Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content on 01/10/2019 in all areas

  1. 1 like

    Version

    0 downloads

    گٹھ جوڑ از گرو سمراٹ

    $1.00

  2. 1 like

    Version

    0 downloads

    میٹنگ از ڈاکٹر فیصل خان

    $1.00

  3. 1 like
    ویلکم ڈیئر
  4. 1 like
    very nice update . xhekho g Tabeyat theak aay na. update thori late di hai. jnab apna khyal rakha kro or hamara b. jaldi jaldi update diya krain. take care ummmah love you dear
  5. 1 like
    update.. .چیخ اتنی ذوردار تھی کہ اگر کوئی آس پاس ہوتا تو ضرور سنتا۔۔ میں جو فارغ ہونے کے مزے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ چیخ کی آواز سے ایک دم گبھرا گیا۔ اس سے پہلے کہ میرے ہوش وحواس قائم ہوتے کہ دوسری چیخ کے ساتھ ھی ثانیہ کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ آآآآآآآآآآآآئی مرگئ ییییییییییییی ھاےےےےےےےے میری بُنڈ پاٹ گئی ۔۔۔ امیییی جییییییی میں مرگئ جے ےےےےےےے اور ثانیہ نے پورے ذور سے مجھے پیچھے کو دھکا دیا ۔ اور ساتھ ھی پُچ کے آواز کے ساتھ میرا لن ثانیہ کی گانڈ کی موری سے نکل گیا۔۔۔ تو مجھے ایک سیکنڈ میں سارا ماجرا سمجھ آگیا۔ کہ چھوٹتے وقت میں نے لن ثانیہ کی گانڈ کے دراڑ میں ڈالا تھا اور سارا وزن اس پر ڈال کر مزے میں ڈوبا اپنی گانڈ کا ذور آگے کو لگا بیٹھا جس کی وجہ سے منی سے چکنی ثانیہ کی گانڈ کی موری میں لن گھس گیا۔۔۔۔ ثانیہ کے دھکے سے میں گبھراے ھوے پیچھے کو گرتا گرتا بچا ۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا۔ ثانیہ گانڈ پر ھاتھ رکھے گانڈ کو بائک کی سیٹ کے ساتھ لگا کر آگے کو جھکی رو رھی تھی ۔۔ میں کچھ دیر پریشانی کی عالم میں کھڑا کبھی ثانیہ کی طرف دیکھتا تو کبھی چاروں اطراف دیکھتا کہ کسی نے ثانیہ کہ چیخ نہ سن لی ھو۔۔ مگر چاروں اطراف ہو کا عالم تھا ۔ رات کے اندھیرے نے ہر طرف سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ میں نے جلدی سے پہلے اپنی پینٹ اوپر کی اور بیلٹ باندھ کر ثانیہ کی طرف بڑھا ۔ جو ابھی تک جھکی ھوئی ھاےےےےے مر گئی کرتے ھوے رو رھی تھی ۔۔اور ساتھ ساتھ گانڈ کو سیٹ کے ساتھ مسل رھی تھی ۔میں آگے بڑھا اور اسے کے کندھوں کو پکڑ کر اسے سیدھا کرتے ھوے سوری بولنے ھی لگا تھا کہ ثانیہ نے جھٹکے سے میرے ھاتھوں کو پیچھے جھٹکتے ھوے بولی ۔ دور رھو مجھ سے ۔جاہل گنوار خبردار مجھے چھوا بھی ۔۔ میں ہکا بکا پیچھے ہٹ کر کھڑا ھوگیا ۔۔ ثانیہ مجھے برا بھلا کہہ کر نیچے جھک کر اپنا پاجامہ اوپر کرنے لگ گئی ۔۔۔ میں نے پھر دور کھڑے ھی کہا ۔ ثانیہ سوری یار مجھے پتہ نہیں چلا غلطی سے ہوگیا۔۔ ثانیہ پھر غصے سے بولی بکواس بند کرو ایڈیٹ ۔۔ مجھے اسپر غصہ تو بہت آیا مگر میں خود پر کنٹرول کرتے ھوے بولا ۔ ثانیہ تمہارا غصہ بجا ھے جو مرضی کہہ لو جتنی مرضی گالیاں دے لو ۔ مگر قسم سے میں نے جان بوجھ کر اندر نہیں کیا ۔ بس غلطی سے اندر چلا گیا۔۔ میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتا ھوں پلیز غصہ تھوک دو۔۔ ثانیہ اپنا دوپٹہ سر پر لے کر دوپٹے کو درست کرتے ھوے بولی ۔ مجھے پہلے پتہ ھوتا کہ تم ابھی بھی جاہل کہ جاہل ھی ھو تو تم کو کبھی پاس نہیں آنے دیتی ۔ چلو مجھے گھر چھوڑ کر آو ۔۔۔ اور یہ کہتے ھوے بڑی حقارت سے میری طرف دیکھ کر درختوں سے نکل کر سڑک کی طرف جانے لگ گئی ثانیہ کی بات سن کر میرے اندر غصے کی چنگاریاں سلگنے لگ گئیں کہ گشتی کی بچی میں آکڑ کتنی ھے ۔ میرا دل تو کررھا تھا کہ اس گشتوڑ کو ادھر ھی چھوڑ کر گھر چلا جاوں ۔ مگر پھر ضوفی کا خیال آتے ھی میں نے غصے سے ہنکارا بھرا اور بائک کو بغیر سٹارٹ کیے ثانیہ کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔ سڑک پر پہنچ کر میں نے بائک سٹارٹ کی تو ثانیہ بڑے آرام سے گانڈ سیٹ ہر رکھ کر میرے پیچھے مجھ سے فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔ میں نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی ۔ اور بائک آگے بڑھائی اور کالونی کی طرف چل پڑا میں اب بائک سپیڈ سے چلا رھا تھا اور کچھ ھی دیر میں ۔ میں ثانیہ کے دروازے پر تھا ۔ ثانیہ خاموشی سے اتری اور ٹانگیں چوڑی کرکے چلتی ھوئی دروازے پر پہنچی میں کھڑا اسے دیکھ رھا تھا ۔کہ یہ گھر میں داخل ھوجاے تو ھی میں جاوں ثانیہ نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور غصے سے بولی ۔ اب جاو بھی ادھر کھڑے کیا کررھے ھو ۔ میں نے غصے سے ایک نظر اس پر ڈالی اور بڑی پھرتی سے بائک کو ادھر کھڑے کھڑے ھی گھمایا اور بڑی سپیڈ سے بائک کو بھگا کر اسکی گلی سے نکلا ۔ میں نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ ثانیہ اتنی رات کو سنسان گلی میں اکیلی باہر کھڑی ھے ۔ میں گلیوں سے نکل کر مین روڈ پر آیا تو فل سپیڈ سے بائک کو بھگاتا ھوا ضوفی کے گھر کی طرف جانے لگا۔ میں کوئی دس پندرہ منٹ میں ۔ ضوفی کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ میں نے بائک روکی اور بائک سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھا اور میں ابھی بیل پر ہاتھ لیجانے ھی لگا تھا کہ گیٹ کھلا اور ضوفی کا مسکراتا ھوا چہرہ مجھے نظر آیا۔۔ میری جب ضوفی سے نظر ملی تو ضوفی بولی اتنی دیر لگا دی ۔۔ میں نے کہا یار بائک پنکچر ھوگئی تھی ۔۔۔اور بڑی مشکل سے پٹرول پمپ پر پینکچر والے سے پنکچر لگوایا۔ اور میں ضوفی کا جواب سنے بغیر ھی واپس مڑا اور بائک اندر لے آیا ضوفی نے گیٹ بند کیا ۔۔ تو میں اور ضوفی آگے پیچھے چلتے ڈرائنگ روم میں پہنچے تو میں نے ماہی کا پوچھا تو ضوفی بولی وہ تمہاری لاڈلی اوپر تمہارے دیے ھوے گفٹ دیکھ رھی تھی ۔ میں تو کب کی نیچے بیٹھی تمہارا انتظار کررھی تھی ۔۔۔ میں نے کہا چلو اوپر ھی چلتےہیں ۔۔ اور یہ کہتے ھوے میں اور ضوفی آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے ھوے کمرے میں پہنچے تو ۔ ماہی بیڈ پر ٹانگیں سیدھی کر کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز ہوکر بک پڑھ رھی تھی ۔ ہمیں دیکھ کر ماہی نے جلدی سے اپنی ٹانگوں کو سمیٹا اور بک بند کر کے سائڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔۔ اور بولی ۔ یاسر بھائی اتنی دیر کہاں لگا دی ۔۔ میں نے پنکچر والی بین اسے بھی سنائی ۔۔۔ تو ماہی بولی ۔ بائک پنکچر تو ہونی ھی تھی ساتھ جو کرماں والی گئی تھی ۔۔۔ ضوفی ماہی کو جھاڑتے ھوے بولی ۔ ماہی تمیز نہیں ھے تمہیں بات کرنے کی ۔۔ وہ میری فرینڈ ھے اور ہماری مہمان بھی تھی ۔۔۔ ماہی بولی ۔ آپی مجھے تو وہ ذہر لگتی ھے ندیدی ھے ایک نمبر کی اور شوخی بھی بہت ھے پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ھے آپکو پتہ نہیں اس میں کیا نظر آتا ھے ۔۔ آپ نے دیکھا نہیں تھا کیسے بھائی کو بار بار گھور گھور کر دیکھ رھی تھی ۔۔ ماہی کی بات سن کر میں ایک دم چونکا ۔ کہ اسے کیسے پتہ چل گیا کہ باتوں کے دوران ثانیہ مجھے بار بار دیکھ رھی تھی ۔ ضوفی بولی ۔ ماہی شرم کرو شرم یاسر کیا سوچے گا ۔۔۔ وہ میری فرینڈ ھے اور میں اسے تم سے ذیادہ جانتی ھوں ۔ وہ ایسی چھچھوری لڑکی نہیں ھے ۔۔ میں نے موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ھوے جلتی پر تیل ڈالنے کا سوچا ۔ کیوں کہ میں بھی اب نہیں چاہتا تھا کہ ضوفی اس سے ملے یا وہ انکے گھر آے ۔۔ کیونکہ اسکے دل میں ان فرشتہ صفت لوگوں کے لیے جو میل تھی وہ میں دیکھ چکا تھا۔۔۔ میں جلدی سے بولا ۔۔ ضوفی ۔۔ماہی صحیح کہہ رھی ھے مجھے بھی وہ لڑکی صحیح نہیں لگی بہت اوور ایکٹ کررھی تھی ۔ اور مجھے ایسی لڑکیوں سے سخت نفرت ھے ۔۔ تو ماہی جلدی سے بولی دیکھا آپی اب یقین آگیا اب تو بھائی نے بھی گواہی دے دی ھے ۔۔۔ ضوفی میری طرف حیرانگی سے دیکھتی ھوئی بولی ۔ مگر یاسر مجھے تو وہ ایسی لڑکی نہیں لگتی میں تو بہت عرصہ دراز سے اسے جانتی ہوں وہ بیچاری تو پہلے ھی بڑی پریشان ھے اپنے خاوند کی وجہ سے ۔۔۔ ۔میں نے کہا یار کچھ بھی ھے مگر وہ مجھے بلکل بھی پسند نہیں ھے ۔۔۔ ضوفی سنجیدہ سی ھوکر میرے قریب آئی اور میرے کندھے کو پکڑ کر بولی ۔۔ کیا ھوا یاسر اس نے راستے میں کوئی بات کی ھے ۔۔۔ میں نے آخری وار کیا۔۔ اور بولا دفعہ کرو ضوفی. میں نہیں چاہتا کہ تمہاری اس کے ساتھ منہ ماری ھو اس لیے بہتر یہ ھی ھے کہ تم اس سے جتنا دور رھو اتنا ھی بہتر ھے ۔۔۔ میرے سسپنس سے ضوفی مذید پریشان ھوگئی اور ماہی بھی چونک کر میری طرف دیکھنے لگ گئی ۔۔۔ ضوفی نے دوسرا ہاتھ بھی میرے کندھے پر رکھا اور میرے کندھوں کو ہلاتے ھوے بولی ۔۔ یاسر بتاو کیا بات ھوئی ۔۔۔۔ میں نے کہا کچھ نہیں یار دفعہ کرو۔۔۔ ضوفی کا منہ رونے والا ھوگیا اور روہانسے لہجے میں بولی ۔۔ یاسر پلیززز بتاو کیا ھوا ھے اس نے کیا کہا ھے تمہیں ۔۔۔ میں نے ضوفی کے کندھوں کو پکڑا اور بولا کچھ نہیں ھوا یار ایسے پاگل مت بنو فضول میں بات کو بڑھا رھی ھو ۔۔۔ ضوفی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرتے آنسو گرنے لگے اور اسکے دونوں ہاتھ میرے کندھوں سے میری گالوں پر آگئے اور میری گالوں کو سہلاتے ھوے میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ھوے بولی ۔ یاسر مجھ سے تم کچھ چھپا رھے ھو ۔۔۔ پلیززز بتاو کیا بات ھے میرا دل بیٹھا جارھا ھے ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے ضوفی کی گالوں کو تھاما اور اسکے آنسو صاف کرتے ھوے بولا۔۔ ہے ناں پاگل رونے لگ گئی ۔۔ میں تو مزاق کر رھا تھا ۔۔۔ اور میں نے ماہی کی طرف دیکھتے ھوے کہا دیکھو ماہی تمہاری آپی بچوں کی طرح رو رھی ھے ۔۔۔ ضوفی میرے ھاتھ اپنی گالوں سے ہٹاتے ھوے بولی ۔۔ یاسر میں مزاق کے موڈ میں نہیں ھوں تمہیں میری قسم بتاو اس نے تمہیں کیا کہا ھے ۔۔۔ دوستو ضوفی سے مجھے واقعی سچا پیار تھا ۔۔ بیشک میں اس فرشتہ کے لائک نہیں تھا ۔ اور باہر بھی منہ ماررھا تھا ۔ .مگر ضوفی کے بارے میں میری فیلنگ بلکل ایک سچے عاشق جیسی تھی ۔ سچے سے مراد کہ مجھے اس کے جسم کی طلب نہیں تھی نہ ھی اس کو دیکھ کر میرے اندر شہوت جنم لیتی تھی ۔۔ ضوفی کو دیکھ کر مجھے سارے جہاں کا سکون مل جاتا تھا اور اس میں مجھے اپنائیت سچا پیار خلوص محبت صدق دلی دیکھائی دیتی تھی ۔۔۔ یہ ھی وجہ تھی کہ ضوفی نے جب مجھے اپنی قسم دی تو مجھے ایک دم جھٹکا لگا اور اس بات کا احساس ہوا کہ جلتی پر تیل پھینکنے سے انسان خود بھی آگ کی لپٹ میں آجاتا ھے اب میں سوچنے لگ گیا کہ ضوفی نے مجھے اپنی قسم دے دی ھے اب اسے کیا بتاوں ۔۔ میں ان ھی سوچوں میں گم تھا کہ ضوفی پھر مجھے جھنجھوڑتے ھوے بولی یاسررررررر بتاو اس نے کیا کہا ھے تمہیں ۔۔۔ اگر نہ بتایا تو میرا مرا ھوا منہ دیکھو گے ۔۔ ضوفی کے منہ سے مرا ھو کا لفظ سن کر مجھے ایسے لگا کہ جیسے میرے دل پر کسی نے چھری سے وار کردیا ھو ۔۔ میں نے تڑپ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور روہانسے لہجے میں بولا مریں تمہاریں دشمن ۔۔۔ پاگل لڑکی اب ایسی بکواس کی تو میں نے تم سے کبھی بات بھی نہیں کرنی ۔۔۔ تو ضوفی بولی ۔ پھر بتاو کیا کہا ھے اس نے تمہیں جو تم اس سے اتنے بدزن ھوگئے ھو ۔۔ ماہی بھی ماحول کی سنجیدگی کو دیکھتے ھوے بیڈ سے نیچے اتر کر ہم دونوں سے کچھ فاصلے پر کھڑی ھوگئی تھی ۔۔ میں نے ضوفی کو کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھاتے ھوے کہا اچھا بیٹھو بتاتا ھوں ۔۔۔ اور ماہی کو کہا کہ جاو پانی لے کر آو۔۔ ماہی جلدی سے سیڑیاں اترتی ھوئی نیچے چلی گئی اور میں ضوفی کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر ہاتھ سے اسکے آنسو صاف کرنے لگ گیا۔۔ ُچند لمحوں بعد ھی ماہی پانی کا گلاس لے کر کمرے میں داخل ھوئی اور گلاس ضوفی کی طرف بڑھایا تو میں نے ماہی سے گلاس پکڑ کر ضوفی کے لبوں سے لگایا تو ضوفی نے ایک گھونٹ بھرا اور گلاس خود پکڑ کر پانی پینے لگ گئی ۔۔ ماہی کھڑی ہمیں دیکھ کر مسکرا رھی تھی ۔۔ میں نے ماہی کی طرف دیکھا اور بولا ۔۔ تیریاں کیوں دندیاں نکلن دیاں نے ۔۔۔ پین تیری نوں رونا آئی جاندا اے تے تینوں ہاسے پئئے آندے نے ۔۔۔ مہری منہ پر دونوں ھاتھ رکھ کر ہنسی کو دباتے ھوے دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ھوگئی ۔۔۔ میں نے پھر ضوفی کو مخاطب کرتے ھوے کہا۔۔ دیکھو ضوفی اس دور میں ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ھوتا ۔ بیشک تم مجھ سے ذیادہ سمجھدار ھو پڑھی لکھی ھو اور زندگی کے تلخ دور سے بھی گزر چکی ھو تمہارا تجربہ بھی مجھ سے ذیادہ ھے ۔ مگر دھوکا وہ ھی کھاتا ھے جو ہرکسی پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیتا ھے ۔۔ تم جسے اپنی دوست سمجھ رھی ھو ۔ اس کے دل میں تمہارے لیے بہت بغض حسد ھے ۔ وہ تمہاری ترقی سے ھی بہت جیلس ھے ۔ راستے میں میرے ساتھ تمہاری برائیاں ھی کرتی جارھی تھی ۔ کہ تم سہی لڑکی نہیں ھو تمہارے پاس اتنی دولت کیسے آئی ۔ اور میں تم سے بچ کر رھوں وغیرہ وغیرہ۔۔ میری باتیں سن کر ضوفی کا گلابی چہرہ سرخ ٹماٹر کی مشابہت اختیار کرتا جارھا تھا۔۔ میری بات مکمل ھوتے ھی ۔۔ ضوفی ایکدم کھڑی ھوئی ۔ .اور غصے سے پھنکارتے ھوے بولی ۔۔ آ لین دے ایس سوراں یاؤن نوں ایدا چُوتھا میں پُناں گی ۔۔ گندی رن کسے تھاں دی ۔۔۔ میں ضوفی کے منہ سے پنجابی میں گالیاں سن کر حیران پریشان اسکا منہ دیکھنے لگ گیا۔۔ اور ماہی بھی دونوں ھاتھ منہ پر رکھ کر ہنستے ھوے بولی اووووو ھاےےےےےے آپی کیا ھوگیا ھے آپ کو توبہ توبہ توبہ ۔ ویری بیڈ لینگوئج ۔۔۔ ضوفی نے غصے سے ماہی کی طرف دیکھا اور بولی ۔۔ بےجا ایڈی توں انگریز دی تی۔۔۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا۔۔۔ واہ جی واہ میری بیگم نوں تے پنجابی وی بالی چنگی آندی اے میں تے جماں ای نئی کُسکاں گا اپنی بیگم دے اگے ۔۔۔ ضوفی میرا سٹائل دیکھ کر غصے میں بھی ہنس پڑی ۔۔۔ اور سر پکڑ کر صوفے پر ڈھیر ہوگئی ۔۔۔۔ ماہی بھی صوفے پر ھی بیٹھ گئی ۔ اور کچھ دیر ثانیہ کے ٹاپک پر ہات ھوتی رھی ۔۔ میں نے ضوفی کو فل اسکے خلاف بھڑکا دیا تھا اور اس سے وعدہ بھی لیا تھا کہ وہ اس سے کوئی بھی ایسی ویسی بات نہیں کرے گی بلکہ اسے اس طریقہ سے چھوڑے گی کہ اسے محسوس بھی نہ ھو اور اس سے جان بھی چھوٹ جاے ۔۔۔ پھر میں. نے ماہی سے گفٹ پسند آنے کا پوچھا تو ماہی نے بڑی گرمجوشی سے میرا شکریہ ادا کیا۔۔ اور میری چوائس اور میچنگ کو دل سے سراہا۔ اور شرارتی انداز میں بولی ۔ بھائی ویسے سب باتیں ایک طرف آپی بہت خوش قسمت ہیں جن کو آپ جیسا شوہر ملے گا آپی کی تو موجیں ہیں گھر بیٹھے ھی سب کچھ مل جایا کرے گا وہ بھی اعلی سے اعلی ۔۔۔ میں. نے ہنستے ھوے کہا ۔۔ کوئی ناں میری بہن پریشان نہ ھو تیرے لیے بھی کوئی ایسا ھی لڑکا تلاش کرلیں گے ۔۔۔ ماہی میری بات سن کر شرمائی ۔ اور منہ پر دونوں ھاتھ رکھ کر بھائییییییییی آپ بھی ناں کہتے ھوے باہر کی طرف بھاگ گئی میں اسے آوازیں دیتا رھ گیا کہ بات تو سنو ۔۔ مگر ماہی تیزی سے سیڑھیاں اترتے ھوے نیچے چلی گئی ۔۔۔ ماہی کے جانے کے بعد ۔۔ میں اٹھا اور دروازہ ویسے ھی بند کیا تو ضوفی جلدی سے صوفے سے اٹھی اور بولی کیا کرنے لگے ھو ۔۔۔۔میں نے کہا کچھ نہیں بس دروازہ بند کرنے لگا ھوں ۔۔ تو ضوفی بولی ۔۔ میں بھی جارھی ھوں نیچے ۔۔ میں نے کہا کیوں ۔۔۔ ضوفی بولی ۔ ویسے ھی ۔۔ میں چلتا ھوا اسکے قریب آیا اور اسکی کمر کے گرد بازوں کا احصار باندھتے ھوے اسے اپنے ساتھ لگاتے ھوے ۔۔ ضوفی کے ہونٹوں پر کس کی تو ضوفی مجھے آرام سے پیچھے کرتے ھوے بولی ۔۔ آرام سے اب سوجاو صبح دکان بھی کھولنی ھے ٹائم دیکھو کتنا ھوگیا ھے ۔ میں نے کیا پھر کیا ھوا ٹائم ھوگیا ھے ۔ اور میں نے ساتھ ھی کلاک کی طرف دیکھا تو تین بجنے والے تھے ۔ میں نے پھر بھی ضوفی کو پکڑے رکھا تو اپنی کمر کے گرد سے میرے بازو ہٹاتے ھوے بولی ۔۔ چھوڑو یاسر مجھے بھی نیند آرھی ھے اور میں نے صبح دو برائڈل تیار کرنی ہیں ۔۔ .اس لیے تم بھی سو جاو اور میں بھی سونے جارھی ھوں ۔۔ میں نے ضوفی کو کس کر اپنے ساتھ لگایا اور کچھ دیر اسکی گلاب کی ہتیوں کا رس چوسا ۔ اور کچھ دیر بعد اسے چھوڑ دیا ۔۔۔ ضوفی کے نیچے جانے کے بعد میں بیڈ پر لیٹتے ھی سوگیا۔۔۔ صبح مجھے ضوفی نے اٹھایا . ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد میں اور ضوفی دکان پر آگئے۔۔۔ جنید پہلے سے ھی بوتیک کے باہر کھڑا انتظار کررھا تھا ۔ جنید نے مجھ سے چابیاں لیں اور دکان کھولی اور ہم دونوں مل کر صفائی وغیرہ کرنے میں مصروف ھوگئے۔۔ سارا دن کام میں مصروف رھے میری طبعیت بھی سارا دن سست رھی ایک تو کل دو پھدیاں وجایاں سی دوسرا رات کو لیٹ سویا تھا۔۔ جنید نے بھی میری سستی کی وجہ پوچھی مگر میں نے طبعیت ناساز ہونے کا بہانہ بنایا ۔۔ رات کو حسب معمول میں ضوفی کو گھر چھوڑنے کے بعد گاوں پہنچا ۔ امی نے پوچھا کہ یاسر پتر ۔ تیری آنٹی ناراض تو نہی ھوئیں کہ ہم ماہی کی سالگرہ پر نہیں آے ۔۔ میں نے کیا ۔ کہ ناراض تو نہیں ہوئیں مگر گلہ کر رہیں تھی کہ آپ لوگوں کو آنا چاہیے تھا ۔۔ مگر میں نے انکو مطمئن کر لیا تھا ۔۔۔ امی بولی ۔پتر دل تو میرا بھی کررھا تھا مگر تجھے اپنے ابے کا پتہ ھی ھے کہ وہ ایسے ھی لڑنے لگ جاتے ہیں میں نہیں چاھتی تھی کہ ایسے ان لوگوں کو لے کر ہمارے گھر میں کوئی جھگڑا ھو ۔۔ کوئی نہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ھوجاے گا ۔ میں بس کچھ دنوں میں ھی تیرے ابا سے تیرے اور ضوفی کے رشتے کی بات کروں گی ۔ مجھے تو وہ لوگ بہت بھلے لگے اور ضوفی بھی کافی سلجھی اور سمجھدار بچی ھے ۔۔۔ میں نے لاڈ سے امی کے گلے میں بازوں ڈال کر امی کے ساتھ جھولتے ھوے کہا۔۔۔ بس سلجھی اور سمجھدار ھی ھے ۔ امی نے حیران ھوکر میری طرف دیکھتے ھوے کہا۔۔ لے دس ہور سانوں کی چایے دا اے ۔۔۔ میں نے کہا میرا مطلب کہ سونی شونی نئی اے ۔۔۔ امی نے میری گال پر چپت مارتے ھوے کہا۔۔ تیرے نالوں تے سونی ای اے ۔۔ میں نے منہ بسورتے ھوے کہا۔ لو جی بہو گھر میں آئی بھی نہیں اور بیٹا برا بھی لگنے لگ گیا۔۔۔ امی نے ہنستے ھوے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ھوے میرا ماتھا چوما اور بولیں ۔ میرے پتر توں ود سونا کوئی ھے ایس دنیا تے ۔۔۔ اور میں امی کے ساتھ لپٹ گیا۔۔ کچھ دیر مقں بیٹے کا لاڈ پیار چلتا رھا ۔ پھر امی نے کہا چل میرا لال منہ ہتھ دھو لے میں تیرے لیے روٹی پکاتی ہوں ۔۔۔ میں منہ ہاتھ دھو کر فریش ھوکر کھانا کھانے کے بعد ۔۔ آنٹی فوزیہ کے گھر جا پہنچا ۔۔ گھر داخل ہوا تو صحن خالی تھا ۔۔ میں سیدھا کمرے میں جاپہنچا ۔ کمرے میں سب لوگ بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔ میں نے کمرے میں داخل ہوتے سلام کیا ۔۔تو انکل مجھے دیکھ کر بولے آ بھئی یاسر پتر ۔ شکر ھے تیرا چہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ تم تو اب امیر بندے ھوگئے ھو ۔ میں چلتا ھوا انکل کے پاس جاکر چارپائی پر بیٹھتے ھوے بولا ۔ نہیں انکل جی ایسی تو کوئی بات نہیں بس دکان سے ھی بہت لیٹ گھر آتا ھوں آج تھوڑا جلدی آگیا تو سوچا آپ لوگوں سے مل لوں ۔ آنٹی جو میری طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ۔ بولی ۔ مہربانی جو ہم کو یاد رکھا۔۔ میں نے کہا۔ .اب جانے بھی دیں آنٹی جی کیوں ایسی باتیں کر کے مجھے شرمندہ کررھیں ہیں ۔ اور پھر میں عظمی اور نسرین کا حال احوال پوچھنے لگ گیا ۔ جو انکل کی وجہ سے بہت شریف بچیاں بن کر خاموشی سے بیٹھیں ہوئیں تھی ۔۔ عظمی اور نسرین نے بتایا کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ھوگئیں ہیں اور اب وہ کالج میں اڈمیشن لیں گی اور روز تانگے پر ھی آیا جایا کریں گی ۔۔ میں نے انکو مبارکباد دی ۔ اور آنٹی سے بولا۔ دیکھ لیں آنٹی آپ میری دکان دیکھنے نہیں آئیں ۔۔ اور نہ ھی یہ دونوں چڑیلیں آئیں ہیں ۔ آنٹی بولی بس ٹائم ھی نہیں ملا آنا تھا ۔ تیرے انکل کی طبعیت سہی نہیں رہتی ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ انکا لاہور سے چیک اپ کروائیں ۔ بس اسی پریشانی کی وجہ سے گھر سے نکلا نہیں جارھا ۔ تمہیں تو پتہ ھے کہ اب جوان بچیاں اکیلی چھوڑ کر میں کیسے انکو لے کر جاوں ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی آپ انکی پریشانی کیوں لی رہی ہیں ۔ انکو ہمارے گھر چھوڑ جائیں وہ بھی تو آپکا ھی گھر ھے ۔ مشکل وقت میں ہم آپ کے کام نہیں آئیں گے تو کون آے گا۔۔ آنٹی بولی جیوندا رھ ۔ میں نے تو تیرے انکل کو کہا تھا مگر یہ ھی نہیں مان رھے کہ تمہارے ابو کیا سوچیں گے ۔۔۔ میں نے انکل کی طرف منہ کیا اور انکی ران پر ہاتھ رکھتے ھوے کہا۔۔ انکل جی آپ ایسا کیوں سوچ رھے ہیں کیا ہم آپ کے اپنے نہیں ہیں ۔۔ انکل نے کھانستے ھوے کہا ۔ نہیں یاسر پتر ایسی بات نہیں بس ایسے ھی سوچ رھا تھا کہ جوان بچیاں ہیں ایسے ھی لوگ باتیں نہ کریں ۔۔ میں نے ہنستے ھوے نسرین کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔۔ لو جی آپ کے لیے جوان ھوں گی ۔۔ میرے لیے تو ابھی بھی یہ ناک بہتی بچیاں ھی ہیں ۔۔ آپ بے فکر ھوکر اپنا اچھے سے چیک اپ کروایں اور انکی ذمہ داری مجھ پر چھوڑ دیں ۔۔ اور اگر کسی چیز کی ضرورت ھو تو بلاجھجھک مجھے کہنا ۔ انکل نے میرے سر پر پیار سے ھاتھ پھیرتے ھوے ھاتھ میری کمر پر لیجا کر کمر کو تھپتھپایا اور بولے ۔ جیوندہ رہ پتر تم لوگ ھی تو ہمارے اپنے ھو اور تم تو ویسے بھی ہمارے گھر کے فرد ھو ہم نے تو تمہیں کبھی بھی غیر نہیں سمجھا ۔ تو میں نے کہا۔۔ تو پھر میرے ھوتے ھوے فکر کس بات کی کرتے ہیں ۔۔ اگر کوئی پیسوں کی پرابلم ھے تو بتائیں آپ کے بیٹے پر اوپر والے کا بڑا کرم ھے ۔ انکل کھانستے ھوے بولے ۔ نہیں پتر جیوندہ رھ پیسے تو ہیں بس ان بچیوں کی فکر تھی کیوں کہ لاہور میں پتہ نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔۔ زمانہ خراب ھے بس یہ ھی ڈر تھا ۔ اور اب تیری وجہ سے وہ بھی پریشانی ختم ھوگئی ۔۔ میں تو یہ سوچ بیٹھا تھا کہ ہمارا شہزادہ اب امیر بندہ ھوگیا ھے پتہ نہیں اب ہمیں لفٹ کرواتا ھے کہ نہیں ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا لو جی انکل ۔ اب ایسی بھی بات نہیں میں آپ کے لیے وہ ھی پرانا یاسر ھوں جسکو آپ کندھوں پر بیٹھا کر کھلایا کرتے تھے۔ انکل نے پھر میرے سر پر پیار دیتے ھوے مجھے دعائیں دیں ۔۔ اورپھر میں نے پوچھا انکل جی لاھور آپ رہیں گے کہاں ۔ انکل بولے تیری آنٹی کے بھائی کے سسرال لاہور میں رہتے ہیں ۔ انسے بات ھوئی ھے ۔ وہ تو کب کے کہہ رھے ہیں کہ آجاوں مگر بچیوں کی وجہ سے انکو ٹال مٹول کررھے ہیں ۔۔ آنٹی بولی ۔ چلو اب چھوڑ بھی دو بچیوں کی فکر یاسر نے تسلی دے تو دی ھے ۔ بس اب آپ ایک دو دنوں میں لاہور چلنے کی تیاری کریں ۔ میں کل ھی بھائی سے بات کرتی ھوں کہ ہم آرھے ہیں ۔۔ میں کچھ دیر مذید انکے پاس بیٹھا رھا ۔ اور پھر ان سے اجازت لینے کے بعد میں گھر واپس آگیا۔۔۔ اگلے دو تین دن بھی ایسے ھی گزر گیے ان دنوں میں کچھ خاص نہ ھوا ۔۔ بس وہ ھی روز مرہ کے معاملات ۔۔ .چوتھے دن میں گھر سے سیدھا ضوفی کے گھر پہنچا ۔ اور بیل دی تو ماہی نے دروازہ کھولا ۔ میں نے مسکراتے ھوے پوچھا خیر ھے پتر آج کالج کیوں نہیں گئی ۔ تو ماہی کچھ پریشانی سے بولی کککچھ نہیں بھائی بس ایسے ھی ۔ میں نے اسکے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ھوے پیار سے پوچھا کیا ھوا ماہی پریشان کیوں ھو ۔۔ تو ماہی ایک دم میرے کندھے کے ساتھ لگ کر اونچی آواز میں رونے لگ گئی ۔۔ میں ماہی کے یوں رونے سے پریشان ھوگیا اور میرا دھیان فورن آنٹی کی طرف گیا کہ کہیں انکی طبعیت نہ خراب ھو ۔۔ میں نے سنجدیگی سے ماہی کے سر کو سہلاتے ھوے پوچھا ۔ کیا ھوا بیٹا کیوں رو رھی ھو گھر میں سب خیریت تو ھے ۔۔ اتنے میں ضوفی بھی گیراج کی طرف چلتی آئی ۔۔ اورماہی کو یوں روتےھوے اسکے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار نمایاں ہونے لگ گئے۔۔ میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ ضوفی کیا ھوا اسے یہ کیوں رو رھی ھے اور تم بھی کیوں پریشان ھو کوئی مجھے کچھ بتاے گا بھی کہ نہیں میں نے ضوفی کو دیکھتے ھوے ایک ھی سانس میں ڈھیر سارے سوال کردیے ۔۔ ضوفی ایکدم خود کو سنبھالتے ھوے میرے قریب آئی اورماہی کو پکڑ کر اسکے سر کو اپنے کندھے سے لگا کر اسکی گال تھپتھپا لر اسے چپ کرواتے ھوے ۔ ڈرائنگ روم کی طرف لیجاتے ھوے بولی کچھ نہیں ھوا ۔ بس ایسے ھی پاگل ھے یہ فضول میں روے جارھی ھے ۔۔ میں ضوفی کے پیچھے حیران ھوتا ھوا چلتا ڈرائنگ روم میں پہنچا تو ضوفی نے ماہی کو صوفے پر بیٹھایا اور اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکے آنسو صاف کرتے ھوے اسے چپ کروانے لگ گئی ۔ ماہی بچوں کی طرح ہچکیاں لے لے کر رو رھی تھی ۔۔ میں نے نظر چاروں طرف دوڑا کر آنٹی کو دیکھا کہ اتنے میں آنٹی بھی پریشان سی کمرے سے نکلی اور میری طرف ایک نظر ڈال کر وہ بھی بھاگی ھوئی ماہی کی طرف گئی اور کیا ھوا میری بچی کو کرتی ھوئی انکے ساتھ ھی بیٹھ کر ماہی کو چپ کروانے لگ گئی ۔۔ ماہی کے ایک طرف ضوفی اور دوسری طرف آنٹی بیٹھی تھی جبکہ میں انکے سامنے منہ کھولے کھڑا باری باری تینوں کو دیکھی جارھا تھا ۔ مجھے معاملہ کافی سنجیدہ لگا ۔۔ میں نے پھر آنٹی جی کو مخاطب کرتے ھوے کہا۔ آنٹی جی ہوا کیا ھے مجھے بھی تو کچھ بتائیں ۔سب خیریت تو ھے ماہی کیوں رو رھی ھے اور آپ سب کیوں پریشان ہیں۔ اس سے پہلے کہ آنٹی کچھ بولتی ۔ ماہی میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ بھائی میں نے اب کالج نہیں جایا کرنا مجھے روز ۔۔۔۔۔۔ ضوفی نے ماہی کے منہ پر ہاتھ رکھتے ھوے اس کی آواز کو دبا دیا۔۔ اور غصے سے ماہی کو گھورتی ھوئی بولی ۔۔۔ منہ بند رکھو تمہیں رات کو بھی سمجھایا تھا ۔۔ آنٹی کا رنگ بھی اڑ گیا تھا۔۔ میں ان سب کی حالت دیکھ کر مذید پریشان ھوگیا اور آگے بڑھا اور ماہی کی کلائی کو پکڑا اور اسے کھینچ کر ان دونوں کے بیچ میں سے اٹھا کر کھڑا کیا اور اسکو بازو سے پکڑے ایک طرف لیجا کر کھڑ کیا اور اسکو کندھوں سے پکڑ کر ہلاتے ھوے بولا ۔ بولو پتر کیا بات ھے کیا ھوا ھے جو تم کالج نہیں جانا چاہتی کسی نے کوئی بات کی ھے کیا۔۔۔۔ ماہی آنٹی اور ضوفی کی طرف دیکھے جارھی تھی ۔۔۔ اتنے میں ضوفی جلدی سے اٹھی اور میرے قریب آکر کھڑے ھوکر بولی ۔ یاسر کچھ بھی نہیں ھوا یہ تو پاگل ھے ایسے ھی کہہ رھی ھے ۔ کالج میں ٹیچر نے اسے ڈانٹا ھے تو بس اس بات کو لے کر ۔۔۔ میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ھوے کہا چپپپپ۔۔۔ میں بچہ نہیں ہوں جو تم مجھے یوں بیوقوف بنا رھی ھو ۔۔ جاو تم ادھر جا کر بیٹھو ۔۔ میں اپنی بہن سے خود بات کرتا ھوں ۔۔ .ضوفی بولی ۔مگر یاس۔۔۔۔۔۔۔ میں نے گرجدار آواز میں ضوفی کی بات کو ٹوکتے ھوے کہا ۔ تمہیں سنا نہیں ۔۔کہ ادھر جا کر بیٹھ جاوووووووو۔ ضوفی ایک دم کانپی اور سہم کر مجھ سے دور ہٹ کر کھڑی ھوگئی ۔ میرا رنگ غصہ سے سرخ ھوچکا تھا۔۔۔ میں نے پھر ماہی کی طرف دیکھا اور اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ھوے کہا۔۔ ماہی تم مجھے اپنا بھائی سمجھتی ھو کہ نہیں۔ ماہی نے اثبات میں سر ہلاتے ھوے کہا جی۔۔۔۔ میں نے کہا ۔ تو پھر اپنی پریشانی بھائی سے چھپاتے ہیں کیا۔۔۔۔۔ماہی نے نفی میں سرہلاتے ھوے کہا نہیں۔۔ میں نے کہا۔ چلو پھر بتاو کیا بات ھے کہ میری بہن کالج کیوں نہیں جانا چاہتی ۔۔ ماہی نے پھر ضوفی اور آنٹی کی طرف دیکھا تو میں نے ماہی کو کہا ۔ ماہی ادھر میری طرف دیکھو اور بتاو کیا بات ھے ورنہ میں یہ ھی سمجھوں گا کہ تم مجھے اپنا بھائی نہیں بلکہ غیر سمجھتی ھو ۔۔۔ ماہی نے لاچارگی سے میری طرف دیکھا اور پھر اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے شروع ھوگئے ۔۔۔ میں نے کچھ دیر اسکے بولنے کا انتظار کیا تو پھر میں نے اس کے کندھوں کو چھوڑا اور بولا ۔۔۔ ٹھیک ھے اگر تم مجھے اپنا بھائی نہیں سمجھتی اور پھر میں نے غصے سے آنٹی اور ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا اور اس گھر والے بھی مجھے اپنا نہیں سمجھتے تو میرا یہاں رکنا فضول ھے ٹھیک ھے جیسے تمہاری مرضی ۔ اور میں گلوگیر آواز میں بولی ۔ اوکے میں چلتا ھوں ۔۔۔ یہ کہہ کر میں مڑ کر واپس گیراج کی طرف جانے لگا تو ۔۔ ماہی دوڑ کر میرے پیچھے آئی اور میرا بازو پکڑتے ھوے بولی ۔۔ رکو بھائی میں بتاتی ھوں ۔۔۔ میں وہیں رک گیا ۔۔۔ تو ماہی بولی ۔۔ بھائی تین چار لڑکے ہیں پتہ نہیں کون ہیں میں انکو نہیں جانتی وہ روز کالج تک میرے پیچھے آتے ہیں اور طرح طرح کی آوازیں کستے ہیں ۔۔ کل تو ان میں سے ایک لڑکے نے میرا بازو پکڑ لیا تھا ۔۔۔ ماہی کی بات سن کر میرا رنگ مذید سرخ ہوگیا غصے سے میری آنکھوں میں خون تیرنے گا ۔ میرا جسم ہلکا ہلکا کانپنے لگ گیا۔۔۔ میں نے تھرتھراتی آواز میں ماہی سے پوچھا۔ کب سے وہ تمہارا پیچھا کررھے ہیں اور کس وقت کس جگہ سے تمہارے پیچھے لگتے ہیں اور کس چیز پر سوار ھوتےہیں ۔ میں نے ایک ھی سانس میں سارے سوال کردیے ۔۔ ماہی بولی ۔ بھائی وہ پانچ چھ دنوں سے میرا پیچھا کررھے ہیں ۔ پہلے تو میں انکو اگنور کرتی رھی مگر کل تو ۔۔۔۔۔ ماہی پھر زارو قطار رونے لگ گئی ۔۔ میں نے اسکے سر پر پیار دیا اور اسے اپنے کندھے کے ساتھ لگا کر ۔ دلاسا دیتے ھوے کہا ۔ چپ کر میرا پتر تیرا بھائی ابھی زندہ ھے ۔ تو مجھے پہلے دن ھی بتا دیتی تو یہاں تک نوبت ھی نہیں انی تھی ۔۔ چل میرا پتر چپ کر اور بتا کہ تم ان کو پہچان لو گی ماہی اثبات میں سر ہلاتے ھوے بولی ۔۔ ہممممم میں نے کہا بس آج کا دن تو کالج سے چھٹی کر اور ویسے بھی اب کالج کا ٹائم ختم ھوگیا اس لیے آج تو گھر رھ کل میں تیرے ساتھ جاوں گا اور پھر تم دیکھنا تیرابھائی کیا کرتا ھے ۔ اس کے بعد کوئی بھی تیری طرف آنکھ بھی نہیں اٹھا کر دیکھے گا ۔۔۔ یہ کہتے ھوے میں ماہی کو واپس ڈرائنگ روم میں لے آیا آنٹی اور ضوفی ماہی پر بڑھک اٹھیں کہ مجھے کیوں بتایا اب کوئی خون خرابا نہ ھو جاے ۔۔ ضوفی ذیادہ ڈری ھوئی تھی کیوں کے وہ پہلے میرا پاگل پن اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی ۔۔ .میں نے آنٹی اور ضوفی کو تھوڑا نرم لہجے میں سمجھایا کہ آپ پریشان نہ ھوں کچھ بھی نہیں ھوتا ایسی لفنڈروں کو جس زبان میں سمجھایا جاتا ھے وہ مجھے اچھی طرح آتی ھے ۔ انٹی بولی پتر مجھے ڈر لگ رھا ھے اس پاگل کو سمجھایا تھا کہ تجھے نہ بتاے مگر اسکے پیٹ میں بات نہ رھی ۔۔ میں نے کہا آنٹی جی ماہی میری بلکل ایسے ھی بہن ھے جیسے نازی میری بہن ھے آپکی عزت میری عزت ھے ۔ میں نے اس گھر کا نمک کھایا ھے اور آپ لوگوں کی وجہ سے میں اس مقام پر ھوں ۔ اور میری بہن کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو مجھ سے یہ برداشت نہیں ھوگا ۔۔ ان بہن چودوں کی وجہ سے میری بہن پڑھائی نہیں چھوڑے گی ۔۔۔ کچھ دیر مذید ہم اسی ٹاپک پر بات کرتے رھے آنٹی مجھے بار بار لڑائی سے منع کرتی رھی ضوفی بھی مجھے سمجھاتی رھی اور پھر میں اور ضوفی دکان پر آگئے راستے میں بھی ضوفی مجھ سے وعدے لیتی رھی کہ لڑنا نہیں ھے بس پیار سے سمجھا دینا ۔۔ میں ہوں ہاں میں اسکی باتوں کا جواب دیتا رھا ۔۔۔۔ دکان پر پہنچا مجھے پریشان دیکھ کر جنید نے وجہ پوچھی تو میں نے اسے ساری تفصیل بتادی ۔۔۔ جنید کا پارا بھی چڑھ گیا، اور وہ مجھے ابھی چلنے کا کہنے لگ گیا میں نے اسے سمجھا بجھا کر رلیکس کیا کہ اب وہ سالے پُھکرے ہمیں نہیں ملیں گے اس لیے کل صبح صبح تم تیار رہنا بونی ان سے ھی کریں گے ۔۔۔اور ویسے بھی کافی دن ھوگئے ہین ہاتھ گرم نہیں کئے ۔۔ جنید نے بھی کل لڑنے کی پوری تیاری کس لی ۔۔۔ اور پھر کسٹمرز کی آمد کے بعد ہم کام میں مصروف ہوگئے ۔۔ رات کو میں نے جنید کو ٹائم اور جگہ کا بتایا اور پھر ضوفی کو گھر چھوڑا اور ماہی کو حوصلہ دیا کہ صبح تم کالج کے لیے تیار رہنا اور پیدل ھی اکیلی جانا ۔۔ ہم فلاں جگہ پر کھڑے ھوں گے اور بلکل بھی نہ گبھرانا ۔۔۔۔ماہی پہلے مجھے منع کرتی رھی آنٹی بھی لاکھ سمجھاتی رھی ۔ مگر میری ضد کے سامنے سب کو ہار ماننا پڑی ۔۔ میں پھر انکے گھر سے نکلا اور سیدھا گاوں پہنچا اور گھر سے کھانا وغیرہ کھا کر باہر چوک کی طرف چل پڑا اور حسب منشا میرے لفنڈر یار چوک میں بوڑھ کے نیچے ڈیرہ جماے بیٹھے تھے ۔۔ مجھے دیکھ کر سب ھی بہت خوش ھوے ۔۔۔ سب ھی مجھے طرح طرح سے جُگتیں مار مار کر چھیڑ رھے تھے کہ آج کل خوب شہری پوپٹ بچیاں دیکھ رھا ھے ۔ کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ ۔۔۔ شادا بھی انکا ساتھ برابر دے رھا تھا ۔۔ ہم ایسے ھی ایک گھنٹہ بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مزاق کرتے رھے ۔۔۔ پھر میں نے سب کو مخاطب کرتے ھوے کہا کہ کل کیا مصروفیت ھے ۔۔ شادا بولا توں حکم لا کی کرناں ایں ۔۔ میں نے کہا بندا مروانا ھے مار دیویں گا ۔۔۔ شادا شوخی سے بولا مار دیواں گے بندا وی بندے ای ماردے نے ۔۔۔ میں نے تھوڑا سنجیدہ ھوتے ھوے کہا ۔۔ یار ایک مسئلہ ھے ۔۔ تم سب کو صبح سات بجے میرے ساتھ شہر جانا ھے ۔۔ شادا بولا خیر تے ھے ۔۔ میں نے کہا ۔ یار کُش مُنڈے پھینٹنیں نے ۔ شادا بولا لے دس اے وی کوئی کم اے ۔ پھینٹ دیاں گے ۔۔ میں نے کہا بس پھینٹنے ھی ہیں سر نہیں پھاڑنے ۔ بس گُجیاں سٹاں مارنیاں نے ۔۔ سب ایک ساتھ بولے کوئی رولا ای نئی ۔۔ میں نے پھر سب کو ساری حقیقت بتائی مگر آدھی کیوں کہ ماہی کو میں نے جنید کی بہن بتایا ۔۔ شادا مجھے چھیڑتے ھوے بولا ۔ پھدی دیا توں ہمیشہ کُڑیاں پچھے ای سانوں لڑایا کر. کسی اپنے واسطے وی سانوں حکم لادیا کر۔۔ .میں نے کیا یار وہ لڑکی میری بہن جیسی ھے ایسی کوئی بات نہیں میرا دوست ھے نہ جو اس دن ہمارے ساتھ لڑا تھا جنید ۔۔ سب نے ہاں ھاں ھاں کہا ۔ میں نے کہا اب وہ میرے پاس کام کرتا ھے وہ لڑکی اسکی بہن ھے ۔ تو سب کا ھی پارا چڑھ گیا اور پھر شادے نے کہا کہ کل دو کو تم موٹر سائکل پر بٹھا لینا اور باقی کو میں ٹریکٹر پر لے چلوں گا ۔۔ میں مذید ایک گھنٹہ ادھر بیٹھا رھا اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے ۔۔ اگلے دن سب وقت پر چوک میں جمع ھوگئے میں نے دو لڑکوں کو بائک پر بٹھایا اورباقی کے چار لڑکے شادے کے ساتھ ٹریکٹر پر سوار ھوگئے ۔۔ ڈنڈے ہم نے ٹریکٹر پر ھی رکھ لیے تھے اور ہمارا دو سواریوں کا قافلہ شہر کی طرف روانہ ھوگیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہم مقررہ جگہ پر پہنچے تو جنید بھی دو لڑکوں کو ساتھ لے کر موٹرسائیکل پر پہلے ھی اس جگہ موجود تھا ۔۔۔۔ ہم سب باری باری جنید اور اسکے دوستوں سے ملے ہم جس جگہ کھڑے تھے ہماری وجہ سے وھاں کافی ہجوم سا لگ گیا تھا ۔۔۔ میں نظر اسطرف تھی جدھر سے ماہی نے آنا تھا ۔۔۔ اور ماہی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ لڑکے اس جگہ سے ھی میرے پیچھے لگتے ہیں ۔۔ مگر مجھے ابھی تک نہ تو ماہی آتی نظر آئی اور نہ ھی کوئی لڑکے ایسے نظر آے جو مشکوک ھوں ۔۔۔ میں ابھی یہ سوچ ھی رھا تھا کہ مجھے دور سے تین موٹر سائکلوں پر سوار چھ لڑکے پینٹیں پہنیں بال شال بنا کر سن گلاسس لگاے بڑے ہیرو بنے آہستہ آہستہ موٹر سائیکلوں کو چلاتے آتی جاتی لڑکیوں کو تاڑتے ھوے ہماری طرف آتے دیکھائی دیے ۔ انکو دور سے دیکھتے ھی میری چھٹی حس نے فورن کام کیا کہ ہو نہ ہو یہ سالے وہ ھی پُھکرے ہیں اور فورن میرے دماغ نے کام کیا کہ اگر انہوں نے ہمیں اکھٹے کھڑے دیکھ لیا تو سارا کام بگڑ جانا ھے ۔۔ ایک تو انکے کھڑے ھونے کی جگہ بھی یہ ھی تھی دوسرا ہم ڈشکروں کے سامنے وہ سب ابھی بچے تھے ۔۔ ۔۔۔ممی ڈیڈی بچے ۔۔۔ اور ہم سب کو ایک ساتھ دیکھ کر انکو کُھڑک جانی تھی کہ اج ساڈے کھڑکن گیاں میں نے سب کی توجہ ان دور سے آنے والے لڑکوں کی طرف دلائی اور شادے کو کہا کہ تم ٹریکٹر کو آگے لے جاو اور کچھ فاصلے پر کھڑے ھوجاو اور جنید کو بھی کہا کہ تم ٹریکٹر سے کچھ فاصلے پر کھڑے ھوجانا تاکہ انکو شک نہ ھو کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں ۔۔۔ اور اگر ان مین سے کوئی بھاگنے لگے تو جنید تم آگے سے انکو گھیر لینا اور جب تک میں نہ کہوں تب تک ان کو کچھ نہیں کہنا ۔۔۔ ہم نے جلدی سے پلان تیار کیا اور اس سے پہلے کہ وہ لڑکے ہمارے قریب پہنچتے شادا اور جنید آگے نکل گئے اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ وہیں کھڑا ھوگیا اور دوستوں کو بھی سمجھا دیا کہ تم ان کی طرف مت دیکھنا اور ہم ایسے کھڑے ھوگئے جیسے مجھے میرے دوست راستے میں راہ چلتے ملے ہوں اور ہم کھڑے ایک دوسرے سے باتیں کررھے ھوں ۔۔۔ میرے دوست بیچارے پینڈوں ٹائپ اور سادہ سے میلے کپڑوں میں تھے ۔۔ .خیر وہ لڑکے سلو موشن میں بائک کو چلاتے سیٹیاں بجاتے ہمارے قریب آکر رک گئے اور باری باری تین پیچھے بیٹھے لڑکے اتر کر پینٹوں میں ہاتھ دے کر بڑے ہیرو بن کر کھڑے ہوکر ادھر ادھر دیکھ کر سکول. وکالج کی لڑکیوں کو تاڑنے لگ گئے ۔۔ ہم اپنے دھیان کھڑے باتیں کررھے تھے ۔ کہ ان میں سے ایک ہیرو ہماری طرف بڑھا اور بڑے رعب سے بولا ۔۔ اوےےے ہیلو ادھر کھڑے کیا کررھے ھو چلو کھسکو ادھر سے ۔۔ میرا ایک دوست اسکی طرف بڑھنے لگا تو میں نے اسکی کلائی کو پکڑا اور اسے روک لیا اور اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ اچھا بھائی چلے جاتیں ہیں ناراض کیوں ھورھے ھو۔۔ تو دوسرا لڑکا بھی اسکے پاس آکر بولا چلو چلو شاباش نکلو یہاں سے ۔۔۔ میں اسکی طرف دیکھتے ھوے پاوں سے ھی بائک کو چلاتے آگے کی طرف لے گیا اور دوستوں کو بھی آنے کا کہا ہم ان لڑکوں سے کافی آگے جاکر کھڑے ہوکر پھر باتیں کرنے لگ گئے میرے دوست مجھے برا بھلا کہی جارھے تھے کہ میں نے انہیں کیوں روکا ۔۔ میں نے انہیں صبر کرنے کا کہا اور جس طرف سے ماہی نے آنا تھا اسطرف دیکھنے لگ گیا۔۔۔ وہ لڑکے ابھی تک وہیں کھڑے تھے اور اپنے کام میں مصروف تھے ۔۔ کچھ ھی دیر گزری تھی ۔۔ کہ مجھے دور سے نقاب میں ماہی آتی ھوئی نظر آئی ۔۔ میں نے لڑکوں کی طرف دیکھا تو وہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوے آپس میں کوئی بات کر رھے تھے اور انکا دھیان بھی ماہی کی طرف ھی تھا ۔۔ جیسے جی ماہی انکے قریب سے گزری ان میں سے ایک لڑکے نے جس نے ہمیں وہاں سے بھاگنے کا کہاں تھا اس نے ماہی پر کوئی جملہ کسا ماہی نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور جب اسکی نظر مجھ پر پڑی تو میں نے انگلی منہ پر رکھ کر اسے خاموش رہنے کا کہا تو ماہی میرا اشارہ پاتے ھی آگے چلتی ھوئی ہمارے قریب پہنچی اور ماہی کے پیچھے ھی وہ سب لڑکے موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر پیچھا کرتے ھوے ماہی کے پیچھے پیچھے آنے لگ گئیے۔۔ ماہی ہم سے کچھ فاصلے پر ھی تھی کہ ان میں سے ایک موٹر سائکل سوار ماہی کے برابر آیا اور اسکے پیچھے بیٹھے لڑکے نے ہاتھ آگے بڑھا کر ماہی کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو ماہی جو پہلے سے ھی ہوشیار تھی اس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کیا اور سڑک کے کنارے پر کھڑی ھوکر انکو گالیاں دینے لگ گئی ۔ موٹر سائکل سوار نے بریک لگائی تو پیچھے بیٹھا لڑکا موٹر سائکل سے چھلانگ مار کر اترا اور ماہی کی طرف بڑھا ۔۔ ہم تینوں کھڑے یہ سب ماجرہ دیکھ رھے تھے ۔ مجھے بس اسی موقع کا انتظار تھا ۔ میں نے اپنے دونوں دوستوں کو کہا کہ تم ابھی ادھر ھی رکو اور یہ کہتے ھوے میں تیزی سے بائک کو سٹینڈ پر لگایا اور اس سے پہلے کہ وہ لڑکا ماہی کے پاس پہنچتا میں بجلی کی سی تیزی سے بھاگ کر لڑکے اور ماہی کے درمیان میں کھڑا ھوگیا۔۔۔ ماہی میرے پیچھے کھڑی تھی اور لڑکا میرے آگے ۔۔۔ لڑکے نے جب مجھے یوں کباب میں ہڈی بنتے دیکھا تو ۔۔بڑے غصے سے میری طرف دیکھا اور میرا گریبان پکڑتے ھوے بولا ۔ گانڈو تجھے پہلے بھی کہا تھا کہ ادھر سے نکل لے ۔۔۔ مگر تو سالا بیچ میں ہیرو بننے آگیا ھے ۔ جانتا نہیں مجھے کیا کہ میں کون ہوں ۔۔۔ میں نے اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے ھوے کہا کہ ۔ اس لڑکی کو تنگ کیوں کررھے ھو۔۔ اس کے باقی ساتھ بھی بڑی شوخی سے مجھ اکیلے کو دیکھ کر میرے ارد گرد کھڑے ھوگئے تھے ۔۔ تو وہ لڑکا قہقہہ لگاتے ھوے میرے گریبان کو جھنجھوڑتے ھوے بولا ۔۔ کیوں تیری بہن ھے یا پھر توں اسکا ٹھوکو ھے ۔۔۔ لڑکے کی بات سنتے ھی میرا دماغ گھوم گیا اور میں نے اسکی کلائی کو پکڑا جس سے اس نے میرا گریبان پکڑا ھوا تھا ۔ اور ایک ذوردار جھٹکے سے اسکی کلائی کو مروڑا تو چٹخ کی آواز آئی جیسے اسکی کلائی کا جوڑ اکھڑ گیا ھو ۔ لڑکے کے منہ سے دلدوز چیخ نکلی اور ساتھ ھی میں نے ٹانگ فولڈ کی اور ذوردار کک اسکے پیٹ میں ماری ۔ لڑکا بلکتا ھوا پیچھے کھڑے لڑکے کے اوپر جاگرا ۔ پیچھے کھڑا لڑکا اپنی موٹر سائکل کے آگے کھڑا تھا ٹانگ کھانے والا لڑکا جب پیچھے کھڑے لڑکے کے اوپر گرا تو دونوں پیچھے بائک پر گرے اور بائک کو ساتھ لیتے ھوے سڑک پر جاگرے ۔۔ اتنے میں باقی چاروں لڑکے ممی ڈیڈی بھڑکیں مارتے ھوے مجھ پر یلغار ھوے اس سے پہلے کے لڑکے مجھ تک پہنچتے ان سے پہلے میرے دوست ان کے سر پر آ پہنچے اور ساتھ ھی ٹریکٹر اور جنید بھی آ پہنچا بس پھر انکو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں کہاں سے انکو پڑنا شروع ہوگئیں ہیں ۔۔ میں نے پھر اسی لڑکے کو گریبان سے پکڑا اور ہجوم سے باہر کھینچتا ھوا لے آیا یہ وہ ھی لڑکا تھا جس نے ماہی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی ۔ .اور جسکی کلائی کا جوڑ اکھڑا تھا۔۔۔ ماہی گبھرائی ہوئی ایک طرف کھڑی دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ۔ ان لڑکوں کی پٹائی دیکھ رھی تھی ۔ میں اس لڑکے کو کھینچتا ھوا ماہی کے سامنے لے آیا اور ماہی کے سامنے ھی اسپر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی وہ بلکتا رھا چلاتا رھا معافیاں مانگتا رھا مگر میں نے اسکی ایک نہ سنی اور مسلسل اسکی ٹھکائی کرتا رھا ۔ جب وہ لڑکا بےجان ہوکر نیچے گرا تو میں اس، پر ہاتھ نرم کیا اور اسکے پیٹ پر ایک زور دار ٹھوکر ماری تو اسکے منہ سے دلدوز چیخ نکلی اور وہ پیٹ پر ھاتھ رکھے سڑک پر لیٹیاں لینے لگ گیا۔ میں نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا تو لڑکے کے منہ سے خون اور تھوک ٹپک رھا تھا ۔ سالے کی ایک منٹ میں ساری ہیرو گری نکل گئی تھی میں نے اسکے سر کے بالوں کو جنجھوڑا اور ماہی کی طرف انگلی کرکے کہا پکڑ ہاتھ اسکا گشتی کے بچے اور پھر میں نے اسکا وہ ھاتھ پکڑا جسکا شاید جوڑ اکھڑ چکا تھا ۔۔اور اسکے ہاتھ کو پھر مروڑ کر بولا ۔ یہ ھی ہاتھ میری بہن کی طرف اٹھا یا تھا نہ ۔ لڑکا ذور ذور سے چیخ کر مجھ سے اور کبھی ماہی سے رحم کی بھیک مانگ رھا تھا ۔۔۔ میں نے کچھ دیر اسکا ہاتھ مروڑ کر رکھا لڑکا نیم بےہوشی کی حالت جا چکا تھا اور آہستہ آہستہ بول رھا تھا ۔۔ مجھے معاف کردو مجھے معاف کردو ۔ اور پھر میں نے اس کے پیٹ میں اپنا گھٹنا مارا تو لڑکا پھر بلبلاتا ھوا دھرا ھوا ۔ تو میں نے اسکی گردن کو پکڑ کر ماہی کے پیروں اسکو پھینکا اور بولا مانگ معافی اپنی بہن سے اور کہہ کہ تو میری بہن ھے ۔ لڑکا ماہی کے سکول جوگر کو ہکڑ کر انپر ماتھا رکھ کر ۔ روتے ھوے بولا ۔ آپی مجھے معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوگئی پلیز میری جان بچالیں یہ مجھے ماردے گا ۔ پلیزززز آپی آپ میری بہن ھو میری توبہ آج کے بعد کبھی بھی کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھوں گا ۔ بس ایک بار مجھے معاف کردیں ۔۔۔ ماہی کو بھی اسپر ترس آگیا اور اپنے پاوں پیچھے کرتے ھوے میری طرف دیکھتے ھوے بولی بھائی چھوڑ دیں اسے بہت ھوگئی اسکے ساتھ ۔۔۔ میں نے پھر زوردار ٹھوکر اسکی ٹانگوں پر ماری تو وہ کلابازیاں کھاتا ھوا ایک طرف کو چلا گیا ۔۔۔۔اسے چھوڑ کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تومیرے دوستوں نے ان پانچوں کو مار مار کر باندر بنا دیا تھا ۔۔۔ اور شادا ان سب کومرغا بننے کا کہہ رھا ۔ شادے کے ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا پکڑا ھوا تھا ۔۔ اور پانچوں لڑکے جن کی آنکھوں پر نیل پڑے ھوے تھے مگر کمال کی مار تھی کہ خون کسی کے بھی نہیں نکل رھا تھا ۔ دوستو۔۔۔ پینڈواں دی مار تے سٹ گُجی ہُندی اے ۔ جدیاں پیڑاں بڑھاپے وچ وی نکل پیندیاں نے ۔۔۔ میرے دوستوں نے ایسا ھی کچھ ان پانچوں کا حال کیا تھا سر اور منہ چھوڑ کر انکے نچلے دھڑوں پر ڈنڈے برسائے تھے ۔۔۔ لڑکے سڑک پر لیٹیاں لے رھے تھے اورکوئی اپنے بازو کو تو کوئی اپنی ٹانگوں کو پکڑے روئی جارھے تھے ۔۔ انکی ساری ہیرو گیری نکل چکی تھی ہیرو سے اب مٹی کے باندر بنے ھوے تھے ۔۔ شادا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے باری باری سب کو مار کر انکو کان پکڑنے کا کہہ رھا تھا۔۔ میں نے ماہی کو کہا چلو تمہیں پہلے کالج چھوڑ آوں ۔ ماہی سر جھکائے میرے پیچھے چل دی میں نے بائک پکڑی اور دوستوں کو انکے حال پر چھوڑ کر ماہی کو پیچھے بٹھایا اور کالج چھوڑ کر واپس اسی جگہ پہنچا تو ۔۔ سب لڑکے کان پکڑے سڑک پر مرغا بن کر چل رھے تھے اور شادا انکی گانڈ پڑ باری باری ڈنڈے برسا رھا تھا ۔۔ چاروں طرف کافی لوگ جمع تھے اور ان کا تماشا دیکھ رھے تھے ۔۔۔ میں نے وہاں پہنچتے ھی سب کو نکلنے کا کہا کہ بس اتنا ھی کافی ھے ۔ .اور پھر شادے نے باری باری پانچوں کو ٹھڈے مارے اور میں نے جنید کا شکریہ ادا کیا اور پھر باقی دوستوں کو لے کر گاوں کی طرف چل دیا گاوں پہنچ کر میں نے سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر وہیں سے واپس شہر آیا ایک حمام سے اپنا حلیہ درست کیا اور وہاں سے سیدھا ضوفی کہ گھر پہنچا ۔۔ تو ضوفی بولی یاسر اتنی دیر کہاں لگا دی ماہی کب کی کالج گئی ھے ۔ اور تم اب آرھے ھو. ۔میں نے جان بوجھ کر حیران ھوتے ھوے کہا۔ اچھااااااااا تم نے اسے اکیلی کو کیوں جانے دیا۔۔۔ ضوفی بولی ۔ وہ کہہ رھی تھی کہ تم اسے راستے میں ملو گے ۔۔۔ میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں آجاے گی کچھ نہیں ھوتا۔۔۔ ضوفی بولی یاسر میرا دل گبھرا رھا، ھے چلو پہلے ماہی کے کالج چلتے ہیں ۔۔ میں نے بھی جلدی سے کہا ہاں ہاں چلو چلو ۔۔۔ اور ضوفی بھاگتی ھوئی باہر کی طرف لپکی اور میں مسکراتا ھوا اسکے پیچھے باہر نکلا ۔۔۔ کہ اچانک ضوفی کی نظر میری مسکراہٹ پر پڑی تو مجھے گھورتے ھوے بولی ۔ میری جان پر بنی ھوئی ھے اور تم دندیاں نکال رھے ھو ۔۔ میں نے کہا تم نکال لو تمہیں کسی نے روکا ھے ۔۔ ضوفی بولی یاسر قسم سے میں مزاق، کے موڈ میں نہیں ھوں میرا دل گبھرا رھا ھے ۔۔۔ میں نے کہا چلو کسی جوا کارنر پر تمہیں جوس پلاتا ھوں ۔۔۔تمہارے دل کی گبھراہٹ ختم ھو جاے گی ۔۔۔ ضوفی پیر پٹختے ھوے بائک کے قریب پہنچی اور انگلی کے اشارے سے حکم صادر کرتے ھوے بولی ۔ ہاسر چپ کر کے کالج کی طرف چلو۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا کیوں اب کالج میں اڈمیشن تو نہیں لے لیا۔۔ میرے ہنسنے اور بےجا مزاق کرنے پر ضوفی چونکی اور میری طرف گھورتے ھوے بولی ۔ تم ماہی کو کالج چھوڑ کر آے ھو ناں ۔۔ میں نے لاپروائی سے جواب دیتے ھوے کہا ۔۔ ی ہاں ۔۔ ضوفی بائک پر بیٹھتے ھوے میری کمر تھپڑ مارتےھوے بولی ۔۔ گنداااااااا۔ پہلے کیوں نہیں بتایا ۔ ایسے میں میرا کلو خون کم کر کے رکھ دیا۔۔۔ میں نے بائک سٹارٹ کی اور گئیر لگا کر جھٹکے سے کلچ چھوڑا تو ضوفی نے ایکدم پیچھے سے مجھے جپھی ڈالتے ھوے کہا۔۔۔ بتمیززززززز میں ابھی گرنے لگی تھی ۔۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا۔ میں اپنی جان کو گرنے دیتا ھوں ۔۔۔ تو ضوفی میرے کندھے پر سر رکھتے ھوے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھے بولی ۔ یاسر نہ تنگ کیا کرو ۔۔ تم بہت بگڑ گئے ھو۔۔ میں نے کہا تم نے ھی تو بگاڑا ھے ۔۔ ضوفی میرے پیٹ کو اپنی نرم انگلیوں سے سہلاتی ھوئی بولی ۔ وہ کیسے جی ۔ میں نے کہا دور رھ رھ کر اور ترسا ترسا کر ۔۔۔ ضوفی میرے پیٹ پر چٹکی کاٹنتے ھوے بولی شوخے جب بھی موقع ملتا ھے تم باز آتے ھو پھر بھی ایسی باتیں کررھے ھو۔۔ میں نے کہا ۔ اتنے تھوڑے ٹائم میں تو تمہیں دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملتا باقی تو اور کیا کرنا میں نے ۔۔ .ضوفی میری کمر پر ٹکر مارتے ھوے بولی ۔ اور کیا کرنا ھے تم نے ۔۔ میں نے کہا جب موقع دو گی تب پتہ چلے گا۔۔۔ ضوفی بولی تو پھر جلدی سے امی کو ہمارے گھر بھیج دو ۔ اور جلدی سے شادی کرلو پھر جو چاھے کرلینا ۔۔۔میں نے لمبا سا سانس لے کر چھوڑا اور بولا ۔ پتہ نہیں وہ حسین رات کب آنی ھے ۔۔ ضوفی تھوڑا سنجیدگی سے بولی ۔۔ اتنے جلد باز مت بنو پہلے سٹینڈ ھوجاو پھر شادی بھی کرلیں گے ۔ میں نے جلدی سے ضوفی کا ہاتھ پکڑا اور پیٹ سے ہٹا کر اہنے لن پر رکھتے ھوے کہا یہ دیکھو تمہیں دیکھتے ھی تو سٹینڈ ھوجاتا ھے اب اور کتنا سٹینڈ کرنا ھے ۔۔۔۔ضوفی نے ذور سے میرے لن کو دبایا اور شرمندہ سی ھوکر ہاتھ جلدی سے واپس کھینچا اور میری کمر پر ذور سے مکا مارا اور بولی ۔ گندااااا جاو میں نہیں بولتی تم سے ۔۔۔۔میں نے ہنستے ھوے ضوفی کا ہاتھ پکڑ کر واپس اپنے پیٹ پر رکھا مگر ضوفی نے پھر واپس ہاتھ کھینچ لیا ۔ ایسے ھی شرارتیں کرتے ہم دکان پر پہنچے ۔ جنید ابھی تک دکان پر نہیں آیا تھا، ضوفی پارلر پر چلی گئی ۔ تو میں نے دکان کھولی اورصفائی وغیرہ کرنے میں مصروف ھوگیا ۔۔ کچھ دیر بعد جنید بھی دکان پر آگیا۔۔ جنید آتے ھی مجھ پر برس پڑا ۔ اور سٹک پکڑ کر مجھے مارنے کے لیے میرے پیچھے بھاگا ۔۔ میں بھاگتا ھوا، کاونٹر کے پیچھے چلا گیا اور بولا یار ھوا کیا ھے بتاو تو سہی ۔ جنید بولا ماما میری کیڑی پین اے جنوں او منڈے چھیڑدے سی ۔۔ میں نے ہنستے ھوے کہا اچھاااا تو یہ بات ھے ۔ تمہیں کس نے کہا ھے کہ میں نے یہ کہا ھے ۔۔ جنید پھر میری طرف سٹک لہراتے ھوے بولا ۔ ماما جناں نو نال لے کے آیا سی اوناں نوں کی کیا سی کہ او میری پین نوں چھیڑدے سی تے ایس لئی اوناں نو ماریا اے ۔۔۔ میں قہقہے لگا کر ینسنے لگ گیا ۔ تو جنید مذید چڑ گیا اور میری ٹانگوں پر آہستہ سے سٹیکیں مارنے لگ گیا ۔۔ کچھ دیر ایسے ھی ہنستے رھے پھر میں نے کہا یار تیری پین تے میری پین وچ کوئی فرق اے جنید بولا ماما او تے تیری سالی اے ۔ میں نے کہا بیشک یار مگر پھر میں اسے اپنی بہن ھی سمجھتا ھوں ۔۔ پھر جنید بھی کچھ رلیکس ھوا اور بولا ٹھیک ھے یار ودائی جا میریاں پیناں ۔۔۔ میں نے کہا چل کوئی نہ یار اے بس آخری پین ای سمجھ ۔۔ پھر ہم ان لڑکوں کی چھترول کے بارے میں، باتیں کر کر کے ہنسنے لگ گئے ۔۔ کچھ دیر بعد کسٹمرز آنے شروع ھوگئے اور ہم دونوں کام میں مصروف ھوگئے ۔۔۔ رات کو دکان بند کی اور میں ضوفی کو ساتھ لے کر گھر پہنچا ۔۔ تو ماہی بڑی خوش تھی جبکہ آنٹی کافی پریشان تھی ۔۔ ماہی بھاگتی ھوئی ضوفی کے گلے ملی اور پھر ساری لڑائی حرف بحرف مزے لے لے کر ہاتھ پاوں مارتے ھوے سنانے لگ گئی ۔۔۔ جبکہ ضوفی کا رنگ بدلتا گیا ۔۔ اور پھر میری طرف دیکھتے ھوے غصے سے بولی ۔ جناب اتنا کچھ کر آے اور مجھے بھنک بھی نہ لگنے دی ۔۔ یاسر تم باز آجاو کیوں میری جان لینی ھے ۔ کیوں ایسے دشمنیاں بڑھا رھے ھو ۔ پتہ نہیں وہ لڑکے کون تھے اور اب وہ بدلہ نہ لیں ۔ اور پھر ماہی پر ضوفی بھڑک اٹھی اور اسے بولنے لگ پڑی کہ اب سکون مل گیا تمہیں مجھے پہلے ھی اسی بات کا ڈر تھا اسی لیے تمہیں منع بھی کیا تھا کہ اس پاگل کو نہ بتانا ۔ ورنہ یہ انکو جان سے مارنے پر اتر آے گا مگر تمہارے رونے ھی نہیں ختم ھوے اور نتیجہ دیکھ لیا وہ ھی ھوا نہ جسکا ڈر تھا ۔۔ .میں نے کہا ضوفی اب بس بھی کرو اس بیچاری کا کوئی قصور نہیں اگر انکی طنعیت صاف نہ ھوتی تو وہ سالے پُھکرے اس کو روز تنگ کرتے اور آج بھی میری آنکھوں کے سامنے انہوں نے اسکو تنگ کیا اور اسکا ھاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔ میں نے تو پھر بھی اسے پیار سے سمجھایا کہ بات نہ بڑھے مگر اس نے آگے سے گندی گالی دے دی باس پھر ۔۔۔۔ ضوفی میری بات کاٹتے ھوے بولی ۔ پھر جناب پر جن نازل ھوگیا ھوگا اور مار دھاڑ شروع کردی ھوگی۔۔ میں نے کہا تو بتاو اور میں کیا کرتا ایک بھائی کے سامنے اسکی بہن کا سرے بازار ھاتھ پکڑا جاے اور پھر منع کرنے پر آگے سے گالی سننے کو ملے تو ۔ پھر میرا مرنا ھی بہتر تھا اگر کچھ کرتا نہ ۔ ضوفی نے جلدی سے میرے منہ پر ھاتھ رکھا اور بولی ۔ مریں تمہارے دشمن ۔ یاسر میں تو یہ کہنا چاھ رھی تھی کہ ایسے دشمنی بڑھتی ھے ۔ میں نے کہا بڑھتی ھے تو بڑھنے دو دیکھ لوں گا جو بھی ھوا ۔ مگر میری غیرت زندہ ھے بےغیرت نہیں ھوں میں ۔ شکر کرو کہ وہ لڑکا بچ گیا جس نے میری بہن کا ہاتھ پکڑا تھا ابھی تو اسکا وہ ھاتھ ھی ٹوٹا تھا ۔ جان سےنہیں گیا ۔۔ ضوفی نے دونوں ھاتھ منہ پر رکھتے ھوے کہا ہووووووو ھاےےےےےے میں مرگئی ۔۔ یاسر تم نے اسکا ھاتھ توڑ دیا ۔۔ تو ماہی بڑی شوخی سے سٹائل بنا کر بتاتے ھوے بولی ۔ آپی اس نے بھائی کا گریبان پکڑا تو بھائی نے ایسے کر کے ایک ھی جھٹکے میں اسکی کلائی مروڑ دی اور اسکا ہاتھ ٹُنڈا ھوگیا اور پھر ماہی نے ٹنڈے کی ایکٹنگ کرتے ھوے کہا پھر وہ ایسےایسے چلتا ھوا میرے قدموں میں گر کر مجھ سے معافی مانگنے لگ گیا ۔۔ باجی اک واری معاف کردے باجی مینوں معاف کردے ۔۔ ضوفی ہنستے ھوے بولی ٹھہر بتاتی ھوں تجھے کیسے چسکے لے لے کر نقلیں اتار رھی ہے ۔۔ ضوفی ماہی کو مارنے کے لیے اسکے پیچھے بھاگی تو ماہی بھاگتی ھوئی سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی ۔۔ .2 آنٹی میرے پاس آئی اور میرے سر پر پیار دے کر میرا ماتھا چوما اور اپنے آنسو صاف کرتے ھوے بولی یاسر بیٹا مجھے آج تم پر فخر ھورھا ھے کہ تم اس گھر کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے ھو بیٹا مجھے اب اپنی بیٹیوں کی فکر نہیں تم جیسا بیٹا مجھے مل گیا مجھے اور اب کسی چیز کی ضرورت نہیں اوپر والا تیری لمبی عمر کرے اور ہر بلا سے محفوظ رکھے اور نظر بد سے بچاے میرے بچے کو ۔۔ آنٹی کی شفقت اور محبت دیکھ کر میں نے آنٹی کو گلے لگا لیا اور آنٹی کے سر پر بوسا لیا اور بولا ۔ آنٹی جی میں اسے اپنا گھر سمجھتا ھوں اور میرے ھوتے ھوے اس گھر کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ کچھ دیر میں آنٹی اور ضوفی سے باتیں کرتا رھا جبکہ ماہی اوپر چلی گئی تھی ۔ اور پھر میں ان سے اجازت لے کر نکلنے لگا تو آنٹی اور ضوفی مجھے دروازے تک چھوڑنے آئیں اور نصیحتیں کرتے ھوے مجھے اجازت دی ۔ ضوفی بار، بار دھیان سے جانا دھیان سے جانا کہے جارھی تھی ۔ میں ادھر سے نکلا اور سیدھا گاوں آیا گھر داخل ھوا تو سامنے عظمی اور نسرین کا دیدار ھوا ۔ سلام دعا اور حال احوال پوچھنے کے بعد پتہ چلا کہ آنٹی اور انکل لاہور چلے گئے ہیں ۔۔ اور ان دونوں کو ہمارے گھر چھوڑ گئے ہیں ۔۔ میں نے کھانا وغیرہ کھایا اور پھر باہر نکل گیا عظمی اور نسرین سے کوئی خاص بات نہ ھوئی ۔ باہر نکل کر میں چوک کی طرف چلا گیا اور وہاں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مزاق اور آج کی کاروائی پر باتیں کرتے ھوے گھنٹہ گزگیا گیا اور پھر میں ان سے اجازت لے کر گھر آیا ۔۔ تو عظمی نسرین اور نازی بیٹھی گپیں لگا رھی تھیں ۔۔۔ عظمی اور نسرین کی آپس میں کسی بات پر بحث ھورھی تھی ۔ میں بھی جاکر ان کے بیچ بیٹھ گیا تو ۔ پتہ چلا کہ انکے لیے بستر عظمی کے گھر سے لانے ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی اکیلی جانے کے لیے تیار نہیں ۔ مجھے دیکھ کر نازی بولی لو جی بھائی آگیا ھے جاو نسرین بھائی کے ساتھ جاکر لے آو ۔۔۔ میں نے کہا کیوں ہمارے گھر میں بستر نہیں ہیں کیا ۔ تو نازی بولی بستر پیٹی میں نیچے پڑے ہیں بس ایک کھیس ھی لا نا ھے اور کچھ نہیں میں نے کہا مجھ سے نہیں جایا جاتا خود لے آے جاکر یا تم چلی جاو اس کے ساتھ ۔ تو نازی بولی نہ بابا مجھے تو ڈر لگتا ھے اندھیرے میں۔۔ اور گھر بھی خالی ھے ۔۔ تو میں نے کہا کیوں چڑیلیں میری کون سا واقف ہیں جو مجھے کچھ نہیں کہیں گی ۔ تو امی کی آواز میرے کانوں میں پڑی جا یاسر پتر پین دے نال چلا جا ۔ کش نئی ہوندا ۔۔۔ میں نے مجبوری سے ہممممم کہا اور نسرین کی طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ چلوووووو جی ۔۔۔۔ نسرین نے گھر کی چابی پکڑی اور میرے ساتھ اپنے گھر کی طرف چل پڑی راستے میں ہماری کوئی بات نہ ھوئی بلکہ میں اس سے ایک قدم آگے ھی چل رھا تھا ۔۔ دروازے پر پہنچے تو انکے لکڑی کے دروازے کی سنگلی والی کنڈی اوپر کی طرف لگی ھوئی تھی اور تالا بھی دیسی لگا ھوا تھا جو چابی گھمانے سے کھلتا تھا گلی میں گُھپ اندھیرا تھا ۔۔۔ نسرین دروازے کے پاس پہنچ کر ایڑیاں اٹھا کر تالے میں چابی پھنسانے کی کوشش کررھی تھی مگر اسکا ھاتھ سہی طرح سے پہنچ نہیں رھا تھا ۔ میں الجھن میں کھڑا تھا اور اسے دیکھ کر مجھے غصہ چڑھی جارھا تھا ۔۔۔ آخر مجھ سے انتظار کرنا برداشت نہ ھوا اور میں آگے بڑھا اور نسرین کے پیچھے جاکر ھاتھ اوپر کر کے اس کے ہاتھ سےچابی پکڑ کر تالے میں ڈال دی نسرین یوں مجھے اپنے قریب دیکھ کر گبھرا کر پیچھے ہٹی تو اسکی ابھری گانڈ میرے ساتھ لگ گئی ۔۔ نسرین کی گانڈ کا لمس اپنی رانوں پر محسوس کرتے ھی ۔ میرے اندر عجیب سی. کیفیت پیدا ھوئی اور میں بھی ایک دم کانپ گیا ۔ نسرین کی گانڈ تھی ھی بڑی نرم ۔ نسرین جلدی سے آگے کو ہوئی اور میرے بازوں کے نیچے سے نکل کر میرے آگے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑی ھوگئی ۔ میں نے خود پر کنٹرول کرتے ھوے تالا کھولا اور نسرین کی طرف دیکھتے ھوے کہا۔۔ بندا کنڈی تے اپنے قد دے حساب نال لواوے۔۔ نسرین بولی ۔ ایڈا توں اونٹ رہندا نئی میں نے دروازہ کھولتے ھوے کہا ۔ اونٹ ہی ہوں تمہارے حساب سے اور ہم دونوں اندر داخل ھوگئے میں نے دروازہ بند کردیا اور نسرین کے پیچھے کمرے میں جانے لگ گیا ۔ نسرین کمرے کا تالا کھول کر اندر داخل ھوئی اور سامنے لگیے کڑی کے پھٹے پر سے کپڑا اٹھا کر نیچے ھاتھ مار مارکر کچھ تلاش کرنے لگ گئی ۔۔ میں نے جھنجھلا کر کہا اب ادھر کیا تلاش کررھی ھو ۔ تو نسرین نے غصے سے میری طرف دیکھتے ھوے کہا ۔ دو منٹ صبر نہیں ھوتا ۔ آتے ھی جلدی پڑ گئی ھے ۔ چابی تلاش کررھی ھوں ۔ میں نے کہا اب کونسی چابی ڈھونڈ رھی ھو ۔ تو نسرین سڑی بھلی بولی ۔ تیرے دماغ دی چابی ۔ میں نے ہنستے ھوے کہا ۔ تمہارے دماغ کو تو چابی کی ضرورت ھی نہیں گوبر کو کھول کر بدبو ھی آنی ھے ۔ نسرین میری بات سن کر پیر پٹخ کر رھ گئی اور بولی ۔ گلاں سنان وچ تے توں پورا مراثی ایں ۔۔ میں نے پھر چوٹ کی ۔ ہاں جی گوانڈیاں دا اثر اے ۔۔ نسرین میری طرف مکا لہر کر آئی اور میرے قریب آکر بولی بوتھی پن دیواں گی مُکی مار کے ۔۔۔ میں نے نسرین کی نازک کلائی پکڑی اور اسکا بازو مروڑ کر اسکی کمر کے ساتھ لگا دیا نسرین بولی ھائییییییییی چھڈ میری باں ٹُٹ جانی اے ۔۔ میں نے کہا بس نکل گئی پلوانی ۔ نسرین بولی یاسر چھوڑ دو میرا بازو قسم سے بہت درد ھورھی ھے ۔ میں نے کہا اب لڑو گی میرے ساتھ نسرین بولی ۔ نہیں لڑتی قسم سے چھوڑ دو آئییییییییی امی جی ییییییی۔ میں نے نسرین کا بازو چھوڑا تو نسرین جلدی سے اپنے بازو کو پکڑ کر دباتے ھوے مجھے گھورتے ھوے بولی ۔ ایک دفعہ گھر چلو میں خالہ کو بتاوں گی کہ تم نے میرا بازو مروڑا ھے ۔۔ میں نے کہا نہ پہلے پنگے لیا کرو ۔ نسرین بولی میں نے کیا کہا تھا ۔ میں نے بات ختم کرتے ھوے کہا چلو اب جلدی سے چابی لو اور بستر لو جونسے لینے ہیں میرے پاس تمہاری فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ھے ۔ نسرین بولی ھاں جی اب وقت کہاں ھوگا ۔ اب تم امیر جو ہوگئے ھو اب تو ٹائم لے کر تم سےبات کرنا پڑے گی ۔۔ میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتےھوے کہا ۔ اوووہو یار ایسی بات نہیں ھے میں سارے دن کا تھکا ہوا ھوں نیند آرھی ھے اس وجہ سے کہہ رھا ھو ۔۔ نسرین پھر پھٹے پر چابی تلاش کرنے لگ گئی میں آگے بڑھا اور کپڑا اٹھا کر چابی دیکھنے لگ گیا اور پھر نسرین کو ھی چابی مل گئی اور ۔ بولی چلو دوسرے کمرے میں پیٹی سے کھیس اور چادر نکالنی ھے ۔ میں نے کہا چلو جی ۔ نسرین نے ہلکے رنگ کا سوٹ پہنا ھوا تھا اور شفون کا باریک دوپٹہ لیا ھوا تھا ۔ نسرین میرے آگے چلتے ھوے کمرے سے نکلی تو میری نظر نسرین کی گول مٹول باہر کو نکلی گانڈ پر پڑی جو اسکے تیز تیز چلنے کی وجہ سے تھرتھراتے ھوے اوپر نیچے ھو رھی تھی اور اسکی گانڈ کی پھاڑیاں اوپر نیچے ھوتے وقت اسکی قمیض کو بھی ساتھ ھی اوپر نیچے کررہیں تھی ۔ میں اسکی گانڈ کو تاڑتا ھو اسکے پیچھے صحن میں نکلا ۔ نسرین کی سیکسی گانڈ اور 38 سائز کے ممے جو اسکی قمیض کو پھاڑ کر باہر نکلنے کے لیے بےتاب تھے ۔ دوسالوں میں نسرین کا جسم کافی سیکسی بن چکا تھا پہلے تو اسکے ممے چونتیس کے تھے ۔ مگر اب تو اسکی جوانی پاٹنے کو آئی ھوئی تھی ۔ ایک اسکی جوانی کے نظارے اوپر سے یہ سالی خلوت ۔ انسان پر سب سے کامیاب حملہ شیطان خلوت میں کرتا ھے ۔ چاہے انسان کسی بھی حالت میں ھو ۔ اور میرے دماغ پر نسرین کی جوانی سوار ھونے لگ گئی اور پھر شیطان نے میرے دماغ میں اس رات کا سین لے آیا جب غلطی سے میں نے نسرین کے ممے پکڑ لیے تھے اور پھر اسکو پھسلانے کے لیے چال بھی چلی تھی جو میری مصروفیت اور موقعہ نہ ملنے کی وجہ سے ادھوری رھ گئی تھی. ۔ خیر میں نسرین کے پیچھے چلتا ھوا دوسرے کمرے کی طرف چل دیا کمرے کے دروازے پر پہنچ کر نسرین نے تالا کھولا اور اندر داخل ھوکر لائٹ جلائی اور پھر پیٹیوں کی جانب جانے لگی میرا تو حلق خشک ھورھا تھا اور میں اندر سے گبھرا بھی رھا تھا اور شیطان مجھے نسرین سے بات کرنے پر اکسا رھا تھا ۔ میں بار بار اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رھا تھا ۔ نسرین میرے ارادوں سے بے خبر اپنے دھیان پیٹی کھول کر اس میں سے کھیس تلاش کررھی تھی ۔ میں نے حوصلہ کیا اور نسرین کے پیچھے پہنچ کر کھڑا ھوگیا اور پیٹی کے ڈھکن کو پکڑ لیا نسرین میرے آگے کھڑی پیٹی میں جھکی ھوئی تھی اور اس نے ایک ھاتھ سے پیٹی کا ڈھکن پکڑا ھوا تھا اور پیٹی میں ہلکا سا جھک کر ہاتھ نیچے لیجا کر کھیس تلاش کررھی تھی ۔ میں نے جب پیٹی کے ڈھکن کو پکڑا تو نسرین ایکدم چونکی اور گردن گھما کر میری طرف دیکھا ۔ تو میں نے کہا تم آرام سے دیکھ لو میں ڈھکن کو پکڑ کر رکھتا ہوں ۔ نسرین بنا کچھ بولے ڈھکن کو چھوڑ کر پیٹی میں جھکی تو اسکی گانڈ مذید باہر کو آگئی ۔ میں نسرین کی سیکسی گانڈ کو دیکھ کر پاگل ھوا جارھا تھا ۔ اور وہ بھی اتنے قریب سے میرالن ٹراوز میں پورا تن کر ٹراوزر کو تمبو بناے نسرین کی گانڈ کو چھونے کے لیے بے چین تھا ۔ میں آگے کو ھونے سے ڈر رھا تھا ۔ کہ اچانک نسرین کھیس اٹھا کر پیچھے ھوئی تو اسکی گانڈ میرے لن کے ساتھ ٹکرائی اور اسکی گانڈ کی دراڑ میں میرے لن کا ابھار گھس گیا نسرین کے جسم کو ایک دم جھٹکا لگا اور وہ جلدی سے آگے کو ھوگئی ۔ نسرین نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ اسکی گانڈ کے ساتھ کیا چیز ٹکرائی ھے ۔ اب اسے پتہ چلا تھا یا نہیں ۔ I don't know مگر اسکی گانڈ کا لمس مجھے پاگل کرگیا تھا ۔ اگر مجھے ڈر نہ ھوتا تو میں نے ابھی ڈھکن چھوڑ کر نسرین کی شلوار اتارکر لن اسکی گانڈ میں اتار دینا تھا ۔ مگر مجبوری تھی کہ میں اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا تھا۔ اور ذبردستی کرنا ویسے بھی میرے کاغذوں میں نہیں لکھا تھا۔ اپنا تو زندگی کا ایک ھی اصول تھا کہ ۔راہ جاتی چھوکری کو چھیڑنا نہیں اور جو چھوکری اپن کو چھیڑے اسکو چودے بغیر چھوڑنا نہیں ۔۔۔ میں نے اپنے آپ پر کنٹرول کرتے ھوے لرزتی آواز میں نسرین سے پوچھا کہ مل گیا کھیس تو نسرین نے کھیس مجھے پکڑاتے ھوے کہا بس ایک چادر لینی ھے ۔ میں نے کھیس پکڑ کر اپنی بغل میں لے لیا اور نسرین کو کہا جلدی کرو یار دیر ھورھی ھے ۔ نسرین بولی پیٹی میں اندھیرا ھے بس دومنٹ ۔۔ اور نسرین پھر پیٹی میں جھک کر چادر ڈھونڈنے لگ گئی ۔ میں نے کہا لگتا ھے تمہیں اٹھا کر پیٹی کے اندرپھینکنا پڑے گا پھر چادر جلدی مل جاے گی ۔۔ نسرین ہنستے ھوے بولی ۔ تمیزز نال ۔ اتنی جرات ھے کہ مجھے اٹھا کر پیٹی میں پھینک دو میں نے کہا۔ کچھ دیر پہلے کی چیخیں بھول گئی ھو ۔۔ نسرین بولی بس بس آیا وڈا ٹارزن ۔ میں نے موضوع بد لتے ھوے پھر سے نسرین پر ٹرائی مارنے کا سوچا اوربولا ۔ نسرین ایک بات پوچھوں نسرین پیٹی سے چادر باہر کھینچتے ھوے پھر میرے لن کے ساتھ گانڈ لگا کر پھر جلدی سے آگے کو ھوکر گھوم کر میری طرف منہ کرکے بولی ۔ ھاں بولو ۔۔ میں نے پیٹی کا ڈھکن واپس رکھتے ھوے بولا ۔ یار وہ جو میرا دوست تھا اسد جس کے ساتھ عظمی کا چکر تھا وہ دوبارا تو نہیں ملا تم دونوں کو ۔۔۔ نسرین ایکدم چونکی اور چادر کو تہہہ کرتے ھوے سر نیچے کیے بولی ۔ ننننہیں مگر تم کیوں پوچھ رھے ھو ۔ میں نے کہا یاد ھے نہ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ اس دن باغ میں جو میں نے دیکھا تھا وہ ۔۔۔۔۔۔۔ نسرین بولی ۔تم نے کون سا پوری بات بتائی تھی ۔۔ میں نے کہا یار میں ڈر گیا تھا کہ کہیں تم آنٹی یا انکل سے بات نہ کردو اس وجہ سے میں نے ساری بات نہیں بتائی تھی ۔۔ تو نسرین بولی میں پاگل ھوں جو یہ بات ابو یا امی سے کرتی میں نے چھتر کھانے ہیں ۔۔۔ میں نے کہا پکا کہ تم کسی سے بات نہیں کرو گی ۔۔ نسرین بولی میں زبان کی پکی ھوں ایک دفعہ کہہ دیا نہ ۔۔۔۔ میں نے کہا بیٹھو پھر آج تمہیں ساری حقیقت بتاتا ھوں ۔ یہ کہتے ھوے میں نے نسرین کو بازوں سے پکڑا اور چارپائی پر بٹھا دیا اور خود اسکے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔ نسرین میری طرف دیکھتے ھوے بولی ۔ بولو بھی اب کہ کوئی ہمارے پیچھے ادھر آگیا تب بتاو گے ۔ میں گلہ کھنگارہ اور نسرین کا نرم نازک ھاتھ پکڑا اور ۔۔۔۔۔۔
  6. 1 like
    قسط نمبر ۵ گرو جی ابھی تو کہانی کی ابتدا ہے۔ابھی تو سکندر سیکھنے کے مراحل میں ہے۔لڑکیوں بہت اور ایک سے بڑھ کر ایک ملیں گی۔ یہ گارنٹی ہے جناب۔ جناب مزید انتظار ترک کیجیے اور انجوائے کیجیے۔
  7. 1 like
  8. 1 like
  9. 1 like
  10. 1 like
  11. 1 like
  12. 1 like
  13. 1 like
  14. 1 like
  15. 1 like
  16. 1 like
  17. 1 like
    تقریبا ہر مرد عورت اور جنس کے حوالے سے ہوس پرست ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ روز نئی نئی عورتوں سے جنسی فعل کرے مرد کی ہوس کبھی بھی ختم نہیں ہوتی چاہے اس کے پاس سو حسین اور نوجوان لڑکیاں کیوں نا ہوں لیکن عورت اس معاملے میں باذوق ہے ہوس پرست نہیں عورت کے عام طور پر دو چار یار ہی ہوتے ہیں جن سے ہی وہ اپنی رومانی اور جنسی تسکین کر لیتی ہے کوئی عورت کتنی بھی چالو اور آوارہ کیوں نا ہو اس کے دس بارہ سے زیادہ یار نہیں ہوتے چاہے وہ ہمارے ہاں کی عورت ہو یا یورپ اور امریکہ کی ہاں یہ ہوتا ہے کہ کسی عورت کا کوئی یار اس سے دور ہو جاۓ یا اس کے دل سے اتر جاۓ تو اس کی جگہ کوئی دوسرا مرد لے لیتا ہے لیکن مرد کو اگر دولت اور اختیار مل جاۓ تو وہ حرم آباد کر لیتا ہے برصغیر کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے جب یہاں کے بادشاہوں اور نوابوں نے حرم کے حرم آباد کرے. ان کے حرم میں کئی کئی سو کنیزیں تھیں پھر بھی اس کی ہوس پوری نہیں ہوتی تھی اور وہ نئی نئی کنیزوں کو اپنے حرم میں دخل کرتے رہتے تھے جب کہ عورت نے آج تک ایسا نہیں کیا عورت کا جسم فروشی کرنا ایک بلکل الگ چیز ہے. کال گرلز اور طوائفیں صرف اور صرف پیسے کے لیے بے شمار مردوں سے جنسی فعل کرتیں ہیں. اس میں ان کی جنسی خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوتا صرف پیسے کا حصول ہی ان کا مقصد ہوتا ہے
  18. 1 like
  19. 1 like
  20. 1 like
    !!!!!!!!!!!!!!!! جاری ÛÛ’ !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
  21. 1 like
  22. 1 like
    !!!!!!!!!!!!!!!! جاری ÛÛ’ !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
  23. 1 like
  24. 1 like
  25. 1 like


×