Jump to content
URDU FUN CLUB

Javaidbond

Writers
  • Content Count

    59
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    8

Javaidbond last won the day on July 30

Javaidbond had the most liked content!

Community Reputation

144

2 Followers

About Javaidbond

  • Rank
    جاوید بانڈ

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. السلام علیکم!۔ سب دوست کیسے ہیں۔ امید ہیں کہ ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔۔۔ دوستو میرے انتہائی قریبی رشتہ داروں میں ایک حادثاتی موت ہو گئی جس کی وجہ سے مجھے پاکستان آنا پڑا۔۔۔ صرف اتنا کہوں گا اچانک حادثے کی اطلاع ملی تو سب کچھ چھوڑ کر ایک دم سے ٹکٹ کروائی اور چھ گھنٹوں میں پاکستان پہنچ گیا۔۔۔ اس کے بعد کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔۔ اتنے دن سے میں انٹرنیٹ سے بلکل دور ہوں۔۔۔یہ تو آج ایک دوست نے یہاں سے کنمٹس کا اسکرین شاٹ لیکر مجھے بھیجا تو میں تھوڑا ٹائم نکال کر آ گیا۔۔۔ ایک تو سوگواری کا ماحول اوپر سے کچھ طبیعت کی گرانی۔۔۔۔بہرحال 30 اگست کو میری واپسی ہے اس کے بعد ہی کچھ لکھ پاؤں گا۔۔۔اور بتا کر نہ جانے کی معذرت۔۔۔
  2. دوستو یہاں پہ اپڈیٹ ختم ہوتی ہے۔۔۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اپنی غیر حاضری کا حرجانہ میں ایک لمبی اپڈیٹ کی شکل میں دے چکا ہوں۔ اب آپ لوگوں کے کمنٹس کا انتظار رہے گا۔۔۔ فلحال اگلی اپڈیٹ کی کوئی تاریخ نہیں دے سکتا۔۔۔بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جیسے ہی ممکن ہوا اپڈیٹ دے دوں گا۔ شکریہ۔
  3. یہ بندے اس نے کراچی سے ہی آپ کے پیچھے لگائے تھے جو دن رات آپ کی ریکی کر رہے تھے اور کل رات موقع مناسب جان کر انہوں نے حملہ کر دیا۔۔۔مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میرے اک برسوں پرانے ساتھی نے دغا کی اور میں اسے پہچان ہی نہیں پایا۔۔۔ساری بات بتا کر حنیف نے غمزدہ انداز میں اپنا سر جھکا لیا۔ ************************ (74) میں نے پوچھا اب سردار علی کہاں ہے تو اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے کہا کہ اسے میں کل رات ہی میں نہر میں ڈال چکا ہوں۔۔۔چونکہ پانی کا بہاؤ تیز تھا تو پتہ نہیں کہاں تک پہنچ چکا ہو گا۔۔۔کل اس سے ساری معلومات لینے کے بعد میں نے دو گولیاں اس کی کھوپڑی میں اتاریں اور فوراً آپ کی مدد کو پہنچا۔۔۔کیونکہ اس کے مطابق اس کے ساتھی آپ کے گھر پر حملہ کر چکے ہوں گے اور قدرت کی کرنی دیکھیے کہ میں عین وقت پر پہنچ گیا۔ میں اٹھا اور حنیف خان کو کندھوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا!!!حنیف تم نے جو کیا سہی کیا اور میں اس پر تمہارا شکر گزار ہوں۔۔۔آج سے تم میرے لیے کام کرنے والے تنخواہ دار نہیں بلکہ دوست اور بھائی کی حیثیت سے رہو گے۔۔۔کچھ دیر اسی طرح کی باتوں میں گزر گئی پھر ہم دونوں نے اسے آج حویلی میں ہونے والی بات چیت سے مطلع کیا تو وہ بھی پرجوش ہو گیا۔۔۔سر اس طرح تو ہمیں اور کھل کھیلنے کا موقع ملے گا ہم ان کے اندر رہ کر ہی ان کی جڑیں کاٹیں گے۔۔۔میں نے حنیف کو بولا بس تم اپنی آنکھیں کھلی رکھنا اور چوکس رہنا کسی بھی وقت تمہاری ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پھر میں اور نادر وہاں سے نکل کر گھر پہنچ گئے۔۔۔اگلے چار پانچ دن آرام میں گزر گئے۔۔۔پولیس والے دوبارہ ایک دفعہ آئے اور ہمارے بیانات لینے کے بعد کھانا کھا کر اور نظرانہ لیکر چلے گئے۔۔۔نادر اب روٹین سے حویلی جا رہا تھا۔۔۔چار پانچ دن میں میرا زخم بھی بھر چکا تھا تو پھر ایک دن نادر مجھے بھی حویلی لے گیا۔۔۔ایک بات بتاتا چلوں شمسہ کو بڑی مشکل سے رام کیا تھا وہ نہیں مان رہی تھی کہ میں بھی حویلی والوں کی ملازمت کروں۔۔۔لیکن یہ تو مجھے کرنا تھا کیونکہ میرے سامنے ایک مقصد تھا۔۔۔شمسہ کو جب یہ کہانی سنائی کہ حویلی والوں کے اثرورسوخ کی وجہ سے دوبارہ کبھی کوئی واردات نہیں ہو گی تو شمسہ نیم راضی ہو گئی۔ حویلی میں میرا پہلا دن تھا۔۔۔مجھے ایک کرولا کار دی گئی۔۔۔ٹیسٹ ڈرائیو کے بعد میں اسی اچھی طرح چیک کر چکا تھا۔۔۔تھوڑی دیر بعد مجھے اندر سے ایک ملازمہ نے بتایا کہ چھوٹی بی بی کو لاہور کسی کام سے جانا ہے تو میں تیار رہوں۔۔۔میں گاڑی کے پاس ہی موجود تھا کہ اندر سے شبینہ سیال آتی دکھائی دی۔۔۔جیسے کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ جمیل کے چہرے پر مردانہ وجاہت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔اس لیے شبینہ نے مجھے دیکھا تو جیسے ایک لمحے کیلئے اس کی نگاہیں مجھ سے چپک سی گئیں۔۔۔پھر اس نے اپنی نگاہیں بدلیں اور چپ چاپ آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔اسی وقت دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔۔۔میں جو گاڑی میں بیٹھ رہا تھا مڑ کر دیکھا تو اتنے عرصے بعد چھیمو کو اپنے سامنے پایا۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی اور گاڑی کا دروازہ کھول کر شبینہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔میں نے چپ چاپ گاڑی سٹارٹ کی اور حویلی سے باہر نکل آیا۔۔۔تقریباً دس منٹ بعد ہم لوگوں گاؤں سے نکل رہے تھے جب شبینہ کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ گاڑی ماڈل ٹاؤن لے چلو۔۔۔میں سیدھا گاڑی بھگاتا ہوا ماڈل ٹاؤن کی طرف چل پڑا۔۔۔ماڈل ٹاؤن میں ایک کوٹھی کے آگے شبینہ نے گاڑی رکوائی اور اتر کے چھیمو کو ساتھ لیکر کوٹھی میں داخل ہو گئی جبکہ میں نے وہیں ہلکا سا نیم دراز ہو کر سگریٹ سلگائی اور سوچنے لگا کہ یہ شبینہ کی کایا کیسے پلٹ گئی یہ تو انتہائی نک چڑھی اور مغرور لڑکی ہے پھر چھیمو جیسی ملازمہ کے ساتھ ایسے آنا وہ بھی دونوں ایک ہی سِیٹ پر بیٹھ جائیں۔بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔چھیمو کا خیال آتے ہی سوچوں کا رخ خود بخود چھیمو کے ساتھ گزرے وقت کی طرف ہو گیا اور اس کو سوچتے ہی میرا لن آہستہ سے سر اٹھانے لگا۔ ************************* (75) چھیمو پہلے کی نسبت تھوڑی صحت مند ہو چکی تھی اور اس کے جسم کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوا تھا۔۔۔اس کے ساتھ بیتا ہوا وقت یاد آ گیا کہ کیسے میں نے چھیمو اور راجی کی ایک ساتھ مل کر پھدی ماری تھی۔۔۔میں ابھی ان سوچوں میں ہی گم تھا کہ مجھے گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔میں چونک کر سیدھا ہوا دیکھا تو وہ چھیمو تھی۔۔۔میں بیک مرر میں اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ میری طرف دیکھ کر بولی چھوٹی بی بی کو یہاں ابھی دو گھنٹے لگیں گے ہمیں ایک اور کم جانا ہے اچھرہ۔ تم گاڑی گھماؤ اور اچھرہ کی طرف چلو وہاں ہمیں چھوٹی بی بی کے کچھ کپڑے درزن سے اٹھانے ہیں۔۔۔راستے میں میرا بہت دل کیا کہ میں اس سے کوئی بات کروں لیکن فلحال میں اپنے کمال ہونے کا راز کھولنا نہیں چاہتا تھا اس لیے چپ رہا۔۔۔اچھرہ سے ابھی واپس نکلے ہی تھے کہ راستے میں وہ بولی۔۔۔شاید تم مجھے اعتماد کے قابل نہیں سمجھتے جو اب تک خاموش ہو۔۔۔اسٹیرنگ سے میرے ہاتھ ہلکے سے ڈگمگائے اور گاڑی تھوڑا لہرا گئی لیکن میں نے مہارت سے گاڑی کو قابو کیا اور بولا یہ تم کیا کہہ رہی ہو میں سمجھ نہیں پایا تو وہ بولی اب بس کرو کمال۔۔۔اور کتنا چھپاؤ گے کتنے جھوٹ بولو گے۔۔۔مانا کہ بہت سارے مردوں نے مجھے اپنے نیچے لٹایا ہے مگر عورت اسے کبھی نہیں بھولتی جس کے نیچے وہ اپنی مرضی سے لیٹتی ہے۔۔۔کیونکہ وہ اسے اپنا مرد سمجھتی ہے اور اپنا مرد کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ اور تم نے مجھ جیسی رانڈ کی خاطر جو کیا وہ میں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔پھر تمہارے ساتھ جو ہوا جیسے ہوا اک اک لمحے کی خبر ہے مجھے۔۔۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی اور اسے اگلی سِیٹ پر آنے کو کہا۔۔۔وہ چپ چاپ اتر کر میرے ساتھ والی سِیٹ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور نسبتاً ایک سنسان جگہ پر درختوں کے جھنڈ میں روک لی۔۔۔چھیمو کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں کمال ہوں۔۔۔وہ بولی گاؤں میں جو چار لوگ تمہارے زندہ ہونے کے بارے میں جانتے تھے میں ان میں سے ایک ہوں اتنا تو تمہیں پتہ ہی ہو گا پھر چھیمو بولی یاد ہے تم نے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ جمیل کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ مر چکا ہے مجھے یہ بات بینا نے بتائی تھی کیونکہ وہ میری پیاری سہیلی تھی اور نادر کی تمہارے ساتھ یاری بھی مجھ سے چھپی نہیں تھی۔۔۔اس لیے جب جمیل کو زندہ جاوید اپنے سامنے دیکھا تو اسی وقت مجھے شک ہوا۔۔۔چند دن پہلے باتوں ہی باتوں میں نارمل انداز میں تمہاری اس چھیمو نے ہی نادر کو یہ خبر دی تھی کہ حویلی میں کوئی بڑی میٹنگ ہونے والی ہے۔ پھر راجو کے بعد صفدر سیال کی بھی گانڈ میں گولیاں لگیں اور یہ قدر مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی۔۔۔لیکن مجھے پکا یقین اس دن ہوا جب میں نے تمہیں دوپہر کے وقت اپنے تباہ شدہ گھر میں گھٹنوں کے بل بیٹھے روتے دیکھا۔۔۔میں بہت للچائی کہ بھاگ کر تمہارے پاس آ جاؤں اور تمہیں اپنی آغوش میں سمیٹ لوں پر میں نہیں کر پائی کیونکہ تم تم نہیں جمیل بن چکے ہو کیسے میں نہیں جانتی۔۔۔دنیا بہت بڑی ہے ہو سکتا ہے تم نے کوئی چکر چلایا ہو لیکن تم کمال ہو میرے کمال ہو وہ جزباتی لہجے میں بولتی گئی۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ پر رکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اس نے رخ موڑ کر میری طرف دیکھا تو اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔۔۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ہاں چھیمو میری جان میں کمال ہی ہوں۔۔۔وہ چیخ مار کر مجھ سے لپٹ گئی اور دیوانہ وار میرے چہرے کو چومنے لگی۔۔۔کمال۔کمال ہائے تم پھر سے مل گئے تو میرا سیروں خون بڑھ گیا۔میں نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا چھیمو یہ جگہ مناسب نہیں ہم پھر ملیں گے۔۔۔کسی اور جگہ پر بیٹھ کر بات کریں گے تسلی سے بات کریں گے۔ اس نے اپنے آنسو پونچھ لیے اچھی طرح چہرہ صاف کرنے کے بعد وہ نارمل ہو گئی تو میں نے گاڑی جھنڈ سے باہر نکالی اور روڈ پہ آگے بڑھا دی۔۔۔چھیمو یہ راز اپنے تک ہی رکھنا کہ میں کمال ہوں۔۔۔اور جمیل کیسے بنا۔۔چھیمو میری بات کاٹ کر بولی مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم جمیل کیوں اور کیسے بنے بس تم مجھے مل گئے اتنا کافی ہے اور رہ گئی بات کسی کو نہ بتانے والی تو کمال راجی کو یہ بات لازماً بتانا پڑے گی کیونکہ وہ تمہارے لیے وہ کام کر سکتی ہے جو شاید میں بھی نہ کر پاؤں۔۔۔میں نے پوچھا کہ وہ ایسا خاص کیا کر سکتی ہے جو اسے میرے بارے بتانا ضروری ہے تو چھیمو بولی کہ ابھی نہیں یہ بتاؤ دوبارہ کب اور کہاں ملو گے تب ساری بات تفصیل سے بتاؤں گی تو میں نے اسے رات آٹھ بجے میرے پرانے گھر پر ملنے کو کہا تو وہ بولی بس ٹھیک ہے رات کو میں ٹائم پہ گھر پر ملوں گی اور ساری تفصیل بتاؤں گی۔۔۔میں بھی چپ کر گیا کیوں کہ ہم لوگ ماڈل ٹاؤن پہنچ چکے تھے۔۔۔کوٹھی پہنچنے سے پہلے ہی میں نے گاڑی روک کر چھیمو کو احتیاطاً پچھلی سیٹ پر جانے کو کہا اور یہ چیز تھی بھی سہی آخر کو میں ڈرائیور جو تھا۔ ************************ (76) تھوڑی دیر بعد ہم تینوں واپس حویلی کی طرف جا رہے تھے۔۔۔راستے میں کسی نے کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے ہم لوگ حویلی پہنچ گئے۔۔۔باقی کا سارا دن ایسے ہی گزر گیا شام کو ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد میں وہاں سے اکیلے ہی نکل آیا کیونکہ نادر کسی کام سے نور سیال کے ساتھ گوجرانولہ گیا ہوا تھا۔۔۔گھر پہنچا تو شمسہ ماسی کے ساتھ گپیں لڑا رہی تھی۔۔۔مجھے دیکھ کر ماسی نے اجازت چاہی اور اٹھ کر چلی گئی۔۔۔شمسہ میرے لیے شام کے کھانے کے تیاری میں جت گئی۔۔۔میں نے اسے بتایا کہ نادر گوجرانولہ گیا ہوا ہے اور لیٹ آئے گا ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ مجھے کسی کام سے رات کو لاہور جانا ہے تو وہ ساتھ والی ماسی کے گھر چلی جائے۔ میرے جانے کی بات سن کر شمسہ نے شاکی نظروں سے مجھے دیکھا تو میں نے کہا میری جان بس چند گھنٹوں کا کام ہے پھر میں واپس آ جاؤں گا شاید صبح سے پہلے ہی آ جاؤں۔۔۔اس نے ذیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی اور چپ چاپ کھانا تیار کرنے لگی۔۔۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کیں اور میں شمسہ کو پیار سے بہلاتا پھسلاتا رہا پھر ٹائم دیکھا تو آٹھ بجنے والے تھے۔۔۔میں شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر خود گھر سے نکلا اور چکراتا ہوا نظریں بچا کر اپنے پرانے گھر میں گھس گیا۔۔۔میرا کمرہ ابھی تک سہی سلامت تھا۔۔۔توڑ پھوڑ تو یہاں بھی بہت ہوئی تھی لیکن ایک سائیڈ پر ہونے کیوجہ سے جلنے سے بچ گیا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی در و بام نے مجھے اپنی فیملی کی یاد دلا دی اور میں بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ کمرے کی اچھی طرح صفائی کی ہوئی ہے۔۔۔میرے دل میں پہلا خیال ہی چھیمو کا آیا۔۔۔ہو نہ ہو وہی آ کر صفائی ستھرائی کر گئی ہو جو کہ بعد میں چھیمو کے آنے پر ثابت بھی ہو گیا کہ کچھ دیر پہلے ہی وہ صفائی ستھرائی کر گئی تھی۔۔۔میرا بیڈ صحیح سلامت تھا چادریں میلی لیکن گرد سے پاک تھیں۔۔۔میں سیگریٹ سلگا کر لیٹ گیا اور چھیمو کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی دروازے پہ آہٹ ہوئی تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا چھیمو دروازہ کھول کر اندر داخل ہو رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی تیزی سے وہ میری طرف بڑھی اور گلے کا ہار بن گئی۔۔۔اس کے گداز مموں کا لمس اپنی چھاتی پہ محسوس کرتے ہی میرا لن ہوش پکڑتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے درمیان ہی اکڑنے لگا۔۔۔اس اکڑاہٹ کو چھیمو نے بھی محسوس کر لیا۔۔۔میرے لن کو محسوس کرتے ہی چھیمو نے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور ساتھ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر دیوانہ وار انہیں چوسنے لگی۔۔۔چند لمحوں کی کسنگ کے بعد چھیمو اکڑوں زمین پر بیٹھ گئی اور میری شلوار اتار کر لن اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔وہ بڑے پیار سے میرے لن کو سہلاتے ہوئے بولی ہائے میں تو ترس گئی تھی اپنے اس شہزادے لن کو دیکھنے،چھونے،محسوس کرنے اور چوسنے کیلئے۔ پھر اس نے اپنی زبان نکال کر میرے لن کی ٹوپی پر اچھی طرح سے چاٹ لیا اور ٹوپی کو منہ میں لیکر لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔۔۔چوستے چوستے جیسے اس نے غوطہ مارا اور میرے لن کو پورا اپنے منہ میں غائب کر لیا اس انداز سے میرے لن کی ٹوپی اس کے حلق میں پہنچ گئی جہاں اس نے اپنے حلق کو دباتے ہوئے میری ٹوپی کو گھونٹ مارا تو میں مزے سے ایک جھٹکا کھا گیا۔۔۔ساری احتیاط بالائے طاق رکھ کر میں نے اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑتے ہوئے تیزی سے اس کے حلق کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے منہ سے غاں غاں کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ مگر میں ہر چیز سے بے نیاز اس کے حلق کو چودتا گیا۔۔۔یہاں تک کہ چھیمو کی حالت بری ہو گئی۔۔۔اس نے ایک جھٹکے سے اپنا منہ پیچھے کیا اور کھانستی ہوئی دہری ہو گئی۔۔۔تب مجھے ہوش آئی اور لگا کہ میں نے اس کے ساتھ ذیادتی کی ہے۔۔۔لیکن میں کچھ بولا نہیں چند لمحوں کے بعد جب چھیمو نارمل ہوئی تو میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔یہ چیز میرے شہزادے"ساتھ ہی اس نے اٹھ کر میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور ایک زبردست چوپہ لگانے کے بعد اٹھ کر اپنے کپڑے اتار دیے۔ ساتھ ہی اس نے مجھے لٹاتے ہوئے میری ٹانگوں پر دوزانو بیٹھ کر میری لن کی ٹوپی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی پھدی کا نشانہ لیا اور غڑاپ سے اس کے اوپر بیٹھ گئی۔۔۔میرا پورا لن ایک جھٹکے سے چھیمو کی پھدی میں غائب ہو گیا اور اس کے منہ سے ایک لمبی سسسییییییییییییییییی نکلی۔۔۔چھوٹتے ہی وہ تیزگام کی طرح اپنی گانڈ کو زور زور سے اچھالنے لگی۔۔۔اس کی ہر اچھال پر میرا لن جھٹکے سے اس کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہو رہا تھا۔ دو منٹ میں ہی وہ تھک گئی اور مجھ پر ڈھے سی گئی۔۔۔اب میں نے نیچے سے آہستہ آہستہ لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔وہ میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔شہزادے کیا اپنی چھیمو کا دودھ نہیں پیو گے۔۔۔دیکھو کیسے میرے نپلز تڑپ رہے ہیں۔۔ان مموں کا تو میں عاشق تھا۔۔۔میں نے چھیمو کو تھوڑا اوپر کھینچا تو اس کے بڑے بڑے ممے عین میرے منہ کے سامنے آ گئے۔۔۔آج بھی ان مموں کی اٹھان ویسے ہی برقرار تھی لگتا تھا کہ زمانے کے نرم و گرم "اتار چڑھاؤ" نے ان پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔۔۔میں نے اس کا ایک نپل منہ میں لیکر چوستے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اس کی گول مٹول اور خوب ابھری ہوئی گانڈ کو زور زور سے دبانے لگا۔۔۔میری اس حرکت نے جیسے چھیمو میں پھر جنون سا بھر دیا وہ ایک مرتبہ پھر اٹھی اور اپنے پاؤں کے بل بیٹھ کر میرے لن پر پوری جان سے جمپنگ کرنے لگی۔ ************************ (77) ہم دونوں کے جسم آپس میں ٹکرانے سے کمرے میں چھپ چھپ کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔۔۔چند سیکنڈز میں وہ پھر تھک گئی اس بار میں نے اسے اپنے اوپر سے اٹھاتے ہوئے سائیڈ پر کیا اور اٹھ کر اپنے پورے کپڑے اتار دیے۔۔۔پھر میں نے چھیمو کو لٹاتے ہوئے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور حقیقتاً اس کے گوڈے اسی کے مونڈھوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے پوری رفتار سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔اس کی گیلی پھدی میں میرا لن بنا رکاوٹ کھدائی کر رہا تھا۔۔۔اب چھیمو کی سسکاریاں پورے عروج پر تھیں اور اس کے منہ سے افففف۔۔میری جان کمال کررر رہے ہو۔۔۔کب سے میں ترس رہی تھی۔۔۔آہ ظالم۔۔اففف۔۔۔آہہہ۔آہہہ اور زور سے جیسی آوازیں نکل رہی تھیں۔ چند گھسوں کے بعد چھیمو کا جسم لرزہ اور وہ کانپتے ہوئے جھڑتی چلی گئی۔۔۔اس کے منی سی اس کی پھدی لبالب بھر چکی تھی اور مجھے لتھڑی ہوئی پھدی مارنے کا مزہ نہیں آتا تھا اس لیے میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا اور چھیمو کی سائڈ پر ہی لیٹ گیا۔۔۔چھیمو کو یوں سانس چڑھا ہوا تھا جیسے وہ میلوں دوڑتی ہوئی آئی ہو۔۔۔دو منٹ بعد جب اس کا سانس بحال ہوا تو وہ اٹھی اور میرے مرجھاتے ہوئے اسی کی منی سے لتھڑے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔میرا لن گرتے گرتے پھر سے جی اٹھا۔۔۔چند جاندار چوپوں کے بعد ہی میرا لن پھر سے پوری طرح اکڑ چکا تھا۔ میں نے اس کو کھینچ کر بیڈ کے کنارے کیا اور خود زمین پہ کھڑا ہو کر اسی گھوڑی سٹائل میں الٹا کیا اور خاص انداز میں اس کی ٹانگیں آپس میں جوڑ کر اس کے گھٹنے فولڈ کیے اور اس کو نیچے کی طرف دبا دیا۔۔۔اس کنڈیشن میں اس کے پاؤں اور اس کی گانڈ بیڈ سے باہر تھی۔۔۔میں نے اس کے تھوک سے لتھڑا ہوا لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر زوردار گھسہ مارا تو بھک کی آواز کے ساتھ میرا لن بڑی آسانی سے اس کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔چونکہ چھیمو کی پھدی اور گانڈ لگاتار متواتر بجتی رہی تھی اس لیے اس کی کھلی گانڈ میں میرا لن بنا کسی رکاوٹ کے جڑ تک اترتا چلا گیا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ ہلنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی گانڈ اندر سے آج بھی بہت ذیادہ گرم تھی۔ چونکہ بڑے مموں کے ساتھ ساتھ بڑی گانڈ بھی میری کمزوری تھی تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں ذیادہ دیر ٹھہر نہیں پاؤں گا اس لیے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کولہے تھامتے ہوئے ایک دم سپیڈ پکڑی اور تیزی سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔چھیمو کی گول مٹول گانڈ میری ناف کے ساتھ ٹکرا کر کمرے میں تھپ تھپ کی آوازیں پیدا کر رہی تھی۔۔۔اسی پوزیشن میں لگاتار فل سپیڈ میں دو منٹ تک گھسے مارتا رہا۔۔۔میرے گھسے اب آخری دموں پر تھے۔۔۔میرا فارغ ہونے کا ٹائم قریب ہی تھا۔۔۔چھیمو اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ کی میلی چادر کو جھکڑے۔۔۔سسکیاں بھرتی چلی جا رہی تھی۔۔۔آہ آہ افففف کی آوازوں کے ساتھ چھیمو کی گانڈ آگے پیچھے ہو رہی تھی نیچے سے وہ مسلسل اپنی پھدی میں دو انگلیاں اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔پھر یکدم اس نے ایک لمبی سسکاری بھری اور پانی چھوڑ دیا۔ میں نے بھی دو گھسے اور مارے اور اس کی گانڈ میں پورا لن گھسا کر منی کی پچکاریاں مارنے لگا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے بازوؤں میں لپٹے بیڈ پر پڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا!!! چھیمو دوپہر میں تم کچھ کہہ رہی تھیں کہ راجی میرے کسی کام آ سکتی ہے اس بات کے متعلق بتاؤ۔۔۔چھیمو بولی شہزادے سب سے پہلے تو یہ تیرا میرا چھوڑ دو اب ہمارا تمہارا دشمن سانجھا ہے اس لیے اب تیری میری نہیں ہماری بات کیا کرو۔ تمہارے چلے جانے کے بعد ایک دن کی بات ہے کہ میں اور راجی سیکس کیلئے بڑا خوار ہو رہی تھیں۔۔۔کیونکہ ہم حویلی میں ہی تھیں اور سیال زادوں میں سے کسی نے بھی ہمیں نہیں بلایا تھا پھر اوپر سے تم بھی غائب تھے تو ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ لگ گئیں۔۔۔یہ وہ کمرہ تھا جو خادماؤں کیلئے مخصوص تھا چونکہ اس وقت وہاں کوئی بھی نہیں تھا اس لیے ہم بے فکری سے ایک دوسرے کی تسکین پوری کر رہی تھیں۔۔۔راجی نیچے لیٹی ہوئی تھی جبکہ میں اس کے اوپر تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے کی پھدیاں چاٹ رہی تھیں تبھی ایک تیز کڑک سنائی دی۔ او کنجریو یہ کیا کر رہی ہو۔ ہم دونوں ہڑبڑا کر سیدھی ہوئیں اور دیکھا تو ہمارے ہوش رخصت ہو گئے کیونکہ۔ وہ۔ وہ۔ وہ۔
  4. سر جلدی سے اٹھیں اور آپ کی وائف کو میں اٹھا لیتا ہوں گھر میں کوئی اور بیڈ روم ہے تو اس میں فوری شفٹ ہو جائیں۔۔۔کیونکہ کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ گاؤں میں سنی گئی ہو گی لازمی کوئی نہ کوئی نکلے گا اس سے پہلے کہ لوگوں کو اس چیز کا ادراک ہو کہ گڑبڑ کہاں ہے ہمیں اس کمرے کو سیٹ کرنا ہو گا اور ان لاشوں کو غائب کرنا ہو گا۔ اتنا کہہ کر اس نے شمسہ کو اٹھایا۔میں آگے بڑھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر نادر کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مجھے تشویش ہوئی میں تیزی سے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ نادر بیڈ پر ہی آڑا ترچھا انٹا غفیل پڑا ہوا تھا اس کے سر پر ایک گھومڑ بھی موجود تھا لازماً گن سے اس کے سر پر ضرب لگائی گئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر نادر کو جھنجھوڑا تو میرے کاندھے میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگیں۔۔اسی وقت حنیف خان شمسہ کو اٹھائے اندر داخل ہوا اس نے شمسہ کو بیڈ پر لٹانے کے بعد ایک چادر اس پر ڈال کر نادر کو دیکھا اور بولا سر پریشانی کی کوئی بات نہیں نادر بھائی کو سر پر ضرب لگا کر بیہوش کیا گیا ہے اور میڈم تھوڑی دیر بعد خود بخود ہوش میں آ جائیں گی۔۔۔پھر اس نے نادر کی ناک کو چٹکی میں پکڑا اور اس کے منہ کو دباتے ہوئے اس کا سانس روک دیا چند ہی لمحوں میں نادر کے جسم میں حرکت محسوس ہوئی تو وہ اس کو جھنجھوڑنے لگا۔۔۔اس کے جھنجھوڑنے پر نادر کو ہوش آ گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔سانس رکنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا۔ نادر نے میری طرف دیکھا تو فوراً تشویش سے بولا کمالے کیا ہوا یہ خون؟ حنیف نے مختصراً اسے سارے حالات بتائے تو وہ فوراً اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا مجھے وہیں رہنے کی تاکید کرتے ہوئے وہ نیچے چلے گئے۔۔۔تقریباً پندرہ منٹ بعد نادر اوپر آیا تو اس کے ہاتھ میں اسپرٹ کی بوتل اور کاٹن پکڑی ہوئی تھی۔۔۔اس نے کپڑا ہٹا کر میرا زخم دیکھا تو اس کے منہ سے سیٹی سی نکل گئی۔۔۔کمالے یار!!! تیرے تو کاندھے کا بیڑہ غرق ہو گیا۔۔۔اس چمار کی اولاد نے استرا مار کر اچھا خاصا ٹک لگا دیا ہے۔ ************************ (70) خون بہنے کی وجہ سے میرا رنگ زرد ہو چکا تھا اور کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔۔۔بہرحال نادر نے میرا زخم اسپرٹ سے دھونے کے ساتھ ساتھ مجھے بتایا کہ حنیف اور نادر نے ملکر کمرے سے دو لاشیں غائب کر کے پیچھے سٹور روم میں ڈال دی ہیں۔۔اور حنیف خان بظاہر چلا گیا ہے۔۔۔ابھی سب لوگ باہر اکٹھے ہو رہے ہیں تو ہمیں اٹھ کر باہر نکلنا چاہیے اور کمرہِ واردات میں چلنا چاہیے۔ میرے زخم کو دھو کر نادر نے کاٹن رکھ کر پھر سے کپڑا باندھ دیا اور ہم دونوں اٹھ کر نیچے چل دیے۔۔۔نیچے اس استرے والے بدمعاش کی لاش موجود تھی ساتھ ہی کلاشنکوف بھی پڑی ہوئی تھی اور اس کا استرا لاش سے چند قدم کے فاصلے پر المارے کے ساتھ کھلی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔۔۔پیسے موجود نہ دیکھ کر میں نے نادر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پیسے ہٹا دیے ہیں۔ چند منٹوں بعد گاؤں کے چند لوگ گھر میں داخل ہوئے اور نادر ان کو سیدھا کمرے میں لے آیا۔۔۔کیونکہ رات کا وقت اور گاؤں کا ماحول تھا تو کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ صورِ اسرافیل کی طرح گونجی تھی اس لیے آس پاس کے لوگوں کو اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ کہاں فائرنگ ہوئی ہے اس لیے چند منٹ انہیں لگے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں اس کے بعد وہ ہمارے گھر پہنچ گئے۔۔۔نادر نے انہیں مختصراً حالات بتائے کہ یہ دو ڈاکو تھے اور جمیل یعنی مجھے لوٹنے کی غرض سے آئے تھے جمیل اوپر والے کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا مگر نادر کی آنکھ کھلنے پر اس نے ڈاکوؤں کو للکارا تو اسی وقت انہوں نے فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ میں نادر نے کلاشنکوف والے ڈاکو اپنے پستول سے مار گرایا جبکہ دوسرا ڈاکو نادر سے گتھم گتھا ہو گیا۔ اسی وقت شور سن کر جمیل بھی نیچے آیا اور نادر کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اس ڈاکو نے پتہ نہیں کہاں سے استرا نکالا اور گھما دیا جس سے جمیل کو زخم آیا اور وہ گر گیا۔۔۔نادر نے ٹانگ مار کر ڈاکو کو پرے دھکیلا تو وہ اٹھ کر فوراً بھاگ نکلا۔۔۔چونکہ جمیل کو زخم بھی آیا تھا اور شمسہ کی بھی فکر تھی اس لیے ہم ڈاکو کا پیچھا نہیں کر پائے۔۔۔لوگ ہم سے اظہارِ افسوس کرنے لگے اور ایک نے تو واضح کہا کہ چونکہ جمیل باہر کے ملک سے آیا ہے تو لازمی ڈاکو اس کی کمائی لوٹنے آئے ہوں گے۔نادر نے کسی کو ڈاکٹر امتیاز کی طرف بھیج دیا حالات بتا کر کہ وہ آتے ہوئے ضروری سامان لے آئے۔۔۔اسی وقت باہر کہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی۔۔۔تو سب لوگ ایک دم چوکنا ہو گئے میں نے نادر کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے آنکھ دبا کر اشارہ کیا میں کچھ کچھ سمجھ گیا۔ ابھی سب لوگ باہر نکل کر جائزہ لینے کی سوچ ہی رہے تھے کہ حنیف خان باہر سے اندر آیا اور کسانوں کی طرح پھولی ہوئی سانسوں میں بولا۔۔۔بھایا جی وہ باہر گلی میں بھی دو لاشیں پڑی ہیں۔سب لوگ باہر کی طرف بھاگے تو نادر نے مجھے آہستہ سے بتایا یہ سب طے شدہ ہے چونکہ ہمارے پاس تمہیں بتانے کا ٹائم نہیں تھا اور لاشیں غائب کرنے کا اس سے اچھا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سارا گاؤں جاگ چکا تھا کچھ ہی دیر میں امتیاز بھی اپنے بریف کیس کے ساتھ آ گیا۔۔۔گاؤں میں رہنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ گاؤں کے ڈاکٹر ہمیشہ اپنے پاس ایک اٹیچی نما بریف کیس رکھتے ہیں جس میں ایمرجنسی ضرورت کی اہم اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔امتیاز نے میرا زخم چیک کیا اور ٹانکے لگانے شروع کر دیے۔ میں نے نادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔نادر!!! بھائی اب اس مصیبت کا کیا کریں جو سامنے پڑی ہے یہ کہہ کر میں نے لاش کی طرف اشارہ کیا تو نادر چپ چاپ میری طرف دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔۔۔پھر جیسے اس کے دماغ میں کوئی اچھوتا خیال آیا ہو وہ بولا کرنا کیا ہے جمیل بھائی میں ابھی وڈے چوہدری صاحب کو اطلاع کرواتا ہوں ان کا بہت اثر و رسوخ ہے وہ اس معاملے کو اچھی طرح سے دیکھ لیں گے۔ ************************ (71) میں چپ ہی رہا کیونکہ نادر سارے حالات جانتے ہوئے بھی یہ کر رہا تھا تو اس میں کوئی تو خاص بات ہو گی۔۔۔نادر نے کسی ذریعے حویلی اطلاع کرواتا دی تھی۔۔۔تبھی آدھے گھنٹے بعد باہر دو گاڑیاں رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔آواز سن کر نادر باہر نکل گیا چند لمحوں بعد نور سیال اور وڈے چوہدری کا خاص ٹٹو شاہنواز اور نادر پولیس کے لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔۔ان کو دیکھتے ہی میرا خون کھول اٹھا پر حالات کا تقاضہ یہی تھا کہ میں فلحال وقت کی چال دیکھوں۔ نادر نے انہیں ساری کہانی بلا جھجک بتائی اور اس لاش کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے بتایا کہ کیسے اس نے ایک ڈاکو کو مار گرایا۔۔۔پھر لوگوں سے باہر والی لاشوں کا سنا تو سارے سپاہی لوگوں کے ساتھ باہر نکل گئے جبکہ نور سیال اور انسپکٹر میرے پاس کھڑے رہے۔۔۔نور سیال نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر تم جانتے ہو تمہیں کیا کرنا ہے بس اتنا یاد رکھنا کہ نادر چوہدری صاحب کا خاص آدمی ہے اس کو اس معاملے میں ذیادہ نہیں گھسیٹنا۔۔۔اب جاؤ باہر جا کر اپنی ضروری کاروائی کرو اور اس لاش اور ڈکیتوں کا اسلحہ کو بھی یہاں سے اٹھواؤ۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔۔۔جمیل باؤ تم بے فکر رہو تم نادر کے بھائی ہو تو مطلب اپنے خاص آدمی ہو۔۔۔کوئی تم لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا یہ میرا یعنی نور سیال کا وعدہ ہے تم سے۔۔۔پھر وہ نادر کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔نادر کل اپنے بھائی کو ساتھ لیکر حویلی آ جانا بیٹھیں گے کچھ بات چیت کریں گے۔ ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔اگلے ایک گھنٹے میں پولیس کے لوگ ہمارے بیانات لینے کے بعد لاشوں کو اٹھا کر جا چکے تھے۔۔۔گاؤں کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔تب حنیف خان اور نادر میرے سامنے بیٹھ گئے اور حنیف خان نے بتانا شروع کیا کہ کیسے اس نے لاشیں گھر کی پچھلی دیوار سے باہر گرائیں اور اٹھا کر گلی میں ڈال کر چند ہوائی فائر کر دیے اور اسی طرح لاشوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔۔۔اسی وقت اوپر سے کسی کے تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی تو نادر تیزی سے اٹھ کر باہر نکلا چند لمحوں بعد شمسہ کو لیے ہوئے اندر داخل ہوا۔ شمسہ کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا اور اس کے بھرپور اٹھان کے ممے اس کی سسکیوں کے سبب اوپر نیچے ہو رہے تھے شمسہ کمرے میں داخل ہوتے ہی تیر کی طرح میری طرف آئی جبکہ حنیف خان منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔نادر نے فوراً الماری سے چادر نکال کر شمسہ کو دی شمسہ نے چادر سے اپنا آپ کور کیا اور میرے پاس بیٹھ کر رونے لگی میں نے اور نادر نے ملکر اسے تسلی دی اور بتایا کہ وہ لوگ ڈاکو تھے ہمیں لوٹنے آئے تھے مگر خود لاشوں میں تبدیل ہو گئے۔۔۔اب سب ٹھیک ہے پولیس آ کر جا چکی ہے۔۔۔تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری باتیں سن کر شمسہ کی ڈھارس بندھی مگر میرے کاندھے پر بندھی ہوئی پٹی دیکھ کر اسے تشویش ہوئی تو میں نے فوراً اسے تسلی دی کہ صرف تھوڑی سی چوٹ لگی ہے باقی سب ٹھیک ہے۔۔۔مجھے تجسس تو تھا کہ حنیف خان سے سارے حالات جان لوں کہ وہ کیسے یہاں پہنچ گیا لیکن شمسہ بری طرح سے سہمی ہوئی تھی اس لیے میں حنیف خان کو کہ صبح ملاقات کا کہہ کے شمسہ کو لیکر دوسرے کمرے میں چلا آیا۔۔۔پھر کافی دیر تک شمسہ کو تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتا رہا اور آخرکار وہ سو ہی گئی۔۔۔میں نے رات کا بقیہ حصہ سوتے جاگتے نکال دیا۔ ************************* (72) اگلے دن صبح نادر نے ناشتے کے بعد ساری بات بتائی کہ کیوں اس نے اس معاملے میں سیالوں کی مدد لی ہے۔۔۔پہلی بات تو یہ کہ ہم اس وقت فلحال اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اکیلے اس مسئلے سے نجات حاصل کر سکتے۔۔۔اس لیے وڈے چوہدری کا پولیس میں اثر ورسوخ کام آیا اور ہم باآسانی اسے مسئلے سے نکل آئے۔ دوسری بات کمالے میں چاہتا ہوں کہ ہم لوگ اسی بہانے تھوڑا سیالوں کے نزدیک ہو جائیں اور ان کے اندر رہ کر سرنگ لگاتے ہوئے اپنا کام کریں۔۔۔ہم دونوں نہیں جانتے کہ سیال فیملی کہاں تک پھیلی ہوئی ہے اور ہمیں ان سے کیسے نبٹنا ہے۔۔۔تو اپنا کام آسان کرنے کیلئے ہمیں ان کے اندر گھس کر ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہیں سے ابتدا کرنی ہو گی اگر صرف سیالوں کو مار ڈالنا ہو تو وہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں آج ہی کرائے کے بندوں کا انتظام کرتے ہیں اور دو چار دن میں ان پر متواتر حملے کرنے شروع کر دیتے ہیں آخر کب تک جئیں گے مر ہی جائیں گے لیکن میرے بھائی کیا اس سے ہمارا بدلہ پورا ہو جائے گا نہیں کمالے نہیں۔۔۔ہم سیالوں کے اندر گھس کر انہیں ایسے نقصان پہنچائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی کسی سے پنگا لیتے وقت دس ہزار بار سوچیں۔۔۔اسی لیے تم سے بنا پوچھے میں اس معاملے میں سیالوں کو لے آیا۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا!!! نادر یار وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن ایک چیز مجھے تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے کہ یہ رات کو کنجر کے پتر ڈاکو کہاں سے آ گئے اور مانا کہ چلو آ ہی گئے تو وہ رقم لوٹنے کے بعد ہمیں مارنا کیوں چاہتے تھے اور عین وقت پر حنیف خان کہاں سے ٹپک پڑا۔۔۔نادر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا کہ یار توں ٹھنڈ رکھ سارے حالات میں جان گیا واں تے تینوں سب کچھ دس دیواں گا فلحال فٹافٹ نکل اور وڈی حویلی چل میرے نال۔۔۔میں نے کندھے اچکائے اور کپڑے بدل کر اس کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہو گیا۔۔۔میرے کاندھے کی سوجن اب رات کی نسبت کافی کم تھی۔۔۔ڈاکٹر امتیاز کی دی ہوئی دوائیں اور انجکشن اپنا اثر دکھا رہے تھے۔ شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر میں اور نادر باہر نکلے اور لوگوں سے ملتے ملاتے سیدھا وڈی حویلی پہنچ گئے۔۔۔حویلی میں داخل ہوتے وقت میرے دل میں کھد بد ہو رہی تھی پر میں سمجھتا تھا کہ مجھے اب ہوش سے کام لینا ہو گا۔۔۔حویلی کے مہمان خانے میں ہمیں بٹھایا گیا اور نادر اٹھ کر باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد نادر اندر داخل ہوا اور مجھے مخاطب کیا! چلو جمیل بھائی چوہدری صاحب ہمارے منتظر ہیں۔۔۔میں سمجھتا تھا کہ نادر مجھے جمیل کہہ کر کیوں بلا رہا ہے وجہ صرف یہی تھی کہ ہم دشمنوں کی کچھار میں موجود تھے۔۔۔ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر جا پہنچے۔۔۔نادر نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔میں بھی اس کی پیروی میں اندر داخل ہو گیا۔ یہ ایک شاندار کمرہ تھا اعلیٰ بیش قیمت فرنیچر کے ساتھ مزین۔۔۔بہترین صوفے، سامنے موجود ٹی وی اور وی سی آر دیکھ کر دماغ میں ایک مشعل سی جل اٹھی اور مجھے چھیمو کی داستان یاد آ گئی۔۔۔یہی وہ کمرہ تھا جہاں چوہدری نے چھیمو اور راجی کی پھدی ماری تھی۔۔۔میں دل ہی دل میں بولا۔۔۔چوہدری کب تک آخر میرے ہاتھ سے بچے گا۔۔۔ایک دن تو آئے گا ناں جب تو میرے سامنے زمین پر پڑا کتوں کی طرح گھگھیا رہا ہو گا۔ کمرے میں دونوں بھائی ظفر سیال اور مظفر سیال موجود تھے جبکہ نور سیال بھی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ان کے سامنے میز پر شراب اور دیگر لوازمات موجود تھے۔ دعا سلام کے بعد نادر نے میرا تعارف کروایا اور کل کے سارے واقعات دوبارہ چوہدری کے سامنے دہرانے شروع کر دیے۔۔۔سارے واقعات سننے کے بعد چوہدری نے ہممم کیا اور اپنی مادری زبان (گالی گلوچ کرنے) کے انداز میں بولا۔۔۔ان ڈاکوؤں کی بہن کو لن یہ ہمارے گاؤں میں کہاں سے آ گئے کتی کے پتر۔۔۔تبھی نور سیال بولا! پاپا آپ بے فکر رہیں میں نے پولیس کو بول دیا ہے وہ تفتیش کر رہی ہے۔۔۔جلد ہی نتائج سامنے آ جائیں گے۔۔۔چوہدری دھاڑتے ہوئے بولا ویسے ہی جیسے کراچی سے نتائج آ رہے ہیں۔۔پھر میری موجودگی کا خیال کرتے ہوئے چوہدری چند لمحے خاموش رہا پھر مجھ سے بولا۔۔جمیل تم نادر کے بھائی ہو اور نادر میرا خاص آدمی ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس کے ساتھ ہی ہمارے پاس کام کرو۔ ************************ (73) اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ تم ہمارے آدمی ہو پھر کوئی تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو اچانک جیسے اس کے بھائی ظفر سیال کو کچھ یاد آیا تو وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا جمیل کیا تم ڈرائیونگ کرنا جانتے ہو تو اس سے پہلے کہ میں بولتا نادر نے جواب دیا کہ چوہدری صاحب جمیل بھائی سعودیہ میں کمپنی کی گاڑیاں ہی تو چلاتے تھے۔۔۔تو بس ٹھیک ہے پھر طے ہوا کہ آج سے تم میری بیٹی شبینہ کے محافظ ہو گے بظاہر تم اس کیلئے گاڑی چلاؤ گے۔۔۔لیکن اصل میں تم اس کی حفاظت کرو گے۔۔۔دراصل اس نے اندر باہر آنا جانا ہوتا ہے تو اس کیلئے ایک محافظ کم ڈرائیور کی ضرورت ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔راستے میں نادر مجھے موڑ کر ڈیرے کی طرف لے گیا۔۔۔ڈیرے پر حنیف خان سے ملاقات ہوئی تو حنیف نے دعا سلام کے بعد ہمیں بیٹھنے کی جگہ دی۔۔۔میں نے پوچھا ہاں بھئی حنیف خان کیسے ہو۔؟تو وہ نظریں جھکائے بولا!!! میں ٹھیک ہوں سر لیکن میں کل رات والے واقعے پر بہت شرمندہ ہوں اس سب میں میری اپنی غفلت ہے جو میں وقت پر آگاہ نہیں ہو سکا تو میں حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔میں سمجھا نہیں تو کس غفلت کی بات کر رہے ہو۔۔۔بھائی میں تو تمہارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں اور تم ہو کہ مجھے عجیب ہی کہانی سنا رہے ہو۔ حنیف نے الجھن زدہ نظر سے نادر کی طرف دیکھا تو نادر نے کہا نہیں حنیف ابھی تک اس کو کسی بات کی خبر نہیں۔۔۔میں سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے اکتاہٹ سے بولا ارے یار کیا پہلیاں بجھا رہے ہو صاف اور سیدھی بات کرو ناں کہ مسئلہ کیا ہے تو نادر نے کہا حنیف تم خود ہی بتاؤ۔۔۔حنیف ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولنا شروع ہوا۔۔۔سر رات کو جو ڈاکو آپ کے گھر آئے تھے وہ دراصل کراچی سے ہی آپ لوگوں کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔۔۔بے شک ان کا مقصد آپ کو لوٹنا ہی تھا۔۔۔مگر وہ کوئی نئے بندے نہیں اپنے ہی بھیدی تھے۔ میں خاموشی سے نظریں سکوڑے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔کل شام آپ لوگوں کے جانے کے بعد سردار علی تھوڑی دیر کیلئے غائب ہو گیا۔۔۔میں سمجھا یہیں کہیں ہو گا آ جائے گا۔۔۔کیونکہ پہلے بھی دو چار دفعہ وہ چہل قدمی کا کہہ کر آگے پیچھے نکل جاتا تھا۔۔۔اس لیے میں نے ذیادہ تردد نہیں کیا۔۔۔کافی دیر بعد وہ لوٹا تو کچھ بے چین سا لگ رہا تھا میرے پوچھنے پر اس نے ٹال دیا۔۔۔پھر ہم لوگ سونے کیلئے چارپائیوں پر لیٹ گئے۔۔۔تھوڑی دیر بعد سردار علی چپکے سے اٹھا اور دبے پاؤں اندر کمرے میں چلا گیا۔۔۔میں چونکہ ابھی سویا نہیں تھا لیکن اس کی یہ حرکت مشکوک سی لگی اس لیے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔ دو منٹ بعد ہی وہ کمرے سے برآمد ہوا تو مجھے اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا ریوالور نظر آیا۔۔۔اس نے میرے پاس آ کر ریوالور کا رخ میری طرف کر دیا۔۔۔اس کی آنکھوں میں ایک اجنبیت بھری چمک تھی میں نے فوراً حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا اور لیٹے ہی لیٹے اپنی داہنی ٹانگ اٹھا کر زور سے ریوالور والے ہاتھ پر ماری تو ریوالور اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں دوسری طرف جا گرا اور میں اس سے گتھم گتھا ہو گیا۔۔۔چند منٹ کی مشقت کے بعد میں نے اس پر قابو پا لیا اور اس کو باندھنے کے بعد تفتیش شروع کی۔۔۔پہلے پہل تو وہ اڑی کرتا رہا پھر اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں کٹوانے اور تھوبڑا سجھوانے کے بعد وہ بول پڑا۔۔۔کل آپ پر حملہ اسی خبیث نے کروایا تھا۔۔۔حالانکہ کراچی میں اسے اس کا حصہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس کی نظر ان روپوں پر تھی جو آپ کراچی سے لائے تھے۔ظاہری سی بات ہے کہ اس بارے انہیں سردار علی نے ہی بتایا تھا۔
  5. دوسرے دن دوپہر کے وقت حنیف خان اور سردار علی بھی پرانے کپڑوں میں ملبوس کسانوں کے بھیس میں گاؤں پہنچ گئے۔۔۔نادر نے ان کو میری زمین پر موجود ڈیرے پر ٹھہرا دیا جو کہ ویران پڑا ہوا تھا اور وڈے چوہدری سے بات کر کے میری زمین پر قبضہ جما لیا اب سب کی نظروں میں ہمارا خاندان تو ختم ہو چکا تھا اس لیے وہ زمین لاوارث پڑی تھی پھر اس زمین پر سچ مچ باقاعدہ کھیتی باڑی کا آغاز کر دیا گیا۔۔۔میں حنیف سے ملا تو مسکراتے ہوئے کہا!!! حنیف یار تم بھی سوچتے ہو گے کہ کہاں ہم ایک جنگ شروع کرنے نکلے تھے اور کہاں لا کر مزدوری کرنے پر لگا دیا۔۔۔حنیف مسکراتے ہوئے بولا: سر یہ تو کچھ بھی نہیں۔۔۔میں نے اپنی فیملی کا بدلہ لینے کیلئے پتہ نہیں کتنے بھیس بدلے ہیں اور کن کن مشکلوں سے گزرا ہوں۔۔۔ویسے بھی یہ کھیتی باڑی میرے لیے ایک نیا تجربہ ہے اس لیے میں تو اس کام کو خوب انجوائے کر رہا ہوں۔ سردار علی نے بھی اس سے ملتے جلتے جذبات کا اظہار کیا۔۔۔میں نے حنیف خان کے ذریعے کراچی سے کچھ بھیس بدلنے کا سامان منگوایا تھا۔۔۔جو کہ اس نے لا کر ہمارے حوالے کر دیا۔۔۔یہ سب ریڈی میڈ سامان تھا۔۔۔جس میں نقلی مونچھیں،، سر کے بالوں کیلئے وگیں،، اور اسی طرح کے چہرہ بدلنے والے چھوٹے موٹے لوازمات شامل تھے۔۔۔سرِشام ہی مجھے اپنے گھر کے در و دیوار شدت سے یاد آنے لگے۔۔۔میرا دل ایک دم تڑپ اٹھا۔۔۔میں اسی وقت وہاں سے نکلا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔۔۔اسی وقت نادر باہر سے گھر آ رہا تھا۔۔۔مجھے یوں تیزی سے جاتے دیکھ کر وہ میرے پیچھے ہو لیا۔۔۔چند منٹ بعد میں اپنے تباہ شدہ گھر میں داخل ہو رہا تھا۔۔۔دو اڑھائی مہینوں میں ہی میرا گھر ایسے لگنے لگا جیسے یہاں بھوتوں کا بسیرا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی میرے آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میں بھرائی آنکھیں لیے گھر میں چکرانے لگا۔۔۔پھر جس جگہ مجھے آخری وقت میری ماں زمین پر گھسٹتی ہوئی ملی تھی وہاں آ کر میرا ضبط ٹوٹ گیا۔۔۔میں بے اختیار رو دیا۔۔۔پتہ نہیں کتنی دیر میں وہاں گھٹنے ٹیکے روتا رہا۔۔۔مجھے ہوش تب آئی جب مجھے اپنے کاندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔۔۔میں نے سرخ آنکھوں کے ساتھ مڑ کر دیکھا تو وہ میرا یار غمگسار نادر تھا۔ ************************ (66) مجھے اٹھا کر اس نے سینے سے لگایا اور بولا: کمال میرے دوست اب رونا نہیں دیکھ تو سہی ہم ان سیالوں کا کیا حشر کریں گے۔۔۔ان کیلئے ہی تو یہ سب پکھیڑا ڈالا ہوا ہے۔۔۔بہت جلد ہی ہم ان کو خاک و خون چٹائیں گے۔۔۔چل اب آنسو پونچھ لے اور نکل یہاں سے میں تجھے ایک خوشخبری سناتا ہوں۔ میں نے آنسو پونچھے اور نادر کے ساتھ وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔نادر مجھے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تقریباً کھینچتے ہوئے دوبارہ ڈیرے کی طرف لے گیا۔۔۔ڈیرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں نادر نے مجھے بتایا کہ سیالوں کی حویلی سے ایک خبر ملی ہے۔۔۔اور خبر یہ کہ وڈے چوہدری اور اس کے بھائی ظفر سیال کی موجودگی میں ایک میٹنگ رکھی گئی ہے چونکہ بیٹا ظفر کا بھی مارا گیا ہے تو وہ بھی غم و غصے کا شکار ہے۔۔۔شاید صفدر سیال کی گانڈ میں لگی گولیوں اور تمہارے اس خط نے جو تم صفدر سیال کی لاش کے پاس چھوڑ آئے تھے انہیں کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے تو ممکنہ حالات سے نمٹنے کیلئے انہوں نے ایک خفیہ میٹنگ بلائی ہے۔۔۔یہ میٹنگ کل رات کے اندھیرے میں وڈی حویلی میں ہی ہو گی۔ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا یہ خبر تمہیں کیسے ملی تو اس نے کہا کہ تمہاری ایک غائبانہ پرستار نے یونہی باتوں ہی باتوں میں برسبیلِ تذکرہ یہ خبر پہنچائی ہے۔۔۔میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو اس نے کہا وقت آنے پر بتا دوں گا بلکہ تمہیں اس سے ملوا بھی دوں گا۔۔۔یہ باتیں کرتے کرتے ہم لوگ ڈیرے پر پہنچ گئے۔۔۔ڈیرے پر پہنچ کر خبر کا ذریعہ بتائے بغیر نادر نے ساری بات حنیف خان اور سردار علی کے سامنے رکھی۔ نادر کی بات سن کر حنیف خان کی آنکھیں کسی خیال کے تحت چمک اٹھیں اور عین اسی وقت میرے منہ سے نکلا۔۔۔نادر یہ تو پھر اچھا موقع ہے یار سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانے کا۔۔۔حنیف خان بھی جوش سے بولا پھر دیر کس بات کی سر۔۔۔جتنا ذیادہ سوچیں گے اتنی بات الجھتی جائے گی اور انہیں ٹائم ملتا جائے گا جو کہ ہمارے حق میں اچھا نہیں۔۔۔ہمیں اس پار یا اس پار والی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔۔۔میں نے نادر کی طرف دیکھا تو نادر بولا۔۔۔وہ تو ٹھیک ہے یار پر شمسہ کا کیا کریں۔ میں نے کہا کرنا کیا ہے تم اسے اس کے گاؤں چھوڑ آو۔۔۔کوئی بھی بہانہ بنا دینا۔۔۔نادر سر کھجاتے ہوئے بولا کہ یہ اتنا آسان نہیں اس پگلی نے مجھ سے پوچھنا ہے کہ تم مجھے کیوں چھوڑنے جا رہے ہو۔۔۔ابھی کل ہی تو واپس آئی ہوں۔۔۔میں نے کہا نادر جو بھی ہو جیسے بھی ہو اس کو ہر صورت چھوڑ کر آؤ۔۔۔اس کا ہمارے ساتھ رہنا خطرے سے خالی نہیں۔ نادر نے کہا چلو ابھی ہمارے پاس وقت ہے آج کی رات کوئی بہانہ سوچتا ہوں اور کل علی الصبح اسے گاؤں چھوڑ آتا ہوں۔۔۔وہاں سے اٹھتے وقت ایسے ہی میں نے سردار علی کی طرف دیکھا تو مجھے اس کی آنکھوں میں کچھ اجنبیت سی محسوس ہوئی۔۔۔میں نے باہر نکل کر نادر سے اس کا تذکرہ کیا تو نادر بولا ارے نہیں یار تم خواہ مخواہ وہم کر رہے ہو وہ اپنا جانثار ساتھی ہے۔۔۔یاد کرو صفدر سیال والی مہم میں ہر وقت اور ہر جگہ اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ محتاط رہنا اچھی بات ہے پر فضول کے وہم کو دل میں جگہ مت دو۔۔۔اسی طرح باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔شمسہ نے کھانا بنایا ہوا تھا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد نادر اوپر کمرے میں چلا گیا جبکہ ہم دونوں اپنے بیڈ روم میں پہنچ گئے۔۔۔شمسہ پھر سے تیار تھی اور ہوتی بھی کیوں نا، ایک لمبے عرصے بعد اسے اس کا خاوند ملا تھا تو یہ پیاس مٹانی تو لازمی تھی۔۔۔ایک بھرپور چدائی کے بعد ہم ننگے ہی بیڈ پر لیٹ گئے اور شمسہ مجھ سے لپٹ کر سو گئی۔ ************************ (67) سوتے سوتے مجھے لگا جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں۔۔۔میرا لن مستی میں فل جھوم رہا ہے اور ایک پری مہہ وش اپنی نشیلی نگاہوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر میرے لن کو اپنے مخروطی ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔پھر قریب ہو کر اپنا منہ کھولا اور میرے لن کو منہ میں لیکر چوسنے لگی۔جس سے میرا لن اپنی پوری اکڑ میں آ کر تن گیا۔۔۔اف فف کیا مزہ آ رہا تھا اور میں خواب میں ہی سوچ رہا تھا کہ کاش یہ لمحہ حقیقت ہوتا۔ اس مہہ وش نے میرے لن کو اپنے منہ میں لیکر آہستہ آہستہ اپنے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر لن کو اندر باہر کرتے وقت اس کے دانت میرے لن کی ٹوپی سے رگڑے گئے تو میرا دماغ مجھے نیند سے جگانے لگا۔۔اور میری آنکھ کھل گئی میرا دماغ نیند سے شعور کی کیفیت میں آنے لگا۔۔۔مجھے محسوس ہوا کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا ہوں میرا لن واقعی کسی کے منہ میں ہے۔وہ شمسہ تھی جو کہ گھٹنوں کے بل اوندھی ہوئی میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔اس نے ایک ہاتھ سے میرا لن پکڑا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی ٹانگوں کے بیچ کھجا رہی تھی۔ میں نشے کی سی کیفیت محسوس کرنے لگا۔۔یقین مانو دوستو میں اسے سچ مچ اپنی بیوی سمجھنے لگا تھا صرف ایک دن میں ہی اس کا جادو مجھ پہ چل چکا تھا۔۔۔وہ بڑی تیزی سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔کبھی کبھی وہ زبان نکال کر میرے ٹٹے بھی چاٹ جاتی۔۔۔میں حیران تھا کہ وہ اتنی رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی جیسے یہ اس کیلئے یہ دنیا کی سب سے پسندیدہ شے ہو۔ میں نے شمسہ کو پکڑ کر نیچے لٹایا اور خود اس کی ٹانگیں اٹھاتے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں میں رکھ کر ایک زور کا گھسہ مارا تو لن غڑاپ کر کے پھدی میں غائب ہو گیا۔۔۔اوئی ماں ایییییییییی۔۔۔شمسہ کے منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی۔میں نے دھیمی رفتار میں گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔آہستہ آہستہ میری رفتار بڑھتی گئی اور ٹھیک دو منٹ بعد ہی کمرے میں پوچ پوچ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔۔۔اگلے چند منٹ میں ہی شمسہ کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں اور وہ لرزتی ہوئی چھوٹ گئی۔ چھوٹنے کے بعد شمسہ نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر باندھ لیں اور زور و شور سے مجھے چومنے لگی۔۔۔میں نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔۔۔میرے موٹے تازے لن کی ضربیں شمسہ کی بچی دانی پر لگ رہی تھیں۔لیکن یہ ضربیں شمسہ کو درد کی بجائے انتہائی مزہ دے رہی تھیں۔۔۔جلد ہی یہ مزہ اپنی حدوں کو چھونے لگا۔۔۔میرے زور دار جھٹکوں کا ساتھ شمسہ بھی دینے لگی۔۔۔جب میں لن اندر کرتا تو شمسہ اپنی نیچے سے اپنی گانڈ کو اوپر اچھالتی۔جس سے میرا لن ٹٹوں تک اس کی پھدی کی گہرائیوں میں گھس جاتا جو ہم دونوں کیلئے بڑا پر لطف تھا۔ لن تیزی سے اندر باہر آ جا رہا تھا اور شمسہ کی اچھالیں بھی خوب تھیں غرض کہ ہم دونوں کے درمیان ٫٫لن پھدی کا مقابلہ عروج پہ تھا،،۔ تقریباً تین منٹ بعد مجھے اپنے جسم میں چیونٹیاں سی رینگتی ہوئی محسوس ہوئیں کو کہ اس امر کا اشارہ تھا کہ میرا لن اب پانی نکالنے کو تیار ہے۔۔۔عین اسی وقت شمسہ نے نیچے سے اپنی پھدی سے گھونٹ بھرنے شروع کر دیے اور مجھے اپنے لن پر بڑھتی ہوئی گرمی کا احساس ہوا۔۔۔یہ گرمی اس آگ کی تھی جو پچھلے کئی عرصے سے شمسہ کے اندر بھری ہوئی تھی۔۔۔شمسہ کے جسم میں اکڑاہٹ پیدا ہوئی اور مجھے بھی لن میں گدگدی ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔ہم دونوں منزل کے قریب تھے اس لیے دونوں کا جوش دیدنی تھا۔۔۔اسی وقت مجھے اپنے لن پر گرم گرم احساس ہوا جو کہ دراصل شمسہ کے چھوٹنے والے منی کا تھا اور احساس کے ساتھ ہی میرے لن نے بھی ہار مانتے ہوئے پچکاریاں مارنی شروع کر دیں۔ ٫٫لن پھدی کا مقابلہ خوب رہا تھا،،۔ فارغ ہونے کے بعد ہم دونوں نے واش روم میں جا کر ایک دوسرے کو صاف کیا اور کپڑے پہن کر واپس بیڈ پر آ لیٹے۔شمسہ میری بانہوں میں چھپ کر سو گئی۔۔۔سوتی ہوئی وہ کسی معصوم ہرنی کی طرح لگ رہی تھی جیسے سالوں تپتے صحرا میں چلنے کے بعد اب کسی سایہ دار گلشن میں پہنچ کر آرام کر رہی ہو۔۔۔اس کی زلفوں سے کھیلتے کھیلتے جانے کب میری بھی آنکھ لگ گئی۔ ************************ (68) یوں لگا جیسا کوئی زوردار دھماکہ ہوا ہو یا زلزلہ آیا ہو۔۔۔اس زلزلے کی لہر سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ابھی پوری طرح سے آنکھیں کھلی بھی نہیں تھیں کہ مجھے ایک نہایت شاندار قسم کی ضرب اپنے منہ پر سہنی پڑی۔میں الٹ کر بیڈ سے نیچے گرا۔۔۔گرتے ساتھ ہی میں جوش سے اسپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑا ہوا۔۔۔جو منظر میرے سامنے تھا اس منظر نے میرا جوش ایک دم پیشاب کی جھاگ طرح بٹھا دیا۔ کمرے میں تین عدد آدمی موجود تھے جنہوں نے اپنے سروں پر ڈھاٹے باندھ کر منہ بھی چھپائے ہوئے تھے۔۔۔ان میں سے ایک میرے منہ پر غالباً اپنے پاؤں کی ضرب لگا کر واپس ہو رہا تھا جبکہ دوسرے نے کلاشنکوف سے مجھے کور کیا ہوا تھا۔۔۔جو سب سے نازک بات تھی وہ یہ کہ تیسے نے شمسہ کو بالوں سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ بھینچ رکھا تھا۔۔۔اسی منظر نے میرا جوش یک دم ٹھنڈا کر دیا۔ شمسہ کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں اور وہ مچل مچل کر اس غنڈے کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں نے اس غنڈے سے کہا: یہ معصوم ہے اسے چھوڑ دو اور مجھ سے بات کرو تم لوگ کیا چاہتے ہو۔۔۔جس غنڈے نے شمسہ کو پکڑا ہوا تھا وہ استہزایہ لہجے میں بولا: میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم چپ چاپ میرے سامنے خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔۔۔کسی بھی قسم کی حرکت انتہائی مہنگی ثابت ہو گی۔۔۔خاص طور پر اس چڑیا کا گلا ایک سیکنڈ میں کاٹ دوں گا۔میں نے اس کی بات سن کر غور کیا تو اس کے ہاتھ میں کھلا ہوا ایک استرا موجود تھا۔ میں نے ایک مرتبہ پھر آواز دے کر شمسہ کو پچکارتے ہوئے اس خبیث کو کہا۔۔۔میں نے کہا ناں میری بیوی کو چھوڑ دو پھر تسلی سے بات کرو کہ تم لوگ ہم سے کیا چاہتے ہو۔۔۔اسی وقت اس کا دوسرا ساتھ جس نے میرے ٹھوکر رسید کی تھی یہ جسامت سے مجہول نشے باز لگتا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا ریوالور موجود تھا اور وہ کافی اضطراری کیفیت میں معلوم ہوتا تھا کیونکہ اس کا ریوالور بار بار اس کے ہاتھوں میں گھوم رہا تھا۔ ایسے لوگ دوسروں سے ذیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔اسی اضطراری کیفیت کے زیرِ اثر گولی چلانے میں وہ سیکنڈ بھی ضائع نہیں کرتے۔۔۔وہ مجھ سے ڈائریکٹ بولا۔۔دیکھو ہم تمہارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں اس لیے چھپانا فضول ہو گا۔۔۔چپ چاپ رقم ہمارے حوالے کر دو ہم بنا کوئی نقصان پہنچائے یہاں سے واپس چلے جائیں گے۔میرا دل تھوڑا سکون میں آ گیا کیونکہ میں سمجھ رہا تھا یہ سیالوں کے کارندے ہیں لیکن یہ تو کچھ اور ہی معاملہ تھا۔ میں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے غیر معمولی انداز میں سرہانے کے پاس ہوتے ہوئے پوچھا کون سی رقم کی بات کر رہے ہو میں تو مزدور آدمی ہوں۔۔۔اسی وقت اس مجہول سے آدمی نے اپنا ہاتھ سیدھا کیا ساتھ ہی ٹھک کی آواز ابھری اور بے آواز گولی بلکل میرے کان کے پاس سے گزر کر دیوار میں جا لگی۔یہ دیکھ کر شمسہ اس کے بازوؤں میں ہی جھول گئی وہ خوف اور ڈر کی ذیادتی کی وجہ سے بیہوش ہو چکی تھی۔ میں نے اسے گرتے دیکھ کر ایک دم اٹھنے کی کوشش کی تو دوسرے آدمی نے شمسہ کو زمین پر گراتے ہوئے اس کی گردن پر استرا رکھ دیا اور سفاک لہجے میں بولا کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اس بلبل کی گردن کاٹ دوں گا۔۔۔میں نے کہا رکو میں پیسے دیتا ہوں۔۔۔میں نے الماری کا پٹ کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو نوجوان چیخا۔۔۔خبردار پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔ہمیں کیا پاگل سمجھا ہوا ہے۔چلو شاباش میرا منا پیچھے ہٹ کر بیڈ پر لیٹ جا۔۔۔الماری میں خود چیک کروں گا۔۔۔میں چپ چاپ بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔سرہانے کے ساتھ ہی بیڈ کے نیچے میرا لیوگر پڑا ہوا تھا۔ میں لیوگر اٹھانے کے چکر میں تھا لیکن دو قباحتیں تھیں ایک تو وہ تین آدمی تھے اوپر سے اگر میں ذرا بھی ہلتا تو انہیں شک ہو جاتا اس لیے میں مناسب وقت کے انتظار میں تھا۔۔۔مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ اتنی اٹھا پٹخ کی آوازیں سن کر بھی نادر ابھی تک نہیں آیا۔۔۔نوجوان نے الماری کھولی اور تلاشی لینے لگا جلد ہی ساری رقم اس کے ہاتھ میں آ گئی۔۔۔یہ وہ رقم تھی جو میں صفدر کی کوٹھی سے اٹھا لایا تھا۔۔۔ہم نے پیسے گنے تو نہیں تھے لیکن بلاشبہ وہ لاکھوں روپے تھے۔ ************************ (69) پیسوں کی گڈیاں نکال کر اس نے بیڈ پر رکھیں اس سارے وقت میں تیسرا آدمی کلاشنکوف سے مجھے کور کیے رہا۔۔۔اب اس نوجوان نے میری ٹانگوں کی طرف بیڈ کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے مجھے کہا پیسے تو مل گئے اب تم چھٹی کرو۔۔۔ہم تمہیں ذندہ چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتے اور پھر وہ نہایت خباثت بھرے انداز میں شمسہ کی طرف دیکھ کر بولا کہ اس بلبل کو تو ہم ساتھ لے جائیں گے بڑے دنوں سے کوئی تگڑی پھدی نہیں ماری۔۔۔میرا دماغ تیزی سے بچاؤ کا طریقہ سوچ رہا تھا پر مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔استرے والے آدمی نے استرا بند کر کے جیب میں ڈال لیا تھا جبکہ دوسرے آدمی نے بھی کلاشنکوف کو ڈھیلے ہاتھوں پکڑا ہوا تھا۔۔۔مجہول جوان نے ریوالور کا رخ میری طرف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی آخری خواہش ہو تو۔۔۔اس کی آواز اس کے منہ میں ہی رہ گئی شِپ کی آواز ابھری اور اس کے عین ماتھے کے بیچوں بیچ سوراخ ہو گیا۔۔۔اور وہ جھٹکا کھا کر پیچھے گرا۔۔۔اس کے ساتھ ہی باقی دونوں نے مڑ کر روشن دان کی طرف دیکھا کیونکہ شِپ کی آواز وہیں سے ابھری تھی دراصل یہ آواز سائلنسر لگی گن کی آواز تھی۔۔۔میں نے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور سائیڈ پر گھوم کر بیڈ سے گرتے ہی اپنا لیوگر اٹھایا اور سانپ کی سی تیزی سے اپنی جگہ چھوڑ کر اڑتے ہوئے دوسری طرف چھلانگ لگائی۔ یہ صرف لمحوں کا کھیل تھا کیونکہ اسی وقت کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ ابھری اور قریب و جوار میں پھیل گئی۔۔گولیاں اس جگہ کو چھیدتی ہوئی گزر گئیں جہاں ایک لمحہ پہلے میں موجود تھا۔اسی وقت ایک مرتبہ پھر شِپ کی آواز ابھری اور کلاشنکوف والے کے منہ سے چیخ نکلی اور وہ بھی زمین بوس ہو گیا۔۔۔یہاں میں ایک سنگین غلطی کر گیا جس کا مجھے خمیازہ بھگتنا پڑا۔۔۔میں استرے والے کو بھول گیا تھا اس نے مجھ پر چھلانگ لگائی تھی میں بس غیر ارادی طور پر اپنا سر بچا گیا اور داہنی طرف چھلانگ لگائی۔۔۔لیکن مجھے اپنے بائیں کاندھے میں مرچیں سی بھرتی ہوئی محسوس ہوئیں۔استرے کا وار میرے کاندھے پر لگا تھا اور گوشت کو کاٹتا ہوا استرا صاف نکل گیا۔ میں نے گرتے ہی مڑ کر لیوگر کا ٹرائیگر دبا دیا۔۔ٹھک ٹھک کی آواز دو بار ابھری اور تیسرا بھی چیخ مارتے ہوئے زمین بوس ہو گیا۔۔۔دو گولیاں اس کے سینے سے گزرتی ہوئی پار نکل گئیں۔۔۔اسی وقت دروازہ کھلا اور حنیف خان اندر داخل ہوا۔۔۔میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔حنیف نے اندر داخل ہوتے ہی طائرانہ نظر سے جائزہ لیا۔۔۔تینوں خبیث جہنم رسید ہو چکے تھے۔حنیف میری طرف آیا اور میرے کاندھے کو ہلا جلا کر اچھی طرح دیکھنے کے بعد اس نے فٹافٹ شمسہ کے ڈوپٹے کو کس کر باندھ دیا جس سے خون کا اخراج کافی حد تک کم ہوا لیکن مجھے مسلسل اپنے کاندھے میں درد کی ٹھیسیں محسوس ہو رہی تھیں۔
  6. شمسہ نے مسکراتے ہوئے اپنے نرم و ملائم،، نازک ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا جو کہ اس کی مٹھی میں سمانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے لن کی ٹوپی پر زبان پھیرتی ہوئے اسے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔میرے جیسا تجربہ کار کھلاڑی بھی اس کی تاب نہ لا سکا اور میرے منہ سے بے اختیار سسکاریاں نکلنے لگیں۔ شمسہ نے جو میرے منہ سے مزے کی سسکاریاں سنیں تو وہ اور جوش سے میرے لن کی ٹوپی کو چوسنے لگی اور چوستے چوستے اس نے میرا لن ہاتھ سے چھوڑ کر جیسے ایک غوطہ مارتے ہوئے کمال خوبصورتی سے میرے پورے لن کو منہ میں لیتے ہوئے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق سے ٹچ کیا اور واپس لن باہر نکال کر پھر سے ٹوپی چوسنے لگی۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار ایک آہہہ نکلی۔۔۔یا حیرت یہ شمسہ اور جمیل تو بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں۔ اب اس نے لن کو ایک سائیڈ پر جیسے لٹا دیا اور قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔میرے برداشت کی حد ایک دم ختم ہو گئی اور میں نے شمسہ کے منہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے پورا لن اس کے منہ میں گھسا کر اس کے منہ کو پھدی کی طرح چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ کی زبان شہوت کی شدت سے شعلہ و جوالہ بنی ہوئی تھی۔۔۔میں نے بے اختیار اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑ کر ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا پورا لن جڑ تک اس کے منہ میں غائب ہو گیا اور ٹوپہ اس کے حلق سے ٹکرانے لگا۔ شمسہ کو ایک دم کھانسی نما ابکائی آئی۔۔۔اس نے اپنا منہ پیچھے کر کے میرا لن باہر نکالا تو ساتھ ہی ڈھیر سارا تھوک برآمد ہوا۔۔۔شمسہ اس تھوک کے ساتھ ہی آدھے لن کو پھر سے منہ میں لیکر چوستی گئی۔۔۔میری برداشت ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ چند سیکنڈ اور میرا لن اس کے منہ میں رہا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔میں نے شمسہ کو بتایا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو اس کی چوپے لگانے کی رفتار اور بڑھ گئی اور وہ بڑی سپیڈ سے لن کو اندر باہر کرنے لگی۔۔۔وہ میرا لن منہ میں لیے ہوئے مسلسل میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس کی خوبصورت بلوری آنکھوں میں شہوت کے ساتھ ساتھ پیار کا ایک سمندر موجزن دکھائی دیا۔۔۔میں بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرا لن چوسنے میں مگن تھی جبکہ اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں پیوست تھیں۔۔۔آخرکار میرا لن شمسہ کی گرم جوانی سے شکست کھانے کے قریب پہنچ گیا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔۔۔جھٹکا محسوس کرتے ہی شمسہ نے میرے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ ٹکاتے ہوئے انہیں دبا دیا اور میں جو اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالنے کی سعی میں مصروف تھا اپنے چوتڑوں پر اس کے ہاتھوں کے دباؤ کو محسوس کرتے ہی وہیں رک گیا۔ پھر ایک جھٹکے کے ساتھ منی کی پہلی پچکاری شمسہ کے حلق سے ٹکرائی تو اس نے اپنے ہونٹوں کی گرِپ میرے لن کی ٹوپی پر مضبوط کر لی۔۔۔پھر دوسری پچکاری پہلے سے بھی ذیادہ طاقت سے شمسہ کے حلق سے ٹکرائی۔۔۔میرے ہاتھوں کی گرفت شمسہ کے بالوں پر مضبوط ہوتی چلی گئی۔۔۔پھر تیسری پچکاری،، اس کے بعد چوتھی پچکاری،، میرا لن مسلسل شمسہ کے منہ میں پچکاریاں مار رہا تھا۔۔۔لیکن شمسہ نے میری منی کا ایک بھی قطرہ اپنے ہونٹوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ ************************ (64) میری منی کو وہ ساتھ ساتھ ہی اپنے حلق سے نیچے اتارتی جا رہی تھی۔۔۔میرا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا دوبھر ہو گیا اور میں شمسہ کو لیے ہوئے بیڈ پر گر پڑا۔۔۔میرا لن اتنی منی نکلنے کے بعد بھی ابھی تک تنا ہوا تھا۔۔۔لن ابھی تک شمسہ کے منہ میں تھا جسے وہ چوستی جا رہی تھی۔۔۔شمسہ نے میرا لن چوس چاٹ کر اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اپنے منہ سے باہر نکالا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا تو میں نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی بانہیں کھول دیں۔۔۔اس نے ایک جست لگائی اور میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ کا سر میرے چوڑے چکلے سینے پر تھا اور میں بڑے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ شمسہ اٹھی اور ابھی آئی کا کہہ کر ننگی ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اس کے چاند سے مُکھڑے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔میری جان کیا ہوا کہاں گئی تھی تو وہ بولی منہ صاف کرنے گئی تھی واش روم میں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ جھکی اور اپنی پینٹی اتار دی۔۔۔پھر کھڑے ہو کر اس نے اپنی برا بھی اتار دی۔ میں اس کے ہوشربا جسم کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔۔۔گول مٹول ممے،، صاف شفاف پیٹ،، گلابی نرم و نازک سی چوت جو کہ کسی کھلے ہوئے گلاب کی مانند چمک رہی تھی۔۔۔اس کا چاندی جیسا بدن۔آج تک میں نے ان لڑکیوں کی ہی پھدی ماری تھی جو کہ پہلے ہی مختلف مردوں سے چدائی کر چکی تھیں۔۔۔لیکن شمسہ پہلی لڑکی تھی جس نے اپنا سارا جسم صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔مجھے اس طرح سکتے کی حالت میں دیکھ کر شمسہ کے ہونٹوں پر ایک شریر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے ایڑھیوں کے بل گھوم کر اپنی پشت میری جانب کر لی۔۔۔جب میری نظر اس کی پتلی کمر سے ہوتی ہوئی اس کی ابھری ہوئی بے داغ دودھیا گانڈ پر پڑی میں تو جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔ شمسہ کو ایک اور شرارت سوجھی اور وہ مزید جھک گئی۔۔۔جس سے اس کی گانڈ کا سوراخ واضح ہو گیا۔۔۔مجھ پر تو جیسے مسلسل سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔ہر مرد کی طرح ممے اور گانڈ میری بھی کمزوری تھی لیکن یہ نظارہ واقعی دیکھنے لائق تھا۔۔۔شمسہ سیدھی ہوئی اور بڑی ادا سے میرا اکڑا ہوا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کے میں بھی ہوش میں آ گیا۔۔۔میں جیسے خواب سے چونک گیا۔۔۔مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میرا لن ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اکڑ چکا ہے۔۔۔پھر مجھ پہ جیسے جنونیت کا دورہ پڑ گیا۔۔۔میں نے شمسہ کو کھینچ کر اپنے پہلو میں لٹایا اور اس پہ ٹوٹ پڑا۔ ہونٹ، کان، ناک، آنکھیں، گردن، لویں، بال، سینہ، ممے، پیٹ، ناف، رانیں، پنڈلیاں، ہاتھ، ہاتھوں کی انگلیاں،، غرض کے اس کے جسم کا ایک ایک ذرہ چومتا گیا۔۔۔میں شمسہ کی حالت سے بے خبر تھا جو بے چینی سے اپنا سر زور زور سے پٹخ رہی تھی،، آہیں بھر رہی تھی،، اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی مگر میں اپنے جنون میں مگن اسے چومتا چاٹتا جا رہا تھا۔۔۔پھر میں نے شمسہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے اس کی زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔میرا انداز بے حد جنونی تھا جو کہ شمسہ کے جزبات کو اور بھی بھڑکا گیا۔۔۔اب معاملہ شمسہ کی برداشت سے بھی باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔وہ میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اب لن سے چدنا چاہتی تھی۔۔۔اس لمحے کیلئے اس نے بہت انتظار کیا تھا۔۔۔ہمیشہ اپنے آپ سے کیا ہوا خاموش عہد نبھایا اور اپنے جسم کو صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔یہ الگ بات تھی کہ جو لن اس کے نصیب میں آ رہا تھا وہ اس کے خاوند جمیل کا نہیں بلکہ میرا یعنی کمال عرف جمیل کا تھا۔۔۔میں شمسہ کی بےتابی کو محسوس کرتے ہوئے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔اور اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اس کی بھیگی ہوئی پھدی میں ڈال کر اسے انگلیوں سے چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ لن لینے کیلئے مری جا رہی تھی جبکہ میں اس کی آگ کو مزید ہوا دے رہا تھا۔ اب میں نے ذیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے لن کو شمسہ کی نازک پھدی کے ہونٹوں میں رگڑنے لگا۔۔۔شمسہ مزے سے تڑپتے ہوئے اپنی پھدی کے سوراخ کو میرے لن کی رینج میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں نے آرام سے اپنے لن کو شمسہ کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں گھسہ مارتا،، شمسہ نے پوری جان سے اپنی پھدی کو لن پر دبایا تو میرا لن اس کی پھدی کی دیواروں کو رگڑتا ہوا پھدی کی گہرائیوں تک اتر گیا۔۔۔شمسہ کے منہ سے ایک تیز سسکاری نکلی۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ شمسہ کی پھدی کی گرِپ کافی ٹائٹ تھی۔۔۔اس کا چہرہ شہوت ملی تکلیف سے ٹماٹر کی طرح سرخ ہو چکا تھا۔۔۔لیکن ساتھ ہی خوشی کی ایک جھلک اس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے اس کی پھدی میں لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔میں چار انچ تک لن کو باہر نکالتا اور پھر سے شمسہ کی پھدی میں جڑ تک گھسا دیتا۔۔۔اسی دوران شمسہ کی ہمت جواب دے گئی اور اس کا جسم اکڑنا شروع ہوا تو میں نے اپنے گھسوں کی رفتار بڑھا دی۔۔۔لیکن لن ابھی بھی میں نے پورا باہر نہیں نکالا تھا۔۔۔بلکہ کسی پسٹن کی طرح اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا گیا۔۔۔شمسہ نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر باندھ لیں اور اپنے ناخنوں سے میرے کندھوں کو ادھیڑنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ شمسہ چھوٹنے لگی ہے تو میں نے اس کی زبان کو چوستے ہوئے گھسے مارنے چالو رکھے۔۔۔اچانک شمسہ کے جسم کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے اور اس کی پھدی سے پانی ایک پریشر کے ساتھ میرے لن سے ہوتا ہوا میرے ٹٹوں کو بھگو گیا۔۔۔اب میرا لن پوری آسانی سے اس کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔ہر طرف کیف تھا، مستی تھی ، مزہ تھا،، میرے گھسے مسلسل جاری تھے اور کمرہ پچک۔پچک کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ یہ آوازیں ہم دونوں کے ہیجان میں اضافہ کر رہی تھیں۔۔۔میرا لن شمسہ کی پھدی کی گہرائیوں کی سیر کرنے میں مصروف تھا۔۔۔اب میرے دھکوں میں تیزی آتی جا رہی تھی۔۔۔ساتھ ساتھ ہی پچک۔پچک کی آوازوں میں بھی۔۔۔ نیچے سے شمسہ بھی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اپنی پھدی کی آخری سرحد تک لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں اب پورا لن باہر نکال کر اتنی زور سے گھسہ مارتا کہ میرا لن سیدھا اس کی بچہ دانی سے جا ٹکراتا۔۔۔دس منٹ تک اسی طرح گھسے مارنے کے بعد مجھے لگنے لگا کہ اب میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔میں کپکپاتے ہوئے بولا: شمسہ میں چھوٹنے لگا ہوں تو وہ بھی مزے سے سرشار بولی۔۔۔اندر ہی چھوٹ میری جان میں بھی نکلنے والی ہوں۔۔۔تبھی میرے لن سے منی کا سیلاب نکلا اور شمسہ کی پھدی کو سیراب کرتا گیا۔۔۔شمسہ بھی کانپتے ہوئے پانی چھوڑ گئی۔۔۔اس کے چہرے پر ایک اطمینان تھا،، سکون تھا۔۔۔وہ میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ ************************ (65) کچھ دیر بعد اچانک بولی۔۔۔جمیل تم کچھ بدل گئے ہو۔۔۔میں اندر سے تو تھوڑا پریشان ہوا لیکن بظاہر ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔شمسہ ایسا تمہیں کیوں محسوس ہوا۔۔۔وہ کہنے لگی: جمیل تمہارا پیار کرنے کا انداز بدل گیا ہے اور پہلے تم سیکس میں اتنا ٹائم نہیں نکالتے تھے۔۔۔اب ٹائمنگ بہت بڑھ گئی ہے اوپر سے تمہارا لن بھی تو کتنا موٹا اور لمبا لگتا ہے نا۔۔۔میں نے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا: نہیں پگلی ایسی کوئی بات نہیں یہ سب تمہارا وہم ہے۔ اتنی دیر بعد ملی ہو نا تو اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ویسے جب سعودی میں میرے ساتھ حادثہ ہوا تو میرے پورے جسم پر چوٹیں لگی تھیں۔۔۔بیرونی چوٹوں کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر بھی بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی۔۔۔پورا جسم درد کرتا تھا۔۔۔شاید یہ ان دوائیوں کا ہی اثر ہو کہ پہلے جو کمی یا کمزوری تھی وہ دور ہو گئی اور اب میں پہلے سے ذیادہ فٹ ہوں۔ شمسہ کو اچانک کچھ یاد آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے سینے سے ناف تک ہاتھ پھیرتے ہوئے سوالیہ لہجے میں بولی۔۔۔جمیل تمہارے جسم پر تو کسی چوٹ کا نشان نہیں؟ میں نے کہا یار وہ لوگ بہت اعلیٰ قسم کی دوائیاں استعمال کرتے ہیں۔۔۔روزانہ تین ٹائم میرے جسم پر موجود نشانات پر کچھ خاص جڑی بوٹیوں کا لیپ کرتے تھے۔۔۔یہ اسی لیپ کا کمال ہے کہ سارے نشانات مٹ گئے۔۔۔وہ پیار بھرے انداز میں میرے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی: اب میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔میں بھی پیار سے اس کے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔۔۔پھر ہم نے سیکس کا ایک اور دور چلایا اور کافی دیر بعد تھک کر سو گئے۔ اگلے دن صبح نادر گھر آ گیا تو شمسہ اسے دیکھتے ہی بولی: نادر اب تم یہ وڈے چوہدری کی نوکری چھوڑ دو۔۔۔جمیل گھر آ گیا ہے نا تو اس کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کیا کرو۔۔۔اس سادہ لوح،، معصوم کو کیا پتہ تھا کہ ہم لوگ کس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔اگلے دن نادر نے مجھے بتایا کہ سندھی مارواڑی کا ایک آدمی سٹین گنیں اور سارا ایمونیشن پہنچا گیا ہے۔۔۔نادر نے یہ سامان پتہ نہیں کس وقت رسیو کیا اور کیسے گھر کے اوپر والے کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔میں نے نادر کے ساتھ اوپر جا کر گنیں چیک کیں تو بلکل ورکنگ آرڈر میں تھیں۔
  7. (61) ٹھیک گیارہ بجے گاڑی لاہور کیلئے روانہ ہو گئی۔۔۔ٹرین کو رات دو بجے لاہور پہنچنا تھا۔۔۔مجھے ایک بات یاد آئی تو میں نے نادر سے پوچھا لیا کہ نادر تم تو وڈے چوہدری کی ملازمت میں تھے۔۔۔اتنے دنوں سے غائب ہو تو اب کیسے اس غیر حاضری کو سنبھالو گے۔۔۔تو نادر بولا: میری جان فکر کیوں کرتا ہے۔۔۔جب تک تم ڈاکٹر کی کوٹھی میں رہے میں ساتھ ساتھ چوہدری کے کام بھی نبٹاتا رہا ہوں۔۔۔پھر وہ مجھے آنکھ مار کر بولا: سمجھا کر یار میں ابھی بھی آن ڈیوٹی ہوں وہاں جا کر میں چوہدری کو بتاؤں گا کہ اب میرا بھائی جمیل واپس آ گیا ہے تو میں پچھلے چار دن سے جمیل کے ساتھ اسلام آباد میں تھا مجھے بلکل نہیں پتہ کہ کراچی کے کیا حالات ہیں۔ ویسے بھی میرا کام کی نوعیت ایسی ہے کہ میرا صفدر کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تھا۔ پھر موقع محل دیکھ کر چوہدری سے بات کر لوں گا کہ چونکہ اب جمیل آ گیا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی کچھ کام دھندہ کر لوں گا۔۔۔تم فکر مت کرو کوئی نہ کوئی بات بن ہی جائے گی۔۔۔سفر کا زیادہ تر حصہ میں اور نادر نے سوتے ہوئے گزار دیا۔۔۔پروگرام کے مطابق سردار اور حنیف کو تین دن بعد بھیس بدل کر کسانوں کے روپ میں گاؤں پہنچنا تھا۔۔۔ضرورت کی چند چیزیں لانا بھی ان کے ذمہ لگائی تھیں۔۔۔قصہ مختصر لاہور پہنچنے کے بعد صبح چار بجے ہم لوگ گاؤں میں نادر کے گھر میں موجود تھے۔۔۔نادر مجھے گھر میں رہنے اور پوری طرح تیار ہونے کا کہہ کر اسی وقت شمسہ کے گاؤں کی طرف نکل گیا۔ شمسہ نے جب میرے آنے کی خبر سنی تو اس پہ شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔وہ اسی وقت نادر کے ساتھ وہاں سے واپس گھر آنے کیلئے مچل گئی۔۔۔دوپہر کے وقت گھر میں داخل ہوتے ہی شمسہ بھاگ کر میرے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔یہ منظر دیکھ کر نادر چپکے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر تک شمسہ کو سمجھاتا اور سنبھالتا رہا۔۔۔آخر کافی دیر بعد جا کر وہ سنبھل گئی اور اس کو یقین ہو گیا کہ میں یعنی اس کا شوہر جمیل اس کے پاس موجود ہوں۔ باہر پاس پڑوس کے لوگوں کو بھی میرے (جمیل) کے آنے کی خبر ہو گئی تھی اس لیے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔۔۔انہی لوگوں کی منہ زبانی مجھے کمال(اپنے) گھر کی بربادی کی داستان سننا پڑی۔۔۔گاؤں کے لوگوں کو بلکل بھی معلوم نہیں تھا کہ اس دشمنی میں ہم کہاں تک جا چکے ہیں۔۔۔ان کے مطابق کمال اپنی پوری فیملی سمیت ختم ہو چکا تھا۔۔۔نوشاد کے بارے نہ کسی نے ذکر کیا اور نہ ہی میں نے بات کرنا مناسب سمجھا۔ شام کو ٹونی اور ڈاکٹر امتیاز نادر کو ملنے آئے۔۔۔کافی دیر وہ لوگ باتیں کرتے رہے۔۔۔اس وقت میں اندر کمرے میں شمسہ کی دلجوئی میں مصروف تھا۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد شمسہ سے چھپا کر نادر نے مجھے بتایا کہ وہ دونوں نادر سے میرے بارے میں پوچھ رہے تھے تو نادر نے آنکھوں میں جھوٹے آنسو لاتے ہوئے ایک ٹریفک حادثے میں میرے مر جانے کی جھوٹی کہانی سنا دی۔۔۔جسے سن کر وہ کافی غمگین ہو گئے تھے۔ حالانکہ ان جیسے دوستوں سے یہ بات چھپانا مناسب نہیں لگا لیکن پھر بھی یہ وقت اور حالات کا تقاضہ تھا اور ہمیں ہر وقت چوکس رہنا تھا۔۔۔اس لیے میں نے اس بارے نادر کو کچھ نہیں کہا بس سر ہلا کر چپ کر گیا۔ ************************ (62) دوستو یہاں ایک نہایت نازک موڑ آ گیا۔۔۔رات کا وقت تھا تو لازماً اتنے عرصے سے سیکس کو ترسی ہوئی شمسہ کے ساتھ مجھے خاوند کی حیثیت سے سیکس کرنا پڑتا اس لیے میں اور نادر ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔۔۔میں نے اشارے سے نادر کو باہر بلایا اور ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے کہا:نادر اب بھی وقت ہے میرا خیال ہے کہ شمسہ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتے ہیں۔۔۔نادر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔یار جب یہ بات پہلے فائنل ہو چکی ہے تو پھر اس بات کا ذکر فضول ہے۔۔۔تم آرام سے اسے اس کے حصے کی خوشیاں دو۔۔۔اس کے آنسو پونچھو،، میں یہاں سے جا رہا ہوں۔۔۔اب کل صبح ملاقات ہو گی۔ اس سے پہلے کہ میں جواب دینے کیلئے منہ کھولتا۔۔۔نادر رخ پھیر کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔میں چپ چاپ وہیں بیٹھا سگریٹ پہ سگریٹ پیتا رہا۔۔۔کافی دیر بعد میں نے دل میں سوچا۔۔۔چل بھئی کمال اب تو جو ہے سو ہے۔۔۔چڑھ جا شمسہ پر بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔۔میں نے واپس گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا اور چلتے ہوئے اندر شمسہ کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔شمسہ کمرے میں بےتابی سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی مجھے اندر آتے دیکھ کر وہ ایک جگہ رک گئی اور سر جھکا کر اپنی انگلیوں کو چٹخانے لگی۔۔۔میں نے اور دیر کرنا، اسے ترسانا مناسب نہ سمجھا اور اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنے بازو کھول دیے۔ مجھے ایسے بانہیں کھولتے دیکھ کر اس نے ایک لمحے کیلئے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر کٹی ہوئی پتنگ کی طرح میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ میرے گلے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی۔۔۔جمیل تم نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔بتاو مجھے چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے۔۔۔میں پل پل جئی اور پل پل مری ہوں۔۔۔تمہارے بغیر یہ دنیا پھیکی پھیکی لگتی تھی۔۔۔بتاؤ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے تھے۔۔۔یہ کہتے ہی وہ روتے روتے میرے سینے پر مکے مارنے لگی۔۔۔میں اسے اپنے ایک بازو میں سمیٹے دوسرے ہاتھ کو اس کی کمر پر پھیرتے ہوئے بولا: نہ رو پگلی نہ رو،، دیکھ اب تو میں آ گیا ہوں نا۔ ہر وقت تیرے ساتھ رہوں گا۔۔۔مجھے احساس ہے کہ بھری جوانی میں یہ دن کیسے گزرے ہوں گے۔۔۔یہ راتیں تم نے کیسے تڑپ تڑپ کر گزاری ہوں گی لیکن میری جان میں بھی تو ترسا ہوں۔۔۔تیرے بغیر میری کیا حالت تھی یہ میں ہی جانتا ہوں۔۔۔بس چپ کر جا اب میں آ گیا ہوں نا تو تیری آنکھوں سے آنسو نہیں نکلنے چاہیئے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے جھک کر اپنے ہونٹوں سے اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کو چوس کر صاف کر دیا۔۔۔میرے ہونٹ لگنے کی دیر تھی کہ جیسے اس کو کرنٹ سا لگا۔۔۔شمسہ نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔اتنے عرصے بعد اپنے محبوب کا پیار پاتے ہی وہ کانپ اٹھی اور پورے جوش کے ساتھ میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔شمسہ گاؤں کی پلی بڑھی لڑکی تھی۔۔۔قد کاٹھ میں وہ مجھ سے تھوڑی چھوٹی تھی۔ گاؤں کی باقی لڑکیوں کی طرح اس پر بھی رنگ روپ خوب چڑھا تھا۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے میرے سینے میں دھنسے جا رہے تھے۔۔۔اس کے چہرے کا رنگ گورا لیکن اس کے نین نقوش میں شیشے کی سی جاذبیت پائی جاتی تھی۔۔۔میں نے شمسہ کے نرم و نازک ہونٹوں کو ایک لمحے کیلئے خود سے جدا کیا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو اس وقت شہوانی جذبات سے سرخی مائل ہو رہا تھا شمسہ کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔۔۔اسی وقت شمسہ نے اچک کر دوبارہ میرے ہونٹوں سے ہونٹ ملا دیے۔۔۔میں نے بھی دل سے شمسہ کا شوہر بننے کا فیصلہ کر لیا۔ ************************ (63) میں نے اس کے گلابی ہونٹ چوستے چوستے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھایا اور لیجا کر بیڈ پر لٹاتے ہوئے اوپر جھک گیا۔۔۔شمسہ جنونی انداز میں میرے گالوں، آنکھو، لبوں کو چوم رہی تھی۔۔۔میں اوپر اٹھا اور شمسہ کے کپڑے اتار دیے۔۔۔نیچے اس نے لال رنگ کی برا کے ساتھ میچنگ لال رنگ کا ہی انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔شمسہ لال رنگ کی برا، پینٹی میں بلکل پری لگ رہی تھی۔۔۔اس کا حسین و جمیل بدن اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ میرے سامنے آ گیا۔۔۔میں بغیر پلک جھپکائے اس کے حسین جسم کو تکے جا رہا تھا۔۔۔وہ بےتابی سے اٹھی اور میرے سارے کپڑے اتار دیے۔ اب میں فقط انڈروئیر میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔شمسہ نے ایک ادا سے میرے نیم کھڑے لن کو انڈروئیر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور دھیرے دھیرے سہلانے لگی۔۔۔وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی جبکہ میں بیڈ کے پاس زمین پر کھڑا ہوا تھا۔۔۔دراصل میں کسی قسم کی پیش قدمی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اس لیے کہ ایک عورت اپنے جیون ساتھی کی ہر رمز سے واقف ہوتی ہے۔۔۔اس کے پیار کرنے کا انداز عورت کے ذہن کی اتھاہ گہرائیوں میں موجود ہوتا ہے۔۔۔اب میں تو میں نہیں تھا بلکہ میں جمیل تھا اس لیے پیش قدمی سے کترا رہا تھا۔۔۔شمسہ مسلسل میرے لن کو سہلاتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ میرے سینے کے بالوں میں پھیر رہی تھی جبکہ اس کے ہونٹ میری ناف کو چوم رہے تھے۔ میں نے بڑے پیار سے شمسہ کی طرف دیکھا اور مزے کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔شمسہ کا چہرہ سیکس کی حدت سے گلنار ہو رہا تھا۔۔۔ہھر وہ تھوڑا نیچے جھکی اور انڈروئیر کے اوپر سے ہی میرے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر ہلکا سا کاٹ لیا۔۔۔کیف و مستی کی ایک لہر میرے بدن میں دوڑ گئی اور میں نے آنکھیں کھولتے ہوئے سوچا کہ اچھا تو جمیل صاحب چوپا لگوانے کے بھی شوقین تھے۔ شمسہ ہر چیز سے بے نیاز اپنے کام میں مگن تھی اس کی زبان مسلسل میرے اکڑے ہوئے لن کا انڈروئیر کے اوپر سے ہی مساج کر رہی تھی اور میرا انڈروئیر اس کے تھوک سے گیلا ہو چکا تھا۔۔۔میں اس کے والہانہ انداز پر فدا ہو گیا۔۔۔شمسہ نے میرے انڈروئیر کو دونوں سائیڈوں سے پکڑ کر نیچے اتار دیا تو ساتھ ہی میرا موٹا تازہ، لمبا لن شمسہ کے منہ کے سامنے لہرانے لگا۔۔۔شمسہ میرے لن کو دیکھ کر بولی کیا بات ہے جمیل تمہارا لن پہلے سے کافی موٹا اور لمبا لگ رہا ہے تو میں بات بناتے ہوئے بولا: میری جان پہلے یہ تیری جدائی میں سوجا رہا اور اب تجھے ملنے کی خوشی میں پھول گیا ہے۔
  8. السلام علیکم!!!۔ کیسے ہیں سب دوست۔ یارو سب سے پہلے تو معذرت کرتا ہوں بہت ہی زیادہ مصروفیت کا شکار ہوں۔۔۔دراصل میں جس پلانٹ پہ کام کرتا ہوں وہاں حالات کافی ایبنارمل ہیں اور پتہ نہیں کب تک چلیں گے۔۔۔اس لیے لکھنے کیلئے ٹائم بہت کم مل رہا ہے۔ لیکن جیسے بھی ہو تھوڑا بہت لکھتا جاتا ہوں ساتھ ساتھ۔۔۔ آج کافی دنوں بعد اپڈیٹ دے رہا ہوں تو میرا خیال ہے کہ ساتھ میں دیری ہونے کا حرجانہ بھی دے رہا ہوں ایک لمبی ساری اپڈیٹ کی شکل میں۔ تو دوستو پڑھ کر بتائیے گا ضرور کہ کیسی رہی اپڈیٹ۔ ابھی سے بتا رہا ہوں کہ ہو سکتا کہ تھوڑا دیر سویر ہو جائے لیکن اپڈیٹ آئے گی ضرور۔۔۔ تو چلئیے چلتے ہیں اپڈیٹ کی طرف۔
  9. سٹوری پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ دوست لیکن کوئی بھی کمنٹ کرتے وقت یہ یاد رکھیے یہ سیکس سٹوری ہے۔ایکشن سٹوری نہیں مطلب سیکس سٹوری میں ایکشن ملے گا ایکشن سٹوری میں سیکس نہیں دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔
  10. السلام علیکم۔ کیسے ہیں سب دوست۔ یارو سب ٹھیک ٹھاک ہے میں بھی فٹ فاٹ ہوں۔ میں سمجھ رہا ہوں کہ اپڈیٹ کافی لیٹ ہو رہی۔۔۔لیکن کیا کروں یار۔ آفس میں ایک کافی بڑا پراجیکٹ چل رہا ہے۔۔۔ مجھے پچھلے کئی دنوں سے ایک بھی لفظ لکھنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔ دن کی ڈیوٹی ہے تو کبھی سگریٹ پیتے وقت دو چار لفظ سوچتا ہوں لیکن بارآور نہیں ہوتے۔۔۔ میرے ساتھ تو یہ ہو رہا کہ الفاظ یاد آتے تو لکھنے کو ٹائم نہیں ۔۔۔اور اگر دس منٹ مل جائیں تو کچھ ذہن میں نہیں آتا۔۔۔ ایک اپڈیٹ جلدی جلدی لکھی بھی تھی لیکن اس میں مجھے خود ہی مزہ نہیں آیا تو ڈیلیٹ مار دی۔ بہرحال اتنا انتظار کیا وہاں چار دن اور دے دیں۔۔۔پھر میری نائٹ ڈیوٹی شروع ہو جانی۔۔۔اس وقت میں تھوڑا ریلکس ہوں گا تو چار لفظ لکھ بھی پاؤں گا۔۔۔ امید ہے کہ میں چار دن بعد اپڈیٹ دے دوں گا۔ شکریہ۔
  11. آپ کا۔شکریہ جناب کہ یہاں تک تشریف لائے اور مجھے سمت بتائی۔۔۔ اب میں بھرپور کوشش کروں گا کہ سٹوری کو اسی سمت چلایا جائے۔۔۔ باقی جب ہیرو نے پہلا قتل کیا تو اس وقت وہ جوش اور جنون میں کر تو گیا لیکن حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں کر پایا اور ویسے بھی پہلا کارنامہ تھا اس لیے مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیسے چلاؤں تو یہ سب لکھ ڈالا۔ بہرکیف!!!۔ فلحال تو ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں لکھ پایا کیوں کہ یہاں کمپنی میں کچھ ایمرجنسی یا ہنگامی حالات چل رہے ہیں تو ٹائم بلکل نہیں مل رہا بس چار پانچ دن کی بات ہے پھر کچھ حالات نارمل ہوں گے تو میں اگلی اپڈیٹ لکھنا شروع کر دوں گا۔۔اور امید ہے کہ توقع کے مطابق ہی لکھ پاؤں گا۔ ویسے بھی میرے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ تو ہے نہیں اس لیے موبائل پر ہی لکھ کر سیو کرتا جاتا ہوں اور ایک جامع اپڈیٹ بنانے کے بعد موبائل سے ہی اپلوڈ کر دیتا ہوں۔
  12. شکریہ دوست۔ سیکس کا تڑکا جہاں نظر آتا کہ لگایا جا سکتا ہے لگا دیا جاتا ہے۔۔ ٹیمپو ویمپو کا تو پتہ نئیں لیکن سوچ رہا ہوں کہ سٹوری کو ایک اور نئی سمت دے دوں ایک نیا موڑ دیا جائے۔۔۔ اس کیلئے مجھے کچھ ناولز کی مدد لینی پڑ رہی ہے۔۔۔ دراصل اتنا سب کچھ بتانے کا مقصد یہی ہے کہ میں قارئین کو یہ بتانا یا سمجھانا چاہ رہا ہوں کہ لکھا کیسے جاتا ہے۔ آپ لوگ بھی کوشش کریں۔۔۔اردو فن کلب کی رائٹر فیملی میں شامل ہو جائیں۔۔۔
  13. بھائی آپ کے الفاظ کا شکریہ۔۔۔ لیکن یار اس کے علاوہ غمِ روزگار بھی ہے ساتھ میں۔۔۔اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ پوچھو مت۔۔ دوسری بات یار کہاں لیٹ آتی ہے اپڈیٹ۔۔۔ اب جانے بھی دیں ہفتہ دس دن میں اپڈیٹ کر تو دیتا ہوں۔
  14. (48) اگلے دن میری پٹیاں کھلنی تھیں۔۔۔نادر صبح نو بجے ہی آ دھمکا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد صبح دس بجے ڈاکٹر نے مجھے آپریشن روم میں مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میرے چہرے کی پٹیاں کھولنا شروع کر دیں۔۔۔پٹیوں سے آزاد کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کوئی دو تین اقسام کے لوشن مکس کر کے ان سے میرے چہرے پر مساج کرنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت جلدی تھی کہ دیکھوں تو سہی ڈاکٹر کی کارگزاریوں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔۔۔پر میں صبر اور تحمل سے آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔۔۔آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے میرے چہرے کو کپڑے سے اچھی طرح صاف کیا اور مجھے اٹھا کر چلاتے ہوئے باہر کامن روم میں لا کر صوفے پر بٹھا دیا۔۔۔چند لمحوں کی خاموشی کے بعد نادر کھنکھارتے ہوئے بولا۔۔۔میرے ویر ہن اکھاں کھول لے۔۔۔میں نے آنکھیں کھولیں تو نادر کو اپنے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھے دیکھا۔ نادر کے ساتھ والے ڈبل صوفے پر ڈاکٹر اور اس کی پٹاخہ بیوی شبنم بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میں نے ڈاکٹر کی آنکھوں میں ایک فخر اور خوشی کا احساس دیکھا۔۔۔شبنم مبہوت میرے چہرے کو دیکھ رہی تھی جبکہ نادر کی آنکھوں میں ایک عجیب احساس تھا۔۔۔اس احساس کو میں کوئی بھی نام نہیں دے پایا۔ میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے پوچھا نادر کیا ہوا۔۔۔ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔تو نادر بولا میری جان میں جو تجھ میں دیکھ رہا ہوں وہ تجھے شیشہ دیکھنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔لیکن شیشہ تم گھر میں جا کر ہی دیکھو گے۔۔۔میں نے اچنبے سے پوچھا کیوں یہاں آئینہ دیکھنے میں کیا قباحت ہے تو نادر بولا۔۔۔میرے ویر اتنی سی بات مان لے۔۔۔سمجھ لے اس میں میری خوشی ہے۔ میں نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ یار نادر کیسی بات کرتا ہے بھائی تیری وجہ سے تو میں ہوں۔۔۔تو بولے تو ساری زندگی آئینہ مت دیکھوں۔۔۔ہماری باتیں سن کر شبنم اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی: ویل مسٹر کمال!!!مبارک ہو آپ کو آپ کا چہرہ صحیح سلامت واپس مل گیا ہے۔۔۔پھر وہ چونکتے ہوئے بولی۔۔۔اوہ سوری میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔۔۔مجھے مسِز رحمان کہتے ہیں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میری طرف مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔۔۔میں نے اس کا نرم و نازک ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا اور وہ پھر پلٹ کر اندرونی کمروں کی طرف چلی گئی۔ اسی وقت ڈاکٹر نے پاس پڑی میز سے ایک چھوٹی سی بوتل اٹھا کر میری طرف بڑھائی اور بولا کہ یہ میرا تیار کردہ لوشن ہے۔۔۔تین دن تک اس کا مساج چہرے پر کرنا ہو گا۔۔۔تا کہ چہرے کی ملائمیت قائم رہ سکے۔۔۔ورنہ جِلد خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھے نایاب خان کے گھر واپس جا رہے تھے۔۔۔نایاب کے گھر کو تالا لگا ہوا تھا۔۔۔نادر نے چابی سے تالا کھولا اور ہم لوگ اندر داخل ہو گئے۔ کرسیوں پر بیٹھنے کے بعد ہم دونوں خاموشی سے بیٹھے ایک دوسرے کی شکل تکتے رہے۔۔۔پجر نادر ہی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا۔۔۔کمال میرے دوست!!!میں نے ایک کام تم سے پوچھے بنا کر ڈالا ہے۔۔۔میں خاموش رہا تو وہ بولا لیکن یہ کام میں نے کیوں کیا ہے وہ پہلے ان لو اس کے بعد جو دل چاہے بولنا میں چپ چاپ مان جاؤں گا۔۔۔میں پھر خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔نادر نے دو سگریٹ سلگائے۔۔۔ایک سگریٹ مجھے دینے کے بعد دوسرا وہ اپنے ہونٹوں میں دباتے ہوئے بولا:یار کمالے ایک دن جب میں گھر گیا تو میں نے شمسہ کو عجیب حالت میں دیکھا۔ میں نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ آنکھیں چراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنا منہ دوسری طرف گھماتے ہوئے بولا۔۔۔میں گھر گیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔پہلے بھی اکثر یہی ہوتا تھا کیونکہ ہمسائے والی ماسی سارا دن شمسہ کے پاس بیٹھی رہتی ہے تو آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔اس لیے میں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا اور اپنی ہی دھن میں چلتا ہوا اندرونی کمروں کی طرف چلا گیا۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔ جبکہ میں سوچ رہا تھا کہ آج پہلی بار نادر خلافِ توقع اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ اپنی عادت کے برخلاف پنجابی چھوڑ کر اردو میں بات کر رہا ہے۔۔۔پر میں منہ سے کچھ نہیں بولا اور دھیان سے نادر کی بات سننے لگا۔۔۔وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔ کمالے جمیل بھائی کے جانے کے بعد بھی شمسہ اکیلی ہی اپنے کمرے میں سوتی تھی یا کبھی کبھار ماسی اس کے ساتھ سو جاتی تھی۔۔۔تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں ذیادہ تر گھر سے باہر رہتا تھا۔۔۔اور کیسے ہم دونوں نے مل کر آج تک جمیل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔۔خیر میں بتا رہا تھا کہ اس دن جب میں اس کے کمرے کے پاس پہنچا تو مجھے عجیب سی آواز سنائی دی۔ یہ آوازیں میرے لیے انجان نہیں تھیں۔۔۔یہ آوازیں کوئی لڑکی یا عورت اس وقت حلق سے نکالتی ہے جب وہ کیف و سرور کی منزل سے گزر رہی ہو۔۔۔میں ٹھٹھک گیا کیونکہ یہ آوازیں شمسہ کے کمرے سے ہی آ رہی تھیں۔۔۔پہلے تو میں ایک دم غصے میں آ گیا اور سوچا کہ اندر داخل ہوتے ہی شمسہ اور اس کے ساتھ جو بھی ہو ان دونوں کو گولی سے اڑا دوں۔ میں نے اپنا پستول بھی ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔پھر میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے سوچا کہ پہلے دیکھوں تو سہی کہ یہ کون خنزیر کا پتر ہے جو میرے ہی گھر میں نقب لگا رہا ہے۔۔۔میں نے احتیاط سے اندر جھانکا تو وہیں پتھر ہو گیا۔۔۔اندر شمسہ۔۔۔شمسہ اتنا کہہ کر نادر چپ ہو گیا۔۔۔میں نے نہایت دھیمی آواز میں پوچھا!!!نادر اندر ایسا تم نے کیا دیکھا کہ تم وہیں پتھر کے ہو گئے۔۔۔بھائی مناسب سمجھو تو مجھے بتاؤ۔۔۔نادر آہستگی سے بولا کہ اندر شمسہ ننگی لیٹی ہوئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ایک کھیرا پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان والی جگہ میں ڈال کر زور زور سے ہلاتے ہوئے سسکیاں بھرتے ہوئے جمیل بھائی کو یاد کر رہی تھی۔ ************************* (49) اسی وقت مجھے لگا کہ جیسے وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔پھر اس نے کھیرا نکال کر باہر پھینک دیا اور دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر روتے ہوئے جمیل بھائی کو آوازیں دینے لگی۔۔۔جمیل میری زندگی۔۔۔مجھے یہاں اکیلا تڑپنے کیلئے چھوڑ کر کہاں چلے گئے۔۔۔یہ پہاڑ جیسے زندگی کیسے کٹے گی۔۔۔کمالے مجھ میں اور سننے،دیکھنے یا سہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔میں چپ چاپ وہاں سے نکلا اور کافی دیر بعد گھر واپس گیا۔۔۔اگلے مہینوں میں بھی کئی دفعہ میں نے شمسہ کو اسی آگ میں جلتے ہوئے دیکھا۔ پر میں سوائے اپنا دل جلانے کے اور کیا کر سکتا تھا۔۔۔پھر اس دن میں نے تمہیں دیکھا تمہارے چہرے کی حالت دیکھی تو میں نے اپنے دل میں اندر ہی اندر ایک فیصلہ کر لیا۔۔۔تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے گاؤں سے آتے وقت گھر سے جمیل کی چند تصاویر اٹھائی تھیں۔۔۔وہ تصاویر میں نے ڈاکٹر کو دے دیں۔۔۔اتنا کہہ کر نادر چپ کر گیا۔۔۔لیکن میں کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں پوچھ بیٹھا!!!یار نادر ان تصویروں سے میرا کیا تعلق۔ نادر آگے گیا اور دیوار پر ٹنگا ہوا شیشہ لا کر میرے سامنے کرسی پر رکھا اور چپ چاپ منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔میں نے شیشہ اٹھایا اور اس میں اپنا منہ دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ہکلاہٹ کے مارے میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا۔۔۔نن۔نادر یہ یہ جمیل۔میرا چہرہ۔۔۔اسی وقت نادر جھکتے ہوئے میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔میرے یار میری اس خود غرضی کو معاف کر دینا۔۔۔مجھ سے شمسہ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس لیے میں نے تمہیں جمیل کا روپ اور شکل و صورت دے دی ہے تاکہ۔۔۔تاکہ تم جمیل بن کر شمسہ کو سنبھالو۔۔۔اسے سہارا دو،شمسہ کے حصے کی خوشیاں اسے دے دو میرے بھائی۔ میں سکتے کی کیفیت میں بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔پر نادر مم۔مم۔میں کیسے جمیل۔۔۔شمسہ۔۔۔اف فف میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔۔۔یہ کہہ کر میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔نادر نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو کہہ اٹھا۔۔۔نہیں نہیں میرے ویر پریشان مت ہو۔۔۔چنگی طرح سوچ لے۔۔۔پر یاد رکھنا اس کے علاوہ میرے پاس ایک ہی حل ہے کہ میں شمسہ کو گولی مار کر خودکشی کر لوں۔۔۔میں اسے اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ نادر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر سر پکڑے بیٹھا رہا۔۔۔پھر میں نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی تو اچانک ایک انوکھی بات میرے ذہن میں آئی کہ اب میرا چہرہ میرا نہیں تھا جمیل کا تھا اور سب کو یہی پتہ ہے کہ جمیل سعودی میں بیمار ہے۔۔۔صرف میرے گھر والوں کو پتہ تھا اور وہ دنیا میں نہیں رہے۔۔۔تو مطلب اب اس راز کو جاننے والے میں اور نادر تھے۔ میں اس شکل کے ساتھ واپس اپنے گاؤں جا سکتا تھا اور وہاں سیالوں کے سامنے رہ کر ان کے سینوں پر مونگ دل سکتا تھا۔۔۔ویسے بھی میرا اپنا چہرہ تو بری طرح سے جل گیا تھا اور اب نادر کی مہربانی سے مجھے جمیل کی وجاہت ملی تھی۔۔۔چاہے اس میں نادر کی خود غرضی چھپی ہوئی تھی پر نادر کا خلوص اور اس خود غرضی کے پیچھے ایک معصوم لڑکی کی مدد یہ سب باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں۔۔۔میں وہاں سے اٹھا اور چلتے ہوئے باہر نکل آیا۔ نادر باہر صحن میں بیٹھا ہوا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔مجھے دیکھ کر نادر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نےبھاگ کر نادر کو گلے لگا لیا اور شوخی بھرے لہجے میں بولا۔۔۔نادر تو وڈا حرامی ایں۔۔۔اینا کجھ کر لیا پر مینوں خبر وی نہ ہون دتی۔۔۔نادر نے ایک دم مجھے خود سے علیحدہ کیا اور جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔مطلب تجھے اس سارے پروگرام پر کوئی اعتراض نہیں؟تو میں نے گردن جھکاتے ہوئے کہا:یارا آج میں جو بھی ہوں تیری وجہ سے ہوں۔ میں تیرے خلوص کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔میرے یار تو جو بھی کرے گا چنگا ہی کرے گا۔۔۔میں ہر طرح سے تیرے ساتھ ہوں۔۔۔نادر نے میری بات سن کر مجھے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگا۔۔۔او جی خوش کیتا ای جواناں۔۔۔بس ہن فٹافٹ میں شمسہ نوں ایتھے لیان دا بندوبست کردا واں تے توں اپنی ٹریننگ آپ شروع کر لے کہ اودے نال کی گل کریں گا کداں اونوں سنبھالیں گا۔۔۔باقی جمیل الوں سارے خط تے توں اونوں اپنے ہتھ نال ای لکھدا ریا ایں نا۔۔۔اس لئی مینوں یقین اے کہ سارے حالات جاندے ہوئے تو اونوں چنگی طرح سنبھال لویں گا۔ میں نے اسے پکڑ کر چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا!!!یار نادر شمسہ کو یہاں لانے کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ گاؤں بھی تو جا سکتے ہیں نا۔۔۔اب میں،میں نہیں ہوں اب میں جمیل ہوں۔۔۔نادر چند لمحے تو میری بات سمجھ نہیں پایا پھر جیسے ہی میری بات اس کی سمجھ میں آئی وہ ایک دم جوش میں میرے کندھے پر ہاتھ مار کر بولا"ایتھے رکھ،،یار ایہہ گل تے میرے ذہن وچ ای نہیں آئی۔ پھر وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔کمالے یار گاؤں جانے سے پہلے کچھ اہم کرنے باقی ہیں۔۔۔سیالوں کی طرف سے ہم پر بہت بھاری قرض ہے جو کہ ہمیں بہت اچھے انداز میں چکانا ہے۔۔۔سیالوں کے ساتھ جو کچھ کرنا ہے اس کیلئے ابھی ہمیں بہت طاقت درکار ہے۔۔۔جسمانی طاقت نہیں،کچھ اور ہی طرح کی طاقت۔۔۔ایسی طاقت جس کے ذریعے ہم ان کتی کے پتروں کے سامنے چٹان کی طرح جم کے کھڑے ہو سکیں۔۔۔بولتے بولتے نادر کے جبڑوں کی رگیں تن گئیں اور میں خوشی سے سرشار سوچنے لگا کہ پتہ نہیں یہ میری کس نیکی کا صلہ ہے جو قدرت نے مجھے نادر جیسا جانثار دوست عطا کیا ہے۔۔۔پھر نادر بولا:میں اتنے دن خالی نہیں بیٹھا۔۔۔کچھ بھاگ دوڑ کی ہے جس سے کافی کام کی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ************************* (50) پھر وہ چند لمحے کچھ سوچ کر بولا:بلکہ تو ایسا کر ابھی میرے ساتھ چل میں تجھے کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔میں اس کے ساتھ وہاں سے نکلا۔۔۔نادر نے ایک ٹیکسی کو روک کر کوئی ایڈریس بتایا پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔۔۔بیس منٹ بعد ہم لوگ ایک درمیانے درجے کی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اتر رہے تھے۔۔۔ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر فارغ کرنے کے بعد ہم لوگ سیدھا اندر چلے گئے۔ اندرونی کمروں میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک دفتر نما کمرہ تھا۔۔۔نادر مجھے لیے ہوئے سیدھا اس کمرے میں گھستا چلا گیا۔۔۔اندر ایک بڑی سی میز کے پیچھے کرسی پر ایک مارواڑی سندھی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔علیک سلیک کے بعد ہم لوگ اس کے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔نادر کو دیکھ کر سندھی کی باچھیں کھل گئیں اور وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔آؤ جی نادر صاحب کیسے مزاج ہیں۔۔۔آج ہماری یاد کیسے آ گئی۔۔۔نادر نے جواب دیا سیٹھ تمہارے پاس ایک کام سے آئے ہیں۔۔۔ہمیں کچھ اسلحہ چاہیے جو کہ فارن میڈ ہو۔ وہ سندھی ہمیں لیکر اندرونی حصے میں موجود ایک تہہ خانے میں پہنچ گیا۔۔۔تہہ خانے میں ہر قسم کے چھوٹے بڑے ہتھیار موجود تھے۔۔۔تہہ خانہ کیا بلکہ یہ تو کسی آرمی بٹالین کا اسلحہ خانہ لگتا تھا۔۔۔میں نے اپنے لیے ایک جرمن لیوگر ہی پسند کیا جس کے ساتھ ایک چھوٹے سائز کا نہایت نفیس قسم کا سائلنسر تھا۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر نے بھی ایک جرمن لیوگر ہی اٹھا لیا۔ اس کے بعد نادر نے دو نہایت اعلیٰ قسم کی سٹین گنیں پسند کیں۔۔۔میں نے ایک تیز دھار خنجر،جو کے چمڑے کی ایک پیٹی میں بند تھا وہ پسند کیا۔۔۔تسمے کی مدد سے یہ خنجر میں نے اپنی داہنی پنڈلی کے ساتھ باندھ لیا۔۔۔سیٹھ کو پیمنٹ کرنے کے بعد سٹین گنیں اور سارے ہتھیاروں کا ایمونیشن دو دن بعد گاؤں والے ایڈریس پر پہنچانے کا کہہ کر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے۔ گھر پہنچ کر اپنے پاس موجود گنز ہم نے ایک الماری میں رکھیں اور نادر مجھے لیکر پھر گھر سے نکل پڑا۔۔۔اب کی بار ہم لوگ ایک بینک پہنچے جہاں جا کر نادر نے بینک مینجر سے میرا تعارف اپنے بزنس پارٹنر کے طور پر کروایا۔۔۔پھر نادر نے اپنے اکاؤنٹ پر میرا نام بھی لکھوایا تا کہ نادر کی غیر موجودگی میں رقم نکالتے وقت مجھے کوئی پرابلم نہ ہو۔۔۔بینک سے فارغ ہو کر ہم باہر نکلے تو نادر نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور دوسرا خود اپنے ہونٹوں سے لگا کر جلاتے ہوئے بولا:لالے دی جان ایتھے آلے تے سارے کم مک گئے۔۔۔ہن دس پنڈ واپسی دا کی پروگرام اے۔ میں دھواں اڑاتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں نادر ابھی ایک کام باقی ہے یار۔۔۔پھر بنا نادر کو کچھ بتائے میں نے ایک پی سی او سے ڈاکٹر رحمان کے نمبر پر کال ملائی تو شومئی قسمت شبنم نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے مدعے کی بات شروع کی۔ شبنم!!!تمہیں یاد ہے اس رات میں نے تم سے کہا تھا کہ ہو سکتا مجھے تمہاری ضرورت پڑے تو شبنم نے جواب دیا:کیوں نہیں میری جان سب یاد ہے تم بتاؤ تو سہی کیا کام ہے۔۔۔میں نے کہا شبنم میری ساری کہانی تو تم سن ہی چکی ہو۔۔۔اب مجھے ایک دو ایسے جانثاروں کی ضرورت ہے جو کہ پورے خلوص سے میرے ساتھ مل کر کام کریں۔۔۔تم ڈاکٹر کے ذرائع استعمال کر کے پتہ چلاؤ کہ ایسے لوگ کہاں سے ملیں گے۔۔۔چونکہ ڈاکٹر کرنل بھی ہے تو وہ لازمی ایسے لوگوں کو جانتا ہو گا۔ شبنم کہنے لگی یار اتنے سے کام کیلئے ڈاکٹر کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔میں بذاتِ خود ایسے دو آدمیوں کو جانتی ہوں جو کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں۔۔۔اور زندہ رہنے کے تمام گر سیکھ چکے ہیں۔۔۔جرائم کی دنیا کی ساری اونچ نیچ سے واقف ہیں۔۔۔باقی تم ان دونوں سے مل لو خود ہی معلوم پڑ جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔۔۔میں بس اتنا جانتی ہوں کہ وہ تمہارے کام آ سکتے ہیں۔۔۔تم اپنا ایڈریس مجھے بتاؤ میں ان کو بھیج دیتی ہوں۔ ************************* (51) میں نے ایڈریس اسے بتایا تو اس نے دو گھنٹے کا کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔نادر چپ چاپ میری شکل دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے نادر کو اس رات کی ساری داستان سنائی تو نادر میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا:جیو شہزادے کہاں ہاتھ مارا ہے۔۔۔علاج کے دوران ہی ڈاکٹر کی بیوی چود ڈالی۔۔۔او کمالے تو واقعی کمال ہے۔۔۔اسی طرح ہنستے کھیلتے،باتیں کرتے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔دو گھنٹے بعد گھر کے صدر دروازے پر دستک ہوئی تو نادر نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔دروازے پر دو نوجوان موجود تھے۔ نادر ان کو لیکر اندر کمرے میں آ گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہم لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔رسمی باتوں کے بعد میں نے ان کا ماضی جاننے کی استدعا کی تو انہوں نے اپنا ماضی الضمیر کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔واقعی یہ زمانے کے ستائے ہوئے جوان تھے۔۔۔ایک کا نام سردار علی اور دوسرے کا نام حنیف خان تھا۔۔۔سردار علی جسامت میں حنیف خان سے کافی تگڑا تھا۔۔۔جبکہ حنیف خان لمبوترے قد کے ساتھ سانپ جیسی آنکھیں رکھتا تھا۔۔۔حنیف خان کے گھر والے کسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔۔۔دشمنوں نے اس کے پورے خاندان کو گولیوں سے اڑا دیا تھا۔ اس وقت حنیف خان کمزور تھا۔۔۔کچھ کر نہیں پایا لیکن وہ اپنے دشمن کو شکل سے پہچانتا تھا۔۔۔بعد میں حنیف خان نے چن چن کر مخالفوں کو قتل کر کے اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کا بدلہ لیا۔۔۔میں حنیف خان کی کہانی سن کر بہت متاثر ہوا کیونکہ میں بھی تو اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر اپنا سارا خاندان کھو بیٹھا تھا۔ سردار علی لاولد تھا۔۔۔مطلب اس کو اپنے والدین بارے کچھ معلوم نہیں تھا۔۔۔ایک یتیم خانے میں پل کر بڑھا ہوا۔۔۔اور معمولی چوری چکاری کرتے کرتے ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔۔۔اسے جیل ہو گئی اور پھر جیل سے وہ جرائم کی دنیا کے تمام قوانین سیکھ کر باہر نکلا۔۔۔شبنم کے ان لوگوں سے تعلقات بارے یہ پتہ چلا کہ حنیف خان تو شبنم کا دور پار کا رشتے دار تھا۔۔۔شبنم چونکہ حنیف کے سارے حالات جانتی تھی اس لیے اکثر شبنم اسے کہیں نہ کہیں کام دلوا دیا کرتی تھی۔۔۔اور حنیف کے توسط سے ہی سردار کو کام مل جاتا تھا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی لائن کے آدمی تھے اس لیے آپس میں تعلقات تھے۔ میرے پاس آنے سے پہلے وہ ایک اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے۔۔۔لیکن وہ اسمگلر چند مہینے پہلے ہی اپنے گروہ کے چیدہ چیدہ کارندوں سمیت قانون ساز اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تو اس لیے آج کل یہ دونوں فارغ البال تھے۔۔۔چنانچہ شبنم کے کہنے پر میرے پاس چلے آئے۔۔۔میں جسے معمولی لڑکی سمجھتا رہا وہ تو بڑی توپ قسم کی شے نکلی۔۔۔شبنم کا کریکٹر مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔۔بہرحال میں نے دل میں سوچا کہ مجھے اس کا کریکٹر سمجھ کر کرنا بھی کیا ہے۔ اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا۔ مجھے اپنے کام سے غرض رکھنی چاہیے۔۔۔مجھے حنیف خان کی آنکھوں میں بجلیاں سی دوڑتی نظر آئیں۔۔۔آنے والے وقتوں میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ بظاہر منحنی اور مجہول نظر آنے والا یہ شخص بے مثل صلاحیتوں کا مالک تھا۔۔۔اسے دیکھ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کتنا پھرتیلا اور طاقتور ہے۔۔۔اژدھے کی طرح وہ اگر کسی کو ایک بار اپنی گرفت میں جھکڑ لیتا تو پھر جان سے مار کر ہی چھوڑتا۔۔۔اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں،ذہنی طور پر بھی بہت پھرتیلا اور مستعد تھا۔۔۔کسی بھی صورتحال میں فوری فیصلہ کرنا اور اس پر عملدرآمد کرنا اس کی خصوصیت تھی اور عام طور پر وہ فیصلہ درست ہی ثابت ہوتا تھا۔ میں نے ان دونوں ہر اعتماد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں شروع سے لیکر آخر تک اپنی ساری رام لیلا سنائی۔۔۔ساری تفصیلات جاننے کے بعد وہ دونوں بہت متاثر ہوئے اور میرے لیے کام کرنے پر آمادہ ہو گئے۔۔۔پھر ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں واپس گاؤں جانا چاہیے۔۔۔اسلحہ کے نام پر دونوں کے پاس ریوالور موجود تھے۔۔۔ہم لوگوں نے اگلے دن وہاں سے گاؤں کوچ کرنے کا قصد کیا۔ ************************ (52) میں کافی دنوں سے محسوس کر رہا تھا کہ میرے دماغ میں کراچی کے حوالے سے کوئی چیز کھٹک رہی ہے۔۔۔لیکن بہت زور دینے پر بھی میں اپنے دماغ کو کلئیر نہیں کر پایا تھا۔۔۔ابھی اچانک جب واپسی کا قصد کیا تو اچانک میرے دماغ میں دو نام گونجے۔ رضیہ عرف راجی۔ چوہدری صفدر سیال۔ حالانکہ میری براہِ راست صفدر سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔۔۔لیکن صفدر کا وڈے چوہدری کے خاندان کا حصہ ہونا ہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔۔۔اوپر سے راجی کے کہنے کے مطابق وہ راجی کا مجرم بھی تھا اور سفاکیت میں اپنی مثال آپ۔۔۔راجی کے خاندان کو قتل کرنے والا صفدر سیال۔۔۔جیسے جیسے میں اس بارے سوچتا گیا۔۔۔میرے دماغ میں جیسے پارہ بھرتا گیا۔۔۔میرے ذہن میں کھچڑی سی پک رہی تھی ، میرے وجود میں کہیں کوئی چنگاری سی پھوٹی تھی اور شعلہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔میں سر تا پا مبتلائے اذیت تھا۔۔۔میرا رواں رواں جل رہا تھا۔۔۔جسم کا ہر مسام آگ اگل رہا تھا۔ مجھے یوں مٹھیاں بھینچ تے ہوئے دیکھ کر نادر نے مجھے آواز دیتے ہوئے پوچھا۔۔۔لالے دی جان کی گل خیر تے ہے۔۔۔میں نے نادر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔نادر ہم لوگ یہاں سے جا تو رہے ہی ہیں۔۔۔کیوں نہ جاتے جاتے وڈے چوہدری کیلئے ایک تحفہ ہی چھوڑ جائیں۔۔۔تحفہ؟ نادر نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے پھنکارتے ہوئے کہا:وڈے چوہدری کا ایک تخم یہاں کراچی میں بھی تو موجود ہے نا۔ نادر نے سرسراتے انداز میں کہا:کہیں تم صفدر سیال کی بات تو نہیں کر رہے۔۔۔میرے سر ہلانے پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔صفدر سیال جب بھی کہیں باہر نکلتا ہے تو اس کے ساتھ محافظوں کا پورا دستہ ہوتا ہے۔۔۔راستے میں اس پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل کام ہے البتہ ہم لوگ رات کے اندھیرے میں ان کو غفلت میں دبوچیں تو ذیادہ بہتر رہے گا۔۔۔تو کیا خیال ہے دوستو کام کی ابتدا کی جائے؟ یہ بات نادر نے سردار علی اور حنیف خان کو دیکھتے ہوئے کہی تھی۔۔۔حنیف خان بولا:سر جیسے آپ کہیں۔۔۔میں تو خود معاشرے کے اس ناسور کو مٹانے کیلئے بہت بیتاب ہوں۔ نادر نے مجھے مخاطب کیا:یار ایک مسئلہ ہے اس کنجر کے تخم کو ڈھونڈیں گے کیسے؟ کیونکہ میں صفدر سیال کی رہائش گاہ کے بارے میں نہیں جانتا۔۔۔البتہ ایک دفعہ وڈے چوہدری کے کسی کام سے مجھے صفدر کے ایک گودام میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔۔۔اس گودام کا ایڈریس مجھے معلوم ہے بس۔۔۔میں نے چونک کر پوچھا گودام۔کس چیز کا گودام؟ نادر نے بتایا کہ صفدر نے کسی انٹرنیشنل کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں کراچی میں چھوٹے سائز کی جیپ بنانے کا کاروبار شروع کیا ہوا ہے جو کہ بہت منافع میں جا رہا ہے۔۔یہ بہت ہی منافع بخش یونٹ ہے۔ کراچی کے مضافات میں انہوں نے بڑے بڑے گودام بنا رکھے ہیں، جہاں وہ تیار شدہ جیپں اسٹور کرتے ہیں۔۔۔انہیں وہ پوائنٹ ون کے نام سے پکارتے ہیں۔۔۔اس پوائنٹ ون اور گوداموں کا انچارج ایک جبار باری نام کا بندہ ہے جو کہ عرفِ عام میں جے باری کہلاتا ہے۔۔۔یہ جے باری ان گوداموں کا انچارج بھی ہے اور ویسے یہ ایک چلتا پھرتا پرزہ ہے۔۔۔درجنوں قتل کر چکا ہے اور عادتاً انتہائی سفاک ہے۔۔۔جب میں وہاں گیا تھا تو اسی سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔پھر اس کی جنم کنڈلی نکالی تو اس کے بارے میں یہ سب معلومات حاصل ہوئیں۔ ************************ (53) میں سر جھکائے کچھ سوچ رہا تھا تبھی حنیف خان گلا کھنکھارتے ہوئے بولا:سر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ آپ ان گوداموں کے مالک کو گھیرا چاہتے ہیں۔۔۔تو اس کا ایک سیدھا سادھا حل میرے پاس ہے۔۔۔پہلے ان گوداموں کے بارے میں مکمل معلومات نکالتے ہیں۔۔۔پھر موقع دیکھ کر وہاں کوئی بڑی کاروائی کرتے ہیں۔۔۔اب ظاہری سی بات ہے کہ گودام کی تباہی پر مالک تو ضرور آئے گا نا۔ میں نے تحسین بھرے انداز میں حنیف خان کا کاندھا تھپکتے ہوئے کہا۔۔۔واہ میرے دوست تم نے تو ایک منٹ میں انتہائی آسان حل بتا دیا۔۔۔چلو پھر لگ جاؤ کام پر اور جتنی جلدی ہو سکے ان گوداموں کا مکمل بائیو ڈیٹا اکٹھا کر لو تا کہ ان کتی کے بچوں پر ایک کاری ضرب لگا کر جنگ کا آغاز کریں۔ حنیف خان نے سردار علی کو اٹھاتے ہوئے کہا سر مجھے صرف چند گھنٹے درکار ہیں۔۔۔امید ہے کہ کل صبح تک پوری معلومات کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔اس کے بعد وہ دونوں نادر سے گوداموں کا ایڈریس معلوم کر کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔یہ رات نایاب خان کی معیت میں بڑی اچھی گزری۔۔۔یہ خان بھی یاروں کا یار تھا۔۔۔وہ ہمارے بارے میں صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ ہم لوگ کسی دشمنی کا شکار ہوئے ہیں اور میں اپنا چہرہ تبدیل کرنے کراچی آیا ہوں۔۔۔اس سے ذیادہ نہ ہم نے اسے بتایا اور نہ ہی اس سیدھے سادے انسان کو بتانے کی ضرورت تھی۔ رات کو آتے وقت وہ بازار سے فرائی چکن اور گرما گرم تندوری روٹیاں لے آیا۔۔۔ہم تینوں نے مل کر خوب مزے سے کھانا کھایا۔۔۔پھر ہم لوگوں نے نایاب کو بتایا کہ ہم لوگ کل صبح واپس چلے جائیں گے تو ہمارے جانے کا سن کر وہ تھوڑا غمگین ہوتے ہوئے بولا بھائیو!!!تم لوگوں کے ساتھ تو ٹھیک سے بیٹھ کر گپ شپ بھی نہیں کر پایا اور تم لوگوں نے واپسی کی نوید سنا دی۔۔۔بہرحال اس کو کوئی میٹھا پپلو سنا کر ہم لوگوں نے اپنی واپسی بارے میں رام کیا اس کے بعد کافی دیر گپ شپ لگاتے رہے۔ اگلے دن صبح نو بجے حنیف خان اور سردار کی آمد ہوئی۔۔۔اس وقت نایاب خان کسی کام سے باہر نکلا تھا۔۔۔نایاب خان کو ہم نے یہی بتایا تھا کہ گیارہ بجے ہم لوگ گھر سے نکلیں گے تو وہ اس سے پہلے پہلے واپس آنے کا کہہ کر کسی ضروری کام سے چلا گیا۔۔۔چند لمحوں بعد میں اور حنیف آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔حنیف کے چہرے پر ایک خاص قسم کی چمک محسوس کر کے میں پوچھے بغیر رہ نہ سکا۔۔۔کیا بات ہے حنیف بہت پرجوش لگ رہے ہو تو وہ بولا:سر بات ہی خوشی کی ہے۔۔۔ہم نے کل رات پورا بائیو ڈیٹا نکال لیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق پانچ سو کے قریب تیار شدہ جیپیں وہاں موجود شیڈز میں منتقل کی جا چکی ہیں۔۔۔پروڈکشن کا خام مال بھی کافی مقدار میں سٹور کیا ہوا ہے۔۔۔دھڑا دھڑ مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے اور جیپ کے ٹینک میں پٹرول ڈال کر جیپ کو شیڈ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔۔جیسے ہی مجھ پر یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ ان جڑواں گوداموں میں سیال اینڈ کمپنی کی پانچ سو تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔میری ذہن میں موجود چنگاری شعلہ بن کر ابھرنے لگی۔۔۔میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ سیالوں پر ایک کاری ضرب لگانی ہے۔ ان کی ماں کی پھدی۔ کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور میں بھی اس وقت سیالوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں تن تنہا ان گوداموں میں گھسوں گا اور ان گشتی کے بچوں سیالوں کو یادگار نقصان پہنچاؤں گا۔۔۔میرا ٹارگٹ گوداموں میں موجود وہ بڑے شیڈز تھے جہاں کمپنی کی تیار شدہ پانچ سو جیپیں موجود تھیں۔ میں نے حنیف اور نادر دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اس بھلے مانس نایاب خان کو چکر دینا ہے۔۔۔اس بابت میں نے ساری بات حنیف کو سمجھائی تو وہ بولا اس بات کی آپ فکر مت کریں۔۔۔آپ لوگ یہاں سے سیدھے ریلوے اسٹیشن جائیں اور میں آپ لوگوں کو ریلوے سٹیشن سے گیارہ بجے اٹھا لوں گا۔۔۔اس کے بعد باقی کا پروگرام میرے ٹھکانے پر بیٹھ کر طے کریں گے۔ پروگرام فائنل ہونے کے بعد سردار اور حنیف وہاں سے نکل گئے۔۔۔کچھ دیر بعد ہی نایاب خان گھر پہنچ گیا۔۔۔ٹھیک ساڑھے دس بجے نایاب خان خود ہمیں ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آیا۔۔۔اس کو دکھانے کیلئے ہم نے باقاعدہ لاہور والی گاڑی کے ٹکٹ خریدے اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔گاڑی کے وصل دیتے ہی وہ سادہ لوح آدمی ہمیں الوداع کہہ کر واپس چلا گیا اور ہم اگلے ڈبے سے ہو کر گاڑی سے اتر کے محتاط انداز سے دیکھتے ہوئے سٹیشن سے باہر نکل آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق حنیف خان ایک سرمئی رنگ کی فوکسی میں موجود تھا۔ ************************ (54) ہم گاڑی میں بیٹھے تو حنیف خان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔میں نے پوچھا حنیف یہ گاڑی کہاں سے لائے ہو تو وہ بولا:سر یہ ایک دوست کی ورکشاپ سے لایا ہوں۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم لوگ ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے گاڑی سے اتر رہے تھے۔۔۔سردار علی دروازے پر ہی موجود تھا۔۔۔ہم لوگ اندر چلے گئے یہ دو کمروں کا مکان تھا۔۔۔کمرے میں موجود کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے آگے کا پلان ڈسکس کرنا شروع کر دیا۔ میں نے انہیں ساری بات تفصیل سے سمجھائی۔۔۔اس کام کیلئے ہمیں ایک بڑی گاڑی کی ضرورت تھی۔۔۔اس کی حامی سردار علی نے بھر لی کہ عین وقت پر وہ کسی پارکنگ لاٹ سے گاڑی اڑا لائے گا بقول اس کے یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔کاروائی کرنے کے بعد گاڑی کہیں بھی چھوڑی جا سکتی تھی۔۔۔نادر نے سردار کی بات سے اتفاق کیا۔۔۔بقیہ وقت ہم لوگوں نے کچھ ضروری خریداری میں گزارا۔۔۔پھر اپنے پروگرام کے مطابق رات تقریباً دس بجے سردار علی ایک نئی کالے رنگ کی تاریک شیشوں والی کرولا کار اڑا لایا۔ ہم چاروں اس تاریک شیشوں والی کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکلے اور اس شخص کی کوٹھی پر پہنچ گئے جو کہ ان گوداموں کا کرتا دھرتا تھا۔۔۔جی ہاں میں جے باری کی بات کر رہا ہوں۔۔۔میں نے اور نادر نے انتہائی قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو کہ سپیشل آج ہی اسی مقصد کیلئے خریدے گئے تھے۔اسلحے کے نام پر ہم دونوں کے پاس جرمن لیوگر موجود تھے۔۔۔حنیف پروگرام کے مطابق کوٹھی سے تھوڑے فاصلے پر اتر گیا جبکہ سردار ڈرائیور کی حیثیت سے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود رہا۔۔۔حنیف کو اتارنے کے بعد ہم سیدھا باری کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔۔۔ہماری نئی نویلی کار دیکھ کر اس کے گارڈز بڑی تعظیم سے پیش آئے۔ میں نے جے باری کو پیغام بھجوایا کہ میں ایک ابھرتا ہوا صنعتکار ہوں اور کاروباری حوالے سے ہمارا باری صاحب سے ملنا اشد ضروری ہے۔۔۔اسی ضمن میں پہلے سے تیار کردہ ایک فرضی کارڈ بھی اندر بھجوایا۔۔۔تھوڑی سی مدوکدر کے بعد جے باری کے کارندے مجھے اور نادر کو ڈرائنگ روم میں لے گئے۔۔۔ہم لوگ صوفوں پر بیٹھے تھے کہ چند منٹ بعد جے باری بھی وہاں پہنچ گیا۔۔۔اس کو آتے دیکھ کر اس کا کارندہ جو ہمیں وہاں لیکر آیا تھا تعظیم دیتے ہوئے واپس چلا گیا۔ جے باری سانولی رنگت اور چست جسم والا چونتیس، پی تیس سالہ شخص تھا۔۔۔اس کے ساتھ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی۔۔۔خوش شکل لڑکی نے جزبات بھڑکانے والا ایسا لباس پہن رکھا تھا کہ دیکھتے ہی لن سر اٹھانے لگے۔۔۔اس کی آنکھوں میں ہلکا سا خمار تھا صاف دکھتا تھا کہ وہ شراب پیتے ہوئے اٹھ کر آئے ہیں۔۔۔لڑکی کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ نہایت"اونچے درجے کی گاہک"پھانسنے والی رنڈی ہے۔۔۔آج ہفتے کی رات تھی اور غالباً جے باری اس ویک اینڈ پر گشتی کی پھدی مارنے کیلئے اس کو لایا تھا۔ پر جے باری کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک اینڈ اس کے سر پر کیا قیامت توڑنے والا ہے۔۔۔میرے دل کا موسم عجیب ہو رہا تھا۔۔۔سیالوں اور ان سے وابستہ کسی بھی فرد کیلئے میرے دل میں رحم کی رمق نہیں تھی۔۔۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔ٹرالی ہر شراب کی بوتل اور گلاس رکھے ہوئے تھے۔۔۔ملازم نے ہم سب کیلئے شراب کے جام بنائے اور الٹے قدموں واپس کمرے سے باہر چلا گیا۔ میں نے جے باری سے پوچھا"کیا ہم یہاں پورے تحفظ کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔،، دوسرے لفظوں میں میرا مدعا یہ تھا کہ کیا ہماری بات چیت کے درمیان یہ لڑکی یہاں ہی موجود رہے گی؟ جے باری نے کہا" ہاں آپ پورے اعتماد سے بات کر سکتے ہیں یہ کمرہ ہر طرح سے محفوظ ہے اور جب تک میں نہیں چاہوں گا کوئی ملازم بھی اندر قدم نہیں رکھے گا۔۔۔وہ ہمارے بیش قیمت لباسوں سے خاصا مرعوب نظر آ رہا تھا۔ ************************ (55) باری کی بات سن کر میں نے اور نادر نے گہری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہم دونوں نے سائلنسر لگے لیوگر باہر نکال لیے تو جے باری اور اس کی ساتھی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔پہلے تو جے باری نے فٹافٹ اٹھنے کی کوشش کی پھر گن کا رخ اپنی جانب دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ کون ہو تم؟،، اس کی آنکھوں میں دنیا جہاں کے اندیشے سمٹ آئے۔ میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔تیری ماں کا ٹھوکو ہوں۔۔۔میرا نام کمال ہے اور اگر میرا موڈ ہو تو میں بلاوجہ ہی بندہ مار دیا کرتا ہوں۔۔۔میری بات سن کر جے باری کی آنکھوں میں خوف کی لہر ابھر آئی۔۔۔اس نے اپنا شراب کا جام ٹرالی پر رکھا اور خود کو سنبھال کر بولا،، میں کسی کمال کو نہیں جانتا۔۔۔تم جو کوئی بھی ہو، میں تمہیں بتا دوں کہ یہاں چھ مسلح گارڈ موجود ہیں۔تم کسی بری نیت سے آئے ہو تو یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔ اس دوران نادر اٹھ کر دروازے کے پاس چلا گیا اور دروازہ کور کر لیا مباداً کوئی آ نہ جائے۔۔۔میں نے ایک سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا،، تیرے جیسے نامرد کتوں کی فوج کے سہارے حرامی پن کر سکتے ہیں۔۔۔یہ میرے ہاتھ میں جو گن موجود ہے اس پر بڑا نفیس سائلنسر لگا ہوا ہے۔۔۔تمہیں گولی ماروں گا تو شاید ساتھ والے کمرے میں کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔یہ نمونہ دیکھو۔،، میں نے گولی چلائی تو ٹھس کی آواز نکلی اور گولی سیدھا لڑکی کی آنکھوں کے بیچوں بیچ ماتھے پر جا لگی اور کھوپڑی کو توڑتی ہوئی پیچھے سے نکل گئی۔ وہ گشتی باری کے پہلو میں بیٹھی تھی اس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی وہ ایک دم جھکی اور اوندھے منہ قالین پر گر گئی۔۔۔اس کے خون سے سرخ قالین سرخ تر ہونے لگا۔۔۔جے باری جیسے سکتے کی حالت میں رہ گیا تھا۔۔۔اس کے ہونٹ کانپتے رہ گئے مگر آواز،، ندارد،، تھی۔۔۔میں نے زہریلے لہجے میں کہا:دیکھا بلکل بھی آواز نہیں آئی۔۔۔پانچ دس سیکنڈز تک قیامت خیز سناٹا جاری رہا۔ کک۔کیا چاہتے ہو تم؟" جے باری نے رندھے ہوئے گلے سے پوچھا۔ میں تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن فلحال تم بنا چوں چراں کیے میرے ساتھ پوائنٹ ون کے گوداموں پر چلو گے۔۔۔جہاں صفدر سیال اینڈ کمپنی کی تیار شدہ جیپیں موجود ہیں۔۔۔اس نے سر گھما کر لڑکی کی طرف دیکھا تو اس گشتی کی لاش تھوڑی دیر جنبش کرتی نظر آئی پھر ساکت ہو گئی۔۔۔جے باری نے ایک نہایت دہشت زدہ نظر لاش پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔میں نے جے باری کو گن دکھا کر اسے نشانہ پر رکھتے ہوئے لیوگر جیب میں ڈال لیا۔ یہاں شاید دوستوں کو مجھ سے اختلاف ہو کہ میں نے بے رحمی سے ایک بے قصور لڑکی کو مار دیا۔۔۔دشمنی کے اس انداز کو یقیناً آپ لوگ غیر اخلاقی قرار دیں گے لیکن سیالوں نے جس بے رحمی سے میری فیملی کو قتل کیا اور میری معصوم بہن کی عزت لوٹی اس کو پامال کیا تھا اس نے میرے اندر نفرت کا ایک ایسا الاؤ بھڑکا دیا تھا کہ اب میرے اندر اخلاقی اور غیر اخلاقی کی اہمیت بلکل بھی باقی نہ رہی تھی۔ میں سیالوں کے ساتھ جڑے ہر شخص کو بے رحمی سے ہی قتل کر دینا چاہتا تھا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اب جو میں کرنے جا رہا ہوں یہ کروڑوں کا نقصان ہو گا لیکن یہ سب ایک ایسے دشمن کا نقصان تھا جس کا ہر فائدہ اس کی کالی طاقت میں اضافہ کرتا۔۔۔اور اس کی طاقت میرے جیسے بے ضرر لوگوں کو مجرم بناتی۔۔۔چھیمو جیسی لڑکیوں کی زندگیاں اجیرن کرتی۔۔۔راجی جیسی لڑکیوں کو اس کے عیش کدے کی زینت بناتی۔۔۔میری فیملی جیسے بے قصور لوگوں کا خون پیتی۔۔۔یہ طاقت ایک کالی شکتی تھی۔۔۔یہ کسی بھی حالت میں ہوتی تو اسے تباہ کرنا میرے نزدیک نیکی ہی ہوتی،، بہت بڑی نیکی۔ ******************** (56) ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہم پوائنٹ ون میں اس طرح داخل ہو رہے تھے کہ جے باری اپنی شاندار ٹیوٹا جیپ چلا رہا تھا اور میں اس کے پہلو میں اس طرح بیٹھا تھا کہ لیوگر میرے ہاتھ میں اور اس کی نال باری کی طرف تھی۔۔۔جبکہ نادر پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔میں نے کن اکھیوں سے بیک مرر میں دیکھا تو حنیف اور سردار گاڑی میں پیچھے پیچھے آتے نظر آئے۔۔۔پروگرام کے مطابق اگر ہم اندر کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو سائلنسر نکال کر ایک فائر کر دیتے۔۔۔جسے سنتے ہی وہ دونوں ہماری مدد کو اندر آ جاتے۔۔۔ پوائنٹ ون میں داخل ہوتے وقت میں نے کہا،، میرا خیال ہے کہ تم مجھے اچھی طرح جان چکے ہو اور ابھی تازہ تازہ میری کارکردگی بھی دیکھ چکے ہو۔۔۔تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ کوئی بھی چالاکی دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ سیکورٹی کے ایک دو مراحل سے گزر کر ہم پوائنٹ ون کے گوداموں کے قریب پہنچ گئے۔۔۔یہ گودام چھ عدد وسیع و عریض شیڈز پر مشتمل تھے۔۔۔یہاں تیار شدہ جیپیں قطار در قطار پارک کی گئی تھیں۔۔۔جے باری کو ابھی تک کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ہم گاڑی سے اتر کر ایک وسیع و عریض شیڈز میں داخل ہو گئے۔۔۔یوں لگتا تھا کہ کسی اسٹیڈیم پر چھت ڈال دی گئی ہے۔۔۔اس شیڈ میں کم و بیش ڈیڑھ سو گاڑیاں موجود تھیں۔ دوسرے تین شیڈز بھی بلکل ساتھ ساتھ واقع تھے۔۔۔یہ ہفتے کی رات تھی۔۔۔گودام پر صرف ایک تہائی عملہ ڈیوٹی دے رہا تھا۔۔۔میں نے جے باری کو ہدایت کی کہ وہ کسی مناسب بہانے سے عملے کے ارکان کو پندرہ بیس منٹ کیلئے کسی دوسرے شیڈ کی طرف بھیج دے۔۔۔تھوڑی سی پش و پیش کے بعد باری نے میری ہدایت پر عمل کیا۔۔۔تاہم میں نے محسوس کیا کہ عملے کے انچارج کو باری کی یہ ہدایات کچھ پسند نہیں آئیں۔۔۔اس کے چہرے پر الجھن کے آثار تھے اور وہ میری اور نادر کی طرف سے بھی شک کا شکار معلوم ہوتا تھا۔ بہرحال اس نے عملے کے تین چار افراد کو باہر بھیج دیا۔۔۔میں اور نادر باری کے ساتھ شیڈ کے آفس میں کھڑے تھے جب انچارج اندر آگیا۔۔۔اس نے باری سے کہا:کیا میں آپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟ تم نے جو کہنا ہے یہیں کہہ دو۔" باری نے مری مری آواز میں کہا۔۔۔انچارج بولا" گستاخی معاف سر! یہ رولز کے خلاف ہے کہ ہم سب دوسرے شیڈ میں چلے جائیں۔۔۔اس کے علاوہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ۔۔۔" ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ نادر کی بے آواز گن سے ایک گولی نکلی جو کہ انچارج کی کھوپڑی توڑ کر نکل گئی۔۔۔وہ لہرا کر زمین کی طرف آیا۔ میں نے اسے ایک ہاتھ سے سنبھالا اور آہستگی سے زمین پر لٹا دیا۔۔۔گولی چلنے سے جو ٹھس کی آواز نکلی تھی اس نے ایک بدقسمت پہرے دار کو اندر کھینچ لیا۔۔۔باہر کھٹکے کی آواز سنتے ہی میں لپک کر آفس کے دروازے کے پیچھے گیا تھا اور جیسے ہی پہرے دار اندر داخل ہوا میں نے پیچھے سے اس کے منہ کو دبوچتے ہوئے لیوگر کی ایک زوردار ضرب اس کی گدی پر لگائی اور وہ بھی لہرا کر نیچے آ رہا۔۔۔جے باری کا انتہائی زرد رنگ کچھ اور بھی زرد ہو گیا۔۔۔یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی گر کر بیہوش ہو جائے گا۔ تھوڑی ہی دیر بعد باری عملے کے دوسرے ارکان کو کسی نہ کسی بہانے سے دوسرے شیڈ کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔اب وہ بلا چوں چراں میری ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔۔۔آفس میں بس ایک ٹیلی فون سیٹ تھا جس کی تار میں نے کاٹ دی اور فون سیٹ اٹھا کر باہر پھینکتے ہوئے نادر کو اشارہ کیا تو اس نے جیب میں موجود ایک رسی کے ساتھ فٹافٹ جے باری کے ہاتھ باندھے اور اسے آفس میں دھکیل کر آفس کو باہر سے بند کر دیا۔۔۔میں جانتا تھا کہ شیڈز میں موجود گاڑیوں کے اندر کافی مقدار میں پٹرول ہو گا۔۔۔یہ پٹرول کمپنی کی طرف سے گاڑیوں کو آگے پیچھے حرکت دینے کیلئے گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ میں نے نادر کو اشارہ کیا اور خود ایک طویل قطار میں موجود چند گاڑیوں کے بونٹ اٹھائے اور ان کی فیول لائنیں ایک پلاس کی مدد سے کاٹ دیں۔۔۔میری دیکھا دیکھی نادر بھی ایک دوسری قطار میں گھس کر یہی کاروائی دہرانے لگا۔۔۔جونہی ہم فیول لائن کاٹتے تھے پٹرول ایک باریک دھار کی شکل میں فرش پر بہنے لگتا تھا۔۔۔اگلے دس منٹ میں ہم لوگوں نے اس شیڈ میں موجود کم از کم بیس مختلف جیپوں کی فیول لائنز کاٹ دیں۔ پٹرول تیزی سے فرش پر بہنے لگا۔۔۔پٹرول کی بو یقیناً جے باری تک بھی پہنچ گئی ہو گی۔۔۔لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کوئی سوال کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔آفس کے قریب ہی مجھے موبل آئل سے بھرے ہوئے چند ڈرم بھی نظر آ گئے۔۔۔میں نے ان ڈرمز کے کیپ ہٹائے اور انہیں بھی فرش پر لڑھکا دیا۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ موبل آئل بھی فرش پر پھیلتا گیا۔۔۔اب فقط ایک دیا سلائی دکھانے کی دیر تھی۔۔۔میں نے لیوگر ہاتھ میں سنبھالا اور آفس کا دروازہ کھولا۔۔۔جے باری کی آنکھیں دہشت سے پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے لیوگر باری کی طرف سیدھا کرتے ہوئے کہا:سوری باری،، تم نے مجھ سے تعاون کیا ہے لیکن میں تمہیں زندہ نہیں رکھ سکتا۔ ************************ (57) پپ۔پلیز۔۔۔فار گاڈ سیک مجھے معاف کر دو۔۔۔میں قسم کھاتا ہوں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وعدے توڑنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور جو وعدہ جو تم کر رہے ہو یہ تو ویسے ہی بڑا نا پائیدار ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ جاتے جاتے تم ایک نا پائیدار وعدہ کرو۔ ،،خدا حافظ میں نے ٹرائیگر دبا دیا۔گولی اس کی شہہ رگ چیرتی ہوئی سر کے عقب سے نکل گئی۔۔۔وہ الٹ کر ریوالونگ چئیر پر گرا اور زمین بوس ہو گیا۔۔۔اسے گولی مار کر میں نے اس کی موت کو آسان بنا دیا تھا۔۔۔ورنہ اسے بھی وسیع شیڈ اور اس میں موجود گاڑہوں کے ساتھ زندہ نظرِ آتش ہو جانا تھا اور یہ بڑی دردناک موت ہوتی۔۔۔شیڈ کے مین دروازے کے بلکل قریب کھڑے ہو کر میں نے دیا سلائی روشن کی۔۔۔پٹرول کی ایک لکیر بہتی ہوئی میرے بلکل قریب چلی آئی تھی۔۔۔میں نے دیا سلائی اس لکیر پر پھینک دی۔۔۔آگ بڑی تیزی سے اپنے سفر پر روانہ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سیکنڈز میں ہی قطار در قطار کھڑی جیپوں کے نیچے پھیل گئی۔ شعلے تیزی سے بلند ہوئے تو میں اور نادر جلدی سے مین گیٹ سے سلپ ہو کر باہر نکل گئے۔۔۔آگ دیکھتے ہی ایک دم ہر طرف ہاہاکار مچ گئی اور ہم نے درجنوں باوردی کارکنوں کو آگ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔۔۔یہ افراتفری بھاگنے کیلئے بے حد موزوں تھی۔۔۔ہم احتیاط سے پیچھے ہٹتے گئے۔۔۔چند منٹ میں ہم آتشزدگی کے مقام سے دور محفوظ مقام تک پہنچ چکے تھے۔۔۔تبھی ہم نے ان گِنت دھماکوں کی آوازیں سنیں۔۔۔یہ ٹائر برسٹ ہونے اور پٹرول ٹینک پھٹنے کی آوازیں تھیں۔۔۔شیڈ میں بھڑکنے والے شعلے دیکھتے ہی دیکھتے چالیس پچاس فٹ کی بلندی تک چلے گئے تھے۔۔۔جے باری کی ٹیوٹا جیپ کی چابی اس کے اگنیشن میں ہی موجود تھی۔۔۔ہم فٹافٹ جیپ میں بیٹھے نادر نے جیپ سٹارٹ کی اور بھاگتے دوڑتے لوگوں کے درمیان سے ڈرائیو کرتا ہوا بڑی سڑک کی طرف نکل گیا۔ کچھ دیر بعد ہم ایک محفوظ جگہ پر پہنچ گئے۔۔۔ہمیں ٹھکانے پر پہنچانے کے بعد حنیف خان اور سردار علی گاڑیاں ٹھکانے لگانے چلے گئے۔۔ اگلے روز کے اخبارات میں پوائنٹ ون میں ہونے والی آتشزدگی کی خبریں شہہ سرخیوں کے ساتھ موجود تھیں۔۔۔گودام میں موجود چار شیڈز جل کر بلکل راکھ ہو چکے تھے۔۔۔ان میں موجود باقی اشیاء بھی راکھ کا ڈھیر ہو گئیں۔۔۔اس آگ نے کم و بیش چار سو گاڑیوں کو اسکریپ میں بدل دیا تھا۔۔۔ان خبروں کے ساتھ تین ہلاکتوں کی خبر بھی چھپی تھی۔۔۔اور پولیس کی طرف سے اس آتشزدگی کو مجرمانہ فعل قرار دیا جا رہا تھا۔ پوائنٹ ون کے عملے نے بیان دیا تھا کہ دو شخص رات گئے جے باری کے ساتھ گودام میں آئے تھے جن کے عادات و اطوار مشکوک تھے۔۔۔مخاطب امکان ہے کہ وہ دونوں شخص ہی اس المیے کے ذمے دار ہوں۔۔۔مجھے کامِل یقین تھا کہ اس المیے کے بعد صفدر سیال اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر پوائنٹ ون کا رخ کرے گا اور یہی میں چاہتا تھا اس کاروائی کا مقصد ہی یہی تھا۔۔۔میری توقع کے عین مطابق اگلے روز صبح سویرے صفدر سیال اپنے پانچ عدد باڈی گارڈز کے ساتھ پوائنٹ ون پر موجود تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ وہاں پہنچے تھے جو کہ نقصان کا جائزہ لینے آئے تھے۔ میں نے سردار اور حنیف خان کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ صفدر کی آمد و رفت اور اس کی نقل و حرکت کا مکمل حساب رکھیں اور مجھے صورتحال سے آگاہ کریں۔۔۔صفدر کے پوائنٹ ون پہنچتے ہی انہوں نے خوش اسلوبی سے اپنا کام کرنا شروع کر دیا۔۔۔حنیف نے وہاں کسی کے ساتھ یاری گانٹھ لی تھی تا کہ صفدر کے آنے پر وہ اس کو پہچان کر اس کی تصدیق کر سکے۔۔۔اتنا تردد صرف اسی لیے کہ حنیف خان پہلے صفدر سیال کو نہیں جانتا تھا۔ ************************ (58) رات گئے تک وہ دونوں واپس نہیں آئے تو میں اور نادر کھانا کھانے کیلئے باہر نکل گئے۔۔۔ایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ٹیکسی کی تلاش میں باہر فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔اسی وقت میں نے ہوٹل کے گیٹ سے کچھ دور ہوٹل کی دیوار کے ساتھ پھیلی ہوئی سبزے کی پٹی پر ایک انتہائی بوڑھے اور آٹھ دس سال کے بچے کو بیٹھے دیکھا۔۔۔ان کے جسموں پر میلے کچیلے جیتھڑے جھول رہے تھے۔۔۔وہ ہوٹل کے گیٹ سے نکلنے والی ہر گاڑی کے سامنے پر امید انداز میں ہاتھ پھیلا رہے تھے۔۔۔مگر ہر گاڑی ان کے قریب سے گزرتی چلی جاتی تھی۔ ہم بھی ان کے سامنے سے گزر گئے۔۔۔وہاں سے گزرتے وقت میں نے اس معصوم سے بچے کی آنکھوں میں جس طرح امید کے ستارے ٹوٹتے دیکھے اس نظارے نے یکلخت ہی گویا مجھے کسی اونچی چوٹی سے دھکیل دیا۔۔۔اگر وہ پیشہ ور بھکاری تھے تب بھی قابلِ رحم تھے۔۔۔رات کا پچھلا پہر اور شہر کا یہ کنارہ۔۔۔ان کے جسموں پر جھولتے ہوئے چیتھڑے،، پھر ان کی عمریں بھی تو کیسی تھیں۔۔۔ایک اتنا معصوم اور کم سن کہ ابھی اس کی آنکھوں نے محرومی اور آسودگی پر افسردہ ہونا بھی نہیں سیکھا تھا۔۔۔دوسرا اتنا ضعیف کہ زندگی کی مزید نا انصافیوں کو سہنے کی سکت اس میں منقعود تھی۔۔۔مگر جانے وہ کس قرض کو چکانے کیلئے اپنی آپ کو ایسے گھسیٹ رہا تھا۔ ان تمام سوچوں اور ساری کیفیت نے ایک لمحے میں مجھ پر غلبہ پا لیا اور مجھے خود احساس نہیں ہوا کہ کب میں نادر سے پیچھے ہٹ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔ان کے چہروں کی لجاجت اور بے بسی دیکھ کر میرا جسم جیسے مزید سرد پڑ گیا۔۔۔عجیب بات یہ تھی کہ مجھے ان پہ ترس نہیں آ رہا تھا بلکہ میں ان سے اپنے آپ کو خوفزدہ محسوس کر رہا تھا جیسے میں ان کا مجرم ہوں۔۔۔میں نے اپنے بٹوے سے پانچ سو والے دو نوٹ نکال کر بوڑھے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ نوٹ لو اور فوراً یہاں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔۔۔دو منٹ بعد میں تم لوگوں کو یہاں نہ دیکھوں۔۔۔بوڑھے نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ تھامے،، بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولا" اتنے پیسوں میں تو پورا مہینہ آرام سے گزر جائے گا جی۔۔۔اب مجھے یہاں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔لیکن کیا آپ واقعی یہ رقم مجھے دے رہے ہیں۔ ہاں۔ہاں تمہیں ہی دے رہا ہوں۔۔۔شاید میں تمہارا مقروض ہوں۔جن آسائشوں پر میرا قبضہ ہے،، شاید ان میں کچھ تمہارا بھی حصہ تھا۔۔۔میں نے تیزی سے کہا،، اب فوراً یہاں سے روانہ ہو جاؤ۔۔۔اتنا کہہ کر میں پیچھے ہٹ آیا۔نادر فٹ پاتھ پر کھڑا میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔میں بوجھل قدموں سے نادر کے پاس پہنچا اور بنا کچھ بات کیے ہم لوگ آگے چلنے لگے۔۔۔اسی وقت ایک خالی ٹیکسی نظر آ گئی۔نادر نے اشارے سے اسے روکا۔۔۔اگلے ہی منٹ میں ہم لوگ وہاں سے نکل رہے تھے۔ ہم لوگ گھر واپس پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں بھی واپس آ کر کھانا کھا چکے تھے۔۔۔حنیف خان نے رپورٹ دی کہ صفدر سیال اپنے پانچ باڈی گارڈز کے ساتھ آیا تھا۔۔۔اور بھی کافی لوگ گاڑیوں میں بھر کر وہاں پہنچے تھے۔۔۔انتظامیہ کے بھی کافی لوگ تھے۔۔۔اب یہ تو نہیں جانتا کہ وہ تفتیش کو کس رخ پر چلا رہے ہیں۔۔۔لیکن صفدر بہت غصے میں بولتے ہوئے بات بات پر چلا رہا تھا۔ صفدر کی روانگی کے وقت وہ دونوں انتہائی احتیاط سے اس کے پیچھے ہو لیے اور اس کی رہائش گاہ دیکھ آئے۔۔۔کراچی کے ایک پوش ایریا گلشنِ اقبال ٹاؤن میں اس کی رہائش گاہ ہے۔۔۔یہ ایک کوٹھی نما مکان ہے جہاں ہر وقت گھریلو ملازمین کے علاوہ چار پانچ مسلح محافظ موجود ہوتے ہیں۔۔۔چونکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہو سکتی تھی کہ صفدر پر حملہ کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم چاروں نے بنا ٹائم ضائع کیے پوری طرح مسلح ہو کر دو گھنٹے بعد ہی صفدر کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس طرح کے لوگوں نے ایسی رہائشوں میں صدر دروازے کے آس پاس ہی سکیورٹی کا کیبن بنایا ہوتا ہے۔۔۔جہاں ہر وقت ایک یا دو محافظ موجود ہوتے ہیں۔حنیف کے ذمہ دروازہ کھلوانے کا کام لگایا گیا اور ہمارے اندر داخل ہو کر گاڑی سے باہر آنے تک ہمیں کور بھی اسی نے مہیا کرنا تھا۔چنانچہ پروگرام کے مطابق ہم لوگ صدر دروازے پر پہنچ گئے۔۔۔میں اور نادر گاڑی میں پچھلی سیٹوں پر دبکے ہوئے تھے جبکہ حنیف نے کال بیل بجانے کی بجائے آہستہ سے دروازہ بجایا تو توقع کے عین مطابق ایک منٹ بعد ہی گیٹ کی چھوٹی کھڑکی کھلی اور ایک غنڈہ ٹائپ آدمی نے سر باہر نکالا۔۔۔میں آہستہ سے سر اٹھائے اسی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔حنیف نے باہر نکلنے والے منہ پہ اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک زور دار پنچ مارا تو وہ سر ایک دم اندر غائب ہو گیا۔۔۔گمان غالب یہی تھا کہ وہ بندہ اس زوردار پنچ کہ تاب نہ لاتے ہوئے الٹ کر اندر جا گرا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی حنیف اندر داخل ہو گیا۔عین اسی وقت نادر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور تقریباً اڑتے ہوئے گیٹ تک پہنچا اور غڑاپ سے اندر غائب ہو گیا حالانکہ یہ ہمارے پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔میں بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے نیچے اترنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اسی وقت صدر دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیا تو سردار نے گاڑی بڑھائی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔۔۔اندر دو عدد محافظ اوندھے پڑھ ہوئے تھے جن کو حنیف اور نادر ساتھ موجود کیبن کی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔میں بنا کوئی وقت ضائع کیے گاڑی سے اترا اور اندرونی کمروں کی طرف بھاگا۔۔سامنے راہداری میں آمنے سامنے بلکل ہوٹل طرز کے کئی کمرے تھے۔۔۔ایک کمرے کے دروازے سے مجھے دو گارڈز نکلتے دکھائی دیے تو میں نے لگاتار دو بار ٹرائیگر دبایا ایک تو سر میں گولی کھا کر پٹ سے گرا جبکہ دوسرے کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی۔۔۔جو کہ لازماً اندر دوسروں کمروں تک سنی گئی ہو گی۔چنانچہ مجھے اس پر ایک گولی اور ضائع کرنی پڑی۔۔۔ سائلنسر لگے ریوالور کی گولیوں سے ان دو گارڈز کو مار گراتے ہوئے چند منٹ میں ہی مختلف کمروں میں جھانکتا ہوا ایک عالیشان کمرے تک پہنچ گیا۔۔۔یہ کمرہ اندر سے لاک تھا۔میں نے دروازے کے لاک پر لیوگر کی نال رکھ کر ٹرائیگر دبایا تو لاک کے پرخچے اڑ گئے اور میں دروازے کو دھکیلتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ ************************ (59) اندر ایک اٹھائیس تیس سال کا نوجوان لڑکا جو کہ لازماً صفدر ہی تھا کیونکہ اس کے خباثت بھرے چہرے کے نین نقش بلکل اپنے باپ مظفر سیال سے ملتے تھے۔۔وہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مجھے یوں گن اٹھائے اندر گھستے دیکھ کر وہ وہیں ساکت ہو گیا۔۔۔اس کی آنکھیں میں ابھی تک نیند کا خمار موجود تھا۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ میرے اندر داخل ہونے پر اس کی آنکھ کھلی ہے۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ چلایا،، اوئے کون ہو تم۔۔۔اس وقت تک میں کمرے کے درمیان میں پہنچ چکا تھا۔۔۔ابھی بتاتا ہوں کتے کے بچے،، میرا لہجہ دھیما تھا لیکن مجھے امید تھی کہ وہ اس لہجے کی تہہ میں سرسراتی ہوئی سفاکی کی لہر کو محسوس کر سکتا تھا۔ اتنی دیر تک میں جو کہ بیڈ کے پاس پہنچ چکا تھا میں نے اپنا ہاتھ گھمایا اور لیوگر کا دستہ پوری قوت سے اس کی کنپٹی پر مارا تو وہ تیورا کر وہیں گر گیا۔۔۔صفدر کو بدستور لیوگر کی زد میں رکھتے ہوئے میں نے تنبیہہ کی۔ اپنی جگہ سے ہلنا مت۔ یہ کہہ کر میں نے نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو مجھے اس کی آنکھیں دیکھ کر ادراک ہوا کہ صفدر کی آنکھوں میں موجود کینہ اسے چین نہیں لینے دے گا وہ لازمی قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔عین اسی وقت صفدر یکلخت ٹوٹ جانے والے اسپرنگ کی طرح اچھل کر مجھ پر حملہ آور ہوا۔۔۔لیکن دوستو میں وہاں چھولے بیچنے تو نہیں گیا تھا کہ اس سے غافل ہو جاتا۔۔۔میں کاوا کاٹ کر گھوم گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچ پاتا میں نے ایڑھی پر گھومتے ہوئے ایک زور دار ٹھوکر اس کی ناف پر رسید کی۔۔۔اس کے منہ سے اوغ،، کی آواز نکلی اور وہ ابکائی لیکر دہرا ہو گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ میں خود بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔ لیوگر کے دستے نے ایک بار پھر پوری قوت سے اس کی کنپٹی پہ اسی جگہ کو بوسہ دیا جہاں چند لمحے پہلے ایک دفعہ وہ اپنی مہر لگا چکا تھا۔ اسی وقت نادر اور سردار علی اندر داخل ہوئے۔۔۔اندر کی سچویشن دیکھ کر سردار علی تو مطمئن ہوتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن نادر میرے پاس ہی کھڑا ہو کر بولا۔۔۔ہٹ جا کمالے اینوں میں ویکھدا آں۔۔۔میں نے اسی وقت اس کو روکتے ہوئے کہا:نہیں نادر تم نہیں اس سے تو مجھے خود ہی حساب چکتا کرنا ہے۔۔۔میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔۔۔صفدر اب بے حس و حرکت ہو چکا تھا۔۔۔میں نے آگے بڑھ کر اس کمرے کی تلاشی لینی شروع کر دی۔۔۔الماری کے ایک خانے میں کافی رقم اور سونے کی چند اینٹیں نظر آ گئیں۔۔۔یہ دیکھ کر نادر نے تکیے کا غلاف اتارا اور یہ سب غلاف میں ڈال لیا۔۔۔ہمارا مقصد چوری نہیں تھا بلکہ جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان تھا۔ آخرکار مجھے اپنی ضرورت کی چیز مل ہی گئی۔۔۔ایک قلم اور راٹنگ پیڈ۔میں وہاں سے پلٹ کر واپس آیا۔۔۔صفدر کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے میں نے بلکل راجو کی طرح ہی لیوگر کی نال اس کی گانڈ میں گھسائی اور ٹرائیگر دباتا چلا گیا۔۔۔ہر گولی کے ساتھ اس کے جسم کو جھٹکے لگتے گئے اور وہ شعور میں آنے سے پہلے ہی عدم بالا کو روانہ ہو گیا۔ آخرکار لیوگر سے ٹرچ ٹرچ کی آواز نکلی تو میں ایک گہرا سانس لیتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔میرا دل اس وقت نفرت سے لبریز تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس کنجر کا انفرادی طور پر کوئی حصہ تھا یا نہیں لیکن میری نفرت کو دوچند کرنے کیلئے یہی احساس کافی تھا کہ یہ اسی موذی سانپوں کا بیٹا ہے جن کا نام میں اپنے دشمنوں کی مختصر سی فہرست میں لکھ چکا تھا۔ صفدر کے جسم کو بیہوشی کے عالم میں ہی چند جھٹکے لگے تھے اور پھر وہ ساکت ہو گیا۔ ************************ (60) سوری ڈئیر صفدر۔۔۔،، میں نے زیرِ لب کہا:تمہارا قصور میری نظر میں صرف اتنا تھا کہ تم چوہدری مظفر سیال کے خاندان سے ہو۔۔۔لیکن تم نے ایک معصوم لڑکی اور اس کی ماں کو زبردستی داغدار کرنے کے بعد اسے اس کی کے ماں باپ کے ساتھ قتل کر دیا۔۔۔میں اگر تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا تو ایک نہ ایک روز تم کسی اور کے ہاتھوں مارے جاتے۔ پھر میں دل ہی دل میں بولا:راجی تیرا بدلہ پورا ہوا۔ اس کے بعد میں نے ایک کرسی کھینچ کر میز کے پاس کی اور بیٹھ کر نہایت توجہ اور انہماک سے لکھنے لگا۔ چوہدری مظفر سیال!!! اپنے ایک نادیدہ دشمن کی طرف سے یہ تحفہ قبول کرو۔۔۔تم اپنے ایک بے ضرر دشمن کو مار کر بہت خوش ہوئے تھے نا۔۔۔تو سوچا کہ اسی خوشی کے موقع پر ہم بھی تھوڑی خوشی منا لیں۔ اس طرح تھوڑا حساب بھی ہلکا ہو جائے گا۔۔۔ بہت جلد میں تم تک پہنچوں گا اور میرا وعدہ رہا اس دفعہ تجھے ایسی ہستی کی لاش پیش کروں گا جو کہ تمہیں جان سے ذیادہ پیاری ہو گی۔۔۔اپنی حفاظت کیلئے تم جو کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا چاہو۔۔۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔میں اپنا وعدہ پورا کرنے کیلئے تم تک پہنچوں گا ضرور۔۔۔!!! منتظر رہنا۔ اب تم شاید سمجھ نہ پاؤ کہ میں ہوں کون۔۔۔ایک بات یاد رکھنا۔۔۔میری طرف سے جو بھی لاش کا تحفہ ملے گا اس میں کوئی نیا سوراخ نہیں ہو گا۔۔۔پورے جسم پر صرف ایک ہی جگہ گولیوں کے نشان ہوں گے۔۔۔امید ہے کہ تم سمجھ چکے ہو گے کہ میں کون ہوں۔ خط لکھ کر میں نے تنقیدی زاویہ نظر سے ایک دفعہ خط کو پڑھا۔۔۔ٹھیک ہی لکھا گیا تھا۔۔۔اس خط سے وڈے چوہدری پر یقیناً وہی اثر ہوتا جو کہ میں چاہتا تھا۔۔۔وہ ورق میں نے پیڈ سے اتار کر صفدر کی لاش کے گریبان میں پھنسایا۔۔۔پھر ہم لوگ نہایت اطمینان بھرے انداز میں صفدر کی ہی ایک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل آئے۔۔۔راستے میں ایک پبلک فون بوتھ میں کھڑے ہو کر میں نے وڈے چوہدری کا نمبر ملایا تو چند گھنٹیوں بعد کسی نے فون اٹھا لیا۔۔۔ہیلو کون ہے بھئی؟ وڈے چوہدری صاحب کیلئے ایک پیغام ہے!!! میں نے آواز بدلنے اور لہجہ حتیٰ الامکان سپاٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ وڈے چوہدری صاحب کو جب تم میرا پیغام دو گے تو وہ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ میں کون ہوں۔" میں نے سرد مہری سے کہا۔،، ان سے کہنا کہ کراچی میں صفدر سیال کی رہائش گاہ پر ان کیلئے ایک تحفہ موجود ہے۔۔۔جس قدر جلد ممکن ہو اسے وصول کر لیں۔۔۔اس سے پہلے کہ پولیس وہاں پہنچے۔۔۔چوہدری صاحب کم از کم ایک نظر اسے دیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔۔۔کک۔کک کیا مطلب آگے سے وہ ہکلایا لیکن میں نے کال کاٹ دی۔ پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور گھر کے پاس پہنچ کر ہم سب اتر گئے جبکہ سردار اس گاڑی کو کسی انسان جگہ پر چھوڑنے چلا گیا۔۔۔تاریک رات تھی اس لیے کسی کی بھی نظروں میں آئے بغیر ہم لوگ سلامتی سے گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر آتے ہی نادر نے پیسوں اور سونے کی اینٹوں والا غلاف میری طرف کر دیا۔۔۔میں نے چند لمحے اسے دیکھا پھر اس میں سے نقد رقم نکال کر اس میں سے آدھی رقم اور سونے کی اینٹیں حنیف خان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ حنیف یہ سب تم اور سردار آپس میں بانٹ لینا۔ حنیف خان نے شکریہ کہہ کر وہ اپنے پاس رکھ لیا اور سردار کے واپس آنے پر میرے سامنے ہی اس مال کے دو حصے کر کے ایک حصہ سردار کے حوالے کر دیا۔۔۔اتنا سونا اور پیسے دیکھ کر سردار کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری جسے میں کوئی خاص نام نہیں دے سکا۔۔۔بہرحال ہم لوگوں نے آگے کا پروگرام سیٹ کیا اور اس کے بعد ہم سو گئے۔۔۔اگلی صبح دس بجے میں اور نادر وہاں سے ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ************************
×
×
  • Create New...