔ ضوفی کا منہ رونے والا ھوگیا اور روہانسے لہجے میں بولی ۔۔ یاسر پلیززز بتاو کیا ھوا ھے اس نے کیا کہا ھے تمہیں ۔۔۔ میں نے ضوفی کے کندھوں کو پکڑا اور بولا کچھ نہیں ھوا یار ایسے پاگل مت بنو فضول میں بات کو بڑھا رھی ھو ۔۔۔ ضوفی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرتے آنسو گرنے لگے اور اسکے دونوں ہاتھ میرے کندھوں سے میری گالوں پر آگئے اور میری گالوں کو سہلاتے ھوے میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ھوے بولی ۔ یاسر مجھ سے تم کچھ چھپا رھے ھو ۔۔۔ پلیززز بتاو کیا بات ھے میرا دل بیٹھا جارھا ھے ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے ضوفی کی گالوں کو تھاما اور اسکے آنسو صاف کرتے ھوے بولا۔۔ ہے ناں پاگل رونے لگ گئی ۔۔ میں تو مزاق کر رھا تھا ۔۔۔ اور میں نے ماہی کی طرف دیکھتے ھوے کہا دیکھو ماہی تمہاری آپی بچوں کی طرح رو رھی ھے ۔۔۔ ضوفی میرے ھاتھ اپنی گالوں سے ہٹاتے ھوے بولی ۔۔ یاسر میں مزاق کے موڈ میں نہیں ھوں تمہیں میری قسم بتاو اس نے تمہیں کیا کہا ھے ۔۔۔ دوستو ضوفی سے مجھے واقعی سچا پیار تھا ۔۔ بیشک میں اس فرشتہ کے لائک نہیں تھا ۔ اور باہر بھی منہ ماررھا تھا ۔ .مگر ضوفی کے بارے میں میری فیلنگ بلکل ایک سچے عاشق جیسی تھی ۔ سچے سے مراد کہ مجھے اس کے جسم کی طلب نہیں تھی نہ ھی اس کو دیکھ کر میرے اندر شہوت جنم لیتی تھی ۔۔ ضوفی کو دیکھ کر مجھے سارے جہاں کا سکون مل جاتا تھا اور اس میں مجھے اپنائیت سچا پیار خلوص محبت صدق دلی دیکھائی دیتی تھی ۔۔۔ یہ ھی وجہ تھی کہ ضوفی نے جب مجھے اپنی قسم دی تو مجھے ایک دم جھٹکا لگا اور اس بات کا احساس ہوا کہ جلتی پر تیل پھینکنے سے انسان خود بھی آگ کی لپٹ میں آجاتا ھے اب میں سوچنے لگ گیا کہ ضوفی نے مجھے اپنی قسم دے دی ھے اب اسے کیا بتاوں ۔۔ میں ان ھی سوچوں میں گم تھا کہ ضوفی پھر مجھے جھنجھوڑتے ھوے بولی یاسررررررر بتاو اس نے کیا کہا ھے تمہیں ۔۔۔ اگر نہ بتایا تو میرا مرا ھوا منہ دیکھو گے ۔۔ ضوفی کے منہ سے مرا ھو کا لفظ سن کر مجھے ایسے لگا کہ جیسے میرے دل پر کسی نے چھری سے وار کردیا ھو ۔۔ میں نے تڑپ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور روہانسے لہجے میں بولا مریں تمہاریں دشمن ۔۔۔ پاگل لڑکی اب ایسی بکواس کی تو میں نے تم سے کبھی بات بھی نہیں کرنی ۔۔۔ تو ضوفی بولی ۔ پھر بتاو کیا کہا ھے اس نے تمہیں جو تم اس سے اتنے بدزن ھوگئے ھو ۔۔ ماہی بھی ماحول کی سنجیدگی کو دیکھتے ھوے بیڈ سے نیچے اتر کر ہم دونوں سے کچھ فاصلے پر کھڑی ھوگئی تھی ۔۔ میں نے ضوفی کو کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھاتے ھوے کہا اچھا بیٹھو بتاتا ھوں ۔۔۔ اور ماہی کو کہا کہ جاو پانی لے کر آو۔۔ ماہی جلدی سے سیڑیاں اترتی ھوئی نیچے چلی گئی اور میں ضوفی کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر ہاتھ سے اسکے آنسو صاف کرنے لگ گیا۔۔ ُچند لمحوں بعد ھی ماہی پانی کا گلاس لے کر کمرے میں داخل ھوئی اور گلاس ضوفی کی طرف بڑھایا تو میں نے ماہی سے گلاس پکڑ کر ضوفی کے لبوں سے لگایا تو ضوفی نے ایک گھونٹ بھرا اور گلاس خود پکڑ کر پانی پینے لگ گئی ۔۔ ماہی کھڑی ہمیں دیکھ کر مسکرا رھی تھی ۔۔ میں نے ماہی کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔ تیریاں کیوں دندیاں نکلن دیاں نے ۔۔۔ پین تیری نوں رونا آئی جاندا اے تے تینوں ہاسے پئئے آندے نے ۔۔۔ مہری منہ پر دونوں ھاتھ رکھ کر ہنسی کو دباتے ھوے دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ھوگئی ۔۔۔ میں نے پھر ضوفی کو مخاطب کرتے ھوے کہا۔۔ دیکھو ضوفی اس دور میں ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ھوتا ۔ بیشک تم مجھ سے ذیادہ سمجھدار ھو پڑھی لکھی ھو اور زندگی کے تلخ دور سے بھی گزر چکی ھو تمہارا تجربہ بھی مجھ سے ذیادہ ھے ۔ مگر دھوکا وہ ھی کھاتا ھے جو ہرکسی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیتا ھے ۔۔ تم جسے اپنی دوست سمجھ رھی ھو ۔ اس کے دل میں تمہارے لیے بہت بغض حسد ھے ۔ وہ تمہاری ترقی سے ھی بہت جیلس ھے ۔ راستے میں میرے ساتھ تمہاری برائیاں ھی کرتی جارھی تھی ۔ کہ تم سہی لڑکی نہیں ھو تمہارے پاس اتنی دولت کیسے آئی ۔ اور میں تم سے بچ کر رھوں وغیرہ وغیرہ۔۔ میری باتیں سن کر ضوفی کا گلابی چہرہ سرخ ٹماٹر کی مشابہت اختیار کرتا جارھا تھا۔۔ میری بات مکمل ھوتے ھی ۔۔ ضوفی ایکدم کھڑی ھوئی ۔ .اور غصے سے پھنکارتے ھوے بولی ۔۔ آ لین دے ایس سوراں یاؤن نوں ایدا چُوتھا میں پُناں گی ۔۔ گندی رن کسے تھاں دی ۔۔۔ میں ضوفی کے منہ سے پنجابی میں گالیاں سن کر حیران پریشان اسکا منہ دیکھنے لگ گیا۔۔ اور ماہی بھی دونوں ھاتھ منہ پر رکھ کر ہنستے ھوے بولی اووووو ھاےےےےےے آپی کیا ھوگیا ھے آپ کو توبہ توبہ توبہ ۔ ویری بیڈ لینگوئج ۔۔۔ ضوفی نے غصے سے ماہی کی طرف دیکھا اور بولی ۔۔ بےجا ایڈی توں انگریز دی تی۔۔۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا۔۔۔ واہ جی واہ میری بیگم نوں تے پنجابی وی بالی چنگی آندی اے میں تے جماں ای نئی کُسکاں گا اپنی بیگم دے اگے ۔۔۔ ضوفی میرا سٹائل دیکھ کر غصے میں بھی ہنس پڑی ۔۔۔ اور سر پکڑ کر صوفے پر ڈھیر ہوگئی ۔۔۔۔ ماہی بھی صوفے پر ھی بیٹھ گئی ۔ اور کچھ دیر ثانیہ کے ٹاپک پر ہات ھوتی رھی ۔۔ میں نے ضوفی کو فل اسکے خلاف بھڑکا دیا تھا اور اس سے وعدہ بھی لیا تھا کہ وہ اس سے کوئی بھی ایسی ویسی بات نہیں کرے گی بلکہ اسے اس طریقہ سے چھوڑے گی کہ اسے محسوس بھی نہ ھو اور اس سے جان بھی چھوٹ جاے ۔۔۔ پھر میں. نے ماہی سے گفٹ پسند آنے کا پوچھا تو ماہی نے بڑی گرمجوشی سے میرا شکریہ ادا کیا۔۔ اور میری چوائس اور میچنگ کو دل سے سراہا۔ اور شرارتی انداز میں بولی ۔ بھائی ویسے سب باتیں ایک طرف آپی بہت خوش قسمت ہیں جن کو آپ جیسا شوہر ملے گا آپی کی تو موجیں ہیں گھر بیٹھے ھی سب کچھ مل جایا کرے گا وہ بھی اعلی سے اعلی ۔۔۔ میں. نے ہنستے ھوے کہا ۔۔ کوئی ناں میری بہن پریشان نہ ھو تیرے لیے بھی کوئی ایسا ھی لڑکا تلاش کرلیں گے ۔۔۔ ماہی میری بات سن کر شرمائی ۔ اور منہ پر دونوں ھاتھ رکھ کر بھائییییییییی آپ بھی ناں کہتے ھوے باہر کی طرف بھاگ گئی میں اسے آوازیں دیتا رھ گیا کہ بات تو سنو ۔۔ مگر ماہی تیزی سے سیڑھیاں اترتے ھوے نیچے چلی گئی ۔۔۔ ماہی کے جانے کے بعد ۔۔ میں اٹھا اور دروازہ ویسے ھی بند کیا تو ضوفی جلدی سے صوفے سے اٹھی اور بولی کیا کرنے لگے ھو ۔۔۔۔میں نے کہا کچھ نہیں بس دروازہ بند کرنے لگا ھوں ۔۔ تو ضوفی بولی ۔۔ میں بھی جارھی ھوں نیچے ۔۔ میں نے کہا کیوں ۔۔۔ ضوفی بولی ۔ ویسے ھی ۔۔ میں چلتا ھوا اسکے قریب آیا اور اسکی کمر کے گرد بازوں کا احصار باندھتے ھوے اسے اپنے ساتھ لگاتے ھوے ۔۔ ضوفی کے ہونٹوں پر کس کی تو ضوفی مجھے آرام سے پیچھے کرتے ھوے بولی ۔۔ آرام سے اب سوجاو صبح دکان بھی کھولنی ھے ٹائم دیکھو کتنا ھوگیا ھے ۔ میں نے کیا پھر کیا ھوا ٹائم ھوگیا ھے ۔ اور میں نے ساتھ ھی کلاک کی طرف دیکھا تو تین بجنے والے تھے ۔ میں نے پھر بھی ضوفی کو پکڑے رکھا تو اپنی کمر کے گرد سے میرے بازو ہٹاتے ھوے بولی ۔۔ چھوڑو یاسر مجھے بھی نیند آرھی ھے اور میں نے صبح دو برائڈل تیار کرنی ہیں ۔۔ .اس لیے تم بھی سو جاو اور میں بھی سونے جارھی ھوں ۔۔ میں نے ضوفی کو کس کر اپنے ساتھ لگایا اور کچھ دیر اسکی گلاب کی ہتیوں کا رس چوسا ۔ اور کچھ دیر بعد اسے چھوڑ دیا ۔۔۔ ضوفی کے نیچے جانے کے بعد میں بیڈ پر لیٹتے ھی سوگیا۔۔۔ صبح مجھے ضوفی نے اٹھایا . ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد میں اور ضوفی دکان پر آگئے۔۔۔ جنید پہلے سے ھی بوتیک کے باہر کھڑا انتظار کررھا تھا ۔ جنید نے مجھ سے چابیاں لیں اور دکان کھولی اور ہم دونوں مل کر صفائی وغیرہ کرنے میں مصروف ھوگئے۔۔ سارا دن کام میں مصروف رھے میری طبعیت بھی سارا دن سست رھی ایک تو کل دو پھدیاں وجایاں سی دوسرا رات کو لیٹ سویا تھا۔۔ جنید نے بھی میری سستی کی وجہ پوچھی مگر میں نے طبعیت ناساز ہونے کا بہانہ بنایا ۔۔ رات کو حسب معمول میں ضوفی کو گھر چھوڑنے کے بعد گاوں پہنچا ۔ امی نے پوچھا کہ یاسر پتر ۔ تیری آنٹی ناراض تو نہی ھوئیں کہ ہم ماہی کی سالگرہ پر نہیں آے ۔۔ میں نے کیا ۔ کہ ناراض تو نہیں ہوئیں مگر گلہ کر رہیں تھی کہ آپ لوگوں کو آنا چاہیے تھا ۔۔ مگر میں نے انکو مطمئن کر لیا تھا ۔۔۔ امی بولی ۔پتر دل تو میرا بھی کررھا تھا مگر تجھے اپنے ابے کا پتہ ھی ھے کہ وہ ایسے ھی لڑنے لگ جاتے ہیں میں نہیں چاھتی تھی کہ ایسے ان لوگوں کو لے کر ہمارے گھر میں کوئی جھگڑا ھو ۔۔ کوئی نہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ھوجاے گا ۔ میں بس کچھ دنوں میں ھی تیرے ابا سے تیرے اور ضوفی کے رشتے کی بات کروں گی ۔ مجھے تو وہ لوگ بہت بھلے لگے اور ضوفی بھی کافی سلجھی اور سمجھدار بچی ھے ۔۔۔ میں نے لاڈ سے امی کے گلے میں بازوں ڈال کر امی کے ساتھ جھولتے ھوے کہا۔۔۔ بس سلجھی اور سمجھدار ھی ھے ۔ امی نے حیران ھوکر میری طرف دیکھتے ھوے کہا۔۔ لے دس ہور سانوں کی چایے دا اے ۔۔۔ میں نے کہا میرا مطلب کہ سونی شونی نئی اے ۔۔۔ امی نے میری گال پر چپت مارتے ھوے کہا۔۔ تیرے نالوں تے سونی ای اے ۔۔ میں نے منہ بسورتے ھوے کہا۔ لو جی بہو گھر میں آئی بھی نہیں اور بیٹا برا بھی لگنے لگ گیا۔۔۔ امی نے ہنستے ھوے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ھوے میرا ماتھا چوما اور بولیں ۔ میرے پتر توں ود سونا کوئی ھے ایس دنیا تے ۔۔۔ اور میں امی کے ساتھ لپٹ گیا۔۔ کچھ دیر مقں بیٹے کا لاڈ پیار چلتا رھا ۔ پھر امی نے کہا چل میرا لال منہ ہتھ دھو لے میں تیرے لیے روٹی پکاتی ہوں ۔۔۔ میں منہ ہاتھ دھو کر فریش ھوکر کھانا کھانے کے بعد ۔۔ آنٹی فوزیہ کے گھر جا پہنچا ۔۔ گھر داخل ہوا تو صحن خالی تھا ۔۔ میں سیدھا کمرے میں جاپہنچا ۔ کمرے میں سب لوگ بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔ میں نے کمرے میں داخل ہوتے سلام کیا ۔۔تو انکل مجھے دیکھ کر بولے آ بھئی یاسر پتر ۔ شکر ھے تیرا چہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ تم تو اب امیر بندے ھوگئے ھو ۔ میں چلتا ھوا انکل کے پاس جاکر چارپائی پر بیٹھتے ھوے بولا ۔ نہیں انکل جی ایسی تو کوئی بات نہیں بس دکان سے ھی بہت لیٹ گھر آتا ھوں آج تھوڑا جلدی آگیا تو سوچا آپ لوگوں سے مل لوں ۔ آنٹی جو میری طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ۔ بولی ۔ مہربانی جو ہم کو یاد رکھا۔۔ میں نے کہا۔ .اب جانے بھی دیں آنٹی جی کیوں ایسی باتیں کر کے مجھے شرمندہ کررھیں ہیں ۔ اور پھر میں عظمی اور نسرین کا حال احوال پوچھنے لگ گیا ۔ جو انکل کی وجہ سے بہت شریف بچیاں بن کر خاموشی سے بیٹھیں ہوئیں تھی ۔۔ عظمی اور نسرین نے بتایا کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ھوگئیں ہیں اور اب وہ کالج میں اڈمیشن لیں گی اور روز تانگے پر ھی آیا جایا کریں گی ۔۔ میں نے انکو مبارکباد دی ۔ اور آنٹی سے بولا۔ دیکھ لیں آنٹی آپ میری دکان دیکھنے نہیں آئیں ۔۔ اور نہ ھی یہ دونوں چڑیلیں آئیں ہیں ۔ آنٹی بولی بس ٹائم ھی نہیں ملا آنا تھا ۔ تیرے انکل کی طبعیت سہی نہیں رہتی ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ انکا لاہور سے چیک اپ کروائیں ۔ بس اسی پریشانی کی وجہ سے گھر سے نکلا نہیں جارھا ۔ تمہیں تو پتہ ھے کہ اب جوان بچیاں اکیلی چھوڑ کر میں کیسے انکو لے کر جاوں ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی آپ انکی پریشانی کیوں لی رہی ہیں ۔ انکو ہمارے گھر چھوڑ جائیں وہ بھی تو آپکا ھی گھر ھے ۔ مشکل وقت میں ہم آپ کے کام نہیں آئیں گے تو کون آے گا۔۔ آنٹی بولی جیوندا رھ ۔ میں نے تو تیرے انکل کو کہا تھا مگر یہ ھی نہیں مان رھے کہ تمہارے ابو کیا سوچیں گے ۔۔۔ میں نے انکل کی طرف منہ کیا اور انکی ران پر ہاتھ رکھتے ھوے کہا۔۔ انکل جی آپ ایسا کیوں سوچ رھے ہیں کیا ہم آپ کے اپنے نہیں ہیں ۔۔ انکل نے کھانستے ھوے کہا ۔ نہیں یاسر پتر ایسی بات نہیں بس ایسے ھی سوچ رھا تھا کہ جوان بچیاں ہیں ایسے ھی لوگ باتیں نہ کریں ۔۔ میں نے ہنستے ھوے نسرین کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔۔ لو جی آپ کے لیے جوان ھوں گی ۔۔ میرے لیے تو ابھی بھی یہ ناک بہتی بچیاں ھی ہیں ۔۔ آپ بے فکر ھوکر اپنا اچھے سے چیک اپ کروایں اور انکی ذمہ داری مجھ پر چھوڑ دیں ۔۔ اور اگر کسی چیز کی ضرورت ھو تو بلاجھجھک مجھے کہنا ۔ انکل نے میرے سر پر پیار سے ھاتھ پھیرتے ھوے ھاتھ میری کمر پر لیجا کر کمر کو تھپتھپایا اور بولے ۔ جیوندہ رہ پتر تم لوگ ھی تو ہمارے اپنے ھو اور تم تو ویسے بھی ہمارے گھر کے فرد ھو ہم نے تو تمہیں کبھی بھی غیر نہیں سمجھا ۔ تو میں نے کہا۔۔ تو پھر میرے ھوتے ھوے فکر کس بات کی کرتے ہیں ۔۔ اگر کوئی پیسوں کی پرابلم ھے تو بتائیں آپ کے بیٹے پر اوپر والے کا بڑا کرم ھے ۔ انکل کھانستے ھوے بولے ۔ نہیں پتر جیوندہ رھ پیسے تو ہیں بس ان بچیوں کی فکر تھی کیوں کہ لاہور میں پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔۔ زمانہ خراب ھے بس یہ ھی ڈر تھا ۔ اور اب تیری وجہ سے وہ بھی پریشانی ختم ھوگئی ۔۔ میں تو یہ سوچ بیٹھا تھا کہ ہمارا شہزادہ اب امیر بندہ ھوگیا ھے پتہ نہیں اب ہمیں لفٹ کرواتا ھے کہ نہیں ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا لو جی انکل ۔ اب ایسی بھی بات نہیں میں آپ کے لیے وہ ھی پرانا یاسر ھوں جسکو آپ کندھوں پر بیٹھا کر کھلایا کرتے تھے۔ انکل نے پھر میرے سر پر پیار دیتے ھوے مجھے دعائیں دیں ۔۔ اورپھر میں نے پوچھا انکل جی لاھور آپ رہیں گے کہاں ۔ انکل بولے تیری آنٹی کے بھائی کے سسرال لاہور میں رہتے ہیں ۔ انسے بات ھوئی ھے ۔ وہ تو کب کے کہہ رھے ہیں کہ آجاوں مگر بچیوں کی وجہ سے انکو ٹال مٹول کررھے ہیں ۔۔ آنٹی بولی ۔ چلو اب چھوڑ بھی دو بچیوں کی فکر یاسر نے تسلی دے تو دی ھے ۔ بس اب آپ ایک دو دنوں میں لاہور چلنے کی تیاری کریں ۔ میں کل ھی بھائی سے بات کرتی ھوں کہ ہم آرھے ہیں ۔۔ میں کچھ دیر مذید انکے پاس بیٹھا رھا ۔ اور پھر ان سے اجازت لینے کے بعد میں گھر واپس آگیا۔۔۔ اگلے دو تین دن بھی ایسے ھی گزر گیے ان دنوں میں کچھ خاص نہ ھوا ۔۔ بس وہ ھی روز مرہ کے معاملات ۔۔ .چوتھے دن میں گھر سے سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ۔ اور بیل دی تو ماہی نے دروازہ کھولا ۔ میں نے مسکراتے ھوے پوچھا خیر ھے پتر آج کالج کیوں نہیں گئی ۔ تو ماہی کچھ پریشانی سے بولی کککچھ نہیں بھائی بس ایسے ھی ۔ میں نے اسکے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ھوے پیار سے پوچھا کیا ھوا ماہی پریشان کیوں ھو ۔۔ تو ماہی ایک دم میرے کندھے کے ساتھ لگ کر اونچی آواز میں رونے لگ گئی ۔۔ میں ماہی کے یوں رونے سے پریشان ھوگیا اور میرا دھیان فورن آنٹی کی طرف گیا کہ کہیں انکی طبعیت نہ خراب ھو ۔۔ میں نے سنجدیگی سے ماہی کے سر کو سہلاتے ھوے پوچھا ۔ کیا ھوا بیٹا کیوں رو رھی ھو گھر میں سب خیریت تو ھے ۔۔ اتنے میں ضوفی بھی گیراج کی طرف چلتی آئی ۔۔ اورماہی کو یوں روتےھوے اسکے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار نمایاں ہونے لگ گئے۔۔ میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ ضوفی کیا ھوا اسے یہ کیوں رو رھی ھے اور تم بھی کیوں پریشان ھو کوئی مجھے کچھ بتاے گا بھی کہ نہیں میں نے ضوفی کو دیکھتے ھوے ایک ھی سانس میں ڈھیر سارے سوال کردیے ۔۔ ضوفی ایکدم خود کو سنبھالتے ھوے میرے قریب آئی اورماہی کو پکڑ کر اسکے سر کو اپنے کندھے سے لگا کر اسکی گال تھپتھپا لر اسے چپ کرواتے ھوے ۔ ڈرائنگ روم کی طرف لیجاتے ھوے بولی کچھ نہیں ھوا ۔ بس ایسے ھی پاگل ھے یہ فضول میں روے جارھی ھے ۔۔ میں ضوفی کے پیچھے حیران ھوتا ھوا چلتا ڈرائنگ روم میں پہنچا تو ضوفی نے ماہی کو صوفے پر بیٹھایا اور اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکے آنسو صاف کرتے ھوے اسے چپ کروانے لگ گئی ۔ ماہی بچوں کی طرح ہچکیاں لے لے کر رو رھی تھی ۔۔ میں نے نظر چاروں طرف دوڑا کر آنٹی کو دیکھا کہ اتنے میں آنٹی بھی پریشان سی کمرے سے نکلی اور میری طرف ایک نظر ڈال کر وہ بھی بھاگی ھوئی ماہی کی طرف گئی اور کیا ھوا میری بچی کو کرتی ھوئی انکے ساتھ ھی بیٹھ کر ماہی کو چپ کروانے لگ گئی ۔۔ ماہی کے ایک طرف ضوفی اور دوسری طرف آنٹی بیٹھی تھی جبکہ میں انکے سامنے منہ کھولے کھڑا باری باری تینوں کو دیکھی جارھا تھا ۔ مجھے معاملہ کافی سنجیدہ لگا ۔۔ میں نے پھر آنٹی جی کو مخاطب کرتے ھوے کہا۔ آنٹی جی ہوا کیا ھے مجھے بھی تو کچھ بتائیں ۔سب خیریت تو ھے ماہی کیوں رو رھی ھے اور آپ سب کیوں پریشان ہیں۔ اس سے پہلے کہ آنٹی کچھ بولتی ۔ ماہی میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ بھائی میں نے اب کالج نہیں جایا کرنا مجھے روز ۔۔۔۔۔۔ ضوفی نے ماہی کے منہ پر ہاتھ رکھتے ھوے اس کی آواز کو دبا دیا۔۔ اور غصے سے ماہی کو گھورتی ھوئی بولی ۔۔۔ منہ بند رکھو تمہیں رات کو بھی سمجھایا تھا ۔۔ آنٹی کا رنگ بھی اڑ گیا تھا۔۔ میں ان سب کی حالت دیکھ کر مذید پریشان ھوگیا اور آگے بڑھا اور ماہی کی کلائی کو پکڑا اور اسے کھینچ کر ان دونوں کے بیچ میں سے اٹھا کر کھڑا کیا اور اسکو بازو سے پکڑے ایک طرف لیجا کر کھڑ کیا اور اسکو کندھوں سے پکڑ کر ہلاتے ھوے بولا ۔ بولو پتر کیا بات ھے کیا ھوا ھے جو تم کالج نہیں جانا چاہتی کسی نے کوئی بات کی ھے کیا۔۔۔۔ ماہی آنٹی اور ضوفی کی طرف دیکھے جارھی تھی ۔۔۔ اتنے میں ضوفی جلدی سے اٹھی اور میرے قریب آکر کھڑے ھوکر بولی ۔ یاسر کچھ بھی نہیں ھوا یہ تو پاگل ھے ایسے ھی کہہ رھی ھے ۔ کالج میں ٹیچر نے اسے ڈانٹا ھے تو بس اس بات کو لے کر ۔۔۔ میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ھوے کہا چپپپپ۔۔۔ میں بچہ نہیں ہوں جو تم مجھے یوں بیوقوف بنا رھی ھو ۔۔ جاو تم ادھر جا کر بیٹھو ۔۔ میں اپنی بہن سے خود بات کرتا ھوں ۔۔ .ضوفی بولی ۔مگر یاس۔۔۔۔۔۔۔ میں نے گرجدار آواز میں ضوفی کی بات کو ٹوکتے ھوے کہا ۔ تمہیں سنا نہیں ۔۔کہ ادھر جا کر بیٹھ جاوووووووو۔ ضوفی ایک دم کانپی اور سہم کر مجھ سے دور ہٹ کر کھڑی ھوگئی ۔ میرا رنگ غصہ سے سرخ ھوچکا تھا۔۔۔ میں نے پھر ماہی کی طرف دیکھا اور اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ھوے کہا۔۔ ماہی تم مجھے اپنا بھائی سمجھتی ھو کہ نہیں۔ ماہی نے اثبات میں سر ہلاتے ھوے کہا جی۔۔۔۔ میں نے کہا ۔ تو پھر اپنی پریشانی بھائی سے چھپاتے ہیں کیا۔۔۔۔۔ماہی نے نفی میں سرہلاتے ھوے کہا نہیں۔۔ میں نے کہا۔ چلو پھر بتاو کیا بات ھے کہ میری بہن کالج کیوں نہیں جانا چاہتی ۔۔ ماہی نے پھر ضوفی اور آنٹی کی طرف دیکھا تو میں نے ماہی کو کہا ۔ ماہی ادھر میری طرف دیکھو اور بتاو کیا بات ھے ورنہ میں یہ ھی سمجھوں گا کہ تم مجھے اپنا بھائی نہیں بلکہ غیر سمجھتی ھو ۔۔۔ ماہی نے لاچارگی سے میری طرف دیکھا اور پھر اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے شروع ھوگئے ۔۔۔ میں نے کچھ دیر اسکے بولنے کا انتظار کیا تو پھر میں نے اس کے کندھوں کو چھوڑا اور بولا ۔۔۔ ٹھیک ھے اگر تم مجھے اپنا بھائی نہیں سمجھتی اور پھر میں نے غصے سے آنٹی اور ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا اور اس گھر والے بھی مجھے اپنا نہیں سمجھتے تو میرا یہاں رکنا فضول ھے ٹھیک ھے جیسے تمہاری مرضی ۔ اور میں گلوگیر آواز میں بولی ۔ اوکے میں چلتا ھوں ۔۔۔ یہ کہہ کر میں مڑ کر واپس گیراج کی طرف جانے لگا تو ۔۔ ماہی دوڑ کر میرے پیچھے آئی اور میرا بازو پکڑتے ھوے بولی ۔۔ رکو بھائی میں بتاتی ھوں ۔۔۔ میں وہیں رک گیا ۔۔۔ تو ماہی بولی ۔۔ بھائی تین چار لڑکے ہیں پتہ نہیں کون ہیں میں انکو نہیں جانتی وہ روز کالج تک میرے پیچھے آتے ہیں اور طرح طرح کی آوازیں کستے ہیں ۔۔ کل تو ان میں سے ایک لڑکے نے میرا بازو پکڑ لیا تھا ۔۔۔ ماہی کی بات سن کر میرا رنگ مذید سرخ ہوگیا غصے سے میری آنکھوں میں خون تیرنے گا ۔ میرا جسم ہلکا ہلکا کانپنے لگ گیا۔۔۔ میں نے تھرتھراتی آواز میں ماہی سے پوچھا۔ کب سے وہ تمہارا پیچھا کررھے ہیں اور کس وقت کس جگہ سے تمہارے پیچھے لگتے ہیں اور کس چیز پر سوار ھوتےہیں ۔ میں نے ایک ھی سانس میں سارے سوال کردیے ۔۔ ماہی بولی ۔ بھائی وہ پانچ چھ دنوں سے میرا پیچھا کررھے ہیں ۔ پہلے تو میں انکو اگنور کرتی رھی مگر کل تو ۔۔۔۔۔ ماہی پھر زارو قطار رونے لگ گئی ۔۔ میں نے اسکے سر پر پیار دیا اور اسے اپنے کندھے کے ساتھ لگا کر ۔ دلاسا دیتے ھوے کہا ۔ چپ کر میرا پتر تیرا بھائی ابھی زندہ ھے ۔ تو مجھے پہلے دن ھی بتا دیتی تو یہاں تک نوبت ھی نہیں انی تھی ۔۔ چل میرا پتر چپ کر اور بتا کہ تم ان کو پہچان لو گی ماہی اثبات میں سر ہلاتے ھوے بولی ۔۔ ہممممم میں نے کہا بس آج کا دن تو کالج سے چھٹی کر اور ویسے بھی اب کالج کا ٹائم ختم ھوگیا اس لیے آج تو گھر رھ کل میں تیرے ساتھ جاوں گا اور پھر تم دیکھنا تیرابھائی کیا کرتا ھے ۔ اس کے بعد کوئی بھی تیری طرف آنکھ بھی نہیں اٹھا کر دیکھے گا ۔۔۔ یہ کہتے ھوے میں ماہی کو واپس ڈرائنگ روم میں لے آیا آنٹی اور ضوفی ماہی پر بڑھک اٹھیں کہ مجھے کیوں بتایا اب کوئی خون خرابا نہ ھو جاے ۔۔ ضوفی ذیادہ ڈری ھوئی تھی کیوں کے وہ پہلے میرا پاگل پن اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی ۔۔ .میں نے آنٹی اور ضوفی کو تھوڑا نرم لہجے میں سمجھایا کہ آپ پریشان نہ ھوں کچھ بھی نہیں ھوتا ایسی لفنڈروں کو جس زبان میں سمجھایا جاتا ھے وہ مجھے اچھی طرح آتی ھے ۔ انٹی بولی پتر مجھے ڈر لگ رھا ھے اس پاگل کو سمجھایا تھا کہ تجھے نہ بتاے مگر اسکے پیٹ میں بات نہ رھی ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی ماہی میری بلکل ایسے ھی بہن ھے جیسے نازی میری بہن ھے آپکی عزت میری عزت ھے ۔ میں نے اس گھر کا نمک کھایا ھے اور آپ لوگوں کی وجہ سے میں اس مقام پر ھوں ۔ اور میری بہن کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو مجھ سے یہ برداشت نہیں ھوگا ۔۔ ان بہن چودوں کی وجہ سے میری بہن پڑھائی نہیں چھوڑے گی ۔۔۔ کچھ دیر مذید ہم اسی ٹاپک پر بات کرتے رھے آنٹی مجھے بار بار لڑائی سے منع کرتی رھی ضوفی بھی مجھے سمجھاتی رھی اور پھر میں اور ضوفی دکان پر آگئے راستے میں بھی ضوفی مجھ سے وعدے لیتی رھی کہ لڑنا نہیں ھے بس پیار سے سمجھا دینا ۔۔ میں ہوں ہاں میں اسکی باتوں کا جواب دیتا رھا ۔۔۔۔ دکان پر پہنچا مجھے پریشان دیکھ کر جنید نے وجہ پوچھی تو میں نے اسے ساری تفصیل بتادی ۔۔۔ جنید کا پارا بھی چڑھ گیا، اور وہ مجھے ابھی چلنے کا کہنے لگ گیا میں نے اسے سمجھا بجھا کر رلیکس کیا کہ اب وہ سالے پُھکرے ہمیں نہیں ملیں گے اس لیے کل صبح صبح تم تیار رہنا بونی ان سے ھی کریں گے ۔۔۔اور ویسے بھی کافی دن ھوگئے ہین ہاتھ گرم نہیں کئے ۔۔ جنید نے بھی کل لڑنے کی پوری تیاری کس لی ۔۔۔ اور پھر کسٹمرز کی آمد کے بعد ہم کام میں مصروف ہوگئے ۔۔ رات کو میں نے جنید کو ٹائم اور جگہ کا بتایا اور پھر ضوفی کو گھر چھوڑا اور ماہی کو حوصلہ دیا کہ صبح تم کالج کے لیے تیار رہنا اور پیدل ھی اکیلی جانا ۔۔ ہم فلاں جگہ پر کھڑے ھوں گے اور بلکل بھی نہ گبھرانا ۔۔۔۔ماہی پہلے مجھے منع کرتی رھی آنٹی بھی لاکھ سمجھاتی رھی ۔ مگر میری ضد کے سامنے سب کو ہار ماننا پڑی ۔۔ میں پھر انکے گھر سے نکلا اور سیدھا گاوں پہنچا اور گھر سے کھانا وغیرہ کھا کر باہر چوک کی طرف چل پڑا اور حسب منشا میرے لفنڈر یار چوک میں بوڑھ کے نیچے ڈیرہ جماے بیٹھے تھے ۔۔ مجھے دیکھ کر سب ھی بہت خوش ھوے ۔۔۔ سب ھی مجھے طرح طرح سے جُگتیں مار مار کر چھیڑ رھے تھے کہ آج کل خوب شہری پوپٹ بچیاں دیکھ رھا ھے ۔ کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ ۔۔۔ شادا بھی انکا ساتھ برابر دے رھا تھا ۔۔ ہم ایسے ھی ایک گھنٹہ بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مزاق کرتے رھے ۔۔۔ پھر میں نے سب کو مخاطب کرتے ھوے کہا کہ کل کیا مصروفیت ھے ۔۔ شادا بولا توں حکم لا کی کرناں ایں ۔۔ میں نے کہا بندا مروانا ھے مار دیویں گا ۔۔۔ شادا شوخی سے بولا مار دیواں گے بندا وی بندے ای ماردے نے ۔۔۔ میں نے تھوڑا سنجیدہ ھوتے ھوے کہا ۔۔ یار ایک مسئلہ ھے ۔۔ تم سب کو صبح سات بجے میرے ساتھ شہر جانا ھے ۔۔ شادا بولا خیر تے ھے ۔۔ میں نے کہا ۔ یار کُش مُنڈے پھینٹنیں نے ۔ شادا بولا لے دس اے وی کوئی کم اے ۔ پھینٹ دیاں گے ۔۔ میں نے کہا بس پھینٹنے ھی ہیں سر نہیں پھاڑنے ۔ بس گُجیاں سٹاں مارنیاں نے ۔۔ سب ایک ساتھ بولے کوئی رولا ای نئی ۔۔ میں نے پھر سب کو ساری حقیقت بتائی مگر آدھی کیوں کہ ماہی کو میں نے جنید کی بہن بتایا ۔۔ شادا مجھے چھیڑتے ھوے بولا ۔ پھدی دیا توں ہمیشہ کُڑیاں پچھے ای سانوں لڑایا کر. کسی اپنے واسطے وی سانوں حکم لادیا کر۔۔ .میں نے کیا یار وہ لڑکی میری بہن جیسی ھے ایسی کوئی بات نہیں میرا دوست ھے نہ جو اس دن ہمارے ساتھ لڑا تھا جنید ۔۔ سب نے ہاں ھاں ھاں کہا ۔ میں نے کہا اب وہ میرے پاس کام کرتا ھے وہ لڑکی اسکی بہن ھے ۔ تو سب کا ھی پارا چڑھ گیا اور پھر شادے نے کہا کہ کل دو کو تم موٹر سائکل پر بٹھا لینا اور باقی کو میں ٹریکٹر پر لے چلوں گا ۔۔ میں مذید ایک گھنٹہ ادھر بیٹھا رھا اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے ۔۔ اگلے دن سب وقت پر چوک میں جمع ھوگئے میں نے دو لڑکوں کو بائک پر بٹھایا اورباقی کے چار لڑکے شادے کے ساتھ ٹریکٹر پر سوار ھوگئے ۔۔ ڈنڈے ہم نے ٹریکٹر پر ھی رکھ لیے تھے اور ہمارا دو سواریوں کا قافلہ شہر کی طرف روانہ ھوگیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہم مقررہ جگہ پر پہنچے تو جنید بھی دو لڑکوں کو ساتھ لے کر موٹرسائیکل پر پہلے ھی اس جگہ موجود تھا ۔۔۔۔ ہم سب باری باری جنید اور اسکے دوستوں سے ملے ہم جس جگہ کھڑے تھے ہماری وجہ سے وھاں کافی ہجوم سا لگ گیا تھا ۔۔۔ میں نظر اسطرف تھی جدھر سے ماہی نے آنا تھا ۔۔۔ اور ماہی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ لڑکے اس جگہ سے ھی میرے پیچھے لگتے ہیں ۔۔ مگر مجھے ابھی تک نہ تو ماہی آتی نظر آئی اور نہ ھی کوئی لڑکے ایسے نظر آے جو مشکوک ھوں ۔۔۔ میں ابھی یہ سوچ ھی رھا تھا کہ مجھے دور سے تین موٹر سائکلوں پر سوار چھ لڑکے پینٹیں پہنیں بال شال بنا کر سن گلاسس لگاے بڑے ہیرو بنے آہستہ آہستہ موٹر سائیکلوں کو چلاتے آتی جاتی لڑکیوں کو تاڑتے ھوے ہماری طرف آتے دیکھائی دیے ۔ انکو دور سے دیکھتے ھی میری چھٹی حس نے فورن کام کیا کہ ہو نہ ہو یہ سالے وہ ھی پُھکرے ہیں اور فورن میرے دماغ نے کام کیا کہ اگر انہوں نے ہمیں اکھٹے کھڑے دیکھ لیا تو سارا کام بگڑ جانا ھے ۔۔ ایک تو انکے کھڑے ھونے کی جگہ بھی یہ ھی تھی دوسرا ہم ڈشکروں کے سامنے وہ سب ابھی بچے تھے ۔۔ ۔۔۔ممی ڈیڈی بچے ۔۔۔ اور ہم سب کو ایک ساتھ دیکھ کر انکو کُھڑک جانی تھی کہ اج ساڈے کھڑکن گیاں میں نے سب کی توجہ ان دور سے آنے والے لڑکوں کی طرف دلائی اور شادے کو کہا کہ تم ٹریکٹر کو آگے لے جاو اور کچھ فاصلے پر کھڑے ھوجاو اور جنید کو بھی کہا کہ تم ٹریکٹر سے کچھ فاصلے پر کھڑے ھوجانا تاکہ انکو شک نہ ھو کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں ۔۔۔ اور اگر ان مین سے کوئی بھاگنے لگے تو جنید تم آگے سے انکو گھیر لینا اور جب تک میں نہ کہوں تب تک ان کو کچھ نہیں کہنا ۔۔۔ ہم نے جلدی سے پلان تیار کیا اور اس سے پہلے کہ وہ لڑکے ہمارے قریب پہنچتے شادا اور جنید آگے نکل گئے اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ وہیں کھڑا ھوگیا اور دوستوں کو بھی سمجھا دیا کہ تم ان کی طرف مت دیکھنا اور ہم ایسے کھڑے ھوگئے جیسے مجھے میرے دوست راستے میں راہ چلتے ملے ہوں اور ہم کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کررھے ھوں ۔۔۔ میرے دوست بیچارے پینڈوں ٹائپ اور سادہ سے میلے کپڑوں میں تھے ۔۔ .خیر وہ لڑکے سلو موشن میں بائک کو چلاتے سیٹیاں بجاتے ہمارے قریب آکر رک گئے اور باری باری تین پیچھے بیٹھے لڑکے اتر کر پینٹوں میں ہاتھ دے کر بڑے ہیرو بن کر کھڑے ہوکر ادھر ادھر دیکھ کر سکول. وکالج کی لڑکیوں کو تاڑنے لگ گئے ۔۔ ہم اپنے دھیان کھڑے باتیں کررھے تھے ۔ کہ ان میں سے ایک ہیرو ہماری طرف بڑھا اور بڑے رعب سے بولا ۔۔ اوےےے ہیلو ادھر کھڑے کیا کررھے ھو چلو کھسکو ادھر سے ۔۔ میرا ایک دوست اسکی طرف بڑھنے لگا تو میں نے اسکی کلائی کو پکڑا اور اسے روک لیا اور اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ اچھا بھائی چلے جاتیں ہیں ناراض کیوں ھورھے ھو۔۔ تو دوسرا لڑکا بھی اسکے پاس آکر بولا چلو چلو شاباش نکلو یہاں سے ۔۔۔ میں اسکی طرف دیکھتے ھوے پاوں سے ھی بائک کو چلاتے آگے کی طرف لے گیا اور دوستوں کو بھی آنے کا کہا ہم ان لڑکوں سے کافی آگے جاکر کھڑے ہوکر پھر باتیں کرنے لگ گئے میرے دوست مجھے برا بھلا کہی جارھے تھے کہ میں نے انہیں کیوں روکا ۔۔ میں نے انہیں صبر کرنے کا کہا اور جس طرف سے ماہی نے آنا تھا اسطرف دیکھنے لگ گیا۔۔۔ وہ لڑکے ابھی تک وہیں کھڑے تھے اور اپنے کام میں مصروف تھے ۔۔ کچھ ھی دیر گزری تھی ۔۔ کہ مجھے دور سے نقاب میں ماہی آتی ھوئی نظر آئی ۔۔ میں نے لڑکوں کی طرف دیکھا تو وہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے آپس میں کوئی بات کر رھے تھے اور انکا دھیان بھی ماہی کی طرف ھی تھا ۔۔ جیسے جی ماہی انکے قریب سے گزری ان میں سے ایک لڑکے نے جس نے ہمیں وہاں سے بھاگنے کا کہاں تھا اس نے ماہی پر کوئی جملہ کسا ماہی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور جب اسکی نظر مجھ پر پڑی تو میں نے انگلی منہ پر رکھ کر اسے خاموش رہنے کا کہا تو ماہی میرا اشارہ پاتے ھی آگے چلتی ھوئی ہمارے قریب پہنچی اور ماہی کے پیچھے ھی وہ سب لڑکے موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر پیچھا کرتے ھوے ماہی کے پیچھے پیچھے آنے لگ گئیے۔۔ ماہی ہم سے کچھ فاصلے پر ھی تھی کہ ان میں سے ایک موٹر سائکل سوار ماہی کے برابر آیا اور اسکے پیچھے بیٹھے لڑکے نے ہاتھ آگے بڑھا کر ماہی کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو ماہی جو پہلے سے ھی ہوشیار تھی اس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کیا اور سڑک کے کنارے پر کھڑی ھوکر انکو گالیاں دینے لگ گئی ۔ موٹر سائکل سوار نے بریک لگائی تو پیچھے بیٹھا لڑکا موٹر سائکل سے چھلانگ مار کر اترا اور ماہی کی طرف بڑھا ۔۔ ہم تینوں کھڑے یہ سب ماجرہ دیکھ رھے تھے ۔ مجھے بس اسی موقع کا انتظار تھا ۔ میں نے اپنے دونوں دوستوں کو کہا کہ تم ابھی ادھر ھی رکو اور یہ کہتے ھوے میں تیزی سے بائک کو سٹینڈ پر لگایا اور اس سے پہلے کہ وہ لڑکا ماہی کے پاس پہنچتا میں بجلی کی سی تیزی سے بھاگ کر لڑکے اور ماہی کے درمیان میں کھڑا ھوگیا۔۔۔ ماہی میرے پیچھے کھڑی تھی اور لڑکا میرے آگے ۔۔۔ لڑکے نے جب مجھے یوں کباب میں ہڈی بنتے دیکھا تو ۔۔بڑے غصے سے میری طرف دیکھا اور میرا گریبان پکڑتے ھوے بولا ۔ گانڈو تجھے پہلے بھی کہا تھا کہ ادھر سے نکل لے ۔۔۔ مگر تو سالا بیچ میں ہیرو بننے آگیا ھے ۔ جانتا نہیں مجھے کیا کہ میں کون ہوں ۔۔۔ میں نے اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ھوے کہا کہ ۔ اس لڑکی کو تنگ کیوں کررھے ھو۔۔ اس کے باقی ساتھ بھی بڑی شوخی سے مجھ اکیلے کو دیکھ کر میرے ارد گرد کھڑے ھوگئے تھے ۔۔ تو وہ لڑکا قہقہہ لگاتے ھوے میرے گریبان کو جھنجھوڑتے ھوے بولا ۔۔ کیوں تیری بہن ھے یا پھر توں اسکا ٹھوکو ھے ۔۔۔ لڑکے کی بات سنتے ھی میرا دماغ گھوم گیا اور میں نے اسکی کلائی کو پکڑا جس سے اس نے میرا گریبان پکڑا ھوا تھا ۔ اور ایک ذوردار جھٹکے سے اسکی کلائی کو مروڑا تو چٹخ کی آواز آئی جیسے اسکی کلائی کا جوڑ اکھڑ گیا ھو ۔ لڑکے کے منہ سے دلدوز چیخ نکلی اور ساتھ ھی میں نے ٹانگ فولڈ کی اور ذوردار کک اسکے پیٹ میں ماری ۔ لڑکا بلکتا ھوا پیچھے کھڑے لڑکے کے اوپر جاگرا ۔ پیچھے کھڑا لڑکا اپنی موٹر سائکل کے آگے کھڑا تھا ٹانگ کھانے والا لڑکا جب پیچھے کھڑے لڑکے کے اوپر گرا تو دونوں پیچھے بائک پر گرے اور بائک کو ساتھ لیتے ھوے سڑک پر جاگرے ۔۔ اتنے میں باقی چاروں لڑکے ممی ڈیڈی بھڑکیں مارتے ھوے مجھ پر یلغار ھوے اس سے پہلے کے لڑکے مجھ تک پہنچتے ان سے پہلے میرے دوست ان کے سر پر آ پہنچے اور ساتھ ھی ٹریکٹر اور جنید بھی آ پہنچا بس پھر انکو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں کہاں سے انکو پڑنا شروع ہوگئیں ہیں ۔۔ میں نے پھر اسی لڑکے کو گریبان سے پکڑا اور ہجوم سے باہر کھینچتا ھوا لے آیا یہ وہ ھی لڑکا تھا جس نے ماہی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی ۔ .اور جسکی کلائی کا جوڑ اکھڑا تھا۔۔۔ ماہی گبھرائی ہوئی ایک طرف کھڑی دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ۔ ان لڑکوں کی پٹائی دیکھ رھی تھی ۔ میں اس لڑکے کو کھینچتا ھوا ماہی کے سامنے لے آیا اور ماہی کے سامنے ھی اسپر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی وہ بلکتا رھا چلاتا رھا معافیاں مانگتا رھا مگر میں نے اسکی ایک نہ سنی اور مسلسل اسکی ٹھکائی کرتا رھا ۔ جب وہ لڑکا بےجان ہوکر نیچے گرا تو میں اس، پر ہاتھ نرم کیا اور اسکے پیٹ پر ایک زور دار ٹھوکر ماری تو اسکے منہ سے دلدوز چیخ نکلی اور وہ پیٹ پر ھاتھ رکھے سڑک پر لیٹیاں لینے لگ گیا۔ میں نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا تو لڑکے کے منہ سے خون اور تھوک ٹپک رھا تھا ۔ سالے کی ایک منٹ میں ساری ہیرو گری نکل گئی تھی میں نے اسکے سر کے بالوں کو جنجھوڑا اور ماہی کی طرف انگلی کرکے کہا پکڑ ہاتھ اسکا گشتی کے بچے اور پھر میں نے اسکا وہ ھاتھ پکڑا جسکا شاید جوڑ اکھڑ چکا تھا ۔۔اور اسکے ہاتھ کو پھر مروڑ کر بولا ۔ یہ ھی ہاتھ میری بہن کی طرف اٹھا یا تھا نہ ۔ لڑکا ذور ذور سے چیخ کر مجھ سے اور کبھی ماہی سے رحم کی بھیک مانگ رھا تھا ۔۔۔ میں نے کچھ دیر اسکا ہاتھ مروڑ کر رکھا لڑکا نیم بےہوشی کی حالت جا چکا تھا اور آہستہ آہستہ بول رھا تھا ۔۔ مجھے معاف کردو مجھے معاف کردو ۔ اور پھر میں نے اس کے پیٹ میں اپنا گھٹنا مارا تو لڑکا پھر بلبلاتا ھوا دھرا ھوا ۔ تو میں نے اسکی گردن کو پکڑ کر ماہی کے پیروں اسکو پھینکا اور بولا مانگ معافی اپنی بہن سے اور کہہ کہ تو میری بہن ھے ۔ لڑکا ماہی کے سکول جوگر کو ہکڑ کر انپر ماتھا رکھ کر ۔ روتے ھوے بولا ۔ آپی مجھے معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوگئی پلیز میری جان بچالیں یہ مجھے ماردے گا ۔ پلیزززز آپی آپ میری بہن ھو میری توبہ آج کے بعد کبھی بھی کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھوں گا ۔ بس ایک بار مجھے معاف کردیں ۔۔۔ ماہی کو بھی اسپر ترس آگیا اور اپنے پاوں پیچھے کرتے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے بولی بھائی چھوڑ دیں اسے بہت ھوگئی اسکے ساتھ ۔۔۔ میں نے پھر زوردار ٹھوکر اسکی ٹانگوں پر ماری تو وہ کلابازیاں کھاتا ھوا ایک طرف کو چلا گیا ۔۔۔۔اسے چھوڑ کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تومیرے دوستوں نے ان پانچوں کو مار مار کر باندر بنا دیا تھا ۔۔۔ اور شادا ان سب کومرغا بننے کا کہہ رھا ۔ شادے کے ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا پکڑا ھوا تھا ۔۔ اور پانچوں لڑکے جن کی آنکھوں پر نیل پڑے ھوے تھے مگر کمال کی مار تھی کہ خون کسی کے بھی نہیں نکل رھا تھا ۔ دوستو۔۔۔ پینڈواں دی مار تے سٹ گُجی ہُندی اے ۔ جدیاں پیڑاں بڑھاپے وچ وی نکل پیندیاں نے ۔۔۔ میرے دوستوں نے ایسا ھی کچھ ان پانچوں کا حال کیا تھا سر اور منہ چھوڑ کر انکے نچلے دھڑوں پر ڈنڈے برسائے تھے ۔۔۔ لڑکے سڑک پر لیٹیاں لے رھے تھے اورکوئی اپنے بازو کو تو کوئی اپنی ٹانگوں کو پکڑے روئی جارھے تھے ۔۔ انکی ساری ہیرو گیری نکل چکی تھی ہیرو سے اب مٹی کے باندر بنے ھوے تھے ۔۔ شادا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے باری باری سب کو مار کر انکو کان پکڑنے کا کہہ رھا تھا۔۔ میں نے ماہی کو کہا چلو تمہیں پہلے کالج چھوڑ آوں ۔ ماہی سر جھکائے میرے پیچھے چل دی میں نے بائک پکڑی اور دوستوں کو انکے حال پر چھوڑ کر ماہی کو پیچھے بٹھایا اور کالج چھوڑ کر واپس اسی جگہ پہنچا تو ۔۔ سب لڑکے کان پکڑے سڑک پر مرغا بن کر چل رھے تھے اور شادا انکی گانڈ پڑ باری باری ڈنڈے برسا رھا تھا ۔۔ چاروں طرف کافی لوگ جمع تھے اور ان کا تماشا دیکھ رھے تھے ۔۔۔ میں نے وہاں پہنچتے ھی سب کو نکلنے کا کہا کہ بس اتنا ھی کافی ھے ۔ .اور پھر شادے نے باری باری پانچوں کو ٹھڈے مارے اور میں نے جنید کا شکریہ ادا کیا اور پھر باقی دوستوں کو لے کر گاوں کی طرف چل دیا گاوں پہنچ کر میں نے سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر وہیں سے واپس شہر آیا ایک حمام سے اپنا حلیہ درست کیا اور وہاں سے سیدھا ضوفی کہ گھر پہنچا ۔۔ تو ضوفی بولی یاسر اتنی دیر کہاں لگا دی ماہی کب کی کالج گئی ھے ۔ اور تم اب آرھے ھو. ۔میں نے جان بوجھ کر حیران ھوتے ھوے کہا۔ اچھااااااااا تم نے اسے اکیلی کو کیوں جانے دیا۔۔۔ ضوفی بولی ۔ وہ کہہ رھی تھی کہ تم اسے راستے میں ملو گے ۔۔۔ میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں آجاے گی کچھ نہیں ھوتا۔۔۔ ضوفی بولی یاسر میرا دل گبھرا رھا، ھے چلو پہلے ماہی کے کالج چلتے ہیں ۔۔ میں نے بھی جلدی سے کہا ہاں ہاں چلو چلو ۔۔۔ اور ضوفی بھاگتی ھوئی باہر کی طرف لپکی اور میں مسکراتا ھوا اسکے پیچھے باہر نکلا ۔۔۔ کہ اچانک ضوفی کی نظر میری مسکراہٹ پر پڑی تو مجھے گھورتے ھوے بولی ۔ میری جان پر بنی ھوئی ھے اور تم دندیاں نکال رھے ھو ۔۔ میں نے کہا تم نکال لو تمہیں کسی نے روکا ھے ۔۔ ضوفی بولی یاسر قسم سے میں مزاق، کے موڈ میں نہیں ھوں میرا دل گبھرا رھا ھے ۔۔۔ میں نے کہا چلو کسی جوا کارنر پر تمہیں جوس پلاتا ھوں ۔۔۔تمہارے دل کی گبھراہٹ ختم ھو جاے گی ۔۔۔ ضوفی پیر پٹختے ھوے بائک کے قریب پہنچی اور انگلی کے اشارے سے حکم صادر کرتے ھوے بولی ۔ ہاسر چپ کر کے کالج کی طرف چلو۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا کیوں اب کالج میں اڈمیشن تو نہیں لے لیا۔۔ میرے ہنسنے اور بےجا مزاق کرنے پر ضوفی چونکی اور میری طرف گھورتے ھوے بولی ۔ تم ماہی کو کالج چھوڑ کر آے ھو ناں ۔۔ میں نے لاپروائی سے جواب دیتے ھوے کہا ۔۔ ی ہاں ۔۔ ضوفی بائک پر بیٹھتے ھوے میری کمر تھپڑ مارتےھوے بولی ۔۔ گنداااااااا۔ پہلے کیوں نہیں بتایا ۔ ایسے میں میرا کلو خون کم کر کے رکھ دیا۔۔۔ میں نے بائک سٹارٹ کی اور گئیر لگا کر جھٹکے سے کلچ چھوڑا تو ضوفی نے ایکدم پیچھے سے مجھے جپھی ڈالتے ھوے کہا۔۔۔ بتمیززززززز میں ابھی گرنے لگی تھی ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا۔ میں اپنی جان کو گرنے دیتا ھوں ۔۔۔ تو ضوفی میرے کندھے پر سر رکھتے ھوے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھے بولی ۔ یاسر نہ تنگ کیا کرو ۔۔ تم بہت بگڑ گئے ھو۔۔ میں نے کہا تم نے ھی تو بگاڑا ھے ۔۔ ضوفی میرے پیٹ کو اپنی نرم انگلیوں سے سہلاتی ھوئی بولی ۔ وہ کیسے جی ۔ میں نے کہا دور رھ رھ کر اور ترسا ترسا کر ۔۔۔ ضوفی میرے پیٹ پر چٹکی کاٹنتے ھوے بولی شوخے جب بھی موقع ملتا ھے تم باز آتے ھو پھر بھی ایسی باتیں کررھے ھو۔۔ میں نے کہا ۔ اتنے تھوڑے ٹائم میں تو تمہیں دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملتا باقی تو اور کیا کرنا میں نے ۔۔ .ضوفی میری کمر پر ٹکر مارتے ھوے بولی ۔ اور کیا کرنا ھے تم نے ۔۔ میں نے کہا جب موقع دو گی تب پتہ چلے گا۔۔۔ ضوفی بولی تو پھر جلدی سے امی کو ہمارے گھر بھیج دو ۔ اور جلدی سے شادی کرلو پھر جو چاھے کرلینا ۔۔۔میں نے لمبا سا سانس لے کر چھوڑا اور بولا ۔ پتہ نہیں وہ حسین رات کب آنی ھے ۔۔ ضوفی تھوڑا سنجیدگی سے بولی ۔۔ اتنے جلد باز مت بنو پہلے سٹینڈ ھوجاو پھر شادی بھی کرلیں گے ۔ میں نے جلدی سے ضوفی کا ہاتھ پکڑا اور پیٹ سے ہٹا کر اہنے لن پر رکھتے ھوے کہا یہ دیکھو تمہیں دیکھتے ھی تو سٹینڈ ھوجاتا ھے اب اور کتنا سٹینڈ کرنا ھے ۔۔۔۔ضوفی نے ذور سے میرے لن کو دبایا اور شرمندہ سی ھوکر ہاتھ جلدی سے واپس کھینچا اور میری کمر پر ذور سے مکا مارا اور بولی ۔ گندااااا جاو میں نہیں بولتی تم سے ۔۔۔۔میں نے ہنستے ھوے ضوفی کا ہاتھ پکڑ کر واپس اپنے پیٹ پر رکھا مگر ضوفی نے پھر واپس ہاتھ کھینچ لیا ۔ ایسے ھی شرارتیں کرتے ہم دکان پر پہنچے ۔ جنید ابھی تک دکان پر نہیں آیا تھا، ضوفی پارلر پر چلی گئی ۔ تو میں نے دکان کھولی اورصفائی وغیرہ کرنے میں مصروف ھوگیا ۔۔ کچھ دیر بعد جنید بھی دکان پر آگیا۔۔ جنید آتے ھی مجھ پر برس پڑا ۔ اور سٹک پکڑ کر مجھے مارنے کے لیے میرے پیچھے بھاگا ۔۔ میں بھاگتا ھوا، کاونٹر کے پیچھے چلا گیا اور بولا یار ھوا کیا ھے بتاو تو سہی ۔ جنید بولا ماما میری کیڑی پین اے جنوں او منڈے چھیڑدے سی ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا اچھاااا تو یہ بات ھے ۔ تمہیں کس نے کہا ھے کہ میں نے یہ کہا ھے ۔۔ جنید پھر میری طرف سٹک لہراتے ھوے بولا ۔ ماما جناں نو نال لے کے آیا سی اوناں نوں کی کیا سی کہ او میری پین نوں چھیڑدے سی تے ایس لئی اوناں نو ماریا اے ۔۔۔ میں قہقہے لگا کر ینسنے لگ گیا ۔ تو جنید مذید چڑ گیا اور میری ٹانگوں پر آہستہ سے سٹیکیں مارنے لگ گیا ۔۔ کچھ دیر ایسے ھی ہنستے رھے پھر میں نے کہا یار تیری پین تے میری پین وچ کوئی فرق اے جنید بولا ماما او تے تیری سالی اے ۔ میں نے کہا بیشک یار مگر پھر میں اسے اپنی بہن ھی سمجھتا ھوں ۔۔ پھر جنید بھی کچھ رلیکس ھوا اور بولا ٹھیک ھے یار ودائی جا میریاں پیناں ۔۔۔ میں نے کہا چل کوئی نہ یار اے بس آخری پین ای سمجھ ۔۔ پھر ہم ان لڑکوں کی چھترول کے بارے میں، باتیں کر کر کے ہنسنے لگ گئے ۔۔ کچھ دیر بعد کسٹمرز آنے شروع ھوگئے اور ہم دونوں کام میں مصروف ھوگئے ۔۔۔ رات کو دکان بند کی اور میں ضوفی کو ساتھ لے کر گھر پہنچا ۔۔ تو ماہی بڑی خوش تھی جبکہ آنٹی کافی پریشان تھی ۔۔ ماہی بھاگتی ھوئی ضوفی کے گلے ملی اور پھر ساری لڑائی حرف بحرف مزے لے لے کر ہاتھ پاوں مارتے ھوے سنانے لگ گئی ۔۔۔ جبکہ ضوفی کا رنگ بدلتا گیا ۔۔ اور پھر میری طرف دیکھتے ھوے غصے سے بولی ۔ جناب اتنا کچھ کر آے اور مجھے بھنک بھی نہ لگنے دی ۔۔ یاسر تم باز آجاو کیوں میری جان لینی ھے ۔ کیوں ایسے دشمنیاں بڑھا رھے ھو ۔ پتہ نہیں وہ لڑکے کون تھے اور اب وہ بدلہ نہ لیں ۔ اور پھر ماہی پر ضوفی بھڑک اٹھی اور اسے بولنے لگ پڑی کہ اب سکون مل گیا تمہیں مجھے پہلے ھی اسی بات کا ڈر تھا اسی لیے تمہیں منع بھی کیا تھا کہ اس پاگل کو نہ بتانا ۔ ورنہ یہ انکو جان سے مارنے پر اتر آے گا مگر تمہارے رونے ھی نہیں ختم ھوے اور نتیجہ دیکھ لیا وہ ھی ھوا نہ جسکا ڈر تھا ۔۔ .میں نے کہا ضوفی اب بس بھی کرو اس بیچاری کا کوئی قصور نہیں اگر انکی طنعیت صاف نہ ھوتی تو وہ سالے پُھکرے اس کو روز تنگ کرتے اور آج بھی میری آنکھوں کے سامنے انہوں نے اسکو تنگ کیا اور اسکا ھاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔ میں نے تو پھر بھی اسے پیار سے سمجھایا کہ بات نہ بڑھے مگر اس نے آگے سے گندی گالی دے دی باس پھر ۔۔۔۔ ضوفی میری بات کاٹتے ھوے بولی ۔ پھر جناب پر جن نازل ھوگیا ھوگا اور مار دھاڑ شروع کردی ھوگی۔۔ میں نے کہا تو بتاو اور میں کیا کرتا ایک بھائی کے سامنے اسکی بہن کا سرے بازار ھاتھ پکڑا جاے اور پھر منع کرنے پر آگے سے گالی سننے کو ملے تو ۔ پھر میرا مرنا ھی بہتر تھا اگر کچھ کرتا نہ ۔ ضوفی نے جلدی سے میرے منہ پر ھاتھ رکھا اور بولی ۔ مریں تمہارے دشمن ۔ یاسر میں تو یہ کہنا چاھ رھی تھی کہ ایسے دشمنی بڑھتی ھے ۔ میں نے کہا بڑھتی ھے تو بڑھنے دو دیکھ لوں گا جو بھی ھوا ۔ مگر میری غیرت زندہ ھے بےغیرت نہیں ھوں میں ۔ شکر کرو کہ وہ لڑکا بچ گیا جس نے میری بہن کا ہاتھ پکڑا تھا ابھی تو اسکا وہ ھاتھ ھی ٹوٹا تھا ۔ جان سےنہیں گیا ۔۔ ضوفی نے دونوں ھاتھ منہ پر رکھتے ھوے کہا ہووووووو ھاےےےےےے میں مرگئی ۔۔ یاسر تم نے اسکا ھاتھ توڑ دیا ۔۔ تو ماہی بڑی شوخی سے سٹائل بنا کر بتاتے ھوے بولی ۔ آپی اس نے بھائی کا گریبان پکڑا تو بھائی نے ایسے کر کے ایک ھی جھٹکے میں اسکی کلائی مروڑ دی اور اسکا ہاتھ ٹُنڈا ھوگیا اور پھر ماہی نے ٹنڈے کی ایکٹنگ کرتے ھوے کہا پھر وہ ایسےایسے چلتا ھوا میرے قدموں میں گر کر مجھ سے معافی مانگنے لگ گیا ۔۔ باجی اک واری معاف کردے باجی مینوں معاف کردے ۔۔ ضوفی ہنستے ھوے بولی ٹھہر بتاتی ھوں تجھے کیسے چسکے لے لے کر نقلیں اتار رھی ہے ۔۔ ضوفی ماہی کو مارنے کے لیے اسکے پیچھے بھاگی تو ماہی بھاگتی ھوئی سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی ۔۔ .2 آنٹی میرے پاس آئی اور میرے سر پر پیار دے کر میرا ماتھا چوما اور اپنے آنسو صاف کرتے ھوے بولی یاسر بیٹا مجھے آج تم پر فخر ھورھا ھے کہ تم اس گھر کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے ھو بیٹا مجھے اب اپنی بیٹیوں کی فکر نہیں تم جیسا بیٹا مجھے مل گیا مجھے اور اب کسی چیز کی ضرورت نہیں اوپر والا تیری لمبی عمر کرے اور ہر بلا سے محفوظ رکھے اور نظر بد سے بچاے میرے بچے کو ۔۔ آنٹی کی شفقت اور محبت دیکھ کر میں نے آنٹی کو گلے لگا لیا اور آنٹی کے سر پر بوسا لیا اور بولا ۔ آنٹی جی میں اسے اپنا گھر سمجھتا ھوں اور میرے ھوتے ھوے اس گھر کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ کچھ دیر میں آنٹی اور ضوفی سے باتیں کرتا رھا جبکہ ماہی اوپر چلی گئی تھی ۔ اور پھر میں ان سے اجازت لے کر نکلنے لگا تو آنٹی اور ضوفی مجھے دروازے تک چھوڑنے آئیں اور نصیحتیں کرتے ھوے مجھے اجازت دی ۔ ضوفی بار، بار دھیان سے جانا دھیان سے جانا کہے جارھی تھی ۔ میں ادھر سے نکلا اور سیدھا گاوں آیا گھر داخل ھوا تو سامنے عظمی اور نسرین کا دیدار ھوا ۔ سلام دعا اور حال احوال پوچھنے کے بعد پتہ چلا کہ آنٹی اور انکل لاہور چلے گئے ہیں ۔۔ اور ان دونوں کو ہمارے گھر چھوڑ گئے ہیں ۔۔ میں نے کھانا وغیرہ کھایا اور پھر باہر نکل گیا عظمی اور نسرین سے کوئی خاص بات نہ ھوئی ۔ باہر نکل کر میں چوک کی طرف چلا گیا اور وہاں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مزاق اور آج کی کاروائی پر باتیں کرتے ھوے گھنٹہ گزگیا گیا اور پھر میں ان سے اجازت لے کر گھر آیا ۔۔ تو عظمی نسرین اور نازی بیٹھی گپیں لگا رھی تھیں ۔۔۔ عظمی اور نسرین کی آپس میں کسی بات پر بحث ھورھی تھی ۔ میں بھی جاکر ان کے بیچ بیٹھ گیا تو ۔ پتہ چلا کہ انکے لیے بستر عظمی کے گھر سے لانے ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی اکیلی جانے کے لیے تیار نہیں ۔ مجھے دیکھ کر نازی بولی لو جی بھائی آگیا ھے جاو نسرین بھائی کے ساتھ جاکر لے آو ۔۔۔ میں نے کہا کیوں ہمارے گھر میں بستر نہیں ہیں کیا ۔ تو نازی بولی بستر پیٹی میں نیچے پڑے ہیں بس ایک کھیس ھی لا نا ھے اور کچھ نہیں میں نے کہا مجھ سے نہیں جایا جاتا خود لے آے جاکر یا تم چلی جاو اس کے ساتھ ۔ تو نازی بولی نہ بابا مجھے تو ڈر لگتا ھے اندھیرے میں۔۔ اور گھر بھی خالی ھے ۔۔ تو میں نے کہا کیوں چڑیلیں میری کون سا واقف ہیں جو مجھے کچھ نہیں کہیں گی ۔ تو امی کی آواز میرے کانوں میں پڑی جا یاسر پتر پین دے نال چلا جا ۔ کش نئی ہوندا ۔۔۔ میں نے مجبوری سے ہممممم کہا اور نسرین کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ چلوووووو جی ۔۔۔۔ نسرین نے گھر کی چابی پکڑی اور میرے ساتھ اپنے گھر کی طرف چل پڑی راستے میں ہماری کوئی بات نہ ھوئی بلکہ میں اس سے ایک قدم آگے ھی چل رھا تھا ۔۔ دروازے پر پہنچے تو انکے لکڑی کے دروازے کی سنگلی والی کنڈی اوپر کی طرف لگی ھوئی تھی اور تالا بھی دیسی لگا ھوا تھا جو چابی گھمانے سے کھلتا تھا گلی میں گُھپ اندھیرا تھا ۔۔۔ نسرین دروازے کے پاس پہنچ کر ایڑیاں اٹھا کر تالے میں چابی پھنسانے کی کوشش کررھی تھی مگر اسکا ھاتھ سہی طرح سے پہنچ نہیں رھا تھا ۔ میں الجھن میں کھڑا تھا اور اسے دیکھ کر مجھے غصہ چڑھی جارھا تھا ۔۔۔ آخر مجھ سے انتظار کرنا برداشت نہ ھوا اور میں آگے بڑھا اور نسرین کے پیچھے جاکر ھاتھ اوپر کر کے اس کے ہاتھ سےچابی پکڑ کر تالے میں ڈال دی نسرین یوں مجھے اپنے قریب دیکھ کر گبھرا کر پیچھے ہٹی تو اسکی ابھری گانڈ میرے ساتھ لگ گئی ۔۔ نسرین کی گانڈ کا لمس اپنی رانوں پر محسوس کرتے ھی ۔ میرے اندر عجیب سی. کیفیت پیدا ھوئی اور میں بھی ایک دم کانپ گیا ۔ نسرین کی گانڈ تھی ھی بڑی نرم ۔ نسرین جلدی سے آگے کو ہوئی اور میرے بازوں کے نیچے سے نکل کر میرے آگے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑی ھوگئی ۔ میں نے خود پر کنٹرول کرتے ھوے تالا کھولا اور نسرین کی طرف دیکھتے ھوے کہا۔۔ بندا کنڈی تے اپنے قد دے حساب نال لواوے۔۔ نسرین بولی ۔ ایڈا توں اونٹ رہندا نئی میں نے دروازہ کھولتے ھوے کہا ۔ اونٹ ہی ہوں تمہارے حساب سے اور ہم دونوں اندر داخل ھوگئے میں نے دروازہ بند کردیا اور نسرین کے پیچھے کمرے میں جانے لگ گیا ۔ نسرین کمرے کا تالا کھول کر اندر داخل ھوئی اور سامنے لگیے کڑی کے پھٹے پر سے کپڑا اٹھا کر نیچے ھاتھ مار مارکر کچھ تلاش کرنے لگ گئی ۔۔ میں نے جھنجھلا کر کہا اب ادھر کیا تلاش کررھی ھو ۔ تو نسرین نے غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ دو منٹ صبر نہیں ھوتا ۔ آتے ھی جلدی پڑ گئی ھے ۔ چابی تلاش کررھی ھوں ۔ میں نے کہا اب کونسی چابی ڈھونڈ رھی ھو ۔ تو نسرین سڑی بھلی بولی ۔ تیرے دماغ دی چابی ۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔ تمہارے دماغ کو تو چابی کی ضرورت ھی نہیں گوبر کو کھول کر بدبو ھی آنی ھے ۔ نسرین میری بات سن کر پیر پٹخ کر رھ گئی اور بولی ۔ گلاں سنان وچ تے توں پورا مراثی ایں ۔۔ میں نے پھر چوٹ کی ۔ ہاں جی گوانڈیاں دا اثر اے ۔۔ نسرین میری طرف مکا لہر کر آئی اور میرے قریب آکر بولی بوتھی پن دیواں گی مُکی مار کے ۔۔۔ میں نے نسرین کی نازک کلائی پکڑی اور اسکا بازو مروڑ کر اسکی کمر کے ساتھ لگا دیا نسرین بولی ھائییییییییی چھڈ میری باں ٹُٹ جانی اے ۔۔ میں نے کہا بس نکل گئی پلوانی ۔ نسرین بولی یاسر چھوڑ دو میرا بازو قسم سے بہت درد ھورھی ھے ۔ میں نے کہا اب لڑو گی میرے ساتھ نسرین بولی ۔ نہیں لڑتی قسم سے چھوڑ دو آئییییییییی امی جی ییییییی۔ میں نے نسرین کا بازو چھوڑا تو نسرین جلدی سے اپنے بازو کو پکڑ کر دباتے ھوے مجھے گھورتے ھوے بولی ۔ ایک دفعہ گھر چلو میں خالہ کو بتاوں گی کہ تم نے میرا بازو مروڑا ھے ۔۔ میں نے کہا نہ پہلے پنگے لیا کرو ۔ نسرین بولی میں نے کیا کہا تھا ۔ میں نے بات ختم کرتے ھوے کہا چلو اب جلدی سے چابی لو اور بستر لو جونسے لینے ہیں میرے پاس تمہاری فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ھے ۔ نسرین بولی ھاں جی اب وقت کہاں ھوگا ۔ اب تم امیر جو ہوگئے ھو اب تو ٹائم لے کر تم سےبات کرنا پڑے گی ۔۔ میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتےھوے کہا ۔ اوووہو یار ایسی بات نہیں ھے میں سارے دن کا تھکا ہوا ھوں نیند آرھی ھے اس وجہ سے کہہ رھا ھو ۔۔ نسرین پھر پھٹے پر چابی تلاش کرنے لگ گئی میں آگے بڑھا اور کپڑا اٹھا کر چابی دیکھنے لگ گیا اور پھر نسرین کو ھی چابی مل گئی اور ۔ بولی چلو دوسرے کمرے میں پیٹی سے کھیس اور چادر نکالنی ھے ۔ میں نے کہا چلو جی ۔ نسرین نے ہلکے رنگ کا سوٹ پہنا ھوا تھا اور شفون کا باریک دوپٹہ لیا ھوا تھا ۔ نسرین میرے آگے چلتے ھوے کمرے سے نکلی تو میری نظر نسرین کی گول مٹول باہر کو نکلی گانڈ پر پڑی جو اسکے تیز تیز چلنے کی وجہ سے تھرتھراتے ھوے اوپر نیچے ھو رھی تھی اور اسکی گانڈ کی پھاڑیاں اوپر نیچے ھوتے وقت اسکی قمیض کو بھی ساتھ ھی اوپر نیچے کررہیں تھی ۔ میں اسکی گانڈ کو تاڑتا ھو اسکے پیچھے صحن میں نکلا ۔ نسرین کی سیکسی گانڈ اور 38 سائز کے ممے جو اسکی قمیض کو پھاڑ کر باہر نکلنے کے لیے بےتاب تھے ۔ دوسالوں میں نسرین کا جسم کافی سیکسی بن چکا تھا پہلے تو اسکے ممے چونتیس کے تھے ۔ مگر اب تو اسکی جوانی پاٹنے کو آئی ھوئی تھی ۔ ایک اسکی جوانی کے نظارے اوپر سے یہ سالی خلوت ۔ انسان پر سب سے کامیاب حملہ شیطان خلوت میں کرتا ھے ۔ چاہے انسان کسی بھی حالت میں ھو ۔ اور میرے دماغ پر نسرین کی جوانی سوار ھونے لگ گئی اور پھر شیطان نے میرے دماغ میں اس رات کا سین لے آیا جب غلطی سے میں نے نسرین کے ممے پکڑ لیے تھے اور پھر اسکو پھسلانے کے لیے چال بھی چلی تھی جو میری مصروفیت اور موقعہ نہ ملنے کی وجہ سے ادھوری رھ گئی تھی. ۔ خیر میں نسرین کے پیچھے چلتا ھوا دوسرے کمرے کی طرف چل دیا کمرے کے دروازے پر پہنچ کر نسرین نے تالا کھولا اور اندر داخل ھوکر لائٹ جلائی اور پھر پیٹیوں کی جانب جانے لگی میرا تو حلق خشک ھورھا تھا اور میں اندر سے گبھرا بھی رھا تھا اور شیطان مجھے نسرین سے بات کرنے پر اکسا رھا تھا ۔ میں بار بار اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رھا تھا ۔ نسرین میرے ارادوں سے بے خبر اپنے دھیان پیٹی کھول کر اس میں سے کھیس تلاش کررھی تھی ۔ میں نے حوصلہ کیا اور نسرین کے پیچھے پہنچ کر کھڑا ھوگیا اور پیٹی کے ڈھکن کو پکڑ لیا نسرین میرے آگے کھڑی پیٹی میں جھکی ھوئی تھی اور اس نے ایک ھاتھ سے پیٹی کا ڈھکن پکڑا ھوا تھا اور پیٹی میں ہلکا سا جھک کر ہاتھ نیچے لیجا کر کھیس تلاش کررھی تھی ۔ میں نے جب پیٹی کے ڈھکن کو پکڑا تو نسرین ایکدم چونکی اور گردن گھما کر میری طرف دیکھا ۔ تو میں نے کہا تم آرام سے دیکھ لو میں ڈھکن کو پکڑ کر رکھتا ہوں ۔ نسرین بنا کچھ بولے ڈھکن کو چھوڑ کر پیٹی میں جھکی تو اسکی گانڈ مذید باہر کو آگئی ۔ میں نسرین کی سیکسی گانڈ کو دیکھ کر پاگل ھوا جارھا تھا ۔ اور وہ بھی اتنے قریب سے میرالن ٹراوز میں پورا تن کر ٹراوزر کو تمبو بناے نسرین کی گانڈ کو چھونے کے لیے بے چین تھا ۔ میں آگے کو ھونے سے ڈر رھا تھا ۔ کہ اچانک نسرین کھیس اٹھا کر پیچھے ھوئی تو اسکی گانڈ میرے لن کے ساتھ ٹکرائی اور اسکی گانڈ کی دراڑ میں میرے لن کا ابھار گھس گیا نسرین کے جسم کو ایک دم جھٹکا لگا اور وہ جلدی سے آگے کو ھوگئی ۔ نسرین نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ اسکی گانڈ کے ساتھ کیا چیز ٹکرائی ھے ۔ اب اسے پتہ چلا تھا یا نہیں ۔ I don't know مگر اسکی گانڈ کا لمس مجھے پاگل کرگیا تھا ۔ اگر مجھے ڈر نہ ھوتا تو میں نے ابھی ڈھکن چھوڑ کر نسرین کی شلوار اتارکر لن اسکی گانڈ میں اتار دینا تھا ۔ مگر مجبوری تھی کہ میں اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا تھا۔ اور ذبردستی کرنا ویسے بھی میرے کاغذوں میں نہیں لکھا تھا۔ اپنا تو زندگی کا ایک ھی اصول تھا کہ ۔راہ جاتی چھوکری کو چھیڑنا نہیں اور جو چھوکری اپن کو چھیڑے اسکو چودے بغیر چھوڑنا نہیں ۔۔۔ میں نے اپنے آپ پر کنٹرول کرتے ھوے لرزتی آواز میں نسرین سے پوچھا کہ مل گیا کھیس تو نسرین نے کھیس مجھے پکڑاتے ھوے کہا بس ایک چادر لینی ھے ۔ میں نے کھیس پکڑ کر اپنی بغل میں لے لیا اور نسرین کو کہا جلدی کرو یار دیر ھورھی ھے ۔ نسرین بولی پیٹی میں اندھیرا ھے بس دومنٹ ۔۔ اور نسرین پھر پیٹی میں جھک کر چادر ڈھونڈنے لگ گئی ۔ میں نے کہا لگتا ھے تمہیں اٹھا کر پیٹی کے اندرپھینکنا پڑے گا پھر چادر جلدی مل جاے گی ۔۔ نسرین ہنستے ھوے بولی ۔ تمیزز نال ۔ اتنی جرات ھے کہ مجھے اٹھا کر پیٹی میں پھینک دو میں نے کہا۔ کچھ دیر پہلے کی چیخیں بھول گئی ھو ۔۔ نسرین بولی بس بس آیا وڈا ٹارزن ۔ میں نے موضوع بد لتے ھوے پھر سے نسرین پر ٹرائی مارنے کا سوچا اوربولا ۔ نسرین ایک بات پوچھوں نسرین پیٹی سے چادر باہر کھینچتے ھوے پھر میرے لن کے ساتھ گانڈ لگا کر پھر جلدی سے آگے کو ھوکر گھوم کر میری طرف منہ کرکے بولی ۔ ھاں بولو ۔۔ میں نے پیٹی کا ڈھکن واپس رکھتے ھوے بولا ۔ یار وہ جو میرا دوست تھا اسد جس کے ساتھ عظمی کا چکر تھا وہ دوبارا تو نہیں ملا تم دونوں کو ۔۔۔ نسرین ایکدم چونکی اور چادر کو تہہہ کرتے ھوے سر نیچے کیے بولی ۔ ننننہیں مگر تم کیوں پوچھ رھے ھو ۔ میں نے کہا یاد ھے نہ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ اس دن باغ میں جو میں نے دیکھا تھا وہ ۔۔۔۔۔۔۔ نسرین بولی ۔تم نے کون سا پوری بات بتائی تھی ۔۔ میں نے کہا یار میں ڈر گیا تھا کہ کہیں تم آنٹی یا انکل سے بات نہ کردو اس وجہ سے میں نے ساری بات نہیں بتائی تھی ۔۔ تو نسرین بولی میں پاگل ھوں جو یہ بات ابو یا امی سے کرتی میں نے چھتر کھانے ہیں ۔۔۔ میں نے کہا پکا کہ تم کسی سے بات نہیں کرو گی ۔۔ نسرین بولی میں زبان کی پکی ھوں ایک دفعہ کہہ دیا نہ ۔۔۔۔ میں نے کہا بیٹھو پھر آج تمہیں ساری حقیقت بتاتا ھوں ۔ یہ کہتے ھوے میں نے نسرین کو بازوں سے پکڑا اور چارپائی پر بٹھا دیا اور خود اسکے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔ نسرین میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ بولو بھی اب کہ کوئی ہمارے پیچھے ادھر آگیا تب بتاو گے ۔ میں گلہ کھنگارہ اور نسرین کا نرم نازک ھاتھ پکڑا اور ۔۔۔۔۔۔
  12. 3 likes
  13. 3 likes
    happy new year my all brothers update.. .کچھ دیر بعد پھر کسٹمرز کی آمد شروع ہوگئی رات آٹھ بجے میں نے دکان بند کی ۔۔ ضوفی اب میرے ساتھ دکان بند ہونے کے بعد ھی جاتی تھی ۔ میں نے ضوفی کو بائک پر بیٹھایا اور ضوفی کے گھر کی طرف چل دیے ۔۔۔ ضوفی کام کے بارے میں پوچھتی رہی کہ آج کا دن کیسا رھا ۔۔ میں نے شکر ادا کرتے ھوے کہا کہ بہت اچھا رھا ۔۔۔ باتوں کے دوران ھی ضوفی کا گھر آگیا ۔۔ میں ضوفی کو ڈراپ کر کے آنے لگا تو ضوفی بولی یاسر ۔ کل ماہی کی برتھ ڈے ہے اگر تم آنٹی اور نازی کو لے آو ۔۔۔ میں نے کہا میں وعدہ نہیں کرتا مگر کوشش کروں گا اگر ابو نے اجازت دے دی ۔۔۔ ضوفی بولی ۔۔۔ اگر کہو تو میں تمہارے ساتھ جاکر ابو کو منا لیتی ہوں ۔۔ میں نے کہا۔۔ نننہیں نہیں کیوں مروانا ھے ابو سے ابھی بات نہیں ھوئی تمہارے اور میرے رشتہ کی اور تم یوں میرے ساتھ گئی تو تمہیں نہیں پتہ کہ ہماری گلی کے لوگوں کے ھی منہ نہیں بند ہونے ۔ اور تمہارے بارے میں کوئی بات کرے گا تو مجھ سے برداشت نہیں ہونا۔۔۔۔ اس لیے میں کوئی نہ کوئی بہانہ مار کر امی اور نازی کو لے آوں گا ۔۔۔ ضوفی بولی ٹھیک ھے جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔ میں نے بائک اسٹارٹ کی اور ۔ گاوں کی طرف چل دیا۔۔۔۔ گھر پہنچا فریش ہونے کے بعد امی سے ماہی کی سالگرہ کی بات کی تو امی نے بھی ابو کے ناراض ہونے کا عذر پیش کیا ۔میں نے بہت کوشش کی کہ امی مان جاے مگر امی نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جب تک تمہارے رشتے کی بات تمہارے ابو سے نہیں کر لیتی تب تک ان کے ہاں آنا جانا ممکن نہیں اگر دن کا وقت ہوتا تو شہر جانے کا کوئی بہانہ بنا لیتی مگر رات کا فنکشن ھے ۔ تمہارے ابو نے کسی حال میں بھی اجازت نہیں دینی ۔ تم اکیلے چلے جاو ۔۔ اور ان لوگوں سے میری طرف سے معذرت کر لینا۔۔ میں نے بھی پھر ذیادہ اصرار نہیں کیا ۔۔ اگلے دن سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ضوفی آنٹی اور ضوفی نے امی لوگوں کا پوچھا کہ رات کو آئیں گے کے نہیں میں نے امی کی طبیعت خراب ھونے کا بہانہ بنا کر آنٹی سے معذرت کی ضوفی کافی ناراض ھورھی تھی اور مجھے بولی جارھی تھی کہ تم جان بوجھ کر نہیں لے کر آے وغیرہ وغیرہ ۔۔ میں نے کافی صفائیاں دینے کے بعد اسکو مطمئین کرلیا کچھ دیر بعد میں ضوفی کو ساتھ لے کر دکان پر آیا ۔۔۔ اور ضوفی نیچے پارلر پر چلی گئی اور میں دکان کھولنے میں مصروف ہوگیا ۔ جنید ابھی تک نہیں آیا تھا ۔ میں نے دکان کھولی اور صفائی وغیرہ میں مصروف ھوگیا ۔ کچھ دیر بعد جنید بھی آگیا ۔۔ جنید نے آتے ھی مجھے بتایا کہ میں نے اپنی کزن کو اکری کی معلومات کے بارے میں لگا دیا ھے دو تین دن میں ساری رپورٹ مل جاے گی ۔۔۔ میں نے جنید کا شکریہ ادا کیا ۔ اور پھر ہم سیٹنگ وغیرہ میں مصروف ھوگئے۔۔۔ کچھ دیر بعد کسٹمرز کی آمد شروع ھوگئی آدھا دن کام میں ھی گزر گیا ۔ دوپہر کو میں سامنے والی دکان پر گیا اور ان سے کمیٹی ڈالنے کی بات کی تو پتہ چلا کہ اگلے مہینے نئی کمیٹی شروع ھونی ھے ۔ دوستو اصل میں میرا ذہن تھا کہ کمیٹیاں ڈال کر ضوفی کے پیسے جتنی جلدی ہوسکے واپس کردوں ۔ اس لیے میں نے سامنے والے انکل سے بات کی کیوں کے وہ بڑی کمیٹیاں ڈالتے تھے تو میں نے ان سے اپنی ایک کمیٹی رکھنے کا اڈوانس کہہ دیا کمیٹی ایک ہزار روزانہ کی تھی اور ایک سال کی کمیٹی تھی تین لاکھ ساٹھ ہزار کی ۔ میں نے یہ بات بھی سب سے چھپا کر ھی رکھنی تھی کہ میں نے کمیٹی ڈالنی ھے ۔۔۔ خیر سامنے والے انکل سے میں بات پکی کر کے واپس بوتیک پر آیا ۔۔ اورجنید کو کھانا لینے بھیجا اور خود دکان کے اندر ھی بیٹھ کر گلاس ڈور سے باہر دیکھنے لگ گیا ۔۔۔ سکول و کالج کی چھٹی کا ٹائم تھا ۔ لڑکیاں گزرنا شروع ھوگئیں ۔۔۔ اور جس بات کو میرا دل مان رھا تھا کہ مہری لازمی آے گی تو وہ ھی ھوا مہری میری دکان کے سامنے رکی اور دکان کی طرف دیکھتے ھوے اندر داخل ہوئی اور بڑی شوخی سے مجھے سلام کرتے ھوے بولی خیر ھے جناب اندر چھُپ کر بیٹھے ہیں میں نے کہا بس ایسے ھی کچھ سیٹنگ کرنی تھی ۔۔۔ مہری پوری دکان میں گھوم پھر کر دکان جائزہ لینے لگ گئی اور ورائٹی اور دکان کی سیٹنگ کی تعریفیں کرنے لگ گئی ۔۔ میں نے مہری کو کھانے پینے کا منگوانے کا کیا تو اس نے انکار کردیا اور گھر جانے کا کہا ۔۔۔ آج میں مہری کے دکان میں اتنی دیر بیٹھنے اور یوں اسکے فرینگ ھونے سے گبھرا رھا تھا ۔۔ کہ کہیں ضوفی نہ آجاے ۔۔ اور وہ کیا سوچے گی ۔ کیوں کہ مہری کالج یونیفارم میں تھی اس لیے اسکو شک پڑ جانا تھا ۔ اب میں مہری کو جانے کا بھی نہیں کہہ سکتا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد مہری بولی اچھا میں چلتی ھوں یاسر ۔۔۔ میں نے جلدی سے کہا ۔ مہری میں چھوڑ آوں ۔۔۔۔ میں نے تو یہ اوپر سے ھی مہری کو کہا تھا کہ میں چھوڑ آتا ہوں ۔ کہ مہری کہے گی کہ میں خود ھی چلی جاوں گی ۔۔ مگر سارا معاملہ ھی الٹ ھوگیا۔ مہری بولی ۔ اگر جناب کی دکانداری ڈسٹرب نہیں ھوتی تو چھوڑ آو۔۔۔ .میں دل ھی دل میں اپنے آپ کو کوسنے لگ گیا ۔۔۔ میں نے کہا اچھا تم بیٹھو لڑکا کھانا لینے گیا ھے وہ آتا ھے تو چلتے ہیں ۔ مہری بولی کتنی دیر تک آے گا میں نے کہا بس کچھ ھی دیر میں آجاے گا ۔۔۔ مہری بولی مجھے ایسے ادھر بیٹھنا مناسب نہیں لگتا ۔ دیکھنے والے کیا سوچیں گے ۔۔۔ میں نے کچھ دیر سوچتے ھوے کہا ۔ کہ اچھا تو تم ایسا کرو آہستہ آہستہ چلتی جاو جیسے ھی لڑکا آیا میں اسی وقت آجاوں گا ۔۔۔ مہری بولی ٹھیک ھے میں کچھ آگے جاکر تمہارا انتظار کروں گی ۔۔ میں نے اوکے کہا ۔۔ تو مہری دکان سے نکل کر گھر کی طرف چلی گئی ۔ اور میں نے ایک لمبا سانس بھر کر چھوڑا ۔۔۔۔ کہ جنید کے آنے سے پہلے ھی مہری چلی گئی ورنہ سالے نے پھر پوچھ پوچھ میری مت مار دینی تھی ۔۔۔ مہری کے جانے کے کچھ ھی دیر بعد جنید کھانا لے کر آگیا ۔۔۔ میں اب سوچنے لگ گیا کہ اسکو اب کیا بہانہ بناوں ۔۔۔۔ پھر میں نے حوصلہ کیا اور جنید کو کہا یار میں ایک منٹ میں آیا ۔۔ جنید بولا یار اب کس دوست کی بہن کا دکھ سننے جا رھے ھو۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔ گانڈو میں ایڈا ویلا وی نئی ۔ جنید بھی میرے ھی انداز میں بولا تے ایڈا مصروف وی نئی ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا اچھا یار میں ابھی آیا ۔ جنید بولا روٹی کھا لواں کہ اتنظار کراں ۔ میں نے کہا کھا لینا یار ۔۔ اور جنید کی بات سنے بغیر میں باہر نکلا اور بائک سٹارٹ کر کے مہری کے گھر کی طرف بھگا دی ۔۔ کچھ آگے جاکر گلی کے نکڑ پر مہری کھڑی مجھے آتا دیکھ رھی تھی میری بھی نظر اس پر پڑ گئی تھی ۔ میں نے مہری کے پاس جاکر بریک لگائی اور مہری جلدی سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے بیٹھ گئی ۔۔۔ میں نے جھتکے سے بائک آگے بڑھا کر ہلکی سے بریک لگائی تو مہری بریک لگنے کی وجہ سے آگے کو کھسک کر میری کمر کے ساتھ لگ گئی مہری کا مما مجھے اپنی کمر پر محسوس ھورھا تھا ۔۔ مہری میرے کندھے پر تھپڑ مارتے ھوے بولی ۔ انسان بنو ۔ مجھے گرا نہ دینا ۔۔۔ میں نے کہا اگر ذیادہ ڈر لگ رھا ھے تو جپھی ڈال لو ۔۔۔ مہری نے ایک ھاتھ سے میرے کندھے کو پکڑا ھوا تھا تو اس نے میرے کندھے پر چٹکی کاٹی اور بولی ۔ کل کا جی نہیں بھرا جپھیاں ڈال ڈال کر جو اب کسر رہتی ھے ۔۔۔ میں نے کہا سونے وہ والی جپھی نہیں میں دوسری جپھی یعنی کس کر پکڑنے کا کہہ رھا ھوں ۔ وہ جپھی تو گھر جاکر ڈالوں گا ۔۔ مہری بولی ۔۔ ہممممممم تو اسی لیے مجھے چھوڑنے آے ھو ۔۔۔ میں نے کیا نہیں یار اب تم میرے ہوتے ھوے پیدل جاو تو یہ مناسب تو نہیں ۔۔۔ اچانک میرے زہن میں آیا کہ انکے پاس تو کار بھی تھی وہ کدھر گئی ۔۔ میں نے مہری سے پوچھ ھی لیا کہ یار اسد کی کار کدھر گئی ۔ کیوں کہ کل میں نے گیراج میں کھڑی نہیں دیکھی تھی ۔ مہری بولی ۔ وہ کار اسد کی نہیں اکری کی تھی ۔ مگر رہتی اسد کے پاس ھی تھی ۔ جھگڑے کے وقت کار بھی ادھر انکے ڈیرے پر ھی تھی ۔ پتہ نہیں کیا بنا کار کا ۔ مجھے تو باس اپنے بھائی کی فکر ھے ۔ دفعہ ھوں کاریں ۔۔ .بس میرا بھائی واپس آجاے۔۔ میں ہونٹوں کو بھینچتا ھوا اپنے آپ سے ھی مخاطب ہوا اسکو واپس آنا پڑے گا جیسے بھی ۔۔ مہری بولی کیا کہا۔۔ میں نے چونکتے ھوے کہا ۔ کچھ نہیں مجھے بھی بہت شدت سے اسد کا انتظار ھے ۔ پتہ نہیں بیچارہ کس حال میں ھوگا ۔۔ مزید کوئی بات ھوتی کہ مہری کا گھر آگیا ۔۔ مہری کے گھر کے سامنے بریک لگائی ۔۔تو مہری اترتے ھوے بولی آجاو اندر یاسر ۔۔ مہری کے مموں کا لمس اور یونیفارم میں اسکا سیکسی فگر دیکھتے ھی ۔ مجھے دکان بھول گئی ۔۔ میں نے کنفرم کرنے کے لیے مہری سے اس کی مما کا پوچھا تو مہری بولی مما تو رات کو ھی آتی ھے بوتیک سے ۔۔۔ اور یہ کہتے ھوے مہری گیٹ کی طرف بڑھی اور لاک کھول کر اندر داخل ھوئی میں ابھی سوچ ھی رھا تھا کہ اندر جاوں کہ نہ جاوں ۔ کہ مہری نے مین گیٹ کھول دیا ۔ میں گیٹ کھلا دیکھ کر سب سوچوں کو ایک طرف رکھتے ھوے گیئر لگایا اور ہینڈل گیٹ کی طرف گھما کر کلچ چھوڑتے ھوے بائک اندر لے گیا۔۔۔ بائک اندر جاتے ھی مہری نے گیٹ بند کیا اور لاک کر کے میرے پاس سے گزرتے ھوے ۔ میری کمر پر چٹکی کاٹ کر گول مٹول گانڈ مٹکاتے اندر چلی گئی اور میں سییییی کر کے بائک کا سٹینڈ لگاتے ھوے بائک سے اترا اور مہری کے پیچھے چل پڑا۔۔ مہری سیدھی کمرے میں چلی گئی میں بھی اسکی تقلید میں چلتا ھوا کمرے میں داخل ھوا ۔ مہری نے بیگ کندھے سے اتار کر ایک طرف رکھا اور میری طرف دیکھتے ھوے بولی یاسر آج شلوار قمیض کیوں پہنی ھے پینٹ شرٹ تمہیں زیادہ اچھی لگتی ھے میں نے کہا بس کبھی پینٹ شرٹ پہن لیتا ھوں تو کبھی شلوار قمیض مہری نے ہمممم کیا اور پھر بولی میں ابھی آئی تم بیٹھو یہ کہہ کر مہری باہر چلی گئی میں بیڈ پر بیٹھا کمرے کا جائزہ لینے لگ گیا ۔۔ اور چاروں طرف دیکھتے ھوے سوچنے لگ گیا کہ اگر مہری کو چودتے ھوے ویڈیو بنائی جاے تو کیمرہ کس جگہ چھپایا جاے کہ پورا بیڈ کیمرے میں آجاے مگر کمرے کی سیٹنگ ھی ایسی تھی کہ کہیں بھی مجھے وہ جگہ نظر نہ آئی جہاں سے کیمرہ مہری کی نظر میں آے بغیر رکاڈنگ کرے ۔۔ کچھ سوچتے ھوے میں نے اس پلان کو کوئی اور رنگ دینے کا سوچا اور مہری کے آنے کا انتظار کرنے لگ گیا ۔۔ کچھ دیر بعد مہری ہلکے پنک کلر کے سوٹ میں ملبوس ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کی ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ھوئی۔۔ مہری نے فٹنگ میں بلکل شارٹ شرٹ پہنی ھوئی تھی اور شفون کا باریک دوپٹہ گلے میں ڈال کر مموں کے اوپر کیا ھوا تھا ۔۔ .اور گولڈن کلر کے سلکی بال جو اسکے کندھوں سے تھوڑا سا نیچے تھے انکو کچھ اپنے آگے اور کچھ پیچھے کیے ھوے بڑی ادا سے چلی آرھی تھی مہری پر پنک کلر بہت ھی جچ رھا تھا ۔۔ میں نے مہری کی طرف غور سے دیکھتے ھوے تعریفی کلمات کہے ۔۔ مہری کے گلابی ہونٹوں پر مسکان آئی اور مہری بڑی ادا سے میری طرف دیکھتے ھوے بولی اچھا جی ۔۔۔ میں نے کہا خوبصورت چیز کو دیکھ کر تعریف خود با خود منہ سے نکل جاتی ھے ۔۔ مہری ٹرے میرے سامنے کرتے ھوے بولی ۔ تعریف تو ایسے کررھے ھو جیسے پہلی دفعہ دیکھا ھے ۔ میں ٹرے سے گلاس اٹھاتے ھوے بولا ۔۔ مہری تم ہو ہی اتنی خوبصورت کہ تمہیں جب بھی دیکھوں تو ایسے لگتا ھے جیسے پہلی دفعہ دیکھ رھا ھوں ۔۔ میرا تو دل کرتا ھے کہ تم ہر وقت میرے سامنے ھو ۔۔ کسی فلمی ایکٹر کی طرح تمہارا فگر ھے ۔ مہری میرے پاس بیٹھتے ھوے بولی ۔ اچھا جی میں نے کہا ھاں جی ۔ مہری میرے کندھے پر کہنی رکھتے ھوے بولی ۔ ذرہ بتانا پسند کرو گے کہ کون سی ایکٹر کے جیسی لگتی ھو۔۔ میں نے مہری کی طرف غور سے دیکھا اور اسکی ٹھوڑی کو پکڑ کر اسکے نچلے گلابی ہونٹ پر انگوٹھا پھیرتے ھوے بولا ۔ مادھوری ڈکشٹ کی طرح تمہارے ہونٹ اور تمہاری مسکان ھے ۔ مہری تعریف سن کر مذید شوخی میں بولی ۔ اور تم شاہ رخ ھو ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔ تو پھر ہماری بھی ایک فلم بننی چاہیے ۔۔ مہری ہنستے ھوے بولی اور فلم بننے سے پہلے ھی فلاپ ھوجاے ۔۔۔ میں نے ڈرنک ختم کر کے گلاس رکھتے ھوے ۔ مہری کی کمر میں ھاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ھوے کہا ۔ ہماری فلم لوگوں کے دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ ہم دونوں کے ھی دیکھنے کے لیے بنے گی ۔۔۔ مہری بولی اسکا کیا فائدہ ۔۔ میں نے مہری کی گردن پر ہونٹ رکھتے ھوے کہا ۔ اسکا یہ فائدہ ھوگا کہ ہماری ملاقات کی یادیں ویڈیو میں قید ھوجائیں گی جب بھی ان یادوں کو تازہ کرنے کا دل کیا تو ویڈیو دیکھ لیا کریں گے ۔۔۔ مہری سیییییییییی کرتے ھوے بولی ۔۔ بس بس بس تم تو پکے ھی ھوگئے ۔۔۔ میں نے کہا ۔ تو میں کب مزاق کررھا ھوں ۔۔ مہری میری طرف غور سے دیکھتے ھوے بالوں کو پیچھے جھٹک کر بولی ۔۔ اسکا مطلب ھے کہ تم سچ میں اپنی ویڈیو بنانے کی بات کررھے ھو ۔ میں نے کہا ھاں جان ۔ کیوں تمہیں شوق نہیں کہ ہماری ہر ملاقات یادگاری کے طور پر ہمیشہ ہمارے پاس رھے ۔۔۔ مہری ہنستے ھوے کانوں کو ہاتھ لگاتے ھوے بولی توبہ توبہ کیوں بدنام کرنے کا پلان بنا رھے ھو ۔ میں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ھوے کہا۔ کیا مطلب مہری ۔۔ .میری بولی کہ مطلب صاف ھے کہ اگر کسی نے ویڈیو دیکھ لی تو سوچو پھر میری کتنی بدنامی ہوگی ۔۔۔ میں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ھوے مہری کو کہا ۔ بہت دکھ ھوا مہری تمہاری بات سن کر تم نے مجھے اتنا گھٹیا سمجھ لیا کہ میں تمہیں بدنام کروں گا ۔ تمہاری ویڈیو لوگوں کو دیکھاتا پھروں گا ۔۔ مہری میں نے تو صرف اپنی ملاقاتوں کو یادگار بنانے کے لیے اپنے دل کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور تم تم تم ۔۔۔ میں یہ کہتے ھوے اٹھ کھڑا ھوا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔ میرا تیر بلکل نشانے پر لگا ۔۔ اور مہری بھاگتی ھوئی میرے پیچھے آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر مجھ روک کر بولی ۔۔۔ یاسر بات تو سنو ۔ میں نے کہا نہیں مہری جب تم کو مجھ پر بھروسہ ھی نہیں تو پھر میرا یہاں رکنا بیکار ھے ایسے میری وجہ سے تم بدنام ھوگی ۔۔ مہری چند قدم آگے بڑھی اور میرے سامنے کھڑی ھوگئی اور بولی ۔ یاسر میری بات کا تم نے الٹ مطلب لے لیا ۔۔میں نے یہ تو نہیں کہا کہ تم مجھے بدنام کرو گے یا تم میری ویڈیو کسی کو دیکھاو گے ۔۔۔ میں تو یہ کہنا چاہ رھی تھی کہ اگر کسی نے ویڈیو دیکھ لی یا کسی کے ہاتھ لگ گئی تو ہم دونوں کی بدنامی ھے ۔۔ میں نے کہا چھوڑو مہری تم نے تو میرا دل ھی توڑ کر رکھ دیا ۔ میں تو ویسے ھی بات کررھا تھا میں کون سا کیمرہ ہاتھ میں پکڑے بیٹھا تھا ۔۔۔ تم میرا دل رکھنے کے لیے ھی کہہ دیتی ۔۔۔۔ مہری بولی ۔۔ یاسر تمہاری قسم تم پر مجھے پورا بھروسہ ھے میرا سب کچھ تو تم نے دیکھ لیا ایک لڑکی کے پاس سب سے قیمتی چیز اسکی عزت عصمت ھی ھوتی ھے جب وہ ھی تمہیں دے چکی ھوں تو میرے پاس بچا ھی کیا ھے جو میں تم پر بھروسہ نہ کروں تم پر بھروسہ تھا تو تمہیں اپنے قریب آنے دیا اور سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ھوے مہری چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھتے ھوے رونے لگ پڑی ۔۔۔ میں کچھ دیر کھڑا مہری کو دیکھتا رھا ۔۔ اور پھر آگے بڑھ کر مہری کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور اسکے ہاتھوں کو پکڑ کر اسکے چہرے سے ہٹایا اور مہری کو اپنے سینے کے ساتھ لگا کر اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے ھوے مہری کی کمر کو سہلانے لگا ۔۔۔۔ مہری کچھ دیر میرے سینے کے ساتھ لگی روتی رھی اور پھر مجھ سے الگ ہوئی اور ۔۔۔ میرا ہاتھ پکڑ کردوسرے ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کرتی ھوئی ۔ بیڈ کی طرف لیجانے لگی ۔ .میں خاموشی سے اسکے ساتھ چلتا ھوا بیڈ کے قریب پہنچا ۔ مہری نے میرے دونوں بازوں کو پکڑا اور مجھے بیڈ پر بیٹھاتے ھوے بولی ادھر بیٹھو یاسر ۔۔ میں مہری کی طرف دیکھتے ھوے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔ مہری میرے بازو چھوڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے نکل گئی ۔۔ میں حیرانگی سے اسے جاتا دیکھتا رھا اور سوچنے لگ گیا کہ یہ اب کیا کرنے گئی ھے ۔۔۔ کچھ ھی دیر میں مہری جب کمرے میں داخل ھوئی تو اسکے ھاتھ میں ہینڈی کیم تھا ۔۔۔ مہری تیز تیز قدم اٹھاتی میرے سامنے آکر کھڑی ھوگئی اور کیمرے والا ھاتھ میری طرف بڑھاتے ھوے بولی یہ لو یاسر ۔۔ اپنے دل کی خواہش پوری کر لو ۔۔ میں نے مہری کی طرف بڑے غور سے دیکھا مہری کے چہرے پر معصومیت دیکھ کر ۔۔۔ ضمیر ساب نے میری چھترول شروع کردی ۔۔۔۔ شرم کرو یاسر اسد کی غلطی کا بدلا اسکی بہن سے لے رھے ھو اسکا بیچاری کا کیا قصور ھے ۔ یہ تو اپنے بھائی کی کرتوت سے لاعلم ھے ۔ اگر تم بھی اسد کی بہن کی ویڈیو بنا کر اسکو بدنام کرو گے یا بلیک میل کرو گے تو تم میں اور اسد میں کیا فرق رھ جاے گا ۔ مرد بنو عورت کا سہارہ لے کر لڑنا مردوں کا نہیں ہجڑوں کا کام ھے ۔ اگر اسد سے بدلہ لینا ھی ھے تو مرد بن کر اسکا اور اکری کا مقابلہ کرو ۔ ورنہ خاموشی اختیار کرلو ۔۔۔ اسد نے بھی عظمی کو دھوکا دیا تھا ۔ اور تم اسد کی بہن کو دھوکا دے کر کون سا تیر مار لو گے ۔۔۔ میں اپنے ضمیر سے چنگی چھترول کرواتے ھوے سوچ میں گم تھا کہ مہری نے میرے کندھے کو ہلاتے ھوے کہا کیا ھوا یاسر کس سوچ میں گم ھو ۔ میں غصے سے نہیں اپنی رضامندی سے تمہیں کہہ رھی ھوں ۔۔ پکڑو کیمرہ اور بتاو کیسے ویڈیو بنانی ھے ۔۔۔ میں نے مہری کے ہاتھ سے کیمرہ پکڑا اور کیمرہ کو بیڈ پر پھینکتے ھوے مہری کے دونوں بازوں کو پکڑ اپنی طرف کھینچا تو مہری میرے اوپر آکر گری اور میں مہری کو سینے کے ساتھ لگاتے ہوے پیچھے کی طرف لیٹ گیا ہم دونوں کے پاوں بیڈ سے نیچے تھے مہری میرے اوپر لیٹی ھوئی تھی اور میں مہری کے نیچے ۔۔۔ مہری کے ممے میرے سینے کے ساتھ اور پھدی میرے لن کے اوپر ااور مہری کا چہرہ میرے چہرے کے اوپر تھا مہری کے سلکی بالوں نے آگے آکر ہم دونوں کے چہروں کو چھپا لیا تھا ۔۔۔ مہری میری آنکھوں میں اور میں مہری کی آنکھوں کھویا ھوا تھا ۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھی جارھے تھے ۔۔۔ مہری کے ہونٹ ہلے ۔ کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رھے ھو ۔۔ میں نے آہستہ سے کہا ۔ دیکھ رھا ھوں کہ تم کو مجھ پر کتنا یقین ھے ۔۔ مہری میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔ کیوں کوئی شک ھے ۔ میں نے نفی میں سر ہلایا۔۔ مہری بولی ۔ تو پھر کیا سوچ رھے ھو۔۔ میں نے کہا اگر میں واقعی تم کو بدنام کردوں تو ۔ مہری مسکرا کر بولی کردو۔ میں نے کہا اگر میں ویڈیو لوگوں کو دیکھا دوں تو ۔۔ مہری بولی دیکھا دینا ۔۔ اگر تمہیں ایسا کرنا اچھا لگے گا اور اس سے تمہیں سکون ملے گا تم خوش ھوگے تو ۔ میں تمہاری اس خوشی کے لیے بدنام ھونے میں بھی فخر محسوس کروں گی کے میری بدنامی سے تمہیں خوشی مل رھی ھے ۔۔۔ مہری کے اس جواب نے مجھے لاجواب کردیا ۔۔ اور میرے ہونٹ بے اختیار مہری کے ہونٹوں کی طرف بڑھے اور پھر میں نے گلاب کی پتیوں کا رس پینا شروع کردیا ۔۔۔ مہری بھی میرے ساتھ چمٹی ھوئی کسنگ میں میرا برابر کا ساتھ دے رھی تھی ۔ دس پندرہ منٹ ہم اسی حالت میں لیٹے ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رھے ۔ .میں کسنگ کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ مہری کی گردن میں ڈال کر اسکے بالوں کو سہلا رھا تھا اور دوسرا ھاتھ مہری کی نرم ابھری ھوئی گانڈ پر لیجا کر شارٹ شرٹ کو گانڈ سے ہٹاکر گانڈ کی ایک پھاڑی کو پکڑ کر مٹھی میں بھینچے ھوے گانڈ کی دراڑ میں کبھی انگلی پھیرتا تو کبھی پورا چپہ ۔۔۔۔۔ شلوار میں میرا لن تن چکا تھا اور میری قمیض مہری کے اوپر آنے کی وجہ سے لن سے اوپر ھو چکی تھی اور مہری کی شرٹ تو پہلے ھی شارٹ تھی جس کی وجہ سے ہم دونوں کی قمیضیں لن اور پھدی سے اوپر تھیں جسکی وجہ سے میرا لن شلوار کو تمبو بناے مہری کے چڈوں میں گھسا ھوا تھا۔۔۔ مہری کی شلوار کا کپڑا بہت ھی سوفٹ اور ملائم تھا ۔ مٹھی میں بھینچا ھوا مہری کی گانڈ کا ایک حصہ ایسے لگ رھا تھا جیسے بلکل ننگا ھو ایک کپڑا ریشم کی طرح ملائم دوسرا مہری کی گانڈ بھی ریشم کی طرح ملائم اور روئی سے نرم اففففففففف کیا ھی مزہ تھا ۔۔۔۔ اور نیچے شلوار میں سے لن کا مہری کے ملائم چڈوں میں پھدی کے ساتھ رگڑنا ھاےےےےےےےےےےے کیا مزے کی کیفیت تھی کاش میں لفظوں میں اس مزے کی کیفیت کو بیان کرسکتا۔۔۔ خیر ۔۔۔ کچھ دیر بعد میں نے گھوم کر مہری کو اپنے نیچے کیا اور اسکے اوپر سے ہٹ کر بیڈ سے نیچے کھڑا ھوگیا۔۔ اور اپنی قمیض اور بنیان اتارنے لگ گیا مہری بیڈ پر ٹانگیں نیچے لٹکاے مجھے قمیض اتارتے دیکھنے لگ گئی ۔۔ میں نے قمیض اتار کر ایک طرف رکھی اور مہری کے اور تھوڑا سا جھکا اور مہری کی دونوں کلائیوں کو پکڑ کر مہری کو اپنے سامنے کھڑا کرلیا ۔۔۔ اور مہری کی شرٹ کو پکڑ کر اوپر کرنے لگا تو مہری نے دونوں بازو چھت کے طرف سیدھے اوپر کھڑے کرلیے ۔۔ میں نے مہری کی شرٹ اتار کر اسکے بازوں سے نکالی اور ایک طرف رکھ دی ۔ مہری اب پنک کلر کی برا میں ننگی میرے سامنے کھڑی تھی ۔ مہری نے برا بھی اپنے جسم کے کلر جیسا ھی پہنا ھوا تھا ۔۔۔ مہری اس حالت میں بہت ھی سیکسی لگ رھی تھی ۔ مہری کا فگر دیکھ کر میرا لن تو جھٹکے مارتا ھوا پھٹنے والا ھوگیا ۔۔۔ میں نے مہری کے جسم کا جائزہ لیا اور اسکا ھاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا مہری نے میرے لن کو مٹھی میں بھرا اور چھوڑ دیا اور میری طرف دیکھ کر افففففففففففف کیا میں نے پھر مہری کا ہاتھ لن پر رکھا اور اسکو دبانے کا کہا ۔ مہری میری آنکھوں میں نشیلی آنکھوں سے دیکھتے ھوے لن کو دبانے لگ گئی ۔۔ میں نے ہاتھ اپنے نالے پر لیجا کر نالے کی گانٹھ کو کھول دیا اور شلوا کو تھوڑا ڈھیلا کیا تو شلوار میرے پیروں کی طرف جانے کی بجاے مہری کے ہاتھ میں پکڑے لن کے ساتھ اٹک گئی میں نے مہری کا ھاتھ لن سے چھڑوایا تو شلوار میرے پیروں میں چلی گئی اور میرا لن پھنکارتا ھوا مہری کے ننگے پیٹ کے سامنے جھومنے لگ گیا۔۔۔ مہری سر جھکا کر آنکھیں پھاڑے میرے لن کو دیکھنے لگ گئی ۔۔۔ اور افففففففففف اتنا بڑا او مائی ۔۔۔۔، کہتے ھوے میرے لن کو ڈر ڈر کر ایسے ہاتھ لگانے لگ گئی جیسے پہلی دفعہ لن دیکھ رھی ھو ۔۔۔ میں نے کہا مہری کیسا لگا ۔۔۔ مہری بولی یاسر مجھے تو یقین ھی نہیں ھورھا کہ اتنا بڑا میں نے اندر لے کیسے لیا تھا ۔۔۔ میں نے مہری کی پھدی پر ہاتھ رکھتے ھوے کہا اسکی اب میرے لن کے ساتھ دوستی ھوگئی ھے اس لیے سارا اندر لے لیا تھا ۔۔۔ مہری بولی ۔۔ یاسر تم یر لحاظ سے فٹ ھو ۔۔۔ خوش قسمت لڑکی ہوگی جس کے ساتھ تمہاری شادی ھوگی ۔۔۔ میں نے جلدی سے موضوع تبدیل کرتے ھوے کہا ۔۔ مہری اسے پیار نہیں کرو گی ۔۔۔ مہری میری طرف دیکھتے ھوے مسکرائی اور اثبات میں سر ہلا کر مجھے بازوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا اور خود میرے قدموں میں پاوں کے بل بیٹھ گئی اور میرے لن کو جڑ سے پکڑ کر ہلانے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر لن تو پھٹنے والا ھوا تھا کیسے ہلتا وہ تو ایک دم تن کر کھڑا تھا ۔ اور ٹوپا ایسے پھولا ھوا تھا جیسے ۔ سوجا ھو ۔ .مہری کچھ دیر لن کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلاتی رھی مہری کے روئی سے نرم ہاتھوں میں جادو تھا میرا لن تو اپنے آپ سے باہر ھونے لگ گیا تھا ۔۔۔ بہت ھی نرم اور ملائم ہاتھ تھے مہری کہ ۔۔۔ مہری بڑے سلو موشن میں لن جو سہلا رھی تھی اور شرارتی انداز سے کبھی لن کی موٹائی چیک کرتی تو کبھی لن کی لمبائی چیک کرتے ھوے اپنی نشیلی آنکھیں میری طرف کر کے اشارے سے واوووووو کیا بات ھے کہتی ۔۔۔۔۔ پھر مہری نے اپنی سرخی مائل زبان نکالی اور لن کو ٹوپے سے پکڑ کر لن کی جڑ سے زبان پھیرتے ھوے اوپر کی طرف لانے لگی ۔ اور ٹوپے کے کنارے سے زبان کو واپس لن کی جڑ تک لے جاتی ۔۔ اور کبھی ٹوپے کے چاروں اطراف زبان کو پھیرتے ھوے پلکوں کو اٹھا کر میری طرف دیکھ کر آنکھوں کی زبان سے پوچھتی کہ سہی چوپا لگا رھی ھوں نہ مزہہہہ آرھا ھے نہ ۔۔۔ میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا کر ہاں کہہ دیتا۔۔۔ مہری پانچ منٹ تک لن کو مختلف زاویوں سے چاٹتی اور چوستی رھی اور پھر میری طرف دیکھ کر بڑی معصومیت سے بولی ۔۔ بس میں نے کہا ہمممممم ۔ اور پھر مہری کھڑی ھوئی تو میں بھی کھڑا ھوگیا اور شلوار جو پیروں سے نکالا اور مہری کے ساتھ ایک جپھی ڈال کر اس کے یونٹوں کو چوم کر چوپا لگانے کا شکریہ ادا کیا اور مہری کو گھما کر دوسری طرف منہ کیا اور پھر مہری کو آگے کی طرف جھکنے کا کہا مہری نے سوالیاں نظروں سے میری طرف دیکھا مگر مین نے اسکے کندھوں کو پکڑ کر آگے کی طرف جھکا دیا مہری نے جھک کر بیڈ کے میٹرس پر ہاتھ رکھ لیے ۔۔۔ میں نے مہری کی شلوار کی لاسٹک میں انگوٹھے پھنساے اور نیچے کو ذور لگاتے ھوے اسکی شلوار گانڈ سے نیچے کر کے چھوڑ دی شلوار مہری کے قدموں میں جاگری ۔ اور مہری کی چمکتی گول مٹول چٹی سفید گلابی مانند گانڈ میرے سامنے تھی ۔۔۔ میں نے لن پر تھوک پھینکا اور تھوڑا سا جھک کر مہری کی پھدی میں ٹوپا اڈجسٹ کرنے لگا ۔۔ مہری تھوڑا سا کسمکسائی مگر میں نے اسکی گانڈ کو سہلاتے ھوے اسے تھاپی دی ۔۔۔ اور ٹوہا اسکی گیلی پھدی کے لبوں میں پھنسا کر اسکی پتلی کمر کو پکڑ کر ہلکا سا گھسا مارا، ۔۔ میری ہاےےےےےےے کرتی ھوئی آگے کو ھونے لگی مگر میں نے اسکی کمر کو پکڑا ھوا تھا اس لے اس سے آگے نہیں ھوا گیا ۔۔ پہلے گھسے میں ٹوپا ھی پھدی کے اندر گھسا تھا ۔ باقی کا لن ابھی باہر ھی تھا۔۔ میں نے کچھ وقفہ دیا اور پھر گھسا مارا تو آدھا لن اندر گھس گیا مہری ھاےےےےےےےےے مییییممی ممی کرتے ھوے آگے ھونے کی کوشش کرنے لگی میں نے اسی وقت تیسرا گھسا مار کر لن سارا ھی اندر گھسا دیا ۔۔ مہری نے ذوردار چیخ ماری ۔ آئیییییییییییییی مرگئی ۔۔۔ یاسسسسررررررر باہر نکالو. ظالم ماردیا ۔۔۔۔۔ اففففف ھاےےےےےےےےےے پلیززززززز یاسررررر باہر نکالو ۔۔ مہری پوری کوشش کررھی تھی کہ کسی طرح لن باہر نکل جاے مگر اسکی پتلی نازک کمر میری گرفت میں تھی ۔۔ میری ھاےےےےےے مما ھاےےےے مما جی ۔ کری جارھی تھی ۔۔ میں کچھ دیر رک کر اسے نارمل کرتا رھا ۔ کچھ دیر بعد مہری نارمل حالت ھوگئی ۔۔۔۔تو میں نے ہلکے ہلکے گھسے مارنے شروع کردیے مہری اب بھی آہ اہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ سی سی سی سیییییاففاففا. اففف اف اف اف آہ آہ آہ ھاےےے ھاےےے کر رھی تھی مہری کی سیکسی آوازیں مجھے بہت مزہ دے رہیں تھی ۔۔ میرے گھسوں کی رفتار تیز ھوتی جارھی تھی ۔ میں نے اب مہری کی کمر کو چھوڑ کر اسکے سلکی بالوں کو اکھٹا کر کے مٹھی میں بھر لیا تھا جس سے میری کا چہرہ اوپر اٹھ گیا تھا ۔ اور دوسرے ھاتھ سے میں نے مہری کے بریزیر کے بیک چورس سٹرپ کو پکڑ لیا تھا ۔ اور مہری میرے آگے گھوڑی بنی ھوئی تھی اور میں اس پوپٹ گھوڑی کی لگامیں پکڑے چود رھا تھا ۔ مہری کی آہیں اب سسکاریوں میں بدل چکی تھیں ۔۔ مہری اب پیچھے ہو یو کر گانڈ میری رانوں کے ساتھ مارتے ھوے چدائی کا فل مزہ لے رھی تھی ۔۔ چدائی زورو شور سے جاری تھی کمرے میں تھپ تھپ کی آوازوں کے ساتھ مہری کی سیکسی آوازیں ۔ آہ آہ یس یس یس yes yesssss yesssss fuck fuck fuck yasir ahhhhhhhh ufffffff yesssssss کی آوازیں گونج رہیں تھی کہ یکلخت مہری کی سانسوں کی ڈور ٹوٹنے لگی اور مہری پورے زور زور سے پیچھے کو ھونے لگی اور m coming m coming yaaaaaa fasttttttt ahhhhhhhh yassssssir کرتے ھوے جھٹکے کھانے لگ گئی اور مہری کی پھدی سے منی کی برسات ہونے لگ گئی .کچھ دیر بعد مہری نارمل ھوئی تو میں نے لن باہر نکالنے کی زحمت گوارا نہ کی اور ویسے ھی پھر گھسے مارنے لگ گیا اور دس بیس گھسے مار کر میں جیسے ھی چھوٹنے والا ہوا میں نے جلدی سے لن باہر نکالا اور مہری کی گانڈ کے اوپر ٹوپا کر کر مٹھ مارنے لگ گیا ۔۔ اس سے پہلے کہ میرے لن سے منی نکلتی ۔ مہری کو پتہ نہیں کیا سوجی ۔ مہری یکلخت گھومی اور میرے لن کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی اور میرا ہاتھ لن سے ہٹا کر خود لن کو پکڑ کر مٹھ مارنے لگ گئی اور پھر جب لن سے منی پھوٹی تو مہری نے ٹوپے کا منہ اپنے گلے کی طرف کر دیا اور منی کی پچکاریاں مہری کے گلے پر گرنے لگ گئیں اور پھر بریزر سے باہر ننگے مموں کے حصہ کے اوپر منی کی چند پچکاریاں گریں ۔۔۔ اور مہری کے گلے سے منی بہتی ھوئی اسکے مموں کی دراڑ میں جانے لگی ۔۔۔ میں ابھی لمبے لمبے سانس لے ھی رھا تھا کہ اچانک ۔ باہر گیٹ کی بیل بجی ۔۔ مہری نے جھٹکے سے میرا لن چھوڑا اور میں بھی سانس لینا بھول گیا کہ ۔۔۔۔۔
  14. 3 likes
    تماشہ روز کرتے ھو وفاؤں کا جفاؤں کا کبھی اترو میرے دل میں محبت سیکھ جاؤگے__
  15. 2 likes
    Mzaa a gia. Paa jee story end na kriyo. Agy v likhyo. Haly brra kuj pya jy pichy
  16. 2 likes
    49.50path ‘’hum abi chal rai hn…dera per...akram chacha se milne’’ Ma ne majid se kaha..raat ka 1 bj raha tha Majid: chalo…lekin…apni gun muje de do Me:tu chal yar Majid bike pe aya hua tha aur hum dera pe 5 mint mein pohnch gye Ma kuch der tk akram k kamre se bahir khara raha…shayed andar jane ki himmat paida kr raha tha Majid: ma b sath chalun…andar? Me: 5 mint baad darwaze mein aa k khare ho jana Ma ne 1 gehri saans li aur kamre mein dakhil hogya Akram soya hua tha aur us ki charpoy k pas table pe sharab ki 2 khali bottles pari hui thn ‘’akram chacha…akram chacha’’ Ma ne us ka shoulder hilaya to us ne ankhen khol di aur muje dekh k jldi se uth betha Akram: faizi…tu is ..time? Kheriat to… ha na? Wo sharab pi k soya tha aur kachi neend se jagne ki waja se us se sahi se bola nai jar aha tha Ma ne 1 chair us ki charpoy se 5 6 qadam k fasle per rkhi aur us per beth gya Me: baba ko ap ne mara tha?mere baba ko? Akram ne 1 jhatke se sir utha k meri taraf dekha Akram: tu jaanta ha tu kya baat kr raha ha faizi? Me: ap meri baat ka jawab den akram chacha Akram: tu pagal hogya ha?ma sahib ko maarun ga?tu muje chacha bolta ha yar Us ne hansne ki koshish ki jese mera mazaq ura raha ho Me: bahir jamil khara ha Ma ne jhoot bola aur akram k chehre ka rng ur gya Akram: jamil…kon jamil? Me: ap nai jaante usay? Akram: kahan ha wo?us ne aisa bola tuje? Akram ne pillow k neeche se apni gun nikal li aur khara hogya Isi lamhe us ki nazar darwaze pe khare majid pe pari Akram: acha to yeh is behnchod ne tere kan bhare hn Is se pehle k ma apni gun nikal pata us ne gun majid ki taraf kr k trigger daba dia Lekin bs click ki awaz ayi ‘’ma ne magazine nikal lia tha pehle he’’ Mere peechhe se majid ki awaz ayi Me: chacha ap beth jayen aur mere sawalon ka jawab den Akram: tu in haramion ki baton mein aa k muj pe shuk kr raha ha… Yeh majid ko ghoorta hua beth gya Me: yeh kya ha?ap k ghar se mila ha Ma ne pocket se wo lafafa nikala aur akram ki taraf phenka Lafafa dekh k akram samajh gya k us mein kya ha aur sath he us ka jisam dheela per gya Me: kyu chacha?kyu di ap ko yeh zameen Afzal ne 10 acre apni Bahawalpur wali zameen mein se?aur wo paise? Meri ankhon mein ab ansoo the Me: chacha ap wohi ho na jo muje muje mere bachpan mein kandhon pe bitha k phirte the?ap wohi ho na jise mere baba ne apni family k jese rkha aur jis ka bete ko ma ne bhai bnaya hua ha…ap ne us shakhs ko maar dia jis ne ap ko tb gale lgaya j bap ka koi b nai tha…mere baba ko? Ma rone lga tha Akram sir jhukaye betha raha phir us ne sir utha k meri taraf surkh ankhon se dekha Akram: faizi… Akram: ap muje waja btayen kyu mara mere baba ko…aura b yeh na bolna k ap ne nai maara Ma ne gun nikali aur gun wala hath apni lap mein rkh lia Akram: lalach..bs… Me: ap 1 bar baba se bolte to sahi..ya muje kehte…is se ziada mil jata apko… Ma rote hue bola Akram: tuje lgta ha muje puchhtawa nai ha?is k baad he ma ne sharab peena shuru ki.. Me: ma apke puchhtawae ka kya kru?mere baba wapis ajayen ge kya is se? Ma apne ansoo saaf kr k chillaya Akram: tu abi thane chal mere sath ma sb maan leta hn…ya muje 2 din de ma un sb ko khatam kr deta hn jin ki baton mein aa k… Me: sb ko? Afzal k ilawa kon ha?karmoo ko apne maara aur jamil ko ma maar chukka hn..afzal k ilwa kon ha muje yeh btayen Akram: yeh ma nai bta raha abi Us ne na btane wali baat shayed isliye ki thi k usay police k pas ja k Iqbal e jurm nai krna pare ga aur shayed wo waqt le k ghayeb hona chahta tha… Me:Lekin ma…. Me: ap bs 1 bar bol den k… Akram: aur ma kasam khata hn k hashoo ka is sb se koi talluq nai…wo begunah ha masoom ha…us ka koi qasoor nai ha…aur.. Us ne meri baat kaati aur jldi se bola ‘’faizi ise thane le chalte hn’’ Peechhe se majid ki awaz ayi jise ma ne ignore kr dia Me: ap bs 1 bar bol den k ap ne baba ko maara ha Majid: sach bol de akram..shayed bch jaye Akram: han muj se ghalati hogae ma ne he maara ha sahib ko…chalo thane chalen..abi.. Wo rone lga aur sath he ma b Ma ne gun ka rukh akram ki taraf kr dia ‘’faizi’’ Peechhe se majid ki awaz ayi Lekin ma kahan sun raha tha Gun ka trigger ma ne 4 bar dabaya tha Akram ka be-jaan jisam 1 jhatke se peechhe charpoy pe gira Ma majid ki taraf mura aur dobara apne ansoo saaf kiye Me: bahir tractor k liye petrol k chhote drum pare hn na?aag laga do yahan Majid meri baat samajh gya k ma kya chahta hn Majid: tum niklo jldi se..meri bike le jao Us ne mera bazoo pakar k muje bahir khencha Ma akram k pas gya aur wo lafafa utha k us ki khuli ankhen bnd ki aur wahan se nikal aya Mere ghar pohnchne k half hour baad he gaon mein shor sa mch gya aur kisi ne dhar dhar hamara gate khatkhataya Awaz he itni oonchi thi k bua aur fiza b uth k bahir agae ‘’kya hua?kon ha? Bua pareshani se boli Me: ma dekhta hn bua Halan k ma jaanta tha k bahir ane wala kya bole ga Gate pe majid tha Us ki nazar andar sehan mein khari bua pe pari to wo oonchi awaz mein bola ‘’faizi sb der ape aag lg gae ha …ma ne gaon walon ko b utha dia ha wo wahin ja rai hn..ap b ajayen’’ Ma ne chupke se us ki bike ki chabi usay pakra di jo k bahir he khari thi Me: tu chal..ma aa raha hn Aag he itni ziada thi k subah k 4 bj gye bujhte bujhte Gaon aur hamare zaminon pe kam krne wale jitna kr skte the unho ne kia ‘’bechara akram..wo andar he so raha tha…bilkul koyla hogya wo b’’ Sumaira ka baap tassuf se bola Ma side pe gya aur hashoo ka number milaya Taqreeban 20 mint musalsal calls k baad us ne call receive ki ‘’faizi?is time?kheriat?’’ Us ki neend mein doobi hui awaz ayi Me: yar hashoo…yahan….1 hadsaa hogya ha… Hashoo: kya hua? Me: wo…der ape aag lg gae jane kese…aur… Muje himmat nai ho rai thi usay btane ki Hashoo: tu theek to ha na? Me: ma theek hn..lekin …akram chacha..wo wahin so rai the… Hashoo: wo…abba..theek hn na? Me: akram chacha ab hum mein nai rai hashoo Muje nai maloom tha k yeh baat krte hue muje rona kyu agya tha ‘’ ma to akela reh gya yar’’ Hashoo udasi se bola Akram k janaze ko 3 din ho chuke the aur ma 1 lamhe k liye b hashoo se alehda nai hua tha Me: akela kyu ?ma hn tere sath Hashoo: log bta rai the k abba jahan soya tha wahan se bottles mili ..jo shayed sharab ki thn..wo kb se.. Wo apne ansoo saaf kr k bola Me: yar ma ne tuje btaya nai lekin muje kafi pehle se pata tha k akram chacha sharab peene lge hn Ma ne usay apne sath lgaya ‘’m sorry hashoo…lekin ma majboor tha’’ Ma ne socha aur us k sath he 1 aur soch mere zehen ,mein ayi Me: hashoo Hashoo: han Me: yar wo..akram chacha ki almari khol k dekh le…ghar k documents waghera hn ge… ma ne wo lafafa wapis usi almari mein rkh dia tha hashoo k gaon pohnchne se pehle he hashoo: ma ne kya krna yar un ka me: yar dekh le..ma keh raha hn na…acha ma ghar ka chakkar lga aun aur khana b le ata hn ma so b hashoo k sath us ghar he raha tha aur khana b hamare ghar se he aa raha tha ‘’faizi 1 hafta hogya ha…tumhe nai lgta k hashoo k liye behter yehi ha k wo yahan ajaye..i mean wahan to wo depressed he rahe ga na’’ Muje mahi ki call ayi thi Akram wali baat ko 1 hafta hogya tha..hashoo ne shayed almari check he nai ki thi aur agar ki b thi to us ne us lafafa ki muj se baat nai ki thi aur muje usay bole hue 4 din ho chuke the Aur ma ..jise her kisi pe shuk hone lga tha yeh chahta tha k hashoo wo lafafa dekhe aur muj se baat kre us bare mein…aur agar wo baat nai krta to is ka matlab…agay ka soch k he mera dil doob jata tha Me: han yar…ma baat krta hn us se Mahi: han plz yar Ma roz ki tarah thori der k liye he apne ghar aya tha Mahi se call khatam kr k ma hashoo ki taraf jane he wala tha k hashoo mere kamre mein dakhil hua Bachpan se he hum 1 dosre k ghar aur kamron mein aise he bgher knock kiye seedhe jate the ‘’ma ane he wala tha teri taraf…’’ Ma hashoo ki ankhon mein ansoo aur us k hath mein wohi lafafa dekh k apni baat poori na kr ska Hashoo: faizi.. Me: ro kyu raha ha yar... Ma bs itna he bol ska Hashoo: yeh dekh Us ne lafafa muje pakraya Me: yeh kya ha? Ma anjaan bna Hashoo: khol k dekh Ma ne un docs pe 1 nazar dorai aur hashoo ki taraf dekha Me: yeh Afzal logon ki zameen..akram chacha k nam… Hashoo: wo kyu den ge abba ko zameen?wo b itni sari..aur faizi us almari se 10 lac b nikle hn…cash.. Wo mere sath he beth gya Me: tuje kya lgta ha? Hashoo: kahin abba b ..baba k qatal mein… Me: o nai yar…kya baat kr raha ha tu? Muje us pe taras aur apnea p pe ghussa aa raha tha hashoo: tuje yeh sb dekh k aisa nai lg raha? Me: lg to raha ha..lekin… Hashoo: muje maaf kr de yar…. Us ne mere samne hath jore to ma ne us k hath pakar k alehda kr k usay hug kr lia Me: tu pareshan na ho…humen koi confirm to nai ha na k kis liye Afzal ne zameen aur paise diye akram chacha ko Hashoo: tu ab muje maar de ga na jan se? Wo hysterical ho raha tha Me: damagh theek ha tera? Hashoo: maar de muje faizi…muje lgta ha abba ne un se paise liye baba ko… Me: nai aisa ho nai skta Ma ne us k shoulders pe hath rkh k usay apne se peechhe kia Hashoo: lekin yeh sb… Me: is ka ma pata krwa lu ga…tu ne kisi se baat nai krni is bare mein…tub eth ma khana le k ata hn Ma usay bitha k apne kamre se bahir nikal raha tha k peechhe se us ki awaz ayi Hashoo: faizi Me: han bol Ma ne us ki taraf garden ghuma k dekha Hashoo: 1 baat btaye ga sahi sahi? Me: puchh kya puchhna ha Hashoo: agar abba zinda hota…aur tuje pata chalta k abba ne baba ko qatal kia ha..to tu kya krta? Ma ab poora he hashoo ki taraf mur gya Me: sach btaun? Hashoo: han …sach bol Me: awwal to aisi baat mumkin he nai k akram chacha baba k sath aise kren..agar aisa hogya hota jesa tu bol raha ha to… Ma chup hogya Hashoo: to? Me: to ma akram chacha ko apne hathon se maar deta…lekin jesa ma ne pehle kaha..yeh mumkin nai ha k akram chacha baba k sath aise kren Ma apne iklote dost ko khona nai chahta tha Hashoo Lahore ane k liye maan nai raha tha lekin mere israr pe usay ana para ‘’so sorry for his loss’’ Yeh kashif tha jo hashoo k father ka muj se afsos kr raha tha Me: han yar…really unfortunate…aag he itni ziada thi k.. Gul: is he ok? Me: he will be..wo to ana nai chah raha tha lekin ma usay taqreeban zabardasti apne sath le k aya hn Faria: acha kia tum ne Ma wahan se uth k hashoo k deptt mein agya Wo café mein hania aur mahi k sath betha hua tha ‘’kuch khane ko nai ha kya?’’ Ma hashoo k sath beth k bola Hania ko ma ne completely ignore kr dia tha Hashoo: ma le k ata hn kuch Wo jldi se uth k chala gya Mahi: hashoo keh raha tha k agar tum na hote to pata nai wo kese survive krta is baat ko Us k jaane k baad wo boli Me: wo bhaion jesa ha mera…balke bhai he ha Hania: tum jesa friend us k pas hona..thats good..tum aisa kro.. Me: muje pata ha us ko kese normal rkhna ha..hes my friend Ma ne us ki taraf dekhe bgher us ki baat kaati..1 taraf to muje yeh sukoon tha k baba k qatil ko ma ne anjaam pe pohnchaya…dosri taraf gulit b tha k hashoo k baap ko maarne wala ma he tha ‘’akram ne muj se ishara dia tha k us k aur Afzal , karmoo aur jamil k ilawa b koi involved tha…kon ho skta ha wo?afzal ko to ma dekh he lu ga..lekin us k ilawa kon ha?’’ Yehi soch mera peechha nai chhor rai thi Mere mobile pe rida ki call ayi Me: han rida Rida: wo ma..hum apni usi friend ki taraf ayi thi…ap aptt mein he hn na Hashoo ko mahi bahir le k gae hui thi aur mera rida se milne ka zara b mood nai tha Me: han …lekin… Rida : hum aa rai hn 5 mint mein Us ne muje baat poori nai krne di aur 5 mint mein he doorbell hui ‘’sani kahan ha?’’ Ma ne darwaza khol k idhar udhar dekha kyu k rida akeli he thi Rida: wo wahin ha hamari frend k pas Saaf lg raha tha k wo jhoot bol rai ha Me: kya khao gi?ma order kr deta hn Wo sofa per bethi thi aur ma neechhe carpet pe he beth gya Rida 1st year mein thi lekin us ki tight t-shirt mein bahir ko nikle hue mammaon se ma ne bari mushkil se nazar hatae Rida: kuch b nai Wo muskurae ma utha aur fridge mein se cold drink la k usay pakra dia Me: aur ghar mein sb theek hn? Rida: yup…mera ap se milne ko dil kr raha tha…balke hamesha he krta ha kyu k ap muje bohat ache lgte hn ‘’yeh b apni bari behen hina ki line pe chal rai ha asaami phansaane k liye?’’ Ma ne socha Me: ma order krta hn na kuch…pizza..ya kuch aur… Ma ne baat dosri taraf le jane ki koshish ki Rida: ma ab bchi nai hn..han uswaqt zarur thi jb… Wo hansi aur meri ankhon mein dekha Me: kb? Rida: jb ap…1 raat yahan aye hue the chhuttion pe…aur ap hina baji k room mein the…raat k waqt…ma ne dekha tha sb… Us ki itni open baat sun k ma bs usay dekhe ja raha tha Me: wo jo b tha…hina aur mere beech… Rida: wo khatam hogya jane kb ka Us ne meri baat kati Me: exactly Rida: lekin ma un jesi nai hn Me: muje batane ka maqsad? Ma zara sakht lehje mein bola Rida: ap muje ache lgte hn Yeh to meri sb cousins se ziada bold thi Me: dekho tum abi …mera matlab ha k tumhari age… Rida: ma kisi se kum hn kya? Hina bohat khubsurat thi is mein koi shuk nai…lekin rida us se b ziada pyari thi Itne mein doorbell hui..matlab hashoo agya tha..matlab rida thori der beth k chali gae Ab ma jb b hashoo k deptt mein jata tha to muje hania ki nazren apne aap pe mehsoos hoti thn Lekin ma ignore he krta tha Uswaqt mere zehen mein bohat si negative sochen rehti thn….afzal logon ka kya pata kb muje b maar den ya maarne ki koshish kren..abi muje Afzal ka b kuch krna ha aur un ka b pata chalana ha jin k bare mein akram ne baat kit hi k Afzal k ilawa hn baba ki death ki wajah..mera pna pata nai tha to ma kisi k sath long term ‘’kese ho?’’ Ma hashoo k deptt k café ki taraf jar aha tha k yeh awaz ayi Ma ne apne right pe dekha to hania thi Me: theek ‘’baaten to bari bari krte hn log…lekin bhaag aise jate hn jese..’’ Wo barbarae lekin itni awaz mein k ma sun lu Me: sorry? Ma ne us ki taraf dekha Hania: kya hua? Me: muje lga tum ne kuch kaha ha Hania: ma to boli he nai Aur muje aisa lga jese muje waqae wehem hua ho k wo kuch barbarae thi ‘’yar 1 to mahi…roz kahin na kahin le jati ha muje’’ Hum aptt pe the Me: to acha ha na…enjoy kr Hashoo: yar yeh hafta kuch ziada he lamba nai hogya? Muje b us ki baat sahi lg rai thi Me: han yar Doorbell hui aur hashoo noshi ksath andar agya Hashoo: ma ja raha tha Us ne meri taraf dekh k daant nikali aur ankh maar k aptt se nikal gya ‘’muje assisgnment tayyar krni ha’’ Ma noshi ki taraf dekh k bola…muje us ka pichhli bar wala sulook yad tha Noshi: bna lena Wo lounge mein carpet pe apni hamesha wali jagah pe beth gae Ma b us k opposite sofa k sath tek lga k betha tha uswaqt Noshi: tum ne muje wo sb bola..aur us din ma ne jo kia…hisaab barabar? Me: hmm ‘’psycho’’ Ma ne dil mein usay pukara Phir muje dekhte hue noshi ne apni shalwar neeche kr k apne paon se nikal di aur us k baad kameez Me: noshi… Us ne 1 cushion pakra aur apne sir k neeche rk k lait gae aur apni thighs khol di Me: kya kr rai ho tum? Ma ne apne ap pe controle kr k baat ki aur us ki balon se pak safaid phuddi se nazren hatae Noshi: sulah krne ayi hn…larae khatam krne Wo ab apni phuddi k lips mein finger ooper neeche kr rai thi Aur yeh nazara dekh k mera lun to khara hona he tha Noshi: yahan ao na…plz… Ma utha aur apni shorts aur t-shirt utar k us ki k pas ja k us ki tangon ko pakar k usay ulta kr dia Noshi khud he ghutno k bal ho k agay ko jhuk gae Us ki perfect gaand aur us k neeche phuddi k jure hue lips mere samne the Us ki phuddi abi khushk he thi Ma ne us ki gaand k ubharon ko khola aur us ki gaand k sorakh pe zuban kin ok lgae Noshi: aahhh…yessss Pichli bar b wo gaand k sath he hot aur wet hui thi Us ki gaand k sorakh ko chat’te hue ma us ki phuddi k daane ko angoothe se rub krne lga Noshi: ooohhh…haaaann…..uufffffff…. Jld he noshi ki phuddi kafi geeli ho chuki thi Ma ne 1 finger us ki phuddi mein daali aur usay andar bahir krte hue us ki gaand k sorakh ko aur b josh se chatna shura kia to us k jisam mein jese zalzala ane lga Noshi: aaaaahhhhhh….aaahhhhhh….ooohhhhh….faiziiiiiiii……aaaaahhhh Muje lga jese us ki awazen aptt se bbahir ja rai hn to ma pechhe hut gya Noshi: fuck me… Us ne mur k meri taraf dekha Me: yahan… Ma ne us ki gaand k sorakh pe finger rkhi aur usay andar utarne lga Noshi: ok…ohhhhh Kuch der ma us ki gaand ko finger se he chodta raha Ab us ki height ki waja se ma ghutno k bal ho k apna lun us k andar daal nai skta tha Ma ne 2 cushion noshi k pait k neeche rkhe to us ki gaand kafi ooper ko hogae Me: apni gaand kholo Noshi apne hath peeche le k ayi aur apni gaand k ubharon ko khol dia Apna lun hath mein le k ma us ki cap noshi ki gaand k sorakh pe dabane lga Akhir mere lun ki topi us ki gaand mein utar he gae Noshi: hayeeee….uuuffff…..ssssiiiii Ma ruk gya Noshi: krte raho…andar… Us ne apni gaand mere lun pe push ki Ma ne us k hath gaand per se hatay aur us k ubharon ko apne hathon mein le k lun andar krne lga Ahista ahista mera lun us ki gaand mein utar chukka tha Ma ne agay dekha to us ne 1 hath apne munh pe rkha hua tha apni awazen rokne k liye Ma ne apna lun us ki gaand se andar bahir krna shuru kia Noshi: ooohhh….mmmmm Ab us ne apne munh se hath hat alia tha Ma us ki kamar per he lait gya aur hath neeche le ja k us k mamme pakar liye aur sath he lun us ki gaand se andar bahir krta raha Noshi: aaahhh…yesss…tez…tez… Ma seedha hua aur zor dar dhakkon se us ki gaand ko chodne lga Noshi: ah…ah…ooohhh….fuck…fuck Wo khud he neeche se hath la k apni phuddi ko rub kr rai thi sath sath Me: kesa..lg…rahaa ha Noshi: tooo…good….ooooohhhh Lounge mein mere dhakkon ki waja se thap thap ki awazen goonj rai thn Phir wo apni gaand b ooper neeche krne lgi Noshi: faiziiii….aaaahhhhhhh….m…cumming….aaaahhhhhh Wo jese tarapne lgi aur ma ne bari maushkil se us ki gaand pakar k neeche he rkhi aur apne lun ka pani us ki gaand mein nikal k us k ooper he gir gya ‘’yar tu apne ghar he rehna…ma theek hn…bua itna intezar krti hn tera’’ Hum gaon k raste mein the Lahore ane se pehle ma usi k ghar so b raha tha us k sath Me: chal theek ha…khana ma le aya kru ga..ya tu meri taraf he ajaya krna Hashoo: yar wo mera chacha…yani faiqa ka abba pehle he naraz ho raha tha k ma un ki taraf khana…mera matlab ha… Me: chal theek ha lekin 1 time ka khana mere sath Hashoo: done Ghar pohncha to fiza kahin nazar nai ayi to ma ne bua se us k bare mein puchha Bua: apni khala k han gae ha..aj he to majid chhor k aya college se wapsi per..keh rai thi Monday ko majid subah subah usay wahan se he college le jaye aur wapsi pe yahan ajaye gi Ma mayoos sa hogya Sham k waqt ma apne room mein aya aur fiza ko call ki ‘’kese ho faizi?’’ Me: ma theek…ap kyu chali gae hn ? Fiza: ma sirf 2 din k liye ayi hn yahan Wo hansi Me: acha Fiza: lgta ha log udas ho rai hn Me: nai to Fiza: acha Me: zaruri kam ha wahan koi? Fiza: nai bs khala ko milne ko dil kr raha tha Me: ma kul aa raha h nap ko lene Fiza: arrey… Me: ap tayyar rehna Fiza: faizi itne arse baad to ayi hn yahan Me: acha jese ap ki merzi Ma ne call bnd kr di foran he us ki call ayi lekin ma ne attend nai ki lekin usay msg kr dia ‘’m sorry..ma aiwen jazbaati hogya..ap Monday ko he ajana…log to wese udas hn he ap k na hone se’’ ‘’muje lgta ha hania ab tuje lift krana chahti ha’’ Raat k khaane k baad ma aur hashoo hamari chhat pe bethe the Me: hmmm Hashoo: kyu ishq ka bhoot utar gya? Wo hansa Me: yar hashoo…kya pata kb kis taraf se goli ajaye mere nam ki…baba aur mere maa baap …sb aise he gye yar….aise mein…. Hashoo: kya bakwas kr raha ha faizi Us ne meri baat kaati Me: tu jaanta ha ma kya baat kr raha hn…sirf Afzal he nai aur log hn jo hamare peechhe pare hue hn… Hashoo: aur log kon? Me: akram chacha ne yeh baat kit hi muj se 1 bar..lekin aur log kon hn yeh btane ka shayed unhe waqt he nai mila Hashoo: yar ma hn na tere sath…dekh len ge sb ko Me: faiqa ki suna Ma ne baat bdli Hashoo: ayi thi sham ko..khane ka puchhne Us ne daant nikale Me: tu ne usay he kha lia ho ga Ma hansne lga Hashoo: kha to leta lekin time thora tha us k pas ‘’yar majid…yeh dera bilkul pehle jesa bna raha ha na?jesa baba ne bnaya tha?’’ Ma dera wali jagah pe aya hua tha jahan bohat se mazdoor kam kr rai the Pichhli bar Lahore jane se pehle ma majid ki duty lga k gya tha k adha dera to jal he gya ha to baqi ko gira k dobara naya dera tamer kre lekin bilkul pehle jesa Majid: han han bilkul pehle jesa he bne ga…tum ne kaha tha k jldi bnana ha to ma ne labour b double lgae ha aur 24 ghante kam ho raha ha Me: good Majid: hashoo theek ha?usay maloom ha k akram… Me: nai usay nai maloom..aur na he maloom hona chahiye k akram ne kya kia baba k sath..wese wo kaghaz dekh k usay shuk to ho gya tha akram k role ka lekin ma ne usay us taraf ane nai dia..tu b kbi zikar nai kre ga us k sath Majid: nai ma nai kru ga…wese b hashoo bohat acha lrka ha Me: main bnda to Afzal ha ….us ka b kuch krna ha ma ne Jamil aur akram ki baat aur thi unhe anjaam pe pohnchana asaan tha..lekin Afzal assembly member b tha aur ziada ter Islamabad rehta tha ab aur 1 2 din k liye yahan ata tha…wo kisi b time akela nai hota tha… Majid: tu hukum kr faizi…jb kaho ge jitni golian kaho ge maar du ga usay…pakra b gya to tumhara nam nai lu ga ma Me: tu kya samajhta ha k tum era nam nai b le ga to ma peechhe rahun ga?ma bua ko pareshan nai krna chahta yar…aur goli to ma khud b maar skta hn usay…lekin aise nai maarna usay Majid: phir kese? Me: yahi soch raha hn k kese…acha mere next time ane tk dera complete hojaye ga na Majid; bilkul hojaye ga Itne mein bua ki call agae ‘’faizi zara majid ko bhej de k ja k fiza ko le aye..us ka phone aya ha’’ Aj Sunday tha aur us ne kaha tha k mondy ko aye gi Me: bua majid to der ape kam krwa raha ha Bua: to tu chala ja…1 ghante ka to rasta ha Bua ne mere dil ki baat kr di thi ‘’ ma ne socha log udas se ho rai hn to chali he jaun’’ Fiza front seat pe beth k muskurae Me: log to parson se aye hue hn Fiza: acha g Is road pe ziada traffic nai thi aur ma fiza ko thora tng krna chahta tha Me: ap ne bra kis color ki pehni ha? Fiza: sharam kro Us ka chehra foran he surkh hogya Me: btayen na Fiza: black Us ka dress b black he tha Me: dikhayen zara Fiza: road per hn hum…chup kr k gari chalao Me: chalen 1 kiss de den Fiza: wo b nai milne wali Me: acha raat ko? Fiza: raat mein b faizi…jo hogya so hogya…plz…ab aur nai Me: acha Fiza: ab mood na kharab krna..wese b apni lahore wali kisi frend se gupshup krna raat ko Me: wohi krna pare ga Ghar pohnche to Afzal aya hua tha aur sath sumaira b thi Afzal ko dekh k mere andar ghusse aur nafrat ki leher uthi jise ma ne bari mushkil se dabaya Me: kese hn MNA sb Us se hath mila k us k samne beth gya Afzal: ma theek…tu suna Me: ma b theek Us ki nazar meri kameez k right side k ubhar per pari Afzal: tu ne gun kb se rkhan shuru ki Bahir her waqt gun ma apne sath rkhta tha aur ghar ate he apne room mein chhupa deta tha lekin aj bhool gya tha…shukar ha bua kitchen mein thn Me: bs…aise he…. Afzal: kisi se khatra ha to bta muje ‘’khatra to tum se he ha ‘’ Ma ne dil mein kaha Me: nai khatra kya hona…baba ko konsa sa kisi ne saamne aa k lalkaar k maara Mera lehja talkh hogya Afzal: suna ha tu ne majid ko rkh lia ha apne pas Me: g..ab wo sudhar gya ha Afzal: herat ki baat ha Me:hmmm Afzal: akram ka bara afsos hua yar Me: g bs…pata nai kese itni aag lg gae Afzal: us ki zamin waghera ha ? Me: bs ghar he ha…us k kaghaz b akram k sath jal gye..akram to rehta he dera pe tha na ab baba k baad…to wo apna sara saman b wahin le gya tha …ma ne aur hashoo ne bohat talash kia un ghar mein lekin kuch nai mila Afzal: hmm Wo kisi gehri soch mein tha Hashoo : yar wo un docs ka kuch pata chala …mera dil krta ha afzal k munh pe maar k aun wo sb aur puchhun us se k … Me: ma ne tuje kaha na k bhool ja wo baat Ma ne us ki baat kaati Ma ne chahta tha k afzal ka agla shikar hashoo ho…afzal taqreeban mumaen hogya tha k wo kaghaz b akram k sath he jal gye hn ge…ab wo wali zameen afzal asani se wapis apne nam krwa skta tha Hashoo 11 bje gya ‘’so rai hn?’’ Fiza: han bs sone lgi hn…boaht neend aa rai ha Me: muje nai aa rai Fiza: koshish kro…subah subah jana b ha tum ne…good night Kuch der baad mere zehen mein 1 shaitani plan aa he gya Ma bahir sehan mein gya aur pehle generator ko off kia aur phir bijli ka main switch b bnd kr dia 5 mint baad he fiza ka msg dekh k ma hansne lga ‘’ faizi light chali gae’’ Ma jldi se utha aur knock kr k us k kamre mein chala gya Me: ap mere room mein bethen ma dekhta hn Ma usay le k apne room mein agya Me: meri kiss…ab to andhera b ha …kuch nazar b nai aye ga Kamre mein ja k ma ne fiza ko apne sath lgaya Fiza: nai na Wo ahista se boli Ma ne us ka chehra ooper kia aur us k honton ko apne honton mein le k choosne lga Akhir wo b mera sath dene lgi Fiza: tum…bohat…gnde…ho… Ma ne hath us ki shalwar mein daala aur us ki gudaaz gaand ki lakeer mein finger ooper neeche krne lga Me: apni zuban den ..mere honton mein Fiza ne aisa he kia aur ma us ki zuban chooste hue us ki gaand k sath khel raha tha Ma ne usay peechhe dhakela aur jese he wo bed k sath takarae usay lita k us k ooper lait gya Hamare paon abi carpet pe he the Ma ne us ki kameez ooper krna chahi to us ne mera hath pakar lia Fiza: bs na… Me: ma ap se 1 bar khul k pyar krna chahta hn…ap muje roken nai…plz.. Fiza: nai… Ma ne us ki kameez aur bra tezi se ooper ki aur paglon ki tarah us k mamme chatne lga Fiza: faizi.. Wo sargoshi mein boli Phir jb ma ne us k nipples ko choosna shuru kia to us ka hath mere sir pe chala gya aur wo usay apne mammon pe dabane lgi Ma apna hath neeche le k gya aur shalwar k ooper se us ki phuddi ko touch kia Fiza ki shalwar wahan se geeli thi Me: ap ki..phuddi geeli ha… Fiza: hahhhh…kese lafz… Us ki thighs khol k ma apne lun us ki phuddi pe dabate hue us k nipples ko chaatne aur choosne lga Fiza: ssssiiiii….uuufffff….. Me: kapre utar du..ap k? Fiza: nai… Muje pata tha k wo ooper se he keh rai ha Ma neeche hua aur fiza ki shalwar utar di aur phir usay ooper kr k us ki kameez aur bra b nikal di Me: a pooper ho k laiten ma abi aya Fiza: kahan.. Ma bhagta hua bahir aya aur bijli ka main switch aur generator ko on kr k bhaagta hua he wapis aya Fiza bed k pas khari apne kapre akathe kr rai thi Me: kya hua? Ma ne usay ja k hug kr lia aur us k hath se kapre le k side pe rkh diye Fiza: jane do na muje Me: aram se lait jayen Ma ne us k forhead pe kiss kia Fiza: generator kyu on kia abi? Me: ma ne he light off ki thi Fiza: kya?tum…kamine… Ma ne hanste hue fiza ka nanga badan apni banhon mein utha k usay bed pe lita dia Us ne jldi se chadar apne ooper le li aur ma ne b utni he jldi apni shalwar kameez utaar di Ma us k sath laita aur chadar us k jisam k khench k side pe phenki aur usay apni banhon mein le lia Fiza: light to bnd kr do Me: kyu?kya ma ne apko aur apne muje nanga dekha nai hua pehle? Ma hath us ki geeli phuddi pe le gya Fiza: mmm…us ne apni thighs thori si khol di Me: ap b pakren na Fiza: kya Me: mera lun Fiza: gnde..kese lafz bol dete ho Ma ne us ka hath pakar k apne lun pe rkh dia Ab wo mera lun masal rai thi aur ma us ki zuban chooste hue us ki geeli phuddi ko rub kr raha tha Me: 1 baat btayen sach sach Fiza: kya Me: jb ma ap ki phuddi ko honton aur zuban se pyar krta hn to kesa lgta ha? Fiza: bohat…acha Me: abi kru Us ne sharma k han mein sir hila dia Me: ap b to mere lun ko munh mein len na…ise choosen Fiza: nai na Hum 1 dosre ki taraf munh kr k laite hue the Ma utha aur apna chehra us ki phuddi k pas le aya aur us ki thighs khol di Ab mera lun fiza k chehre k pas tha Ma ne us ki phuddi k daane ko honton mein lia aur usay chooste hue us pe zuban pherne lga to us ka jisam kamp gya Fiza: uuuffff…faiziiii….aaahhhh Us ne apni phuddi mere chehre pe dabayi aur mere lun ko hath mein le lia Ma us ki gaand ko hathon mein le k us ki phuddi ko chaat aur choos raha tha Me: munh mein len..plz Ma ne us ki phuddi se munh hataya Aur phir muje apna lun fiza k garam munh mein jata feel hua Ma aur b josh se us ki phuddi ko chaatne lga aur jese he meri zuban us ki phuddi k sorakh se andar bahir hone lgi fiza ne b sir agay peeche kr k mere lun ko choosna shuru kr dia Fiza: mmm..mmm…hunhmmm…mmmm Us ki phuddi ko phela k ma andar tk apna zuban dorane lga Aur fiza b utne he josh se mera lun choos rai thi Kuch der baad us ne mera lun apne munh se nikala Fiza:faizi…ab aa b jao… Wo hamp rai thi Ma jldi se utha aur fiza ne seedhi ho k apni thighs khol di Ma ne lun us ki phuddi k sorakh pe rkha aur 1 bar mein he us k andar utaar dia Fiza: hayeeee…..uuufff…… Ma itna garam ho chuka tha k ma tezi se apna lun us ki phuddi se andar bahir kr raha tha Fiza: han…han..aise he…oooohhhh…mmmmm…ssiiiii…. Us ki phuddi andar se bohat garam ho rai thi Me: maza…a raha…ha.. Fiza: han..han..bohaat…aaahhhh… Hum dono he itne garam ho chuke the k 7 8 mint baad he us ki phuddi ne pani chhora dia aur ma ne apne lun ka pani us ki phuddi k lips main nikaal dia Fiza: muje b..gnda..bna dia..gnde.. Wo apni saansen sambhalne ki koshish krte hue boli aur ma hansne lga ‘’dera pe kitna kam reh gya ha?’’ Wapsi pe hashoo ne puchha Me: next time ayen ge to complete hoga Hashoo: wese yar yaqeen nai ata k majid kitna badal gya ha Me: han yar… Hashoo: 1 baat muje chain nai leni de rai faizi Me: wo kya? Hashoo: agar abba waqae baba k qatal mein involve hua to…. Me: tu is baat ki zehen se nikal kyu nai deta yar…bs kr de Hashoo: koshish to krta hn Me: bs ayenda ma yeh baat tere munh se na sunu Hashoo: acha wo jo paise nile the abba ki almari se Me: wo bank mein jama krwa de…kbi kam ayen ge Hashoo: meri 1 baat maane ga? Me: han bol Hashoo: ma un paison se atleast apni uni ki fee to de skta hn na…ma rahun gat ere sath he… Ma ne gari road ki side pe lga di Me: hashoo muje 1 baat bta…kbi baba ne tuje muj se kum samjha? Hashoo: bilkul b nai Me: kbi tuje aisa lga ho k ma tera bhai nai raha ab? Hashoo: kbi b nai Me: shuru se he baba ne tere aur mere liye 1 jesi parhae rkhi…1 he school 1 he college aur 1 he university…jese baba k hote hue chal raha tha ma chahta hn sb wese he chale..her maamle mein…jb teri studies complete hojayen gi to tu jo chahe krna Hashoo: theek ha bhai..ma to bs… Me: baat khatam Ma ne gari agay barha di ‘’hashoo café mein ha’’ Ma hashoo k pas us k deptt k café mein he ja raha tha aur yeh awaz hania ki thi Ma ne apne dayen taraf dekha to wo book le k 1 bench pe bethi hui thi Me: thnx Ma 1 nazar us pe daal k agay barh gya ‘’ kya kru ma tumhara’’ Yeh sochte hue ma ne rida ko andar ane ka raasta dia...wo constantly muje msg krti rehti thi lekin ma ne kbi reply he nai kia tha Aj wo shalwar kameez mein thi Rida: ap ne to ana nai hota hamari taraf…ma ne socha ma he chakkar lga lu Wo sofa pe beth k boli Me: frend ki taraf ayi thi? Rida: yup Me: kya khao gi? Rida: apko Wo hansi aur us ki boldness pe ma 1 bar phir heran hogya ‘’aise ha to aise he sahi’’ Ma ne tng aa k socha socha Me: kahan se khao gi? Ma ne us ki ankhon mein dekha Rida: jahan se mera dil kre ga Me: soch lo…tum bohat agay jana chahti ho Rida: soch lia Wo b meri ankhon mein dekh k boli Me: kya chahti ho? Rida: ap se dosti Me: dost to hum hn he …cousin jo hue Rida: ap shayed is baat se dar rai hn k ma hina ki behen hn…ma wesi nai hn Me: acha dekhte hn…abi mera frend apne room mein ha Rida: ok..lekin mere msg ka jawab zarur dia kren Yeh keh k wo uthi aur chali gae Her raat ki tarah mere zehen mein afzal he tha ‘’baba ka asli qatil to afzal he ha na…aur wo abi tk wese he phir raha ha…lekin us ko kese….?’’ Phir mere zehen mein 1 idea aa he gya jis ka result ane k chances bohat he kum the aur muje yeh b lg raha tha k shayed ma ghalati krne ja raha hn ‘’ziada se ziada kya ho ga?pata chal jaye ga mera?dekha jaye ga jo ho ga’’ Ma ne usi waqt majid ka number milaya ‘’majid soye to nai the abi?’’ Majid: nai nai…kaam krwa raha hn…bs 2 din ka kam reh gya ha Me: yar rest b kr lia kr Majid: wo b kr he leta hn time nikal k Me: acha yar 1 kaam kr…sheher se 1 almari le aa aur usay dera k kisi kamre mein rkh de.. Majid: theek ha ma subah he mangwa leta hn Me: 1 kam aur b krna ha..wo..us almari ko sharab se bhar de..zara ache brand ki ho.. Majid: acha Wo heran sa lg raha tha Me: mere liye nai ha yar…bs kisi k liye…tuje pata chal jaye ga Majid: theek ha koi masla nai Me: ma paise bhej deta hn Majid: jo dera k liye tum ne diye the us mein se b kafi bch gye hn ma ne hisab likha hua ha sara Me: chal theek ha Ma ne call bnd kr di aur phir se isi bare mein sochne lga
  17. 2 likes
    محترم کہانی بہت اڄھی جا رھی ھے
  18. 2 likes
    waaaaaaaaaahhh Sheikhoooo jeeee,,, kamaaaall kr dittaa jay,,,,
  19. 2 likes
    آپس کی بات ہے سٹوری اچھی ہے بلکہ اب تو سیکس کی بجائے دوسرا حصہ زیادہ اچھا لگتا ہے۔۔
  20. 2 likes
    very nice update . xhekho g Tabeyat theak aay na. update thori late di hai. jnab apna khyal rakha kro or hamara b. jaldi jaldi update diya krain. take care ummmah love you dear
  21. 2 likes
    update update update . xhekho g jaldi krain nasga toot raha hai
  22. 2 likes
    update.. ..صبح مجھے جنجھوڑ کر اٹھاتے ہوے ضوفی کی مُدھ بھری آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اٹھ بھی جاو جان اور کتنی دیر سونا ھے دس بج چکے ہیں ۔۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو میری آنکھوں کے سامنے میری صبح کا سورج چمک رھا تھا ۔ میں نے ایک سیکسی سی انگڑائی لی اور ضوفی کو بازوں سے پکڑ کر اپنے اوپر کھینچ کر لیٹا لیا اور بازوں میں کس کر ساری سستی ضوفی پر اتاری ضوفی ھاےےےےےے کر کے رھی گئی اور میرے بازو ڈھیلے ھوتے ھی جلدی سے میرے اوپر سے اٹھ کر دروازے کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ تم بھی نہ یاسرکوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔۔ میں نے اٹھتے ہوے کہا ایسے مواقع کون سا روز روزملتے ہیں جو میں لاپروائی کر کے ان قیمتی مواقع کو ہاتھ سے جانے دوں ۔ ضوفی ہنستے ھوے بولی باتوں میں ویسے تم سے کوئی نہیں جیت سکتا ۔ چلو شاباش اٹھو جلدی سے اور تیار ھو جاو پہلے ھی بہت دیر ھوگئی ھے تین دفعہ جناب کو اٹھا کر گئی ھوں ۔ مگر جناب گھوڑے بیچ کر سوے ھوے تھے ۔ اب پھر نہ سوجانا میں ناشتہ لینے جارھی ہوں اور میرے آنے تک تم تیار ھو۔۔۔ میں نے فرمانبرداری سے جھکتے ھوے کہا جو حکم سرکار کا ۔۔ ضوفی کے یوں رعب جھاڑنے اور ڈانٹنے میں بھی اپنا پن تھا جس پر میں فدا ھوجاتا تھا ۔ ضوفی مسکراتی ھوئی کمرے سے نکل کر نیچے چلی گئی اور میں نے کلاک کی طرف دیکھا تو واقعی دس بج چکے تھے میں جلدی سے واش روم کی طرف بھاگا اور نہا دھو کر فریش ھوکہ باہر نکلا اور ضوفی کے آنے سے پہلے ھی کپڑے تبدیل کرکے بال بنا کر سیڑیاں اترتا ھوا نیچے چلا گیا آنٹی ٹی وی لانج میں بیٹھی ہوئیں تھی مجھے دیکھ کر انکے چہرے پر محبت اور شفقت بھری مسکراہٹ آئی میں نے آنٹی کو سلام کیا اور ان سے سر پر پیارلیا اور ڈھیر ساری دعائیں لے کر انکے پاس ھی بیٹھ کر انکی صحت کے بارے میں پوچھنے لگ گیا ۔ آنٹی نے بتایا کہ اب انکی طبعیت ٹھیک ھے بس کبھی کبھی بلڈ پریشر کبھی لو ھو جاتا ھے تو کبھی ہائی ۔۔ میں نے آنٹی کو کہا کہ کسی دن میرے ساتھ ہسپتال چلیں آپ کا اچھی طرح چیک اپ کروا کر لاوں گا ۔۔ مگر آنٹی ٹال مٹول کرتی رہیں اتنے میں ضوفی ناشتہ لے آئی میں نے ماہی کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ کالج چلی گئی ھے ۔ میں ہممم کر کے ناشتہ کرنے میں مصروف ھوگیا اور ساتھ ساتھ آنٹی سے دکان اور مال کی باتیں ہوتیں رہیں ۔ کچھ دیر بعد ہم دونوں مارکیٹ کی طرف چل دیے مارکیٹ پہنچے تو دکان کے باہر جنید بیٹھا ہوا تھا ۔۔ مجھے ضوفی کے ساتھ دیکھ کر چونک کہ کھڑا ھوگیا اور منہ کھولے حیرانگی سے پھٹی آنکھوں سے کبھی میری طرف دیکھتا تو کبھی ضوفی کی طرف ضوفی نے بھی یہ بات نوٹ کی اور مجھے کہنی مار کر جنید کی حالت کیطرف متوجہ کیا میں تو پہلے ھی اسکی طرف دیکھ رھا تھا ۔۔ ضوفی سیدھی نیچے بیسمنٹ میں اتر گئی ۔ جبکہ میں باہر دکان کی طرف بڑھا جہاں جنید کھڑا اب بھی سیڑھیوں کی طرف دیکھ رھا تھا ۔ میں نے جاکر اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا اوربولا ۔ سالیا بس وی کر کے ہن نظر لانی اے ۔۔ جنید ایکدم چونک میری طرف دیکھتے ھوے بولا ۔ گانڈو توں کی شےایں ۔ روز ای کوئی نہ کوئی حیران پریشان کرن والا کم کری جاناں ایں ۔۔ میں نے کہا ۔ چل دکان کھول کر اندر چل کر بات کرتے ہیں ۔ اور میں نے جیب سےچابیاں نکالیں اور دکان کا شٹر آدھا کھول کر اندر داخل ھوا اور جنید بھی میرے پیچھے ھی اندر داخل ہوگیا ۔۔ اندر جاتے ھی جنید نے میری گردن کو دبوچ لیا اور بولا سالیا کلا ای موجاں ماری جاناں ایں ۔۔۔ اس سے آگے جنید کچھ بولتا کہ میں نے جھٹکے سے گردن چھڑوائی اور اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے آگے بولنے سے روکتے ھوے بولا ۔ بسسسسسس اگے کش نہ بولیں اے تیری پرجائی اے سمجھیا ۔۔ جنید بولا مگر یار یہ تو وہ ھی ھے نہ پالر والی جو ہمارے محلے میں رہتی ھے جسکی ہم اس دن بات کررھے تھے ۔۔ میں نے کہا ہاں یاروہ ھی ھے ۔ مگر اسکے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ یہ تیری بھابھی اور میری عزت ھے ۔۔ جنید حیران پریشان ھوتا ھوا دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر کرسی پر ڈھے گیا ۔۔۔ میں اسکی حالت دیکھ کر ہنستے ھوے بولا ۔ پانی پلاواں ۔۔ جنید بولا سالیا پانی دیا ۔ اے کدوں دا چکر چلن دیا اے جیڑا گل ایتھوں تک وی پونچ گئی ۔۔ میں نے کہا یار صبر تے کر سب کُش دس دیناں ایں مرن والا کیوں ہوگیاں ایں ۔ .جنید بولا ماما توں کم ای ایویں دے کرنا ایں اک دم ای چن چڑاناں ایں ۔۔۔ میں ہنستے ھوے جنید کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا اور اسکو مختصراً یہ بتا دیا کہ میں اور ضوفی ایک دوسرے سے سچا پیار کرتے ہیں اور عنقریب ہم شادی کرنے والے ہیں ۔ ُاور ضوفی نہایت شریف اور خاندانی لڑکی ھے بس مجبوری سے بےچاری پارلر کا کام کرتی ھے جو شادی کے بعد چھوڑ دے گی ۔۔ جنید بولا یار وہ سب تو ٹھیک ھے میں یہ بھی جانتا ھوں کہ یہ واقعی بہت شریف ھے کیونکہ میں تو اسکو بچپن سے جانتا ھوں مگر یہ تیرے چکر میں آئی کیسے ۔ اس نے تو بڑے بڑے مگرمچھوں کو گھاس نہیں ڈالی ۔ میں نے کہا بس یار نصیب کی بات ھے اوپر والے نے ہم دونوں کی جوڑی بنانی تھی سو ایک دوسرے کے دل میں محبت پیدا کردی ۔۔ کافی دیر بحث مباحثے کے بعد میں نے جنید کو یقین دلا ھی دیا کہ واقعی ضوفی اورمیں شادی کرنا چاھتے ہیں ۔ جنید اس بات کو لے کر کافی دیر مجھ پر برستا بھی رھا کہ اسے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔ میں نے ضوفی کی دنامی اور اس کی دی ھوئی قسموں کا بہانہ بنا کر جنید سے سوری کر کے اسکو منایا ۔۔ بارہ بجے ریڑھی پر بلٹی آگئی ۔۔ پلے دار نے مال کے بورے اور سٹیچوؤں کی پیٹیاں اور کچھ کارٹن وغیرہ دکان کے اندر رکھے ۔۔ میں نے ریڑھی والے کو بلٹی کے پیسے دے کر روانہ کیا اور پھر آدھا شٹر نیچے کر کے ۔ میں اور جنید بورے کھول کر اندر سے شاپر نکالنے لگ گئے ۔۔ اور ساتھ ساتھ ہنسی مزاق بھی کرتے رھے ۔۔ پھر ہم نے سٹیچووں کی پیٹیاں کھولیں اور جہاں جہاں سٹیچوں رکھنے تھے وھاں سیٹ کیے جنید گانڈو لڑکیوں کے سٹیچووں کے ساتھ کھڑمستیاں کرتا رھا کبھی انکے مموں کو پکڑتا کبھی انکی گانڈ پر ھاتھ پھیرتا تو کبھی انکے ساتھ جپھیاں ڈالتا ۔ میں اسکی حرکتیں دیکھ دیکھ کر ہنسی جارھا تھا ۔ ایسے ھی ہنسی مزاق کے دوران ہم نے دکان کے اندر کافی حد تک سیٹنگ کرلی ہمیں وقت کا تب احساس ھوا جب باہر اندھیرا ھونا شروع ھوگیا ۔۔ میں نے ٹائم دیکھا تو سات بج چکے تھے میں نے جنید کو کہا کہ یار باقی کا کل کر لیں ابھی تیری بھابی کو گھر بھی چھوڑنے جانا ھے اور میں نے گاوں بھی جانا ھے۔۔ جنید نے بہت کہا کہ یار کل جمعہ ھی ھے ساری رات میں سیٹنگ مکمل کرلیں گے اور کل چھٹی ھی ھے دن ٹائم سو کر نیند پوری کرلیں گے میں نے کہا نہیں یار پہلے ھی کل کی تھکاوٹ نہیں اتری ۔ کچھ دیر ہماری بحث چلتی رھی آخر کار جمعہ کو دن کے وقت بقیہ سیٹنگ کرنے اورہفتہ کو بوتیک کا افتتاح کرنے کا ڈن ھوا اور ہم دکان سے باہر نکلے اور شٹر بند کیا جنید ضوفی کے متعلق مجھے چھیڑتا ھوا اپنے گھر کی طرف چل دیا اور میں نیچے سیڑیاں اترتا ھوا پارلر کی طرف چلدیا ۔۔ پارلر بند کر کے ہم اوپر آے تو ضوفی نے دکان کی سیٹنگ دیکھنے کا کہا میں نے شٹر کھولا اور ہم بوتیک میں داخل ھوے ضوفی دکان کے اندر داخل ہوکر چاروں اطراف دیکھتے ھوے بہت خوش ہورھی تھی بوتیک کا فرنیچر اور سیٹنگ اور ورائٹی دیکھ کر ضوفی تعریفوں کے پل باندھی جارھی تھی ۔ اور میری محنت لگن اور پرچیزنگ کو سراہ رھی تھی ۔۔ کچھ دیر ہم بوتیک میں رھے اور پھر دکان بند کر کے میں ضوفی کو گھر چھوڑنے چلا گیا کچھ دیر ضوفی کے گھر ٹھہرنے کے بعد میں واپس اپنے گھر گاوں آگیا۔۔ امی ابو آپی بھا مجھے مبارکیں دے رھے تھے میں نے انکو ہفتہ کو بوتیک کے افتتاح پر آنے کا کہا آپی اور امی کو میں نے اگلے دن ھی جمعہ کو بوتیک دیکھنے کا کہا ۔۔ . اور امی کے کان میں انکو انکی بہو سے ملوانے کا بھی کہہ دیا ۔۔ اگلے دن میں امی اور آپی کو تانگے پر لے کر سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا اور امی کو راستے میں ھی بتا دیا کہ ہم پہلے ضوفی کے گھر جائیں گے آپ اسکی امی کی خیریت بھی دریافت کرلینا اور اپنی بہو سے بھی مل لینا، اور آپی کو بھی ساری تفصیل بتا دی ۔ اور اسکو سختی سے منع بھی کردیا کہ ابھی یہ بات کسی سے نہیں کرنی ۔ خاص کر آنٹی فوزیہ اور انکی بیٹیوں سے ۔ امی نے بھی آپی کو سختی سے منع کردیا ۔ خیر تانگہ ضوفی کے گھر کے سامنے رکا ہم سب تانگے سے نیچے اترے ۔۔ میں نے ڈور بیل دی تو ضوفی کی آواز آئی کون ۔۔ میں نے دروازے کے پاس منہ کر کے آہستہ سے کہا مگر تیز تیز کہا۔۔ تمہارےسسرال والے آے ہیں جلدی دروازہ کھولو۔۔ امی نے پیچھے سے میری گردن پر تھپڑ مارا کہ کتنے بتمیز ھو ایسے بولتے ہیں ۔ .اتنی دیر میں ضوفی نے دروازہ کھولا اور غصے سے میری طرف دیکھ کر کچھ بولنے لگی کہ اسکی نظر امی اورآپی پر پڑ گئی ضوفی وہیں گُنگ ہوکر کھڑی آنکھیں پھاڑے کبھی میری طرف دیکھتی کبھی امی لوگوں کی طرف ۔۔ میں نے ضوفی کی حالت دیکھی اور اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے ھوے بولا ۔۔۔ ہیلووووو تمہاری ساس اورنند ہیں ۔۔۔ پریشان کیوں ہوگئی ہو ۔۔ ضوفی ایک دم سکتے سے باہر آئی اور سارے جہاں کی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ھوے امی اور آپی کو اندر آنے کا کہا ۔ اوردروازے کے اندر داخل ہوتے ھی امی اور آپی سے بڑی گرمجوشی سے گلے ملی ۔۔ میں بعد میں اندر داخل ھوا آپی سے ملنے کے بعد ضوفی نے میری طرف گھور کر دیکھا تو میں بھی باہیں کھول کر ضوفی کے گلے ملنے کے لیے آگے بڑھا تو آپی منہ پھاڑے مجھے دیکھنے لگ گئی اور ضوفی شرما کر سر نیچے کیے انکو لے کر اندر چلی گئی ۔۔ امی اور آپی کو دیکھ کر تو ضوفی کے پاوں زمین پر نہیں لگ رھے تھے ۔۔ خوشی کے مارے وہ نہال ہوئی جارھی تھی ۔۔ امی اور آپی کو اندر بیٹھا کر ضوفی آنٹی کو کمرے سے لینے چلی گئیں کچھ ھی دیر میں آنٹی بڑی خوش دوڑتی ھوئی کمرے سے باہر آئہی اور بڑی گرمجوشی سے امی اور آپی سے ملیں ضوفی کچن میں گئی میں بھی اسکے پیچھے ھی کچن میں چلا گیا موقع ملتے ھی ضوفی مجھ پر برس پڑی کے کم ازکم مجھے پہلے بتا تو دیتے کہ امی نے آنا ھے یوں اچانک ۔۔۔۔۔ میں نے بات کاٹتے ھوے کہا کچھ نہیں ہوتا بغیر میک اپ کے اگر تمہیں دیکھ لیا ۔۔ ضوفی میرے کندھے پر مکا مارتے ھوے بولی ۔ الو میں اس لیے کہہ رھی تھی کے گھر کی صفائی وغیرہ کرلیتی سب کچھ بکھرا پڑا ھے ۔ میں نے کہا جان وہ تمہیں دیکھنے آے ہیں گھر کو نہیں ۔ اور پھر میں نے ساتھ ھی پلٹی مارتے ھوے ضوفی کو چھیڑا کہ ویسے بھی امی آنٹی کی خبر لینے آئیں ہیں ۔۔۔ تم ذیادہ خوش نہ ھو ۔۔۔ ضوفی گلاس مجھے مارنے کے سٹائل سے میری طرف بڑھی تو میں پلٹ کر پیچھے بھاگا اور کچن سے نکل کر امی اور آنٹی کے پاس جا بیٹھا ۔ امی مجھے گھورے جارھی تھی ۔ کہ میں ایسے بھاگا پھر رھا ہوں جیسے اپنا گھر ہو۔ میں امی کے گھورنے پر بڑا شریف بچہ بن کر سر جھکا کر بیٹھ گیا۔۔۔ امی اور آنٹی کچھ ھی دیر میں کافی گُھل مل گئیں تھیں ضوفی نے پہلے کولڈ ڈرنک پیش کی اور کچھ دیر امی کے پاس بیٹھ کر امی کا حال احوال پوچھتی رہی ضوفی بڑے سلجے انداز میں امی اور آپی کو ٹریٹ کر رھی تھی اور کچھ دیر بعد ضوفی کھانا بنانے کا کہہ کر آپی کو ساتھ لے کر کچن میں چلی گئی ۔ ماہی کالج گئی ھوئی تھی ۔ ورنہ وہ بھی امی اور آپی کو مل کر بہت خوش ہوتی ۔۔ آنٹی امی کے سامنے میری تعریفوں کے پُل باندھی جارھی تھی ۔ میں مزید کچھ دیر بیٹھا اور پھر امی اور آنٹی کو دکان کی سیٹنگ کا بتایا کہ ابھی کچھ کام رہتا ھے اور آج جنید نے بھی آنا تجا وہ انتظار کر رھا ھوگا اس لیے میں چلتا ھوں آپ لوگ باتیں کریں اور پھر ان سے اجازت لے کر کچن میں گیا اور ضوفی کو کہا کہ جب فری ھوجاو تو سب کو لے کر بوتیک پر آنا ۔۔۔ .ضوفی نے اچھا جی کہا ۔۔ اور میں اسے آنکھ مار کر کچن سے باہر نکل گیا باہر نکلتے وقت میری نظر جب آپی پر پڑی تو آپی ہاتھ منہ پر رکھے ہاےےےےے ***** کر رھی تھی ۔۔ میں ہنستہ ھوا باہر دروازے کی طرف بڑھا اور پھر گلی میں نکل کر دکان کی طرف چل دیا ۔۔۔ دکان پر پہنچا تو جنید پہلے سے وھاں موجود تھا ۔ مجھے دیکھ کر ایڑیاں اٹھا کر میرے پیچھے دیکھتے ھوے بولا بھابھی نہیں آئی ۔۔ میں نے امی اور آپی کا بتایا کہ وہ کچھ دیر بعد ان کے ساتھ آے گی دکان دیکھنے ۔۔ جنید بڑا حیران ھوکر بولا واہ جی واہ تے گل ایتھے تک پہنچ گئی اے ۔اب امی اور آپی بھی بھابی کو دیکھنے پہنچ گئیں ۔۔ میں نے کہا بس دیکھ لو یار اوپر والا جب مہربان ہوتا ھے تو سب ٹھیک ہو جاتا ھے ۔ جنید نے مجھ سے چابی لے کر دکان کا شٹر کھولا ۔ دوستو جنید کا یوں میرے دکان پر آنے کا انتظار کرنا اور جب وہ دکان کے تالے کھول رھا تھا تو مجھے اپنے دن یاد آگئے کہ میں کیسے انکل کا انتظار کیا کرتا تھا اور ان سےچابیاں لے کر دکان کھولا کرتا تھا ۔۔ اوپر والے کا شکر ادا کیا جس نے اتنی جلدی عزت سے نوازہ ۔۔میں جنید کے پیچھے دکان میں داخل ہوا اور صفائی کرنے لگا تو جنید بولا رہنے دو میں کر لیتا ھوں ۔ جنید کی بات سن کر میں ہنستے ھوے بولا نہیں یار میں اپنی اوقات نہیں بھولنا چاہتا اور ہاں تم کبھی بھی مجھ میں اور اپنے آپ میں فرق نہ سمجھنا جیسے ہم پہلے دوست تھے اب بھی ویسے ھی ہیں ۔ میں تمہیں ملازم نہیں بلکہ اپنا بھائی سمجھ کر رکھا ھے ۔۔ جنید میرے پاس آیا اور مجھ سے جپھی ڈال کر بولا ۔ شکریہ یار جو تم نے مجھے اتنی عزت دی ۔۔ میں نے بھی اسکو بازوں میں کسا اور بولا ۔ بس یہ بات ذہن نشین کرلو کہ یہ تمہاری اپنی دکان ھے اور ہم نے مل کر اسے سٹینڈ کرنا ھے ۔۔ جنید بولا ۔ بلکل اوپر والے نے چاھا تو بہت جلد ہماری دکان کا نام ھوگا ۔۔۔پھر ہم ایک دوسرے سے علیحدہ ھوے اور جو سیٹنگ رھ گئی تھی وہ سیٹنگ کرنی شروع کردی ۔ کام میں وقت کا ھی پتہ نہیں چلا ۔کہ کب ایک بج گیا *****،کی آواز سن کر جنید بولا یار میں نے جمعہ پڑھنا ھے ۔ میں نے کہا ٹھیک ھے یار کام تو مکمل ھوچکا ھے تم ایسا کرو گھر چلے جاو اور میں نے امی لوگوں کا انتظار کرنا ھے ۔ جنید نے یممم کیا اور مجھ سے مل کر گھر چلا گیا ۔۔ میں دکان کی صفائی کرنے لگ گیا جو شاپر وغیرہ بکھرے پڑے تھے انکو اٹھانے میں مصروف ھوگیا ۔۔ ایک گھنٹے بعد بوتیک کا شیشے کا دروازہ کھلا اور پہلے امی اندر داخل ہوئیں اور آنکھیں پھاڑے حیران پریشان بوتیک کو چاروں طرف دیکھنے لگ گئی امی کے پیچھے آنٹی اور پھر آپی اور ماہی ضوفی ۔۔۔ سب کے سب بوتیک کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہورھے تھے امی اور آنٹی نے میرا ماتھا چوما اور ڈھیر ساری دعائیں دینے لگ گئیں نازی ماہی ضوفی بھی مجھے مبارکباد دینے لگ گئیں ۔۔۔ .سب ھی بہت خوش تھے ۔۔۔ میں انکو بیٹھا کر باہر دے کولڈ ڈرنک لے آیا اور کافی دیر ہم ہنسی مزاق کرتےرھے ۔ امی اور نازی آنٹی لوگوں سے ایسے گھل مل گئے تھے جیسے ایک ھی فیملی ھو ۔۔۔ نازی بار، بار مجھے ضوفی کی طرف آنکھوں سے اشارے کر کے ھاتھ سے بہت پیاری ھے کہہ رھی تھی ۔ ناذی ماہی اور ضوفی کے ساتھ ایسے فرینک ہوگئی تھی جیسے وہ انکی کزنیں ھوں ۔۔ .۔۔ ماہی بولی بھائی اب تو آپ کی طرف پارٹی بنتی ھے خالی بوتلوں سے ہمیں نہ ٹرکا دینا ۔۔ میں نے کہا جب کہیں کھلا دوں گا ۔۔ آنٹی ماہی کو جھڑکتے ھوے بولی ۔ شرم کرو ماہی ابھی اسکو کام تو شروع کرنے دو ۔۔ امی بیچ میں بولیں ۔۔ آپاں پھر کیا ھوا وہ اتنے پیار اور مان سے کہہ رھی ھے ۔ ایسا کرتے ہیں کل آپ ہماری طرف آئیں سب ۔ ہمارا گاوں بھی دیکھ لینا اور ہمارا غریب خانہ بھی ۔۔ آنٹی بولی جی ضرور آئیں گے کیوں نہیں مگر کل تو مشکل ھے اگلے جمعہ کو ہم آپکے گھر آئیں گے تب ضوفی اور یاسر کو بھی چھٹی ھوگی ۔۔۔ سب نے یہ تجویز پسند کی ۔۔ ضوفی ورائٹی دیکھ دیکھ کر بہت ھی خوش ھو رھی تھی اور میری پسند کی داد دے رھی تھی ۔۔ کہ اتنے کم پرائس میں اتنی عمدہ ورائٹی ۔۔۔ خیر شام تک سب دکان میں ھی رھے پھر امی نے جانے کی اجازت مانگی تو میں دو رکشے لے آیا دکان بند کی اور ضوفی کو صبح افتتاح کرنے کا کہا ضوفی نے میری بات سمجھتے ھوے چپکے سے میری پینٹ کی جیب میں پیسے ڈال دیے ۔۔ پھر ہم گاوں آگئے اور آنٹی لوگ اپنے گھر چلے گئے ۔ امی اور نازی آنٹی لوگوں سے مل کر بہت خوش تھیں سارے رستے ان سب کی تعریفیں کرتی رہیں ۔۔۔گھر آکر بھی انکی ھی باتیں ہوتی رہیں ۔۔ امی نے ابو کو جب دکان کی سیٹنگ اور ورائٹی کے بارے میں قصیدے سناتے تو ابو بھی بہت خوش ھوے ۔۔۔۔ میں کچھ دیر گھر رہنے کے بعد آنٹی فوزیہ کے گھر انکو دکان کی خوشخبری سنانے چلا گیا ۔ .No 2 آنٹی کے گھر پہنچا تو انکا دروازہ بند دروازہ ناک کیا تو کچھ دیر بعد آنٹی کی آواز آئی کون میں نے کہا آنٹی یاسر ہوں ۔۔ آنٹی نے دروازہ کھولا اور بڑے موڈ میں بولی مل گیا ٹائم آگئی یاد ۔۔میں ہنستا ہوا اندر داخل ھوا اور آنٹی کی گالوں پر چٹکی کاٹ کر ہلاتے ھوے بولا ۔ آپ کو خوشخبری سنانے آیا ھوں ۔۔ آنٹی ہاےےے کرتی ھوئی اپنی گالوں سے میرے ہاتھ ہٹاتے ھوے بولی ۔۔ شادی تونہیں کروانے لگے ۔۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا لو جی ابھی اپنے پاوں پر تو کھڑا ھوجاوں پھر شادی کا بھی سوچیں گے ۔۔ آنٹی دروازہ بند کرتے ھوے آہستہ سے بولی ۔ سب کچھ تو کھڑا ہوگیا ھے اور اب کیا کھڑا کرنا باقی ھے ۔۔ میں بولنے ھی لگا تھا کہ نسرین کمرے سے نکل کر باہر آتے ھوے بولی امی کون ھے باہر۔۔۔اور مجھ پر نظر پڑتے ھی مجھے گھور کر دیکھتے ھوے بولی ۔۔ امی یہ کون اندر آگیا ۔۔ میں چلتا ھوا نسرین کے پاس پہنچا اور بولا ۔۔ نظر کمزور تھی پہلے لگتا ھے اب رہتی نظر چلی گئی ھے ۔ نسرین بولی او پائی کون ایں کدر منہ چُک کے اندر وڑی جاناں ایں ۔۔۔ آنٹی میرے پیچھے ہنستے ھوے بولی ۔۔ ویسے تمہارے ساتھ ہونا ایسے ھی چاہیے ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی آپکا اعتراض بنتا ھے آپکا غصہ بھی بجا ھے ۔ مگر پہلے مجھے کچھ کہنے کا موقع تو دیں ۔۔ نسرین بولی ہم تمہیں جانتے ھی نہیں تو پھر بات کیوں سنیں ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا بکواس بند کرو آئی وڈی کار دی مالکن ۔۔۔ اور میں یہ کہتا ھوا کمرے میں داخل ھوگیا نسرین میرے پیچھے آئی اور میرا بازو پکڑتے ھوے مجھے روکتے ھوے بولی ۔ او ہیلو پائی کدھر منہ اٹھاے کمرے میں جارھے ھو ۔۔۔۔ مجھے اب واقعی غصہ آگیا تھا ۔۔ میں نے غصے سے نسرین کی طرف دیکھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے بازو سے جھٹک دیا اور غصے سے واپس باہر کیطرف چل دیا ۔۔ آنٹی نے مجھے یوں غصے سے جاتے ھوے دیکھا تو ۔ نسرین کو گالیاں دیتی میرے پیچھے بھاگی اور مجھے بازو سے پکڑ کر واپس کمرے کی طرف کھینچتے ھوے لیجانے لگی ۔۔ شور سن کر عظمی بھی کمرے سے باہر آگئی ۔۔۔ نسرین بھی مجھے غصے میں دیکھ کر شرمندہ سی ہوگئی ۔۔ آنٹی مجھے کھینچتے ھوے کمرے میں لیجانے لگی ۔۔ میں بھی نخرے کرتا ھوا آنٹی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوگیا۔۔ آنٹی مجھے کمرے میں پڑی لکڑی کی کرسی پر بٹھاتے ھوے بولی ۔ آرام سے بیٹھ جا اب ۔ اس کُتی کے بھونکنے کی وجہ سے موڈ خراب کررھے ھو پتہ تو ہے تمہیں اسکا منہ پھٹ ھے ۔۔ مجھے نسرین پر بہت غصہ چڑھی جارھا تھا نہ جانے کیوں ۔ پہلے بھی نسرین میرے ساتھ ایسے ھی کرتی تھی پہلے میں نے کبھی بھی اسکی بات کا برا نہیں مانا تھا ۔۔ مگر آج مجھے پتہ نہیں کیوں اپنی بےعزتی محسوس ہوئی ۔ نسرین بھی سر جھکائے میرے سامنے کھڑی تھی اوراسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رھے تھے ۔ میں سر جھکائے چپ کر کے بیٹھا اپنے ہلتے پاوں کی طرف دیکھی جارھا تھا ۔۔ آنٹی نے عظمی کو چاے بنانے کا کہا تو میں نے چاے پینے سے انکار کردیا ۔۔ مگر انٹی نے مجھے ڈانٹتےھوے کہا اب بس بھی کرو اتنا غصہ بپردوں صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا ۔۔۔ میں نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا نہیں آنٹی ایسی بات نہیں میں گھر سے چاے پی کر ایا ھوں ابھی دل نہیں کررھا ۔۔ انٹی نے عظمی کو ڈانٹتے ھوے کہا تینوں سُنیا نئی ہالے تک اوتھے ای بُن وٹا بن کے کھڑی ایں. چھیتی جا تے ویر واسطے چا بنا کہ لیا۔۔۔ آنٹی کے منہ سے ویر سن کر میں نے چونک کر عظمی کی طرف دیکھا تو عظمی میری نظر کو محسوس کرکے شرمسار سی ھوکر باہر چلی گئی ۔۔ نسرین ابھی تک وہیں دروازے کے پاس بت بنی کھڑی تھی آنٹی نے نسرین کی طرف دیکھا اور غصے سے بولیں. ہن توں ایتھے ای کھڑی رہنا اے ۔ جا بار دفعہ ھوجا جا کہ پین نال چا بنوا ۔۔۔ نسرین آنسو صاف کرتی چپ کرکے باہر نکل گئی ۔۔۔ آنٹی دوسری کرسی میرے پاس کر کے میرے ساتھ بیٹھتے ھوے میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ھوے بولی ۔ میرے شہزادے کا اب غصہ ٹھنڈا ھوا کہ نہیں میں نے خود کو نارمل کرتے ھوے مسکراتے ھوے کہا ۔ نہیں آنٹی مجھے کیوں غصہ آنا ھے آپ نے خامخواہ نسرین بیچاری کو ڈانت دیا ۔۔ آنٹی بولی یاسر یہ لڑکی بہت بتمیز ھوتی جارھی ھے بہت منہ پھٹ ھے کسی بڑے چھوٹے کا لحاظ نہیں کرتی تم بھی اچھی طرح اس پاگل کی عادتوں سے واقف ھو ابھی تک اس میں بچپنا ھے ۔۔ میں نے دل میں کہا اسکا بچپنا تو اب مجھے ختم کرنا ھی پڑے گا ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔ کوئی بات نہیں آنٹی اتنا غصہ کرنے کا حق تو اسکا بھی بنتا تھا میں بھی تو اتنے دنوں سے نہیں آیا تھا ۔۔ آنٹی بولی اچھا بتاو کون سی خوشخبری سنانے لگے تھے ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی میں نے اپنی علیحدہ دکان بنا لی ھے سلے سلاے لیڈیز سوٹوں کی ۔۔۔ آنٹی حیرت سے گنگ ھوگئی اور پھر بولی واقعی اییییییی سچ کہہ رھے ھو تم یاسر ۔ میں نے کہا قسم اے آنٹی اسی لیے تو میں اتنے دن آ نہیں سکا کل میری دکان کا پہلا دن ھے ۔۔ آنٹی خوشی سے اٹھ کر میرے منہ ماتھا چومنے لگ گئی اور دعاءیں دینے لگ گئی ۔۔ اچانک آنٹی نے سنجیدہ ھوتے ھوے پوچھا مگر یاسر تمہارے پاس اتنے پیسے کہاں سے آے ۔۔ میں نے کہا بس آنٹی جی جب اوپر والا مہربان ہوتا ھے تو بہت سے اسباب بنا دیتا ھے ۔۔ انٹی بولی وہ تو ٹھیک ھے مگر پھر بھی پتہ تو چلے کہ اسباب کیسے بنے ۔ میں نے آنٹی کو اپنے دوست کی منگھڑت کہانی سنائی ۔۔۔۔۔ آنٹی میری بین سن کر یقین کرتے ھوے بڑی خوش ہوئی اور میرے دوست کو دعاءیں دینے لگ گئی ۔۔ عظمی بھی کافی خوش ہوئی اور نسرین نے بس خاموش رہنا ھی مناسب سمجھا ۔۔ میں نے انٹی لوگوں کو دکان پر انے کی دعوت دی اور انکو دکان کا اڈریس بھی سمجھایا ۔۔ آنٹی نے کہا جب بھی بازار کا چکر لگا لازمی آئیں گے ۔۔ میں نے ہمممم کیا اور پھر کافی دیر تک ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے ۔ عظمی کسی نہ کسی بات میں حصہ لے لیتی مگر نسرین سڑی بھلی بیٹھی رھی ۔۔۔ میں نے بھی اسکو ذیادہ لفٹ نہیں کروائی ۔۔ میں نے آنٹی سے انکل کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ اسکی طبعیت نہیں سہی وہ دوائی کھا کر شام سے ھی سویا ھوا ھے ۔۔ کچھ دیر مذید بیٹھنے کے بعد میں نے آنٹی سے کہا میں چلتا ھوں آکر دروازہ بند کرلیں ۔ ساتھ ھی میں. نے اآنٹی کو آنکھ ماردی ۔۔ آنٹی بھی شاید میری آنکھ کا اشارہ سمجھ گئی تھی ۔۔ میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور صحن میں کھڑا ھوکر چاروں طرف نظریں گھما کر جائزہ لینے لگ گیا۔۔ رات ہوچکی تھی کافی اندھیرا تھا صحن میں ۔۔ آآنٹی بھی کمرے سے باہر نکل کر میرے پیچھے آگئی میں کچھ آگے گیا اور اندھیرے میں کھڑا ہوگیا آنٹی میرے پاس آئی تو مین نے انٹی کو بازوں میں بھر لیا اور کس کے جپھی ڈال لی آنٹی آہستہ سے بولی نہ کرو یاسر بچیاں جاگ رہی ہیں ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی بہت دل کررھا ھے آج کتنے دن یوگئے ہیں ۔۔۔ کچھ کرو نہ کہ ابھی میرا کام بن جاے آنٹی بولی پاگل ھوگئے ھو عطمی نسرین جاگ رہی ہیں ۔ میری نظر اچانک سیڑیوں پر پڑی ۔ اور پھر کمروں کے اوپر چاروں اطراف کیے اونچے پردوں. پر پڑی ۔۔ میں نے فٹ انٹی کو کہا انٹی اگر میں چھت پر چلا جاوں اور آپ کسی طرح چھت پر آجاو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔ آنٹی بولی پاگل مسئلہ تو بچیوں کا ھے وہ جاگ رھی ہیں ۔ میں بچوں کی طرح ضد کرتے ھوے کہا مجھے نہیں پتہ انٹی جی کچھ کرووووو۔ . آنٹی کچھ سوچتے ھوے بولی تم مرواو گے مجھے ۔ میں نے کہا کچھ نہیں ھوتا بس کچھ ھی دیر کی تو بات ھے ۔۔ آنٹی بولی چلو پھر دھیان سے اور آرام آرام سے سیڑیاں چڑھتے ھوے اوپر جانا ۔۔ اور سٹور والی چھت ہر ھی رہنا دوسرے کمرے کی چھت پر مت جانا نہیں تو بچیاں چھت پر چلنے کی آواز سن لیں گی ۔۔ میں نے مزید کس کر اانٹی کو جپھی ڈالی اور انٹی کے ہونٹوں کو چومتے ھوے تھینکیو کیا اور بڑے سلو موشن میں سیڑیاں چڑھتا ھوا چھت پر چلا گیا اور ایک طرف پردے کی چاردیواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور آنٹی کا انتظار کرنے لگ گیا ۔۔ مجھے بیٹھے آدھا گھنٹا گزر گیا مگر آنٹی کا دور دور تک نام نشان نہ تھا ۔ مجھے گھر جانے کی ٹینشن تھی گھر بھی میں ابھی آیا کہہ کر آیا تھا ۔۔ جب انتظار کی حد ھوگئی تو میں آیستہ سے اٹھا اور پردے سے سر اٹھا کر صحن میں جھانکا تو مجھے آنٹی واش روم سے نکلتی نظر آئی اور پھر آنٹی انکل کے کمرے کی طرف جاتی نظر آئی ۔۔ میں انٹی کو کمرے کی طرف جاتے دیکھ کر دل میں آنٹی کو گالیاں دینے لگ گیا کہ سالی مجھے چھت پر سوکھنے ڈال کر پھر کمرے میں گھس گئی ھے ۔ میں واپس جانے کا سوچ ھی رھا تھا کہ آنٹی کمرے سے بڑے آرام آرام سے نکل کر چلتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف آتی نظر آئی آنٹی نے ہاتھ میں کوئی کپڑا یا گدا پکڑا ھوا تھا ۔۔۔ میں خوشی سے یسسسسسسس کر کے جلدی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا ۔۔ کچھ ھی دیر بعد آنٹی چھت پر نمودار ھوئی اور تھوڑا جُھک کر چلتی ھوئی میرے پاس آئی اور ہاتھ میں پکڑا گدا کچی چھت پر بچھا دیا اور منہ پر انگلی رکھ کر شییییی کرتے ھوے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اور گدے پر بیٹھتے ھوے مجھے بھی اشارے سے بیٹھنے کا کہا۔۔۔ میں جلدی سے انٹی کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھنے لگ گیا کہ اتنی دیر کردی میں تو واپس جانے لگا تھا ۔ آنٹی بولی جو جاگ رہیں تھیں انکو سلا کر ھی آنا تھا ۔ میں نے کہا سوگئیں تو آنٹی بولی انکو جھڑک جھڑک کر سلا کر کمرے کی باہر سے کنڈی لگا کر آئی ہوں ۔۔ میں نے انکل کا پوچھا تو آنٹی نے کہا وہ تو بےہوش پڑا ھے نیند کا سیرپ پی کر ۔۔۔ میں نے انٹی کا دوپٹہ اسکے گلے سے نکال کر ایک طرف رکھا اور آنٹی اپنے لمبے بالوں کو پیچھے سے اکھٹا کر کے انپر پونی چڑھاتے ھوے پیچھے کیطرف لیٹ گئی ۔۔ میں بھی انٹی کی ٹانگوں کے بیچ آنٹی کی ٹانگوں کو پھیلاتا ھو اسکے اوپر لیٹ گیا انٹی کا نرم نرم جسم اور موٹے موٹے ممے مجھے میٹرس پر لیٹنے کا احساس دلا رھے تھے ۔۔ میں نے انٹی کے اوپر لیٹتے ھی انٹی کے ہونتوں کو اپنے یونٹوں میں جکڑ لیا اور ایک ہاتھ سے ایک مما پکڑ کر دبانے لگ گیا اور دوسرا بازو انٹی کے سر کے نیچے ڈال کر آنٹی کی گردن بازو پر رکھ لی میرا لن انڈر ویئر اور پینٹ کو ہھاڑ کر باہر نکلنے کے لیے بےچین ہوکر آنٹی کی پھدی کے اوپر دباو ڈالے ھوے تھا ۔۔ آنٹی بھی پتہ نہیں کتنے دنوں کی پیاسی تھی ۔ جو بڑے جوش سے کسنگ میں میرا ساتھ دیتے ھوے میرے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے گانڈ کو اٹھا اٹھا کر پھدی کو میری پینٹ کے ابھار کے ساتھ مسل رہی تھی ۔ کچھ دیر ہم اسی پوزیشن میں ایک دوسرے کے ہونٹ اور زبانوں کو چوستے رھے ۔۔ انٹی کی تڑپ بےچینی اور جوش بتا رھا تھا کہ آنٹی کی پھدی ایک دفعہ اپنی گرمی باہر پھینک چکی ھے ۔۔ کچھ دیر بعد میں انٹی کے اوپر سے اٹھا اور آنٹی کے بازوں کو پکڑ کر آنٹی کو اوپر اٹھایا اور آنٹی کے نہ نہ کرنے کے باوجود بھی قمیض کو پکڑ کر ذبردستی انکے بدن سے الگ کر دی آنٹی کے چٹے مموں کا اوپر والا حصہ کالی رات اور کالے بریزئیر میں چمک رھا تھا میں نے جلدی سے آنٹی کی کمر پر ہاتھ لیجا کر بریزیر کی ہک کھول کر مموں کو قید سے ازادی دلا دی ۔۔ . انٹی کے چٹے ممے اندھیرے میں بھی چمک رھے تھے ۔۔ انٹی نخرہ دیکھاتے ھوے بولی بہت تیز ھو تم یاسر کتنی جلدی میں مجھے ننگا کر کے رکھ دیا ۔۔ میں نے انٹی کے چٹے سفید ننگے کندھوں کو چوما اور کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انٹی کو پیچھے کی طرف دھکیل کر لیٹا دیا ۔۔ ہماری گفتگو سرگوشی میں ھی ھو رھی تھی ۔۔ انٹی سیدھی لیٹی تو آنٹی کے بڑے بڑے ممے انٹی کے سینے پر پھیل گئے ۔۔ میں نے اپنی شرٹ اتاری اور پھر بنیان بھی اتار کر ایک طرف رکھی اور آنٹی کے ننگے جسم کے اوپر اپنا ننگا جسم رکھ کر لیٹ گیا اور پھر انٹی کی ہونٹوں کو چوسنے لگ گیا ۔ کچھ دیر بعد ہونٹوں کو چھوڑ کر کھسکتا ھوا انٹی کے مموں کی طرف آیا اور دونوں ھاتھوں میں انٹی کے گول مٹول بڑے بڑے مموں کو پکڑ کر باری باری دونوں مموں کو چوسنے لگ گیا ۔۔ آنٹی کے بڑے سائز کے نپل فل اکڑے ھوے تھے اور انٹی مزے لے لے کر سسکاریاں بھرتے ھوے اپنے ممے چسوا رھی تھی ۔۔ مموں کو اچھی طرح چوس کر لباب سے گیلا کردیا اور پھر میں کھڑ ہوا اور جھک کر اپنی پینٹ اور انڈر ویئر اتار کر تنے ھوے لن کے ساتھ آنٹی کے ننگے پیٹ پر اپنی ننگی گانڈ رکھ کر بیٹھ گیا اور انٹی کے دونوں مموں کو پکڑ کر لن انٹی کے مموں کے درمیان گھسا دیا اور ساتھ ھی آنٹی کو ممے پکڑ کر ساتھ ملانے کا کہا ۔ آنٹی نے میری تقلید کرتے ھوے اپنے دونوں مموں کو پکڑ کر آپس میں ملا لیا اور میں آنٹی کے مموں میں لن گھسا کر گھسے مارنے لگ گیا ۔۔ انٹی کے نرم ملائم مموں کو چودنے کا مزہ ھی الگ آرھا تھا ۔ میرا ٹوپا انٹی کی ٹھوڑی کے ساتھ لگ رھا تھا اور لن روانی سے مموں کے درمیان سپیڈ سے چل رھا تھا ۔۔ آنٹی بھی اس نئے طریقہ کو انجواے کررھی تھی میں لن کو مذید اگے کرتے ھوے ٹوپا انٹی کے ہونٹوں کے پاس لے جاتا ۔ انٹی ہونٹوں کو بھینچ کر منہ ادھر ادھر کرنے لگ جاتی ۔۔ میں نے انٹی کے سر کو پکڑا اور سر کو اوپر کرتے ھوے کہا آنٹی اپنے اس دیوانے کو تھوڑا سا چوم ھی لو ۔۔ انٹی اوں ہوں کرنے لگ گئی میرے اصرار پر انٹی نے ہلکا سا ہونٹوں کو کھولا اور جب ٹوپا ہونٹوں کے پاس آتا تو انٹی ٹوپے کو ہونٹوں میں بھر کر چوسا لگا کر چھوڑ دیتی ۔ انٹی جب ٹوپے کو چوسا لگاتی میری تو مزے سے جان نکلنے والی ھوجاتی ۔۔ کچھ دیر ایسے ھی سین چلتا رھا ۔۔ پھر انٹی نے سر پیچھے کرتے ھوے کہا کہ بس یاسر تھک گئی ھوں ۔۔ میں نے بھی پیچھے ہٹنے کا سوچا اور آنٹی کے مموں سے لن نکال کر انٹی کی ٹانگوں میں گھٹنوں کے بل بیتھ گیا ۔۔۔ اور آنٹی کی شلوار پکڑ کر اتارنے لگا تو شلوار نیچے نہیں ھورھی تھی آنٹی ہنستے ھوے بولی نالا تو کھول لو ۔۔۔ میں نے غور کیا تو انٹی نے لاسٹک کی بجاے نالا باندھا ھوا تھا میں نے ٹٹول کر نالے کی گرا کا سرا پکڑا اور سرے کو ذور سے کھینچ دیا ۔ میرا تو لن پھٹنے والا ھو چکا تھا اتنے دنوں سے بیچارے کو پھدی کا دیدار بھی نصیب نہیں ھوا تھا ۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ کالیاں اگے ٹوے۔۔۔۔ ایسا ھی کچھ میرے ساتھ ھوا ۔ پھدی میں لن ڈالنے کی بے صبری اور جلد بازی میں نالے کی گرا کے دوسرے سرے کو ذور سے کھینچ دیا گانٹھ کھلنے کی بجاے مزید ٹائٹ ہوگئی ۔۔۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا لن وکھری بدعائیں دینے لگ گیا ۔۔۔ میں پھر جلدی جلدی میں گانٹھ کھولنے کی کوشش کرنے لگ گیا مگر سالی کھل ھی نہیں رھی تھی ۔۔۔ تھک ہار کر دیسی نسخہ استعمال کرتے ھوے ۔ میں پھدی کے پاس منہ لیجا کر جھکا اور پھدی سے نکلنے والی منی کی مہک کو نتھنوں میں کھینچتے ھوے نالے کی گانٹھ کو دانتوں میں لے کر ڈھیلا کرنے لگ گیا اور آخر کار کامیابی نے میرے قدم چومے اور میں نالا کھولنے میں کامیاب ھوگیا۔۔ انٹی میری جدوجہد دیکھ کر ہنسی جارھی تھی ۔۔ میں نے نالا ڈھیلا ھوتے ھی شلوار پکڑ کر نیچے کھینچی تو آنٹی نے بھی ہنستے ھوے جلدی سے گانڈ اتھا کر شلوار کو اترنے کے لیے راستہ دیا ۔ شلوار اتار کر ایک طرف رکھی اور آنٹی کی ٹانگوں کو اتھا کر کندھوں پر رکھا تو انٹی دوہری ھوگئی ۔۔اور میں نے لن کو پکڑ کر پھدی کے اوپر سیٹ کیا تو اانٹی نے جلدی سے دونوں بازو سیدھے کیے اور میری رانوں پر ہاتھ رکھ دیے کے میں ایک ھی دم سارا اندر نہ کردوں ۔۔ اور اسکا اظہار آنٹی نے زبان سے بھی کیا کہ یاسر ایکدم اندر نہ کرنا آرام آرام سے کرنا ۔۔۔ میں نے اچھا کہتے ھوے ہلکا سا دھکا مارا تو لن کا ٹوپا ۔ بھڑوووم کی آواز کے ساتھ پھدی میں گھس گیا اور انٹی کی انگلیوں نے میری رانوں کو گرفت میں لیتے ھوے میری ران کے گوشت کو دبا کر آنٹی نے منہ سے سییییییییییی کیا ۔۔ میں نے پھر دوسرا ہلکا سا جھٹکا مارا تو لن تھوڑا سا اور اندر چلا گیا آنٹی کے منہ سے پھر کنوری بچی کی طرح اففففففففف سییییییی ہولییییییی نکلا ۔۔۔ میں نے تیسرا گھسا مارا تو ادھا لن پھدی کے اندر چلا گیا ۔ آنٹی کی پھدی ایکدم ٹائٹ تھی ۔۔ یاں فیر آنٹی نے چپیییٹ وٹی ہوئی سی ۔۔۔۔ لن کے گرد پھدی کی کافی گرفت تھی ۔۔ آنٹی ساتھ ھی سر پیچھے لیجا ۔ھاےےےےےےےے کرتی ھوئی بولی ہولی وےےےےےےےے ۔۔ میں نے لن کو واپس کھینچا اور ٹوپا اندر ھی رہنے دیا اور پھر لن کو تھوڑا سا اندر کرتا اور پھر بایر نکال لیتا چھ سات دفعہ ایسے ھی کرکے آنٹی نوں آرے لایا ۔ اور پھر ایک زوردار گھسا مار کر لن کو پھدی کے اندر گہرائی میں اتار دیا ۔ آنٹی کی انکھیں اُبل کر باہر اگئیں اور آنٹی اوپھھھھھھھھھھھھھ مممممممممم مر دتا اییییییییی کرتی ہوئی ہونٹوں کو ذور سے بھینچ کر سر دائیں بائیں مارنے لگ گئی اور میری رانوں پر رکھے ھاتھوں کو ذور دے کر مجھے پیچھے کرتے ھوے گانڈ کو ہلا کر میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر ۔۔ میں نے انٹی کی ٹانگوں کو اچھی طرح قابو کیا ھوا تھا. ۔۔ کیسے نکلتی ۔۔۔ میں کچھ دیر رکا اور پھر گھسے مارنے لگ گیا ۔۔ انٹی میرے ہر گھسے پر آہ آہ آہ آہ آہ آہ ہولی وےےےے ہولی وےےےےے بوت درد ہُندی پئی اے ۔ ھاےےےےےے آہ آہ اہ ۔۔ کر رھی تھی جس سے مجھے مزید جوش چڑھ رھا تھا ۔۔ پانچ منٹ کی چدائی کے بعد ھی انٹی کی ٹون چینج ھوگئی ۔۔ اور آہیں سسکیوں میں بدل گئیں ناں ناں ہاں ہاں میں بدل گئی ہولی ہولی تیزتیز میں بدل گئی . میری بھی سپیڈ تیز ھوگئی انٹی کے ممے میرے تیز گھسوں سے سینے پر ڈانس کرنے میں مصروف تھے میرے گھسوں سے تھپ تھپ اور پھدی کے گیلے پن کی وجہ سے چپ چپ کی آواز رات کی خاموشی کو توڑ رھی تھی ۔۔ ہم دنیا مافیا سے بیگانے چدائی میں لگے ھوے تھے ۔ انٹی اب میرے ہر گھسے پر سسکاری بھرتے ھوے ۔۔ سارا کردے سارا کردے سارا کردے ۔ ہاں ہااااں اینج ای اینج ای مار ذور نال مار یاسرے ذور نال میری جان ۔ ہٹ ہٹ کے مار میرے چن ہت یٹ کے مار ۔۔ انٹی کی سیکسی آوازوں نے مجھے مذید ٹکنے نہ دیا ادھر آنٹی کی پھدی نے میرے لن کو جکڑا ادھر میرا لن پھولا. آنٹی کی پھدی نے پہل کی اور منی کی پہلی دھار میرے لن کے ٹوپے پر پھینکی ۔ تو ساتھ ھی میرے لن نے بھی پھدی کے اندر ھی پچکاری ماری پھر دونوں اطراف سے منی کی برسات ھونا شروع ھوگئی ۔ انٹی نے مجھے اور میں نے انٹی کو بازوں میں جکڑا ھوا تھا اور دونوں کی سانسیں بےترتیبی سے چل رہیں تھی اور کچھ دیر بعد ھی نڈھال ایک دوسرے کے اوپر چمٹے بےجان پڑے تھے کہ ۔۔۔۔۔
  23. 2 likes
    update. .ضوفی جھٹکے سے میرے اوپر سے ہٹ کر ایک طرف لڑھک کر گری اور میں نے بھی جلدی سے اپنے کپڑوں کی طرف ھاتھ بڑھایا اتنے میں دروازہ پھر زور زور سے بجایا جانے لگا ۔ ضوفی نے بریزیر اٹھا کر بیڈ کے نیچے پھینکا اور قمیض پہنتے ھوے کانپتی اور تلخ آواز میں پوچھا کون ھے ۔۔۔ دوسری طرف سے ماہی کی گبھرائی ہوئی آواز آئی آپی مما کو پتہ نہیں کیا ھوگیا ھے دروازہ کھولی ماہی کی آواز روہانسی تھی ۔ ماہی کی بات سنتے ھی میں اور ضوفی گبھرا گئے اور جلدی سے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور ضوفی نے بھاگ کر دروزہ کھولا۔ تو ماہی کھڑی روے جارھی تھی ۔میں بھی بیڈ سے چھلانگ لگا کر دروازے کی طرف بھاگا ۔ ماہی مذید کچھ کہے نیچے بھاگ گئی اسکے پیچھے ضوفی اور میں تیزتیز سیڑیاں اترتے ھوے آنٹی کے کمرے میں پہنچے تو آنٹی چارپائی پر بے ہوش پڑی ھوئی تھی ۔۔ ضوفی بھاگ کر آنٹی کے پاس پینچی اور امی امی کہہ کر آنٹی کو ہلانے لگ گئی ۔۔ میں بھی آنٹی کے پاس پہنچا اور آنٹی کی ناک کے پاس ہاتھ کیا تو آنٹی کی سانس چل رھی تھی ۔ میں نے ضوفی کو کہا حوصلہ کرو یار کچھ نہی ھوا آنٹی کو تم دوسری طرف جاکر آنٹی کی ہتھیلی کو ملو یہ کہتے ھوے میں نے آنٹی کا ہاتھ پکڑا اور ہتھیلی پر تیز تیز مالش کرنے لگ گیا میں نے ماہی کو کہا ماہی جلدی سے پانی لاو ۔۔ ماہی کچن کی طرف بھاگی آنٹی کا جسم برف کی مانند ٹھنڈا ھوگیا تھا ۔۔ ضوفی اور میں آنٹی کی ہتھیلیوں پر مالش کررھے تھے ۔ ماہی پانی لے کر آئی تو میں نے پانی کا گلاس پکڑ کر اسے آنٹی کے پاوں پر مالش کرنے کا کہا ۔ اور میں آنٹی کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگ گیا ۔ کچھ دیر بعد آنٹی نے آنکھیں کھولنا شروع کردیں ۔ ہم سب نے شکر ادا کیا اور میں آنٹی کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ھوے آنٹی سے بات کرنے لگ گیا ۔۔ ضوفی آنٹی کے بازو اور ماہی آنٹی کی ٹانگیں دبانے میں لگی تھیں ۔ کچھ دیر بعد آنٹی کی طبعیت کافی بہتر ھوگئی ۔ آنٹی نے بتایا کہ انکا بلڈ پریشر لو ہوگیا تھا ۔۔ پیشاب کرنے کے لیے اٹھی تو چکرا کر گرگئی یہ تو شکر ھے کہ ماہی کمرے میں ھی تھی اور جاگ رھی تھی ۔۔ میں نے ضوفی کو کہا کہ میں رکشہ لے کر آتا ھوں ۔ میں اٹھنے لگا تو آنٹی نے میرا بازو پکڑ لیا اور بولیں کہ نہیں بیٹا میں اب بلکل ٹھیک ھوں جیتے رھو ۔۔ میں نے کافی دفعہ کہا کہ ہسپتال ایک دفعہ چیک کروا آتے ہیں ۔ مگر آنٹی نہ مانی اور ویسے بھی بارہ ایک بج چکا تھا اس وقت کونسا ڈاکٹر ملنا تھا ۔ کچھ دیر مذید ہم بیٹھے باتیں کرتے رھے ۔ ضوفی نے آنٹی کو بتایا کہ یاسر کو ہم نے منالیا ھے دکان کے لیے آنٹی بہت خوش ہوئیں ۔ اور مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیتی رہیں ۔۔ پھر آنٹی بولی جاو تم لوگ سوجاو صبح دکان پر بھی جانا ھے مجھے بھی نیند آرھی ھے اور میری طبعیت اب بلکل ٹھیک ھے ۔۔ ماہی بولی آپی آپ بیٹھک میں سوجائیں بھائی اوپر سوجاے گا ۔ اور میں امی کے پاس ھی لیٹ جاتی ہوں ۔۔ ماہی ہم دونوں سے بات کرتے ھوے چونک کر کبھی ضوفی کے ہونٹ کی طرف دیکھتی تو کبھی میرے ہونٹ کی طرف ۔ ہم دونوں کو بھی اسکے چونکنے کا اندازہ ھوچکا تھا اس لیے میں اور ضوفی بہانے سے کبھی چہرہ دوسری طرف کرتے تو کبھی بہانے سے ہاتھ ہونٹوں پر رکھ لیتے ۔ ماہی ہمیں سونے کی جگہ بتاتے ھوے میری طرف دیکھ کر بولی ٹھیک ھے نہ بھائی آپ کو اوپر نیند آجاے گی ناں۔اااااا ماہی کی ناااااں کو لمبا کرنا اور شرارتی انداز ۔ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ کیوں کہہ رھی ھے ۔کیونکہ ضوفی کو نیچے سونے کا جو کہا ھے ۔۔ میں نے شرمندہ سا ھوکر کہا ہہہہہااں ہاں میں سوجاوں گا ڈونٹ ویری ۔ اور اسکے ساتھ ھی میں اٹھا اور ایک دفعہ پھر آنٹی کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر انکی خیریت دریافت کی اور انکے ماتھے کا بوسا لیا۔۔ نجانے کیوں آنٹی سے مجھے ممتا کی خوشبو آتی تھی ۔ آنٹی تھی بھی بڑی نرم دل اورمحبت کرنے والی مجھے دیکھ کر انکر چہرہ ایسے کھل جاتا جیسے میں انکا اصلی بیٹا ھوں ۔ اور آنٹی سے مل کر مجھے لگتا جیسے آنٹی میری سگی ماں ہیں ۔۔۔ خیر۔ میں کمرے سے نکلا اور سیڑھیاں چڑھتا ھوا اوپر کمرے میں چلا گیا اور دروازہ ویسے ھی بند کردیا لاک نہ کیا ۔ اور سیدھا اٹیچ واش روم میں چلا گیا اور کپڑے اتار کر پہلے شلوار کو اچھی طرح صابن سے دھویا اور پھر نہا کر قمیض پہنی اور شلوار کو ویسے ھی ہاتھ میں پکڑے باہر آگیا۔۔ واش روم سے باہر نکلتے ھوے میری نظر بیڈ کے نیچے جھکی ضوفی پر پڑی ۔ وہ گھٹنوں کے بل گانڈ پیچھے کیے ھوے بیڈ کے نیچے ہاتھ مار کر کچھ تلاش کررھی تھی ۔۔ واش روم کا درواز کھلنے کی آواز سے ضوفی بھی چونک کر میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔ میں قمیض پہنے شلوار ہاتھ میں پکڑے باہر آگیا ۔ اور مسکرا کر ضوفی کی طرف دیکھتے ہوے بولا کیا تلاش کررھی ھو ۔۔ ضوفی بولی ووووہ میرا ۔۔۔۔۔ میں نے کہا کیا تمہاراااا۔ ضوفی شرمندہ سی ھوکر مجھے جواب دینے کی بجاے ۔پھر نیچے سر کرکے جھکی اور بازو بیڈ کے نیچے گھسا کر کچھ پکڑنے کی کوشش کرنے لگی ۔ مگر شاید وہ اسکے ہاتھ کی پہنچ سے دور تھا ۔۔ میں ضوفی کے قریب آیا اور پاوں کے بل بیٹھ گیا اور شلوار بیڈ پر رکھ کر اسکو کہا پیچھے ہٹو میں نکال دیتا ھوں ۔۔ ضوفی بولی ننننہیں رہنے دو میں صبح نکال لوں گی ۔۔ میں نے شرارت سے کہا کیاااااا ضوفی مجھے دھکا مارتے ھوے بولی ۔۔ تم اتنے چوچچچچے کیوں بنتے ھو ۔ جیسے کسی چیز کا پتہ نہ ھو ۔۔ میں پہلے ھی پنجوں کے بل ضوفی کے سامنے بیٹھا ھوا تھا ۔ ضوفی نے جب مجھے دھکا دیا تو میں توازن برقرار نہ رکھ سکا اور باہیں پھلاتا ھوا پیچھے جاگرا. گرتے وقت میری قمیض آگے سے اوپر ہوگئی اور میری ناف سے پیروں تک کا حصہ ننگا ھوگیا ۔۔ ضوفی کی نظر جیسے ھی میرے لن پر پڑی تو ضوفی نے جلدی سے دونوں ھاتھ آنکھوں پر رکھ لیے اور کھڑی ھوکر منہ دوسری طرف کر کے کھڑی ھوگئی ۔۔ میں ویسے ھی سٹیچو کی طرح ٹانگیں اوپر کو کھولے اور بازوں چھت کی طرف کیے لیٹا ھوا تھا ۔۔ میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا بڑی ظالم ھو ایک تمہاری مدد کرو اوپر سے دھکے بھی کھاو ۔ اور دھکا دے کر اٹھانے کی بجاے منہ مروڑ کر کھڑی ھوگئی ھو ۔۔ ضوفی دوسری طرف منہ کر کے ھی بولی ۔ بہت ڈرامے باز ھو اتنی ذور سے تو نہیں میں نے دھکا دیا تھا جتنی تیزی سے تم گرے ھو۔۔ میں نے ضوفی کی طرف باہیں پھیلا کر کہا اچھا اب اٹھا تو دویار۔۔ ضوفی بولی میں نے نہیں اٹھانا بےشرم کمرے میں بھی ننگے پھر رھے ھو دروازہ تو لاک کرلیتے ۔۔۔ میں ھاےےےےے کرتا ھوا نیچے سے اٹھا اور بولا دروازہ کھلا تو تمہارے لیے چھوڑا تھا مجھے پتہ تھا کہ تم آو گی ۔ اگر دروازہ بند ھوتا تو تم نے دروازے سے ہی پلٹ جانا تھا ۔۔ ضوفی بولی کیوں جی مجھے کمرے میں بلوا کر کیا کرنا تھا اب میں اٹھ کر کھڑے ھوتے ھوے بولا ادھورا کام مکمل کرنا تھا۔۔ ضوفی گھوم کر میری طرف دیکھ کر مصنوعی غصے سے بولی ۔ کیڑا ادھورا کممممممم میں نے باہیں ضوفی کی طرف پھیلائیں اور اسکی طرف سلو موشن میں چلتاھوا بولا۔ بتاتا ھوں جان من ۔۔ ضوفی پلٹ کر دروازے کی طرف بھاگنے لگی تو میں سلوموشن میں چلتا ھوا بجلی کی سی تیزی سے بھاگا اور ضوفی کو پیچھے سے جپھی ڈال لی ضوفی ہنستے ھوے بولی ۔ چھوڑو مجھے بدمعاش کہیں کے ۔۔ میں نے کہا ۔ ایسا موقع کون سا جلدی نصیب ھوتا ھے ۔ ضوفی بولی نصیب کے بچے دروازہ تو بند کرنے دو ۔ میں نے دروازے کی طرف دیکھا تو واقعی دروازہ کھلا ھوا تھا میں نے جلدی سے ضوفی کو چھوڑا ضوفی آہستہ آہستہ چلتی ھوئی دروازے کی طرف بڑھی میں ادھر ھی کھڑا اسے دروازے کی طرف جاتے دیکھ رھا تھا ضوفی دروازے کے پاس پہنچی اور ہینڈل کو پکڑ کر میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور ہاتھ اوپر کر کے ٹا ٹا ٹا کر کے جلدی سے باہر نکلی اور سیڑھیاں اترتی ھوئی نیچے بھاگ گئی ۔ اور میں وہیں بت بنا اسے جاتا دیکھتا رھا۔۔۔ کچھ دیر بعد میں مایوسی سے چلتا ھوا دروازے کے پاس گیا اور دروازہ ویسے ھی بند کر کے بیڈ کے پاس پہنچ کر بیڈ پر اپنے آپ کو گرا دیا ۔ کافی دیر میں ایسے ھی لیٹا سوچوں میں گم رھا پھر اٹھ کر شلوار پہنی اور اچھے بچے کی طرح چپ کر کے لیٹ گیا۔۔۔۔ صبح مجھے ضوفی نے اٹھایا کہ جلدی اٹھ جاو ٹائم دیکھو کتنا ھوگیا ۔۔ میں نے انگڑائی لیتے ھوے آنکھیں کھولیں تو ضوفی میرے اوپر جھکی ہوئی تھی اور اسکے گیلے بالوں سے پانی کی بوندیں میرے منہ پر گررہیں تھیں ۔ میں نے آنکھوں کو پورا کھولا اور انگڑائی کے لیے اٹھے بازوں کو ضوفی کی گردن میں ڈال کر اسکے کھلتے گلاب جیسے چہرے کو اپنے ہونٹوں کے قریب کیا اور اسکی ہونٹوں پر کس کی اور بولا رات کو مجھے بیوقوف بنا کر بھاگ گئی تھی نہ ۔ کوئی گل نئی۔۔ ضوفی نے میرے ہونٹوں کو چوما ۔ ضوفی کا ہونٹ اب بھی ہلکا سا سوجا ھوا تھا ۔ ضوفی اپنے ہونٹ پر انگلی سے مساج کرتے ھوے بولی ۔ ظالم یہ دیکھو تم نے رات کو کتنا برا کاٹا تھا ۔ ماہی نے دو تین دفعہ مجھے پوچھا ھے کہ ہونٹ پر کیا ھوا ھے ۔۔ میں نے اپنے نچلے ہونٹ کو باہر نکال کر کہا یہ دیکھو تم نے کونسا مجھے بخشا تھا۔۔ ضوفی میرے ہونٹ کو انگلی سے سہلاتے ھوے سوری بولنے لگی ۔ میں نے اسکی گردن کو مزید نیچے کرتےھوے کہا خالی سوری سے کام نہیں چلنا زخم دیا ھے تو اس پر ملہم لگا کر علاج بھی کردو۔ ضوفی نے اپنی گلاب کی پنکھڑیوں کو میرے ہونٹ پر رکھ کر پنکھڑیوًں کا عرق لگایا اور بولی بس اور میں نے سر اٹھا کر اسکے ہونٹ کو چوما اور اسکی گردن سے بازو نکال لیے ۔ تو ضوفی سیدھی ھوکر گیلے بالوں کو دونوں ھاتھوں سے جھٹک کر پیچھے کرتے ھوے بولی اب اٹھ کر فریش ھوجاو میں ناشتہ لگاتی ھوں اور یہ کہتی ھوئی ضوفی کمرے سے باہر چلی گئی اور میں لیٹا لمبے لمبے سانس کھینچ کر اسکے گیلے جسم اور گیلے بالوں سے اٹھتی دھیمی دھیمی مہک کو اپنے اندر کھینچتا رھا ۔۔ اور پھر اٹھا اور نہا کر فریش ھوا اور نیچے چلا گیا اور کچھ دیر آنٹی کے پاس بیٹھا انکی طبعیت کے بارے میں پوچھتا رھا ۔ اور پھر ماہی نے ناشتہ کرنے کا کہا میں اٹھ کر باہر ٹی وی لاونج میں آگیا اور پھر ہم نے ناشتہ کیا اور کچھ ھی دیر بعد میں اور ضوفی بازار کی طرف نکل پڑے ضوفی نے مارکیٹ مالک کے گھر چھوڑنے اور دوپہر کو آنے کا کہا میں ضوفی کو مالک دکان کے گھر چھوڑ کر خود دکان پر پہنچا دکان کھلی ھوئی تھی ۔ انکل اور جنید دکان پر تھے ان سے سلام دعا کے بعد کام میں مصروف ھوگئے ۔ کچھ دیر بعد میں نے علیحدہ ھوکر جیند سے دکان لینے اور کام کرنے کا کہا تو جنید حیران پریشان ھوگیا کہ ایکدم اتنی بڑی تبدیلی کیسے میں نے کہا بس یار جب اوپر والا مہربان ھوتا ھے تو ہر ناممکن کام ممکن ھوجاتا ھے ۔ جنیدمجھ سے پوچھتا رھا کہ پیسے کہاں سے آے میں نے اسے گاوں کے دوست کا بتایا کہ اس نے پیسے لگانے ہیں اور کام میں نے کرنا ھے ۔۔ خیر کافی باتوں کے بعد جنید کو یقین ھوگیا اور وہ بہت خوش ھوا اور مجھے مبارک باد دینے لگ گیا کہ یار بڑے خوش قسمت ھو کہ اوپر والے نے اتنی جلدی تیری سن لی ۔۔ اور دوپہر کو میں سیدھا پارلر پر پہنچا تو ضوفی بڑی خوش نظر آئی اور اندر جاتے ھی مجھ سے لپٹ گئی اور خوشی سے میری آنکھوں کے سامنے دکان کی چابی لہرانے لگی ۔۔ اور کچھ دیر ہم بیٹھے باتیں کرتے رھے ۔ پھر ضوفی نے مجھے کہا کہ میرے ساتھ بنک تک چلو وھاں سے پیسے نکلوانے ہیں ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔ کچھ دیر بعد ہم بنک پہنچے ضوفی نے ایک چیک مجھے پکڑایا اور بولی یہ کیش کروا لو ضوفی ایک طرف بیٹھ گئی میں کاونٹر ۔پر گیا اور پچاس ہزار کی رقم نکلوا کر چھ سات دفعہ گنتی کی اور پیسے پورے کر کے کاونٹر سے واپس ضوفی کی طرف آگیا اتنی بڑی رقم میں نے پہلی دفعہ دیکھی تھی اتنے پیسے ہاتھ میں پکڑ کر میری فیلنگ ھی الگ تھی ۔۔ پیسے میں نے ضوفی کی بڑھاے تو ضوفی بولی جناب اسے جیب میں ڈالو اور صبح سے دکان کی سیٹنگ شروع کروا دو ۔۔ میں نے کہا نہیں ضوفی اتنے ذیادہ پیسے مجھ سے نہیں سنبھالے جانے تم انکو اپنے پاس رکھو جتنے پیسوں کی ضرورت ہوئی میں تم سے لیتا رہوں گا ۔۔۔ ضوفی نے اوکے کیا اور پیسے پکڑ کر اپنی اے ٹی ایم مشین میں رکھ لیے اور ہم بنک سے نکل کر مارکیٹ پہنچے میں نے دکان کا تالا کھولا اور شٹر اوپر کیا تو آس پاس والے دکاندار چونک کر میری طرف اور ضوفی کی طرف دیکھنے لگ گئے ۔۔ خیر ہم دونوں نے دکان کا اندر سے جائزہ لیا اور ۔پھر فرنیچراور دکان کو کیسے ڈیکوریٹ کرنا ھے ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگ گئے ۔ تقریبا ایک گھنٹے کے سوچ بچار کے بعد حتمی پلان کیا اور دکان سے نکل کر ہم نے شٹر بند کیا اور نیچے پارلر میں آگئے۔ ضوفی سے اجازت لی اور دکان کا فرنیچر بنوانے والے کی طرف جانے کا کہہ کر میں نکلنے لگا تو ضوفی نے مجھے پانچ ہزار دیا کہ ان سے بات پکی کر کے انکو بیانہ دے دینا اور ان سے سامان لکھوا لینا جو جو چاہیے وہ کل لے آنا آج تو لیٹ ھوجاو گے ۔۔۔ میں نے ہمممم کیا اور پیسے پکڑ کر دکان کی طرف چل دیا دکان پر پہنچا تو انکل کچھ تلخی سے بولے کہ اتنی دیر کہاں لگا دی دکان پر اتنا رش پڑ گیا تھا ۔ یار کچھ تو اپنے آپ خیال کرلیا کرو۔۔ میں نے کہا انکل جی میں اپنے لیے دکان کی بات کرنے گیاتھا ۔ میں اپنی دکان بنانے لگا ہوں ۔ انکل کا منہ ایکدم کھلے کا کھلا رھ گیا ۔۔ اور پھر جنید کی طرح انکو بھی سمجھانا پڑا مگر فرق صرف یہ تھا کہ انکو شہر کے کسی دوست کا بتایا جس کے ساتھ کام شروع کرنا تھا ۔ انکل اوپر اوپر سے خوش دیکھائی دیے مگر اندر سے انسے حسد کی بو ارھی تھی ۔ پہلے تو وہ یہ کہتے رھے کہ تم سے ابھی کام نہیں ھونا ابھی تم اس قابل نہیں ھوے نقصان اٹھاو گے کام ایسے اتنی جلدی نہیں چلتے اپنے دوست کا نقصان کرو گے وغیرہ وغیرہ ۔ مختصرا خوب ساڑ بکا۔۔۔۔ چار بجے میں نے جنید کو کہا یار مجھے کچھ دن کے لیے تمہاری مدد کی ضرورت ھے ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو ۔۔ جنید مجھے مکا مارتے ھوے بولا چولاں نہ ماریا کر یار ۔۔ سدھی بکواس کریا کر کہ میرے واسطے کی حکم اے ۔۔ میں نےکہا یار مجھے دکان کے سیٹنگ کے لیے اچھے کاریگر چاہیے اور تجھے تو کافی عرصہ ھوگیا ھے اس فیلڈ میں اور انسے پیسے وغیرہ بھی طے کر سکتے ھو اور کون اچھا کام کرتا ھے یہ بھی تجھےعلم ھوگا ۔ جنید بولابسسسسسس اے کیڑا کم اےیار ۔ میں بولا۔ سالیا ہور میں تیرے کولوں بندا مروانا اے۔ جنید بولا یار لوڑ پئی تے بندا وی مار دیواں گے بندیاں نوں وی بندے ای ماردے نے۔ میں نے ہنستے ھوے کہا۔ بےجاماما ایڈا توں اکری بدمعاش۔۔ جنید بولا ۔ اکری میرے لن تو واریا اودی پین دے پچھے تیرااااااا۔ جنید ایکدم چپ ھوگیا۔۔۔ میں نے بھی اکری کی بہن کا سن کر چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔ اور بڑے تجسس سے جنید سے پوچھا کیا ھے اکری کی بہن کو ۔۔۔ جنید گبھرا کر بولا کش نئی بس ایویں مزاق چ منہ وچوں نکل گیا۔۔ میں نے کہا ماما ہن میرے کولوں وی گلاں لکاویں گا بس اے ھی یاری اے ۔۔۔ جنید بولا نہیں یار ایسی بات نہی ھے میں نے اسکی بات کاٹتے ھوے کہا تو پھر بتا کیا ھے اسکی بہن کو ۔ کہیں اسکے ساتھ تیرا چکر تو نہیں چل رھا ۔۔ جنید گبھرا کر میرے پٹ پر ہاتھ رکھ کر دباتے ھوے بولا سالیا ہولی پونک کیوں مینوں مروانا اے ۔۔ میں نے آہستہ سے پوچھا بتا پھر ۔۔ جنید بولا سالیا تیرے کولوں صبر نئی ہوندا اینج کرن لگ پیاں ایں جیویں او تیری باجی اے ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا پھدی دیا میری باجی تیری وی تے باجی ای لگی ۔۔۔ جنید بولا تے فیر مُٹھ رکھ جدوں کلے ہوے دس دیواں گا ۔۔۔ میں نے بھی پھر ذیادہ اس موضوع پر گفتگو نہ کی ۔ اور پھر جنید بولا چل فیر اک مستری ھے اودے کول چلدے آں۔۔۔ اور پھر ہم دونوں انکل کی موٹر سائیکل لے کر ایک مستری کے پاس گئے اسےساتھ لےکر ہم شاہین مارکیٹ پہنچے ۔ کاریگر نے دکان کا جائزہ لیااور میں اسے سیٹنگ کا نقشہ سمجھانے لگ گیا کچھ ڈریکشن جنید اور مستری نے بھی دی جو مجھےکافی پسند آئی جس سے دکان کی سیٹنگ مذید اچھی بن سکتی تھی ۔۔ پھر جنید نے کاریگر سے اسکی مزدوری طے کی جو میری اور ضوفی کی سوچ سے کافی کم تھی ۔۔ میں نے چار ہزار اسکو بیانہ دیا اور اس نے پندرہ دن کا ٹائم لیا کہ اتنے دن لگ جانے ہیں ۔ اور پھر اس سے سارے سامان کی لسٹ لکھوائی ۔ کاریگر کہتا رھا کہ میں ساتھ چلوں گا سامان لینے ۔ مگر جنید نے مجھے آنکھ ماردی تھی کہ اسے خود ھی لانے کا کہہ دے میں نے اسے بہانہ کیا کہ میرے چاچو کی اپنی دکان ھے اس لیے تم پریشانی مت لو جو چیز نہ پسند ہو وہ واپس کردیں گے اس لےتو کل اپنے ہتھیار وغیرہ لے کر دکان پر پہنچ جانا ۔۔ باقی سامان کل دس گیارہ بجے پہنچ جاے گا۔۔ مستری سے اوکے کر کے ہم دکان پر پہنچے تو انکل کی سڑی سڑیجنید کو سننے کو ملی وہ کہتے ہیں نہ کہ کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو ۔ انکل سنامجھےرھے تھے اور بول جنید کو رھے تھے ۔۔۔ خیر ہم دکان میں بیٹھ گئے ۔۔ میں نے جنید سے سوری کی کہ یار میری وجہ سے تیری بےعزتی ھوئی ۔ جنید بولا ماما پیلے کیڑا میرے تے چادراں چڑدیاں نے ۔ اینی تے روز کروں کرا کے آنا ایں ۔۔ میں نے ہنستے ھوےکہا اچھااااا چلو فیر خیر اے۔۔ جنید مجھے ٹانگ مارتے ھوے بولا سالیا اک میری بےعزتی ھوئی الٹا خیر اے کہہ کے جان چھڑوان دیاں ایں ۔۔ میں وی تیرے کول ای آجانا اے ۔ بنڈ مار اے ھو جئے مالک دی ۔۔ میں نےکہا سوواری آ یارا تیری اپنی دکان اے ۔۔۔ میرا بھی ذہن تھا کہ جنید کو اپنے پاس رکھ لوں گا بڑا کام کا یار تھا اور مخلص بےلوث۔۔۔ اور جنید نے میرے دل کی بات کردی ۔ میںنے جنید کو کہا تو بس پھر تیار رہنا بلکہ تم اسی مہینے اس سے حساب کرلینا ۔۔ جنید نے بھی اوکے کیا ۔۔ اور میں نے جنید کو کہا کہ یار وہ کیمرہ تم فلحال گھر لے جاو ۔ جب مجھےضرورت پیش آئی تجھے بتا دوں گا کیوں کہ اب کچھ دن تو میں بہت مصروف رہوں گا ۔۔ جنید بولا چل یہ بھی سہی ھے میں. اسے کیمرہ واپس کردیتا ھوں جب ضرورت ھوئی تو اس لے لوں گا ۔ میں نے کہا یار یہ نہ ھو کہ وقت پڑنے پر کیمرہ ھی نہ ملے جنید بولا نوٹینشن یار وہ بھی اپنا جگر ھے۔۔ آدھی رات کو بھی ضرورت پڑی تو وہ سالا خود دے کر جاے گا ۔۔۔ میں نے ہممممم کیا اور جنید کے ساتھ کل کا پروگرام بنایا اور شام چھ بجے انکل سے پکی پکی چھٹی اور ان سے کمی کوتاہی کی معافی مانگ کر الوداع کہہ کر زندگی کے نئے سفر کی طرف چل پڑا۔ ۔ ے
  24. 2 likes
    41 path ‘’tum ne achha nai kia mere sath’’ Hina ki awaz mein shikwa tha ghussa nai Aj sjeela aur raheela ki mehndi thi Me: aur jo tum kr rai thi? Hina: ma kya krti…meri maa... Me: jo hona tha hua…. Ma us ki taraf dekhe bgher baat kr raha tha Hina: tumhari dushmani mere sath thi ya rehan se? Me: ma is bare mein baat nai krna chahta Ma us se jaan chhurana chahta tha bs Hina: hmm..theek ha..merzi tumhari…muj se pyar tha kbi? Me: bohat tha…ab nai ha..na he kbi ho ga Yeh keh k ma dosri taraf chala gya Aur agay tooba bhabi se mulaqaat hogae Me: pyari lg rai ho Tayyar ho k wo waqae pyari lg rai thi Bhabi: thanks g Me: chalen kahin …side pe.. Bhabi: oye..munh dho rkho ab Us ne muje pyar se ghoora Me: acha to ab afzal bhai se pyar hogya ha apko Bhabi: nai yar…wo…ab to roz maarta b ha muje faizi.. Me: ap ka kam hone jar aha ha ..bs kuch din aur Bhabi: sacchhi mein? Us ki ankhen khushi se chamak uthi thn Me: g..agay se ap khud he sambhal lena Bhabi: wo ma kr lu gi sb Me: ma apko khush dekhna chahta hn Ma muskuraya Raat ma ghar wapis agya tha aur ab mere pas krne ko kuch nai tha Ma ne uth k nashta kr lia tha aur hashoo ki taraf jane ka soch he raha tha k gate pe knock hui Gate pe kaneez ko khara dekh k mere daant bahir agye Bohat mahine hogye the usay tanha mile hue…kalsoom digest lene dene k bahane kafi bar muj se akele mein mil b chuki thi aur… Kaneez: ammi jeh rai hn k dahi/yugart chahiye Me: ajao andar Wo kitchen mein mere pechhe he agae Kaneez: khala kahan hn? Me: taya k ghar shadi pe hn Wo kitchen ki deewar k sath lg k khari thi Ma us k samne bilkul sath ja khara hua Me: kbi meri yad nai ayi Foran he us ka chehra surkh hogya aur us ne sharma k nazren neche kr li Ma ne us ki chin k neche hath rkh k us ka chehra ooper uthaya aur us k nichle hont ko choos k bahir nikala Kaneez: ammi…intezar… Me: ma b to kb se intezar kr raha hn tumhara Ma hath us ki shalwar k ooper se us ki phuddi pe le gya Kaneez: sssiiiiii…muje ..jane ..do..ammi… Me: kb milo gi? Kaneez: ammi aur kaneez sheher ja rai hn…ma ajaun gi… Wo surkh ankhon se meri taraf dekh k boli Me: waada? Kaneez:han waada Wo dahi le k chali gae Ma kaneez ka w8 kr raha tha k hashoo ki call agae Hashoo: kya kr raha ha? Me: kuch nai bs sone lga tha Ma ne jhoot bola Hashoo: hain?iswaqt? Me: yar wahan se kafi late aya ma…neend nai poori hui…tu bta Hashoo: yar wo 1 kam tha Me: hukum kr Akhir wo mera iklota aur sb se pakka yar tha Hashoo: yar wo…faiqa se milna tha…tere ghar koi nai ha.. Wo thora jhijak raha tha Me: han le aa usay yahan..ma to so he raha hn ga Hashoo: yar wo andar shayed na aye…bethak mein ajaye gi teri..bohat ghabra rai ha wo..pehli bar mil rai ha na akele mein muj se Me: han han theek ha..ma andar se kundi khol deta hn…jb dil kre aa aur bs darwaza bnd kr k chale jana..ma to so he raha hn ga Hashoo: chal bs theek ha Ma ne hashoo ko kaneez aur kalsoom k sath apne chakkar ka nai btaya tha aur na he chahta tha k usay pata chale Half hour k baad he muje bethak mein se kuch awazen ayi to ma samajh gya k hashoo aur faiqa aa chuke hn Ma ne ahista se bahir wala gate khola aur sehan k chakkar lgane lga kyu k kaneez ka ghar hamare ghar k bilkul samne tha aur agar wo aa k gate knock krti to hashoo ka kam khrab ho jata aur mera b Kuch der baad kalsoom aur us ki ammi ghar se bahir nikli to ma side pe hogya Taqreeban 10 mint baad kaneez andar dakhil hui to ma ne ahista se gate bnd kia aur us ka hath pakar k apne room ki taraf le gya Kaneez: kya hua? Me: wo..kuch b to nai Phir mere zehen mein jane kyu 1 shetani sa khayal aya Me: tumhe kuch dikhaun? Kaneez ne muskurate hue han mein sir hila dia Me: lekin chup rehna tumhari awaz na nikle Wo thori pareshan to hui lekin mere pechhe bahir sehan mein agae jahan bethak ka 1 darwaza khulta tha…dosra darwaza bahir gali mien tha Sehan wale darwaze mein jo window thi us mein thori si jagah thi jahan se andar dekha ja skta tha Me: andar dekho Ma ne kaneez ki kan mein sargoshi ki Kaneez ne 1 nazar andar dekha phir jhatke se sir meri taraf mor k dekha Ma muskuraya aur usay thora side pe kr k andar jhaanka Hashoo neche carpet pe betha tha aur faiqa us ki lap mein thi aur us ki kameez aur bra utri hui thi Faiqa ka nipple hashoo k honton mein tha aur us ka hath faiqa ki thighs k beech tha Ma ne kaneez ko dobara agay kr dia aur usay pechhe se hug kr lia Kaneez andar dekh rai thi aur ma us k mammon ko hathon mein le k apna lun us ki gaand ki lakeer mein agay pechhe kr raha tha Me: aur dekho gi? Ma ne us ki neck pe kiss kr k us k kan mein sargoshi ki to us ne andar se nazren hataye bgher han mein sir hila dia Kaneez ki shalwar ko us ki gaand se neche kr k ma ne apni shalwar b neche kr di Apna lun us ki gaand ki lakeer mein daba k ma apna hath agay le gya aur us ki phuddi k lips mein finger ooper neche krne lga Kaneez ki sansen bohat tez chal rai thn Me: mere kamre mein chalen? Ma ne apna lun us ki gaand k ubharon k darmyan thora agay barhaya Lekin kaneez ko andar ka scene kuch ziada he pasand agya tha aur us ne na mein sir hila dia Us ki tez sansen bta rai thn k wo bohat garam ho chuki ha Me: kya kr rai hn wo? Kaneez ne mur k meri taraf dekha to us ka chehra jese tap raha tha Kaneez: wohi..jo tum krte ho…zuban se.. Wo wahan se hut jane k liye tayyar nai thi aur muj se sabar nai ho raha tha Me: bs awaz nai nikalni koi..nai to un ko pata chal jaye ga Ma ne us ki kameez ooper ki to us ne bazoo utha diye Us ki bra khol k ma ne us ki shalwar poori utar di aur apni shalwar b utaar di Kaneez ko thora peche kr k ma ne usay agay ko jhuka dia jis se us ki gaand bahir ko nikal ayi Wo andar wale scene se nazren nai hata pa rai thi aur muje is baat pe irritation b hone lgi thi…lekin ma ne usay wahan he chodne ka soch lia tha Kaneez ki tangon ko thora phela k ma ne us ki gaand k ubharon ko khola jis se us ki phuddi b mere samne agae Ma ne zuban bahir nikali aur us ki phuddi k sorakh se ooper us ki gaand k sorakh tk le gya Kaneez: hunhmmmm.. Us ka jisam 1 bar kamp k reh gya Ma apni zuban ki nok se kaneez ki gaand k sorakh chatne lga aur wo apni gaand agay pechhe kr rai thi Kaneez ki phuddi shayed pehle kbi itni ziada geeli nai hui thi Ma us ki phuddi aur gaand k sorakh ko bari bari chaat raha tha Kaneez apna hath apne munh pe rkh k apni siskian rok rai thi shayed aur sath he apni phuddi aur gaand mere honton pe daba b rai thi Ma khara hua aur kaneez ka rukh apni taraf kr k usay ko shoulder se neche push kia Us ne shikwa bhari nazron se meri taraf dekha Me: bs thori der Ma ne apna lun pakar k us ki honton se lga dia Kaneez ne mera lun apne hath mein lia aur hont khol k munh k andar lene lgi Ma ne jhuk k andar jhanka to hashoo faiqa ki thighs k beech agay pechhe ho raha tha Ma seedha hogya aur kaneez k lips ko apne lun k gird tezi se ooper neche hote dekha Wo tezi se mera lun choos rai thi..shayed usay andar ka scene dekhne ki jldi thi Ma ne lun us k munh se nikala aur usay hath mein le k us k sare face pe rub krne lga Kaneez k khussurat chehre pe apne lun ki cap ko rub kr k muje bohat lazzat mil rai thi Phir wo uthi aur phir se andar jhankne lgi aur ma ne phir se usay agay ko jhuka dia Apna lun ma ne pechhe se he us ki phuddi k sorakh pe set kia aur andar dhakelne lga 1 to us ki phuddi pehle se he tight thi dosra is position mein aur b tight hogae thi Ma ne kaneez ka hath pakra aur us k munh pe rkh dia Mera lun phans phans k kaneez ki phuddi mein utar raha tha Kaneez: mmmm…hhmmm….sssiiiii…..mmmmm Wo apni awazen dabane ki poori koshish kr rai thi Ma ab us ki gaand k ubharon ko hathon mein le k lun us ki phuddi se andar bahir kr raha tha lekin slow speed se he k kahin us ki oonchi awaz na nikal jaye Kuch mint baad muje mehsoos hua k bethak ka bahir wala darwaza khul k bnd hua ha Me: chale gye wo log Kaneez: aaaahhhhh….han….oooohhhhh Us ne hath munh se hata lia tha Ma ne usay aise he chodna jari rkha lekin speed barha di Kaneez: haye…haye…uuuuffff…….oooohhhhh……ayiiiiiii Kaneez ko ma ne neche farsh pe he ghutno k balk r lia aur us k pechhe beth k zor dar dhakkon se us ki phuddi ko chodna start kr dia Kaneez: uufff…..ah..ahhhh…..ssiiiiii Us ki gaand ka sorakh muje nnazar aa raha tha aur ma ne 1 finger apne thook se geeli kr k wahan dabayi Kaneez: naiii….sssiiiiii…..naiiiii Me: thori si bs… Ma apne lun ko rok k finger us ki gaand k sorakh mein dalne lga Kaneez: ayiiiiii…hayeeeee…..dard….uuuffffff Muje us pe reham agya aur ma bs us ki gaand k sorakh ko rub krte hue usay chodne lga Thori der baad he us ka jisam thartarane lga Kaneez: haye…ahhhhhh….ooooohhhh…….aaaahhhhhhh Us ki phuddi ne pani chhor dia tha aur ma ne apne lun ka pani us ki gaand ki lakeer mein nikal dia Kaneez: muj se to chala b nai jar aha Wo apne kapre utha k boli Ma usay kamre mein le aya Me: naha lo Kaneez: nai ghar ja k Me: abi tumhari ammi k ane mein kafi time ha..chalo na akathe nahate hn Wese b mera abi tk dil nai bhara tha us se Us ki nokhez jawani kisi ko b pagal bna skti thi Ab hum shower k neche khare naha rai the Ma ne us k mamme hathon mein liye aur us k pink nipples ko choosne lga Kaneez: phir se…shuru na…ho jana Ma ne us ka hath pakar k apne lun pe rkh dia jo k phir se hard chukka tha Me: kaneez Kaneez: han Wo hath mere lun pe agay pechhe krte hue boli Me: pechhe se krna ha ma ne Ma us ki narm si gaand ko masalte hue bola Kaneez: haye nai…wo nai…gnde Me: thori si dard ho gi bs Kaneez: aj nai…phir kbi sai Me: aj he na..plz Ma ne us k hont choome Ma ne usay mor k washbasin pe jhukaya aur shampoo le k us ki gaand k sorakh pe dala aur apni finger b us se geeli kr li Me: pehle finger dalun ga Shampoo ki waja se apni finger us ki gaand k sorakh mein dalne mein kafi asani hogae thi Kaneez: ayiiii…haye…haye… Ab ma apni finger us ki gaand k sorakh se andar bahir kr raha tha Phir ma ne apni lun pe b shampoo lgaya aur us ki gaand k sorakh pe dabane lga Kaneez: hayeeeee……uuufffffff….. Mere lun ki topi us ki gaand k sorakh mein dakhil ho chuki thi Aise lg raha tha jese kisi ne mere lun ko kass k muthi mein pakar rkha ho Slowly ma apna lun andar push krne lga Kaneez: ayiiiiiii….ammmiiiii….bssss…..dard….uuffffff…ma gir jaun giiiiii Abi mera adha lun he us ki gaand mein gya tha Ma adha lun ki us ki gaand se andar bahir krne lga Me: apni phuddi…ko rub krti…raho Kaneez apna hath thighs k beech le gae aur apni phuddi ko masalne lgi Mera dil to kr raha tha k us ki gaand mein poora lun he daal du lekin wo poora lun le nai skti thi 3 4 mint baad mera lun rawani se us ki gaand k andar bahir ho raha tha aur kaneez ki siskian bta rai thn k abb usay b thora maza ane lga ha Us ka hath tezi se apni phuddi pe move kr raha tha Kaneez: aaahhh…ahhhhh…ooohhhh….ssiiiiii…. Aur kuch der baad mere lun ne us ki gaand mein he pani chhor dia Kaneez neche he lait gae aur us ka hath abi b us ki phuddi pe tha Ma neche betha aur us ki phuddi k dane ko honton mein le k choosa to kuch he lamhon mein us ki phuddi ne pani chhor dia ‘’tum yeh kya krne ja rai ho faizi?’’ Ma taya k gaon se shadi attend kr k wapis a chukka tha aur usi raat dani se baat ho rai thi Me: wohi jo muje krna chahiye Dani: tum kisi din apne aap ko bohat bari musibat mein phansa lo ge Wo waqae fikarmand lg rai thi Me: dekha jaye ga Dani: lekin afzal ki talaaq kra k tumhe kya mile ga? Me: yar ma agar tumhe her baat bta deta hn to is ka matlab yeh nai k tum … Ma chir gya tha Dani: ma bs itna chahti hn k tum kuch b aisa na kro jis se tumhe khud b nuqsan pohnch skta ho Me: to kya ma wahan ja k elaan kr du k Afzal ka sumaira nam ki larki k sath chakkar ha koi? Dani: nai lekin… Me: ma jaanta hn ma kya kr raha hn dani…aur han afzal ko sumaira dekhna kese theek kr k rkhti ha Dani: acha theek ha…1 to ghussa her waqt tumhari nak pe dhara rehta ha Me: tum se attachment b sb se ziada ha to larae b tum se he kru ga na Dani: acha g Me: noor kesi ha? Noor us ki wohi cousin thi jo USA se ayi thi aur hum teeno ne akathe maza kia tha Dani: oye hoye…ma samne bethi aur aur noor ko yad kia ja raha ha Us ne cam mein se muje ghoora Me: nai wo…bs aise he Ma muskuraya Wo ghar koi khas to nai tha..lekin itna bura b nai tha Yeh wohi ghar tha jo Afzal ne sumaira aur apni mulaqaaton k liye lia hua tha Sajeela aur raheela ki shadi ko 1 mahina ho chuka tha Aj sumaira ne muje call kr k btaya tha k Afzal ne aj wahan us k pas ana ha Ma ne usay pehle he bta dia tha k hashoo b mere sath ho ga jis se wo thora pareshan to hui kyu wo hamare gaon ka he tha lekin ma ne usay yaqeen dilaya k hashoo ki aur meri baat 1 he ha aur jo b dekhun gay a kru ga ma he kru ga hashoo nai ‘’kb aye ga Afzal?’’ Hashoo ne puchha Us kamre ki back side pe ghar k andar he 1 patli si gali thi jahan 1 window jo k thori si khuli hui thi us k bahir ma aur hashoo khare the Yeh jagah sumaira ne he btayi thi jo k pehle se he wahan aa k Afzal ka w8 kr rai thi Me: ane he wala ho ga yar Hashoo: kya ma dekh skta hn kuch? Us ne meri taraf dekh k daant nikale Me: han han dekh lena Kuch mint baad gari rukne ki awaz ayi Jese he gari ruki sumaira kamre mein dakhil hui Is se pehle k Afzal kamre mein dakhil hota sumaira apne kapre utar k nangi ho k bed pe beth chuki thi Afzal ne shayed apni keys se door khola tha aur jb wo room mein dakhil hua to sumaira uth khari hui Afzal usay is halat mein dekh k darwaze per he ruk gya Afzal: aj kher to ha? Us ki bachhen khul chuki thn Sumaira: itne din baad to aye ho tum Wo muskurati hui us ki taraf barhi Afzal: bs shahzadi kam he itne hote hn Wo sumaira ko banhon mein le k bola Sumaira: tumhe aur tumhare is ko itna yad kr rai thi ma Us ne shalwar k ooper se Afzal k lun ko pakar lia Afzal: bed pe chal Sumaira us ko lun se pakar k bed ki taraf le gae Phir wo llog apna kam krne lge aur ma apna Ma apne mobile se un ki pics le raha tha Yeh wo waqt tha jb apko new sim without ID card b mil jati thi aur ma ne sheher se new sim le k apne mobile mein daal li thi ‘’tu ne muje dekhne he nai dia kuch’’ Usi raat hashoo ne shikwa kia Ma us k ghar betha mobile mein he pics edit kr raha tha…edit aise kr raha tha k sumaira k face ki jagah cartoons lga raha tha Meri us se yehi baat hui thi k us ka chehra nai pehchana jaye ga ta k baad mein us ki Afzal k sath shadi mein koi masla na ho us k ghar walon ki taraf se…baqi Afzal to jaanta he tha k pics mein us k sath sumaira he ha…afzal k chehra ma ne nai chhupaya tha Lekin Afzal ko yeh pata nai tha k ma aur sumaira is game mein akathe shamil hn Me: tu ne pics dekh to li hn Hashoo: lekin live to nai dekha na kuch Me: tu ab dekh pics…sumaira ka chehra pehchana to nai jar aha na? Hashoo: nai perfect ha sb Us ne kafi ghor se sb pics dekhi Ma ne wo picss tooba bhabi k number pe send kr di aur sath he msg b kr dia ‘’ lo bhabi yeh rai ap k saboot…yeh sim mere nam nai ha…ap kehna k ap nai jaanti k kis ne ap ko yeh pics send ki hn…khush rahen hamesha’’ Ma ne purani sim dobara apne mobile mein daali aur new wali ghar jate hue 1 naali mein phenk di Sirf 1 hafta lga tha toofan khara hone mein ‘’na he tooba maan rai ha aur na he us k ghar wale’’ Ma ne bua ko baba se baat krte hue suna Baba: kyu manen wo?jb shadi hogae to us k baad aisi harkaten krta phir raha ha Afzal Bua: tooba kehti ha wo Afzal ka her zulm chup kr k bardasht krti rai khamoshi se…lekin yeh nai Me: kya hua bua? Ma agay barh k un dono k pas beth gya Bua: tooba aur us k ghar wale talaq maang rai hn Afzal se Me: kyu? Bua: Afzal ka kisi aur larki k sath… Baba: ise zarur btana ha?puttar ja tu match khel ja k Baba ne bua ko ghoorte hue muje mashwara dia Me: nai btayen muje b Muje tajassus tha k ab ho kya raha ha Baba: yar wo Afzal ka kisi k sath chakkar tha…ghar b le k dia hua tha usay..kisi ne tooba ko bta dia..balke kuch tasweeren b suna ha tooba ko bhej di Me: kon thi wo larki? Baba: yehi to pata nai chal raha Bua: ab ap khud kyu bta rai hn ise sb? Ab ghoorne ki bari bua ki thi Baba: chal oye faizi…ja apne kamre mein Baba jldi se bole ‘’ ma ne tum se pyar kia…lekin mere maa baap ki koi izzat ha k nai?mer jayen ge wo aur muje b maar den ge’’ Sumaira ne muje ankh mari Wo uswaqt speaker on kr k afzal se baat kr rai thi Afzal: nai yar..tera to chehra he nai dikh raha un pics mein…azaab to muje para hua ha Sumaira: b sab hamari baat khatam…tarse gat u meri shakal b dekhne ko..tu bare log ho muje uthwa he lo gen a…ma us se pehle he khudkushi kr lu gi Sumaira k rone ki acting dekh k ma b kafi impress hogya tha Afzal: o na shahzadi …de raha hn na usay talaq halan k ma dena nai chahta tha..talaq k siwa chara koi nai ab…aiwen sare jahan mein tamasha nai bnwana ma ne…tu ro mat Sumaira: ab tum era chehra hamari shadi wale din he dekhe ga…ma ne tuje itna pyar kia k yahan tk keh dia k shadi k baad jis larki k sath jo chahe kr ma nai rokun gi balke apni sahelion ko b manaun gi tere liye…lekin tu.. Afzal: tu fikar na kr …shadi ma ab tuj se he kru ga..jld he Sumaira: han dekh leti hn ma Yeh keh k us ne call kaat di aur hansne lgi Me: tum waqae bohat bari actress ho Sumaira: waqt bna deta ha faizi…ab yeh shadi ki baat kese kre ga apne ghar walon se?wo kese manen ge mere sath shadi pe? Me: Afzal kr le ga khud he kuch…tumhare ishq mein andha to wo ha he pehle se Mere 2nd year k paper ho rai the jb Afzal aur sumaira ka sadgi se nikah parha dia gya Tooba ko Afzal 3 mahine pehle he talaaq de chuka tha ..balke aise kahen k tooba talaaq le chuki thi Bua aur baba is rishte se khush nai the kyu k sumaira logon k sath hamare bohat ache family terms the lekin unho ne kuch kaha nai Mere numbers bohat ache aye the aur baba ne apne waada k mutabiq muje Lahore ki balke mulk ki sb se bari aur mehngi university mein admission dila dia tha aur hashoo ko b..marks ki waja se hashoo ko dosre deptt mein admission mila tha lekin hum khush the k chalo uni to 1 he ha na aur rehna b akathe ha Phir kuch halaat o waqyaat aise hue jinho ne meri zindagi ka rukh he badal dia Taya ko falij ka attack hogya tha aur wo bister pe lg gye the Un ki party ne assembly se un ki seat pe Afzal ko khara krne ka faisla kia tha..balke kr dia tha ‘’nai yeh nai ho skta…afzal ko ma jaanta hn ache tareeke se..ma usay support nai kr raha kisi b soorat’’ Baba ne hatmi lehje mein bola Uswaqt wahan chhote taya aur Lahore wale chacha un k pas aye hue the Chacha: apna bcha ha bhai g afzal Baba: han to is ka matlab yeh to nai k ma ghalat bnde ko jitwa du?ch tariq ko le k de raha hn ma tkt is halke se….3 4 din baad meeting ha meri party walon se..ma bs zara 1 chhota sa kam kr lu us k baad milta hn un se Chhote taya: lekin…. Baba: muje samjhane ki bjaye pehle Afzal ko samjhao k khud he pechhe hojaye..pehle counselor ka election lare phir nazim ka ta k us mein maturity aye badmashi k sath sath Baba apni baat se peche hutne ko tayyar nai the ‘’baba hum hostel mein reh lete’’ Hashoo to kya ma khud b ankhen phare us apartment ko dekh raha tha jo sheher k 1 posh ilake mein tha Baba: puttar wo baten chhor…tu ne bs parhna ha bohat sara…3 garian hn hamare pas..1 gari b le ana Me: lekin baba… Baba: ma nai parh ska puttar..to meri jagah b tu ne he parhna ha Baba shafqat se muskuraye Phir muje bua ka khayal aya…kitna ro rai thn wo jb ma yahan aa raha tha Me: lekin baba…bua… Baba: yar tu jummay/Friday ko nikalna dopeher ko aur sham tk ghar pohnch jana…4 ghnte ka to safar ha sara…chahti teri bua b wohi ha jo ma chahta hn…lekin akhir ko maa ha na teri…ho jaye gi theek..ma ab ziada time dera ki bjaye ghar he raha kru ga..tu fikar na kr bs parhae pe dhyan dena ha tu ne Baba jane lge to unho ne muje kass k hug kia Baba: apna khyal rkhna puttar…aur apni bua ka b Yeh baat sun k muje jhatka lga Me: ap kesi baten kr rai hn baba…ma nai reh raha yahan…ma ap k sath he ja raha hn wapis Muje ghabrahat si hone lgi thi baba ki baat sun k Baba: oye budha bnda hn bs aiwen kuch ulta bol jata hn…tu pareshan na ho Unho ne mere 4head pe kiss ki aur wahan se nikal gye Agle din ma aur hashoo uni mein apne pehle din jane k liye tayyar ho rai the k bua ki call ayi ‘’faizi..tere baba ko kisi ne golian maar di raat ko…. Bua rote hue boli aur mere jisam se jese jan he nikal gae thi Me: bua…kb…kis ne…ma aa raha hn…bua Bua: sheher wale doctor keh rai hn k inhe Lahore le jao…hum aa rai hn wahan he…raste mein hn Ma bohat der tk apna sir hathon mein liye bethe raha ‘’faizi..’’ Ma ne hashoo ki taraf dekha Hashoo: abba k phone aya tha abi…wo kuch der mein hospital pohnch rai hn baba ko le k.. Us ne mera bazoo pakar k muj khara kia
  25. 2 likes


×