Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

Taimoor Baloch

Members
  • Content Count

    5
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

0

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس‌ مآل پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا کیا قیامت ہے کہ دنیا اسے سردار کہے جس کا انداز سخن بھی ہو گداؤں جیسا پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔ اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
  2. بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا ہوا سے ڈرنا بجھے چراغوں سے پیار کرنا کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا جو لوگ چاہیں تو پھر تمہیں یاد بھی نہ آئیں کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا کسی کو الزام بے وفائی کبھی نہ دینا مری طرح اپنے آپ کو سوگوار کرنا تمام وعدے کہاں تلک یاد رکھ سکو گے جو بھول جائیں وہ عہد بھی استوار کرنا یہ کس کی آنکھوں نے بادلوں کو سکھا دیا ہے کہ سینۂ سنگ سے رواں آبشار کرنا میں زندگی سے نہ کھل سکا اس لیے بھی محسنؔ کہ بہتے پانی پہ کب تلک اعتبار کرنا
  3. بہت عمدہ اور لاجواب
×
×
  • Create New...