Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 06/18/2018 in all areas

  1. 3 points
    سلام دوستوں میری آج کی سٹوری کا عنوان ہے مومل جی ہاں مومل ایک نہایت حسین لڑکی جس نے مجھے پاگل کر دیا تھا دوستوں میری کزن کی شادی تھی اور میں وہاں اپنی فیملی کے ساتھ گیا تھا جب میری ملاقات اپنی کزن کی دوست مومل سے ہوئ اسے دیکھ کر ہی میں اسکی معصومیت اور حسن کا قائل ہوگیا مومل ایک بے حد حسین اور دلکش نقوش والی 16 سال کی لڑکی تھی اس کی خوبصورتی اور پھر معصومیت نے ہی مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا پھر ایک میں اپنی کزن کے روم میں بیٹھا ہوا تھا جب میں نے اس کی ڈائری دیکھی۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ دونوں سہیلیوں میں حد درجہ پیار تھا۔ میں نے تبھی دروازہ کھلتا دیکھا تو ڈائری رکھ دی مگر تب تک مومل مجھے دیکھ چکی تھی۔ اس نے بڑے لاڈ سے مجھے دیکھا اور بولی کسی کی اجازت کے بنا ڈائری پڑھنا جرم ہے۔ مینے کہا سوری بس ایسے ہی نظر پڑھ گئ تو۔ وہ بولی اچھا کوئی بات نہیں میں نے کہا مومل تم بہت پیاری ہو۔ وہ معصومیت سے بولی ہاں گھر والے بھی یہی کہتے ہیں۔ میں نے کہا نہی سچی میں وہ کچھ نہ بولی بس نظریں جکھا کر جانے لگی تو میں نے کہا مومل میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں وہ بولی کیا۔ میں نے کہا یہاں نہیں اوپر سٹڈی روم میں تو وہ بولی اوکے آئیں میں نے سوچ لیا تھا ک آج اس کی لینی ہے ہر حال میں۔ مجھے پتا تھا ک اوپر کوئ نہیں جاتا۔ میں اسے لئے اوپر پہنچ گےا۔ سٹڈی روم کے اندر ایک سٹور تھا اور اس میں کسی کے آنے کے چانس نہیں تھے۔ جیسے ہی میں روم میں داخل ہوا تو وہ رک گئ میں نے کہا آو نا۔ وہ بولی یہاں ہی بتا دیں نا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ مومل کی سانس تیز ہو چکی تھی وہ سراسیمہ ہو کر بولی آ آپ دروازہ کیوں بند۔۔۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے روکا اور کہا کہ مومل تم بہت پیاری ہو۔ بہت خوبصورت ہو۔ وہ ڈرے ہوئے لہجے میں بولی پلیز کوئ آ جائے گا میں نے کہا مومل میں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں وہ بولی ہرگز نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل کچھ غلط نہیں میں تمھاری مرضی سے ہی کروں گا اور جہاں تم کہو گی روک دوں گا۔ کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان گئ کہ میں اسے اوپر سے ٹچ کر سکتا ہوں۔ میں نے اس کے نازک بدن پہ ہاتھ پھیرنے شروع کر دئے وہ کچھ نہ بولی اور سمجھی کی میں ابھی اسے چھوڑ دوں گا آہستہ آہستہ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال میں نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پہلےتو وہ کسمسائ مگر پھر چپ ہو گئی ابھی تک مجھے اس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا تھا۔ آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے ہاتھ اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھا دیا وہ تھوڑا پیچھے ہوئ اور میں نے بھی آگے بڑھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کیا۔ میں دھیرے سے آواز دی مومل۔ وہ بولی جی۔ میں نے کہا کیسا لگ رہا ہے۔ وہ تھوڑی دیر بعد بولی بس کریں نا اب۔ میں بولا مومل اپنی قمیض اتارو۔ وہ بولی نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل میں اپنی بات پہ قائم ہوں بس پیار کروں گا۔ دیکھو جلدی کرو کوئی آگیا تو تم بدنام ہو جاؤ گی۔ اس نے کہا اچھا پیچھے ہٹیں مگر پلیز کچھ الٹا نا ہو جائے میں نے کہا نہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے قمیض اتار دی اور ساتھ ہی اس کا برا بھی اٹھ گیا۔ اوہ مائی گاڈ اتنا صاف شفاف پیٹ اور ممے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ میں نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور آگے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پہلی بار اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی میں اسے ساتھ لگائے ہوئے ہی اس کی گردن پہ ہونٹ رکھ دئے اور چومنے لگا۔ چومتے چومتے میں اس کے نازک مموں پر پہنچ گیا۔ اس کے ممے دودھ کی طرح سفید تھے اور ان پہ ہلکے پنک نپل بے حد حسین۔ میں نے اس کے نپل چوسنے شروع کر دئے تو پہلی بار اس کی ہلکی سی سسکاری نکل گئی۔ میں نے پوچھا مومل کیسا لگا۔ وہ بولی بہت اچھا۔ میںنے پھر اس کے نپل پہ زبان پھیرنے لگا اور ساتھ ہی دونوں مموں کو ہاتھوں میں بھر کر دبانا شروع کر دیا اب اس کی ہلکی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا کہ میری محنت رنگ لائے گی۔ میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا تو اس نے آسانی سے اسے اتار دیا جو اس بات کی علامت تھی کی آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اس کی پھدی پہ ہاتھ پھیرا تو تڑپ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہلکے سے ہاتھ چھڑا کر پھر ہاتھ پھیرا اور دھیرے دھیرے اس کی رانوں پہ زبان پھیرنی شروع کر دی۔ اب مومل کی سسکیاں نکل رہیں تھیں اور پھر میں نے اپنی زبان اس کی پھدی پر رکھ دی اور پھیرنے لگا۔ مومل کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اور اس نے میرے سر کو پکڑ لیا۔ میں نے فورا اس کے ہاتھ پکڑ کر اور تیزی سے زبان پھیرنے لگا۔ اب مومل مزے کے ساتویں آسمان پر تھی اور مجھے اب اس کی پھدی کی برسات کا انتظار تھا۔ پھر کچھ دیر بعد پکڑ لئے اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس نے تب تک میرے بال نہیں چھوڑے جب تک اس کی پھدی پانی چھوڑتی رہی اور پھر جب اس نے میرے بال چھوڑے تو میرا پورا چہرہ اسکے پانی سے بھیگ چکا تھا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی میں اٹھا اور اپنی شلوار اتار دی اور اپنے کپڑوں سے رومال نکال کر اپنا چہرا صاف کرنے لگا۔ مومل ابھی تک بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ شاید پہلی بار فارغ ہونے کی وجہ سے۔ میں نے اسے ہلایا تو وہ اوں آں کر کہ اٹھی اور بولی آپ نے کیا کر دیا ہے مجھے۔ میں بولا مزا آیا۔ وہ بولی ہاں مزا تو بہت آیا پر اب مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بولی آپ نے بھی کپڑے اتار دئے ہیں۔ کیوں۔ میں بولا کہ مومل یہ تو شروعات تھیں اصلی مزا تو اب آئے گا۔ وہ بولی نیں پلیز بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں نے کہا۔ مومل پلیز جہاں اتنا صبر کر لیا تھوڑا اور کر لو پلیز۔ وہ بولی اچھا اچھا پر پلیز جلدی کریں میں نے کہا اوکے تم اب دیوار کی طرف منہ کر لو اور اپنی ایک ٹانگ اس سٹول پہ رکھ لو۔ میں نے سٹول کھینچا اور اس کی ٹانگ اس پہ رکھ دی۔ اب میں نے پیچھے سے اپنا کن جو کہ فل اکڑ کر سرخ ہو رہا تھا اسے مومل کی گرم پھدی پہ رکھا۔ مومل فورا آگے ہوئی اور بولی۔ آپ نے کہا تھا ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ میں نے کہا مومل بس اوپر ہی پھیرنا ہے۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ پلیز بس مجھے بھی فارغ ہونے دو۔ وہ بولی اچھا ٹھیک ہے پر پلیز اوپر سے ہی کرنا۔ میں نے لن اس کی پھدی پہ رگڑنا شروع کر دیا تھا۔ اتنی گرم پھدی کہ دل کر رہا تھا بس گھسا دوں اندر پر کہتے ہیں نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو اس لئے میں بھی انتظار کر رہا تھا۔ لن اوپر پھیرنے سے مومل کی سسکیاں پھر شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے پوچھا مومل کیسا لگ رہا ہے۔ تو وہ سسکتی ہوئی بولی بہت اچھا۔ آپ کا وہ بہت گرم ہے۔ میں نے کہا مومل تھڑا اندر گھسا دوں۔ بہت مزا دے گا۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔ ننہییں دردرد ہوگا اور برداااشت نہیں ہوگا۔ میں نے اسکی گردن چومتے ہوئے کہا۔۔ مومل میری جان تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا دیکھنا۔۔ وہ بولی۔۔۔ اااچھا پر آرام سے پلیز۔۔۔۔ میں نے لن پھیرتے پھیرتے آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے سوراخ کو کھوجنا شروع کر دیا۔ اور جب مجھے لگا کہ اب لن ٹھیک سوراخ کے اوپر ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ مومل کی بغلوں کے نیچے سے گزار کر اس کی گردن کو کس کے پکڑ لیا اور اک زوردار جھٹکا دیا میرا لن پھسلتا ہوا دو انچ تک مومل کی پھدی میں گھس گیا۔ اگر میں نے بروقت مومل کے منہ پہ ہاتھ نہ رکھ دیا ہوتا تو اب تک سارا گھر اکٹھا ہو جاتا۔ مومل نے نے خود کو چھڑوانے کےلئے زور لگانا شروع کر دیا۔ تبھی میں نے ہمت کر کے ایک جھٹکے سے اپنا باقی سارا لن بھی اندر گھسا دیا۔ مومل اب ایسے تڑپ رہی تھی جیسے بن پانی کے مچھلی تڑپتی ہے۔ میں نے اب اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ روتے ہوئے بولی آپ نے میری جان نکال دی۔ اتنا درد مجھے آج تک نہیں ہوا۔ میں نے کہا مومل بس اب جتنا ہونا تھا ہو گیا۔ اب صرف مزا آے گا۔ پلیز۔ پر وہ نہی مان رہی تھی۔ میں نے ساتھ ساتھ لن ہلانا بھی جاری رکھا اور پھر آخر کار کچھ دیر بعد اسے تھوڑا چین آیا میں نے پوچھا مومل اب کیسا لگ رہا ہے۔ وہ بولی۔ بس اب بس کریں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ مجھے اس پہ ٹوٹ کہ پیار آیا۔ میں نے کہا مومل جان بس اب مزا آئے گا۔ ساتھ ہی میں نے لن باہر نکا کر اندر ڈالا اور ہلکے ہلکے جھٹکے لگانے لگا۔ اب دھیرے دھیرے مومل بھی نارمل ہو رہی تھی اور اب مجھے اس کے فارغ ہونے کا انتظار تھا۔ پھر وہ وقت بھی آگیا۔ مومل کی پھدی پہلے ہی بہت ٹائٹ تھی تو اب اور ہو گئی اور اس نے میرے لن پہ برسات کردی۔اب مومل نارمل ہو چک تھی۔ میں نے اب اپنی رفتار تیز کر دی اور پھر میں نے لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوگیا۔ مومل ابھی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی۔ میں نے آواز دی مومل۔۔ وہ بولی۔۔ کیا ہے۔۔ میں نے کہا جان ناراض مت ہو پلیز۔ وہ بولی اچھا نہیں ہوں۔ اب چلیں میں نے کہا ہاں چلو
  2. 2 points
    جب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنے کو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جانے کو چاہتا تھا۔ قاعدے سے اسے ابھی تک ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنا چاہئیے تھا مگر ہسپتال والوں نے اس کی چھٹی کر دی تھی، ساڑھے چار ماہ تک وہ ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں رہا تھا اور ڈیڑھ ماہ تک جنرل وارڈ میں اس اثنا میں اس کا گردہ نکال دیا گیا تھا اور اس کی آنتوں کا ایک حصہ کاٹ کے آنتوں کے فعل کو درست کیا گیا تھا، ابھی تک اس کے کلیجے کا فعل راست نہیں ہوا تھا اسے ہسپتال سے نکل جانا پڑا، کیونکہ دوسرے لوگ انتظار کر رہے تھے، جن کی حالت اس سے بھی ابتر تھی۔ ڈاکٹر نے اس سے کے ہاتھ میں ایک لمبا سے نسخہ دے دیا اور کہا یہ ٹانک پیو اور مقوی غذا کھاؤ، بالکل تندرست ہو جاؤ گے، اب ہسپتال میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر مجھ سے چلا نہیں جاتا، ڈاکٹر صاحب؟ اس نے کمزور آواز میں احتجاج کیا، گھر جاؤ چند دن بیوی خدمت کرے گی بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے، بہت ہی دھیرے دھیرے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے فٹ پاتھ پر چلتے اس نے سوچا گھر؟ میرا گھر کہاں ہے ؟ چند ماہ پہلے ایک گھر ضرور تھا، ایک بیوی بھی تھی،جس کے ایک بچہ ہونے والا تھا، وہ دونوں اس آنے والے بچے کے تصور سے کس قدر خوش تھے، ہو گی دنیا میں زیادہ آبادی، مگر وہ تو ان دونوں کا پہلا بچہ تھا۔ دلاری نے اپنے بچے کے لئے بڑے خوبصورت کپڑے سئیے تھے اور ہسپتال میں لا کر اسے دکھائے تھے اور ان کپڑوں کی نرم سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے بچے کو بانہوں میں لے کر اسے پیار کر رہا ہوں ، مگر پھر اگلے چند مہینوں میں بہت کچھ لٹ گیا، جب اس کے گرد کا پہلا آپریشن ہوا تو دلاری نے اپنے زیور بیچ دئیے کہ ایسے ہی موقعوں کے لئے ہوتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیور عورت کے جسن کی افزائش کے لئے ہوتے ہیں ، وہ تو کسی دوسرے درد کا مداوا ہوتے ہیں ، شوہر کا آپریشن، بچے کی تعلیم، لڑکی کی شادی، یہ بینک ایسے ہی موقعوں کے لئے کھلتا ہے اور خالی کر دیا جاتا ہے، عورت تو اس زیور کی تحویل دار ہوتی ہے اور زندگی میں مشکل سے پانچ چھ بار اسے اس زیور کو پہننے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ گردے کے دوسرے آپریشن سے پہلے دلاری کا بچہ ضائع ہو گیا، وہ تو ہو تو ہی دلاری کو دن رات جو کڑی مشقت کرنا پڑ رہی تھی، اس میں یہ خطرہ سب سے پہلے موجود تھا، ایسے لگتا جیسے دلاری کا یہ چھریرا سنہرا بدن اس قدر کڑی مشقت کے لئے نہیں بنایا گیا، اس لئے وہ دانا فرزانہ بچہ ہی میں سے کہیں لٹک گیا تھا، ناسازگار ماحول دیکھ کر اور ماں باپ کی پتلی حالت بھان کر اس نے خود ہی پیدا ہونے سے انکار کر دیا، بعض بچے ایسے ہی عقلمند ہوتے ہیں ، دلاری کئی دنوں تک ہسپتال نہیں آ سکی، اور جب اس نے آ کے خبر دی تو وہ کس قدر رویا تھا، اگر اسے معلوم ہوتا کہ آگے چل کر اسے اس سے کہیں زیادہ رونا پڑے گا، تو وہ اس حادثے پر رونے کے بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔ گردے کے دوسرے آپریشن کے بعد اس کی نوکری جاتی رہی، طویل علالت میں یہی ہوتا ہے، کوئی کہاں تک انتظار کر سکتا ہے، بیماری انسان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے،اس لئے اگر وہ چاہتا کہ اس کی نوکری قائم رہے تو اسے زیادہ دیر تک بیمار نہ پڑنا چاہئیے، انسان مشین کی طرح ہے، اگر ایک مشین طویل عرصے کے لئے بگڑی رہتی ہے تو اسے اٹھا کے ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نئی مشین آ جاتی ہے- کیونکہ کام رک نہیں سکتا، بزنس بند نہیں ہو سکتا اور وقت تھم نہیں سکتا، اس لئے جس سے معلوم ہو کہ اس کی نوکری بھی جاتی رہی ہے تو اسے شدید دھچکا سا لگا، جسیے اس کا دوسرا گردہ بھی نکال لیا گیا، اس دھچکے سے اس کے آنسو بھی خشک ہو گئے، اصلی اور بڑیمصیبت میں آنسو نہیں آتے، اس نے محسوس کیا صرف دل کے اندر ایک خلا محسوس ہوتا ہے، زمین قدموں کے نیچے سے کھسکتی معلوم ہوتی اور رگوں میں خون کے بجائے خوف دوڑتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کئی دنوں تک وہ آنے والی زنگی کے خوف اور دہشت سے سو نہیں سکا تھا، طویل علالت کے خرچے بھی طویل ہوتے ہیں ، اور زیر بار کرنے والے ہولے ہولے گھر کی سب قیمتی چیزیں چلی گئیں ، مگر دلاری نے ہمت نہیں ہاری، اس نے ساڑہے چار ماہ تک ایک ایک چیز بیچ دی اور آخر میں نوکری بھی کر لی، وہ ایک فرم میں ملازم ہو گئی تھی، اور روز اپنی فرم کے مالک کو لے کر ہسپتال بھی آئی تھی، وہ ایک دبلا پتلا، کوتاہ قد، ادھیڑ عمر کا شرمیلا آدمی دکھائی دیتا تھا، کم گو اور میٹھی مسکڑاہٹ والا، صورت شکل سے وہ کسی بڑی فرم کا مالک ہونے کے بجائے کتابوں کی کسی دکان کا مالک معلوم ہوتا تھا،دلاری اس کی فرم میں سو روپے مہینے پر نوکر ہو گئی تھی، چونکہ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی، اس لئے اس کا کام لفافوں پر ٹیکٹس لگانا تھا۔ یہ تو بہت آسان کام ہے ؟ دلاری کے شوہر نے کہا۔ فرم کا باس بولا کام تو آسان ہے، مگر جب دن میں پانچ چھ سو خطوں پر ٹیکٹس لگان پڑیں تو اسی طرح کا کام بہت آسان کام کے بجائے بہت مشکل کام ہو جات ہے۔ اور وہ اس منزل سے گز چکا تھا جس وہ کسی کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتا تھا، اتنی چوٹیں پے در پے اس پڑی تھیں کہ وہ بالکل بولا گیا، بالکل سناٹے میں آگیا وہ باطل دم بخور تھا، اب اس کی مصیبت اور تکالیف میں کسی طرح کا کوئی جذبہ یا آنسو نہیں رہ گیا تھا، بار بار ہتھوڑے کی ضربیں کھا کھا کراس کا دل دہات کے ایک پترے کی طرح بے جس ہو گیا، اس لئے آج جب اسے ہسپتال سے نکال گیا تو اس نے ڈاکٹر سے کسی ذہنی تکلیف کی دور کرنے کی شکایات نہیں کی تھی، اس نے اس سے یہ نہیں کہا تھا کہ اب وہ اس ہسپتال سے نکل کر کہاں جائے گا؟اب اس کا کوئی گھر نہیں تھا،کوئی بیوی نہیں تھی،کوئی بچہ نہیں ،کوئی نوکری نہیں ، اس کا دل خالی تھا، اس کی جیب خالی تھی، اور اس کے سامنے ایک خالی اور سپاٹ مستقبل تھا۔ مگر اس نے یہ سب کچھ نہیں کہا تھا،اس نے صرف یہ کہا تھا؟ ڈاکٹر صاحب مجھ سے چلا نہیں جا رہا ہے، بس یہی ایک حقیقت تھی جو اسے اس وقت یاد تھی، باقی ہر بات اس کے دل سے مجو ہو سکتی ہے، اس وقت چلتے چلتے وہ صرف یہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کا جسم گیلی روئی کا بنا ہوا ہے،اس کی ریڑھ کی ہڈی کسی پرانی شکستہ چارپائی کی طرح چٹخ رہی ہے، دھوپ بہت تیز ہے، روشنی نشتر کی طرح چبھتی ہے، آسمان پر ایک میلے اور پیلے رنگ کا وارنش پھرا ہوا اور فضا میں تاریک تر کرتے اور چستیاں سی غلیظ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہی ہیں اور لوگوں کی نگاہیں بھی گندے لہو اور پی کی طرح اس کے جسم سے چسپا کر رہ جاتیں ، اسے بھاگ جانا چاہئیے، کہیں ان لمبے الجھے بجلی کے تاروں والے کھمبوں اور ان کے درمیان گڈ مڈ ہونے والے راستوں سے کہیں دور تھا، اپنا بھائی بھی یاد آیا جو افریقہ میں تھا، سن سن سن ایک ٹرام اس کے قریب سے اندر گھستی چلی جار رہی تھی اور پوری ٹرام کو اپنے جسم کے اندر چلتا ہوا محسوس کر سکتا تھا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کوئی انسان نہیں ہے ایک گھسا پٹہ راستہ ہے۔ دیر تک وہ چلتا رہا، ہانپتا رہا اور چلتا رہا، اندازے سے ایک موہوم سمت کی طرف چلتا رہا، جدھر کبھی اس کا گھر تھا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اب ا س کا کوئی گھر نہیں ہے، مگر وہ جانتے ہوئے بھی ادھر ہی چلتا رہا، گھر جانے کی عادت سے مجبور ہو کر مگر دھوپ بہت تیز تھی، اس کے سارے جسم میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں ، اور وہ کسی مسافر سے راستہ ہی پوچھ کے،معلوم کر لے یہ شہر کا کونسا حصہ ہے، ہولے ہولے اس کے کانوں میں ٹراموں اور بسوں کا شور بڑھنے لگا، نگاہوں میں دیواریں ٹیڑھی ہونے لگیں ، عمارتیں گرنے لگیں ، بجلی کے کھمبے گڈ مڈ کرنے لگے، پھر اس کی آنکھوں تلے اندھیرا اور قدموں تلے بھونچال سا آیا اور وہ یکا یک زمین پر گر پڑا۔ جب ہوش میں آیا تو رات ہو چکی تھی، ایک نیم خنک سا اندھیرا چاروں طرف چھایا ہوا تھا، اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ جس جگہ پر گرا تھا اب تک وہیں پڑا ہے، یہ فٹ پاتھ ایک ایسا تھا جس کے عقب میں دو طرفہ دو دیواریں تھی دوسری شمال سے مغرب کو، اور وہ دونوں دیوروں کے اتصال پر لیٹا ہوا تھا، یہ دونوں دیواریں کوئی چار فٹ کے قریب بلند تھیں ، یہاں پر امرود اور جامن کے پیڑ تھے اور ان پیڑوں کے پیچھے کیا تھا وہ اسے اس وقت تک نہیں نظر نہیں آیا تھا،دوسری طرف مغربی دیوار کے سامنے پچیس تیس فٹ کا فاصلہ چھوڑ کر ایک پرانی عمارت کا عقب تھا، سہ منزلہ عمارت تھی اور منزل میں پیچھے کی طرف صرف ایک کھڑکی تھی جو چہ بڑے عقبی پائ تھے، عقبی پائ اور مغربی دیوار کے بیچ میں پچیس تیس فٹ چوڑی ایک اندھی گلی بن گئی تھی، جس کے تین طرف دیوار تھی اور چوتھی طرف سڑک تھی، کہنیوں پر زور دے کر ذرا سا اوپر اٹھا کر اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، سڑک بالکل خالی تھی، سامنے کی دکانیں بند تھیں اور فٹ پاتھ کے اندھے سالوں میں کہیں کہیں بجلی کے کمزور بلب جھلملا رہے تھی، چند لمحوں کے لئے اسے یہ ٹھنڈی تاریکی بہت بھلی معلوم ہوئی چند لمحوں کے لئے اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے سوچا شاید وہ کسی مہربان سمندر کے پانیوں میں ڈوب رہا ہے۔ مگر اس احساس سے وہ اپنے آپ کو صرف چند لمحوں تک دہو دے کیونکہ اب اس نے محسوس کر لیا کہ اس پر شدید بھوک طاری ہو چکی ہے، چند لمحوں کی خوشگوار خنکی کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ وہ شدید طور پر بھوکا ہے، جس سے کی آنتوں کے فعل کو بیدار کر کے اس کے ساتھ کسی طرح کی بھلائی نہیں کی، اس کے معدے کے اندر عجیب اینٹھن سی ہو رہی تھی اور آنتیں اندر ہی اندر تڑپ تڑپ کر روٹی کا سوال کر رہی تھیں اور اس وقت اس کے نتھنے کسی شہری انسان کے نتھنوں کی طرح نہیں کسی جنگلی جانور کے نتھنوں کی طرح کام کر رہے تھے، عجیب عجیب سی بوئیں اس کی ناک میں آ رہی تھیں، بوؤں کی ایک سمفنی تھی جو اس کے احساس پر پھیلی ہوئی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ اس سمفنی کے ایک ایک سر کا الگ الگ وجود پہچان سکتا تھا، یہ جامن کی خوشبو ہے، یہ امرود کی، یہ رات کی رانی کے پھولوں کی، یہ تیل میں تلی ہوئی پوریوں کی، یہ پیاز اور لہسن میں بگھارے ہوئے آلوؤں کی، یہ مولی کی، یہ ٹماٹر کی، یہ کسی سڑے گلے پھل کی، یہ پیشاب کی، یہ پانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی جو غالباً بانسوں میں کے جھنڈ سے آ رہی ہے۔ وہ ہر بو کی نوعیت، شدت، سمت اور فاصلے تک کا اندازہ کر سکتا ہے، یکایک اسے یہ احساس بھی ہوا اور وہ اس بات پر چونکا بھی کہ کس طرح سے بھوک نے اس منفی قوتوں کو بیدار کر دیا۔ مگر اس امر پر زیادہ غور کئے بغیر اس نے اس طرف گھسٹنا شروع کر دیا، جدھر سے اسے تیل میں تلی ہوئی پوریوں اور لہسن سے بگھارے ہوئے آلوؤں کی بو آئی تھی، وہ دھیرے دھیرے اندھی گلی کے اندر گھسٹنے لگا، کیونکہ وہ اپنے جسم میں چلنے کی سکت بالکل نہیں پاتا تھا، پھر اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی دھوبی اس کی آنتوں کو پکڑ کر مروڑ رہا ہے، پھر اس کے نتھنے میں پوریوں اور آلو کی اشتہا انگیز بو آئی اور وہ بے قرار ہو کر ادھ مندھی آنکھوں سے اپنے تقریباً بے جان سے جسم کو ادھر گھسیٹنے کی کوشش کرتا،جدھر سے آلو، پوری کی بو آ رہی تھی، کچھ عرصے کے بعد جب وہ اس جگہ پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مغربی دیوار اور اس کے سامنے کی پچھواڑے کے پائیوں کے درمیان پچیس تیس فٹ کے فاصلے میں مستطیل نما کچرے کا ایک بہت بڑا کھلا آہنی ٹب رکھا ہے۔ یہ ٹب کوئی پندرہ فٹ چوڑا ہو گا اور تیس فٹ لمبا اور اس میں طرح طرح کا کوڑا کرکٹ بھرا ہے گلے سٹرے پھلوں کے چھلکوں اور ڈبل روٹیوں کے غلیظ ٹکڑے اور چائے کی پتیاں اور ایک پرانی جیکٹ اور بچوں کے گندے پوتڑے اور انڈے کے چھلکے اور اخبار کے ٹکڑ اور رسالوں کے پھٹے اوراق اور روٹی کے ٹکڑے اور لوہے کی لونیاں اور پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے کھلونے اور مٹر کے چھلکے اور پودینے کے پتے اور کیلے کی پتّل پر چند ادھ کھائی پوریاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آلو کی بھاجی، پوریوں اور آلو کی بھاجی کو دیکھ کر گویا اس کی آنتیں ابل پڑیں ، اس نے چند لمحوں کے لئے اپنے بے قرار ہاتھ روک لئے، مگر دوسری بدبوؤں کے مقابلے میں اس کے نتھنوں میں اگلے چند ثانیوں تک پوری اور بھاجی کو دیکھ کی اشتہار آمیز خوشبو اسی طرح تیز تر ہو گئی جیسے کسی سمفنی میں یکایک کوئی خاص سر ایک دم اونچے ہو جاتے ہیں اور یکا یک تہذیب کی آخری دیواریں ڈھے گئیں اور اس کے کانپتے ہوئے بے قرار ہاتھوں نے کیلے کے اس پتل کو دبوچ لیا اور وہ اک وحشیانہ گرسنگی سے متاثر ہو کر ان پوریاں پر ٹوٹ پڑا۔ پوری بھاجی کھا کے اس نے کیلے کے پتے کو بار بار چاٹا اور اسے شفاف کر کے چھوڑ دیا، جیسے قدرت نے اسے بنایا تھا، پتل چاٹنے کے بعد اس نے اپنی انگلیاں چاٹیں اور لمبے لمبے ناخنوں میں بھری ہوئی آلو کی بھاجی زبان کی نوک سے نکال کے دکھائی اور جب اس سے بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ہاتھ بڑھا کر کوڑے کے ڈھیر کو کھنگھولتے ہوئے اس میں سے پودینے کے پتے نکال کر کھائے اور مولی کے دو ٹکڑے اور ایک آدھا ٹماٹر اپنے منہ میں ڈال کر مزے سے اس کا رس پیا اور وہ سب کچھ کھا چکا تو اس تو اس کے سارے جسم میں نیم گرم غنودگی کی اک لہر اٹھی اور وہ ہیں ٹب کے کنارے گر کر سوگیا۔ آٹھ دس روز اسی نیم غنودگی اور نیم بے ہوشی کے عالم میں گزرے، وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب کے قریب جاتا اور جو کھانے کو ملتا کھا لیتا اور جب اشتہا آمیز بوؤں کی تسکین ہو جاتی اور وہ دوسری گندی بوئیں ابھرنے لگتیں تو وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب سے فٹ پاتھ کے ٹکڑ پر چلا جاتا، اور عقبی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا یا سو جاتا۔ پندرہ بیس روز کے بعد ہولے ہولے اس کے جسم میں طاقت ابھرنے لگی، ہولے ہولے وہ اپنے ماحول سے مانوس ہونے لگا، یہ جگہ کتنی اچھی ہے، یہاں دھوپ نہیں تھی، یہاں درختوں کا سایہ تھا، اندھی گلی سنان اور ویران تھی یہاں کوئی نہیں آتا تھا، کبھی کبھی عقبی عمارت سے کوئی کھڑکی کھلتی تھی اور کوئی ہاتھ پھیلا کر نیچے کے ٹب میں روز مرہ کا کوڑا پھینک دیتا تھا، یہ کوڑا جو اس کا روزی رساں تھا، اس کے شب و روز کا رازق تھا، اس کی زندگی کا محافظ تھا، دن میں سڑک چلتی تھی، دکانیں کھلتی تھیں ، لوگ باگ گھومتے تھے، بچے ابابیلوں کی طرح چہکتے ہوئے سڑک سے گزر جاتے تھیں ، عورتیں رنگین پتنگوں کی طرح ڈولتی ہوئی گزر جاتی تھیں ، لیکن یہ ایک دوسری دنیا تھی، اس دنیا میں اس کو کوئی علاقہ نہ تھا، اس دنیا میں اب اس کا کوئی نہ تھا، اور وہ اس کے لئے موہوم سائے بن گئے اور اس سے باہر میدان اور کھیت اور کھلا آسمان ایک بے معنی تصور، گھر، کام کاج،زندگی سماج،جدوجہد بے معنی الفاظ جو گل سٹ کر اس کوڑے کچرے کے ڈھیر میں مل کر غتر بود ہو گئے، اس دنیا سے اس نے منہ موڑ لیا تھا اور اب یہی اس کی دنیا تھی، پندرہ فٹ لمبی اور تیس فٹ چوڑی۔ ماہ و سال گزرتے گئے اور اس نکڑ پر بیٹھا بیٹھا ایک پرانے ٹھنٹھہ کی طرح اور کسی پرانی یاد گار کی طرح سب کی نظروں میں مانوس ہوتا چلا گیا وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا کسی کو فیض نہیں پہنچاتا تھا، کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، لیکن اگر وہ کسی دن وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا تو اس علاقے کے ہر فرد کو اس امر پر حیرت ہوتی اور شاید کسی قدر تکلیف بھی ہوتی۔ سب لوگ اسے کچرا بابا کہتے تھے، کیونکہ یہ سب کو معلوم تھا کہ وہ صرف کچرے کے ٹب میں سے اپنی خوراک نکال کر کھاتا ہے اور جس دن اسے وہاں سے کچھ نہ ملتا وہ بھوکا ہی سو جاتا، برسوں سے راہ گیر اور ایرانی رسٹوران والے اس کی عادت کو پہچان گئے تھے، اور اکثر عمارت کی عقبی کھڑکیوں سے اب کوڑے کے علاوہ خوردہ نوش کی دوسری چیزیں بھی پھینکی جاتیں ، صحیح و سالم پوریاں اور بہت سی بھاجی اور گوشت کے ٹکڑے اور ادھ چوسے آم اور چٹنی اور کباب کے ٹکڑے اور کھیر میں لتھڑے ہوئے پتل، ناؤ نوش کی ہر نعمت کچرا بابا کو اس ٹب میں سے مل جاتی ہیں ، کبھی کبھی کوئی پھٹا ہوا پاجامہ، کوئی ادھڑی ہوئی نیکر، کوئی تار تار شکستہ قمیض پلاسٹک کا گلاس، یہ کچرے کا ٹب کیا تھا، اس کے لئے ایک کھلا بازار تھا، جہاں وہ دن دہاڑے سب کی آنکھوں کے سامنے مڑ گشت کیا کرتا تھا، جس دکان سے جو سودا چاہتا مفت لیتا تھا، وہ اس بازار کا اس نعمت غیر مترقبہ کا واجد مالک تھا، شروع شروع میں چند گرسنہ بلیوں اور خارش زدہ کتوں نے شدید مزاحمت کی تھی، مگر اس نے مار مار کر سب کو باہر نکال دیا، اور اب اس کچرے کے ٹب کا واجد مالک تھا اور اس کے جق کو سب نے تسلیم کر لیا تھا، مہینے میں ایک بار میونسپلٹی والے آتے ہیں ، اور اس ٹب کو خالی کر کے چلے جاتے تھے اور کچرا بابا ان سے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کرتا تھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ دوسرے دن ٹب پھر اسی طرح بھرنا شروع ہو جائے گا اور اس کو اعتقاد تھا کہ اس دنیا سے نیکی ختم ہو سکتی ہے لیکن غلاظت ختم نہیں ہو سکتی رفاقت ختم ہو سکتی ہے، لیکن غلاظت اور گندگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی، ساری دنیا سے منہ توڑ کر اس نے جینے کا آخری طریقہ سیکہ لیا تھا۔ مگر یہ بات نہیں ہے کہ اسے باہر کی دنیا کی خبر نہ تھی، جب شہر میں چینی مہنگی ہو جاتی تو مہینوں کچرے کے ٹب میں مٹھائی کے ٹکڑے کی صورت نظر نہیں آتی، جب گندم مہنگی ہو جاتی تو ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا تک نہ ملتا، جب سگریٹ مہنگے ہو تو تو سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑے اتنے چھوٹے ملتے کہ انہیں سلگا کر پیا بھی نہیں جا سکتا۔ جب بھینگوں نے ہڑتال کی تھی تو مہینے تک اس کے ٹب کی کسی نے صفائی نہیں کی تھی،اور کسی روز اس کو ٹب میں اتنا گوشت نہیں ملتا تھا، جتنا بقر عید کے روز اور دیوالی کے دن تو ٹب کے مختلف کونوں سے مٹھائی کے بہت سے ٹکڑے مل جاتے تھے۔ باہر کی دنیا کا کوئی حادثہ یا واقعہ ایسا نہ تھا جس کا سراغ وہ کچرے کے ٹب سے دریافت نہ کر سکتا تھا، دوسری جنگ عظیم سے لے کر عورتوں کے خفیہ امراض تک، مگر باہر کی دنیا سے اب اسے کسی طرح کی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی، پچیس سال تک وہ اس کچرے کے ٹب کے کنارے بیٹھا بیٹھا اپنی عمر گزار رہا تھا، شب و روز، ماہ و سال، اس کے سر سے ہوا کی لہروں کی طرح گزرتے گئے، اور اس کے سر کے بال سوکھ سوکھ کر ربٹر کی شاخوں کی طرح لٹکنے لگے، اس کی کالی داڑھی کھچڑی ہو گئی، اس کے جسم کا رنگ ملگجاہٹ ملا اور سبزی مائل ہوتا گیا، وہ اپنے مضبوط بالوں ، پھٹے چیتھڑوں اور بدبو دار جسم سے راہ چلتے لوگوں کو خود بھی کچرے کا ایک ڈھیر دکھائی دیتا تھا جو کبھی کبھی حرکت کرتا تھا اور بولتا تھا، کسی دوسرے سے نہیں صرف اپنے آپ سے زیادہ سے زیادہ کچرے کے ٹب سے۔ کچرا بابا ان لوگوں سے کچھ کہتا نہیں تھا، مگر انکی حیرت کو دیکھ کر دل میں ضرور سوچتا ہو گا کہ اس دنیا میں کون ہے جو کسی دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اس دنیا میں جتنی گفتگو ہوتی ہے انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ صرف اپنی ذاتی اور اس کی کسی غرض کے درمیان ہوتی ہے، دوسروں کے درمیان جو بھی گفتگو ہوتی ہے وہ دراصل ایک طرح کی خود کلامی ہوتی ہے، یہ دنیا ایک بہت بڑا کچرے کا ڈھیر ہے جس میں سے ہر شخص اپنی غرض کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی چھلکا یا منافع کا کوئی چیتھرا دبوچنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور کہتا ہو گا یہ لوگ جو مجھے حقیر، فقیر یا ذلیل سمجھتے ہیں ، ذرا اپنی روح کے پچھواڑے میں تو جھانک کر دیکھیں ، وہاں اتنی غلاظت بھری ہے کہ جسے صرف موت کا فرشتہ ہی اٹھا کر لے جائے گا۔ اسی طرح دن پر دن گزرتے گئے ملک آزاد ہوئے، ملک غلام ہوئے حکومتیں آئیں ، حکومتیں چلی گئیں ، مگر یہ کچرے کا ڈب وہیں رہا اور اس کے کنارے بیٹھنے والا کچرا بابا اسی طرح نیم غنودگی میں بے ہوشی کے عالم میں دنیا سے منہ موڑے ہوئے زیر لب کچھ بدبداتا رہا کچرے کے ٹب کو گھنگھولتا رہا۔ تب ایک رات اندھی گلی میں جب وہ ٹب سے چند فٹ کے فاصلے پر دیوار سے پیٹھ لگائے اپنے پھٹے چیتھڑوں میں دبکا سورہا تھا، اس نے رات کے سناٹے میں ایک خوف ناک چیخ سنی اور وہ ہڑبڑا کر نیند سے جاگا، پھر اس نے ایک زور کی تیز چیخ سنی اور گھبرا کر کچرے کے ٹب کی طرف بھاگا، جدھر سے یہ چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ کچرے کے ٹب کے پاس جا کر اس نے ٹٹولا، تو اس کا ہاتھ کسی نرم نرم لوتھڑے سے جا ٹکرایا اور پھر ایک زور کی چیخ بلند ہوئی، کچرا بابا نے دیکھا کہ ٹب کے اندر ڈبل روٹ کے ٹکڑوں ، چچوڑی ہوئی ہڈیوں ، پرانے جوتوں ، کانچ کے ٹکڑوں ، آم کے چھلکوں ، باسی دونوں اور ٹھرے کی ٹوٹی ہوئی بوتلوں کے درمیان ایک نوزائیدہ بچہ ننگا پڑا ہے اور اپنے ہاتھ پاؤں ہلا ہلا کر زور زور سے چیخ رہا ہے۔ چند لمحوں تک کچرا بابا حیرت میں ڈوبا ہوا جامد و ساکت اس ننھے انسان کو دیکھتا رہا جو اپنے چھوٹے سے سینے کی پوری قوت سے اپنی آمد کا اعلان کر رہا تھا، چند لمحوں تک وہاچپاچاپ، پریشان، پھٹی پھٹ آنکھوں سے اس منظر کو دیکھتا رہا پھر اس نے تیزی سے آگے جھک کر کچرے کے ٹب سے اس بچے کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ مگر بچہ اس کی گود میں جا کر بھی کسی طرحانہ رہا، وہ اس زندگی میں نیا نیا آیا تھا اور بلک بلک کر اپنی بھوک کا اعلان کر رہا تھا، ابھی اسے معلوم نہ تھا کہ غریبی کیا ہوتی ہے، مامتا کس طرح بزدل ہو جاتی ہے، زندگی کسیے حرام بن جاتی ہے، وہ کس طرح ملیے پیکٹ اور غلیظ بنا کچرے کے ٹب میں ڈال دی جاتی ہے، ابھی اسے یہ سب کچھ معلوم نہ تھا ابھی وہ صرف بھوکا تھا اور رو رو کر اپنے پیٹ پر ہاتھ مار رہا تھا۔ کچرا باب کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیسے اس بچے کو کرائے اس کے پاس کچھ نہ تھا، نہ دودھ نہ چسنی، اسے تو کوئی لوری بھی یاد نہیں تھی، وہ بے قرار ہو کر بچے کو گود میں لے کر دیکھنے لگا اور تھپتھپانے لگا اور گہری نیند سے رات کے اندھیرے میں چاروں طرف دیکھنے لگا، کہ اس وقت بچے کے لئے دودھ کہاں سے مل سکتا ہے، لیکن جب ا سکی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو اس نے جلدی سے کچرے کے ٹب سے آم کی ایک گٹھلی نکالی اور اس کا دوسرا سرا بچے کے منہ میں دے دیا۔ ادھ کھائے ہوئے آم کا میٹھا میٹھا رس جب بچے کے منہ میں جانے لگا تو وہ روتا روتا ہو گیا اور ہوتے ہوتے کچرا بابا کی بانہوں میں سو گیا، آم کی گٹھلی کھسک کر زمین پر جا گری اور اب بچہ اس کی بانہوں میں بے خبر سو رہا تھا، آم کا پیلا پیلا رس ابھی تک اس کے نازک لبوں پر تھا اور اس کے ننھے سے ہاتھ نے کچرا بابا کا انگوٹھا بڑے زور سے پکڑ رکھا تھا۔ ایک لمحے کے لئے کچرا بابا کے دل میں خیال آیا کہ وہ بچے کو یہیں پھینک کر کہیں بھاگ جائے، دھیرے سے کچرا باب نے اس بچے کے ہاتھ سے اپنے انگوٹھے کو چھڑانے کی کوشش کی،مگر بچے کی گرفت بڑی مضبوط تھی اور کچرا بابا کا ایسے محسوس ہوا جیسے زندگی نے اسے پھر سے پکڑ لیا ہے، اور دھیرے دھیرے جھٹکوں سے اسے اپنے پاس بلا رہی ہے، یکایک اسے دلاری کی یاد آ جاتی ہے، اور وہ بچہ جو اس کی کوکھ میں کہیں ضائع ہو گیا تھا اور یکا یک کچرا بابا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، آج سمندر کے پانیوں میں اتنے قطرے نہ تھے جتنے آنسو اس کی آنکھوں میں تھے، گزشتہ پچیس برسوں میں جتنی میل اور غلاظت اس کی روح پر جم چکی ہے وہ اس طوفان کے ایک ہی ریلے میں صاف ہو گئی۔ رات بھر کچرا بابا اس نوزائیدہ بچے کو اپنی گود میں لئے بے چین اور بے قرار ہو کرفت پاتھ پر ٹہلتا رہا اور جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو لوگوں نے دیکھا کہ کچرا بابا آج کچے کے ٹب کے پاس نہیں ہے، بلکہ سڑک پار نئی تعمیر ہونے والی عمات کے نیچے کھڑا ہو کر اینٹیں ڈھو رہا ہے اور اس عمارت کے قریب گل مہر کے ایک پیٹ کی چھاؤں میں ایک پھولدار کپڑے میں لپتا اک ننھا بچہ منہ میں دودھ کی چسنی لئے مسکرا رہا ہے
  3. 2 points
    کچرا بابامیرے پسندیدہ ترین افسانوں میں ہے۔ آنندی اور کچرا بابا یہ میرے لڑکپن کے وہ افسانے ہیں جنہوں نے دماغ کی کئی راہیں کھولیں۔ آج کئی سالوں بعد دوبارہ انھیں پڑھ کر فرحت کا احساس ہوا۔ بہت ہی اعلیٰ جناب۔ زبردست۔۔
  4. 1 point
    آج میں آپ لوگوں کو جو واقعہ پیش کررہا ہوں وہ لاہور کی رہنے والی سدرا کا ہے اور آپ یہ واقعہ اسی کی زبانی ہی سنیں گے میرا نام سدرا ہے اور میری عمر 25 سال کے قریب ہے میری شادی 12 سال قبل ہوئی اور ایک بیٹی کی ماں ہوں جو اس وقت چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے میرا شوہر آٹھ سال پہلے روز گار کی تلاش میں امریکا چلا گیا جہاں سے وہ ابھی تک تین بار پاکستان آیا ہے آخری بار وہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان آیا اور صرف دس دن کے بعد واپس چلا گیا پہلے پہل تو مجھے اس کی کمی مجھے بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ میں اس کے بغیر رہنے کی عادی ہوگئی تقریباً ایک سال پہلے ایک رات میں باتھ روم میں جانے کے لئے اٹھی توپھر نیند نہ آئی جس پر میں چھت پر چلی گئی جہاں سے اپنے ہمسائے کو دیکھا جو اپنے لان میں اس کے ساتھ رومانس کررہا تھا اس نے اپنی بیوی کو کسنگ کے بعد اس کی قمیص کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کردیا جس سے میری سوئی ہوئی حسیں جاگ گئیں اور مجھے اپنے اور اپنے خاوند آصف کے پیار کے واقعات یاد آنے لگے جس سے میرے اندر ایک انجانی سی آگ بھڑک اٹھی تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں تو اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ میں بیڈ پر آن لیٹی میرے اندر لگی آگ مزید بڑھتی جارہی تھی میں نے ایک ہاتھ اپنی قمیص میں اور دوسرا اپنی شلوار میں ڈال لیا ایک ہاتھ سے اپنے ممے دبانے لگی جبکہ دوسرے سے اپنی پھدی میں فنگرنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد میںفارغ ہوگئی لیکن مجھے صحیح معنوں میں تسلی نہ ہوسکی اس سے اگلے روز بھی میں نے اسی طریقے سے اپنی تسلی کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے اندر لگی آگ کو بجھا نہ سکی اس رات میں نے اپنے شوہر کو امریکا میں فون کرکے واپس آنے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ ابھی چھ مہینے پہلے ہی تو پاکستان آیا تھا اگلے دو سال تک دوبارہ واپسی نہیں ہوسکتی جس کے بعد میں مزید ڈس ہارٹ ہوگئی اس کے بعد میں نے کسی لڑکے کو پھنسا کر اپنی آگ بجھانے کا فیصلہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے اگلے دو ماہ کے اندر کمرشل ایریا میں ایک دکان پر کام کرنے والے بیس سال کے قریب عمر کے عامر نامی نوجوان کو پھنسا لیا جس کو میں نے ایک روز دن کے وقت اپنے گھر بلایا اور اس کو اپنے کمرے میں بٹھا کر کوک پلائی اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کو کسنگ شروع کردی شروعات میں نے کی اس کے بعد وہ سٹارٹ ہوگیا اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے کسنگ کے دوران اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ممے دبانا شروع کردیئے میرے اندر آگ مزید بڑھ رہی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اس کو کمر سے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر پھیرنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور میری قمیص اتارنے لگا اس کے بعد اس نے میری بریزیئر اور شلوار اس کے بعد اپنی پینٹ شرٹ اور انڈر ویئر بھی اتار دیا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ میرے شوہر کا لن تقریباً ساڑھے چھ انچ کا تھا اور عامر صرف چار انچ لن کا مالک تھا اور وہ بھی کافی پتلا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا میں نے اسی پر گزارہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی دوران عامر نے مجھے دوبارہ کسنگ شروع کردی اور پھر میرے مموں کو چوسنے لگا وہ بڑی کمال مہارت سے یہ کام کررہا تھا اس کا ایک ہاتھ میری پھدی کو سہلا رہا تھا جس سے اس کے اندر سے پانی نکلنے لگا اس کے بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا کر میرے مموں کو چوسا اور اور میرے نپلز کو اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا سا کاٹنا شروع کردیا جس سے میرے منہ سے ایک آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ سی نکل گئی اس کے بعد اس نے میری گردن اور پھر میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا کہ اس نے ایک اور ناقابل برداشت کام کیا اس نے اپنی ایک انگلی میری پھدی کے اندر ڈال دی اور اس کو ہلکا ہلکا سا موو کرنا شروع کردیا جس سے میں مزے کی دنیا میں پہنچ گئی نشے سے میری انکھیں بند ہورہی تھیں میں نے اپنی ٹانگیں اکٹھی کرلیں اور عامر کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کو کہنے لگی عامر بس کرو اب میری برداشت سے باہر ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میرے پیٹ اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیری جس سے میرے مزے میں مزید اضافہ ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی میں نے ایک دم عامر کو پکڑ کر خود سے علیحدہ کردیا اور اس سے کہا کہ اب بس کرو اور اصل کام کرو لیکن اس نے میری بات ان سنی کرکے پھر سے مجھے سیدھا کیا اور اپنا منہ میری پھدی پر رکھ دیا جس سے میری جان نکل گئی اس کی زبان میری پھدی کے اندر گئی اور حرکت کرنے لگی میں نے اس کو بالوں سے پکڑ لیا میرا دل کررہا تھا کہ کسی طرح اس کی زبان مزید لمبی ہو جائے اور میرے اندر تک چلی جائے اس طریقہ سے کبھی میرے شوہر نے نہیں کیا تھا اور میرے لئے یہ مزہ نیا تھا دو منٹ تک اس نے میری پھدی کے اندر اپنی زبان چلائی پھر پیچھے ہٹ گیا اور میرے ساتھ لیٹ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ اب تم میرے لن کو اپنے منہ میں لو میں نے پہلے یہ کام بھی نہیں کیا تھا اس لئے اس کام سے انکار کرنے لگی اس نے مجھے بہت کہا لیکن میں نہ مانی اس کے بعد وہ اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اپنے لن کو میری پھدی پر رگڑنے لگا کچھ لمحے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور جھٹکا دیا اس کا پورا لن میری پھدی کے اندر چلا گیا اس کے بعد اس نے جھٹکے مارنا شروع کردیئے میرا دل کررہا تھا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر ٹکرائے لیکن اس کی لمبائی چھوٹی تھی جس کی وجہ سے میری خواہش پوری نہیں ہوسکی چار پانچ منٹ کے بعد وہ فارغ ہوگیا لیکن میں ادھوری رہ گئی وہ مزید ایک آدھ منٹ تک میرا ساتھ دیتا تو میں بھی منزل تک پہنچ جاتی لیکن وہ فارغ ہوگیا اور ٹھنڈا ہوکر میرے اوپر آن گرا اور لمبے لمبے سانس لینے لگامجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے اندر لگی آگ مجھے بھسم کردے گی دس منٹ میرے اوپر ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ اتر کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے لن کو سہلانا شروع کردیا تاکہ اس کو دوبارہ تیار کرکے خود بھی مکمل ہوجاﺅں پانچ ساتھ منٹ تک اپنی انگلیوں سے اس کے لن کے ساتھ کھیلتی رہی تو اس کے لن میں تھوڑی سی حرکت محسوس ہوئی تو کہنے لگا آپ اس کو منہ میں لیں تو جلدی کھڑا ہوجائے گا میں نے مجبوراً اس کے لن کو منہ میں لےنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیڈ شیٹ سے اس کے لن کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ا سکو اپنے منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوسنا شروع کردیا جس کے باعث چند سیکنڈ میں ہی اس کا لن کھڑا ہوگیا میں نے اب دوسرے طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو لیٹے رہنے کا کہہ کر اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا لن اپنی پھدی میں لے لیا اور اس کے اوپر اچھلنے لگی چھ سات منٹ تک اسی طرح اچھل کود کرنے کے بعد میں فارغ ہوگئی اور ساتھ ہی وہ بھی چھوٹ گیا اس کے لن کی ساری منی میری پھدی میں نکلی لیکن اس کا مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیونکہ دو سال پہلے ہی میں نے اپنا آپریشن کروا لیا تھا اس کے بعد تقریباً پانچ ماہ تک میں دوسرے تیسرے دن عامر کو اپنے گھر بلا لیتی اور اس کے ساتھ سیکس کرتی کبھی تو میں بھی مکمل ہوجاتی لیکن کبھی کبھی وہ مجھے ادھورا چھوڑ کر خود ڈھیلا ہوجاتا ایک روز اس نے مجھے نیٹ پر اردو سٹوریز کی مختلف سائٹس بتائیں جن کا میں ریگولر وزٹ کرنے لگی اور اپنے فارغ وقت کا خاصا حصہ کہانیاں پڑھنے میں صرف کرنے لگی اس دوران میں نے کہانیاں لکھنے والے کئی افراد کو ای میلز بھی کیں چند ایک نے مجھے رپلائی بھی کیا لیکن ان کے ساتھ بات آگے نہ بڑھ سکی ایک روز میں نے اردو فن کلب پر لاہور میں لائیو سیکس پرفارمنس کے حوالے سے ایک کہانی پڑھی تو میرے دل میں بھی شوق پیدا ہوا کہ میں یہ شو دیکھوں جس کے لئے میں نے اس کہانی کے رائیٹر کو ای میل کی جس میں میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا مجھے دو روز بعد جواب موصول ہوا جس میں کہانی کے مصنف شاکر محمود نے بتایا کہ ان کا شو کے آرگنائزرز کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک دوست کے ریفرنس سے وہاں گئے تھے اور اگلا پروگرام مارچ یا اپریل میں ہوگا جس کے بعد ان کے ساتھ ریگولر میل کے ذریعے رابطہ ہونے لگا اس دوران ان کی چند ایک دیگر تحریریں بھی میں نے پڑھیں اور میرے دل میں ان کے ساتھ ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا میں نے ایک روز ان کو میل کرکے ان سے ملنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواباً مجھے میل میں اپنا فون نمبر SENDکردیا جس پر میں نے فوراً ان کو کال کی اور ان سے ملنے کے لئے کہا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تو کسی کام کے سلسلہ میں اسلام آباد میں ہیں لیکن دو تین روز تک واپس آکر پہلی فرصت میں ملیں گے یہ اتوار کا دن تھا جب مجھے دن کے بارہ بجے کے قریب شاکر صاحب کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ابھی فری ہیں اور ملنا چاہتے ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آج میری بیٹی کو سکول سے چھٹی ہے اور گھر پر کچھ مہمان بھی آنے والے ہیں اگر کل کا یا رات کا ٹائم رکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا خیر یہ بات طے ہوگئی کہ رات کو ساڑھے دس بجے شاکر صاحب میرے گھر آئیں گے اور رات میرے پاس ہی ٹھہریں گے رات کو چھ بجے کے قریب گھر سے تمام مہمان چلے گئے اور سات بجے کے قریب میری بیٹی بھی سو گئی جاری ہے
  5. 1 point
    عورت کے جسم میں ’جی سپاٹ‘ یعنی وہ حصہ جو شہوانی جذبات ابھارنے کا باعث بنتا ہے کا تعین کرنے والے تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ اس مقام کا وجود محض وہم یا خام خیالی ہو سکتا ہے۔ سیکس کے بارے میں ایک جریدے ’سیکچویل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی اس میں اٹھارہ سو خواتین نے حصہ لیا تھا لیکن ان میں سے کسی کے جسم پر بھی ’جی سپاٹ‘ کی موجودگی کا ثبوت نہیں ملا۔ تحقیق کرنے والے لندن کے کنگز کالج کی ٹیم کا خیال ہے کہ ’جی سپاٹ‘ خواتین کا وہم یا خام خیالی ہو سکتا ہے۔ تاہم جنسی معاملات کےماہر بیولرے وپل جنہوں نے ’جی سپاٹ‘ کے تصور کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہا کہ مذکورہ تحقیق میں کافی نقائص ہیں۔ وپل نے کہا کہ تحقیق کرنے والی ٹیم نے ہم جنس پرست خواتین کے تجربات کو نظر انداز کیا اور انہوں نے مختلف مردوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے سیکس کرنے کے تجربے کو بھی اہمیت نہیں دی۔ جی سپاٹ یا گرافینبرگ سپاٹ‘ کا نام جرمنی کی گائنوکالوجسٹ ارنسٹ گرافینبرگ کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے پچاس سال قبل پہلی بار بتایا کہ یہ مقام عورت کی وجائنا یا رحم کے راستے میں دو سے پانچ سنٹی میٹر اندر پایا جاتا ہے تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل پروفیسر ٹِم سپیکٹر نے کہا کہ یہ ’جی سپاٹ‘ کے بارے میں اب تک ہونے والی سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں اس مقام کا ثبوت نہیں ملا۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کی ایک اور رکن آندریا بری کو تشویش تھی کہ کچھ خواتین جن کو یہ خیال ہے کہ ان کے جسم میں ’جی سپاٹ‘ نہیں احساس کمتری کا شکار ہو سکتی ہیں جو بالکل غیر ضروری ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن میں سیکس کے امور کے بارے میں ماہر نفسیات ڈاکٹر پیٹرا بوئنٹن نے کہا کہ ’جی سپاٹ‘ کو تلاش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ نہ ملے تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ’جی سپاٹ یا گرافینبرگ سپاٹ‘ کا نام جرمنی کی گائنوکالوجسٹ ارنسٹ گرافینبرگ کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے پچاس سال قبل پہلی بار بتایا کہ یہ مقام عورت کی وجائنا یا رحم کے راستے میں دو سے پانچ سنٹی میٹر اندر پایا جاتا ہے۔ (یہ آرٹیکل بی بی سی ڈاٹ کام اردو سے کاپی کیا گیا ہے)
  6. 1 point
    G spot tu ni hota but C-SPOT tu hai. wo achi stimulation deta hai or larki uss se bohat zayada enjoyment or satisfaction feel karti hai.
  7. 1 point
    ویری نائس جناب ۔۔۔۔بہت خوب
  8. 1 point
    گرو جی کی خدمت میں فورم کے تمام ممبرز کی جانب سے
  9. 1 point
    Ek Bar Ek Mote Sardar Ji Ko Badi zor Se Toilet Aya Par Jese Hi Vo Gents Toilet Mein gaya To Vo Full Tha.. To Usne Apne Baal Khole Aur Ladies Toilet Mein Guss Gaya.. Aur Toilet Pe Beth Gaya.. Itne Mein Ek Lady Aayi Usne Uska Pet Foola Dekh Kar Pucha Ki “Behan Kaunsa Mahina Chal Raha Hai” Sardar Ji Bole: “Daswa (10th)” Lady: “Tabhi To Bachhe Ki Tang Bahar Aa Gayi Hai“


×