Jump to content
URDU FUN CLUB

Javaidbond

Writers
  • Content Count

    21
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Javaidbond last won the day on June 9

Javaidbond had the most liked content!

Community Reputation

38

1 Follower

About Javaidbond

  • Rank
    جاوید بانڈ

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. @waji کہانی مکمل تو لازمی ہو گی یہ بات طے ہے۔کہانی کا پلاٹ ایک انگلش مووی سے لیا گیا ہے جیسے ہی وہاں تک پہنچوں گا سب کو سمجھ آ جائے گی۔تھوڑا سنبھالنا مشکل ہو گا وہاں سٹوری کو لیکن امید ہے کہ کر جاؤں گا۔ آپ ضرور مشورہ دیں اب یہ لازمی تو نہیں کہ آپ کے مشورے پہ عمل کیا جائے یا اس کو بلکل ریجیکٹ کیا جائے۔۔۔لیکن آگے سٹوری میں چل کر آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ بعض اوقات کیے گئے کمنٹس کتنے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ سٹوری چلتی بلکل رائٹر کے خیال اور مزاج کے مطابق ہے کیونکہ وہ پہلے سے ہی اس کا خاکہ یا خلاصہ بنا چکا ہوتا ہے۔۔۔پھر بھی جب کسی کی کوئی رائے اچھی لگے تو کم از کم مجھے کافی محنت کرنی پڑتی ہے مگر میں اس رائے کو اہمیت ضرور دیتا ہوں۔۔۔ اگلی اپڈیٹ پر کام شروع ہے۔۔۔چند دن بعد فائنل کر کے اپلوڈ کر دوں گا۔
  2. @skt_sexy جناب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے کمنٹ کیا۔۔۔دراصل جب تک پڑھنے والے اپنے اپنے کمنٹس اور رائے سے نہیں نوازیں گے ہمیں کیا پتہ چلے گا کہ ہم کیا لکھ رہے ہیں۔ بس اسی لیے رائٹر لوگ کمنٹس کا بولتے ہیں کیونکہ بعض اوقات کسی کمنٹ سے ہی کوئی ایسا نقطہ مل جاتا ہے جس سے سٹوری کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
  3. @Shah fahadfahad جی بھائی کیوں نہیں لازماً پوسٹ ہوتی رہے گی۔ اور ان سب دوستوں کا شکریہ جنہیں میری یہ کاوش پسند آئی۔
  4. جی یہاں آنے سے پہلے یہ سٹوری ایک اور سائٹ پر شروع کر چکا تھا بہرحال سٹوری پڑھ کر رائے آپ نے ناں وہاں دی تھی اور ناں یہاں۔۔۔ کمال کی بات ہے ناں۔۔۔
  5. (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ جبکہ چھیمو نیچے سے میرا لن منہ میں لیکر چوپے لگانے لگی۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے ہی راجی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے بھی بھرپور انداز میں میرا ساتھ دیتے ہوئے اپنے منہ کو کھول کر میری زبان کو ویلکم کیا اور میری زبان چوسنے لگی۔ ادھر نیچے سے چھیمو بڑے سٹائل سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔راجی نے آہستہ سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چھیمو کے چوپے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔۔۔اور وہ بڑی حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے چھیمو کا منہ پکڑ کے اپنا لن اندر ڈال کر اس کے منہ کو بڑے پیار سے چودنے لگا۔ راجی کا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا اور اس کا دل چاہنے لگا کہ کاش یہ لن اس کے منہ میں آ جائے اور دھیرے دھیرے پیار سے اس کے منہ کو چودتا رہے۔ میں نے جیسے اس کے من کی بات پڑھ لی۔۔۔کیونکہ مجھے راجی کی آنکھوں میں لن کی بھوک واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔میں نے چھیمو کے منہ سے لن نکالا اور ہلکا سا رخ موڑتے ہوئے لن راجی کی طرف کیا تو لن اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس آ گیا۔ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔۔۔اس نے بڑے پیار سے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹوپی پر کِس کیا اور اپنا منہ کھول کر لن کو منہ میں لینے لگی۔ میرا موٹا لن اس کے منہ کو کھولتے ہوئے اس کے منہ میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔تب میں نے راجی کے سر کو اور بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور بڑے پیار سے اس کے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر جب میں نے لن باہر نکالا تو اس نے اپنے ہونٹوں کے ساتھ گرِپ کرتے ہوئے میرے لن کی ٹوپی کو جھکڑ لیا اور اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ پر چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔لن کے سوراخ میں زبان کی نوک محسوس کرتے ہی میرے منہ سے سسکاری برآمد ہوئی۔ میں نے چھیمو کو دیکھتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر میرے لن کو سائیڈوں سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کو راجی کے منہ سے باہر نکالا اور دونوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منہ آپس میں ایسے جوڑ دیے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آپس میں کس کر رہی ہیں۔۔۔پھر میں نے اپنا لن دونوں کے ہونٹوں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر میں نے باری باری لن دونوں کے منہ میں ڈال کر دو دو گھسے لگانے شروع کر دیے۔ ایک بار جب میں نے لن چھیمو کے منہ سے باہر نکال کر راجی کے منہ میں ڈالا تو وہ اتنی بری طرح خوار ہو چکی تھی کہ لن کو منہ میں لیتے ہی وہ ماہر رنڈی کی طرح چوپے لگانے لگی۔ میں نے بھی زور لگا کر لن کو راجی کے حلق تک پہنچانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی نے راجی کے حلق میں ڈبکی لگائی ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا۔۔۔اس کا حلق اتنا نرم اور ملائم تھا کہ مانو جیسے لن کسی نرم،ملائم اور گرم پائپ میں پھنس گیا ہو۔ میں نے چار پانچ دفعہ راجی کے حلق تک لن پہنچایا اور پھر لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔ دل میں سوچا کہ بس اتنا بہت ہے کہیں اس کے حلق میں ہی نہ چھوٹ جاؤں اور باقی کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے۔۔۔اس لیے اب اصل کام پھدی اور گانڈ کی چدائی کی طرف آنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے چھیمو کی طرف دیکھا تو وہ اپنے مموں کو دباتے ہوئے ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو مسل رہی تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ میں نے ٹانگیں کھول کر بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لی اور چھیمو کو اپنی طرف کھینچا۔ چھیمو اٹھی اور الٹی طرف منہ کر کے دھیرے دھیرے میرے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ راجی میری ٹانگوں کے درمیان الٹی لیٹ گئی۔ جیسے ہی چھیمو نے لن پھدی کے اندر لیکر اوپر نیچے ہونا شروع کیا تو راجی میرے لن کے ساتھ ساتھ چھیمو کی پھدی کو بھی چاٹنے لگی۔ میں بھی نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد چھیمو میرے اوپر سے اٹھی اور راجی کو اٹھا کر میرے لن پر بٹھا دیا۔۔۔اور خود راجی کی جگہ آ کر میرے لن کے ساتھ ساتھ راجی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ (23) میں اب نیچے سے زور زور سے دھکے مار رہا تھا جبکہ راجی کے اچھلنے کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی راجی کا جسم اکڑنا شروع ہوا ساتھ ہی اس کی آنکھیں نیم بیہوشی کی کیفیت میں بند ہونے لگیں۔۔۔اس نے آگے ہو کر چھیمو کو پیچھے ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں اور پھدی سے میرے لن کو جھکڑتے ہوئے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور زور سے میرے لن کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اس کی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن پر گرنا شروع ہو گئی۔ راجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کی ٹانگیں بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔۔اچانک اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں اوندھی ہوتی چلی گئی۔ میں بھی لن کو پڑنے والے کھچاؤ کے سبب اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب چھیمو نے دیکھا کہ راجی پوری طرح سے فارغ ہو گئی ہے!!!تو اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر سامنے موجود میز کے ساتھ جھک گئی اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مجھے بلانے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر مخالف سمتوں میں پوری طرح سے کھول دیا۔ میں نے چھیمو کا بلاوہ دیکھا تو اپنا لن راجی کی چپچپاتی پھدی سے باہر نکالا اور اٹھ کر چھیمو کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر اس کی کمر کر پکڑ لیا۔۔۔چھیمو کو جب میرا لن اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہوا تو بے اختیار مزے کی آہہہہہ اس کے منہ سے نکل گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اپنا لن ہلا ہلا کر اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑتا رہا۔۔۔تو چھیمو نے اپنی گانڈ تھوڑی سی اور باہر نکال دی۔ میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن پھک کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں گھس گیا۔ میں نے چھیمو کی کمر پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چھیمو پہلے ہی بہت گرم ہو چکی تھی۔ میرے سٹارٹ لیتے ہی اس نے منہ سے سیییییی کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔میں نے دو منٹ تک اس کو اسی پوزیشن میں چودا۔۔۔وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور وہ پوری جان سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔ہائےےےےے کمال ل ل میں گئییییییہی۔ ساتھ ہی اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے اور اس کی پھدی سے نکلنے والی پھوار میں واضح اپنے لن پر گرتی ہوئی محسوس کر رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا چند سیکنڈ بعد جب وہ ٹھندی ہو گئی تو اس نے آگے ہو کر میرا لن باہر نکالا اور میرے پاؤں میں بیٹھتے ہی میرا لن جو کہ اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس کو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی۔ میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اپنا پانی نکال چکی تھیں۔ اچانک جیسے میرے دماغ میں کلک سا ہوا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میں نے چھیمو کو پکڑ کر اٹھایا اور بازو سے کھینچے ہوئے بیڈ پر راجی کے پاس لے آیا جو کہ بیڈ پر لیٹی دو انگلیاں اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھی۔ میں نے چھیمو کو بیڈ پر لٹا کر راجی کو اس کے اوپر گھوڑی بننے کر کہا تو راجی اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔ چھیمو نیچے سے تھوڑا کھسک کر اپنا منہ اس کی پھدی کے عین نیچے لے آئی اور اس کی پھدی کے دانے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ راجی کے منہ سے سیییییی کہ آواز نکلی اور وہ اپنی گانڈ دبا دبا کر پھدی چٹوانے لگی۔ میں نے ایک تکیہ اٹھا کر چھیمو کے سر کے نیچے رکھا اور راجی کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا گانڈ اوپر اٹھانے کو کہا۔۔۔اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس پوزیشن میں راجی کی گانڈ چِر کر باہر کی طرف کھل گئی۔ راجی کی گانڈ کا سوراخ ڈارک براؤن رنگ کا تھا۔۔۔سوراخ کافی کھلا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی سارا تھوک راجی کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا اور اچھی طرح انگلی سے اس کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرنا شروع کر دیا۔ گانڈ کے سوراخ پر انگلی لگتے ہی راجی نے سر گھما کر میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آمادگی کے آثار نظر آئے۔۔۔اچھی طرح سے سوراخ نرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ایک گھٹنا چھیمو کے کندھے کے پاس بیڈ پر ٹکایا اور دوسرے پاؤں پر وزن سنبھالتے ہوئے اپنا لن راجی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن کی ٹوپی گانڈ کے اندر اترتی چلی گئی۔ آگے سے راجی کے منہ سے ہلکی سی اوں۔۔۔اوں۔ کی آواز نکلی۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔ اب راجی کی گانڈ کوئی کنواری تو تھی نہیں جہاں ٹائم لگتا۔۔۔اس لیے چند لمحوں کے بعد ہی پورا لن راجی کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ ابھی بھی راجی کی گانڈ اندر سے ایسے ٹائٹ لگ رہی تھی کہ جیسے پہلے کبھی گانڈ کے اندر کچھ نہیں گیا۔ نیچے سے چھیمو نے راجی کی پھدی کو چومتے چاٹتے ہوئے اپنی تین انگلیاں اندر گھسائیں اور تیزی سے انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ چار منٹ کی بے درد چدائی کے بعد راجی مزے سے فل مدہوش آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔اگلے ہی منٹ میں راجی کی پھدی نے ہار مان لی اور پانی چھوڑنا شروع کر دیا تو اس کی گانڈ اور ٹائٹ ہوتی چلی گئی۔ جس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ چند سیکنڈ بعد ہی میرے منہ سے اوہ افففففف نکلا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔ یہ محسوس کرتے ہی راجی ایک دم آگے ہوئی اور میرا لن باہر نکل گیا۔ راجی بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوستے ہوئے چوپا لگانے لگی۔ اگلے سیکنڈ میں ہی میرے لن کی نسیں پھولنا شروع ہوئیں اور میں راجی کے منہ میں ہی فارغ ہو گیا۔ *************************
  6. (11) میں نے کانپتے ہوئے اپنے جسم کو سمیٹنے کی کوشش کی تو میری نظر بیڈ کی چادر پر پڑی اس پہ دو جگہ پر خون گرا ہوا تھا جو یقینی طور پر میری پھدی سے نکلا تھا۔ دوسری طرف راجو بھی اس لڑکی کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ہماری پھدیوں کا ستیاناس کرنے کے بعد دونوں بھائیوں نے ہماری کمروں پر ٹانگ مار کر ہمیں نیچے گرا دیا۔ ہم نیچے فرش پر پڑی کراہ رہی تھیں۔۔۔تبھی راجو دھاڑا،،اوئے فضلو،،اسی وقت باہر کا دروازہ کھلا اور ایک ملازم اندر داخل ہوا۔۔۔سیماء کو بلاؤ،،اچھا حضور،،یہ کہہ کر وہ ملازم باہر نکل گیا۔ چند منٹ بعد ایک لڑکی نرس کے لباس میں اندر داخل ہوئی۔۔۔وہ کوئی شہری لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔اس نے آتے ہی ہم دونوں کی ٹانگیں کھول کھول کر ہماری پھدیوں کو چیک کیا۔ اس کے بعد اس نے فضلو کو اشارہ کیا تو وہ باہر نکل گیا۔۔۔چند منٹ بعد ہی وہ دو عدد چادریں اٹھائے اندر داخل ہوا۔۔۔اس دوران دونوں سیال زادے ہم لوگوں سے بے نیاز شراب پینے میں مصروف تھے۔ اس نرس اور فضلو نے ہم دونوں کو چادروں میں لپیٹ کر سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا اور وہاں سے چلاتے ہوئے نکل کر ساتھ والے کمرے میں لے آئے۔ یہاں چھوڑ کر ملازم باہر نکل گیا اور اس نرس نے ہم دونوں کو واش روم میں جا کر اپنا آپ صاف کرنے کو کہا۔ میں سہارا لے کر اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئی واش روم میں جا کر اچھی طرح سے پانی سے اپنی پھدی کو صاف کر کے باہر چلی آئی۔۔۔میرے آنے کے بعد راجی بھی اٹھ کر اندر چلی گئی۔۔۔نرس نے پلنگ کے نیچے سے ایک بیگ کھینچ کر باہر نکالا جس میں مختلف قسم کی انگریزی دوائیاں پڑی ہوئی تھیں۔۔۔اس نے ایک کریم اٹھا کر کافی ساری کریم میری پھدی پر لگا کر آہستہ آہستہ مساج کر دیا۔۔۔جس سے میری پھدی میں لگی ہوئی آگ سرد ہوتی گئی۔ ساتھ ہی اس نے مجھے دو گولیاں اور پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کہا کہ یہ گولیاں کھا لو درد ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔اسی طرح دوسری لڑکی کو بھی اسی طریقے سے مساج کرنے اور دوا دینے کے بعد ہمیں آرام کرنے کا کہہ کر وہ نرس لڑکی چلی گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر سے رونے لگیں۔ ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔تقریباً ایک گھنٹے بعد دوبارہ سے دروازہ کھلا اور وہی ملازم جو ہمیں کوارٹر سے نکال کر سیال زادوں کے حوالے کر گیا تھا دوبارہ اندر داخل ہوا۔۔۔اسے دیکھ کر ہم دونوں پھر سے سہم گئیں۔۔۔میں روتی ہوئی بولی چاچا یہ تم نے ہمارے ساتھ کیا کروا دیا۔ تو وہ تیز لہجے میں بولا۔۔۔چپ چاپ اٹھو اور یہاں سے نکلو فٹا فٹ ورنہ وہ پھر سے آ جائیں گے۔ ہم فٹا فٹ اٹھیں اور خود کو سنبھالتے ہوئے اس کمرے سے باہر نکل کر اس کے ساتھ چلتی ہوئی اسی کوارٹر میں جا پہنچیں۔۔۔جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئیں تو اس ملازم نے دروازہ بند کر کے ہمیں دیکھا اور کہا:یہاں جو کچھ بھی ہوا ہے اس بارے میں اگر کسی سے بات کی تو یہ چوہدری تم کو چیرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولنے کیلئے منہ کھولتی۔۔۔کوارٹر کا دروازے پر جیسے دھماکہ سا ہوا۔ ************************* (12) دروازے پر دھماکے کی آواز ایسی تھی جیسے کسی نے زور سے کوئی چیز دروازے پر ماری ہو۔۔۔ساتھ ہی زور زور سے دروازہ بجنے لگا۔۔۔اور کسی کی آواز آئی اوئے اندر کون ہے دروازہ کھول میں نے کہا دروازہ کھول۔ ملازم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ایک نوجوان لڑکا جو کہ بہت خوبصورت تھا دندناتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔ہم پر نظر پڑتے ہی اس نے غصیلے لہجے میں اس ملازم سے کہا اوئے کنجر کی اولاد ان گشتیوں کو لیکر یہاں رنگ رلیاں منا رہا ہے۔ تو وہ ملازم ہاتھ جوڑ کر بولا نہیں کامی سائیں یہ میرا نہیں یہ تو نور سائیں اور راجو سائیں کا شکار ہے۔۔۔ابھی ابھی ان کو اندر سے لے کر آیا ہوں۔۔۔وہ لڑکا جس کا نام کامی تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ حرام کا تخم وڈے چوہدری کی دوسری بیوی کا منجھلا بیٹا کامران سیال ہے۔ وہ لڑکا تیزی سے میری طرف بڑھا اور میرے جسم سے چادر کھینچ لی۔۔۔نیچے سے میں مادر ذات ننگی تھی۔۔۔اس نے مجھے پوچھا دیکھو سچ سچ بتاؤ کہ اندر تمہارے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ورنہ میں ہنٹر سے تم دونوں کی کھال ادھیڑ ڈالوں گا۔۔۔اور تم حرامی کی اولاد وہاں کونے میں کھڑا ہو جا۔۔۔وہ ملازم کی طرف مڑتے ہوئے غرایا۔ میں نے ہمت کر کے اسے ساری بات بتائی۔۔۔اس نے دوسری لڑکی کو اشارہ کیا تو اس نے بھی چادر اتار کر اپنا جسم دکھایا اس کے مموں پر بھی راجو نے کاٹ کاٹ کر نشان بنا دیے تھے۔ ہمممم چلو تم دونوں یہاں سے میرے ساتھ چلو۔۔۔ہم ابھی وڈے چوہدری صاحب کے پاس جائیں گے اور ان بھائیوں کے کرتوت انہیں بتائیں گے۔ چلو جلدی چلو یہ کہہ کر اس نے میرا بازو پکڑے مجھے باہر کی طرف کھینچا ہم چاروناچار اس کے پیچھے چل پڑیں۔۔۔وہ ہم دونوں کو ایک راہداری میں سے گھماتا ہوا ایک کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ کمرے کے دروازہ بند تھا۔۔۔اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی۔۔۔چلے آؤ دروازہ کھلا ہے۔۔۔ہم اندر داخل ہوئے تو سامنے وڈے چوہدری صاحب بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ ہماری حالت دیکھ کر اس نے حیرانگی سے کامی سے پوچھا کامی یہ سب کیا ہے۔۔۔کون ہے یہ دونوں لڑکیاں اور ان کی یہ حالت کس نے کی ہے۔ کامی نے وڈے چوہدری کو بتایا کہ کیسے ہم دونوں کو دونوں بڑے سیال زادوں نے کمرے میں بلا کر زبردستی چود ڈالا۔۔۔چوہدری نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر گلاس ہاتھ میں پکڑے ہماری طرف قدم بڑھائے۔ ہوں!!!تو ان کنجروں کی اتنی ہمت کہ گاؤں کی دو لڑکیاں زبردستی چود ڈالیں۔۔۔اتنی دیر میں وہ ہمارے پاس پہنچ چکا تھا۔۔۔پھر چوہدری بولا کہ بڑے کتی کے پتر ہیں کہ دو خوبصورت لڑکیوں کا یہ حال کیا اور وہ بھی۔ (13) اتنا کہہ کر چوہدری رکا اور نشے میں چور نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا پھر اس نے گلاس خالی کر کے دیوار پر مارتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔ وہ بھی ہمیں دانہ چکھائے بغیر۔ ساتھ ہی چوہدری نے میرے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا اور ایک طمانچہ مار کر میرے مموں کو دباتے ہوئے بولا: چپ چاپ میری بات پر عمل کر گشتی!!!ورنہ میرے سارے نوکر مل کر تم دونوں کی گانڈ ماریں گے!!!پھدیوں کا بینڈ بجائیں گے اور آخر میں بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیں گے تو کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ تم دونوں کے ساتھ کیا ہوا کہاں گم ہو گئیں۔ میں بے بس چڑیا کی طرح اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی،،،کہ اچانک راجی اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی چوہدری صاحب اگر یہ سب ہی کرنا ہے تو زبردستی کیوں۔۔۔ہم راضی خوشی آپ کی ہر بات پر عمل کریں گی۔ چوہدری بولا:نہیں تم بعد میں۔۔۔پہلے میں اس بڑے بڑے مموں والی گشتی کا مزہ چکھ لوں پھر تیری باری آئے گی۔۔۔کامی جو چپ چاپ کھڑا دانت نکال رہا تھا بولا:پاپا!!!کیا اب میں وہ نرس سیما کو چود سکتا ہوں؟چوہدری میرے ممے مسلتے ہوئے بولا ہاں کامی جا عیش کر۔۔۔لیکن پاپا وہ راجو بھائی۔۔۔ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ چوہدری دھاڑا:اپنی بکواس بند کر اوئے۔ جب میں نے کہہ دیا تو وہ تیری ہے۔۔۔اب نکل جا یہاں سے اور میرا موڈ مت خراب کر۔۔۔کامی شکریہ پاپا کہہ کر واپس مڑ گیا۔ *************************** (14) چوہدری بھوکے عقاب کی طرح میرے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔میں نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کا فیصلہ کر کے اپنی آنکھیں موند لیں۔ چوہدری اور اس کے بیٹوں میں ایک فرق تھا۔۔۔لڑکے جانوروں کی طرح کاٹتے تھے جبکہ چوہدری نوچنے کھسوٹنے کی بجائے صرف مزے سے ممے چوس رہا تھا۔ چند منٹ میرے ممے چوسنے کے بعد چوہدری نے اپنے کپڑے اتارے اور فل ننگا ہو کر میرے سر کے پاس آ کر بولا۔۔۔چل اوئے میرا لن چوس۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو چوہدری کا لمبا اور موٹا لن میری آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔اتنا لمبا لن دیکھ کر میں ڈر گئی۔ مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر اس نے اپنا لن میرے ہونٹوں پہ پھیرا تو میں بھی اور کوئی چارہ نہ پا کر اس کا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔دوسری لڑکی راجی وہیں ایک سائیڈ پر بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اچانک اس نے ایک عجیب حرکت کی اس نے اپنی چادر اتاری اور چلتی ہوئی آ کر میرے پاس کھڑی ہو کر اس نے چوہدری کی چھاتی پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر چوہدری کی آنکھوں میں ایک عجیب شیطانی چمک ابھر آئی۔ اس نے اپنا لن میرے منہ سے نکالا اور خود وہاں سے پیچھے ہٹ کر صوفے پر ٹانگیں کھول کر نیم دراز ہو گیا۔ پھر اس نے مجھے ٹی وی کے پاس سے ریموٹ اٹھا کر لانے کو کہا تو میں ریموٹ اٹھا کر چوہدری کے پاس لے آئی۔ چوہدری نے راجی کو بھی اپنی طرف بلاتے ہوئے مجھے ریموٹ سے ٹی وی آن کرنے کو کہا۔میں نے ٹی وی آن کیا تو حیرت سے اچھل پڑی۔ ٹی وی پر ایک ننگی فلم لگی ہوئی تھی جس میں دو لڑکیاں ایسے ہی صوفے پر بیٹھے کسی انگریز کا لن چوس رہی تھیں۔۔۔ایک لڑکی کے منہ میں لن تھا تو دوسری لن کے نیچے لٹکتے ہوئے ٹٹے چاٹ رہی تھی۔ میری سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگا۔۔۔راجی بھی اٹھ کر ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد چوہدری نے نے ہم دونوں کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنے پیروں میں زمین پر بٹھا دیا اور بولا چلو شاباش اب دونوں مل کر ان فلم والی لڑکیوں کی طرح میرا لن چوسو۔ ایسے ہی خوشی خوشی سب کرو گی تو کسی کنجر کی کیا مجال کی وہ تمہاری طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھے۔ میں نے اس کا لن منہ میں ڈالا اور راجی نے بلکل فلم والی لڑکیوں کی طرح اس کے ٹٹے چاٹنے شروع کر دیے۔ چوہدری کے منہ سے عجیب بے ڈھنگی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں۔ آہ۔۔۔آہ۔۔۔شاباش۔ ساتھ ہی چوہدری نے ساتھ پڑی چھوٹی سی میز پر موجود شراب کی بوتل اٹھائی اور ایک گلاس اٹھا کر اس میں بھر کر پینے لگا۔۔۔دو تین منٹ بعد ہی چوہدری کا جسم کانپنے لگا اور اس کے منہ سی سسکی سی نکلی آہ۔۔۔آہ اور ساتھ ہی مجھے لگا کہ جیسے کوئی نمکین پانی میرے منہ میں پھیل گیا ہو۔ وہ نمکین پانی چوہدری کے لن سے نکلنے والا منی تھا۔۔۔میں نے چوہدری کے لن سے اپنا منہ ہٹانے کی کوشش کی تو اس نے ایک ہاتھ سے میرے سر کو نیچے لن کی طرف دبا دیا۔۔۔جس سے اس کا لن میرے حلق میں جا کر پھنس گیا۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ لن کو منہ سے باہر نکال لوں پر اتنی دیر تک اس کا لن میرے حلق میں اپنا سارا پانی نکال چکا تھا۔۔۔جو کہ خودبخود نیچے پیٹ میں پہنچ گیا۔ ************************* پھر چوہدری نے اپنا ہاتھ میرے سر سے ہٹا لیا اور بولا:چل اوئے وہ سائیڈ پر واش روم میں جا اور اچھی طرح سے منہ ہاتھ دھو کر آ۔ میں کراہتی ہوئی اٹھی اور بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی واش روم میں جا پہنچی۔۔۔مجھے اپنے آپ سے گھن آ رہی تھی۔۔۔لیکن اس سب میں میرا کیا قصور تھا اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ دس منٹ بعد میں واش روم سے نکلی تو دیکھا کہ راجی چوہدری کی گود میں بیٹھی اچھل رہی تھی۔ میں دل میں سوچ رہی تھی کہ اس گشتی کو پتہ نئیں کیا سوجھی جو خود بخود لگ گئی۔ میں نے پاس جا کر دیکھا!!!تو چوہدری کا لن اس لڑکی کی پھدی میں تھا اور وہ لن اندر لیے آگے پیچھے ہونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر چوہدری نے پھر سے اپنی طرف بلایا:میں اس کے پاس چلی گئی۔۔۔چوہدری نے کھینچ کر مجھے اپنی طرف گھسیٹا اور بلکل اس طرح میرے ممے چوسنے لگا کہ جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے۔ ساتھ ہی چوہدری نے پاس پڑی میز سے تیل کی بوتل اٹھائی اور اپنی انگلیوں پر لگا کر اپنا ہاتھ میرے نچلے حصے کی طرف لے گیا اور اپنی دو انگلیوں کے ساتھ میری پھدی کے ہونٹوں پر اچھی طرح سے تیل اندر تک لگا دیا۔ پھر اس نے دوسری لڑکی راجی کو اٹھنے کا کہا۔۔۔راجی کے نیچے اترنے کے بعد چوہدری نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے مجھے صوفے پر لٹا کر میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھیں اور اپنے ہاتھ سے لن کو میری پھدی پر سیٹ کرنے کے بعد دباؤ ڈالنا شروع کیا تو اس کا لن میری پھدی کے ہونٹوں کو چیرتا ہوا اندر دھنستا چلا گیا۔ میرے چہرے پر ایک دفعہ پھر سے تکلیف کے آثار ابھر آئے۔۔۔لیکن میں اپنے ہونٹ بھینچے تکلیف کو برداشت کرنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔ویسے بھی اب یہ تکلیف پہلی دفعہ کی نسبت کافی کم تھی۔ دو منٹوں بعد ہی چوہدری کا لن پوری روانی سے میری پھدی میں اندر باہر آ جا رہا تھا۔۔۔میری تکلیف بھی نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔بلکہ سہی بتاؤں تو مجھ پر ایک عجیب قسم کا نشہ طاری ہوتا جا رہا تھا۔۔۔اور اس نشے کے زیرِ اثر میں آپ ہی آپ نیچے سے آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ اچانک مجھے اپنے ہونٹوں پر تھوڑی چپچہاہٹ کا احساس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ راجی اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی۔ میں نے بھی بے خودی میں اپنا منہ کھولا اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں سے چوسنے لگی۔ اسی طرح اگلے دس منٹ تک چوہدری لگاتار مجھے چودتا رہا اور پھر اس نے اپنا لن باہر نکالا اور راجی کے منہ میں دے کر اس کے سر کو دونوں ہاتھوں سے اپنے لن کی طرف دبا دیا۔ اس کی بھی وہی حالت ہوئی جو میری ہوئی تھی اس کی آنکھیں پٹھنے والی ہو گئی تھیں۔۔۔شاید چوہدری کو منہ کے اندر لن گھسا کر پانی نکالنے کا شوق تھا۔ پانی نکالنے کے بعد چوہدری نے اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا اور بے خود ہو کر صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔وہ لڑکی اٹھ کر تیزی سی واش روم کی طرف بھاگ گئی۔۔۔چوہدری کے چہرے پر خباثت بھری ہنسی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہ کنجر اس عمر میں بھی اتنا حرامی ہے تو جوانی میں اس نے کیا کیا گل نہیں کھلائے ہوں گے۔ ************************* (15) تھوڑی دیر بعد ہم دونوں چوہدری کے پاس اس کے پیروں میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔چوہدری نے ہم دونوں کی طرف دیکھا اور پاس پڑی اپنی قمیض کی جیب سے چند نوٹ نکال کر ہم دونوں کی طرف پھینکے اور کہا کہ یہ تم دونوں کا انعام ہے۔ اب تم لوگوں کے میرے ملازم گھروں میں چھوڑ آئیں گے۔۔۔لیکن خبردار اگر کسی سے ایک لفظ بھی کہا تو زبانیں حلق سے کھینچ کر بھوکے کتوں کو کھلوا دوں گا۔۔۔اور جب بھی میری طرف سے بلاوہ آئے تم دونوں سب کام چھوڑ کر میرے پاس چلی آنا کیونکہ انکار اور دیری مجھے پسند نہیں۔ میں سر جھکائے بیٹھی رہی لیکن وہ دوسری لڑکی راجی بولی۔۔۔چوہدری جی:میں واپس نہیں جانا۔۔۔مجھے ادھر ہی اپنے پاس رکھ لو۔۔۔میں دن رات آپ کی خدمت کرنا چاہوں گی۔۔۔اب واپس جا کر کیا کروں گی مجھے آپ پسند ہیں میں ادھر حویلی میں ہی کوئی کام شام کر لیا کروں گی اور جب آپ کا دل چاہے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کروں گی۔جبکہ میں حیرانگی سے راجی کی شکل دیکھنے لگی۔ چوہدری اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا:فلحال تمہیں جانا پڑے گا۔۔۔بعد میں باقاعدہ ملازمہ کے طور پر تمہیں واپس بلا لوں گا۔ بلکہ رکو!!!یہ کہہ کر چوہدری نے پاس پڑی گھنٹی بجائی تو ایک منٹ بعد ہی دروازہ کھلا اور وہی حرامی ملازم اندر داخل ہوا جو ہمیں سب سے پہلے سیال زادوں کے پاس لے گیا تھا۔۔۔چوہدری نے کپڑے تک پہننے کی زحمت نہیں کی اور وہیں سےمیری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا اس لڑکی کو لے جاؤ اور اچھی طرح صاف ستھرائی کروا کر واپس بھیج دو۔راستے میں اسے سب سمجھا دینا۔ ملازم یہ سن کر بولا جو حکم!!!پھر اس نے مجھے وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں نے زمین پر پڑے ہوئے نوٹوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ایسے ہی اٹھی اور چادر لپیٹ کر باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ تبھی چوہدری کی دھاڑ سنائی دی۔۔۔او کنجر دی بچی:یہ نوٹ کیوں نہیں اٹھائے تم نے سنا نہیں میں ٹٹ نے بولا تھا کہ میری ہر بات پر چوں چراں عمل کرو۔ میں نے واپس مڑ کر چپ چاپ نوٹ اٹھائے اور ملازم کے پیچھے باہر چل دی۔۔۔ملازم مجھے سیدھا اس کوارٹر میں واپس لے گیا اور جاتے ہی اندر سے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔۔۔میں خاموش نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔کنڈی لگانے کے بعد وہ مڑا اور میرے پاس آ کر ایک دم اس نے مجھے زمین پر گرا کر میری چادر ہٹا دی۔ (16) میں نا کچھ بولی نا مزاحمت کی چند لمحے میرے ممے چوسنے کے بعد اس نے میری ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنا کالا بھجنگ لن باہر نکالا جو کہ اس وقت سانپ کی طرح پھن پھیلائے جھوم رہا تھا۔ اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھ کر تھوک کا ایک گولا اپنے لن پر پھینک کر ہاتھ سے اچھی طرح پھیلایا اور لن میری پھدی کے اندر ڈال کر جھٹکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے تمام احساسات مر چکے تھے اور میں ایک لاش کی طرح پڑی تھی۔ صرف چند گھسے مارنے کے بعد اس نے اپنا لن باہر نکالا اور میرے پیٹ پر منی کی دھاریں چھوڑ دیں۔ اپنا پانی نکالنے کے بعد وہ اٹھا اور اپنی شلوار باندھتے ہوئے مجھے بولا چل بنو اب اٹھ کر فٹا فٹ صاف صفائی کر لے۔۔۔پھر تجھے تیرے گھر بجھوا دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا سامنے میز کے پاس گیا اور کچھ دیر ادھر ادھر ہاتھ مار کر باہر نکل گیا۔ میں آہستہ سے اٹھی اور واش روم میں جا کر خود کو صاف کرنے کے بعد الماری سے اپنے پرانے کپڑے نکال کر پہنے اور زمین پر پڑے ہوئے نوٹ اٹھا کر اپنے گریبان میں اڑس کر بیٹھ گئی۔ دس منٹ بعد وہ اندر داخل ہوا اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ دبا ہوا تھا۔ چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد اس نے خاموشی توڑی اور بولا:دیکھ لڑکی اس حویلی کی کوئی بات باہر نہیں جانی چاہیے ورنہ چوہدریوں میں واقعی اتنی طاقت ہے کہ وہ سرِعام سب کے سامنے تجھے ننگا کر کے اپنے کتوں کو کھلا دیں اور کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ میں نے جو تیرے ساتھ کیا اس کی بھنک بھی چوہدری کو لگ گئی تو مجھے تو وہ کچھ نہیں کہے گا لیکن تجھے ننگی کر کے واپس ہم سب کے حوالے کر دے گا۔ پھر تم سارا دن حویلی کے ملازموں کو پھدی دیتی رہو گی۔۔۔اور ویسے بھی تم کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکو گی کیونکہ،،اتنا کہہ کر وہ اٹھ کر چلتا ہوا سامنے پڑی میز تک گیا اور وہاں سے کچھ اٹھا کر واپس آ گیا۔ اور بولا کیونکہ یہاں ہونے والی ساری واردات اس کیمرے میں موجود ہے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ سامنے کیا تو اس کے پاس ایک بڑا سا کیمرہ موجود تھا مجھے دکھا کر اس نے کیمرہ چلایا تو اس میں میری اور اس کی وہ فلم موجود تھی جو چند منٹ پہلے اس نے میری پھدی مارتے ہوئے فلمائی تھی۔ ************************* ایک بات تمہیں اور بتاتا چلوں۔ میرا نام شاہنواز ہے سمجھی اور مجھے دھوکا دینے کا مطلب اس کے ساتھ ہی اس نے ایک انگلی سے گلے پر چھُری پھیرنے کا اشارہ کیا۔ میں منہ سے کچھ نہیں بولی اور خاموش رہی تو وہ مجھے کندھے سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا کہ چلو اب میں تمہیں گھر بجھوا دوں اور ہاں دوبارہ جب بھی آؤ مجھے ملے بغیر واپس مت جانا۔ ورنہ!!!یہ کہہ کر اس نے کیمرے کو تھپتھپایا اور مجھے لیکر کوارٹر سے باہر نکلا آیا۔ گھر پہنچنے سے پہلے پہلے میں خود کو سنبھال چکی تھی۔۔۔گھر داخل ہوتے ہی میں چہرے پر خوشی سجائے ماں سے ملی اور اسے بتایا کہ ماں وڈے چوہدری صاحب نے مجھے انعام دے کر بھیجا ہے اور گریبان سے پیسے نکال کر ماں کو دے کر خود اندر کمرے میں چلی گئی۔ بس اس دن کے بعد میں ان کی مشترکہ پراپرٹی بن گئی ہوں۔۔۔ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی مجھے چودتا ہے۔۔۔کبھی وڈا چوہدری خود تو کبھی اس کا کوئی حرامی پتر۔۔۔اس کے علاوہ تقریباً ہر پھیرے میں واپس آتے وقت وہ کتی کا پٗتر شاہنواز تو لازمی میری پھدی مارتا ہے۔ پھر ایک دن راجو نے نشے کی حالت میں میری گانڈ کا بھی افتتاح کر دیا۔۔۔اور اب تک وڈے چوہدری سمیت سبھی سیال زادے میری پھدی اور گانڈ مار چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ اور بھی کئی لڑکیاں ہیں جو اس عذاب سے گزر رہی ہیں۔۔۔اپنی کہانی پوری کر کے وہ اٹھی اور دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ کمال مجھے معلوم ہے کہ یہ سب جان کر دنیا کا کوئی بھی مرد مجھ سے نفرت کرے گا۔۔۔پر تم ہی بتاؤ کہ اس سب میں میرا کیا قصور تھا۔ مجھ بیگناہ کو تو زبردستی اس راستے پر چلایا گیا۔۔۔اور میں کمزور ہستی چاہ کر بھی کچھ نہ کر پائی۔ اب مجھے عادت سی ہو گئی ہے کہ جب تک میں سیکس نہ کر لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تم میری پسند ہو اس لیے میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہارے پاس پہنچی۔۔۔لیکن تم دوسرے مردوں سے مختلف نکلے تم ہمیشہ صرف پیار کرتے رہے کبھی زور زبردستی نہیں کی۔ تو میں نے سوچا کہ جہاں ساری دنیا میرے ساتھ زبردستی یہ سب کر سکتی ہے تو کیوں نہ میں اپنے پیارے دوست کے ساتھ اپنی مرضی سے سیکس کر لوں بس یہ سوچ کر اس دن میں نے ہمارے درمیان کی ساری دیواریں گرا دیں۔۔۔اور تمہیں اپنا لیا اب تم چاہو تم نفرت کرو چاہو تو دھتکار دو مجھے کوئی غم نہیں۔ ************************* (17) کچھ دیر کی خاموشی کے بعد چھیمو بولی:اب میں چلتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ میں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے بازوؤں میں دبوچ لیا اور اس کے کانوں کو چوم کر بولا:نہیں چھیمو اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ تم بیگناہ ہو اور میں ہمیشہ ایسے ہی تم سے دوستی برقرار رکھوں گا۔۔۔اور اگر کبھی موقع ملا تو ان سیالوں کو ایسا مزہ چکھاوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اب یہ بتاؤ کہ تمہارے دن کب ختم ہوں گے تو وہ مڑ کر میرے گلے لگ کر بولی۔ کمال میرے دوست میں تم پر واری جاؤں۔۔۔میرے ساتھ جو ہوا شاید یہی تقدیر کا کھیل ہوتا ہے۔۔۔پر تم ان سب باتوں کو بھول جاؤ یار وہ بہت بڑے اور خطرناک لوگ ہیں۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ تم کسی چکر میں پڑو۔ میں نے جھلا کر کہا چھوڑو ان باتوں کو وقت آنے پر دیکھا جائے گا فلحال مجھے یہ بتاؤ کہ اور کتنے دن ترساؤ گی تو وہ میرے نیم کھڑے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلتے ہوئے بولی بس چار دن اور پھر تیری یہ گھوڑی سواری کروانے کیلئے تیار ہو گی۔ اتنا کہہ کر وہ نیچے بیٹھی اور دوبارہ میرے لن کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔چند منٹ کے جاندار چوپوں کے بعد اس نے مجھے چھوٹنے پر مجبور کر دیا۔ چھیمو میرا سارا منی اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔دوسری دفع چھوٹنے کے بعد تھوڑی کمزوری محسوس کرتے ہوئے میں لڑکھڑا گیا تو وہ فٹا فٹافٹ آگے ہو کر مجھے سنبھالتے ہوئے بولی۔۔۔اف یار میں بھی کتنی بے وقوف ہوں۔۔۔اب اگلے چار دن تک میں نہیں آؤں گی۔ اب تم بھی خوب کھا پی کر جان بناؤ۔۔۔چار دن بعد ملاقات ہو گی تو خوب جشن منائیں گے۔ اچھا اب تم سو جاؤ میں چلتی ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ مڑی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔میں نے جیسے تیسے اٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور چارپائی پر گر گے سو گیا۔ (18) دو دن بعد مجھے دودھ کے ایک آڑھتی سے ملنے لاہور جانا پڑا۔۔۔میں دودھ کی سپلائی کرنے والی گاڑی لیکر ہی لاہور چل پڑا۔۔۔ڈرائیونگ مجھے آتی تھی اس لیے خود ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔اس آڑھتی کا نام میاں اشرف تھا۔ ہمارا سارا دودھ اسی کی ڈیری پر جاتا تھا اور وہاں سے آگے وہ گاہکوں کو سپلائی کرتا تھا۔۔۔دراصل میں اب دودھ کے کام کو بڑھا کر اپنی ڈیری کھولنا چاہتا رہا تھا تو سوچا کہ اس بارے میں ساری معلومات اکٹھی کروں۔۔۔چنانچہ اسی سلسلے میں میاں اشرف سے ملنے لاہور چلا آیا۔ ************************* میاں اشرف سے ملاقات کے بعد میں وہاں سے ایک فرنیچر کی دکان پر چلا گیا اور گھر کیلئے خوبصورت بنا بنایا فرنیچر اور اپنے لیے ایک پلنگ خریدا۔ پیسے ادا کر کے میں نے مالک کو فرنیچر اچھی طرح پالش کر کے گھر بھیجنے کو کہا۔ اس کے بعد میں واپس گاؤں جا رہا تھا کہ مجھے راستے میں ایک گلی کے کارنر پر نادر ایک گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا سگریٹ پیتا ہوا دکھائی دیا۔۔۔میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کی۔ خود گاڑی سے اتر کر چلتا ہوا نادر کے پاس پہنچا اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔ میں نے پیچھے سے اسی پنجابی سٹائل کا چپھا مار کے خود میں بھینچ لیا۔ وہ میری طرف مڑ کے میرے گلے سے لگ گیا۔۔۔آؤ جی آؤ کدھر دیاں سیراں ہو رئیاں نیں پاپے۔ میں نے اسے بتایا کہ کس کام سے آیا تھا۔ پھر میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ یارا چھوٹی بی بی نوں لے کے آیا واں۔ اوناں نوں ایتھے اپنی کسے سہیلی ول کوئی کم سی تے میں نال آ گیا۔ میں نے پوچھا کہ یار اے چھوٹی بی بی کون اے۔ اس نے بتایا کہ جگر جی وڈے چوہدری صاب دے چھوٹے بھائی چوہدری ظفر سیال دی اکلوتی کڑی اے۔ شبینہ سیال۔ بڑی سوہنی سنکھی پر جڈی سوہنی اوڈی کپتی اے۔ خیر سانوں کی لینا دینا۔۔۔اسی ملازم آں اپنا کم کیتی جاندے آں۔۔۔چھڈ یار ایناں گلاں نوں آ پھڑ دو کش لا۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے ایک سگریٹ سلگا کر میری طرف بڑھایا جسے میں نے پکڑ لیا۔ کبھی کبھار نادر کے ساتھ مل کر ہی میں بھی دو چار کش لگا لیا کرتا تھا۔ ہم لوگ نادر والی گاڑی سے ٹیک لگائے سگریٹ پیتے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ نادر بولا یار تم رکو میں وہ سامنے ہوٹل کے واش روم میں چھوٹا پیشاب کر کے آیا۔۔۔بس دو منٹ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر نادر لمبے لمبے قدم اٹھاتے سامنے ایک ڈھابے نما ہوٹل کی طرف چلا گیا۔ میں وہیں گاڑی سے ٹیک لگائے کش لگاتے ہوئے دھواں چھوڑ رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک تلخ آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ جاہل،گنوار،پینڈو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی جو کہ نہایت ہی خوبصورت لباس میں ملبوس تھی۔۔۔ماتھے پر تیوریاں لیے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے دل میں سوچا کہ ہو نا ہو یہی شبینہ سیال ہے۔۔۔لیکن اس کے الفاظ مجھے انتہائی برے لگے تھے۔۔۔تو میں بھی ترکی بہ ترکی بولا۔ یہ تم نے جاہل گنوار اور پینڈو کسے بولا ہے۔۔۔تو وہ دانت پیستے ہوئے بولی کیا تمہیں یہاں کوئی اور نظر آ رہا ہے۔۔۔نہیں نا اس کا مطلب تمہیں ہی بولا ہے۔ میں بھی تیوری چڑھا کر بولا۔۔۔او لڑکی ذرا تمیز سے بات کر۔۔۔اگر میرا دماغ گھوم گیا تو تیرا دماغ ٹھکانے لگا دوں گا۔۔۔شاید اسے آج تک کسی نے ایسے منہ توڑ جواب نہیں دیا تھا تو وہ دھاڑتی ہوئی بولی۔ اپنی بکواس بند کرو گندی نالی کے کیڑے۔۔۔تم لوگوں کی اوقات ہی بس اتنی ہے کہ گندی نالی میں سڑتے رہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا مجھے کسی نے بازو پکڑ کر پیچھے کھینچا تو میں نے دیکھا کہ مجھے کھینچنے والا نادر تھا۔۔نادر بولا او یار ایہہ کی کر ریا ایں۔ ایہو چھوٹی بی بی اے۔ ساتھ ہی وہ آگے آ کر بولا چھوٹی بی بی ایہہ میرا دوست اے۔۔۔اپنے ای پنڈ دا ہے۔ غلطی ہو گئی تے میں معافی منگدا آں۔ تسی غصہ نہ کرو۔ وہ چلاتے ہوئے بولی اس کو تو وہ مزہ چکھاؤں گی کہ یاد رکھے گا۔۔۔اتنا کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی۔۔۔تبھی میں نے بھی جواب دیا۔ کمال پاشا ہے نام میرا۔ تمہاری حویلی سے تھوڑا ہی دور رہتا ہوں۔۔۔جب بھی مزہ چکھانا ہو آ جانا۔ وہ کچھ نہیں بولی بس شعلہ بار نگاہوں سے مجھے گھورتی رہی۔۔۔نادر نے میرے آگے ہاتھ جوڑے اور مجھے وہاں سے جانے کو کہا۔ ساتھ ہی نادر مڑ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑا۔ چھیمو کی بربادی اور سیالوں کے ظلموں کی داستان سن کر میں پہلے ہی غصے میں تھا۔۔۔اوپر سے اس سیال زادی کی بکواس اور تپا گئی۔ ************************* (19) اگلے دن شام کے وقت میری زمینوں پر کام کرنے والے سارے مزدور اکٹھے ہو کر گھر پہنچ گئے۔ میں صحن میں بیٹھا ابو سے باتیں کر رہا تھا کہ کسانوں کو دیکھ کر میں چارپائی سے اترا اور آگے ہو کر پوچھا۔۔۔اپ سب لوگ اکٹھے ہو کر آئے ہیں۔۔۔مطلب کوئی گھمبیر صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ سب یک آواز ہو کر بولے کمال باؤ ایناں سیالاں نے تنگ کر ماریا۔۔۔آئے دن نہر دے پانی دا رخ موڑ کے اپنی زمین ال کر لیندے نیں۔ اج وی ساڈی واری سی تے اوہناں نیں پانی نوں کاوا کٹ کے اپنی زمین ال موڑ لیا۔ اسی اکٹھے ہو کے اوناں نال گل کیتی تے موقع تے موجود راجو تے نور سیال نے چاچے اکبرے نوں تھپڑ مارے اور ٹھڈے شڈے وی مارے۔ میں ان کی باتیں سن کر ایک دم پریشان ہو گیا۔۔۔پھر پوچھا اب چاچا اکبر کہاں ہے نظر نہیں آ رہا تو انہوں نے بتایا کہ مار کھاتے وقت چاچا بیہوش ہو گیا تو دو آدمی اس کو ڈسپنسری لے گئے ہیں۔ میں نے اسی وقت کمرے میں جا کر اپنی بندوق نکالی اور غصے میں باہر نکلا تو ابا جان جو کہ ساری بات سن چکے تھے مجھے روکتے ہوئے بولے نہیں پتر نہیں اس کو رہنے دو اور اپنا دماغ بھی ٹھنڈا رکھو۔ اس مسئلے کا حل میں نکالتا ہوں۔۔۔میں نے جواب دیتے ہوئے کہا لیکن ابو جی آپ ان سیالوں کو نہیں جانتے!!!تو ابا ایک دم گرج کر بولے اوئے چپ کر اب تم مجھ سے بڑا ہو گیا ہے جو آگے سے غوں غٹر کر رہا ہے۔۔۔ایک دفعہ کہہ دیا نا کہ میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔۔۔بس تم اندر جاؤ اور گھر سے باہر نہیں نکلنا یہ میرا حکم ہے۔ پھر وہ کسانوں کی طرف مڑ کر بولے چلو آؤ میں دیکھتا ہوں۔۔۔اتنا کہہ کر ابو کسانوں کے ساتھ چلتے ہوئے باہر نکل گئے اور میں بے بسی سے وہیں کھڑا رہا۔۔۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب اگر ابو کے منع کرنے کے باوجود میں وہاں گیا تو پھر میری خیر نہیں۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ابو کی واپسی ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ سب معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے۔ پانی کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ ہو گیا اور چاچے اکبر کے علاج معالجے کے علاوہ ہرجانہ کے طور پر بیس ہزار روپیہ اس کو ادا کر دیا گیا ہے سیالوں کی طرف سے۔ پھر مجھے سمجھاتے ہوئے بولے:سن پتر!تمہارا جوان خون ٹھاٹھیں مارتا ہے۔۔۔لیکن خون کی گرمی سے یہ معاملات نہیں سلجھائے جا سکتے۔ ویسے بھی وہ لوگ پاورفل ہیں۔۔۔اب گاؤں میں الیکشن بھی شروع ہو رہے ہیں اور سیال فیملی کا بھی ایک امیدوار لازمی ہو گا۔ اس لیے ہر وقت ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچ کر چلنا پڑتا ہے۔۔۔اور میں ان کی باتیں سنتے ہوئے اندر ہی اندر ابل رہا تھا کہ اب ابو کو کیسے سمجھاؤں کہ ان سیالوں کی پوری نسل ہی کنجر زنی پر مشتمل ہے!!!پر اب ظاہری سی بات ہے کہ چھیمو کی سنائی ہوئی کہانی تو ابو کو سنا نہیں سکتا تھا اس لیے غصہ دل میں دبائے خاموش ہو گیا۔ آج رات چھیمو بھی نہیں آئی تو میں کروٹیں بدلتے بدلتے سو گیا۔ (20) اگلے دن صبح میں زمینوں کا چکر لگا رہا تھا کہ نادر سے ملاقات ہو گئی۔ وہ مجھے ہی ڈھونڈھتا ہوا وہاں آیا تھا۔۔۔گلے ملنے کے بعد بولا یار کمال مینوں پتہ لگیا کہ کل تواڈے ہاریاں دا سیالاں نال کوئی پنگا ہو گیا سی۔ میں دانت چباتے ہوئے بولا کہ نہیں یار ایسی بات نہیں انہوں نے پانی بند کیا تو ہاری ان سے بات کرنے گئے تو وہاں انہوں نے ایک بزرگ کو مار پیٹا۔۔۔ہمیں پتہ چلا تو بابا جان نے مجھے گھر روک کر خود پنچایت بلائی اور پانی کا ٹائم ٹیبل بھی سیٹ ہو گیا اور بزرگ ہاری کو ہرجانہ بھی مل گیا۔۔۔اچھا یار پرسوں بی بی نال وی رولا بن گیا سی پر میں راستے اچ بی بی نوں سب سمجھا دتا کہ غلط فہمی نال سب ہویا۔ اور تو میرا یار ایں۔ بی بی دا غصہ وی ٹھنڈا ہو گیا۔۔۔چل دفع مار ایناں گلاں نوں۔۔۔میں تینوں ایہہ دسن آیا سی کہ میں چند دن واسطے کراچی جا ریا۔ وڈے چوہدری صاحب دا کوئی کم پھَسیا کھڑا۔۔۔توں میرا ویر پچھوں میری بوجھائی شمسہ دا خیال رکھیں۔۔۔ویسے تے نال آلی چاچی رحمتے ہر ویلے شمسہ کول وڑی ریندی اے پر فیر وی توں چکر مار لیا کریں۔ میں نے پوچھا کہ کب جا رہے ہو تو وہ بولا کہ بس گھر جا رہا ہے اور روٹی کھا کر شمسہ کو بتا کر کراچی کیلئے نکل جائے گا۔۔۔پھر وہ مجھے احتیاط کرنے اور سیالوں سے دور رہنے کی تلقین کر کے چلا گیا۔ شام کے وقت فرنیچر والی گاڑی بھی آ گئی۔۔۔گاڑی کے ساتھ لڑکوں نے مل کر سارا فرنیچر اتار کر گھر میں مختلف جگہوں پر رکھا۔ میرا بیڈ میں نے اپنے کمرے میں رکھوایا اور ان لڑکوں کو ادائیگی کر کے واپس بھیج دیا۔۔۔امی،ابو اور بینا سب کو فرنیچر بہت پسند آیا۔ میں نے بینا کو چھیڑنے کی خاطر کہا بینا تجھے تیری شادی پر اس سے بھی ذیادہ خوبصورت فرنیچر لا دوں گا۔۔۔میری بات سن کر بینا نے سر جھکایا اور شرماتے ہوئے اندر امی کے کمرے میں چلی گئی۔ میں امی ابو کے پاس بیٹھ کر بینا کی شادی بارے میں بات کرنے لگا کہ اب بینا بڑی ہو گئی ہے اس کیلئے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈتے ہیں۔۔۔پھر تھوڑی دیر تک اسی موضوع پر باتیں ہوتی رہیں۔ ************************* (21) رات کو میں اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا کہ چھیمو آن وارد ہوئی۔۔۔مجھے کمرے میں موجود پا کر وہ تیر کی طرح میرے پاس آئی۔ آتے ہی وہ میرے گلے لگ گئی۔۔۔اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔۔۔اچھی طرح ہونٹ چوسنے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہوئی اور میرے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ کر بولی۔۔۔کمال میری جان یہ بتاؤ کہ پرسوں چھوٹی بی بی شبی ساتھ تیرا کیا پھڈا ہوا تھا۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ تجھے کیسے پتہ چلا تو وہ بولی کہ بعد میں بتاتی ہوں پہلے جو پوچھا اس کا جواب دو۔۔۔میں نے اسے ساری بات بتائی کہ کیسے شبینہ نے بلاوجہ ہی بکواس کی تو اس نے بتایا کہ شبینہ کے بکواس کرنے کی وجہ یہ تھی کہ تم چونکہ اس کی گاڑی سے ٹیک لگائے سگریٹ پی رہے تھے اور وہ نہایت نفاست پسند لڑکی ہے۔۔۔اوپر سے انتہائی لاڈلی اور نک چڑھی بھی!!!تو اس لیے وہ برداشت نہ کر پائی اور بکواس کر گئی آگے سے منہ توڑ جواب ملنے پر بھڑک گئی۔ اب مصیبت یہ بنی کہ رات کو اس نے ساری بات راجو سیال کو بتا دی۔۔۔اب راجو موقع کی تاڑ میں ہے۔ یہ سب انتہائی کینہ پرور لوگ ہیں۔۔۔تم میری جان اپنا خیال رکھنا۔۔۔میں بے پروائی سے بولا چھوڑ اس گشتی کے بچے کو جب مجھ سے ٹکرائے گا تو اسے دکھاؤں گا مردانگی کسے کہتے ہیں۔ اب جلدی سے آ جا دیکھ کتنے دنوں سے میں بھوکا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر میں نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے چوتڑ دبانے شروع کر دیے۔۔۔وہ ایک دم مچل کر اٹھی اور بولی۔۔۔ارے یار میں تو بھول ہی گئی۔۔۔آج میں اکیلی نہیں آئی ہوں۔۔۔تجھے کسی سے ملوانا ہے۔۔۔میں نے حیرانی سے پوچھا۔ کیا مطلب کِس سے ملوانا ہے تو وہ بولی یاد ہے نا اس دن جب میں نے تمہیں سٹوری سنائی تھی تو اس لڑکی کا ذکر کیا تھا جس کو میرے ساتھ ہی سیالوں نے خراب کیا تھا۔۔۔تو میں بولا ہاں ہاں بتایا تھا وہ خوبصورت لڑکی۔ بھلا سا نام تھا اس کا یہ کہہ کر میں اس کا نام سوچتے ہوئے بولا ہاں یاد آیا رضیہ عرف راجی۔ کیوں کیا وہ تمہارے ساتھ آئی ہے۔۔۔تو چھیمو میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی کہ ہاں آج وہ میرے ساتھ آئی ہے۔۔۔میری طرح وہ بھی سیالوں کی زور زبردستی سے بہت تنگ ہے مگر سیکس کی بھوک اس میں بھی بہت ذیادہ ہے۔ جب میں نے اس کی حالت دیکھی تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے اسے تمہارے بارے میں بتایا کہ کس طرح تم سے دوستی ہوئی اور ہم سیکس تک پہنچے اور تم کیسے بھرپور انداز میں سیکس کے مزے دیتے ہو۔ بس یہی سن کر وہ مچل اٹھی۔۔۔نتیجتاً اب وہ میرے کمرے میں انتظار کر رہی ہے۔۔۔یہ سن کر میری باچھیں کھل اٹھیں اور میں بولا کہ جاؤ اسے بھی لے آؤ۔ چھیمو اٹھ کر باہر نکل گئی جبکہ میں نے اٹھ کر اپنے کپڑے اتارے اور خود ننگا ہی بیڈ پر سیدھا لیٹ کر اپنے نیم مردہ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلنے لگا۔ چند منٹ بعد ہی چھیمو کے ساتھ چادر میں لپٹی ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔چھیمو نے پلٹ کر دروازے کی کنڈی لگائی اور سیدھا میری طرف آتے ہوئے اپنے کپڑے اتار کر پوری طرح ننگی ہو گئی۔ پاس آ کر چھیمو نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر مڑ کر اس لڑکی سے بولی چل راجی آ جا۔۔۔میرا کمال ہم دونوں کے بارے میں سب جانتا ہے پھر دیر کس بات کی۔۔۔اتنا کہہ کر چھیمو بیڈ پر چڑھ آئی اور آتے ہی میرے اوپر لیٹ کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے راجی کو اپنی طرف بلایا جو کہ ابھی بھی چادر لپیٹے اپنی جگہ پر کھڑی تھی۔ میرے اشارہ کرنے پر وہ آگے بڑھی اور بیڈ کے کنارے پر ٹک کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے چھیمو کو اوپر سے ہٹایا اور اٹھ کر راجی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچنا چاہا تو وہ تھوڑا بدک اٹھی۔ یہ دیکھ کر چھیمو بولی راجی کیا بات ہے کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو۔۔۔تم نے آج تک صرف چوہدریوں کے دھکے کھائے ہیں۔۔۔آج تمہیں میرا دوست کمال بتائے گا کہ اصلی مرد کا پیار کیا ہوتا ہے۔ اس لیے بلکل اطمینان سے بیٹھو اور ان لمحات کو پوری طرح انجوائے کرو۔ اچھا لاؤ میں تمہاری مدد کرتی ہوں!!!یہ کہہ کر چھیمو نے آگے بڑھ کے راجی کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔۔۔چند لمحات بعد ہی راجی میرے سامنے ننگی کھڑی تھی۔۔۔کالے رنگ کی برا کھولنے کے بعد راجی کے بڑے بڑے گول مٹول ممے اچھل کر باہر نکل آئے۔ اس کے ممے چھیمو سے تھوڑے چھوٹے تو تھے لیکن اٹھان بھرپور تھی۔۔۔اب راجی نے ہمت کی اور قدم بڑھا کر بیڈ پر چڑھ آئی۔ *********جاری ہے*********
  7. معذرت یارو۔۔۔ کل کا دن انتہائی مصروف ترین دن تھا اوپر سے یہاں کی گرمی۔۔۔ اف،توبہ 47 ٹمپریچر تھا اور اتنی گرمی میں مت وج گئی۔۔۔میں بھول ہی گیا کہ کل کا میرا وعدہ تھا۔۔۔بہرحال آج شام تک اپلوڈ ہو جائے گی۔۔۔
  8. @waji بھائی سٹوری پسند کرنے کا شکریہ۔۔۔ صرف دو دن انتظار کریں اس کی اپڈیٹ پوسٹ ہو جائے گی۔۔۔
  9. @Cutesmile آپ کو سٹوری پسند آئی۔۔۔ بھائی تیری بڑی مہربانی۔۔۔ ارے نہیں یار میں پردیس کے مقابلے کہاں۔۔۔ فیصل بھائی برسوں سے لکھ رہے ہیں اور میں نے اب شروع کیا ہے۔۔۔ بہرحال سٹوری شروع کی ہے تو پوری تو لازمی ہو گی۔۔۔اور دو دن میں اس کی اگلی اپڈیٹ پوسٹ کر دی جائے گی۔۔۔
  10. مجھے آپ کے اس فورم پر کسی کے میسیج کو رپلائی مطلب ٹیگ کرنا نہیں آ رہا۔۔۔ کیا کوئی میری راہنمائی کرے گا۔
  11. جی جی بلکل اپڈیٹس آتی رہیں گی بس ابھی کچھ دن کافی مصروفیت ہے کام پر۔۔۔ نوکری پیشہ آدمی ہوں تو تھوڑا آگے پیچھے ہو سکتا ہے سہی سے ٹائم فریم نہیں دے سکتا پر ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ دوستوں کو بہت ذیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔
  12. محترم ایڈمنسٹریٹر۔۔۔ میں اس نوازش پر آپ کا شکر گزار ہوں۔۔۔ نئیں تحریر ایک شروع کی ہوئی ہے اور اپلوڈ بھی کر رہا ہوں مجرم یا۔۔۔ بہت جلد ہی اس کی اپڈیٹس ایک ترتیب سے آتی رہیں گی۔۔۔
  13. جی جناب۔۔۔ آپ کی بات بلکل ٹھیک ہے پر اور بھی غم ہیں زمانے میں اس کے سوا۔۔۔بہرحال اپڈیٹس آتی رہیں گی
  14. تقریباً ساڑھے تین سو ویوز پر صرف چار کمنٹس۔۔۔ اچھا ویلکم ہے یارو۔۔۔
×
×
  • Create New...