Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB

Zaffar

Members
  • Content Count

    53
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    6

Zaffar last won the day on April 8

Zaffar had the most liked content!

Community Reputation

88

2 Followers

About Zaffar

  • Rank
    لکھاری

Profile Information

  • Gender
    Male
  • Location

Recent Profile Visitors

254 profile views
  1. کچھ انتظار کیجے وقت آنے پر بہت کچھ ہو گا اور جب اگلی کہانی شروع ہو گی تو آپ کو مزا آئے گا شروع کے دن تھے تو بہت کچھ سادہ تھا کہ ان دنوں میرے اندر کمینگی اور بخیرتی نہیں تھی
  2. اس کہانی سے جو میری سیکس لائف شروع ہوئی تو وہ آج تک چلتی جا رہی ہے ۔ اس کے بعد مجھے سیکس کا پتہ چلا اور ایسا تجربہ ہوا کہ میں بتا نہیں سکتا
  3. شکریہ ڈاکٹر صاحب جلد دوسری شروع کروں گا ۔ نسیمہ کی کہانی
  4. وہ آگے ایک کہانی میں آئے گا ۔ بے فکر رہو ۔ یہ آصفہ کا باب ختم ہوا ہے
  5. سر جو سچ ہے یہ وہ ہی ہے ۔ اس وقت ت میں سمجھ لیں کے سیکس کے سکول میں صرف داخلہ لیا تھا بعد میں وہ کچھ کیا جو پڑھنے کے بعد ہوتا ہے میں نے جو لکھا سب سچ ہے ۔ اور .....کا مجھ پر خاص کرم ہے کہ میرا دماغ بہت اچھا ہے اور مجھے اپنے ہوش میں آنے کے بعد کی سب باتیں ایسے یاد ہیں جیسے کہ کی بات ہو باقی آگے نئی کہانیوں میں آپ کو بہت مزا آئے گا پر سب کا اختتام تقریبا ایسا ہے ہو گا
  6. آج کے بعد جو بھی کہانی پیش کروں گا وہ پی ڈی ایف میں ہوگی تاکہ میری کوئی کہانی اس سائٹ کے علاؤہ کہیں پوسٹ نہ کہ جا سکے اور اگر کوئی کرنا بھی چاہے تو صرف اردو فن کلب کے نام کے ساتھ ہی ہو
  7. Update 10th April جب کچھ دیر گزری تو میں نے آصفہ کو جھپی ڈال کر اپنے پاس کر لیا ۔ اس نے گزری رات کی طرح کوئی رسپانس تو نہیں دیا ۔ مگر مجھے روکا بھی نہیں ۔ پھر میں نے اس کو کسنگ کرنا شروع کی تو اس نے اپنے ہونٹ سخت کر لیے کہ میں صرف ان کو اوپر سے ہی چوم پا رہا تھا ۔ مگر نہ تو ان کو منہ میں لے سکتا تھا نہ ان کا رس پی سکتا تھا۔ کافی دیر میں نے کوشش کی پر وہ کوئی جواب نہیں دے رہی تھی ۔ پھر میں نے اس کے مموں کو دبانا شروع کر دیا ۔ تو مجھے معلوم ہوا کہ اس نے آج برا بھی پہنی ہوئی تھی اور شاید مجھے روکنے کے لیے شمیز (عورتوں والی بنیان ) بھی پہن رکھی تھی ۔ مجھے غصہ تو بہت آیا پر میں نے اس کو کچھ نہیں کہا ۔ اور کافی دیر تک اس کے مموں کو کبھی دباتا تو کبھی مسلتا ۔ پر وہ لگتا تھا کہ آج خود کو کنڑول کر رہی تھی ۔ پھر میں نے آخری حربے کے طور پر اس کی پھدی کو مسلنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ اس نے نیچے انڈر وئیر پہنا ہوا تھا ۔ جو کہ لیڈیز کا نہیں لگ رہا تھا ۔ کہ کافی موٹا تھا ۔ میں نے اس کی شلوار نیچے کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اس نے آج ناڑا باندھ رکھا ہے ۔ اور جب میں نے وہ کھولنا چاہا تو پتہ چلا کہ اس نے پکی گانٹھ لگائی ہوئی ہے ۔ مطلب صاف تھا کہ وہ آج مجھے کچھ نہ کرنے دینے کا پکا پکا پروگرام بنا کر بیٹھی ہوئی تھی ۔ تو میں نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو کہا کہ باہر چلو ۔ مجھے بات کرنی ہے ۔ پہلے تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اور نہ ہی باہر جانے کے موڈ میں دکھائی دی ۔ جب میں نے کافی بار کہا تو وہ بولی کچھ نہیں اور چارپائی سے اتر کر باہر چل پڑی ۔ باہر جا کر میں کافی دیر تک اس سے پوچھتا رہا ۔ اس کو سمجھاتا رہا پر اس نے میری کسی بات کا جواب نہیں دیا ۔ پھر بولی تو بس اتنا کہ آپ اگر مجھ سے دوستی رکھنا چاہتے ہو تو رکھو ۔ پر صرف دوستی ۔ میں اب آپ کو چودنے نہیں دوں گی ۔ اور یہ کہہ کر اندر جانے لگی ۔ تو میں نے بازو سے اس کو پکڑ لیا ۔ اور اس کو پھر سمجھایا ۔ پر اس کی ایک ہی بات تھی کہ نہیں کرنا سیکس ۔ میں نے جب کافی دیر پوچھا اب کیا ہو گیا ہے ۔ کہ جو ہونا تھا وہ سب تو ہو گیا ۔ تمھاری پھدی تو کھول دی میں نے تو اس نے جو جواب دیا اس نے مجھے حیران کر دیا کہ اس کو کیسے پتہ چلا ۔ وہ بولی کہ آپ میرے ساتھ ساتھ خالہ کو بھی چودتے ہو ۔ میں نے کافی بار نہ کہا پر وہ نہ مانی ۔ اور آخر کار بولی کہ شام کو جب آپ اور خالہ کسنگ کر رہے تھے تو میں نے دیکھ لیا تھا ۔ تو مجھے اس کی غصے کی وجہ سمجھ ا گئی ۔ اور اب میرے پاس بھی کچھ کہنے کو نہیں تھا ۔ جب ہم واپس کمرے میں گئے تو وہ چادر اب نیچے بچھانے لگی کہ وہ شاید اب میرے ساتھ سونا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ تو مجھے غصہ آ گیا ۔ اتنے میں مسرت بھی اٹھ گئی ۔ اور پوچھنے لگی کیا ہوا ۔ تو میں نے غصے سے کہا اپنی لاڈلی سے پوچھ لو ۔ جناب کو بہت غصہ ہے ہم پر ۔ وہ بولی ہم پر سے کیا مطلب ۔ تو میں نے اس کو بتایا کہ شام کو جب تم نے اپنی خوشی میں خوش ہو کر میرے ہونٹوں کو چوما تو جناب نے دیکھ لیا اور نہ جانے کیا کیا سوچ بیٹھی ہے ۔ اور اکیلے ہی فیصلہ بھی کر لیا ہے کہ جو مرضی ہو جائے ۔ میڈم اب مجھ سے دوستی ختم کر دئیں گی۔ جس پر مسرت کچھ دیر تو چپ رہی ۔ پھر اس نے آصفہ کو اپنے پاس بلا کر چارپائی پر بٹھا لیا ۔ اور اس کو اپنا سارا قصہ بتا دیا کہ کیسے اس نے شادی کہ اور آج کہاں تھی سب کچھ ۔ اور یہ بھی کہ ظفر صرف میرا ایک اچھا اور قابل بھروسہ دوست ہے ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ پھر مسرت اس کو کافی دیر سمجھاتی رہی ۔ پر اس کی ایک ہی بات کہ بس اب نہیں کرنا تو نہیں کرنا ۔ تو مسرت نے اس کو اپنے ساتھ لٹا لیا اور سو گئی ۔ پر میں نہ جانے کب تک جاگتا رہا اور پھر آخر کار نیند مہربان ہو ہی گئی ۔ کہ گزشتہ رات بھی کافی دیر تک میں جاگتا رہا تھا۔ اگلے دن جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ مسرت اور آصفہ چارپائی پر نہیں تھے ۔ میں بھی اٹھ کر باہر گیا ۔ تو دیکھا کہ وہ کمرے والی چٹائی بچھائے صحن میں دھوپ میں بیٹھ کر سبزی بنا رہی تھیں ۔ مسرت نے مجھ سے پوچھا کہ ناشتہ کرو گے تو میں نے کہا کہ نہیں موڈ نہیں ۔ اور اس کو کہا کہ میں جا رہا ہوں ۔ کافی دنوں سے سکول بھی نہیں گیا تھا ۔ تو مسرت نے روک لیا اور پھر مجھے سمجھانے لگی کہ آصفہ بچی ہے تم غصہ چھوڑ دو ۔ پر میں نے اس کو صاف منع کر دیا ۔ تو آصفہ بولی کہ ہاں اب مجھے چود لیا ۔ جسم دیکھ لیا ۔ اب کیا کرنا میرا ۔ میں چدواں تو دوست ورنہ نہیں ۔ تو میں نے بھی صاف کہہ دیا کہ ہاں ۔ مجھے تم سے پیار نہیں ۔۔ دوست ہو تو دوست رہو ۔ میں نے چودنے کے لیے دوستی کہ ۔ پر زبردستی تو نہیں کی تھی ۔ اور نہ زبردستی چودا ہے تمھیں ۔ تمھاری خالہ نے دوستی کروائی اب اس کو ہی پوچھ لینا کیوں کروائی ۔ تو مسرت بھی غصے سے بولی کہ تم دونوں بکواس بند کرو ۔ اور مجھے کہا کہ جاؤ تم اپنے کام پر جاؤ ۔ تو میں وہاں سے نکل آیا ۔ اس کے بعد میں کبھی آصفہ سے نہیں ملا کہ اس کو چودوں یا دوستی رکھو ۔ حالانکہ مسرت نے مجھے کہا بھی کہ چند دن میں سب ٹھیک ہو جائے گا پر میں نہی مانا کہ اس کو دوستی رکھنی ہے تو ٹھیک ورنہ لن پر چڑھے۔ تو مسرت نے مجھ سے چند دن کہ مہلت مانگی ۔ ۔ اور اس کے بعد میں نے اس کے گھر بہانہ کر کے کہ میں گیمز پر جا رہا ہوں چھٹی کر لی ۔ پر جب ہفتہ گزرنے پر بھی مسرت نے بتایا کہ وہ نہی مان رہی تو میں نے اس کی ٹیوشن بھی چھوڑ دی ۔ مسرت سے میری دوستی اس وقت کے بعد کوئی 5 مہینے تک رہی جب تک اس کی باقاعدہ شادی نہیں ہو گئی لیکن اس واقعے کے بعد میں نے مسرت کو صرف ایک بار ہی چودا ۔ وہ بھی اس کی خواہش پر کہ وہ آخری بار مجھ سے چدوانا چاہتی تھی ۔ وہ بھی اس کی شادی ہو جانے کے بعد ۔ اور اس دوران میں نے اس کے گھر میں 2 لڑکیوں کو اور بھی چودا ۔ جس میں سے ایک اس کی کزن تھی۔ وہ شادی شدہ تھی ۔ اور اس کا شوہر بھی ملک سے باہر تھا ۔ جس کو صرف ایک بار ہی چود سکا ۔ اور دوسری لڑکی کو کئی بار چودا ۔ جس سے میری دوستی ہو گئی تھی ۔ دونوں کی کہانیاں جلد پیش کروں گا ۔ THE END
  8. پذائییرئی کا شکریہ
  9. Update 9th April اگلے دن میری آنکھ اپنے ٹائم پر کھلی۔ میں جیسے سویا ہوا تھا دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آصفہ کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی اور اس کی گانڈ میری طرف تھی ۔ اور میری ٹانگ اس کے اوپر تھی ۔ اور میرا لن فل کھڑا ہوا تھا ۔ اور اس کی گانڈ میں گھسا ہوا تھا ۔ مگر آصفہ کو اس کا احساس نہیں تھا ۔ میں اٹھ کر واش روم گیا ۔ اور واپس آ کر پھر سے آصفہ کے ساتھ لیٹ گیا ۔ اور اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے ممے پر رکھ دیا ۔ اور بہت پیار سے اس کے ممے کو قمیض کے اوپر سے سہلانا شروع کر دیا ۔ تو کچھ ہی دیر میں آصفہ کو جیسے جاگ آگئی اور اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ اور کچھ دیر تو میں اس کے ممے سے کھیلتا رہا ۔ پھر میں نے اس کو کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور جب اس نے میری طرف اپنا منہ کر لیا تو میں نے اس کے ہونٹوں پر کسنگ کرنا شروع کر دیا ۔ تو اس نے بھی اس کا رسپانس دینا شروع کر دیا ۔ اور کافی دیر ہم ایک دوسرے کو کسنگ کرتے رہے ۔ پھر اس نے خود کو چھڑوا لیا ۔ اور چارپائی سے یہ کہتے ہوئے اٹھ گئی کہ واش روم جا رہی ہوں۔ چارپائی سے اٹھنے کے لیے اس کو میرے اوپر سے گزرنا پڑا تو میں نے شرارت سے اس کے ممے پکڑ لیے ۔ جس پر اس نے مجھے گھورا اور بنا کچھ بولے چلی گئی ۔ جب وہ واپس آئی تو میرے پاس نہیں آئی بلکے اپنے نئے کپڑے لے کر باہر چلی گئی ۔ تو میں بھی اس کے پیچھے گیا فورا۔ اور جب میں باہر گیا تو وہ واش روم میں جا رہی تھی ۔ میں نے اس کو روک دیا ۔ کہ ابھی مت نہاؤ ۔ وہ بولی کیوں ۔ میں نے کہا کہ ابھی مسرت باہر جائے گی تو پھر سے سب کریں گے ۔ تو وہ بولی کہ تمھیں کیسے معلوم کہ وہ باہر جائے گی ۔ تو میں نے کہا کہ بس معلوم ہے کہ اس نے کچھ گھنٹوں کے لیے باہر جانا ہے ۔ تو وہ بولی کچھ نہیں اور اپنے کپڑے واش روم میں رکھ کر باہر آگئی ۔ ہم دونوں صحن میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ رات کو مسرت نے تم سے کیا کہا تھا جو تم میرے ساتھ سونے پر مان گئی ۔ تو وہ پہلے تو چپ رہی ۔ مگر میرے دوبارہ پوچھنے پر بولی کہ تم نے اچھا نہیں کیا جو خالہ کو بتا دیا کہ تم میرے ساتھ یہ سب کر چکے ہو ۔ تم سوچو کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہوں گی کہ اس کو جوانی اتنی ہے کہ 2 دن میں سب کروا لیا ۔ تو میں نے کہا کہ تم پریشان نہ ہو ۔ وہ بھی سب کر چکی ہے ۔ تو وہ یہ سن کر حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگی ۔ مگر بولی کہ تمھیں کیسے معلوم ۔ تو میں نے کہا کہ بس ابھی نہ پوچھو ۔ پھر بتاؤں گا ۔ اور یہ بھی کہ تم پریشان نہ ہو ۔ وہ کبھی تمھیں کچھ نہیں کہیے گی۔ تو وہ بولی ۔ کہیں تم ہی تو اس کو چودتے نہیں ۔ تو میں بولا نہیں میں نہیں ہوں بلکے جو ہے وہ آج تمھاری خالہ کو چودنے والا ہے ۔ اس لیے تو میں نے کہا تھا کہ اس کو جانے دو پھر سے سیکس کریں گے تو وہ بولی کچھ نہیں ۔ بس مسکرا دی ۔ جیسے اس کو میری بات پسند آئی ہو۔ پھر ہم ادھر ادھر کی بات کرتے رہے ۔ اتنے میں مسرت بھی اٹھ کر آگئی ۔ اور ہم کو دیکھ کر مسکرائی ۔ اور بنا کچھ بولی واش روم چلی گئی ۔ اور کافی دیر بعد نکلی تو وہ بلکل تیار تھی باہر جانے کے لیے۔ کپڑے تک بدلے ہوئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے رات کو ہی سب کچھ تیار کر کے رکھا ہوا تھا ۔ پھر آصفہ نے کہا کہ ناشتہ تیار کروں تو مسرت بولی کہ نہیں میں ناشتہ نہیں کروں گی تم کر لو ۔ میں باہر جا رہی ہوں ایک دوست کی طرف 4 گھنٹوں تک ا جاؤ گی۔ تو آصفہ نے فورا میری طرف دیکھا تو میں نے اس کو مسکراتے ہوئے آنکھ ماری ۔ جیسے میں اس کو کہہ رہا ہوں کہ دیکھ لو وہی ہو رہا ہے جو میں نے کہا تھا ۔ اور پھر مجھے کہنے لگی کہ جب تک میں واپس نہ آؤں تم آصفہ کو اکیلے چھوڑ کر نہ جانا۔ میں نے کہا جی جناب جو حکم۔ پھر آصفہ مجھ سے بولی کہ اب تم کیا کھاؤ گئے ۔ تو میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ناشتہ بازار سے لے آتے ہیں ۔ تو وہ خوش ہو گئی اور بولی یہ ٹھیک ہے ۔ تو مسرت بولی کہ ٹھیک جلدی جاؤ اور ناشتہ لے آؤ ۔ تو میں ناشتہ لیکر جب واپس ایا تو دیکھا کہ مسرت جانے کے لیے بلکل تیار تھی ۔ اور جیسے ہی میں اندر آیا ۔ اس نے تالہ اٹھایا کہ وہ باہر سے تالہ لگا کر جا رہی ہے ۔ اور اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا وہ ہمیں بائے بائے کرتے باہر نکل گئی مگر جانے سے پہلے وہ مجھے مانع حمل گولیاں دے گئی ۔ اور جیسے ہی مسرت باہر نکلی تو آصفہ بولی کہ میں چائے بناتی ہوں ۔ پھر ناشتہ کرتے ہیں تو میں نے اس کو بازو سے پکڑ لیا اور اپنے ساتھ لگا کر کمرے میں لے آیا اور اس کو کہا کہ پہلے ایک باری کر لیتے ہیں پھر ناشتہ کریں گے ۔ تو وہ بولی کیا بہت دل کر رہا ہے ۔ تو میں نے اس کا ہاتھ اپنے لن پر رکھ دیا جو اشارہ ملتے ہی کھڑا ہونے لگا تھا ۔ اس نے لن کو پکڑ کر دبا دیا ۔ اور اس کے ایسے کرنے سے میرا لن اور زیادہ ٹائٹ ہو گیا ۔ میں نے اس کا چہرہ پکڑ کر اوپر کیا اور اس کو کسنگ کرنے لگا ۔ تو وہ بھی مجھے جواب میں کسنگ کرنے لگی ۔ اور کچھ دیر ہم ایک دوسرے کو نارمل کسنگ کرتے رہے ۔ پھر میں نے اس کی قمیض کو اوپر کرنا شروع کر دیا ۔ اور پھر اس کی قمیض اتار دیا ۔ اب وہ اوپر سے بلکل ننگی تھی ۔ کہ اس نے رات سے ابھی تک برا (بریزر) نہیں پہنا تھا ۔ پھر میں نے اس کی شلوار بھی اتار دی ۔ تو اس نے پہلی بار نہ صرف میری قمیض اتاری بلکے بلکے میرا ناڑا کھول کر میری شلوار بھی نیچے گرا دی ۔ اب ہم دونوں بلکل ننگے تھے ۔ پھر ہم دونوں نے ہی ایک دوسرے کو کسنگ شروع کر دی۔ اس کا سینہ میرے سینے کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔ اور میرا لن اس کی پھدی پر ٹچ ہو رہا تھا ۔ آج وہ پہلی بار کھل کر میرے ساتھ سیکس کا کھیل ۔ کھیل رہی تھی ۔ اور بہت زیادہ پر جوش تھی ۔ مجھ سے زیادہ وہ کسنگ کر رہی تھی کبھی وہ میرے ایک ہونٹ کو چوستی تو کبھی دوسرے کو۔ مجھے اس وقت بہت مزا رہا تھا ۔ پھر اس نے مجھے چارپائی پر لٹا دیا ۔ اور میرے اوپر آ کر بیٹھ گئی ۔ اور پھر سے مجھے کسنگ شروع کر دی ۔ اب حالت یہ تھی کہ اس کی پھدی میرے پیٹ پر تھی ۔ اور وہ آگے جھک کر مجھے کسنگ کر رہی تھی۔ اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے دونوں مموں کو پکڑ کر دبانا شروع کر دیا ۔ کافی دیر تک ہم ایک دوسرے کو بلکے یہ کہنا چاہیے کہ وہ مجھے کسنگ کر رہی تھی ۔ وہ اب کافی گرم ہو چکی تھی اور میرا لن بھی بلکل ٹائٹ ہو چکا تھا ۔ جب اس نے کسنگ کرنا چھوڑی تو میں نے اس کے ایک ممے کو فورا اپنے منہ میں لے لیا ۔ اور اس کو چوسنے لگا ۔ اب اس کے منہ سے مسلسل ۔ آہ آہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھںیں ۔اور اس دوران میں اس کے دوسرے ممے کو دبا رہا تھا ۔ پھر تو کچھ ہی دیر میں جیسے وہ پاگل سی ہو گئی ۔ اس کے ہاتھ میرے سر کے بالوں میں تھے ۔ اور وہ اپنے ہاتھوں سے میرے بالوں میں کبھی انگلیاں پھیرتی تو کبھی ان کو پکڑ کر کھینچتی ۔ کافی دیر بعد وہ کچھ پیچھے ہوئی اور اپنے ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور اس کو اپنی پھدی پر پہلے تو کچھ دیر رگڑا ۔ جب میرے لن کی ٹوپی اس کے سوراخ سے ٹکراتی تو اس کے منہ سے ایک سسکی نکل جاتی ۔ اور جب میرے لن کی ٹوپی اس کی پھدی کے اوپر موجود دانے کو رگڑتی تو وہ مچل جاتی ۔ کچھ دیر ایسے ہی کھیلنے کے بعد اس نے میرے لن کو اپنی پھدی میں لینا شروع کر دیا اور جب میرا لن پورا اس کی پھدی میں چلا گیا ۔ تو وہ سیدھا اس کی بچہ دانی سے ٹکرایا تو اس کے منہ سے بے اختیار آہ نکل گئ۔ کچھ دیر تو وہ ایسے ہی لن کو اندر لیے بیٹھی رہی ۔ اس کے بعد اس نے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا ۔ جب بھی وہ لن کو دوبارہ اندر لیتی تو اس کے منہ سے سسکی نکل جاتی۔ پھر تو اس کے منہ سے ایسی ایسی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں ۔ جیسے کہ میں نے فلموں میں دیکھا ہوا تھا ۔ اور ایسا کوئی 5 منٹ تک چلا کہ آخر اس کی پھدی نے اپنا پانی ( منی ) چھوڑ دیا ۔ مگر اس نے پانی چھوڑنے سے پہلے آخری جھٹکوں میں اتنی زور سے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کیا کہ مجھے بہت مزا آیا ۔ پھر جیسے ہی اس نے پانی چھوڑا وہ میرے اوپر گر گئی ۔ مجھے بھی بہت مزا ایا ۔ اس کا پانی اس کی پھدی سے نکل کر میرے لن سے ہوتا ہوا میرے ٹٹوں پر آ چکا تھا ۔ اور اب وہاں سے بستر پر گر رہا تھا ۔ جب اس کا سارا پانی نکل گیا تو میں نے اس کو گھوما کر بستر پر لٹا دیا ۔ اور اس کی شلوار کو کہ پاس ہی پڑی تھی کو اٹھا کر اس کی پھدی کو اچھی طرح صاف کیا ۔ اور اپنے لن اور ٹٹوں پر لگے اس کے پانی کو بھی ۔ پھر میں نے اس کی ٹانگوں کو اٹھایا اور اس کے سینے سے لگا دیا ۔ اور اپنا لن اس کی پھدی کو جو صاف نظر آئی تھی ۔ پر رکھا اور جھٹکے سے اندر ڈال دیا ۔ تو اس کے منہ سے بے اختیار ہلکی سی چیخ نکل گئی ۔ اس حالت میں اس کی پھدی کافی ٹائٹ ہو گئی تھی ۔ جو کہ میرے لن کو بھی محسوس ہو رہا تھا ۔ میں نے اس کے چہرے کو دیکھا تو اس پر درد کے آثار صاف نظر آ رہے تھے ۔ شاید میرا لن اس کے اندر کچھ زیادہ ہی گہرائی میں چلا گیا تھا ۔ جس سے اس کو درد ہو رہا تھا ۔ پھر میں نے اپنے لن اس کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔ اور جب میں لن پورا اس کے اندر کرتا تو اس کے منہ سے درد بھری آہ نکلتی ۔ پھر تو جیسے میں جوش میں آ گیا اور اس کو پوری طاقت سے دھکے مارنے لگا ۔ میرے ہر دھکے پر وہ درد سے کراہنے لگتی۔ اور اس کے ساتھ چارپائی بھی اس کے درد کے ساتھ چوں چوں کی آواز نکالتی ۔ جب میں نے اپنی رفتار مزید بڑھائی تو وہ ہائے ظفر مر گئ ۔ آرام سے ۔ درد ہو رہا ہے کہ الفاظ نکل رہے تھے۔ مکر اس کے ساتھ وہ مزے بھی لے رہی تھی کہ جب میں لن باہر نکالتا تو اس کے منہ سے بے اختیار آہ نکلتی جس سے مجھے اندازہ ہوتا کہ وہ مزے بھی لے رہی ہے ۔ اس بار وہ 3 منٹ میں ہی دوبارہ فارغ ہوگئی ۔ مگر میں اتنے جوش میں تھا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑا سوائے اس کے کہ اس کی پھدی اب حد سے زیادہ چکنی ہر چکی تھی ۔ اور میرا لن انجن کے پسٹن کی طرح اندر باہر ہو رہا تھا۔ اور اس کے علاؤہ مجھے اس کے منہ سے نکلنے والی کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی یا یوں کہنا چاہیے کہ میں سمجھنا نہیں چاہتا تھا ۔ اور میں اس کو اپنی پوری طاقت سے چود رہا تھا ۔ اور نیچے سے آصفہ کے ساتھ ساتھ چارپائی کی ہائے ہائے بھی نکل رہی تھی ۔ میرے ایسا چودنے سے وہ 5 منٹ میں دوبارہ سے فارغ ہوگئی ۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں بھی فارغ ہونے والے ہوں ۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں میں بھی اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا ۔ اور اس کے اوپر ہی گر گیا ۔ اور ہم کافی دیر تک ہم ایسے ہی لیٹے رہے ۔ پھر میں نے اس کو کافی دیر کسنگ کی ۔ جس کا وہ بھی بھر پور جواب دے رہی تھی اور پھر ہم اٹھ گئے اور باری باری واش روم گئے اور خود کو صاف کر کے واپس آگئے ۔ پھر جب ہم آرام سے بیٹھ گئے تو وہ بولی یار آج تو تم جانور بن گئے ۔ ایسا کرتے ہیں ۔ آج تم نے کچھ خیال نہیں کیا ۔ تو پھر میں نے پوچھا سچ بتاؤ مزا نہیں آیا کیا تو وہ بولی کہ مزا تو بہت آیا کہ لن بہت اندر تک جا رہا تھا ۔ تمھاری ہر چوٹ میرے بچہ دانی دانہ پر لگتی ۔ جس سے درد کے ساتھ مزا بھی مل رہا تھا ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا ۔ ہم نے ابھی تک کپڑے نہیں پہنے تھے ۔ میں نے سوچا ایک باری اور کریں تو یہ سوچ کر میں نے اس کو کسنگ کرنا شروع کیا تو اس نے مجھے پیچھے کر دیا کہ بس اب مجھ میں اس سے زیادہ کرنے کی ہمت نہیں ۔ اور اٹھ کر کپڑے پہننے لگی ۔ میں بھی یہ سوچ کر چپ کر گیا کہ ابھی بہت وقت ہے ۔ کچھ دیر بعد کر لوں گا ۔ ابھی تو ہم اکیلے ہیں ۔ وہ کپڑے اٹھاکر باہر چلی گئی ۔ تو میں نے اس کو پیچھے سے آواز دی کہ نہانا مت ۔ تو وہ اندر آ کر بولی اب کیوں ۔ تو میں نے اس کے پاس جا کر اس کے مموں کو ہاتھوں میں پکڑ کر ہلکا ہلکا مسلنا شروع کر دیا اور کہا کہ یار ایسا موقع پھر پتہ نہیں کب ملے گا ۔ ایک بار اور کریں گئے آج ۔ تو وہ بولی کہ اب اس میں ہمت نہیں ۔ اس نے کہا کہ اس کی ٹانگوں میں درد ہو رہا ہے ۔ اور اس لیے اب وہ نہ کرے گی اور نہ کرنے دے گی ۔ اس وقت میں نے سوچا کہ کچھ دیر بعد اس کو منا لوں گا ۔ تو میں نے بہانا کرکے کہا کہ اچھا نہ کرنا پر ابھی نہانا مت ۔ سیکس نہ سہی کچھ مستی کریں گے ۔ تو وہ بھی کچھ بحث کرنے کے بعد مان گئی کہ سردی کچھ بڑھ رہی تھی اور وہ بھی بار بار نہانا نہیں چاہتی تھی ۔ اور پھر ہم نے اکھٹے ناشتہ کیا۔ اور مل کر کمرے کی صفائی کی ۔ ہم باہر بھی نکل نہیں رہے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے کیونکہ دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا ۔ کوئی 11 بجے میں نے اس کو دوبارہ منانے کی کوشش کرنے لگا ۔ پر وہ مان نہیں رہی تھی ۔ تو میں اس سے ناراض ہو گیا ۔ اس نے بھی اس وقت مجھے منانے کی کوشش نہیں کی ۔ اور ہم دونوں نے پھر نہا لیا ۔ کوئی 1 بجے کے قریب مسرت واپس آئی ۔ تو بہت خوش نظر آ رہی تھی ۔ اس کے پاس کافی سارا سامان تھا ۔ اس نے مجھے کہا کہ رک جاؤ پر میں بہانا بنا کر نکلنے لگا تو ۔ وہ بولی اچھا جاؤ پر رات کو واپس ا جانا کہ آج بھی تم کو رات پھر ساتھ گزارنی ہے ۔ اور مسکرا دی ۔ مگر میں وہاں سے نکل گیا کچھ دیر ادھر ادھر گھوم کر میں اپنے دوست کے گھر گیا ۔ میرا موڈ خراب تھا ۔ اس نے پوچھا تو میں نے اس کو رات اور دن کی ساری بات بتائی ۔ اور پھر اس کو بتایا کہ میں ایک بار اور چودنا چاہتا تھا مگر وہ نہیں مانی ۔ تو اس نے مجھے گالیاں دینا شروع کر دئیں کہ بہین چود تجھے کوئی نیا لن لگ گیا ہے ۔ 12 گھنٹے میں اس بچاری کو 4 سے زیادہ بار فارغ کیا ۔ وہ انسان ہے ۔ کوئی چڑی نہیں کہ جب تیرا دل کریں اس پر جا چڑھے ۔ اس کی حالت کا بھی سوچ ۔ کہ اس کو کمزوری بھی ہوئی ہو گی تومیں بھی سوچ میں پڑ گیا کہ کہہ تو یہ بھی ٹھیک رہا ہے ۔ پھر میں وہاں سے شام کو گھر گیا اور جب کافی رات ہو گئی تو پھر مسرت کے گھر گیا ۔ تو مسرت نے مجھے جاتے ہی پکڑ لیا کہ اس کو چود کر مزا لے لیا تھا تو اس کو دوائی تو دے دینا تھی۔ کہ اس کو بھی میری طرح پریگنینٹ کرنے کا موڈ ہے ۔ تو مجھے یاد آیا کہ صبع دوبارہ کرنے کے چکر میں اس کو گولیاں دینا بھول گیا ۔ تو میں نے کہا کہ ابھی دے دیتا ہوں تو وہ بولی کہ اس نے اس کو پوچھ کر گولیاں دے دئیں تھیں ۔ اور پھر ہم نے اکھٹے کھانا کھایا کیونکہ وہ لوگ میرا انتظار کر رہی تھیں ۔ میں نے اس دوران آصفہ کو ایسا ہی دکھایا کہ میں اس سے ناراض ہوں ۔ اس نے کافی بار مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی پر میں نے اس کو ٹھیک طرح سے جواب نہیں دیا ۔ جب وہ برتن دھونے اور چائے بنانے گئی تو میں نے مسرت کو پکڑ لیا کہ بتاؤ کیا ہوا آج پہلے تو وہ بس ہنس کر ٹالتی رہی ۔ پھر وہ بولی اچھا بتاتی ہوں ۔ پھر ہم اس کی چارپائی پر بیٹھ گئے ۔ اور اس نے چادر اپنے اور میرے اوپر لے لی ۔ اور اپنا بتانے لگی کہ صبع کیا کچھ ہوا ۔ اس نے جب بتانا شروع کیا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا ۔ اور اس کے ساتھ کھیلنے لگی ۔ جو کہ اس کے ہاتھ میں جاتے ہی اپنا سر اٹھانے لگا ۔ اس نے بتایا کہ اس کے شوہر نے اس کو آج 3 بار چودا ۔ جس میں وہ کم از کم 7 بار سے زیادہ فارغ ہوئی ۔ پھر ہم نے شاپنگ کی اور اس نے مجھے کچھ کھانے کی چیزیں لیکر دئیں اور میں گھر آ گئی ۔ پھر اس نے مجھے کہا کہ وہ میرے لیے بھی کچھ چیزیں لائی ہے ۔ اپنے بھائی کا نام لیکر ۔ پھر اس نے آصفہ کو آواز دی کہ ذرا وہ سب چیزیں دکھانا ۔ جو کہ ابھی تک باہر ہی تھی ۔ جب وہ اندر آئی تو مجھے لگا کہ وہ باہر رو رہی تھی کہ اس کی آنکھیں گیلی تھیں ۔ وہ سامان پکڑا کر پھر سے باہر چلی گئی ۔ اور مسرت نے پہلے اپنا اور آصفہ کے لیے لایا ہوا سامان دکھایا ۔ اور پھر اس نے مجھے 2 سوٹ دیے ۔ جو کہ وہ میرے لیے لائی تھی ۔ اور ساتھ ہی اس نے مجھے 1 ہزار روپے دیے کہ یہ تمھارے جوتوں کے لیے ہیں اور اس نے یہ اپنے شوہر سے لیے ہیں ۔ کیونکہ رمضان شروع ہونے والا تھا ۔ تو اس نے مجھے عید کا گفٹ دیا تھا ۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ آج میرا دن کیسا رہا تو میں نے اس کو سب بتا دیا تو اس نے بھی مجھے یہ ہی کہا کہ یار کچھ خیال کرو ۔ ابھی وہ بہت چھوٹی ہے ۔ اتنا برداشت کیسے کرے گی اور اوپر سے ابھی تو اس کے شروع کے دن ہیں ۔ تو اس نے پھر کہا اس لیے تم اس سے ناراض ہو کہ وہ پھر کرنے کے لیے نہیں مانی ۔ تو میں نے کہا ہاں لیکن تم بھی تو آج 7 بار فارغ ہوئی 4 گھنٹوں میں تو وہ بولی کہ مجھے پتہ تھا کہ آج مجھے وہ گولیاں کھا کر چودے گا ۔ اس لیے میں بھی تیاری میں گئی تھی ۔ اور جیسے ہم دونوں کرتے ہیں تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ دوسرا مجھے کرتے ہوئے 9 سال سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے ۔ اور میں نے تمھارے اور اپنے شوہر کے علاؤہ 4 مردوں سے اور بھی کروایا ۔ میں نے کہا بتاؤ نہ کیسے کرتے ہو تم دونوں کہ مجھے اس کی باقی باتوں سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔ تو وہ بولی کہ اچھا بتاؤں گی کرکے ۔ پھر اس نے کہا کہ تم اب آصفہ سے دوستی کر لو ۔ جاؤ اس کو مناؤ ۔ اور مجھے ایک اچھی سی کسنگ کی ۔ اور یہ بھی کہا کہ رات کو جب کرنا تو چادر مت لینا اوپر ۔ وہ دیکھنا چاہتی ہے ۔ میں نے کہا کہ رات بھی تو دیکھا ہے ۔ تو وہ بولی پر چادر کی وجہ سے صاف نظر نہیں آیا۔ ۔ میں اٹھ کر باہر چلا گیا ۔ وہاں آصفہ ابھی تک چولہے کے پاس کھڑی تھی ۔ میں نے اس کو پیچھے سے جھپی ڈالی ۔ اور اس کو سوری بولا تو اس نے کہا کہ تمھاری ایک بات نہیں مانی تو تم ناراض ہو گئے ۔ اس کے مطلب تم نے صرف مجھے چودنے کے لیے دوست بنایا ۔ مگر تم نے یہ نہیں سوچا کہ میں نے سب کچھ تمھارے ساتھ اس لیے کیا کہ مجھے تمھاری دوستی چاہیے ۔ پر تمھیں صرف میرا جسم ۔ اور رونے لگی ۔ بڑی مشکل سے اس کو منایا ۔ مگر وہ ابھی بھی پوری طرح مطمن نہیں تھی ۔ مجھے یقین تھا کہ مسرت نے سب کچھ سن لیا ہو گا۔ اس لیے اس کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ اور پھر ہم نے کچھ دیر گپ شپ کی اور جیسے پہلی رات سوئے تھے ویسے ہی لیٹ گئے ۔ پر آج ایک فرق تھا کہ پہلی رات آصفہ مسرت والی سائیڈ پر سوئی تھی اور آج میں اس طرف لیٹا تھا کہ دونوں چارپائیاں ساتھ ملی ہوئیں تھیں ۔ ۔
  10. Update 8th April مگر سچ میں اس سے آگے کرنے سے میں بھی گھبرا رہا تھا ۔ اور وہ بھی گھبرا رہی تھی ۔ مگر کچھ کرنے کو میں بھی بے صبرا ہو رہا تھا اور وہ بھی ۔ کچھ لحمے مزید ایسے ہی گزرے تو میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے ۔ اور کچھ دیر تک ہونٹوں پر ہونٹ رکھے رکھا ۔ پھر میں نے اس کے دونوں ہونٹوں کو اپنوں ہونٹوں میں لیکر ان پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دیا ۔ تو اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے زور سے پکڑ کر مجھے اپنے سینے سے لگا لیا ۔ جس سے میرا نیم کھڑا لن اس کی پھدی سے جا ٹکرایا ۔ کچھ دیر تو میں اس کو ایسے ہی پیار کرتا رہا ۔ پھر میں نے اس کے ایک ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیکر اس کو چوسنا شروع کر دیا ۔ تو جیسے مزے سے سسک پڑی ۔ اور اس نے میرے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنا شروع کر دیا ۔ جس پر مجھے بہت مزا آنا شروع ہو گیا ۔ اب حالت یہ تھی مزے سے میری حالت خراب ہو گئی ۔ اور میرا لن فل کھڑا ہو چکا تھا ۔ اور اس کی پھدی پر مسلسل جیسے دستک دے رہا ہو کی طرح بار بار اس کی پھدی سے ٹکرا رہا تھا ۔ اس دوران میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے ممے پر رکھ دیا اور اس کو دبانے لگا۔ تو مجھے پتہ چلا کہ اس نے برا (بریزر) پہلے ہی اتارا ہوا تھا ۔ اور میرے دبانے سے اس کو مزا آیا ۔ جس سے وہ مزید گرم ہو گئی اور اس کا سینہ اور تیز تیز اوپر نیچے ہو نے لگا ۔ اب ہم دونوں بھول چکے تھے کہ ہم اکیلے نہیں تھے۔ یہ بھی کہ ہمارے ساتھ ہی چارپائی پر کوئی اور بھی سو رہی ہے یا شاید جاگ رہی ہے ۔ ۔ پھر میں نے اس کو کھینچ کر اپنے اوپر کر لیا ۔ اور اس دوران ہم دونوں ایک دوسرے کو مسلسل کسنگ کر رہے تھے ۔ اور ہم دونوں مکمل طور پر گرم ہو چکے تھے ۔ اور اب میرا لن تو اس کی ٹانگوں کے اندر گھس کر اس کی پھدی کو رگڑ رہا تھا ۔ پھر میں نے اس کو کسنگ کرنا چھوڑ دیا ۔ اور اس کی قمیض کو پہلے تو پیٹ سے اوپر کیا ۔ اور پھر اس کو اتار دیا ۔ اب وہ اوپر سے بلکل ننگی تھی ۔ پھر میں نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور بنیان بھی۔ اب ہم دونوں اوپر سے ننگے تھے ۔ جب اس نے اپنا سینہ میرے سینے پر رکھا تو نہ پوچھو کیا مزا آیا ۔ اس کے گرم مموں کا میرے سینے سے ایسے ٹکرانا تو جیسے آگ پر پڑول پھینکنا ہو ۔ اب میں اس کو مزید شدید سے کسنگ کرنے لگا ۔ میرا ایک ہاتھ اب اس کی کمر پر تھا ۔ جس سے میں اس کی کمر کو مسلسل رگڑ رہا تھا ۔ جس سے اس کو بہت مزا آرہا تھا کیونکہ اس کی سانسیں اب اور بھی تیز اور گرم ہو چکی تھیں ۔ اور میرا دوسرا ہاتھ اس کے ممے پر تھا ۔ جس سے میں کبھی اس کے ممے کو دباتا تو کبھی اس کو مسلتا ۔ تو کبھی اس کی نیپل کو انگلیوں میں لیکر مسلتا ۔ اس دوران میں نے محسوس کیا ۔ کہ اب وہ اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑ رہی تھی ۔ جس پر میں نے اس کی شلوار کو پکڑ کر نیچے کرنے لگا ۔ تو مجھے معلوم ہوا کہ اس نے شلوار میں لاسٹک پہنی ہوئی تھی ۔ اس لیے شلوار آسانی سے نیچے ہو گئی ۔ مگر کچھ نیچے ہونے کے بعد شلوار مزید نیچے جانے سے رک ہوگئی ۔ تو آصفہ نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھا کر اپنے ہی ہاتھوں سے شلوار کو نیچے کر دیا ۔ اور اب اس کی شلوار گھٹنوں تک ہو چکی تھی ۔ اور جب اس نے اپنی گانڈ کو اوپر کیا تو میں نے بھی اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنی شلوار کو کچھ نیچے کر دیا کہ میرا لن بھی اب ننگا ہو چکا تھا ۔ پھر وہ دوبارہ سے میرے اوپر لیٹ گئی ۔ اور میرے لن کو اس کی پھدی کے ساتھ ملنے کا موقع مل گیا ۔ جیسے ہی لن اور پھدی ملے تو مجھے پتہ چلا کہ اس کی پھدی بہت زیادہ گیلی تھی ۔ اب ہم نے پھر سے ایک دوسرے کو کسنگ کرنا شروع کر دیا ۔ اور آصفہ اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کر کے اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑ رہی تھی ۔ جس سے اس کی سانسیں بری طرح بے قابو ہو چکی تھیں ۔ اس کو ایسا کرتے ہوئے تقریبا 3 منٹ سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا ۔ اور کچھ ہی دیر میں اس نے اپنے سر کو میرے کندھے پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھوں سے مجھے جھپی ڈال کر زور سے دبا دیا ۔ اور ساتھ ہی وہ ہلکے ہلکے جھٹکے لیکر فارغ ہو گئی۔اس کا پانی (منی) نکل کر میرے لن سے ٹکرا کر میرے ٹانگوں پر گر رہی تھی ۔ جو کہ اپنی گرمی کی وجہ سے مجھے اچھی لگ رہی تھی ۔ اس کی بے ترتیب سانسیں کچھ دیر میں بہتر ہونا شروع ہو گئیں ۔ پھر جب وہ بلکل نارمل ہو گئی تو اس نے چادر میں سے اپنا سر نکالا اور اس نے مسرت کو دیکھا ۔ اور میں نے بھی مسرت کو دیکھا ۔ تو وہ کروٹ لیے سو رہی تھی کہ کمرے میں کافی اندھیرا تھا کہ باہر جلنے والے بلب کی کچھ ہی روشنی اندر آ رہی تھی ۔ جس سے کچھ واضع نظر نہیں آ رہا تھا کہ اس کا منہ کس طرف تھا ۔ آصفہ پھر نہ صرف میرے اوپر سے بلکے چارپائی سے بھی اتری ۔ اور جب وہ چارپائی سے اتر رہی تھی تو چارپائی کی جیسے چیکیں نکل گئی ۔ تو ہم دونوں نے بے اختیار مسرت کی طرف دیکھا مگر وہ بے سدھ سو رہی تھی۔ اور پھر میں بھی چارپائی سے اترا تو اس نے پھر سے چوں کی ۔ مگر جب میں نے مسرت کی طرف دیکھا تو اس میں اب بھی کوئی حرکت نہ تھی ۔ میری شلوار تو کھڑے ہوتے ہی نیچے گر گئی ۔ جس کو میں نے اپنے پاؤں سے بھی نکال دیا ۔ اس کی شلوار اس کے گھٹنوں تک نیچے تھی ۔ مگر الاسٹک کی وجہ سے نیچے نہیں گری ۔ جس کو اس نے خود اتار دیا ۔ اب ہم دونوں مکمل طور پر ننگے تھے ۔ پھر ہم اکھٹے واش روم گئے ۔ اور پہلے تو خود کو صاف کیا ۔ اور اس کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا ۔ اور اس دوران جب میں اپنا ہاتھ اس کی پھدی صاف کرنے کے لیے اس کی پھدی پر پھیرتا تو وہ سسک جاتی ۔ مجھے اس سب میں ایک مزا آ رہا تھا ۔ کچھ دیر میں اس کے ساتھ ایسے ہی کھیلتا رہا ۔ مگر میرے ایسا کرنے سے ایک بار پھر گرم ہو گئی ۔ ہم دونوں واش روم سے باہر آ گئے ۔ کہ ہم دونوں کو ہلکی ہلکی سردی لگنے لگی تھی ۔ ۔ پر اندر جانے سے پہلے اس نے پوچھا کہ تم ابھی چودو گے ۔ تو میں نے کیوں نہ چودوں تو وہ بولی ۔ یار میرا اپنا دل ہے کہ تم مجھے چودو ۔ پر منجھی پر چودنے سے خالہ اٹھ جائیں گی ۔ تو ایک بار تو میں بھی سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر میں نے کہا کہ اگر ہم گدے کو چٹائی پر ڈال دیں تو وہ بولی کہ ہاں یہ ہو سکتا ہے۔ اور ہم کمرے میں آگئے ۔ پھر ہم نے گدے کو چارپائی سے اٹھا کر زمین پر ڈالا اور ہم دونوں بھی اس پر آگئے ۔ اور میں نے اس کو زمین پر لٹایا اور خود اس کے اوپر ا گیا ۔ پہلے تو میں نے اس کو کسنگ کرنا شروع کی ۔ اور کافی دیر تک اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر خوب چوسا ۔ کبھی تو میں اس کو ہونٹوں کو چوستا تو کبھی ان پر اپنی زبان پھیرتا ۔ پھر میں نے اس کے ہونٹوں کو چھوڑ دیا ۔ اور اس کے چہرے کو چومنا شروع کر دیا ۔ اور پھر اس کے کانوں کی لو (نیچلے حصے ) پر اپنی زبان کو پھیرنا شروع کر دیا تو وہ مچلنے لگی ۔ اور اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر پھیرنا شروع کر دیا ۔ کچھ دیر تو میں اس پر زبان پھیرتا رہا ۔ پھر میں نے اس کو اپنے ہونٹوں میں لیکر اس کو چوسنا شروع کر دیا۔ اس دوران میرا لن پھر اس کی پھدی پر بار بار رگڑ کھا رہا تھا ۔ وہ تو اور زیادہ مچلنے لگی ۔ کچھ دیر میں ایک کان کے ساتھ کھیلتا تو کبھی دوسرے کے ساتھ ۔ وہ اب مکمل طور پر گرم ہو چکی تھی ۔ پھر میں اس کی گردن پر آگیا ۔ اور اس کو اپنی زبان سے جیسے چاٹنے لگا ۔ وہ اب زیادہ مچلنے لگی اور اس کے منہ سے اب باقاعدہ سیسکیاں نکلنے لگی تھیں ۔ پھر میں اور آہستہ آہستہ نیچے آنے لگا ۔ اور اس کے سینے پر ا کر اس کو چومنے لگا ۔ جس پر اس کا سینہ بہت تیزی سے اوپر نیچے ہونے لگا ۔ پھر میں نے اس کے ایک ممے کو منہ میں لے لیا ۔ اس کا 32 سائز کا منہ تقریبا پورا ہی میرے منہ میں آ گیا ۔ جس کو میں نے چوسنا شروع کر دیا ۔ کچھ دیر بعد میں نے اس کا مما تو منہ سے نکال دیا پر اس کے نیپل کو منہ میں ہی رکھا اور اس کو چوستا رہا ۔ پھر کافی دیر ایسا ہی کرنے کے بعد میں نے اس کے دوسرے ممے کو منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا ۔ جب میں نے دیکھا کہ اب وہ اس حد گرمی ہو گئی ہے کہ وہ پھر سے کسی بھی وقت تک ڈسچارج ہو چکی ہے ۔ کیونکہ وہ اب اپنی پھدی کو پھر اوپر اٹھا اٹھا کر میرے لن پر رگڑ رہی تھی ۔ اس لیے میں نے خود کو اس کے اوپر سے اٹھا کر اس کی ٹانگیں کھول کر اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا ۔ تو اس کی پھدی جو کہ پہلے ہی گیلی تھی ۔ کہ اس کے اندر میرا لن گھستا ہی چلا گیا اور سیدھا جا کر اس کی بچہ دانی سے ٹکرا ۔ جس پر اس کے منہ سے پہلے تو درد کی وجہ سے آہ نکلی اور پھر مزے سے سسکی نکل گئی۔ مجھے خود محسوس ہوا کہ اس کی پھدی آج بھی بہت ٹائٹ تھی ۔ حالانکہ میں نے اس کو 2 بار پہلے بھی خوب دل لگا کر چودا تھا ۔ پھر اس نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر کر لی ۔ اور میں نے اس کی پھدی کے اندر لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔ اب میرا لن اس کے بہت اندر تک جا رہا تھا ۔ اور میری ٹوپی اس کی بچہ دانی سے جا کر ٹکراتا ۔ جس سے وہ زیادہ مچلنے لگی ۔ میں نے کچھ دیر تو آہستہ اہستہ لن کو اندر باہر کیا ۔ پھر میں نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ اس دوران اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ دیے اور ان کو ایسے میری کمر پر پھیرنے لگی جیسے میری کمر کی مالش کر رہی ہو ۔ کوئی 2 منٹ کے بعد آصفہ کا جسم اکڑنے لگا اور اس نے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرے جھٹکوں کا جواب دینا شروع کر دیا ۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو گئی ۔ اور جیسے ہی وہ فارغ ہوئی اس نے اپنی ٹانگیں نیچے کر لی ۔ مگر میں نے اس کو جھٹکے دینا بند نہیں کیا ۔ اور اس کو مسلسل چود رہا تھا۔ مگر اب میرا لن اس کے اندر پورا نہیں جا رہا تھا ۔ اس لیے میں نے اس کی ایک ٹانگ کو موڑ کر اپنے گھٹنے کے نیچے کر لیا ۔ اور دوسری ٹانگ کو اٹھا کر اس کے سینے کی طرف موڑ دیا ۔ اب اس کی پھدی پہلے سے زیادہ ٹائٹ ہو گئی تھی ۔ بلکل ایسے جیسے میں نے مسرت کو چودا تھا اس وقت آصفہ میرے نیچے تھی ۔ اور اب میرا لن اس کی ٹائٹ پھدی میں پھنس پھنس کر جا رہا تھا ۔ مگر اب اس کے منہ سے میرے ہر جھٹکے پر درد بھری آہ نکلتی۔ اس نے پہلے تو کوشش کی کہ نیچے والی ٹانگ سیدھی کر لے پر میرا وزن ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکی ۔ پھر اس نے اوپر والی ٹانگ چھڑانے کی کوشش کی پر میں نے اس کو بھی نہ چھوڑا ۔ اس نے کئی بار ہلکی آواز میں کہا کہ ٹانگ چھوڑ دوں کہ اس کو درد ہو رہی ہے ۔ مگر مجھے بہت مزا آ رہا تھا ۔ جس کی وجہ ۔ میں اس کو مسلسل چودے جا رہا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں وہ پھر سے گرم ہو گئی تھی ۔ اور اب میں اس کو تیز تیز چود رہا تھا ۔ کوئی 5 سے 6 منٹ کی مسلسل چدائی کے بعد وہ ایک بار پھر سے فارغ ہونے والی ہو گئی ۔۔ کہ اس کی سانسیں دوبارہ تیز ہو گئی تھی اور میرے جھٹکے پر وہ اپنی گانڈ کو جتنا ممکن ہوتا اوپر اٹھا دیتی اور کوئی مزید 2 منٹ کے بعد وہ مجھ سے پہلے ہی فارغ ہو گئی ۔ مجھے بھی لگ رہا تھا کہ کچھ ہی دیر میں میں فارغ ہونے والا ہوں ۔ تو میری رفتار بڑھ گئی ۔ اور کوئی 2 منٹ کے بعد میں اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا ۔ اور اس کے اوپر گر گیا ۔ جس سے اس کی ٹانگ پر وزن کم ہو گیا ۔ اور اس نے نیچے والی ٹانگ فورا سیدھی کر لی ۔ اور اوپر والی بھی ٹانگ جیسے ہی میں نے چھوڑی ۔ اس نے اس کو بھی سیدھا کر لیا ۔ اور لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔ پھر میں اس کے اوپر سے اٹھ گیا ۔ میرا لن جو کہ اب کافی حد تک سکڑ چکا تھا ۔ اس کی پھدی سے نکل گیا ۔ تو اس کے منہ سے ایک بار پھر آہ نکل گئی ۔ میں نے اچانک مڑ کر مسرت کی طرف دیکھا تو وہ الٹی لیٹ کر ہم دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ جس کا مطلب کہ وہ ابھی تک جاگ رہی تھی اور مجھے مڑتا دیکھ کر اس نے فورا چادر منہ پر لے لی ۔ تو میں ہنس پڑا کہ اب دیکھو اس کو ۔ ہم دونوں ایک بار پھر سے اٹھ کر واش روم گئے ۔ آصفہ مجھ سے پہلے خود کو واش کر کے واپس چلی گئی ۔ اور جب میں کمرے میں آیا تو اس نے نہ صرف بستر پر گدا ڈال دیا تھا بلکے خود بھی چادر لیکر اس پر لیٹ چکی تھی۔ میں بھی چادر اٹھا کر اس کے اندر گھس گیا ۔ اور اس کو جھپی ڈال دی ۔ اور اس کو پھر سے کسنگ کرنے لگا ۔ جس کا وہ بھی کسنگ سے جواب دینے لگی ۔ اور ایسے ہی ایک دوسرے سے کھیلتے ہوئے نہ جانے کب ہم سو گئے ۔ ۔
  11. کچھ کہہ نہیں سکتے ۔ باقی ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو
  12. Update 5th April کوئی 2 گھنٹے کی نیند کے بعد میری والدہ نے مجھے اٹھا دیا کہ جاؤ مجھے کچھ چیزیں لا کر دو ۔ مہمان آ رہے ہیں ۔ میں فارغ ہو کر آصفہ کے گھر جانے کے لیے نکل پڑا ۔ اور جب میں اس کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ ان کا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ۔ مجھے اندر نہیں بلایا گیا کہ آپ آج چھٹی کر لو ۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کیا کروں کہ مسرت اور اس کا بھائی بھی وہاں پہنچ گیا ۔ اور مجھے زبردستی اندر لے گے کہ سب اپنے لوگ ہیں ۔ میں اندر گیا تو کچھ دیر کے بعد مجھے آصفہ نظر آئی ۔ مجھے دیکھ کر وہ چونک گئی ۔ اور ا کر سلام کیا اور آہستہ سے بولی کہ رات کو مہمان آگئے تو صبع امی نے کالج سے چھٹی کروا لی ۔ تو میں بولا کوئی بات نہیں مجبوری تھی ۔ وہاں سے کچھ دیر بعد میں اپنے گیم والے دوست کے گھر گیا اور پھر کوئی 4 دن ایسے ہی گزر گے ۔ اس دوران مسرت کا شوہر جس سے اس نے چوری نکاح کیا ہوا تھا کا بھی معلوم ہوا کہ آنے والا ہے اور شاید اگلے ہفتے تک آ جائے گا ۔ ۔ اگلی جمعرات سے پہلے مجھے اپنے گاؤں جانا پڑا ۔ اور اس جمعرات کو بھی آصفہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ جب میں واپس آیا تو آصفہ سے ملاقات کا پروگرام بنا کہ اس بدھ والے دن ہم ملیں گے ۔ مگر اس سے پہلے ہی مسرت کے خاندان میں کسی کی وفات ہو گئی ۔ تو مجھے مسرت کے بھائی نے کہا کہ اگر تم 2 راتیں مسرت کے ساتھ رہ لو کہ کہ ہم اس کو ساتھ لیکر نہیں جانا چاہتے تو میں مان گیا کہ انہوں نے میری والدہ سے پہلے ہی اجازت لے لی تھی ۔ جب میں شام کو مسرت کے گھر گیا تو اس کا بھائی جانے کے لیے تیار تھا ۔ اس نے مجھے کہا کہ مجھے باجی کے گھر چھوڑ دو ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ۔ اور اس کو لیکر اس کی ہی موٹر سائیکل پر چلا گیا ۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ آصفہ واپسی پر میرے ساتھ جائے گی ۔ تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کیا ہوا ۔ میں پہلی بار کسی کے ساتھ رات گزارنے کا سوچ رہا تھا پر یہ تو سارا پروگرام ہی الٹا ہوتا نظر آ رہا تھا ۔ ۔خیر وہاں سے نکل کر میں آصفہ کو لیکر ایک فوڈ کارنر پر ا گیا ۔ جہاں کافی حد تک بندہ اکیلا ہو کر کچھ مستی کر سکتا ہے ۔ پہلے تو میں نے اس کو گلے لگایا ۔ اور اس کافی ساری کسنگ کی ۔ اور پھر اس کے مموں کو دبایا ۔ اتنی دیر میں جوس ا گیا تو ہم جوس پینے لگے ۔ وہ بولی یار یہ دوسری بار ہو گیا ۔ جب بھی پروگرام بنتا ہے کوئی نہ کوئی مسلہ بن جاتا ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمھارا بہت دل کر رہا ہے چدوانے کو ۔ تو ایک بار تو وہ شرما گئی اور منہ نیچے کر کیا ۔ مگر پھر کچھ دیر میں آہستہ سے بولی کہ میں بھی انسان ہوں ۔ میرے بھی جذبات ہیں ۔ تو میرا دل کیوں نہیں کرے گا ۔ میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں آج رات ہم اکھٹے ہیں ۔ تو وہ بولی کہ شرم کرو اگر خالہ کو شک بھی ہو گیا تو مجھے جان سے مار دیں گی ۔ دوستی تک تو ٹھیک ہے پر اس سے آگے ۔ نہ بابا ۔ ایسا سوچنا بھی نہ ۔ تو میں ہنس پڑا کہ اس کو کیا پتہ کہ وہ خود مجھ سے چدواتی ہے ۔ اور اس کو سب معلوم ہے کہ میں تم کو کیسے اور کب کا چود چکا ہوں۔ خیر ہم لوگ کچھ دیر بعد ہم وہاں سے نکل کر مسرت کے گھر پہنچ گئے ۔ تو مسرت نے جاتے ہی میرے کان پکڑ کر پوچھا اتنی دیر کہاں گذار کر آئے ہو۔ لیکن اس کے لہجے میں شرارت تھی ۔ تو میں نے کہا کہ تمھیں کیوں بتاؤں ۔ اور آصفہ کو کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔ اور ساتھ لگا کر بولا کہ یہ ہم دونوں کا مسلہ ہے ۔ تم اس میں ہڈی نہ بنو ۔ تو آصفہ خود کو چھڑوا کر اندر بھاگ گئی ۔ تو ہم دونوں ہنس پڑے ۔ پھر میں نے مسرت کو آہستہ سے پوچھا کہ یار میں تو سوچ رہا تھا کہ آج رات بہت مزے کریں گے پر اب ۔ تو وہ بولی کہ تم آج رات آصفہ کے ساتھ کر لینا یا پھر کل دن میں ۔ بہت وقت ملے گا تم لوگوں کو ۔ پر اب کچھ دن میرے بارے میں سوچنا بھی نہ ۔ تو میں نے کہا کیوں خیر تو ہے تو وہ بولی کہ کل اس نے اپنے شوہر سے 2 سال بعد ملنا ہے ۔ تو میں اس کو چھیڑنے لگا ۔ اور وہ ایسے شرما رہی تھی کہ جیسے پہلی رات کی دلہن ہو ۔ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ یار گولیاں ہیں جن سے پیگنینسی نہ ہو تو وہ بولی کہ نہیں ۔ تم لے آؤ ۔ تو میں باہر میڈیکل پر چلا گیا ۔ جو میرے دوست کا تھا ۔ وہ بھی سن کر حیران ہو گیا کہ ظفر اور مانع حمل گولیاں ۔ اور اس نے پوچھا کہ کون ہے تو میں نے کہا کہ جانی مجھے نہیں چاہیے ۔ ایک دوست کو ضرورت ہے ۔ تو وہ بولا میں بھی کہو تم اور یہ سب ۔ تو میں ہنس پڑا ۔ خیر رات کا کھانا کھا کر ہم تینوں ۔ میں ۔ مسرت اور آصفہ لڈو کھیلنے لگے ۔ پھر مسرت بولی کہ وہ نہانے جا رہی ہے ۔ اور مجھے اشارہ کر دیا کہ کر لو کچھ ۔ جب وہ واش روم میں جانے لگی تو آصفہ سے بولی کہ جب میں آواز دوں تو میرے کپڑے پکڑا دینا ۔ اور خود نہانے کے لیے چلی گئی ۔ اب میں اور آصفہ اکیلے تھے کمرے میں ۔ میں نے آصفہ کو پکڑا اور بستر پر لٹا کر اس کو کسنگ کرنا شروع کر دیا ۔ وہ بھی مجھے بھر پور رسپانس دے رہی تھی ۔ اگر میں اس کے نیچے والے ہونٹ کو چوستا تو وہ میرے اوپر والے ہونٹ کو چوسنے لگتی ۔ اور جب میں اس کے اوپر والے ہونٹ کو چوسنا شروع کرتا تو وہ میرے نیچلے ہونٹ پر اپنا حق جتانے لگتی ۔ اس کی حالت اس بھوکے کی طرح لگ رہی تھی جس کو بہت سالوں بعد کھانا ملا ہو ۔ کچھ دیر میں اس نے اپنی پھدی میرے لن پر رگڑنا شروع کر دی ۔ کہ میں نے اس وقت شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی ۔ اور میرا لن بلک سیدھا کھڑا تھا اور اس کی پھدی کی رگڑ کا مزا لیے رہا تھا ۔ اس وقت آصفہ کے منہ سے مزے کی وجہ سے عجیب عجیب آوازیں نکل رہی تھیں ۔ پھر اس نے مجھے اپنے نیچے کیا اور مجھے کسنگ کرنے لگیب۔ اس کی کسنگ میں آج ایک وحشی پن تھا کہ کچھ ہی دیر میں مجھے اپنے ہونٹوں میں درد محسوس ہونے لگی ۔ پر وہ اپنے کام میں لگی رہی ۔ ایک طرف وہ مجھے کسنگ کر رہی تھی اور دوسری طرف اپنی پھدی میرے لن پر رگڑ رہی تھی ۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو گئی ۔ اور اس نے مجھے پاگلوں کی طرح چومنا شروع کر دیا ۔ میرے منہ اور گردن پر اس نے اتنا چوما کہ میں خود بھی حیران ہو گیا ۔ کہ اس کو کیا ہو گیا ہے کہاں میری ہر حرکت پر شرما دیتی تھی پر آج تو پاگل کر دیا اس نے ۔ اب میں پریشان تھا کہ کیا کروں کہ وہ تو فارغ ہو گئی تھی ہر میرا لن بلکل سیدھا کھڑا تھا ۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ اس کو چودنا شروع کر دوں ۔ پر اتنے میں مسرت کی آواز آئی اور ہم دونوں جیسے ہوش میں آگئے ۔ اور وہ کپڑے لیکر بھاگی ۔ اور کچھ دیر میں مسرت اور آصفہ اندر آ گئے ۔ مسرت جب اندر آئی تو اس نے فورا دیکھ لیا کہ میرا لن کھڑا تھا ۔ پر وہ بولی کچھ نہ ۔ اور مڑ کر اس نے آصفہ کو دیکھا جو کہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔ تو مسرت مسکرا دی ۔ ہر بولی کچھ نہ ۔ اب ہم نے سونے کا سوچا کے کیسے سونا ہے کیونکہ آصفہ کے گھر 2 چارپائیاں تھیں ۔ اور ہم 3 بندے ۔ میں نے کہا کہ میں اور آصفہ ایک چارپائی پر سو جاتے ہیں ۔ تم اکیلی سو جانا ۔ تو مسرت نے ایک قہقہ لگایا تو آصفہ غصے سے باہر نکل گئی ۔اور میں اس کے پیچھے باہر نکل گیا ۔ جہاں وہ مجھ سے لڑنے لگی ۔ پر اس کی آواز بہت نیچے تھی کہ اندر مسرت نہ سن لیے ۔ پھر کچھ دیر بعد ہم اندر آ گئے ۔ تو مسرت نے جان بوجھ کر مجھے کہا کہ چلو پھر تم اور آصفہ سو جاؤ ۔ کہ سردی کے دن ہیں اچھا ہے تم دونوں کو سردی نہیں لگے گی ۔ تو آصفہ بولی خالہ آپ بھی ۔ تو مسرت نے اس کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ یہ دن پھر نہیں ملے گا ۔ اس لیے انجوائے کرو ۔ پھر پتہ نہیں ایسے دن ملیں کے نہیں اور ساتھ ہی اس کو کہا کہ مجھے سب معلوم ہے کہ ظفر میرا بھی اچھا دوست ہے ۔ اور ہم ایک دوسرے کو سب باتیں بتاتے ہیں ۔ تو آصفہ چپ ہو گئی ۔ اور جب مسرت باہر گئی تو آصفہ بولی کہ یہ سب کیا ہے ۔ تو میں نے کہا ابھی چپ کرو ۔ پھر بتاؤں گا ۔ اور اس کو کہا کہ یہ سمجھ لو کہ آصفہ جیسے تم ہو میرے ساتھ ویسے ہی مسرت ہے ۔ تو وہ چونک پڑی اور بولی ۔ کہ کیا مطلب تو میں نے کہا ابھی چپ کرو ۔ کہ مسرت کسی بھی وقت اندر آ سکتی ہے ۔ تو وہ چپ کر گئی۔ مسرت کچھ دیر میں چائے لیکر ا گئی اور چائے پی کر سونے لگے کہ مسرت کو صبع جلدی جانا تھا ۔ اپنے شوہر سے ملنے ۔ آصفہ نے کہا کہ وہ نیچے بستر لگا کر سو جاتی ہے کہ اس کو اپنی خالہ کے سامنے شرم آ رہی تھی ۔ تو مسرت نے مجھے اشارہ کیا کہ میں باہر جاؤں تو میں واش روم کا بہانہ کر کے باہر نکل گیا ۔ نہ جانے اس وقت مسرت نے آصفہ سے کیا کہا کہ جب میں واپس آیا تو مسرت اپنی چارپائی پر اور آصفہ میری ساتھ لیٹنے کے لیے دوسری چارپائی پر کھیسی ( موٹی چادر ) لیکر لیٹی ہوئی تھی . مجھے دیکھ کر اس نے اپنا منہ اس چادر میں کر لیا ۔ تو مسرت مسکرا دی ۔ اور بولی اوئے میری بیٹی کو زیادہ تنگ نہیں کرنا ۔ تو میں نے بستر پر لیٹتے ہوئے ۔ مسکرا کر کہا ۔ کچھ تنگ کر سکتا ہوں ۔ تو آگے سے بولی ہاں کچھ پر اس سے زیادہ نہیں ۔ تو میں لیٹ گیا تو آصفہ نے مجھے چٹکی کاٹی ۔ حالانکہ مجھے درد تو نہیں ہوئی مگر میں نے جان بوجھ کر ہائے کیا تو مسرت بولی کہ کیا ہوا ۔ تو میں نے کہا کہ آپ کی بیٹی مجھے تنگ کر رہی ہے ۔ تو مسرت نے کہا کہ تم دونوں سکون سے لیٹ جاؤ ۔ مستی نہ کرو ۔ تو میں نے پھر کہا کہ مستی تو لازمی کرنی ہے ورنہ کیا فائدہ ۔ تو مسرت ہنس دی اور بولی کچھ نہیں ۔ کچھ دیر تو میں نے انتظار کیا ۔ پھر میں نے آصفہ کو اپنی طرف موڑا تو وہ بہت آہستہ آواز میں بولی ۔ انتظار کرو ۔ خالہ کو سو جانے دو ۔ تو میں نے کہا بس چھوٹا چھوٹا پیار کروں گا تو وہ کچھ نہ بولی اور میرے ساتھ لپٹ گئی ۔ کہ اس کا سینہ مجھ سے ٹکرا گیا ۔ اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے پاس آ گئے ۔ اور اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے جیسے پکڑ لیا ۔ ۔
  13. Update 4th April اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے میری سانس رک گئی ہو ۔ اس نے کہا تھا کہ اس کی یہ حالت پریگننسی کی وجہ سے ہے تو میں کچھ نہ بول سکا ۔ اور بے دم سا ہو کر پیچھے پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ تو وہ اپنے ہی ردم میں بولی ۔ کہ مجھے بھی بہت دنوں بعد احساس ہوا کہ مجھے ماہواری نہیں آئی ۔ تو میں نے ٹیسٹ کروایا تو پتہ چلا کہ تقریبا میں 6 ہفتوں کی پریگننٹ ہوں ۔ میں بھی کافی پریشان ہو گئی تھی ۔ تم بھی یہاں نہیں تھے ۔ اور کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو میرے ساتھ چلتا ۔ ۔ اس لیے میں اس ہی ڈاکٹر کے پاس گئی جس سے پہلے بھی مسلہ حل کروایا تھا ۔ اور چونکہ یہ مسلہ کافی دن گزر گزرنے پر حل کروایا تھا ۔ کونکہ ٹیسٹ وغیرہ کروانے میں ایک ہفتہ مزید گزر گیا تھا ۔ اس لیے خون زیادہ نکلا اور تکلیف بھی کافی ہوئی ۔ اور ابھی تک خون بھی جاری ہے جو کہ ڈاکٹر کے مطابق ابھی 7 دن تک اور آئے گا ۔ یہ سن کر کہ مسلہ حل ہو گیا ہے ۔ میں نے بھی سکون کا سانس لیا ۔ کیونکہ میں ہمیشہ اس کو چود کر چلا جاتا تھا ۔ کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے لیے مسلہ بن سکتا ہے۔ جیسا کہ آج آصفہ کو چود کر سب سے پہلے میں نے اس کو گولیاں خود کھلائیں ۔ پھر اس نے مجھے پوچھا تم سناؤ کہ کیسی گزر رہی ہے ۔ گیمز وغیرہ کسی رہیں ۔ ہم لوگ کافی ساری باتیں کرتے رہے ۔ پھر اس نے اچانک مجھ سے پوچھا کہ سناؤ آصفہ کے ساتھ کیسی رہی ۔ کوئی بات آگے بڑھی ۔ یا ابھی تک دونوں شرما رہے ہو ۔ تو مجھے صبع کی ساری چیزیں یاد آ گئیں ۔ تو میں بے اختیار ہنس پڑا ۔ تو مسرت نے پوچھا کیا ہوا ہنس کیوں رہے ہو ۔ تو میں نے اس کو کہا کہ بہت کچھ ہو گیا ہے ۔ تو چونک کر بولی کیا مطلب ۔ کیا بہت کچھ ہو گیا ہے تو میں ایک بار تو سوچ میں پڑ گیا کہ کیا اس کو بتاؤں جو آج ہوا کہ نہیں بتاؤں ۔ پر اب میں اس سے چھپا بھی نہیں سکتا تھا ۔ اس لیے میں نے اس کو بتا دیا کہ آج میں نے آصفہ کو چود ڈالا ہے ۔ اور وہ یہ سن کر ایک بار تو سکتے میں آگئی ۔ کیونکہ اس کو اتنی جلدی ان سب باتوں کی اور یہ سب کچھ ہو جانے کی امید نہیں تھی ۔ پر وہ بولی کچھ نہیں ۔ اور وہ بلکل چپ ہو کر بیٹھ گئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ۔ تم چپ کیوں ہو گیئ ۔ کیا ناراض ہو ۔ تو وہ بولی کہ نہیں پر یار وہ میری بھانجی ہے ۔ مجھے پتہ ہے کہ تم نے اس سے شادی نہیں کرنی ۔ اس لیے پریشان ہوں ۔ تو میں بھی چپ ہو گیا ۔ کہ بات تو اس کی بلکل ٹھیک ہے ۔ اب ہمارے درمیان بلکل خاموشی تھی ۔ تو کچھ دیر بعد میں نے اس کو پوچھا کیا اب تم کیا چاہتی ہو ۔ تو کچھ نہ بولی ۔ تو میں نے اس کو کہا کہ کچھ تو بولو ۔ جب وہ پھر بھی کچھ نہ بولی ۔ تو میں نے اس کو پکڑ کر کسنگ شروع کر دی ۔ جس کا وہ کوئی رسپانس نہیں دے رہی تھی ۔ پر کچھ دیر بعد اس نے بھی مجھے کسنگ کا جواب دینا شروع کر دیا ۔ پھر تو جیسے وہ پاگل ہو گئی ۔ ایسے مجھے کسنگ شروع کر دی ۔ اور مجھے چارپائی پر گرا دیا ۔ اور میرے اوپر آگئی ۔ اور ایسے لگ رہا تھا کہ وہ سیکس کے لیے پاگل ہو رہی ہے ۔ وہ اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑنے کی کوشش کر رہی تھی جو کہ نیم کھڑا تھا ۔ مگر انڈر وئیر کے اندر ہونے کی وجہ سے ابھار ہی دکھا رہا تھا ۔ مگر ایک تو ہمارے پاس وقت نہیں تھا کہ اس کا بھائی اس کی بہن کو لیکر کسی بھی وقت ا سکتا تھا ۔ دوسرا وہ خود بتا چکی تھی کہ اس کو خون بھی ا رہا ہے ۔ اس مسلے کو کلیر کروانے کی وجہ سے ۔ اس لیے کچھ ہو نہیں سکتا تھا ۔ کوئی 5 منٹ تک مسلسل ایسا کرنے کے بعد اس کی سانسیں تیز ہونے لگی ۔ اور مجھے پتہ چل گیا کہ وہ فارغ ہونے والی ہے ۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ واقعی فارغ ہو گئی ۔ اور اٹھ کر باتھ روم چلی گئی ۔ جب وہ واپس آئی تو مجھے ایک چھوٹی سی کس کی ۔ اور کچھ دنوں بعد اس نے مجھے یہ بتایا کہ جب عورت کو خون آ رہا ہوتا ہے تو اس میں سیکس کی آگ تیز ہو جاتی ہے ۔ کونکہ اس وقت وہ سب سے زیادہ گرمی محسوس کرتی ہے۔ خیر وہ اب کچھ نارمل تھی ۔ پھر اس نے مجھے پوچھا کہ یار یہ تو بتاؤ کہ وہ اتنی جلدی کیسے مان گئی ۔ تو میں نے کہا کہ بس یار جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔ اب کیا بتاؤں کیوں اور کیسے ۔ تو وہ بولی اچھا یہ تو بتا سکتے ہو کہ کیسے کیا ۔ کہاں کیا ۔ تو میں نے اس کو سب کچھ بتا دیا کہ کیسے کیا کیا ہوا ۔ ابھی ہم یہ باتیں کر رہیے تھے تو اس کا بھائی بھی اس کی بہن اور اور آصفہ کو لیکر ا گیا ۔ مجھے دیکھتے ہی آصفہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ گئی ۔ پر میں نے دیکھا کہ ابھی تک اس سے ٹھیک سے چلا نہیں جا رہا تھا ۔ تو مسرت جس کو سب پتہ تھا نے جان بوجھ کر اس سے پوچھا کہ یہ تمھیں کیا ہوا تو وہ بولی کہ کالج میں گھٹنا موڑ گیا ہے ۔ تو میں اور مسرت ہنس پڑے ۔ مگر پھر مسرت کچھ نہ بولی ۔ اتنے میں آصفہ کی ماں نے مجھ سے پوچھا کہ آج چھٹی کیوں کی خیر تھی ۔ تو میں نے کہا کہ وہ مجھے ایک کام تھا اس لیے نہیں آ سکا ۔ پر اس چھٹی کو میں اتوار کو ا کر پورا کر دوں گا ۔ تو وہ بولی نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔ اور پھر ہم نے مل کر کھانا کھایا ۔ اور باتیں کرنے لگے ۔ کچھ دیر بعد مسرت آئس کریم لیکر آئی کہ یہ ظفر کی طرف سے ہے ۔ اس کی کامیابی اور جاب پکی ہو جانے کی خوشی میں۔ اس دوران جب برتن اٹھا رہے تھے تو ایک وقت ایسا آیا کہ میں اور آصفہ باہر اکیلے ہو گئے تھے ۔ تو میں نے آصفہ کو ایک کسنگ کرنا شروع کر دی ۔ کہ اتنے میں مسرت باہر آگئی ۔ اور ہمیں ڈانٹ کر بولی کہ کچھ خیال کرو سب اندر ہیں ۔ کوئی بھی باہر ا سکتا ہے ۔ تو میں شرمندہ ہو کر اندر چلا گیا ۔ خیر رات کو کافی دیر سے ہم لوگ وہاں سے نکلے ۔اگلے دن جب میں گیم پر گیا تو دوست نے مجھ سے پوچھا ہاں بھی کیا رہا تو میں نے اس کو سب کچھ بتا دیا اور اس سے چند سوال کیے ۔ کہ اس سے کھڑا کیوں نہیں ہوا جا رہا تھا ۔ دوسرا جب ایک بار خون نکل گیا تھا تو پھر دوبارہ خون کیوں نکلا ۔ تو اس نے بتایا کہ کھڑا نہ ہونے کی وجہ درد کے ساتھ یہ تھی کہ وہ 3 بار فارغ ہوئی ۔ اس کی وجہ سے کمزوری ہوگئی ۔ جہاں تک خون کا ہے تو اس کی پہلی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پہلی بار پوری طرح سیل نہیں ٹوٹی ہو ۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جب صاف ہو کر آئی تو پوری طرح صفائی نہیں ہوئی ہو ۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے سیکس کا تجربہ بھی ہو رہا تھا اور بہت سی باتوں کا پتہ بھی چل رہا تھا ۔ جن کا مجھے پہلے پتہ نہیں تھا ۔ اب میں جب بھی آصفہ کے گھر ٹیوشن پڑھانے جاتا تو جب بھی موقع ملتا تو میں آصفہ کو کسنگ بھی کرتا ۔ اس کے مموں کو بھی دباتا ۔ 2 سے 3 بار موقع ملا تو میں نے اس کی قمیض اوپر کر کے اس کے مموں کو چوسا بھی اور اس کی پھدی کو رگڑا بھی ۔ جس پر آصفہ گرم ہو جاتی ۔ پر اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا کہ ایک تو اس کی ماں ۔ دوسری پھوپھی ۔ اور اس پر اس کی کزن جو کہ مجھ سے پڑھتی تھی اور زیادہ تر ہمارے پاس ہی بیٹھی رہتی اور بہت زیادہ چالاک تھی ۔ ہمیں سب کچھ کیے 15 دن ہو گئے تھے کہ سیکس کرنے کے چند دن بعد ہی آصفہ کو مخصوص دن شروع ہو گئے تھے ۔ اور ہمارے درمیان طے تھا کہ ہم صرف جمعرات کو باہر ملیں گے کہ اس وقت جمعرات کو آدھے دن کی چھٹی ہوتی تھی ۔ میرے اور آصفہ کے درمیان چونکہ طے تھا کہ ہم جمعرات کو ملا کریں گے ۔ اس لیے اس کے دن گزرنے کے باوجود ہم ملے نہیں تھے ۔ پھر بدھ والے دن اس نے مجھ سے اگلے دن کا پروگرام پوچھا تو میں نے کہا کہ کل تو خاص پروگرام ہے تو وہ شرما دی ۔ میں نے پوچھا کہ تمھارا کیا پروگرام ہے ۔ تو وہ بولی جیسے آپ کا موڈ ہو ۔ تو ہم نے پروگرام فائنل کر دیا ۔ اور جا کر پی سی او سے کوثر کو ٹیلی فون کر دیا کہ میں کل آؤں گا تو وہ بولی ٹھیک ہے۔ پر اگلے دن وہ وقت پر نہ آئی ۔ اور میں انتظار کرکے مسرت کے گھر چلا گیا ۔ کیونکہ میں اس وقت آصفہ کے گھر جا کر پتہ نہیں کر سکتا تھا ۔ اور آج مجھے سیکس کی ضروت بہت زیادہ محسوس ہو رہی تھی ۔ جب میں مسرت کے گھر پہنچا تو وہ بھی کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی ۔ پر مجھے دیکھ کر نہ صرف ہو خوش ہوئی بلکہ رک گئی کہ کچھ دیر ٹھہر کر چلی جائے گی ۔ اور ہم دونوں سیکس کے لیے تیار ہو گئے ۔ جب ہم کمرے میں پہنچے تو مسرت نے مجھے گلے لگایا اور کسنگ شروع کر دی ۔ مگر اس کی لپ اسٹک سے مجھے الجھن ہوئی تو میں نے اس کی چادر سے جو کہ ابھی تک اس نے اوپر لی ہوئی تھی سے اس کے ہونٹوں کو اچھی طرح صاف کیا ۔ اور پھر اس کو کسنگ شروع کر دی ۔ اور کچھ دیر بعد میں نے اس کی چادر اتار دی ۔ اور اس کے مموں کو دبانے لگا ۔ وہ بھی بہت گرم ہو رہی تھی کیونکہ اس کو چدوانے ہوئے 2 ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا تھا ۔ اور اس وقت وہ چدنے کے لیے بے قرار تھی ۔ میں صرف شروع کرنے کا مجرم بنا ۔ اس کے بعد تو مسرت جیسے پاگل ہو گئی ۔ اس نے پہلے اپنی قمیض اور پھر شلوار اور ساتھ ہی اپنا بر ( بریزر ) بھی اتار دیا ۔ اب وہ میرے سامنے ننگی کھڑی تھی ۔ پھر اس نے میرے کپڑے بھی سارے اتار دیے ۔ اب ہم دونوں بلکل ننگے کھڑے تھے ۔ پھر اس نے پہلے مجھے کسنگ کرنا شروع کر دیا ۔ اور میرے دونوں ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر ان کا رس خوب پیا ۔ پھر اس نے میرے پورے جسم پر بے پناہ کسنگ کی ۔ جس سے مجھے بھی بہت مزا آیا ۔ پھر اس نے مجھے بستر پر گرا دیا ۔ اور خود میرے اوپر آگئی ۔ اس وقت وہ واقعی سیکس کے لیے پاگل ہو رہی تھی ۔ اس کی سانسیں بہت تیز تھیں ۔ حالانکہ میں نے ابھی تک اس کو کچھ بھی نہیں کیا تھا پر مجھے اس کے اس طرح میرے ساتھ کھیلنے کا بہت مزا آ رہا تھا ۔ آج بھی اس نے پہلے والا سٹائل اپنایا اور اپنی ایک ٹانگ کو چارپائی سے نیچے لٹکا دیا اور دوسری ٹانگ میرے جسم کے اوپر سے کرتے ہوئے میرے لن پر بیٹھ گئی ۔ اور میرے لن کو اپنی پھدی میں لے لیا ۔ جو کہ بہت زیادہ گیلی ہو رہی تھی۔ پھر تو جیسے چارپائی پر طوفان آ گیا ۔ وہ پاگلوں کی طرح اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کرنے لگی ۔ اس کے ہر بار نیچے ہونے پر چارپائی کی چوں چوں ہو رہی تھی۔ اس کے بڑے بڑے ممے ایسے اوپر نیچے ہو رہے تھے جیسے فٹبال کو زمین پر مارو تو وہ واپس اوپر کی طرف آتی ہے ۔ کچھ دیر میں وہ وہ فارغ ہونے والی ہو گئی ۔ تو اس نے اپنا پیٹ میرے پیٹ سے ملا دیا ۔ اور بس اپنی گانڈ کو ہی تیز تیز اوپر نیچے کر رہی تھی ۔ جب وہ آگے کو جھکی تو اس کے بڑے بڑے ممے میرے سینے پر آ گئے ۔ جب کو میں نے ہاتھ سے پکڑ لیا اور اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا ۔ جس سے وہ اور زیادہ مچلنے لگی ۔ میں اس کے مموں کو ایسے چوس آرہا تھا جیسے لوگ آم چوستے ہیں ۔ میں ان کو منہ میں لیتا جتنا لے سکتا تھا ۔ اور پھر ان کو ہاتھ کی مدد سے کھنچتا ۔ اور جب اس کی نیپل میرے ہونٹوں میں آتی ۔ اور میرے ہونٹوں اس کو دباتے تو وہ تیز سیسکی لیتی۔ ۔ مجھے بھی بہت مزا آ رہا تھا ۔ اور میرا خیال ہے کے زیادہ سے زیادہ 2 سے 3 منٹ میں وہ فارغ ہو گئی ۔ اور میرے اوپر گر گئی ۔ اور مجھے پھر سے ایسے ہی لیٹے لیٹے کسنگ کرنا شروع کر دیا۔ مگر جب اس نے کسنگ کرنا شروع کی تو اوپر ہوئی اور میرا لن اس کی پھدی میں سے نکل گیا ۔ اور اس کی پھدی سے اس کا پانی نکل نکل کر میری ناف کے نیچلے حصے پر گر رہا تھا ۔ پھر وہ اٹھ گئی اور باہر چلی گئی اور کچھ دیر میں خود کو صاف کر کے واپس آگئی ۔ اس نے واپس آ کر کسی کپڑے سے میرے پیٹ پر موجود اپنی منی (پانی) کو صاف کیا اور ایک بار پھر سے میرے اوپر آ گئی ۔ اور دوبارہ سے مجھے کسنگ کرنا شروع کر دی اور پھر سے کچھ دیر میں دوبارہ گرم ہونے لگی ۔ ۔ اس دوران میں اس کے مموں سے کھیل رہا تھا ۔ کبھی میں ان کو دباتا اور کبھی ان کو مسلتا ۔ کبھی ان کو اپنے منہ کی طرف کھنچتا ۔ جس پر اس کے منہ سے آہ نکل جاتی ۔ اب میں نے اس کو اپنے سے ہٹا کر چارپائی پر لٹا دیا ۔ اور اس کے اوپر ا گیا ۔ اور اس کو کسنگ کرنا شروع کر دی اس دوران میرا لن اس کی پھدی پر رگڑیں کھا رہا تھا ۔ اور اس کے ہونٹوں کو کبھی چوسا تو کبھی اس کی زبان کو ۔ پھر میں اس کے پورے چہرے پر کسنگ کرتے ہوئے اس کی گردن پر ا گیا ۔ اس کی گردن پر پہلے میں اپنے ہونٹوں سے چھوٹی چھوٹی چونیاں لیتا رہا پھر میں نے اس کی گردن پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی ۔ جس پر مسرت تو مزے سے پاگل ہو گئی ۔ پھر میں اور نیچے ا گیا ۔ اور اس کے سینے کو چومتا ہوا ۔ اور پھر اس کے مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر ان کو مسلنے لگا ۔ مسرت مزے سے پاگل ہو رہی تھی ۔ اس کے منہ سے آہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھی ۔ اور اس کا سانس بھی تیز ہو گیا تھا ۔ وہ پوری طرح گرم ہو چکی تھی۔ پھر میں کبھی ایک ممے کو منہ میں لیتا تو کبھی دوسرے کو ۔ اور ان کو باری باری چوس رہا تھا ۔ پھر میں نے اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر اس کی پھدی پر اپنا لن رکھا تو دیکھا کہ اس کی پھدی ایک بار پھر سے پوری طرح گیلی ہو چکی تھی ۔ تو میں نے ایک ہی جھٹکے سے لن کو اس کی پھدی میں ڈال دیا ۔ تو اس کے منہ سے مزے سے آہ نکل گئی ۔ اور میرا لن سیدھا جا کر اس کی پھدی اسے جا ٹکرایا ۔ اور جیسے ہی میرا لن اس کی پھدی میں ٹکرایا ۔ تو اس کے منہ سے پھر سے ایک تیز آہ نکلی ۔ اب تو میں رکنے والا نہیں تھا ۔ تو میں نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں پکڑ کر اس کو جھٹکے مارنے شروع کر دیے ۔ چونکہ اس کے ممے میرے ہاتھ میں تھے اس لیے میرے ہر جھٹکے پر وہ ایسے ہلتے جیسے جیلی والی پیلٹ کو ہلاؤ تو جیلی رہتی تو اپنی جگہ پر ہے ہر ہلتی ہے ۔ میں اپنی پوری طاقت سے اس کو جھٹکے پر جھٹکا دیے رہا تھا ۔ اور میرا لن اس کی بچہ دانی سے جا کر ٹکراتا ۔ جس سے اس کے منہ سے تیز آہ نکل جاتی ۔ میرے مسلسل جھٹکے مسرت کی حالت جلد ہی بری ہو گئی ۔ اور وہ میری مسلسل چدائی کی وجہ سے 4 منٹ کے عرصے میں فارغ ہو گئی ۔ تو میں نے اس ہی کپڑے سے ( جس سے مسرت نے میرا پیٹ صاف کیا تھا ) سے اس کی پھدی صاف کی ۔ اور پھر سے اس کے اندر لن ڈال کر اس کو چودنے کا کام شروع کر دیا ۔ اور مزید 5 منٹ کی چدائی کے بعد میں اور مسرت دونوں اکھٹے فارغ ہو گئے ۔ اور پھر وہاں سے اٹھ کر باتھ روم چلا گیا اور خود کوپہلے تو صاف کیا ۔ اور نہانے لگ گیا ۔ اور نہا کر کمرے میں واپس آ گیا ۔ اور پھر مسرت بھی خود کو صاف کر کے واپس آگئی ۔ اتنی دیر میں میں کپڑے پہن کر بیٹھ چکا تھا ۔ مسرت نے واپس آکر مجھے ایک بار پھر سے کسنگ کی۔ اور کہا کہ آج اس کو بہت مزا آیا کیونکہ میں نے اس کو ٹھیک طرح سے چودا ۔ پھر میں نے اس کو کہا کہ میں چھوڑ آؤں تو وہ بولی نہیں ۔ میں اکیلی جاؤں گی ۔ کہ اس نے اپنی ہمسائی کے ساتھ جانا تھا ۔ اور میں وہاں سے نکل آیا ۔ گھر ا کر میں آصفہ کے بارے میں سوچنے لگا کہ وہ کیوں نہیں آئی ۔ پھر میں نے آصفہ اور مسرت کی چدائی کا موازنہ کیا تو مجھے صاف پتہ لگ گیا کہ جو مزا آصفہ کا ہے وہ مسرت کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ اور یہ سوچتے سوچتے میں سو گیا ۔
×
×
  • Create New...