Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 08/19/2019 in all areas

  1. 13 likes
  2. 13 likes
  3. 13 likes
    تین سال میں آپ کا پہلا کمنٹ ہے۔وہ بھی بڑا جاندار۔ ایسا ہے کہ کہانی جب لکھنی تھی تو میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ میں اپنے حساب سے لکھوں گا۔ اب میرا حساب تو یہی ہے۔ دوسری بات، یاسر کا کردار جیسا تھا میں نے اسے ویسا رکھا ہے مگر وقت کے ساتھ انسان بڑا بھی تو ہوتا ہے۔ سکول جانے والا بچہ یاسر جس طرح رو دھو کر منت کر پیر پکڑ کر معافی مانگ کر سیکس کرتا تھا۔ اب اتنی لڑکیوں کو برتنے کے بعد بھی ویسا ہی رہے یہ کیسے ممکن ہے؟ ضوفی سے سچی محبت کا ثبوت یہ ہے کہ وہ باہر کھڑی ہے اور اندر یاسر ایک دوسری لڑکی کی لینے کی کوشش میں ہے۔ محبت کا دعویٰ تو یہی پھر ہو گیا۔ ایسی محبت مہری سے تھی اور اس کی ماں کو نہیں بخشا۔ نسرین کو نہیں بخشا،فوزیہ کو نہیں بخشا تو اب کس بات کا پردہ رہ گیا۔ اب رہی بات مشکلوں کی تو اگر کہانی یہ ہونی ہے کہ صبح اٹھنا ہے دکان پہ جانا ہے ضوفی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور پھر واپس۔ ہر چند دنوں بعد ایک نیا کریکٹر اور بس ختم تو یہ میرے بس کی بات نہیں۔ جتنی مشکلیں آئیں گی ان سب سے نکلنا کیسے ہے اور یاسر کیسے نکلے گا، یہ میری کہانی ہے۔ آپ کو اچھی لگے تو ٹھیک، نہیں تو کوئی مسلئہ نہیں ہے، فری سیکشن میں ہے۔ جس نے پڑھنی ہے پڑھے، جس نے نہیں پڑھنی ہے وہ بھی پڑھے اور بات دبا لے۔
  4. 12 likes
  5. 10 likes
    نیو اپڈیٹ ہمارے سندھ سے تعلق رکھنے والے کئی ساتھیوں نے ہم نے ہمیشہ گلہ کیا کہ ہم ان کی طرف کی کہانیاں نہیں لکھتے۔ اندرون سندھ کی داستانیں نہیں لکھتے اور پنجاب پہ بےشمار کہانیاں ہیں۔ اس لیے اس بار ہم نے یہ تجربہ کیا۔ ہم تجربہ کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہم نے سیکس کہانیاں لکھتے لکھتے ایکشن کہانی لکھی تو پردیس کا تجربہ کیا جو کامیاب رہا۔ سیکس کے ساتھ کاروباری اتار چڑھاؤ کو لکھا تو ہوس تحریر کی۔ سیکس کے ساتھ بیوروکریسی کو لکھا تو آہنی گرفت لکھی۔ اب حق کی لڑائی اور بغاوت پہ لکھنے کا تجربہ کیا تو کیپرو جی راٹی لکھ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں اسے کیسا رسپانس ملتا ہے؟
  6. 9 likes
    واہ جی واہ ڈاکٹر صاب واہ۔ بڑے تیز ھو آپ۔ یہ سین کئی مہنے پرانا ھے کہ اس کی ماں کا موڈ خراب تھا تو یہ بات اب کھلی ھے کہ تب کیا سین تھا۔ ھاھاھا بڑی تیز ھو بات دبا جاتے ھو۔ اور سہی وقت پہ دھماکہ کرتے ھیں۔ ھم اس کا مطلب ھے معمولی باتیں بھی یاد رکھا کریں کہ کل کو اس کی بھی کوئی سٹوری ہونی ھے۔ اچھا ایک بڑی چھوٹی سی بات آپ نے لکھی کہ جس سے دل گارڈن ھو گیا۔ بالی کا وزن دو سے ضرب دے کر کیا۔۔ھاھاھاھا۔ اتنی باریک بات کہ جس نے بھی لی ہو گی سیٹ لیا ہو گا تو ایک بالی سے کیسے معلوم ہوتا کہ کس نے اس وزن کی بالی لی تھی اوت اس شکل کی بھی۔جوڑی کا وزن ہی ڈھوندا ہو گا۔ ھاھاھاھا۔۔کھاں کھان دماغ جاتا ھے۔ ٹاھلی والی جگہ پہ ٹوٹا اور چوڑی۔ یہ بھی جان لیا کہ جو بھی ہے وہ بنا کنڈم کے کرتا ھے۔ اوپر سے روز کرتا ھے۔ ایک اھم بات میں نے نوت کی کہ یاسر بڑا ہوا تو اب سب لڑکیوں سے کھلا ملنا آسان نھین رھا کہ صدف ہا کسی کو ایسے ہی ساتھ لے چلے۔ بچہ نھین رھا تو لڑکیوں کے ساتھ گھلنے ملنے کے دن ختم۔ نئی کھانی پہ اچھی لگی کہ نرس فرحت کی بتھیجی ہے اور اس کی اس کا بیٹا لیتا تھا۔ اچھا ٹوئسٹ ھے اور ساتھ میں فرحت کے غائب ہونا کا اچھا جواز بھی۔ اوور آل ماہی کے خلاف سوچ لگانا یاسر کے لیے بھتر ھے۔
  7. 7 likes
    جناب میں کوئی کلیو دینا نہیں چاہتا ورنہ شیخ کی بیٹی کا کردار ابھی کھل جاتا۔ انتظار کیجیے اور دیکھیے کیا ہوتا ہے؟ پلان فلاپ ہوا یا نہیں یہ بھی ابھی پوری طرح پتا نہیں ہے۔اتنا ہوا ہے کہ نازی کو بچانے کی ایک کوشش یاسر نے کر لی اور فوزیہ کے خاندان سے اس نے سارے روابط توڑ دیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے عظمیٰ ،نسرین اور فوزیہ کی سچائی کو بھی جھٹلا دیا ہے، وہ لاکھ قسمیں کھائیں یاسر نے اس کے ساتھ جو کیا ہے اس کو ثابت نہیں کر سکتیں کیونکہ ایسا کرنا ایک تو خود ان کی بدنامی ہو گی کہ انھوں نے ایک مرد کے سامنے کے خود کو اس قدر گرا لیا کہ پورے خاندان کی عورتیں چد گئیں، اگر وہ اس بدنامی کو قبول کرنے کی ٹھان بھی لیں تو بھی یاسر کی فیملی کے پاس جواب ہو گا کہ ہم نے عظمیٰ کو رنگے ہاتھ پکڑا تھا تو اب یہ جلن نکال رہے ہیں۔
  8. 7 likes
    سب قارئین کے کمنٹس کا شکریہ۔ میں نے نازی کا جو سوچا ہے وہ بالکل الگ ہے۔ ماہی اور ضوفی کی کہانی ساتھ ساتھ چلے گی مگر اس میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ عبیحہ اور عبیرہ کے معاملات میں بھی مسائل ہوں گے۔اس نئی لڑکی جو صدف کی سہیلی یا انعم کی خالہ کی بھی کوئی نہ کوئی تو انٹری کی وجہ ہے۔ہر وجہ کو ہم نے کیش کرنا ہے۔ بس انتظار کیجیے۔
  9. 6 likes
    یہ نازی نہیں لگ رہی عظمیٰ کا انتقام نازی کو پھنسانے کا نہیں ہو سکتا یہ مجھے صدف لگ رہی ہے اور سیدھا سیدھا گینگ ریپ میں یاسر کے پھنسنے کے آثار لیکن یاسر اتنا حرامی ہو گیا ہے کہ کسی طرح سے اس سے بھی بچ ہی جاۓ گا اگر پہلے ہوش میں آگیا تو
  10. 5 likes
    نایس ٹوسٹ ڈاکڑ خان۔ سب کا خیال تھا یاسر کی بہن ہو گی۔ جو صدف نکلی۔ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ کہ چدی چدای کھل کے چُد جائے گی۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن اس واقعہ کے آفڑ شاکس زور دار ہو سکتے ہیں۔ یاسر کے ایکشن میں آنے کے بھی کافی امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا۔ تو کہانی ڈاکڑ خان کے منفرد سٹایل میں ڈھل سکتی ہے۔ یعنی سیکس۔ ایکشن۔ سسپنس۔ تھرل تمام مصالوں سے بھرپورزبردست کہانی۔ جو صرف خان کا ہی کام ہے۔
  11. 5 likes
    دوستو میں کچھ عرصے سے اس فورم کا قاری ہوں آج میں نے سوچا کیوں نا خود بھی کچھ لکھا جائے اسی لیے ایک کہانی لکھنے کی ادنی سی کوشش کی ہے اس کہانی کا میری ذاتی زندگی سے تو کوئی تعلق نہیں اور باقی بہت سی کہانیوں کی طرح فکشن ہے مگر امید کرتا ہو کہ آپ لوگوں کو پسند آئے گی اور میں کوئی پیشہ ور لکھاری نہیں بلکہ ایک سٹوڈنٹ ہوں تو امید کرتا ہوں کہ میری غلطیوں اور کوتاہیوں کو بتانے کے ساتھ ساتھ آپ میری راہ نمائی بھی کریں گے میں پولیس کے تفتیشی کمرے میں ایک سرد لوہے کی کرسی پر بیٹھا ہوں میرے سامنے میز اور میز کے سامنے ایک اور کرسی پڑی ہے۔ میری نظریں بار بار دیوار پر لگے ٹائم پیس پر پڑ رہی ہیں آج تو وقت بھی بہت آہستہ گزر رہا ہے میرے ذہن میں بہت سے خیال ایک ساتھ گردش کر رہے ہیں۔نا جانے اور کتنا وقت مجھے اسی طرح کرسی پر بیٹھے بیٹھے گزارنا ہو گا نا جانے کب تک یہ لوگ مجھے اس طرح یہاں پر بٹھائے رکھیں گے، اب تک تو کسی کو مجھ سے بات کرنے کیلئے آ جانا چاہیے تھا۔ اچانک دروازہ تھوڑی آواز کے ساتھ کھلتا ہے جیسے میرے سوالوں کا جواب دے رہا ہو اور دروازے میں سے سوٹ میں ملبوس ایک درمیانی عمر کا شخص اندر آتا ہے سیاہ رنگ کے سوٹ کے ساتھ اس نے سیاہ رنگ کی لائنوں والی ٹائی لگائ ہوئی ہے۔ وہ اپنا ایف بی آئی(FBI) کا بیج لہراتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوتا ہے میرا نام ایجنٹ مائیکل کم ہے اور تم ہو جیکسن؟ اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں اپنا سر ہاں میں ہلاتا ہوں اور کہتا ہوں جی ہاں میں جیکسن ہی ہوں تو جیکسن میں امید کرتا ہوں کہ تم میرے کچھ سوالوں کا جواب دے سکتے ہو وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے میرے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے ہاتھ میں موجود بھاری فائل کو اپنے سامنے میز پر رکھ دیتا ہے دیکھو میں صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس علاقے میں ہوا کیا ہے اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے اس علاقے میں اغوا،کئی جگہ پر نقب زنی،آتش زنی اور کم از کم چار قتل ہوئے ہیں اور میرے خیال میں تم جانتے ہو کہ اس سب کے پیچھے کون ہے میں کیا کہ سکتا ہوں پچھلا کچھ عرصہ بہت عجیب گزرا ہے کیا تم مجھے شروع سے بتا سکتے ہو کہ یہاں پر ہوا کیا ہے ؟؟ دیکھو یہ سب ایک شادی سے شروع ہوا اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں سارے واقعات شروع سے چلنے لگے میرے ہاتھ میں شادی کا رقع تھا جس میں لکھا تھا ہم آپ کو بڑی خوشی کے ساتھ کیتھرین مارک اور آرتھر سٹرلنگ کی شادی میں جو کہ برک پورٹ میں ہو گی شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں کچھ دنوں بعدمیری ٹیکسی برک پورٹ کے قصبے میں ایک عالیشان خاندانی حویلی کے سامنے رکتی ہے اور اس حویلی کی شاندار بناوٹ مجھے بہت متاثر کرتی ہے حویلی کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک سمارٹ سی دکھنے والی لڑکی مسکراتے ہوئے باہر نکلتی ہے اور مجھ سے کہتی ہے ہیلو کیا تم یہاں شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں کام کرنے آئے ہو ؟؟ میرا نام جیکسن ہے اور میں کیٹ سوری کیتھرین کا دوست ہوں اوہ اچھا میں کچھ اور سمجھی خیر کوئی بات نہیں آ جاو اور ریلیکس کرو میں بھی اسے کیٹ ہی بلاتی ہوں لگتا ہے تم یہاں پہلی دفعہ آئے ہو ویسے میرا نام سارہ ایمرسن ہے اور مجھے تمہیں یہ جگہ دکھا کر بڑی خوشی ہو گی وہ ایک ہنس مکھ اور باتونی لڑکی لگ رہی تھی ویسے تو اس کا جسم سمارٹ تھا مگر چھاتی کافی ابھری ہوئی تھی اور جینز میں کسے ہوئے گول مٹول چوتڑ میرا منہ چڑھا رہے تھے سارہ تم مجھے جو بھی دکھاو اچھا لگے گا میں اپنے لہجے میں مٹھاس لاتے ہوئے بولا اوہ تم کافی تیز ہو ،کیا نہیں ہو ؟؟شہر سے آئے ہوئے لڑکے؟؟ میں کیا کہ سکتا ہوں جب تمہارے جیسی لڑکی سامنے ہو تو سب کچھ ہی اچھا لگتا ہے اور میں نیو یارک سے ہوں۔ شکریہ مجھے تم پسند آئے، تمہاری طرح کے اور بھی لڑکے ہونے چاہییں یہاں ۔ وہ مجھے دروازے سے اندر شاندار ڈیوڑھی میں لے آئی تو تم کیٹ کو کیسے جانتے ہو ؟؟ ہم کالج میں بہت اچھے دوست تھے مگر کالج کے بعد ہمارا رابطہ بہت کم ہو گیا در حقیقت مجھے شادی کا دعوت نامہ ملنا میرے لیے کسی سرپرائز سے کم نا تھا- اس نے مجھے اپنے کالج کے دنوں کی کچھ کہانیاں سنائی ہیں انہیں سن کر تو لگتا ہے تم دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب تھے ۔ ہاں تم ایسا ہی کچھ سمجھو۔ مجھے یہ لڑکی کافی اچھی لگ رہی تھی اور لگتی بھی کیوں نا اس کا جسم کمال کا تھا اس نے مہرون رنگ کی شرٹ پہنی تھی اور شرٹ سے باہر نکلنے کو تیار ممے مجھے اپنی طرف کھینچ رہے تھے میں نے اس سے کہا تم شاید دلہے کو کزن ہو؟ اوہ نہیں میں اس کی بہن کی دوست ہوں اس نے مسکرا کر جواب دیا دراصل ہمارے خاندان کا پرانا تعلق ہے سٹر لنگز سے بھی اور برک پورٹ سے بھی۔ ہمارے خاندان کافی عرصے سے ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں مگر دلہے کی بہن اور میری آپس میں دوستی ہے تو کیا تم بھی ایک بڑی حویلی میں رہتی ہو ؟؟میں نے اس سے پوچھا۔ حویلی سے تمہاری کیا مراد ہے ؟؟اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا اگر تم مجھ سے حویلی کا مطلب پوچھ رہی ہو تو اس کا صاف مطلب ہے تم بھی حویلی میں ہی رہتی ہوں واہ باتیں تو بہت بنا لیتے ہو تم بس قدرتی ٹیلنٹ ہے میں نے اس کی چھاتی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا یہ سب باتیں کرتے ہوئے ہم کافی بڑی سیڑھیوں کے پاس سے گزرے اور ایک دروازے سے کمرے میں داخل ہوئے جو کہ بہت قیمتی آرٹ سے سجا ہوا تھا میں تو اتنا شاندار کمرہ دیکھ کر میہبوت ہی ہو گیا تمھیں پتہ ہے کیٹ ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتی تھی کہ وہ کسی امیر آدمی سے شادی کرے گی مگر میں نے یہ نہیں سوچا تھا وہ ایسا کر گزرے گی خاص طور پہ اتنے امیر آدمی سے ۔ میرا یقین کرو تم پہلے شخص نہیں ہو جو اس بات پر حیران ہے بلکہ پورا قصبہ مہینوں سے یہی سوچ رہا ہے، اب ایسا روز روز تو نہیں ہوتا کہ قصبے کے سب سے امیر خاندان کا وارث ایک عام سے مزدور کی بیٹی سے شادی کر رہا ہو۔ کیٹ کی کیا ہی بات ہے میں نے کہا۔ تم اپنے بارے میں بتاو کوئی خاص شخص ہے تمہاری زندگی میں ؟ اس نے میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کیا میری ایڈیٹر کو گنا جا سکتا ہے ہم راتیں اور ویک اینڈز اکٹھے گزارتے ہیں وہ مجھے ہمیشہ کالیں کرتی رہتی ہے ۔۔۔مگر صرف یہ جاننے کیلئے کہ کام پورا ہوا یا نہیں میں نے جواب دیا۔ تو کیا تم کسی پبلشنگ کیلئے کام کرتے ہو ؟؟ میں ایک صحافی ہوں۔ اوہ اچھا میں نے ایک فلم دیکھی تھی جس میں محنتی صحافی ہوتا ہے جو ہر وقت کام کرتا رہتا ہے اور ذاتی زندگی کیلیے وقت ہی نہیں نکال سکتا کیا تم اسی طرح کے صحافی ہو ؟؟ خیر میں تمہارے لیے وقت نکال سکتا ہوں میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔ اچھا مجھے اپنی باتوں سے امپریس کرنے کی کوشش کر رہے ہو ؟ امپریس تو تم کب کی ہو چلیں میں نے اسی لہجے میں کہا بلکہ اب تو شرما بھی رہی ہو تم ۔ میں کیا کہ سکتی ہوں میں صرف برک پورٹ کی لڑکی ہوں اور عام طور پر ہم اتنی جلدی فرینک نہیں ہوتے۔ اوہ اچھا چلو یہ بتاو تم کرتی کیا ہو؟؟ میں وکیل ہوں اپنے والد کی طرح۔ اچھا تو تمہاری کوئی بہت بڑی فرم ہو گی ؟؟ نہیں میں ڈیفنس لائر ہوں تو اگر میں شراب پی کر گاڑی چلاتا ہوا پکڑا جاوں تو تو تم مجھے کال کر سکتے ہو اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔ پھر سارہ نے مجھ سے کہا دیکھو مجھے بہت خوشی ہو گی کہ تم پوری دوپہر مجھ سے ہی باتیں کرتے رہو مگر میرا خیال ہے تمہیں باقی سب سے بھی مل لینا چاہیئے
  12. 5 likes
    جناب آپ لوگوں کو کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ہماری کہانی میں روز بروز نئے ٹرن آئیں گے اور کبھی وہ حاوی تو کبھی یاسر فتح پائے گا۔ ابھی تو آپ نے ایک دشمن کو وقتی طور پر پچھاڑا ہے۔
  13. 4 likes
    ایک مدد درکار ہے، کوئی خالص سندھ کا ممبر مجھ سے رابطہ کرے۔ جو سندھی سمجھتا اور بول لیتا ہو۔
  14. 4 likes
    جناب جس عورت نے یاسر کو پیدا ہونے سے تک اپنے بچوں سے بڑھ کر پیار کیا یاسر نے اس کے جزبات کا تو احترام نہیں کیا حالانکہ وہ اس کی ماں کی طرح تھی یاسر نے اس کے اعتماد کو توڑتے ہوۓ اس پر بھی ہوس مٹائی اور اس کی بیٹیوں پر بھی تو ضوفی کے ساتھ تو اس کے ریلیشن کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوۓ ہیں دوسرا یہ کی اگر آپ نے پوری کہانی پڑھی ھے تو آپ کو پتا ہو گا کہ ضوفی کے بارے میں یاسر کے رویے میں اس وقت احترام پیدا ہوا جب ضوفی نے اس کو اپنے سے کمتر نہ سمجھتے ہوۓ اسے دنیا کی نظر میں اچھی حیثیت والا بننے میں مدد دینا شروع کی اسے نئے نئے کپڑے لے کر دیے اور اس کے ساتھ برابری کا سلوک کیا تب یاسر بھی اس کا احترام کرنے لگا اور (معزرت کے ساتھ ) یہ صرف احترام ہی تھا جسے یاسر محبت سمجھ بیٹھا کیونکہ اگر یہ محبت ھوتی تو یاسر اپنی محبت سے بے وفائی کرتے ھوۓ ہر دوسری لڑکی سے اپنی ہوس نہ مٹاتا اور یہ خیال رکھتا کہ ایسا کرنا ضوفی کے ساتھ بے وفائی ہے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور ایک کے بعد ایک کئی لڑکیوں سے اپنی ہوس مٹائی ۔اور اگر آپ کہتے ہیں کے نہیں یاسر کو ضوفی کے ساتھ محبت ہی ہے تو جناب اسی سے آپ کو یاسر کی فطرت کا بھی اندازہ ھو جانا چاہیے کہ ضوفی سےمحبت کرنے کے باوجود جو لڑکی اس کی دسترس میں آئی اس نے اس پرھاتھ صاف کئے اس سے ثابت ہوا کے یاسر ایک ہوس پرست انسان ھے اورکسی لڑکی کو اپنے قریب دیکھ کے اپنی ہوس پر قابو نہیں پا سکتا ۔ تو پھر جب اندھیری رات میں ماہی اس کے سامنے نیم برہنہ کھری ہو اور علاکہ بھی سنسان ہو تو یاسر اپنی ہوس پر کس طرح قابو پا سکتا ہے؟ اگر اس نے ماہی کے ساتھ کر لیا تو اس کی فطرت کو دیکھتے ہوۓ ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر صاحب کی اولین ترجیح جنس نہیں ہے یہ سب انہوں نے یاسر کے کیرکٹر کو مد نظر رکھتے ھوۓ لکھا ھے اور اس کی فطرت کی بھترین عکاسی کی ہے۔ آمید ہے کہ آپ کی الجھن اب دور ہو گئی ہو گی۔ شکریہ
  15. 4 likes
    جناب ہمیں کسی کا کیا ڈر؟ بس ذرا یہ خیال آتا ہے کہ چلو یار سب انجوائے کرنے آئے ہیں، کہانیاں انجوائے کریں اور اچھا وقت گزاریں۔ اس لیے معمولی باتیں ہم درگزر کرتے ہیں اور دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ آپ کا کمنٹ اگر قوانین کے خلاف نہ ہو اور اس سے کوئی ایسی نامناسب بحث شروع ہونے کا اندیشہ نہ ہو کہ جس کو سنبھالنا دشوار ہو جائے تو ہم اسے بلاک نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ بہت سی باتیں ہم کوشش کرتے ہیں کہ اکیلے میں ہو جائیں تو مناسب ہے۔ آپ کے کمنٹ میں ایسی کوئی بات نہیں تو میں بھلا کیوں ناراض ہونے لگا۔
  16. 4 likes
    جناب کل سے میں پردیس لکھ رہا ہوں اور کوشش ہے کہ پہلی کے بعد جلد از جلد پوسٹ کر دوں۔ جو کہانی آپ آج پڑھتے ہیں وہ کم از کم دو تین دن پہلے لکھی گئی ہوتی ہے۔ آخر میں بس پروف ریڈنگ ہوتی ہے۔
  17. 4 likes
    اور واپس میرے لن پر آ گئی ۔ پھر اس نے اپنی زبان میرے لن پر پھیرنی شروع کر دی ۔ کچھ دیر بعد اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اوپر کر کے میرے لن کی جڑ میں اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی ۔ اور پھر میرے لن کے نیچلے حصے پر زبان پھیرتے ہوئے ، اوپر آنا شروع ہو گئی ۔ اور میرے لن کی ٹوپی تک آ کر واپس جانا شروع کر دیا ۔ کچھ دیر ایسے ہی وہ میرے لن سے کھیلتی رہی ۔ اور پھر اس نے میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا ۔ اور آہستہ آہستہ پورے لن کو منہ میں لیکر جانے لگی ۔ اور کچھ ہی دیر میں اس نے جتنا ہو سکتا تھا میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا ۔ اور پھر اس کو آہستہ آہستہ باہر نکالنے لگی ۔ اور پھر جب وہ ٹوپی تک آ گئی تو دوبارہ لن کو دوبارہ منہ میں لینے لگی ۔ وہ یہ سب کچھ بہت آہستہ آہستہ کر رہی تھی ۔ اور اس بار جب اس نے لن کو اپنے منہ میں لیا تو اس کی زبان میرے لن کے گرد گھومنے لگی ۔ کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ سے میرے لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔ پر اب اس کی رفتار بڑھ گئی تھی ۔ اور پھر اس کے منہ میں ایسے اندر باہر جانے لگا کہ جیسے میں کسی کو پوری رفتار سے چود رہا ہوتا تھا تو میرا لن اس کی چوت میں جا رہا ہو ۔ کوئی 4 سے 5 منٹ تک ایسے ہی وہ میرے لن کو اپنے منہ میں لیتی اور باہر کرتی رہی ۔ پھر اس نے لن کو اپنے منہ سے نکال دیا ۔ اور اوپر آگئی ۔ کہ اس کا منہ میرے منہ کے پاس تھا ۔ اور اس کی پھدی میرے لن پر ۔ اور اس نے اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑنا شروع کر دیا ۔ جو کہ اس وقت پوری طرح گیلی ہو چکی تھی ۔ ساتھ ہی وہ مجھے کس Kiss کرنے لگی تو میں نے اس کو اپنے ہونٹوں کو چومنے سے روک دیا ۔ وہ منہ سے کچھ نہ بولی ۔ مگر اس کے چہرے پر غصہ نظر آیا ۔ پر اس نے نہ تو مجھے کچھ کہا ۔ اور نہ ہی مستی کرنا چھوڑی ۔ کیونکہ اس وقت وہ فل گرم ہو چکی تھی ۔ جو کہ اس کی سانسوں سے پتہ چل رہا تھا ۔ اور پھر کوئی 3 منٹ کے بعد اس نے اپنی پُھدی کو بہت تیز تیز اوپر نیچے کرنے لگی ۔ کچھ ہر دیر میں وہ جھٹکے لے کر فارغ ہو گئی ۔ اور ساتھ ہی وہ میرے اوپر لیٹ گئی بلکے کہنا چاہیے کہ گر گئی ۔ مگر وہ کافی دیر تک ہلکے ہلکے جھٹکے لے رہی تھی ۔ اور اس کی پُھدی میں سے ایسے پانی نکل رہا تھا جیسے ٹوٹی میں سے پانی نکل رہا ہو جو میرے ٹانگوں سے ہوتا ہوا نیچے بستر تک جا رہا تھا ۔ پھر کچھ دیر بعد وہ میرے اوپر سے اتر گئی ۔ اور میرے ساتھ لیٹ گئی ۔ تو میں نے اس کی طرف کروٹ لیکر لیٹ گیا ۔ اور اس کی شکل دیکھنے لگا ۔ جو کہ اس وقت سرخ ہو رہی تھی ۔ اور وہ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے آنکھیں بند کر کے لیٹی ہوئی تھی ۔ اور میں پھر میں نے اپنی ایک ٹانگ اس کے اوپر رکھ دی ۔ اور اپنا ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا ۔ تو اس نے اپنی آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا ۔ اور مسکرا دی ۔ ہم کچھ دیر تو ایسے ہی لیٹے رہے ۔ پھر وہ اور میں واش روم گئے اور خود کو صاف کر کے واپس آںے لگے تو میں نے اس کو کہا کہ یار منہ بھی صاف کر لو ۔ تو اس نے مجھے غصے سے دیکھا ۔ مگر منہ سے کچھ نہ بولی ۔ اور کلی کر کے کمرے میں چلی گئی ۔ اور پیچھے پیچھے میں بھی چل دیا ۔ کمرے میں جا کر ہم دوبارہ سے بستر پر لیٹ گئے ۔ تو میں کچھ دیر تو لیٹا رہا کہ وہ کچھ بولے گی ۔ یا کرے گی ، مگر وہ چپ چاپ لیٹی رہی ۔ تو میں نے خود ہی آگے ہو کر خود کو اس پر لے گیا ۔ اور اس کے چہرے پر کسنگ کرنے لگا ۔ اور کچھ دیر اس کے منہ کو چومتا رہا ۔ اور پھر اس کے ہونٹوں پر آ گیا ۔ اور جب میں نے اس کے ہونٹوں کو کس kiss کرنا چاہی تو اس نے پہلے تو اپنا منہ دوسری طرف اور ساتھ ہی بولی اب کیوں ۔ تو میں پہلے تو کچھ نہ سمجھا ۔ پر جب سمجھ آئی تو بولا کہ یار وہ تم نے لن منہ میں لیا تھا اس لیے اس وقت منع کیا تھا ۔ تو وہ بولی لن تو تیرا تھا ۔ پر میں نے اس کو جواب نہ دیا ۔ اور منہ کو پکڑ کر اس کو کسنگ kissing کرنا شروع کر دی ۔ کچھ دیر تو اس نے رسپانس نہیں دیا ۔ پر پھر وہ بھی مجھے کسنگ کرنے لگی ۔ ہم کچھ دیر تو ایسے ہی کسنگ Kissing کرتے رہے ۔ پھر میں آہستہ آہستہ نیچے آنے لگا ۔ اور اس کی گردن پر آ کر میں نے اس کی گردن کو خوب چوسا / چوما اور جیسے ہی میں نے اس کی گردن کو چومنا شروع کیا تو وہ نہ صرف مچلنے لگی بلکے اس کے منہ سے ہلکی ہلکی آؤازیں نکلنے لگی۔ اور اس ہاتھ میرے سر پر آگئے ۔ اور اس نے میرے بالوں میں کنگھی کرنا شروع کر دی ۔ اور پھر میرے ہونٹ اس کے سینے پر آ گیے ۔ کچھ ہی دیر میں وہاں کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں میں نے اپنے ہونٹوں کی مہر نہ لگائی ہو ۔ اور پھر اس کے مموں پر آ کر میں نے اس کے ایک ممے پر اپنی زبان پھیرنے لگا ۔ اور اس کے مموں کو جو کسی کنواری کی چوت کی طرح ٹائٹ تھے ۔ کے چاروں طرف اپنی زبان پھرنے لگا ۔ اور دوسرے ممے کو اپنے ہاتھ سے دبانے اور مسلنے لگا ۔ کچھ دیر بعد میں نے اس کے ممے کو جتنا ہو سکتا تھا اپنے منہ میں لے لیا ۔ اور اس کو چوسنے اور ہونٹوں سے دبانے لگا ۔ کچھ دیر بعد میں نے اس کے ممے کو منہ سے نکال دیا اور صرف نیپل Nipple کو منہ میں لیکر ایسے چوسنے لگا ۔ جیسے ابھی اس میں سے دودھ نکلے گا ۔ اور میں اس کو پیوں گا ۔ اور جیسے ہی میں نے اس کی نیپل کو چوسنا شروع کیا تو نسیمہ نہ صرف مچلنے لگی ۔ بلکہ اس کے منہ سے ہممم اور آہ جیسی آوزیں نکلنا شروع ہو گئیں ۔ اس کے میرے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار بڑھ گئی۔ کافی دیر تک میں اس کے دونوں مموں کے ساتھ ایسے ہی کھیلتا رہا اور پھر میں نے اس کے مموں کو چھوڑ دیا ۔ اور آہستہ آہستہ نیچے ہونے لگا ۔ اور اس کی ناف پر پہنچ گیا ۔ اور پھر میں اس کی پُھدی پر پہنچ گیا ۔ مگر میں اس کی پُھدی کو تو کچھ نہ کیا ۔ مگر اس کے ارد گرد اپنی زبان سے خوب مستی کی ۔ اور پھر میں نے اس کو اُلٹا کیا ۔ اور اوپر ہو کر اس کی گردن سے دوبارہ سے اس کو کسنگ کرنا شروع کر دیا ۔ اور میرا لن اب اس کی گانڈ کے سوراخ پر تھا ۔ جس کو میں مستی کے لیے کبھی کبھی دبا دیتا ۔ اور پھر آہستہ آہستہ سے اپنی زبان سے اس کی پوری کمر کو چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا ۔ اور ایسے کرتے ہوئے اس کی گانڈ کے اُبھار تک پہنچ گیا ۔ اور اس دوران وہ اپنی ٹانگ کو موڑ کر میرے لن کے ساتھ مستی کر رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد میں نے اس کو سیدھا کیا ۔ اور اس کی ٹانگیں کھول کر اپنا لن اس کی پُھدی پر رکھا تو مجھے پتہ چلا کہ اس کی پُھدی ایک بار پھر سے اپنے پانی سے گیلی ہو چکی تھی ۔ اور اس کو اندر کرنے کی بجائے اس کی پُھدی پر پھیرنا شروع کر دیا ۔ وہ اب مچلنے لگی تھی ۔ اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ چاہتی تھی کہ میں لن کو جلد از جلد اس کی پُھدی میں ڈال دوں اور کچھ دیر ایسے ہی اس کو تنگ کرنے کے بعد آخر کار میں نے لن کو اس کی پُھدی کے سوراخ پر رکھا اور پھر اس کو اندر کرنے لگا ۔ جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی اندر گئی تو اس کے منہ سے درد بھری آواز نکل گئی ۔ مجھے بھی ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں نے ایک کنواری پُھدی میں لن ڈالنے کی کوشش کی ہو ۔ مگر میں رکا نہیں ۔ بلکے زور لگا کر اپنا لن اس کے اندر کر دیا ۔ جیسے ہی لن اندر گیا تو وہ درد سے چیخ اُٹھی ۔ تو میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔ کیونکہ کوثر اور اس کی فیملی کمرے کے باہر ہی تھی ۔ مگر اس کی آواز باہر جا چکی تھی ۔ جس کا مجھے کچھ دیر بعد پتہ چلا ۔ اس کی پُھدی بہت ٹائٹ تھی ۔ جیسے کسی کنواری کی ہو ۔ کیونکہ تقریبا 450 دن سے زیادہ ہوگئے تھے کہ اس کی پُھدی میں کوئی لن نہیں گیا تھا ۔ پھر میں نے اپنے لن کو باہر کھینچا ۔ تو اسکے منہ سے دوبارہ درد بھری آہ نکل گئی ۔ پھر تو میں نے رکے بنا اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔ کچھ ہی دیر میں اس کا درد ختم ہو گیا تو میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی ۔ اور پھر جب میں نے اپنی پوری طاقت سے اس کو جھٹکے دینے شروع کیے تو وہ مزے سےجیسے تڑپنے لگی ۔ اور اس کے منہ سے صرف سسکیاں اور آہ آہ کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ کوئی 3 منٹ کی چدائی کے بعد اس نے اپنی گانڈ اُٹھا اُٹھا کر میرے جھٹکوں کا جواب دینا شروع کر دیا ۔ اور مزید 1 کے بعد اس نے مجھے زور سے پکڑ لیا ۔ جس کی وجہ سے میرے جھٹکے رُک گئے ۔ اور وہ جھٹکے لیتے ہوئے فارغ ہوگئی ۔ اور جب وہ پوری طرح فارغ ہو گئی ۔ تو اس نے مجھے اپنے بازوں کے حلقے سے نکال دیا ۔ اور لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔ جیسے ہی اس نے مجھے اپنی پکڑ سے چھوڑا تو میں نے اس کو دوبارہ سے چودنا چروع کر دیا ۔ اب اس کی پُھدی چکنی تھی ۔ جس کی وجہ سے میرا لن اس کے اندر ایسے جا رہا تھا جیسے مشین میں پسٹن Piston چلتا ہے ۔ کچھ دیر میں اس کو ایسے ہی چودتا رہا اور وہ دوبارہ سے گرم ہو گئی تھی ۔۔ اور کچھ دیر بعد چودائی کے دوران ہی میں نے اس کی دونوں ٹانگیں اُٹھا کر اس کے سینے کی طرف موڑ دی ۔ اور پھر تو جیسے مجھے دورہ پڑ گیا ہو ۔ میں اس کو بے دردی سے چودنے لگا ۔ جب میرا لن اس کی بچہ دانی سے ٹکراتا تو وہ درد سے کراہ اُٹھتی ۔ اس نے کافی بار مجھے ٹانگیں چھوڑنے کو کہا ۔ مگر میں نے اس کی ایک نہ سنی ۔ اور کوئی مزید 6 منٹ کی چدائی کے بعد وہ اور میں اکھٹے ہی فارغ ہو گئے ۔ اور میں نے اس کی ٹانگوں کو چھوڑ دیا ۔ اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا ۔ کچھ دیر تو ہم ایسے ہی لیٹے رہے ۔ اور پھر پہلے میں اُٹھ کر واش روم گیا ۔ اور میرے بعد نیسمہ ۔ جب وہ گئی تو میں نے دیکھا کہ بیڈ کے دونوں طرف ایسے گیلے نشان تھے جیسے کسی نے گلاس بھر کر پانی گرایا ہو ۔ اس کا صاف مطلب تھا کہ جب وہ فارغ ہوئی تو بہت زیادہ پانی نکلا تھا ۔ خیر وہ واپس آئی تو اس نے مجھے کافی دیر کسنگ کی اور پھر ہم تیار ہو کر وہاں سے نکلے تو کوثر نے مجھے پکڑ لیا کہ تم نے تو کہا تھا کہ یہ کنواری نہیں ۔ تو میں نے اس کو بہت مشکل سے یقین دلایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور وہاں سے نکل کر ہم نے کھانا کھایا ۔ اس نے اپنے لیے اور اپنی فیملی کے لیے کچھ کپڑے لیے ۔ اور مجھے بھی ایک سوٹ لیکر دیا ۔ وہاں سے نکل کر میں نے اس کو بس اسٹینڈ پر چھوڑا۔ تو اس نے پھر سے ملنے کا وعدہ کیا ۔ اور چلی گئی کچھ مہینوں بعد مسرت سے پتہ چلا کہ نسیمہ سے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی ہے ۔ اور پھر اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی
  18. 4 likes
    ڈاکٹر صاحب پہلے کمنٹ کا جواب ہی اتنا تیکھا؟ پیار سے سمجھا دیا کریں۔ اب قاری کے بھی کچھ تخلیات ہوتے ہیں کہانی کے حوالے سے۔ مانا کہ کہانی قاری کی بجائے لکھاری کے خیالات کا مجموعہ ہوتی ہے
  19. 3 likes
    مزہ آگیا ڈاکٹر صاحب. ایکشن سے بھر پور اپڈیٹ تھی. اب یاسر بھی مقابلہ پر آیا. شادے نے بھی بڑی سفاکی سے کھیل کھیلا ہے. یہ تو آگے جاکر معلوم ہوگا کہ صدف ان کے چنگل میں کیسے پھنسی. کیوں کہ لکھا گیا کہ پہلے بھی ریپ کیا گیا آہ ڈاکٹر صاحب ضوفی کے لمس سے اس کی خوب صورتی سیکس یاد آگیا. کہانی اب روز بروز سسپنس سے بھرپور ہوتی جارہی ہے Hats off
  20. 3 likes
    چلیں بھائی آپ کے لیے 499 کر دیتا ہوں
  21. 3 likes
    بلکل ٹھیک کہا آپ نے اور شکریہ تجویز دینے کا میں چونکہ پہلی کہانی لکھ رہا ہوں ۔ اس لیے بیت سی چیزوں کو سمجھ نہیں پاتا آئندہ ان باتوں پر کنٹرول کر کے لکھنے کی کوشش کروں گا
  22. 3 likes
    اب جب تک 1000 کمنٹس نہیں ہوں گے کہانی مزید آپ ڈیٹ نہیں ہو گی
  23. 3 likes
    یاسر نے ایک معرکہ جیتا ہے مگر جنگ ابھی جاری ہے۔ اور میرے خیال میں ابھی جس امر کو یہ جیت سمجھ رہا ہے وہ ہی اس کی شکست کا باعث بنے گا۔ یاسر نے بیٹھے بٹھائے دشمنی پال لی ہے۔ اور دشمنی بھی ان سے جو اس کے رازدار ہیں مجھے یاسر کا برا وقت نزدیک لگ رہا ہے
  24. 3 likes
    بالکل ٹھیک کہا آپ نے. بات کی دلیل بھی ہو. ہم تو پٹ مرے ہیں کہہ کہہ کر کہ یاسر کا کردار ہوس پرست ہے ہماری طرح ڈاکٹر صاحب کو اچھا لکھاری بھی مانتے ہیں پر ان کی بات نہیں سمجھ پارہے ہیں ان کو چاہئے کہ آہنی گرفت کو پڑھیں معلوم ہوجائے گا کہ ڈاکٹر صاحب کس قسم کا لکھتے ہیں حالاں کہ آخر میں میں تو پیاسا رہا کہ ابھی سیکس ہوگا ابھی سیکس کیوں کہ ہمارا یہاں آنا سیکس پڑھنے کے لیے. ڈاکٹر صاحب نے جب کاشف کے سیکس نہ کرنے کی وضاحت کی تو بات سمجھ آئ اور پیاس بھی بجھ گئ
  25. 3 likes
    اگلی اپڈیٹ بینا.... نے مسکرا کر رضا مندی سے سر ہلا تے ہو ے اپنا گیلا جسم میرے جسم. میں پیوست کر دیا..... ہم دونوں کے کپڑے گیلے ہوچکے تھے.... اندر جا کر بیڈ روم میں میں نے بینا کے ہونٹوں کو ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگا.... ممم اور اسکے گیلے بدن پر ہاتھ پھیر رہا تھا...... اسکا جسم بلکل کسی کم سن جیسی لڑکی کی طرح تھا... وہ بھی اب ہونٹ چوسنے میں میرا ساتھ دینے لگی تھی.... اسکی منہ میں زبان داخل کی تو اسکے منہ کی مٹھاس کا زائقہ نے لنڈ کی اٹھان بڑھا دی میں نے اب اسکی قمیض میں ھاتھ ڈال کر مموں کو دبانے اور سہلانے لگا.... تھا ساتھ ساتھ کبھی اسکے ہونٹ چوستا تو کبھی اسکے..... زبان کا رس اپنے منہ میں منتقل کرتا..... بینا تھوڑا اٹھو.... پلیز قمیض سے بیڈ گیلا ھو رہا ہے..... میں بولا... بینا نے جواب دیا... اچھا رکو پہلے لائیٹ بند کر کے آو... میں آٹھ کر اس کے اوپر سے لائٹ کا بٹن آف کر کے کھڑکی کے آگے پردے بھی کر دیے.... کمرے کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اپنا ٹراوزر بھی اتار دیا اور قمیض بھی.... مکمل ننگَ ہو کر اسکے نزدیک بیڈ پر پہنچا اب ایک اور کنواری پھدی میرے لنسے مسخر ہونے کے لیے سامنے تھی.... لنڈ جب گیلے ٹراوزر سے آزاد ہوا تو.... جوب پھول کر لمبائی اور موٹائی میں اپنے جوبن پر آیا.. ادھربیڈ پر بینا اپنی قمیض اتار چکی تھی.... ہوس کی آگ میں وہ بھی جل رہی تھی.... میں بیڈ پر جب اسکے پاس آیا... میرا ننگا بدن سے وہ یک دم گھبرائی.... اور بولی وجی تم نے سارے کپڑے اتار دئیے..... ہاں میں نے جواب دیتے ہوے اسکے مموں کو تھام کر مسلنے لگا..... مجھے الھجن ہو رہی تھی..... گیلے کپڑوں سے تب تک وہ خشک ہوجائے گے...... اسکا نپل جھک کر منہ میں لیا.... تو بینا کے منہ سے آہ نکلی..... اور مموں پر لگے پانی سے میں اپنی پیاس بجھانے لگا.... نپلوں کے سائڈ پر دانوں پر.... زبان کی نوک پھیری.... کبھی نپلون کی نوک پر زبان لگاتا اس نشہ میں گم بینا کو احساس نہ ہوا اور اپنے ننگے جسم سے اسکے جسم کو بیڈ کے گدے میں دبانے لگا...... اس نے میرے لنڈ کی لمبائی اور موٹائی کو محسوس کرنے کے لیے اپنی ٹانگیں کھول دی..... میں اسکے مموں کو اب چوستا اور دوسرے کو مسلتا ہوا لنڈ کا دباؤ پھدی پر بڑھاتا..... بینا... وجی آف...... آہ...... تم کدھر تھے ابتک.... تمہیں کتنا پسند کرتی تھی میں.... لیکن آہ تم میری طرف دیکھتے بھی نہیں تھے سسسسسسس آہ.... ہہہہ..... اب دونوں ہاتھوں کو مموں پر رکھتے ہوے.... اب اسکی ناف تک آیا اور پیٹ کو چومتے ہوے.... اسکا ناف کے سوارخ میں زبان سہلائ..... اسنے کمر اٹھا کر اپنی ناف کو میری زبان کے سامنے کیا.... تو فوراً میں نے مموں کو مسلا تو وہ چلا کر.... وجی............. اپنی کمر نیچے کر دی..... وجی آرام سے آہ درد ہو رھا ھے..... اوہ سوری مجھے پتہ نہیں لگا..... اور میں نے آگے بڑھ کر اسکا نپل منہ میں لیکر چوسا اور لنڈ سے پھدی کا مساج کرنے لگا.... نازک لبوں والی.... چھوٹی سی پھدی جب سخت لنڈ سے مسلتی تو آنکھوں کو بند کرتے ھوے مزہ میں اپنا سر ادھر ادھر کرتی..... مموں کو پھر سے سہلانے کے لیے ھاتھوں میں لیا مسلا اور اسکی گردن کو چوما.... اپنی زبان اسکے گردن سے گھماتے ہوے... اسکےکان کے پیچھے لایا..... ایک ھاتھ نیچے کر کے اسکی شلوار کی لاسٹک میں انگلی پھنسائ..... کان کی لو کو منہ میں لیکر چوسنے لگا اور اسکا ممہ میری کبھی مسلا جاتا تو کبھی نپل کو کھینچتا..... وہ اس دوہرے حملے سے بےچین ہوتی.... اپنا سر کبھی دائیں کبھی بائیں کو گھماتی اسکی شلوار نیچے اترتے ہوے اسکے کہولوں تک پھنسی تو اس کو ہوش آیا.... وجی... نہیں بس اس سے آگے نہیں..... اسکا کمزور لہجے اس کے دل کی ترجمانی نہیں کر رہا تھا...... میری ساری محنت اکارت ہوجاتی اگر میرا لنڈ اسکی پھدی کے اندر نہ ہوتا..... میں نے بات ٹال دی اور اب اسکی کان کو چومتے ہوے اپنی گرم. سانسوں کو اس کے دل سے روشناس کروانے اپنی گرم سانسوں کو اسکے کان میں چھوڑا...... بیناہہہہہہہہہہ..... میں بولا ایسے مزہ نہیں آنا.... سنو نہ..... تھوڑے کہولے اوپر اٹھاؤ..... نہیں وجی........ رکو..... وہ کہتی اور روکتی رہی لیکن میں نے جب شلوار نیچے کھنچی.... تو وہ نہ نہ کرتی ہوئی کمر اوپر اٹھاتی رہی اور مکمل ننگی میرے نیچے تھی.... بے شک وہ انعم جتنی حسین نہیں تھی مگر اس میں عجیب سا نشہ اور پاگل پن تھا.... مجھے اسکا ننگا جسم دیکھ کر ایسا لگا جیسے کسی سکول جاتی بچی جیسا جسم تھا..... میں نے بے ساختہ اسکی بالوں سے پاک پھدی کو چوم لیا..... وجی.... اف..... کیا کر رہے ہو گندی جگہ ہوتی ہے یہ..... اسکی بات کی پرواہ نہ کرتے میں نے اس کی پھدی کے لبوں کو باری باری چوما اور اسکا نپل مسل دیا اور اسکے اوپر آگیا..... اب اسکے ہونٹوں کا رس مجھے کشید کر کے اپنی پیاس کو بجھانا تھا..... مگر اسکے ہونٹوں کا رس میری اور اسکی تڑپ اور بڑھا رھا تھا...... وہ اور میں پورے ننگے اپنا جسم کو سونپ رہے تھے کسی چیز اور وقت کا ہوش نہیں تھا..... کبھی اسکی زبان میرے منہ میں آتی.... تو میری زبان اسکے منہ کا طواف کرتی..... ساتھ ساتھ میں اوپر نیچے ہو رہا تھا جس سے اسکے چھوٹے مموں میرے سینے میں مسلے جاتے..... وہ بند آنکھوں میں کھوئ اپنا مجھے سونپ رہی تھی اپنی پھدی کو میرے وحشی لنڈ پر کمر اٹھا کر دباو ڈالنے لگی.... یہ محسوس کرتے ہی موقع ظائع نہ ہو اپنے لنڈ کی موٹی ٹوپی ھاتھ میں پکڑ کر.... اسکی کمسن چوت پر رکھتے گھسانے کی تاک میں تھا تو اس نے میرا ھاتھ تھام کر میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی.....
  26. 2 likes
    اپ ڈیٹ 18ستمبر مامی کی شکل دیکھ کر لگا کہ جیسے اس کو میرا آنا پسند نہیں آیا ۔ مگر جب میں کچھ آگے بڑھا تو انہوں نے خود کو جیسے سنبھالا اور مجھے ا کر گلے لگا کر پیار کیا ۔ کہ میں سمجھ نہ سکا کہ کون سی چیز شب ہے کہ اس کو میرا آنا اچھا نہیں لگا یا وہ کچھ اور چھپانا چاہ رہی ہے خیر کچھ دیر گپ شپ کے بعد میں کمرے سے باہر نکل آیا تو دیکھا کہ رخسانہ سالن بنا رہی تھی ۔ میں نے اس کے پاس جا کر کہا کہ کیا پروگرام ہے ۔ تو وہ بولی پروگرام جیسے کہو گے بنا لوں گی ۔ پر ایسی بھی کیا بے چینی کہ فورا ہی پیچھے چلے ائے تو میں نے اس کو ساری بات بتائی کہ کیوں آصفہ کو چھوڑنے آیا ۔ اور اب اس کو وہاں چھوڑ کر ادھر ا گیا ہوں تمھیں چودنے تو ہنس پڑی ۔ اور پھر پکہنے لگی کہ تمھاری بھابی بہت پہنچی ہوئی چیز ہے ذرا بچ کے تو میں نے بھی کہہ دیا دیکھیں گے ۔ ویسے بھی گھر والے جانے یا اس کا شوہر پھر اس نے پوچھا کہ آصفہ کے ساتھ کوئی بات بنی کہ نہیں ۔ تو میں نے اس کو۔ آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بول دیا کہ اس نے مجھے خود کہا ہے پر میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تو اس نے مجھے صرف اتنا کہا کہ وہ مخلص لڑکی ہے اور سیدھی سادھی بھی تو میں نے کہا یار تمھیں معلوم ہے کہ ابھی بہت وقت ہے مجھ سے بڑے 2 رہتے ہیں ۔ اس لیے میں ابھی کچھ فیصلہ نہیں کر پا رہا پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم اور یہاں ۔ تم تو کہہ رہی تھی کہ مامی کے گھر تم بہت مجبوری ہو تو آتی ہو ۔ اس نے بتایا کہ بچوں کی وجہ سے مجبورا ادھر آنا پڑا کہ بچوں کے فائنل پیپر ہیں ۔ تو خالہ نے امی کو کہا کہ میں ان کے گھر رہوں چند دن ۔ اور بچوں کی مدد کروں تو میں نے اس کے ساتھ رات کا پروگرام فائنل کر لیا ۔ اور یہ بھی کہا کہ اگر آج تم نے لاہور میں جو رات کو کیا تھا ویسا کیا تو سوچ لینا تو اس نے وعدہ کیا کہ اب ویسا نہیں ہو گا پھر میں گھر سے نکل آیا ۔ اور کچھ پرانے دوستوں سے جن کے ساتھ بچپن میں کھیلتے تھے جب بھی گاؤں آتے تھے سے خوب گپ شپ کی اتنا وقت گزر گیا کہ مجھے خود احساس نہ ہوا ۔ شام کے 7 بج چکے تھے ۔ سردیوں کا موسم تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے بہت رات ہو گئی ہے میں گھر پہنچا تو سب میرا انتظار کر رہے تھے ۔ ماموں بھی کچھ گھبرائے ہوئے لگ رہے تھے مگر انہوں نے حال احوال کرنے کے بعد پوچھا خیر سے چکر لگا تم تو سالوں سال گاؤں نہیں آتے تو مجھے شرمندگی بھی ہوئی کہ ان کی بات سچ ہے ۔ اور آج آیا بھی ہوں تو پھدی کے چکر میں اور سوچ میں یہ بھی تھا کہ ماموں بھی مجھے دیکھ کر گھبرا کیوں گے ۔ اس وقت تو میں چپ ہی رہا ۔ کھانا کھا کر سب نے چائے پی ۔ اس دوران ماموں اور بچوں سے خوب گپ شپ ہوئی مگر مامی کا رویہ مجھے پریشان کر رہا تھا کیونکہ ماموں اب بلکل نارمل تھے ۔ کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ دیکھنے میں لگ رہا تھا کہ مامی کو میرا آنا برا نہیں لگا تھا ۔ پر وہ مجھے اگنور بھی کر رہیں تھیں خیر میں رخسانہ کو بتا کر کہ میں ایک کتاب یا رسالہ لے کر آتا ہوں میں بازار چلا گیا ساتھ ہی میں نے بازار سے مانع حمل گولیاں بھی لے لیں ۔ جو کہ بہت مشکل سے ملیں ۔ اور مجھے 4 گنا زیادہ پیسے بھی دینے پڑے واپس آیا تو پتہ چلا کہ پروگرام کے مطابق رخسانہ نے چھت پر موجود اکلوتے کمرے میں میرا بسترا لگایا تھا ۔ بچے میرے ساتھ سونا چاہتے تھے پر اس نے سب کو سرخ جھنڈی دیکھا دی تھی ۔ مامی نے بھی مجھے کہا کہ تم بچوں کے ساتھ سو جاؤ اکیلے کیا کرو گے اوپر کمرے میں ۔ پر میں نے وہی بہانہ کہ نہ جانے رات کو کب تک کتاب پڑھتا رہوں گا ۔ تو بچے تنگ ہوں گے کیونکہ بچے اور رخسانہ ایک کمرے میں سو رہے تھے ۔ اگر میں نیچے سوتا تو لازمی تھا کہ رخسانہ مامی کے کمرے جاتی ۔ اور پھر رات کا پروگرام خراب ہوتا میں اوپر کمرے میں جا رہا تھا کہ مامی نے اچانک مجھ سے پوچھا کہ ویسے کب تک رہو گے ۔ تو میں ایک بار پھر سے چونک گیا کہ اصل مسلہ کیا ہے جو یہ مجھ سے ایسے سوال بھی کر رہی ہیں اگرچہ مجھے ان کا سوال برا لگا تھا مگر میں نے بہت آرام سے ان کو جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کل چلا جاؤں یا پرسوں تو وہ پھر کچھ نہ بولیں ۔ میں بھی اوپر چلا گیا ۔ اور بستر پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ مامی کا رویہ ایسا کیوں ہے اور ماموں بھی مجھے دیکھ کر جو پریشان ہو گئے تھے اس کی کیا وجہ ہے مگر مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی ۔ پھر یہ سوچ کر کہ ان کے گھر کا کوئی معاملہ ہو سکتا ہے میں نے اس چیز کو سوچنا چھوڑ ۔ اور کتاب پڑھتے پڑھتے نہ جانے کب سو گیا کہ اچانک مجھے ایسا لگا کہ کوئی میرے ساتھ آ کر لیٹ گیا ہے ۔ مگر نیند میں کچھ خاص سمجھ نہ آئی ۔ پھر جب کوئی پہلے تو میرے اوپر کر لیٹا ۔ تو میں نیند سے جاگ گیا ۔ اور اس کے بعد ہونٹوں نے میرے ہونٹوں کو اپنے اندر لیکر چوسنا شروع کیا تو مجھے سمجھ۔ گئی کے یہ تو میری جان من ہے ۔ میں نے بھی اس کے ہونٹوں کو جواب میں چوسنا شروع کر دیا اب میں ردھم میں آ رہا تھا ۔ اور اس دوران جب میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھے تو مجھے پتہ چلا کہ اس نے اوپر کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا حتی کہ اس کے جسم پر برا بھی موجود نہیں تھا ۔ میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوا ۔ اس کی گانڈ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ تو پوری کی پوری قدرتی لباس میں تھی ۔ یعنی کہ بلکل ننگی میں نے پھر پہلے اپنی شرٹ اتاری ۔ اور ہاتھ نیچے کر کے ٹراؤزر بھی اتار دیا ۔ اس دوران رخسانہ نے اپنے گھٹنوں کو بستر پر لگا کر اپنا جسم مجھ سے اوپر کر لیا تھا تاکہ میں اپنا کام آرام سے کر لوں ۔ اب وہ دوبارہ میرے اوپر آگئی ۔ اور اس کے مموں نے جیسے ہی میرے سینے کو ٹچ کیا تو مجھے معلوم ہوا کا اس کا جسم بے حد گرم ہے ۔ کیونکہ اس کے سینے نے اس قدر سکون دے گرمی میرے سینے پر پہنچائی کہ کیا بتاؤں پھر اس کی پھدی میرے لن پر جا ٹکرائی ۔ اور مجھ پتہ چلا کہ اس کی پھدی ہلکی سے چوما چاٹی کی وجہ سے اپنا پانی چھوڑنا شروع کر چکی ہے میرے لن نے بھی فل انگڑائی لی ۔ اور آہستہ آہستہ اپنے جوبن پر آنا شروع ہو گیا کچھ ہی دیر میں میرا لن فل ٹائٹ ہو گیا تھا ۔ اب ایک طرف رخسانہ مجھے کسنگ کر رہی تھی ۔ تو دوسری طرف وہ اپنی پھدی کو اب مسلسل میرے لن پر رگڑ رہی تھی ۔ اس کی سانسیں تیز تر ہو چکی تھیں ۔ اور وہ بہت جنونی انداز میں کچھی میرے ایک ہونٹ کو چوستی تو کبھی دوسرے کو اس کی سانسوں میں بھی آج ایک الگ طرح کی نشے دار مہک تھی ۔ ایسی مہک میں نے آج سے پہلے کبھی کسی کی محسوس نہیں کی تھی کچھ ہی دیر میں رخسانہ نے خود کو ہلکا سا اوپر اور اپنی پھدی کے سوراخ کو میرے لن پر سیدھا کیا ۔ اور جیسے ہی اس نے ہلکا سا شاعر لگایا تو میرا لن اس کی پانی سے پوری طرح گیلی پھدی میں جڑ تک گھس گیا جیسے ہی میرا لن اس کی پھدی میں گیا اس کے منہ سے بے اختیار آہ کی آواز نکلی مجھے محسوس ہوا کہ میرا لن اس کی بچہ دانی سے جا ٹکرایا تو اس کے جسم نے ایک جھرجھری لی ۔ اور اس کے منہ سے ہلکی سی درد بھری آہ اور نکلی کچھ دیر تو وہ ایسے ہی لیٹی رہی ۔ اور پھر اس نے خود کو ہلکا ہلکا اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا مجھے لگا کہ جیسے وہ مزے لے رہی ہو کچھ دیر وہ ایساہی کرتی رہی کہ کبھی رک جاتی ۔ تو کبھی بہت آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگتی اس دوران اس نے مجھے کسنگ کرنا نہ چھوڑا اب حالت کچھ ایسے تھی کہ میرا لن اس کی پھدی میں تھا ۔ اور اس کا سینہ میرے سینے کے ساتھ ٹچ تھا ۔ اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر تھے جب کہ اس دوران یا تو میں بیچ بیچ میں اس کی کسنگ کا جواب دے رہا تھا ۔ یا پھر میرے ہاتھ اس کی کمر پر مالش کر رہے تھے کوئی 2 منٹ گزرے تو میں نے نیچے سے ٹانگوں کی مدد سے لن کو اس کی گانڈ میں جھٹکا دیا تو اس نے کسنگ چھوڑ کر مجھے کیا کہ پلیز ابھی تم کچھ نہ کرو۔ جو میں کر رہی ہوں مجھے کرنے دو اور انجوائے کرو تو میں رک گیا ۔ بے شک مجھے مزا نہیں آ رہا تھا ۔ پھر بھی میں نے اس کو احساس نہ ہونے دیا کوئی 6 منٹ کے بعد اس کا جسم اکڑ سا گیا ۔ اس نے مجھے کسنگ کرنا چھوڑ دی ۔ اور اس کا جسم ہلکے ہلکے جھٹکے لینے لگا اور پھر وہ جیسے نڈھال ہو کر میرے اوپر گر گئی تو میں نے اس کی کمر کو بہت پیار سے مسلنا شروع کر دیا وہ بہت لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔ کوئی 3 سے 4 منٹ تک وہ ایسے ہی لیٹی رہی ۔ اس دوران میرا لن کچھ نرم ہو کر اس کی پھدی سے نکل گیا تو مجھے ایسا لگا کہ اس کی پھدی سے پانی کا سیلاب نکل کر میری ٹانگوں سے ہوتا ہوا بستر پر جا گرا پھر اس نے مجھے بہت پیار سے ایک کس کی اور بولی کہ شکریہ یار ۔ میں نے کہا کہ میں نے ایسا کیا کر دیا جو تم میرا ایسے شکریہ ادا کر رہی ہو ۔ تو وہ بولی کہ اگر تمھاری جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو وہ مجھے ایسے انجواے نہ کر دیتا ۔ بس مجھے چودنے لگتا تو میں ہنس پڑا ۔ اس نے پھر میرے سر کے پاس سے کپڑا اٹھایا ۔ اور پہلے خود کو اپنی گانڈ کو اوپر اٹھا کر صاف کیا ۔ اور پھر میری ٹانگوں پر جو اس کا پانی لگا تھا اس کو صاف کیا۔ جب اس نے میرے لن کو صاف کیا تو بولی یہ کیوں ٹھس ہو گیا ہے۔ کیا تم بھی فارغ ہو گے ہو ۔ تو میں نے کہا کہ فارغ تو نہیں ہوا ۔ پر یہ تمھارا پیار چاہتا ہے ۔ وہ حیران ہو کر پوچھنے لگی کیسا پیار ۔ تو میں نے کہا کہ وہ پیار جو آج تم اس کو اپنے ہونٹوں سے کرو گی ۔ تو اس نے میرے لن کو چوسنا تو دور کی بات ۔ اس کو چومنے سے بھی انکار کر دیا ۔ کہ وہ یہ نہیں کرے گی جب اس نے کپڑا واپس رکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ کمرے میں بلکل اندھیرا ہے ۔ جس کا مطلب تھا کہ اس نے لائٹ آنے پر بند کر دی تھی اور پھر میرے ساتھ لیٹ گئی ۔ اور اپنا ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا مگر اس نے بجائے اس کو رگڑنے کے بہت پیار سے اس کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ۔ ساتھ ساتھ وہ مجھ سے باتیں کرنے لگی بیچ بیچ میں وہ مجھے چومتی بھی رہتی ۔ کوئی 10 منٹ کے بعد میں اس کے اوپر آ گیا ۔ اس دوران اس کے مسلسل میرے لن پر ہاتھ پھیرنے سے وہ مکمل طور پر کھڑا ہو چکا تھا میں نے پہلے تو اس کے ہونٹوں پر خوب کسنگ کی ۔ پھر اس کے پورے چہرے کو چومتا ہوا ۔اس کی گردن پر آ گیا وہ اب پھر سے گرم ہونے لگی تھی اس کی سانسیں بتا رہیں تھیں کہ وہ میرے پیار کو اب نہ صرف محسوس کر رہی تھی بلکہ مزے بھی لے رہی تھی ۔ میں نے کافی دیر تک اس کی گردن کو کبھی تو چوما ۔ کبھی اس کو زبان اور ہونٹوں سے چاٹا اب وہ مکلمل گرم ہو چکی تھی اور اس کے منہ سے مسلسل سسکیوں اور آہوں کی آواز آ رہی تھی پھر میں نیچے ہوتے ہوئے اس کے مموں تک پہنچ گیا ۔ مگر مموں تک پہنچنے سے پہلے اس کے سینے کو اتنا چوما اور چاٹا کہ وہ مزے سے تڑپنے لگی اس دوران میرے لن کو صاف محسوس ہوا کہ اس کی پھدی سے پھر سے پانی نکلنے لگا ہے پھر میں نے اس کےایک ممے کو منہ میں لے لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا اس کی نیپلز کھڑی ہو چکی تھیں ۔ وہ مزے سے تڑپ رہی تھی ۔ ایسا لگا کہ وہ چا رہی ہو کہ میں جلد سے جلد اپنے لن کو اس کی پھدی میں ڈال دوں اس لیے میں نے مموں کو صرف 3 منٹ کے قریب کھیل کر چھوڑ دیا اور اس اوپر ہو کر اس کی پھدی پر لن کو پھیرنا شروع کر دیا ۔ وہ نہ صرف تڑپ گئی بلکے منہ سے جہاں سیسکیوں کی آواز آ رہی تھی ۔ وہی پر اس نے کہنا شروع کر دیا اندر ڈال ۔ یار اندر ڈال تو میں نے بھی اپنا لن ایک جھٹکے سے پورا اس کے اندر ڈال دیا ۔ سس کے منہ سے مزے سے بھری آہ کی آواز نکلی ۔ میں نے اب اس کو چودنا شروع کر دیا ۔ اور پہلے بہت پیار سے کوئی 2 منٹ تک لن کو اندر باہر کرتا رہا ۔ پھر میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی ۔ مزید 2 منٹ کے بعد رخسانہ ایک بار پھر جھٹکے لیتے ہوئے فارغ ہو گئی تو میں نے لن کو باہر نکالا ۔ اور کپڑا اٹھا کر پہلے اپنے لن کو اور پھر اس کی پھدی کو جتنا ہو سکا صاف کیا اور پھر اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر میں اس کے سینے سے لگایا ۔ اور ساتھ ہی تکیہ اٹھا کر اس کی گانڈ کے نیچے رکھا ۔ تاکہ وہ مزید اوپر ہو جائے پھر میں نے لن کو دوبارہ اس کی پھدی میں جھٹکے سے ڈال دیا تو وہ مزے سے جیسے سسک پڑی پھر تو میں نے اپنا پمپ چلانا شروع کر دیا ۔ میرے ہر جھٹکے پر میرا لن اس کی بچہ دانی سے ٹکراتا تو اس کے منہ سے آہ کی آواز نکلتی ۔ کوئی مسلسل 7 منٹ کی چدائی کے بعد میں اور رخسانہ ایک بار پھر سے فارغ ہو گئے تو میں بھی اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اس نے بہت مشکل سے اپنی ٹانگیں سیدھی کئیں ۔ کہ ان پر میرا وزن تھا ۔ اور میرا اٹھنے کا پروگرام نہیں تھا ہم کافی دیر ایسے لیٹے رہے ۔ پھر میں اس کے اوپر سے ہٹ گیا ۔ اور اس کے ساتھ لیٹ گیا ۔ اس سے پوچھا آج تم کچھ زیادہ گرم نہیں ہو رہی تھیں تو اس نے بتایا کہ 1 یا 2 دنوں میں اس کو مخصوص دن شروع ہونے والے ہیں ۔ اس وقت لڑکی کو زیادہ سیکس کی گرمی چڑھتی ہے تو مجھے ایک نئی بات سیکھنے کو ملی ۔ میں نے پھر پوچھا مطلب کہ کل چانس ہے کہ پھدی ملے گی کہ کوئی چانس نہیں ۔ تو اس نے کہا کہ 90 فیصد ہے ۔ کیونکہ اس کی کمر میں درد اور ٹانگوں میں اکڑاؤ ابھی کم ہے تو اس کے مطابق ابھی 36 گھنٹے لگیں گے کہ اس کو مخصوص دن شروع ہوں۔ ہم کچھ دیر ایسے لیٹے رہے ۔ پھر وہ جانے لگی تو میں نے ویسے ہی کہا کہ ایک راونڈ مزید نہ ہو جائے تو وہ بولی کہ پہلے ہی وہ حد سے زیادہ فارغ ہو چکی ہے۔ اور اب اس میں مزید ہمت نہیں تو میں نے بھی اس کو جانے دیا۔ مگر جانے سے پہلے اس نے بستر سے ایک چادر اور تکیے کا غلاف بھی اتار کر پھینک دیا ۔ اس کے جانے کے بعد میرے دماغ میں آیا کہ یہ کیسا اتفاق ہے کہ نہ لاہور میں ، اور نہ ہی آج میں نے اس کا جسم دیکھا ۔ حتی کہ اس کے ممے کیسے ہیں یہ بھی مجھے معلوم نہیں کیونکہ ہم دوست جب بھی سیکس بات کرتے تھے تو دوسرے دوست ہمیشہ ایسے ممے ۔ ایسا رنگ ۔ ایسی نیپل ۔ اور اس کا سرکل ایسا تھا کی بات کرتے تھے میں نے نے پھر سوچا یار ممے تو آصفہ کے بھی نہیں دیکھے ۔ اور پھر یہ ہی سوچتا سوچتا سو گیا صبح اٹھ کر ناشتہ کر کے ماں کو کال کی ۔ کہ یہ میری عادت تھی کہ میں روانہ یہ 1 دن چھوڑ کر ماں کو لازمی کال کرتا تھا والدہ نے مجھے فورا واپس آنے کا کہا تو میں نے بھی واپسی کی تیاری پکڑی ۔ جب میں کال کر رہا تھا تو رخسانہ پاس تھی اور اس نے ساری بات سن لی تھی اس لیے وہ کچھ نہ بولی اور میں وہاں سے نکل کر لاہور والی گاڑی میں بیٹھ گیا
  27. 2 likes
    ڈاکٹر صاحب تسی گریٹ او۔ ساری قیاس آرائیوں کو چود کے رکھ دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ پلان تھا کس کا اور تھا کیا؟ کون ہے جو صدف کے ذریعے یاسر کو پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا پورا پلان کیا ہے؟ ممکن ہے کہ وہ صدف اور یاسر کے تعلق کے بارے میں جانتا ہو
  28. 2 likes
    اور شاید یہی یاسر کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ہو گا۔ اس کی ہوس احساس ندامت میں بدلے گی اور پھر وہ اپنے بچھائے ہوئے کانٹے چنے گا
  29. 2 likes
    Dr sb, Aj weekend hai aur sirf 3 pages........ Baqi story ridham pakar rahi hai.
  30. 2 likes
    ڈاکٹر صاحب آپ کی ہمت اور حوصلے کی داد دیتا ہوں
  31. 2 likes
    Dr sab plz ab dubra sy us topic pa na Jiya Jaaye phaly hi is py bhut bhash ho chuki ha kahty ha her ik mahlly ma koi asy hoty han jo idhr ki baty udhr or udhr ki baty idhr karty han un ka kam ha bs aag lagna plz ap is py dihan na dy wo baty karty han tu wo un ki kam akli ha bs
  32. 2 likes
    دیکھیں ہو سکتا ہے۔ اب اگر یاسر گردونواح کی ہر عورت اور لڑکی کی لے سکتا ہے تو اسی گاؤں میں وہ اکیلا مرد تو نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی اور کی بات ہو رہی ہو۔
  33. 2 likes
    اگر اپڈیٹ نہیں آنی تو اسے نامکمل کہانیوں کے سیکشن میں موو کر دینا چاہیے
  34. 2 likes
    محبت تو محبت ہوتی ہے سیکس تو اس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے محبت جب مل جاتی ہے تو سیکس کتنا کیا جاتا ہےاور ایک دوسرے کا خیال کرنا رکھا جاتا ہے یہ سب کو پتہ ہے
  35. 2 likes
    ۔۔ جیسے ہی وہ میرے گلے کے ساتھ لگی ۔۔میں نے بھی اسے اپنی با نہوں کے حصار میں لے لیا اور اس کے جسم کو اپنے جسم کے ساتھ دبانے لگا جس کی وجہ سے اس کا نرم و نازک اور پھولوں جیسا بدن میرے سخت جسم میں دھنسنے لگا ۔۔۔ ادھر اس کے جسم کا میرے بدن کے ساتھ ملنے کی دیر تھی ۔۔۔۔۔۔ کہ نیچے سے میرے لن کی صورتِ حال ایک دم سے خراب ہونا شروع گئی ۔۔۔۔ اس کے جسم کا لمس پاتے ہی ۔۔۔ میرا لن ایک دم سے اتنی سختی کے ساتھ اکڑ گیا تھا ۔۔۔ کہ اس وقت میرا جی چاہا ۔۔۔۔کہ کسی طرح میرا یہ اکڑا ہوا بانس اس کی چوت میں گھس جائے ۔۔۔جبکہ دوسری طرف ۔۔۔ میں اور وہ ایک ساتھ کسنگ کرتے ہوئے چارپائی سے ہٹ کے دھریک کے درخت کے پاس پہنچ چکے تھے۔۔۔ وہاں پہنچتے ہی اس نے دھریک کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی اور بڑی سیکسی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس کی دونو ں ٹانگوں کو کچھ مزید کھلا کیا اور پھر اس کی دونوں ٹانگوں کے عین بیچوں بیچ اپنا لن رگڑنے لگا ۔۔۔۔۔ میرے لن کی رگڑ لگتے ہی اس کے منہ سی ایک سسکی سی نکلی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔۔ تیز تیز سانس لیتی ہوئی عذرا بھی مست سے مست تر ہونا شروع ہو گئی ۔۔۔ اور۔۔۔۔ پھر کچھ ہی گھسوں کے بعد ۔۔۔۔وہ ۔۔۔ آگے بڑھی اور میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ میری جان یہ تو بتاؤ کہ کل اگر میں تم کو مل جاتی تو تم نے میرے ساتھ کیا سلوک کرنا تھا ؟؟؟؟؟۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے نیچے سے اس کی چوت پر اپنے لن کو رگڑتے ہوئے کہا ۔۔۔ سب سے پہلے میں نے تو میں نے تمہارے ان لال لال گالوں کو چوم چوم کر انہیں اور بھی لال کر دینا تھا ۔تو وہ مستی بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔ ابھی چوم لو نا۔۔۔میری جان ۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اپنے دونوں ہونٹ اس کے شرم سے لال ہوتے ہوئے گالوں پر رکھے اور انہیں چومنے لگا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ کچھ دیر تک میں ایسے ہی اس کے گالوں کو چومتا ۔۔۔اور ساتھ ساتھ نیچے سے اپنے لن کو بھی اس کی پھدی کی لائین پر رگڑتا رہا ۔۔ میرا تنا لن اس کی چوت کے نرم لبوں پہ تیزی کے ساتھ رگڑ کھا رہا تھا ۔۔۔۔اور میرے ان پاور فل گھسوں کی تاب نہ لا کر ۔۔عذرا۔۔۔۔ کے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔ اور وہ ۔ مزید گرم ہو کر اپنی پھدی کو میرے لن کے ساتھ جوڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔پھر کچھ دیر بعد وہ دوبارہ سے آگے بڑھی اور میرے کان کے قریب اپنے منہ کو لا کر اسی مست لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔اس کے بعد تم نے کیا کرنا تھا جانو ؟؟ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔میری جان میں نے تم سے ایسے ہی پیار کرتے جانا تھا ۔۔۔تو وہ اسی مست لہجے میں بولی ۔۔۔ ایسے نہیں مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ تم نے میرے ساتھ کیسے اور کس طرح پیار کرنا تھا ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔عذرا کی بات سن کر میں نے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کو گھسے مارنے بند کر دیئے۔۔۔۔ اور ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو وہ درھیک کے تنے کے ساتھ ٹیک لگائے بڑی نشیلی نظروں سے میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر وہ کہنے لگی۔۔ بتاؤ نا ں جان۔۔۔۔ رات تم نے میرے ساتھ کیا سلوک کرنا تھا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ سے اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں پر رکھا ۔۔۔۔اور انہیں چوم کر اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تو میں نے تمہارے ان خوب صورت ۔۔۔۔۔سیکسی ۔۔ اور جوسی ہونٹوں کو چومنا تھا۔۔۔۔ تو وہ میری کسنگ کا مزہ لیتے ہوئے بولی۔۔۔ میرے جوسی ہونٹوں کو چومنے کے بعد تمہارا اگلا سٹیپ کیا ہونا تھا ؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر خود ہی کہنے لگی۔۔۔ بول نا ں میری جان ۔۔۔ مجھے تمہارے منہ سے سنتے ہوئے بڑا مزہ آ رہا ہے ۔۔اس کی بات سن کر میں سمجھ گیا کہ آج کڑی خاصی گرم ہے چنانچہ میں نے اس کو اسی حساب سے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ ۔۔۔ اس کے بعد میں نے تمہارے ان لال گالوں کو خوب چومنا اور چاٹنا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی میں نے اپنی زبان نکالی اور ایک دفعہ پھر اس کے لال لال گالوں کو چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اس کے دونوں گال میری زبان کی رطوبت سے گیلے ہو گئے۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی میری زبان نے اس کے گالوں کو چھوا تو اس نے ایک جھرجھری سی لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور سسکی لے کر بولی ۔۔۔۔۔۔۔ تم نے میرے گالوں کو صرف چومنا اور چاٹنا تھا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ میں نے تو تمہارے ان گالوں کا کھا جانا تھا ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹوں کو میرے گالوں پر رکھا اور پھر اپنے دانتوں کی مدد سے میرے گالوں کو کاٹنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس نے اتنے زور سے میرے گالوں پر دانت کاٹا کہ میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔۔۔۔۔ میری اس حالت کو دیکھ کر وہ شرارت بھرے لہجے میں بولی کیوں کیا ہوا جان ؟ تو میں نے اپنے گا ل کو سہلاتے ہوئے کہا کہ۔۔۔۔۔۔۔ یار تم نے بڑے زور سے کاٹا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر اس نے میرے اس گال کو کہ جہاں پر اس نے کاٹا تھا ۔۔۔۔اپنی زبان کی مدد سے مساج شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر بولی ۔۔سوری پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے دوبارہ سے اپنی بانہوں کو میرے گرد لپیٹ لیا اور پھر ایک ٹائیٹ سی جپھی لگاتے ہوئے اسی نشیلے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔ اچھا اور بتاؤ نا کہ تم نے مزید کیا کرنا تھا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ اس کے لہجے کی مستی دیکھ کر ایک بار پھر مجھ پر مزید گرمی سی چڑھ گئی اور میں نے اس کی گردن کو چومتے ہوئے کہا اس کے بعد میں نے تمہاری ان بڑی بڑی چھاتیوں کو ننگا کر کے ان کو دبانا اور چوسنا تھا ۔۔۔ میری بات سن کر وہ میرے کان کے قریب اپنے ہونٹوں کو لائی اور پھر میرے کان کی لو کو چاٹ کر سرگوشی میں بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر ننگا کر دو ناں ۔۔۔ میری ان بڑی بڑی چھاتیوں کو ۔۔۔۔۔۔ تم کو روکا کس نے ہے؟؟؟؟؟؟؟؟ اس کی بات سن کر میں نے جلدی سے اس کی قیض کو اوپر کیا اور پھر اس کی برا کو ہٹا کر اس کی بھاری چھاتیوں پر پل پڑا۔۔ میں نے اس کے تنے ہوئے نپلز کو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پکڑا اور پھر باری باری ان کو چوسنے لگا ۔۔۔کچھ دیر تک اس نے مجھے اپنی چھاتیوں کو چوسنے دیا ۔۔۔۔پھر اس نے میرے منہ کو اپنی چھاتیوں سے ہٹایا اور کہنے لگی۔۔۔۔ اس کے بعد کیا کرنا تھا؟ تو میں اس کی بھاری چھاتیوں کو دباتے ہوئے بولا اس کے بعد میں نے تمہاری دونوں ٹانگوں کے بیچ لگی چوت کو چاٹنا تھا۔۔۔۔میرے منہ سے اپنی چوت کا نام سن کر ایک بار پھر عذرا نے ایک زور دار سسکی لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کیا کرنا تھا؟ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔اس کے بعد میں نے اپنے لن کو تمہاری اس خوبصورت چوت پر رگڑنا تھا۔۔۔۔۔میری اس بات پر اس نے بڑی ترچھی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ابھی تم کیا کر رہے ہو؟ اس پر میں نے پینٹ کے اوپر سے ہی اپنے تنے ہوئے اپنے لن کو اس کی پھدی کے نرم ہونٹوں پر رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔ابھی تو یہ سب تمہارہی شلوار کے اوپر اوپر سے ہو رہا ہے۔۔۔ لیکن تب میں نے تم کو بلکل ننگا کر دینا تھا۔۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک لزت بھری سسکی لی ۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ ہائے تم نے مجھے ٹوٹل ننگا کر دینا تھا ۔؟؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ یس ڈارلنگ میں نے تم کو بلکل ننگا۔۔۔کر دینا تھا ۔۔۔۔ تو وہ ایک جھرجھری سی لے کر بولی ۔۔۔۔اور میں تمہارے سامنے ننگی ہو جا تی۔۔۔۔اور پھر تم نے میرے جسم کی ایک ایک چیز کو ننگا دیکھنا تھا ؟؟؟ ؟ تو میں نے بھی اسے گھورتے ہوئے شہوت بھرے لہجے میں کہا۔۔ ہاں بلکل الف ننگی کر کے تمہاری چوت اور تمہاری گانڈ اور تھائیز کو دیکھنا تھا ۔۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ بدتمیز تم نے صرف مجھ کو ہی ننگا کرنا تھا ؟ تو میں نے اس سے کہا نہیں پہلے میں نے ننگا ہونا تھا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی پینٹ کی زپ کھولی اور اپنے لن کو باہر نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی میرا اکڑا ہوا لن انڈروئیر سے پھنکارتا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر نکلا ۔۔۔۔ تو وہ میرے لن کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو کاٹنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت جزبات کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ مسلسل میرے لن کو ہی گھورے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے اس سے کہا۔۔۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہو میری جان؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ کک کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ اس پر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ پکڑا۔۔۔اور پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سہلانے لگا ۔۔۔۔اور پھر کچھ دیر بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔ ۔۔۔۔اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے اپنے اس موٹے لن کو تمہاری خوب صورت چوت کی دونوں پھانکوں کے درمیان رکھنا تھا۔۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے میں نے تمہاری اس خوب صورت چوت کو اپنی زبان کی مدد سے خوب چا ٹنا تھا ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے تمہاری چوت نے پانی چھوڑ دینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر وہ میرے لن کو ہلاتے ہوئے شرما کر بولی ۔۔۔ چاٹنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو ابھی بھی پانی چھوڑ رہی ہے۔۔۔اس کی بات سنتے ہی میں نے اپنے ہاتھ کو اس کی چوت کے دنوں پھانکوں کے درمیان رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو واقعی وہ کافی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔ میرے اس طرح سے اپنی چوت پر ہاتھ پھیرتے دیکھ کر وہ کہنے لگی ۔۔کیوں میری بات پر اعتبار نہیں آیا تھا۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔اعتبار تو بہت ہے۔۔۔ لیکن میں تمہاری چوت پر اپنے ہاتھ کو پھیر کر اس کا مزہ لینا چاہتا تھا۔۔۔میری بات سن کر وہ شرم سے لال ہو گئی۔۔۔۔۔اور اس نے بڑی ہی پیاسی نظروں سے میری طرف دیکھا اور بڑے پیار سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ کہ اس کے بعد تم نے کیا کرنا تھا ؟؟۔۔۔۔۔ تو میں نے اپنے لن کے ہیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا ۔۔۔ میں نے اپنے اس موٹے ٹوپے کو تمہاری چوت کی دونوں پھانکوں کے درمیان رکھ کے رگڑنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک گہری سانس لے کر سسکی بھری ۔۔اور پھر شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں کرنا تھا ؟ تو میں نے کہا ۔۔۔اگر تم اجازت ددگی ۔۔۔تو میں اپنے اس لن کو تمہاری چوت کی دونوں پھانکوں کے تھوڑا سا اندر بھی ڈال دینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات سنتے ہی اس نے ایک جھرجھری سی لی جیسے کہ اس نےمیرے لن کو اپنی چوت کے اندر فیل کیا ہو ۔۔۔اور پھر کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب تو تم نے کرنا تھا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ اتنا کہتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیئے رک گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ لیکن کیا ڈارنگ؟ تو وہ شرارت بھرے انداز میں کہنے لگی۔۔۔۔ ۔۔۔۔یہ سب تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ لیکن تم نے ابھی تک اس غریب کی بات نہیں کی کہ جسے ہر ملاقات میں چوری چوری گھورتے رہتے ہو؟ اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور اس سے بولا ۔۔۔ وہ تمہاری ایسی کون سی جگہ ہے کہ جس کو میں بس چوری چوری گھورتا رہتا ہوں؟ ۔۔میری بات سن کر وہ ایک دم سے شرما کر چپ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر میرے بار بار پوچھنے پر ۔۔۔ وہ بڑے ہی شرمیلے لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری ہپس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس سے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک کہتی ہو۔۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تم نے میری اس حرکت کو کیسے محسوس کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کہ میں تو بڑی احتیاط کے ساتھ اسے دیکھا کرتا تھا ؟ میری بات سن کر وہ مسکرائی اور اسی شرمیلے سے لہجے میں کہنے لگی جس طرح تم مردوں کی نظریں ایکسرے ہوتی ہیں ناں ۔۔۔۔ٹھیک اسی طرح ہم لیڈیز کی نظروں میں بھی ایک خوردبین لگی ہوتی ہے۔۔۔۔جس سے ہم لوگ کسی بھی مرد کو ایک نظر میں دیکھ کر سمجھ جاتی ہیں کہ اس کی نظروں میں ہمارے لیئے کون سے جزبات ہیں۔۔۔۔؟ عذرا کی بات سن کر میں ایک دم سے شرمندہ سا ہو گیا اور پھر اسے کہنے لگا۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے میری جان کہ واقعی ہی تم ایک شاندار ہپس کی مالک ہو اور اگر تم اجازت دو تو میں تمہاری اس شاندار گانڈ پہ ایک کس کر لوں؟ میری بات سن کر عذرا نے شرم سے اپنی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے کہا۔۔۔ تم کو اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میری جان۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے گھوم کر اپنا منہ دوسری طرف کر لیا ۔۔۔اور اب اس کا منہ دھریک کے تنے کی طرف جبکہ۔۔۔۔ اس کی موٹی اور شاندار ۔۔۔۔ گانڈ میرے سامنے تھی۔۔۔۔۔ عذرا کا منہ دوسری طرف ہوتے ہی میں زمین پر بیٹھ گیا اور پھر میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی گانڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔واؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔۔۔۔ اس کی گانڈ بڑی ہی نرم و ملائم تھی۔۔۔میں کچھ دیر تک اس پر ہاتھ پھیرتا رہا۔۔۔۔ پھر میں اپنی ایک انگلی کو اس کی گانڈ کی درا ڑ میں لے گیا۔۔۔۔۔۔ اور بڑی آہستگی کے ساتھ وہاں پر اپنی انگلی کو پھیرنے لگا۔۔۔۔اور اس سے پوچھا ۔۔۔۔ کیسا لگ رہا ہے عذرا؟ تو وہ ایک سسکی بھر کے بولی۔۔۔۔۔ تم میرے جسم کے جس بھی حصے پر ہاتھ لگاتے ہو۔۔۔ ۔۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے شلوار کے اوپر سے ہی اس کی گانڈ کے نرم نرم گوشت کو چوم لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی میں نے اس کی گانڈ پر تین چار بار ہی کس کیا تھا کہ ۔۔۔۔ اچانک ہی قریب سے کچھ سرسراہٹ کی آوا ز سنائی دی ۔۔۔جسے سن کر میں اور عذرا۔۔۔۔ ایک دم سے چوکنے ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی میں زمین سے اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ اور دوسری طرف دیکھا تو نبیلہ اور امجد ہماری طرف ہی آ رہے تھے لیکن دونوں کا منہ کچھ اترا ہوا تھا اور موُڈ بھی کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے عذ را سے کہا ۔۔۔ کہ اس لیلیٰ مجنوں کی جوڑی کو کیا ہوا ؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔ میری بات سن کر عذرا نے جلدی سے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی اور بولی ۔۔۔شش۔۔۔۔۔ چُپ کرو ۔۔۔وہ ادھر ہی آ رہے ہیں پھر سرگوشی کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ ان کے موڈ خراب ہونے کی وجہ میں تم کو کل بتاؤں گی۔۔۔اتنی دیر میں وہ دونوں ہمارے قریب پہنچ چکے تھے۔۔۔ جیسے ہی امجد ہمارے قریب آیا تو اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ چلیں بھائی اور میں نے ہاں میں سر ہلا کر اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔
  36. 1 like
    ڈاکٹر صاحب یہ آپ کا بڑا پن ہے کہ آپ ہم جیسے فری ممبران کے لئے زیادہ ٹائم دے رہیں ہیں ۔۔۔ آپ کے بڑے پن کو ہی دیکھ کے یہاں آتے ہیں ۔۔ آپ ہی کی وجہ سے اس کہانی کو چار چاند لگ گئے ہیں ۔۔۔
  37. 1 like
    اچھی کھانی ہے ۔ امید ہے تسلسل برقرار رہے گا ۔ شکریہ ایک اچھی کھانی کا
  38. 1 like
    18 saal ki umer school ma parhti ha sex ka kuch pata nhi 30 ki mummay jin k nipples itne bareek k ghubare ko phar den bhai g story to achhi lgti ha but kuch zyada hi nhi ho gya
  39. 1 like
    اپنے بارے میں اتنی باتیں سن کر ایسے جواب سلیوٹ آپ کو
  40. 1 like
  41. 1 like
    Dr saab aab to suspence or muslsal barhtay hoy suspence ki tareef kay liy ilfaz khatam. thanks aab lagta hay aap nay hamari Pardes ki story good mood kar dayni hay.
  42. 1 like
    Is ko apne style me he likhen, srf sex wale stories se to net brha hwa hai. Pardes ke fan following be srf suspense or thrill ke wja se he hai.
  43. 1 like
    اس پر میں اور نسیمہ ایک بار تو سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا کریں ۔ پھر میں نے کوثر کو دوبارہ کہا کہ آپ کچھ کرو ۔ اس نے کہا کہ پہلے تم نے ایک بار کہا کہ تم آو گے مگر نہیں آئے ۔ اور اب بنا بتائے آ گئے ۔ اور ابھی تو مجھے جب تم اپنی دوست کو پہلی بار لائے تھے والے دن پر بات کرنی ہے ۔ تو میں پچھلی بار کا بتایا کہ اس دن دوست کی خالہ مر گئی تو نہیں آ سکے ۔ اور آج کا پروگرام اچانک بنا ۔ یہ آج واپس جا رہی ہے اپنے گھر تو مشکل سے کچھ وقت ملا ہے۔ جس کی گواہی کوثر کے ہاتھ میں پکڑے سفری بیگ نے بھی دے دی ۔ اور بات کرنے والی چیز کو گول کر گیا تو اس نے کہا اچھا رکو میں کچھ کرتی ہوں ۔ اور اوپر اپنے رہائشی جگہ پر گئی کہ نیچے والا ایک کمرہ اس نے سیکس کے لیے رکھا تھا اور دوسرا کمرہ صرف صوفے رکھ کر مہمانوں کے لیے تھا ۔ کہ کمرہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں صرف ایک صوفہ سیٹ رکھنے کی جگہ تھی ۔ کچھ دیر میں کوثر واپس آئی ۔ اور بولی کہ جگہ مل جائے گی ۔ مگر پیسے دوگنے ہوں گے ۔ میں نے کہا ٹھیک تو وہ بولی تو آ جاو ۔ اور ہمیں لیکر اوپر والے حصے میں چل دی ۔ اور کمرہ جو کہ لگ رہا تھا کہ ان کا بیڈ روم ہے میں لا کر چھوڑ دیا ۔ اور بولی کہ کب تک فارغ ہو جاو گے ۔ تو مجھ سے پہلے نسیمہ بولی زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹے جب کوثر باہر جانے لگی تو مجھ سے بولی کہ باہر آؤ ۔ اور جب میں گیا تو بولی یہ تو سیل بند نہیں ۔ میں نے کہا نہیں یہ شادی شدہ ہے ۔ تو وہ بولی جیسے پہلی والی کو بھی تم نے چودا ہوا تھا ۔تو میں نے کہا کہ وہ ایسے ہے تو وہ میری بات کاٹ کر بولی کہ بے شک وہ اپنے گھر میں بہت کم لوگوں کو آنے دیتی ہے ۔ پر اتنی بچی نہیں کہ پہلی چدائی کے خون اور گانڈ پھٹنے کے خون میں فرق نہ سمجھ سکوں ۔ تو میں چپ ہو گیا ۔ کہ اب میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ کہ مجھے یاد تھا کہ میں نے اس وقت اس کے پوچھنے پر کہ آصفہ چیخی کیوں تھی پر کہا تھا کہ غلط کام ہو گیا تھا ۔ مطلب گانڈ میں چلا گیا ۔ خیر وہ بولی کہ اگر اب جھوٹ ہوا تو دوبارہ یہاں کا راستہ بھول جانا ۔ اور مجھے اندر جانے کا کہہ دیا ۔ میں اندر گیا تو نسیمہ چادر اتار کر بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ میں نے دروازے کو بند کیا ۔ اور نسیمہ کے پاس گیا تو وہ کھڑی ہو گئی اور میرے گلے لگ گئی ۔ اس کی سانسیں ابھی سے آنے والے لحموں کی وجہ سے تیز ہو چکی تھیں ۔ پھر کچھ دیر ہم ایسے کھڑے رہے ۔ اور اس کے بعد اس نے پہل کی اور مجھے کسنگ kissing کرنا شروع کر دی ۔ جس کا میں بھی جواب دے رہا تھا ۔ کچھ دیر تک تو ہم ایک دوسرے کو ہونٹوں کے اوپر ہی کسنگ kissing کرتے رہے ۔ پھر نسیمہ نے میرے ایک ہونٹ کو اپنے ہونٹ میں لے کر اس کو چوسنا شروع کر دیا ۔ اور کچھ دیر بعد اس نے میرے اوپر وایلے ہونٹ کو چھوڑ کر نیچے والے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیکر اس کو چوسنا شروع کر دیا ۔ پھر اس نے اپنی زبان کو میرے ہونٹوں کے اندر پھیرنا شروع کر دیا ۔ جہاں مجھے مزا آ رہا تھا وہیں پر سیکس کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا تھا ۔ میں نے اس وقت خود کو نسیمہ پر چھوڑ دیا کہ اس کا جو دل کر رہا ہے کر لے ۔ پھر اس نے اپنی زبان کو میرے منہ داخل کر دیا ، اور کچھ دیر تو اس کو ادھر اُدھر پھیرتی رہی ۔ پھر اس نے اپنی زبان کو میری زبان پر پھیرنا شروع کر دیا ۔ میں مزے کی اونچائی پر تھا ۔ اور میرا لن میری شلوار میں فل ٹائٹ ہو چکا تھا ۔ اور اس کی پھدی پر ٹکرا رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے مجھے کسنگ کرنا چھوڑ دی ۔ اور مجھے کہنے لگی تم کچھ کیوں نہیں کر رہے تو میں نے کہا آج تو تم میری استانی ہو ۔ اس لیے سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ تو وہ ہنسنے لگی ۔ اور پھر اس نے یہ کہتے ہوئے کہ چلو آج سیکھ لو سیکس کیسے کرتے ہیں ۔ لیکن اگلی بار سبق نہ دھرایا تو سزا ملے گی ۔ اور میرے کپڑے اتار دیے ۔ اور پھر خود ہی اپنے کپڑے بھی اتار دیے ۔ اب ہم دونوں اب پورے ننگے تھے ۔ اور پھر وہ مجھے لیکر بستر پر آ گئی اور مجھے بستر پر لٹا کر خود میرے اوپر آگئی ۔ اب حالت یہ تھی کہ میں بستر پر سیدھا لٹا ہوا تھا ۔ اور وہ میرے اوپر تھی ۔ اس کے ممے میرے سینے پر تھے ۔ اور اس کی پھدی میرے لن پر تھی ۔ اس نے ایک بار پھر سے مجھے کسنگ کرنا شروع کر دی ۔ اب اس کی کسنگ میں ایک جذباتی پن تھا ۔ وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کے دوران اب بیچ بیچ میں میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر کھنچتی ۔ تو کبھی ان کے اوپر اور کبھی اس کے اندر زبان پھیرتی ۔ اور اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کر کے اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑ رہی تھی پھر کچھ دیر بعد وہ نیچے جانے لگی ۔ اور اس نے میرے جسم کے ہر حصے پر اپنوں ہونٹوں سے مہر لگائی ۔ اور پھر میرے سینے پر سے ناف آگئی ۔ اور اس کے ممے میرے اب لن پر ٹکرا رہے تھے ۔ اور پھر اس نے اپنے مموں کو میرے لن پر رگڑنا شروع کر دیا ۔ کچھ دیر بعد اس کی زبان میرے لن کے اوپر والے حصے پر پہنچ گئی ۔ پھر اس نے میرے اس جگہ پر جہاں بال ہوتے ہیں پرآج بلکل صاف تھی پر اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی ۔ اور کبھی کبھی اپنے ہونٹوں سے میرے ماس ( چمڑی ) کو جیسے کاٹ رہی ہو ایسے کھینچتی ۔ مجھے بہت مزا آ رہا تھا ۔ آج وہ کھل کر پیار کر رہی تھی ۔ پھر اس نے اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کی جڑ پر مالش کرنا شروع کر دی ۔ اور میں مزے سے بس سیدھا لیٹا اس کی ہر حرکت کو اینجوائے کر رہا تھا ۔ کچھ دیر میں اس نے میرے ٹٹوں پر زبان پھیرنی شروع کردی ۔ اور اچانک اس نے میرے ٹٹوں کو اپنے منہ لے لیا ۔ نہ جانے کیا ہوا کہ میرے منہ سے مزے اور درد سے ملی جلی آواز نکل گئی کہ جہاں مجھے اس حرکت سے مزا آیا ۔ وہیں درد بھی ہوا تھا پھر اس نے کچھ دیر بعد میرے ٹٹوں کو منہ سے نکال دیا ۔ اور پھر ٹٹوں کو ہاتھ سے پکڑ اوپر کیا ۔ اور ان کے نیچے اپنی زبان کی نوک پھیرنی شروع کر دی ۔ اور میں مزے سے اچھل پڑا ۔ اور میرے منہ سے بے اختیار سسکی نکل گئی ۔وہ اپنی زبان کی نوک کو ٹٹوں کی جڑ سے لیکر میری گانڈ کے سوراخ تک لے جاتی ۔ اور پھر اپنی پوری زبان کو گانڈ سے ٹٹوں تک مالش کرتے ہوئے آتی ۔ جب تک وہ اپنی زبان پھیرتی رہی ۔ میں مچلتا رہا اور سسکتا رہا ۔ ایسا مزے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ جو مزا آج نسیمہ مجھے دے رہی تھی ۔ کچھ دیر بعد اس نے ایسا کرنا چھوڑ دیا ۔ اور پھر سے اوپر ہونے لگی
  44. 1 like
  45. 1 like
    اس تھریڈ میں ہم آزادکشمیر بھر سے خوبصورت مقامات کی تصاویر شائع کرنے کی کوشش کریں گے
  46. 1 like
  47. 1 like
  48. 1 like
    Me koshah kro gi ki k aap ko mere stories passand aay... Balky sab ko ay
  49. 1 like
  50. 1 like
×
×
  • Create New...