Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

Mani00001

Members
  • Content Count

    20
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

16

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Female
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Lagta hae end hae an Nice story
  2. آج میں آپ لوگوں کو جو واقعہ پیش کررہا ہوں وہ لاہور کی رہنے والی پروین کا ہے اور آپ یہ واقعہ اسی کی زبانی ہی سنیں گے میرا نام پروین ہے اور میری عمر 35 سال کے قریب ہے میری شادی 12 سال قبل ہوئی اور ایک بیٹی کی ماں ہوں جو اس وقت چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے میرا شوہر آٹھ سال پہلے روز گار کی تلاش میں امریکا چلا گیا جہاں سے وہ ابھی تک تین بار پاکستان آیا ہے آخری بار وہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان آیا اور صرف دس دن کے بعد واپس چلا گیا پہلے پہل تو مجھے اس کی کمی مجھے بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ میں اس کے بغیر رہنے کی عادی ہوگئی تقریباً ایک سال پہلے ایک رات میں باتھ روم میں جانے کے لئے اٹھی توپھر نیند نہ آئی جس پر میں چھت پر چلی گئی جہاں سے اپنے ہمسائے کو دیکھا جو اپنے لان میں اس کے ساتھ رومانس کررہا تھا اس نے اپنی بیوی کو کسنگ کے بعد اس کی قمیص کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کردیا جس سے میری سوئی ہوئی حسیں جاگ گئیں اور مجھے اپنے اور اپنے خاوند آصف کے پیار کے واقعات یاد آنے لگے جس سے میرے اندر ایک انجانی سی آگ بھڑک اٹھی تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں تو اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ میں بیڈ پر آن لیٹی میرے اندر لگی آگ مزید بڑھتی جارہی تھی میں نے ایک ہاتھ اپنی قمیص میں اور دوسرا اپنی شلوار میں ڈال لیا ایک ہاتھ سے اپنے ممے دبانے لگی جبکہ دوسرے سے اپنی پھدی میں فنگرنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد میںفارغ ہوگئی لیکن مجھے صحیح معنوں میں تسلی نہ ہوسکی اس سے اگلے روز بھی میں نے اسی طریقے سے اپنی تسلی کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے اندر لگی آگ کو بجھا نہ سکی اس رات میں نے اپنے شوہر کو امریکا میں فون کرکے واپس آنے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ ابھی چھ مہینے پہلے ہی تو پاکستان آیا تھا اگلے دو سال تک دوبارہ واپسی نہیں ہوسکتی جس کے بعد میں مزید ڈس ہارٹ ہوگئی اس کے بعد میں نے کسی لڑکے کو پھنسا کر اپنی آگ بجھانے کا فیصلہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے اگلے دو ماہ کے اندر کمرشل ایریا میں ایک دکان پر کام کرنے والے بیس سال کے قریب عمر کے عامر نامی نوجوان کو پھنسا لیا جس کو میں نے ایک روز دن کے وقت اپنے گھر بلایا اور اس کو اپنے کمرے میں بٹھا کر کوک پلائی اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کو کسنگ شروع کردی شروعات میں نے کی اس کے بعد وہ سٹارٹ ہوگیا اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے کسنگ کے دوران اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ممے دبانا شروع کردیئے میرے اندر آگ مزید بڑھ رہی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اس کو کمر سے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر پھیرنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور میری قمیص اتارنے لگا اس کے بعد اس نے میری بریزیئر اور شلوار اس کے بعد اپنی پینٹ شرٹ اور انڈر ویئر بھی اتار دیا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ میرے شوہر کا لن تقریباً ساڑھے چھ انچ کا تھا اور عامر صرف چار انچ لن کا مالک تھا اور وہ بھی کافی پتلا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا میں نے اسی پر گزارہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی دوران عامر نے مجھے دوبارہ کسنگ شروع کردی اور پھر میرے مموں کو چوسنے لگا وہ بڑی کمال مہارت سے یہ کام کررہا تھا اس کا ایک ہاتھ میری پھدی کو سہلا رہا تھا جس سے اس کے اندر سے پانی نکلنے لگا اس کے بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا کر میرے مموں کو چوسا اور اور میرے نپلز کو اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا سا کاٹنا شروع کردیا جس سے میرے منہ سے ایک آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ سی نکل گئی اس کے بعد اس نے میری گردن اور پھر میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا کہ اس نے ایک اور ناقابل برداشت کام کیا اس نے اپنی ایک انگلی میری پھدی کے اندر ڈال دی اور اس کو ہلکا ہلکا سا موو کرنا شروع کردیا جس سے میں مزے کی دنیا میں پہنچ گئی نشے سے میری انکھیں بند ہورہی تھیں میں نے اپنی ٹانگیں اکٹھی کرلیں اور عامر کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کو کہنے لگی عامر بس کرو اب میری برداشت سے باہر ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میرے پیٹ اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیری جس سے میرے مزے میں مزید اضافہ ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی میں نے ایک دم عامر کو پکڑ کر خود سے علیحدہ کردیا اور اس سے کہا کہ اب بس کرو اور اصل کام کرو لیکن اس نے میری بات ان سنی کرکے پھر سے مجھے سیدھا کیا اور اپنا منہ میری پھدی پر رکھ دیا جس سے میری جان نکل گئی اس کی زبان میری پھدی کے اندر گئی اور حرکت کرنے لگی میں نے اس کو بالوں سے پکڑ لیا میرا دل کررہا تھا کہ کسی طرح اس کی زبان مزید لمبی ہو جائے اور میرے اندر تک چلی جائے اس طریقہ سے کبھی میرے شوہر نے نہیں کیا تھا اور میرے لئے یہ مزہ نیا تھا دو منٹ تک اس نے میری پھدی کے اندر اپنی زبان چلائی پھر پیچھے ہٹ گیا اور میرے ساتھ لیٹ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ اب تم میرے لن کو اپنے منہ میں لو میں نے پہلے یہ کام بھی نہیں کیا تھا اس لئے اس کام سے انکار کرنے لگی اس نے مجھے بہت کہا لیکن میں نہ مانی اس کے بعد وہ اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اپنے لن کو میری پھدی پر رگڑنے لگا کچھ لمحے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور جھٹکا دیا اس کا پورا لن میری پھدی کے اندر چلا گیا اس کے بعد اس نے جھٹکے مارنا شروع کردیئے میرا دل کررہا تھا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر ٹکرائے لیکن اس کی لمبائی چھوٹی تھی جس کی وجہ سے میری خواہش پوری نہیں ہوسکی چار پانچ منٹ کے بعد وہ فارغ ہوگیا لیکن میں ادھوری رہ گئی وہ مزید ایک آدھ منٹ تک میرا ساتھ دیتا تو میں بھی منزل تک پہنچ جاتی لیکن وہ فارغ ہوگیا اور ٹھنڈا ہوکر میرے اوپر آن گرا اور لمبے لمبے سانس لینے لگامجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے اندر لگی آگ مجھے بھسم کردے گی دس منٹ میرے اوپر ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ اتر کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے لن کو سہلانا شروع کردیا تاکہ اس کو دوبارہ تیار کرکے خود بھی مکمل ہوجاﺅں پانچ ساتھ منٹ تک اپنی انگلیوں سے اس کے لن کے ساتھ کھیلتی رہی تو اس کے لن میں تھوڑی سی حرکت محسوس ہوئی تو کہنے لگا آپ اس کو منہ میں لیں تو جلدی کھڑا ہوجائے گا میں نے مجبوراً اس کے لن کو منہ میں لےنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیڈ شیٹ سے اس کے لن کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ا سکو اپنے منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوسنا شروع کردیا جس کے باعث چند سیکنڈ میں ہی اس کا لن کھڑا ہوگیا میں نے اب دوسرے طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو لیٹے رہنے کا کہہ کر اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا لن اپنی پھدی میں لے لیا اور اس کے اوپر اچھلنے لگی چھ سات منٹ تک اسی طرح اچھل کود کرنے کے بعد میں فارغ ہوگئی اور ساتھ ہی وہ بھی چھوٹ گیا اس کے لن کی ساری منی میری پھدی میں نکلی لیکن اس کا مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیونکہ دو سال پہلے ہی میں نے اپنا آپریشن کروا لیا تھا اس کے بعد تقریباً پانچ ماہ تک میں دوسرے تیسرے دن عامر کو اپنے گھر بلا لیتی اور اس کے ساتھ سیکس کرتی کبھی تو میں بھی مکمل ہوجاتی لیکن کبھی کبھی وہ مجھے ادھورا چھوڑ کر خود ڈھیلا ہوجاتا ایک روز اس نے مجھے نیٹ پر اردو سٹوریز کی مختلف سائٹس بتائیں جن کا میں ریگولر وزٹ کرنے لگی اور اپنے فارغ وقت کا خاصا حصہ کہانیاں پڑھنے میں صرف کرنے لگی اس دوران میں نے کہانیاں لکھنے والے کئی افراد کو ای میلز بھی کیں چند ایک نے مجھے رپلائی بھی کیا لیکن ان کے ساتھ بات آگے نہ بڑھ سکی ایک روز میں نے اردو فنڈا پر لاہور میں لائیو سیکس پرفارمنس کے حوالے سے ایک کہانی پڑھی تو میرے دل میں بھی شوق پیدا ہوا کہ میں یہ شو دیکھوں جس کے لئے میں نے اس کہانی کے رائیٹر کو ای میل کی جس میں میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا مجھے دو روز بعد جواب موصول ہوا جس میں کہانی کے مصنف شاکر محمود نے بتایا کہ ان کا شو کے آرگنائزرز کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک دوست کے ریفرنس سے وہاں گئے تھے اور اگلا پروگرام مارچ یا اپریل میں ہوگا جس کے بعد ان کے ساتھ ریگولر میل کے ذریعے رابطہ ہونے لگا اس دوران ان کی چند ایک دیگر تحریریں بھی میں نے پڑھیں اور میرے دل میں ان کے ساتھ ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا میں نے ایک روز ان کو میل کرکے ان سے ملنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواباً مجھے میل میں اپنا فون نمبر SEND کردیا جس پر میں نے فوراً ان کو کال کی اور ان سے ملنے کے لئے کہا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تو کسی کام کے سلسلہ میں اسلام آباد میں ہیں لیکن دو تین روز تک واپس آکر پہلی فرصت میں ملیں گے یہ اتوار کا دن تھا جب مجھے دن کے بارہ بجے کے قریب شاکر صاحب کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ابھی فری ہیں اور ملنا چاہتے ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آج میری بیٹی کو سکول سے چھٹی ہے اور گھر پر کچھ مہمان بھی آنے والے ہیں اگر کل کا یا رات کا ٹائم رکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا خیر یہ بات طے ہوگئی کہ رات کو ساڑھے دس بجے شاکر صاحب میرے گھر آئیں گے اور رات میرے پاس ہی ٹھہریں گے رات کو چھ بجے کے قریب گھر سے تمام مہمان چلے گئے اور سات بجے کے قریب میری بیٹی بھی سو گئی جس کے بعد میں نہا کر فریش ہوگئی اور شاکر صاحب کا انتظار کرنے لگی میں سوچ رہی تھی کہ جانے شاکر صاحب کیسے ہوں گے پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک بارعب عمر رسیدہ شخص یا کوئی چلبلا نوجوان خیر وہ وقت بھی آگیا جب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں دس بج کر پانچ منٹ ہوئے ہوں گے جب ڈور بیل بجی میں نے دروازہ کھولا تو دروازے کے سامنے سفید رنگ کی مہران گاڑی کھڑی تھی اور پاس ایک تیس سال کے قریب عمر کا ایک نوجوان جوبلیو جینز اوروائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس تھا دروازہ کھولنے پر کہنے لگا آصف صاحب کا گھر یہی ہے میں نے اثبات میں سرہلایا تو اس نے کہا میں شاکر جس پر میں نے بڑا گیٹ کھول کراس کو گاڑی اندر کرنے کو کہا اس نوجوان نے گاڑی اندر پارک کی اور گاڑی سے اتر کر ادھر ادھردیکھنے لگا جیسے کہ گھر کا جائزہ لے رہا ہو اس نوجوان کا قد پانچ فٹ دس انچ کے قریب ہوگا سفید رنگ اور کلین شیو کئے ہوئے یہ نوجوان بہت بھلا معلوم ہورہا تھا چہرے پر کمال کا اطمینان تاثرات دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ یہ نوجوان سیکسی کہانیاں لکھنے والا ہے میں نے چند لمحے اس کا بغور جائزہ لیا اور پھر اس کو لے کر سیدھا اپنے کمرے میں لے گئی جہاں ان کو بیڈ پر ہی بیٹھنے کو کہا وہ بلا جھجکے ٹانگیں نیچے کئے بیڈ پر بیٹھ گیا میں نے ان سے پوچھا کہ ٹھنڈا یا گرم تو کہنے لگا ٹھنڈا میں فوری طورپر کچن میں گئی اور فریج سے کوک نکالی دو گلاس ٹرے میں رکھے اور کمرے میں آگئی گلاسوں میں کوک ڈالی اور ایک گلاس نوجوان کے ہاتھ میں تھما کر دوسرا گلاس خود پکڑ لیا یہ نوجوان چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر کوک پی رہا تھا اور جانے کن سوچوں میں گم تھا چند لمحے خاموشی کے بعد نوجوان گویا ہوا تو آپ ہیں پروین جی کیا حال چال ہیں میں ٹھیک ہوں اپنی سنائیے میں بھی ٹھیک ہوں کیسے لگتی ہیں میری تحریریں بہت اچھی لیکن یہ آپ سے اچھی نہیں ہوسکتیں آپ تو بہت ہی خوب صورت ہیں میں ایک اجنبی کے منہ سے اپنی تعریف سن کر چھمب سی گئی آپ اسلام آباد سے کب واپس آئے میں دوپہر میں آیا تھا اور آتے ہی آپ کو فون کیا آپ نے بتایا کہ آپ مصروف ہیں تو میں گھر جاکر سو گیا آٹھ بجے کے قریب اٹھا اور گھر کا کچھ سامان وغیرہ بازار سے خرید کر لایا پھر آپ کی طرف آگیا آپ کیا کرتے ہیں کچھ بھی نہیں بس چھوٹی سی ایک جاب ہے کس قسم کی جاب جی میں ایک سرکاری محکمہ (محکمہ کا نام لے کر) میں (پوسٹ کا نام لے کر) کام کرتا ہوںاور آپ کے خاوند جی وہ امریکا گئے ہوئے ہیں اوہ تھوڑی دیر تک خاموشی رہی پھر میں نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کہ آپ شوز اتار کر بیڈ کے اوپر بیٹھ جائیں تو وہ شوز اتارنے لگا اور میں گلاس لے کر کچن میں چلی گئی واپس آکر اس سے کھانے کا پوچھا تو اس نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر اب چائے مل جائے تو بہتر ہوگا اس کے علاوہ اس نے ٹی وی کا ریموٹ بھی مانگا میں نے اس کو ٹی وی کا ریموٹ دیا اور کہا کہ اگر ڈی وی ڈی پر کوئی فلم دیکھنا چاہیں تو وہ بھی دیکھ سکتے ہیں تو کہنے لگا کہ آپ کے پاس بلیو فلم ہے میں اس کی بات سن کر چند لمحے اس کو دیکھتی رہی پھر انکار میں سر ہلا دیا تو کہنے لگا میری گاڑی میں پڑی ہے آپ لے آئیں گی یا میں اٹھا لاﺅں تو میں نے اس سے کہا کہ میں لے آتی ہوں میں نے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر پڑی دو سی ڈیز اس کو لا کر دیں اور خود چائے بنانے کچن میں چلی گئی واپس آئی تو ٹی وی پر کوئی ہوم میڈ دیسی فلم چل رہی تھی جس میں ایک لڑکی نے لڑکے کو نیچے لٹا کر اس کا لن اپنے اندر لے رکھا تھا اور اچھل کود کررہی تھی میں چائے لے کر اندر آئی تو نوجوان نے مجھ سے کپ لے کر بیڈ کی ٹیک پر رکھ دیا اور جیب سے ایک پلاسٹک کی پڑیا نکالی جس میں سے ماچس کی ایک دیا سلائی پر لگے مسالے جتنی کوئی چیز نکال کر چائے سے پہلے منہ میں ڈال لی(جس کے بارے میں مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ افیون تھی) پھر چائے پینے لگا میں اس کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ گئی تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا اور ساتھ ہی کہنے لگا مجھے کانٹے تو نہیں لگے ہوئے آپ دور ہوکر بیٹھی ہیں میں شرمندہ سی ہوکر اٹھی اور اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گئی ٹی وی پر بدستور فلم چل رہی تھی اب لڑکی ڈوگی سٹائل میں تھی اور لڑکا اس کے پیچھے سے دھکے لگا رہا تھا اور لڑکی کے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ اوی میں مر گئی اہ ام م م م اف بس کرووووو کی آوازیں آرہی تھیں جس سے میرے جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا تھا جبکہ میرے ساتھ بیٹھا شاکر نامی نوجوان میری طرف دیکھ کر ہلکا ہلکا سامسکرا رہا تھا جس سے میں سکڑتی جارہی تھی اس کو آئے ہوئے آدھ گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا لیکن اس نے مجھے ٹچ بھی نہیں کیا تھا میں نے کئی بار کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہا تھا آخر میں نے اس سے پوچھ ہی لیا میری طرف کیا دیکھ رہے ہیں دیکھ رہا ہوں خدا نے کس کمال مہارت سے بنایا ہے آپ کو آپ کے فگر دیکھ کر حیران ہورہا ہوں لگتا نہیں کہ آپ شادی شدہ اور ایک بچی کی ماں ہیں آپ کے شوہر یقینا نہ شکرے ہوں گے جو آپ کو چھوڑ کر چلے گئے میں اس کی بات سن کر مزید چھمب سی گئی اور خاموش ہی رہی چند لمحے بعد وہ پھر کہنے لگا کیسی لگ رہی ہے آپ کو فلم اچھی ہے لگتا ہے پاکستانی ہے ہاں یہ لاہور ہی کی ہے اور کسی گھر میںبنائی گئی ہے لاہور میں بھی ایسے کام ہوتے ہیں جی اس سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں کیا کیا آپ کو کیا کیا بتاﺅں خیر چھوڑیں ان باتوں کو آپ کے شوہر کو کتنا عرصہ ہوگیا ہے امریکا گئے ہوئے جی نو سال کے قریب اس دوران وہ پاکستان نہیں آئے جی آئے تھے ایک سال پہلے صرف دس دن کے لئے آپ ان کو کہتی نہیں کہ اب پاکستان میں آجاﺅ کہتی ہوں لیکن وہ کہاں سنتے ہیں اوہ تو آپ کو ان کی کمی محسوس نہیں ہوتی ہوتی تو ہے لیکن میں کیا کروں آپ کی کسی اور مرد کے ساتھ دوستی ہے جی نہیں (اس بار میں جان بوجھ کر جھوٹ بول گئی لیکن چند روز بعد میں نے شاکر کو بتادیا کہ عامر نامی ایک لڑکے سے میری دوستی ہے لیکن اب میں اس سے نہیں ملوں گی) آپ کو سیکسی کہانیوں کی ویب سائٹ کے بارے میں کیسے معلوم ہوا جی ایک روز ایسے ہی بیٹھے بیٹھے سرچنگ کے دوران سائٹ کھل گئی کب سے اردو کہانیاں پڑھ رہی ہیں یہی کوئی چھ سات مہینے ہوئے ہوں گے میری کتنی کہانیاں پڑھی ہیں آپ نے جتنی بھی تھیں پڑھ لیں بہت اچھا لکھتے ہیں میں اور بھی بہت کچھ اچھا کرتا ہوں میں اس کی بات سن کر خاموش سی ہوگئی تو کہنے لگا پوچھو گی نہیں کیا میں نے کہا کیا تو مجھے پکڑ کر پاس کیا اور میرے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کردی میرے اندر آگ بھڑک اٹھی اس نے فوراً ہی مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا میری طرف دیکھو میں نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں جیسے ان میں آگ جل رہی ہو براﺅن آنکھوں میں لال ڈورے تھے جو آدھ کھلی تھیں اس نے پھر مجھے پکڑ کر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے تو میں نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا اس نے گردن کے پیچھے ایک بازو سے مجھے سہارا دیئے رکھا اور خود میرے ہونٹوں کو چوستا رہا میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں تھوڑی دیر کے بعد اس نے مجھے بیڈ پر لٹا لیا میری ٹانگیں بیڈ کے نیچے ہی رہیں اس نے پھر میرے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا پھر میرے گالوں پر ہلکی ہلکی سی کسنگ کی اس کے ہونٹوں میں غضب کی گرمی تھی اس نے میری آنکھوں پر بھی بوسہ لیا پھر گردن پر آگیا اور اس کے بعد اس نے میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیری اس کے بعد میری قمیص اوپر کرکے مموں کو دبانے لگا میرے ممے ٹائٹ ہورہے تھے اس کے بعد اس نے اپنی زبان سے میرے نپلز کو ٹچ کرنا شروع کیا جو پہلے ہی کھڑے ہوئے تھے اس کے ٹچ کرنے سے ان میں مزید سختی آگئی میری شلوار بھی گیلی ہونے لگی تھی تھوڑی دیر کے بعد وہ مجھ سے علیحدہ ہوگیا اور مجھے کھڑا کر کے اس نے پہلے میری قمیص اتاری پھر برا اور پھر شلوار بھی اتار دی اس کے بعد خود کھڑا ہوکر اپنے کپڑے اتارنے لگا اس نے جیسے ہی اپنا انڈر ویئر اتارا اس کا لن دیکھ کر میری سیٹی گم ہوگئی اف اتنا لمبا اور موٹا کم از کم آٹھ انچ کا ہوگا میں نے اپنی انگلی اپنے دانتوں میں لے لی تو پوچھنے لگا کیا ہوا تو میں نے اپنا بازو آنکھوں کے اوپر کرلیا اور کچھ نہ بولی تو اس نے میرا بازو آنکھوں سے ہٹا کر کہنے لگا کیا ہوا تو میں نے ہاتھ سے اس کے لن کی طرف اشارا کیا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا کیا ہوا میں کچھ نہ بولی تو وہ بیڈ پر میرے ساتھ آکر سیدھا لیٹ گیا اس نے مجھے سائیڈ کی طرف اپنی طرف منہ کرکے لٹا لیا میرا سر اس کے کندھے پر آگیا میں اس کی چھاتی کے بالوں سے کھیلنے لگی اتنے بال تو آصف کی چھاتی پر بھی نہ تھے اس کے ہاتھ میری کمر پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے دس پندرہ منٹ ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد مجھ سے کہنے لگا ایسے ہی لیٹے رہنے کا پروگرام ہے یا کچھ کرو گی بھی میں نے اس کی بات سن کر کہا کہ آپ ہی کچھ کریں میں بعد میں کروں گی تو میرا سر اپنے کندھے سے اتار کر خود بیٹھ گیا اس نے اپنا سر میرے منہ پر جھکایا اور پھر سے مجھے کسنگ کرنے لگا پھر میری ناف تک میرے جسم کے اوپر والے حصہ پر اس نے ہر جگہ اپنی زبان پھیری اس کے بعد ایک ٹانگ پکڑ کر سیدھی کی اور ران پر اپنی زبان پھیرنے لگا اف ف ف ف ف ف ف میرے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل گئی میں ہواﺅں میں اڑنے لگی تھی اس کے بعد اس نے دوسری ٹانگ پر بھی اسی طرح کیا پھر دونوں ٹانگوں کے درمیان میں دوزانو ہوکر بیٹھ گیا اور اپنے لن کی ٹوپی میری پھدی پر رگڑنے لگا میری پھدی جو پہلے ہی پانی چھوڑ رہی تھی مزید گیلی ہوگئی میں نے اس سے کہا اب بس کرو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تو اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں ایک ہاتھ سے اپنا لن سیدھا کیا اور میری پھدی کے سوراخ پر فٹ کرنے اور مجھے بازوﺅں سے پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیا آہ میرے منہ سے تکلیف اور مزے کی ملی جلی سی ایک زور دار آواز نکلی اس کے اگلے ہی لمحے اس کا لن باہر نکل آیا اور یکا یک پہلے سے زیادہ زور دار ایک اور جھٹکا آگیا اس کا لن میرے اندر کسی چیز سے ٹکرا گیا میں چیخ اٹھی تو اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور کچھ دیر ساکت رہا چند لمحے بعد اس نے ہونٹوں سے ہونٹ علیحدہ کئے اور پھر لن کو باہر نکال کر جھٹکا دیا مجھے پہلے سے بھی زیادہ تکلیف ہوئی اور اس کا لن گولی کی طرح میرے اندر لگا اس کا لن موٹا ہونے کی وجہ سے میری پھدی کے ساتھ بری طرح رگڑ کھا رہا تھا جس کے باعث مجھے سخت جلن ہورہی تھی لیکن میں جانتی تھی کہ یہ تکلیف چند لمحے کی ہے اس کے بعد مزے ہی مزے ہوں گے اس کے بعد وہ رکا نہیں بلکہ اس کے جھٹکوں میں تیزی اور میرے منہ سے نکلنے والی آوازوں میں بھی تکلیف کے عنصر کی جگہ مزا شامل ہوتا گیا میری آوازوں کے ساتھ اس کے جھٹکوں میں مزید تیزی آجاتی وہ ایک بار اپنا لن ٹوپے تک باہر نکالتا اورپھر پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اس کو اندر دھکیل دیتا ایسے ہی دس منٹ گزرے ہوں گے کہ میری ناف کی جگہ سخت ہونے لگی اور ساتھ ہی میں نے اپنی ٹانگیں اس کے کندھوں سے اتار کر اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں چند لمحے بعد میرے جسم نے ایک جھٹکا لیا اور پھر میں ڈھیلی ہوگئی میرا جسم ٹھنڈا پڑگیا لیکن اس کے جھٹکوں میں ذرا سی بھی کمی نہیں آئی تھی میری طرف سے رسپانس بھی نہ رہ گیا تھا جس پر وہ رک گیا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا میڈم جی بس ابھی تو آپ کو بہت لمبا سفر طے کرنا ہے میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اس سے کہا چند منٹ صبر تو وہ میرے اوپر ہی لیٹ گیا اس کے لن میں ابھی بھی وہی گرمی تھی وہ ابھی بھی لوہے کی گرم سلاخ جیسا تھا پانچ منٹ بعد میں پھر تیار ہونے لگی اور اپنی ٹانگوں کو اس کے گرد سخت کرنے لگی تو وہ پھر اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنے لن کو ایک بار پھر باہر نکالا اور بیڈ شیٹ کے ساتھ صاف کیا میں نے بھی اپنی پھدی کو بیڈ شیٹ سے ہی صاف کیا اور اس نے فوراً اپنے لن کو میری پھدی کے دھانے پر فٹ کر کے پھر سے جھٹکے دینا شروع کردیئے میں سمجھ رہی تھی کہ ابھی چند منٹ میں وہ چھوٹ جائے گا مگر یہ میری غلط فہمی تھی میں دو بار مزید چھوٹی مگر اس کے مکمل ہونے کے دور دور تک کوئی امکانات نہیں تھے میں نے اس کو کہا کہ اب پوزیشن چینج کرتے ہیں تو میرے اندر سے نکل گیا اب اس نے مجھے بیڈ کے نیچے گھوڑی کی طرح کھڑا کیا اور میرے دونوں ہاتھ بیڈ کے اوپر رکھ کر پیچھے سے میری پھدی کے اندر لن ڈال دیا اب میرے ممے اس کے ہاتھ میں تھے اور جیسے ہی وہ جھٹکا دے کر اپنا پورا لن اندر کرتا اس کے ساتھ ہی میرے مموں پر اس کی پکڑ سخت ہوجاتی اور لن باہر نکلنے پر وہ مموں کو ڈھیلا چھوڑ دیتا اس کا جھٹکا اتنا زبردست ہوتا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر میرے کلیجے کے ساتھ ٹکراتا اور میں آگے گرنے لگتی لیکن اس نے مجھے پکڑ رکھا ہوتا تھا جس کی وجہ سے میں نہ گرتی کبھی کبھی وہ میرے مموں کو چھوڑ کر چند لمحوں کے لئے اپنے جھٹکے نرم کرتا اورساتھ ہی ایک ہاتھ سے میرے ایک چوتڑپر ایک تھپڑ رسید کرتا جس کے ساتھ ایک سیکسی آواز پیدا ہوتی اور میری تڑپ جو کم ہورہی ہوتی تھی وہ مزید پھر سے بڑھ جاتی پھر دوسرے ہاتھ سے دوسرے چوتڑ کو تھپڑ مارتا اور پھر میرے مموں کو پکڑ کر جھٹکے تیز کردیتا اس دوران کم از کم میں پانچ بار فارغ ہوگئی جبکہ پہلے والے سٹائل میں بھی میں تین بار چھوٹ چکی تھی اب مجھ میں مزید جھٹکے برداشت کرنے کی ہمت نہ رہی تھی لیکن میں پھر بھی اس کا ساتھ دیتی رہی اور شاباش ہے اس نوجوان پر وہ ایک گرتی پڑتی عورت کو اپنے ساتھ لئے چل رہاتھا پھر اس نے اچانک اپنا پورا لن باہر نکال لیا میں سمجھی شائد وہ فارغ ہونے والا ہے میں نے اس کو کہا کہ اندر ہی چھوٹ جاﺅ تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا میڈم ابھی کہاں میں تو پوزیشن چینج کرنے لگا ہوں ابھی تک میں ہی مشقت کررہا ہوں اب تھوڑی سی محنت آپ بھی کرلیں اس کے بعد وہ بیڈ کے اوپر لیٹ گیا اور مجھے اپنے اوپر آنے کو کہا میں جو پہلے ہی تھک کر چور ہوچکی تھی اس کے کہنے پر اس کے اوپر چڑھ گئی میں نے اپنی ٹانگیں اس کے کے ادھر ادھر رکھیں اور اس کا لن اپنے اندر لیا جیسے ہی میں اس کے اوپر اس کا لن پورا کا پورا میرے اندر چلا گیا میں نے دو تین بار اس کو اندر باہر کیا تو نڈھال ہوکر اس کے اوپر گر گئی تو ہنستے ہوئے کہنے لگا کیا ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ اب مجھ میں ہمت نہیں ہے اس نے مجھے کہا ٹھیک ہے آپ اتر جائیں تھوڑی دیر کے بعد کرلیں گے میں اس کے اوپر سے نیچے اتری اور اس کے کندھے کے اوپر سر رکھ کر اس کے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے نیند آگئی پھر اس وقت میری آنکھ کھلی جب اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر جھنجھوٹا اور کہنے لگا میڈم اگر سونا ہی ہے تو مجھے کیوں بلایا تھا میں نے اس کے لن کو دیکھا وہ ابھی تک کسی شیش ناگ کی طرح پھنکار رہا تھا میں نے اس کو پکڑ تو وہ پتھر کی طرح سخت اور لوہے کی طرح گرم تھا اچانک شاکر کہنے لگا میڈم آپ کا پیچھے کے راستے سے کیا خیال ہے میں نے اس کی بات سنی تو انکار کردیا (اس سے پہلے میں نے پیچھے کے راستے کبھی نہیں کیا تھا) اس نے اصرار کیا تو میں مان گئی اس نے مجھے تیل یا کوئی لوشن لانے کو کہا میں باتھ روم میں گئی اور تیل کی شیشی اٹھا لائی اور اس کو تھما دی اس نے ایک بار پھر مجھے بیڈ کے ساتھ گھوڑی سٹائل میں کھڑا کیا او رمیرے ہاتھ بیڈ کے اوپر لگا دیئے اس نے تیل کی شیشی کھولی اور میرے گانڈ پر کافی سارا تیل ملا پھر اپنے لن کے ٹوپے پر بھی تیل لگایا اور پھر ایک انگلی میری گانڈ میں ڈال ڈی مجھے تکلیف ہوئی اور میں جھٹکے کے ساتھ سیدھی ہوگئی اس کی انگلی میری گانڈ سے باہر نکل آئی تو کہنے لگا میڈم اس میں بہت تکلیف ہوگی لیکن پھر مزہ بھی بہت آئے گا اگر آپ تکلیف برداشت کرلو گی تو میں کرتا ہوں ورنہ نہیں کرتا میں چپ چاپ پھر اسی سٹائل میں ہوگئی اس نے اپنے لن کا ٹوپا میری گانڈ کے اوپر رکھا اور ایک ہاتھ سے میرا منہ پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ میرے پیٹ کے گرد کس لیا اور ایک زور دار جھٹکا دیا جس سے مجھے ایسے لگا جیسے میری گانڈ کسی نے چیر دی ہو میرے منہ سے چیخ بھی نکلی لیکن اس کا ہاتھ میرے منہ پر تھا جس کے باعث آواز نہ نکل سکی میں نے اس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے ایک اور جھٹکا دیا اس کا لن مزید تھوڑا سا اندر چلا گیا میں تکلیف کے باعث مرنے والی ہوگئی میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آگیا اس نے اگر مجھے پکڑا نہ ہوتا تو میں منہ کے بل گر جاتی اتنا مجھے اندازہ تھا کہ ابھی اس کا پورا لن میرے اندر نہیں گیا تھا ابھی پہلے جھٹکے سے نہیں سنبھلی تھی کہ اس نے لگا تار بلا کسی وقفے کے دو تین اور جھٹکے دیئے اور پھر پیچھے سے ہی میرے ساتھ چمٹ گیا میرا پورا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا اور مجھے اپنی گانڈ میں بری طرح تکلیف محسوس ہورہی تھی میری آنکھوں کے سامنے بدستور اندھیرا تھا کہ میرے کانوں میں اس کی آواز آئی میڈم مبارک ہو پورا لن تمہارے اندر چلا گیا میں نے بولنے کی کوشش کی لیکن حلق سے آواز ہی نہ نکلی جیسے اس کا لن میری گانڈ میں نہیں میرے حلق میں چلا گیا ہو میں اس سے کہنا چاہتی تھی کہ مجھے ایسی مبارک باد نہیں چاہئے تم اس کو باہر نکالو ابھی میں اپنے حواس بحال نہیں کرپائی تھی کہ اس نے پیچھے سے اپنی پکڑ نرم کی اور پھر سے جھٹکے دینے لگا اس کا ایک ہاتھ جو میرے منہ کے اوپر تھا وہ بھی میرے پیٹ کے گرد چلا گیا میں اونچی آواز میں چیخنے لگی شاکر پلیز بس کرو میں مر جاﺅں گی ہائے ئے ئے ئے ہائے امی جی مجھے بچالو میں مرجاﺅں گی شاکر بس کرو تو وہ جھٹکے دیتے ہوئے کہنے لگا بس میری جان اب تھوڑا سااور اس کے ساتھ ہی اس کے جھٹکوں میں مزید تیزی آنے لگی پھر اچانک وہ رک گیا اور مجھ سے کہنے لگا میڈم کیا خیال ہے فارغ ہوجائیں کہ ابھی مزید کچھ کرنا ہے میں تکلیف کے مارے کراہ رہی تھی اس کو کراہتے ہوئے کہا شاکر اب بس کرو میں مر جاﺅں گی پھر اس نے چار پانچ آہستہ آہستہ جھٹکے دیئے اور پھر مضبوطی سے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا مجھے اپنے اندر کوئی گرم لاوا جاتے ہوئے محسوس ہوا چند لمحے بعد اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ سے علیحدہ کیئے اور میں دھڑم سے بیڈ کے اوپر گر گئی مجھے نہیں معلوم کیا ہورہا ہے صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ میرے گالوں کو تھپتھپا رہا ہے اور کچھ کہہ رہا ہے کیا کہہ رہا ہے کوئی پتا نہیں پھر اس نے میری ٹانگیں اوپر کیں اور خود بھی میرے ساتھ آکر لیٹ گیا بیس پچیس منٹ ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد میرے حواس کسی حد تک بحال ہوئے تو میں نے دیکھا کہ رات کے تین بج رہے ہیں میری پھدی اور گانڈ دونوں مقامات پر درد ہورہی تھی گانڈ میں درد ناقابل برداشت حد تک زیادہ تھی میں نے دیکھا وہ بھی میرے ساتھ ہی ننگا لیٹا ہوا ہے اور سامنے ٹی وی پر وہی بلیو فلم چل رہی ہے مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی اور اس نے مجھے لیٹے لیٹے گلے سے لگا لیا میں نے محسوس کیا کہ اس کا لن پھر سے شہوت پکڑ رہا ہے میں فوری طورپر اس سے علیحدہ ہوگئی تو اس نے کہا کیا ہوا میڈم میں کچھ نہ بولی تو مجھے پھر سے کسنگ کرنے لگا اس نے مجھے کہا کیا خیال ہے میڈم ایک بار پھر ہوجائے تو میں نے کہا شاکر تم اتنے بے رحم ہو کیا مجھے مارڈالنا چاہتے ہوتو مسکراتے ہوئے کہنے لگا نہیں تو پھر کبھی سہی آج چھوڑ دیتے ہیں اب مجھے چائے کی طلب ہورہی تھی میں نے سوچا کہ اٹھ کر جاﺅں تو مجھ سے اٹھا نہ گیا اس نے مجھے سہارا دے کراٹھایا اور کہنے لگا کیا کرنا ہے تو میں نے اس کو کہا کہ باتھ روم اور کچن میں جانا چاہتی ہوں تو اس نے مجھے کھڑا کر دیا ابھی دو قدم بھی نہ چلی تھی کہ میری آنکھوں کے گرد پھر سے اندھیرا آگیا ایک زبردست چکر آیا اور میں گرنے لگی کہ شاکر نے مجھے سنبھالا دیا اور پکڑ کر باتھ روم لے گیا جہاں میں نے اپنی پھدی اور گانڈ کو دھویا تو گانڈ سے لہو نکل رہا تھا جبکہ پھدی بھی سوجی ہوئی تھی میں نے سر اٹھا کر شاکر کی طرف دیکھا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگا پہلی بار تھا اس لئے تھوڑا سا خون نکل آیا پریشانی کی کوئی بات نہیں خیر اس نے مجھے پھر پکڑ کر بیڈ تک پہنچایا اور پھر ننگاہی کچن میں چلا گیا اور دو کپ چائے لے آیا اس نے مجھے سہارا دے کر اٹھا یا اور تکیے کی ٹیک دے کر بٹھا دیا ہم دونوں نے چائے پی اور پھر باتیں کرنے لگے اب بھی مجھے اسی شدت کے ساتھ گانڈ میں درد ہورہا تھا جیسا کہ اس وقت جب شاکر کا لن میری گانڈ کے اندر تھا اس کے علاوہ پھدی کے اندر بھی جلن محسوس ہورہی تھی پھر شاکر بیڈ کے اوپر سیدھا لیٹ گیا اور میں سائیڈ لے کر اس کے ساتھ کندھے پر سر رکھ کرلیٹ گئی اور اس کے سینے کے بالوں کو انگلیوں کے ساتھ کنگھی کرنے لگی میں نوٹ کررہی تھی کہ اس کا لن پھر کھڑا ہوگیا لیکن اب ہم نے کچھ نہ کیا صبح کے پانچ بجے تو شاکر نے اٹھ کر کپڑے پہنے اور مجھ سے اجازت لے کر گاڑی لے کر چلا گیا میں نے بھی کپڑے پہنے اور سو گئی صبح کس وقت ہوئی مجھے نہیں معلوم میری بیٹی کو ملازمہ نے تیار کرکے سکول بھیج دیا میں اٹھی تو دوپہر کے د و بج رہے تھے میرا پورا جسم ٹوٹ رہا تھا درد اب بھی اسی شدت کے ساتھ تھا مجھے بخار بھی ہوگیا تھا میں نے دیکھا بیڈ شیٹ پر منی اور خون کے دھبے تھے میں گرتی پڑتی اٹھی اور بیڈ شیٹ چینج کرکے پھر لیٹ گئی ملازمہ نے کمرے میں ہی مجھے چائے لا کر دی میں نے ایک پین کلر لی لیکن بخار ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا شام کو میں نے شاکر کو فون کیا جو آیا اور مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گیا دوائی سے میرا بخار تو ختم ہوگیا لیکن تین روز تک میری گانڈ میں درد ہوتی رہی یہ درد اتنی شدید تھی کہ مجھ سے صحیح طریقہ سے بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا مجھے تین روز تک پاخانہ کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا رہا تاہم تین دن کے بعد میں بالکل ٹھیک ہوگئی اسی روز میں نے شاکر کو پھر فون کیا اور گھر آنے کا کہا لیکن اس نے بتایا کہ اسے کوئی کام ہے اس لئے وہ نہیں آسکے گا تاہم اگلے روز وہ پھر میرے گھر آیا اور ہم نے ایک بار پھر مزہ کیا لیکن میں نے اس روز سے گانڈ مروانے سے توبہ کرلی ہے دوسری بار سیکس کے دوران بھی شاکر نے گانڈ مارنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن میں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے جس پر وہ ہنسنے لگا اور اس نے پھر مجھے اس کام کے لئے نہیں کہا پہلی بار سیکس کے دوران شاکر کی ٹائمنگ ایک گھنٹہ سے زیادہ تھی لیکن دوسری بار اس کی ٹائمنگ کم ہوکر بیس سے پچیس منٹ تک رہ گئی اس حوالے سے شاکر نے بتایا کہ پہلی بار کی ٹائمنگ کی وجہ افیون کا استعمال تھا لیکن میں ہر بار سیکس کے لئے افیون استعمال نہیں کرتا ابھی تک میں شاکر کے ساتھ تین بار سیکس کرچکی ہوںاور میری خواہش ہے کہ شاکر کے ساتھ میرا تعلق لانگ ٹرم کے لئے ہو
  3. کیا حال ہیں دوستو یہ سٹوری میرے اور مری ایک دوست صائمہ کے بارے میں ہے .صائمہ ٢٠ سال کی جواں لڑکی ہے اور وہ میری بہت اچھی دوست بھی ہے.میری اس سی دوستی رانگ کال کی وجہ سے ہوئی تھی ہوا کچھ یوں کے رات کو میں فیس بک پی چیٹ کر رہا تھا اور رات ١١.٣٠ کا ٹائم تھا مجے انجان نمبر سے کال موصول ہوئی میں نی کال اٹینڈ کی اگے سی ایک بہت ہی پیاری آواز میں لڑکی بولی .میں نے پوچھا کے اپ کون ہو .وہ بولی کہ میرا نام صائمہ ہے اور ساہیوال کی رہنے والی ہوں .میں بہت حیران ہوا کیوں میرا بھی ووہی سٹی ہے.میں بولا کہ اپ کو میرا نمبر کہاں سی ملا .وو کہنے لگی کہ میں نی اپنے پاسس سی ہی ڈائل کر دیا اور اپ کی ساتھ بات ہو گئی.وہ کہنے لگی کہ میں اپ کے ساتھ دوستی کرنا چاہتی ہوں.میں نے کہا کہ اگر تم اپنے بارے میں سچ بتاؤ گی تو دوستی ہو سکتی ہے ورنہ نہیں اسنے کہا کہ میں سب تم کو سچ بتا رہی ہوں. اور اسنے مجھے اپنے گھر کا اڈریس بھی پہلی ہی کال پی بتا دیا میں بہت حیران ہوا .میں نے اس سے دوبارہ کہا کہ سچ بتاؤ کہ میرا نمبر کہاں سے ملا اسنے بتایا کہ وہ میرے ساتھ والی گلی میں رہتی ہے اور اسنے میرا نمبر میری کزن سے لیا ہے .پھر اسنے بتایا ہے کہ وہ میری کزن کی بہت اچھی دوست ہے.میں نی اسے کہا کہ ہماری دوستی ہو سکتی ہے اگر تم میری کزن کو ہمارے بارے میں نہ بتاؤ تو وہ فورن مان گئی پھر اسنے بتایا کہ میں تمہارا نمبر اسکے موبائل سی چوری لیا ہے .تو میں یہ سن کر خوش ہو گیا .باتوں باتوں میں پتہ نہیں چلا ک تیمر کیا ہو گیا ہے جب ٹائم دیکھا تو ١:٣٥ ہو چکے تہے پھر میں نی کہا کہ اب سوتے ہیں کل بات ہو گی.اسنے کہا ٹھیک ہے مجھے جلدی اٹھنا ہے کالج کی لئے.پھر ہم نے ایک دوسرے کو باے بولا اور کال بند کر دی اگلے دن میں 8:30 پر آٹھ گیا اور شاپ پر چلا گیا سوری میں آپکو بتانا بھول گیا مری لیڈیز گارمنٹس کی شاپ ہے .شاپ اوپن کی اور کام والے لڑکے بھی آگے اور انہوں نی صفائی وغیرہ کی اور گاہک آنا شروع ہو گے.پھر میرے موبائل پر کال آی دیکھا تو صائمہ کی کال تھی اور سلام کے بعد اسنے بتایا کہ وہ کالج میں ہے اور اس ٹائم فری تھی تو بات کرنے کی لئے کال کردی.میں نی کہا ک جناب اب ہم دوست ہیں اپ جب مرضی کال کرو وو بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی اگر آپکو برا نہ لگے تو کیا میں آج آپکی شاپ پر آسکتی ہوں میں برا حیران ہوا اور پوچھا کہ تمکو مری شاپ کا کسنے بتایا ہے تو اسنے بتایا کہ آپکی کزن اکثر آپکے بارے میں بات کرتی رہتی ہے اور اسی سے آپکی شاپ کی بارے میں پتا چلا .آپکی شاپ میرے کالج کی راستے میں ہے اور میں 2 گھنٹے تک آپکی شاپ پی آرہی ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے آجانا .اور پھر کال بند ہوگیی اور میری عجیب سی حالت ہو رہی تھی انتظار کی وجہ سی اور میں صائمہ کو دیکھنا چاہتا تھا اور بری مشکل سے 2 گھنٹے گزرے اور پورے ٹائم پر صائمہ اپنی ایک دوست کی ساتھ شاپ میں انٹر ہوئی.لیکن دونو میں سی مجے پتا نی تھا کہ صائمہ کونسی ہے تو اسی ٹائم صائمہ میرے سامنے کھڑی ہو گئی.اور اسنے مجے سلام کیا اور بتایا کہ صائمہ میں ہوں اور یہ مری دوست ہے اور اسکی دوست دوسرے کونٹر پر جا کر گارمنٹس دیکھنے لگ گئی اور صائمہ کو میں نے پوچھا کہ کیا لیں گی اپ ٹھنڈا یا گرم اور اندر سی مجے لڑکوں کی وجہ سی تھوڑا دار بھی لگ رہا تھا صائمہ نی کہا ٹھنڈا اور گرم آپکی طرف ادھار رہا پھر کبھی سہی میں صرف آپکو دیکھنے ک لئے یی تھی.اور بہت آہستہ بول رہی تھی میں نے کہا ک اپ نی تو مجے دیکھ لیا اور میں آپکو کب دیکھ سکتا ہوں اسنے کہا ک شام کو اپ میری گلی میں آجانا اور دیکھ لینا.اتنی دیر میں صائمہ کی دوست نے 3 4 گارمنٹس کی چیزیں نکلوا لیں اور پیک بھی کروا چکی تھی لڑکوں سی اور اس وقت پیسے لینا مری مجبوری تھی کیوں لڑکے دیکھ رہے تہے .اور پھر سلام ک بعد وہ چلی گئی اور راستے میں ہی مجھے میسج کیا رضا اپ بہت پیارے ہو میں نی تھنکس بولا اور بتایا کہ میں شام کو 5 بجے آپکی گلی میں آؤں گا . شام کو 5 بجے میں صائمہ کی گلی کی طرف نکل گیا اپنا بائیک لے کر.اور صائمہ کو بھی میسج کر دیا اور اسنے بتایا کہ وہ اپنی چھت پر ہو گی اور وہاں سی ہی دیکھ لے گی.میں 15 منٹ بعد اسکی گلی میں آگیا اور اسنے کال کر کہ اپنا گھر بتایا کہ کونسا ہے اور میں بھی اسی گھر کی پاسس تھا اور چھت بلکل صاف نظر آرہی تھی اور صائمہ بھی چھت پر ہی تھی اور اسنے دوپٹہ لیا ہوا تھا اور ناکاب نہیں کیا تھا اور میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا بہت پیاری لگ رہی تھی وہ اور ڈوپٹے میں اسکی چھاتیاں بھی واضح نظر آرہی تھیں اور اسکی چھائیاں کافی بری لگ رہی تھیں اور اسنے پھر اپر سی ہاتھ ہلایا اور میں نے بھی جواب دیا اور نیچے سے کسی نہ کسی کہ دیکھنے کا بھی دار تھا تو میں وہاں سی جلدی نکلنے کا سوچا .اور پھر میں نے صائمہ کو میسج کیا کہ تم بہت پیاری ہو اور مجھے آپسے پیّار ہوگیا ہے اسکا جواب آیا کہ پیار تو مجھے آپسے ہو گیا ہے .تھوڑی دیر بعد اسکا میسج آیا کہ ابّو آگے ہیں میں تھوڑی دیر تک بات کرتی ہوں پھر ہماری رات کو تھوڑی دیر میسج پر بات ہوئی اور پھر وہ اپنے گھر کی کام میں مصروف ھو گئی.اور رات کو 11:20 پر میسج آیا کہ اپ سونا نہیں ہم رات کو کال پر بات کریں گی .میں نے کہا ٹھیک ہے اور فیس بک پی چیٹ کرنے لگ گیا .اور پھر 1 بجے اسکی کال آگئی میں نے کال اٹینڈ کی اور وہ بہت سلوو آواز میں بول رہی تھی . صائمہ :کیا ہو رہا ہے میں :کچھ نہیں کمپیوٹر پی ہوں صائمہ :مجھے اپ نی مس نہیں کیا میں:بہت مس کیا آپکو میں نے صائمہ:اگر مجھے مس کیا تو میسج کر دینا تھا میں: میں نے سوچا کہ اپ کو گھر میں کوئی مسلہ نہ بنے صائمہ: ہاں کال کا مسلہ ہو سکتا ہے لیکن میسج اپ جب مرضی کرو میں :کیوں نہیں آپکو اب ہر تم مس کروں گا اور ہر ٹائم میسیجز کروں گا صائمہ:کوئی بات نہیں جتنے مرضی کرو. میں :صائمہ اپ مجے بہت اچھی لگی ہو یار مجھے تمسے پیار ہو گیا ہے صائمہ :سچی مجھے اپ بہت اچھے لگے ہو میں: تو میرے پیار کی پہلی کس کب دی رہی ہو صائمہ:تھوڑی چپ رہنے ک بعد جب اپ کہو. میں :تو پھر کل ہے ملتے ہیں صائمہ :مجھے بہت ڈر لگتا ہے میں: یار میں بھی تو آپکے ساتھ ہوں گا نہ. صائمہ:لیکن مجھے پھر بھی ڈر ہے میں:یار اپ مج پر اعتبار کر سکتی ہو صائمہ:ایسی بات نہیں ہے میں:اپ ملنے کا بتاؤ بس مجھے صائمہ :ٹھیک ہے لیکن ہم ملیں گی کدھر میں:میرے دوست کا گھر ہے وہاں دن کو کوئی بھی نہیں ہوتا صائمہ:میں پہلی دفع کسی لڑکے سی مل رہی ہوں تو پلیز کوئی ٹینشن نہیں ہونی چاہے میں :اپ کوئی پرشانی نہ لو میں ہوں نہ. صائمہ:اب سب کچھ اپ پی ہے میں:ٹھیک ہے اور پھر ہم نے کال پر ایک دوسرے کو کس کی اور بائے کہا اور کل ملنے کا پکا کیا اور سو گے. اگلے دن مجھے بہت بیچینی لگی ہوئی تھی کہ جلدی سی ٹائم ہو اور میں صائمہ سے ملوں.میں شاپ پی چلا گیا اور ؤسننے کہا آج کالج صرف 2 گھنٹے ک لئے جانا ہے اپ مجھے کالج ک پاسس سی پک کر لینا میں فری ہو کر میسج کر دوں گی.میں بہت بہت خوش تھا کہ اتنی جلدی لڑکی پھنس گی اور اور ذھن میں یہ تھا کہ وہ کنواری ہے یا سب کر چکی ہے .خیر ٹائم گزرتا گیا بری مشکل سے اور پھر اسکا میسج آیا کہ رضا آجاؤ کالج کہ کارنر پی.میں جلدی سی بائیک لے کر گیا اور دوست کو میں نی صبح ہی بتا دیا تھا اور جب صائمہ کو لینے جا رہا تھا تب بھی کال کر دی کہ میں آرہا ہوں.میں کالج ک کارنر پی گیا اور صائمہ وہاں کھڑی ہوئی تھی اور میں پاسس جا کر رک گیا اور وو میرے پیچھے آ کر جلدی سی بیٹھ گی اور کہا ک جلدی سی چلو یہاں سے.اور میں سپیڈ سی وہاں سی نکل گیا.صائمہ میرے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی اور اسکے سوفٹ بریسٹس مری کمر ک ساتھ لگ رہے تہے اور میں ہاٹ ہو رہا ہے تھا اسکے نپل ایک دم ٹائٹ ہو چکے تہے.راستے میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی اور 10 منٹ میں ہم دوست کی گھر چلے گیے. میں نے بیل دی تو دوست نی دروازہ کھولا اور ہمکو اندر انے کو بولا .ہم اندر چلے گیے اور دوست نے کہا کہ میں تھوڑا کام جا رہا ہوں جب جانا ہو مجے کال کر دینا اور اپنے بائیک کی چابی دی دو اور وو میرا بائیک لے کر چلا گیا اور میں دروازہ بند کر کے آگیا .صائمہ تھوڑی پریشان لگ رہی تھی میں حوصلہ دیا کہ ڈر کیوں رہی ہو جبکہ میں ساتھ ہوں.خیر میں اٹھا وہاں سی اور کچن کی طرف چلا گیا مجے دوست کی سارے گھر کا پتا تھا کیوں میں پہلے بھی اتا جاتا رہتا ہوں دوست کے گھر.فریج سے میں نے کوک کی بوتل لی اور 2 گلاس میں ڈال کر کمرے میں چلا گیا.ایک گلاس صائمہ کو دیا اور دوسرا خود لیا.میں نی صائمہ کو کہا کہ صائمہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو وو شرما گئی میں تھوڑا اسکے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور پھر اسکے ہاتھ کو پکڑ کر چومنا شرو کر دیا . پھر صائمہ کو کہا ک میری جان تمہارے ہاتھ بہت سوفٹ ہیں اسکی سانسیں تھوڑا تیز ہو رہی تھیں میں سمجھ گیا کہ وو بھی گرم ہو رہی ہے پھر میں اسکے لیپس پی اپنی ایک انگلی رکھی تو اسنے اپنے ہونٹ کھول دئے اور میری انگلی کو چوسنے لگ گئی جس انداز سی وہ مری انگلی چوس رہی تھی میں حیران ہو گیا وہ کسی ماہر سککنگ کرنے والی کی طرح کر رہی تھی.میں نی پھر انگلی اسکے منہ سے نکال کر اور اسکے بالوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کر لیا اور اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھ دئے اور وہ اسنے اسی ٹائم میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے .پھر اسنے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میں نے بھی پورا ساتھ دیا اور اسکی زبان چوسنے لگ گیا اور وہ بہت گرم ہو چکی تھی کس کرتے کرتے میں اپنا ایک ہاتھ اسکے ممے پی رکھ دیا پہلے تو اسنے ہٹانے کی کوشش کی لیکن کس کی نشے میں وہ زیادہ دیر نہ روک پائی مجھے اور میں نی اسکے ممے کو دبانا شروع کر دیا اسکے ممے کافی بارے تہے اور جسم بھرا ہوا تھا اور بہت نرم تھا اسکا جسم.میرا لوں پورا ٹائٹ ہو چکا تھا اور اسکی ٹانگوں میں تھا میرا لوں بلکل اسکی پھدی کی پاس. پھر جب میں دیکھا کہ وہ کافی گرم ہو گئی ہے تو میں نی اسے بیڈ پی لیٹنے کو کہا اور وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور میں بھی اسکے اوپر لیٹ گیا اسکے نپل کافی سخت ہو چکے تہے.میں اسکےساتھ کس کرنی شروع کی دوبارہ اور اسنے پورا ساتھ دیا اور پھر میں نے سلوو سلوو اپنا ہاتھ اسکی کمیض میں ڈالنے لگا اور اسنے مجھے نہیں روکا اور وو فلل گرم ہو چکی تھی.میں نی اسکی کمیض اوپر کردی اسنے مجھے نہیں روکا اور میں دیکھ کر حیران رہ گیا اتنا سفید اور بے داغ جسم میرا لن تو اور بھی سخت ہو گیا اور اس ٹائم میرا لن بلکل اسکی پھدی کی ساتھ ٹچ ہو رہا تھا.میں نے اسکا برا اوپر کرنا چاہا تو وہ اوپر نہیں ہو رہا تھا صائمہ خود تھوڑی سی اوپر ہوئی اور پیچھے سی اسنے برا کی ہک کھول دی وہ اتر اس لئے نہیں رہا تھا کیوں کہ اسنے اپنے مموں کی حساب سی چھوٹا برا پہنا ہوا تھا.میں تو اسکے ممے دیکھ کر جسی بت ہی بن گیا تھا تھوڑی دیر دیکھنے ک بعدد میں ان پی تو پر اور نپل منہ میں لے کر چوسنے لگ گیا اور صائمہ کی آوازیں انی شروع ہو گئی اور وہ بہت زیادہ گرم ہو چکی تھی،تو اس وقت میں نی اپنا ایک ہاتھ اسکی شلوار میں ڈال دیا صائمہ نی میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر روک دیا تو میں نے کہا کہ کچھ نہیں کرتا میں ہاتھ لگا کر دیکھنا چاہتا ہوں میری جان تو اسنے اپنا ہاتھ سائیڈ پر کر لیا اور میرا ہاتھ جب شلوار کی اندر گیا تو پتا چلا کہ اسنے نیچے پینٹی پہنی ہوئی ہے میں نی اس میں ہاتھ ڈال دیا اور ہاتھ سیدھا اسکی پھدی پر چلا گیا اسکے منہ سی آواز تیز ہو گئی اور میرا ہاتھ پورا گیلا ہو چکا تھا کیوں ک اسکی پھدی بہت پانی چھوڑ رہی تھی.میں نے انگلی اندر ڈالنا چاہی تو پتا چلا کہ اسکی پھدی بہت تتنگ ہے صائمہ نی بھی مزے والی آواز میں کہا کہ رضا انگلی نہ ڈالو یہ آپکے لئے ہی ہے لیکن ابھی نہیں اور صائمہ چھوٹنے کی بلکل قریب تھی تو میں رک گیا اور صائمہ میری طرف دیکھنے لگ گئی .میں نے کہا کہ صائمہ اگر آج ہم نی کرنا کچھ نہیں ہے تو دیکھنے تو دو نہ اسنے کہا ک ٹھیک ہے لیکن شلوار اتارنی نہیں ہے نیچے کرلو اور کوئی حرکت نہیں کرنی پلیز میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میری جان.اور میں نی اسکی شلوار اور پینٹی نیچے کر دی اور دیکھ کر حیران رہ گیا اسکی پھدی پر ایک بھی بال نہیں تھا اور اسکی پھدی فلل گیلی ہو چکی تھی میں بیڈ سی اٹھا اور ٹشو اٹھا کر لے آیا اور صائمہ کی پھدی کا پانی صاف کیا ٹشو سے اور میں نی اسکی ٹانگوں میں اپنا سر ڈال دیا اور اپنی زبان اسکی کلٹ پر پھیرنا شروع اور صائمہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی رضا یہ جگا گندی ہے اپ پلیز نہ کرو لیکن میں نہیں روکا اور اسکی پھولی ہوئی پھدی کی ہونٹ اپنے ہاتھ سے کھولے اور زبان اندر ڈال دی اور صائمہ تڑپ اٹھی اور مچھلی کی طرح ہلنے لگ گئی اور اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر دبانے لگ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں وو چھوٹ گئی اور اسکی سانس بہت تےش چل رہی تھی اور وو ایسے ہی بیڈ پر لیٹی رہی اور سانس بھال کرتی رہی اور جب وو بلکل نارمل ہوئی تو ٹائم دیکھنے لگ گئی اور کہنے لگی کہ رضا میں بہت لیٹ ہو گئی ہوں گھر سی پلیز اپ جلدی سی مجھے گھر کی پاس چھوڑ دو تو میں نے کہا کہ میری جان اپکا کام تو ہو گیا میرا رہتا ہے ابھی تو وو کہنے لگی ک رضا اگر میں گھر ٹائم پر نہ گئی تو مصیبت ہو جائے گی پلیز مان جاؤ میری جان اگلی دفع میں سٹارٹ کروں گی اور اپ اینڈ کرو گے.اور وہ بہت معصوم لگ رہی تھی میں نی پھر اپنے دوست کو کال کی اور کہا کہ آجاؤ جلدی ہم نے جانا ہے.پھر صائمہ میرے قریب آی اور کس کرنے لگ گئی اور کہا رضا جان پلیز برا نہیں ماننا میری مجبوری ہے اس ٹائم جلدی جانا.دوست اگیا اور میں نے صائمہ کو بائیک پر بٹھایا اور گھر بیک والی گلی میں چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا کیوں کہ پھدی تو ملی نہیں اور نہ ہی میں چھوٹا تھا تو لن میں درد ہو رہا تھا اور اسے فارغ کرنا ضروری تھا تبھی صائمہ کا میسج آیا تو میں نے پوچھا کہ کوئی مسلہ تو نہیں بنا کہنے لگی کہ میں امی نی پوچھا کہ اتنی دیر کہا لگا دی تو میں نے بہانہ بنایا ہے کہ دوست کی طرف چلی گئی تھی اسکے گھر والے صائمہ پ بہت اعتبار کرتے تھے اور ہیں
  4. معزز قارئین میرا نام شہروز ہے اور میں بہاولپور کے ایک دیہات سے تعلق رکھتا ہوں میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے غربت کے باوجود میرے والدین نے بڑی محنت سے مجھے انٹر تک پڑھایا انٹر کرنے کے بعد میں گھر واپس آ گیا ایک دو ماہ گھر میں رہا اور گھر کے حالات دیکھیں مجھے محسوس ہوا کے میں آگے گھر والوں پر بوجھ نہیں بن سکتا لہذا مجھے پڑھائی چھوڑ کر کوئی نوکری ڈھونڈنا ہو گی نوکری کے لئے میں میں دوستوں کو کہنا شروع کردیا میرے دوست فیصل آباد میں پرائیویٹ فیکٹریوں میں کام کرتے تھے تو کچھ دنوں بعد میرے ایک دوست نے مجھے وہاں بلا لیا وہ دوست معسود ٹیکسٹائل میں کام کرتا تھا میوا ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے لگ گیا وہاں کام کرتا تھا اور جو پیسے بنتے تھے وہ مگر والوں کو دے دیتا تھا اسی طرح تین چار ماہ ہو گئے کے ایک دن میں بار گومنے گیا ہوا تھا کے مجھے وہاں ایک فیملی ملی جو کہ ہمارے عزیز تھے میں ان سے ملا اور وہ مجھے مل کے بہت خوش ہوئے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو تو میں نے کہا کہ میں یہاں کام کرنے کے لیے آیا ہوں تو اگلا سوال ان کا یہ تھا کہتم رہتے کہاں ہو میں نے ان کو ہاسٹل کا بتایا جو کہ فیکٹری کے اندر تھا وہ لوگ جلدی میں تھے اس لیے انہوں نے مجھے گھر آنے کی دعوت دی جسے میں نے پھر کبھی آنے کا کہہ کر ٹال دیا ہم نے اپنے نمبر چینج کیے اور میں ہاسٹل آگیا یہاں پر اس فیملی کا تعارف کرادو اسد عمر17سال صبیحہ عمر 24 سال فضیحہ عمر 22 سال اور سب سے چھوٹی لڑکی تانیہ عمر 19سال اور ان کی ماں مریم دوستو یہ تو اس فیملی کا تعارف تھا ایک رات اسد کی کال آئی تقریبا آٹھ کا ٹائم ہوگا اس نے مجھے اپنا وعدہ یاد دلایا گھر آنے کا اگلا دن چھٹی کا تھا یعنی کے اتوار تو میں ان کی طرف چلا گیا اسد گھر پر ہی تھا لیکن وہ کہیں جانے والا تھا لیکن میرے آنے کی وجہ سے وہ رک گیا اور اس نے چائے کا بولا جو میں نے ہاں کر دی ہم ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے یعنی کہ اپنے گھر بار اپنے علاقہ کی خیر خبر اتنے میں اس کی بڑی بہن فضیحہ چائے لے کر آ گئی ہم نے چائے پی اور اسد چلا گیا کیونکہ ہمارے گھریلو تعلقات تھے اسی لئے وہ مجھے گھر پر ہی چھوڑ کر چلا گیا کے مجھے امی کی دوائی لینے سول اسپتال جانا ہے قضیہ اور میں بیٹھک میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے فضیحۃ مجھے پہلے دن سے ہی پسند تھی جس دن ہم ملے تھے لیکن اب خوش قسمتی سے موقع بھی مل گیا ایک دوسرے سے بات کرنے کا وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی میرے کام کے بارے میں اور گھر کے بارے میں لیکن میں اسے بس دیکھ ہی رہا تھا میں اس کی خوبصورتی کا قائل ہو گیا تھا باتیں کرتے ہوئے جب اس نے میری طرف دیکھا میں تو کسی اور ہی دنیا میں تھاا فضیحۃ!کہاں پہنچ گئے تم میں !کہیں نہیں بس کسی پری چہرہ کو دیکھ رہا ہوں جو روز میرے خوابوں میں آکر مجھے بے چین کرتا ہے فضیحہ !کون ہے وہ پری چہرہ میں !تم رہنے دو کیا کرو گی جان کر فضیحہ !بتا دو یار اور وہ ضد کرنے لگ گئی تو میں نے اسے کہا بتا تو لیکن تم ناراض نہ ہو جاؤ فضیحہ !نہیں ہوتی ناراض اب بتا بھی دو ۔ ۔ ۔ تواب میں نے فیصلہ کیا کہ اسے بتا ہی دیتا ہوں میں !وہ پری چہرہ تم ہو فضیحہ میری جان I love you
  5. پیارے دوستو میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کے آپ کو میری سٹوری پسند آرہی ہیں. آپ کے کمنٹس کا بھی شکریہ. ہوا کچھ یوں کے میں اس وقت ایک الیکٹرانکس کمپنی میں کم کرتا تھا. ڈاؤن اخبار کی طرف سے لائف سٹائل نمائش میں ہماری کمپنی نے اپنا سٹال لگایا. پہلا ہفتہ کراچی، پھر اسلام آباد اینڈ آخر میں لاہور میں یہ نمائش لگنی تھی. تینو جگا پر میں کمپنی کو پرسنٹ کر رہا تھا. ہمیں سٹال پر کھڑا کرنے کے لیے لڑکیوں کی بھی ضرورت تھی. اس کے لیے ہم نے ہر جگا پر چار چار لڑکیاں رکھی. ڈولی(اصل نام کچھ اور تھا) سے ملاقات لاہور میں ہی. وہ تقریباً پانچ فٹ دس انچ لمبی ، چالیس کے ممے، اور تیس کی گانڈ، سرخ و سفید رنگ، بلو ایس کی ملک پچیس سال کی لڑکی تھی. بہت شوخ اور چنچل سب کے ساتھ جلد فری ہو جانے والی. اس نے دو دن ہمارے ساتھ گزرے. بلکل فری ہو کر. کم کے دوران سٹال میں جگا کم ہونے کی وجہ سے کافی دفع گزرتے ہوے ہمارے جسم آپس میں ٹچ ہوے. میں نے ایک دفع جن کر گذرتے ہوے جب ڈولی کے پیچھے پہنچا تو وہیں ایک منٹ کے لیے روک گیا. میرا لن ڈولی کی جینز میں ابھری ہوئی گانڈ کی لکیر کے بلکل ساتھ لگا ہوا تھا. مگر ڈولی نے ایسے شو کیا جسے کچھ ہوا ہی نہ ہو. کم کے ساتھ ہنسی مذاق بھی چلتا رہا. اسی طرح دو دن گزر گئی. میں نے اب روٹین کے مطابق دفتر جانا شورو کر دیا تھا. کوئی ایک ویک کے بعد مجے میرے چپراسی نے بتایا کے سر آپ سے کوئی ڈولی ملنے ای ہی. میرا آفس علامہ اقبال ٹاؤن میں مون مارکیٹ کے قریب تھا. نیچے آفس اور شو روم تھا. اوپر ایک دو روم کا فلیٹ تھا جس میں میں اکیلا رہتا تھا. ایک روم میں بد روم اور دوسرا گیسٹ روم کے طور پر استمال کرتا تھا. جب ڈولی ای تو میں لنچ کے لیے اوپر فلیٹ میں تھا. میں ابھی چپراسی کو کچھ کہنے ہی والا تھا کے پیچھے پیچھے ڈولی اور اس کی ایک اور سہیلی اوپر فلیٹ میں ہی آگئی. میں نے دونو کو خانے کی آفر کی. انہوں نے کھانا میرے ساتھ کھایا. تین دن سے میری کم والی ماسی چوتھی پر تھی اس وجہ سے فلیٹ بکھرا پڑا تھا. کھانا کھا کر ڈولی اٹھی اور میرے مانا کرنے کے باوجود اٹھ کر میری سری چیزوں کو سمیٹنے لگ گئی. میں نے اسے مانا کیا مگر وہ باز نہ ای. پھر ہم دفتر آگئی اور وہہں ہم نے چائ پی . پھر میں نے ڈولی سے پوچھا کے بتائیں کیسے آنا ہوا. ڈولی نے اپنے ساتھ والی لڑکی کا تعارف کرایا اور بولی کے اس کی ماں بہت سخت بیمار ہے. اس کے پاسس علاج کے پیسے نہیں ہیں. آپ اسکی تھوڑی سی مدد کر دیں. میں نے اسے کچھ رقم دے دی. پھر اس کے تقریبان بیس دن بعد وہ دوبارہ ای اور بولی کے آج جلدی میں ہے. اس کے پڑوس میں ایک غریب لڑکی کی شادی ہے. اس نے اس کے لیے بہت سے پیسے جما کرنے ہیں. اس طرح اس دن پھر وہ پیسے لے کر اور دوبارہ ملنے کا کہ کر چلی گئی. تقریباً دس دن گزر گئی میں نے سوچ کے اب ڈولی سے وصولی کی جی. میں نے اسے کیل کیا اور پوچھا کے سنڈے کو کیا کر رہی ہو. وہ بولی فارغ ہوں میں نے بولا کے میں لاہور میں نیا ہوں تو کیا تم مجے لاہور کی سیر کرا سکتی ہو. بولک ٹھیک ہے میں سنڈے کو آجاؤں گی. چھوتی ہونے کی وجہ سے میرا لمبا سونے کا پروگرام تھا مگر صبح آٹھ بجے ہی دور بیل بجیمیں ایسے ہی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے ڈولی کھڑی تھی. اتنی صبح صبح وہ سیدھی اندر گھس ای اور میرے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئی. میں صرف ایک برمودا پہنے ہوا تھا. میں بھی اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا. وہ بولی کے کمرے کا کیا حل کیا ہوا ہے. ہٹو میں اسے ٹھیک کرتی ہوں. اس نے اپنا بیگ اور دوپٹہ صوفے پر رکھا اور کمرہ ٹھیک کرنے لگ گئی. میں بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا. تھوڑی در میں ہم نے روم ٹھیک کر لیا. میں نے اسے کہا کے وہ بیٹھ کر تو دیکھے اور میں شاور لے کر آتا ہوں. میں باتھ روم میں گھس گیا. اور تو کا ریموٹ اسے دے دیا. ویکینڈ ہونے کی وجہ سے رات کو میں ایک ٹرپل اکس مووی لے آیا تھا جو کے ابھی بھی دی وی دی کے اندر ہی تھی. میری عادت تھی کے ہمیشہ واشروم میں نھاتا اور کپڑے روم میں آکر پہنتا تھا. اس دن بھی میں روٹھنے کے مطابق اندر گھس گیا بعد میں مجے یاد آیا کے کپڑے تو بھر ہیں. خیر میں نے شاور لینے کے بعد ڈولی کو آواز دی اور بولا کے میرے کپڑے روم میں ہیں اس لیے وہ ذرا باہر چلی جی میں کپڑے پہن لوں تو پھر آجانا. ڈولی اچھا کہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی. میں روم میں تولیہ لپیٹ کر آگیا. ٹی وی کی طرف دیکھا تو رات والی ٹرپل مووی چل رہی تھی. میں نے ڈولی کو آواز دی. وہ اندر آگہی. میں نے پوچھا یہ کیا دیکھ رہی ہو. وہ بولی جو چل رہا ہے. میں نے کہا اچھا. اور اپنے کپڑے اٹھا کر میں واشروم میں چلا گیا. جب میں کپڑے بدل کر نکلا تو ڈولی نیوز دیکھ رہی تھی. بولی چلیں اور ہم دونو بھر آگہی. اس دن ہم لاہور میں مختلف جگہوں پر گومتے رہے. رات کا ڈنر ہم نے فورٹریس میں کیا اور گیارہ بجے رات کو میں نے اسے اس کے گھر چھوڑ دیا. اب یہ ڈولی کا معمول بن چکا تھا. وہ ہر سنڈے کو مرے گھر آجاتی. سارا دن ہم گھومتے. ساتھ میں ڈولی کو تھوڑی بہت شاپنگ بھی کروا دیتا اور کبھی کبھار اسے کچھ پیسے بھی دے دیتا. آخر کار وہ دن بھی آ ہی گیا. ڈولی روم میں بیٹھی مرے کپڑے استری کر رہی تھی میں واشروم سے ٹاول لپیٹ کر روم میں آیا. ڈولی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا. اس کے بالوں سے کھیلنے لگا. وہ بولی کیا بات ہے جی. میں نے کہا کے ڈولی ایک بات کہوں وہ بولی جی. میں نے کھا کے مجے تم سے محبت ہو گئی ہے. وہ استری چھوڑ کر کھڑی ہو گئی. بولی سر آپ مذاق کر رہے ہیں یا سروز ہیں میں بولا کے میں مذاق نہیں کر رہا. وہ بولی کے میں آپکا بہت احترم کرتی ہوں. آپ بس مرے اچھے دوست ہیں. باقی کچھ نہیں. میں چپ کر گیا. اتنا کچا کھلاڑی میں بھی نہیں تھا. پانچ منٹ کے بعد اس سے دوبارہ بولا کے ڈولی اب تم استری کر رہی ہو. مرے فلیٹ میں ہو. اکیلی ہو. اگر میں تمہیں پکڑ لوں تو تم کیا کروگی. وہ بولی سر میں گرم گرم استری آپ کو لگا ڈان گی. میں نے کہا اچھا تو پھر لگاؤ اور میں نے موقع دیے بغیر اسے جاکر پیچھے سے پکڑا اور اٹھا کر بیڈ پر لیتا دیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے اس کے گلابی گلابی ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دے اور پاگلوں کی طرح کسسنگ سٹارٹ کردی. اب اسنے بھی انجوے کرنا سٹارٹ کر دیا. میں نے فرنچ کیسس کی اسکی زبان لے کر خوب چوسی. پھر اسکے ماتھے پر آنکوں پر گردن پر بے شمار کس کے. وہ صرف بولتی رہی سر نہ کریں. لیکن میں لگا رہا اسی کشتی میں میرا ٹاول بھی کھل گیا تھا اور میرا لن پوری اب و تاب کے ساتھ کھڑا ہو چکا تھا. اور اس کی پھدی کو پھاڑ کر اندر جانا چہ رہا تھا. جسے ڈولی بھی محسوس کر رہی تھی مگر مرے اس کے اپر ہونے کی وجہ سے اسے نظر نہیں آرہا تھا. میں پورے زور سے کسسنگ جاری رکھے ہوے تھا. اب ڈولی ٹن ہو رہی تھی.مرے دونو ہاتھ اب اسکے ماموں پر تھے. اسکے نیپل سخت ہو چکے تھے. میں نے ڈولی کی زبان اپنے دانتوں سے پکڑ لی اور اسے تھوڑا سا اوپر کیا اور اسکی شرٹکھینچ کر اسکی گردن تک لے آیا. پھر فورن سے اسکی شرٹ اسکے گلے سے اتر دی. اسکے مامے اسکا سمارٹ پیٹ سب مرے سامنے تھا. میں نے اسکا برا کھولا اور اسکے پنک کولور کے نیپل منہ میں دال کر چوسنے سٹارٹ کر دے. ساتھ ہی پاؤں سے پکڑ کر اسکی شلوار بھی نیچے کھینچ لی. اب ہم دونو بلکل ننگے تھے. میں نے اسے دبا کر گلے سے لگایا. پھر بیڈ پر لیٹ گیا. ڈولی سے بولا اب تمہاری باری ہے. جتنا پیار کر سکتی ہو کرلو. وہ بولی کے آپ بہت برے ہیں. آپ نے مجھے بلکل موقع نہیں دیا. یہ کہ کر وہ اٹھی اور اس نے کپڑا لے کر مرے دونو ہاتھ بیڈ پر کھول کر باندھ دیے اور پھر ایک کپڑا میری آنکھوں پر بھی باندھ دیا. اب میں بلکل نہیں دیکھ سکتا تھا. ڈولی نے مجھے مرے ماتھے سے چومنا سٹارٹ کیا اور گردن تک خوب کسنگ کی. پھر وہ مرے سینے پر ای اور اسے زبان سے چاٹنا سٹارٹ کردیا. وہ لکنگ کرتی جا رہی تھی آھستہ آھستہ نیچے ہو رہی تھی. پھر اس نے میری دونو ٹانگیں کھول دی اور تھوڑا اپر اٹھا کر مرے دونو بالز چاٹنے سٹارٹ کر دے. وہ کبھی ایک بل منہ میں ڈالتی کبھی دوسرا. پھر وہ مرے لن تک بہنچ گئی اور بارے طریقے سے میرا لن منہ میں دال کر چوسنے لگی. وہ کبھی پورا لن اندر لے لیتی کبھی صرف ٹوپی، کبھی لکنگ کرتی تو کبھی سکنگ. کوئی دس منٹ کاک یہ سب چلتا رہا. پھر بولی. کے میں اپر آؤں یا آپ اپر ہونگے. میں بولا جسے تم کہو. بولی کے آپ اپر آجاؤ اور اس نے مجھے کھول دیا. میں نے اسے لٹایا اور دوبارہ سے اسکے ممے چوسنے اور دبانے لگ گیا.
×
×
  • Create New...