Jump to content
URDU FUN CLUB

Mani00001

Members
  • Content Count

    9
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

10

Profile Information

  • Gender
    Female
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. آج میں آپ لوگوں کو جو واقعہ پیش کررہا ہوں وہ لاہور کی رہنے والی پروین کا ہے اور آپ یہ واقعہ اسی کی زبانی ہی سنیں گے میرا نام پروین ہے اور میری عمر 35 سال کے قریب ہے میری شادی 12 سال قبل ہوئی اور ایک بیٹی کی ماں ہوں جو اس وقت چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے میرا شوہر آٹھ سال پہلے روز گار کی تلاش میں امریکا چلا گیا جہاں سے وہ ابھی تک تین بار پاکستان آیا ہے آخری بار وہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان آیا اور صرف دس دن کے بعد واپس چلا گیا پہلے پہل تو مجھے اس کی کمی مجھے بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ میں اس کے بغیر رہنے کی عادی ہوگئی تقریباً ایک سال پہلے ایک رات میں باتھ روم میں جانے کے لئے اٹھی توپھر نیند نہ آئی جس پر میں چھت پر چلی گئی جہاں سے اپنے ہمسائے کو دیکھا جو اپنے لان میں اس کے ساتھ رومانس کررہا تھا اس نے اپنی بیوی کو کسنگ کے بعد اس کی قمیص کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کردیا جس سے میری سوئی ہوئی حسیں جاگ گئیں اور مجھے اپنے اور اپنے خاوند آصف کے پیار کے واقعات یاد آنے لگے جس سے میرے اندر ایک انجانی سی آگ بھڑک اٹھی تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں تو اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ میں بیڈ پر آن لیٹی میرے اندر لگی آگ مزید بڑھتی جارہی تھی میں نے ایک ہاتھ اپنی قمیص میں اور دوسرا اپنی شلوار میں ڈال لیا ایک ہاتھ سے اپنے ممے دبانے لگی جبکہ دوسرے سے اپنی پھدی میں فنگرنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد میںفارغ ہوگئی لیکن مجھے صحیح معنوں میں تسلی نہ ہوسکی اس سے اگلے روز بھی میں نے اسی طریقے سے اپنی تسلی کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے اندر لگی آگ کو بجھا نہ سکی اس رات میں نے اپنے شوہر کو امریکا میں فون کرکے واپس آنے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ ابھی چھ مہینے پہلے ہی تو پاکستان آیا تھا اگلے دو سال تک دوبارہ واپسی نہیں ہوسکتی جس کے بعد میں مزید ڈس ہارٹ ہوگئی اس کے بعد میں نے کسی لڑکے کو پھنسا کر اپنی آگ بجھانے کا فیصلہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے اگلے دو ماہ کے اندر کمرشل ایریا میں ایک دکان پر کام کرنے والے بیس سال کے قریب عمر کے عامر نامی نوجوان کو پھنسا لیا جس کو میں نے ایک روز دن کے وقت اپنے گھر بلایا اور اس کو اپنے کمرے میں بٹھا کر کوک پلائی اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کو کسنگ شروع کردی شروعات میں نے کی اس کے بعد وہ سٹارٹ ہوگیا اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے کسنگ کے دوران اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ممے دبانا شروع کردیئے میرے اندر آگ مزید بڑھ رہی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اس کو کمر سے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر پھیرنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور میری قمیص اتارنے لگا اس کے بعد اس نے میری بریزیئر اور شلوار اس کے بعد اپنی پینٹ شرٹ اور انڈر ویئر بھی اتار دیا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ میرے شوہر کا لن تقریباً ساڑھے چھ انچ کا تھا اور عامر صرف چار انچ لن کا مالک تھا اور وہ بھی کافی پتلا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا میں نے اسی پر گزارہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی دوران عامر نے مجھے دوبارہ کسنگ شروع کردی اور پھر میرے مموں کو چوسنے لگا وہ بڑی کمال مہارت سے یہ کام کررہا تھا اس کا ایک ہاتھ میری پھدی کو سہلا رہا تھا جس سے اس کے اندر سے پانی نکلنے لگا اس کے بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا کر میرے مموں کو چوسا اور اور میرے نپلز کو اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا سا کاٹنا شروع کردیا جس سے میرے منہ سے ایک آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ سی نکل گئی اس کے بعد اس نے میری گردن اور پھر میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا کہ اس نے ایک اور ناقابل برداشت کام کیا اس نے اپنی ایک انگلی میری پھدی کے اندر ڈال دی اور اس کو ہلکا ہلکا سا موو کرنا شروع کردیا جس سے میں مزے کی دنیا میں پہنچ گئی نشے سے میری انکھیں بند ہورہی تھیں میں نے اپنی ٹانگیں اکٹھی کرلیں اور عامر کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کو کہنے لگی عامر بس کرو اب میری برداشت سے باہر ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میرے پیٹ اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیری جس سے میرے مزے میں مزید اضافہ ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی میں نے ایک دم عامر کو پکڑ کر خود سے علیحدہ کردیا اور اس سے کہا کہ اب بس کرو اور اصل کام کرو لیکن اس نے میری بات ان سنی کرکے پھر سے مجھے سیدھا کیا اور اپنا منہ میری پھدی پر رکھ دیا جس سے میری جان نکل گئی اس کی زبان میری پھدی کے اندر گئی اور حرکت کرنے لگی میں نے اس کو بالوں سے پکڑ لیا میرا دل کررہا تھا کہ کسی طرح اس کی زبان مزید لمبی ہو جائے اور میرے اندر تک چلی جائے اس طریقہ سے کبھی میرے شوہر نے نہیں کیا تھا اور میرے لئے یہ مزہ نیا تھا دو منٹ تک اس نے میری پھدی کے اندر اپنی زبان چلائی پھر پیچھے ہٹ گیا اور میرے ساتھ لیٹ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ اب تم میرے لن کو اپنے منہ میں لو میں نے پہلے یہ کام بھی نہیں کیا تھا اس لئے اس کام سے انکار کرنے لگی اس نے مجھے بہت کہا لیکن میں نہ مانی اس کے بعد وہ اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اپنے لن کو میری پھدی پر رگڑنے لگا کچھ لمحے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور جھٹکا دیا اس کا پورا لن میری پھدی کے اندر چلا گیا اس کے بعد اس نے جھٹکے مارنا شروع کردیئے میرا دل کررہا تھا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر ٹکرائے لیکن اس کی لمبائی چھوٹی تھی جس کی وجہ سے میری خواہش پوری نہیں ہوسکی چار پانچ منٹ کے بعد وہ فارغ ہوگیا لیکن میں ادھوری رہ گئی وہ مزید ایک آدھ منٹ تک میرا ساتھ دیتا تو میں بھی منزل تک پہنچ جاتی لیکن وہ فارغ ہوگیا اور ٹھنڈا ہوکر میرے اوپر آن گرا اور لمبے لمبے سانس لینے لگامجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے اندر لگی آگ مجھے بھسم کردے گی دس منٹ میرے اوپر ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ اتر کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے لن کو سہلانا شروع کردیا تاکہ اس کو دوبارہ تیار کرکے خود بھی مکمل ہوجاﺅں پانچ ساتھ منٹ تک اپنی انگلیوں سے اس کے لن کے ساتھ کھیلتی رہی تو اس کے لن میں تھوڑی سی حرکت محسوس ہوئی تو کہنے لگا آپ اس کو منہ میں لیں تو جلدی کھڑا ہوجائے گا میں نے مجبوراً اس کے لن کو منہ میں لےنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیڈ شیٹ سے اس کے لن کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ا سکو اپنے منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوسنا شروع کردیا جس کے باعث چند سیکنڈ میں ہی اس کا لن کھڑا ہوگیا میں نے اب دوسرے طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو لیٹے رہنے کا کہہ کر اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا لن اپنی پھدی میں لے لیا اور اس کے اوپر اچھلنے لگی چھ سات منٹ تک اسی طرح اچھل کود کرنے کے بعد میں فارغ ہوگئی اور ساتھ ہی وہ بھی چھوٹ گیا اس کے لن کی ساری منی میری پھدی میں نکلی لیکن اس کا مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیونکہ دو سال پہلے ہی میں نے اپنا آپریشن کروا لیا تھا اس کے بعد تقریباً پانچ ماہ تک میں دوسرے تیسرے دن عامر کو اپنے گھر بلا لیتی اور اس کے ساتھ سیکس کرتی کبھی تو میں بھی مکمل ہوجاتی لیکن کبھی کبھی وہ مجھے ادھورا چھوڑ کر خود ڈھیلا ہوجاتا ایک روز اس نے مجھے نیٹ پر اردو سٹوریز کی مختلف سائٹس بتائیں جن کا میں ریگولر وزٹ کرنے لگی اور اپنے فارغ وقت کا خاصا حصہ کہانیاں پڑھنے میں صرف کرنے لگی اس دوران میں نے کہانیاں لکھنے والے کئی افراد کو ای میلز بھی کیں چند ایک نے مجھے رپلائی بھی کیا لیکن ان کے ساتھ بات آگے نہ بڑھ سکی ایک روز میں نے اردو فنڈا پر لاہور میں لائیو سیکس پرفارمنس کے حوالے سے ایک کہانی پڑھی تو میرے دل میں بھی شوق پیدا ہوا کہ میں یہ شو دیکھوں جس کے لئے میں نے اس کہانی کے رائیٹر کو ای میل کی جس میں میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا مجھے دو روز بعد جواب موصول ہوا جس میں کہانی کے مصنف شاکر محمود نے بتایا کہ ان کا شو کے آرگنائزرز کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک دوست کے ریفرنس سے وہاں گئے تھے اور اگلا پروگرام مارچ یا اپریل میں ہوگا جس کے بعد ان کے ساتھ ریگولر میل کے ذریعے رابطہ ہونے لگا اس دوران ان کی چند ایک دیگر تحریریں بھی میں نے پڑھیں اور میرے دل میں ان کے ساتھ ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا میں نے ایک روز ان کو میل کرکے ان سے ملنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواباً مجھے میل میں اپنا فون نمبر SEND کردیا جس پر میں نے فوراً ان کو کال کی اور ان سے ملنے کے لئے کہا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تو کسی کام کے سلسلہ میں اسلام آباد میں ہیں لیکن دو تین روز تک واپس آکر پہلی فرصت میں ملیں گے یہ اتوار کا دن تھا جب مجھے دن کے بارہ بجے کے قریب شاکر صاحب کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ابھی فری ہیں اور ملنا چاہتے ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آج میری بیٹی کو سکول سے چھٹی ہے اور گھر پر کچھ مہمان بھی آنے والے ہیں اگر کل کا یا رات کا ٹائم رکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا خیر یہ بات طے ہوگئی کہ رات کو ساڑھے دس بجے شاکر صاحب میرے گھر آئیں گے اور رات میرے پاس ہی ٹھہریں گے رات کو چھ بجے کے قریب گھر سے تمام مہمان چلے گئے اور سات بجے کے قریب میری بیٹی بھی سو گئی جس کے بعد میں نہا کر فریش ہوگئی اور شاکر صاحب کا انتظار کرنے لگی میں سوچ رہی تھی کہ جانے شاکر صاحب کیسے ہوں گے پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک بارعب عمر رسیدہ شخص یا کوئی چلبلا نوجوان خیر وہ وقت بھی آگیا جب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں دس بج کر پانچ منٹ ہوئے ہوں گے جب ڈور بیل بجی میں نے دروازہ کھولا تو دروازے کے سامنے سفید رنگ کی مہران گاڑی کھڑی تھی اور پاس ایک تیس سال کے قریب عمر کا ایک نوجوان جوبلیو جینز اوروائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس تھا دروازہ کھولنے پر کہنے لگا آصف صاحب کا گھر یہی ہے میں نے اثبات میں سرہلایا تو اس نے کہا میں شاکر جس پر میں نے بڑا گیٹ کھول کراس کو گاڑی اندر کرنے کو کہا اس نوجوان نے گاڑی اندر پارک کی اور گاڑی سے اتر کر ادھر ادھردیکھنے لگا جیسے کہ گھر کا جائزہ لے رہا ہو اس نوجوان کا قد پانچ فٹ دس انچ کے قریب ہوگا سفید رنگ اور کلین شیو کئے ہوئے یہ نوجوان بہت بھلا معلوم ہورہا تھا چہرے پر کمال کا اطمینان تاثرات دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ یہ نوجوان سیکسی کہانیاں لکھنے والا ہے میں نے چند لمحے اس کا بغور جائزہ لیا اور پھر اس کو لے کر سیدھا اپنے کمرے میں لے گئی جہاں ان کو بیڈ پر ہی بیٹھنے کو کہا وہ بلا جھجکے ٹانگیں نیچے کئے بیڈ پر بیٹھ گیا میں نے ان سے پوچھا کہ ٹھنڈا یا گرم تو کہنے لگا ٹھنڈا میں فوری طورپر کچن میں گئی اور فریج سے کوک نکالی دو گلاس ٹرے میں رکھے اور کمرے میں آگئی گلاسوں میں کوک ڈالی اور ایک گلاس نوجوان کے ہاتھ میں تھما کر دوسرا گلاس خود پکڑ لیا یہ نوجوان چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر کوک پی رہا تھا اور جانے کن سوچوں میں گم تھا چند لمحے خاموشی کے بعد نوجوان گویا ہوا تو آپ ہیں پروین جی کیا حال چال ہیں میں ٹھیک ہوں اپنی سنائیے میں بھی ٹھیک ہوں کیسے لگتی ہیں میری تحریریں بہت اچھی لیکن یہ آپ سے اچھی نہیں ہوسکتیں آپ تو بہت ہی خوب صورت ہیں میں ایک اجنبی کے منہ سے اپنی تعریف سن کر چھمب سی گئی آپ اسلام آباد سے کب واپس آئے میں دوپہر میں آیا تھا اور آتے ہی آپ کو فون کیا آپ نے بتایا کہ آپ مصروف ہیں تو میں گھر جاکر سو گیا آٹھ بجے کے قریب اٹھا اور گھر کا کچھ سامان وغیرہ بازار سے خرید کر لایا پھر آپ کی طرف آگیا آپ کیا کرتے ہیں کچھ بھی نہیں بس چھوٹی سی ایک جاب ہے کس قسم کی جاب جی میں ایک سرکاری محکمہ (محکمہ کا نام لے کر) میں (پوسٹ کا نام لے کر) کام کرتا ہوںاور آپ کے خاوند جی وہ امریکا گئے ہوئے ہیں اوہ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی پھر میں نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کہ آپ شوز اتار کر بیڈ کے اوپر بیٹھ جائیں تو وہ شوز اتارنے لگا اور میں گلاس لے کر کچن میں چلی گئی واپس آکر اس سے کھانے کا پوچھا تو اس نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر اب چائے مل جائے تو بہتر ہوگا اس کے علاوہ اس نے ٹی وی کا ریموٹ بھی مانگا میں نے اس کو ٹی وی کا ریموٹ دیا اور کہا کہ اگر ڈی وی ڈی پر کوئی فلم دیکھنا چاہیں تو وہ بھی دیکھ سکتے ہیں تو کہنے لگا کہ آپ کے پاس بلیو فلم ہے میں اس کی بات سن کر چند لمحے اس کو دیکھتی رہی پھر انکار میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا میری گاڑی میں پڑی ہے آپ لے آئیں گی یا میں اٹھا لاﺅں تو میں نے اس سے کہا کہ میں لے آتی ہوں میں نے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر پڑی دو سی ڈیز اس کو لا کر دیں اور خود چائے بنانے کچن میں چلی گئی واپس آئی تو ٹی وی پر کوئی ہوم میڈ دیسی فلم چل رہی تھی جس میں ایک لڑکی نے لڑکے کو نیچے لٹا کر اس کا لن اپنے اندر لے رکھا تھا اور اچھل کود کررہی تھی میں چائے لے کر اندر آئی تو نوجوان نے مجھ سے کپ لے کر بیڈ کی ٹیک پر رکھ دیا اور جیب سے ایک پلاسٹک کی پڑیا نکالی جس میں سے ماچس کی ایک دیا سلائی پر لگے مسالے جتنی کوئی چیز نکال کر چائے سے پہلے منہ میں ڈال لی(جس کے بارے میں مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ افیون تھی) پھر چائے پینے لگا میں اس کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ گئی تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا اور ساتھ ہی کہنے لگا مجھے کانٹے تو نہیں لگے ہوئے آپ دور ہوکر بیٹھی ہیں میں شرمندہ سی ہوکر اٹھی اور اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گئی ٹی وی پر بدستور فلم چل رہی تھی اب لڑکی ڈوگی سٹائل میں تھی اور لڑکا اس کے پیچھے سے دھکے لگا رہا تھا اور لڑکی کے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ اوی میں مر گئی اہ ام م م م اف بس کرووووو کی آوازیں آرہی تھیں جس سے میرے جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا تھا جبکہ میرے ساتھ بیٹھا شاکر نامی نوجوان میری طرف دیکھ کر ہلکا ہلکا سامسکرا رہا تھا جس سے میں سکڑتی جارہی تھی اس کو آئے ہوئے آدھ گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا لیکن اس نے مجھے ٹچ بھی نہیں کیا تھا میں نے کئی بار کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہا تھا آخر میں نے اس سے پوچھ ہی لیا میری طرف کیا دیکھ رہے ہیں دیکھ رہا ہوں خدا نے کس کمال مہارت سے بنایا ہے آپ کو آپ کے فگر دیکھ کر حیران ہورہا ہوں لگتا نہیں کہ آپ شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ہیں آپ کے شوہر یقینا نہ شکرے ہوں گے جو آپ کو چھوڑ کر چلے گئے میں اس کی بات سن کر مزید چھمب سی گئی اور خاموش ہی رہی چند لمحے بعد وہ پھر کہنے لگا کیسی لگ رہی ہے آپ کو فلم اچھی ہے لگتا ہے پاکستانی ہے ہاں یہ لاہور ہی کی ہے اور کسی گھر میںبنائی گئی ہے لاہور میں بھی ایسے کام ہوتے ہیں جی اس سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں کیا کیا آپ کو کیا کیا بتاﺅں خیر چھوڑیں ان باتوں کو آپ کے شوہر کو کتنا عرصہ ہوگیا ہے امریکا گئے ہوئے جی نو سال کے قریب اس دوران وہ پاکستان نہیں آئے جی آئے تھے ایک سال پہلے صرف دس دن کے لئے آپ ان کو کہتی نہیں کہ اب پاکستان میں آجاﺅ کہتی ہوں لیکن وہ کہاں سنتے ہیں اوہ تو آپ کو ان کی کمی محسوس نہیں ہوتی ہوتی تو ہے لیکن میں کیا کروں آپ کی کسی اور مرد کے ساتھ دوستی ہے جی نہیں (اس بار میں جان بوجھ کر جھوٹ بول گئی لیکن چند روز بعد میں نے شاکر کو بتادیا کہ عامر نامی ایک لڑکے سے میری دوستی ہے لیکن اب میں اس سے نہیں ملوں گی) آپ کو سیکسی کہانیوں کی ویب سائٹ کے بارے میں کیسے معلوم ہوا جی ایک روز ایسے ہی بیٹھے بیٹھے سرچنگ کے دوران سائٹ کھل گئی کب سے اردو کہانیاں پڑھ رہی ہیں یہی کوئی چھ سات مہینے ہوئے ہوں گے میری کتنی کہانیاں پڑھی ہیں آپ نے جتنی بھی تھیں پڑھ لیں بہت اچھا لکھتے ہیں میں اور بھی بہت کچھ اچھا کرتا ہوں میں اس کی بات سن کر خاموش سی ہوگئی تو کہنے لگا پوچھو گی نہیں کیا میں نے کہا کیا تو مجھے پکڑ کر پاس کیا اور میرے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کردی میرے اندر آگ بھڑک اٹھی اس نے فوراً ہی مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا میری طرف دیکھو میں نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں جیسے ان میں آگ جل رہی ہو براﺅن آنکھوں میں لال ڈورے تھے جو آدھ کھلی تھیں اس نے پھر مجھے پکڑ کر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے تو میں نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اس نے گردن کے پیچھے ایک بازو سے مجھے سہارا دیئے رکھا اور خود میرے ہونٹوں کو چوستا رہا میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھوڑی دیر کے بعد اس نے مجھے بیڈ پر لٹا لیا میری ٹانگیں بیڈ کے نیچے ہی رہیں اس نے پھر میرے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا پھر میرے گالوں پر ہلکی ہلکی سی کسنگ کی اس کے ہونٹوں میں غضب کی گرمی تھی اس نے میری آنکھوں پر بھی بوسہ لیا پھر گردن پر آگیا اور اس کے بعد اس نے میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیری اس کے بعد میری قمیص اوپر کرکے مموں کو دبانے لگا میرے ممے ٹائٹ ہورہے تھے اس کے بعد اس نے اپنی زبان سے میرے نپلز کو ٹچ کرنا شروع کیا جو پہلے ہی کھڑے ہوئے تھے اس کے ٹچ کرنے سے ان میں مزید سختی آگئی میری شلوار بھی گیلی ہونے لگی تھی تھوڑی دیر کے بعد وہ مجھ سے علیحدہ ہوگیا اور مجھے کھڑا کر کے اس نے پہلے میری قمیص اتاری پھر برا اور پھر شلوار بھی اتار دی اس کے بعد خود کھڑا ہوکر اپنے کپڑے اتارنے لگا اس نے جیسے ہی اپنا انڈر ویئر اتارا اس کا لن دیکھ کر میری سیٹی گم ہوگئی اف اتنا لمبا اور موٹا کم از کم آٹھ انچ کا ہوگا میں نے اپنی انگلی اپنے دانتوں میں لے لی تو پوچھنے لگا کیا ہوا تو میں نے اپنا بازو آنکھوں کے اوپر کرلیا اور کچھ نہ بولی تو اس نے میرا بازو آنکھوں سے ہٹا کر کہنے لگا کیا ہوا تو میں نے ہاتھ سے اس کے لن کی طرف اشارا کیا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا کیا ہوا میں کچھ نہ بولی تو وہ بیڈ پر میرے ساتھ آکر سیدھا لیٹ گیا اس نے مجھے سائیڈ کی طرف اپنی طرف منہ کرکے لٹا لیا میرا سر اس کے کندھے پر آگیا میں اس کی چھاتی کے بالوں سے کھیلنے لگی اتنے بال تو آصف کی چھاتی پر بھی نہ تھے اس کے ہاتھ میری کمر پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے دس پندرہ منٹ ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد مجھ سے کہنے لگا ایسے ہی لیٹے رہنے کا پروگرام ہے یا کچھ کرو گی بھی میں نے اس کی بات سن کر کہا کہ آپ ہی کچھ کریں میں بعد میں کروں گی تو میرا سر اپنے کندھے سے اتار کر خود بیٹھ گیا اس نے اپنا سر میرے منہ پر جھکایا اور پھر سے مجھے کسنگ کرنے لگا پھر میری ناف تک میرے جسم کے اوپر والے حصہ پر اس نے ہر جگہ اپنی زبان پھیری اس کے بعد ایک ٹانگ پکڑ کر سیدھی کی اور ران پر اپنی زبان پھیرنے لگا اف ف ف ف ف ف ف میرے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل گئی میں ہواﺅں میں اڑنے لگی تھی اس کے بعد اس نے دوسری ٹانگ پر بھی اسی طرح کیا پھر دونوں ٹانگوں کے درمیان میں دوزانو ہوکر بیٹھ گیا اور اپنے لن کی ٹوپی میری پھدی پر رگڑنے لگا میری پھدی جو پہلے ہی پانی چھوڑ رہی تھی مزید گیلی ہوگئی میں نے اس سے کہا اب بس کرو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تو اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں ایک ہاتھ سے اپنا لن سیدھا کیا اور میری پھدی کے سوراخ پر فٹ کرنے اور مجھے بازوﺅں سے پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیا آہ میرے منہ سے تکلیف اور مزے کی ملی جلی سی ایک زور دار آواز نکلی اس کے اگلے ہی لمحے اس کا لن باہر نکل آیا اور یکا یک پہلے سے زیادہ زور دار ایک اور جھٹکا آگیا اس کا لن میرے اندر کسی چیز سے ٹکرا گیا میں چیخ اٹھی تو اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور کچھ دیر ساکت رہا چند لمحے بعد اس نے ہونٹوں سے ہونٹ علیحدہ کئے اور پھر لن کو باہر نکال کر جھٹکا دیا مجھے پہلے سے بھی زیادہ تکلیف ہوئی اور اس کا لن گولی کی طرح میرے اندر لگا اس کا لن موٹا ہونے کی وجہ سے میری پھدی کے ساتھ بری طرح رگڑ کھا رہا تھا جس کے باعث مجھے سخت جلن ہورہی تھی لیکن میں جانتی تھی کہ یہ تکلیف چند لمحے کی ہے اس کے بعد مزے ہی مزے ہوں گے اس کے بعد وہ رکا نہیں بلکہ اس کے جھٹکوں میں تیزی اور میرے منہ سے نکلنے والی آوازوں میں بھی تکلیف کے عنصر کی جگہ مزا شامل ہوتا گیا میری آوازوں کے ساتھ اس کے جھٹکوں میں مزید تیزی آجاتی وہ ایک بار اپنا لن ٹوپے تک باہر نکالتا اورپھر پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اس کو اندر دھکیل دیتا ایسے ہی دس منٹ گزرے ہوں گے کہ میری ناف کی جگہ سخت ہونے لگی اور ساتھ ہی میں نے اپنی ٹانگیں اس کے کندھوں سے اتار کر اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں چند لمحے بعد میرے جسم نے ایک جھٹکا لیا اور پھر میں ڈھیلی ہوگئی میرا جسم ٹھنڈا پڑگیا لیکن اس کے جھٹکوں میں ذرا سی بھی کمی نہیں آئی تھی میری طرف سے رسپانس بھی نہ رہ گیا تھا جس پر وہ رک گیا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا میڈم جی بس ابھی تو آپ کو بہت لمبا سفر طے کرنا ہے میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اس سے کہا چند منٹ صبر تو وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا اس کے لن میں ابھی بھی وہی گرمی تھی وہ ابھی بھی لوہے کی گرم سلاخ جیسا تھا پانچ منٹ بعد میں پھر تیار ہونے لگی اور اپنی ٹانگوں کو اس کے گرد سخت کرنے لگی تو وہ پھر اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنے لن کو ایک بار پھر باہر نکالا اور بیڈ شیٹ کے ساتھ صاف کیا میں نے بھی اپنی پھدی کو بیڈ شیٹ سے ہی صاف کیا اور اس نے فوراً اپنے لن کو میری پھدی کے دھانے پر فٹ کر کے پھر سے جھٹکے دینا شروع کردیئے میں سمجھ رہی تھی کہ ابھی چند منٹ میں وہ چھوٹ جائے گا مگر یہ میری غلط فہمی تھی میں دو بار مزید چھوٹی مگر اس کے مکمل ہونے کے دور دور تک کوئی امکانات نہیں تھے میں نے اس کو کہا کہ اب پوزیشن چینج کرتے ہیں تو میرے اندر سے نکل گیا اب اس نے مجھے بیڈ کے نیچے گھوڑی کی طرح کھڑا کیا اور میرے دونوں ہاتھ بیڈ کے اوپر رکھ کر پیچھے سے میری پھدی کے اندر لن ڈال دیا اب میرے ممے اس کے ہاتھ میں تھے اور جیسے ہی وہ جھٹکا دے کر اپنا پورا لن اندر کرتا اس کے ساتھ ہی میرے مموں پر اس کی پکڑ سخت ہوجاتی اور لن باہر نکلنے پر وہ مموں کو ڈھیلا چھوڑ دیتا اس کا جھٹکا اتنا زبردست ہوتا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر میرے کلیجے کے ساتھ ٹکراتا اور میں آگے گرنے لگتی لیکن اس نے مجھے پکڑ رکھا ہوتا تھا جس کی وجہ سے میں نہ گرتی کبھی کبھی وہ میرے مموں کو چھوڑ کر چند لمحوں کے لئے اپنے جھٹکے نرم کرتا اورساتھ ہی ایک ہاتھ سے میرے ایک چوتڑپر ایک تھپڑ رسید کرتا جس کے ساتھ ایک سیکسی آواز پیدا ہوتی اور میری تڑپ جو کم ہورہی ہوتی تھی وہ مزید پھر سے بڑھ جاتی پھر دوسرے ہاتھ سے دوسرے چوتڑ کو تھپڑ مارتا اور پھر میرے مموں کو پکڑ کر جھٹکے تیز کردیتا اس دوران کم از کم میں پانچ بار فارغ ہوگئی جبکہ پہلے والے سٹائل میں بھی میں تین بار چھوٹ چکی تھی اب مجھ میں مزید جھٹکے برداشت کرنے کی ہمت نہ رہی تھی لیکن میں پھر بھی اس کا ساتھ دیتی رہی اور شاباش ہے اس نوجوان پر وہ ایک گرتی پڑتی عورت کو اپنے ساتھ لئے چل رہاتھا پھر اس نے اچانک اپنا پورا لن باہر نکال لیا میں سمجھی شائد وہ فارغ ہونے والا ہے میں نے اس کو کہا کہ اندر ہی چھوٹ جاﺅ تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا میڈم ابھی کہاں میں تو پوزیشن چینج کرنے لگا ہوں ابھی تک میں ہی مشقت کررہا ہوں اب تھوڑی سی محنت آپ بھی کرلیں اس کے بعد وہ بیڈ کے اوپر لیٹ گیا اور مجھے اپنے اوپر آنے کو کہا میں جو پہلے ہی تھک کر چور ہوچکی تھی اس کے کہنے پر اس کے اوپر چڑھ گئی میں نے اپنی ٹانگیں اس کے کے ادھر ادھر رکھیں اور اس کا لن اپنے اندر لیا جیسے ہی میں اس کے اوپر اس کا لن پورا کا پورا میرے اندر چلا گیا میں نے دو تین بار اس کو اندر باہر کیا تو نڈھال ہوکر اس کے اوپر گر گئی تو ہنستے ہوئے کہنے لگا کیا ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ اب مجھ میں ہمت نہیں ہے اس نے مجھے کہا ٹھیک ہے آپ اتر جائیں تھوڑی دیر کے بعد کرلیں گے میں اس کے اوپر سے نیچے اتری اور اس کے کندھے کے اوپر سر رکھ کر اس کے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے نیند آگئی پھر اس وقت میری آنکھ کھلی جب اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر جھنجھوٹا اور کہنے لگا میڈم اگر سونا ہی ہے تو مجھے کیوں بلایا تھا میں نے اس کے لن کو دیکھا وہ ابھی تک کسی شیش ناگ کی طرح پھنکار رہا تھا میں نے اس کو پکڑ تو وہ پتھر کی طرح سخت اور لوہے کی طرح گرم تھا اچانک شاکر کہنے لگا میڈم آپ کا پیچھے کے راستے سے کیا خیال ہے میں نے اس کی بات سنی تو انکار کردیا (اس سے پہلے میں نے پیچھے کے راستے کبھی نہیں کیا تھا) اس نے اصرار کیا تو میں مان گئی اس نے مجھے تیل یا کوئی لوشن لانے کو کہا میں باتھ روم میں گئی اور تیل کی شیشی اٹھا لائی اور اس کو تھما دی اس نے ایک بار پھر مجھے بیڈ کے ساتھ گھوڑی سٹائل میں کھڑا کیا او رمیرے ہاتھ بیڈ کے اوپر لگا دیئے اس نے تیل کی شیشی کھولی اور میرے گانڈ پر کافی سارا تیل ملا پھر اپنے لن کے ٹوپے پر بھی تیل لگایا اور پھر ایک انگلی میری گانڈ میں ڈال ڈی مجھے تکلیف ہوئی اور میں جھٹکے کے ساتھ سیدھی ہوگئی اس کی انگلی میری گانڈ سے باہر نکل آئی تو کہنے لگا میڈم اس میں بہت تکلیف ہوگی لیکن پھر مزہ بھی بہت آئے گا اگر آپ تکلیف برداشت کرلو گی تو میں کرتا ہوں ورنہ نہیں کرتا میں چپ چاپ پھر اسی سٹائل میں ہوگئی اس نے اپنے لن کا ٹوپا میری گانڈ کے اوپر رکھا اور ایک ہاتھ سے میرا منہ پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ میرے پیٹ کے گرد کس لیا اور ایک زور دار جھٹکا دیا جس سے مجھے ایسے لگا جیسے میری گانڈ کسی نے چیر دی ہو میرے منہ سے چیخ بھی نکلی لیکن اس کا ہاتھ میرے منہ پر تھا جس کے باعث آواز نہ نکل سکی میں نے اس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے ایک اور جھٹکا دیا اس کا لن مزید تھوڑا سا اندر چلا گیا میں تکلیف کے باعث مرنے والی ہوگئی میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آگیا اس نے اگر مجھے پکڑا نہ ہوتا تو میں منہ کے بل گر جاتی اتنا مجھے اندازہ تھا کہ ابھی اس کا پورا لن میرے اندر نہیں گیا تھا ابھی پہلے جھٹکے سے نہیں سنبھلی تھی کہ اس نے لگا تار بلا کسی وقفے کے دو تین اور جھٹکے دیئے اور پھر پیچھے سے ہی میرے ساتھ چمٹ گیا میرا پورا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا اور مجھے اپنی گانڈ میں بری طرح تکلیف محسوس ہورہی تھی میری آنکھوں کے سامنے بدستور اندھیرا تھا کہ میرے کانوں میں اس کی آواز آئی میڈم مبارک ہو پورا لن تمہارے اندر چلا گیا میں نے بولنے کی کوشش کی لیکن حلق سے آواز ہی نہ نکلی جیسے اس کا لن میری گانڈ میں نہیں میرے حلق میں چلا گیا ہو میں اس سے کہنا چاہتی تھی کہ مجھے ایسی مبارک باد نہیں چاہئے تم اس کو باہر نکالو ابھی میں اپنے حواس بحال نہیں کرپائی تھی کہ اس نے پیچھے سے اپنی پکڑ نرم کی اور پھر سے جھٹکے دینے لگا اس کا ایک ہاتھ جو میرے منہ کے اوپر تھا وہ بھی میرے پیٹ کے گرد چلا گیا میں اونچی آواز میں چیخنے لگی شاکر پلیز بس کرو میں مر جاﺅں گی ہائے ئے ئے ئے ہائے امی جی مجھے بچالو میں مرجاﺅں گی شاکر بس کرو تو وہ جھٹکے دیتے ہوئے کہنے لگا بس میری جان اب تھوڑا سااور اس کے ساتھ ہی اس کے جھٹکوں میں مزید تیزی آنے لگی پھر اچانک وہ رک گیا اور مجھ سے کہنے لگا میڈم کیا خیال ہے فارغ ہوجائیں کہ ابھی مزید کچھ کرنا ہے میں تکلیف کے مارے کراہ رہی تھی اس کو کراہتے ہوئے کہا شاکر اب بس کرو میں مر جاﺅں گی پھر اس نے چار پانچ آہستہ آہستہ جھٹکے دیئے اور پھر مضبوطی سے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا مجھے اپنے اندر کوئی گرم لاوا جاتے ہوئے محسوس ہوا چند لمحے بعد اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ سے علیحدہ کیئے اور میں دھڑم سے بیڈ کے اوپر گر گئی مجھے نہیں معلوم کیا ہورہا ہے صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ میرے گالوں کو تھپتھپا رہا ہے اور کچھ کہہ رہا ہے کیا کہہ رہا ہے کوئی پتا نہیں پھر اس نے میری ٹانگیں اوپر کیں اور خود بھی میرے ساتھ آکر لیٹ گیا بیس پچیس منٹ ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد میرے حواس کسی حد تک بحال ہوئے تو میں نے دیکھا کہ رات کے تین بج رہے ہیں میری پھدی اور گانڈ دونوں مقامات پر درد ہورہی تھی گانڈ میں درد ناقابل برداشت حد تک زیادہ تھی میں نے دیکھا وہ بھی میرے ساتھ ہی ننگا لیٹا ہوا ہے اور سامنے ٹی وی پر وہی بلیو فلم چل رہی ہے مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی اور اس نے مجھے لیٹے لیٹے گلے سے لگا لیا میں نے محسوس کیا کہ اس کا لن پھر سے شہوت پکڑ رہا ہے میں فوری طورپر اس سے علیحدہ ہوگئی تو اس نے کہا کیا ہوا میڈم میں کچھ نہ بولی تو مجھے پھر سے کسنگ کرنے لگا اس نے مجھے کہا کیا خیال ہے میڈم ایک بار پھر ہوجائے تو میں نے کہا شاکر تم اتنے بے رحم ہو کیا مجھے مارڈالنا چاہتے ہوتو مسکراتے ہوئے کہنے لگا نہیں تو پھر کبھی سہی آج چھوڑ دیتے ہیں اب مجھے چائے کی طلب ہورہی تھی میں نے سوچا کہ اٹھ کر جاﺅں تو مجھ سے اٹھا نہ گیا اس نے مجھے سہارا دے کراٹھایا اور کہنے لگا کیا کرنا ہے تو میں نے اس کو کہا کہ باتھ روم اور کچن میں جانا چاہتی ہوں تو اس نے مجھے کھڑا کر دیا ابھی دو قدم بھی نہ چلی تھی کہ میری آنکھوں کے گرد پھر سے اندھیرا آگیا ایک زبردست چکر آیا اور میں گرنے لگی کہ شاکر نے مجھے سنبھالا دیا اور پکڑ کر باتھ روم لے گیا جہاں میں نے اپنی پھدی اور گانڈ کو دھویا تو گانڈ سے لہو نکل رہا تھا جبکہ پھدی بھی سوجی ہوئی تھی میں نے سر اٹھا کر شاکر کی طرف دیکھا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا پہلی بار تھا اس لئے تھوڑا سا خون نکل آیا پریشانی کی کوئی بات نہیں خیر اس نے مجھے پھر پکڑ کر بیڈ تک پہنچایا اور پھر ننگاہی کچن میں چلا گیا اور دو کپ چائے لے آیا اس نے مجھے سہارا دے کر اٹھا یا اور تکیے کی ٹیک دے کر بٹھا دیا ہم دونوں نے چائے پی اور پھر باتیں کرنے لگے اب بھی مجھے اسی شدت کے ساتھ گانڈ میں درد ہورہا تھا جیسا کہ اس وقت جب شاکر کا لن میری گانڈ کے اندر تھا اس کے علاوہ پھدی کے اندر بھی جلن محسوس ہورہی تھی پھر شاکر بیڈ کے اوپر سیدھا لیٹ گیا اور میں سائیڈ لے کر اس کے ساتھ کندھے پر سر رکھ کرلیٹ گئی اور اس کے سینے کے بالوں کو انگلیوں کے ساتھ کنگھی کرنے لگی میں نوٹ کررہی تھی کہ اس کا لن پھر کھڑا ہوگیا لیکن اب ہم نے کچھ نہ کیا صبح کے پانچ بجے تو شاکر نے اٹھ کر کپڑے پہنے اور مجھ سے اجازت لے کر گاڑی لے کر چلا گیا میں نے بھی کپڑے پہنے اور سو گئی صبح کس وقت ہوئی مجھے نہیں معلوم میری بیٹی کو ملازمہ نے تیار کرکے سکول بھیج دیا میں اٹھی تو دوپہر کے د و بج رہے تھے میرا پورا جسم ٹوٹ رہا تھا درد اب بھی اسی شدت کے ساتھ تھا مجھے بخار بھی ہوگیا تھا میں نے دیکھا بیڈ شیٹ پر منی اور خون کے دھبے تھے میں گرتی پڑتی اٹھی اور بیڈ شیٹ چینج کرکے پھر لیٹ گئی ملازمہ نے کمرے میں ہی مجھے چائے لا کر دی میں نے ایک پین کلر لی لیکن بخار ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا شام کو میں نے شاکر کو فون کیا جو آیا اور مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گیا دوائی سے میرا بخار تو ختم ہوگیا لیکن تین روز تک میری گانڈ میں درد ہوتی رہی یہ درد اتنی شدید تھی کہ مجھ سے صحیح طریقہ سے بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا مجھے تین روز تک پاخانہ کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا رہا تاہم تین دن کے بعد میں بالکل ٹھیک ہوگئی اسی روز میں نے شاکر کو پھر فون کیا اور گھر آنے کا کہا لیکن اس نے بتایا کہ اسے کوئی کام ہے اس لئے وہ نہیں آسکے گا تاہم اگلے روز وہ پھر میرے گھر آیا اور ہم نے ایک بار پھر مزہ کیا لیکن میں نے اس روز سے گانڈ مروانے سے توبہ کرلی ہے دوسری بار سیکس کے دوران بھی شاکر نے گانڈ مارنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن میں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے جس پر وہ ہنسنے لگا اور اس نے پھر مجھے اس کام کے لئے نہیں کہا پہلی بار سیکس کے دوران شاکر کی ٹائمنگ ایک گھنٹہ سے زیادہ تھی لیکن دوسری بار اس کی ٹائمنگ کم ہوکر بیس سے پچیس منٹ تک رہ گئی اس حوالے سے شاکر نے بتایا کہ پہلی بار کی ٹائمنگ کی وجہ افیون کا استعمال تھا لیکن میں ہر بار سیکس کے لئے افیون استعمال نہیں کرتا ابھی تک میں شاکر کے ساتھ تین بار سیکس کرچکی ہوںاور میری خواہش ہے کہ شاکر کے ساتھ میرا تعلق لانگ ٹرم کے لئے ہو
  2. کیا حال ہیں دوستو یہ سٹوری میرے اور مری ایک دوست صائمہ کے بارے میں ہے .صائمہ ٢٠ سال کی جواں لڑکی ہے اور وہ میری بہت اچھی دوست بھی ہے.میری اس سی دوستی رانگ کال کی وجہ سے ہوئی تھی ہوا کچھ یوں کے رات کو میں فیس بک پی چیٹ کر رہا تھا اور رات ١١.٣٠ کا ٹائم تھا مجے انجان نمبر سے کال موصول ہوئی میں نی کال اٹینڈ کی اگے سی ایک بہت ہی پیاری آواز میں لڑکی بولی .میں نے پوچھا کے اپ کون ہو .وہ بولی کہ میرا نام صائمہ ہے اور ساہیوال کی رہنے والی ہوں .میں بہت حیران ہوا کیوں میرا بھی ووہی سٹی ہے.میں بولا کہ اپ کو میرا نمبر کہاں سی ملا .وو کہنے لگی کہ میں نی اپنے پاسس سی ہی ڈائل کر دیا اور اپ کی ساتھ بات ہو گئی.وہ کہنے لگی کہ میں اپ کے ساتھ دوستی کرنا چاہتی ہوں.میں نے کہا کہ اگر تم اپنے بارے میں سچ بتاؤ گی تو دوستی ہو سکتی ہے ورنہ نہیں اسنے کہا کہ میں سب تم کو سچ بتا رہی ہوں. اور اسنے مجھے اپنے گھر کا اڈریس بھی پہلی ہی کال پی بتا دیا میں بہت حیران ہوا .میں نے اس سے دوبارہ کہا کہ سچ بتاؤ کہ میرا نمبر کہاں سے ملا اسنے بتایا کہ وہ میرے ساتھ والی گلی میں رہتی ہے اور اسنے میرا نمبر میری کزن سے لیا ہے .پھر اسنے بتایا ہے کہ وہ میری کزن کی بہت اچھی دوست ہے.میں نی اسے کہا کہ ہماری دوستی ہو سکتی ہے اگر تم میری کزن کو ہمارے بارے میں نہ بتاؤ تو وہ فورن مان گئی پھر اسنے بتایا کہ میں تمہارا نمبر اسکے موبائل سی چوری لیا ہے .تو میں یہ سن کر خوش ہو گیا .باتوں باتوں میں پتہ نہیں چلا ک تیمر کیا ہو گیا ہے جب ٹائم دیکھا تو ١:٣٥ ہو چکے تہے پھر میں نی کہا کہ اب سوتے ہیں کل بات ہو گی.اسنے کہا ٹھیک ہے مجھے جلدی اٹھنا ہے کالج کی لئے.پھر ہم نے ایک دوسرے کو باے بولا اور کال بند کر دی اگلے دن میں 8:30 پر آٹھ گیا اور شاپ پر چلا گیا سوری میں آپکو بتانا بھول گیا مری لیڈیز گارمنٹس کی شاپ ہے .شاپ اوپن کی اور کام والے لڑکے بھی آگے اور انہوں نی صفائی وغیرہ کی اور گاہک آنا شروع ہو گے.پھر میرے موبائل پر کال آی دیکھا تو صائمہ کی کال تھی اور سلام کے بعد اسنے بتایا کہ وہ کالج میں ہے اور اس ٹائم فری تھی تو بات کرنے کی لئے کال کردی.میں نی کہا ک جناب اب ہم دوست ہیں اپ جب مرضی کال کرو وو بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی اگر آپکو برا نہ لگے تو کیا میں آج آپکی شاپ پر آسکتی ہوں میں برا حیران ہوا اور پوچھا کہ تمکو مری شاپ کا کسنے بتایا ہے تو اسنے بتایا کہ آپکی کزن اکثر آپکے بارے میں بات کرتی رہتی ہے اور اسی سے آپکی شاپ کی بارے میں پتا چلا .آپکی شاپ میرے کالج کی راستے میں ہے اور میں 2 گھنٹے تک آپکی شاپ پی آرہی ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے آجانا .اور پھر کال بند ہوگیی اور میری عجیب سی حالت ہو رہی تھی انتظار کی وجہ سی اور میں صائمہ کو دیکھنا چاہتا تھا اور بری مشکل سے 2 گھنٹے گزرے اور پورے ٹائم پر صائمہ اپنی ایک دوست کی ساتھ شاپ میں انٹر ہوئی.لیکن دونو میں سی مجے پتا نی تھا کہ صائمہ کونسی ہے تو اسی ٹائم صائمہ میرے سامنے کھڑی ہو گئی.اور اسنے مجے سلام کیا اور بتایا کہ صائمہ میں ہوں اور یہ مری دوست ہے اور اسکی دوست دوسرے کونٹر پر جا کر گارمنٹس دیکھنے لگ گئی اور صائمہ کو میں نے پوچھا کہ کیا لیں گی اپ ٹھنڈا یا گرم اور اندر سی مجے لڑکوں کی وجہ سی تھوڑا دار بھی لگ رہا تھا صائمہ نی کہا ٹھنڈا اور گرم آپکی طرف ادھار رہا پھر کبھی سہی میں صرف آپکو دیکھنے ک لئے یی تھی.اور بہت آہستہ بول رہی تھی میں نے کہا ک اپ نی تو مجے دیکھ لیا اور میں آپکو کب دیکھ سکتا ہوں اسنے کہا ک شام کو اپ میری گلی میں آجانا اور دیکھ لینا.اتنی دیر میں صائمہ کی دوست نے 3 4 گارمنٹس کی چیزیں نکلوا لیں اور پیک بھی کروا چکی تھی لڑکوں سی اور اس وقت پیسے لینا مری مجبوری تھی کیوں لڑکے دیکھ رہے تہے .اور پھر سلام ک بعد وہ چلی گئی اور راستے میں ہی مجھے میسج کیا رضا اپ بہت پیارے ہو میں نی تھنکس بولا اور بتایا کہ میں شام کو 5 بجے آپکی گلی میں آؤں گا . شام کو 5 بجے میں صائمہ کی گلی کی طرف نکل گیا اپنا بائیک لے کر.اور صائمہ کو بھی میسج کر دیا اور اسنے بتایا کہ وہ اپنی چھت پر ہو گی اور وہاں سی ہی دیکھ لے گی.میں 15 منٹ بعد اسکی گلی میں آگیا اور اسنے کال کر کہ اپنا گھر بتایا کہ کونسا ہے اور میں بھی اسی گھر کی پاسس تھا اور چھت بلکل صاف نظر آرہی تھی اور صائمہ بھی چھت پر ہی تھی اور اسنے دوپٹہ لیا ہوا تھا اور ناکاب نہیں کیا تھا اور میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا بہت پیاری لگ رہی تھی وہ اور ڈوپٹے میں اسکی چھاتیاں بھی واضح نظر آرہی تھیں اور اسکی چھائیاں کافی بری لگ رہی تھیں اور اسنے پھر اپر سی ہاتھ ہلایا اور میں نے بھی جواب دیا اور نیچے سے کسی نہ کسی کہ دیکھنے کا بھی دار تھا تو میں وہاں سی جلدی نکلنے کا سوچا .اور پھر میں نے صائمہ کو میسج کیا کہ تم بہت پیاری ہو اور مجھے آپسے پیّار ہوگیا ہے اسکا جواب آیا کہ پیار تو مجھے آپسے ہو گیا ہے .تھوڑی دیر بعد اسکا میسج آیا کہ ابّو آگے ہیں میں تھوڑی دیر تک بات کرتی ہوں پھر ہماری رات کو تھوڑی دیر میسج پر بات ہوئی اور پھر وہ اپنے گھر کی کام میں مصروف ھو گئی.اور رات کو 11:20 پر میسج آیا کہ اپ سونا نہیں ہم رات کو کال پر بات کریں گی .میں نے کہا ٹھیک ہے اور فیس بک پی چیٹ کرنے لگ گیا .اور پھر 1 بجے اسکی کال آگئی میں نے کال اٹینڈ کی اور وہ بہت سلوو آواز میں بول رہی تھی . صائمہ :کیا ہو رہا ہے میں :کچھ نہیں کمپیوٹر پی ہوں صائمہ :مجھے اپ نی مس نہیں کیا میں:بہت مس کیا آپکو میں نے صائمہ:اگر مجھے مس کیا تو میسج کر دینا تھا میں: میں نے سوچا کہ اپ کو گھر میں کوئی مسلہ نہ بنے صائمہ: ہاں کال کا مسلہ ہو سکتا ہے لیکن میسج اپ جب مرضی کرو میں :کیوں نہیں آپکو اب ہر تم مس کروں گا اور ہر ٹائم میسیجز کروں گا صائمہ:کوئی بات نہیں جتنے مرضی کرو. میں :صائمہ اپ مجے بہت اچھی لگی ہو یار مجھے تمسے پیار ہو گیا ہے صائمہ :سچی مجھے اپ بہت اچھے لگے ہو میں: تو میرے پیار کی پہلی کس کب دی رہی ہو صائمہ:تھوڑی چپ رہنے ک بعد جب اپ کہو. میں :تو پھر کل ہے ملتے ہیں صائمہ :مجھے بہت ڈر لگتا ہے میں: یار میں بھی تو آپکے ساتھ ہوں گا نہ. صائمہ:لیکن مجھے پھر بھی ڈر ہے میں:یار اپ مج پر اعتبار کر سکتی ہو صائمہ:ایسی بات نہیں ہے میں:اپ ملنے کا بتاؤ بس مجھے صائمہ :ٹھیک ہے لیکن ہم ملیں گی کدھر میں:میرے دوست کا گھر ہے وہاں دن کو کوئی بھی نہیں ہوتا صائمہ:میں پہلی دفع کسی لڑکے سی مل رہی ہوں تو پلیز کوئی ٹینشن نہیں ہونی چاہے میں :اپ کوئی پرشانی نہ لو میں ہوں نہ. صائمہ:اب سب کچھ اپ پی ہے میں:ٹھیک ہے اور پھر ہم نے کال پر ایک دوسرے کو کس کی اور بائے کہا اور کل ملنے کا پکا کیا اور سو گے. اگلے دن مجھے بہت بیچینی لگی ہوئی تھی کہ جلدی سی ٹائم ہو اور میں صائمہ سے ملوں.میں شاپ پی چلا گیا اور ؤسننے کہا آج کالج صرف 2 گھنٹے ک لئے جانا ہے اپ مجھے کالج ک پاسس سی پک کر لینا میں فری ہو کر میسج کر دوں گی.میں بہت بہت خوش تھا کہ اتنی جلدی لڑکی پھنس گی اور اور ذھن میں یہ تھا کہ وہ کنواری ہے یا سب کر چکی ہے .خیر ٹائم گزرتا گیا بری مشکل سے اور پھر اسکا میسج آیا کہ رضا آجاؤ کالج کہ کارنر پی.میں جلدی سی بائیک لے کر گیا اور دوست کو میں نی صبح ہی بتا دیا تھا اور جب صائمہ کو لینے جا رہا تھا تب بھی کال کر دی کہ میں آرہا ہوں.میں کالج ک کارنر پی گیا اور صائمہ وہاں کھڑی ہوئی تھی اور میں پاسس جا کر رک گیا اور وو میرے پیچھے آ کر جلدی سی بیٹھ گی اور کہا ک جلدی سی چلو یہاں سے.اور میں سپیڈ سی وہاں سی نکل گیا.صائمہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی اور اسکے سوفٹ بریسٹس مری کمر ک ساتھ لگ رہے تہے اور میں ہاٹ ہو رہا ہے تھا اسکے نپل ایک دم ٹائٹ ہو چکے تہے.راستے میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی اور 10 منٹ میں ہم دوست کی گھر چلے گیے. میں نے بیل دی تو دوست نی دروازہ کھولا اور ہمکو اندر انے کو بولا .ہم اندر چلے گیے اور دوست نے کہا کہ میں تھوڑا کام جا رہا ہوں جب جانا ہو مجے کال کر دینا اور اپنے بائیک کی چابی دی دو اور وو میرا بائیک لے کر چلا گیا اور میں دروازہ بند کر کے آگیا .صائمہ تھوڑی پریشان لگ رہی تھی میں حوصلہ دیا کہ ڈر کیوں رہی ہو جبکہ میں ساتھ ہوں.خیر میں اٹھا وہاں سی اور کچن کی طرف چلا گیا مجے دوست کی سارے گھر کا پتا تھا کیوں میں پہلے بھی اتا جاتا رہتا ہوں دوست کے گھر.فریج سے میں نے کوک کی بوتل لی اور 2 گلاس میں ڈال کر کمرے میں چلا گیا.ایک گلاس صائمہ کو دیا اور دوسرا خود لیا.میں نی صائمہ کو کہا کہ صائمہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو وو شرما گئی میں تھوڑا اسکے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور پھر اسکے ہاتھ کو پکڑ کر چومنا شرو کر دیا . پھر صائمہ کو کہا ک میری جان تمہارے ہاتھ بہت سوفٹ ہیں اسکی سانسیں تھوڑا تیز ہو رہی تھیں میں سمجھ گیا کہ وو بھی گرم ہو رہی ہے پھر میں اسکے لیپس پی اپنی ایک انگلی رکھی تو اسنے اپنے ہونٹ کھول دئے اور میری انگلی کو چوسنے لگ گئی جس انداز سی وہ مری انگلی چوس رہی تھی میں حیران ہو گیا وہ کسی ماہر سککنگ کرنے والی کی طرح کر رہی تھی.میں نی پھر انگلی اسکے منہ سے نکال کر اور اسکے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کر لیا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ دئے اور وہ اسنے اسی ٹائم میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے .پھر اسنے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میں نے بھی پورا ساتھ دیا اور اسکی زبان چوسنے لگ گیا اور وہ بہت گرم ہو چکی تھی کس کرتے کرتے میں اپنا ایک ہاتھ اسکے ممے پی رکھ دیا پہلے تو اسنے ہٹانے کی کوشش کی لیکن کس کی نشے میں وہ زیادہ دیر نہ روک پائی مجھے اور میں نی اسکے ممے کو دبانا شروع کر دیا اسکے ممے کافی بارے تہے اور جسم بھرا ہوا تھا اور بہت نرم تھا اسکا جسم.میرا لوں پورا ٹائٹ ہو چکا تھا اور اسکی ٹانگوں میں تھا میرا لوں بلکل اسکی پھدی کی پاس. پھر جب میں دیکھا کہ وہ کافی گرم ہو گئی ہے تو میں نی اسے بیڈ پی لیٹنے کو کہا اور وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور میں بھی اسکے اوپر لیٹ گیا اسکے نپل کافی سخت ہو چکے تہے.میں اسکےساتھ کس کرنی شروع کی دوبارہ اور اسنے پورا ساتھ دیا اور پھر میں نے سلوو سلوو اپنا ہاتھ اسکی کمیض میں ڈالنے لگا اور اسنے مجھے نہیں روکا اور وو فلل گرم ہو چکی تھی.میں نی اسکی کمیض اوپر کردی اسنے مجھے نہیں روکا اور میں دیکھ کر حیران رہ گیا اتنا سفید اور بے داغ جسم میرا لن تو اور بھی سخت ہو گیا اور اس ٹائم میرا لن بلکل اسکی پھدی کی ساتھ ٹچ ہو رہا تھا.میں نے اسکا برا اوپر کرنا چاہا تو وہ اوپر نہیں ہو رہا تھا صائمہ خود تھوڑی سی اوپر ہوئی اور پیچھے سی اسنے برا کی ہک کھول دی وہ اتر اس لئے نہیں رہا تھا کیوں کہ اسنے اپنے مموں کی حساب سی چھوٹا برا پہنا ہوا تھا.میں تو اسکے ممے دیکھ کر جسی بت ہی بن گیا تھا تھوڑی دیر دیکھنے ک بعدد میں ان پی تو پر اور نپل منہ میں لے کر چوسنے لگ گیا اور صائمہ کی آوازیں انی شروع ہو گئی اور وہ بہت زیادہ گرم ہو چکی تھی،تو اس وقت میں نی اپنا ایک ہاتھ اسکی شلوار میں ڈال دیا صائمہ نی میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر روک دیا تو میں نے کہا کہ کچھ نہیں کرتا میں ہاتھ لگا کر دیکھنا چاہتا ہوں میری جان تو اسنے اپنا ہاتھ سائیڈ پر کر لیا اور میرا ہاتھ جب شلوار کی اندر گیا تو پتا چلا کہ اسنے نیچے پینٹی پہنی ہوئی ہے میں نی اس میں ہاتھ ڈال دیا اور ہاتھ سیدھا اسکی پھدی پر چلا گیا اسکے منہ سی آواز تیز ہو گئی اور میرا ہاتھ پورا گیلا ہو چکا تھا کیوں ک اسکی پھدی بہت پانی چھوڑ رہی تھی.میں نے انگلی اندر ڈالنا چاہی تو پتا چلا کہ اسکی پھدی بہت تتنگ ہے صائمہ نی بھی مزے والی آواز میں کہا کہ رضا انگلی نہ ڈالو یہ آپکے لئے ہی ہے لیکن ابھی نہیں اور صائمہ چھوٹنے کی بلکل قریب تھی تو میں رک گیا اور صائمہ میری طرف دیکھنے لگ گئی .میں نے کہا کہ صائمہ اگر آج ہم نی کرنا کچھ نہیں ہے تو دیکھنے تو دو نہ اسنے کہا ک ٹھیک ہے لیکن شلوار اتارنی نہیں ہے نیچے کرلو اور کوئی حرکت نہیں کرنی پلیز میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میری جان.اور میں نی اسکی شلوار اور پینٹی نیچے کر دی اور دیکھ کر حیران رہ گیا اسکی پھدی پر ایک بھی بال نہیں تھا اور اسکی پھدی فلل گیلی ہو چکی تھی میں بیڈ سی اٹھا اور ٹشو اٹھا کر لے آیا اور صائمہ کی پھدی کا پانی صاف کیا ٹشو سے اور میں نی اسکی ٹانگوں میں اپنا سر ڈال دیا اور اپنی زبان اسکی کلٹ پر پھیرنا شروع اور صائمہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی رضا یہ جگا گندی ہے اپ پلیز نہ کرو لیکن میں نہیں روکا اور اسکی پھولی ہوئی پھدی کی ہونٹ اپنے ہاتھ سے کھولے اور زبان اندر ڈال دی اور صائمہ تڑپ اٹھی اور مچھلی کی طرح ہلنے لگ گئی اور اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر دبانے لگ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں وو چھوٹ گئی اور اسکی سانس بہت تےش چل رہی تھی اور وو ایسے ہی بیڈ پر لیٹی رہی اور سانس بھال کرتی رہی اور جب وو بلکل نارمل ہوئی تو ٹائم دیکھنے لگ گئی اور کہنے لگی کہ رضا میں بہت لیٹ ہو گئی ہوں گھر سی پلیز اپ جلدی سی مجھے گھر کی پاس چھوڑ دو تو میں نے کہا کہ میری جان اپکا کام تو ہو گیا میرا رہتا ہے ابھی تو وو کہنے لگی ک رضا اگر میں گھر ٹائم پر نہ گئی تو مصیبت ہو جائے گی پلیز مان جاؤ میری جان اگلی دفع میں سٹارٹ کروں گی اور اپ اینڈ کرو گے.اور وہ بہت معصوم لگ رہی تھی میں نی پھر اپنے دوست کو کال کی اور کہا کہ آجاؤ جلدی ہم نے جانا ہے.پھر صائمہ میرے قریب آی اور کس کرنے لگ گئی اور کہا رضا جان پلیز برا نہیں ماننا میری مجبوری ہے اس ٹائم جلدی جانا.دوست اگیا اور میں نے صائمہ کو بائیک پر بٹھایا اور گھر بیک والی گلی میں چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا کیوں کہ پھدی تو ملی نہیں اور نہ ہی میں چھوٹا تھا تو لن میں درد ہو رہا تھا اور اسے فارغ کرنا ضروری تھا تبھی صائمہ کا میسج آیا تو میں نے پوچھا کہ کوئی مسلہ تو نہیں بنا کہنے لگی کہ میں امی نی پوچھا کہ اتنی دیر کہا لگا دی تو میں نے بہانہ بنایا ہے کہ دوست کی طرف چلی گئی تھی اسکے گھر والے صائمہ پ بہت اعتبار کرتے تھے اور ہیں
  3. معزز قارئین میرا نام شہروز ہے اور میں بہاولپور کے ایک دیہات سے تعلق رکھتا ہوں میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے غربت کے باوجود میرے والدین نے بڑی محنت سے مجھے انٹر تک پڑھایا انٹر کرنے کے بعد میں گھر واپس آ گیا ایک دو ماہ گھر میں رہا اور گھر کے حالات دیکھیں مجھے محسوس ہوا کے میں آگے گھر والوں پر بوجھ نہیں بن سکتا لہذا مجھے پڑھائی چھوڑ کر کوئی نوکری ڈھونڈنا ہو گی نوکری کے لئے میں میں دوستوں کو کہنا شروع کردیا میرے دوست فیصل آباد میں پرائیویٹ فیکٹریوں میں کام کرتے تھے تو کچھ دنوں بعد میرے ایک دوست نے مجھے وہاں بلا لیا وہ دوست معسود ٹیکسٹائل میں کام کرتا تھا میوا ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے لگ گیا وہاں کام کرتا تھا اور جو پیسے بنتے تھے وہ مگر والوں کو دے دیتا تھا اسی طرح تین چار ماہ ہو گئے کے ایک دن میں بار گومنے گیا ہوا تھا کے مجھے وہاں ایک فیملی ملی جو کہ ہمارے عزیز تھے میں ان سے ملا اور وہ مجھے مل کے بہت خوش ہوئے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو تو میں نے کہا کہ میں یہاں کام کرنے کے لیے آیا ہوں تو اگلا سوال ان کا یہ تھا کہتم رہتے کہاں ہو میں نے ان کو ہاسٹل کا بتایا جو کہ فیکٹری کے اندر تھا وہ لوگ جلدی میں تھے اس لیے انہوں نے مجھے گھر آنے کی دعوت دی جسے میں نے پھر کبھی آنے کا کہہ کر ٹال دیا ہم نے اپنے نمبر چینج کیے اور میں ہاسٹل آگیا یہاں پر اس فیملی کا تعارف کرادو اسد عمر17سال صبیحہ عمر 24 سال فضیحہ عمر 22 سال اور سب سے چھوٹی لڑکی تانیہ عمر 19سال اور ان کی ماں مریم دوستو یہ تو اس فیملی کا تعارف تھا ایک رات اسد کی کال آئی تقریبا آٹھ کا ٹائم ہوگا اس نے مجھے اپنا وعدہ یاد دلایا گھر آنے کا اگلا دن چھٹی کا تھا یعنی کے اتوار تو میں ان کی طرف چلا گیا اسد گھر پر ہی تھا لیکن وہ کہیں جانے والا تھا لیکن میرے آنے کی وجہ سے وہ رک گیا اور اس نے چائے کا بولا جو میں نے ہاں کر دی ہم ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے یعنی کہ اپنے گھر بار اپنے علاقہ کی خیر خبر اتنے میں اس کی بڑی بہن فضیحہ چائے لے کر آ گئی ہم نے چائے پی اور اسد چلا گیا کیونکہ ہمارے گھریلو تعلقات تھے اسی لئے وہ مجھے گھر پر ہی چھوڑ کر چلا گیا کے مجھے امی کی دوائی لینے سول اسپتال جانا ہے قضیہ اور میں بیٹھک میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے فضیحۃ مجھے پہلے دن سے ہی پسند تھی جس دن ہم ملے تھے لیکن اب خوش قسمتی سے موقع بھی مل گیا ایک دوسرے سے بات کرنے کا وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی میرے کام کے بارے میں اور گھر کے بارے میں لیکن میں اسے بس دیکھ ہی رہا تھا میں اس کی خوبصورتی کا قائل ہو گیا تھا باتیں کرتے ہوئے جب اس نے میری طرف دیکھا میں تو کسی اور ہی دنیا میں تھاا فضیحۃ!کہاں پہنچ گئے تم میں !کہیں نہیں بس کسی پری چہرہ کو دیکھ رہا ہوں جو روز میرے خوابوں میں آکر مجھے بے چین کرتا ہے فضیحہ !کون ہے وہ پری چہرہ میں !تم رہنے دو کیا کرو گی جان کر فضیحہ !بتا دو یار اور وہ ضد کرنے لگ گئی تو میں نے اسے کہا بتا تو لیکن تم ناراض نہ ہو جاؤ فضیحہ !نہیں ہوتی ناراض اب بتا بھی دو ۔ ۔ ۔ تواب میں نے فیصلہ کیا کہ اسے بتا ہی دیتا ہوں میں !وہ پری چہرہ تم ہو فضیحہ میری جان I love you
  4. پیارے دوستو میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کے آپ کو میری سٹوری پسند آرہی ہیں. آپ کے کمنٹس کا بھی شکریہ. ہوا کچھ یوں کے میں اس وقت ایک الیکٹرانکس کمپنی میں کم کرتا تھا. ڈاؤن اخبار کی طرف سے لائف سٹائل نمائش میں ہماری کمپنی نے اپنا سٹال لگایا. پہلا ہفتہ کراچی، پھر اسلام آباد اینڈ آخر میں لاہور میں یہ نمائش لگنی تھی. تینو جگا پر میں کمپنی کو پرسنٹ کر رہا تھا. ہمیں سٹال پر کھڑا کرنے کے لیے لڑکیوں کی بھی ضرورت تھی. اس کے لیے ہم نے ہر جگا پر چار چار لڑکیاں رکھی. ڈولی(اصل نام کچھ اور تھا) سے ملاقات لاہور میں ہی. وہ تقریباً پانچ فٹ دس انچ لمبی ، چالیس کے ممے، اور تیس کی گانڈ، سرخ و سفید رنگ، بلو ایس کی ملک پچیس سال کی لڑکی تھی. بہت شوخ اور چنچل سب کے ساتھ جلد فری ہو جانے والی. اس نے دو دن ہمارے ساتھ گزرے. بلکل فری ہو کر. کم کے دوران سٹال میں جگا کم ہونے کی وجہ سے کافی دفع گزرتے ہوے ہمارے جسم آپس میں ٹچ ہوے. میں نے ایک دفع جن کر گذرتے ہوے جب ڈولی کے پیچھے پہنچا تو وہیں ایک منٹ کے لیے روک گیا. میرا لن ڈولی کی جینز میں ابھری ہوئی گانڈ کی لکیر کے بلکل ساتھ لگا ہوا تھا. مگر ڈولی نے ایسے شو کیا جسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. کم کے ساتھ ہنسی مذاق بھی چلتا رہا. اسی طرح دو دن گزر گئی. میں نے اب روٹین کے مطابق دفتر جانا شورو کر دیا تھا. کوئی ایک ویک کے بعد مجے میرے چپراسی نے بتایا کے سر آپ سے کوئی ڈولی ملنے ای ہی. میرا آفس علامہ اقبال ٹاؤن میں مون مارکیٹ کے قریب تھا. نیچے آفس اور شو روم تھا. اوپر ایک دو روم کا فلیٹ تھا جس میں میں اکیلا رہتا تھا. ایک روم میں بد روم اور دوسرا گیسٹ روم کے طور پر استمال کرتا تھا. جب ڈولی ای تو میں لنچ کے لیے اوپر فلیٹ میں تھا. میں ابھی چپراسی کو کچھ کہنے ہی والا تھا کے پیچھے پیچھے ڈولی اور اس کی ایک اور سہیلی اوپر فلیٹ میں ہی آگئی. میں نے دونو کو خانے کی آفر کی. انہوں نے کھانا میرے ساتھ کھایا. تین دن سے میری کم والی ماسی چوتھی پر تھی اس وجہ سے فلیٹ بکھرا پڑا تھا. کھانا کھا کر ڈولی اٹھی اور میرے مانا کرنے کے باوجود اٹھ کر میری سری چیزوں کو سمیٹنے لگ گئی. میں نے اسے مانا کیا مگر وہ باز نہ ای. پھر ہم دفتر آگئی اور وہہں ہم نے چائ پی . پھر میں نے ڈولی سے پوچھا کے بتائیں کیسے آنا ہوا. ڈولی نے اپنے ساتھ والی لڑکی کا تعارف کرایا اور بولی کے اس کی ماں بہت سخت بیمار ہے. اس کے پاسس علاج کے پیسے نہیں ہیں. آپ اسکی تھوڑی سی مدد کر دیں. میں نے اسے کچھ رقم دے دی. پھر اس کے تقریبان بیس دن بعد وہ دوبارہ ای اور بولی کے آج جلدی میں ہے. اس کے پڑوس میں ایک غریب لڑکی کی شادی ہے. اس نے اس کے لیے بہت سے پیسے جما کرنے ہیں. اس طرح اس دن پھر وہ پیسے لے کر اور دوبارہ ملنے کا کہ کر چلی گئی. تقریباً دس دن گزر گئی میں نے سوچ کے اب ڈولی سے وصولی کی جی. میں نے اسے کیل کیا اور پوچھا کے سنڈے کو کیا کر رہی ہو. وہ بولی فارغ ہوں میں نے بولا کے میں لاہور میں نیا ہوں تو کیا تم مجے لاہور کی سیر کرا سکتی ہو. بولک ٹھیک ہے میں سنڈے کو آجاؤں گی. چھوتی ہونے کی وجہ سے میرا لمبا سونے کا پروگرام تھا مگر صبح آٹھ بجے ہی دور بیل بجیمیں ایسے ہی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ڈولی کھڑی تھی. اتنی صبح صبح وہ سیدھی اندر گھس ای اور میرے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئی. میں صرف ایک برمودا پہنے ہوا تھا. میں بھی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا. وہ بولی کے کمرے کا کیا حل کیا ہوا ہے. ہٹو میں اسے ٹھیک کرتی ہوں. اس نے اپنا بیگ اور دوپٹہ صوفے پر رکھا اور کمرہ ٹھیک کرنے لگ گئی. میں بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا. تھوڑی در میں ہم نے روم ٹھیک کر لیا. میں نے اسے کہا کے وہ بیٹھ کر تو دیکھے اور میں شاور لے کر آتا ہوں. میں باتھ روم میں گھس گیا. اور تو کا ریموٹ اسے دے دیا. ویکینڈ ہونے کی وجہ سے رات کو میں ایک ٹرپل اکس مووی لے آیا تھا جو کے ابھی بھی دی وی دی کے اندر ہی تھی. میری عادت تھی کے ہمیشہ واشروم میں نھاتا اور کپڑے روم میں آکر پہنتا تھا. اس دن بھی میں روٹھنے کے مطابق اندر گھس گیا بعد میں مجے یاد آیا کے کپڑے تو بھر ہیں. خیر میں نے شاور لینے کے بعد ڈولی کو آواز دی اور بولا کے میرے کپڑے روم میں ہیں اس لیے وہ ذرا باہر چلی جی میں کپڑے پہن لوں تو پھر آجانا. ڈولی اچھا کہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی. میں روم میں تولیہ لپیٹ کر آگیا. ٹی وی کی طرف دیکھا تو رات والی ٹرپل مووی چل رہی تھی. میں نے ڈولی کو آواز دی. وہ اندر آگہی. میں نے پوچھا یہ کیا دیکھ رہی ہو. وہ بولی جو چل رہا ہے. میں نے کہا اچھا. اور اپنے کپڑے اٹھا کر میں واشروم میں چلا گیا. جب میں کپڑے بدل کر نکلا تو ڈولی نیوز دیکھ رہی تھی. بولی چلیں اور ہم دونو بھر آگہی. اس دن ہم لاہور میں مختلف جگہوں پر گومتے رہے. رات کا ڈنر ہم نے فورٹریس میں کیا اور گیارہ بجے رات کو میں نے اسے اس کے گھر چھوڑ دیا. اب یہ ڈولی کا معمول بن چکا تھا. وہ ہر سنڈے کو مرے گھر آجاتی. سارا دن ہم گھومتے. ساتھ میں ڈولی کو تھوڑی بہت شاپنگ بھی کروا دیتا اور کبھی کبھار اسے کچھ پیسے بھی دے دیتا. آخر کار وہ دن بھی آ ہی گیا. ڈولی روم میں بیٹھی مرے کپڑے استری کر رہی تھی میں واشروم سے ٹاول لپیٹ کر روم میں آیا. ڈولی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا. اس کے بالوں سے کھیلنے لگا. وہ بولی کیا بات ہے جی. میں نے کہا کے ڈولی ایک بات کہوں وہ بولی جی. میں نے کھا کے مجے تم سے محبت ہو گئی ہے. وہ استری چھوڑ کر کھڑی ہو گئی. بولی سر آپ مذاق کر رہے ہیں یا سروز ہیں میں بولا کے میں مذاق نہیں کر رہا. وہ بولی کے میں آپکا بہت احترم کرتی ہوں. آپ بس مرے اچھے دوست ہیں. باقی کچھ نہیں. میں چپ کر گیا. اتنا کچا کھلاڑی میں بھی نہیں تھا. پانچ منٹ کے بعد اس سے دوبارہ بولا کے ڈولی اب تم استری کر رہی ہو. مرے فلیٹ میں ہو. اکیلی ہو. اگر میں تمہیں پکڑ لوں تو تم کیا کروگی. وہ بولی سر میں گرم گرم استری آپ کو لگا ڈان گی. میں نے کہا اچھا تو پھر لگاؤ اور میں نے موقع دیے بغیر اسے جاکر پیچھے سے پکڑا اور اٹھا کر بیڈ پر لیتا دیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے اس کے گلابی گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دے اور پاگلوں کی طرح کسسنگ سٹارٹ کردی. اب اسنے بھی انجوے کرنا سٹارٹ کر دیا. میں نے فرنچ کیسس کی اسکی زبان لے کر خوب چوسی. پھر اسکے ماتھے پر آنکوں پر گردن پر بے شمار کس کے. وہ صرف بولتی رہی سر نہ کریں. لیکن میں لگا رہا اسی کشتی میں میرا ٹاول بھی کھل گیا تھا اور میرا لن پوری اب و تاب کے ساتھ کھڑا ہو چکا تھا. اور اس کی پھدی کو پھاڑ کر اندر جانا چہ رہا تھا. جسے ڈولی بھی محسوس کر رہی تھی مگر مرے اس کے اپر ہونے کی وجہ سے اسے نظر نہیں آرہا تھا. میں پورے زور سے کسسنگ جاری رکھے ہوے تھا. اب ڈولی ٹن ہو رہی تھی.مرے دونو ہاتھ اب اسکے ماموں پر تھے. اسکے نیپل سخت ہو چکے تھے. میں نے ڈولی کی زبان اپنے دانتوں سے پکڑ لی اور اسے تھوڑا سا اوپر کیا اور اسکی شرٹکھینچ کر اسکی گردن تک لے آیا. پھر فورن سے اسکی شرٹ اسکے گلے سے اتر دی. اسکے مامے اسکا سمارٹ پیٹ سب مرے سامنے تھا. میں نے اسکا برا کھولا اور اسکے پنک کولور کے نیپل منہ میں دال کر چوسنے سٹارٹ کر دے. ساتھ ہی پاؤں سے پکڑ کر اسکی شلوار بھی نیچے کھینچ لی. اب ہم دونو بلکل ننگے تھے. میں نے اسے دبا کر گلے سے لگایا. پھر بیڈ پر لیٹ گیا. ڈولی سے بولا اب تمہاری باری ہے. جتنا پیار کر سکتی ہو کرلو. وہ بولی کے آپ بہت برے ہیں. آپ نے مجھے بلکل موقع نہیں دیا. یہ کہ کر وہ اٹھی اور اس نے کپڑا لے کر مرے دونو ہاتھ بیڈ پر کھول کر باندھ دیے اور پھر ایک کپڑا میری آنکھوں پر بھی باندھ دیا. اب میں بلکل نہیں دیکھ سکتا تھا. ڈولی نے مجھے مرے ماتھے سے چومنا سٹارٹ کیا اور گردن تک خوب کسنگ کی. پھر وہ مرے سینے پر ای اور اسے زبان سے چاٹنا سٹارٹ کردیا. وہ لکنگ کرتی جا رہی تھی آھستہ آھستہ نیچے ہو رہی تھی. پھر اس نے میری دونو ٹانگیں کھول دی اور تھوڑا اپر اٹھا کر مرے دونو بالز چاٹنے سٹارٹ کر دے. وہ کبھی ایک بل منہ میں ڈالتی کبھی دوسرا. پھر وہ مرے لن تک بہنچ گئی اور بارے طریقے سے میرا لن منہ میں دال کر چوسنے لگی. وہ کبھی پورا لن اندر لے لیتی کبھی صرف ٹوپی، کبھی لکنگ کرتی تو کبھی سکنگ. کوئی دس منٹ کاک یہ سب چلتا رہا. پھر بولی. کے میں اپر آؤں یا آپ اپر ہونگے. میں بولا جسے تم کہو. بولی کے آپ اپر آجاؤ اور اس نے مجھے کھول دیا. میں نے اسے لٹایا اور دوبارہ سے اسکے ممے چوسنے اور دبانے لگ گیا.
  5. Pa g story main twist hona chaye Jo main ne lane ki koshish ki Baqi story mukamal hae
  6. میرا نام شازیہ ہے اور میں لاہور کے ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں میری عمر اس وقت بیس سال کے قریب ہے اور یہ واقعہ جو میں آپ کے سامنے پیش کررہی ہوں یہ دو سال پہلے کا ہے جب میں بی اے کررہی تھی میری بڑی بہن ناذیہ کی عمر مجھ سے تین سال زیادہ ہے اس کی شادی چھ ماہ پہلے زمیندار گھرانے کے ایک لڑکے سے ہوئے ہے جو گاﺅں میں اپنی زمینوں پر کھیتی باڑی کی نگرانی کرتے ہیں شادی کے دو ماہ بعد میری بہن ناذیہ میکے آئی تو اس نے مجھے کہا کہ میں گرمیوں کی چھٹیاں اس کے ہاں گزاروں جس کی میں نے حامی بھر لی گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں تو میں ان کے گھر چلی گئی جب ان کے گھر پہنچی تو دوپہر کا وقت تھا اور سخت گرمی تھی گھر پہنچتے ہی میں نے نہا کر کپڑے تبدیل کئے اس کے بعد کھانا کھایا میرے بہنوئی فاروق بھی کھانے کے وقت گھر آگئے اور انہوں نے لنچ ساتھ میں کیا تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ کھیتوں کو چلے گئے اب میں اپنی باجی کے گھر کے بارے میں بتادوں یہ گھر نہیں بلکہ ایک محل تھا جو گاﺅں سے ذرا ہٹ کر کھیتوں میں ہی بنایا گیا تھا ڈبل سٹوری اس گھر کو دیکھ کر حیرانگی ہوتی تھی کہ گاﺅں میںبھی ایسے گھر بن سکتے ہیں میری باجی نے مجھے رہنے کے لئے اپنے ساتھ والا کمرہ دیا جس کے ساتھ ایک اور کمرہ تھا جس میں ان کا دیور ایوب رہتا تھا جو عمر میں مجھ سے دو اڑھائی سال بڑا ہوگا اور پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور چھٹیاں گزارنے یہاں آیا ہوا تھا جس روز میں یہاںپہنچی اس دن میں کافی تھکی ہوئی تھی اس لئے جلدی سو گئی اگلی صبح تقریباً پانچ بجے باجی نے مجھے اٹھایا اور چائے دی جس کے بعد مجھے کہا کہ چلو صبح کی سیر کو چلتے ہیں میں حیران ہوگئی کہ باجی اس وقت اٹھ گئی ہیں شادی سے پہلے تو اس وقت ان کی نیند شروع ہوتی تھی خیر میں چپ رہی اور ان کے ساتھ سیر کو چل دی صبح صبح ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر چل کر کافی مزہ آرہا تھا دس پندرہ منٹ کی واک کے بعد باجی کہنے لگی کہ چلو واپس چلتے ہیں مگر میںنے ان سے کہا کہ آپ چلیں میں آجاتی ہوں میں مزید کچھ وقت یہاں گزارنا چاہتی تھی باجی واپس چلی گئیں اور میں چلتے چلتے کھیتوں میں چلی گئی ایک جگہ میری نظر پڑی تو میں ٹھٹھک کر رہ گئی میں نے دیکھا ایوب ٹیوب ویل میں ننگا نہا رہا ہے اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا میں ایک درخت کی اوٹ میں ہوگئی اور اسے دیکھنے لگی میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو ننگی حالت میں دیکھا تھا مجھے شرم بھی محسوس ہورہی تھی لیکن میں کھڑی رہی ایوب میری اس جگہ موجودگی سے بے خبر نہا رہا تھا اس نے پانی میں ڈبکی لگائی اور پھر باہر نکل کر کھڑا ہوگیا میری نظر جیسے ہی اس کی ٹانگوں کے درمیان گئی میرے منہ سے اوئی ماااا۔۔۔۔۔نکل گیااس سے پہلے میں نے تصویروں میں کسی مرد کے لن کو دیکھا لیکن اپنی حقیقی لائف میں پہلی بار کسی شخص کو ننگا کھڑے دیکھ رہی تھی ایوب کا بڑا سا کالا لن اس کی ٹانگوں کے درمیان جھول رہا تھا اس کے لن کے گرد کالے رنگ کے بال بھی کافی زیادہ تھے اس کے لن کے نیچے دو بال بھی نیچے جھول رہے تھے وہ میری موجودگی سے بے خبر اپنے جسم پر صابن ملنے لگا اس نے اپنی لن پر صابن ملا اور پھر پانی میں ڈبکی لگا کر باہر نکل کر کپڑے پہن لئے اس کے بعد گھر کی طرف چل دیا میں کچھ دیر وہاں رکی اور پھر میں بھی گھر کی طرف چل پڑی اس کو ننگی حالت میں دیکھ کر میں کافی گرم ہوچکی تھی گھر پہنچی تو باجی نے ناشتہ لگا دیا تھا میں ٹیبل پر آئی تو ایوب بھی آگیا اور میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا مجھے کافی شرم محسوس ہورہی تھی ناشتے کے بعد میرے بہنوئی فاروق کسی کام سے شہر چلے گئے اور باجی نے ایوب کو کہا کہ وہ شازیہ کو اپنا فارم ہاﺅس دکھا لائے جس پر ایوب کہنے لگا کیوں نہیں چلو شازیہ تمہیں اپنا فارم ہاﺅس دکھاتے ہیں صبح اس کو ننگی حالت میں دیکھنے کے بعد مجھے اس کے پاس بیٹھنے پر بھی شرم محسوس ہورہی تھی اب باجی نے مجھے اس کے ساتھ جانے کو کہہ دیا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس وقت میری کیا حالت ہوگی خیر میں انکار نہ کرسکی اور اس کے ساتھ ہولی ہم لوگ پیدل ہی فارم ہاﺅس کی طرف چل دیئے فارم ہاﺅس گھر سے کچھ فاصلے پر تھا راستے میں باتوں باتوں میں میں نے محسوس کیا کہ ایوب کافی ہنس مکھ ہے راستے میں ہم لوگ باتیں کرتے گئے کچھ دیر کے بعد ہم لوگ فارم ہاﺅس پہنچ گئے جہاں اس نے مجھے اپنے کنو اور مالٹے کے باغ دکھائے اور اس کے بعد اپنے ڈیری فارم لے گیا اور کہنے لگا آﺅ میں تم کو ڈیری فارم دکھاتا ہوں اس نے بتایا کہ اس فارم میں آسٹریلین گائے ہیں جو بہت زیادہ دودھ دیتی ہیں ڈیری فارم کے ایک کونے پر ایک بیل چل رہا تھا جس کے بارے میں اس نے فخر سے بتایا کہ اس علاقے میں اس نسل کا بیل صرف ہمارے پاس ہے اس کو خریدنے کے لئے لوگوں نے ہمیں لاکھوں روپے کی آفر کی لیکن ہم نے اسے نہیں فروخت کیا ابھی باتیں کررہے تھے کہ بیل گائیوں کے پاس پہنچ گیا اور اچانک اس نے ایک گائے کی دم کو سونگھنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس کا بڑا سا لن باہر نکل آیا اور وہ گائے کے اوپر چڑھ گیا میں یہ سین دیکھ کر بہت شرمندہ ہوئی اور ایوب سے کہا چلو مجھے گھر جانا ہے کیوں کیا ہوا ‘ ایوب نے پوچھا یہ سب کیا دکھا رہے ہو تم مجھے یہ سن کر ایوب کے چہرے پر ایک مسکان سی آگئی اور وہ کہنے لگا ارے اس میں کون سی بات ہے سانڈ کا کام ہے وہ گائے کو نئی کرتا ہے دیکھا نہیں تم نے وہ اپنا کام کررہا ہے بیل ابھی تک گائے کے اوپر چڑھا ہوا تھا اور ایوب اسی کی طرف دیکھ رہا تھا یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا اس لئے وہاں سے واپس کو چل دی ایوب بھی ساتھ ہوگیا اور کہنے لگا کہ یہ نیچرل بات ہے اس کے چہرے پر اب بھی عجیب سی مسکراہٹ تھی میں نے اپنے قدم تیز تیز اٹھانا شروع کردیئے ایوب نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی اور چلتے چلتے کہنے لگا دیکھو شازیہ یہ نیچرل بات ہے انسان بھی یہی کچھ کرتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے بیڈ روم میں کرتے ہیں اور کوئی ان کو نہیں دیکھتا میں خاموشی سے چلتی رہی اور گھر آکر اپنے کمرے میں چلی گئی کمرے میں جاکر میری حالت خراب ہونے لگی میں گرم ہورہی تھی صبح صبح ایوب کو ننگی حالت میں دیکھنے کے بعد اب بیل اور گائے کا لائیو سیکس شو دیکھ کر میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں مجھے نہیں معلوم کس وقت مجھے نیند آگئی دوپہر کے وقت باجی نے مجھے اٹھایامیں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور شام کو فاروق بھائی بھی آگئے ہم لوگوں نے مل کر کھانا کھایا اس دوران فاروق بھائی کہنے لگے شازیہ یہاں کی زندگی بھی عجیب سی لگے گی تم کو یہاں لوگ صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں اور رات کو جلدی سوجاتے ہیں کھانے کے بعد میں اپنے اور باجی فاروق بھائی کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ ایوب باہر نکل گیا شائد وہ سگریٹ وغیرہ پینے کے لئے باہر گیا تھا میں اپنے کمرے میں آگئی ذہن میں صبح ایوب کو ننگے دیکھنے اور بیل اور گائے کے سیکس کے سین چل رہے تھے جس سے میں کافی گرم ہورہی تھی میرے جسم میں عجیب سی بے چینی ہورہی تھی کچھ دیر بستر پر لیٹی سونے کی کوشش کرتی رہی لیکن نیند نہ آئی جس پر میں نے سوچا کہ باہر چل کے تازہ ہوا میں کچھ دیر چہل قدمی کرتی ہوں یہ سوچ کر میں اپنے کمرے سے باہر آگئی گھر کے چاروں طرف برآمدہ تھا جس میں تمام بلب آف تھے میں برآمدے میں چہل قدمی کررہی تھی کہ باجی کے کمرے کی کھڑکی کے پاس پہنچی تو اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں جس پر میں کھڑکی کے پاس ہی رک گئی کمرے کے اندر نیلے رنگ کا زیرو کا بلب جل رہا تھا میں نے دیکھا کہ فاروق بھائی بیڈ کے پاس کھڑے ہیں انہوں نے دھوتی پہن رکھی ہے جبکہ میری باجی بیڈ کے اوپر بیٹھی ہوئی ہیں انہوں نے شلوار قمیص پہنی ہوئی ہے فاروق بھائی نے باجی کا بازو پکڑ کر ان کو اٹھایا اور ان کے ہونٹوں پر کس کردی اور کہنے لگے میری رانی آج تو بہت سیکسی لگ رہی ہو آہستہ بولوساتھ کمرے میں نازی ہے وہ سن لے گی وہ سو گئی ہوگی تو اس کی فکر نہ کر آج تو میں تمہاری لمبی چدائی کروں گا چھوڑو بھی ابھی کل تو کیا تھا ‘ باجی نے خود کو فاروق بھائی سے چھڑاتے ہوئے کہا فاروق بھائی نے ان کو پھر پکڑا اور ان کو کسنگ کرنے لگے چند منٹ کے بعد انہوں نے باجی کے کپڑے اتار دیئے اور خود بھی دھوتی اتار دی وہ باجی کو کسنگ کررہے تھے اس کے ساتھ وہ باجی کے چیتڑوں پر اپنے ہاتھوں سے تھپڑ مارہے تھے جس کی کافی آواز آرہی تھی اس کے بعد دونوں نے ایک لمبی سی جپھی ڈالی پھر کسنگ کرنے لگے اس کے بعد فاروق بھائی نے باجی کو بیڈ پر بٹھا دیا اور خود کھڑے ہی رہے اب ان کا لن میرے سامنے تھا جو کافی لمبا اور کالے رنگ کا تھا اور اس کے گرد کافی بال تھے اب باجی نے فاروق بھائی کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو لالی پاپ کی طرح چوسنے لگیں مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھا فاروق بھائی نے باجی کو بالوں سے پکڑ رکھا تھا اور وہ باجی کے سر کو آگے پیچھے کررہے تھے باجی نے اپنے ہاتھ فاروق بھائی کی پیٹھ کر رکھے ہوئے تھے اور ان کو آہستہ آہستہ سے ہلا رہی تھی تھوڑی دیر بعد فاروق بھائی کہنے لگے اب بس کر نہیں تو میں چھوٹ جاﺅں گا جس پر باجی نے ان کا لن اپنے منہ سے نکال دیا اور خود بیڈ پر لیٹ گئیں فاروق بھائی بھی بیڈ پر آگئے اور باجی کے مموں کے ساتھ کھیلنے لگے ان کو کسنگ کی پھر باجی کے جسم کے دوسرے حصوں پر کسنگ کرنے لگے پھر وہ اپنا منہ باجی کی ٹانگوں کے درمیان لے گئے اور باجی کی چوت کو چومنے لگے باجی کے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکل آئی تھوڑی دیر ایسے ہی رہنے کے بعد وہ اٹھے اور باجی کی ٹانگوں کے درمیان آگئے انہوں نے باجی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنا لوہے کے راڈ جیسا لن باجی کی پھدی پر رکھا اور پھر پوری طاقت سے اس کو اندر ڈال دیا باجی کے منہ سے اوئی ئی ئی ئی ئی ئی میں مر گئی کی آواز نکلی لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے مزے کی ہلکی ہلکی سی آوازیں آنے لگی اس کے بعد فاروق بھائی زور زور سے دھکے دینے لگے فاروق بھائی اپنے لن کو پورا باہر لاتے اور جیسے ہی زور سے اندر کرتے باجی آہ ہ ہ کرتی جس سے فاروق بھائی کے گھسے کی طاقت اور بڑھ جاتی ہر گھسے سے باجی کے ممے بھی ہل رہے تھے اوہ ہ ہ ہ آہ ہ ہ ہاںںںں اوہ ہ ہ ہ ہ ام م م م م اف ف ف باجی کے منہ سے مسلسل مزے کی آوازیں نکل رہی تھیں باجی نے اپنے بازو فاروق بھائی کے جسم کے گرد لپیٹ رکھے تھے جن کی پکڑ ہر گھسے کے ساتھ ہی سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی تھوڑی دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد فاروق بھائی اوپر سے اٹھ گئے انہوں نے اپنا لن پھدی سے نکال لیا اور باجی سے کہنے لگے اب گھوڑی بن جا جس پر باجی حکم بجا لائی اور الٹی ہوکر اپنے بازو بھی بیڈ پر لگا لئے انہوں نے اپنے گٹنے ٹیک لئے جس پر ان کی پھدی بھی مجھے صاف نظر آنے لگی ایسے گھوڑی بننے کے بعد باجی کہنے لگی آجا راجا گھوڑی پر چڑھ جا فاروق بھائی اس کے پیچھے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہوگئے اور اپنا لن چوتڑوں کے درمیان سے ان کی پھدی پر سیٹ کرنے لگے انہوں نے اپنا لن ایک ہی جھٹکے سے باجی کی پھدی کے اندر ڈال دیا اور اس کو تیزی سے حرکت دینے لگے جس سے کمرے میں پچ پچ کی آوازیں آنے گلی ہر جھٹکے سے باجی کے ممے نیچے سے ہل رہے تھے جن کو کبھی کبھی فاروق بھائی اپنی رفتار تیز کرکے پکڑتے اور پھر ان کو چھوڑ کر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ گھسا مارتے تھوڑی دیر کے بعد فاروق بھائی نے اپنا لن پھر باہر نکالا اور کہنے لگے رانی آج مزہ آگیا آج میں پیچھے سے بھی کروں گا جس پر باجی کہنے لگی رحم کرو راجا میں مر جاﺅں گی آج نہیں چھوڑو ں گا پھر تھوڑا سا تیل لگا لیں اپنے لن پر جس پر فاروق بھائی چل کر ڈریسنگ ٹیبل پر گئے اور تیل کی شیشی پکڑ کر لے آئے اور بوتل کو کھول کر اپنی ہتھیلی پر تیل ڈال کر اپنے لن کو ملنے لگے اب ایسی پوزیشن میں تھے کہ فاروق بھائی کی کمر میری طرف آگئی مجھے نہیں معلوم کہ کیا کررہے تھے صرف مجھے باجی کی قدرے زور سے آواز سنائی دی ” میں مررررر گئی“ ہائے“ ”چپ کر اور تھوڑا سا رہ گیا ہے“ فاروق بھائی کی آواز آئی انہوں نے اور تھوڑا زور لگایا اور پھر کہنے لگے لے اب پورا لن تیری گانڈ کے اندر چلا گیا ہے اب آئے گا مزہ ‘ پھر وہ آگے پیچھے ہونے لگے اور باجی کی آواز بھی آنے لگی ہائے ئے ئے ئے میں مر گئی اور نہیں تھوڑا آہستہ اور نہیں نہ ہ ہ ہ ہ میں مر گئی آہ ہ ہ اب جلدی کرو اور پھر چند منٹ کے بعد فاروق بھائی کی آواز آئی میں چھوٹنے لگا ہوں اور چند سیکنڈکے بعد فاروق بھائی پیچھے ہوئے اور بیڈ پر لیٹ گئے اور باجی جو گھوڑی بنی ہوئی تھیں وہ بھی لیٹ گئیں فاروق بھائی باجی سے کہنے لگے کیسا لگا رانی آج تو آپ نے مار ہی ڈالا ‘ باجی نے کہا اور ساتھ ہی فاروق بھائی کو کسنگ کرنے لگیں میں چپکے سے اپنے کمرے میں آگئی اگلی صبح میں واک کے لئے نکلی تو اسی جگہ جاکر رک گئی جہاں کل ایوب کو نہاتے ہوئے دیکھا تھا آج بھی وہ وہیں موجود تھا اورنیکر پہنے ہوئے تھا وہ اپنے جسم کو تیل کی مالش کررہا تھا میں ایک درخت کی اوٹ میں کھڑی ہوکر اس کو دیکھنے لگی اس نے جسم کے بعد اس نے نیکر میں ہاتھ ڈالا اور اپنے لن کو تیل کی مالش کرنے لگا جس سے اس کے لن میں حرکت ہوئی اور وہ نیکر سے ہی دیکھنے لگا وہ شائد کھڑا ہورہا تھا اس کے بعد اس نے نہانا شروع کردیا آج اس نے نیکر نہیں اتاری تھی میں گھر کو لوٹ آئی اور ناشتے کے بعد کمرے میں آگئی اس رات بھی کھانا حسب معمول جلدی کھایا اور اپنے کمرے میں آگئی مجھے نیند نہیں آرہی تھی تھوڑی دیر کے بعد میں پھر باہر آئی اور اسی کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی جہاں سے فاروق بھائی کی آواز آرہی تھی اب کیا شرما رہی ہے دیکھ میرا لن کیسے پھدک رہا ہے تیری پھدی کے اندر جانے کے لئے اور تیری پھدی بھی بے چین ہے اپنے اس لور کے لئے اب چپ بھی کر بے شرم کہیں کے اور پھر کمرے سے سیکسی آوازیں آنے لگیں اوئی ماں اتنے زور سے تو نہ کرو تیری چوت اتنی چکنی ہے کہ خود کو روک نہیں سکتا آج میں دوسری پوزیشن میں کرتا ہوں میں نے دیکھا آج فاروق بھائی اور باجی دونوں کے منہ ایک دوسرے کی شرم گاہ پر تھے اور دونوں کے منہ سے آوازیں آہ ہ ہ ہ ہ م م م م م م آہ ہ یس آو و و گڈ“ آرہی تھیں تھوڑی دیر کے بعد باجی کہنے لگیں اب آجاﺅ کہاں پھدی منہ یا گانڈ جہاں تم چاہو میرے راجا پھر آج بھی گانڈ پھر میں نے دیکھا باجی کرسی کے اوپر بازو رکھ کر کھڑی ہوگئیں اور فاروق بھائی نے ان کی گانڈ میں اپنا لن ڈال کر ان کو چودنا شروع کردیا ابھی ان کا کھیل جاری تھا اور میں ان کو بغور دیکھ رہی تھی میں اس وقت کا فی ہاٹ ہوچکی تھی اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میرے پیچھے کوئی کھڑا ہوا ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو ایوب میرے پاس ہی کھڑا اندر کا منظر دیکھ رہا تھا میں نے اس کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے پکڑ لیا اور ایک ہاتھ میرے منہ پر رکھ کر مجھے تقریباً اٹھائے ہوئے میرے کمرے میں لے آیا اور کمرے کا دروازہ بند کردیا اور بولا کیا دیکھ رہی تھی میں شرم سے مری جاری تھی میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے منہ کو چھپا لیا چند لمحے بعد ہنستے ہوئے بولا اس میں شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے تمام مرد اور عورتیں یہ کام کرتی ہیں مرد کا کام ہی اپنی عورت کی چدائی کرنا ہے اس وقت میں کافی ہاٹ تھی اور میرے ہونٹ خشک ہورہے تھے ایوب نے مجھے آہستہ سے چھوا اور میرے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا مجھے اس کا بہت مزہ آنے لگا اچانک وہ اپنا منہ آگے لایا اور میرے ہونٹوں پرکس کردی اس سے پہلے کہ مجھے کچھ سمجھ آتا کہ کیا ہورہا ہے اس نے میری شلوار اتار دی اور میرے منع کرنے کے باوجود زبردستی میری قمیص تھی اتار دی میں نے نیچے کچھ بھی نہیں پہن رکھا تھا اس لئے شلوار اور قمیص اترتے ہی پوری ننگی ہوگئی میں فوری طورپر بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھوں سے اپنے جسم کو چھپانے کی کوشش کی میں نے اپنے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لئے اور ٹانگوں سے اپنی پھدی کو چھپا لیا ایوب نے میرے ہاتھ پیچھے کئے اور اپنی دھوتی بھی اتار کر مجھے بیڈ پر لٹا دیا اور میرے جسم پر کسنگ کرنے لگا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوچکا تھا اور مجھے چبھ رہا تھا وہ میرے اوپر ہی لیٹا ہوا تھا کسنگ کرتے کرتے ایوب کہنے لگا ” تو بہت چکنی ہے شازی تیرے ممے انار جیسے ہیں اور تیرے گلابی ہونٹ کتنے سیکسی ہیں اور تیری گانڈ۔۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے میری گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اور پھر اپنی ایک انگلی میری گانڈ کے اندر گھسا دی درد کی ایک لہر میرے پورے جسم میں دوڑ گئی میں نے اپنے منہ سے نکلنے والی چیخ کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا کیوں کہ ساتھ والے کمرے میں باجی اور فاروق بھائی موجود تھے اگر وہ سن لیتے تو کام بہت خراب ہوجاتا اس کے بعد ایوب نے اپنا لن میرے ایک ہاتھ میں پکڑا دیا اور بولا دیکھ میرا لن کتنا تگڑا ہے اس کے بعد اس نے اپنا ایک ہاتھ میری ٹانگوں کے درمیان میں گھسا دیا اور پھر بولا تیری چوت کتنی چکنی ہے اس نے اپنی ایک انگلی میری چوت کے اندر ڈال دی جو گیلی ہوچکی تھی پھر اپنا منہ میرے کان کے قریب لا کر آہستہ سے بولا تیری چوت میرے لن کی بھوکی ہے مجھے اس بات کی فکر ہورہی تھی کہ جیسے کچھ دیر پہلے میں اور ایوب دوسرے کمرے میں باجی اور فاروق بھائی کی آواز سن رہے تھے اسی طرح باجی اور فاروق بھائی بھی اس کمرے سے ہماری آواز سن سکتے تھے میں نے ایوب اور کان میں آہستہ سے کہا دیکھیں دوسرے کمرے میں باجی اور فاروق بھائی ہے وہ سن لیں گے جس پر ایوب کو بھی خطرے کا احساس ہوا جس پر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور مجھے بھی کھڑا کر کے چلنے لگا میں نے کہا ” کہاں“ تو کہنے لگا ” میرے پیچھے آﺅ“اس نے اپنی دھوتی جبکہ میں نے اپنی شلوار اور قمیص اٹھائی اور کمرے سے نکل آیا ہم دونوں ننگے تھے میں اس کی رہنمائی میں کمرے سے تقریباً بیس قدم کے فاصلے پر ایک اور کمرے میں چلی گئی جو گیسٹ روم کی طرح تھا جس میں دو بیڈ تھے اور اٹیچ باتھ روم تھا کمرے میں آتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور اپنی دھوتی اور میرے ہاتھ سے شلوار قمیص پکڑ کر نیچے پھینک دی اور مجھے بیڈ پر لٹا دیا اس کے بعد میرے جسم پر کسنگ کرنے لگا میرے ہونٹ‘ گردن‘ گالوں‘ بازوﺅں ‘ میرے مموں پیٹ اور پھر۔۔۔۔۔۔اس کے گرم ہونٹ میری پھدی کے ہونٹوں پر آگئے اس نے پہلے میری پھدی کے ہونٹوں کو چوسا پھر اپنی زبان اس کے اندر ڈال دی میرے پورے جسم کے اندر مزے کی ایک لہر سی دوڑ گئی میں ہواﺅں میں اڑ رہی تھی میں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا چند منٹ بعد اس نے اپنا منہ ہٹایا اور میرے جسم کے اوپر والے حصے پر لے آیا اور پھر بیٹھ کر اپنا لن پکڑا اور میرے منہ کے اوپر اس کی ٹوپی رکھ دی جو بہت گرم تھا اور اس کے اندر سے ایک عجیب قسم کی بو آرہی تھی اور اس کے سوراخ سے مائع نکل رہا تھا پھر وہ مجھے کہنے لگا اس کو چوسو مزہ آئے گا میں کوئی مزاحمت نہ کرسکی اور اس کے لن کو منہ میں ڈال لیا اس کا صرف ٹوپا ہی میرے منہ میں تھا اس وقت میرے ذہن میں ایک دن پہلے والا سین آگیا جب باجی فاروق بھائی کا لن چوس رہی تھی میں نے اسی طرح لن کو چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد ایوب نے مجھے روک دیا اور اپنا لن میرے منہ سے نکال لیا اس نے مجھے لٹایا اور پھر میرے ٹانگوں کے پاس آگیا اس نے میری ٹانگوں کو کھولا اور اپنے لن کو میری پھدی کے اوپر رکھ کر بولا ” اب میں اپنے لن کو تمہاری پھدی سے چسواﺅں گا“ نہیں بابا نہیں اتنا لمبا اور موٹا میں نہیں یہ میرے اندر نہیں جاسکتا یہ تو فاروق بھائی سے بھی بڑا ہے میں مر جاﺅں گی“ میرے منہ سے غیر ارادی طورپر نکل گیا ایوب کے منہ پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور پھر وہ کہنے لگا چپ کر دیکھا نہیں بھیا کیسے بھابھی کو چود رہے تھے اب میں تجھے اسی طرح چودوں گا آج سے تو میری بیوی اور میں تیرا خاوند اب تو صرف مجھ سے ہی اپنی پھدی اور گانڈ مروائے گی اچانک مجھے میری ٹانگوں کے درمیان درد سا محسوس ہوا جیسے کوئی گرم لوہے کی چیز میری پھدی کے اندر جارہی ہے میں نے دیکھا ایوب کچھ زور لگا رہا ہے میری آنکھوں سے آنسو نکل کر میرے گالوں پر آگئے میں نے ایوب سے التجا کی کہ اب بس کرے مگر وہ ہنسا اور مزید زور لگا دیا میری پھدی میں تکلیف مزید بڑھ گئی میں نے چیخ مارنے کے لئے منہ کھولا تو اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور ان کو چوسنے لگامیری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آگیا جو چند سیکنڈ تک رہا پھر آہستہ آہستہ اندھیرا ختم ہونے لگا لیکن درد تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ایوب مسلسل میرے ہونٹ چوس رہا تھا اور اپنے ایک ہاتھ سے میرے مموں کو مسل رہا تھا اس کے ناک سے ہوںںںں ہوںںںں کی آواز آرہی تھی پھر اس نے میرے کان میں ہلکے سے کہا ”تیری چوتکا پردہ پھٹ گیا ہے میرا لن تیری پھدی کے اندر چلا گیا ہے اب میں تیری جم کر چدائی کروں گا اس کے بعد اس نے اپنے جسم کو تھوڑا سا اوپر کیا اور اپنی ہپ کو اوپر اور نیچے کی طرف حرکت دینے لگا ہر بار جب وہ اپنی ہپ نیچے کی طرف لاتا تو اس کا لن میری پھدی کے اندر کسی چیز کے ساتھ ٹکراتا پانچ چھ منٹ کے بعد مجھے بھی مزہ آنے لگا میں نے اپنی ٹانگیں مزید اوپر کیں اور اس کے گرد لپیٹ لیں وہ مجھے کتنی دیر تک پمپنگ کرتا رہا کچھ دیر بعد وہ پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا ” اب تو گھوڑی بن جا میں تیری گانڈ ماروں گا“ میں نے اس کے لن کو دیکھا تو بہت خطرناک لگ رہا تھا میں نے ایوب کی بات سن کر کہا کبھی نہیں جس پر وہ کہنے لگا گانڈ مارنے اور مروانے کا مزہ کچھ اور ہی ہے میری جان مزہ تو تم کو ملے گا اور میں درد سے مر جاﺅں گی ’ میں نے اس کو جواب دیا وہ پھر بولا اپنی گانڈ مروا کے دیکھ کتنا مزہ ملتا ہے تجھے دیکھا نہیں تیری باجی کتنے مزے سے گانڈ مرواتی ہے اس کی بات سن کر میں بھی گھوڑی کی طرح ہوگئی اور اپنی گانڈ اس کے سامنے کردی تو اس نے کہا اس کو میرے لئے کھولومیں نے اس کے حکم کے مطابق اپنی گانڈ کو کھولنے کے لئے تھوڑا سا زور لگا اس وقت میرے کندھے بیڈ پر تھے اور میرا منہ تکیے کے اوپر تھا اس نے میرے ہاتھ میرے سر کے اوپر کردیئے پھر میرے پیچھے آگیا اور میری گانڈ کے اندر ایک انگلی ڈال دی پھر دوسری تیسری اور پھر چوتھی بھی ڈال دی اور پھر ان کو تھوڑی دیر ہلاتا رہا مجھے کچھ درد بھی ہورہا تھا اور مزہ بھی آرہا تھا پھر اس نے اپنا لن میری گانڈ کے اوپر رکھا اور اس کو اندر کرنے کی کوشش کرنے لگا مجھے باجی کی بات یاد آگئی میں نے ایوب سے کہا کہ تھوڑا تیل لگا لو مگر ایوب نے کہا یہاں تیل نہیں ہے تو ڈر مت میں تھوک لگا لیتا ہوں اس نے اپنا منہ میرے چوتڑوں کے پاس کیا اور میری گانڈ کے اوپر تھوک دیا پھر اپنا لن میری گانڈ کے اوپر رکھ دیا اور اس کو نیچے کی طرف دبانے لگا اس کا لن تھوڑا سا اندر گیا تو مجھے کافی تکلیف ہوئی اور میں نے اپنے چوتڑ ہلا کر اس کا لن باہر کردیا اس نے پھر میرے چوتڑ سیدھے کئے اور مجھے نہ ہلنے کی ہدایت کرکے اپنا لن میری گانڈ کے اندر ڈالنے لگا میرا منہ تکیئے کے اندر دھنس گیا اور میرا چہرا درد سے سرخ ہوگیا ” اوئی ئی ئی ماں میں مر گئی میں مر گئی نکالو اس کو “ میرے منہ سے نکلا مگر ایوب نے میری کوئی بات نہ سنی اور میرے مموں کو پکڑ کر مزید زور لگانے لگا اور پھر کہنے لگا کم آن کم آن لے اس کو اپنی گانڈ کے اندر “ میرے آنسو بدستور جاری تھے مگر وہ نہ رکا اور آخر کار اس کا لمبا اور سخت لن میری گانڈ میں پورا چلا گیا جس پر اس کے منہ سے نکلا ”یس س س س “ وہ کچھ دیر رکا اور پھر اپنے لن کو حرکت دینے لگا اس کا لن جب بھی میری گانڈ کے اندر جاتا تکلیف ایک دم بڑھ جاتی اور جب لن باہر آتا تو اس میں کچھ کمی ہوجاتی وہ آہستہ آہستہ اپنے کام میں جتا رہا اس کے ہاتھ ابھی میرے مموں پر تھے جب وہ میرے اندر اپنا پورا لن ڈال دیتا تو مجھے اپنی پھدی کے اوپر اس کے ٹٹے ٹکراتے ہوئے محسوس ہوتے اور اس کے بال مجھے چبھتے چند منٹ بعدمیرا درد کم ہوگیا اور پھر اس نے میرے بال پکڑ کر میرا منہ اوپر کیا اور کہنے لگا اب تیری گانڈ ڈھیلی ہوگئی ہے اب تجھے بھی مزہ آئے گا اس کے بعد اس نے اپنے جھٹکوں کی رفتار ایک دم بڑھ ا دی دس منٹ کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اس کے لن سے میری گانڈ کے اندر کچھ مائع نکل رہا ہے چند لمحے بعد مجھے لگنے لگا کہ ایوب کا لن کچھ ڈھیلا ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میری گانڈ سے اپنا لن نکال لیاوہ میرے اندر ہی فارغ ہوگیا تھا مجھے اس وقت بہت زیادہ پین ہورہی تھی میں نے ایوب سے کہا کہ میں درد سے مرے جارہی ہوں میری چوت میں بھی جلن ہورہی ہے اس نے مجھے کس کیا اور کہنے لگا جانو ڈر مت کچھ بھی نہیں ہوگا یہ کہہ کر اس نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا پھر ہم دونوں بیڈ کے اوپر لیٹ گئے تقریباً آدھ گھنٹے کے بعد اس نے ایک بار پھر مجھے چودا اور اس نے پھر اپنے لن کا رس میری گانڈ کے اندر ہی چھوڑا اس کے بعد میں اپنے اور وہ اپنے کمرے میں جاکر سو گئے اگلی صبح باجی نے ناشتے کے لئے اٹھایا میں نے ناشتہ کیا اور پھر کمرے میں جاکر سو گئی باجی نے مجھے مورننگ واک کے لئے کہا مگر میری گانڈ اور چوت کے اندر درد ہورہی تھی میں نے نیند کا بہانہ کیا اور اپنے کمرے میں جاکر سو گئی شام کو اٹھی تو کھانا کھانے کے بعد جب سو گئے تو پھر ایوب میرے کمرے میں آگیا اور مجھے لے کر اسی کمرے میں چلا گیا جہاں ہم نے پھر دو بار سیکس کیا اس کے بعد پورا مہینہ ہم لوگ مزے کرتے رہے جب مجھے مینسز ہوئے ان دنوں میں بھی ہم لوگ ملتے رہے ان دنوں ایوب صرف میری گانڈ مارتا ایک مہینے کے بعد میں واپس اپنے گھر آگئی اگلے سال بھی میں چھٹیاں گزارنے اپنی باجی کے گھر گئی اور خوب مزے کئے
  7. میرا نام شہروز ہے اور میں لاہور کا رہنے والا ہوں جو کہانی میں آپکو سنانے جا رہا ہوں یہ ایک ایسے واقعہ پر مبنی ہے جو میرے ساتھ تقریبا دو سال پہلے پیش آیا تو بات کچھ یوں ہے کہ دوسال پہلے جب میں آفس میں کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا تو میرے موبائل پر گھنٹی بجی جب میں نے موبائل کی سکرین پر دیکھا تو اس پر کوئی انجان نمبر ڈسپلے ہو رہا تھا خیر میں نے کال اٹینڈ کی اور ہیلو کہا مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ میرے کافی دفعہ ہیلو ہیلو کہنے پر بھی جب کوئی جواب نہ آیا تو میں نے کال کاٹ دی۔ میں دوبارہ اب پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر بعد پھر اسی نمبر سے میرے موبائل پر دوبارہ کال آئی اور میں نے دوبارہ کال رسیو کی تو موبائل پر دوبارہ وہی رسپونس ملا یعنی دوسری طرف سے کوئی بھی نہ بولا اور پھر کال کٹ گئی۔ اب میں اس طرح کی بار بار کال سے تنگ آ چکا تھا ایک طرف کام کا برڈن تھا اور دوسری طرف اس طرح کی بارر بار کالز۔ ابھی میں دل ہی دل میں کال کرنے والے کو بڑا بھلا کہہ رہا تھا کہ میرے موبائل کی دوبارہ گھنٹی بجی میں نے موبائل پر نمبر دیکھا تو دوبارہ پھر اسی نمبر سے کال آ رہی تھی اب کی بار میرا پارہ آسمان پر تھا اور میں نے جلدی سے کال اٹینڈ کی اور بس گالیاں نکالنے شروع کردیں۔ میں نے کال کرنے والے کو فون پر کہا بہن چود کیا گانڈ پروانی ہے جو بار بار فون کر رہا ہے تیر گانڈ پھاڑون ، تیری بہن کی کس، تیری بھدی میں لن ڈالوں میں اسی طرح موبائل پر بار بار تنگ کرنے والے کو گالیاں نکال رہا تھا اور جیسے ہی میں نے کال کرنے والے کو کہا کہ اگر میرا لن اتنا ہی پسند آ گیا ہے تو بہن چود منہ سے کیوں نہیں بولتا۔ تیری چدائی کی خواہش پوری کر دوں گا۔ ابھی میں نے یہ الفاظ کہے ہی تھے کہ دوسری طرف سے ایک نسوانی آواز سنائی دی تو کر دیں ناں خواہش پوری اور فون بند ہو گیا۔ اب فون کے بند ہوتے ہی سب سے پہلے میرا دھیان اپنے جاننے والوں کی طرف گیا کہ کیا یہ سب کوئی مزاق کر رہا ہے۔ کون ہو سکتا ہے۔ اب میرا دھیان کام کی بجائے اس فون کال کرنے والی کی طرف تھا خیر میں نے وہ نمبر اپنے موبائل میں سیو کر لیا۔ اب رات کو جب میں کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں سونے کے لیے آیا تو میں نے اسی نمبر پر کال کرنے کا سوچا کہ دیکھا جائے کہ کون ہے اور کیا چاہتا ہے۔ خیر میں بیڈ پر لیٹ گیا اور اسی نمبر پر کال ملا دی۔ اب اس نمبر پررنگ ہو رہی تھی مگر کسی نے بھی فون رسیو نہ کیا۔ میں نے دوسری بار دوبارہ کوشش کی۔ تو دوسری رنگ پر ہی فون رسیو ہو گیا۔ اور دوسری طرف سے کسی لڑکی نے ہیلو کون ؟ کہا تو میں نے کہا آپ کے اس نمبر سے صبح میرے اسی نمبر پر کافی کالز آ رہی تھیں کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ کون ہیں اور کیا چاہتی ہیں۔ تو اس لڑکی نے کہا کہ اس نمبر سے آپ کو کال کیسے آ سکتی ہے یہ نمبر تو میرے پاس ہی ہوتا ہے اور میں نے تو آپکو فون ہی نہیں کیا۔ تو میں نے کہا دیکھیں میڈم آپ کا نمبر میرے فون کی رسیوڈ کالز لسٹ میں ابھی تک سیو ہے مجھے بھلا آپ سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔ تو وہ لڑکی بولی اس کا مطلب ہے کہ میں آپ سے جھوٹ بول رہی ہوں تو میں نے کہا یہ تو مجھے نہیں پتا ہاں البتہ میں سچ بول رہا ہے میں بس اتنا جاتنا ہوں ۔ میرے اس جواب پر اس لڑکی نے کہا اچھا چلیں مان لیتے ہیں کہ صبح آپکو فون میں نے ہی کیا تھا اب بولیں کیا کریں گے آپ ؟ تو میں نے کہا میں نے آپکو فون نہیں کیا تھا فون آپ نے کیا تھا تو آب بولیں آپ کیا چاہتی ہیں۔ میرے اس سوال پر اس لڑکی نے مجھے ایسا جواب دیا جس کی میں امید بھی نہیں کر سکتا تھا یعنی میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی لڑکی ایسی بات کر سکتی ہے۔ اس لڑکی نے آپ بتائیں آپکو کیا چاہیئے کے جواب میں کہا کہ مجھے آپکا لن چاہیئے جس کا ۔ میں یہ جواب سن کر کچھ دیر خاموش ہو گیا۔ پھر وہ لڑکی دوبارہ مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی کہ صبح تو تم بڑے دعوے کر رہی تھے اب کیا ہوا۔ کیا وہ سب دعوے ہی تھے۔ لگتا ہے مردانگی ختم ہو گئی اور یہ کہنے کے بعد وہ لڑکی قہقہہ لگا کر ہنسی۔ میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے آج تک کسی لڑکی کے ساتھ یہ سب نہیں کیا مگر مجھے اپنے آپ پر اتنا بھروسہ ہے کہ تمیں صبح میں تارے دکھلا دوں۔ یہ سن کر وہ لڑکی دوبارہ قہقہہ لگاکر ہنسی اور بولی اچھا تو دیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اسے پوچھا بولو تم کہاں رہتی ہو تو اس نے کہا گھر میں ، یہ کہہ کر وہ پھر قہقہہ لگا کر ہنسی میں نے کہا جناب کا گھر کہاں ہے تو اس نے کہا یہ بات چھوڑو میں تمہیں کل فون کروں گی پھر دیکھتے ہیں کہاں ملنا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے۔ بس اس لڑکی سے بات کرنی تھی کہ پوری رات مجھے نیند ہی نہ آئی پوری رات اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچتا رہا میرا لن پوری رات کھڑا رہا صبح چار بجے جا کر آنکھ لگی اور خواب میں اسی لڑکی کے تصور کو چودتا رہا اور اسی دوران اختلام بھی ہو گیا۔ اب دن چڑھا اور روز کی طرح میں آفس چلا گیا مگر آفس میں اب میرا دل کہاں لگ رہا تھا بس تھا تو اسی لڑکی کی کال کا انتظار۔ اب ایک ایک منٹ بہت مشکل سے کٹ رہا تھا آپکو تو پتا ہے کہ مفت کی چوت کو کون چھوڑتا ہے۔ خیر میں ساتھ ساتھ کام بھی کرتا رہا اور کال کا انتظار بھی دن کے 12 بجے ہوں گے کہ میرے فون کی گھنٹی بجی تو میں نے ڈسپلے پر دیکھا تو اسی لڑکی کے نمبر سے مجھے کال آ رہی تھی میں نے جلدی سے فون آٹینڈ کیا تو وہی رات والی لڑکی نے مجھےسلام کیا اور حال چال پوچھنے کے بعد پوچھا کہ اس نے کہیں مجھے ڈسٹرب تو نیں کیا تو میں نے کہا نہیں میں تو صبح سے آپ کی ہی کال کا انتظار کر رہا تھا۔ میری یہ بات سن کر وہ ہنسنے لگی۔ پھر میں نے پوچھا کیا پروگرام ہے جناب کا تو اس نے کہا آپ ڈیفنس آ سکتے ہی کیا تین بجے تک میرا ڈیفنس میں گھر ہے بس آپ یہاں پہنچ کر مجھے کال کر لیں اسی نمبر پر میں نے کہا ٹھیک ہے میں پورے تین بجے آپ کے پاس ہوں گا ۔ پھر میں نے جلدی سے اپنا آفس کا کام مکمل کیا اور تین ڈھائی بجے آفس سے نکل پڑا اور تقریبا پورے ٹائم پر میں اس کی بتائی گئی ڈیفنس کے بلاک میں تھا میں نے اس کے دیئے ہوئے نمبر پر فون کیا تو اس نے کہا آپ وہیں رہو میں آتی ہوں۔ اب میں خیالوں میں اس کا سکیچ بنا رہا تھا کہ وہ ایسی ہو گی وہ ویسی ہو گی۔ ابھی میں انہی خیالوں میں تھا کہ میرے پاس ہنڈا کار آ کر رکی ۔ اس میں بہت ہی خوبصورت لڑکی بیٹھی تھی اب میں دعا کر رہا تھا کہ کاش یہ وہی لڑکی ہو جس سے میری آج ملاقات ہے اس لڑکی نے بھی میری طرف ایک دو بار دیکھا اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی اپنے بیگ میں سے اپنا موبائل نکالا اور کسی کو فون ملانے لگی۔ اس نے جیسے ہی اپنا موبائل اپنے کان کو لگایا میرے فون پر اسی نمبر سے بیل ہوئی میں نے فون اٹھایا تو اس لڑکی نے بھی مجھے پہچان لیا اور گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگی اس نے فون پر مجھے کہا آ جاو۔ یہ میں ہی ہوں اور میں اس کی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے ٹائٹ قسم کی پینٹ اور شرٹ پہن رکھی تھے گاڑی کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے اس کے چوتر صاف دکھائی دے رہے تھے وہ نہ صرف بہت خوبصورت تھی بلکہ وہ نسوانی حسن سے بھی مالا مال تھی۔ اس کے ممے اتنے ٹائٹ اور بڑئے تھے کہ کوئی بھی انھیں دیکھے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔ پھر وہ خود ہی مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی کہ جی جناب سنا ہے آپ چدائی کے بڑے ماہر ہیں اس کے یہ الفاظ کہنے تھے کہ میں شرما گیا اور سوچنے لگا کیا کوئی لڑکی اتنی بے باق بھی ہو سکتی ہے۔ مگر میں نے ہمت کی اور کہا آپ کو کوئی شک ہے تو وہ مسکرانے لگی۔ پھر اس کی گاڑی ایک بڑی سی کوٹھی کے سامنے جا کر رک گئی ایک ملازمہ نے دروزازہ کھولا اور وہ مجھے لے کر گھر کے اندر آ گئی اس کا گھر بہت شاندار تھا اس نے گاڑی گھر کے اندر پارک کی اور مجھے لے کر ٹی لانج میں آ گئی اس نے مجھے ٹی وی آن کر کے دیا اور مجھے کہا کہ وہ ایک منٹ میں آتی ہے اب میں سوچ رہا تھا کہ وہ لگتا ہے فریش ہونے گئی ہے میں سچ بتاوں میرا ٹی وی کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں تھا میں تو اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ پھر اس کی ملازمہ میرے سامنے فروٹ اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں رکھ کر چلی گئی میں نے ان میں سے ایک سیب اٹھایا اور اسے کھانے لگا ۔ اسی دوران وہ لڑکی بھی باہر آ گئی اس نے مجھے کہا اور لیجئے آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں ۔ میں نے کہا نہیں میں نے کچھ دیر پہلے ہی کھانا کھایا ہے اس لیے اتنی بھوک نہیں ہے۔ پھر اس نے کہا آیئے میں آپکو اپنا بید روم دیکھاتی ہوں اور وہ مجھے ساتھ لے کر اپنے بیڈ روم میں چلی گئی۔ اس کا بیڈ روم بھی بہت شاندار تھا اندر اے سی پہلے سے آن تھا اس نے مجھے بید پر بیٹھایا اور خود ہی کمرا لاک کر دیا۔ وہ میرے پاس اسی بیڈ پر بیٹھ گئی اور بولی کہ آپ نے اپنا نام بھی نہیں بتایا اور نا ہی میرا نام پوچھا ہے۔ تو میں نے کہا میرا نام تنویر ہے تو اس نے کہا میرا نام مہوش ہے۔ میں نے کہا بہت پیارا نام ہے اپکا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپکا بھی نام بہت پیارا ہے اس کی بات پر میں بھی مسکرا دیا۔ پھر مہوش نے مجھے کہا کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میرے پاس سب کچھ ہے پھر بھلا میں آپکو اپنے ساتھ کیوں یہاں لائی ہوں ۔ میں نے کہا ہاں میں تو کب سے یہی سوچ رہا ہوں بلکہ آپ کے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں ۔ تو اس نے کہا کہ میں شادی شدہ ہوں اور یہ گھر میرے شوہر کا ہے جو کہ امریکہ میں رہتے ہیں۔ تین سال پہلے انہوں نے وہیں کسی لڑکی سے شادی کر لی دو سال پہلے ان کا یہاں پاکستان چکر لگا تھا۔ میرے پاس دنیا کی ہر چیز ہے۔ مجھے یہاں کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے مگر میرے نصیب میں شوہر کا پیار نہیں ہے۔ ہر عورت کے لیے مرد کا پیار بہت ضروری ہے اور ایک شادی شدہ عورت کو اس کی کتنی طلب ہوتی ہے اس کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ اس دن میں نےجب آپ کو فون کیا تو اس سے پہلے میری میرے شوہر سے بات ہوئی تھی جسے میری زرا بھی پروا نہیں اور اس وقت جب اسے میں نے کہا کہ اگر تم پاکستان نہ آئے تو تمہاری طرح میں بھی یہاں لڑکوں کے ساتھ دوستیاں کرلوں گی تو اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ جتنی مرضی دوستیاں کر لو اور اس نے فون بند کر دیا اور میں نے غصے میں آپ کو رونگ نمبر ڈائل کر دیا۔ تم نے اس دن مجھے کہا کہ تم میری چدائی کی خواہش پوری کر دو گے بس پوری رات مجھے نیند ہی نہیں آئی میں نے مہوش کی کہانی سنی تو میرا لن کھڑا ہو گیا کیوں کہ یہاں تو رستہ ہی بالکل صاف تھا میں نے آگے پڑھ کر مہوش کو گلے لگا لیا اور کہا کہ میں تمہیں شوہر کا پیار دوں گا تمیں اس کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دوں گا اور یہ کہتے ہی میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسے بے انتہا کس کرنے لگا۔ وہ بھی مجھے ایسے نوچنے لگی جیسے وہ عرصہ دراز سے اسی چیز کی پیاسی ہو میں نے اس کو کس کرتے ہوئے ہی بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی گردن پر کس کرنے لگا پھر میں نے اس کے مموں کی طرف ہاتھ بڑھائے اور قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کے ممے دبانے لگا اس کے ممے دبانا تھے کہ اس کی حالت خراب ہونے لگی وہ اس قدر مدہوش ہو گئی کہ جیسے اسے دنیا کا ہوش ہی نہ ہو میں نے اس کو خود ہی اٹھایا اور اس کی قمیض اتار دی اب قمیض کے نیچے اس نے برا پہن رکھی تھی جس کا رنگ لال تھا۔ میں نے اس کے لیٹے ہوئے ہی اپنے ہاتھ اس کی کمر پر لیجا کر اس کے برا کی ہک کھول دی اور برا کو اس کے مموں سے ہٹا دیا اب اس کے دونوں ممے آزاد تھے میں نے آج تک ایسے ملائی کی طرح سفید ممے نہین دیکھے تھے مجھ سے اب ان مموں کو دیکھ کر رہا نا گیا اور میں نے اس کے مموں کو اپنے منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا۔ میں کبھی اس کے مموں پر کس کرتا تو کبھی اس کے مموں کے نپلز اپنے منہ میں ڈالتا اور کبھی ان پر تھوڑا تھوڑا کاٹتا جیسے جیسے میں اس کے مموں پر پیار کرتا وہ اس قدر مدہوش ہوتی جاتی۔ پھر میں نے اس کی شلوار کی طرف رخ کیا اور اس کی شلوار جس میں لاسٹک ڈلا ہوا تھا اتار دیا ۔ اس کی چوت بہت پیاری تھِی یعنی عورتوں کی عموما چوت بال صاف کر کر کے کالی ہو چکی ہوتی ہے مگر اس کی چوت میں ایسی کوئی بات نہ تھی اور نہ ہی اس کی چوت پر کوئی بال تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ چدوانے کی مکمل تیاری کر کے آئی تھی۔ میں نے اس کی چوت کے اندر اپنی انگلی گھسانا چاہی تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی چوت بہت زیادہ گیلی ہو چکی ہے۔ میں نے پھر بھی اپنی انگلی اس کی چوت میں گھسا دی۔ میں اپنی انگلی کو اس کی چوت میں گھمانے لگا کبھی میں اپنی انگلی کو باہر نکالتا اور اس کی چوت کے باہر والے حصے پر اپنی انگلی آہستہ آہستہ پھیرتا۔ میرے انگلی پھیرنے سے مہوش کی حالت اور زیادہ خراب ہوتی جاتی یعنی وہ مدہوشی کی وادیوں میں پہنچ کر آہستہ آہستہ میں سے آوازیں نکالتی جاتی۔ مجھے اس کی آوازیں بہت اچھی لگ رہیں تھیں۔ پھر میرا لن جو کافی دیر سے صبر کیے ہوئے تھا اب بے قابو ہونے لگا اب مزید صبر نہ کیا جا سکتا تھا تو میں نے اپنے لن کو سیدھا کیا اور مہوش کی چوت کا نشانہ لگایا اور دوسرے ہی لمحے میرا لن مہوش کی چوت میں تھا میرا لن مہوش کی چوت میں گھسنا تھا کہ مہوش نے آنکھیں کھول لیں۔ میرے لن کے اس کی چوت میں گردش کرنے سے اس کے ہوش اڑ گئے تھے پھر میں نے تھوڑا اور جھٹکا دیا تو اس نے کہا تنویر ذارا آرام سے ڈالو درد ہو رہا ہے کافی عرصے بعد جو کر رہی ہوں پھر میں ہلکے ہکے جھٹکے دینے لگا تو مہوش دوبارہ مدہوش ہونے لگی۔ اب کہ وہ پہلے سے زیادہ حد تک انجوائے کر رہی تھی یہ بات اس کی ہلکی ہلکی سسکیاں بیان کر رہیں تھیں۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا تنویر تھوڑا زور سے کرو۔ میں نے جھٹکوں کی رفتار تھوڑا تیز کر دی۔ پھر اس نے کہا تھوڑا اور زور سے۔ تو میں نے تھوڑا اور زور سے جھٹکے دینا شروع کر دیے۔ پھر بیس منٹ بعد پہلے مہوش اور پھر میں بھی جھڑ گیا۔ لن عموما ڈسچارج ہو کر سو جاتا ہے مگر مہوش کی چوت کی ایسی گرمی تھی کہ میرا لن ابھی تک ڈسچارج ہونے کے بعد بھی کھڑا تھا اور دوبارہ چدائی کے لیے تیار تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مہوش کی بھی یہی حالت ہے میں نے پھر مہوش کی طرف رخ کیا اور اس کو الٹا لٹا دیا۔ اب میں مہوش کی کمر پر کسنگ کر رہا تھا اور وہ بڑی طرح سسکیاں لے رہی تھی۔ پھر میری نظر دوبارہ مہوش کی بڑی سی گانڈ پر پڑی تو میری نیت اس کی گانڈ پر خراب ہونے لگی سچ میں اس کی چوت ہی نہیں گانڈ بھی بہت سیکسی تھی میں نے اس کی کمر پر کسنگ کرنے کے دوران ہی اپنا لن اس کی گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا۔ اب ایک ہاتھ میں میرا لن اور میرا دوسرا ہاتھ بیڈ پر تھا۔ میں ایک ہاتھ سے اپنا لن پکر کر مہوش کی گانڈ پر رگڑ رہا تھا اور پھر میں نے لن کو چھوڑا اور اپنے ہاتھ کی انگلی سے مہوش کی گانڈ کا سوراخ چیک کیا اب مجھے اندازہ ہو گیا کہ مہوش کی گانڈ کا سوراخ کہاں ہے بس میں نے دوبارہ اپنا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسے مہوش کی گانڈ پر ڑگڑنے لگا اور جب میرا لن مہوش کی گانڈ کے سوراخ پر پوری طرح پہنچا میں نے اپنے لن کا ٹوپا اس کی گانڈ میں گھسا دیا۔ میرے مطابق مہوش اس کے لیے تیار نہ تھی مگر اب لن کا ٹوپا اس کی گانڈ میں پہچ چکا تھا میرے لن کے ٹوپے کے گانڈ میں داخل ہوتے ہی مہوش زور سے چلائی پلیز ادھر سے مت کرو۔ پلیز اسے باہر نکالو یہاں درد ہو رہا ہے۔ میں نے کہا میں نے باہر نکال لیا ہے تو اس نے کہا نہیں ابھی اندر ہے پلیز اسے باہر نکال لو مجھے بہت درد ہو رہا ہے میں نے لن اس کے اندر ڈالے ہوئے ہی اس کی کمر پر کسنگ شروع کر دی۔ اور اسے کہا کہ لن باہر ہے اوردرد ابھی ختم ہو جائے گا میرے پیار کرنے سے اس کا کچھ دھیان میری کسنگ کی طرف لگ گیا تو میں نے اپنا باقی لن بھی اندر داخل کر دیا اس بار مہوش پھر دوبارہ چلائی مگر اس بار اسے اس قدر درد نہ ہوا تھا جتنا اس کی چیخوں سے پہلے محسوس ہو رہا تھا۔ اب میں نے کچھ دیر پھر اس کی کمر پر کسنگ کی اور پھر آہستہ آہستہ اس کی گانڈ کو لن سے جھٹکے لگاتے ہو جھٹکوں کی رفتار تیز کرتا گیا۔ اب میں نے محسوس کیا کہ اب مہوش کی گانڈ بھی میرے لن کی طرح انجوائے کر رہی ہے۔ اس طرح میں نے مہوش کی گانڈ کے دو اور اس کی پھدی کے تین شارٹ لگائے اور مہوش کے گھر سے میں رات دس بجے واپس آیا۔ اب بھی ہفتے میں ایک بار میری مہوش سے ملاقات ضرور ہوتی ہے اور ہم خوب سیکس انجوائے کرتے ہیں
  8. دوستو یہ کہانی میری نہیں ہے میں نے اسے انٹرنیٹ سے پڑھا اور سوچا کہ آپ دوستوں سے شئیر کردوں اپنی حقیقی خالہ کو گاوں میں چودا سب دوستوں کو سلام، میرا نام شہروز اور میں کوہاٹ کا رہنے والا ہوں۔ پہلی بار اپنی کہانی یہاں شائع کر رہا ہوں اُمید ہے سب کو پسند آئی گی۔ مجھے یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ایک سچھی کہانی ہے کیونکہ میری کہانی سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کہانی میں کتنی حققیقت ہے۔ میں ایک مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے والد صاحب ایک سکول ہیڈماسٹر ہیں۔اور میری ماں ایک سیدھی سادھی گھریلوں عورت۔ ماشا اللہ ہماری فیملی ایک خوشخال فیملی ہے۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔یعنی میں اور میری دو بہن سمینہ اور سعدیہ۔ یہ کہانی اُس وقت کی ہے جب میں نے آٹھویں جماعت کاکے سہماہی امتخان دینے کے بعد امی سے ماموں کے گھر جانے کی فرمائش کی، میں اور میری بہن سمینہ عموما چھٹیوں میں ماموں کے گھر جاتے تھے۔ اس بار بھی ہم کو جانے کی فوراََ اجازت مل گئی۔میں یہ بھی بتاتا چلوں کے میری ننیال بنوں میں رہتی ہے۔ ہم اتوار کے دن کوہاٹ سے بنوں روانہ ہو گئے جو کہ تقریباَ 2 گھنٹے کا سفر ہے۔ ہمارے ماموں کا گھر بنوں میں ایک پسماندہ گاوں میں ہے۔ میرے ماموں کا خاندان کوئی اتنا بڑا خاندان نہیں ہے۔ میرے ایک اکلوتے ماموں، ایک نیک دل اور ہنس مک ممانی، دو کزن عدنان اور عمر اور ایک کزن شمائلہ۔ اس کے علاوہ جو ہم سب کی جان ہے وہ میری پیاری خالہ رخشندہ۔ ہمارے ماموں کا گھر بہت بڑا پر لوگ بہت کم اس لئے گھر بہت ہی بڑا لگتا ہے۔ ہم جب پہنچے تو سب کے چہروں پر خوشی کھل گئی۔کیونکہ ہم تقریبا 2 سال بعد انے موموں کے گھر آئے تھے۔ خالہ اور ممانی تو ہم دونوں پر قربان ہوئے جا رہی تھیں۔ شام کو ماموں نے کھانے کا خوب اہتمام کیا ہوا تھا اور ایک عرصے بعد گاوں کے کھانے اور دیسی گھی کھانے سے برسوں کی بھوک مٹ گئ۔ یہ دسمبر کی سرد راتیں تھیں اس لئے ہم چٹائی پر ہی کمبل اُڑھ کر دیر تک گپ شپ لگاتے رہے۔ پھر باری باری سب کو نیند آنے لگی۔ اور سمینہ تو سب سے پہلے ہی شمائلہ کے ساتھ اُس کے کمرے میں سو چکی تھی ۔ ممانی نے مجھ سے کہا کہ میں نے تمہارے لئے عدنان اور عمر کے ساتھ بیڈ لگایا ہے پر میں نے کہا کہ ممانی آپ کو نہیں پتہ کہ میں آنٹی کے علاوہ کہیں اور نہیں سوتا ۔ یہ سن کر خالہ مسکرائی کہ اُونٹ جتنا قد ہو گیا ہے پر اب بھی وہی بچپنا نہیں گیا۔ خالہ نےممانی سے کہا کہ عابد میرے ساتھ سوجائے کوئی بات نہیں۔ میں جب خالہ کے روم میں گیا تو وہا ں صرف ایک ہی ڈبل بیڈ تھا جس پر خالہ نے دو رضائیاں لگا دیں۔ اور میں دیوار کی طرف جس کی ایک کھڑکی ماموں کے کمرے کی طرف کھلتی تھی سو گیا اور خالہ بیڈ کے دوسرے کونے پر سو گئیں اور دس منٹ میں خراتے بھرنے لگی۔ پر مجھے نئی جگہ پر نیند نہیں آرہی تھی۔ اس لئے بار بار کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس اثنا میں مجھے ماموں اور ممانی کی ہلکی ہلکی باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کیونکہ ماموں اور ممانی کا بیڈ بلکل کھڑکی کے ساتھ تھا اس لئے جب میں ذرا کان کھڑکی کے ساتھ لگایا تو مجھے ممانی کی تیز تیز سانسوں کی آوازیں سنائی دینے لگٰیں۔ میرے دل میں اشتیاق بڑھ گیا کہ ممانی کی طعبیت تو خراب نہیں ہوئی ۔ اس لئے کھڑکی کے ایک سوراخ سے جب آنکھ لگائی تو سامنے کا منظر دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔ہلکی ہلکی روشنی میں ممانی کے اُوپر ماموں لگا ہوا اُوپر نیچے ہو رہا تھا اور دونوں بلکل کپڑوں سے عاری تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے میں ایک عجیب کفیت پیدا ہو گئی اور پہلی بار مجھے اپنا لوڑا کھڑا ہوا محسوس ہوا اور مذید سخت ہوتا جا رہا تھا۔ کیونکہ ماموں نے بھی پنا لوڑا اندر کیا ہوا تھا اور بہت تیزی سے آگے پیچےہو رہا تھا اور میرا ہاتھ بھی خود بخود اپنے لوڑے پر چلا گیا۔ اتنے میں ماموں اور ممانی کی خرکتیں آہستہ ہو گئیں اور ممانی اپنے کپڑے پہن کر سو گئیں۔ میرے دماغ میں ایک آندھی چل رہی تھی۔ اور میں نے پھر رضائی اُڑھ کر جو دوسری طرف کروٹ بدلی تو میرا کھڑا ہوا لوڑا میرے قریب آچکی خالہ کے گانڈ سے ٹکرا گیا ۔ خالہ نیند کی بہت پکی ہے اس لئے اُس کو پتہ بھی نہیں چلا پر مجھ میں ایک بجلی کوند گئی۔ میں خالہ کے اور قریب ہو گیا اور اپنا لوڑا اُس کے گانڈ کے ساتھ تھوڑا اور سختی سے دبایا تو جسم میں کرنٹ بہنے لگا کیونکہ خالہ کی گانڈ بہت نرم تھی۔ پانچ منٹ تک میں اسی خالت میں رہا پھر میں نے اپنا لوڑا اپنے شلوار سے نکال دیا اور خالہ کی شلوار بھی نیچے کرلی اور خالہ کے گانڈ کے درمیاں لوڑا دے کر آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ مجھے لگا کہ میں آسمانوں میں اُڑ رہا ہوں۔ اسی دوراں خالہ نے کروٹ بدلی اور اُس کا چہرہ میرے سامنے آگیا۔ میں دو منٹ تک انتظار کرتا رہا پھر میں نے اُس کی آگے سے بھی شلوار نیچے کی اور اپنا لوڑا اُس کے بالوں سے بھرے چوت پر رگڑنا شروع کیا اب تو مجھے سے قابونہیں ہو پا رہا تھا اس لئے خالہ کو سیدھا لیٹا کر اُس کے اُوپر سوکر اُس کے رانوں میں اپنا لوڑا دے کر ہلانے لگا۔ مجھے اسی دوران محسوس ہوا کہ خالہ کی سانسیں تیز ہونے لگی ہیں پر وہ جان بوجھ کر سونے کا بہانہ کر رہی ہے۔ اسے لئے میرا حوصلہ بڑھ گیا ویسے بھی میرے سر پر اس وقت شیطان بیٹھا ہوا تھا اور مجھے وہ خالہ نہیں ایک عورت دیکھائی دے رہی تھی۔ جرات پا کر میں نے فیصلہ کیا کہ جس انداز سے ماموں کر رہے تھے میں بھی اُسی طرح ٹرائی ماروں اس لئے میں نے خالہ کی پوری شلوار اُتار دی اور اپنی بھی اور اپنے لوڑے کو خالہ کی چوت پر رکھ کر اندر کرنے کی کوشش کرنے لگا پر وہ اندر نہیں جا رہا تھا۔ پھر میں اپنے لوڑے کے سر پر تھوڑا سا تھوک لگا ئی اور خالہ کے چوت پر پھر اپنا لوڑا رکھا اور زور سے جو جھٹکا لگایا تو میرے لوڑے کا سرا اندر چلا گیا پر ساتھ ہی خالہ کی آہ کی آواز بھی آئی پر مجھے اس وقت کچھ نطر نہیں آرہا تھا میں نے اور زور لگایا اور پورا کے پورا اندار کر دیا ۔ لگتا تھا کہ خالہ کا چوت پہلے سے کھلا تھا کیونکہ اندر کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی پھر میں نے جو چودنا شروع کیا تو خالہ نے بھی جوش سے آہ آہ کی ہلکی ہلکی آوازیں نکالنا شروع کی اور اس دوران پانچ منٹ میں خالہ کے چوت سے پانی کا فوارہ نکل گیا پر میں اپنی دھن میں اُس کو چود رہا تھا اور خوب مزا آرہا تھا۔ اتنے میں مجھے لگا کہ میرے لوڑے سے کچھ نکل رہا ہے اور اچانک میں نے گرم پانی خالہ کے اندر چھوڑ دیا۔ اور جلدی سے شلوار پہن کر ساتھ سو گیا۔ ساتھیوں صبح کیا ہوا ۔۔۔اس کا احوال اپنے دوسرے کہانی میں سناوں گا۔ کئ دوستوں نے میری کہانی کو بکواس کہا، اچھا لگا کیونکہ تنقید سے ہی ایک بندہ کہانی لکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے میں نے کوئی کہانی نہیں لکھی اس لئے شاید لکھاری میں غلطی ہوئی ہے۔ دوستوں رات کو خالہ کے ساتھ سکس کرنے کے بعد میری تو زندگی بدل گئی۔ اور میں نے پہلی بار کسی عورت کا ذائقہ چکھا ۔ اور جب زبان کو ایک زائقہ چڑھ جاتا ہے تو پھر دل کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ ذائقہ بار بار چکھا جائے۔ اس لئے جب صبح اُٹھا تو خالہ سے آنکھ نہیں ملا پا رہا تھا۔ پر جب میں واش روم سے آیا تو خالہ میرے لئے ناشتہ لگا چکی تھی اوریہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ رات کو کیا ہوا ہے۔ میں نے بھی بات چھیڑنے کی کوشش نہیں کی پر رات کے تمام مناظر ایک ایک کرکے میرے آنکھو ں کے سامنے ناچ رہے تھے۔ جب میں نا ممانی کو دیکھا تو مجھے وہ چلتی ہوئی بھی اُسی طرح ننگی دکھائی دے رہی تھی اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ کاش ماموں کی جگہ میں اُن کے ساتھ سوجاتا۔ کیونکہ ممان کے فیگر بہت بڑے ہیں۔ اور اس کی گانڈ بھی بہت نکلی ہوئی تھی اور دیکھ کے دل مچل رہا تھا کہ اس کو کسی طریقے سے مس کیا جائے۔پر کوئی تدبیر سوچ میں نہیں آرہی تھی۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد سر میں شدید درد شروع ہوااور ہلکا ہلکا بخار بھی چڑھ گیا ۔ممانی نے میری حالت دیکھی تو سردرد اور بخار کی گولیاں دیں اور کہا کہ میرے روم میں سو جاو اور آرام کرلو۔ جب میں ممانی کے روم میں سو گیا تو تو ممانی بھی باتیں کرتی ہوئی میرے سرہانے بیٹھ گئی اور میرا سر ہلکا ہلکا دبانے لگی۔ مجھےاس کے ہاتھوں کے لمس سے بہت سرور ملنے لگا اور میری کہنی بھی اُس کے رانوں سے مس ہونے کی وجہ سے میرا لوڑا کمبل کے اندر پوری طرح کھڑا ہوگیا۔ گولیاں کھانے سے اور ممانی کے لمس کی گرمی سے میری حالت بہت بہتر ہوئی ، پر میرے اندر کی گرمی پوری طرح جاگ گئی تھی۔ (جاری ہے) اور قدرتی طور پر میرا ہاتھ میرے لوڑے پر چلا گیا اور میں وہاں ممانی میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی اور یہاں میں اپنے لوڑے کو سہلا رہا تھا، بہت زیادہ مزا آرہا تھا۔ پر اچانک ممانی کو خالہ نے آواز دی اور ممانی باہر چلی گئی اور میرا سارا موڈ خراب کر دیا۔ میں خود پر برا بلا کہتا ہوا پتہ نہیں کس ٹائم نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔ گولیوں کے اثر سے میں بہت دیر تک سوتا رہا اور عصر کے وقت میری آنکھ کھلی۔ تو جسم بہت ہلکا محسوس ہوا۔ ممانی کے کہنے پر میں نے تھوڑا سا کھیر کھایا۔ ھر عدنان آگیا اور کہا کے چلو تھوڑا باہر گھومنے چلتے ہیں۔ میں بھی عدنا ن کے ساتھ ہوتا ہوا دور کھیتوں میں نکل گیا۔ عدنان کے ساتھ میری کافی بے تکلفی ہے۔ میں نے عدنان سے کہا کہ یار تم کو کیا اچھا لگتا ہے۔ تو اس نے کہا کہ مجھے تو فلمیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈین فلمیں تو اُس نے کہا کہ نہیں مجھے سکس کی فلمیں بہت اچھی لگتی ہیں پر کوئی موقع نہیں ملتا دیکھنے کا کبھی کبھی یاسر چاچا کے بیٹے سلمان کے موبائل میں دیکھ لیتا ہوں پر وہ بھی ڈر ڈر کر۔ میں اُس کے شانوں پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہ کیا بڑی بات ہے میرے پاس موبائل میں بہت سی سکس فلمیں پڑی ہیں۔ اس کو یقین نہیں آرہا تھا جب میں نے موبائل نکال کربرایانا بنک، جیل کیلی،جولیا آن اور کارا فن کی فل کہ سب پورن سٹار ہیں کی فلموں کی ایک ایک جھلک دکھا دی۔ عدنان نے کہا کہ عابد کیا میں آج رات یہ سب دیکھ سکتا ہوں میں نے کہا کہ ہان کیوں نہیں پر اگر میرا کوئی کال آئی تو کیا ہوگا۔ تو عدنان نے کہا کہ آج تم میرے ساتھ میرے روم میں سو جانا۔ میں نے بے دلی سے کہا کہ ٹھیک ہے کیونکہ مجھے تو خالہ کا چسکا لگا ہوا تھا۔ خیر رات کا کھانا کھانے کے بعد ممانی نے پوچھا کہ عابد نے کہا سونا ہے۔ عدنان نے فوراََ کہ دیا کہ آج عابد میرے روم میں سوئے گا۔ خالہ نے ایک نگاہ مجھ پر ڈالی کہ میں کیا کہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ممانی فیصلہ کرے میں کہاں سوں ۔ ممانی نے کہا کہ بیٹا یہ پورا گھر تمہارا ہے جہاں دل کرے۔ پر عدنان تو پوری طرح ضد پر آگیا کہ جہاں عابد سوئے گا وہاں میں بھی سونگا۔ میں نے کہا کہ چلو آج ہم عدنان کے مہمان بن جاتے ہیں۔ پس کھانا کھانے کے بعد میں بے دلی سے عدنان کے ساتھ اُس کے روم میں چلا گیا اور اپنے آپ کو کسنے لگا کہ کیوں اُس کو فلمیں دکھائیں۔ gungun 09-07-2014, 12:25 AM کمرے میں جانے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ عدنان کے کمرے میں بھی صرف ایک ہی ڈبل بیڈ ہے۔ جس پر ہم دنوں نے سونا تھا۔بہرحال،جون ہی ہم کمرے میں پہنچے عدنان نے فوراََ فون میرے ہاتھ سے چھین لیا اور دروازے کی لاک لگا دی۔ اور میرے ساتھ بیٹھ کر بلیو فلم لگا دی۔ میں اپنے سر کے نیچے سرہانہ رکھ کر اُسے دیکھنے لگا۔ جوں جوں وہ فلم دیکھ رہا تھا اُ س کا رنگ سُرخ ہوتا جا رہا تھا۔ اور پہلے تو وہ مجھ سے شرما رہا تھا پر جوں جوں وقت گزرتا گیا اُس کا جوش بڑھتا گیا اور وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ سے اپنا لن کو سہلانے لگا۔ مجھے یہ منظر اچھا لگنے لگااور میں بڑے غور سے اُس کے حرکات کو دیکھنے لگا اور اس وقت تک اُس کا لن پوری طرح سے تن چکا تھا۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر مجھ میں بھی ہلکی ہلکی گرمی چھڑنے لگی۔ کیونکہ عدنان شکل وصورت سے بہت ہی خوبصورت تھا ۔ اس دوران میرا لن بھی تن چکا تھا اور چونکہ میں اُس کے ساتھ بیٹھا تھا پر اُس کی پوری توجہ فلم پر لگی تھی اس لئے میں نے اُس کی طرف اپنی کروٹ بدلی اور میرا لن اُس کی پنڈلسے ٹکرا گیا۔ وہ ایک دم کے لئے چونکا پر کوئی توجہ نہ دی۔ میں نے اپنا لن اُس کے پنڈلی کے ساتھ اور نزدیک کیا تو میرے لن کا ٹوپ اُس کے پنڈلی میں چھبنے لگا۔ لیکن اُس نے برا نہیں مانا۔یہ دیکھ کر میری ہمت اور بڑھ گئی اور میرے ذہن پر شیطان نے آہستہ آہستہ قبضہ جمانا شرو ع کردیا۔ اور میں نے فوران اپنی قمیص اُتار دی، عدنا ن نے ایک نظر میرے ننگے کاندھوں پر ڈالی پر کچھ کہا نہیں۔ اور فلم دیکھنے میں محو رہا ۔پر اب وہ پوری طرح سے اپنی لن کو اپنے ہاتھوں سے مٹھ مارنے لگا تھا۔ میں نے اپنی بنیان بھی اُتار دی جس سے میرا لن واضح طور کھڑا دکھائی دینے لگا۔ اب فلم کے ساتھ ساتھ عدنان کبھی میرے تنے ہوئے لن کو دیکھتا تھا اور کبھی میرے ننگے سینے کو۔ میں نے مزید ہمت کرکے عدنان کا ہاتھ اپنے لن پر رکھ دیا جس پر بلا کسی اعتراض کے اُس نے اپنا ہاتھ مضبوطی سے گما دیا۔ اور میرے اشارے پر اب اپنے بجائے میرے لن پر مٹھ مارنے شروع کر دیا۔ دو منٹ بعد میں نے اپنی شلوار بھی اُتار دی اب میرا تنا ہوا لن عدنان کے سامنے پوری طرح تنا ہوا اور ننگی حالت میں تھا۔ عدنان نے کہا کہ عابد تم اس کو کیا لگاتے ہو کہ یہ اتنا بڑا ہو گیا ہے میرا تو بہت ہی چھوٹا ہے۔ میں نے کہا کہ میں اس کو تیل کی مالش کراتا ہوں۔ اور میں اپنی جگہ بیٹھ گیا اور عدنان کے سر کو پکڑ کر اُس کے سرخ ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ اس وقت مجھے لگ رہا تھا جیسے میں کسی لڑکی کے ہونٹوں کو چوس رہا ہوں۔ اور عدنان میرے لن پر مسلسل مٹھ ما راہا تھا۔ اب میں نے اُس کے سر کو پکڑ کر اُس کا منہ اپنے لن پر لگا دیا۔ پہلے تواُس نے لن منہ میں لینے سے انکار کیا پر ایک دو بار سر کو زور سے جھٹکنے پر اس نے لن میں میں لے لیا۔ واہ کیا زبان کی گرمی تھی اور وہ کس شوق سے چوس رہا تھا ۔ میں تومزے سے پاگل ہئے جا رہا تھا۔ وہ مسلسل میرے لن کوچوس رہا تھا جیسے سالوں کا بھوکا ہو۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا لن کو کبھی اندر ڈالا ہے تو اُس نے کہا کہ نہیں۔ اب میرا صبر جواب دے رہا تھا اس لئے میں نے عدنان کی قمیص اور شلوار اُتار دی پہلے تو وہ شرما رہا تھا ۔ پر جب میں نے اس کے سینے اور گردن کو چاٹنا شروع کیا تو کسی لڑکی کی طرح گرم گرم سانسیں لینے لگا۔ میں دس منٹ تک اُس کے پورے بدن کو چاٹتا رہا ۔ اور پھر اُس کو گھٹنوں پر بیٹھا کر اُس کے پیچے آگیا اور اپنے لن پر اور اُس کے گانڈ پر تھوک لگا دی اور آہستہ آہستہ اپنی لن اُس کی گاند پر رگڑنے لگا۔ جس سے بہت مزا آنے لگا اور عدنان بھی بار بار اپنی گانڈ زور زور سے میرے لن کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔ اب میں نے لن کا سرا اُس کے گانڈ کی موری پر فٹ کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اندر دھکیلنے لگا۔ آہستہ آہستہ میرا لن اُس کے گانڈ میں جانے لگا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اُسے درد بھی ہو رہا ہے پر وہ مزے سے برداشت کر رہا تھا ۔ کہ اچانک میں نے ایک زور دار جھٹکا لگیا اور میرا آدھا لن اُس کی گانڈ میں چلا گیا اُس نے ہلکا سا نعرہ لگیا لیکن پھر خود کو کنٹرول کرلیا۔ اب میں آہستہ آہستہ گسے مارنے لگا اور مزید لن کو اندر کرنے لگا اور میں پوری لن کو اندر کرنے میں کامیاب ہوا۔ اب میں نے اُس کو بڑ ے مزے سے چودنا شروع کیا ۔۔وقت کے ساتھ ساتھ میں اپنی رفتار بڑھانے لگا اور عدنان خود بھی مٹھ مار رہا تھا کہ اچانک عدنان فارغ ہو گیا اُس نے زور سے کہا عابد جلدی کرو اب۔۔۔اس کے ساتھ میں نے بھی اپنی رفتار مزید تیز کردی اور مجھے لگا کہ میں بھی اب فارغ ہونے والا ہوں اور مزید دو منٹ کے بعد میرا گرم گرم منی اُس کی گانڈ کی سوراخ سے رسنے لگا۔۔۔اور میں بستر پر نڈھال ہو گیا۔ عدنان کی حالت بھی مجھے سے کم نہیں تھی۔۔۔۔میں توڑا سستانے کے بعد اُٹھا اور فوراََ غسل خانے میں گسا اور جلدی جلدی خود کو صاف کرکے آگیا جب تک عدنان کپڑے سے خود کو صاف کر چکا تھا اور دوسرے طرف منہ کرکے سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں بھی گرم رضائی میں گس گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا اور پھر صبح ہی ممانی کے درورازہ کھٹکٹانے سے آنکھ کھلی ۔۔۔دوستوں ماموں کے گھر میں مجھے پر اور کیا گزرا وہ جلد آپ کے سامنے ہوگا۔اپنی آرا سے ضرور باخبر کریں۔ د دوستو، بہت سے دوست سکس فلمیں دیکھ کر کہانیاں لکھتے ہیں اور اہ اہ کی آوازوں سے متاثر ہو کر اپنی کہانیوں میں بھی یہیسب کچھ لکھتے ہیَ پر میں جو بھی لہوںحققیت ہ
×